زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

آپ کو یار پسند اور مجھے دار پسند

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند
آپ کو یار پسند اور مجھے دار پسند
جیت کر جانئے کیوں ، میں بھی ذرا خوش نہ ہوا
اور دنیا نے بھی میرے لئے کی ہار پسند
ڈال دے وہ بھی جو آنکھوں میں چھپا رکھی ہو
ایسی کنجوسیاں کرتے نہیں مے خوار پسند
ساتھ ہی لے گیا پرسش کی تمنا شاید
ہائے وہ سب سے جدا شاعرِ دشوار پسند
اُن کے آلاتِ صدا جو بھی کہیں خوب کہیں
وُہ بڑے لوگ ہیں کرتے نہیں انکار پسند
موت آسان تھی جینے سے مگر کیا کیجئے
آ گئی در کے بجائے مجھے دیوار پسند
آفتاب اقبال شمیم

ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
سزائے جذبہ و احساس کاٹتے رہئے
ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے
اِس اژدہامِ حریصاں کو ہے یہی مطلوب
کہ ایک دوسرے کا ماس کاٹتے رہئے
ہر ایک شکل ملے مثلِ نخل بے چہرہ
یہی کہ شہر میں بن باس کاٹتے رہئے
یہ کارِ زندگی ہے کارِ کوہکن سے کٹھن
بصارتوں سے یہ الماس کاٹتے رہئے
بہ فیضِ نکتہ وری موسم بہار میں بھی
خزاں کی چھوڑی ہوئی گھاس کاٹتے رہئے
اِس انتظار کی لا حاصلی پہ زور ہی کیا
پرائے وقت کو بے آس کاٹتے رہئے
آفتاب اقبال شمیم

اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اس سمت محلے گلیوں کے یہ لڑکے ہیں بیباک بہت
اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت
ان سڑکوں پر جب خون بہا اور جب شاخیں بے برگ ہوئیں
دیکھا کہ پرانے قصّہ گو، کی آنکھیں تھیں نمناک بہت
آزاد ہے اُس کے قبضے سے تا حال علاقہ جذبوں کا
ویسے تو جہاں پر بیٹھی ہے اُس زور آور کی دھاک بہت
وُہ اوّل اوّل دیوانہ، تھا آخر آخر فرزانہ
اے دنیا! تیرا کیا کہنا، تو نکلی ہے چالاک بہت
کوتاہ نظر کا رشتہ ہے اور نوک ہنر بھی تیز نہیں
کچھ وقفۂ ہستی تھوڑا ہے اور سینے کو ہیں چاک بہت
دائم ناداری پیسوں کی اور یاری اپنے جیبوں کی
آئے ہیں ہمارے حصے میں اسباب بہت، اِملاک بہت
اکثر یہ شکایت کی ہم سے، اس شہر کے خوش پوشاکوں نے
وُہ جنم جنم کا آوارہ رستے میں اُڑانے خاک بہت
آفتاب اقبال شمیم

یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اگر ہر شہر اپنی ذات میں بغداد ہو جائے
یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے
وہ ریگستاں جسے مورخ بھی قاصر تھے جلانے سے
کہاں ممکن ہے تیری آگ سے برباد ہو جائے
کرشمہ دیکھئے اُس کی خبر سازی کی صنعت کا
ستم احسان بن جائے، کرم بے داد ہو جائے
کہاں تک تجربہ پر تجربہ کرتے چلے جائیں
سبق وُہ دو، ہمیشہ کے لئے جو یاد ہو جائے
اگر تقدیر سے اک خواب بھی سچا نکل آئے
تو اِس دورانِ غم کی مختصر میعاد ہو جائے
ابھی اِس شہر میں سچ بولنے کی رُت نہیں آئی
تو اِس پت جھڑ میں کوئی شعر ہی ارشاد ہو جائے
آفتاب اقبال شمیم

یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
نظر کے شہ نشیں سے اُٹھ کے جب وُہ مہرباں گیا
یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا
بس ایک عکس دور ہی ملا سڑک کے موڑ پر
جو موتیے کے ہار بیچتا تھا وہ کہاں گیا
ہوا کا خوش نورد اپنے ساتھ گرد لے اُڑا
چلا تو تھا سبک سبک مگر گراں گراں گیا
ملا نہ اسمِ آخریں ، درِ شفا نہ وا ہوا
اگرچہ دور دور تک یقیں گیا، گماں گیا
وہی نظر کے فاصلے وہی دلوں کی دُوریاں
ملا نہ کوئی آشنا وہ اجنبی جہاں گیا
مگر یہ کیا ضرور ہے کہ پھر سے تجربہ کریں
وُہ ایک کارِ رائیگاں تھا اور رائیگاں گیا
یہ نغمۂ مراد ہے، رُکے تو پھر سے چھیڑ دے
رہے گا اپنے پاس کیا جو ذکرِ دوستاں گیا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
بیٹھا ہوں ہونٹوں کے نیچے اوک رکھے
کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے
ایک ابد تک یونہی چلتے رہنا ہے
پاؤں کے اندر کانٹے کی نوک رکھے
کھو دینے اور پا لینے کے دھندے میں
یہ دنیا تو بندے کو ڈرپوک رکھے
دیکھا دیکھی فیصلہ کرنے والے کو
نا آسودہ رستے کا ہر چوک رکھے
ایک شعورِ غم دینے کے بدلے میں
کوئی ہم پر ظلم روا بے ٹوک رکھے
سطح ہوا پر سانس کی چند لکیروں سے
نقش بنانے کا کوئی کیا شوق رکھے
آفتاب اقبال شمیم

اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا
کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا
جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا
خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے
ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا
تھا عشق کا حوالہ نیا، ہم نے اس لئے
مضمونِ دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا
یوں بھی پناہ سایہ کڑی دھوپ میں ملی
آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا
آیا نیا شعور نئی اُلجھنوں کے ساتھ
سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا
بس کہ امامِ عصر کا فرمان تھا یہی
منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا
آفتاب اقبال شمیم

نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا
نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا
کچھ روشنیِٔ طبع ضروری ہے وگرنہ
ہاتھوں میں اُتر آتا ہے یہ سر کا اندھیرا
وُہ حکم کہ ہے عقل و عقیدہ پہ مقدّم
چھٹنے ہی نہیں دیتا مقدر کا اندھیرا
کیا کیا نہ ابوالہول تراشے گئے اس سے
جیسے یہ اندھیرا بھی ہو پتھر کا اندھیرا
دیتی ہے یہی وقت کی توریت گواہی
زر کا جو اجالا ہے وُہ ہے زر کا اندھیرا
ہر آنکھ لگی ہے اُفق دار کی جانب
سورج سے کرن مانگتا ہے ڈر کا اندھیرا
آفتاب اقبال شمیم

خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
میں کیا ہوں کیا نہیں ، یہی جھگڑا پڑا رہا
خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا
کرتا بھی کیا کہ آتشِ دل تیز تھی بہت
تا عمر اپنی جان میں پگھلا ہوا رہا
ہر بار خود سے ڈر گیا آئینہ دیکھ کر
میں اپنے آپ میں بھی کوئی دوسرا رہا
اِس گھر سے لمحہ وار نکالا گیا مجھے
یک طرفہ مجھ پہ ہست کا دروازہ وا رہا
شاید کہ زندگی کوئی تمثیل گاہ تھی
ورنہ میں کیوں خود اپنا تماشا بنا رہا
جس کی زباں تھی جس کے اشاروں سے مختلف
میں اُس کے در پہ اپنا پتا پوچھتا رہا
آفتاب اقبال شمیم

مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤنا
مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا
کھُلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا
حجابِ ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا
ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے
کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا
جو چاہو تو زمانے کا زمانہ واژگوں کر دو
مگر پہلے حدودِ جاں میں ہنگامہ اٹھاؤ نا
سبک دوشِ زیاں کر دیں زیاں اندیشاں دل کی
ذرا اسبابِ دنیا راہِ دنیا میں لٹاؤ نا
لئے جاتے ہیں لمحے ریزہ ریزہ کر کے آنکھوں کو
نہایت دیر سے میں منتظر بیٹھا ہوں ، آؤ نا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
اُس حسن نے آنکھ کے امبر پر، جو نقش ابھارا ایسا تھا
کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا
پھر تیز ہوا نے پاؤں میں ، ڈالی زنجیر بگولے کی
سو ہم نے گریباں چاک کیا، موسم کا اشارہ ایسا تھا
تھی تو افراط شرابوں کی، لیکن ہم پیاسے کیا کرتے
جو جام چکھا سو توڑ دیا، معیار ہمارا ایسا تھا
ناداری دائز ناداری مارث ہماری نسلوں کی
مر کے بھی نہ جو بے باق ہوا، جینے کا خسارا ایسا تھا
قاتل کو بھی کچھ دقّت نہ ہوئی، مرنا بھی ہمیں آسان لگا
سر فخر سے اونچا رکھنے کا انداز گوارا ایسا تھا
آفتاب اقبال شمیم

قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
زخم کھائے ہوئے پانی کا تماشا دیکھیں
قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں
گاہے پستی کا مکیں ، گاہے بلندی پہ رواں
وقت کی نقل مکانی کا تماشا دیکھیں
جانتے ہیں کہ بنے واقعہ، قصّہ کیسے
ہم کہانی میں کہانی کا تماشا دیکھیں
اتنی خلقت میں مگر آدمی ناپید ملے
جنسِ ارزاں کی گرانی کا تماشا دیکھیں
دن میں سورج کبھی دو بار نکل آئے تو
ہم بھی دوبارہ جوانی کا تماشا دیکھیں
دیمکیں چاٹ چکی ہوں گی صلیبیں کتنی
ہم کہاں کس کی نشانی کا تماشا دیکھیں
پیرہن لمس میں ہوں جیسے بھرے بدنوں کے
لفظ اندر سے معانی کا تماشا دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا
پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا
میاں ، اس اشتہاروں کی دکاں میں جو نہیں وہ ہے
یہ آنکھیں ہار جائیں گی، تماشا جیت جائے گا
برابر ہی چھڑا دے گی بالآخر مصلحت ہم کو
میں تجھ کو آزماؤں گا تو مجھ کو آزمائے گا
مگر رکھنی ہے اپنے حوصلے کی آبرو تو نے
مجھے معلوم ہے تو زخم کھا کر مسکرائے گا
زرِ گم نام کو پھر ڈھونڈھ کر آثارِ فردا میں
زمانہ دیر تک میرے لئے آنسو بہائے گا
آفتاب اقبال شمیم

نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
سپردگی میں نکل گیا وہ زمیں سے آگے
نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے
رواں سمندر کا چلتا ساحل ہے آدمی بھی
اُسی کی زد میں کہیں سے پیچھے کہیں سے آگے
ضرور ہم بھی مسائل دل پہ غور کرتے
نکلنے پاتے کبھی جو نانِ جویں سے آگے
ابھی تو نو مشقِ جستجو ہوں ، ابھی سفر میں
ہے اور کچھ بھی حدودِ عقل و یقیں سے آگے
سفر کا خاکہ لگے کہ پَرکار سے بنا ہے
وہی ذرا سی نمود ہاں کی، نہیں سے آگے
پلٹ گیا خوش مشام طائر، سراغ پا کر
کہ بوئے سازش اڑی تھی جائے کمیں سے آگے
آفتاب اقبال شمیم

شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
میں جسے ملنے یہاں آیا وہ رخصت ہو چکا
شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا
اب درِ آئندگاں پہ جا کے دستک دیجئے
یارِ خواب افروز اب کا بے مروّت ہو چکا
اُن سے کہنا خامۂ امکاں سے پھر لکھیں اُسے
وُہ سنہرا لفظ جو حرفِ عبارت ہو چکا
کل وہ پھر جائیں گے جاں دینے فرازِ دار پر
اور ایسا دیکھنا برسوں کی عادت ہو چکا
اب بیاض شوق کا اگلا ورق اُلٹائیے
آج کا منظر تو خونِ دل سے لت پت ہو چکا
میں کھنڈر سا رہ گیا اے رفتگاں ! اے رفتگاں !
اپنے ہی لشکر کے ہاتھوں شہر غارت ہو چکا
آفتاب اقبال شمیم

بے نیازیاں اُسکی، ہو کے آبدیدہ لکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
بات ایک جیسی ہے، ہجو یا قصیدہ لکھ
بے نیازیاں اُسکی، ہو کے آبدیدہ لکھ
جمع کر یہ آوازیں میری خود کلامی کی
اور ان کی املا سے درد کا جریدہ لکھ
ذہن کی ہدایت ہے، کاتب زمانہ کو
عقل کی دلیلوں سے آج کا عقیدہ لکھ
رنگ و روشنائی کی حدِّ اوج سے اوپر
ہو سکے تو اندازاً قامتِ کشیدہ لکھ
دیکھ اِن خلاؤں میں نقطہ ہائے نور اُس کے
تو بھی ایک خالق ہے شعر چیدہ چیدہ لکھ
آفتاب اقبال شمیم

صحیح ہوا ہے نہ ہو گا بگاڑ عمروں کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 15
یہی کہ سہم اٹھاؤ اجاڑ عمروں کا
صحیح ہوا ہے نہ ہو گا بگاڑ عمروں کا
تجھے پتہ تو چلے اصل واقعہ کیا ہے
غبار چہرۂ ہستی سے جھاڑ عمروں کا
پڑی ہیں بیڑیاں پاؤں میں اپنے ہونے کی
رواں ہوں پشت پہ لا دے پہاڑ عمروں کا
سفر بھی ہونے نہ ہونے کا اک تسلسل ہے
یہاں لگا، وہاں خیمہ اکھاڑ عمروں کا
یہاں سے دیکھ تماشا ہجوم رفتہ کا
بدن سے جامۂ نازیب پھاڑ عمروں کا
نہ ہو یہ وقت پیامِ بقا کے آنے کا!
لہذا کھول کے رکھو کواڑ عمروں کا
آفتاب اقبال شمیم

منسوب ہے مجھی سے مقدر زمین کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 15
ہوں دیکھنے میں عام سا مظہر زمین کا
منسوب ہے مجھی سے مقدر زمین کا
زنجیر سی پڑی ہے دلو ں کے کواڑ پر
یہ سرحدیں ہٹا کر کھلے در زمین کا
بدلے لہو کے رنگ سے، وہ بھی ذرا سی دیر
رہتا ہے ورنہ ایک سا منظر زمین کا
مجھ کو مرے شعور کی برکت سے مل گیا
اس شہرَ کائنات میں یہ گھر زمین کا
سو جائیں فکرِ شعر میں بے فکریوں کے ساتھ
چادر ہو آسمان کی بستر زمین کا
جیتا ہوں خود کو بیچ کے بازارِ نثر میں
میں رہنے والا شاعری کی سرزمین کا
آفتاب اقبال شمیم

کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
پھر کیوں اُداس کر گیا مثردہ وصال کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
تھم ہی نہ جائے کثرت اشیا کے بوجھ سے
کیا وقت آ پڑا ہے زمیں پر زوال کا
مٹ جائے دل سے حسرتِ اظہار کی خلش
اک روز ایک شعر کہو اس کمال کا
رہتا ہوں ملکِ غم کی عروس البلاد میں
افسوس ہی ثمر ہے جہاں کی سفال کا
کچھ لت ہی پڑ گئی ہے پرانی شراب کی
جیتا ہوں کل میں گرچہ زمانہ ہے حال کا
شاید کہ حسن وقت سے باہر کی چیز ہے
دیکھا اُسے تو فرق مٹا ماہ و سال کا
ہے میرے دم سے غیب کا حاضر سے رابطہ
ڈھونڈو نا! کوئی آدمی میری مثال کا
آفتاب اقبال شمیم

کرتا ہوں زندگی ولے نا چاریوں کے ساتھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
کچھ مصلحت بھی جوڑ کے خود داریوں کے ساتھ
کرتا ہوں زندگی ولے نا چاریوں کے ساتھ
خوشحال ہو گئے ہیں مگر خود کو بیچ کر
آسانیاں بھی جھیلئے دشواریوں کے ساتھ
لگتی نہیں تھیں ایڑیاں جس کی زمین پر
بیٹھا ہوا ہے فرش کی ہمواریوں کے ساتھ
سونے دیا نہ جاگنے والے کے خبط نے
یہ رات بھی کٹی بڑی بیزاریوں کے ساتھ
تنہائیوں کا کنج معطر ہے اس لئے
چلتی ہے میری سانس مری یاریوں کے ساتھ
دورِ بعید شاہ پرستی کا فرد ہوں
پھر کیا ہو واسطہ مرا درباریوں کے ساتھ
آفتاب اقبال شمیم

دل کہیں پر اور کہیں پر ذہن تھا بھٹکا ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 13
راہ کی بے سمتیوں کا ہر گھڑی کھٹکا ہوا
دل کہیں پر اور کہیں پر ذہن تھا بھٹکا ہوا
چاندنی جیسی کوئی شے پی کے نکلیں سیر کو
جب ستاروں سے ہو باغِ آسماں چٹکا ہوا
چشم و لب پر مُسکراتی رغبتیں تسخیر کی
اور گردن میں سنہرا سا فسوں لٹکا ہوا
رہ گیا آنکھوں میں وُہ نقشِ تمام و ناتمام
طرۂ کا کُل رُخِ دیوار پر جھٹکا ہوا
ٹوٹ کر جینے کی حسرت میں جیا ہوں اس طرح
جیسے بچّے کی زباں پر لفظ ہو اٹکا ہوا
آنکھ میں سپنا ترا اُترا تو اس سے پیشتر
کچھ گماں سا کاسنی رنگوں کی آہٹ کا ہوا
آفتاب اقبال شمیم

پیو، کہ اور زیادہ ہو روشنی روشن

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 13
کرے ہے آنکھ کے گوشوں کی تیرگی روشن
پیو، کہ اور زیادہ ہو روشنی روشن
تمام صحن شبِ یاد جگمگا اُٹھا
ہوئی جو آنکھ میں اشکوں کی پھلجھڑی روشن
تو کیا چراغ ہوں میں طاقِ روزمرہ کا
کبھی بجھا ہوا ہوتا ہوں اور کبھی روشن
سرور دینے لگا ہے مجھے اندھیرا بھی
لگے کہ اُس کے بدن میں ہے چاندنی روشن
مٹے نہ فرقِ سفید و سیاہ سورج سے
مٹے لہو سے، کرے جس کو آدمی روشن
جما ہے تن کے رہِ برف و باد میں کیسے
رکھو، مثالِ شجر جان کی نمی روشن
آفتاب اقبال شمیم

بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 12
رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا
بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا
مطلعِٔ بے انوار سے پھوٹا شوخ تبسم کرنوں کا
رات کے گھر میں سورج جیسا جیسا جب فرزند ہوا
سادہ، بے آمیزش جذبۂ پیر فقیر کرامت کا
جس کے اسم سے مایوسی کا زہر بھی قند ہوا
اول اول شور اُٹھا سینے میں عام تمنا کا
بند فصیلوں کے انبد میں جو دو چند ہوا
دکھ کو سمت شناسائی دی غم کے قربت داروں نے
دل دھارا، دریا مل کر بہرہ مند ہوا
چلئے! اپنے آپ سے چمٹے رہنا تو موقوف کیا
جب سے روز کے سمجھوتوں کا وہ پابند ہوا
آفتاب اقبال شمیم

بس توجہ زیاد مانگتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 12
نے ستائش نہ داد مانگتا ہوں
بس توجہ زیاد مانگتا ہوں
کتنا سادہ ہوں پیرِ دنیا سے
طفل کا اعتماد مانتا ہوں
حرف ڈھونڈوں الف سے پہلے کا
فکر و فن طبع زاد مانگتا ہوں
پیکرِ خاک ہوں نمو کے لئے
آتش و آب و باد مانگتا ہوں
اتنی آگیں کہ رات، دن سی لگے
دل میں ایسا فساد مانگتا ہوں
سنگ کر دے نہ دیدِ گم شدگاں !
اپنے نسیاں سے یاد مانگتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

کہا جو اُس نے وہی شہر کا اصول ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 11
دلوں پہ شوق اطاعت کا وہ نزول ہوا
کہا جو اُس نے وہی شہر کا اصول ہوا
فنا کے بعد پیامِ بقا بھی لایا ہے
یہ پھول کل جو اسی راستے کی دھول ہوا
گرفتِ فیصلہ میں آ کے کیا سے کیا ہو جائے
ابھی وہ مثلِ شرر تھا، ابھی وہ پھول ہوا
میں اس کی راکھ کے صدقے، اُڑا دیا جس نے
وجود،جس کے لئے جبر نا قبول ہوا
میں عمر کے نہیں کونین کے سفر میں ہوں
کسی زیاں سے کبھی میں نہیں ملول ہوا
آفتاب اقبال شمیم

اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 11
پلا کے مست کرو، مست کر کے ڈھیر کرو
اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو
کمال کار سیاست اسی کو کہتے ہیں
خبر وہی رہے لفظوں کا ہیر پھیر کرو
جریدۂ فنِ شہزادگی میں لکھا ہے
کہ اسپِچوب سے تیغ و سناں کو زیر کرو
جنم جنم سے میں آ آ کے ہار ہار گیا
پتہ نہیں کہ تم آنے میں کتنی دیر کرو
تمہارا جبر وہی اور اپنا صبر وہی
سہار لیں گے، بڑے شوق سے اندھیر کرو
یہ خلق یورشِ زر سے نہ ہار جائے کہیں
اسے بصیرتیں بخشو، اسے دلیر کرو
آفتاب اقبال شمیم

چاہا تو گھٹا لینا چاہا تو بڑھا لینا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 10
سادہ سی حقیقت کو افسانہ بنا لینا
چاہا تو گھٹا لینا چاہا تو بڑھا لینا
ہو اوجِ مکاں جس جا معیار بلندی کا
ہم خاک نشینوں کو اُس شہر سے کیا لینا
کیوں تاکتے رہتے ہو رستے میں حسینوں کو
اس شغل میں تم اپنی آنکھیں نہ گنوا لینا
کچھ سہل نہیں ایسا، اِس دار کے موسم میں
سر تان کے چلنے کا اقرار نبھا لینا
یہ یاریاں ، یہ رشتے مضبوط بس اتنے ہیں
پرسوں کی عمارت کو اک آن میں ڈھا لینا
موجود ہیں کھونے میں گنجائشیں پانے کی
یعنی ہو زیاں جتنا اُتنا ہی مزا لینا
آفتاب اقبال شمیم

آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 10
ہوں انا الصحرا کبھی پوچھو مجھے کیا چاہئے
آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہئے
اتنا سنجیدہ نہ ہو، سب مسخرے لگنے لگیں
زندگی کو نیم عریانی میں دیکھا چاہئے
جانتا ہوں کیوں یہ آسانی مجھے مشکل لگے
طے نہ کر پاؤں کہ کس قیمت پہ دنیا چاہئے
یہ رہا سامانِ دنیا، یہ رہے اسباب جاں
کوئی بتلاؤ مجھے ان کے عوض کیا چاہئے
کچھ نہیں تو اُس کے تسکینِ تغافل کے لئے
ایک دن اُس یارِ بے پروا سے ملنا چاہئے
یا زیاں کو سود سمجھو یا کہو سر پیٹ کر
سوچ کو حدِ مروج ہی میں رہنا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم

میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 9
تم دن کے وقت شام کا منظر نہ دیکھنا
میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا
پھر روشنی ہی بعد میں پھیکی دکھائی دے
چہرہ کسی کا ایسا منور نہ دیکھنا
میدانِ تشنگی کی یہ آنکھیں امام ہیں
ہے دیکھنے سے واقعی بہتر نہ دیکھنا
ڈر جاؤ گے خلائے بے معنی کے خوف سے
باہر سے جھانک کر کبھی اندر نہ دیکھنا
اپنی ہی دُھن میں ٹھوکریں کھاتے چلے گئے
تھا وصفِ خاص راہ کا پتھر نہ دیکھنا
آیا کوئی سفیرِ محبت چلا گیا
اب مدتوں ہم ایسا سخن ور نہ دیکھنا
آفتاب اقبال شمیم

کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 9
بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی
کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی
رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا
کل وُہ طائر اُڑ گیا پنجرے میں چُوری رہ گئی
تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں
شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی
کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے
اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟
بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے
حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری رہ گئی
کس قرینے سے چھپا یا بھید لیکن کُھل گیا
غالباً کوئی اشارت لاشعوری رہ گئی
آفتاب اقبال شمیم

قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
گھر کے آتا ہے نظر بے سرو ساماں اپنا
قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا
نقش پا چھوڑ کے جانے کا کریں وہم، مگر
کہیں لگتا ہی نہیں پائے گریزاں اپنا
کاہے کے ڈھیر سے ہو سکتی ہے شعلے کی نمود
یعنی پستی میں بلندی کا ہے امکاں اپنا
رسمِ دیوانگی اس بار بدل دی جائے
موسمِ حبس میں کر چاک گریباں اپنا
قریۂ شور میں تنہائیاں تاحدِّ اُفق
شہر میں ساتھ رکھا ہم نے بیاباں اپنا
تابِ یک شعر سے ہے بزمِ تمنا کو فروغ
ہم نے بجھنے نہ دیا اشکِ فروزاں اپنا
آفتاب اقبال شمیم

اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو
اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو
وُہ کہ ناخواندۂ جذبہ ہے نہیں پڑھ سکتا
اپنی تحریر کو تم جتنا بھی سادہ کر لو
ایسا سجدہ کہ زمیں تنگ نظر آنے لگے
یہ جبیں اور، ذرا اور کشادہ کر لو
امتحاں کمرۂ دنیا میں اگر دنیا ہے
روز گردان کے فعلوں کا اعادہ کر لو
پھر بتائیں گے تمہیں چشمۂ حیواں ہے کہاں
گھر سے دفتر کا ذرا ختم یہ جادہ کر لو
ٹالنے کی تمہیں ٹل جانے کی عادت ہے ہمیں
پھر سہی، اگلی ملاقات کا وعدہ کر لو
آفتاب اقبال شمیم

دیا ہم نے نہ دنیا کو، کچھ ایسا تھا دماغ اپنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 7
کیا خود کو خجل گمنامیوں میں اور سراغ اپنا
دیا ہم نے نہ دنیا کو، کچھ ایسا تھا دماغ اپنا
کوئی آتا نہیں مے خانۂ منظر میں ، تنہا ہی
یہ چشمِ منتظرِ جھلکائے رکھتی ہے ایاغ اپنا
شجر ان کی منڈیریں اور گل ہیں طاقچے ان کے
رُتیں رکھتی ہیں روشن آندھیوں میں بھی چراغ اپنا
ملی وہ بے نیازی فکرِ پیش و بعد سے ہم کو
محاطِ وقت سے باہر پڑے پائے فراغ اپنا
زمیں دریاؤں کی ہو اور بہار افزا نہ ہو کیسے
سدا شاداب رہتا ہے گُل وعدہ سے باغ اپنا
آفتاب اقبال شمیم

آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 7
بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم
آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم
لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی
تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم
یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اُڑائیے
سر پر اُنڈیلئے، یہ بچا ہے جو جامِ غم
آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں
اُس کے بجائے بھیجئے نامہ بہ نامِ غم
مفرورِ معتبر ہیں ، ملیں گے یہیں کہیں
اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم
سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا
اب تو ہی رہ گیا ہے برائے طعامِ غم
آفتاب اقبال شمیم

اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 6
جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا
اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں
وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا
کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو
میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا
آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر
ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا
اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے
شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا
موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں
اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا
آفتاب اقبال شمیم

ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 6
پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر
ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر
برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں
لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر
اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے
گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر
موجود بھی کہیں نہ کہیں التوا میں ہے
جو ہے نشان پر وہ نہیں ہے نشان پر
اس میں کمال اس کی خبر سازیوں کا ہے
کھاتا ہوں میں فریب جو سچ کے گمان پر
سرکش کو نصف عمر کا ہو لینے دیجئے
بک جائے کا کسی نہ کسی کی دکان پر
آفتاب اقبال شمیم

عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 5
وقت کے موجود سے باہر نکلنے کی سزا
عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا
جزیۂ انکار دینا تو پڑے گا دہر کو
رات دن اب کاٹیے کمرے میں چلنے کی سزا
تم اسے چاہو نہ چاہو، واقعہ ایسا ہی ہے
جو ابھرتا ہے اُسے ملتی ہے ڈھلنے کی سزا
غم زیادہ پی لیا، اب مستقل پیتے رہو
سخت تر ہے اس کے نشے میں سنبھلنے کی سزا
میں نے بھی پائی ہے اپنی ضد میں سورج کی طرح
ایک عالم گیر تنہائی میں جلنے کی سزا
تم زیاں اندیش تو ہو لو، ملے گی پھر تمہیں
شہرِ اشیا کے کھلونوں سے بہلنے کی سزا
آفتاب اقبال شمیم

ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 5
الف اکائی کے رشتے سے کٹی ہوئی
ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی
پاؤں میں گھمسان برستے پانی کا
سر پر چھتری جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی
ایک تماشا عالم گیر خسارے کا
ہر پل دیکھوں جیون پونجی گھٹی ہوئی
کل کی کالک دھو کر آج کی تختی پر
لکھتے رہئے ایک ہی املا رٹی ہوئی
نشّے میں ہے اور طرح کی یکسانی
روز کی یکسانی سے قدرے ہٹی ہوئی
آفتاب اقبال شمیم

اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا
یہی کہ اُس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا
میں ڈوب کر بھی کسی دَور میں نہیں ڈوبا
رہا ہے مطلعِٔ اِمکان میں ظہور مرا
اِسے اب عہدِ الم کی عنایتیں کہئے
کہ ظلمتوں میں اُجاگر ہوا ہے نور مرا
میں اِس لحاظ سے بے نام، نام آور ہوں
کہ میرے بعد ہوا ذکر دُور دُور مرا
آفتاب اقبال شمیم

وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے
وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے
ہے اُسی کے بھید سے حاضر میں غائب کی نمود
دُور کو ہر حال میں نزدیک رکھنا چاہئے
در پئے آزار ہے سنجیدگی کا پیشہ ور
پاس اپنے دشنۂ تضحیک رکھنا چاہئے
پردۂ حیرت میں رہنا اُس کا منشا ہی سہی
پر اُسے پردہ ذرا باریک رکھنا چاہئے
خود بخود آ جائے گا کعبہ جبیں کی سیدھ میں
بس ذرا اندر کا قبلہ ٹھیک رکھنا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم

تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا
تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
تجھے اے گوشہ گیرِ ذات! جو تجھ سے رہائی دے
کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا
ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بُلانے پر
تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا
سلگتے جسم سے شاید پرِ شعلہ نکل آئے
ہوا کے راستے میں تو ٹھکانہ کیوں نہیں کرتا
رہیں گے کب تلک ہونے نہ ہونے کے تذبذب میں
ہمارا فیصلہ وُہ منصفانہ کیوں نہیں کرتا
نظر آتا ہے لیکن دیکھنے میں ہے زیاں اپنا
تو ایسے میں تغافل کا بہانہ کیوں نہیں کرتا
آفتاب اقبال شمیم

جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
وُہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو
یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے
جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا
شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے
یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا
چشمِ آئینہ ِٔ تشہیر سے باہر ہی رہے
وُہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود!
جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے
المیے میرے زمانے کے مجھے سہنے پڑے
چشمِ غالب سے، دلِ میر سے باہر ہی رہے
آفتاب اقبال شمیم

فرد فرد

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 2
آ یہیں ، عمر پسِ عمر گزاری جائے
جان سو بار اسی خاک پہ واری جائے
یہ جاہِ دنیا کروں گا کیا میں
تمہی سنبھالو اسے، چلا میں
انا کے اندر بھی اک انا ہے
وگرنہ کیوں خود سے ہوں خفا میں
تنہائی میں اک لمحے کو ٹھہرا کے امر کر لیتا ہوں
اور اپنے لہو کے رستے پر صدیوں کا سفر کر لیتا ہوں
احساس کی دو دنیاؤں میں جو دوری ہے، مجبوری ہے
تو جس پہ تبسم کرتا ہے میں آنکھیں تر کر لیتا ہوں
تو کیا ضرور ہے دل پر اثر لیا جائے
یہی طریقۂ دنیا ہے، کیا کیا جائے
پھر کیوں نہ دوسروں سے ہمیں اجتناب ہو
جب اپنے آپ سے ہی تعلق خراب ہو
ضبط کے گونگے سناٹے میں کوئی رہائی کب دے گا
وہ آنسو جو روک رکھا ہے اُس کو دہائی کب دے گا
کون تھا جو دور بھی رہ کر تمہارے اس تھا
وصل زار خواب میں شب بھر تمہارے پاس تھا
تم سے اے دنیا! یہ رشتہ تو ہمیشہ یہی رہا
سر ہمارے پاس تھا پتھر تمہارے پاس تھا
خدا تھا، کیا تھا مجھے بے شعور کر دیتا
تھکاوٹیں مرے جینے کی دور کر دیتا
کوئی مفاہمت بھی اُصولی نہ کر سکا
میں اپنے دل کی حکم عدولی نہ کر سکا
اک فاصلہ رہا مرا غم ناشناس سے
میں دادِ ناروا کی وصولی نہ کر سکا
آفتاب اقبال شمیم

لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 2
مثالِ سیلِ بلا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے
لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے
کہیں کہیں دھوپ چھپ چھپا کر اُتر ہی آئی
دبیز بادل ہوئے اکہرے، ہوا نہ ٹھہرے
ورق جب اُلٹے، کتابِ موسم دکھائے کیا کیا
گلاب عارض، بدن سنہرے، ہوا نہ ٹھہرے
وہ سانس اُمدی کہ وہ حسوں نے غضب میں آ کر
گرا دئیے جس کے کٹہرے، ہوا نہ ٹھہرے
کبھی بدن کے روئیں روئیں میں حواس ابھریں
کبھی کرے گوشِ ہوش بہرے، ہوا نہ ٹھہرے
اسی کی رفتارِ پا سے ابھریں نقوش رنگیں
کہیں پہ ہلکے، کہیں پہ گہرے، ہوا نہ ٹھہرے
صدائے ہر سُو کے گنبد ہیں گونجتی ہے
ہوا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے
آفتاب اقبال شمیم

دن میں سپنے دیکھنا، آنکھوں کا معمول

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 1
اک کیفیت پیاس کی، دائم ہمیں قبول
دن میں سپنے دیکھنا، آنکھوں کا معمول
ایک پیالہ دھوپ کا، پی کر ہوئے نہال
سائیں ترے بام سے، اُترا کون ملول
منظر میری آنکھ کا، تیری شام کا رنگ
سرخ شفق کی جھیل میں ، زرد کنول کا پھول
دیکھا تیرے بھیس میں اپنا پہلا رُوپ
آئی دل کے بھید میں ، صدیاں گہری بھول
دستک ہے پیغام کی، کھولو ہند کواڑ
اُڑتے دیکھو دور تک، روشنیوں کی دھول
دیکھو تو اُس شخص کے، ہونے کے انداز
جیسے دکھ کی دھوپ میں ، پیلا سبز ببول
آفتاب اقبال شمیم

غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 1
زمیں کی کشت میں بو، آندھیوں میں پال مجھے
غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے
میں اپنے ظرف میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا
چھلک رہا ہوں ، ذرا دے میرے مثال مجھے
جلا چراغ تو شب سائیں سائیں کرنے لگی
ذرا سی موجِ طرب کر گئی نڈھال مجھے
میں اپنی اصل کو دیکھوں تری نگاہوں سے
مرے وجود سے باہر ذرا نکال مجھے
میں پیش وقت ہوں مجرم ہوں اِس زمانے کا
نئی سیاستیں شاید کریں بحال مجھے
کسی کے ہارے ہوئے عزم کی ضمانت ہوں
بنا رکھا ہے زمانے نے یرغمال مجھے
میں اپنی ذات میں ہوں سرحدوں کا باشندہ
منافقت نے سکھایا ہے اعتدال مجھے
آفتاب اقبال شمیم

ایک نغمہ ۔ پنجابی میں

"وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار”

روزی دیوے گا سائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار

ہیر نوں چھَڈ ٹر گیوں رنجھیٹے

کھیڑیاں دے گھر پاے گئے ہاسے

کانگ اڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

پِنڈ وچ کڈی ٹوہر شریکاں

یاراں دے ڈھے پئے منڈاسے

ویراں دیاں ٹُٹ گئیاں بائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

روزی دیوے گا سائیں

کانگ اُڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

خیر مناون سنگی ساتھی

چرخے اولے روون مٹیاراں

ہاڑاں دردیاں سُنجیاں رائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں

چھڈ غیراں دے محل چو محلے

اپنے ویہڑے دی رِیس نہ کائی

اپنی جھوک دیاں ستّے خیراں

بیبا تُس نے قدر نہ پائی

موڑ مہاراں

تے آ گھر باراں

مُڑ آ کے مول نہ جائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

فیض احمد فیض

ایک ترانہ ۔ پنجابی میں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

بھولیا! تُوں جگ دا ان داتا

تیری باندی دھرتی ماتا

توں جگ دا پالن ہار

تے مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

جرنل، کرنل، صوبیدار

ڈپٹی، ڈی سی، تھانیدار

سارے تیرا دتّا کھاون

توں جے نہ بیجیں، توں جے نہ گاہویں

بھُکھّے، بھانے سب مر جاون

ایہہ چاکر توں سرکار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

وچ کچہری، چونکی تھانے

کیہہ اَن بھول تے کیہہ سیانے

کیہہ اشراف تے کیہہ نمانے

سارے کھجّل خوار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

ایکا کر لئو، ہو جاؤ کٹھّے

بھُل جاؤ رانگڑ، چیمے چٹھے

سبھے دا اِک پریوار

مردا کیوں جائیں

جے چڑھ آون فوجاں والے

توں وی چھَویاں لمب کرا لے

تیرا حق، تری تلوار

تے مردا کیوں جائیں

دے اللہ ہُو دی مار

تے مردا کیوں جائیں

فیض احمد فیض

گیت

جلنے لگیں یادوں کی چتائیں

آؤ کوئی بَیت بنائیں

جن کی رہ تکتے تکے جُگ بیتے

چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں

آنکھیں موند کے نِت پل دیکھیں

آنکھوں میں اُن کی پرچھائیں

اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر

بے دردوں کے سامنے جائیں

جب رونا آوے مسکائیں

جب دل ٹوٹے دیپ جلائیں

پریم کتھا کا انت نہ کوئی

کتنی بار اسے دھرائیں

پریت کی ریت انوکھی ساجن

کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں

فیض اُن سے کیا بات چھپی ہے

ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں

فیض احمد فیض

ہم تہی دامنوں سے کیا لینا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
اپنے انعامِ حسن کے بدلے
ہم تہی دامنوں سے کیا لینا
آج فرقت زدوں پہ لطف کرو
پھر کبھی صبر آزما لینا
قطعہ
فیض احمد فیض

صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا
ہر اک شب، ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے
مگر ہر صبح ہو روزِ جزا ایسے نہیں ہوتا
رواں ہے نبضِ دوراں، گردشوں میں آسماں سارے
جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا
فیض احمد فیض

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے
وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا
جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی
سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا
فیض احمد فیض

جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
غم بہ دل، شکر بہ لب، مست و غزل خواں چلیے
جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے
رحمتِ حق سے جو اس سَمت کبھی راہ ملے
سوئے جنّت بھی براہِ رہِ جاناں چلیے
نذر مانگے جو گلستاں سے خداوندِ جہاں
ساغرِ مے میں لیے خونِ بہاراں چلیے
جب ستانے لگے بے رنگیِ دیوارِ جہاں
نقش کرنے کوئی تصویرِ حسیناں چلیے
کچھ بھی ہو آئینۂ دل کو مصفّا رکھیے
جو بھی گزرے، مثلِ خسروِ دوراں چلیے
امتحاں جب بھی ہو منظور جگر داروں کا
محفلِ یار میں ہمراہِ رقیباں چلیے
فیض احمد فیض

جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے؎۱
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
؎۱ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن ۔۔۔۔ کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
فیض احمد فیض

گاؤں کی سڑک

یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا

یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا

کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی

یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن

یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن

جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی

نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ

مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا

کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے

سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

(بیروت)

فیض احمد فیض

میرے ملنے والے

وہ در کھلا میرے غمکدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں

فرشِ افسردگی بچھانے

وہ آگئی رات چاند تاروں کو

اپنی آزردگی سنانے

وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے

یاد کے زخم کو منانے

وہ دوپہر آئی آستیں میں

چھپائے شعلوں کے تازیانے

یہ آئے سب میرے ملنے والے

کہ جن سے دن رات واسطا ہے

پہ کون کب آیا، کب گیا ہے

نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے

خیال سوئے وطن رواں ہے

سمندروں کی ایال تھامے

ہزار وہم وگماں سنبھالے

کئی طرح کے سوال تھامے

(بیروت)

فیض احمد فیض

لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ
حالِ چمن پر تلخ نوائی
مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ
دل شکنی بھی، دلداری بھی
یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ
شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
نذرِ حافظ ۔۔۔ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق ۔۔۔ بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
بیروت
فیض احمد فیض

دو نظمیں فلسطین کے لئے

۔ ۱ ۔

میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن

تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے

تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے

تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی

تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی

سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا

کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا

دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں

اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں

جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم

لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم

تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد

میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

بیروت ۸۰ ء

۔ ۲ ۔

فلسطینی بچے کیلیے لوری

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی، ابا، باجی، بھائی

چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب

اور بھی تجھ کو رلوائیں گے

تو مسکائے گا تو شاید

سارے اک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

کیا کریں

مری تری نگاہ میں

جو لاکھ انتظار ہیں

جو میرے تیرے تن بدن میں

لاکھ دل فگار ہیں

جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے

سب قلم نزار ہیں

جو میرے تیرے شہر کی

ہر اک گلی میں

میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں

جو میری تیری رات کے

ستارے زخم زخم ہیں

جو میری تیری صبح کے

گلاب چاک چاک ہیں

یہ زخم سارے بے دوا

یہ چاک سارے بے رفو

کسی پہ راکھ چاند کی

کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں، بتا

یہ ہے، کہ محض جال ہے

مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا

جو ہے تو اس کا کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں

بتا ، بتا ،

بتا ، بتا

(بیروت)

فیض احمد فیض

پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 14
مقتل میں نہ مسجد میں نہ خرابات میں کوئی
ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں
شاید کوئی ان میں سے کفن پھاڑ کے نکلے
اب جائیں شہیدوں کے مزاروں پہ اذاں دیں
قطعہ
فیض احمد فیض

کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کیے، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبحِ وصال کا، کئی شامِ ہجر کی مدّتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا، تو رہے گا دامنِ دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں، نہ کسی صنم کی مروّتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم، جو بچا ہے مقتلِ شہر میں
یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں، یہ ہیں اہلِ صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر، کہ نہ جانے کاتبِ وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر، کہیں لکھ رکھی ہوں مسرّتیں
بیروت
فیض احمد فیض

ہم تو مجبورِ وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن

جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا

کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی

خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے

’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر

لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘؎۱

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں

اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم

ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے

(؎۱ یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں۔)

فیض احمد فیض

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

ٹھہر گئی آسماں کی ندیا

وہ جا لگی افق کنارے

اداس رنگوں کی چاندنیّا

اتر گئے ساحلِ زمیں پر

سبھی کھویّا

تمام تارے

اکھڑ گئی سانس پتیوں کی

چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں

گجر بچا حکمِ خامشی کا

تو چپ میں گم ہو گئی صدائیں

سحر کی گوری کی چھاتیوں سے

ڈھلک گئی تیرگی کی چادر

اور اس بجائے

بکھر گئے اس کے تن بدن پر

نراس تنہائیوں کے سائے

اور اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کہ دن ڈھلے شہر سے نکل کر

کدھر کو جانے کا رخ کیا تھا

نہ کوئی جادہ، نہ کوئی منزل

کسی مسافر کو اب دماغِ سفر نہیں ہے

یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی

کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

یہ وقت آئے تو بے ارادہ

کبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوں

اتار کر ذات کا لبادہ

کہیں سیاہی ملامتوں کی

کہیں پہ گل بوٹے الفتوں کے

کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی

کہیں پہ خونِ جگر کے دھبّے

یہ چاک ہے پنجۂ عدو کا

یہ مہر ہے یارِ مہرباں کی

یہ لعل لب ہائے مہوشاں کے

یہ مرحمت شیخِ بد زباں کی

یہ جامۂ روز و شب گزیدہ

مجھے یہ پیراہن دریدہ

عزیز بھی، ناپسند بھی ہے

کبھی یہ فرمانِ جوشِ وحشت

کہ نوچ کر اس کو پھینک ڈالو

کبھی یہ حرفِ اصرارِ الفت

کہ چوم کر پھر گلے لگا لو

(تاشقند)

فیض احمد فیض

تین آوازیں

ظالم

جشن ہے ماتمِ امّید کا آؤ لوگو

مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو

عدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے

تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نے

جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو

بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو

ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے میں نے

سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے

اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا

فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لیے

اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا

ابر آئے گا خس و خار کے انبار لیے

میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی

میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی

اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے

سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے

فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا

عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا

مظلوم

رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے

صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے

دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا

دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا

یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر

یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر

کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے

ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے

وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟

ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

ندائے غیب

ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو

کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے

اُٹھے گا جب جَمِّ سرفروشاں

پڑیں گے دارو رَسن کے لالے

کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی

یہیں عذاب و ثواب ہو گا

یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر

یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

فیض احمد فیض

ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
سہل یوں راہِ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رُخی کی ہے
زہر سے دھو لیے ہیں ہونٹ اپنے
لطفِ ساقی نے جب کمی کی ہے
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
بس وہی سرخرو ہوا جس نے
بحرِ خوں میں شناوری کی ہے
"جو گزرتے تھے داغ پر صدمے”
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
لندن
فیض احمد فیض

لاؤ تو قتل نامہ مرا

سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی

تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی

ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو

کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام

بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی

’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں

کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘

فیض احمد فیض

دو نظمیں

۔ ۱ ۔

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن

جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم

منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

۔ ۲ ۔

شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے

چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں

دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں

پانی میں نہائے ہیں بوٹے

گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے

جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے

خوں کا ہر داغ دمکتا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے

ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے

عالم میں اُن کا شہرہ ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں

وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں

اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

غم نے سانچے میں ڈھالا ہے

اِک باپ کے پتھر چہرے کو

مردہ بیٹے کے ماتھے کو

اِک ماں نے رو کر چوما ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی

اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے

پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن

اب بادل ہے نہ برکھا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)

————————-

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
کچھ پہلے اِن آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پو چھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئے
جب موسمِ گُل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا
تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے
جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا
اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے، لیکن اب سے پہلے تو
آنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالمَ سارا گزرے تھا
ایک دکؐنی غزل
فیض احمد فیض

دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھُلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اُٹھا آخر شب
وہ جو اِک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخر شب
کون کرتا ہے وفا، عہدِ وفا آخر شب
لمسِ جانانہ لیے، مستیِ پیمانہ لیے
حمدِ باری کو اٹھے دستِ دعا آخر شب
گھر جو ویراں تھا سرِ شام وہ کیسے کیسے
فرقتِ یاد نے آباد کیا آخر شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اوؐلِ شب
اسی انداز سے چل بادِ صبا آخر شب
مخدوم کی یاد میں
ماسکو
فیض احمد فیض

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
"آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
مخدوم کی یاد میں
ماسکو
فیض احمد فیض

کوئ عاشق کسی محبوبہ سے!

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا

پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ

ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہو گا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم

کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہو گا

گردِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں

تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو

(لندن)

فیض احمد فیض

پھول مرجھا گئے سارے

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو

شمعیں بے نور ہو گئی ہیں

آئینے چور ہو گئے ہیں

ساز سب بج کے کھو گئے ہیں

پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں

اور اُن بادلوں کے پیچھے

دور اِس رات کا دلارا

درد کا ستارا

ٹمٹما رہا ہے

جھنجھنا رہا ہے

مسکرا رہا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

دلِ من مسافرِ من

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رُخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یارِ نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سرِ کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بُری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا

(لندن)

فیض احمد فیض

نعت

اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو

آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو

خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال

بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو

آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر

اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو

آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ

از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو

باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند

روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو​

فیض احمد فیض

شامِ غربت

دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے

غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے

نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے

شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے

بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے

درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے

ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے

آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے

درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے

دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​

فیض احمد فیض

متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
بہت مِلا نہ مِلا، زندگی سے غم کیا ہے
متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں، ستم کیا ہے
کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف
کرے نہ شہر میں جل تھل تو چشمِ نم کیا ہے
لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے
وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے
اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو
’’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے‘‘
فیض احمد فیض

اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے
فیض احمد فیض

رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
پھول مسلے گئے فرشِ گلزار پر
رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر
بزم برپا کرے جس کو منظور ہو
دعوتِ رقص، تلوار کی دھار پر
دعوتِ بیعتِ شہ پہ ملزم بنا
کوئی اقرار پر، کوئی انکار پر
ناتمام
فیض احمد فیض

پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے
پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے
صحرا پہ لگے پہرے اور قفل پڑے بن پر
اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے
خاکِ رہِ جاناں پر کچھ خوں تھا گِرو اپنا
اس فصل میں ممکن ہے یہ قرض اتر جائے
دیکھ آئیں چلو ہم بھی جس بزم میں سنتے ہیں
جو خندہ بلب آئے وہ خاک بسر جائے
یا خوف سے در گزریں یا جاں سے گزر جائیں
مرنا ہے کہ جینا ہے اِک بات ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر

قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے

جو عزم و ہمت کے مدعی تھے

اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی

آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے

جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے

جو اہلِ دستار محترم تھے

ہوس کے پرپیچ راستوں میں

کلہ کسی نے گرو رکھ دی

کسی نے دستار بیچ دی ہے

اُدھر بھی دیکھو

جو اپنے رخشاں لہو کےدینار

مفت بازار میں لٹا کر

نظر سے اوجھل ہوئے

اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،

اُدھر بھی دیکھو

جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر

جہاں سے رخصت ہوئے

اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد

چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​

فیض احمد فیض

ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار

۔ ۱ ۔

جینے کے لیے مرنا

یہ کیسی سعادت ہے

مرنے کے لیے جینا

یہ کیسی حماقت ہے

۔ ۲ ۔

اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح

اور مل کر جیو

ایک بَن کی طرح

۔ ۳ ۔

ہم نے امّید کے سہارے پر

ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے

جس طرح تم سے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض

پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
باقی ہے کوئی ساتھ تو بس ایک اُسی کا
پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا
اِک عمر سے اِس دھُن میں کہ ابھرے کوئی خورشید
بیٹھے ہیں سہارا لیے شمعِ سحری کا
قطعہ
فیض احمد فیض

دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
شام دھندلانے لگی اور مری تنہائی
دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی
چاند ابھرنے لگا یک بار تری یاد کے ساتھ
زندگی مونس و غم خوار نظر آنے لگی​
قطعہ
فیض احمد فیض

آج شب کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی

خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی

اور مکیں کوئی نہیں ہے،

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

"کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت”

کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت

کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں

کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم

ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم

اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے​

فیض احمد فیض

جو میرا تمہارا رشتہ ہے

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے

وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں

لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق

مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں

یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال

یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال

اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے

’’گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے‘‘

فیض احمد فیض

رات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
جیسے ہم بزم ہیں پھر یارِ طرح دار سے ہم
رات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہم
سر خوشی میں یونہی دل شاد و غزل خواں گزرے
کوئے قاتل سے کبھی کوچۂ دلدار سے ہم
کبھی منزل، کبھی رستے نے ہمیں ساتھ دیا
ہر قدم الجھے رہے قافلہ سالار سے ہم
ہم سے بے بہرہ ہوئی اب جرسِ گُل کی صدا
ورنہ واقف تھے ہر اِک رنگ کی جھنکار سے ہم
فیض جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
فیض احمد فیض

بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے
کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے
جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے
نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے
شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے
فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
فیض احمد فیض

احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے
احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے
کیا کچھ نہ ملا ہے جو کبھی تجھ سے ملے گا
اب تیرے نہ ملنے کی شکایت نہ کریں گے
شب بیت گئی ہے تو گزر جائے گا دن بھی
ہر لحظہ جو گزری وہ حکایت نہ کریں گے
یہ فقر دلِ زار کا عوضانہ بہت ہے
شاہی نہیں مانگیں گے ولایت نہ کریں گے
ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی
جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے
نذرِ مولانا حسرت موہانی
فیض احمد فیض

یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا

کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن

نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے

کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا

جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی

جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا

بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا

یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم

جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا

نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی

یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم

جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا

شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

(ناتمام)

فیض احمد فیض

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

ترکِ الفت کے دشت سے چن کر

آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

تیری دہلیز پر سجا آئے

پھر تری یاد پر چڑھا آئے

باندھ کر آرزو کے پلے میں

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​

فیض احمد فیض

درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت
تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علَم ہے
جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں
یہ خونِ شہیداں ہےکہ زرخانۂ جم ہے
حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
فیض احمد فیض

اس وقت تو یُوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن

اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو

گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید

اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ

تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے

ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

(میو ہسپتال، لاہور)

فیض احمد فیض

یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا
گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے
ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا
منزل کو نہ پہچانے رہِ عشق کا راہی
ناداں ہی سہی، ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا
تھک کر یونہی پل بھر کےلئے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبت
فرق ان میں کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا
لاہور
فیض احمد فیض

ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

کیا خوف ز یلغارِ اعداء

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہدا

ڈر کاہے کا!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

قد جاء الحق و زَہَق الباطِل

فرمودۂ ربِّ اکبر

ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے

جو آئنے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لَو سے

اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

جو چہرے لہو کے غازے کی

زینت سے سوا پُرنور ہوئی

اب ان کے رنگیں پرتو سے

اس شہر کی گلیاں روشن ہیں

اور تاباں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر

ہم پایۂ قصرِ دارا ہے

ہر غازی رشکِ اسکندر

ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

(بیروت)

فیض احمد فیض

باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
لو تم بھی گئے ہم نے تو سمجھا تھا کہ تم نے
باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور
یہ عہد کہ تا عمرِ رواں ساتھ رہو گے
رستے میں بچھڑ جائیں گے جب اہلِ صفا اور
ہم سمجھے تھے صیّاد کا ترکش ہوا خالی
باقی تھا مگر اس میں ابھی تیرِ قضا اور
ہر خار رہِ دشت وطن کا ہے سوالی
کب دیکھیے آتا ہے کوئی آبلہ پا اور
آنے میں تامّل تھا اگر روزِ جزا کو
اچھا تھا ٹھہر جاتے اگر تم بھی ذرا اور
میجر اسحاق کی یاد میں ۔ بیروت
فیض احمد فیض

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں‌ خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نمازِ شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیارِ غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیض ذکرِ وطن اپنے روبرو ہی سہی
لاہور
فیض احمد فیض

عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے

گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے

پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے

ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے

ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے

راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے

رشک کرتے رہے

اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ

جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے

اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ

کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح

رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اسی قافلے میں کشاں لے چلا

(بیروت)

فیض احمد فیض