زمرہ جات کے محفوظات: غزل

یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 389
کھڑکیاں بدلتی ہیں ، در بدلتے رہتے ہیں
یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں
موسموں کی تبدیلی معجزے دکھاتی ہے
جسم ایک رہتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں
وہ بچھڑ بھی سکتا ہے، میں بدل بھی سکتا ہوں
کیا کریں محبت کے ڈر بدلتے رہتے ہیں
کائنات کا پنجرہ کوئی در نہیں رکھتا
اور ہم پرندوں کے پر بدلتے رہتے ہیں
ارتقاء کے پردے میں کیا عجیب صورت ہے
ہم نہیں بدل سکتے، پر، بدلتے رہتے ہیں
منصور آفاق

قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 388
یہ مسجدوں میں جوخود کُش شہید ہوتے ہیں
قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں
طلب بھی پاتی ہے ترتیب ٹیلی ویژ ن سے
جہاں کو دیکھ کے ہم بھی جدید ہوتے ہیں
ہر اک دور کا اک شاہ حسین ہوتا ہے
ہرایک دور میں خواجہ فرید ہوتے ہیں
نکل کے گھر سے یونہی رات رات چلتا ہوں
بڑے ہی یا د کے حملے شدید ہوتے ہیں
یزید کوئی بھی ہوتا نہیں حسین مزاج
حسین نام کے لیکن یزید ہوتے ہیں
میں جتنی کرتا ہوں کوشش درست کرنے کی
خراب اتنے مسائل مزید ہوتے ہیں
نکلتی ہے یہ مصائب سے شاعری منصور
یہ مصرعے خونِ جگرسے کشید ہوتے ہیں
منصور آفاق

نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 387
رات کا شور، اندھیروں کی زباں سنتے ہیں
نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں
ایک سقراط نے زنجیر بپا آنا ہے
دوستو آؤ عدالت میں بیاں سنتے ہیں
کیوں پلٹتی ہی نہیں کوئی صدا کوئی پکار
یہ تو طے تھا کہ مرے چارہ گراں سنتے ہیں
اب بدلنی ہے شب و روز کی تقویم کہ لوگ
شام کے وقت سویرے کی اذاں سنتے ہیں
ایسے منفی تو لب و دیدہ نہیں ہیں اس کے
کچھ زیادہ ہی مرے وہم و گماں سنتے ہیں
بات کرتی ہے ہوا میری نگہ سے منصور
اور رک رک کے مجھے آبِ رواں سنتے ہیں
منصور آفاق

برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 386
جمع ہو جاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں
برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں
ایک آسیب ہے اس شخص کی رعنائی بھی
خوشبوئیں بولتی ہیں رنگ وہاں سنتے ہیں
ایک ویرانہ ہے، قبریں ہیں ، خموشی ہے مگر
دل یہ کہتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں سنتے ہیں
زندگی ان کی شہیدوں کی طرح ہے شاید
آنکھ رکھتے ہیں شجر، بات بھی، ہاں ! سنتے ہیں
تخت گرتے ہیں تو یاد آتی ہے اپنی ورنہ
ہم فقیروں کی کہاں شاہ جہاں سنتے ہیں
بیٹھ کر ہم بھی ذرا ذاتِ حرا میں منصور
وہ جو آواز ہے سینے میں نہاں ، سنتے ہیں
منصور آفاق

شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 385
من و سلویٰ لیے ا فلاک سے بم گرتے ہیں
شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں
فتح مندی کی خبر آتی ہے واشنگٹن سے
اور لاہور کے ۸۷یہر روز علم گرتے ہیں
زرد پتے کی کہانی تو ہے موسم پہ محیط
ٹوٹ کے روز کہیں شاخ سے ہم گرتے ہیں
رقص ویک اینڈ پہ جتنا بھی رہے تیز مگر
طے شدہ وقت پہ لوگوں کے قدم گرتے ہیں
شہر کی آخری خاموش سڑک پر جیسے
میرے مژگاں سے سیہ رات کے غم گرتے ہیں
جانے کیا گزری ہے اس دل کے صدف پر منصور
ایسے موتی تو مری آنکھ سے کم گرتے ہیں
منصور آفاق

جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 384
یونہی ہم بستیوں کو خوبصورت تر بناتے ہیں
جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں
بنا کر فرش سے بستر تلک ٹوٹی ہوئی چوڑی
گذشتہ رات کا تصویر میں منظر بناتے ہیں
لکھا ہے اس نے لکھ بھیجو شبِ ہجراں کی کیفیت
چلو ٹھہرے ہوئے دریا کو کاغذ پر بناتے ہیں
سمندر کے بدن جیسا ہے عورت کا تعلق بھی
لہو کی آبدوزوں کے سفر گوہر بناتے ہیں
مکمل تجربہ کرتے ہیں ہم اپنی تباہی کا
کسی آوارہ دوشیزہ کو اب دلبر بناتے ہیں
شرابوں نے دیا سچ بولنے کا حوصلہ منصور
غلط موسم مجھے کردار میں بہتر بناتے ہیں
منصور آفاق

آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 383
ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں
وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطحِ آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
منصور آفاق

عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 382
جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں
عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں
ہم سمجھتے ہیں بہت، لہجے کی تلخی کو مگر
تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں
دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں
پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی ایٹم بم سے
وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں
ڈھونڈنے کے لیے گلیوں میں کوئی عرش نشیں
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں
ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کے لیے
دشت میں شہر سے کچھ بھیڑیے آئے ہوئے ہیں
کیا کریں اپنی رندھی ، زرد ، فسردہ آواز
غول کے غول یہاں بھونکنے آئے ہوئے ہیں
تجھ سے کچھ لینا نہیں ، دیکھ ! پریشان نہ ہو
ہم یہاں گزری رتیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں
تھوڑی تھوڑی سی خوشی بانٹنے والے شاید
کوئی تبدیلی بڑی روکنے آئے ہوئے ہیں
اتنا کافی ہے تجھے بات سمجھنے کیلئے
ہم یہاں آئے نہیں ہیں بھلے آئے ہوئے ہیں
ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں
کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں
منصور آفاق

دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 381
دیکھتے لپک تیرے طنز کی تو ہم بھی ہیں
دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں
کھلتے کھلتے کھلتے ہیں اپنی اپنی دنیا میں
تم اگر تجسس ہو سنسنی تو ہم بھی ہیں
تم سہی سیہ بدلی آنسوئوں کے موسم کی
آس پاس مژگاں کے کچھ نمی تو ہم بھی ہیں
عشق کی شریعت میں کیا جو قیس پہلے تھے
ہجر کی طریقت میں آخری تو ہم بھی ہیں
جانتے ہیں دنیا کو درد کا سمندر ہے
اور اس سمندر میں اک گلی تو ہم بھی ہیں
پیڑ سے تعلق تو ٹوٹ کے بھی رہتا ہے
سوختہ سہی لیکن شبنمی تو ہم بھی ہیں
دو گھڑی کا قصہ ہے زندگی محبت میں
دو گھڑی تو تم بھی ہو دو گھڑی تو ہم بھی ہیں
جیل کی عمارت ہے عاشقی کی صحبت بھی
بیڑیاں اگر تم ہو ہتھکڑی تو ہم بھی ہیں
نام وہ ہمارا پھر اک کرن کے ہونٹوں پر
وقت کے ستارے پر۔ ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
کیا ہوا جو ہجراں کی رہ رہے ہیں مشکل میں
یار کے شبستاں میں یاد سی تو ہم بھی ہیں
دیدنی زمانے میں بے خبر بہاروں سے
گلستانِ حیرت کی اک کلی تو ہم بھی ہیں
مانا عشق کرنے کا کچھ پتہ نہیں تم کو
دلبری کی بستی میں اجنبی تو ہم بھی ہیں
یہ الگ گوارا ہم وقت کو نہیں لیکن
جس طرح کے ہوتے ہیں آدمی تو ہم بھی ہیں
کربلا کی وحشت سے، سلسلہ نہیں لیکن
ساحلوں پہ دریا کے تشنگی تو ہم بھی ہیں
ہیر تیرے بیلے میں آنسوئوں کے ریلے میں
خالی خالی بیلے میں بانسری تو ہم بھی ہیں
تم چلو قیامت ہو تم چلو مصیبت ہو
بے بسی تو ہم بھی ہیں ، بے کسی تو ہم بھی ہیں
صبح کے نکلتے ہی بجھ تو جانا ہے ہم کو
رات کی سہی لیکن روشنی تو ہم بھی ہیں
دیکھتے ہیں پھولوں کو، سوچتے ہیں رنگوں کو
خوشبوئوں کے مکتب میں فلسفی تو ہم بھی ہیں
ایک الف لیلیٰ کی داستاں سہی کوئی
دوستو کہانی اک متھ بھری تو ہم بھی ہیں
منصور آفاق

کہیں بجھی سگریٹوں کے ٹکڑے ،کہیں کتابیں کھلی پڑی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 380
فراق کی انتظار گاہ میں کہیں شرابیں کھلی پڑی ہیں
کہیں بجھی سگریٹوں کے ٹکڑے ،کہیں کتابیں کھلی پڑی ہیں
کہا تو ہے سر پھری ہوا سے چلے سنبھل کر بہت سنبھل کر
میں خیمہء کائنات ہوں اور مری طنابیں کھلی پڑی ہیں
کوئی توآیا ہے خواب گاہِ دل و نظر میں ، یہ چھپ چھپا کے
تجوری ٹوٹی ہوئی ہے غم کی ، تمام خوابیں کھلی پڑی ہیں
جو انتظاروں کے ہم نفس ہیں قفس میں بس ہیں وہی پرندے
ملن کے چڑیاگھروں میں وحشت بھری شتابیں کھلی پڑی ہیں
وہاں ہے رخشِ حیات منصور اپنا پہنچا ، جہاں ابد پر
کہیں پہ ٹوٹی ہوئی ہیں باگیں ، کہیں رکابیں کھلی پڑی ہیں
منصور آفاق

ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 379
یزید زاد الگ، کربلا علیحدہ ہیں
ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں
نمازِ جسم میں کعبہ کی سمت لازم ہے
نمازِ عشق کے قبلہ نما علیحدہ ہیں
مرے فراق کے جلتے ہوئے سیہ موسم
تمہی کہو مری جاں ! تم سے کیا علیحدہ ہیں
سمجھ رہی ہو محبت میں وصل کو تعبیر
ہمارے خواب میں کہتا نہ تھا، علیحدہ ہیں
ہماری دھج کو نظر بھر کے دیکھتے ہیں لوگ
ہجوم شہر میں ہم کج ادا علیحدہ ہیں
سیاہ بختی ٹپکتی ہے ایک تو چھت سے
ترے ستم مری جانِ وفا علیحدہ ہیں
منصور آفاق

اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 378
یہ جو جلتے دئیوں کی آنکھیں ہیں
اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں
حسنِ گل پوش کے تعاقب میں
پھر کئی تتلیوں کی آنکھیں ہیں
دھند لاہٹ دکھائی دیتی ہے
نم زدہ کھڑکیوں کی آنکھیں ہیں
کافی تنکے ہیں چُن لئے لیکن
چار سو بجلیوں کی آنکھیں ہیں
نیم وا رہتی ہیں محبت سے
کھلتی کب لڑکیوں کی آنکھیں ہیں
یہ جو سیارے ہیں خلاؤں میں
جنگجو بستیوں کی آنکھیں ہیں
راستہ ہے مدینہ کا منصور
پھول سی بچیوں کی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 377
آسمانوں کے دفینے کی طرف آنکھیں ہیں
خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں
اس میں اک نام دھڑکتا ہے بڑے زور کے ساتھ
اپنی تو اپنے ہی سینے کی طرف آنکھیں ہیں
لوگ مشکل میں عبادت کریں واشنگٹن کی
شکر ہے اپنی ، مدینے کی طرف آنکھیں ہیں
روضے کی جالیاں چھونے کا شرف جس کو ملا
اُس انگوٹھی کے نگینے کی طرف آنکھیں ہیں
آرہا ہے جو سرِ عرش سے میری جانب
اُس اترے ہوئے زینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس پہ بطحا کا سفر کرتے تھے عشاقِ رسول
اُس کرم بار سفینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس میں آیا تھا اجالوں کا پیمبر منصور
اُس بہاروں کے مہینے کی طرف آنکھیں ہیں
منصور آفاق

ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 376
رات جن کاجلی آنکھوں سے لڑی آنکھیں ہیں
ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں
آنکھ جھپکوں تو نکل آتی ہیں دیواروں سے
میرے کمرے میں دو آسیب بھری آنکھیں ہیں
ہجر کی جھیل ترا دکھ بھی ہے معلوم مگر
یہ کوئی نہر نہیں ہے یہ مری آنکھیں ہیں
دیکھتے ہیں کہ یہ سیلاب اترتا کب ہے
دیر سے ایک ہی پانی میں کھڑی آنکھیں ہیں
جن کی مژگاں پہ نمی دیکھ کے تُو روتی تھی
تیز بارش میں ترے در پہ وہی آنکھیں ہیں
کون بچھڑا ہے کہ گلیوں میں مرے چاروں طرف
غم زدہ چہرے ہیں او ر ر وتی ہوئی آنکھیں ہیں
انتظاروں کی دو شمعیں ہیں کہ بجھتی ہی نہیں
میری دہلیز پہ برسوں سے دھری آنکھیں ہیں
اب ٹھہر جا اے شبِ غم کہ کئی سال کے بعد
اک ذرا دیر ہوئی ہے یہ لگی آنکھیں ہیں
باقی ہر نقش اُسی کا ہے مرے سنگ تراش
اتنا ہے اس کی ذرا اور بڑی آنکھیں ہیں
خوف آتا ہے مجھے چشمِ سیہ سے منصور
دیکھ تو رات کی یہ کتنی گھنی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

اک مرحلۂ شوق میں ہم جلوہ نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 375
پیروں تلے ہر لمحہ نیا طور نئی برق
اک مرحلۂ شوق میں ہم جلوہ نشیں ہیں
پیچھے سے کوئی اچھی خبر آئے تو جائیں
برزخ سے ذرا پہلے ابھی رستہ نشیں ہیں
دوچار نکل آئے ہیں جلباب سے باہر
منصور ابھی دوست کئی پردہ نشیں ہیں
منصور آفاق

تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 374
ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشیں ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں
خس خانہ و برفاب کی خواہش نہیں رکھتے
ہم دھوپ صفت لوگ ہیں خاشاک نشیں ہیں
امید بغاوت کی ہم ایسوں سے نہ رکھو
ہم ظلم کے نخچیر ہیں ، فتراک نشیں ہیں
اطراف میں بکھری ہوئی ہے سوختہ بستی
ہم راکھ اڑاتے ہوئے املاک نشیں ہیں
معلوم ہے کیا تم نے کہا ہے پسِ تحریر
اسباقِ خفی ہم کو بھی ادراک نشیں ہیں
کیا کوزہ گری بھول گیا ہے کوئی منصور
ہم لوگ کئی سال ہوئے چاک نشیں ہیں
منصور آفاق

پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 373
الفاظ پہن کر ہمی اوراق نشیں ہیں
پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں
یہ بات الگ روشنی ہوتی ہے کہیں اور
ہم مثلِ چراغِ شبِ غم طاق نشیں ہیں
سورج کی طرف دیکھنے والوں کی قسم ہم
اک خوابِ عشاء اوڑھ کے اشراق نشیں ہیں
چاہیں تو زباں کھینچ لیں انکار کی ہم لوگ
بس خوفِ خدا ہے ہمیں ، اشفاق نشیں ہیں
آتی ہیں شعاعوں سے انا الحق کی صدائیں
ہم نورِ ہیں منصور ہیں آفاق نشیں ہیں
منصور آفاق

اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق

طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 371
دیارِ گل میں بھیانک بلائیں حاکم ہیں
طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں
سفید پوش ہیں سہمے ہوئے مکانوں میں
گلی میں پھرتی ہے کالک بلائیں حاکم ہیں
یہاں سے ہجرتیں کرنی ہیں خوش دماغوں نے
یہاں ہے موت کی ٹھنڈک بلائیں حاکم ہیں
یہ گفتگو سے سویرے طلوع کرتی ہیں
وطن پہ رات کی زیرک بلائیں حاکم ہیں
نکل پڑے ہیں ہزاروں سگانِ آدم خور
کھلے ہیں موت کے پھاٹک بلائیں حاکم ہیں
وہ ساری روشنیوں کی سہانی آوازیں
تھا اقتدار کا ناٹک بلائیں حاکم ہیں
جو طمطراق سے جالب کے گیت گاتی ہیں
وہ انقلاب کی گاہک بلائیں حاکم ہیں
کسی چراغ میں ہمت نہیں ہے جلنے کی
بڑا اندھیرا ہے بے شک بلائیں حاکم ہیں
سعودیہ سے ہواہے نزولِ پاک ان کا
چلو وطن میں مبارک بلائیں حاکم ہیں
خدا کے نام دھماکے نبیؐ کے نام فساد
بنامِ دین ہے بک بک بلائیں حاکم ہیں
یہ مال و زر کی پجاری ہیں وقت کی قارون
نہیں ہے مذہب و مسلک بلائیں حاکم ہیں
نظر نہ آئیں سہولت سے آنکھ کو منصور
لگا کے دیکھئے عینک بلائیں حاکم ہیں
منصور آفاق

پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 370
جنگلوں میں جگنوں کے قافلے ممنوع ہیں
پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں
صرف پروانے کو جلنے کی اجازت بزم میں
رونے پر پابندیاں ہیں ، قہقہے ممنوع ہیں
دشت کی تپتی زمیں پرمعجزہ کوئی کریں
ننگے پاؤں چلنا ہے اور آبلے ممنوع ہیں
بام پر اب دل جلائیں اورمژہ پر دھڑکنیں
روشنی بھی کرنی ہے اور قمقمے ممنوع ہیں
موج کومنصورہے چلنا ہوا کے ساتھ ساتھ
ساحلوں پرپانیوں کے بلبلے ممنوع ہیں
منصور آفاق

کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 369
اک بلیک آوٹ ہے روشن دئیے ممنوع ہیں
کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں
ہم محبت کی ریاضی پاس کر سکتے نہیں
اک مثلت لازمی ہے زاویے ممنوع ہیں
کوئی تحفہ تو کجا خط بھی پہنچ سکتا نہیں
اُس گلی میں ہر طرح کے ڈاکیے ممنوع ہیں
ہجر میں ممکن نہیں ہے استراحت کا خیال
راحتوں کے سلسلے میرے لئے ممنوع ہیں
بارشیں منصور برسانے کا آڈر ہے مگر
آسماں پر بادلوں کے حاشیے ممنوع ہیں
منصور آفاق

میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 368
یاد کے گلی میں دو اجنبی مسافر ہیں
میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں
گھر میں کمپیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں
چند ٹن بیئر کے ہیں چند چپس کے پیکٹ
رات کی سڑک ہے اور ہم یونہی مسافر ہیں
کون ریل کو سگنل لالٹین سے دے گا
گاؤں کے سٹیشن پر اک ہمی مسافر ہیں
نیند کے جزیرے پر، آنکھ کی عمارت میں
اجنبی سے لگتے ہیں ، یہ کوئی مسافر ہیں
شب پناہ گیروں کے ساتھ ساتھ رہتی ہے
روشنی کی بستی میں ہم ابھی مسافر ہیں
اور اک سمندر سا پھر عبور کرنا ہے
خار و خس کی کشتی ہے کاغذی مسافر ہیں
چند اور رہتے ہیں دھوپ کے قدم منصور
شام کی گلی کے ہم آخری مسافر ہیں
منصور آفاق

