زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 308
باقی سب چیزیں تو رکھی ہیں اٹیچی کیس میں
میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں
زندگی کی دوڑ ہے اور دوڑنا ہے عمر بھر
شرط گھوڑا جیت سکتا ہی نہیں ہے ریس میں
رقص کرتی لڑکیاں میوزک میں تیزی اور شراب
نیکیاں ملتی ہیں مجھ سے کیوں بدی کے بھیس میں
میں برہنہ گھومتا تھا ہجر کی فٹ پاتھ پر
رات جاڑے کی اکیلی سو گئی تھی کھیس میں
کیوں بدلتا جا رہا ہے روح کا جغرافیہ
کون سرحد پار سے آیا بدن کے دیس میں
منصور آفاق

سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 307
سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں
سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں
تجھ ایسی نرم گرم کئی لڑکیوں کے ساتھ
میں نے شبِ فراق ڈبو دی شراب میں
آنکھیں ، خیال، خواب، جوانی، یقین، سانس
کیا کیا نکل رہا ہے کسی کے حساب میں
قیدی بنا لیا ہے کسی حور نے مجھے
یوں ہی میں پھر رہا تھا دیار ثواب میں
مایوس آسماں ابھی ہم سے نہیں ہوا
امید کا نزول ہے کھلتے گلاب میں
دیکھوں ورق ورق پہ خدوخال نور کے
سورج صفت رسول ہیں صبحِ کتاب میں
سیسہ بھری سماعتیں بے شک مگر بڑا
شورِ برہنگی ہے سکوتِ نقاب میں
منصور آفاق

کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 306
کون ٹینس کھیلتی جاتی تھی وجد و حال میں
کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں
جانے کس نے رات کا خاکہ اڑایا اس طرح
چاند کا پیوند ٹانکا اس کی کالی شال میں
ایک کوا پھڑ پھڑا کر جھاڑتا تھا اپنے پر
تھان لٹھے کے بچھے تھے دور تک چترال میں
لوگ مرتے جا رہے تھے ساحلوں کی آس پر
ناؤ آتی جا رہی تھی پانیوں کے جال میں
کوئی پتھر کوئی ٹہنی ہاتھ آتی ہی نہیں
گر رہا ہوں اپنے اندر کے کسی پاتال میں
جن گناہوں کی تمنا تنگ کرتی تھی مجھے
وہ بھی ہیں تحریر میرے نامہء اعمال میں
میں نے یہ منصور دیکھا اس سے مل لینے کے بعد
اپنی آنکھیں بچھ رہی تھیں اپنے استقبال میں
منصور آفاق

اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 305
گم تھے سرگم لاکھ اس کے چہرہ ء معصوم میں
اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں
رات کے بستر پہ خالی جسم اپنا پھینک کر
روح پھر رہنے چلی ہے ماضی ء مرحوم میں
ایک فوٹو پر اچانک پڑ گئی میری نظر
اور میں بہتا گیا پھر نغمۂ کلثوم میں
بن رہی ہیں ہر قدم پر رات کا اک دائرہ
اک تھکے سورج کی کرنیں قریۂ معدوم میں
چار بھیڑیں ایک بکری ایک گائے ایک میں
اور رکھوالی کو چرواہی شبِ مخدوم میں
جل پری آگے بڑھی شوقِ وصال انگیز سے
اور میں لوٹ آیا یکدم ساعتِ معلوم میں
دل دھڑکتا جا رہا ہے دیکھئے منصور کا
اک تھکی ہاری غزل کے پیکرِ منظوم میں
منصور آفاق

مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 304
گھلی تھی ایک ویراں چرچ کی گھمبیر تا رب میں
مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں
خدا جانے کہانی کار کتنا دلربا ہو گا
عجب رومان پرور لمس کی دھڑکن ہے مذہب میں
مجھے اکثر وہ ہجراں کی سیاہی میں دکھائی دی
سلگتے گھاؤ کی صورت ہے کوئی سینہء شب میں
خدا کے قید خانے سے کوئی باہر نہیں نکلا
اگرچہ ہے بلا کی قوتِ پرواز ہم سب میں
ازل کی شام سے آنکھیں کسی کی خوبصورت ہیں
رکا ہے وقت صدیوں سے کسی کے عارض و لب میں
منصور آفاق

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق

فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 302
مر گئے ہم، برت ورت کر لیں
فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں
خواب دفنا کے لوٹ آئے ہیں
اب دعا ہائے مغفرت کر لیں
دائرے میں برے شگون کے، ہم
کیسے معلوم اک جہت کر لیں
کس طرف دوستوں کی منزل ہے
کچھ ہوا سے مشاورت کر لیں
گر چکی ہے زمین پیچھے سے
کس طرح ہم مراجعت کر لیں
من و سلویٰ کی کیا تمنا میں
آسماں سے مفاہمت کر لیں
روگ بنتے ہوئے تعلق سے
یہی بہتر ہے معذرت کر لیں
کوچۂ یار کی مسافت میں
طے حدودِ مسافرت کر لیں
وصل میں اِس لباسِ اطلس کی
ہم ذرا سی مخالفت کر لیں
بے تحاشا کیا ہے خرچ اسے
اب تو دل کی ذرا بچت کر لیں
یہ بھی صورت ہے اک تعلق کی
ہجر سے ہی مطابقت کر لیں
ڈھنگ جینے کا سیکھ لیں ہم بھی
وقت سے کچھ مناسبت کر لیں
طور بھی فتح کر لیں جلوہ بھی
کچھ وسیع اور سلطنت کر لیں
اس نظر کے فریب سے نکلیں
دل سے بھی کچھ مخاصمت کر لیں
کب کہا ہے زبان بندی کا
کلکِ ناخوردہ صرف قط کر لیں
کاٹ دیں راستے، گرا دیں پل
رابطوں سے مفارقت کر لیں
پوچھ لیں کیا کریں مسائل کا
کچھ خدا سے مراسلت کر لیں
جا بسیں قیس کے محلے میں
اک ذرا اپنی تربیت کر لیں
ظلم کا ہے محاصرہ منصور
آخری اب مزاحمت کر لیں
منصور آفاق

کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 301
اداسی پیش کریں اضطراب پیش کریں
کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں
طلائی طشتِ جواہر کے بیچ میں رکھ کر
خیال گاہِ محبت میں خواب پیش کریں
بتائیں کیسے کہ کس کس جگہ مراسم تھے
گذشتہ عمر کا کیسے حساب پیش کریں
کسی طرح اسے اپنے قریب لے آئیں
ملازمت کا کہیں کوئی جاب پیش کریں
طوافِ کوچہ ء جاناں سے جو ملامنصور
چلو وہ شہر کو حج کا ثواب پیش کریں
منصور آفاق

جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 300
اب کوئی اورخدا کعبہ میں آباد کریں
جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں
اتنی بے رحم سلگتی ہوئی تنہائی میں
در کوئی ہے جہاں انصاف کی فریاد کریں
زندگی اور خدا دونوں بڑے تیزمزاج
کس کو ناشاد کریں اور کسے شاد کریں
شب کی تعمیر گرانا کوئی آساں تو نہیں
تھک نہ جائے کہیں آ وقت کی امداد کریں
ہے ازل ہی سے وفا اپنے قبیلے کی سرشت
کیا گلہ تجھ سے ترے خانماں برباد کریں
روک کر ہاتھ سے خورشید کی گردش منصور
وقت کی قید سے آفاق کو آزاد کریں
منصور آفاق

آسماں معتبر کیے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 299
ذہن میں جمع ڈر کیے جائیں
آسماں معتبر کیے جائیں
جتنے لمحے بھی ہو سکیں ممکن
روشنی میں بسر کیے جائیں
پھول جیسے قلم قیامت ہیں
وار ، تلوار پر کیے جائیں
موسم آنے پہ باغ میں روشن
قمقموں سے شجر کیے جائیں
آسمانوں کو جاننے کے لیے
اپنے پاتال سر کیے جائیں
حیف ! بدنامیاں محبت میں
چاک سب پوسٹر کیے جائیں
وقت کے سائیکل پہ ہم منصور
اک کنویں میں سفر کیے جائیں
منصور آفاق

نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 298
خاک پر آسماں ہوئے جائیں
نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں
دل نے خوشبو کشید کرلی ہے
ہم کہاں رائیگاں ہوئے جائیں
تتلیوں کے پروں پہ لکھے ہم
وقت کی داستاں ہوئے جائیں
گفتگو کی گلی میں ہم اپنی
خامشی سے عیاں ہوئے جائیں
مسجدِ دل کی خالی چوکھٹ پر
ہم عشاء کی اذاں ہوئے جائیں
اُس مکیں کی امید پر منصور
ہم سراپا مکاں ہوئے جائیں
منصور آفاق

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 297
تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لیے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں
خوبصورت بھی، اکیلی بھی، پڑوسن بھی ہے
لیکن اک غیر سے کیاملنے ملانے لگ جائیں
نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں
پل کی ریلنگ کو پکڑ رکھا ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں
منصور آفاق

اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 296
آنکھ بنو تم اور ہم منظر بن جائیں
اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں
ان پیروں سے کیسے گریزاں منزل ہو
جو آپ ہی رستہ آپ سفر بن جائیں
جن لوگوں کے بیج کجی سے نکلے ہوں
وہ کیسے سایہ دار شجر بن جائیں
گھل جائیں لہروں میں ایک سمندر کی
ریت پہ پھیلی دھوپ کی چادر بن جائیں
مار کے سورج کے سینے میں طنز کے تیر
خود نہ کہیں ہم ایک تمسخر بن جائیں
جنس کے بینر لٹکائیں بازاروں میں
اور فرائیڈ سے دانش ور بن جائیں
جو موجود نہیں تقویم کے اندر بھی
ان تاریخوں کا کیلنڈر بن جائیں
کچھ یاروں کی لاشیں گل سڑ جائیں گی
بہتر ہے منصور فریزر بن جائیں
منصور آفاق

