زمرہ جات کے محفوظات: غزل

کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 189
میرے سوا کسی کو بھی میسج ہوا تو بس
کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس
آسیب سرسرائیں سمندر کی چاپ میں
لہروں سے ہمکلام یہ کاٹج ہوا تو بس
پانی میں بہہ گئے ہیں غریبوں کے صبح و شام
پھر آسماں زمیں کا معالج ہوا تو بس
تھوڑا سا دم چراغ کے چہرے میں رہ گیا
اس مرتبہ بھی صبح کو فالج ہوا تو بس
میں لکھ رہا ہوں گم شدہ قبروں کی ڈائری
ابدال ایسا کشفِ مدارج ہوا تو بس
برسوں پھر اس کے بعد مجھے جاگنا پڑے
اک خواب میری نیند سے خارج ہوا تو بس
یہ روشنی، یہ پھول، یہ خوشبو، یہ سات رنگ
جب بند لڑکیوں کا یہ کالج ہوا تو بس
میں جا رہا ہوں آپ کے کہنے پہ اس کے پاس
میرا خراب دوستو امیج ہوا تو بس
منصور گفتگو ہے یہ پہلی کسی کے ساتھ
اک حرف کا غلط جو مخارج ہوا تو بس
منصور آفاق

پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 188
سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس
پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس
ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے
کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس
گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں
فون مردہ ہے مگر بسترِ بیدار کے پاس
کس طرح برف بھری رات گزاری ہو گی
میں بھی موجود نہ تھا جسمِ طرح دار کے پاس
عبرت آموز ہے دربارِ شب و روز کا تاج
طشتِ تاریخ میں سر رکھے ہیں دستار کے پاس
چشمِ لالہ پہ سیہ پٹیاں باندھیں منصور
سولیاں گاڑنے والے گل و گلزار کے پاس
منصور آفاق

گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 187
روشنی کے خواب، خوشبو کے دیے تھے آس پاس
گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس
آ گئے، اچھا کیا، بھیگی ہوئی اِس شام میں
ایسی رت میں آپ ہی بس چاہیے تھے آس پاس
اک رندھی آواز تھی میرے گلے میں ہجر کی
درد کے روتے ہوئے کچھ ماہیے تھے آس پاس
ہونٹ میرے رات بھر، یہ سوچیے، ہونٹوں پہ تھے
ہاتھ میرے، آپ اتنا جانیے، تھے آس پاس
جب بدن میں بادلوں کا شور تھا تم تھے کہاں
جب چمکتے بجلیوں کے زاویے تھے آس پاس
دیکھتی تھیں اس کی آنکھیں میرے چہرے کے نقوش
زندگی کے آخری جب ثانیے تھے آس پاس
اک فریبِ ذات تھا پھیلا ہوا صدیوں کے بیچ
چاند جیسے ناموں والے کالیے تھے آس پاس
رات کی دیوار پر فوٹو گراف اک چاند کا
اور کالے بادلوں کے حاشیے تھے آس پاس
نظم کی میت کوئی لٹکا رہا تھا پیڑ سے
اور پریشاں حال کچھ بالشتیے تھے آس پاس
اک سفر میں نے کیا تھا وادیِ تاریخ میں
بین تھے چیخوں بھرے اور مرثیے تھے آس پاس
جب مرا سر کٹ رہا تھا کربلائے وقت میں
اہل کوفہ اپنی دستاریں لیے تھے آس پاس
ہفتہ بھر سے ڈائری ملتی نہیں منصور کی
فون پر کچھ رابطے میں نے کیے تھے آس پاس
منصور آفاق

اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 186
کس بھیانک زندگی کا رنج میرے آس پاس
اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس
کھوجتا پھرتا ہوں میں اسرار اپنی ذات کے
اور ان گلیوں میں داتا گنج میرے آس پاس
تھے مخالف بس مرے دونوں طرف کے لشکری
کیا عجب کھیلی گئی شطرنج میرے آس پاس
بہہ رہی تھی یاد کی سکرین پر دریا کے ساتھ
ناچتی گاتی ہوئی اک جنج میرے آس پاس
میرے ہونٹوں سے گرے جملے اٹھانے کے لیے
رہ رہے ہیں کتنے بذلہ سنج میرے آس پاس
آئینے کو دیکھ کر رویا تو ازراہِ مذاق
وقت نے پھیلا دیا اسفنج میرے آس پاس
منصور آفاق

وہ جو بولتی تھی سرائیکی بھری اردوئیں نہیں آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 185
وہی رنگ رنگ کی اجرکیں ، وہی خوشبوئیں نہیں آس پاس
وہ جو بولتی تھی سرائیکی بھری اردوئیں نہیں آس پاس
کہیں خشک سالی وصال کی کہیں آبِ لمس کا قحط ہے
وہ جو پیاس میری بجھاتے تھے وہی اب کنوئیں نہیں آس پاس
مرے دھوپ روپ دیار کے سبھی برف پوش مکان ہیں
وہ جو چمنیوں سے نکلتے تھے کبھی، وہ دھوئیں نہیں آس پاس
یہاں گرم ہاتھ کو پھیر مت، یہاں لمس لمس بکھیر مت
جو مچلتے تھے ترے قرب سے وہی اب روئیں نہیں آس پاس
سبھی شوخ و شنگ لباس ہیں کوئی لازوال بدن نہیں
جنہیں آنکھیں چومیں خیال میں جنہیں لب چھوئیں نہیں آس پاس
کوئی رات اجلی وصال کی کوئی گیت گاتی سی بالیاں
میرے سانس سے جو دہک اٹھیں وہی اب لویں نہیں آس پاس
منصور آفاق

یار کا میں ہوں اور ہے میرا یار لباس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 184
وصل کی راتوں کا شب زندہ دار لباس
یار کا میں ہوں اور ہے میرا یار لباس
سوچ کی چِپ میں سمٹی ہوئی اس دنیا کی
ٹیلی ویژن آنکھیں ہیں اخبار لباس
آدھے بدن پر ٹیبل لیمپ کا نیلا شیڈ
آدھے بدن پر رات کا جالی دار لباس
خواب بہت بوسیدہ ہوتے جاتے ہیں
آؤ بدل لیں نیندوں کے اس پار لباس
ننگ دکھائی دے جاتا ہے درزوں سے
کہنے کو ہے گھر کی ہر دیوار لباس
تنہائی کی ڈیٹوں میں منصور آفاق
تیرے میرے بیچ رہا ہر بار لباس
منصور آفاق

دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 183
جگمگاتی تھی جو طاقِ آسماں میں کوئی چیز
دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز
رات جیسا ساری دنیا میں نہیں ہے کوئی ظلم
اور دئیے جیسی نہیں سارے جہاں میں کوئی چیز
یہ بھی ہو سکتا ہے ممکن میں کوئی کردار ہوں
یا مرے جیسی کسی ہے داستاں میں کوئی چیز
دیکھنا میری طرف کچھ دن نہیں آنا تجھے
ایسا لگتا ہے کہ ہے میرے مکاں میں کوئی چیز
کوئی بے مفہوم نقطہ، کوئی مصرع کا فریب
ڈھونڈتی ہے رات پھر صبحِ بیاں میں کوئی چیز
لگتا ہے دشتِ جنوں کی آندھیوں کو دیکھ کر
اہل غم نے سونپ دی میری کماں میں کوئی چیز
واہمہ ہے سانحہ کا،خدشہ اِن ہونی کاہے
خوف جیسی ہے مرے وہم وگماں میں کوئی چیز
آیت الکرسی کا کب تک کھینچ رکھوں گا حصار
جانے والا دے گیا میری اماں میں کوئی چیز
نام ہے دیوانِ منصور اس کا، کل کی ڈاک میں
بھیج دی ہے صحبتِ آئندگاں میں کوئی چیز
منصور آفاق

منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 182
ہیں خوفناک ہجر کے یہ المیے پلیز
منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز
باقی ہیں انتظار کی کچھ ساعتیں ابھی
جلنے دو بام پر ابھی سارے دئیے پلیز
اب کاٹنے لگی ہے خموشی کی تیز دھار
کہیے پلیز کچھ مجھے ،کچھ بولیے پلیز
رہتے نہیں ہمیشہ تو ایسے خراب دن
خود کو سنبھالئے یہ دوا لیجئے پلیز
پہلے بہت اداس ہے شب کاسیہ مزاج
ایسے میں یہ سنائیے نہ ماہیے پلیز
منصور آگئی ہے وہ باہر گلی میں صبح
جانے بھی دیجئے ہمیں اب دیکھئے پلیز
منصور آفاق

پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 181
مٹی مرا وجود، زمیں میری جا نماز
پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز
اک دلنواز شخص نے دیکھا مجھے تو میں
قوسِ قزح پہ عصر کی پڑھنے لگا نماز
پڑھتے ہیں سر پہ دھوپ کی دستار باندھ کر
سایہ بچھا کے اپنا ہم اہلِ صفا نماز
لات و منات اپنے بغل میں لیے ہوئے
کعبہ کی سمت پڑھتی ہے خلقِ خدا نماز
تیرا ہے کوئی اور تعین مرا میں آپ
تیری جدا نماز ہے میری جدا نماز
جانے کب آئے پھر یہ پلٹ کر شبِ وصال
ہو جائے گی ادا تو عشاء کی قضا نماز
میں نے کہا کہ صبح ہے اب تو افق کے پاس
اس نے کہا تو کیجیے اٹھ کر ادا نماز
مت پوچھ کیسی خواہشِ دیدار تھی مجھے
برسوں میں کوہِ طور پہ پڑھتا رہا نماز
قرباں خیالِ گنبدِ خضرا پہ ہیں سجود
اقرا مری دعا ، مری غارِ حرا نماز
اس مختصر قیام میں کافی یہی مجھے
میرا مکاں درود ہے میرا دیا نماز
پندارِ جاں میں آئی ہیں تجھ سے ملاحتیں
تجھ سے ہوئے دراز یہ دستِ دعا نماز
اے خواجہء فراق ! ملاقات کے لیے
پھر پڑھ کنارِ چشمۂ حمد و ثنا نماز
اے شیخ شاہِ وقت کے دربار سے نکل
دروازہ کر رہی ہے بغاوت کا وا نماز
اس کا خیال مجھ سے قضا ہی نہیں ہوا
لگتا ہے میرے واسطے منصور تھا نماز
منصور آفاق

جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 180
دشمناں را ، دوستاں را شب بخیر
جملہ ہائے عاشقاں را شب بخیر
در فلک مانندِنجم آوارہ ام
چاکرِ حسنِ بتاں را شب بخیر
خواب را سرمایہ ء آشوبِ دل
ساغراں را ساحراں را شب بخیر
از رخ ام صبحِ آسودہ گرفت
زلفِ دوتا دلبراں را شب بخیر
صحبتِ چشمِ سکوں تسخیر کرد
شورشِ سوداگراں را شب بخیر
چینِ ابرودل کتاں آید بروں
پیشِ مرغِ آشیاں را شب بخیر
دیدہِ منصور از چشمم تمام
دامنِ پُرحسرتاں را شب بخیر
منصور آفاق

سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 179
اندھیری رات کے اے رہ روو،دعائے خیر
سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر
مجھے سیاہی کی وحشت سے خوف آتا ہے
کہو چراغ صفت منظرو دعائے خیر
بنائے بت جو ہیں ہم نے خدا نہ بن بیٹھیں
بڑی ضروری ہے صورت گرو دعائے خیر
اب اس کے بعد لڑائی کبھی نہیں ہو گی
مری ہتھیلی پہ آؤ دھرو دعائے خیر
الف میں صرف کروڑوں مقام آتے ہیں
طلسمِ اسم کے خیرہ سرو دعائے خیر
گلی گلی میں ہے منصور کا تماشا بھی
دیارِ نور کے دیدہ ورو دعائے خیر
منصور آفاق

پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 178
جاری ہے پھر حسین کا ماتم گزار خیر
پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر
پھٹ ہی نہ جائے کوئی یہاں بم گزار خیر
اک چھت تلے ہے فیملی باہم گزار خیر
خودکش دھماکے ہونے لگے ہیں گلی گلی
برپا جگہ جگہ پہ ہے ماتم گزار خیر
پھرتی ہے موت ظلم کے گرد و غبار میں
آیا ہے خاک و خون کا موسم گزار خیر
میرے وطن میں آگ لگی ہے اک ایک کوس
وہ سرنگوں ہے دین کا پرچم گزار خیر
منصور پہ کرم ہو خصوصی خدائے پاک
لگتی نہیں گزرتی شبِ غم گزار خیر
منصور آفاق

یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 177
ملال خانہء شب کو چراغ زاد نہ کر
یہ خامشی کی غزل سُن، کسی کو یاد نہ کر
خزانے درد کے دل میں سدا سلامت رکھ
تُو شہرِ سنگ میں تقسیم جائیداد نہ کر
بدن کی آگ جلا برف برف بنگلے میں
نگاہِ سرد سے یہ کارِ انجماد نہ کر
یہ خشک پتے پکڑتے ہیں آگ کو فوراً
بلند اتنا یہاں شعلہ ء عناد نہ کر
شبِ وصال پسندیدہ شب ہے مولا کی
زبانِ حضرتِ واعظ پہ اعتقاد نہ کر
کئی بگولوں میں ہوتی ہے دیکھ دکھ کی آنکھ
یہ دشت دشت تُو تسخیرِ گردباد نہ کر
بھلا دے بچھڑی ہوئی رت کا خوبرو چہرہ
مقامِ یاد پہ جلسوں کا انعقاد نہ کر
یہ رات رات حریفانہ کشمکش کیا ہے
دل و دماغ میں پیدا کھلا تضاد نہ کر
ہر ایک شخص نے جینا ہے اپنی مرضی سے
بنامِ حرمتِ خلقِ خدا ، فساد نہ کر
یہ دور دل میں جہنم اٹھائے پھرتا ہے
بجز خدا تُو ، کسی پر بھی اعتماد نہ کر
ترے لیے ہے بدن کی گداز رعنائی
نفس نفس میں سلگتا ہوا جہاد نہ کر
بھروسہ کر تُو کمک پر عوام کی منصور
یزیدِ وقت کی فوجوں سے اتحاد نہ کر
منصور آفاق

حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 176
اک ایک ڈاٹ کام پہ رسوائی دیکھ کر
حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر
سگریٹ کی سمت بڑھ گیا پھر اس کا نرم ہاتھ
پہلے پہل ذرا ہمیں شرمائی دیکھ کر
یہ اور بات ڈوب گئے ہیں کہیں مگر
رکھا تھا پاؤں پانی کی گہرائی دیکھ کر
ہم آ گئے وہاں کہ جہاں واپسی نہیں
اس کی ذرا سی حوصلہ افزائی دیکھ کر
افسوس صبحِ عمر جہنم میں جھونک دی
اک لمس پوش رات کی رعنائی دیکھ کر
دانتوں سے کاٹ کاٹ لیں اس نے کلائیاں
میری کسی کے ساتھ شناسائی دیکھ کر
ہم نے تمام رات جلائی ہیں خواہشیں
دل ڈر گیا تھا برف سی تنہائی دیکھ کر
آتے ہیں زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی
جب رو پڑے تماشا ، تماشائی دیکھ کر
بس انتہائیں حسن کی معلوم ہو گئیں
زیبا علی ظہور کی زیبائی دیکھ کر
واپس پلٹ گئے جنہیں شوقِ وصال تھا
بس پہلے آسمان کی پہنائی دیکھ کر
ہم آئینے کے سامنے تصویر ہو گئے
آنکھوں میں اس کی انجمن آرائی دیکھ کر
پھر ایک اور شخص گلی سے گزر گیا
پھر بج اٹھا تھا دل کوئی پرچھائی دیکھ کر
اک دلنواز گیت سا مدہم سروں کے پیچ
برسات گنگناتی تھی پروائی دیکھ کر
معجز نما ہے صبحِ ازل سے وصالِ یار
حیراں نہ ہو بدن کی مسیحائی دیکھ کر
اندھی سڑک پہ بھاگ پڑی رات کی طرف
یک لخت اتنی روشنی بینائی دیکھ کر
کس کس کے ساتھ جنگ کریں گے دیار میں
ہم سوچتے ہیں تیرے تمنائی دیکھ کر
منصور زندگی کی کہانی سمجھ گئے
دریائے تند و تیز کی دارائی دیکھ کر
منصور آفاق

میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں سمندر ہو کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 175
وہ جو پھرتے ہیں کناروں پہ قلندر ہو کر
میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں سمندر ہو کر
انہی گلیوں میں ، ملا دیس نکالا جن سے
میں بھی پھرتا ہوں مقدر کا سکندر ہو کر
میں نے دیکھی ہے فقط ایک خدا کی تمجید
کبھی مسجد ، کبھی معبد ، کبھی مندر ہو کر
میں بہر طور تماشا ہوں تماشا گر کا
ڈگڈگی والا کبھی تو کبھی بندر ہو کر
مجھ کو معلوم دنیا کی حقیقت منصور
باہر آیا ہوں کئی بار میں اندر ہو کر
منصور آفاق

کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 174
فلم چلتی ہے مسلسل وہی اک سین پہن کر
کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر
کوئی کمرہ مرے پاؤں پہ اترتا ہی نہیں ہے
سیڑھیاں چلتی چلی جاتی ہیں قالین پہن کر
ہوتے رہتے ہیں جہازوں کے بڑے حادثے لیکن
کرتا رہتا ہوں سفر سورتِ یٰسین پہن کر
نرمگی اس کی ابھر آئی تھی ملبوس سے باہر
کتنی نازک سی سکرٹ آئی تھی نرمین پہن کر
تم مرے ہونٹوں کی کیا پیاس بجھا سکتی ہو وینس
میرا پیاسا ہے بدن، آبِ ابا سین پہن کر
ہیں خدائی کا مسائل کہ سرِ راہ پڑے ہیں
اک تماشے کا لبادہ سا فراعین پہن کر
منصور آفاق

اپنے ہونے کا سبب معلوم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 173
آدمی کے جدو اب معلوم کر
اپنے ہونے کا سبب معلوم کر
پوچھ شجرہ زندگی سے جا کہیں
جاکے مٹی کا نسب معلوم کر
فیصلے یک طرفہ کرنے چھوڑ دے
مجھ سے بھی میری طلب معلوم کر
اپنی پہچانیں کہاں کھوئی گئیں
گم ہوئے کیوں چشم و لب معلوم کر
اور کتنے قوس جلنا ہے ہمیں
اے چراغ دشتِ شب معلوم کر
موت کے منصور شہرِ خوف میں
زندگی کا کوئی ڈھب معلوم کر
منصور آفاق

اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 172
پرودگار! حرفِ کمیت پہ رحم کر
اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر
نیزے پہ سج گیا ہے وہ چہرہ حسین کا
اے بے نیاز اپنی مشیت پہ رحم کر
اک دھوپ سے بھرے ہوئے بے رحم پہر میں
کھلتی ہوئی کلی کی اذیت پہ رحم کر
کچھ دن مزارِ دل پہ جلا درد کے چراغ
کچھ مرنے والے کی بھی وصیت پہ رحم کر
اتنی اکیلگی میں بھی اپنی طلب کرے
منصور کچھ تو دل کی حمیت پہ رحم کر
منصور آفاق

رونمائی کی تقریب منسوخ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 171
اپنے چہرے کی تشبیب منسوخ کر
رونمائی کی تقریب منسوخ کر
اپنا دکھ پیش کر سادہ الفاظ میں
اتنی مشکل تراکیب منسوخ کر
لفظ تیرے زمانے کے عکاس ہوں
اب گذشتہ اسالیب منسوخ کر
حدِ فاصل کوئی کھینچ دن رات میں
دوغلے پن کی تہذیب منسوخ کر
خون سے بھر گئی ہے مری ہر گلی
اپنا اب ذوقِ تخریب منسوخ کر
ظلم کو ظلم کہہ ، رات کو رات لکھ
ظالموں کی نہ تکذیب منسوخ کر
روشنی کے لگا پول ہر چوک میں
اب صلیبوں کی تنصیب منسوخ کر
عادتاً تُو مسلسل یہ لیکچر نہ دے
بے وجہ اپنی تادیب منسوخ کر
تیری منزل پہ رکنا نہیں ہے مجھے
یہ محبت کی ترغیب منسوخ کر
دارپر پہلے جانا ہے منصور نے
عاشقوں کی یہ ترتیب منسوخ کر
منصور آفاق

اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 170
اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر
روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں
اک ذرا بس موت سے آزاد کر
اب مجھے تسخیر کرنے کے لیے
اسم اعظم روح میں آباد کر
میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر
قریہء تشکیک کی سرحد پہ ہوں
صاحبِ لوح و قلم امداد کر
خالق و مخلوق میں دے فاصلے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر
خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر
ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر
اک قیامت سے نکل آیا ہوں میں
اب کوئی نازل نئی افتاد کر
ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
منصور آفاق

میلوں لمبا ایک جلوس سڑک پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 169
خالی پیٹ چلے مایوس سڑک پر
میلوں لمبا ایک جلوس سڑک پر
دیکھ کے پہلی بار دہکتا سورج
اس نے پھینک دیا ملبوس سڑک پر
برسوں پہلے میرا گھر ہوتا تھا
شہرِ فسوں کی اس مانوس سڑک پر
صرف یہ رستہ جانے والوں کا ہے
پہلی بار ہوا محسوس سڑک پر
میں نے آگ بھری بوتل کھولی تھی
اس نے پیا تھا اورنج جوس سڑک پر
چاند دکھائی دیتا تھا کھڑکی سے
دور لٹکتا اک فانوس سڑک پر
ننگے پاؤں چلتے ہیں ہم منصور
آگ اگلتی اک منحوس سڑک پر
منصور آفاق

ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 168
تہذیب کانکھار محمدﷺ کے نام پر
ہے بوسہ زن بہار محمدﷺ کے نام پر
بے عیب شاہکار ہے ربِ کریم کا
نقطہ بھی ناگوار محمدﷺ کے نام پر
لمحے اسی کے فیض کی زندہ امانتیں
یہ روز وشب نثار محمدﷺ کے نام پر
چودہ سو سال سے گل و گلزار کے تمام
موسم ہیں ساز گار محمدﷺ کے نام پر
ذرے ہوں مہر و ماہ اسی اسم کے طفیل
ذی حس ہوں ذی وقار محمدﷺ کے نام پر
منصور ان کے نام پہ مرنا عروجِ بخت
قرباں میں بار بار محمدﷺ کے نام پر
منصور آفاق

دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 167
کچھ اندھیرے جاگتے تھے کچھ اجالے میز پر
دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر
آنکھ جھپکی تھی ذرا سی میں نے کرسی پر کہیں
وقت نے پھر بن دیے صدیوں کے جالے میز پر
صلح کی کوشش نہ کر ہابیل اور قابیل میں
کھول دیں گے فائلیں افلاک والے میز پر
آگ جلتے ہی لبوں کی مل گئیں پرچھائیاں
رہ گئے کافی کے دو آدھے پیالے میز پر
جسم استانی کا لتھڑا جا رہا تھا رال سے
چاک لکھتا جا رہا تھا نظم کالے میز پر
میری ہم مکتب نزاکت میں قیامت خیز تھی
چاہتا تھا دل اسے اپنی سجا لے میز پر
کوئی ترچھی آنکھ سے منصور کرتا تھا گناہ
سیکس کے رکھے تھے پاکیزہ رسالے میز پر
منصور آفاق

ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 166
دونوں بچھڑ کے چل دیئے راہِ ملال پر
ناموں کے زخم رہ گئے برگد کی چھال پر
شب کے سکوت میں لیا یوں اس نے کوئی نام
مندری بجی ہو جس طرح پیتل کے تھال پر
بارش میں بھیگتی چلی آئی تھی کوئی ہیر
بوندیں ٹھہر گئی تھیں دھنک رنگ شال پر
آتی تھی ٹیلی فون سے آوازِ لمسِ یار
بستر بچھا تھا فرشِ بہشتِ خیال پر
منصور کیا سفید کرسمس کی رات ہے
تارے مچل رہے ہیں زمیں کے وصال پر
ذرا بھی دھیان نہیں وصل کے فریضوں پر
یونہی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر
قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں
کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر
یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے
ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر
کسی انار کلی کے خیال میں اب تک
غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں پر
جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن
پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر
غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں
شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر
وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور
مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر
منصور آفاق

چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 165
چاندنی پھیلی ہوئی تھی ریت کی شہنیل پر
چاند کا دل جل رہا تھا دور لاکھوں میل پر
ایک اچھے دوست کے ہمراہ گزری تھی کبھی
فروری کی ایک اجلی پیر ’’چشمہ جھیل‘‘ پر
لمبی کر کے اپنی گردن گھولتی تھی زرد چونچ
کونج تھی مامور شاید درد کی ترسیل پر
اور پھر تصویر پر تاریک سائے رہ گئے
روشنی سی پڑ گئی تھی کیمرے کی ریل پر
مانگتی ہے زندگی پھر روشنی الہام کی
اور ابد کی خامشی ہے قریہء جبریل پر
آئینے سے پھوٹتی ہیں نور کی پرچھائیاں
کیا کہوں منصور اپنے عکس کی تمثیل پر
منصور آفاق

امید غلط اندازوں پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 164
زنجیر بکف شہبازوں پر
امید غلط اندازوں پر
ہم لوگ سفر میں رہتے ہیں
منسوخ شدہ پروازوں پر
آسیب لکیریں کھینچ گیا
دیوار صفت دروازوں پر
اب بین خموشی کرتی ہے
مصلوب شدہ آوازوں پر
کیا گفت و شنید ازل کی ہو
منصور ابد کے رازوں پر
منصور آفاق

کیکر پہ لگا کرتے ہیں اخروٹ کہیں اور

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 163
یہ دشتِ مغیلاں ہے، ثمرکوٹ کہیں اور
کیکر پہ لگا کرتے ہیں اخروٹ کہیں اور
اک پھول نے اب ہاتھ مرا تھام رکھا ہے
سردائی بدن بھنگ کی جا گھوٹ کہیں اور
اس ہاتھ پہ تقسیم کی اشکال بنا دیں
اقرارِ محبت کا لکھا نوٹ کہیں اور
سایوں کے تعاقب میں یہی ہوتا ہے شاید
میں اور کہیں ، چاند بھری اوٹ کہیں اور
چلتے تھے پسینے کے مری جلد پہ قطرے
بم جیسے مرے پاؤں میں ریموٹ کہیں اور
ہے اپنے مراسم میں کوئی اور بھی شامل
ہم ٹھیک ہی سمجھے تھے کہ ہے کھوٹ کہیں اور
اِس شہر کی گلیوں میں دھڑکتے ہوئے دل ہیں
اے حاکمِ جاں ! رہتے ہیں روبوٹ کہیں اور
اِس شہرِ منافق کو بھی کوفہ نہ کہیں کیوں
وعدہ تھا کسی اور سے اور ووٹ کہیں اور
ڈستی ہے مرے خواب کو پروازوں کی آواز
تعمیر کیا جائے ایئرپورٹ کہیں اور
ٹوٹا مرا دل تھا، جھڑی آنکھوں میں لگی تھی
احساس کہیں اور تھا اور چوٹ کہیں اور
اڑتا تھا تعلق کی کسی تیز ہوا میں
ٹائی کہیں جاتی تھی مری، کوٹ کہیں اور
منصور آفاق

یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 162
جسم میں ٹھونکی ہوئی میخوں میں کیلوں میں گزار
یہ مثلث زندگی دو مستطیلوں میں گزار
جا کہیں آباد کر ٹوٹے ہوئے برباد دل
جا کوئی دن بے سہاروں ،بے وسیلوں میں گزار
یاد کی تصویرسے باہر قدم رکھ ، جا کہیں
شہر کی شہلا شگن شامیں شکیلوں میں گزار
استراحت سایہ ء گل میں تجھے زیبا نہیں
عمر جا کر دشت کے آوارہ ٹیلوں میں گزار
قرب کی گرمی انوکھی ہی سہی لیکن یہ رات
ہے یہی بہتربہانوں اور حیلوں میں گزار
خود اُسے ناراض کرکے تُونے بھیجا تھا سو اب
واہموں میں کاٹ راتیں ،دن دلیلوں میں گزار
دید کے پیاسے پرندے اڑ رہے ہیں آس پاس
چاند کچھ دن،آنسوئوں کی گرم جھیلوں میں گزار
میری گردن پر جلاپھر اپنے بوسوں کے چراغ
پھر کوئی شب لمس کے پُر شوق نیلوں میں گزار
کوچہء جاناں ہی تیرا نقطہ ء پرکار ہے
زندگی اپنی انہی دوچار میلوں میں گزار
چاہیے ہے حسنِ مطلق کی اگر قربت تجھے
عمر اپنی خوبرووں میں جمیلوں میں گزار
خامہء دل !ہم سخن کر مثنوی مولائے روم
دن سروشوں میں کٹیں شب جبرئیلوں میں گزار
گر پڑا ہے تُو سفر میں دشت کے، سو زندگی
اب مثالِ استخوانِ تازہ چیلوں میں گزار
کچھ ہوا کے بول سن،پیڑوں کی بھیگی شام سے
سُن پرندوں کی سریں ،کچھ دن سریلوں میں گزار
رات اس کے عارض و لب کے قصیدوں میں کٹے
دن پہاڑوں پر کہیں باغی قبیلوں میں گزار
تُو مذاہب سے نکل کر آبِ سادہ بانٹ بس
یہ فساد فی سبیل اللہ سبیلوں میں گزار
آدمی ہوں میں مرے گھر میں گنہ ممکن بھی ہے
رات جاتُو ذوالجلالوں ، ذوالجلیلوں میں گزار
اے سویٹر بننے والی، رنگوں کی آواز سن
سرخ دھاگے کھینچ، نیلا سوت پیلوں میں گزار
صحبتِ صالح تُرا صالح کند ، طالع کند
دوگھڑی ہم بے نظیروں بے مثیلوں میں گزار
جب تلک منصورپیچھے سے کمک آتی نہیں
وقت قلعہ بند ہو کر بس فصیلوں میں گزار
منصور آفاق

یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 161
ہجراں کے سیہ داغِ طلب سے ماخوذ
یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ
ہم چُنتے رہے فرش و فلک کے الہام
ہم دونوں جہانوں کے ادب سے ماخوذ
ہے رات تری زلف دوتا سے نکلی
ہے صبح ترے عارض و لب سے ماخوذ
دھڑکن کی طرح چیخ رہی ہیں کب سے
نظمیں ہیں دلِ مہر بلب سے ماخوذ
ہم رات کے پرودہ نہیں ہیں منصور
ہم خواب ہیں صبحوں کے نسب سے ماخوذ
منصور آفاق

یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 160
پڑے ہیں جو قلم کے ساتھ کاغذ
یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ
جلا آیا جلوسِ دانشِ دِین
شعورِ محترم کے ساتھ کاغذ
جڑے بس رہ گئے ہیں داستاں میں
ترے عہدِ ستم کے ساتھ کاغذ
یہی بس التماسِ دل کہ رکھنا
یہ دیوارِ حرم کے ساتھ کاغذ
پرندے بنتے جاتے ہیں مسلسل
ترے فضل و کرم کے ساتھ کاغذ
میانوالی میں آئے ہیں فلک سے
یہ امکانِ عدم کے ساتھ کاغذ
خود اپنے قتل نامے کا کسی کو
دیا پورے بھرم کے ساتھ کاغذ
کسی مبہم سی انجانی زباں میں
پڑے ہیں ہر قدم کے ساتھ کاغذ
الٹنے ہیں پلٹنے ہیں لحد تک
خیالِ بیش و کم کے ساتھ کاغذ
یہ وہ تہذیب ہے جو بیچتی ہے
ابھی دام و درم کے ساتھ کاغذ
کسی کو دستخط کرکے دیے ہیں
سرِ تسلیم خم کے ساتھ کاغذ
درازوں میں چھپانے پڑ رہے ہیں
کلامِ چشمِ نم کے ساتھ کاغذ
انہیں عباس نے لکھا ہے خوں سے
یہ چپکا دے علم کے ساتھ کاغذ
چمکتے پھر رہے ہیں آسماں کے
چراغِ ذی حشم کے ساتھ کاغذ
بدل جاتے ہیں اکثر دیکھتا ہوں
مری تاریخِ غم کے ساتھ کاغذ
ابد کے قہوہ خانے میں ملے ہیں
کسی تازہ صنم کے ساتھ کاغذ
ہوئے ہیں کس قدر منصور کالے
یہ شب ہائے الم کے ساتھ کاغذ
منصور آفاق

دلِ آدمی سے دماغِ خدا تک محمد محمد محمد محمدﷺ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 159
ضمیرِ زمیں سے شعورِ سما تک محمد محمد محمد محمدﷺ
دلِ آدمی سے دماغِ خدا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
جمودِ عدم سے نمودِ مکاں تک، سکوتِ ازل سے خرام جہاں تک
دیارِ فنا سے طلسمِ بقا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
درختوں کے پتوں کی حمد ونثامیں بہاروں کی پاکیزہ قوسِ قزح میں
چنبیلی کے پھولوں سے بادصبا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
اے دنیا اے اعجازِ کن کی نمائش،ذرا تُو بھی صلِ علیٰ آج کہہ دے
تری ابتداء سے تری انتہا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
خدا کے لبوں پر وہی ذکرِ اقدس ، وہ اسم گرامی ہے عرشِ علا پر
فضا سے خلا تک ، خلا سے ملا تک محمد محمد محمد محمدﷺ
منصور آفاق

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 156
زندگی! اب زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
چھوڑ آیا ہوں میں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
اور باقی ہیں مگر امید کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا ، جو تھی ٹھانی ختم شد
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد
اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں
یار کی بھی مہربانی ختم شد
اب مرے کچھ بھی نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد
وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد
اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد
آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بے کرانی ختم شد
اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد
لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد
کچھ ہوا ایسا ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد
اہم اتنا تھا کوئی میرے لیے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد
دشت کی وسعت جنوں کو چاہیے
اس چمن کی باغبانی ختم شد
اپنے بارے میں کروں گا گفتگو
یار کی اب ترجمانی ختم شد
ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
منصور آفاق

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق

بڑے ہی نیک خرابوں کے چیف زندہ باد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 154
ہر ایک جرم ، بنام شریف زندہ باد
بڑے ہی نیک خرابوں کے چیف زندہ باد
یہ خونخوار دھماکے تجھے مبارک ہوں
او دشمنانِ وطن کے حلیف زندہ باد
تباہ حال کرنسی پہ نعرۂ تکبیر
نئی معاش کی صبحِ لطیف زندہ باد
او بادشاہ سلامت تری حکومت میں
تمام ملکِ خدا کے حریف زندہ باد
مرے وطن کو تمنا سلامتی کی ہے
سلامتی کی صدائے نحیف زندہ باد
کہو دھواں دھواں لاہور پر غزل منصور
کہو یہ دھند کا شہرِ کثیف زندہ باد
منصور آفاق

زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 153
گلستاں کو بہارِ سبز گنبد پر مبارک باد
زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد
شعورِ ذہنِ انسانی جہاں منزل تلک پہنچا
دماغو! اُس خرد کی آخری حد پر مبارک باد
جہاں کو ہدیۂ تبریک کالی کملی پر میرا
جہاں کو آسمانِ شالِ اسود پر مبارک باد
زمیں پر نائبِ اللہ ہونے کی نوید آئی
مقامِ جانشینِ کُن کی مسند پر مبارک باد
تجھے رحمت بھرے بارہ ربیع اول کے دن منصور
رسولِ اقدس و اعظم کی آمد پر مبارک باد
منصور آفاق

ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 152
آتشِ لمس سے جلتی ہوئی چیخ
ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ
زخم پاؤں میں کیے جاتی ہے
خشک پتوں سے نکلتی ہوئی چیخ
اک شکاری کے کفن سے ابھری
برف کے ساتھ پگھلتی ہوئی چیخ
کس نے چپکائی ہے دیواروں پر
خواب میں رنگ بدلتی ہوئی چیخ
میں طلسمات سے نکلا تو ملی
بابِ حیرت پہ مچلتی ہوئی چیخ
قاتلو! دھوتے رہو نقشِ قدم
چلتی جاتی ہے وہ چلتی ہوئی چیخ
اک تعلق کے گلے سے نکلی
در و دیوار نگلتی ہوئی چیخ
پھر وہی ڈوبتا سورج منصور
پھر وہی آگ اگلتی ہوئی چیخ
آخری سانس میں ڈھلتی ہوئی چیخ
گر پڑی ایک سنبھلتی ہوئی چیخ
منصور آفاق

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق

زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 150
برف کی شال میں لپٹی ہوئی صرصر کی طرح
زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح
کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف
میں نے دیکھا تھا اُسے آخری منظر کی طرح
ہاتھ رکھ ، لمس بھری تیز نظر کے آگے
چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں
شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجر کی طرح
کچی مٹی کی مہک اوڑھ کے اِتراتی تھی
میں پہنتا تھا اسے گرم سمندر کی طرح
پلو گرتا ہوا ساڑھی کا اٹھا کر منصور
چلتی ہے چھلکی ہوئی دودھ کی گاگر کی طرح
منصور آفاق

مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 149
میرا اعجاز نہیں رنگ کے جادو کی طرح
مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح
ذکر آیا جو کہیں بزمِ سخن میں میرا
چشمِ جاناں سے نکل آیا میں آنسو کی طرح
اچھے موسم کی دعا مانگی تو موجود تھا میں
خشک آنکھوں میں کہیں رنج کے پہلو کی طرح
دل نہ تھا دامنِ گل پوش میں آخر میں بھی
اڑ گیا پیڑ سے اک روز پکھیرو کی طرح
اس کی دہلیزسے طالب کو دعا بھی نہ ملی
سر پٹختا ہی رہاموجِ لبِ جو کی طرح
میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح
پھر ہرے ہو گئے اس دل میں تری یاد کے زخم
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح
قتل کرتا ہے تو آداب بجا لاتا ہے
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح
پھر سنائی دی انا الحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے آوازِ صبا ہو کی طرح
کشمکش ایک حریفانہ سی اُس میں بھی ہے
کشمکش مجھ میں بھی تفریقِ من و تُو کی طرح
شہر میں ہوتا تو پھر پوچھتے عاشق کا مزاج
دشت میں قیس چہکتا پھرے آہو کی طرح
اس کی آسودہ نفاست پہ ہے قربان فرانس
کیسی کمخواب سی نازک سی ہے اردو کی طرح
یہ شہادت کا عمل ہے کہ قلم کے وارث
مر کے بھی مرتے نہیں وارث و باہو کی طرح
وقت، سچائی ،خدا ساتھ تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
منصور آفاق

جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 148
آدمی میں بھی ہوں آدمی کی طرح
جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح
ہر قدم پر لہو کا تعاقب کرے
موت وحشت زدہ اونٹنی کی طرح
چار اطراف میں زندگی کی تڑپ
جسم کی آخری جھر جھری کی طرح
صرف حیرت تھی آنکھوں میں پھیلی ہوئی
کوئی منظر تھا بے منظری کی طرح
آئینے میں کسی اور کو دیر تک
دیکھتا میں رہا اجنبی کی طرح
ایک تقریبِصبح مسلسل ہے تُو
اور میں محفلِ ملتوی کی طرح
وقت کے کینوس پہ ادھورا سا میں
ایک تصویر بنتی ہوئی کی طرح
سانولی دھوپ آنکھوں میں پھرتی رہے
شام کی ساعتِ سرمئی کی طرح
عمر بھر اک سٹیشن پہ چلتے رہے
تیراساماں اٹھاکر قلی کی طرح
مصرعے اگلی کلاسوں کے بنتا ہوا
خواب کا جامعہ شاعری کی طرح
عمر منصور اس کی گلی میں کٹی
عشق میں نے کیا نوکری کی طرح
منصور آفاق

تبرا مردہ، مخنث امامتوں پر بھیج

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 147
نصابِ درسِ حرم کی نظامتوں پر بھیج
تبرا مردہ، مخنث امامتوں پر بھیج
نماز پڑھ کے رسولِ زمیں کے کہنے پر
دو حرف زر کی فلک گیر قامتوں پر بھیج
جناب شیخ جو اتریں فقط غریبوں پر
ہزار لعنتیں ایسی قیامتوں پر بھیج
خبر نکال کوئی غیب کے اندھیرے سے
کوئی سراغ رساں تُو قدامتوں پر بھیج
یہی تو چیز بناتی ہے خوبرو دل کو
سلامتی کی دعائیں ، ندامتوں پر بھیج
وہی جو سنتِ نبوی پہ چلنے سے نکلیں
درود ایسی مقدس کرامتوں پر بھیج
دکھا جہاں کو مدنیہ کی امن زا تہذیب
بہار اپنی منور علامتوں پر بھیج
خود آپ چیر دے تاریک موسموں کی قبا
نوید صبح شبوں کی ضخامتوں پر بھیج
بدل دے لوح پہ لکھا مدینے کے صدقے
کرم شعور کا امت کی شامتوں پر بھیج
تُو آسمان سے رحمت کی پتیوں کے ڈھیر
شہیدوں پہ مرے زندہ سلامتوں پر بھیج
جو بھر دے روشنی روحِ سیاہ میں منصور
سلام ایسی مبارک ملامتوں پر بھیج
منصور آفاق

جواب اپنا زمیں کی شکاتیوں پر بھیج

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 146
یہی پیام فلک کی نہایتوں پر بھیج
جواب اپنا زمیں کی شکاتیوں پر بھیج
خطوطِ وصل کے اسباق یاد کرنے ہیں
کوئی کتاب بدن کی حکایتوں پر بھیج
تلاش لیتی ہیں ہر رات جو نیا کمرا
تف ایسی صبح سراپا عنایتوں پر بھیج
اخذ کروں میں ہوا کی تلاوتوں سے کیا
شعورِ ابر ، سمندر کی آیتوں پر بھیج
دیارِ میر کی آرائشیں سلامت رکھ
بہار ، حسنِ سخن کی روایتوں پر بھیج
کوئی اشارہ کوئی روشنی کوئی سگنل
کوئی سروش تو ہم بے ہدایتوں پر بھیج
یہ فتح مند نہ مظلوم ہوں کہیں تیرے
کمک تُو بھیج ستم کی حمایتوں پر بھیج
کوئی صحیفہ ء گل ، کوئی رنگ خیز نمو
درختِ جاں میں خزاں کی سرایتوں پر بھیج
ہزار مرتبہ بھیگی ہوئی نظر کے خطوط
بلند بام چراغوں کی غایتوں پر بھیج
پرندوں کی طرح اپنے گزار دن منصور
بچت کو چھوڑ دے لعنت کفایتوں پر بھیج
منصور آفاق

ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 145
کسی نے کچھ کہا ہے کیا، کہاں یہ چل دیا سورج
ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج
اسے معلوم تھی شاید مری راتوں کی برفابی
مری آنکھوں کے بالکل سامنے دن بھر رہا سورج
چپک جاتا ہے خاموشی سے میرے ساتھ بستر میں
یہ نم دیدہ دسمبر کی اداسی سے بھرا سورج
برہنہ پانیوں پر شام کی کرنیں ٹپکتی تھیں
مگر پھر یوں ہوا نیلا سمندر ہو گیا سورج
مرے دریا کے پانی کو ہوا ہونے نہیں دیتا
کہیں برفیلے کہساروں کو پگھلاتا ہوا سورج
یہ کافی دیر سے کھڑکی کھلی ہے میرے کمرے کی
ابھی نکلا نہیں ہے اِس گلی میں صبح کا سورج
ابھی کچھ دیر رہنا چاہتا ہوں میں اجالوں میں
بلاتا ہے مجھے اپنی طرف پھر ڈوبتا سورج
مجھے دل کی گلی میں بھی تپش محسوس ہوتی ہے
خود اپنے ہجر میں اتنا زیادہ جل بجھا سورج
اُدھر پوری طرح اترا نہیں وہ روشنی کا تھال
نکلتا آ رہا ہے یہ کدھر سے دوسرا سورج
رکھا ہے ایک ہی چہرہ بدن کے بام پر میں نے
کوئی مہتاب کہتا ہے کسی کا تبصرہ سورج
نگاہوں کو شعاعوں کی ضرورت تھی بہت لیکن
کہاں تک میری گلیوں میں مسلسل جاگتا سورج
جہاں اس وقت روشن ہے تبسم تیرے چہرے کا
انہی راتوں میں برسوں تک یہ آوارہ پھرا سورج
اسے اچھے نہیں لگتے سلگتے رتجگے شاید
اکیلا چھوڑ جاتا ہے ہمیشہ بے وفا سورج
اجالے کا کفن بُننا کوئی آساں نہیں ہوتا
نظر آتا ہے شب کے پیرہن سے جا بجا سورج
ابھرنا ہی نہیں میں نے نکلنا ہی نہیں میں نے
اتر کر عرش کے نیچے یہی ہے سوچتا سورج
افق پر اک ذرا آندھی چلی تھی شام کی منصور
کہیں ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی صورت گر پڑا سورج
منصور آفاق

ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 144
خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث
ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث
نظم تلوارِ علی ہے اور مصرع لہجہء زینب
کربلائے لفظ ! میں ہوں خیمہء شبیر کا وارث
چشمِ دانش کی طرح گنتا نہیں ہوں ڈوبتے سورج
میں ابد آباد تک ہوں شام کی تحریر کا وارث
کنٹرول اتنا ہے روز و شب پہ سرمایہ پرستی کا
کہ مرا بیٹا ہے میرے پاؤں کی زنجیر کا وارث
نقش جس کے بولتے ہیں ، رنگ جس کے خواب جیسے ہیں
حضرتِ غالب وہی ہے پیکرِ تصویر کا وارث
منصور آفاق

بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 143
ساحلِ یاد پہ آہوں کا دھواں کارِ عبث
بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث
دھوپ میں ساتھ بھلا کیسے وہ دے سکتا تھا
ایک سائے کے لیے آہ و فغاں کارِ عبث
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
یہ فلک فہمی یہ تسخیرِ جہاں کارِ عبث
تیرے ہونے سے مہ و مہر مرے ہوتے تھے
اب تو ہے سلسلہء کون و مکاں کارِ عبث
یہ الگ چیختے رنگوں کا ہوں شاعر میں بھی
ہے مگر غلغلہء نام و نشاں کارِ عبث
ایک جھونکے کے تصرف پہ ہے قصہ موقوف
بلبلے اور سرِ آب رواں کار عبث
خیر باقی رہے یا شر کی عمل داری ہو
دونوں موجود ہوں تو امن و اماں کارِ عبث
کوئی انگلی، کوئی مضراب نہیں کچھ بھی نہیں
کھینچ رکھی گئی تارِ رگِ جاں کارِ عبث
رہ گئے جنت و دوزخ کہیں پیچھے منصور
اب جہاں میں ہوں وہاں سود و زیاں کارِ عبث
منصور آفاق

مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 142
گمانِ صبح ہے کافی، خیالِ نور بہت
مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت
میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جاؤں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت
یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول، یہی شاخ کو شعور بہت
تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت
یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں ، ضرور، بہت
نصیب، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایۂ کھجور بہت
منصور آفاق

ہم نے تیری نظر اتاری دوست

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 141
کر کے آنکھوں سے بادہ خواری دوست
ہم نے تیری نظر اتاری دوست
اک تعلق ہے خواب کا اس سے
وہ زیادہ نہیں ہماری دوست
زد میں آیا ہوا نہیں نکلا
شور کرتے رہے شکاری دوست
اس کی اک اک نظر میں لکھا تھا
میں تمہاری ہوں بس تمہاری دوست
کیوں مہکتی ہے تیز بارش میں
اک دہکتی ہوئی کنواری دوست
راہ بنتی ہے آنے جانے سے
اور بناتے ہیں باری باری دوست
کچھ عجب ہے تمہارے لہجے میں
بڑھتی جاتی ہے بے قراری دوست
ہم اداسی پہن کے پھرتے ہیں
کچھ ہماری بھی غم گساری دوست
ہم اکیلے ہیں اپنے پہلو میں
ایسی ہوتی ہے دوست داری دوست
رات بھر بیچتے تھے جو سورج
اب کہاں ہیں وہ کاروباری دوست
کیا ہیں کٹھ پتلیاں قیامت کی
برگزیدہ ہوئے مداری دوست
حق ہمارا تھا جس کے رنگوں پر
تم نے وہ زندگی گزاری دوست
ہر طرف ہجرتیں ہیں بستی میں
کیا تمہاری ہے شہریاری دوست
دشتِ دل میں تمہاری ایڑی سے
ہو گیا چشمہ ایک جاری دوست
ہجر کی بالکونی کی شاید
میلوں لمبی ہے راہداری دوست
زندگی نام کی کہیں منصور
ایک ہے دوجہاں سے پیاری دوست
منصور آفاق

یک ہزار ماہ سے عظیم رات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 140
روشنی کی روح میں مقیم رات
یک ہزار ماہ سے عظیم رات
سجدہِ گاہِ شام کی مجھے قسم
مہر نیم روز کی حریم رات
سہہ پہر نکھر رہی تھی ہر طرف
گار ہاتھا چاند راگ بھیم رات
نت نئی ترنگ سے کرے نزول
قرن ہا قرن سے قدیم رات
باغ میں گلاب بھی اداس تھا
چاند کے بغیر تھی یتیم رات
دل میں حمد حمد کے چراغ تھے
آنکھ میں تھی نور نور میم رات
بار بار آئے میرے صحن میں
وہ کریم اور وہ رحیم رات
منصور آفاق