قانون کے جدید دیاروں میں قید ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 367
ہم چوک چوک سرخ اشاروں میں قید ہیں
قانون کے جدید دیاروں میں قید ہیں
جنگل میں لومڑی کی شہنشاہی ان دنوں
بیچارے شیر اپنے کچھاروں میں قید ہیں
یہ سبز میز پوش پہ بکھرے ہوئے خیال
دراصل چند فرضی بہاروں میں قید ہیں
بے حد و بے کراں کا تصور بجا مگر
سارے سمندر اپنے کناروں میں قید ہیں
منصور زر پرست ہیں فالج زدہ سے جسم
یہ لوگ زرق برق سی کاروں میں قید ہیں
منصور آفاق

جسم کی ہر اک سڑک پر کیمرے موجود ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 366
مخبری کے غیر مرئی ڈاکیے موجود ہیں
جسم کی ہر اک سڑک پر کیمرے موجود ہیں
کھل نہیں سکتے اگر بابِ نبوت کے کواڑ
سینکڑوں جبریل مجھ میں کس لیے موجود ہیں
بس صدا ڈی کوڈ کرنی ہے خموشی کی مجھے
کتنے سگنل عرش سے آئے ہوئے موجود ہیں
چاند شاید پیڑ کی شاخوں میں الجھا ہے کہیں
صحن میں کچھ روشنی کے شیڈ سے موجود ہیں
قیمتی سوٹوں کی جلسہ گاہ میں خاموش رہ
کرسیوں پر کیسے کیسے نابغے موجود ہیں
کھول کر اپنے گریباں کے بٹن ہم سرفروش
موت کی بندوق کے پھر سامنے موجود ہیں
منصور آفاق

آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 365
پلکیں کسی برہن کے کھلے سر کی طرح ہیں
آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں
گرتے ہیں ہمی میں کئی بپھرے ہوئے دریا
ہم وقت ہیں ، لمحوں کے سمندر کی طرح ہیں
بس ٹوٹتے پتوں کی صدائیں ہیں ہوا میں
موسم بھی مرادوں کے مقدر کی طرح ہیں
رکھتے ہیں اک اک چونچ میں کنکر کئی دکھ کے
اب حرف ابابیلوں کے لشکر کی طرح ہیں
بکتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا ہو گا
اب ہم بھی کسی آخری زیور کی طرح ہیں
یہ خواب جنہیں اوڑھ کے سونا تھا نگر کو
فٹ پاتھ پہ بچھتے ہوئے بستر کی طرح ہیں
ناراض نہ ہو اپنے بہک جانے پہ جاناں
ہم لوگ بھی انسان ہیں ، اکثر کی طرح ہیں
اب اپنا بھروسہ نہیں ، ہم ساحلِ جاں پر
طوفان میں ٹوٹے ہوئے لنگر کی طرح ہیں
تم صرفِ نظر کیسے، کہاں ہم سے کرو گے
وہ لوگ ہیں ہم جو تمہیں ازبر کی طرح ہیں
منصور ہمیں بھولنا ممکن ہی نہیں ہے
ہم زخم میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 364
سورج پہ گلابوں کے تصور کی طرح ہیں
ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں
چھیڑو نہ ہمیں دوستو پھر تھم نہ سکیں گے
ملہار کے ہم بھیگے ہوئے سُر کی طرح ہیں
صد شکر کہ سینے میں دھڑکتا ہے ابھی دل
ہم کفر کے لشکر میں سہی حر کی طرح ہیں
بجھ جاتا ہے سورج کا ہمیں دیکھ کے چہرہ
ہم شام کے آزردہ تاثر کی طرح ہیں
ہر دور میں شاداب ہیں سر سبز ہیں منصور
وہ لوگ جو موسم کے تغیر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 363
لٹنے کو خزانوں بھرے مندر کی طرح ہیں
ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں
ہم حرفِ زمیں ، چیختی صدیوں کی امانت
گم گشتہ ثقافت کے سخنور کی طرح ہیں
ہم پھول کنول کے ہیں ہمیں نقش کھنڈر کے
آثارِ قدیمہ کے پیمبر کی طرح ہیں
فرعون کے اہرام بھی موسیٰ کا عصا بھی
ہم نیل کی تہذیب کے منظر کی طرح ہیں
آدم کے ہمی نقشِ کفِ پا ہیں فلک پر
کعبہ میں ہمی عرش کے پتھر کی طرح ہیں
ہم گنبد و مینار ہوئے تاج محل کے
ہم قرطبہ کے سرخ سے مرمر کی طرح ہیں
ہم عہدِ ہڑپہ کی جوانی پہ شب و روز
دیواروں میں روتی ہوئی صرصر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم ریس کے گھوڑے ہیں ، مقدر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 362
جیتے ہوئے لوگوں کے سوئمبر کی طرح ہیں
ہم ریس کے گھوڑے ہیں ، مقدر کی طرح ہیں
ہر لمحہ پیانو سے نئی شکل ابھاریں
یہ انگلیاں اپنی، کسی بت گر کی طرح ہیں
کیا چھاؤں کی امید لیے آئے گا کوئی
ہم دشت میں سوکھے ہوئے کیکر کی طرح ہیں
الحمدِ مسلسل کا تسلسل ہے ہمی سے
ہم صبحِ ازل زاد کے تیتر کی طرح ہیں
جلتے ہوئے موسم میں ہیں یخ بستہ ہوا سے
ہم برف بھری رات میں ہیٹر کی طرح ہیں
حیرت بھری نظروں کے لیے جیسے تماشا
ہم گاؤں میں آئے ہوئے تھیٹر کی طرح ہیں
یہ بینچ بھی ہے زانوئے دلدار کی مانند
یہ پارک بھی اپنے لیے دلبر کی طرح ہیں
پیاسوں سے کہو آئیں وہ سیرابیِ جاں کو
ہم دودھ کی بہتی ہوئی گاگر کی طرح ہیں
منصور ہمیں چھیڑ نہ ہم شیخِ فلک کے
مسجد میں لگائے ہوئے دفتر کی طرح ہیں
منصور آفاق

یہ برگزیدہ لوگ بھی پتھر پرست ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 361
قرباں جواہرات پہ ہیں ، زر پرست ہیں
یہ برگزیدہ لوگ بھی پتھر پرست ہیں
کچھ ہیں اسیرِ عشوہِحسنِ سفید فام
باقی جو اہلِ زرہیں وہ ڈالر پرست ہیں
تجھ سے معاملہ نہیں اپنا، ہوائے شام
پانی ہیں ہم ، ازل سے سمندر پرست ہیں
ہم دوپہر میں مانتے سورج کو ہیں خدا
صحرا کی سرد رات میں اختر پرست ہیں
الٹا ئیں جن کا نام تو لکھیں وہاب ہم
تنظیمِ اسم ذات کے وہ سرپرست ہیں
منصور جبر و قدر کی ممکن نہیں ہے بحث
ہم بولتے نہیں ہیں ، مقدر پرست ہیں
منصور آفاق

نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 360
طلسمِ مرگ کے جادومیں محوِ استراحت ہیں
نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں
شبیں چنگاریوں کے بستروں میں خواب بنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں
خموشی کا بدن ہے چادرِ باردو کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں
کہیں سویا ہواہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
ابھی شیرِ خدا دارو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ابھریں گے بامِ صبحِ مشرق پر ابھی منصور
مرے سورج ابھی جگنو میں محو استراحت ہیں
منصور آفاق

وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 359
یہ راہِ محبت ہے ساتھی اس راہ پہ جو بھی آتے ہیں
وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں
اس دور کا ہم سرمایہ ہیں ہم اہل جنوں ہم اہل وفا
ہم کرب میں ڈوبی دنیا کو پھر کرب و بلا میں لاتے ہیں
تم لوگ فرازِ منبر سے شبیر پہ بس تقریر کرو
ہم رند اُتر کر میداں میں پھررسم وہی دھراتے ہیں
تاریخ کا یہ دوراھا ہے اک سمت وفا اک سمت جفا
کچھ جاہ و حشم کے راہی ہیں ،، کچھ دارورسن کو جاتے ہیں
یہ لوح و قلم کے مفتی کا منصورازل سے فتویٰ ہے
جو زخمِ جگر کو بوسے دیں وہ لوگ مرادیں پاتے ہیں
منصور آفاق

بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 358
وقت ساکت ہے ،جامد یہ حالات ہیں
بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں
میری رائے پہ اے زندگی رحم کر
تیرے بارے میں اچھے خیالات ہیں
دے رہاہے مرا چہرہ سب کے جواب
تیری آنکھوں میں جتنے سوالات ہیں
پاؤں آگے بڑھا ، دار پر وار کر
موت کے کھیل میں ہم ترے ساتھ ہیں
گھاس کھاتے رہو بم بناتے رہو
اپنی باقی ابھی کچھ فتوحات ہیں
تیری زلفوں کی کرنیں تلاوت کریں
تیرے چہرے کی آنکھوں میں آیات ہیں
آتے جاتے ہیں اکثرشبِ تار میں
یہ ستارے تو اپنے مضافات ہیں
غم ہے تنہائی ہے ، ہجر ہے رات ہے
ہم پہ منصور کیا کیا عنایات ہیں
منصور آفاق

رنگوں کے ہم ہیں عاشق ، خوشبو کو چاہتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 357
کھلتی ہوئی کلی کودل سے سراہتے ہیں
رنگوں کے ہم ہیں عاشق ، خوشبو کو چاہتے ہیں
ہم چھوڑتے نہیں ہیں چلتے ہوئے کسی کو
ممکن جہاں تلک ہورشتہ نباہتے ہیں
لگتا ہے میری جاں سے اٹھتی ہیں یہ صدائیں
پت چھڑ کی جب رتوں میں پتے کراہتے ہیں
ہو جاتی ہے خبرکہ اکتا گئے ہیں ہم سے
محفل میں اپنی ساجن جب بھی جماہتے ہیں
منصور تازہ روگ سے خود کو تباہتے ہیں
جی کو مثالِ میر ذرا ہم بساہتے ہیں
منصور آفاق

گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 356
یہی بس چار نعتیں تھیں جو سینے پر سجالی ہیں
گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں
وہی تیرا تمدن ہے بنو ہاشم کی گلیوں میں
امیہ کے نسب نے تازہ تہذیبیں بنا لی ہیں
ترؐے مذہب میں گنجائش نہیں تھی زرکی سو ہم نے
گھروں سے اشرفیاں ، شام سے پہلے نکالی ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے مدینہ آنے والا ہے
لبوں پر کپکپاہٹ ہے یہ آنکھیں رونے والی ہیں
نگاہیں دیکھتی تھیں کتنے سچے خواب یثرب کے
یہ پہچانے ہوئے گھر ہیں یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں
وہی لاہوتی کیفیت اترتی ہے رگ و پے میں
وہی نوری فضائیں ہیں وہی صبحیں نرالی ہیں
کوئی قوسِ قزح سی بھر گئی منصور آنکھوں میں
حریمِ رحمتِ عالم کے کیا رنگِ جمالی ہیں
منصور آفاق

وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 355
میں سوچتا ہوں کہ شہرِ شب کو ملامتوں سے رفاقتیں ہیں
وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں
نظر کی رنگیں مسافتوں کا نہ پوچھ انجام کیا رہا ہے
جنوں کے پُرسوزرتجگوں میں کتابِ دل کی تلاوتیں ہیں
بہکتی راتوں کی چاندنی سے بہلتی زرپوش زندگی ہے
قزح کے رقاص شیش محلوں کو صرف شاموں کی چاہتیں ہیں
خزاں کی سرکش جسارتوں نے مرے وطن کی بہار یں لوٹیں
چمن کی خود ساختہ رُتوں میں منافقت کی حکومتیں ہیں
درندگی کی یہ فکرِ تازہ یہ پاگلوں کے قتالِخود کُش
خرد کے پرہول فیصلے ہیں ستم کی اندھی روایتیں ہیں
وفاکے منصور معبدوں میں دکھوں کی آتش بجھی نہیں ہے
تری نوازش کے سلسلے ہیں تری نظر کی عنایتیں ہیں
منصور آفاق

ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 354
پلیز جمع کرومت ملال کی آنکھیں
ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں
جواب دو کہ فریضہ یہی تمہارا ہے
ہیں انتظار میں ، میرے سوال کی آنکھیں
بڑا ہے شوق مسافر نوازیوں کا انہیں
بچھا رہے ہیں شجر اپنی چھال کی آنکھیں
مرا خیال ہے تارے نہیں یہ آنکھیں ہیں
شبِ فراق میں صبحِ وصال کی آنکھیں
حنوط کرنا پڑے گا چراغِ شام مجھے
کھلی ہوئی افق پر زوال کی آنکھیں
کٹا ہوا یہ کوئی کیک تو نہیں منصور
پڑی ہیں تھال میں اک اور سال کی آنکھیں
منصور آفاق

نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 353
پڑی ہیں ہر طرف وابستگانِ دید کی آنکھیں
نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں
مکمل ہو چکا ہے آخری پیراگراف اپنا
ابھر آئی ہیں کاغذ پر نئی تمہید کی آنکھیں
خدا جانے تجھے کیسی بڑی مجبوری لاحق تھی
مسلسل کھاتی تھیں چغلی تری تردید کی آنکھیں
ستاروں سے صدائیں آتی تھی سبحان اللہ کی
لپکتی تھیں عجب اُس غیرتِ ناہید کی آنکھیں
پلٹ آتی ہیں باغوں کی بہاریں تو مگرمنصور
بھری رہتی ہیں اشکوں سے ہر آتی عید کی آنکھیں
منصور آفاق

اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 352
اوڑھ لیتی ہیں ستاروں کا لبادہ آنکھیں
اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں
کوئی گستاخ اشارہ نہ کوئی شوخ نگہ
اپنے چہرے پہ لیے پھرتا ہوں سادہ آنکھیں
دھوپ کا کرب لیے کوئی افق پر ابھرا
اپنی پلکوں میں سمٹ آئیں کشادہ آنکھیں
ایک دہلیز پہ رکھا ہے ازل سے ماتھا
ایک کھڑکی میں زمانوں سے ستادہ آنکھیں
آنکھ بھر کے تجھے دیکھیں گے کبھی سوچا تھا
اب بدلتی ہی نہیں اپنا ارادہ آنکھیں
شہر کا شہر مجھے دیکھ رہا ہے منصور
کم تماشا ہے بہت اور زیادہ آنکھیں
منصور آفاق

عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 351
نشاں بناتی تھیں پشت پر جووہی پرانی چٹائیاں تھیں
عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں
شبِ برگزیدہ دراز گیسو،ہمہ آفتاب نگاہ اس کی
چراغ ایسے تھے ہاتھ اس کے ، بہار ایسی کلائیاں تھیں
رتوں نے قوسِ قزح پہن لی تھی رنگ خوشبوسے مل گئے تھے
زمین پھولوں سے بھر گئی تھی کچھ ایسی چہرہ نمائیاں تھیں
جو لفظ مچلے زبانِ کُن پر،جو بات نکلی لبِ کرم سے
لکھوک ہا اس میں فائدے تھے کروڑ وں اس میں بھلائیاں تھیں
غلام شاہِ جہاں ہوئے ہیں جو خاک تھے آسماں ہوئے ہیں
پہاڑ اس کے ہوئیں کرم سے وہی جو محکوم رائیاں تھیں
منصور آفاق

قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 350
زندگی ہے دیدۂ سفاک کی جلتی زمیں
قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں
ٹوٹتے جاتے ہیں قسمت کے ستارے ان دنوں
گر رہی ہے خاک پر افلاک کی جلتی زمیں
ہر طرف خودکُش دھماکے ہر طرف ظالم فساد
مانگتی ہے رحم ارضِ پاک کی جلتی زمیں
بند کمرے میں در آئی ہے کسی دیوار سے
ہجر میں دشتِ گریباں چاک کی جلتی زمیں
دیکھتا ہوں خواب میں منصور بمباری کے بعد
سوختہ شہروں سے اڑتی خاک کی جلتی زمیں
منصور آفاق

ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 349
اتفاقات سے بگڑ کے میں
ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں
طشت میں سر بھی اپنا رکھتا تھا
رقص بھی دیکھتا تھا دھڑ کے میں
حل کروں کیسے عقل مندی سے
مسئلے پاگلوں کی بڑ کے میں
کہہ رہا تھا یہ چہرہ لڑکی کا
زندگی ہے بلا کی لڑکے میں
ہجر کی کیفیت ابھی تک تھی
بولتا تھا اکھڑ اکھڑ کے میں
سانس تو لکڑیاں بھی لیتی ہیں
جی رہا ہوں کہاں بچھڑ کے میں
سایوں کے بیچ گزرا کرتا تھا
اُس گلی سے سکڑ سکڑ کے میں
اٹھ کھڑا تھاکسی کی آمد پر
اپنی دیوار کو پکڑ کے میں
دل دھڑکتا تھا ایک دنیا کا
جڑ گیا ہوں کہیں ،اجڑ کے میں
کیسے منصور خالی بستر تھا
لوٹ آیا تھا تڑکے تڑکے میں
اپنے بیٹوں صاحب منصور اور عادل منصور کیلئے
منصور آفاق

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق

دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 347
باہر کھڑا ہوں کون و مکاں کے قفس سے میں
دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں
دیکھو یہ پھڑپھڑاتے ہوئے زخم زخم پر
لڑتا رہا ہوں عمر بھر اپنے قفس سے میں
اے دوست جاگنے کی کوئی رات دے مجھے
تنگ آ گیا ہوں نیند کے کارِ عبث سے میں
بے وزن لگ رہا ہے مجھے کیوں مرا وجود
بالکل صحیح چاند پہ اترا ہوں بس سے میں
اک سوختہ دیار کے ملبے پہ بیٹھ کر
انگار ڈھانپ سکتا نہیں خار و خس سے میں
جذبوں کی عمر میں نے مجرد گزار دی
منصور روزہ دار ہوں چودہ برس سے میں
منصور آفاق

کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 346
جس کاپھرہو گیا اک بوسہ ء پُرجوش سے میں
کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں
سرد آنکھوں میں فقط موت کی ویرانی تھی
کب تلک بولتااُس چہرئہ خاموش سے میں
چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری زیست گزار
بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں
کیا کوئی تیرے اندھیروں سے نکل سکتا ہے
پوچھ سکتا تو ہوں اُس چشمِ سیہ پوش سے میں
اک طرف پڑتی رہی منظرِجاناں پہ چمک
اک طرف آتا رہا جاتا رہا ہوش سے میں
رات کھو جاؤں میں لتا کے سریلے پن میں
صبح آغاز کروں نغمہ ء گوگوش سے میں
اُس بلندی پہ کہاں ہاتھ پہنچنا تھا مگر
دیکھتا چاند رہا دیدئہ مے نوش سے میں
کیسی ہوتی ہے کسی دورِسگاں کی وحشت
پوچھنا چاہتا ہوں یہ کسی خرگوش سے میں
یہ روایت ہے مرے عہدِسخن پیشہ کی
کرلوں بس صدرنوازی ذرا پاپوش سے میں
ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں
منصور آفاق

سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 345
کھلا گیا کوئی آسیب زار کمرے میں
سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں
یہ شیمپین یہ کینڈل یہ بے شکن بستر
پڑا ہوا ہے ترا انتظار کمرے میں
یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں
دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں
پلٹ پلٹ کے گیا بار بار کمرے میں
جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائی تھیں
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمار کمرے میں
تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں
نہیں ہے قید سے ممکن فرار کمرے میں
چھپا رہا تھا کسی سے دھویں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگار کمرے میں
منصور آفاق