شام کے شعلے بھی گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 295
شعر کچھ موت پر کہے جائیں
شام کے شعلے بھی گنے جائیں
اس سے، آٹو گراف بک پہ نہیں
دستخط ہاتھ پر لیے جائیں
رفتگاں کا خیال آتا ہے
روح سے رابطے کئے جائیں
ہم کوگوتم بھی زخم دیتا ہے
شاردا سے کہاں پرے جائیں
پانیوں کو زمیں پہ آنا ہے
جتنی اونچائی پر چلے جائیں
دو وجودوں کی ایک آہٹ سے
خواب کچھ ریت پر بنُے جائیں
بانسری کی سریں کہیں منصور
گیت دریا کے بھی سنے جائیں
منصور آفاق

اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 294
مرتے ہوئے سورج پر دو شعر کہے جائیں
اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں
گل کرتا ہوں اب شمعیں ا ے قافلے والومیں
جو چاہتے ہیں جانا ،وہ لوگ چلے جائیں
چل سندھ کے ساحل پرہر موجہ ء طوفاں میں
دریا کے مغنی سے کچھ گیت سنے جائیں
پھر پائے محمدﷺکے مصحف کی تلاوت ہو
پھر نقشِ کفِ پا کے الہام پڑھے جائیں
سو زخم اثاثہ ہوں اک پاؤں دھروں جب بھی
خنجر مرے رستے میں اس طرح چنے جائیں
ہم دار ستادوں سے منصور نہیں ممکن
جس سمت زمانہ ہو اس سمت بہے جائیں
منصور آفاق

کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 293
مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں
تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی
پہاڑ مجھ سے محبت کریں تو پھٹ جائیں
ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں
میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں
اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں
زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں
چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں
گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں
اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں
ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں
مرا تو مشورہ اتنا ہے صاحبانِ قلم
قصیدہ لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں
وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں
منصور آفاق

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 291
ایک جیسی روشنی ہو، لامکانوں میں دیے ہوں
سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں
قمقمے ہوں پانیوں میں جگمگائیں شاہراہیں
شہر ہوں تہذیب گاہیں ، گلستانوں میں دیے ہوں
فکرِ مال وزر بدل دے ،آگہی کے در بدل دے
یہ نظامِ شربدل دے،درس خانوں میں دیے ہوں
اب نہ غربت ہو کہیں بس،دے مساواتِ حسیں بس
روٹی کپڑا ہی نہیں بس،سب مکانوں میں دیے ہوں
ایک ازلوں کی کہاوت ،بھوک اور رج میں عداوت
ظلم طبقاتی تفاوت ،سب خزانوں میں دیے ہوں
سندھ دریا کی ہوں نظمیں اور روہی کی ہوں بزمیں
جگنوئوں کے حاشیے ہوں ، آسمانوں میں دیے ہوں
دے بسروچشم سب کو موت لیکن دیکھ اتنا
لوگ جیون میں جیے ہوں ،آشیانوں میں دیے ہوں
لفظ سچا ہی نہ ہو بس ،نام اچھا ہی نہ ہو بس
کام اچھے بھی کیے ہوں سب گمانوں میں دیے ہوں
رات تاروں کیلئے ہو چاند ساروں کے لیے ہو
نور کی منصور شب ہو داستانوں میں دیے ہوں
منصور آفاق

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق

میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 289
میں عشق میں ہوں خاموش رہو میں عشق میں ہوں
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں
اے شعلۂ گل کے سرخ لبوں کی شوخ شفق
چپ چاپ رہو آوازنہ دو میں عشق میں ہوں
اے صحن چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
مت پھولوں کے اب ہار پُرو میں عشق میں ہوں
آوازنہ دے اب کوئی مجھے چپ رنگ رہیں
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں
ہے تیز بہت یہ آگ لہو کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بیباک نہ ہو میں عشق میں ہوں
ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم و ستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں
اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں
منصور اسے یہ کہہ کر رو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 288
اے کوچہ ء دل کے بخت ورو میں عشق میں ہوں
اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں
تم شہر کی سب دیوار وں اورپوشاکوں پر
دل پینٹ کرو تصویر گرو میں عشق میں ہوں
بازار کی ساری رقاصاؤ گلیوں میں
اب ڈھول بجا کر رقص کرو میں عشق میں ہوں
کچھ رنگِچراغاں اور کرو کچھ اور کرو
کچھ سرخ غبارے اور بھرو میں عشق میں ہوں
اب ہاتھ بڑھاکر سب کے گربیاں چاک کرو
اب زور سے تم منصور کہو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

پڑا ملنگِ علی کے دلِ فراغ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 287
جہاں ازل بھی ابد بھی ،اک ایسے باغ میں ہوں
پڑا ملنگِ علی کے دلِ فراغ میں ہوں
میں جاودانی کا پانی ، میں جرعہِ آبِ حیات
یہ اور بات کہ ٹوٹے ہوئے ایاغ میں ہوں
ستارہ ، قمقمہ ، جگنو ، دیا ہے میرا نام
میں کائناتِ سیہ کے ہر اک داغ میں ہوں
مری طرف بھی نظر کر ، مجھے بھی دیکھ کہ میں
ترے مزار کے جلتے ہوئے چراغ میں ہوں
اندھیرے خوف زدہ ہیں مری شہادت سے
کھٹکتا رہتا سدا رات کے دماغ میں ہوں
میں دوپہر کے تسلسل کا سوختہ منصور
چراغ لے کے کسی رات کے سراغ میں ہوں
منصور آفاق

میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 286
گلی کے موڑ پہ ٹھہری ہوئی بہار میں ہوں
میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں
مرے مزاج میں ہرجائی پن ہی آنا تھا
مقیم روزِ ازل سے میں کوئے یار میں ہوں
تمہارے تاج محل سے جو پے بہ پے ابھرے
میں خستہ بام انہی زلزلوں کی مار میں ہوں
ہے آنے والے زمانوں پہ دسترس لیکن
میں اپنے ماضی ء مرحوم کے جوار میں ہوں
تمہارا پوچھتے رہتے ہیں لوگ مجھ سے بھی
یہی بہت ہے کہ میں بھی کسی شمار میں ہوں
جو مجھ پہ اٹھی تھی لطف و کرم میں بھیگی ہوئی
اُس اک نظر کے مسلسل ابھی خمار میں ہوں
میرا مقام یہ اہل خرد کہاں جانیں
سوادِ حسنِ نظرمیں ، نواحِ یار میں ہوں
مرے سوا جو کسی اور کا نہ ہو منصور
اک ایسے شخص کے برسوں سے انتظار میں ہوں
منصور آفاق

زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 285
اپنے جینے کے فوائد کچھ تو ہوں
زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں
میرے گیتوں کو پہن لو تتلیو!
پھول میرے بھی مقلد کچھ تو ہوں
کوئی اچھا کام کرنا چاہتا ہوں
شہر میں میرے بھی حاسد کچھ تو ہوں
جن کی جنگیں زندگی کے واسطے
ایسے بھی تیرے مجاہد کچھ تو ہوں
تیرے قبضے میں زمین و آسماں
کچھ اِ دھر بھی ذاتِ واحد! کچھ تو ہوں
اس کی آنکھیں تیغ تیورہی سہی
قتل کے لیکن شواہد کچھ تو ہوں
لرزہ بر اندام جن سے دیوتا
ایسے منکر ایسے ملحد کچھ تو ہوں
کچھ تو ہوں منصور باتیں دین کی
نور پھیلاتے عقائد کچھ تو ہوں
منصور آفاق

کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 284
میں کوئی اداس سکوت ہوں میں کسی بروگ کی چیخ ہوں
کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں
کہیں ٹوٹ پھوٹ نہ جائے وہ مجھے آسمان کا خوف ہے
کوئی آہ ہوں میں فقیر کی ،کسی’ اللہ لوگ‘ کی چیخ ہوں
مرے صحنِ دل میں پڑی ہوئی بڑی خوفناک سی شام ہے
کوئی بین ہوں کسی رات کا کسی تازہ سوگ کی چیخ ہوں
کبھی حسرتوں کے زبان سُن کبھی اشک و آہ کی تان سُن
کبھی بھیرویں کا الاپ میں کبھی راگ جوگ کی چیخ ہوں
کبھی گفتگو کروں نرگ سے کبھی بات چیت سورگ سے
کوئی ڈائیلاگ ہوں کشف کا،میں کسی ابھوگ کی چیخ ہوں
منصور آفاق

یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 283
دل نہیں مانتا میں پھرتجھے چھوڑ آیا ہوں
یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں
پاؤں پتھر تھے پہاڑوں کی طرح لگتے ہیں
سچ یہی ہے تری خاطر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہاں بھول گیا تھا مجھے رکھ کر جاناں
میں اسی جگہ پہ آخر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہنم کی گلی میں مجھے چھوڑآیا تھا
میں تو جنت میں مسافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
جتنا ممکن تھا ترا ساتھ دیا ہے لیکن
آخرش میں بھی اے کافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
منصور آفاق

پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 282
تم ایسے لوگوں کا رستہ میں چھوڑ دیتا ہوں
پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں
میں اس مقام پہ پہنچا ہوں عشق میں کہ جہاں
فراق و وصل کو آپس میں جوڑ دیتا ہوں
مجھے مزاج کی وحشت نے فتح مند رکھا
کہ ہار جاؤں تو سر اپنا پھوڑ دیتا ہوں
ابھی دھڑکتا ہے دل بھیڑیے کے سینے میں
ابھی غزال پکڑتا ہوں ، چھوڑ دیتا ہوں
ڈرا ہوا ہوں میں اپنے مزاج سے منصور
جو میری ہو نہ سکے، شے وہ توڑ دیتا ہوں
منصور آفاق

میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 281
زمانے سے بچھڑنا چاہتا ہوں
میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں
مقام صفر سے ملنے کی خاطر
کسی ٹاور سے گرنا چاہتا ہوں
لہومیں کالے کتے بھونکتے ہیں
کسی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں
یہ کیوں پستی سے کرتا ہے محبت
میں پانی کو سمجھنا چاہتا ہوں
کبھی وحشی مسائل سے نکل کر
تجھے کچھ دیر رونا چاہتا ہوں
ذرا اونچی کرو آواز اس کی
ہوا کی بات سننا چاہتا ہوں
میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی میں
بدن کا بورڈ پڑھنا چاہتا ہوں
پڑا ہوں بند اپنی ڈائری میں
کہیں پہ میں بھی کھلنا چاہتا ہوں
ازل سے پاؤں میں ہے ریل گاڑی
کہیں منصور رکنا چاہتا ہوں
منصور آفاق

اندھیرا ہے جہاں تک دیکھتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 280
زمیں سے آسماں تک دیکھتا ہوں
اندھیرا ہے جہاں تک دیکھتا ہوں
جہاں تک ذہن و دل کی دسترس ہے
میں منظر کو وہاں تک دیکھتا ہوں
یونہی صحرا کہاں دیتے ہیں خبریں
ہوا کے میں نشاں تک دیکھتا ہوں
پرندے کھیلتے ہیں تیلیوں میں
قفس سے آشیاں تک دیکھتا ہوں
بجز دل ہے کہاں منصور ٹھہرا
مکاں سے لامکاں تک دیکھتا ہوں
منصور آفاق

آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 279
در کوئی جنتِ پندار کا وا کرتا ہوں
آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں
رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم
وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں
وہ ترا، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا
یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں
پہلے خود آپ بناتا ہوں تماشا اپنا
پھر تماشائی کا کردار ادا کرتا ہوں
پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں
اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں
کبھی آنکھوں سے بھری راہ گزر مجھ پہ گراں
دشت پیمائی کبھی آبلہ پا کرتا ہوں
مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا
ننگے پاؤں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں
منصور آفاق

الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 278
عدم کو صفحہء ادراک پر بناتا ہوں
الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں
زمیں سے دور بناتا ہوں خاک کے چہرے
خدا بناؤں تو افلاک پر بناتا ہوں
مری زمین کی بنیاد میں شرارے ہیں
مکان سوختہ املاک پر بناتا ہوں
ستارہ لفظ تراشوں میں چاند تحریریں
اک آسمانِ ادب خاک پر بناتا ہوں
لہو کی بوندیں گراتا ہوں اپنے دامن سے
دلِ تباہ کو پوشاک پر بناتا ہوں
مرا وجود مکمل ابھی نہیں منصور
سو اپنے آپ کو پھر چاک پر بناتا ہوں
منصور آفاق

فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 277
میں رابطوں کے مکاں معتبر بناتا ہوں
فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں
اڑان دیکھ مرے آہنی پرندوں کی
مسیح میں بھی ہوں لوہے کے پر بناتا ہوں
فروغ دیدئہ ابلاغ کے وسیلے سے
یہ اپنے آپ کو کیا باخبر بناتا ہوں
خدا کی شکل بنانی پڑے گی کاغذ پر
میں اپنا باطنی چہرہ اگر بناتا ہوں
سمٹ گئے ہیں جہاں تو مرے ہتھیلی میں
سو اب میں ذات کے اندر سفر بناتا ہوں
یونہی یہ لفظ چمکتے نہیں اندھیرے میں
جلا جلا کے کتابیں شرر بناتا ہوں
نکل پڑے نہ زمانہ مرے تعاقب میں
سو نقش پا بھی بہت سوچ کر بناتا ہوں
بس ایک صرف سناتا ہوں آیتِ منسوخ
فروغ خیر سے تہذیبِ شر بناتا ہوں
مرے دماغ میں بس عنکبوت رہتے ہیں
میں وہم بنتا ہوں خوابوں میں ڈر بناتا ہوں
اکھیڑ دیتا ہوں نقطے حروف کے منصور
میں قوسیں کاٹ کے تازہ ہنر بناتا ہوں
منصور آفاق

تمہارے راستے میں روشنی ہو پھول ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 276
یہ دعا کے چند حرف بس قبول ہوں
تمہارے راستے میں روشنی ہو پھول ہوں
گرفت میں کائناتِ ذات کا خرام
تمہارے ذہن پر علوم کے نزول ہوں
لغاتِ کن فکاں کھلے تمہارے نام سے
کتابیں رازداں سخن سرا رسول ہوں
ہمیشہ ہم قدم رہے بہار رقص میں
اداس چاند ہو نہ گل رتیں ملول ہوں
وہاں وہاں پہ تم سے زعفران کھل اٹھیں
جہاں جہاں پہ خار ہوں ببول ہوں
ہوں منزلِ یقیں کے اونٹ دشتِ وقت میں
خیامِ صبر و انتظار باشمول ہوں
انہیں بھی دیکھنا ضمیرِ عالمین سے
دل و دماغ کے جو طے شدہ اصول ہوں
ہزار حاصلی سہی قیام ، موت ہے
سدا نئے سفر ، نئے حصول ہوں
رکو تو گردشیں رکیں طلسمِ چاک کی
چلو تو چاند تارے راستے کی دھول ہوں
بہشت ماں کی قبر ہوتمہارے کام سے
وہ فاطمہ تھی اس پہ مہرباں بتول ہوں
منصور آفاق

عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 275
میں لگا دوں آئینے گلیوں میں کیسے سینکڑوں
عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں
کم نہیں دکھ تیرے جانے کا مگر جانِ بہار
زخم میرے دل میں پہلے بھی ہیں ایسے سینکڑوں
اس کی آنکھوں نے کسے لوٹا ہے اس کو کیا خبر
اس کو رستے میں ملیں گے میرے جیسے سینکڑوں
روح کی حیرت زدہ آواز آتی ہی نہیں
وائلن کے تار لرزاں مجھ میں ویسے سینکڑوں
اک اکیلا تشنہ لب ہوں میں کنویں کے آس پاس
پھرتے ہیں منصور بے خود تیری مے سے سینکڑوں
منصور آفاق

ایک چہرے کے پسِ منظر میں چہرے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 274
پل صراطِ آسماں پر چل رہے تھے سینکڑوں
ایک چہرے کے پسِ منظر میں چہرے سینکڑوں
جمع ہیں نازل شدہ انوار کتنے شیلف میں
معجزے حاصل ہوئے لا حاصلی کے سینکڑوں
چاند پہ ٹھہرو، کرو اپنے ستارے پر قیام
رات رہنے کے لیے سورج پہ خیمے سینکڑوں
صفر سے پہلا عدد معلوم ہونا ہے ابھی
ہیں ریاضی میں ابھی موجود ہندسے سینکڑوں
میں کہاں لاہور بھر میں ڈھونڈنے جاؤں اسے
لال جیکٹ میں حسین ملبوس ہوں گے سینکڑوں
شہر کی ویراں سڑک پر میں اکیلا رتجگا
سو رہے ہیں اپنی شب گاہوں میں جوڑے سینکڑوں
مال و زر، نام و نسب، حسن و ادا، دوشیزگی
میں بڑا بے نام سا، تیرے حوالے سینکڑوں
کیوں بھٹکتی پھر رہی ہے میرے پتواروں کی چاپ
خامشی ! تیرے سمندر کے کنارے سینکڑوں
کوئی بھی آیا نہیں چل کر گلی کے موڑ تک
دیکھنے والوں نے کھولے ہیں دریچے سینکڑوں
منصور آفاق

مجھ میں پھر بھی دکھ کسی کے ہیں پنپنے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 273
میرے ساتھی میرے پیارے میرے اپنے سینکڑوں
مجھ میں پھر بھی دکھ کسی کے ہیں پنپنے سینکڑوں
اور کیا حاصل ہوا ہے روز و شب کی نیند سے
چند تعبیریں غلط سی اور سپنے سینکڑوں
یہ بھی میرا مسئلہ ہے لوگ اچھے کیوں نہیں
دکھ دیے ہیں رحم پروردہ تڑپ نے سینکڑوں
گل کیے پھر اپنے آسودہ گھروندوں کے چراغ
دو ممالک کی کسی تازہ جھڑپ نے سینکڑوں
رات کے دل میں لکھیں نظمیں بیاضِ صبح پر
بھاپ اٹھتی چائے کے بس ایک کپ نے سینکڑوں
منصور آفاق

دل شکستے جاں الستے سبز مستے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 272
چل پڑے دار و رسن کو ہنستے ہنستے سینکڑوں
دل شکستے جاں الستے سبز مستے سینکڑوں
یہ پہنچ جاتے ہیں کیسے خاکِ طیبہ کے غلام
آسمانوں تک بیک براق جستے سینکڑوں
روک سکتی ہیں یہ کانٹے دار باڑیں کیا مجھے
چلنے والے کے لیے ہوتے ہیں رستے سینکڑوں
میرے صحرا تک پہنچ پائی نہ بدلی آنکھ کی
تیرے دریا پر رہے بادل برستے سینکڑوں
دل کی ویرانی میں اڑتا ہے فقط گرد و غبار
کیسے ممکن تھا یہاں بھی لوگ بستے سینکڑوں
منصور آفاق

اے زمیں ! ترکِ تعلق کے بہانے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 271
روشنی کے، رنگ و بو کے آستانے سینکڑوں
اے زمیں ! ترکِ تعلق کے بہانے سینکڑوں
اک ترے بالوں کی وہ دو چار میٹر لمبی لٹ
اک ترے شاداب جوبن کے فسانے سینکڑوں
صبح تازہ دودھ جیسی رات قہوے کی طرح
روٹی جیسے چاند پر گزرے زمانے سینکڑوں
چھین کے گل کر دیے بامِ خیال و خواب سے
تیری یادوں کے دیے پاگل ہوا نے سینکڑوں
صرف تیرے قرب کا پل دسترس سے دور ہے
زندگی میں آئے ہیں لمحے سہانے سینکڑوں
منصور آفاق

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق

رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 269
وہ آنجہانی پاؤں وہ مرحوم ایڑیاں
رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں
ہر انچ دکھ پڑے ہیں گئی گزری دھول کے
ہر فٹ زمیں کے ماتھے کا مقسوم ایڑیاں
ہر روز تارکول کی سڑکیں بناتی ہیں
ہاری ہوئی پھٹی ہوئی محروم ایڑیاں
غالب تھا ہمسفر سو اذیت بہت ہوئی
کہتی ہیں دو اٹھی ہوئی مظلوم ایڑیاں
سنگیت کے بہاؤ پہ شاید صدا کا رقص
گوگوش کی سٹیج پہ مرقوم ایڑیاں
پیاسا کہیں فرات کا ساحل پڑا رہے
چشمہ نکال دیں کہیں معصوم ایڑیاں
چلنے لگے ہیں پنکھے ہواؤں کے دشت میں
ہونے لگی ہیں ریت پہ معدوم ایڑیاں
پاتال کتنے پاؤں ابھی اور دور ہیں
ہر روز مجھ سے کرتی ہیں معلوم ایڑیاں
لکھنے ہیں نقشِ پا کسی دشتِ خیال میں
تانبا تپی زمین ! مری چوم ایڑیاں
منصور میرے گھر میں پہنچتی ہیں پچھلی رات
اڑتی ہے جن سے دھوپ وہ مخدوم ایڑیاں
منصور آفاق

پانیوں میں تیرتی شاداب کومل بیریاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 268
یاد کی اک نہر پر وہسکی کی بوتل بیریاں
پانیوں میں تیرتی شاداب کومل بیریاں
دیکھتا ہوں دھوپ کی جلتی چتا کے آس پاس
سائباں ، دیوار ، چھتری، زلف، بادل ، بیریاں
ایک دھاگوں سے بھری تعویز در تعویز رات
گہرے پرآسیب سائے ، خوف سے شل بیریاں
اب تو ڈھیلے پھینکتے لڑکے سے کہہ دو ہنس پڑے
خود ہی تھل کی جھک گئی ہیں پھل سے بوجھل بیریاں
تیز ہو جائے ہوا تو شرٹ اپنی کھول دیں
گرمیوں کے سر پھرے موسم کی پاگل بیریاں
چاہتی ہیں کوئی پتھر مارنے والابھی ہو
اپنے جوبن پر جب آجاتی ہیں کومل بیریاں
جن کے آنچل میں گزار آئے بدن کی دو پہر
یاد ہیں وہ گاؤں کی سب شوخ چنچل بیریاں
منصور آفاق

ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 267
دوبارہ کاٹنے آؤ گے… آس ہے سائیاں
ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں
مری دعاؤں پہ چیلیں جھپٹنے والی ہیں
یہ ایک چیخ بھری التماس ہے سائیاں
عجیب شہد سا بھرنے لگا ہے لہجے میں
یہ حرفِ میم میں کیسی مٹھاس ہے سائیاں
تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں
جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں
ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں
ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں
کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں
نجانے کون سی کھائی میں گر پڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں
منصور آفاق

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق

ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 265
اپنے لفظوں کی مہک باد صبا سے پاؤں
ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں
ٹافیاں جیب میں برسوں سے لئے پھرتا ہوں
کاش گلیوں میں کہیں تیرے نواسے پاؤں
میرے صحرائے عرب کے اے کرم ور بادل
دور تک بھٹکے ہوئے آدمی پیاسے پاؤں
انگلیاں تیرے وسیلے کی مہک دیتی ہیں
اپنی بخشش کا یقیں دستِ دعا سے پاؤں
ایک تندور میں محراب کی تعمیر کروں
سایۂ ابر سے منصور دلاسے پاؤں
منصور آفاق

بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 264
وہ نیلی روشنی وہ سرائے وہ نرم آگ
بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ
وہ موسمِ بہار کا ساحل پہ پہلادن
وہ گرم گرم شام کی چائے وہ نرم آگ
وہ تیز دھن وصال کی وہ روشنی کے گیت
وہ چار ناچتے ہوئے سائے وہ نرم آگ
ہرسمت حسنِ لمس کی بہکی ہوئی کشش
عریانیوں کو رقص میں لائے وہ نرم آگ
حسنِ طلب کی آخری حد پہ کھڑی ہوں میں
لاؤ کہیں سے ڈھونڈھ کے مائے وہ نرم آگ
منصور کیا بتاؤں میں خوابوں کی داستاں
بعداز وصال کیسے سلائے وہ نرم آگ
منصور آفاق

زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 263
آگئے ہیں نیاگرے ہم لوگ
زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ
چہچہاتی تھیں چار سو چڑیاں
ہوتے تھے جب ہرے بھرے ہم لوگ
اُس جگہ کچھ ہمارے جیسا ہے
جاتے رہتے ہیں آگرے ہم لوگ
رقصِ سرمد کا موسم آیا ہے
اب پہن لیں نا گھاگرے ہم لوگ
اے خداوندِ جادہ و منزل
چل پڑے تیرے آسرے ہم لوگ
سارا منظراسی کا ہے منصور
ہیں ازل سے بے منظرے ہم لوگ
منصور آفاق

آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق

چار سو فوراً سراسر اور رنگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 261
ہم بدن ہوتے ہی بستر اور رنگ
چار سو فوراً سراسر اور رنگ
بھر گیا ہوں میں ترے انوار سے
بھیج دے بس اک دیابھر اور رنگ
اترا ہوں قوسِ قزح سے میں ابھی
ہیں مگر تیرے لبوں پراور رنگ
روشنی تھوڑی سی بہتر جب ہوئی
ہو گئے یکدم اجاگر اور رنگ
کینوس منصور صبحوں کا کہے
اک تناسب میں ہیں منظر اور رنگ
منصور آفاق

دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 260
ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک
اک شام پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُر خار پہ دستک
پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک
کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ابد زار پہ دستک
دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک
بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک
کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک
ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرئہ اسرار پہ دستک
ہے فرض یہی تجھ پہ یہی تیری عبادت
دے خاک نسب ! خانہء سیار پہ دستک
درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
یہ کون ہے دیتا ہے جو پندار پہ دستک
وہ دیکھیے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ، چشم گنہگار پہ دستک
اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازئہ آزار پہ دستک
دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں
درشن کے لیے دے درِ دلدار پہ دستک
برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک
پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک
افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک
مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک
دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک
اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک
منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
منصور آفاق

رات خاموش ہے تکمیلِ ہنر ہونے تک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 259
وقت کی فاختہ اڑتی نہیں پر ہونے تک
رات خاموش ہے تکمیلِ ہنر ہونے تک
ختم ہوجائے گی منزل پہ تری بانگِ درا
گرمی ء ذوق عمل ہو گا سفر ہونے تک
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
یہ تو وقفہ ہے فقط ان کو خبر ہونے تک
ایک لمحہ ہے قیامت کا بس اپنے ہمراہ
دیر کتنی ہے جہان زیر و زبر ہونے تک
قتل گہ میں ہیں چراغوں کی کروڑوں لاشیں
کتنے مصلوب دئیے ہونگے سحر ہونے تک
کوئی حرکت ہی دکھائی نہیں دیتی منصور
راکھ ہوجائیں گے ہم رات بسر ہونے تک
منصور آفاق

بلب جلتا رہے اذانِ سحر ہونے تک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 258
ہجر کی رات بھری قبر کے سر ہونے تک
بلب جلتا رہے اذانِ سحر ہونے تک
دفن ہو جائیں گے بنیادمیں دیواروں کی
بامِ ابلاغ کی ہم پہلی خبر ہونے تک
برف بستی میں گری ہے کوئی بارہ فٹ تک
لوگ محفوظ ہیں بس جسم پہ فر ہونے تک
خواب ہو جاتی ہیں رنگوں بھری بندر گاہیں
پھرتے رہتے ہیں جہاں گرد سفر ہونے تک
آنکھ تعبیر کی منزل پہ پہنچ جائے گی
منتظر خواب رہیں عمر بسر ہونے تک
کتنے جانکاہ مراحل سے گزرنا ہو گا
ایک معصوم کوپنل کو ثمر ہونے تک
اس کی فٹ پاتھ بسیرا ہے قیامت کی نوید
حشر آجائے گا منصور کا گھر ہونے تک
نذرِ غالب
منصور آفاق

لکھ کر بکھیرنی ہے وفا کی رپورتاژ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 257
اک راکھ کے بدن کو ہوا کی رپورتاژ
لکھ کر بکھیرنی ہے وفا کی رپورتاژ
میں کھڑکیوں سے صبح کی پہلی کرن کے ساتھ
پڑھتا ہوں روز باد صبا کی رپورتاژ
تشکیل کائنات کی رودادِ گم شدہ
ہو گی کہاں پہ لوحِ خدا کی رپورتاژ
شاید ہے مانگنے کی جبلت وجود میں
لمبی بہت ہے دستِ دعا کی رپورتاژ
تقسیم کیا کرو گے وسائل زمین کے
لکھتے رہو گے جرم و سزا کی رپورتاژ
لکھتے ہیں روز خونِ جگر کو نچوڑ کے
سورج کے ہاتھ شامِ فنا کی رپورتاژ
لاشوں بھری سرائے سے نکلے گی کب تلک
جانِ جہاں کے ناز و ادا کی رپورتاژ
پڑھتے بنام علم ہیں بچے سکول میں
بالِ ہما کے بختِ رسا کی رپورتاژ
شاید لبِ فرات لہو سے لکھی گئی
اس زندگی کی نشو و نما کی رپورتاژ
برسوں سے نیکیوں کا فرشتہ رقم کرے
منصور صرف آہ و بکا کی رپورتاژ
منصور آفاق

اب تعلق میں بردباری چھوڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 256
وحشتیں اوڑھ، انتظاری چھوڑ
اب تعلق میں بردباری چھوڑ
دیکھنا چاند کیا سلاخوں سے
کج نظر سارتر سے یاری چھوڑ
دستِ ابلیس سے ثواب نہ پی
یہ تہجد کی بادہ خواری چھوڑ
زندہ قبروں پہ پھول رکھنے آ
مرنے والوں کی غم گساری چھوڑ
مردہ کتے کا دیکھ لے انجام
مشورہ مان، شہریاری چھوڑ
کچھ تو اعمال میں مشقت رکھ
یہ کرم کی حرام کاری چھوڑ
صبح کی طرح چل! برہنہ ہو
یہ اندھیرے کی پردہ داری چھوڑ
توڑ دے ہجر کے کواڑوں کو
اب دریچوں سے چاند ماری چھوڑ
بھونک اب جتنا بھونک سکتا ہے
ظلم سے التجا گزاری چھوڑ
آج اس سے تُو معذرت کر لے
یہ روایت کی پاس داری چھوڑ
رکھ بدن میں سکوت مٹی کا
یہ سمندر سی بے قراری چھوڑ
چھوڑ آسانیاں مصائب میں
دشت میں اونٹ کی سواری چھوڑ
یہ سفیدی پھری ہوئی قبریں
چھوڑ عیسیٰ کے یہ حواری چھوڑ
شہرِ غالب سے بھاگ جا منصور
میر جیسی غزل نگاری چھوڑ
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق

دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 254
بل کھاتے موڑ تیرے ، تیرا یہ مال روڈ
دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ
وہ وجد و حال و مستی جانے کہاں گئے ہیں
خالی پڑا ہوا ہے کب سے دھمال روڈ
رہ جائے گی یہ پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ
اے زندگی یہاں سے کوئی نکال روڈ
بارش برس رہی ہے آنکھوں کے آس پاس
سیلاب میں گھری ہے اپنی کنال روڈ
نکلے نفی کے شہر سے اثبات کی سڑک
جائے جو آسماں کو من کی قتال روڈ
ناراض موسموں سے آئی ہے کوئی کال
منصور ہو گئی ہے گھر کی بحال روڈ
منصور آفاق

بھیجا نہیں سو یار کو اس بار عید کارڈ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 253
اس کے لیے تھا باعثِ آزار عید کارڈ
بھیجا نہیں سو یار کو اس بار عید کارڈ
ایسا نہیں کہ بھول گیا ہے تمام شہر
آئے ہیں اپنے پاس بھی دوچار عید کارڈ
تیرہ برس کے بعد بھی اک یاد کے طفیل
میں نے اٹھایا تو لگا انگار عید کارڈ
ہر سال بھیجتا ہوں جسے اپنے آپ کو
اک ہے مری کہانی کا کردار عید کارڈ
کرنا ہے کب تلک شبِ انکار میں قیام
پچھلے برس کا آخری اقرار عید کارڈ
منصور سرورق پہ ہے تصویر شام کی
آیا ہے کیسا آئینہ بردار عید کارڈ
منصور آفاق

اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 252
رنگ تھے کچھ نیل پالش کے مری آنکھوں کے بیچ
اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ
راکھ کے گرنے کی بھی آواز آتی تھی مجھے
مر رہا تھا آخری سگریٹ مرے ہونٹوں کے بیچ
ہاتھ میں تو لالہ و گل تھے مرے حالات کے
پشت پر کاڑھی ہوئی تھی کھوپڑی سانپوں کے بیچ
کون گزرا ہے نگارِ چشم سے کچھ تو کہو
پھر گئی ہے کون سی شے یاد کی گلیوں کے بیچ
دو ملاقاتوں کے دن تھے آدمی کے پاس بس
اور کُن کا فاصلہ تھا دونوں تاریخوں کے بیچ
گوشت کے جلنے کی بو تھی قریۂ منصور میں
کھال اتری تھی ہرن کی، جسم تھا شعلوں کے بیچ
منصور آفاق

نیند سے بولائی دستک تیری دیواروں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 251
ڈھونڈتی ہے آسماں پر در کوئی تاروں کے بیچ
نیند سے بولائی دستک تیری دیواروں کے بیچ
گفتگو کیا ہو مقابل جب ہیں خالی پگڑیاں
پہلے تو سر بھی ہوا کرتے تھے دستاروں کے بیچ
اے خدا میرا بھرم رکھنا، فراتِ وقت پر
اک انا کا بانکپن ہے کتنی تلواروں کے بیچ
ریل کی پٹری بچھائی جا رہی ہے اس کے ساتھ
ایک کاٹج کیا بنایا میں نے گلزاروں کے بیچ
جانتی تھی اور سب کو ایک بس میرے سوا
وہ کہیں بیٹھی ہوئی تھی چند فنکاروں کے بیچ
دھوپ بھی ہے برف تیری سرد مہری کے طفیل
رات بھی پھنکارتی ہے تیرے آزاروں کے بیچ
منصور آفاق

ایک ہی کیوں آدمی ہے سارے دروازوں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 250
دل کی بستی سوچتی ہے جاگتے رازوں کے بیچ
ایک ہی کیوں آدمی ہے سارے دروازوں کے بیچ
کھو گئیں میری سخن بستہ نوائیں درد میں
رہ گیا آہوں کا رقصِ مشتعل سازوں کے بیچ
ایک چڑیا سے تقاضائے وفا اچھا نہیں
جاں نثاری کی سعادت قرض شہبازوں کے بیچ
تم جسے کہتے تھے چرخ نیلگوں اک وہم تھا
گم ہوئی اس کی بلندی میری پروازوں کے بیچ
اپنے شانوں پر اٹھا رکھی تھی خود میں نے صلیب
ہے مگر تاریخ کا الزام ہمرازوں کے بیچ
ہر قدم پر کھینچ لیتا تھا کوئی اندھا کنواں
سو بسا لی اپنی بستی اپنے خمیازوں کے بیچ
شہر ہونا چاہیے تھا اس سڑک کے آس پاس
کوئی غلطی رہ گئی ہے میرے اندازوں کے بیچ
سن رہا ہوں یاد کے پچھلے پہر کی ہچکیاں
دور سے آتی ہوئی بے مہر آوازوں کے بیچ
منصور آفاق

گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 249
نقشے کچھ قریۂ سما کے کھینچ
گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ
تیری آنکھوں میں کیا تناسب ہے
میرے فوٹو گراف آ کے کھینچ
تیری خوشبو چرا لے آئی ہے
کان اڑتی ہوئی ہوا کے کھینچ
روند دے پاؤں میں کفن کی رات
چیتھڑے دامنِ فنا کے کھینچ
اچھی کرلی ہے خاک کی تقسیم
اب فلک پر لکیریں جا کے کھینچ
دیکھ کھڑکی میں آ گیا ہے چاند
ہاتھ اپنا ذرا بڑھا کے کھینچ
دن کو پکڑا تو ہے کنارے سے
زور پورا مگر لگا کے کھینچ
بند کر دے یہ کیمرہ منصور
اس کا فوٹو اسے بتا کے کھینچ
منصور آفاق

میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 248
گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ
بے شکل صورتوں کا ٹھکانا بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ
جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ، مانا بھی اپنے آپ
جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ
صرفِ نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ
کتنا ابھی ابھی تر و تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ
منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
منصور آفاق

منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 247
بادِ صبا کے ساتھ صدائے فلاح دھوپ
منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ
آنسو رکے ہوئے ہیں کہیں بادلوں کے بیچ
پھیلی ہے چشمِ یاد کے گرد و نواح دھوپ
فتووں کے ابر سے کسی پردے میں جا چھپی
رکھی ہوئی تھی گھر میں جو اک بے نکاح دھوپ
اندھی شبوں میں حضرتِ اقبال آفتاب
برفاب موسموں میں جنابِ جناح دھوپ
ہم لمس ہوں تو ذات کا دریا بہے کوئی
تیرا مذاق برف ہے میرا مزاح دھوپ
ہو جاؤں ساحلوں پہ برہنہ، نہیں ، نہیں
کیسی یہ دے رہی ہے مسلسل صلاح دھوپ
منصور آفاق

صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 246
غم کی طویل رات کا اک انتباہ دھوپ
صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ
احمق ہے جانتی ہی نہیں میری برف کو
جم جائے آپ ہی نہ کہیں بادشاہ دھوپ
میں چل رہا ہوں تیری تمنا کے دشت میں
میرے رفیق آبلے، میری گواہ دھوپ
پردے ابھی نہ کھینچ مری کھڑکیوں کے دوست
مجھ سے بڑھا رہی ہے ذرا رسم و راہ دھوپ
برطانیہ کی برف میں کتنی یتیم ہے
صحرائے تھل میں جو تھی بڑی کج کلاہ دھوپ
جھلسا دیا دماغ بھی چہروں کے ساتھ ساتھ
مشرق کے المیے میں نہیں بے گناہ دھوپ
منصور اپنی چھت سے رہو ہمکلام بس
تنہائیوں کی شہر میں ہے بے پناہ دھوپ
منصور آفاق

یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 245
یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ
کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ
ہر قدم پر خدا کی بستی میں
مسئلوں کی طرح کھڑے ہیں سانپ
کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ
اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ
ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
منصور آفاق

کچھ پرانے ہیں کچھ نئے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 244
آستیں سے نکل پڑے ہیں سانپ
کچھ پرانے ہیں کچھ نئے ہیں سانپ
آ رہی ہیں جو اونی بھیڑیں ہیں
جا رہے ہیں جو وہ راستے ہیں سانپ
ہم لکیروں کو پیٹنے والے
جا رہے ہیں جہاں گئے ہیں سانپ
آسماں سے پہن کے تیرا روپ
دیکھ قوسِ قزح گرے ہیں سانپ
میرے پہلو میں جو پنپتے ہیں
یہ ترے انتظار کے ہیں سانپ
چل رہے ہیں سنپولیے ہمراہ
ہم بھی محسوس ہو رہے ہیں سانپ
شہر میں محترم نہیں ہم لوگ
صاحبِ عز و جہ ہوئے ہیں سانپ
اپنے جیون کی شاخِ جنت پر
موسم آیا تو کھل اٹھے ہیں سانپ
لالہ و گل کے روپ میں منصور
زندگی میں کئی ملے ہیں سانپ
منصور آفاق

کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 243
کچھ تلاش آپ ہی کیے ہیں سانپ
کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ
گفتگو زہر سے بھری ہی نہیں
سر پہ دستار بھی لیے ہیں سانپ
چھاؤں کو ڈس رہے ہیں شاخوں سے
دھوپ کے سرخ زاویے ہیں سانپ
شام ہوتے ہی چاٹتے ہیں دل
بس وہ دوچار ثانیے ہیں سانپ
پھر کہا خواب سے سپیرے نے
اور اب کتنے چاہیے ہیں سانپ
بھر گیا زہرِ غم سے اپنا دل
یعنی یادوں کے بھی دیے ہیں سانپ
منصور آفاق

جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 242
گرفتِ زر کے گرفتاروں میں رہائی بانٹ
جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ
تُو مجھ کو چھوڑ، کسی اور سے تعلق رکھ
تمام شہر میں اپنی نہ بے وفائی بانٹ
مجھے بھی بخش تصرف کسی کے خوابوں پر
ذرا سی اپنے فقیروں میں بھی خدائی بانٹ
پلٹ پلٹ کے نہ دیکھ اُس کا دل ربا چہرہ
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
یہ لوگ شعر کو دیکھیں تری بصارت سے
دیارِ حرف میں آنکھیں جلی جلائی بانٹ
کتابِ ذات کی بے چہرگی کو چہرہ دے
ہزار سال پہ تقریب رونمائی بانٹ
عجیب قحط ہے لوگوں کو عشق بھول گیا
تمام گاؤں میں گندم کٹی کٹائی بانٹ
سنا ہے شہر میں تیری کئی دکانیں ہیں
مرے امام! ذرا زہد کی کمائی بانٹ
ترے لیے تو ہے بد، سات کا عدد منصور
تُو آٹھ روز پہ تقویم کی اکائی بانٹ
منصور آفاق

اڑنے کا وسیلہ ہیں امیدوں کے نہ پر کاٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 241
اپنے ہی کناروں کو مرے دیدئہ تر کاٹ
اڑنے کا وسیلہ ہیں امیدوں کے نہ پر کاٹ
اک بنک کے لا کر میں تری عمر پڑی ہے
شب کاٹ اگر لی ہے تو بے مہر سحر کاٹ
ہر سمت دماغوں کے شجر اگنے لگے ہیں
اس مرتبہ پودوں کے ذرا سوچ کے سر کاٹ
تُو ساعتِ سیّار کی تسخیر سے پہلے
آخانۂ درویش میں بس ایک پہر کاٹ
منصور نکلنا تو ہے مٹی کی گلی سے
لیکن ابھی کچھ اور یہ سورج کا سفر کاٹ
منصور آفاق

وہ سنوارآیا بگاڑوں کو شہیدوں کا لہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 240
ملک کے ٹوٹے کواڑوں کو شہیدوں کا لہو
وہ سنوارآیا بگاڑوں کو شہیدوں کا لہو
موسمِ گل کی سہانی شام لاتا ہے یہی
دھوپ رُو کرتا ہے جاڑوں کو شہیدوں کا لہو
کرچکا ہے خوشنما تاریخ کے ہردور میں
موت کی پُر خار باڑوں کو شہیدوں کا لہو
دے چکا ہے زندگی کی دلربا آبادیاں
دشت کے کالے اجاڑوں کو شہیدوں کا لہو
کر چکا ہے ہمتوں سے سرفراز و جاوداں
آسماں آسا پہاڑوں کو شہیدوں کا لہو
دے چکا ہے روشنی ظلمات میں بکھری ہوئی
کتنی بارودی دراڑوں کو شہیدوں کا لہو
ہرقیامت خیز موسم میں رواں رکھتا رہا
زندگی کی کٹتی ناڑوں کو شہیدوں کا لہو
عمر بھر انجام تک منصور پہنچاتا رہا
ظلمتِ شب کے کراڑوں کو شہیدوں کا لہو
منصور آفاق

ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 239
مصحفِ دل کی تلاوت روز و شب کرتے رہو
ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو
شاملِ توفیق ان کی رحمتیں ہو جائیں گی
مسئلے جو بھی بیاں کرنے ہیں سب کرتے رہو
زندگی ممنون ہے جس کی ، اُسی کے نام سے
اپنے دل کے بھی دھڑکنے کا سبب کرتے رہو
نام ہو ان کا تو مایوسی سراسر کفر ہے
اپنی بخشش کی دعا ساغر بہ لب کرتے رہو
اک ذرا بس ان کا ذکرِ خیر پہلے دوستو
بات اپنی جو تمہیں کرنی ہے ، اب کرتے رہو
عزم زندہ ہو تو ساری بیڑیاں کٹ جائیں گی
کوششیں اپنی بصد رنج و تعب کرتے رہو
آنکھ میں منصور روشن ہوں ستارے اور دئیے
آنسوئوں سے تم بپا شامِ طرب کرتے رہو
منصور آفاق

تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 238
ہوتے ہیں کیسے گال ، گلابی سمجھتے ہو
تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو
تم مجھ سے پوچھتے ہو الف کی کہانیاں
کیا مجھ کو کوئی کرمِ کتابی سمجھتے ہو
کیاگفتگو ہو تم سے فقیہِعجم کہ تم
غالب سی شخصیت کو شرابی سمجھتے ہو
اے دوست یہ بھی آتی ہے فردِ علوم میں
کیوں دوستی کو غیر نصابی سمجھتے ہو
عبدالرسول ! چھاؤں کی نرمی تو کم نہیں
کیوں نیم کے شجر کو وہابی سمجھتے ہو
منصور یہ لہو ہے پروں پر لگا ہوا
تم فاختہ کا رنگ عنابی سمجھتے ہو
منصور آفاق

وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 237
خوابِ گل کی جو پہیلی دیکھتی ہو
وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو
پتھروں کو کاٹتا رہتا ہوں دن بھر
کیا مری چھو کر ہتھیلی دیکھتی ہو
بات کر سکتے ہیں ہم دونوں یہاں پر
ہے سڑک کتنی اکیلی دیکھتی ہو
غم کی صدیوں کا کھنڈر ہوں تیرے بعد
جسم کی خالی حویلی دیکھتی ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے چشم و لب میں
بولتی ہو رت، چنبیلی دیکھتی ہو
بات خوشبو کی اچانک موسموں نے
چھین اس کے ہونٹ سے لی، دیکھتی ہو
مجھ میں دیکھو بیٹھ کر اس کو کوئی دن
خود میں کیا دلہن نویلی دیکھتی ہو
منصور آفاق

سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 236
تُو لائے یار کی خوشبو، سدا سلامتی ہو
سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو
میں دھڑکنوں کے تلاطم سے لطف لیتا ہوں
ہزار وحشتِ موجِ ہوا سلامتی ہو
مری حیاتِ گذشتہ سے لوٹ آتی ہوئی
صباحتِ لب و رخ کی صدا سلامتی ہو
ملالِ شامِ مسلسل کی حکمرانی ہے
الم نصیب، دلِ باوفا سلامتی ہو
تمام کون و مکاں کے لیے دعائے خیر
فقط یہاں ہی نہیں جا بجا سلامتی ہو
وہاں بچھانی ہے اک جانماز میں نے بھی
کنارِ چشمہء حمد و ثنا سلامتی ہو
میں چل رہا تھا کسی بد کلام بستی میں
کسی نے مجھ کو اچانک کہا سلامتی ہو
سیاہ دن سے گزرتی ہوئی سفید قبا
اٹھے ہوئے ہیں یہ دست دعا سلامتی ہو
پڑوس میں بھی ترے دم سے کچھ اجالا ہے
سلامتی مرے گھر کا دیا سلامتی ہو
میں خوشہ چین ہوں غالب ترے گلستاں کا
اے کائناتِ سخن کے خدا سلامتی ہو
شبِ فراق چمکتی ہے تیرے جلووں سے
اے مہتاب کی دھیمی ضیا سلامتی ہو
یہیں پہ خیر بھی رہتی ہے شر بھی ہے آباد
مری زمین پہ منصور کیا سلامتی ہو
منصور آفاق

اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 235
وردِ دل اللہ ہو ، وردِ زباں اللہ ہو
اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو
ایک ہی آہنگ میں موجِ صبا کے ساتھ ساتھ
کہہ رہا ہے صبح دم آبِ رواں اللہ ہو
گونجتا ہے اس لئے داؤد سے باہو تلک
نغمۂ ہو کے تکلم میں نہاں اللہ ہو
عابدوں کا اپنا تقوی ، زاہدوں کا اپنا زہد
رندِ درد آمیز کی آہ و فغاں اللہ ہو
لفظِ ہو میں گم ہواہے ہست کا سارا وجود
یہ زمیں اللہ ہو یہ آسماں اللہ ہو
خاک اور افلاک کو واپس بھی لے سکتا ہے وہ
ہیں جہاں دونوں فنا اک جاوداں اللہ ہو
قبر کی دعوت میں باہو کہہ گیا منصور سے
جس کا میں شہباز ہوں وہ لامکاں اللہ ہو
منصور آفاق

اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 234
رات کے بوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو
میں نے سمجھا تھا تم کو محافظ مگر
اک بڑی لوٹ کی تم تو تاریخ ہو
تم لٹیروں کا سفاک سرکش گروہ
ظلم کی جھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اپنی بربادیوں کی کہانی ہو تم
ٹوٹ کی پھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
کتنے منصور تم نے کئے قتل ہیں
جرم میں چھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
منصور آفاق

محبت کا یہ کم آباد رستہ دیکھتے کیا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 233
گزرتا ہے کوئی برسوں میں تارہ دیکھتے کیا ہو
محبت کا یہ کم آباد رستہ دیکھتے کیا ہو
مرے برجِ جدی تم ہو یہ خوش بختی تمہی سے ہے
لکیریں دیکھتے کیا ہو ستارہ دیکھتے کیا ہو
محبت وہ نہیں حاصل جہاں لا حاصلی بس ہو
جو کھلتا ہی نہیں ہے وہ دریچہ دیکھتے کیا ہو
یہاں کاغذ پہن کر صرف میرے خواب رہتے ہیں
یہ بے ترتیب سا نظموں کا کمرہ دیکھتے کیا ہو
ہے بندو بست ، لمس و ذائقہ کی پیاس کا منصور
نگاہوں سے کسی کا صرف چہرہ دیکھتے کیا ہو
منصور آفاق

کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 232
یہ لب سمیٹ لیں صحرا کی پیاس ایسا ہو
کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو
کری گلاس میں ڈالے پلیٹ میں پانی
میں چاہتا ہوں کہ وہ بدحواس ایسا ہو
تمام رات رہے مال روڈ پر بجلی
تمام رات یہ چیرنگ کراس ایسا ہو
مری گلی میں شعاعوں کی بھیڑ لگ جائے
اُس آئینے سے کوئی انعکاس ایسا ہو
وہ خوش خرام بدن نرم گرم جیسا ہے
مرے بدن کا بھی کوئی لباس ایسا ہو
ملال سسکیاں گلیوں میں بھرتے پھرتے ہوں
یہ شہر ہجر میں تیرے اداس ایسا ہو
کوئی بھی راستہ پاؤں کی دسترس میں نہ ہو
ہرایک راہ میں اگ آئے گھاس ایسا ہو
جو دیکھ سکتا ہومنظر نہیں پسِ منظر
کوئی تو شہر میں چہرہ شناس ایسا ہو
وہ بار بار پڑھے رات دن جسے منصور
کتابِ دل کا کوئی اقتباس ایسا ہو
منصور آفاق

یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 231
اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو
اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو
پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو
وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو
کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو
اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو
ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو
منصور آفاق

کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 230
وہ امریکا تھی ہر بات روا تھی اس کو
کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو
جنگ نہیں ہو سکتی تھی اس بے پرواسے
میں نے فنا ہونا تھا اور بقا تھی اس کو
میرے ساتھ جہاں تھا پھر بھی ہار گیا میں
ایک مقدس ماں کی صرف دعا تھی اس کو
انجانے میں بھیگ گئی تھیں جلتی پلکیں
کچھ کہنے کی اور ضرورت کیا تھی اس کو
اپنے پیٹ پہ پتھر باندھ کے جو پھرتا تھا
بخش دیا ہے ایک سخی نے ہاتھی اس کو
دیکھ کے چہرہ کو منصور کہا پھولوں نے
راس میانوالی کی آب و ہوا تھی اس کو
منصور آفاق

ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 229
بھردیا اجنبی فضاؤں کو
ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو
آخری سانس تک لڑیں گے ہم
پھر دیوں نے کہا ہواؤں کو
لوگ ابلیس سے بھی بڑھ کے ہیں
پوجتے ہیں کئی خداؤں کو
سانپ بننے لگی ہے شاخِ گل
دھوپ ڈسنے لگی ہے چھاؤں کو
دشتِ غم سے نکال لائے ہیں
چومتے ہیں ہم اپنے پاؤں کو
دے گئی پھر سنبھالاموسیقی
اور دعادی غزل سراؤں کو
اپنے خالی گھڑے لئے منصور
کوئی دریا چلا ہے گاؤں کو
منصور آفاق

مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 228
تہذیب کو فرسودہ دلائل سے نکالو
مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو
تم ملک خدا داد کا لوٹا ہوا گلشن
اب زردمعیشت کے خصائل سے نکالو
خیرات پہ جینا توکوئی جینا نہیں ہے
اک تازہ سحر اپنے وسائل سے نکالو
قانون کو نافذ کرو ہر ایک گلی پر
تم قاتلوں کو اپنے قبائل سے نکالو
منصور لٹیروں کو سرِعام دو پھانسی
اب دیس کرپشن کی شمائل سے نکالو
منصور آفاق

کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 227
مسافرت ہی ہے رنج و محن ، وطن والو
کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو
سویر ے پھرتے ہیں باغِ جناح میں کیا کیا
بڑی حسین ہے صبحِ چمن وطن والو
جہاں کی ساری بہاروں سے خوبصورت ہیں
ہمارے اپنے یہ برگ و سمن وطن والو
زمانے بھرسے ملائم ہیں نرم و نازک ہیں
زبانیں اپنی یہ اپنے سخن وطن والو
یہ شاعری ہے تمہاری ، تمہاری خاطر ہے
یہ گفتگو یہ جگرکی جلن وطن والو
تم اس سے تازہ زمانہ خرید سکتے ہو
اٹھالو میرے قلم کایہ دھن وطن والو
تمہیں مٹانے کی کوشش میں کیا جہاں والے
تم آپ خودسے ہوشمشیرزن وطن والو
وطن میں ایک نئے دور کیلئے منصور
ضروری ہو گیا دیوانہ پن وطن والو
منصور آفاق

شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 226
ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو
ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو
دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو، محبت کم نہ ہونے دو
ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو
مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ ذات میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو
مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو
رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو
منصور آفاق

نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 225
صلیبیں دور یہ گاڑو کہیں ،معافی دو
نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو
اتار سکتا نہیں ہوں میں قرض مٹی کے
اے میرے دیس اے میری زمیں معافی دو
کسی کے سامنے جھکنا مجھے نہیں آتا
سجودِ خاک سے عاری جبیں معافی دو
خدا سے میرے مراسم میں تم نہیں موجود
بہشتِ نہر مہ و انگبیں معافی دو
نہیں ہے سانپ کو بھی مارناروا مجھ پر
لپکتے مارِ کفِ آستیں معافی دو
وجودِ وحدتِ کل سے جدا نہیں ہوں میں
شہودِ شر کے بزرگِ لعیں معافی دو
نکلنے کو مرے ہاتھوں سے ہے نمازِ عشا
عکاظِ نو کی شبِ آتشیں معافی دو
یہاں گنہ ہے تمنا، یہ ہے رہِ منصور
دیارِ دست طلب کے نگیں معافی دو
منصور آفاق

امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 224
حرام ہم پہ خیالِ طلب معافی دو
امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو
فقیرلوگ ابھی کربلا نہیں بھولے
اٹھو یہاں نکل جاؤ سب، معافی دو
وجود جھرجھری کھاتے ہیں بادشاہوں کے
سوال ترش ہیں لیموں بلب ،معافی دو
تم اہلِ زر سے تباہی تمام بستی میں
ہر ایک دکھ کا تمہی ہو سبب معافی دو
نفاذِ دین محمدﷺکہیں نہیں منصور
عجم معاف کرو اے عرب معافی دو
منصور آفاق

ڈر رہا ہے دریچے تک سے تُو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 223
رنگ لے کر نئے، دھنک سے تُو
ڈر رہا ہے دریچے تک سے تُو
یہ تجھے بھی مسافرت دے گی
مانگتا کیاہے اِس سڑک سے تُو
کھنکھناتی ہوئی زمیں سے میں
اور آیا ہوا فلک سے تُو
دل پہ تصویر ہو گیا کیسے
اپنی بس ایک ہی جھلک سے تُو
شور آنکھوں کا کیسا تھا منصور
بھر گیا لمس کی مہک سے تُو
منصور آفاق

سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 222
میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن… پُر سکوں کچھ دن
سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن
کہیں ڈھلتی ہوئی شب کو بھی ورزش کی ضرورت ہے
میں اپنے دوستوں کے ساتھ جاگنگ چھوڑ دوں کچھ دن
ابھی کچھ دن پلیٹوں میں رکھوں جذبے قیامت کے
سلاخوں میں دہکتے گوشت پر نظمیں لکھوں کچھ دن
مرے ہم عصر پیرس اب اداسی چھوڑ دے اپنی
جدا ہونا تو ہے لیکن ابھی میں اور ہوں کچھ دن
ابھی اس لمس تک شاید کئی ہفتوں کا رستہ ہے
رگوں میں تیز رہنی ہے ابھی رفتارِ خوں کچھ دن
بدن کے شہر کو جاتی سڑک پہ کوئی خطرہ ہے ؟
مجھے حیرت سرائے روح میں رہنا ہے کیوں کچھ دن
بہت ہی سست ہیں نبضیں مرے شہرِ نگاراں کی
اضافہ خود سری میں کچھ، چلے رسمِ جنوں کچھ دن
منصور آفاق

آگئے ہیں زندگی میں پھربڑے بے کار دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 221
ٹوٹے پھوٹے،بدنما،فالج زدہ ،بیمار دن
آگئے ہیں زندگی میں پھربڑے بے کار دن
ہم ملیں گے شانزے لیزے پہ رومی بارمیں
طے ہوئی بارہ دسمبر۔۔ ٹھیک ہے اتوار دن
یاد ہے وہ یارکے پہلو میں رنگوں کی بہار
جینا کہتے ہیں جسے ویسے جئے تھے چار دن
مصر کے اہرام سے پیرو کی تصویروں تلک
ہرجگہ کتنے گئی صدیوں کے پُراسرار دن
میری وحشت ہی جہاں تھی فیصلہ کن پھر وہاں
کیا اثر انداز ہوتے غیر جانب دار دن
آخرش منصور کیا تھااُس گذشتہ رات میں
گم ہوئی جذبوں بھری رُت، کھوگئے دلدار دن
منصور آفاق

سپردِ ریگ ہوئے ریت پر اچھل کے ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 220
کنارِآبِ رواں سے نکل نکل کے ہم
سپردِ ریگ ہوئے ریت پر اچھل کے ہم
ملازمت سے نکالے گئے مگر خوش ہیں
کسی کو دیکھتے دفتر میں تھے مچل کے ہم
ہمیں تلاشتے رہنا اسی خرابے میں
دکھائی دیں گے کسی اورسمت چل کے ہم
ندی کے ساتھ اترنے لگے سمندر میں
کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھرابل کے ہم
سیہ نصیب ہیں سو دیکھتے ہیں خوابوں میں
چراغِ صبح ہی منظر بدل بدل کے ہم
مہکنے لگتے ہیں کیسی الوہی خوشبو میں
کسی مزار کی مٹی بدن پہ مل کے ہم
دکھائیں کیسے کسی کو ، دکھائیں کیا منصور
شبِسیاہ سے باہر کہیں پہ جل کے ہم
منصور آفاق

بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 219
اپنے بدن کو آگ کامدفن بنائیں ہم
بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم
کس واسطے سنائیں تباہی کی پھر وعید
سارا دیار کس لئے دشمن بنائیں ہم
بدذات شہر رہنے کے قابل نہیں رہا
ویرانے میں کہیں جا مسکن بنائیں ہم
کالے سمندروں کے زمانے گزر گئے
تاریک سب جزیرے روشن بنائیں ہم
منصور جس کے ساتھ منورہے سارا شہر
اُس خوبرو چراغ کوساجن بنائیں ہم
منصور آفاق

عہدِ فرعون کے بھی فسوں کا ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 218
سچ کہوں کیا کہ موسیٰ عصا دار ہم
عہدِ فرعون کے بھی فسوں کا ہم
ہم خذف ریزے مٹی کے ہم ٹھیکرے
نقشِ تہذیب کے کہنہ آثار ہم
ہم ہی تختِ سلیماں کی تاریخ ہیں
اشک آباد ہیکل کی دیوار ہم
ہم حسن کوزہ گر ہم ہی بغداد ہیں
اک گذشتہ خلافت کی دستار ہم
ہم ہیں خاک نگاراں کی تشکیل گاہ
موت کی گرد سے لکھے کردار ہم
ہر طرف سرخ پانی کے سیلا ب میں
تربتر،ٹوٹے کوزوں کے انبار ہم
ٹوٹنے کی صدائے ستم،ہرطرف
ایک آوازِ تخریب کا وار ہم
جو صلیبوں کی میخوں میں مردہ ہوا
اُس خدا زاد عیسیٰ کا انکار ہم
اک طرف ہم ہی منصور گرداب ہیں
اک طرف بہتی کشتی کے پتوار ہم
منصور آفاق

بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 217
اب آسماں نژاد بلاؤں کا خوف ختم
بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم
تلووں تلے لگا لیے سیارے وقت نے
ہر لمحہ سوچتے ہوئے پاؤں کا خوف ختم
بادل بڑے گرجتے ہیں باراں بکف مگر
سینہ نہیں دھڑکتا، خداؤں کا خوف ختم
اک چشمہء شعور پہ اپنی رگوں کے بیچ
ہم شیر مار آئے ہیں ، گاؤں کا خوف ختم
سورج تراش لائے ہیں صحنِ علوم سے
سہمی ہوئی سیاہ فضاؤں کا خوف ختم
ہم نے طلسم توڑ لیا ہے نصیب کا
جادو نگر کی زرد دعاؤں کا خوف ختم
اب شرم سار ہوتی نہیں ہے سنہری دھوپ
پلکوں پہ سرسراتی گھٹاؤں کا خوف ختم
میلوں تلک زمیں میں آنکھیں اتر گئیں
اندھے کنووں میں لٹکی سزاؤں کا خوف ختم
کوہ ندا کے کھل گئے اسرار آنکھ پر
آسیبِ آسماں کی صداؤں کا خوف ختم
اپنالی اپنے عہد نے تہذیب جین کی
اکڑی ہوئی قدیم قباؤں کا خوف ختم
ہم رقص کائنات ہے منصور ذات سے
اندر کے بے کنار خلاؤں کا خوف ختم
منصور آفاق

زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 216
صبحِ انساں کے منظر پہ لاکھوں سلام
زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام
جس میں رہتی تھی عرشِ کرم کی بہشت
کچی اینٹوں کے اُس گھر پہ لاکھوں سلام
جس پہ آرام کرتے تھے شاہِ عرب
اُس کھجوروں کے بستر پہ لاکھوں سلام
جس سے پیتے تھے پانی شہء دوسرا
اس گھڑے کے لبِ تر پہ لاکھوں سلام
جس نے کیڑوں مکوڑوں کا رکھا خیال
اُس حسیں پائے اطہر پہ لاکھوں سلام
جس کے گھر مال و زر کا چلن ہی نہ تھا
ایسے نادار پرور پہ لاکھوں سلام
جس قناعت نے بدلا نظامِ معاش
اس شکم پوش پتھر پہ لاکھوں سلام
اک ذرا سی بھی جنش نہیں پاؤں میں
استقامت کے پیکر پہ لاکھوں سلام
زر ضرورت سے زائد تمہارا نہیں
کہنے والے کرم ور پہ لاکھوں سلام
جس کے مذہب میں ہے مالِ ساکت حرام
اُس رسولِ ابوزر پہ لاکھوں سلام
جس نے اسراف و تبذیر تک ختم کی
اُس غریبوں کے سرور پہ لاکھوں سلام
منصور آفاق

بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 215
وہ غم وہ بے کسی وہ لہو کا سفر وہ شام
بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام
ظالم شکاریوں کے نئے فائروں کی گونج
سہمے ہوئے پرندوں کا وہ مستقر وہ شام
وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام
اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام
شانوں پہ اک خیال کے گیسو گرے ہوئے
وہ باغِ خامشی وہ عدم کا ثمر وہ شام
رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ
پھرآ رہی ہے درد پہن کر اگر وہ شام
شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر
افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام
گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ
لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام
مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے
منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام
منصور آفاق

ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 214
یہ تیرا خار بھی ہے محوِ خواب شاخِ گل
ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل
مرے نصیب میں کانٹوں کی فصل آئی تھی
نہ مانگ مجھ سے گلوں کا حساب شاخِ گل
مری بہار کے بارے نہ پوچھا کر مجھ سے
ہے جھوٹ بولنا مجھ پہ عذاب شاخِ گل
کنارِ آب رواں ہمسفر زمانوں سے
خرامِ زندگی، موجِ کتاب، شاخِ گل
ورق ورق پہ پڑی ہیں شعاعیں خوشبو کی
کتاب زیست کا ہے انتساب شاخِ گل
خزاں کی شام ملی ہے مجھے تو گلشن میں
کہاں پہ آتا ہے تجھ پر شباب شاخِ گل
تلاش میں ہیں ہوائیں بہار کی منصور
کہاں لہکتی ہے خانہ خراب شاخ گل
منصور آفاق

چاند تاروں کی بارات آہستہ چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 213
جانِ جاں ہے مرے ساتھ ، آہستہ چل
چاند تاروں کی بارات آہستہ چل
یہ محبت کا رستہ خطرناک ہے
اے دلِ غیر محتاط ، آہستہ چل
اتنی رسوائیاں ٹھیک ہوتی نہیں
اے مرے عشق کی بات ، آہستہ چل
کتنی مشکل سے آئے ہیں وہ بزم میں
کچھ تو وقتِ ملاقات ، آہستہ چل
اس کی لافانی تصویر تخلیق کر
کینوس پہ مرے ہاتھ آہستہ چل
پھر یہ لمحے کہاں دستِ منصور میں
جتنا ممکن ہے اے رات آہستہ چل
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق

میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 211
روشن چراغ کر کوئی ، شب خانہ ، آنکھ کھول
میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول
اے چشمۂ کلام ابل۔۔ اے شعوربول
میرے قلم کی جراتِ رندانہ ۔۔آنکھ کھول
میدانِ کار زار ترا منتظر ہے ۔ جاگ
حرف و ہنر کی صبحِ شہیدانہ ۔آنکھ کھول
سب لے گیا معاش ترا عہدِ بدمعاش
لاہورکے شعورِ شریفانہ ، آنکھ کھول
تبدیل ہو چکی ہے زمانے کی کیفیت
منصور کی اے روحِ فقیرانہ، آنکھ کھول
منصور آفاق

الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 210
میں کُن کی کہانی سے سنوں شورِ انا الحق
الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق
پانی بھی علیحدہ نہیں سر چشمہ ء کل سے
دریا کی روانی سے سنوں شورِ انا الحق
اڑتے ہوئے پتے بھی تو ہیں پیڑ کا حصہ
موسم کی جوانی سے سنوں شورِ انا الحق
کثرت کو میں وحدت سے جدا کر نہیں سکتا
تخلیقِ جہانی سے سنوں شورِ انا الحق
آواز سے لفظوں کی جدائی نہیں ممکن
آیاتِ قرانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور زمانے کو خدا کہتی ہے دانش
تقویمِ زمانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور آفاق

ملا ہوا ہے زمیں سے بھی یہ مگر آفاق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 209
قیام دار سہی آسمان پر آفاق
ملا ہوا ہے زمیں سے بھی یہ مگر آفاق
کسی نے آنا تھا لیکن بڑے مسائل تھے
بھرا ہوا تھا اجالوں سے رات بھر آفاق
کرن کی قوس افق در افق ملائے اسے
ہے آج اپنے ہی پہلو میں جلوہ گر آفاق
صراطِ سمت پہ رکھی ہوئی بصارت سے
تمام کیسے دکھائے مری نظر آفاق
بس اتنا ہے کہ بلندی پہ ہیں ذرا لیکن
ہمیشہ کھول کے رکھتا ہے اپنے در آفاق
نکالتا ہے مسلسل اسی کو دامن سے
ترے چراغ سے کرتا رہا سحر آفاق
یہ اور بات کہ سورج پہن کے رہتا ہے
مرے لیے میرا چھتنار سا شجر آفاق
ابھی بچھڑنے کی ساعت نہیں ڈیئر آفاق
ابھی تو پب میں پڑی ہے بہت بیئر آفاق
بس اس لیے کہ اسے دیکھنے کی عادت ہے
جلاتا روز ہے سورج کا لائیٹر آفاق
بدن نے آگ ابھی لمس کی نہیں پکڑی
ابھی کچھ اور کسی کا مساج کر آفاق
خدا سے کیوں نہ تعلق خراب میرا ہو
ہے ایک چھتری کی صورت اِدھر اُدھر آفاق
اُدھر پتہ ہی نہیں کچھ بہشت کا منصور
اِدھر زمیں کے نظاروں سے بے خبر آفاق
منصور آفاق