میرے ساتھ چلی جاؤ تم یا سورج کے ساتھ۔ ایک ہی بات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 139
اُس کی منزل تاریکی ہے،میری منزل رات۔ ایک ہی بات
میرے ساتھ چلی جاؤ تم یا سورج کے ساتھ۔ ایک ہی بات
موسم اور میں ایک ہی دریا کے دو پاگل فرد۔درد نورد
برکھا رت کے آنسو ہوں یاآنکھوں کی برسات۔ ایک ہی بات
تیز ہوا کی زد پر دونوں ،ایک ہی پل کا روپ۔موت کی دھوپ
جیون سے آویختہ میں یا پیڑ سے مردہ پات۔ ایک ہی بات
اس کے کنجِ لب میں میری مسکانوں کی دھول۔ ہجرکے پھول
یعنی جیت کسی کی اور مسلسل میری مات۔ ایک ہی بات
میں گمنام یہاں تو اس کا جانے کون مقام۔کون غلام
ملک سخن کامیں شہزادہ اور ہے وہ سادات۔ ایک ہی بات
تیز کراہیں ، آہیں ، چیخیں ،گرمی اور سیلاب۔سانس عذاب
پاکستان کے منظر ہو ں یادوزخ کے حالات۔ ایک ہی بات
رنگ گریں گے قوسِ قزح سے،پھولوں سے سنگیت۔میت کے گیت
صبحِ بدن پر میرا ہو یا بادصبا کا ہاتھ۔ ایک ہی بات
کیسے کہوں میں باہو ، بلھا ، وارث ، شاہ حسین۔پیر فرید
کیسے کہوں منصور کے یا اقبال کے فرمودات۔ ایک ہی بات
منصور آفاق

بنے ہوئے ہیں بڑے راجپوت آخرِ شب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 138
مرے دماغ کے سب عنکبوت آخرِ شب
بنے ہوئے ہیں بڑے راجپوت آخرِ شب
عشائے غم میری خیرہ سری میں گزری ہے
سو پڑھ رہا ہوں دعائے قنوت آخرِ شب
اداسیوں کے تنفس میں میرے اندر سے
نکل پڑا ہے عدم کا سکوت آخرِ شب
لکھا گیا تھا مجھے آسماں پہ کرنوں سے
ہوا ہے خاک پہ میرا ہبوط آخرِ شب
میں اپنے پاس تہجد کے وقت آیا ہوں
ملا ہے مجھ کو خود اپنا ثبوت آخرِ شب
دبا دیا تھا افق میں امید کا پتہ
نکل پڑا ہے کوئی شہ بلوط آخرِ شب
ہزار رنگ جہنم کے دیکھتا ہوں میں
کیا ہے موت کا منظر حنوط آخرِ شب
بدن پہ دھوپ کا آسیب دیکھ کر منصور
چرا کے برف کے لے آیا بھوت آخرِ شب
منصور آفاق

مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 137
منصور پر خدائی کے الزام کے سبب
مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب
بس رہ گئی ہے یاد میں بجھتی سی ریل کار
میں لیٹ ہو گیا تھا کسی کام کے سبب
مہکا ہوا ہے دیر سے میری گلی کا موڑ
خوشبو پہن کے چلتی ہوئی شام کے سبب
کر لوں گا آسمانوں پہ آباد بستیاں
میں پُر یقیں ہوں زینہء ایام کے سبب
چہرے تک آ گئی تھیں شعاعوں کی ٹہنیاں
جاگا ہوں آفتابِ لبِ بام کے سبب
کتنے سفید کتنے حسین و جمیل لوگ
چھوڑ آیا ایک حسن سیہ فام کے سبب
انجامِ گفتگو ہوا پھولوں کے درمیان
آغازِ گفتگو ہوا دشنام کے سبب
بیٹھا ہوں کوہِ سرخ کے پتھر تراشتا
دریائے سندھ ! آپ کے پیغام کے سبب
صحرا نے صادقین کی تصویر اوڑھ لی
اک نظمِ گردباد کے الہام کے سبب
جس کی مجھے تلاش تھی وہ درد مل گیا
ہوں کامیاب صحبتِ ناکام کے سبب
سورج پلٹ گیا ہے ملاقات کے بغیر
زلف سیہ کے بسترِ بدنام کے سبب
پروردگارِ اول و آخر سے پانچ وقت
ملتے ہیں لوگ کمرئہ اصنام کے سبب
شب ہائے زخم زخم گزارے خوشی کے ساتھ
لندن کی ایک غم زدہ مادام کے سبب
دینا پڑے گا شیخ کو میرا حساب بھی
کافر ہوا ہوں چہرئہ اسلام کے سبب
منصور آفاق

ناراض ہو گئے مرے ہمدرد بے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 136
کچھ موتیے کے پھول ہوئے زرد بے سبب
ناراض ہو گئے مرے ہمدرد بے سبب
ویسے ہی محوِ آئینہ داری تھی میری آنکھ
پھیلی ہے میرے چاروں طرف گرد بے سبب
کرتا رہا ہے میرا تعاقب تمام دن
شہرِ شبِ سیہ کا کوئی فرد بے سبب
یہ سچ ہے اس سے کوئی تعلق نہیں مرا
پھرتا ہے شہر جاں میں کوئی درد بے سبب
شامِ وصال آئی تھی آ کر گزر گئی
جاگا ہے مجھ میں سویا ہوا مرد بے سبب
گرتی رہی ہے برف مگر بس خیال میں
منصور میرا کمرہ ہوا سرد بے سبب
منصور آفاق

کیسے وہ پھر رہی ہے جدا مجھ سے بے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 135
شاید وہ مانگتی ہے ملن کے نئے سبب
کیسے وہ پھر رہی ہے جدا مجھ سے بے سبب
کچھ اس کے کار ہائے نمایاں بھی کم نہیں
دل نے بھی کچھ بگاڑے ہیں بنتے ہوئے سبب
روشن ہے میرے صحن میں امید کا درخت
پچھلی گلی میں جلتے ہوئے بلب کے سبب
دیکھی کبھی نہیں تھیں یہ گلیاں بہار کی
جب چل پڑا تو راہ میں بنتے گئے سبب
کیا کیا نکالتی ہو بہانے لڑائی کے
آنسو کبھی سبب تو کبھی قہقہے سبب
منصور اتفاق سے ملتی ہیں منزلیں
بے رہروی کبھی تو کبھی راستے سبب
منصور آفاق

شاید یہ زندگی کی جادو گری ہے خواب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 134
بہتی بہار سپنا، چلتی ندی ہے خواب
شاید یہ زندگی کی جادو گری ہے خواب
ایسا نہ ہو کہ کوئی دروازہ توڑ دے
رکھ آؤ گھر سے باہر بہتر یہی ہے خواب
تُو نے بدل لیا ہے چہرہ تو کیا کروں
میری وہی ہیں آنکھیں میرا وہی ہے خواب
میں لکھ رہا ہوں جس کی کرنوں کے سبز گیت
وہ خوبرو زمانہ شاید ابھی ہے خواب
ہر سمت سے وہ آئے قوسِ قزح کے ساتھ
لگتا ہے آسماں کی بارہ دری ہے خواب
اس کے لیے ہیں آنکھیں اس کے لیے ہے نیند
جس میں دکھائی دوں میں وہ روشنی ہے خواب
دل نے مکانِ جاں تو دہکا دیا مگر
اْس لمسِ اخگری کی آتش زنی ہے خواب
اک شخص جا رہا ہے اپنے خدا کے پاس
دیکھو زمانے والو! کیا دیدنی ہے خواب
تجھ سے جدائی کیسی ، تجھ سے کہاں فراق
تیرا مکان دل ہے تیری گلی ہے خواب
سورج ہیں مانتا ہوں اس کی نگاہ میں
لیکن شبِ سیہ کی چارہ گری ہے خواب
امکان کا دریچہ میں بند کیا کروں
چشمِ فریب خوردہ پھر بُن رہی ہے خواب
رک جا یہیں گلی میں پیچھے درخت کے
تجھ میں کسی مکاں کی کھڑکی کھلی ہے، خواب
منصور وہ خزاں ہے عہدِ بہار میں
ہنستی ہوئی کلی کی تصویر بھی ہے خواب
منصور آفاق

کیا ہے جو دیکھتا ہوں پچھلی گلی کے خواب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 133
لگتے ہیں خوبصورت گزری ہوئی کے خواب
کیا ہے جو دیکھتا ہوں پچھلی گلی کے خواب
ہیں بے چراغ دل کے جگنو قطار میں
پلکوں سے چُن رہا ہوں لا حاصلی کے خواب
آنسو بہا رہی ہیں آنکھیں فرات کی
پتھرا گئے ہیں جیسے تشنہ لبی کے خواب
ہے اجتماعی وحشت چشمِ شعور میں
اپنے خمیر میں ہیں کیا کیا کجی کے خواب
مجبور دل الگ ہے دل کی طلب الگ
بستر کسی کا بے شک دیکھے کسی کے خواب
منصور موتیوں سے جس کی بھری ہے جیب
تاریخ لکھ رہی ہے اک بس اسی کے خواب
منصور آفاق

جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 132
ایک شرابی ہاتھ کی دستک اور شراب
جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب
پیاس ہوائے شام میں اپنے بین کرے
ابر ہے بامِ ذات کی حد تک اور شراب
مجھ سے تیری یادیں چھین نہیں سکتے
اُس بازار کے سارے گاہک اور شراب
سات سمندر پار کا ایک پرانا کوٹ
بیچ سڑک کے ٹوٹی عینک اور شراب
سناٹوں کی آوازوں کا ایک ہجوم
شور میں گم ہو جانے کا شک اور شراب
تیری گلی آوازِ سگاں ، مجذوب ضمیر
ڈوب رہی ہے رات کی کالک اور شراب
عمر ہوئی میخانے کے دروازے پر
دست و گریباں میرا مسلک اور شراب
رات کے پچھلے پہر لہو کی صورت تھے
میری رگوں میں گھنگرو ڈھولک اور شراب
کھلتا سرخ سا فیتہ، دوشیزہ فائل
انٹر کام کی بجتی دستک اور شراب
دیکھ کے موسم خود ہی بچھتے جاتے ہیں
صحرا کی سہ پہر میں اجرک اور شراب
ایک گلی میں دو دیواریں ہیں منصور
ساتھ مری بے مقصد بک بک اور شراب
منصور آفاق

میرے کاہن عینک اور کتاب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 131
غیب کا مدفن عینک اور کتاب
میرے کاہن عینک اور کتاب
ایک بہکتے حرف کے پہلو میں
رکھ دی فوراً عینک اور کتاب
ٹیرس پر تنہائی کی رم جھم
بھیگا ساون عینک اور کتاب
میر و غالب پھر مہمان ہوئے
چائے کے برتن عینک اور کتاب
یاد کی لائبریری زندہ باد
اپنا جیون عینک اور کتاب
برف بھری تنہائی میں منصور
یار کا درشن عینک اور کتاب
منصور آفاق

حادثے سے پہلے ہوٹل سے نکلنا پڑ گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 130
برقی زینے پر مخالف سمت چلنا پڑ گیا
حادثے سے پہلے ہوٹل سے نکلنا پڑ گیا
ساحلوں کی ریت پر گرتے ہوئے آیا خیال
کیا ہواکہ موج سے مل کر اچھلنا پڑ گیا
آ گیا پھر یاد کہ پستی نہیں میرامقام
گرتے گرتے راستے میں پھر سنبھلنا پڑ گیا
دیکھ کر لاہور کو جاتا ہوا کوئی جہاز
ایک بچے کی طرح دل کو مچلنا پڑ گیا
درد تھا اس کی رگوں میں سلسلے تھے آگ کے
کار کے منصور انجن کو بھی جلنا پڑ گیا
منصور آفاق

چلنے لگے تو راستہ تقسیم ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 129
دونوں طرف ذرا ذرا تقسیم ہو گیا
چلنے لگے تو راستہ تقسیم ہو گیا
کچھ دیدئہ سیاہ میں کچھ تیرہ بخت میں
کاجل شبِ فراق کا تقسیم ہو گیا
پہلے پہل تو ہنس پڑے سن کر کسی کی بات
پھر آنسوئوں میں حوصلہ تقسیم ہو گیا
خود کو کیا تھا جمع بڑی مشکلوں کے ساتھ
پھر کرچیوں میں بٹ گیا تقسیم ہو گیا
محسوس یوں ہوا کسی زلفِ سیہ کا لمس
شانوں پہ جیسے ابر سا تقسیم ہو گیا
منصور یادِ یار کے انبوہ میں کہیں
وہ دل جو دوست اپنا تھا تقسیم ہو گیا
منصور آفاق

آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 128
آخرش ہجراں کے مہتابوں کا مد فن ہو گیا
آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا
دھوپ در آئی اچانک رات کو برسات میں
اس کا چہرہ آنسوئوں میں عکس افگن ہو گیا
دل چرا کر جا رہا تھا میں دبے پاؤں مگر
چاند نکلا اور سارا شہر روشن ہو گیا
رو پڑا تھا جا کے داتا گنج کے دربار پر
یوں ہوا پھر راہ میں سانول کا درشن ہو گیا
بجلیاں ہیں بادلوں کے بین ہیں کمرے کے بیچ
اور کیلنڈر کہے ہے، ختم ساون ہو گیا
کیوں سلگتی ریت نے سہلا دیے تلووں کے پھول
یہ اذیت کیش دل صحرا کا دشمن ہو گیا
جھلملا اٹھتا تھا برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو روٹھا زرد کنگن ہو گیا
تیری میری زندگی کی خوبصورت ساعتیں
تیرا بچپن ہو گیا یا میرا بچپن ہو گیا
ایک جلوے کی قیامت میں نے دیکھی طور پر
دھوپ تھی ایسی کہ سورج سوختہ تن ہو گیا
بے خدا ہوں سوچتا ہوں شکر کس کا ہو ادا
میں نے جو چاہا وہی منصور فوراً ہو گیا
منصور آفاق

گالی لہک اٹھی کبھی جوتا اتر گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 127
خوابِ وصال میں بھی خرابہ اتر گیا
گالی لہک اٹھی کبھی جوتا اتر گیا
میں نے شبِ فراق کی تصویر پینٹ کی
کاغذ پہ انتظار کا چہرہ اتر گیا
کوئی بہشتِ دید ہوا اور دفعتاً
افسوس اپنے شوق کا دریا اتر گیا
رش اتنا تھا کہ سرخ لبوں کے دباؤ سے
اندر سفید شرٹ کے بوسہ اتر گیا
اس خواب کے مساج کی وحشت کا کیا کہوں
سارا بخار روح و بدن کا اتر گیا
کچھ تیز رو گلاب تھے کھائی میں جا گرے
ڈھلوان سے بہار کا پہیہ اتر گیا
منصور جس میں سمت کی مبہم نوید تھی
پھر آسماں سے وہ بھی ستارہ اتر گیا
منصور آفاق

سادہ دلوں کا نامہ ء قسمت بھرو گے کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 126
جو خط لکھا نہیں اسے رسوا کرو گے کیا
سادہ دلوں کا نامہ ء قسمت بھرو گے کیا
کیا دیکھتے ہو مردہ بدن کو اے زندہ دل
پھر نفس کے محاذ پہ جا کر مرو گے کیا
رہنے دو میری قبر کو بے نام ، بے نشاں
اس نور کے وجود پہ پتھرو دھرو گے کیا
تم تو سگ مدینہ ہو ، باہو کے شیر ہو
بدشکل مولوی کی زباں سے ڈرو گے کیا
اے صاحب خرد! تری کامل سہی دلیل
بعد از ممات وہ جو ہوا تو کرو گے کیا
منصور آفاق

وہ اس کا مکاں تھا اپنا پتہ جا میں نے کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 125
وہ چشم سراپا حیرت تھی کیا میں نے کیا
وہ اس کا مکاں تھا اپنا پتہ جا میں نے کیا
ہے فکر مجھے انجام مرے ہاتھوں سے نہ ہو
آغاز کا کیا ہے اس نے کیا یا میں نے کیا
کچھ زخم گلی کے بلب تلے تحریر کیے
پھر اپنے لہو سے اپنا تماشا میں نے کیا
صد شکر دیے کی آخری لو محفوظ ہوئی
ہے فخر مجھے دربند ہوا کا میں نے کیا
منصور وہ میری آنکھ کو اچھی لگتی تھی
سو ہجر کی کالی رات سے رشتہ میں نے کیا
منصور آفاق

خواب میں جا کر رقص کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 124
نیندجگاکر رقص کیا
خواب میں جا کر رقص کیا
خوشبو کے اکتارے پر
رنگ بجا کر رقص کیا
آبِ رواں کے پہلو میں
گیت بہاکر رقص کیا
نرم پروں پہ تتلی کے
شام بناکر رقص کیا
ابرِ سیہ کی بوندوں میں
شور مچاکر رقص کیا
دھوپ کے ننگے سینے پر
پیٹر جھکا کر رقص کیا
رات کے کالے شیشے سے
دن ٹکرا کر رقص کیا
خواب بھری آوازوں سے
لطف اٹھا کر رقص کیا
بزم سخن میں رومی سے
ہاتھ ملا کر رقص کیا
برف بھری منصور رُتیں
آگ بجھا کر رقص کیا
منصور آفاق

رنگ بکھرا دیے پھر تازہ ہوا نے کیا کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 123
مل گئے مجھ کو بھی جینے کے بہانے کیا کیا
رنگ بکھرا دیے پھر تازہ ہوا نے کیا کیا
کیسی خوشبوئے بدن آتی ہے کمرے سے مجھے
پھول وہ چھوڑ گئی میرے سرہانے کیا کیا
میں تجھے کیسے بتاؤں مری نازک اندام
مجھ پہ گزرے ہیں مصائب کے زمانے کیا کیا
میری خاموشی پہ الزام لگانے والی
کہتی پھرتی ہیں تری آنکھیں نجانے کیا کیا
کیا غزل چھیڑی گئی سانولے رخساروں کی
شام کے گیت کہے بادِ صبا نے کیا کیا
میرے پہلو میں نئے پھول کھلے ہیں کتنے
مجھ کو شاداب کیا دستِ دعا نے کیا کیا
یونہی بے وجہ تعلق ہے کسی سے لیکن
پھیلتے جاتے ہیں منصور فسانے کیا کیا
منصور آفاق

فروزاں خواب کیے تیرہ طاق نے کیا کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 122
تری طلب نے ترے اشتیاق نے کیا کیا
فروزاں خواب کیے تیرہ طاق نے کیا کیا
میں جا رہا تھا کہیں اور عمر بھر کے لیے
بدل دیا ہے بس اک اتفاق نے کیا کیا
عشائے غم کی تلاوت رہے تہجد تک
سکھا دیا ہے یہ دینِ فراق نے کیا کیا
نری تباہی ہے عاشق مزاج ہونا بھی
دکھائے غم ہیں دلِ چست و چاق نے کیا کیا
وہ لب کھلے تو فسانہ بنا لیا دل نے
گماں دیے ترے حسنِ مذاق نے کیا کیا
مقامِ خوک ہوئے دونوں آستانِ وفا
ستم کیے ہیں دلوں پر نفاق نے کیا کیا
ہر ایک دور میں چنگیزیت مقابل تھی
لہو کے دیپ جلائے عراق نے کیا کیا
ہر اک شجر ہے کسی قبر پر کھڑا منصور
چھپا رکھا ہے زمیں کے طباق نے کیا کیا
منصور آفاق

ہجر کو وصل پر قیاس کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 121
یوں خیالوں نے بد حواس کیا
ہجر کو وصل پر قیاس کیا
اپنی پہچان کے عمل نے مجھے
روئے جاناں سے روشناس کیا
کچھ فسردہ زمیں سے تھے لیکن
آسماں نے بہت اداس کیا
ہم نے ہر اک نماز سے پہلے
زیبِ تن خاک کا لباس کیا
بھول آئے ہیں ہم وہاں منصور
کیا بسیرا کسی کے پاس کیا
منصور آفاق

آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 120
نیند کی ناراضگی کو کم کیا
آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا
اس نے شانوں پر بکھیرے اپنے بال
اور شیتل شام کا موسم کیا
پہلے رنگوں کو اتارا اور پھر
اس نے ہیٹر کو ذرا مدہم کیا
ایک آمر کی ہلاکت پر کہو
سرنگوں کیوں ملک کا پرچم کیا
صبح آنسو پونچھ کے ہم سو گئے
روشنی کا رات بھر ماتم کیا
مان لی ہم نے کہانی رات کی
اس نے پلکوں کو ذرا سانم کیا
عاشقی کی داد چاہی شہر سے
ہیٹ اتارا اور سر کو خم کیا
دار پر کھینچا مرے منصور کو
اور سارے شہر کو برہم کیا
منصور آفاق

کبھی گھر کے درویوار سے مل کر رویا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 119
کبھی غم سے کبھی آزار سے مل کر رویا
کبھی گھر کے درویوار سے مل کر رویا
کبھی تصویریں اٹھائیں کبھی رکھ دیں میں نے
کبھی کپڑوں کے میں انبار سے مل کر رویا
کبھی انگن سے اٹھا لایا میں یادیں اس کی
کبھی باغیچے کے اشجار سے مل کر رویا
جسے پاؤں میں بچھایا تھا گذشتہ رت میں
کبھی اُس منزلِ مسمار سے مل کر رویا
کبھی ہم بھیگتے تھے جس کی سروں سے مل کر
اُسی بارش اُسی ملہار سے مل کر رویا
کبھی اشعار کہے اشک گزیدہ دل کے
کبھی اندر کے میں فنکار سے مل کر رویا
کہا کرتا تھا جسے پیار کا دن وہ منصور
اسی روتی ہوئی اتوار سے مل کر رویا
منصور آفاق

آوارگی کی شام مجھے گھر نے آ لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 118
ٹوٹے ہوئے کواڑ کے منظر نے آ لیا
آوارگی کی شام مجھے گھر نے آ لیا
میں جا رہا تھا زخم کا تحفہ لیے بغیر
پھر یوں ہوا کہ راہ کے پتھر نے آ لیا
میں سن رہا ہوں اپنے ہی اندر کی سسکیاں
کیا پھر کسی عمل کے مجھے ڈرنے آ لیا
گزرا کہیں سے اور یہ آنکھیں چھلک پڑیں
یادش بخیر ! یادِ ستم گر نے آ لیا
وہ جس جگہ پہ اُس سے ملاقات ہونی تھی
پہنچا وہاں تو داورِ محشر نے آ لیا
منصور چل رہا تھا ابھی کہکشاں کے پاس
یہ کیا ہوا کہ پاؤں کی ٹھوکر نے آ لیا
منصور آفاق

سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 117
کہ جو فقر نے ہے عطاکیا وہی چاک چاک پہن لیا
سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا
لیا ڈھانپ ننگ نصیب کا اسی جامہ ء شبِ تار سے
جو جلادیا تھا فقیر نے وہی راکھ راکھ پہن لیا
کبھی سردمہر ہوئے کہیں تو سیاہ چین زمین تھی
گریں دوپہر میں بھی بجلیاں جو کبھی تپاک پہن لیا
کبھی شہر کے کسی موڑپریونہی خالی ہاتھ بڑھا دئیے
کبھی ذکر و فکر کی غار میں ترا انہماک پہن لیا
جو مٹھائیوں کی طلب اٹھی توزمیں کی خاک ہی پھانک لی
جو سفید سوٹ کو جی کیا تو سیہ فراک پہن لیا
جہاں یاد آئیں حکومتیں وہیں ہم برہنہ ہو گئے
جہاں حرف زاد کوئی ملا وہیں ملکِ پاک پہن لیا
منصور آفاق

بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 116
موجوں کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا
بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا
اپنی سیاہ بختی کا اتنا رکھا لحاظ
گوہر ملا تو اس کو بھی کنکر بنا لیا
بدلی رُتوں کو دیکھ کے اک سرخ سا نشاں
ہر فاختہ نے اپنے پروں پر بنا لیا
شفاف پانیوں کے اجالوں میں تیرا روپ
دیکھا تو میں نے آنکھ کو پتھر بنا لیا
ہر شام بامِ دل پہ فروزاں کیے چراغ
اپنا مزار اپنے ہی اندر بنا لیا
پیچھے جو چل دیا مرے سائے کی شکل میں
میں نے اُس ایک فرد کو لشکر بنا لیا
شاید ہر اک جبیں کا مقدر ہے بندگی
مسجد اگر گرائی تو مندر بنا لیا
کھینچی پلک پلک کے برش سے سیہ لکیر
اک دوپہر میں رات کا منظر بنا لیا
پھر عرصۂ دراز گزارا اسی کے بیچ
اک واہموں کا جال سا اکثر بنا لیا
بس ایک بازگشت سنی ہے تمام عمر
اپنا دماغ گنبدِ بے در بنا لیا
باہر نکل رہے ہیں ستم کی سرنگ سے
لوگوں نے اپنا راستہ مل کر بنا لیا
گم کربِ ذات میں کیا یوں کربِ کائنات
آنکھوں کے کینوس پہ سمندر بنا لیا
منصور جس کی خاک میں افلاک دفن ہیں
دل نے اسی دیار کو دلبر بنا لیا
منصور آفاق

ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 115
پیر فرید کی روہی میں ہوں ، مجھ میں پیاس کا دریا
ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا
عمرِ رواں کے ساحل پر اوقات یہی ہیں دل کے
صبح ، طلب کی بہتی کشتی، شب ،وسواس کا دریا
سورج ڈھالے جا سکتے تھے ہر قطرے سے لیکن
یوں ہی بہایا میں نے اشکوں کے الماس کا دریا
جس کے اک اک لمحے میں ہے صدیوں کی خاموشی
میرے اندر بہتا جائے اس بن باس کا دریا
ہم ہیں آبِ چاہ شباں کے ہم حمام سگاں کے
شہر میں پانی ڈھونڈ رہے ہو چھوڑ کے پاس کا دریا
تیری طلب میں رفتہ رفتہ میرے رخساروں پر
سوکھ رہا ہے قطرہ قطرہ تیز حواس کا دریا
سورج اک امید بھرا منصور نگر ہے لیکن
رات کو بہتا دیکھوں اکثر خود میں یاس کا دریا
منصور آفاق

ولولہ کیسا حیرت زدہ دید کی ایک لپ نے دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 114
ایک کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی کی تڑپ نے دیا
ولولہ کیسا حیرت زدہ دید کی ایک لپ نے دیا
اس لڑائی سے پچھلی لڑائی کا کوئی تعلق نہ تھا
اِس لڑائی کو لیکن بڑھاوا گذشتہ جھڑپ نے دیا
تیرے جیسی کئی اور تھیں تجھ سے بہتربھی مل سکتی تھی
تیرے غم کایونہی کینسردل میں برسوں پنپنے دیا
میں نے سورج کو پھراک کرشمہ کہا اس پہ نظمیں کہیں
پہلے کچھ دیرآتی شعاعوں سے کمرے کو تپنے دیا
برف کی رات میں تم ہمیشہ رہو یہ دعادی اسے
جس ڈرنک کارنر کاپتہ چائے کے گرم کپ نے دیا
منصور آفاق

پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 113
دائروں کی آنکھ دی، بھونچال کا تحفہ دیا
پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا
رفتہ رفتہ اجنبی لڑکی لپٹتی ہی گئی
برف کی رت نے بدن کی شال کا تحفہ دیا
سوچتا ہوں وقت نے کیوں زندگی کے کھیل میں
پاؤں میرے چھین کر فٹ بال کا تحفہ دیا
’’آگ جلتی ہے بدن میں ‘‘بس کہا تھا کار میں
ہم سفر نے برف کے چترال کا تحفہ دیا
رات ساحل کے کلب میں مچھلیوں کو دیر تک
ساتھیوں نے اپنے اپنے جال کا تحفہ دیا
کچھ تو پتھر پر ابھر آیا ہے موسم کے طفیل
کچھ مجھے اشکوں نے خدوخال کا تحفہ دیا
پانیوں پر چل رہے تھے عکس میرے ساتھ دو
دھوپ کو اچھا لگا تمثال کا تحفہ دیا
وقت آگے تو نہیں پھر بڑھ گیا منصور سے
یہ کسی نے کیوں مجھے گھڑیال کا تحفہ دیا
منصور آفاق

یعنی میرا استعارہ رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 112
ریل کی پٹڑی پہ تارہ رکھ دیا
یعنی میرا استعارہ رکھ دیا
کھینچ کر اس نے نظر کی ایک حد
آنکھ میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا
بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا
دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
انتظار آباد یوں رکھا بدن
ہر روئیں پر ایک تارہ رکھ دیا
دیکھا جو سوکھی ہوئی لکڑی کا دل
اس میں خواہش کا شرارہ رکھ دیا
پہلے رکھا یاد نے منصور ہاتھ
رفتہ رفتہ بوجھ سارا رکھ دیا
منصور آفاق

گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 111
ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا
گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا
اک نظر دیکھا کسی نے کیا مجھے
بوجھ کہساروں کا دل پر رکھ دیا
پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں
آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا
اور پھر تازہ ہوا کے واسطے
ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا
ٹھوکروں کی دلربائی دیکھ کر
پاؤں میں اس کے مقدر رکھ دیا
دیکھ کر افسوس تارے کی چمک
اس نے گوہر کو اٹھا کر رکھ دیا
ایک ہی آواز پہنی کان میں
ایک ہی مژگاں میں منظر رکھ دیا
نیند آور گولیاں کچھ پھانک کر
خواب کو بستر سے باہر رکھ دیا
دیدئہ تر میں سمندر دیکھ کر
اس نے صحرا میرے اندر رکھ دیا
اور پھر جاہ و حشم رکھتے ہوئے
میں نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا
میری مٹی کا دیا تھا سو اسے
میں نے سورج کے برابر رکھ دیا
خانہء دل کو اٹھا کر وقت نے
بے سرو ساماں ، سڑک پر رکھ دیا
جو پہن کرآتی ہے زخموں کے پھول
نام اس رُت کا بھی چیتر رکھ دیا
کچھ کہا منصور اس نے اور پھر
میز پر لا کر دسمبر رکھ دیا
منصور آفاق

اور پھر شہر کے پاؤں میں سفر باندھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 110
پہلے سورج کو سرِ راہ گزر باندھ دیا
اور پھر شہر کے پاؤں میں سفر باندھ دیا
چند لکڑی کے کواڑوں کو لگا کر پہیے
وقت نے کار کے پیچھے مرا گھر باندھ دیا
وہ بھی آندھی کے مقابل میں اکیلا نہ رہے
میں نے خیمے کی طنابوں سے شجر باندھ دیا
میری پیشانی پہ انگارے لبوں کے رکھ کے
اپنے رومال سے اس نے مرا سر باندھ دیا
لفظ کو توڑتا تھا میری ریاضت کا ثمر
وسعتِ اجر تھی اتنی کہ اجر باندھ دیا
ایک تعویز جسے میں نے اتارا تھا ابھی
اس نے بازو پہ وہی بارِ دگر باندھ دیا
پھر وہ چڑھنے لگی تیزی سے بلندی کی طرف
پہلے رسہ کہیں تا حدِ نظر باندھ دیا
چلنے سے پہلے قیامت کے سفر پر منصور
آنکھ کی پوٹلی میں دیدۂ تر باندھ دیا
منصور آفاق

وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 109
مری بد لحاظ نگاہ نے مجھے عرشِ جاں سے گرا دیا
وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا
مجھے کچھ بھی اس نے کہا نہیں مگر اپنی رت ہی بدل گئی
مجھے دیکھتے ہوئے برف کو ذرا سائباں سے گرا دیا
مجھے دیکھ کر کہ میں زد پہ ہوں سرِ چشم آخری تیر کو
کسی نے کماں پہ چڑھا لیا کسی نے کماں سے گرا دیا
ہے عجب مزاج کی وہ کوئی کبھی ہم نفس کبھی اجنبی
کبھی چاند اس نے کہا مجھے کبھی آسماں سے گرا دیا
میں وہ خستہ حال مکان تھا جسے خوفِ جاں کے خیال سے
کسی نے یہاں سے گرا دیا کسی نے وہاں سے گرا دیا
منصور آفاق

ہزار ٹوٹ کے بھی طوقِ غم کو توڑ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 108
شکستِ جاں سے حصارِ الم کو توڑ دیا
ہزار ٹوٹ کے بھی طوقِ غم کو توڑ دیا
یہ احتجاج کا لہجہ نہیں بغاوت ہے
لکھے کو آگ لگا دی قلم کو توڑ دیا
قریب تر کسی پب کے مری رہائش تھی
اسی قرابتِ مے نے قسم کو توڑ دیا
قدم قدم پہ دلِ مصلحت زدہ رکھ کر
کسی نے راہِ وفا کے بھرم کو توڑ دیا
ہزار بار کہانی میں میرے ہیرو نے
دعا کی ضرب سے دستِ ستم کو توڑ دیا
سلام اس کی صلیبوں بھری جوانی پر
وہ جس نے موت کے جاہ و حشم کو توڑ دیا
نکل پڑا میں تلاشِ یزید میں اک دن
اور احتجاج کے کالے علم کو توڑدیا
یہ انتہا ہے دماغِ خراب کی منصور
دھرم کو چھوڑ دیا اور صنم کو توڑ دیا
منصور آفاق

وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 107
میں زندگی ہوں وہ جانے لگا تو اس نے کہا
وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا
مجھے زمین سے رکھنے ہیں اب مراسم بس
جب آسماں نے فسردہ کیا تو اس نے کہا
میں تتلیوں کے تعاقب میں جانے والا ہوں
کسی نے ماتھے پہ بوسہ دیا تو اس نے کہا
اداس رہنے کی عادت ہے مجھ کو ویسے ہی
گلی میں اس کی کوئی مرگیا تو اس نے کہا
مجھے بھی شام کی تنہائی اچھی لگتی ہے
مری اداسی کا قصہ سنا تو اس نے کہا
خیال رکھنا تجھے دل کا عارضہ بھی ہے
جب اس کے سامنے میں رو پڑا تو اس نے کہا
مجھے تو رات کی نیت خراب لگتی ہے
چراغ ہاتھ سے میرے گرا تو اس نے کہا
کوئی فرشتوں کی مجھ سے تھی دشمنی منصور
پڑھا نصیب کا لکھا ہوا تو اس نے کہا
منصور آفاق

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 106
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام کرتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خار و خس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی، بس چشمۂ ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا، حرکتِ عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
منصور آفاق

آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 105
تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا
آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا
میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمی
چاہتے تھے جو،وہی پیغمبری کرتا رہا
نیند آجائے کسی صورت مجھے، اس واسطے
میں ، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا
کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفس
میں بہشتِ دید کے ملزم بری کرتا رہا
جانتا تھا باغِ حیرت کے وہی ساتوں سوال
اک سفر تھا میں جسے بس ملتوی کرتا رہا
تھی ذرا سی روشنی سواحتیاطً بار بار
پوٹلی میں بند پھر میں پوٹلی کرتا رہا
سارادن اپنے کبوتر ہی اڑاکردل جلا
آسماں کا رنگ کچھ کچھ کاسنی کرتا رہا
دیدہ ء گرداب سے پہچان کر بحری جہاز
اک سمندرگفتگو کچھ ان کہی کرتا رہا
دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک
ریت کا ٹیلاہوا سے دوستی کرتا رہا
رات کی آغوش میں گرتے رہے ، بجھتے رہے
میں کئی روشن دنوں کی پیروی کرتا رہا
اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن
جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا
میں کہ پانچوں کا ملازم میں کہ چاروں کا غلام
حسبِ فرمانِ خدا ، وردِ نبیﷺ کرتا رہا
منصور آفاق

یہ انتظار کدہ ہے، یہ گیٹ پر لکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 104
کب اپنا نام مکاں کی پلیٹ پر لکھا
یہ انتظار کدہ ہے، یہ گیٹ پر لکھا
پھر ایک تازہ تعلق کو خواب حاضر ہیں
مٹا دیا ہے جو پہلے سلیٹ پر لکھا
وہ انتظار تھا بگلے کی بند آنکھوں میں
میں دستیاب ہوں مچھلی نے پیٹ پر لکھا
لکھا ہوا نے ’’یہ بس میری آخری حد ہے
"اب اس اڑان سے اپنے سمیٹ پر” لکھا
جہانِ برف پگھلنے کے بین لکھے ہیں
ہے نوحہ آگ کی بڑھتی لپیٹ پر لکھا
جنابِ شیخ کے فرمان قیمتی تھے بہت
سو میں نے تبصرہ ہونٹوں کے ریٹ پر لکھا
ہے کائنات تصرف میں خاک کے منصور
یہی فلک نے کری کی پلیٹ پر لکھا
منصور آفاق

میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 103
اس نے پہلے مارشل لاء میرے آنگن میں رکھا
میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا
صحن میں پھیلی ہوئی ہے گوشت جلنے کی سڑاند
جیسے سینے میں نہیں کچھ اس نے اوون میں رکھا
جب سوئمنگ پول کے شفاف پانی سے ملی
آنسوئوں والا فقط اک ہار گردن میں رکھا
ہونٹ ہیٹر پہ رکھے تھے اس کی یادوں پر نہیں
تھا جہنم خیز موسم غم کے جوبن میں رکھا
سانپ کو اس نے اجازت ہی نہیں دی وصل کی
گھر کے دروازے سے باہر دودھ برتن میں رکھا
میں اسے منصور بھیجوں کس لیے چیتر کے پھول
جس نے سارا سال مجھ کو غم کے ساون میں رکھا
منصور آفاق

وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 102
آسرا کس وقت مٹی کے کھلونے پر رکھا
وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا
دیکھتا کیا میں تری دنیا کہ ہجرِ یار میں
دیدہ و دل کو ہمیشہ وقف رونے پر رکھا
پانیوں کو ساحلوں میں قید کر دینے کے بعد
موج کو پابند ساحل کے ڈبونے پر رکھا
چاہتا تو وقت کا ہم رقص بن سکتا تھا میں
خود سے ڈر کر خود کو لیکن ایک کونے پر رکھا
اپنی آنکھیں چھوڑ آیا اس کے دروازے کے پاس
اور اس کے خواب کو اپنے بچھونے پر رکھا
سونپ کر منصور دل کو آگ سلگانے کا کام
آنکھ کو مصروف دامن کے بھگونے پر رکھا
منصور آفاق

تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج… اور در نہ دکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 101
مرے نصیب پہ رو دے، کسی کا گھر نہ دکھا
تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج… اور در نہ دکھا
تُو اپنی شام کے بارے کلام کر مجھ سے
کسی کے بام پہ ابھری ہوئی سحر نہ دکھا
ابھی تو وصل کی منزل خیال میں بھی نہیں
شبِ فراق! ابھی سے یہ چشمِ تر نہ دکھا
گزار آیا ہوں صحرا ہزار پت جھڑ کے
فریبِ وقت! مجھے شاخِ بے ثمر نہ دکھا
میں جانتا ہوں قیامت ہے بیچ میں منصور
مجھے یہ راہ میں پھیلے ہوئے خطر نہ دکھا
منصور آفاق

سرابِ ذات کا کیسا سموتھ پانی تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 100
ہوا تھی تیز مگر ، پُرسکوت پانی تھا
سرابِ ذات کا کیسا سموتھ پانی تھا
وہاں پہ آگ کو کیا سرخروئی ملنی تھی
جہاں حیات کا پہلا ثبوت پانی تھا
وہ تشنہ لب رہا دریا کے پاس آ کر بھی
مرے کنارے کا شاید اچھوت پانی تھا
کئی ہزار برس پہلے میرے پاؤں میں
بشکلِ برف زمیں پر حنوط پانی تھا
اکیلگی تھی جزیرے پہ اور ہوائیں تھیں
گرے ہوئے تھے کئی شہ بلوط ، پانی تھا
ہر اک خیال کے اس انجماد میں منصور
حدِ نگاہ کا بے شکل بھوت پانی تھا
منصور آفاق

سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 99
کنارِ صبحِ امکاں اک تبسم بار چہرہ تھا
سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا
مری نظریں اٹھیں تو پھر پلٹ کر ہی نہیں آئیں
عجب سندر سی آنکھیں تھی عجب دلدار چہرہ تھا
سنا ہے اس لیے اس نے تراشے خال و خد میرے
اسے پہچان کو اپنی کوئی درکار چہرہ تھا
ہوا کی آیتوں جیسی تکلم کی بہشتیں تھیں
شراب و شہد بہتے تھے وہ خوش گفتار چہرہ تھا
جہاں پر دھوپ کھلتی تھی وہیں بادل برستے تھے
جہاں پُر خواب آنکھیں تھیں وہیں بیدار چہرہ تھا
شفق کی سر خ اندامی لب و رخسار جیسی تھی
چناروں کے بدن پر شام کا گلنار چہرہ تھا
جسے بتیس برسوں سے مری آنکھیں تلاشے ہیں
بس اتنا جانتا ہوں وہ بہت شہکار چہرہ تھا
جہاں پر شمع داں رکھا ہوا ہے یاد کا منصور
یہاں اس طاقچے میں کوئی پچھلی بار چہرہ تھا
منصور آفاق

نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 98
یاد کچھ بھی نہیں کہ کیا کچھ تھا
نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا
میں ہی کچھ سوچ کر چلا آیا
ورنہ کہنے کو تھا ، بڑا کچھ تھا
چاند کچھ اور کہتا جاتا تھا
دلِ وحشی پکارتا کچھ تھا
اس کی پاؤں کی چاپ تھی شاید
یا یونہی کان میں بجا کچھ تھا
میں لپٹتا تھا ہجر کی شب سے
میرے سینے میں ٹوٹتا کچھ تھا
کُن سے پہلے کی بات ہے کوئی
یاد پڑتا ہے کچھ، کہا کچھ تھا
پھرفلک سے بھی ہو گئے مایوس
پہلے پہلے تو آسرا کچھ تھا
ہے گواہی کو اک سیہ پتھر
آسماں سے کبھی گرا کچھ تھا
لوگ بنتے تھے گیت پہلے بھی
مجھ سے پہلے بھی سلسلہ کچھ تھا
موسمِ گل سے پہلے بھی موسم
گلستاں میں بہار کا کچھ تھا
اس کی آنکھیں تھیں پُر خطر اتنی
کہہ دیا کچھ ہے مدعا کچھ تھا
آنکھ کیوں سوگوار ہے منصور
خواب میں تو معاملہ کچھ تھا
منصور آفاق

یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 97
ناریل کے درختوں کی شاخوں میں بادام کا پیڑ تھا
یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا
قمقموں سے پرویا ہوا، روشنی سے بھگویا ہوا
برف کے ڈھیر میں سرخ سا زخمِ ناکام کا پیڑ تھا
شاعری نہر کے ساتھ چلتی ہوئی چاپ تھی خواب کی
رات نظموں کی فٹ پاتھ تھی چاند الہام کا پیڑ تھا
میں ثمر باریوں کی توقع لئے دیکھتا تھا اسے
جو کرائے کے گھر میں لگایا ابھی آم کا پیڑ تھا
ایک دہکی ہوئی آگ کے تھے شمالی پہاڑوں پہ پھول
اک دہکتے چناروں میں کشمیر کے نام کا پیڑ تھا
جس کے پتوں سے تصویر کھینچی گئی میرے کردار کی
ٹہنیوں سے کئی جھوٹ لٹکے تھے، الزام کا پیڑ تھا
اک طرف نیکیوں کا شجر تھا سفیدی پھری قبر سا
اک طرف لمس افزا گناہِ سیہ فام کا پیڑ تھا
زلزلے بھی وبائیں بھی سیلاب بھی شاخ درشاخ تھے
ساری بستی پہ پھیلا ہوا کوئی آلام کا پیڑ تھا
سب پھلوں کے مگر مختلف ذائقے ، مختلف رنگ تھے
اپنی تفہیم کے باغ میں تازہ افہام کا پیڑ تھا
جس شجر کی جوانی کومیں چھوڑ آیا بہاروں کے بیچ
گالیاں چھاؤں میں چہچہاتی تھیں دشنام کا پیڑ تھا
کوئی انبوہ تھا اہلِ اسباب کا اس کی آغوش میں
کیا ہوس کار گلزار میں درہم و دام کا پیڑ تھا
برگ و بار اس پہ آئے ہوئے تھے نئی شاعری کے بہت
ایک دریا کے مبہم کنارے پہ ابہام کا پیڑ تھا
آگ ہی آگ تھی اس کی شاخوں میں پھیلی ہوئی لمس کی
باغِ فردوس میں ایک ممنوعہ مادام کا پیڑ تھا
اک جڑوں سے لپیٹی ہوئی موت کی بیل کی چیخ تھی
زندگی ، شورِ واہی تباہی تھی ، سرسام کا پیڑ تھا
جس سے منصور گنتے پرندے پھریں اپنی تنہائیاں
حسنِ تقویم کے صحن میں ایک ایام کا پیڑ تھا
منصور آفاق

یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 96
اک سیہ بھیڑ تھی اک سیہ شیر تھا
یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا
بلی کوبادشہ کیسے مانے وہ شخص
جس کی آنکھوں میں شیرِ خدا شیر تھا
شہر میں ہو گیا ہے درندہ صفت
جنگلوں میں مہذب ذرا شیر تھا
نوکری پیشہ یعنی کہ سرکس زدہ
لومڑی کا کوئی دلربا شیر تھا
ایک گیڈر جو گلیوں سے گزرا مری
شور اٹھا شیر تھا شیر تھاشیر تھا
ڈھاڑتا تھاجو منصور کو دیکھ کر
آدمی تھا کوئی ناطقہ شیر تھا
منصور آفاق

اس کی آنکھوں میں عزا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 95
اک مقامِ پُر فضا کا درد تھا
اس کی آنکھوں میں عزا کا درد تھا
وقت کی قربان گاہ تھی دور تک
اور ازل بستہ قضا کا درد تھا
بات مجبوراً روابط کی تھی اور
مجھ کو رغبت اور رضا کا درد تھا
ہجر کے کالک بھرے ماحول سے
مجھ کو صحبت کی سزا کا درد تھا
اک طرف شہد و شراب و لمس تھے
اک طرف روزِ جزا کا درد تھا
منصور آفاق

خشک پتوں کو ہوا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 94
مضمحل ہوتے قویٰ کا درد تھا
خشک پتوں کو ہوا کا درد تھا
جان لیوا بس وہی ثابت ہوا
جو مسیحا کی دوا کا درد تھا
رک گیا، آہیں سُروں پر دیکھ کر
ساز کو بھی ہم نوا کا درد تھا
کچھ برس پہلے مرے احساس میں
تھا، سلوکِ ناروا کا درد تھا
مجھ کو دکھ تھا کربلائے وقت کا
اس کو خاکِ نینوا کا درد تھا
منصور آفاق

راکھ کو یعنی ہوا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 93
دل کو یارِ بے وفا کا درد تھا
راکھ کو یعنی ہوا کا درد تھا
موت کی ہچکی مسیحا بن گئی
رات کچھ اِس انتہا کا درد تھا
ننگے پاؤں تھی ہوا کی اونٹنی
ریت تھی اور نقشِ پا کا درد تھا
کائناتیں ٹوٹتی تھیں آنکھ میں
عرش تک ذہنِ رسا کا درد تھا
میں جسے سمجھا تھا وحشت ہجر کی
زخم پروردہ انا کا درد تھا
رات کی کالک افق پر تھوپ دی
مجھ کو سورج کی چتا کا درد تھا
منصور آفاق

مجھ کو خاکِ کربلا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 92
آسمانوں کو الہ کا درد تھا
مجھ کو خاکِ کربلا کا درد تھا
اس کو خالی صحن کی تکلیف تھی
مجھ کو اندر کے خلا کا درد تھا
اب تلک احساس میں موجود ہے
کتنا حرفِ برملا کا درد تھا
رات تھی روتی ہوئی کوئل کہیں
اس کے لہجے میں بلا کا درد تھا
رو رہا تھا آسماں تک ساتھ ساتھ
ایسا تیرے مبتلا کا درد تھا
اب بھی آنکھوں سے ابل پڑتا ہے دل
کیسا پہلی ابتلا کا درد تھا
منصور آفاق

تیر سورج کی نظر میں لگ گیا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 91
اک چراغِ معتبر میں لگ گیا تھا
تیر سورج کی نظر میں لگ گیا تھا
اس پہ بچپن میں کہانی کھل گئی تھی
دکھ کا پتھر اس کے سر میں لگ گیا تھا
وہ کہیں رہتی تھی تاروں کے نگر میں
سارا دن بس کے سفر میں لگ گیا تھا
پہلے لکھے تھے ستاروں کے قصیدے
پھر قلم کارِ سحر میں لگ گیا تھا
رفتہ رفتہ چھاؤں میٹھی ہو گئی تھی
شہد کا چشمہ شجر میں لگ گیا تھا
پچھلے دکھ منصور جندڑی سہہ گئی تھی
زخم اک تازہ جگر میں لگ گیا تھا
منصور آفاق

صبح کے ماتھے پہ آ کر سج گیا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 90
پابجولاں کیا مرا سورج گیا تھا
صبح کے ماتھے پہ آ کر سج گیا تھا
وہ بھی تھی لپٹی ہوئی کچھ واہموں میں
رات کا پھر ایک بھی تو بج گیا تھا
کوئی آیا تھا مجھے ملنے ملانے
شہر اپنے آپ ہی سج دھج گیا تھا
پہلے پہلے لوٹ جاتا تھا گلی سے
رفتہ رفتہ بانکپن کا کج گیا تھا
مکہ کی ویران گلیاں ہو گئی تھیں
کربلا کیا موسمِ ذوالحج گیا تھا
تُو اسے بھی چھوڑ آیا ہے اسے بھی
تیری خاطر وہ جو مذہب تج گیا تھا
وہ مرے سینے میں شاید مر رہا ہے
جو مجھے دے کر بڑی دھیرج گیا تھا
کتنی آوازوں کے رستوں سے گزر کر
گیت نیلی بار سے ستلج گیا تھا
پاؤں بڑھ بڑھ چومتے تھے اڑتے پتے
تازہ تازہ باغ میں اسوج گیا تھا
چاند تاروں نے خبر منصور دی ہے
رات کی محفل میں کل سورج گیا تھا
منصور آفاق