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

بولی وہ تھی خدا کے لہجے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 343
سنتے ہم ہیں ہواکے لہجے میں
بولی وہ تھی خدا کے لہجے میں
دے رہی ہے ہماری تنہائی
بدعائیں دعا کے لہجے میں
رات کی آنکھ اوس کے آنسو
بھردے بادصبا کے لہجے میں
گفتگو کر رہی تھی بچوں سے
تھا تحیر فنا کے لہجے میں
خامشی کی کہانیاں منصور
لکھ گیا کافکا کے لہجے میں
منصور آفاق

سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 342
لگا دئیے گئے خطرے کے مارک پانی میں
سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں
اے بلدیہ کوئی بارش سے بھی روابط رکھ
کہ کھو گیاہے وہ بچوں کا پارک پانی میں
پڑا ہوا تھا وہ دریا میں اور پیاسا تھا
اتر رہا ہے سو بوتل کا کارک پانی میں
مجھے کرنٹ کنارے پہ لگ رہا تھا رات
ترے بدن کا عجب تھا سپارک پانی میں
میں رو دیا تو اچانک کسی نے آن کیا
ہزار واٹ کا اک بلب ڈارک پانی میں
منصور آفاق

ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 341
دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں
ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں
اسمِ اللہ کے تصور سے گرے
آبشارِ بیکرانی آنکھ میں
لال قلعے سے قطب مینار تک
وقت کی ہے شہ جہانی آنکھ میں
لکھ رہا ہے اس کا آیت سا وجود
ایک تفسیرِ قرانی آنکھ میں
دودھیا باہیں ، سنہری چوڑیاں
گھومتی ہے اک مدھانی آنکھ میں
دیکھتا ہوں جو دکھاتا ہے مجھے
یار کی ہے حکمرانی آنکھ میں
برف رُت کے اس تعلق کی غزل
دھوپ نے ہے گنگنانی آنکھ میں
اجڑے خوابو!، ٹوٹی امیدو!سنو
ایک بستی ہے بسانی آنکھ میں
چل رہی ہے اپنے کرداروں کے ساتھ
فلم کی اب تک کہانی آنکھ میں
چاہتی ہے کیوں بصارت تخلیہ
کون ہے ظلِ ’سبحانی‘ آنکھ میں
کپکپاتے ساحلوں سے ہمکلام
دھوپ ہے کتنی سہانی آنکھ میں
آمد آمد شاہِ نظارہ کی ہے
سرخ مخمل ہے بچھانی آنکھ میں
تجھ سے پہلے توہواکرتے تھے اور
روشنی کے کچھ معانی آنکھ میں
پہلے ہوتے تھے مقاماتِ عدم
اب فقط ہے لا مکانی آنکھ میں
دیکھتے رہنا ہے نقشِ یار بس
بزمِ وحشت ہے سجانی آنکھ میں
بس یہی ہیں یادگاریں اپنے پاس
بس یہی آنسو نشانی آنکھ میں
اُس حویلی کے کھنڈر کی آج بھی
چیختی ہے بے زبانی آنکھ میں
زیرِآب آنے لگی تصویرِیار
پھیلتا جاتا ہے پانی آنکھ میں
شکرہے اُس اعتمادِذات کی
آ گیا ہوں غیر فانی آنکھ میں
دیکھ آئی ہے کسی کو اُس کے ساتھ
اب نہیں ہے خوش گمانی آنکھ میں
منصور آفاق

جمع ہیں سب التماسیں آنکھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 340
ہجر کی ماری نراسیں آنکھ میں
جمع ہیں سب التماسیں آنکھ میں
چیختی ہیں کیا ہوئی نہرِ فرات
کربلا کی اب بھی پیاسیں آنکھ میں
آخرش تھک ہار کر پتھرا گئیں
انتظاریں اور آسیں آنکھ میں
کس طرح سنولاگئی ہیں صبح کو
رقص کرتی چند یاسیں آنکھ میں
ایک ہیں ، صحرا نوردی کی قسم
مختلف قسموں کی گھاسیں آنکھ میں
اس سے کیا منصور ملنا جب تمام
رنجشیں دل میں براسیں آنکھ میں
منصور آفاق

مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 339
بلا کا ضبط تھا دریا نے کھو دیا مجھ میں
مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں
شبِ سیاہ کہاں سے رگوں میں آئی ہے
تڑپ رہا ہے کوئی آج تو دیا مجھ میں
عجیب کیف تھا ساقی کی چشم رحمت میں
شراب خانہ ہی سارا سمو دیا مجھ میں
رکھا ہے گنبدِ خضرا کے طاق میں شاید
بلا کی روشنی کرتا ہے جو دیا مجھ میں
ہزار درد کے اگتے رہے شجر منصور
کسی نے بیج جو خواہش کا بو دیا مجھ میں
منصور آفاق

ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 338
ڈال دی اس نے محبت کی نئی سم مجھ میں
ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں
اس کی آنکھوں سے مجھے ہوتا ہے کیا کیا معلوم
کون کرتا ہے یہ جذبوں کے تراجم مجھ میں
روح تک جکڑی ہوئی ہے میری زنجیروں میں
کم نہیں ایک تعلق کے مظالم مجھ میں
گھونٹ دیتا ہے گلا روز مرے خوابوں کا
کوئی رہتا ہے خطرناک سا مجرم مجھ میں
بخش کے مجھ کو تہی دامنی دنیا بھر کی
رکھ دیا درد بھرا سینہء حاتم مجھ میں
چھو کے دیکھوں تو مرے ہاتھ پہ رہ جاتی ہیں
اس قدر خواہشیں ہیں نرم و ملائم مجھ میں
جانے کب آتا ہے ہونٹوں پہ کرامت بن کر
کروٹیں لیتا ہے اک نغمہء خاتم مجھ میں
اس کے آنسو مری بخشش کے لیے کافی ہیں
وہ جو بہتا ہے کوئی چشمہء نادم مجھ میں
میں نے چپکائی ہے کاغذ پہ سنہری تتلی
اب بھی پوشیدہ ہے شاید کوئی ظالم مجھ میں
کتنی قبروں پہ کروں فاتحہ خوانی منصور
مر گئے پھر مرے کچھ اور مراسم مجھ میں
منصور آفاق

بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 337
بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں
اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں
میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ ستم گو رہا ہوں میں
لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں
ابھرے ہیں میری آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں
منصور آفاق

پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 336
پھر وہی بھول کر رہا ہوں میں
پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں
جانتا ہوں منافقت کے گُر
شہر میں معتبر رہا ہوں میں
رابطے سانپ بنتے جاتے تھے
رخنے مٹی سے بھر رہا ہوں میں
رات کچھ اور انتظار مرا
آسماں پر ابھر رہا ہوں میں
ایک اندھا کنواں ہے چاروں اور
زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں
آخری بس بھی جانے والی ہے
اور تاخیر کر رہا ہوں میں
ساتھ چھوڑا تھا جس جگہ تُو نے
بس اسی موڑ پر رہا ہوں میں
جانتا ہے تُو میری وحشت بھی
تیرے زیرِ اثر رہا ہوں میں
تتلیاں ہیں مرے تعاقب میں
کیسا گرمِ سفر رہا ہوں میں
کچھ بدلنے کو ہے کہیں مجھ میں
خود سے منصور ڈر رہا ہوں میں
منصور آفاق

کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 335
اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں
طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں
مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں
مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں
گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں
کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں
منصور آفاق

ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 334
ابھی تو شاخ سے اپنی، جدا ہوا ہوں میں
ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں
یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں
وصالِ زانوئے جاناں کے انتظار میں رات
خود اپنے ہاتھ پہ سر رکھ کے سو گیا ہوں میں
لہو میں دوڑتی پھرتی ہے لمس کی خوشبو
تیر ے خیال سے شاید گلے ملا ہوں میں
ستم کہ جس کی جدائی میں بجھ رہا ہے بدن
اسی چراغ کی مانگی ہوئی دعا ہوں میں
یہ المیہ نہیں سورج مقابلے پر ہے
یہ المیہ ہے کہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں
پڑے ہوئے ہیں زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں
منصور آفاق

اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 333
برسات میں نمازِ ہوا کا وضوہوں میں
اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں
کرتی ہے یاد مجھ کو اشاروں کنایوں سے
مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں
اک دوسرے سے کہتے نہیں جانتے تو ہیں
تُو میرے چار سو ہے ترے چار سو ہوں میں
مجھ کو بھی گنگنائے تہجد گزار دوست
اُس کیلئے تو نغمہ اللہ ھو ہوں میں
پھیلی ہوئی ہے آگ کی دونوں طرف بہار
منصور کیسے آج یہ زیبِ گلو ہوں میں
منصور آفاق

پانیوں پر خرام کرلوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 332
آسماں ہم کلام کر لوں میں
پانیوں پر خرام کرلوں میں
تم گلی سے سنا ہے گزرو گے
گھر میں کچھ اہتمام کرلوں میں
چاہتا ہوں کہ سایۂ گل میں
دھوپ اپنی تمام کرلوں میں
پھر کریں گے بہار کی باتیں
پہلے تھوڑاسا کام کرلوں میں
تیرے رخسار سے چرا کے شفق
سرخ رو اپنی شام کرلوں میں
بخش اتنی اجازتیں منصور
تیرے دل میں قیام کرلوں میں
منصور آفاق

جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 331
پڑھتا رہا ہوں قیس کا نوحہ فراق میں
جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں
دو موم بتیاں تھیں ، ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں
میں باندھ باندھ دیتا تھا کھونٹے سے اپنا آپ
وحشت کامجھ پہ ایسا تھا غلبہ فراق میں
جس میں بھری ہو نیند سے مری سلگتی آنکھ
دیکھا نہیں ہے میں نے وہ عرصہ فراق میں
شاید مرا لباس تھا وہ دلربا وصال
میں دیکھتا تھا خود کو برہنہ فراق میں
منصوراُس چراغِ بدن سے وصال کا
آسیب بن گیا تھا ارادہ فراق میں
منصور آفاق

رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 330
کرتا ہوں اپنے آپ سے جھگڑا فراق میں
رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں
میں دیکھتا ہوں تیرے خدو خال کے چراغ
آئینہ دیکھتا ہے تماشا فراق میں
بڑھتی ہے اس کے صحن میں آشفتگی مری
کرتا ہوں چاند رات کا پیچھا فراق میں
یاجانتے ہیں راستے یاجانتا ہوں میں
کیسے یہ ایک سال گزارا فراق میں
میں تو بناتا رہتا ہوں تصویرِخواب کی
تُو بول کیا ہے مشغلہ تیرا فراق میں
ساحل پہ دیکھتے ہیں کئی درد اور بھی
میں اور انتظار کا دریا فراق میں
منصور پھیربس وہی آنکھوں پہ دھجیاں
وہ یادگارِ دستِ زلیخا فراق میں
منصور آفاق

ٹھیک رہتی ہیں ثوابوں کی کتابیں شلیف میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 329
باندھ کر رکھ آسمانوں کی طنابیں شلیف میں
ٹھیک رہتی ہیں ثوابوں کی کتابیں شلیف میں
سوچتی ہیں کس طرح تھے تیرے پیکر کے خطوط
میری بھیجی تین شرٹیں ، دو جرابیں شلیف میں
آتی صدیوں کے لئے کچھ تو مرے کاٹج میں ہو
میں نے آنکھوں سے چرا کر رکھ دیں خوابیں شلیف میں
میز پر تیرے کرم کی نرم آتش چاہئے
رہنے دے اپنی کہن سالہ شرابیں شلیف میں
بس کے اسٹاپوں پہ چپ ہیں دکھ کتابیں کھول کر
فائلیں ہیں راستوں میں اور جابیں شلیف میں
کچھ سوالوں کی بلند آہنگ سچائی کی خیر
سب دبے لہجے کی رکھ دی ہیں جوابیں شلیف میں
وقت کی دیمک ترے کچھ حاشیوں کے ساتھ ساتھ
درج ہیں تاریخ کی ساری خرابیں شلیف میں
منصور آفاق

تخلیق کرناملک ہے مرضی کا دیس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 328
نقشہ بنا نا ہے نئی دھرتی کا دیس میں
تخلیق کرناملک ہے مرضی کا دیس میں
ڈاکوہوئے امیر تو مفلس غریب چور
عفریت ہے حرام پرستی کا دیس میں
لوگوں نے رکھ لیا ہے اندھیرے کا نام صبح
ہو گا کہاں ظہور سفیدی کا دیس میں
کب تن پہ کپڑے ہونگے کب سر پہ ہو گی چھت
کب ختم ہو گا مسئلہ روٹی کا دیس میں
زینہ بہ زنیہ جاتے ہیں پاؤں فلک کی سمت
اک سلسلہ ہے دھند کی سیڑھی کا دیس میں
پستی کی انتہا پہ مسافر پہنچ گئے
اک راستہ عجب تھابلندی کا دیس میں
کیکر کے پھول دارپرانے درخت کا
پھر سے مقابلہ ہے چنبیلی کا دیس میں
منصور لکھ’’جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
منظر وہی ہے غالب و دہلی کا دیس میں
منصور آفاق

ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 327
تم نے کھینچا وہ افسون ہر دور میں
ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں
صبحِ جمہوریت کے اجالوں پہ بس
تم نے مارا ہے شب خون ہر دور میں
نور و نکہت پہ طاقت سے نافذ ہوا
ظلمتِ شب کا قانون ہر دور میں
بس لہو فاختہ کا گرایا گیا
اور کٹی شاخِ زیتون ہر دور میں
زندگی چیختی اور سسکتی رہے
ہے یہی کارِ مسنون ہر دور میں
ملتی لوگوں کو منصور روٹی نہیں
اور فیاض قارون ہر دور میں
منصور آفاق

حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 326
افسردگی کی پھیلتی جھاڑی تھی اور میں
حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں
ضد میں تھا کہ پہنچنا ہے بس دوسری طرف
ناقابل عبور پہاڑی تھی اور میں
بے سمت جا رہا تھا بہت ہی سپیڈ میں
پچھلا پہر تھا رات کا، گاڑی تھی اور میں
پہنے ہوئے تھاکوئی فقیرانہ سا لباس
اس کے بدن پہ قیمتی ساڑھی تھی اور میں
منصور سرد و گرم چشیدہ تھا ہجر میں
وہ بزمِ عاشقاں میں اناڑی تھی اور میں
منصور آفاق

اسمِ اللہ کا تصور اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 325
بے کرانی ، نور سے پُر اور میں
اسمِ اللہ کا تصور اور میں
دور تک حسنِ عدم آباد میں
لامکانی کا تحیر اور میں
منحرف دنیا سے ، اللہ سے وصال
ذکرِ سری کا تاثر اور میں
اک سمندر نور کا پھیلا ہوا
اک سکوت آور تغیر اور میں
اک الوہی ریت پر الہامِ شام
یخ ہوا کا نرم سا سُر اور میں
ہیں مقابل چشمِ باہو کے طفیل
نفس کا جرمِ تکاثر اور میں
منصور آفاق

انتظارِ خوابِ احمد اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 324
نیند کا اک سبز گنبد اور میں
انتظارِ خوابِ احمد اور میں
ذات کی پہچان کا پہلا سفر
منزلِ حیرت کی سرحد اور میں
ساحلِ دل کی ملائم ریت پر
نقشِ پا کی چشم اسود اور میں
لیلیٰ اظہار کے گل پوش لب
نغمۂ اسمِ محمدﷺ اور میں
جذبہ ء تخلیق کی سر جوشیاں
سوچ کا پر نور معبد اور میں
لاکھ روشن کائناتوں کے ا میں
اک شعورِ ذات کی حد اور میں
قریہ ء ادراک کی جلتی زمیں
ایک سایہ دار برگد اور میں
محرمِ لاہوت کی وسعت میں گم
بوعلی، منصور، سرمد اور میں
منصور آفاق

ایک مرحوم آدمی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 323
غم کی تقریبِ ملتوی اور میں
ایک مرحوم آدمی اور میں
اک پہاڑی درے میں مل بیٹھے
شہر والوں کا ایلچی اور میں
اپنا ماضی تلاش کرتے ہیں
تیری آنکھوں میں زندگی اور میں
بات کرتی ہوئی اندھیرے سے
ایک لڑکی حرام کی اور میں
اپنی بستی کے گارہاہوں گیت
اینٹ سے اینٹ بج چکی اور میں
پڑھ رہا ہوں کتابِ دل منصور
وقت کی آنکھ لگ گئی اور میں
منصور آفاق

تیرا وعدہ تری گلی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 322
آخرِ شب کی بے کلی اور میں
تیرا وعدہ تری گلی اور میں
دل سے اٹھتے ہوئے دھویں کے قریب
ایک لکڑی سی ادھ جلی اور میں
منتظر ہیں جنابِ جبرائیل
گفتگو میں مگن علی اور میں
رات کو کاٹتے ہیں چاقو سے
شہر کی ایک باولی اور میں
شام کے ساتھ ساتھ بہتے تھے
ایک سپنے میں سانولی اور میں
عارض و لب کی دلکشی اور لوگ
ایک تصویر داخلی اور میں
حاشیوں سے نکلتا اک چہرہ
چند ریکھائیں کاجلی اور میں
منصور آفاق

تازہ چھلکوں کی دلکشی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 321
اک لباسِ نمائشی اور میں
تازہ چھلکوں کی دلکشی اور میں
ایک اجڑی ہوئی گلی میں چپ
کچھ پرانے رہائشی اور میں
جانے کس سمت چلتے جاتے ہیں
قبر سی رات، خامشی اور میں
خاک کی جستجو میں پھرتے ہیں
ایک اڑتا ہوا رشی اور میں
نامراد آئے کوچہء جاں سے
میرا ہر اک سفارشی اور میں
اپنے اپنے محاذ پر منصور
ایک ملعون سازشی اور میں
منصور آفاق

اک تھکی ہاری اونٹنی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 320
ریگِ صحرا کی سنسنی اور میں
اک تھکی ہاری اونٹنی اور میں
تیرے نقش قدم کی کھوج میں ہیں
آج بھی تھل میں چاندنی اور میں
تیرا کمرہ، دہکتی انگیٹھی
برف پروردہ روشنی اور میں
چند فوٹو گراف آنکھوں کے
دیکھتے ہیں شگفتنی اور میں
لائٹیں آف، لائنیں انگیج
ایک کمرے میں کامنی اور میں
گنگ بیٹھا ہوا ہوں پہروں سے
ایک تصویر گفتنی اور میں
منصور آفاق

رو رہے ہیں سرائیکی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 319
مائی بھاگی کی گائیکی اور میں
رو رہے ہیں سرائیکی اور میں
مسکراہٹ سے کانپ جاتے ہیں
میری افسردہ سائیکی اور میں
آم کے پیڑ لے کے پھرتا ہوں
ایک کوٹھی کرائے کی اور میں
کتنے کپڑوں کے جوڑے لے آیا
اس نے دعوت دی چائے کی اور میں
زلف کی دوپہر کے سائے میں
شام عبرت سرائے کی اور میں
کتنی صدیوں سے ہوں تعاقب میں
ایک آواز سائے کی اور میں
منصور آفاق

لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 318
ریت کی شال پہ بھیگا ہوا ساجن اور میں
لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں
تھا یہ اندیشہ کہ سبقت نہ کرے موت کہیں
کچھ اسی واسطے جلدی میں تھے دشمن اور میں
شہرِ لاہور میں داتا کی گلی کے باہر
ایک مٹیار کا ہوتا ہوا درشن اور میں
نیپ ریکارڈ پہ بجتا ہوا غمگین نغمہ
رات کی کالی اداسی ،مرا انگن اور میں
شور برپا تھا بلائیں تھیں فضا میں منصور
آمنے سامنے جیسے تیرا جوبن اور میں
منصور آفاق

رو پڑے میری کافری اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 317
آسماں کی برابری اور میں
رو پڑے میری کافری اور میں
چار سو ہیں دعا کے گلدستے
بیچ میں آخری جری اور میں
لفظ کی بے بسی کی بستی میں
چشم و لب کی سخن وری اور میں
اپنی اپنی تلاش میں گم ہیں
عمر بھر کی مسافری اور میں
مر گئے اختتام سے پہلے
اک کہانی تھی متھ بھری اور میں
کچھ نہیں بانٹتے تناسب سے
میرا احساس برتری اور میں
ایک فیری کے خالی عرشے پر
رقص کرتی تھی جل پری اور میں
فہمِ منصور سے تو بالا ہے
یہ تری بندہ پروری اور میں
منصور آفاق

پھر مصلیٰ پہ ہیں خدا اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 316
اک پرانا برآمدہ اور میں
پھر مصلیٰ پہ ہیں خدا اور میں
جس میں ساقی ہیں حضرت اِ قبال
وہی رومی کا میکدہ اور میں
کیا کنارِ ابد کلام کریں
وہ ازل زاد کج ادا اور میں
کوہ سے آرہے ہیں بستی میں
ایک بہتی ہوئی ندا اور میں
آقائے دو جہاں ﷺ کی حرمت پر
میرے ماں باپ بھی فدا اور میں
آسماں سے ابھی ابھی منصور
اطلاعاتِ آمدہ اور میں
منصور آفاق

پہنچا تاخیر کی طرح میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 315
اڑتی تصویر کی طرح میں
پہنچا تاخیر کی طرح میں
خالی میدان میں پڑا تھا
ٹوٹی شمشیر کی طرح میں
اس کی بک شیلف میں رکھا تھا
دیوانِ میر کی طرح میں
گھر کا رستہ بتا رہا تھا
خود کو اک تیر کی طرح میں
اس کے ہاتھوں میں بولتا تھا
خط کی تحریر کی طرح میں
منصور آفاق

خلوصِ زر لٹاتی جائے شہزادی محبت میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 314
بڑی سیدھی محبت میں بڑی سادی محبت
خلوصِ زر لٹاتی جائے شہزادی محبت میں
اسے دیوارِ جاں پر کوئی آویزاں کرے کیسے
کہ ہے تصویر کا ہر نقش فریادی محبت میں
نظر میں وصل کی قوسِ قزح ہے ،پاؤں میں بادل
سنورتی جاتی ہے پھولوں بھری وادی محبت میں
سنا ہے اپنے گھر کے بام و در تک پھونک آیا ہوں
جہاں تک مجھ سے ممکن تھا ،کی بربادی محبت میں
تیرے بالوں میں میرے انگلیوں کے تار لزراں ہوں
بس اتنی چاہئے منصور آزادی محبت میں
منصور آفاق

ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 313
پھول کا ایک حوالہ ہوا میں
ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں
آنکھ سے دیکھنے والے ہوئے تم
روح سے دیکھنے والا ہوا میں
چن لئے وقت نے موتی میرے
ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہوا میں
اس نے مٹی میں دبا رکھا ہے
سکہ ہوں سونے سے ڈھالا ہوا میں
مجھ میں چہکار پرندوں کی ہے
صبح کا سرد اجالا ہوا میں
لوٹ کر آیا نہیں ہوں شاید
گیند کی طرح اچھالا ہوا میں
پیشوائی کیلئے دنیا اور
اپنی بستی سے نکالا ہوا میں
زندگی نام ہے میرا منصور
موت کا ایک نوالہ ہوا میں
منصور آفاق

پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 312
دریچوں سے سیہ پردوں کو سرکاتا ہوا میں
پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں
وہی ہوں میں مجھے پہچان دن کی روشنی میں
وہی تیرے مسلسل خواب میں آتا ہوا میں
کسی منہ زور تتلی کا تعاقب کر رہا ہوں
یہ خوشبو کی طرح پھولوں میں چکراتا ہوا میں
تمنا ہے رہوں جاگیر میں اپنی ہمیشہ
زمیں پر گفتگو کے پھول مہکاتا ہوا میں
جہاں کوکس لئے منصوردیتا ہوں دکھائی
کہیں آتا ہوا میں اور کہیں جاتا ہوا میں
منصور آفاق

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق

ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 310
اس واسطے یہ شدتیں پھرتی ہیں پیاس میں
ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں
سبزے پہ رنگ آتے ہیں جاتے ہیں عصر سے
شاید چھپی ہوئی کوئی تتلی ہے گھاس میں
میں کر چکا ہوں اس سے ملاقات کتنی بار
آتا نہیں کسی کے جو پانچوں حواس میں
سرکار کا نہ نام لو اے واعظانِ شہر
موتی جڑے ہوئے ہیں تمہارے لباس میں
لایحزنُ کے ساز کو چھیڑو کہ ان دنوں
لپٹا ہوا ہے عہد ہمارا ہراس میں
آنکھوں سے اشک بن کے بہی ہیں عقیدتیں
محصور ہو سکیں نہ گمان و قیاس میں
تیرے حسیں خیال کی ڈھونڈیں نزاکتیں
تاروں کے نور میں کبھی پھولوں کی باس میں
طیبہ کی مے تو دشمنِ عقل و خرد نہیں
ہم لوگ پی کے آئے ہیں ہوش و حواس میں
عریاں ہے پھول چنتی کہیں زندگی کا جسم
منصور گم ہے گوئی سراپا کپاس میں
منصور آفاق

جائز ہوئی دھمال شبِ امتناع میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 309
اس نے لئے الاپ وہ بزمِ سماع میں
جائز ہوئی دھمال شبِ امتناع میں
دنیا کی خوبروئی ہے میرے طلسم سے
میرے علاوہ کیا ہے فلک کی متاع میں
بگلا کوئی اکیلا کھڑا تھا مری طرح
مرغابیوں کے ایک بڑے اجتماع میں
یہ جرم ہے تو اس کو کروں گا میں بار بار
کہنا یہی ہے میں نے بس اپنے دفاع میں
لکھی تھیں میرے حسنِ نظر کی کہانیاں
منصور آفتاب کی پہلی شعاع میں
منصور آفاق

میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 308
باقی سب چیزیں تو رکھی ہیں اٹیچی کیس میں
میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں
زندگی کی دوڑ ہے اور دوڑنا ہے عمر بھر
شرط گھوڑا جیت سکتا ہی نہیں ہے ریس میں
رقص کرتی لڑکیاں میوزک میں تیزی اور شراب
نیکیاں ملتی ہیں مجھ سے کیوں بدی کے بھیس میں
میں برہنہ گھومتا تھا ہجر کی فٹ پاتھ پر
رات جاڑے کی اکیلی سو گئی تھی کھیس میں
کیوں بدلتا جا رہا ہے روح کا جغرافیہ
کون سرحد پار سے آیا بدن کے دیس میں
منصور آفاق

سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 307
سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں
سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں
تجھ ایسی نرم گرم کئی لڑکیوں کے ساتھ
میں نے شبِ فراق ڈبو دی شراب میں
آنکھیں ، خیال، خواب، جوانی، یقین، سانس
کیا کیا نکل رہا ہے کسی کے حساب میں
قیدی بنا لیا ہے کسی حور نے مجھے
یوں ہی میں پھر رہا تھا دیار ثواب میں
مایوس آسماں ابھی ہم سے نہیں ہوا
امید کا نزول ہے کھلتے گلاب میں
دیکھوں ورق ورق پہ خدوخال نور کے
سورج صفت رسول ہیں صبحِ کتاب میں
سیسہ بھری سماعتیں بے شک مگر بڑا
شورِ برہنگی ہے سکوتِ نقاب میں
منصور آفاق

کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 306
کون ٹینس کھیلتی جاتی تھی وجد و حال میں
کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں
جانے کس نے رات کا خاکہ اڑایا اس طرح
چاند کا پیوند ٹانکا اس کی کالی شال میں
ایک کوا پھڑ پھڑا کر جھاڑتا تھا اپنے پر
تھان لٹھے کے بچھے تھے دور تک چترال میں
لوگ مرتے جا رہے تھے ساحلوں کی آس پر
ناؤ آتی جا رہی تھی پانیوں کے جال میں
کوئی پتھر کوئی ٹہنی ہاتھ آتی ہی نہیں
گر رہا ہوں اپنے اندر کے کسی پاتال میں
جن گناہوں کی تمنا تنگ کرتی تھی مجھے
وہ بھی ہیں تحریر میرے نامہء اعمال میں
میں نے یہ منصور دیکھا اس سے مل لینے کے بعد
اپنی آنکھیں بچھ رہی تھیں اپنے استقبال میں
منصور آفاق

اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 305
گم تھے سرگم لاکھ اس کے چہرہ ء معصوم میں
اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں
رات کے بستر پہ خالی جسم اپنا پھینک کر
روح پھر رہنے چلی ہے ماضی ء مرحوم میں
ایک فوٹو پر اچانک پڑ گئی میری نظر
اور میں بہتا گیا پھر نغمۂ کلثوم میں
بن رہی ہیں ہر قدم پر رات کا اک دائرہ
اک تھکے سورج کی کرنیں قریۂ معدوم میں
چار بھیڑیں ایک بکری ایک گائے ایک میں
اور رکھوالی کو چرواہی شبِ مخدوم میں
جل پری آگے بڑھی شوقِ وصال انگیز سے
اور میں لوٹ آیا یکدم ساعتِ معلوم میں
دل دھڑکتا جا رہا ہے دیکھئے منصور کا
اک تھکی ہاری غزل کے پیکرِ منظوم میں
منصور آفاق

مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 304
گھلی تھی ایک ویراں چرچ کی گھمبیر تا رب میں
مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں
خدا جانے کہانی کار کتنا دلربا ہو گا
عجب رومان پرور لمس کی دھڑکن ہے مذہب میں
مجھے اکثر وہ ہجراں کی سیاہی میں دکھائی دی
سلگتے گھاؤ کی صورت ہے کوئی سینہء شب میں
خدا کے قید خانے سے کوئی باہر نہیں نکلا
اگرچہ ہے بلا کی قوتِ پرواز ہم سب میں
ازل کی شام سے آنکھیں کسی کی خوبصورت ہیں
رکا ہے وقت صدیوں سے کسی کے عارض و لب میں
منصور آفاق

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق

فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 302
مر گئے ہم، برت ورت کر لیں
فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں
خواب دفنا کے لوٹ آئے ہیں
اب دعا ہائے مغفرت کر لیں
دائرے میں برے شگون کے، ہم
کیسے معلوم اک جہت کر لیں
کس طرف دوستوں کی منزل ہے
کچھ ہوا سے مشاورت کر لیں
گر چکی ہے زمین پیچھے سے
کس طرح ہم مراجعت کر لیں
من و سلویٰ کی کیا تمنا میں
آسماں سے مفاہمت کر لیں
روگ بنتے ہوئے تعلق سے
یہی بہتر ہے معذرت کر لیں
کوچۂ یار کی مسافت میں
طے حدودِ مسافرت کر لیں
وصل میں اِس لباسِ اطلس کی
ہم ذرا سی مخالفت کر لیں
بے تحاشا کیا ہے خرچ اسے
اب تو دل کی ذرا بچت کر لیں
یہ بھی صورت ہے اک تعلق کی
ہجر سے ہی مطابقت کر لیں
ڈھنگ جینے کا سیکھ لیں ہم بھی
وقت سے کچھ مناسبت کر لیں
طور بھی فتح کر لیں جلوہ بھی
کچھ وسیع اور سلطنت کر لیں
اس نظر کے فریب سے نکلیں
دل سے بھی کچھ مخاصمت کر لیں
کب کہا ہے زبان بندی کا
کلکِ ناخوردہ صرف قط کر لیں
کاٹ دیں راستے، گرا دیں پل
رابطوں سے مفارقت کر لیں
پوچھ لیں کیا کریں مسائل کا
کچھ خدا سے مراسلت کر لیں
جا بسیں قیس کے محلے میں
اک ذرا اپنی تربیت کر لیں
ظلم کا ہے محاصرہ منصور
آخری اب مزاحمت کر لیں
منصور آفاق

کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 301
اداسی پیش کریں اضطراب پیش کریں
کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں
طلائی طشتِ جواہر کے بیچ میں رکھ کر
خیال گاہِ محبت میں خواب پیش کریں
بتائیں کیسے کہ کس کس جگہ مراسم تھے
گذشتہ عمر کا کیسے حساب پیش کریں
کسی طرح اسے اپنے قریب لے آئیں
ملازمت کا کہیں کوئی جاب پیش کریں
طوافِ کوچہ ء جاناں سے جو ملامنصور
چلو وہ شہر کو حج کا ثواب پیش کریں
منصور آفاق

جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 300
اب کوئی اورخدا کعبہ میں آباد کریں
جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں
اتنی بے رحم سلگتی ہوئی تنہائی میں
در کوئی ہے جہاں انصاف کی فریاد کریں
زندگی اور خدا دونوں بڑے تیزمزاج
کس کو ناشاد کریں اور کسے شاد کریں
شب کی تعمیر گرانا کوئی آساں تو نہیں
تھک نہ جائے کہیں آ وقت کی امداد کریں
ہے ازل ہی سے وفا اپنے قبیلے کی سرشت
کیا گلہ تجھ سے ترے خانماں برباد کریں
روک کر ہاتھ سے خورشید کی گردش منصور
وقت کی قید سے آفاق کو آزاد کریں
منصور آفاق

آسماں معتبر کیے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 299
ذہن میں جمع ڈر کیے جائیں
آسماں معتبر کیے جائیں
جتنے لمحے بھی ہو سکیں ممکن
روشنی میں بسر کیے جائیں
پھول جیسے قلم قیامت ہیں
وار ، تلوار پر کیے جائیں
موسم آنے پہ باغ میں روشن
قمقموں سے شجر کیے جائیں
آسمانوں کو جاننے کے لیے
اپنے پاتال سر کیے جائیں
حیف ! بدنامیاں محبت میں
چاک سب پوسٹر کیے جائیں
وقت کے سائیکل پہ ہم منصور
اک کنویں میں سفر کیے جائیں
منصور آفاق

نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 298
خاک پر آسماں ہوئے جائیں
نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں
دل نے خوشبو کشید کرلی ہے
ہم کہاں رائیگاں ہوئے جائیں
تتلیوں کے پروں پہ لکھے ہم
وقت کی داستاں ہوئے جائیں
گفتگو کی گلی میں ہم اپنی
خامشی سے عیاں ہوئے جائیں
مسجدِ دل کی خالی چوکھٹ پر
ہم عشاء کی اذاں ہوئے جائیں
اُس مکیں کی امید پر منصور
ہم سراپا مکاں ہوئے جائیں
منصور آفاق

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 297
تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لیے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں
خوبصورت بھی، اکیلی بھی، پڑوسن بھی ہے
لیکن اک غیر سے کیاملنے ملانے لگ جائیں
نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں
پل کی ریلنگ کو پکڑ رکھا ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں
منصور آفاق

اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 296
آنکھ بنو تم اور ہم منظر بن جائیں
اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں
ان پیروں سے کیسے گریزاں منزل ہو
جو آپ ہی رستہ آپ سفر بن جائیں
جن لوگوں کے بیج کجی سے نکلے ہوں
وہ کیسے سایہ دار شجر بن جائیں
گھل جائیں لہروں میں ایک سمندر کی
ریت پہ پھیلی دھوپ کی چادر بن جائیں
مار کے سورج کے سینے میں طنز کے تیر
خود نہ کہیں ہم ایک تمسخر بن جائیں
جنس کے بینر لٹکائیں بازاروں میں
اور فرائیڈ سے دانش ور بن جائیں
جو موجود نہیں تقویم کے اندر بھی
ان تاریخوں کا کیلنڈر بن جائیں
کچھ یاروں کی لاشیں گل سڑ جائیں گی
بہتر ہے منصور فریزر بن جائیں
منصور آفاق

شام کے شعلے بھی گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 295
شعر کچھ موت پر کہے جائیں
شام کے شعلے بھی گنے جائیں
اس سے، آٹو گراف بک پہ نہیں
دستخط ہاتھ پر لیے جائیں
رفتگاں کا خیال آتا ہے
روح سے رابطے کئے جائیں
ہم کوگوتم بھی زخم دیتا ہے
شاردا سے کہاں پرے جائیں
پانیوں کو زمیں پہ آنا ہے
جتنی اونچائی پر چلے جائیں
دو وجودوں کی ایک آہٹ سے
خواب کچھ ریت پر بنُے جائیں
بانسری کی سریں کہیں منصور
گیت دریا کے بھی سنے جائیں
منصور آفاق

اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 294
مرتے ہوئے سورج پر دو شعر کہے جائیں
اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں
گل کرتا ہوں اب شمعیں ا ے قافلے والومیں
جو چاہتے ہیں جانا ،وہ لوگ چلے جائیں
چل سندھ کے ساحل پرہر موجہ ء طوفاں میں
دریا کے مغنی سے کچھ گیت سنے جائیں
پھر پائے محمدﷺکے مصحف کی تلاوت ہو
پھر نقشِ کفِ پا کے الہام پڑھے جائیں
سو زخم اثاثہ ہوں اک پاؤں دھروں جب بھی
خنجر مرے رستے میں اس طرح چنے جائیں
ہم دار ستادوں سے منصور نہیں ممکن
جس سمت زمانہ ہو اس سمت بہے جائیں
منصور آفاق

کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 293
مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں
تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی
پہاڑ مجھ سے محبت کریں تو پھٹ جائیں
ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں
میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں
اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں
زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں
چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں
گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں
اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں
ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں
مرا تو مشورہ اتنا ہے صاحبانِ قلم
قصیدہ لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں
وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں
منصور آفاق

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 291
ایک جیسی روشنی ہو، لامکانوں میں دیے ہوں
سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں
قمقمے ہوں پانیوں میں جگمگائیں شاہراہیں
شہر ہوں تہذیب گاہیں ، گلستانوں میں دیے ہوں
فکرِ مال وزر بدل دے ،آگہی کے در بدل دے
یہ نظامِ شربدل دے،درس خانوں میں دیے ہوں
اب نہ غربت ہو کہیں بس،دے مساواتِ حسیں بس
روٹی کپڑا ہی نہیں بس،سب مکانوں میں دیے ہوں
ایک ازلوں کی کہاوت ،بھوک اور رج میں عداوت
ظلم طبقاتی تفاوت ،سب خزانوں میں دیے ہوں
سندھ دریا کی ہوں نظمیں اور روہی کی ہوں بزمیں
جگنوئوں کے حاشیے ہوں ، آسمانوں میں دیے ہوں
دے بسروچشم سب کو موت لیکن دیکھ اتنا
لوگ جیون میں جیے ہوں ،آشیانوں میں دیے ہوں
لفظ سچا ہی نہ ہو بس ،نام اچھا ہی نہ ہو بس
کام اچھے بھی کیے ہوں سب گمانوں میں دیے ہوں
رات تاروں کیلئے ہو چاند ساروں کے لیے ہو
نور کی منصور شب ہو داستانوں میں دیے ہوں
منصور آفاق

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق