admin کی تمام پوسٹیں

منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 247
بادِ صبا کے ساتھ صدائے فلاح دھوپ
منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ
آنسو رکے ہوئے ہیں کہیں بادلوں کے بیچ
پھیلی ہے چشمِ یاد کے گرد و نواح دھوپ
فتووں کے ابر سے کسی پردے میں جا چھپی
رکھی ہوئی تھی گھر میں جو اک بے نکاح دھوپ
اندھی شبوں میں حضرتِ اقبال آفتاب
برفاب موسموں میں جنابِ جناح دھوپ
ہم لمس ہوں تو ذات کا دریا بہے کوئی
تیرا مذاق برف ہے میرا مزاح دھوپ
ہو جاؤں ساحلوں پہ برہنہ، نہیں ، نہیں
کیسی یہ دے رہی ہے مسلسل صلاح دھوپ
منصور آفاق

صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 246
غم کی طویل رات کا اک انتباہ دھوپ
صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ
احمق ہے جانتی ہی نہیں میری برف کو
جم جائے آپ ہی نہ کہیں بادشاہ دھوپ
میں چل رہا ہوں تیری تمنا کے دشت میں
میرے رفیق آبلے، میری گواہ دھوپ
پردے ابھی نہ کھینچ مری کھڑکیوں کے دوست
مجھ سے بڑھا رہی ہے ذرا رسم و راہ دھوپ
برطانیہ کی برف میں کتنی یتیم ہے
صحرائے تھل میں جو تھی بڑی کج کلاہ دھوپ
جھلسا دیا دماغ بھی چہروں کے ساتھ ساتھ
مشرق کے المیے میں نہیں بے گناہ دھوپ
منصور اپنی چھت سے رہو ہمکلام بس
تنہائیوں کی شہر میں ہے بے پناہ دھوپ
منصور آفاق

یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 245
یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ
کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ
ہر قدم پر خدا کی بستی میں
مسئلوں کی طرح کھڑے ہیں سانپ
کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ
اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ
ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
منصور آفاق

کچھ پرانے ہیں کچھ نئے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 244
آستیں سے نکل پڑے ہیں سانپ
کچھ پرانے ہیں کچھ نئے ہیں سانپ
آ رہی ہیں جو اونی بھیڑیں ہیں
جا رہے ہیں جو وہ راستے ہیں سانپ
ہم لکیروں کو پیٹنے والے
جا رہے ہیں جہاں گئے ہیں سانپ
آسماں سے پہن کے تیرا روپ
دیکھ قوسِ قزح گرے ہیں سانپ
میرے پہلو میں جو پنپتے ہیں
یہ ترے انتظار کے ہیں سانپ
چل رہے ہیں سنپولیے ہمراہ
ہم بھی محسوس ہو رہے ہیں سانپ
شہر میں محترم نہیں ہم لوگ
صاحبِ عز و جہ ہوئے ہیں سانپ
اپنے جیون کی شاخِ جنت پر
موسم آیا تو کھل اٹھے ہیں سانپ
لالہ و گل کے روپ میں منصور
زندگی میں کئی ملے ہیں سانپ
منصور آفاق

کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 243
کچھ تلاش آپ ہی کیے ہیں سانپ
کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ
گفتگو زہر سے بھری ہی نہیں
سر پہ دستار بھی لیے ہیں سانپ
چھاؤں کو ڈس رہے ہیں شاخوں سے
دھوپ کے سرخ زاویے ہیں سانپ
شام ہوتے ہی چاٹتے ہیں دل
بس وہ دوچار ثانیے ہیں سانپ
پھر کہا خواب سے سپیرے نے
اور اب کتنے چاہیے ہیں سانپ
بھر گیا زہرِ غم سے اپنا دل
یعنی یادوں کے بھی دیے ہیں سانپ
منصور آفاق

جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 242
گرفتِ زر کے گرفتاروں میں رہائی بانٹ
جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ
تُو مجھ کو چھوڑ، کسی اور سے تعلق رکھ
تمام شہر میں اپنی نہ بے وفائی بانٹ
مجھے بھی بخش تصرف کسی کے خوابوں پر
ذرا سی اپنے فقیروں میں بھی خدائی بانٹ
پلٹ پلٹ کے نہ دیکھ اُس کا دل ربا چہرہ
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
یہ لوگ شعر کو دیکھیں تری بصارت سے
دیارِ حرف میں آنکھیں جلی جلائی بانٹ
کتابِ ذات کی بے چہرگی کو چہرہ دے
ہزار سال پہ تقریب رونمائی بانٹ
عجیب قحط ہے لوگوں کو عشق بھول گیا
تمام گاؤں میں گندم کٹی کٹائی بانٹ
سنا ہے شہر میں تیری کئی دکانیں ہیں
مرے امام! ذرا زہد کی کمائی بانٹ
ترے لیے تو ہے بد، سات کا عدد منصور
تُو آٹھ روز پہ تقویم کی اکائی بانٹ
منصور آفاق

اڑنے کا وسیلہ ہیں امیدوں کے نہ پر کاٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 241
اپنے ہی کناروں کو مرے دیدئہ تر کاٹ
اڑنے کا وسیلہ ہیں امیدوں کے نہ پر کاٹ
اک بنک کے لا کر میں تری عمر پڑی ہے
شب کاٹ اگر لی ہے تو بے مہر سحر کاٹ
ہر سمت دماغوں کے شجر اگنے لگے ہیں
اس مرتبہ پودوں کے ذرا سوچ کے سر کاٹ
تُو ساعتِ سیّار کی تسخیر سے پہلے
آخانۂ درویش میں بس ایک پہر کاٹ
منصور نکلنا تو ہے مٹی کی گلی سے
لیکن ابھی کچھ اور یہ سورج کا سفر کاٹ
منصور آفاق

وہ سنوارآیا بگاڑوں کو شہیدوں کا لہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 240
ملک کے ٹوٹے کواڑوں کو شہیدوں کا لہو
وہ سنوارآیا بگاڑوں کو شہیدوں کا لہو
موسمِ گل کی سہانی شام لاتا ہے یہی
دھوپ رُو کرتا ہے جاڑوں کو شہیدوں کا لہو
کرچکا ہے خوشنما تاریخ کے ہردور میں
موت کی پُر خار باڑوں کو شہیدوں کا لہو
دے چکا ہے زندگی کی دلربا آبادیاں
دشت کے کالے اجاڑوں کو شہیدوں کا لہو
کر چکا ہے ہمتوں سے سرفراز و جاوداں
آسماں آسا پہاڑوں کو شہیدوں کا لہو
دے چکا ہے روشنی ظلمات میں بکھری ہوئی
کتنی بارودی دراڑوں کو شہیدوں کا لہو
ہرقیامت خیز موسم میں رواں رکھتا رہا
زندگی کی کٹتی ناڑوں کو شہیدوں کا لہو
عمر بھر انجام تک منصور پہنچاتا رہا
ظلمتِ شب کے کراڑوں کو شہیدوں کا لہو
منصور آفاق

ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 239
مصحفِ دل کی تلاوت روز و شب کرتے رہو
ان کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو
شاملِ توفیق ان کی رحمتیں ہو جائیں گی
مسئلے جو بھی بیاں کرنے ہیں سب کرتے رہو
زندگی ممنون ہے جس کی ، اُسی کے نام سے
اپنے دل کے بھی دھڑکنے کا سبب کرتے رہو
نام ہو ان کا تو مایوسی سراسر کفر ہے
اپنی بخشش کی دعا ساغر بہ لب کرتے رہو
اک ذرا بس ان کا ذکرِ خیر پہلے دوستو
بات اپنی جو تمہیں کرنی ہے ، اب کرتے رہو
عزم زندہ ہو تو ساری بیڑیاں کٹ جائیں گی
کوششیں اپنی بصد رنج و تعب کرتے رہو
آنکھ میں منصور روشن ہوں ستارے اور دئیے
آنسوئوں سے تم بپا شامِ طرب کرتے رہو
منصور آفاق

تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 238
ہوتے ہیں کیسے گال ، گلابی سمجھتے ہو
تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو
تم مجھ سے پوچھتے ہو الف کی کہانیاں
کیا مجھ کو کوئی کرمِ کتابی سمجھتے ہو
کیاگفتگو ہو تم سے فقیہِعجم کہ تم
غالب سی شخصیت کو شرابی سمجھتے ہو
اے دوست یہ بھی آتی ہے فردِ علوم میں
کیوں دوستی کو غیر نصابی سمجھتے ہو
عبدالرسول ! چھاؤں کی نرمی تو کم نہیں
کیوں نیم کے شجر کو وہابی سمجھتے ہو
منصور یہ لہو ہے پروں پر لگا ہوا
تم فاختہ کا رنگ عنابی سمجھتے ہو
منصور آفاق

وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 237
خوابِ گل کی جو پہیلی دیکھتی ہو
وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو
پتھروں کو کاٹتا رہتا ہوں دن بھر
کیا مری چھو کر ہتھیلی دیکھتی ہو
بات کر سکتے ہیں ہم دونوں یہاں پر
ہے سڑک کتنی اکیلی دیکھتی ہو
غم کی صدیوں کا کھنڈر ہوں تیرے بعد
جسم کی خالی حویلی دیکھتی ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے چشم و لب میں
بولتی ہو رت، چنبیلی دیکھتی ہو
بات خوشبو کی اچانک موسموں نے
چھین اس کے ہونٹ سے لی، دیکھتی ہو
مجھ میں دیکھو بیٹھ کر اس کو کوئی دن
خود میں کیا دلہن نویلی دیکھتی ہو
منصور آفاق

سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 236
تُو لائے یار کی خوشبو، سدا سلامتی ہو
سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو
میں دھڑکنوں کے تلاطم سے لطف لیتا ہوں
ہزار وحشتِ موجِ ہوا سلامتی ہو
مری حیاتِ گذشتہ سے لوٹ آتی ہوئی
صباحتِ لب و رخ کی صدا سلامتی ہو
ملالِ شامِ مسلسل کی حکمرانی ہے
الم نصیب، دلِ باوفا سلامتی ہو
تمام کون و مکاں کے لیے دعائے خیر
فقط یہاں ہی نہیں جا بجا سلامتی ہو
وہاں بچھانی ہے اک جانماز میں نے بھی
کنارِ چشمہء حمد و ثنا سلامتی ہو
میں چل رہا تھا کسی بد کلام بستی میں
کسی نے مجھ کو اچانک کہا سلامتی ہو
سیاہ دن سے گزرتی ہوئی سفید قبا
اٹھے ہوئے ہیں یہ دست دعا سلامتی ہو
پڑوس میں بھی ترے دم سے کچھ اجالا ہے
سلامتی مرے گھر کا دیا سلامتی ہو
میں خوشہ چین ہوں غالب ترے گلستاں کا
اے کائناتِ سخن کے خدا سلامتی ہو
شبِ فراق چمکتی ہے تیرے جلووں سے
اے مہتاب کی دھیمی ضیا سلامتی ہو
یہیں پہ خیر بھی رہتی ہے شر بھی ہے آباد
مری زمین پہ منصور کیا سلامتی ہو
منصور آفاق

اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 235
وردِ دل اللہ ہو ، وردِ زباں اللہ ہو
اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو
ایک ہی آہنگ میں موجِ صبا کے ساتھ ساتھ
کہہ رہا ہے صبح دم آبِ رواں اللہ ہو
گونجتا ہے اس لئے داؤد سے باہو تلک
نغمۂ ہو کے تکلم میں نہاں اللہ ہو
عابدوں کا اپنا تقوی ، زاہدوں کا اپنا زہد
رندِ درد آمیز کی آہ و فغاں اللہ ہو
لفظِ ہو میں گم ہواہے ہست کا سارا وجود
یہ زمیں اللہ ہو یہ آسماں اللہ ہو
خاک اور افلاک کو واپس بھی لے سکتا ہے وہ
ہیں جہاں دونوں فنا اک جاوداں اللہ ہو
قبر کی دعوت میں باہو کہہ گیا منصور سے
جس کا میں شہباز ہوں وہ لامکاں اللہ ہو
منصور آفاق

اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 234
رات کے بوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو
میں نے سمجھا تھا تم کو محافظ مگر
اک بڑی لوٹ کی تم تو تاریخ ہو
تم لٹیروں کا سفاک سرکش گروہ
ظلم کی جھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اپنی بربادیوں کی کہانی ہو تم
ٹوٹ کی پھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
کتنے منصور تم نے کئے قتل ہیں
جرم میں چھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
منصور آفاق

محبت کا یہ کم آباد رستہ دیکھتے کیا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 233
گزرتا ہے کوئی برسوں میں تارہ دیکھتے کیا ہو
محبت کا یہ کم آباد رستہ دیکھتے کیا ہو
مرے برجِ جدی تم ہو یہ خوش بختی تمہی سے ہے
لکیریں دیکھتے کیا ہو ستارہ دیکھتے کیا ہو
محبت وہ نہیں حاصل جہاں لا حاصلی بس ہو
جو کھلتا ہی نہیں ہے وہ دریچہ دیکھتے کیا ہو
یہاں کاغذ پہن کر صرف میرے خواب رہتے ہیں
یہ بے ترتیب سا نظموں کا کمرہ دیکھتے کیا ہو
ہے بندو بست ، لمس و ذائقہ کی پیاس کا منصور
نگاہوں سے کسی کا صرف چہرہ دیکھتے کیا ہو
منصور آفاق

کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 232
یہ لب سمیٹ لیں صحرا کی پیاس ایسا ہو
کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو
کری گلاس میں ڈالے پلیٹ میں پانی
میں چاہتا ہوں کہ وہ بدحواس ایسا ہو
تمام رات رہے مال روڈ پر بجلی
تمام رات یہ چیرنگ کراس ایسا ہو
مری گلی میں شعاعوں کی بھیڑ لگ جائے
اُس آئینے سے کوئی انعکاس ایسا ہو
وہ خوش خرام بدن نرم گرم جیسا ہے
مرے بدن کا بھی کوئی لباس ایسا ہو
ملال سسکیاں گلیوں میں بھرتے پھرتے ہوں
یہ شہر ہجر میں تیرے اداس ایسا ہو
کوئی بھی راستہ پاؤں کی دسترس میں نہ ہو
ہرایک راہ میں اگ آئے گھاس ایسا ہو
جو دیکھ سکتا ہومنظر نہیں پسِ منظر
کوئی تو شہر میں چہرہ شناس ایسا ہو
وہ بار بار پڑھے رات دن جسے منصور
کتابِ دل کا کوئی اقتباس ایسا ہو
منصور آفاق

یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 231
اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو
اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو
پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو
وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو
کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو
اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو
ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو
منصور آفاق

کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 230
وہ امریکا تھی ہر بات روا تھی اس کو
کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو
جنگ نہیں ہو سکتی تھی اس بے پرواسے
میں نے فنا ہونا تھا اور بقا تھی اس کو
میرے ساتھ جہاں تھا پھر بھی ہار گیا میں
ایک مقدس ماں کی صرف دعا تھی اس کو
انجانے میں بھیگ گئی تھیں جلتی پلکیں
کچھ کہنے کی اور ضرورت کیا تھی اس کو
اپنے پیٹ پہ پتھر باندھ کے جو پھرتا تھا
بخش دیا ہے ایک سخی نے ہاتھی اس کو
دیکھ کے چہرہ کو منصور کہا پھولوں نے
راس میانوالی کی آب و ہوا تھی اس کو
منصور آفاق

ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 229
بھردیا اجنبی فضاؤں کو
ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو
آخری سانس تک لڑیں گے ہم
پھر دیوں نے کہا ہواؤں کو
لوگ ابلیس سے بھی بڑھ کے ہیں
پوجتے ہیں کئی خداؤں کو
سانپ بننے لگی ہے شاخِ گل
دھوپ ڈسنے لگی ہے چھاؤں کو
دشتِ غم سے نکال لائے ہیں
چومتے ہیں ہم اپنے پاؤں کو
دے گئی پھر سنبھالاموسیقی
اور دعادی غزل سراؤں کو
اپنے خالی گھڑے لئے منصور
کوئی دریا چلا ہے گاؤں کو
منصور آفاق

مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 228
تہذیب کو فرسودہ دلائل سے نکالو
مرتے ہوئے لوگوں کومسائل سے نکالو
تم ملک خدا داد کا لوٹا ہوا گلشن
اب زردمعیشت کے خصائل سے نکالو
خیرات پہ جینا توکوئی جینا نہیں ہے
اک تازہ سحر اپنے وسائل سے نکالو
قانون کو نافذ کرو ہر ایک گلی پر
تم قاتلوں کو اپنے قبائل سے نکالو
منصور لٹیروں کو سرِعام دو پھانسی
اب دیس کرپشن کی شمائل سے نکالو
منصور آفاق

کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 227
مسافرت ہی ہے رنج و محن ، وطن والو
کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو
سویر ے پھرتے ہیں باغِ جناح میں کیا کیا
بڑی حسین ہے صبحِ چمن وطن والو
جہاں کی ساری بہاروں سے خوبصورت ہیں
ہمارے اپنے یہ برگ و سمن وطن والو
زمانے بھرسے ملائم ہیں نرم و نازک ہیں
زبانیں اپنی یہ اپنے سخن وطن والو
یہ شاعری ہے تمہاری ، تمہاری خاطر ہے
یہ گفتگو یہ جگرکی جلن وطن والو
تم اس سے تازہ زمانہ خرید سکتے ہو
اٹھالو میرے قلم کایہ دھن وطن والو
تمہیں مٹانے کی کوشش میں کیا جہاں والے
تم آپ خودسے ہوشمشیرزن وطن والو
وطن میں ایک نئے دور کیلئے منصور
ضروری ہو گیا دیوانہ پن وطن والو
منصور آفاق

شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 226
ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو
ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو
دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو، محبت کم نہ ہونے دو
ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو
مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ ذات میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو
مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو
رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو
منصور آفاق

نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 225
صلیبیں دور یہ گاڑو کہیں ،معافی دو
نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو
اتار سکتا نہیں ہوں میں قرض مٹی کے
اے میرے دیس اے میری زمیں معافی دو
کسی کے سامنے جھکنا مجھے نہیں آتا
سجودِ خاک سے عاری جبیں معافی دو
خدا سے میرے مراسم میں تم نہیں موجود
بہشتِ نہر مہ و انگبیں معافی دو
نہیں ہے سانپ کو بھی مارناروا مجھ پر
لپکتے مارِ کفِ آستیں معافی دو
وجودِ وحدتِ کل سے جدا نہیں ہوں میں
شہودِ شر کے بزرگِ لعیں معافی دو
نکلنے کو مرے ہاتھوں سے ہے نمازِ عشا
عکاظِ نو کی شبِ آتشیں معافی دو
یہاں گنہ ہے تمنا، یہ ہے رہِ منصور
دیارِ دست طلب کے نگیں معافی دو
منصور آفاق

امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 224
حرام ہم پہ خیالِ طلب معافی دو
امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو
فقیرلوگ ابھی کربلا نہیں بھولے
اٹھو یہاں نکل جاؤ سب، معافی دو
وجود جھرجھری کھاتے ہیں بادشاہوں کے
سوال ترش ہیں لیموں بلب ،معافی دو
تم اہلِ زر سے تباہی تمام بستی میں
ہر ایک دکھ کا تمہی ہو سبب معافی دو
نفاذِ دین محمدﷺکہیں نہیں منصور
عجم معاف کرو اے عرب معافی دو
منصور آفاق

ڈر رہا ہے دریچے تک سے تُو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 223
رنگ لے کر نئے، دھنک سے تُو
ڈر رہا ہے دریچے تک سے تُو
یہ تجھے بھی مسافرت دے گی
مانگتا کیاہے اِس سڑک سے تُو
کھنکھناتی ہوئی زمیں سے میں
اور آیا ہوا فلک سے تُو
دل پہ تصویر ہو گیا کیسے
اپنی بس ایک ہی جھلک سے تُو
شور آنکھوں کا کیسا تھا منصور
بھر گیا لمس کی مہک سے تُو
منصور آفاق

سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 222
میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن… پُر سکوں کچھ دن
سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن
کہیں ڈھلتی ہوئی شب کو بھی ورزش کی ضرورت ہے
میں اپنے دوستوں کے ساتھ جاگنگ چھوڑ دوں کچھ دن
ابھی کچھ دن پلیٹوں میں رکھوں جذبے قیامت کے
سلاخوں میں دہکتے گوشت پر نظمیں لکھوں کچھ دن
مرے ہم عصر پیرس اب اداسی چھوڑ دے اپنی
جدا ہونا تو ہے لیکن ابھی میں اور ہوں کچھ دن
ابھی اس لمس تک شاید کئی ہفتوں کا رستہ ہے
رگوں میں تیز رہنی ہے ابھی رفتارِ خوں کچھ دن
بدن کے شہر کو جاتی سڑک پہ کوئی خطرہ ہے ؟
مجھے حیرت سرائے روح میں رہنا ہے کیوں کچھ دن
بہت ہی سست ہیں نبضیں مرے شہرِ نگاراں کی
اضافہ خود سری میں کچھ، چلے رسمِ جنوں کچھ دن
منصور آفاق

آگئے ہیں زندگی میں پھربڑے بے کار دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 221
ٹوٹے پھوٹے،بدنما،فالج زدہ ،بیمار دن
آگئے ہیں زندگی میں پھربڑے بے کار دن
ہم ملیں گے شانزے لیزے پہ رومی بارمیں
طے ہوئی بارہ دسمبر۔۔ ٹھیک ہے اتوار دن
یاد ہے وہ یارکے پہلو میں رنگوں کی بہار
جینا کہتے ہیں جسے ویسے جئے تھے چار دن
مصر کے اہرام سے پیرو کی تصویروں تلک
ہرجگہ کتنے گئی صدیوں کے پُراسرار دن
میری وحشت ہی جہاں تھی فیصلہ کن پھر وہاں
کیا اثر انداز ہوتے غیر جانب دار دن
آخرش منصور کیا تھااُس گذشتہ رات میں
گم ہوئی جذبوں بھری رُت، کھوگئے دلدار دن
منصور آفاق

سپردِ ریگ ہوئے ریت پر اچھل کے ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 220
کنارِآبِ رواں سے نکل نکل کے ہم
سپردِ ریگ ہوئے ریت پر اچھل کے ہم
ملازمت سے نکالے گئے مگر خوش ہیں
کسی کو دیکھتے دفتر میں تھے مچل کے ہم
ہمیں تلاشتے رہنا اسی خرابے میں
دکھائی دیں گے کسی اورسمت چل کے ہم
ندی کے ساتھ اترنے لگے سمندر میں
کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھرابل کے ہم
سیہ نصیب ہیں سو دیکھتے ہیں خوابوں میں
چراغِ صبح ہی منظر بدل بدل کے ہم
مہکنے لگتے ہیں کیسی الوہی خوشبو میں
کسی مزار کی مٹی بدن پہ مل کے ہم
دکھائیں کیسے کسی کو ، دکھائیں کیا منصور
شبِسیاہ سے باہر کہیں پہ جل کے ہم
منصور آفاق

بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 219
اپنے بدن کو آگ کامدفن بنائیں ہم
بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم
کس واسطے سنائیں تباہی کی پھر وعید
سارا دیار کس لئے دشمن بنائیں ہم
بدذات شہر رہنے کے قابل نہیں رہا
ویرانے میں کہیں جا مسکن بنائیں ہم
کالے سمندروں کے زمانے گزر گئے
تاریک سب جزیرے روشن بنائیں ہم
منصور جس کے ساتھ منورہے سارا شہر
اُس خوبرو چراغ کوساجن بنائیں ہم
منصور آفاق

عہدِ فرعون کے بھی فسوں کا ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 218
سچ کہوں کیا کہ موسیٰ عصا دار ہم
عہدِ فرعون کے بھی فسوں کا ہم
ہم خذف ریزے مٹی کے ہم ٹھیکرے
نقشِ تہذیب کے کہنہ آثار ہم
ہم ہی تختِ سلیماں کی تاریخ ہیں
اشک آباد ہیکل کی دیوار ہم
ہم حسن کوزہ گر ہم ہی بغداد ہیں
اک گذشتہ خلافت کی دستار ہم
ہم ہیں خاک نگاراں کی تشکیل گاہ
موت کی گرد سے لکھے کردار ہم
ہر طرف سرخ پانی کے سیلا ب میں
تربتر،ٹوٹے کوزوں کے انبار ہم
ٹوٹنے کی صدائے ستم،ہرطرف
ایک آوازِ تخریب کا وار ہم
جو صلیبوں کی میخوں میں مردہ ہوا
اُس خدا زاد عیسیٰ کا انکار ہم
اک طرف ہم ہی منصور گرداب ہیں
اک طرف بہتی کشتی کے پتوار ہم
منصور آفاق

بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 217
اب آسماں نژاد بلاؤں کا خوف ختم
بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم
تلووں تلے لگا لیے سیارے وقت نے
ہر لمحہ سوچتے ہوئے پاؤں کا خوف ختم
بادل بڑے گرجتے ہیں باراں بکف مگر
سینہ نہیں دھڑکتا، خداؤں کا خوف ختم
اک چشمہء شعور پہ اپنی رگوں کے بیچ
ہم شیر مار آئے ہیں ، گاؤں کا خوف ختم
سورج تراش لائے ہیں صحنِ علوم سے
سہمی ہوئی سیاہ فضاؤں کا خوف ختم
ہم نے طلسم توڑ لیا ہے نصیب کا
جادو نگر کی زرد دعاؤں کا خوف ختم
اب شرم سار ہوتی نہیں ہے سنہری دھوپ
پلکوں پہ سرسراتی گھٹاؤں کا خوف ختم
میلوں تلک زمیں میں آنکھیں اتر گئیں
اندھے کنووں میں لٹکی سزاؤں کا خوف ختم
کوہ ندا کے کھل گئے اسرار آنکھ پر
آسیبِ آسماں کی صداؤں کا خوف ختم
اپنالی اپنے عہد نے تہذیب جین کی
اکڑی ہوئی قدیم قباؤں کا خوف ختم
ہم رقص کائنات ہے منصور ذات سے
اندر کے بے کنار خلاؤں کا خوف ختم
منصور آفاق

زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 216
صبحِ انساں کے منظر پہ لاکھوں سلام
زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام
جس میں رہتی تھی عرشِ کرم کی بہشت
کچی اینٹوں کے اُس گھر پہ لاکھوں سلام
جس پہ آرام کرتے تھے شاہِ عرب
اُس کھجوروں کے بستر پہ لاکھوں سلام
جس سے پیتے تھے پانی شہء دوسرا
اس گھڑے کے لبِ تر پہ لاکھوں سلام
جس نے کیڑوں مکوڑوں کا رکھا خیال
اُس حسیں پائے اطہر پہ لاکھوں سلام
جس کے گھر مال و زر کا چلن ہی نہ تھا
ایسے نادار پرور پہ لاکھوں سلام
جس قناعت نے بدلا نظامِ معاش
اس شکم پوش پتھر پہ لاکھوں سلام
اک ذرا سی بھی جنش نہیں پاؤں میں
استقامت کے پیکر پہ لاکھوں سلام
زر ضرورت سے زائد تمہارا نہیں
کہنے والے کرم ور پہ لاکھوں سلام
جس کے مذہب میں ہے مالِ ساکت حرام
اُس رسولِ ابوزر پہ لاکھوں سلام
جس نے اسراف و تبذیر تک ختم کی
اُس غریبوں کے سرور پہ لاکھوں سلام
منصور آفاق

بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 215
وہ غم وہ بے کسی وہ لہو کا سفر وہ شام
بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام
ظالم شکاریوں کے نئے فائروں کی گونج
سہمے ہوئے پرندوں کا وہ مستقر وہ شام
وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام
اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام
شانوں پہ اک خیال کے گیسو گرے ہوئے
وہ باغِ خامشی وہ عدم کا ثمر وہ شام
رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ
پھرآ رہی ہے درد پہن کر اگر وہ شام
شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر
افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام
گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ
لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام
مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے
منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام
منصور آفاق

ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 214
یہ تیرا خار بھی ہے محوِ خواب شاخِ گل
ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ گل
مرے نصیب میں کانٹوں کی فصل آئی تھی
نہ مانگ مجھ سے گلوں کا حساب شاخِ گل
مری بہار کے بارے نہ پوچھا کر مجھ سے
ہے جھوٹ بولنا مجھ پہ عذاب شاخِ گل
کنارِ آب رواں ہمسفر زمانوں سے
خرامِ زندگی، موجِ کتاب، شاخِ گل
ورق ورق پہ پڑی ہیں شعاعیں خوشبو کی
کتاب زیست کا ہے انتساب شاخِ گل
خزاں کی شام ملی ہے مجھے تو گلشن میں
کہاں پہ آتا ہے تجھ پر شباب شاخِ گل
تلاش میں ہیں ہوائیں بہار کی منصور
کہاں لہکتی ہے خانہ خراب شاخ گل
منصور آفاق

چاند تاروں کی بارات آہستہ چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 213
جانِ جاں ہے مرے ساتھ ، آہستہ چل
چاند تاروں کی بارات آہستہ چل
یہ محبت کا رستہ خطرناک ہے
اے دلِ غیر محتاط ، آہستہ چل
اتنی رسوائیاں ٹھیک ہوتی نہیں
اے مرے عشق کی بات ، آہستہ چل
کتنی مشکل سے آئے ہیں وہ بزم میں
کچھ تو وقتِ ملاقات ، آہستہ چل
اس کی لافانی تصویر تخلیق کر
کینوس پہ مرے ہاتھ آہستہ چل
پھر یہ لمحے کہاں دستِ منصور میں
جتنا ممکن ہے اے رات آہستہ چل
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق

میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 211
روشن چراغ کر کوئی ، شب خانہ ، آنکھ کھول
میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول
اے چشمۂ کلام ابل۔۔ اے شعوربول
میرے قلم کی جراتِ رندانہ ۔۔آنکھ کھول
میدانِ کار زار ترا منتظر ہے ۔ جاگ
حرف و ہنر کی صبحِ شہیدانہ ۔آنکھ کھول
سب لے گیا معاش ترا عہدِ بدمعاش
لاہورکے شعورِ شریفانہ ، آنکھ کھول
تبدیل ہو چکی ہے زمانے کی کیفیت
منصور کی اے روحِ فقیرانہ، آنکھ کھول
منصور آفاق

الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 210
میں کُن کی کہانی سے سنوں شورِ انا الحق
الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق
پانی بھی علیحدہ نہیں سر چشمہ ء کل سے
دریا کی روانی سے سنوں شورِ انا الحق
اڑتے ہوئے پتے بھی تو ہیں پیڑ کا حصہ
موسم کی جوانی سے سنوں شورِ انا الحق
کثرت کو میں وحدت سے جدا کر نہیں سکتا
تخلیقِ جہانی سے سنوں شورِ انا الحق
آواز سے لفظوں کی جدائی نہیں ممکن
آیاتِ قرانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور زمانے کو خدا کہتی ہے دانش
تقویمِ زمانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور آفاق

ملا ہوا ہے زمیں سے بھی یہ مگر آفاق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 209
قیام دار سہی آسمان پر آفاق
ملا ہوا ہے زمیں سے بھی یہ مگر آفاق
کسی نے آنا تھا لیکن بڑے مسائل تھے
بھرا ہوا تھا اجالوں سے رات بھر آفاق
کرن کی قوس افق در افق ملائے اسے
ہے آج اپنے ہی پہلو میں جلوہ گر آفاق
صراطِ سمت پہ رکھی ہوئی بصارت سے
تمام کیسے دکھائے مری نظر آفاق
بس اتنا ہے کہ بلندی پہ ہیں ذرا لیکن
ہمیشہ کھول کے رکھتا ہے اپنے در آفاق
نکالتا ہے مسلسل اسی کو دامن سے
ترے چراغ سے کرتا رہا سحر آفاق
یہ اور بات کہ سورج پہن کے رہتا ہے
مرے لیے میرا چھتنار سا شجر آفاق
ابھی بچھڑنے کی ساعت نہیں ڈیئر آفاق
ابھی تو پب میں پڑی ہے بہت بیئر آفاق
بس اس لیے کہ اسے دیکھنے کی عادت ہے
جلاتا روز ہے سورج کا لائیٹر آفاق
بدن نے آگ ابھی لمس کی نہیں پکڑی
ابھی کچھ اور کسی کا مساج کر آفاق
خدا سے کیوں نہ تعلق خراب میرا ہو
ہے ایک چھتری کی صورت اِدھر اُدھر آفاق
اُدھر پتہ ہی نہیں کچھ بہشت کا منصور
اِدھر زمیں کے نظاروں سے بے خبر آفاق
منصور آفاق

ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 208
چلتے رہتے ہیں لامکاں کی طرف
ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف
رحمتِ ابر جب بھی گرتی ہے
پاؤں اٹھتے ہیں سائباں کی طرف
چل پڑے واقعات بستی کو
اور کردار داستاں کی طرف
کمپنی کھولی ہے خسارے کی
فائدہ دیکھ کر زیاں کی طرف
ہم پکھیرو ہزاروں سالوں سے
روزجاتے ہیں آشیاں کی طرف
بھیگ جاؤں کرم کی بارش سے
ہاتھ اٹھاؤں جو آسماں کی طرف
آتے پولیس کے سپاہی ہیں
روز منصور کے مکاں کی طرف
منصور آفاق

ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 207
شبِ وصال پہ لعنت شبِ قرار پہ تف
ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف
وہ پاؤں سو گئے جو بے ارادہ اٹھتے تھے
طواف کوچہء جاناں پہ، کوئے یار پہ تف
تجھ ایسے پھول کی خواہش پہ بار ہا لعنت
بجائے خون کے رکھتا ہوں نوکِ خار پہ تف
دلِ تباہ کو تجھ سے بڑی شکایت ہے
اے میرے حسنِ نظر ! تیرے اعتبار پہ تف
پہنچ سکا نہیں اس تک جو میرے زخم کا نور
چراغ خون پہ تھو سینہء فگار پہ تف
ہیں برگِ خشک سی شکنیں خزاں بکف بستر
مرے مکان میں ٹھہری ہوئی بہار پہ تف
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
ترے ملالِ تری چشم اشکبار پہ تف
تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ مرگیا ہوں میں
اے میرے دوست ترے جیسے غمگسار پہ تف
یونہی بکھیرتا رہتا ہے دھول آنکھوں میں
ہوائے تیز کے اڑتے ہوئے غبار پہ تف
خود آپ چل کے مرے پاس آئے گا کعبہ
مقامِ فیض پہ بنتی ہوئی قطار پہ تف
حیات قیمتی ہے خواب کے دریچوں سے
رہِ صلیب پہ لعنت، فراز دار پہ تف
صدا ہو صوتِ سرافیل تو مزہ بھی ہے
گلے کے بیچ میں اٹکی ہوئی پکار پہ تف
جسے خبر ہی نہیں ہے پڑوسی کیسے ہیں
نمازِ شام کی اُس عاقبت سنوار پہ تف
مری گلی میں اندھیرا ہے کتنے برسوں سے
امیرِ شہر! ترے عہدِ اقتدار پہ تف
ترے سفید محل سے جو پے بہ پے ابھرے
ہزار بار انہی زلزلوں کی مار پہ تف
ترے لباس نے دنیا برہنہ تن کر دی
ترے ضمیر پہ تھو، تیرے اختیار پہ تف
سنا ہے چادرِ زہرا کو بیچ آیا ہے
جناب شیخ کی دستارِ بد قمار پہ تف
تُو ماں کی لاش سے اونچا دکھائی دیتا ہے
ترے مقام پہ لعنت ترے وقار پہ تف
مرے گھرانے کی سنت یہی غریبی ہے
ترے خزانے پہ تھو مالِ بے شمار پہ تف
یہی دعا ہے ترا سانپ پر قدم آئے
ہزار ہا ترے کردارِ داغ دار پہ تف
کسی بھی اسم سے یہ ٹوٹتا نہیں منصور
فسردگی کے سلگتے ہوئے حصار پہ تف
منصور آفاق

جاعدالت میں اُس بے وفا کے خلاف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 206
کیس ، ممکن ہے مکرو ریا کے خلاف
جاعدالت میں اُس بے وفا کے خلاف
یہ جنارہ بھی دراصل ہے اک جلوس
نیستی کے مقامِ فنا کے خلاف
تیری آواز بھی سلب ہوسکتی ہے
گفتگو کر نہ قحطِ نوا کے خلاف
پھر رہا ہے برہنہ کوئی شہر میں
پھر رعونت زدہ بادشہ کے خلاف
یہ کرشمہ مسلسل گھٹن سے ہوا
ہو گئے پھول تازہ ہوا کے خلاف
اک یہی زندگی کا سہارا ہے بس
میں نہیں ہوں وجودِ خدا کے خلاف
خوشبوئے یارسے یہ معطر نہیں
بات کر کوئی بادِ صبا کے خلاف
خاک پر مجھ کو منصور بھیجا گیا
میری مرضی کے میری رضاکے خلاف
منصور آفاق

ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 205
اتنی جمیل صبحِ شگفتن پہ ایسا داغ
ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ
توبہ یہ وارداتِ فلسطین، کیا کہوں
اس عہدِ با شعور کے جوبن پہ ایسا داغ
ابھرا ہے آئینہ سے جو تیرے سلوک پر
لگتا ہے چشم مہر میں پھاگن پہ ایسا داغ
ایسا تو کچھ نہیں مرے دل کے مکان میں
کیسے لگا ہے دستِ نقب زن پہ ایسا داغ
حیرت ہے بارشوں کے مسلسل فروغ میں
رہ جائے آنسوئوں بھرے ساون پہ ایسا داغ
لگتا ہے انتظار کے چپکے ہیں خدو خال
دیکھا نہیں کبھی کسی چلمن پہ ایسا داغ
جس میں دھڑکتے لمس دکھائی دیں دور سے
اس نے بنا دیا میری گردن پہ ایسا داغ
ہونٹوں کے یہ نشان مٹا دو زبان سے
اچھا نہیں ہے دودھ کے برتن پہ ایسا داغ
جیسے پڑا ہوا ہے لہو میرا روڈ پر
کیسے لگا ہے رات کے مدفن پہ ایسا داغ
جس میں مجھے اترنا پڑے اپنی سطح سے
کیسے لگاؤں دوستو دشمن پہ ایسا داغ
یہ کیا پرو دیا ہے پرندے کو شاخ میں
زیتون کے سفید سلوگن پہ ایسا داغ
بعد از بہار دیکھا ہے میں نے بغور دل
پہلے نہ تھا صحیفۂ گلشن پہ ایسا داغ
اب تو تمام شہر ہے نیلا پڑا ہوا
پہلے تھا صرف چہرئہ سوسن پہ ایسا داغ
شاید ہے بد دعا کسی مجذوب لمس کی
منصور میرے سینۂ روشن پہ ایسا داغ
منصور آفاق

اور ان میں بھی کڑکتی بجلیوں کا اجتماع

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 204
صبح مانگی تو ملا تاریکیوں کا اجتماع
اور ان میں بھی کڑکتی بجلیوں کا اجتماع
میں ، میانوالی، نظر کی جھیل، جاں کا ریگزار
یار کی تصویر میں تھا منظروں کا اجتماع
گفتگو میں گمشدہ اقدار کا دن بھر ملال
ذہن میں شب بھر برہنہ لڑکیوں کا اجتماع
جمع ہیں حکمت بھری دنیا کے سارے پیشہ ور
کابل و قندھار میں ہے قاتلوں کا اجتماع
یاد کی مرغابیاں ، بگلے خیال و خواب کے
پانیوں پر دور تک اڑتے پروں کا اجتماع
ایک کافر کی زباں بہکی ہے میرے شہر میں
ہر گلی ہر موڑ پر ہے پاگلوں کا اجتماع
بس تمہی سے تھاپ پر بجتے دھڑکتے ہال میں
روشنی کے رقص کرتے دائروں کا اجتماع
جانتا ہوں دھوپ سے میرے تعلق کے سبب
آسماں پر ہے ابھی تک بادلوں کا اجتماع
بارشیں برساتِ غم کی، میری آنکھیں اور میں
کوچہء جاں میں عجب ہے رحمتوں کا اجتماع
مجلسِ کرب و بلا کے آج زیر اہتمام
ہو رہا ہے شہر دل میں آنسوئوں کا اجتماع
شہر میں بیساکھیوں کے کارخانے کے لیے
رات بھر ہوتا رہا بالشتیوں کا اجتماع
ہاتھ کی الجھی لکیریں کس گلی تک آ گئیں
ذہن کے دیوار پر ہے زاویوں کا اجتماع
چل پہن مایا لگا جوڑا، چمکتی کھیڑیاں
دشمنوں کے شہر میں ہے دوستوں کا اجتماع
ایک پاگل ایک جاہل اک سخن نا آشنا
مانگتا ہے حرف میں خوش بختیوں کا اجتماع
ہیں کسی کے پاس گروی اپنی آنکھیں اپنے خواب
کیا کروں جو شہر میں ہے سورجوں کا اجتماع
رات کا رستہ ہے شاید پاؤں میں منصور کے
کر رہا ہے پھر تعاقب جگنوئوں کا اجتماع
منصور آفاق

دائم مری گواہی مرا ایک ایک لفظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 203
ہے وجہ کج کلاہی مرا ایک ایک لفظ
دائم مری گواہی مرا ایک ایک لفظ
اے حکمرانِ ملک خدا داد ، ظلم روک
تیرے لئے تباہی مرا ایک ایک لفظ
ہر چوک پر کھڑا ہے بڑے اعتماد سے
سچائی کا سپاہی مرا ایک ایک لفظ
رقصاں نئی شعاعیں مری چشمِ خواب میں
صبحوں کی خوش نگاہی مرا ایک ایک لفظ
لکھتا رہا ترے ہی قیصدے اے آفتاب
کرتا رہا ضیاہی مرا ایک ایک لفظ
تجھ سے ملا تو پھول بھی خوشبو بھی بن گیا
بادِ صبا تو تھا ہی مرا ایک ایک لفظ
تہذیبِ حسن باطنی مری غزل ہوئی
حیرت بھری صراحی مرا ایک ایک لفظ
منصور کی بھی بڑ یہی سرمد کا دھڑ یہی
تسلیم !خانقاہی مرا ایک ایک لفظ
منصور آفاق

ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 202
حسنِ خلدِ بریں! خدا حافظ
ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ
موت کا وار کامیاب ہوا
خنجرِ آستیں! خدا حافظ
جسم پر بار اب ہے زہرِ مگس
شہد کی سرزمیں! خدا حافظ
دل مچلتاہے سجدہ کرنے کو
سرکشیدہ جبیں! خدا حافظ
بھوک ہے قحط ہے، تمہارا بھی
پرورِ عالمیں! خدا حافظ
ہم نے انگشتری بدل لی ہے
آسماں کے نگیں! خدا حافظ
ہم اِدھر بھی نہیں اُدھر بھی نہیں
اے چناں اے چنیں! خدا حافظ
خوش رہو تم جہاں رہو ساتھی
کہہ رہے ہیں ہمیں! خدا حافظ
چھوڑدی پوجا آفتابوں کی
دینِ مہرِ مبیں! خدا حافظ
ہم حصارِ نظر سے باہر تھے
دیدہِ دل نشیں! خدا حافظ
اس کو دیکھا بھی ہے ٹٹولا بھی
صحبتِ بے یقیں! خدا حافظ
آرہا ہے قیام کو کوئی
اے غمِ جا گزیں! خدا حافظ
ہے لبِ یار پر تبسم سا
سوزِ طبعِ حزیں! خدا حافظ
زندگی سے لڑائی کیا کرنی
اے کمان و کمیں! خدا حافظ
تم مخالف نہیں حکومت کے
حلقۂ مومنیں! خدا حافظ
شاخ کی طرح خالی ہونا تھا
اے گلِ آخریں! خدا حافظ
چھوڑ آئے ہیں ہم بھرا میلہ
نغمۂ آفریں! خدا حافظ
یاد کے دشت نے پکارا ہے
چشمۂ انگبیں! خدا حافظ
آگ تم سے بھی اب نہیں جلتی
اے مئے آتشیں! خدا حافظ
تم کو بالشتیے مبارک ہوں
رفعتِ ملک و دیں! خدا حافظ
یہ تعلق نہیں ، نہیں منصور
تم کہیں ، ہم کہیں! خدا حافظ
منصور آفاق

پیارے پاکستان! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 201
راکھ ہوئے ارمان، خدا حافظ
پیارے پاکستان! خدا حافظ
ایک بجا ہے رات کے چہرے پر
اچھا، میری جان! خدا حافظ
رختِ سفر میں باندھ نہیں سکتا
تتلی اور گلدان! خدا حافظ
جوشِ قدح سے آنکھیں بھر لی ہیں
اشکوں کے طوفان! خدا حافظ
رات کا خالی شہر بلاتا ہے
دہکے آتش دان! خدا حافظ
میں کیا جانوں میں کس اور گیا
اے دل اے انجان خدا حافظ
مان نہیں سکتا میں ہجر کی فال
حافظ کے دیوان خدا حافظ
تیرا قصبہ اب میں چھوڑ چلا
ساونت پوش مکان خدا حافظ
کالی رات سے میں مانوس ہوا
سورج کے امکان خدا حافظ
رات شرابی ہوتی جاتی ہے
اے میرے وجدان خدا حافظ
میں ہوں شہر سخن کا آوارہ
علم و قلم کی شان خدا حافظ
خود کو مان لیا پہچان لیا
اے چشمِ حیران خدا حافظ
دل منصور چراغِ طور ہوا
موسیٰ کے ارمان خدا حافظ
منصور آفاق

یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 200
آنسوئوں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط
وہ پرندوں کے پروں سے نرم، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط
جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط
درد کے آتش فشاں تھم، کانپتی ہیں دھڑکنیں
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط
کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط
ان دنوں غم ہائے جاناں سے مجھے فرصت نہیں
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط
ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھر سے ٹکرانا غلط
ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط
وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط، یہ جام و پیمانہ غلط
کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط
کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط
زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدہام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط
جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کو بہلانا غلط
منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط
پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط
زندگی جس کے لیے میں نے لگا دی داؤ پر
وہ تعلق واہمہ تھا، وہ تھا یارانہ غلط
میں انا الحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
منصور آفاق

دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 199
مٹی ذرا سی قریہء لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض
جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامنِ صد چاک کے عوض
اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض
وہ پیٹ برگزیدہ کسی کی نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض
مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض
دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض
بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض
غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض
ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض
جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ اشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہء بیباک کے عوض
کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدئہ نمناک کے عوض
آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض
نظارئہ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض
منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
منصور آفاق

جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستۂ مخصوص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 198
فردوس سے آگے ہے وہ سرچشمۂ مخصوص
جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستۂ مخصوص
اپنی تو رسائی نہیں اس بامِ فلک تک
معلوم کیا جائے کوئی بندۂ مخصوص
اے شہرِ گداگر ترے والی کے لیے کیا
بنوانا ضروری ہے کوئی کاسۂ مخصوص
انکارِ مسلسل کی فصیلیں ہیں جہاں پر
تسخیر کروں گا میں وہی رشتۂ مخصوص
اک نرم سے ریشے کی کسی نس کے نگر میں
بس دیکھتا پھرتا ہوں ترا چہرۂ مخصوص
کہتے ہیں کہ آسیب وہاں رہنے لگے ہیں
ہوتا تھا کسی گھر میں مرا کمرۂ مخصوص
سنتے ہیں نکلتا ہے فقط دل کی گلی سے
منزل پہ پہنچ جاتا ہے جو جادۂ مخصوص
لوگوں سے ابوزر کے روابط ہیں خطرناک
صحرا میں لگایا گیا پھر خیمۂ مخصوص
ہنستے ہوئے پانی میں نیا زہر ملا کر
بھیجا ہے کسی دوست نے مشکیزۂ مخصوص
آواز مجھے دیتا ہے گرداب کے جیسا
منصور سمندر میں کوئی دیدۂ مخصوص
منصور آفاق

تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 197
آسیب میں چراغ جلاتا ہے کون شخص
تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص
جی چاہتا ہے اس سے ملاقات کو مگر
اجڑے ہووں کو پاس بٹھاتا ہے کون شخص
چلتا ہے کس کے پاؤں سے رستہ بہار کا
موسم کو اپنی سمت بلاتا ہے کون شخص
جس میں خدا سے پہلے کا منظر دکھائی دے
وہ کافرانہ خواب دکھاتا ہے کون شخص
پھر اک ہزار میل سمندر ہے درمیاں
اب دیکھئے دوبارہ ملاتا ہے کون شخص
برسوں سے میں پڑا ہوں قفس میں وجود کے
مجھ کو چمن کی سیر کراتا ہے کون شخص
منصور صحنِ دل کی تمازت میں بیٹھ کر
ہر روز اپنے بال سکھاتا ہے کون شخص
منصور آفاق

اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 196
راتوں میں کھڑکیوں کو بجاتا تھا کون شخص
اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص
قوسِ قزح پہ کیسے مرے پاؤں چلتے تھے
دھیمے سروں میں رنگ بہاتا تھا کون شخص
مٹی ہوں جانتا ہوں کہاں کوزہ گر کا نام
یہ یاد کب ہے چاک گھماتا تھا کون شخص
بادل برستے رہتے تھے جو دل کے آس پاس
پچھم سے کھینچ کر انہیں لاتا تھا کون شخص
ہوتا تھا دشت میں کوئی اپنا جنوں نواز
شب بھر متاعِ درد لٹاتا تھا کون شخص
کوئی دعا تھی، یا کوئی نیکی نصیب کی
گرتا تھا میں کہیں تو اٹھاتا تھا کون شخص
اس کہنہ کائنات کے کونے میں بیٹھ کر
کارِ ازل کے کشف کماتا تھا کون شخص
بہکے ہوئے بدن پہ بہکتی تھی بھاپ سی
اور جسم پر شراب گراتا تھا کون شخص
ہونٹوں کی سرخیوں سے مرے دل کے چاروں اور
داغِ شبِ فراق مٹاتا تھا کون شخص
پاؤں سے دھوپ گرتی تھی جس کے وہ کون تھا
کرنوں کو ایڑیوں سے اڑاتا تھا کون شخص
وہ کون تھا جو دیتا تھا اپنے بدن کی آگ
بے رحم سردیوں سے بچاتا تھا کون شخص
ماتھے پہ رکھ کے سرخ لبوں کی قیامتیں
سورج کو صبح صبح جگاتا تھا کون شخص
منصور بار بار ہوا کون کرچیاں
مجھ کو وہ آئینہ سا دکھاتا تھا کون شخص
منصور آفاق

دریا کو ڈوبنے سے بچاتا تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 195
صحرا کی سرخ آگ بجھاتا تھا کون شخص
دریا کو ڈوبنے سے بچاتا تھا کون شخص
تھا کون سوز سینہ ء صدیق کا امیں
خونِ جگر سے دیب جلاتا تھا کون شخص
تھامے ہوئے عدالتِ فاروق کا علم
پھر فتح نو کی آس جگاتا تھا کون شخص
تھا کون شخص سنتِ عثمان کا غلام
تقسیم زر کا فرض نبھاتا تھا کون شخص
وہ کون تھا شجاعتِ حیدر کا جانثار
وہ آتشِ غرور بجھاتا تھا کون شخص
ہر سمت دیکھتا ہوں سیاست کی مصلحت
شبیریوں کی آن دکھاتا تھا کون شخص
ہم رقص میرا کون تھا شہرِ سلوک میں
رومی کی قبر پر اسے گاتا تھا کون شخص
صدیوں سے جس کی قبر بھی بستی ہے زندہ ہے
یہ کون گنج بخش تھا داتا تھا کون شخص
ہوتا تھا کون وہ جسے منصور کہتے تھے
دار و رسن کو چومنے جاتا تھا کون شخص
منصور آفاق

کچھ پہلے کائنات سے روشن تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 194
تھا کون ، صبحِ طور کا مسکن تھا کون شخص
کچھ پہلے کائنات سے روشن تھا کون شخص
تحریکِ کن فکاں کا سلوگن تھا کون شخص
بعد از خدا وجود میں فوراً تھا کون شخص
کس کا کہا خدا کا کہا ہے اک ایک لفظ
لوح و قلم کا خاک پہ درشن تھا کون شخص
بہتا ہے کس کے نام سے بادِ ازل کا گیت
آوازِ کْن کی صبح شگفتن تھا کون شخص
گجرے پْرو کے لائی تھی کس کے لئے زمیں
چیتر کی پہلی عصر کا جوبن تھا کون شخص
صحرا کی پیاس کون بجھاتا ہے اب تلک
منصور ریگزار میں ساون تھا کون شخص
منصور آفاق

جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 193
دھکے ہوئے لحاف کا دامن تھا کون شخص
جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص
خود ہی میں گھیر لایا تھا اڑتا ہوا وہ تیر
میرے علاوہ زخم کا ساجن تھا کون شخص
کچھ یاد آرہا ہے محبت مجھے بھی تھی
مری نظر تھا کون وہ دھڑکن تھا کون شخص
ممکن نہیں ہے پھینکے وہ پتھر مری طرف
کھڑکی میں یار کی مرا دشمن تھا کون شخص
منصور بزمِ یار میں میری طرح وجیہہ
برخاستن سے پہلے وہ گفتن تھا کون شخص
منصور آفاق

نظر دیوار سے گزری، رکی ڈھلوان پر بارش

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 192
تحیر خیز موسم کی ہوئی وجدان پر بارش
نظر دیوار سے گزری، رکی ڈھلوان پر بارش
ترے پاگل کی باتیں اتفاقاتِ جہاں ہیں کیا
ہوئی ہے یوں ہی برسوں بعد ریگستان پر بارش
سراپا آگ !دم بھر کو مرے چہرے پہ نظریں رکھ
تری آنکھوں سے ہو گی تیرے آتش دان پر بارش
گرے تو پھول بن جائے ترے چہرے پہ مہتابی
پڑے تو آگ بن جائے ترے دامان پر بارش
کتابِ غم کو کتنی بار برساتوں میں رکھا ہے
نہیں پڑتی جنابِ میر کے دیوان پر بارش
وہ برساتیں پہن کر گاؤں میں پھرتی ہوئی لڑکی
مجھے یاد آتی ہے اس سے مہکتی دھان پر بارش
محبت جاگتی ہے جب تو پھر ہوتی ہے سپنوں کی
مقام یاد پر بارش، شبِ پیمان پر بارش
عدم آباد سے آگے خدا کی آخری حد تک
رہی ہے زندگی کی قریہء امکان پر بارش
گئے گزرے زمانے ڈھونڈتی بدلی کی آنکھوں سے
یونہی ہے اِس کھنڈر جیسے دلِ ویران پر بارش
کئی برسوں سے پانی کو ترستی تھی مری چوپال
کسی کا پاؤں پڑتے ہی ہوئی دالان پر بارش
بڑی مشکل سے بادل گھیر لایا تھا کہیں سے میں
اتر آئی ہے اب لیکن مرے نقصان پر بارش
بہا کر لے گئی جو شہر کے کچے گھروندوں کو
نہیں ویسی نہیں ہے قصرِ عالی شان پر بارش
کہے ہے بادلو! یہ ڈوبتے سورج کی تنہائی
ذرا سی اہتمامِ شام کے سامان پر بارش
بدن کو ڈھانپ لیتی ہیں سنہری بھاپ کی لہریں
اثر انداز کیا ہو لمس کے طوفان پر بارش
جلایا کس گنہ گارہ کو معصوموں کی بستی نے
کہ اتری بال بکھرائے ہوئے شمشان پر بارش
کسی مشہور نٹ کا رقص تھا اونچی حویلی میں
ہوئی اچھی بھلی نوٹوں کی پاکستان پر بارش
مجھے مرجھاتے پھولوں کا ذرا سا دکھ ہوا منصور
مسلسل ہو رہی ہے کانچ کے گلدان پر بارش
منصور آفاق

ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 191
برکتوں کا مطلع ء انوار نو شہ گنج بخشؒ
ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ
جا نشینِ غو ث اعظمؒ ، افتخا رِ اولیا
وا قف اسرار در اسرار نو شہ گنج بخشؒ
حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک
در سعادت نقطہ ء پرکار نو شہ گنج بخشؒ
آفتا بِ فیضِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاکؒ
اُس فلک پر ثا بت و سیار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر
خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت بار نو شہ گنج بخشؒ
بر ق نو شاہی ؒ سے لے کر حضرت معر و ف تک
نیکیوں سے اک بھرا گلزار نو شہ گنج بخشؒ
چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں
محتر م اتنا سگِ دربار نو شہ گنج بخشؒ
عالمِ لاہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت
رو شنی کا نر م و حد ت زار نو شہ گنج بخشؒ
بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے
ہم نہیں کہتے ہیں یہ ، اوتار نو شہ گنج بخشؒ
ہر قدم اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا
مہر با ں جس پہ ہو ئے اک بار نو شہ گنج بخشؒ
زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں
اک مجسم نو ر کا اظہار نو شہ گنج بخشؒ
وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے
یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوار نو شہ گنج بخشؒ
منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک
کشفِ مصطفو ی ؐ کے پیر و کار نو شہ گنج بخشؒ
کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح
مر دہ دل کر دیتے ہیں بیدار نو شہ گنج بخشؒ
ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب
پانیوں کے جیسے ہیں مختار نو شہ گنج بخشؒ
غو ثِ اعظم ؒ کے شجر کا خو شہ ء فقر و سلو ک
قا دری گلز ا ر کے پندار نو شہ گنج بخشؒ
شمعِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی
سا عتِ پر نو ر سے سر شار نو شہ گنج بخشؒ
دا ستا نو ں میں مر یدِ با صفا ہیں آپ کے
صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دار نو شہ گنج بخشؒ
جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں
آپ کے قد سی ہیں خد متگار نو شہ گنج بخشؒ
پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت
سا قی ء کو ثر ؐ کے ہیں میخوار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے
تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد
ہند سند ھ اور کا بل و قندھار نو شہ گنج بخشؒ
حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں
مو تیو ں والے سخی سردار نو شہ گنج بخشؒ
مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے
یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پار نو شہ گنج بخشؒ
اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں
کس تسلسل سے ہیں سایہ دار نو شہ گنج بخشؒ
انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے
نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوار نو شہ گنج بخشؒ
کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں
قصرِ نو شا ہی کے ہیں معمار نو شہ گنج بخشؒ
سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ء
لشکرِ حق کے جو ہیں سا لار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں
کون عظمت سے کر ے انکار نو شہ گنج بخشؒ
نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم
کیا صبا حت خیز تھے رخسار نو شہ گنج بخشؒ
آپکے فیضِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس
سب مسلما ں ہو گئے کفار نو شہ گنج بخشؒ
اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں
آپ کے دم سے کر امت بار نو شہ گنج بخشؒ
بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں
آپ ٹھہر ے سا یہء دیوار نو شہ گنج بخشؒ
ابن عر بی ؒ کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں
ہیں عد م کا اک عجب اظہار نو شہ گنج بخشؒ
مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا
امتِ بیما ر کے عطار نو شہ گنج بخشؒ
سن رہا ہوں آج تک عشقِ محمد ؐ کی اذا ں
مسجد نبوی کا اک مینار نو شہ گنج بخشؒ
فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا
ایک اک نو شا ہی کا پر چار نو شہ گنج بخشؒ
تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں
ٍٍٍآپ کے بس آپ کے افکار نو شہ گنج بخشؒ
معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا
دل غلا می کا کر ے اقرار نو شہ گنج بخشؒ
خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی
ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دار نو شہ گنج بخشؒ
اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی
آپ کا مجھ کو کر م در کار نو شہ گنج بخشؒ
کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر
میں بہت ہو ں مفلس و نا دار نو شہ گنج بخشؒ
چہر ہ ء انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے
خوا ب ہی میں بخش دے دیدار نو شہ گنج بخشؒ
حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی
پرُ سعا د ت یہ لکھے اشعار نو شہ گنج بخشؒ
منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے
سن رہے ہیں شعر خو د سر کار نو شہ گنج بخشؒ
منصور آفاق

یہ جام ہے برسوں بعد بھرا کچھ اور برس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 190
اے زلفِ سیہ کچھ اور ذرا کچھ اور برس
یہ جام ہے برسوں بعد بھرا کچھ اور برس
محدود رہیں ہم خوابِ گہہِ فردوس تلک
اے حسنِکرم کی کالی گھٹا کچھ اور برس
آ تشنہ بلب پر اور برس کچھ اور ذرا
اے ابرِبدن آ موج میں آ کچھ اور برس
تُو ایک سمندر میرے لئے ہے اڑتا ہوا
آدشتِ طلب کی پیاس بجھا کچھ اور برس
آ قوسِ قزح کے رنگ پہن کر چھیڑ مجھے
آ اپنا زمیں پر جسم بچھا کچھ اور برس
منصور آفاق

کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 189
میرے سوا کسی کو بھی میسج ہوا تو بس
کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس
آسیب سرسرائیں سمندر کی چاپ میں
لہروں سے ہمکلام یہ کاٹج ہوا تو بس
پانی میں بہہ گئے ہیں غریبوں کے صبح و شام
پھر آسماں زمیں کا معالج ہوا تو بس
تھوڑا سا دم چراغ کے چہرے میں رہ گیا
اس مرتبہ بھی صبح کو فالج ہوا تو بس
میں لکھ رہا ہوں گم شدہ قبروں کی ڈائری
ابدال ایسا کشفِ مدارج ہوا تو بس
برسوں پھر اس کے بعد مجھے جاگنا پڑے
اک خواب میری نیند سے خارج ہوا تو بس
یہ روشنی، یہ پھول، یہ خوشبو، یہ سات رنگ
جب بند لڑکیوں کا یہ کالج ہوا تو بس
میں جا رہا ہوں آپ کے کہنے پہ اس کے پاس
میرا خراب دوستو امیج ہوا تو بس
منصور گفتگو ہے یہ پہلی کسی کے ساتھ
اک حرف کا غلط جو مخارج ہوا تو بس
منصور آفاق

پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 188
سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس
پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس
ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے
کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس
گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں
فون مردہ ہے مگر بسترِ بیدار کے پاس
کس طرح برف بھری رات گزاری ہو گی
میں بھی موجود نہ تھا جسمِ طرح دار کے پاس
عبرت آموز ہے دربارِ شب و روز کا تاج
طشتِ تاریخ میں سر رکھے ہیں دستار کے پاس
چشمِ لالہ پہ سیہ پٹیاں باندھیں منصور
سولیاں گاڑنے والے گل و گلزار کے پاس
منصور آفاق

گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 187
روشنی کے خواب، خوشبو کے دیے تھے آس پاس
گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس
آ گئے، اچھا کیا، بھیگی ہوئی اِس شام میں
ایسی رت میں آپ ہی بس چاہیے تھے آس پاس
اک رندھی آواز تھی میرے گلے میں ہجر کی
درد کے روتے ہوئے کچھ ماہیے تھے آس پاس
ہونٹ میرے رات بھر، یہ سوچیے، ہونٹوں پہ تھے
ہاتھ میرے، آپ اتنا جانیے، تھے آس پاس
جب بدن میں بادلوں کا شور تھا تم تھے کہاں
جب چمکتے بجلیوں کے زاویے تھے آس پاس
دیکھتی تھیں اس کی آنکھیں میرے چہرے کے نقوش
زندگی کے آخری جب ثانیے تھے آس پاس
اک فریبِ ذات تھا پھیلا ہوا صدیوں کے بیچ
چاند جیسے ناموں والے کالیے تھے آس پاس
رات کی دیوار پر فوٹو گراف اک چاند کا
اور کالے بادلوں کے حاشیے تھے آس پاس
نظم کی میت کوئی لٹکا رہا تھا پیڑ سے
اور پریشاں حال کچھ بالشتیے تھے آس پاس
اک سفر میں نے کیا تھا وادیِ تاریخ میں
بین تھے چیخوں بھرے اور مرثیے تھے آس پاس
جب مرا سر کٹ رہا تھا کربلائے وقت میں
اہل کوفہ اپنی دستاریں لیے تھے آس پاس
ہفتہ بھر سے ڈائری ملتی نہیں منصور کی
فون پر کچھ رابطے میں نے کیے تھے آس پاس
منصور آفاق

اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 186
کس بھیانک زندگی کا رنج میرے آس پاس
اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس
کھوجتا پھرتا ہوں میں اسرار اپنی ذات کے
اور ان گلیوں میں داتا گنج میرے آس پاس
تھے مخالف بس مرے دونوں طرف کے لشکری
کیا عجب کھیلی گئی شطرنج میرے آس پاس
بہہ رہی تھی یاد کی سکرین پر دریا کے ساتھ
ناچتی گاتی ہوئی اک جنج میرے آس پاس
میرے ہونٹوں سے گرے جملے اٹھانے کے لیے
رہ رہے ہیں کتنے بذلہ سنج میرے آس پاس
آئینے کو دیکھ کر رویا تو ازراہِ مذاق
وقت نے پھیلا دیا اسفنج میرے آس پاس
منصور آفاق

وہ جو بولتی تھی سرائیکی بھری اردوئیں نہیں آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 185
وہی رنگ رنگ کی اجرکیں ، وہی خوشبوئیں نہیں آس پاس
وہ جو بولتی تھی سرائیکی بھری اردوئیں نہیں آس پاس
کہیں خشک سالی وصال کی کہیں آبِ لمس کا قحط ہے
وہ جو پیاس میری بجھاتے تھے وہی اب کنوئیں نہیں آس پاس
مرے دھوپ روپ دیار کے سبھی برف پوش مکان ہیں
وہ جو چمنیوں سے نکلتے تھے کبھی، وہ دھوئیں نہیں آس پاس
یہاں گرم ہاتھ کو پھیر مت، یہاں لمس لمس بکھیر مت
جو مچلتے تھے ترے قرب سے وہی اب روئیں نہیں آس پاس
سبھی شوخ و شنگ لباس ہیں کوئی لازوال بدن نہیں
جنہیں آنکھیں چومیں خیال میں جنہیں لب چھوئیں نہیں آس پاس
کوئی رات اجلی وصال کی کوئی گیت گاتی سی بالیاں
میرے سانس سے جو دہک اٹھیں وہی اب لویں نہیں آس پاس
منصور آفاق

یار کا میں ہوں اور ہے میرا یار لباس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 184
وصل کی راتوں کا شب زندہ دار لباس
یار کا میں ہوں اور ہے میرا یار لباس
سوچ کی چِپ میں سمٹی ہوئی اس دنیا کی
ٹیلی ویژن آنکھیں ہیں اخبار لباس
آدھے بدن پر ٹیبل لیمپ کا نیلا شیڈ
آدھے بدن پر رات کا جالی دار لباس
خواب بہت بوسیدہ ہوتے جاتے ہیں
آؤ بدل لیں نیندوں کے اس پار لباس
ننگ دکھائی دے جاتا ہے درزوں سے
کہنے کو ہے گھر کی ہر دیوار لباس
تنہائی کی ڈیٹوں میں منصور آفاق
تیرے میرے بیچ رہا ہر بار لباس
منصور آفاق

دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 183
جگمگاتی تھی جو طاقِ آسماں میں کوئی چیز
دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز
رات جیسا ساری دنیا میں نہیں ہے کوئی ظلم
اور دئیے جیسی نہیں سارے جہاں میں کوئی چیز
یہ بھی ہو سکتا ہے ممکن میں کوئی کردار ہوں
یا مرے جیسی کسی ہے داستاں میں کوئی چیز
دیکھنا میری طرف کچھ دن نہیں آنا تجھے
ایسا لگتا ہے کہ ہے میرے مکاں میں کوئی چیز
کوئی بے مفہوم نقطہ، کوئی مصرع کا فریب
ڈھونڈتی ہے رات پھر صبحِ بیاں میں کوئی چیز
لگتا ہے دشتِ جنوں کی آندھیوں کو دیکھ کر
اہل غم نے سونپ دی میری کماں میں کوئی چیز
واہمہ ہے سانحہ کا،خدشہ اِن ہونی کاہے
خوف جیسی ہے مرے وہم وگماں میں کوئی چیز
آیت الکرسی کا کب تک کھینچ رکھوں گا حصار
جانے والا دے گیا میری اماں میں کوئی چیز
نام ہے دیوانِ منصور اس کا، کل کی ڈاک میں
بھیج دی ہے صحبتِ آئندگاں میں کوئی چیز
منصور آفاق

منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 182
ہیں خوفناک ہجر کے یہ المیے پلیز
منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز
باقی ہیں انتظار کی کچھ ساعتیں ابھی
جلنے دو بام پر ابھی سارے دئیے پلیز
اب کاٹنے لگی ہے خموشی کی تیز دھار
کہیے پلیز کچھ مجھے ،کچھ بولیے پلیز
رہتے نہیں ہمیشہ تو ایسے خراب دن
خود کو سنبھالئے یہ دوا لیجئے پلیز
پہلے بہت اداس ہے شب کاسیہ مزاج
ایسے میں یہ سنائیے نہ ماہیے پلیز
منصور آگئی ہے وہ باہر گلی میں صبح
جانے بھی دیجئے ہمیں اب دیکھئے پلیز
منصور آفاق

پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 181
مٹی مرا وجود، زمیں میری جا نماز
پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز
اک دلنواز شخص نے دیکھا مجھے تو میں
قوسِ قزح پہ عصر کی پڑھنے لگا نماز
پڑھتے ہیں سر پہ دھوپ کی دستار باندھ کر
سایہ بچھا کے اپنا ہم اہلِ صفا نماز
لات و منات اپنے بغل میں لیے ہوئے
کعبہ کی سمت پڑھتی ہے خلقِ خدا نماز
تیرا ہے کوئی اور تعین مرا میں آپ
تیری جدا نماز ہے میری جدا نماز
جانے کب آئے پھر یہ پلٹ کر شبِ وصال
ہو جائے گی ادا تو عشاء کی قضا نماز
میں نے کہا کہ صبح ہے اب تو افق کے پاس
اس نے کہا تو کیجیے اٹھ کر ادا نماز
مت پوچھ کیسی خواہشِ دیدار تھی مجھے
برسوں میں کوہِ طور پہ پڑھتا رہا نماز
قرباں خیالِ گنبدِ خضرا پہ ہیں سجود
اقرا مری دعا ، مری غارِ حرا نماز
اس مختصر قیام میں کافی یہی مجھے
میرا مکاں درود ہے میرا دیا نماز
پندارِ جاں میں آئی ہیں تجھ سے ملاحتیں
تجھ سے ہوئے دراز یہ دستِ دعا نماز
اے خواجہء فراق ! ملاقات کے لیے
پھر پڑھ کنارِ چشمۂ حمد و ثنا نماز
اے شیخ شاہِ وقت کے دربار سے نکل
دروازہ کر رہی ہے بغاوت کا وا نماز
اس کا خیال مجھ سے قضا ہی نہیں ہوا
لگتا ہے میرے واسطے منصور تھا نماز
منصور آفاق

جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 180
دشمناں را ، دوستاں را شب بخیر
جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر
در فلک مانندِنجم آوارہ ام
چاکرِ حسنِ بتاں را شب بخیر
خواب را سرمایہ ء آشوبِ دل
ساغراں را ساحراں را شب بخیر
از رخ ام صبحِ آسودہ گرفت
زلفِ دوتا دلبراں را شب بخیر
صحبتِ چشمِ سکوں تسخیر کرد
شورشِ سوداگراں را شب بخیر
چینِ ابرودل کتاں آید بروں
پیشِ مرغِ آشیاں را شب بخیر
دیدہِ منصور از چشمم تمام
دامنِ پُرحسرتاں را شب بخیر
منصور آفاق

سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 179
اندھیری رات کے اے رہ روو،دعائے خیر
سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر
مجھے سیاہی کی وحشت سے خوف آتا ہے
کہو چراغ صفت منظرو دعائے خیر
بنائے بت جو ہیں ہم نے خدا نہ بن بیٹھیں
بڑی ضروری ہے صورت گرو دعائے خیر
اب اس کے بعد لڑائی کبھی نہیں ہو گی
مری ہتھیلی پہ آؤ دھرو دعائے خیر
الف میں صرف کروڑوں مقام آتے ہیں
طلسمِ اسم کے خیرہ سرو دعائے خیر
گلی گلی میں ہے منصور کا تماشا بھی
دیارِ نور کے دیدہ ورو دعائے خیر
منصور آفاق

پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 178
جاری ہے پھر حسین کا ماتم گزار خیر
پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر
پھٹ ہی نہ جائے کوئی یہاں بم گزار خیر
اک چھت تلے ہے فیملی باہم گزار خیر
خودکش دھماکے ہونے لگے ہیں گلی گلی
برپا جگہ جگہ پہ ہے ماتم گزار خیر
پھرتی ہے موت ظلم کے گرد و غبار میں
آیا ہے خاک و خون کا موسم گزار خیر
میرے وطن میں آگ لگی ہے اک ایک کوس
وہ سرنگوں ہے دین کا پرچم گزار خیر
منصور پہ کرم ہو خصوصی خدائے پاک
لگتی نہیں گزرتی شبِ غم گزار خیر
منصور آفاق

یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 177
ملال خانہء شب کو چراغ زاد نہ کر
یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر
خزانے درد کے دل میں سدا سلامت رکھ
تُو شہرِ سنگ میں تقسیم جائیداد نہ کر
بدن کی آگ جلا برف برف بنگلے میں
نگاہِ سرد سے یہ کارِ انجماد نہ کر
یہ خشک پتے پکڑتے ہیں آگ کو فوراً
بلند اتنا یہاں شعلہ ء عناد نہ کر
شبِ وصال پسندیدہ شب ہے مولا کی
زبانِ حضرتِ واعظ پہ اعتقاد نہ کر
کئی بگولوں میں ہوتی ہے دیکھ دکھ کی آنکھ
یہ دشت دشت تُو تسخیرِ گردباد نہ کر
بھلا دے بچھڑی ہوئی رت کا خوبرو چہرہ
مقامِ یاد پہ جلسوں کا انعقاد نہ کر
یہ رات رات حریفانہ کشمکش کیا ہے
دل و دماغ میں پیدا کھلا تضاد نہ کر
ہر ایک شخص نے جینا ہے اپنی مرضی سے
بنامِ حرمتِ خلقِ خدا ، فساد نہ کر
یہ دور دل میں جہنم اٹھائے پھرتا ہے
بجز خدا تُو ، کسی پر بھی اعتماد نہ کر
ترے لیے ہے بدن کی گداز رعنائی
نفس نفس میں سلگتا ہوا جہاد نہ کر
بھروسہ کر تُو کمک پر عوام کی منصور
یزیدِ وقت کی فوجوں سے اتحاد نہ کر
منصور آفاق

حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 176
اک ایک ڈاٹ کام پہ رسوائی دیکھ کر
حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر
سگریٹ کی سمت بڑھ گیا پھر اس کا نرم ہاتھ
پہلے پہل ذرا ہمیں شرمائی دیکھ کر
یہ اور بات ڈوب گئے ہیں کہیں مگر
رکھا تھا پاؤں پانی کی گہرائی دیکھ کر
ہم آ گئے وہاں کہ جہاں واپسی نہیں
اس کی ذرا سی حوصلہ افزائی دیکھ کر
افسوس صبحِ عمر جہنم میں جھونک دی
اک لمس پوش رات کی رعنائی دیکھ کر
دانتوں سے کاٹ کاٹ لیں اس نے کلائیاں
میری کسی کے ساتھ شناسائی دیکھ کر
ہم نے تمام رات جلائی ہیں خواہشیں
دل ڈر گیا تھا برف سی تنہائی دیکھ کر
آتے ہیں زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی
جب رو پڑے تماشا ، تماشائی دیکھ کر
بس انتہائیں حسن کی معلوم ہو گئیں
زیبا علی ظہور کی زیبائی دیکھ کر
واپس پلٹ گئے جنہیں شوقِ وصال تھا
بس پہلے آسمان کی پہنائی دیکھ کر
ہم آئینے کے سامنے تصویر ہو گئے
آنکھوں میں اس کی انجمن آرائی دیکھ کر
پھر ایک اور شخص گلی سے گزر گیا
پھر بج اٹھا تھا دل کوئی پرچھائی دیکھ کر
اک دلنواز گیت سا مدہم سروں کے پیچ
برسات گنگناتی تھی پروائی دیکھ کر
معجز نما ہے صبحِ ازل سے وصالِ یار
حیراں نہ ہو بدن کی مسیحائی دیکھ کر
اندھی سڑک پہ بھاگ پڑی رات کی طرف
یک لخت اتنی روشنی بینائی دیکھ کر
کس کس کے ساتھ جنگ کریں گے دیار میں
ہم سوچتے ہیں تیرے تمنائی دیکھ کر
منصور زندگی کی کہانی سمجھ گئے
دریائے تند و تیز کی دارائی دیکھ کر
منصور آفاق

میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں سمندر ہو کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 175
وہ جو پھرتے ہیں کناروں پہ قلندر ہو کر
میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں سمندر ہو کر
انہی گلیوں میں ، ملا دیس نکالا جن سے
میں بھی پھرتا ہوں مقدر کا سکندر ہو کر
میں نے دیکھی ہے فقط ایک خدا کی تمجید
کبھی مسجد ، کبھی معبد ، کبھی مندر ہو کر
میں بہر طور تماشا ہوں تماشا گر کا
ڈگڈگی والا کبھی تو کبھی بندر ہو کر
مجھ کو معلوم دنیا کی حقیقت منصور
باہر آیا ہوں کئی بار میں اندر ہو کر
منصور آفاق

کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 174
فلم چلتی ہے مسلسل وہی اک سین پہن کر
کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر
کوئی کمرہ مرے پاؤں پہ اترتا ہی نہیں ہے
سیڑھیاں چلتی چلی جاتی ہیں قالین پہن کر
ہوتے رہتے ہیں جہازوں کے بڑے حادثے لیکن
کرتا رہتا ہوں سفر سورتِ یٰسین پہن کر
نرمگی اس کی ابھر آئی تھی ملبوس سے باہر
کتنی نازک سی سکرٹ آئی تھی نرمین پہن کر
تم مرے ہونٹوں کی کیا پیاس بجھا سکتی ہو وینس
میرا پیاسا ہے بدن، آبِ ابا سین پہن کر
ہیں خدائی کا مسائل کہ سرِ راہ پڑے ہیں
اک تماشے کا لبادہ سا فراعین پہن کر
منصور آفاق

اپنے ہونے کا سبب معلوم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 173
آدمی کے جدو اب معلوم کر
اپنے ہونے کا سبب معلوم کر
پوچھ شجرہ زندگی سے جا کہیں
جاکے مٹی کا نسب معلوم کر
فیصلے یک طرفہ کرنے چھوڑ دے
مجھ سے بھی میری طلب معلوم کر
اپنی پہچانیں کہاں کھوئی گئیں
گم ہوئے کیوں چشم و لب معلوم کر
اور کتنے قوس جلنا ہے ہمیں
اے چراغ دشتِ شب معلوم کر
موت کے منصور شہرِ خوف میں
زندگی کا کوئی ڈھب معلوم کر
منصور آفاق

اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 172
پرودگار! حرفِ کمیت پہ رحم کر
اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر
نیزے پہ سج گیا ہے وہ چہرہ حسین کا
اے بے نیاز اپنی مشیت پہ رحم کر
اک دھوپ سے بھرے ہوئے بے رحم پہر میں
کھلتی ہوئی کلی کی اذیت پہ رحم کر
کچھ دن مزارِ دل پہ جلا درد کے چراغ
کچھ مرنے والے کی بھی وصیت پہ رحم کر
اتنی اکیلگی میں بھی اپنی طلب کرے
منصور کچھ تو دل کی حمیت پہ رحم کر
منصور آفاق

رونمائی کی تقریب منسوخ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 171
اپنے چہرے کی تشبیب منسوخ کر
رونمائی کی تقریب منسوخ کر
اپنا دکھ پیش کر سادہ الفاظ میں
اتنی مشکل تراکیب منسوخ کر
لفظ تیرے زمانے کے عکاس ہوں
اب گذشتہ اسالیب منسوخ کر
حدِ فاصل کوئی کھینچ دن رات میں
دوغلے پن کی تہذیب منسوخ کر
خون سے بھر گئی ہے مری ہر گلی
اپنا اب ذوقِ تخریب منسوخ کر
ظلم کو ظلم کہہ ، رات کو رات لکھ
ظالموں کی نہ تکذیب منسوخ کر
روشنی کے لگا پول ہر چوک میں
اب صلیبوں کی تنصیب منسوخ کر
عادتاً تُو مسلسل یہ لیکچر نہ دے
بے وجہ اپنی تادیب منسوخ کر
تیری منزل پہ رکنا نہیں ہے مجھے
یہ محبت کی ترغیب منسوخ کر
دارپر پہلے جانا ہے منصور نے
عاشقوں کی یہ ترتیب منسوخ کر
منصور آفاق

اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 170
اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر
روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں
اک ذرا بس موت سے آزاد کر
اب مجھے تسخیر کرنے کے لیے
اسم اعظم روح میں آباد کر
میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر
قریہء تشکیک کی سرحد پہ ہوں
صاحبِ لوح و قلم امداد کر
خالق و مخلوق میں دے فاصلے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر
خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر
ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر
اک قیامت سے نکل آیا ہوں میں
اب کوئی نازل نئی افتاد کر
ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
منصور آفاق

میلوں لمبا ایک جلوس سڑک پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 169
خالی پیٹ چلے مایوس سڑک پر
میلوں لمبا ایک جلوس سڑک پر
دیکھ کے پہلی بار دہکتا سورج
اس نے پھینک دیا ملبوس سڑک پر
برسوں پہلے میرا گھر ہوتا تھا
شہرِ فسوں کی اس مانوس سڑک پر
صرف یہ رستہ جانے والوں کا ہے
پہلی بار ہوا محسوس سڑک پر
میں نے آگ بھری بوتل کھولی تھی
اس نے پیا تھا اورنج جوس سڑک پر
چاند دکھائی دیتا تھا کھڑکی سے
دور لٹکتا اک فانوس سڑک پر
ننگے پاؤں چلتے ہیں ہم منصور
آگ اگلتی اک منحوس سڑک پر
منصور آفاق

ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 168
تہذیب کانکھار محمدﷺ کے نام پر
ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر
بے عیب شاہکار ہے ربِ کریم کا
نقطہ بھی ناگوار محمدﷺ کے نام پر
لمحے اسی کے فیض کی زندہ امانتیں
یہ روز وشب نثار محمدﷺ کے نام پر
چودہ سو سال سے گل و گلزار کے تمام
موسم ہیں ساز گار محمدﷺ کے نام پر
ذرے ہوں مہر و ماہ اسی اسم کے طفیل
ذی حس ہوں ذی وقار محمدﷺ کے نام پر
منصور ان کے نام پہ مرنا عروجِ بخت
قرباں میں بار بار محمدﷺ کے نام پر
منصور آفاق

دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 167
کچھ اندھیرے جاگتے تھے کچھ اجالے میز پر
دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر
آنکھ جھپکی تھی ذرا سی میں نے کرسی پر کہیں
وقت نے پھر بن دیے صدیوں کے جالے میز پر
صلح کی کوشش نہ کر ہابیل اور قابیل میں
کھول دیں گے فائلیں افلاک والے میز پر
آگ جلتے ہی لبوں کی مل گئیں پرچھائیاں
رہ گئے کافی کے دو آدھے پیالے میز پر
جسم استانی کا لتھڑا جا رہا تھا رال سے
چاک لکھتا جا رہا تھا نظم کالے میز پر
میری ہم مکتب نزاکت میں قیامت خیز تھی
چاہتا تھا دل اسے اپنی سجا لے میز پر
کوئی ترچھی آنکھ سے منصور کرتا تھا گناہ
سیکس کے رکھے تھے پاکیزہ رسالے میز پر
منصور آفاق

ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 166
دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہِ ملال پر
ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر
شب کے سکوت میں لیا یوں اس نے کوئی نام
مندری بجی ہو جس طرح پیتل کے تھال پر
بارش میں بھیگتی چلی آئی تھی کوئی ہیر
بوندیں ٹھہر گئی تھیں دھنک رنگ شال پر
آتی تھی ٹیلی فون سے آوازِ لمسِ یار
بستر بچھا تھا فرشِ بہشتِ خیال پر
منصور کیا سفید کرسمس کی رات ہے
تارے مچل رہے ہیں زمیں کے وصال پر
ذرا بھی دھیان نہیں وصل کے فریضوں پر
یونہی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر
قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں
کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر
یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے
ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر
کسی انار کلی کے خیال میں اب تک
غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں پر
جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن
پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر
غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں
شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر
وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور
مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر
منصور آفاق

چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 165
چاندنی پھیلی ہوئی تھی ریت کی شہنیل پر
چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر
ایک اچھے دوست کے ہمراہ گزری تھی کبھی
فروری کی ایک اجلی پیر ’’چشمہ جھیل‘‘ پر
لمبی کر کے اپنی گردن گھولتی تھی زرد چونچ
کونج تھی مامور شاید درد کی ترسیل پر
اور پھر تصویر پر تاریک سائے رہ گئے
روشنی سی پڑ گئی تھی کیمرے کی ریل پر
مانگتی ہے زندگی پھر روشنی الہام کی
اور ابد کی خامشی ہے قریہء جبریل پر
آئینے سے پھوٹتی ہیں نور کی پرچھائیاں
کیا کہوں منصور اپنے عکس کی تمثیل پر
منصور آفاق

امید غلط اندازوں پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 164
زنجیر بکف شہبازوں پر
امید غلط اندازوں پر
ہم لوگ سفر میں رہتے ہیں
منسوخ شدہ پروازوں پر
آسیب لکیریں کھینچ گیا
دیوار صفت دروازوں پر
اب بین خموشی کرتی ہے
مصلوب شدہ آوازوں پر
کیا گفت و شنید ازل کی ہو
منصور ابد کے رازوں پر
منصور آفاق

کیکر پہ لگا کرتے ہیں اخروٹ کہیں اور

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 163
یہ دشتِ مغیلاں ہے، ثمرکوٹ کہیں اور
کیکر پہ لگا کرتے ہیں اخروٹ کہیں اور
اک پھول نے اب ہاتھ مرا تھام رکھا ہے
سردائی بدن بھنگ کی جا گھوٹ کہیں اور
اس ہاتھ پہ تقسیم کی اشکال بنا دیں
اقرارِ محبت کا لکھا نوٹ کہیں اور
سایوں کے تعاقب میں یہی ہوتا ہے شاید
میں اور کہیں ، چاند بھری اوٹ کہیں اور
چلتے تھے پسینے کے مری جلد پہ قطرے
بم جیسے مرے پاؤں میں ریموٹ کہیں اور
ہے اپنے مراسم میں کوئی اور بھی شامل
ہم ٹھیک ہی سمجھے تھے کہ ہے کھوٹ کہیں اور
اِس شہر کی گلیوں میں دھڑکتے ہوئے دل ہیں
اے حاکمِ جاں ! رہتے ہیں روبوٹ کہیں اور
اِس شہرِ منافق کو بھی کوفہ نہ کہیں کیوں
وعدہ تھا کسی اور سے اور ووٹ کہیں اور
ڈستی ہے مرے خواب کو پروازوں کی آواز
تعمیر کیا جائے ایئرپورٹ کہیں اور
ٹوٹا مرا دل تھا، جھڑی آنکھوں میں لگی تھی
احساس کہیں اور تھا اور چوٹ کہیں اور
اڑتا تھا تعلق کی کسی تیز ہوا میں
ٹائی کہیں جاتی تھی مری، کوٹ کہیں اور
منصور آفاق

یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 162
جسم میں ٹھونکی ہوئی میخوں میں کیلوں میں گزار
یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار
جا کہیں آباد کر ٹوٹے ہوئے برباد دل
جا کوئی دن بے سہاروں ،بے وسیلوں میں گزار
یاد کی تصویرسے باہر قدم رکھ ، جا کہیں
شہر کی شہلا شگن شامیں شکیلوں میں گزار
استراحت سایہ ء گل میں تجھے زیبا نہیں
عمر جا کر دشت کے آوارہ ٹیلوں میں گزار
قرب کی گرمی انوکھی ہی سہی لیکن یہ رات
ہے یہی بہتربہانوں اور حیلوں میں گزار
خود اُسے ناراض کرکے تُونے بھیجا تھا سو اب
واہموں میں کاٹ راتیں ،دن دلیلوں میں گزار
دید کے پیاسے پرندے اڑ رہے ہیں آس پاس
چاند کچھ دن،آنسوئوں کی گرم جھیلوں میں گزار
میری گردن پر جلاپھر اپنے بوسوں کے چراغ
پھر کوئی شب لمس کے پُر شوق نیلوں میں گزار
کوچہء جاناں ہی تیرا نقطہ ء پرکار ہے
زندگی اپنی انہی دوچار میلوں میں گزار
چاہیے ہے حسنِ مطلق کی اگر قربت تجھے
عمر اپنی خوبرووں میں جمیلوں میں گزار
خامہء دل !ہم سخن کر مثنوی مولائے روم
دن سروشوں میں کٹیں شب جبرئیلوں میں گزار
گر پڑا ہے تُو سفر میں دشت کے، سو زندگی
اب مثالِ استخوانِ تازہ چیلوں میں گزار
کچھ ہوا کے بول سن،پیڑوں کی بھیگی شام سے
سُن پرندوں کی سریں ،کچھ دن سریلوں میں گزار
رات اس کے عارض و لب کے قصیدوں میں کٹے
دن پہاڑوں پر کہیں باغی قبیلوں میں گزار
تُو مذاہب سے نکل کر آبِ سادہ بانٹ بس
یہ فساد فی سبیل اللہ سبیلوں میں گزار
آدمی ہوں میں مرے گھر میں گنہ ممکن بھی ہے
رات جاتُو ذوالجلالوں ، ذوالجلیلوں میں گزار
اے سویٹر بننے والی، رنگوں کی آواز سن
سرخ دھاگے کھینچ، نیلا سوت پیلوں میں گزار
صحبتِ صالح تُرا صالح کند ، طالع کند
دوگھڑی ہم بے نظیروں بے مثیلوں میں گزار
جب تلک منصورپیچھے سے کمک آتی نہیں
وقت قلعہ بند ہو کر بس فصیلوں میں گزار
منصور آفاق

یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 161
ہجراں کے سیہ داغِ طلب سے ماخوذ
یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ
ہم چُنتے رہے فرش و فلک کے الہام
ہم دونوں جہانوں کے ادب سے ماخوذ
ہے رات تری زلف دوتا سے نکلی
ہے صبح ترے عارض و لب سے ماخوذ
دھڑکن کی طرح چیخ رہی ہیں کب سے
نظمیں ہیں دلِ مہر بلب سے ماخوذ
ہم رات کے پرودہ نہیں ہیں منصور
ہم خواب ہیں صبحوں کے نسب سے ماخوذ
منصور آفاق

یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 160
پڑے ہیں جو قلم کے ساتھ کاغذ
یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ
جلا آیا جلوسِ دانشِ دِین
شعورِ محترم کے ساتھ کاغذ
جڑے بس رہ گئے ہیں داستاں میں
ترے عہدِ ستم کے ساتھ کاغذ
یہی بس التماسِ دل کہ رکھنا
یہ دیوارِ حرم کے ساتھ کاغذ
پرندے بنتے جاتے ہیں مسلسل
ترے فضل و کرم کے ساتھ کاغذ
میانوالی میں آئے ہیں فلک سے
یہ امکانِ عدم کے ساتھ کاغذ
خود اپنے قتل نامے کا کسی کو
دیا پورے بھرم کے ساتھ کاغذ
کسی مبہم سی انجانی زباں میں
پڑے ہیں ہر قدم کے ساتھ کاغذ
الٹنے ہیں پلٹنے ہیں لحد تک
خیالِ بیش و کم کے ساتھ کاغذ
یہ وہ تہذیب ہے جو بیچتی ہے
ابھی دام و درم کے ساتھ کاغذ
کسی کو دستخط کرکے دیے ہیں
سرِ تسلیم خم کے ساتھ کاغذ
درازوں میں چھپانے پڑ رہے ہیں
کلامِ چشمِ نم کے ساتھ کاغذ
انہیں عباس نے لکھا ہے خوں سے
یہ چپکا دے علم کے ساتھ کاغذ
چمکتے پھر رہے ہیں آسماں کے
چراغِ ذی حشم کے ساتھ کاغذ
بدل جاتے ہیں اکثر دیکھتا ہوں
مری تاریخِ غم کے ساتھ کاغذ
ابد کے قہوہ خانے میں ملے ہیں
کسی تازہ صنم کے ساتھ کاغذ
ہوئے ہیں کس قدر منصور کالے
یہ شب ہائے الم کے ساتھ کاغذ
منصور آفاق

دلِ آدمی سے دماغِ خدا تک محمد محمد محمد محمدﷺ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 159
ضمیرِ زمیں سے شعورِ سما تک محمد محمد محمد محمدﷺ
دلِ آدمی سے دماغِ خدا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
جمودِ عدم سے نمودِ مکاں تک، سکوتِ ازل سے خرام جہاں تک
دیارِ فنا سے طلسمِ بقا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
درختوں کے پتوں کی حمد ونثامیں بہاروں کی پاکیزہ قوسِ قزح میں
چنبیلی کے پھولوں سے بادصبا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
اے دنیا اے اعجازِ کن کی نمائش،ذرا تُو بھی صلِ علیٰ آج کہہ دے
تری ابتداء سے تری انتہا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
خدا کے لبوں پر وہی ذکرِ اقدس ، وہ اسم گرامی ہے عرشِ علا پر
فضا سے خلا تک ، خلا سے ملا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
منصور آفاق

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 156
زندگی! اب زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
چھوڑ آیا ہوں میں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
اور باقی ہیں مگر امید کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا ، جو تھی ٹھانی ختم شد
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد
اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں
یار کی بھی مہربانی ختم شد
اب مرے کچھ بھی نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد
وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد
اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد
آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بے کرانی ختم شد
اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد
لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد
کچھ ہوا ایسا ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد
اہم اتنا تھا کوئی میرے لیے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد
دشت کی وسعت جنوں کو چاہیے
اس چمن کی باغبانی ختم شد
اپنے بارے میں کروں گا گفتگو
یار کی اب ترجمانی ختم شد
ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
منصور آفاق

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق

بڑے ہی نیک خرابوں کے چیف زندہ باد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 154
ہر ایک جرم ، بنام شریف زندہ باد
بڑے ہی نیک خرابوں کے چیف زندہ باد
یہ خونخوار دھماکے تجھے مبارک ہوں
او دشمنانِ وطن کے حلیف زندہ باد
تباہ حال کرنسی پہ نعرۂ تکبیر
نئی معاش کی صبحِ لطیف زندہ باد
او بادشاہ سلامت تری حکومت میں
تمام ملکِ خدا کے حریف زندہ باد
مرے وطن کو تمنا سلامتی کی ہے
سلامتی کی صدائے نحیف زندہ باد
کہو دھواں دھواں لاہور پر غزل منصور
کہو یہ دھند کا شہرِ کثیف زندہ باد
منصور آفاق

زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 153
گلستاں کو بہارِ سبز گنبد پر مبارک باد
زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد
شعورِ ذہنِ انسانی جہاں منزل تلک پہنچا
دماغو! اُس خرد کی آخری حد پر مبارک باد
جہاں کو ہدیۂ تبریک کالی کملی پر میرا
جہاں کو آسمانِ شالِ اسود پر مبارک باد
زمیں پر نائبِ اللہ ہونے کی نوید آئی
مقامِ جانشینِ کُن کی مسند پر مبارک باد
تجھے رحمت بھرے بارہ ربیع اول کے دن منصور
رسولِ اقدس و اعظم کی آمد پر مبارک باد
منصور آفاق

ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 152
آتشِ لمس سے جلتی ہوئی چیخ
ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ
زخم پاؤں میں کیے جاتی ہے
خشک پتوں سے نکلتی ہوئی چیخ
اک شکاری کے کفن سے ابھری
برف کے ساتھ پگھلتی ہوئی چیخ
کس نے چپکائی ہے دیواروں پر
خواب میں رنگ بدلتی ہوئی چیخ
میں طلسمات سے نکلا تو ملی
بابِ حیرت پہ مچلتی ہوئی چیخ
قاتلو! دھوتے رہو نقشِ قدم
چلتی جاتی ہے وہ چلتی ہوئی چیخ
اک تعلق کے گلے سے نکلی
در و دیوار نگلتی ہوئی چیخ
پھر وہی ڈوبتا سورج منصور
پھر وہی آگ اگلتی ہوئی چیخ
آخری سانس میں ڈھلتی ہوئی چیخ
گر پڑی ایک سنبھلتی ہوئی چیخ
منصور آفاق

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق

زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 150
برف کی شال میں لپٹی ہوئی صرصر کی طرح
زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح
کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف
میں نے دیکھا تھا اُسے آخری منظر کی طرح
ہاتھ رکھ ، لمس بھری تیز نظر کے آگے
چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں
شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجر کی طرح
کچی مٹی کی مہک اوڑھ کے اِتراتی تھی
میں پہنتا تھا اسے گرم سمندر کی طرح
پلو گرتا ہوا ساڑھی کا اٹھا کر منصور
چلتی ہے چھلکی ہوئی دودھ کی گاگر کی طرح
منصور آفاق

مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 149
میرا اعجاز نہیں رنگ کے جادو کی طرح
مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح
ذکر آیا جو کہیں بزمِ سخن میں میرا
چشمِ جاناں سے نکل آیا میں آنسو کی طرح
اچھے موسم کی دعا مانگی تو موجود تھا میں
خشک آنکھوں میں کہیں رنج کے پہلو کی طرح
دل نہ تھا دامنِ گل پوش میں آخر میں بھی
اڑ گیا پیڑ سے اک روز پکھیرو کی طرح
اس کی دہلیزسے طالب کو دعا بھی نہ ملی
سر پٹختا ہی رہاموجِ لبِ جو کی طرح
میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح
پھر ہرے ہو گئے اس دل میں تری یاد کے زخم
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح
قتل کرتا ہے تو آداب بجا لاتا ہے
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح
پھر سنائی دی انا الحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے آوازِ صبا ہو کی طرح
کشمکش ایک حریفانہ سی اُس میں بھی ہے
کشمکش مجھ میں بھی تفریقِ من و تُو کی طرح
شہر میں ہوتا تو پھر پوچھتے عاشق کا مزاج
دشت میں قیس چہکتا پھرے آہو کی طرح
اس کی آسودہ نفاست پہ ہے قربان فرانس
کیسی کمخواب سی نازک سی ہے اردو کی طرح
یہ شہادت کا عمل ہے کہ قلم کے وارث
مر کے بھی مرتے نہیں وارث و باہو کی طرح
وقت، سچائی ،خدا ساتھ تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
منصور آفاق

جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 148
آدمی میں بھی ہوں آدمی کی طرح
جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح
ہر قدم پر لہو کا تعاقب کرے
موت وحشت زدہ اونٹنی کی طرح
چار اطراف میں زندگی کی تڑپ
جسم کی آخری جھر جھری کی طرح
صرف حیرت تھی آنکھوں میں پھیلی ہوئی
کوئی منظر تھا بے منظری کی طرح
آئینے میں کسی اور کو دیر تک
دیکھتا میں رہا اجنبی کی طرح
ایک تقریبِصبح مسلسل ہے تُو
اور میں محفلِ ملتوی کی طرح
وقت کے کینوس پہ ادھورا سا میں
ایک تصویر بنتی ہوئی کی طرح
سانولی دھوپ آنکھوں میں پھرتی رہے
شام کی ساعتِ سرمئی کی طرح
عمر بھر اک سٹیشن پہ چلتے رہے
تیراساماں اٹھاکر قلی کی طرح
مصرعے اگلی کلاسوں کے بنتا ہوا
خواب کا جامعہ شاعری کی طرح
عمر منصور اس کی گلی میں کٹی
عشق میں نے کیا نوکری کی طرح
منصور آفاق