admin کی تمام پوسٹیں

اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
سایوں سے ہو کر برہنہ زمیں جس کے قہر سے
اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے
نشے کے شہ نشین پہ کچھ دیر بیٹھ کر
آؤ نا انتقام لیا جائے دیر سے
ہرچند دی خرام کی مہلت ہواؤں نے
لیکن خراجِ مرگ لیا لہر لہر سے
بنجر پڑی ہوئی ہے زمیں جسم و جان کی
سیراب کر اسے کبھی سانسوں کی نہر سے
کب تک بچے گا اپنے تعاقب سے دیکھئے
لے کر مزاجِ شہر، وُہ نکلا ہے شہر سے
ہے جامِ خوابِ عشرت فردا بہت، مجھے
میں مر نہیں سکا ہوں کسی دکھ کے زہر سے
آفتاب اقبال شمیم

واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
ہانپتی ندی میں دم ٹوٹا ہوا تھا لہر کا
واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا
سرسراہٹ رینگتے لمحے کی سرکنڈوں میں تھی
تھا نشہ ساری فضا میں ناگنوں کے زہر کا
تھی صدف میں روشنی کی بوند تھرّائی ہوئی
جسم کے اند کہیں دھڑکا لگا تھا قہر کا
دل میں تھیں ایسے فساد آمادہ دل کی دھڑکنیں
ہو بھرا بُلوائیوں سے چوک جیسے شہر کا
آسماں اترا کناروں کو ملانے کے لئے
یہ بھی پھر دیکھا کہ پُل ٹوٹا ہوا تھا نہر کا
عیش بے معیاد ملتی، پر کہاں ملتی تجھے
میری مٹی کی مہک میں شائبہ ہے دہر کا
آفتاب اقبال شمیم

تو کیا یہ رات ٹلے گی نہیں مرے مر سے!

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 64
لگے کہ آنکھ تراشی گئی ہے پتھر سے
تو کیا یہ رات ٹلے گی نہیں مرے مر سے!
وُہ اور دَور تھا، لاؤں کہاں سے وہ راتیں
کہ چھت پہ سوئے ہوئے مجھ پہ چاندنی برسے
وُہ اپنے خواب سفینے کا ناخدا ٹھہرا
گیا تو تھا ابھی لوٹا نہیں سمندر سے
خدا یہاں بھی ہے، یہ خلقتیں سوال کریں
تو کیوں نہ وعظ عطا ہو گلی کے منبر سے
یہ عین وقت ہے شمع معاش جلنے کا
اُڑے ہیں دن کے پتنگے نکل کے گھر گھر سے
بلا کا دشمنِ آتش ہے آب پروردہ
کرن کی کرچیاں گرتی ہیں دستِ گوہر سے
پھر اس کے بعد سنانے کی آرزو نہ رہے
سُنون وہ شعر کسی دن کسی سخنور سے
آفتاب اقبال شمیم

کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 64
تو تعصب کے مقامات سے آگے نہ گیا
کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا
یہ بھی انداز تھا حالات کے مفروروں کا
ذہن پُر پیچ سوالات سے آگے نہ گیا
معرکہ ہائے شر و خیر کا اک سلسلہ تھا
جو کبھی جیت، کبھی مات سے آگے نہ گیا
کیا سجھائے کہ حدِ لمس سے آگے کیا ہے
ہاتھ تو خاص مقامات سے آگے نہ گیا
کر دیا سِحرِ سیاست نے دھڑوں کو تقسیم
کوئی اس شہرِ طلسمات سے آگے نہ گیا
لفظ اترا نہ کبھی حاشیئے کے ساحل سے
میں بھی چلتا ہی رہا، رات سے آگے نہ گیا
آفتاب اقبال شمیم

وہ زندگی کو بطورِ سزا قبول کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 63
وفا یہی ہے کہ اُن کی رضا قبول کرے
وہ زندگی کو بطورِ سزا قبول کرے
رکھی ہے شرطِ ضرورت پہ منصفی کی اساس
خطا ہو اُس سے مگر دوسرا قبول کرے
برائے سیرِ شہر ہو اُفق اس کا
سوائے قیدِ مکاں اور کیا قبول کرے
یہ اور بات، ستم کی فضا نہیں بدلی
تری نیازِ دل و جاں ، خدا قبول کرے!
یہ سلسلہ تو چلے بارِ جبر ڈال اتنا
بقدرِ ظرف جسے حوصلہ قبول کرے
آفتاب اقبال شمیم

کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 63
گزری آنکھیں میچ کے، شام نگر سے شانتی
کایا شیتل دھوپ کی، میرا دکھ کیا جانتی
تو دھرتی تھی پیار کی، رہتی کیوں بے آسماں
اپنے جلتے جسم پر میرا سایہ تانتی
ایک اشارت خوف کی، ایک بلاوا خون کا
عقل عجب حیران تھی، کس کا کہنا مانتی
رستے رستے آنکھ سے، برسیں زرد اداسیاں
لوٹ کے خالی آ گئی سارے منظر چھانتی
کیسے مَیں اس بھیڑ میں آتا اُس کے دھیان میں
ایک اکیلی زندگی کس کس کو پہچانتی
آفتاب اقبال شمیم

گل کفِ شاخ کو حنائی کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 62
جب وہ اقرارِ آشنائی کرے
گل کفِ شاخ کو حنائی کرے
جس کو کم کم نیازِ جاں ہو نصیب
کوئی اقدام انتہائی کرے
پھر سے تالیفِ دل ہو، پھر کوئی
اِس صحیفے کی رُو نمائی کرے
ہائے یہ نازنینِ مرد افگن
کون دنیا سے آشنائی کرے
آفتاب اقبال شمیم

اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 62
خدائے برگ! مجھے خاک سے اٹھا کے دکھا
اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا
میں سنگِ شام سے سر پھوڑنے چلا ہوں ذرا
کنول سے خواب مجھے میری ابتدا کے دکھا
میں نیل نیل ترا حلفیہ بیاں تو پڑھوں
فگار پشت سے کُرتا ذرا اٹھا کے دکھا
تجھے میں ہدیۂِ تائید دوں مگر پہلے
مرے وجود سے حرفِ نفی مٹا کے دکھا
تو پربتوں کو زمیں پر پچھاڑ دے تو کیا
ہوس کو جسم کے گھمسان میں ہرا کے دکھا
اسی کے نام کی ہر سُو اذاں سنائی دے
نقیبِ شہر! ہمیں معجزے صدا کے دکھا
نظر فروز ہو جو کل کی سرخیوں کی طرح
وہ لفظ آج سرِ طاقِ لب جلا کے دکھا
آفتاب اقبال شمیم

مکاں میں رہتے ہوئے بھی رہوں مکاں سے پرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 61
وُہ بے دلی ہے کہ زندہ ہوں جسم و جاں سے پرے
مکاں میں رہتے ہوئے بھی رہوں مکاں سے پرے
خفاں کہ ایک ستارہ نہ زیرِ دام آیا
کمندِ فکر تو ڈالی تھی کہکشاں سے پرے
سماعتوں پہ جھمکے ہیں عجیب سائے سے
نکلی گیا ہوں میں شاید حدِ بیاں سے پرے
بلا سے سامنے آئے کہ بے نمود رہے
وُہ حادثہ کہ ابھی ہے مرے گماں سے پرے
ابھی سے بننے لگیں وہم کی پناہ گاہیں
ابھی تو حشر کا سورج ہے سائباں سے پرے
کچھ ایسا لطف ملا خود یہ رحم کھانے میں
گیا نہ شوقِ غزل لذت زیاں سے پرے
آفتاب اقبال شمیم

بھٹک رہا ہوں گھاٹ گھاٹ روشنی کی پیاس میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 61
زمینِ پنج آب! تیری چاہتوں کے طاس میں
بھٹک رہا ہوں گھاٹ گھاٹ روشنی کی پیاس میں
نکل نہیں رہیں گھروں سے، سوہنیوں کی خیر ہو
دھوئیں کا ذائقہ ہے آج دھوپ کی مٹھاس میں
اگر مشقتوں کا ہے معاوضہ برہنگی
لگائیں کیوں نہ چل کے آگ پھولتی کپاس میں
ابھی بہے گی خلوتوں سے روشنی شراب کی
بجیں گی نرم قہقہوں کی گھنٹیاں گلاس میں
بنامِ چشم و گوش آئیں فیصلے شکوک کے
مچی ہوئی ہے اک عجیب ابتری حواس میں
وُہ عرضِ مدعا میں پیچ ڈھونڈتے ہی رہ گئے
بہت زیادہ سادگی تھی میرے التماس میں
کہاں ہوں ! آئنے سے کٹ گیا ہے میرا عکس کیا؟
کہ میری شکل آ نہیں رہی مرے قیاس میں
آفتاب اقبال شمیم

میں ہی فرید اور میں ہی بلھے شاہ پیارے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 60
مجھ سے پوچھ طریقت کی ہر راہ پیارے
میں ہی فرید اور میں ہی بلھے شاہ پیارے
لائے نہ لائے لہر صدف کو ساحل پر
یہ دولت تو ملتی ہے ناگاہ پیارے
وُہ جو دید میں رہ کر بھی نا دید میں ہے
اُس گوری کی خاطر بھر لے آہ پیارے
وہ تاروں سے سے ماتھا چُھو کر چلتا ہے
جاہِ جہاں ہے اُس کے آگے کاہ پیارے
کون رفیق تھا اُس تنہا کا سُولی پر
دل کے سوا ہوتا ہے کون گواہ پیارے
اُن آنکھوں نے دل کو یوں تاراج کیا
جیسے گزرے شہر سے کوئی سپاہ پیارے
اپنے اچھا ہونے کا اقرار تو کر
کر لے، ہرج ہی کیا ہے، ایک گناہ پیارے
آفتاب اقبال شمیم

رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 60
چاپ گرتے پتوں کی، مل رہی ہے خوشبو میں
رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں
میرے پاؤں کے نیچے دلدلیں ہیں سایوں کی
شام آ پڑی شاید پربتوں کے پہلو میں
وصف دیوتاؤں کے، ڈھونڈتے ہو کیا مجھ میں
کون تاب سورج کی، پا سکا ہے جگنو میں
عدل ہے یہ آمر کا، اس طرح اسے سہہ جا
آندھیاں تُلیں جیسے برگ کے ترازو میں
تالیاں بجا کر رو، دیکھ اس تماشے کو
المیے کا ہیرو ہے، مسخرے کے قابو میں
سہہ رہا ہوں برسوں سے یورشیں زمانے کی
لوچ ہے شجر کی سی میرے دست و بازو میں
آفتاب اقبال شمیم

یہ وہ چراغ ہیں جو روشنی نہیں دیتے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 59
خوشی کی آسر دلا کے خوشی نہیں دیتے
یہ وہ چراغ ہیں جو روشنی نہیں دیتے
ذرا سی دھوپ کھلے کشتِ اس پر میں جیسے
یہ قہقہے بھی کچھ آسودگی نہیں دیتے
وہ مانگتے ہیں وہ اہلیتیں جو ہم میں نہیں
اسی لئے تو ہمیں نوکری نہیں دیتے
ہمیشہ رکھتے ہیں روشن ستارہ ایک نہ ایک
وہ میری شب کو بہت تیرگی نہیں دیتے
بنا تو سکتے ہیں ہم بھی زمیں پہ خلد مگر
یہ اختیار ہمیں آدمی نہیں دیتے
اسی لئے ہمیں مرنا پڑا، کہ اہلِ جفا
محبتوں میں رعایت کبھی نہیں دیتے
آفتاب اقبال شمیم

جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 59
ثبت ہیں دن کی راہ میں، نیلے سائے شام کے
جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے
انہونی سی آرزع، لپکے اٹھے ہاتھ سے
جاؤں اپنے دیس کو اڑتے بادل تھام کے
ڈیوڑھیوں کے بیچ سے، جاتا ہے یہ راستہ
بند کئے جا کھول کے، دروازے ایام کے
عمروں کے ملبوس پہ کل کے سکھ کی آس میں
کاڑھیں دکھ کی دیویاں سپنے عام عوام کے
کس تربیت کار نے پیدا کیں یہ سختیاں
کند ہوئے احساس پہ دندانے دشنام کے
جب سمتوں کی رات میں، میں بے حالت ہو گیا
چھلکے اک اک چیز سے لشکارے پیغام کے
آفتاب اقبال شمیم

بیٹھا ہوا ہوں دیر سے آنکھوں میں جاں لئے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 58
کوئی ضرور آئے گا، اُسکو یہاں لئے ہوئے
بیٹھا ہوا ہوں دیر سے آنکھوں میں جاں لئے ہوئے
رہتا ہے دور سے پرے، حدِّشعور سے پرے
حلقۂ بے محیط میں کون و مکاں لئے ہوئے
اتنے قریب و دور سے اُس کے لبوں کو دیکھنا
لذتیں نارسائی کی زیرِ زباں لئے ہوئے
ہاں میں نہیں ، نہیں میں ہاں ، اُسکی ادائے دلبری
لب پہ غزل کی طرز کا رنگِ بیاں لئے ہوئے
زانوئے شاخ پر کوئی سویا ہوا گلاب سا
گود میں اپنے لال کو بیٹھی ہے ماں لئے ہوئے
دے کے صدا گزر گیا، کوئی گدا گزر گیا
کاسہء گردباد میں رزقِ خزاں لئے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم

پاگل سا شخص تھا جو سدھایا نہ جا سکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 58
دنیا کے راستے پہ لگایا نہ جا سکا
پاگل سا شخص تھا جو سدھایا نہ جا سکا
وُہ پیاس تھی کہ بات گلے میں اٹک گئی
خوابِشبِ گناہ سنایا نہ جا سکا
ظلمت تو آشکار ہوئی کشفِ نور سے
پر روشنی کا پردہ اٹھایا نہ جا سکا
سورج سفر میں ساتھ تھا نصف النہار پر
میری جلو میں خود مرا سایہ نہ جا سکا
یہ جبر کا نظام، یہ خود رو مجسمہ
ڈھایا گیا مگر کبھی ڈھایا نہ جا سکا
اک چوبِ نم گرفتہ سلگتی رہی مدام
سینے میں جشنِ شعلہ جگایا نہ جا سکا
بے نام سا گزر گیا خود اپنی اوٹ میں
وُہ کون تھا، اُسے کبھی پایا نہ جا سکا
آفتاب اقبال شمیم

بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
آنکھوں کو آنکھوں کے آگے دھرے ہوئے
بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے
ایک ذرا معیار کے بدلے جانے سے
دیکھا، کیسے کھوٹے سکے کھرے ہوئے
جسم سے اٹھی باس پرانے جنگل کی
آہٹ آہٹ سارے رستے ہرے ہوئے
اے حیرانی! وُہ تو آج بھی زندہ ہے
اتنے سال ہوئے ہیں جس کو مرے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم

گل کفِ شاخ کو حنائی کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
جب وہ اقرارِ آشنائی کرے
گل کفِ شاخ کو حنائی کرے
جس کو کم کم نیازِ جاں ہو نصیب
کوئی اقدام انتہائی کرے
پھر سے تالیفِ دل ہو، پھر کوئی
اِس صحیفے کی رُو نمائی کرے
ہائے یہ نازنینِ مرد افگن
کون دنیا سے آشنائی کرے
آفتاب اقبال شمیم

گھروں کو جوڑ دیا جائے تو نگر بن جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 56
جو چوب و خِشت بہم ہوں تو ایک گھر بن جائے
گھروں کو جوڑ دیا جائے تو نگر بن جائے
ہر ابتلائے زمیں دُور ہو بھی سکتی ہے
یہ اژدہام اگر ایک ہی بشر بن جائے
خدا نصیب کرے بادِ سازگار اِسے
یہ چوب خشک کا پیکر کبھی شجر بن جائے
سفر بھی ختم نہ ہو، منزلیں بھی ساتھ چلیں
اگر یہ راہگزر تیری رہگزر بن جائے
مجھے بھی مژدہ ملے میری تاج پوشی کا
محبتوں کی قلم رو کہیں اگر بن جائے
آفتاب اقبال شمیم

کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 56
نئے شعور، نئے وقت کا طلسم لگے
کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے
ہمیشہ اپنی فنا میں بقا تلاش کرے
بڑی عجیب مجھے جستجوئے جسم لگے
گرا جو نارِ زمانہ میں ، سرفراز ہوا
یہ آگ آتش نمرود کی ہی قسمِ لگے
یہ واہمہ ہے کہ افسوں ،کہ وصفِ خاص اُس کا
کبھی وہ سایہ لگے اور کبھی وہ جسم لگے
جو دُور ہو تو جگائے ہوس فسوں کیا کیا
قریب آئے تو ہر چیز بے طلسم لگے
آفتاب اقبال شمیم

آدم زاد خدا بن جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 55
پل میں کیا سے کیا بن جائے
آدم زاد خدا بن جائے
ظرفِ نظر کم کر کے دیکھو
قطرہ بھی دریا بن جائے
مات زمانے بھر کی کھا کر
شاید وہ ہم سا بن جائے
تُو جانے اے طائر تنہا!
نغمہ کیوں نوحہ بن جائے
اثنا بھی بے آس نہ ہونا
جینا ایک سزا بن جائے
وقت کا بھید ملا ہو جس کو
عہد بہ عہد نیا بن جائے
بس اک پہل ضروری ہے
پھر خود ہی رستا بن جائے
آفتاب اقبال شمیم

یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 55
اک فنا کے گھاٹ اُترا، ایک پاگل ہو گیا
یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا
جسم کے برفاب میں آنکھیں چمکتی ہیں ابھی
کون کہتا ہے اُس کا حوصلہ شل ہو گیا
ذہن پر بے سمتیوں کی بارشیں اتنی ہوئیں
یہ علاقہ تو گھنے راستوں کا جنگل ہو گیا
اس کلید اسم نا معلوم سے کیسے کُھلے
دل کا دروازہ کہ اندر سے مقفل ہو گیا
شعلہ زار گُل سے گزرے تو سرِ آغاز ہی
اک شرر آنکھوں سے اُترا، خون میں حل ہو گیا
شہر آئندہ کا دریا ہے گرفت ریگ میں
بس کہ جو ہونا ہے، اُسکا فیصلہ کل ہو گیا
موسمِ خیراتِگُل آتا ہے کس کے نام پر
کون ہے جس کا لہو اِس خاک میں حل ہو گیا
اس قدر خوابوں کو مسلا پائے آہن پوش نے
شوق کا آئین بالآخر معطل ہو گیا
آفتاب اقبال شمیم

بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
کاش کبھی وہ دریا زادہ مل جائے
بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے
کیا کہنا گنجینۂ دل کی دولت کا
خرچ کروں تو اور زیادہ مل جائے
جیون کا یہ مایا روپ بدل ڈالوں
مجھ کو وہ شہ زور ارادہ مل جائے
آنکھ بہت رو لے تو لمحہ درز بنے
اور وہ درشن پر آمادہ مل جائے
لیکھ یہی ہے دن بھر کی مزدوری میں
نانِ خشک اور آبِ سادہ مل جائے
آفتاب اقبال شمیم

آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا
آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا
کیوں یہ ہم صورت رواں ہیں مختلف اطراف میں
ہے کہیں سے قافلے کا سلسلہ ٹوٹا ہوا!
وائے مجبوری کہ اپنا مسخ چہرہ دیکھئے
سامنے رکھا گیا ہے آئنہ ٹوٹا ہوا
خود بخود بدلے تو بدلے یہ زمیں ، اس کے سوا
کیا بشارت دے ہمارا حوصلہ ٹوٹا ہوا
خواب سے آگے شکستِ خواب کا تھا سامنا
یہ سفر تھا مرحلہ در مرحلہ ٹوٹا ہوا
کچھ تغافل بھی خبر داری میں شامل کیجئے
ورنہ کر ڈالے گا پاگل، واہمہ ٹوٹا ہوا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
شب کے پردے میں نہاں ہے تو سہی
کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی
ہم اگرچہ پا رہ لپتی ہیں مگر
سر پہ اپنے آسماں ہے تو سہی
ان گنت بدصورتوں کے شہر میں
ایک تو اے جانِ جاں ہے تو سہی
اس نشاطِ صحبت نایاب میں
کچھ طبیعت سرگراں ہے تو سہی
اب دفاعِ نظریہ کیا کیجئے
کل کا حاصل رائیگاں ہے تو سہی
راس امکان و گماں ہے یاس کو
اس سے آگے لامکاں ہے تو سہی
خواب ٹوٹا ہے تو لے آئیں گے اور
ہمتِ یاراں جواں ہے تو سہی
آفتاب اقبال شمیم

جینے کا جب شوق نہیں تھا، مر جاتے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
ہم خود دار کبھی یہ جرأت کر جاتے
جینے کا جب شوق نہیں تھا، مر جاتے
دجلۂ خاک میں خواہش کی طغیانی تھی
جسم سفینے کیسے پار اُتر جاتے
آنکھوں کی تربیت ہم پر لازم تھی
اپنے آپ سے ورنہ خود ہی ڈر جاتے
آفتاب اقبال شمیم

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی
اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی
رفتہ و آئندہ اس میں متصّل آئے نظر
ہر گھڑی جیسے میری تاریخ کا منشور تھی
شام کی ڈھلوان سے اُسکو اترتے دیکھئے
وُہ جو دن میں روشنی کے نام سے مشہور تھی
خیر ہو خوابوں سرابوں کی کہ اُس کو پا لیا
بعد میں جانا کہ منزل تو ابھی کچھ دور تھی
روز و شب کی گردشوں کے ساتھ پیہم گھومنا
زندگی ایسی مسافت کی تھکن سے چور تھی
لو فرازِ دار پر اپنی گواہی دے چلے
ہم بجا لائے اُسے جو سنّت منصور تھی
آفتاب اقبال شمیم

بے خزاں رکھتے ہیں ہم لوگ چمن آنکھوں کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
عشرت خواب سے دہکا کے بدن آنکھوں کا
بے خزاں رکھتے ہیں ہم لوگ چمن آنکھوں کا
رہ گئی شام سی ٹھہری ہوئی سر کنڈوں میں
کھا گیا سارے مناظر کو گہن آنکھوں کا
کیا خبر انگلیوں کو ذائقے چھونے کے ملیں
اور نغموں سے مہکنے لگے بن آنکھوں کا
آ کہ اِس دھوپ کے پردیس میں آباد کریں
چشم و گیسو کے تصوّر سے وطن آنکھوں کا
رنج کیسا کہ زمانے کا طریقہ ہے یہی
وقت کے ساتھ بدلتا ہے چلن آنکھوں کا
تُو کہ پس ماندۂ خواہش ہے، طلب کر خود سے
وُہ زرِ خون جسے کہتے ہیں ، دھن آنکھوں کا
آفتاب اقبال شمیم

اُس پہ وُہ رات بہت بھاری تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
شہر کے شہر میں بیداری تھی
اُس پہ وُہ رات بہت بھاری تھی
دستِ قاتل کو ملے دادِ کمال
ضرب ہلکی تھی مگر کاری تھی
میں جو سمجھا وُہ نہیں تھا شاید
لفظ میں حکمتِ تہ داری تھی
میں پگھلتا ہی، پگھلتا ہی گیا
عشق کی اوّلین سرشاری تھی
نصف افلاک سے میں لوٹ آیا
اپنی مٹی سے مری یاری تھی
یاس کیسی کہ یہ بازی ہم نے
کبھی جیتی تھی کبھی ہاری تھی
مر گئے ہوتے اگر مر سکتے
ایک اقرار کی دشواری تھی
آفتاب اقبال شمیم

سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
دکھائی جائے گی شہرِ شب میں سحر کی تمثیل، چل کے دیکھیں
سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں
گلوں نے بندِ قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے
کریں گے اِس موسمِ وفا میں ، ہم اپنی تکمیل، چل کے دیکھیں
خلافِ اصحاب فیل اب کے، زیاں ہوئی غیب کی بشارت
پڑا ہوا خاک پر شکستہ، پرِ ابابیل، چل کے دیکھیں
چُنے ہیں وُہ ریزہ ریزہ منظر، لہو لہو ہو گئی ہیں آنکھیں
چلو نا! اِس دکھ کے راستے پر سفر کی تفصیل چل کے دیکھیں
فضا میں اُڑتا ہوا کہیں سے، عجب نہیں عکس برگ آئے
خزاں کے بے رنگ آسماں سے اٹی ہوئی جھیل، چل کے دیکھیں
لڑھک گیا شب کا کوہ پیما، زمیں کی ہمواریوں کی جانب
کہیں ، ہوا گُل نہ کر چکی ہو انا کی قندیل، چل کے دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

ہے ایک اور ہوا، اس ہوا سے آگے بھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 50
ہوا سلائے جسے خاک میں وہ جاگے بھی
ہے ایک اور ہوا، اس ہوا سے آگے بھی
نئی زمینیں ، نئے عفش منتظر ہیں ترے
جو طے شدہ ہے اُسے تو کبھی تیاگے بھی
بعید فہم ہے منطق ہمارے رشتوں کی
کہ پختہ نکلیں کبھی رسیوں سے دھاگے بھی
سما سکی ہے کہاں شر کی فربہی اس میں
کبھی یہ خیر کا کپڑا بدن پہ لاگے بھی
رُکے تو خود کو وہی اپنے رُوبرو پایا
ہم اپنے آپ سے وحشت میں اتنا بھاگے بھی
آفتاب اقبال شمیم

کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 50
نظر یوں شام آئی، ڈوبتی کرنوں کی چلمن سے
کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے
میں اپنی پستیوں میں رہ ہی لیتا مطمئن ہو کر
مگر یہ آسماں ہٹتا نہیں ہے میرے روزن سے
توقع اُس سے رکھیں معتدل ہی دوست داری کی
وہ جس نے ٹوٹ کر نفرت نہ کی ہو اپنے دشمن سے
مکاں کی تنگیوں میں وسعتوں کی روشنی آئے
ہٹاؤ بھی ذرا یہ پردۂ دیوار، آنگن سے
سفر کا تجربہ، اتلاف مال جاں کے بدلے میں
بطورِ رختِ فردا، ہم بچا لائے ہیں رہزن سے
سفر در پیش ہے شاید خزاں کی خیمہ بستی کا
ہوا ہجرت کی باتیں کر رہی ہے اہل گلشن سے
یہی بےمعنویت، غالباً حاصل ہے جذبوں کا
ہمیشہ راکھ سی اڑتی رہے شعلے کے دامن سے
خلل شاید کبھی ربِ نمُو کی نیند میں آئے
گرائے جا شرر بیداریوں کے چشمِ روشن سے
آفتاب اقبال شمیم

ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
جو ہو بھی جائے فرو زندگی کی محرومی
ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی
کرے اندھیرا دل و ذہن میں پھر اس کے بعد
جگائے شعر کی لو زندگی کی محرومی
نہیں قبول شرائط پہ رزق و جنس ہمیں
بہت شدید ہے گو زندگی کی محرومی
گراں ہے ایک نہ ہو ناتمام ہونے پر
دل فقیر کی ضو زندگی کی محرومی
پھر اس کے بعد رہے گا نہ شوق پینے کا
شراب میں نہ ڈبو زندگی کی محرومی
لٹے نہ سلطنتِ غم ذرا خیال رہے
سہو ہمیشہ سہو زندگی کی محرومی
آفتاب اقبال شمیم

یا آئینے سے چھین ہنر انعکاس کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
یا پھونک سے چراغ، بجھا دے حواس کا
یا آئینے سے چھین ہنر انعکاس کا
دم گھُٹ گیا ہے لمسِ لطافت سے اے خدا
اعلان کر ہواؤں میں مٹی کی باس کا
ہر آب جُو پہ ریت کا پہرہ لگا ہوا
یہ زندگی ہے یا کوئی صحرا ہے پیاس کا
جب دے سکا نہ کوئی گواہی سرِ صلیب
جرمانہ شہر پر ہوا خوف و ہراس کا
گھر کے سکوت نے تو ڈرایا بہت مگر
وجہِ سکوں تھا شور میرے آس پاس کا
ہر دستِ پُر فسوں ، یدِ بیضا دکھائی دے
اے روشنی پرست! یہ منظر ہے یاس کا
دستک ہر اک مکان پہ دنیا پڑی مجھے
مقصود تھا سراغ مرے غم شناس کا
آفتاب اقبال شمیم

مرے حوصلے کو فزوں تر کرے ہار میری

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 48
جو ٹوٹے تو ثابت زیادہ ہو تلوار میری
مرے حوصلے کو فزوں تر کرے ہار میری
عجب کیا، نتیجہ نکل آئے سر پھوڑنے کا
کسی روز دروازہ بن جائے دیوار میری
رسوخ دروغ و زر و زور لاؤں کہاں سے
خبر ساز کی دسترس میں ہے دستار میری
عبث ہے مرا خواب، میری حقیقت کے آگے
جلاتی رہے میرے گلزار کو نار میری
وُہ مہ رُو کسی اور خورشید کا عکس نکلا
حضوری میں جس کی رہی چشمِ دیدار میری
آفتاب اقبال شمیم

تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 48
کہیں چھاؤں نہیں لیکن ہمیں چھاؤں میں رہنا ہے
تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے
ہمیں اگلا سفر شاید کہ لا محدود کر دے گا
وہاں تک اک نہ اک زنجیر کو پاؤں میں رہنا ہے
مناسب ہے ان آنکھوں کا بہا دینا سرابون میں
کہ آخر عمرِ بےمعنی کے صحراؤں میں رہنا ہے
یہی ہم پر کُھلا، ردِّ عقیدہ بھی عقیدہ ہے
کلیساؤں سے باہر بھی کلیساؤں میں رہنا ہے
ہُوا اک بار پھر ناکام منصوبہ بغاوت کا
ابھی اُس کشتِ زارِ جبر کے گاؤں میں رہنا ہے
گرفت ریگ سے کچھ کربلائیں تم بنا لو گے!
رواں رہنے کا پھر بھی عزم دریاؤں میں رہنا ہے
آفتاب اقبال شمیم

اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 47
ان رونقوں کے وسط میں تنہائیاں بھی دیکھ
اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ
انکار ناتمام ہے اقرار کے بغیر
وہ جو برا ہے اُس کی تو اچھائیاں بھی دیکھ
تحریرِ دستِ گُل ہے بہت خوشنما مگر
اس میں نظر کی حاشیہ آرائیاں بھی دیکھ
انبوہ میں بھی ہے مگر انبوہ میں نہیں
ان جلوتوں میں فرد کی تنہائیاں بھی دیکھ
تکرارِ جاں سپردگی بے وجہ تو نہیں
اپنی نظر میں شوق کی رسوائیاں بھی دیکھ
ہرچند چشم شور ہے منظر غروب کا
اس میں طلوع دور کی رعنائیاں بھی دیکھ
آفتاب اقبال شمیم

اگر سر کو جھکا سکتے، تو ہم بھی معتبر ہوتے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 47
یہی نا! قدّوقامت میں ذرا سے مختصر ہوتے
اگر سر کو جھکا سکتے، تو ہم بھی معتبر ہوتے
انہیں اپنے لئے گملوں کی آسائش پسند آئی
یہ پودے رنج سہہ لیتے تو جنگل کے شجر ہوتے
عجب خواہش کہ فرشِ سنگ سے ڈھانپی زمینوں میں
گلوں کو شہرتیں ملتیں ، پرندے نامور ہوتے
اگر کھلتے نہ اِس آنگن میں باغیچے تماشوں کے
تو روز و شب مکانِ وقت میں کیسے بسر ہوتے
ہوا نے ساز شاخوں پر ابھی چھیڑا نہیں ، ورنہ
سماعت کی تہی جھولی میں نغموں کے ثمر ہوتے
جہاں خطاطِ زر لفظوں کی تقدیریں بناتا تھا
وہاں مقبول کیوں سادہ نویسوں کے ہنر ہوتے
آفتاب اقبال شمیم

اس حوالے سے اپنی حقیقت سمجھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 46
اس کڑے وقت کی قدر و قیمت سمجھ
اس حوالے سے اپنی حقیقت سمجھ
جو نہیں ، اُس پہ اتنی توجہ نہ دے
اور جو ہے، اُسی کو غنیمت سمجھ
سب سے تنہا بھی ہوں ، سب سے گنجان بھی
تو خُدا کی طرح میری حالت سمجھ
اِس پہ پلتے ہیں سب سورما شہر کے
میرے افلاس کو میری دولت سمجھ
زندگی کھیل نابالغوں کا نہیں
اپنے نقصان کو فائدہ مت سمجھ
ہے فلک گیر زورِ ارادہ میرا
اس زمانے کو میری ولایت سمجھ
آفتاب اقبال شمیم

لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 46
عکسِ رخسار سے جب آنکھ گلابی ہووے
لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے
ایک دُوری ہے جو کٹتی ہی نہیں قربت سے
بے حجابی بھی حقیقت میں حجابی ہووے
ہم کہ چلتی ہوئی راہوں کے مسافر ٹھہرے
دوستو! اگلی ملاقات شتابی ہووے
آنکھ بھر دیکھ تو لوں اُس کو مگر سوچتا ہوں
زندگی بھر کے لئے کون شرابی ہووے
بحر زادہ ہوں، کسی روز تو اے میرے خدا!
یہ ٹھکانا مرا صحرائی سے آبی ہووے
آفتاب اقبال شمیم

کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
سخی ہے وہ لیکن ذرا سی کفایت کے ساتھ
کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ
چلوں سیرِ فردا پہ نکلوں کہ شاعر ہوں میں
بندھا کیوں رہوں اپنی کہنہ روایت کے ساتھ
یہی ہے کہ اثبات نفی سے مشروط ہے
نبھے دوستی بھی عُدو کی حمایت کے ساتھ
مجھے تو یہ تکرار وعدہ بھی اچھی لگے
یہ دیکھو! میں پھر آ گیا ہوں شکایت کے ساتھ
یہ تاوان انبوہ لیتا تو ہے فرد سے
کہ چلنا پڑے دوسروں کی ہدایت کے ساتھ
آفتاب اقبال شمیم

کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
جو ہونا چاہئے اس کے علاوہ کیا نہیں ہوتا
کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا
بچھڑنا حادثہ بن جائے خود جاں سے بچھڑنے کا
کس کے ساتھ ایسا ربط بھی اچھا نہیں ہوتا
حقیقت پر گماں ، پھر اس گماں پر بھی گماں کرنا
یہ صورت ہو تو عکس افروز آئینہ نہیں ہوتا
ہمیں نظّارہ کرواتا ہے بے ساحل سمندر کا
وُہ آنسو جو ہماری آنکھ پر افشا نہیں ہوتا
ہم اپنے آپ کو اس شہر کا حاکم سمجھتے ہیں
ہمیشہ کی طرح جب جیب میں پیسہ نہیں ہوتا
لگا ہے قفل پر چہرے پر نامانوس چہرے کا
کہیں پہچان کا دروازہ ہم پر وا نہیں ہوتا
آفتاب اقبال شمیم

جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 44
دَور ہی ایسا ہے، جو دیکھیں اُسے اُلٹا کہیں
جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں
شہرِ نو آباد کی یہ قُربتیں ، یہ دُوریاں
یعنی ہم برسوں کے ناواقف کو ہمسایا کہیں
اُن کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا باطن اور ہے
جاگتی آنکھیں جو دِکھلائیں اُسے سپنا کہیں
وُہ جو کر دے زندگی کا سارا منظر خواب گُوں
کوئی آئے بھی نظر ایسا جسے تجھ سا کہیں
روز فرمائش کرے صورت گر دُنیا کہ ہم
مصلحت کے چہرۂ یک چشم گو زیبا کہیں
اُن میں کرتا ہے جو نا مُعتبر کو مُعتبر
وُہ مدارِ قسمتِ انساں ، جسے پیسا کہیں
کوئی کیوں جانے کہ ہم کب آئے کب رخصت ہوئے
زندگی کر لی، اِسے اب زحمتِ بے جا کہیں
آفتاب اقبال شمیم

دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 44
عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے
دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے
چہرے کو بےچہرہ کر کے، بدلے میں
چلئے کچھ مشہوری تو ہو جاتی ہے
سچ کہتے ہو، روز کی دنیا داری میں
اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے
جزیہ ہے جو روز کے زندہ رہنے کا
ہم سے وُہ مزدوری تو ہو جاتی ہے
سچ وہ مرشد، جس کی ایک سفارش سے
عرضی کی منظوری تو ہو جاتی ہے
اہلِ جنوں آسودہ ہوں جس مٹی میں
وہ مٹی کستوری تو ہو جاتی ہے
الف انا کے پوری قد میں چلتا ہوں
شرطِ فقیری پوری تو ہو جاتی ہے
آفتاب اقبال شمیم

یا دل ملتا ہے یا منصب ملتے ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
دونوں ہی اک ساتھ بھلا ملتے ہیں
یا دل ملتا ہے یا منصب ملتے ہیں
کون ہیں وُہ؟ وُہ خلق خدا کے بنجر ہیں
وُہ جو اُس ہوٹل میں ہر شب ملتے ہیں
آنکھیں کھول کہ دیکھو معنی دنیا کے
اِس لغّت میں سارے مطلب ملتے ہیں
کون کسے یاں جانے ہے پہچانے ہے
ملنے کو تو آپس میں سب ملتے ہیں
غم بھی اک تہذیب ہے جسکی کشور میں
تشنہ آنکھیں اور پیاسے لب ملتے ہیں
جان گنوا کر نام ملے گم ناموں کو
یہ گوہر جب کھو جائیں تب ملتے ہیں
آفتاب اقبال شمیم

ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
مرنا اگر ضرور ہے تو جینا چاہئے
ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے
چاہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھا کرے کوئی
اِس حکمراں کو خلقتِ نابینا چاہئے
دیکھیں کہ عکس کوئی بدلتا ہے کس طرح
اک اور آئینہ پسِ آئینہ چاہئے
بیٹھے رہیں مرقعِٔ ایام کھول کر
قربت میں کوئی ہمدمِ دیرینہ چاہئے
طے کر سکو گے راہِ محبت کی منزلیں !
دل میں بہت غرور بڑا کینہ چاہئے
آ اِس طرح سے حسن کو نا مطمئن کریں
اس زخمِ شاعری کو کبھی سینا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم

سارے نشیب جن کی اُٹھانوں پہ دنگ ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 42
یہ پیڑ، یہ پہاڑ زمیں کی اُمنگ ہیں
سارے نشیب جن کی اُٹھانوں پہ دنگ ہیں
باہر ہو جس، پھر بھی دریچہ کھلا رکھوں
یہ خود تسلیاں میرے جینے کا ڈھنگ ہیں
ڈھونڈوں کہ انتہا کی مجھے انتہا ملے
یہ شش جہات میری تمنا پہ تنگ ہیں
اک عمر اک مکان کی تعمیر میں لگے
ایام سے زیادہ گراں خشت و سنگ ہیں
چہکے ہزار صوت میں یہ طائر نظر
کرنوں کے پاس یوں تو یہی سات رنگ ہیں
ویسے ہمیں ندامت بے چہرگی نہیں
ہرچند تیرے شہر میں بے نام و ننگ ہیں
آفتاب اقبال شمیم

رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 42
منزل قریب آئی تو ایسے بہک گئے
رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے
نکلے کبھی نہ اپنے مضافات سے پرے
اپنی تلاش میں جو بہت دور تک گئے
اک نسل کے لہو سے چراغاں تھے راستے
یہ کیا ہوا کہ قافلے پھر بھی بھٹک گئے
خبروں کے شعبدے وُہ دکھا کر دم سحر
شہ سرخیوں سے چشمِ بصارت کو ڈھک گئے
آئے نظر چراغ سے چہرے فضاؤں میں
یادیں جو ٹمٹمائیں ، اندھیرے مہک گئے
دیکھو نا اب بھی ہال کی خالی ہیں کرسیاں
ہم تو دکھا دکھا کے کرامات تھک گئے
آفتاب اقبال شمیم

کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کثرتِ جلوۂ امکان کو چل کر دیکھیں
کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں
اپنی پس ماندگیاں ، راحتیں لگتی ہیں جنہیں
تکیۂ عادت تکرار بدل کر دیکھیں
جنبشِ لطف سے دستار نہ گر جائے کہیں
بام سے منظر دنیا کو سنبھل کر دیکھیں
پا فتادہ سرِ دریا ہوں کھڑا برسوں سے
اور لہریں مجھے دریا سے اُچھل کر دیکھیں
گرمیِٔ مے سے ہوں شفاف یہ سیسہ آنکھیں
آؤ اِس شعلۂ شب تاب میں جل کر دیکھیں
زندگی کوئی کلیشے تو نہیں جینے کا
اسکی صد زاویہ راہوں میں نکل کر دیکھیں
عمرِ کوتاہ گزرنے کو ہے آؤ! آؤ!
اسکے ہر نور میں ہر نار میں ڈھل کر دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کچھ ہم مزاج خطۂ مرعوب ہے یہی
شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی
اتنا نہ غور کر کہ ترا دل ہی ٹوٹ جائے
اس نازنینِ دہر کا اسلوب ہے یہی
اُس خواب کے صلے میں یہ ساری اذیّتیں
سہ لے، کہ آدمی کے لئے خوب ہے یہی
ہستی ہے ایک سلسلہ رد و قبول کا
یعنی صلیب و صالب و مصلوب ہے یہی
ٹھہرے گناہ گار جو سب سے ہو بے گناہ
کارندگانِ عدل کو مطلوب ہے یہی
دیکھو! ہم اس کی زد میں خس و خاک ہو چلے
دستِ قضا میں وقت کا جاروب ہے یہی
چلئے اُسے یہ کاغذِ خالی ہی بھیج دیں
لکھا گیا نہ ہم سے، وہ مکتوب ہے یہی
ایمان مستقیم رہا کفر کے طفیل
اُس بے وفا سے واقعہ منسوب ہے یہی
آفتاب اقبال شمیم

وُہ دہشتیں ہیں کہ ہم شب کو شب بھی کہہ نہ سکیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 40
سلامتی کی ضمانت ہو، تب بھی کہہ نہ سکیں
وُہ دہشتیں ہیں کہ ہم شب کو شب بھی کہہ نہ سکیں
نمو پذیر ہے تہذیبِ جبر صدیوں سے
خدا معاف کرے اُس کو رب بھی کہہ نہ سکیں
گئی تو عمر گئی وضع داریاں نہ گئیں
جو بات کہہ نہ سکے تھے وُہ اب بھی کہہ نہ سکیں
تمام شہر کو وہ چٹکلے پسند آئے
جنہیں عمیق نظر میں ادب بھی کہہ نہ سکیں
ثبوتِ حُب وطن اس لئے وُہ مانگتے ہیں
کہ اپنی چاہ کو ہم منتخب بھی کہہ نہ سکیں
آفتاب اقبال شمیم

ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 40
یہ وسعتیں تا آسماں ، گہرائیاں پاتال تک
ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک
کیسے، کہاں ڈھونڈوں اُسے وہ جو ورائے چشم ہے
آئینہ دکھلاتا نہیں ، اپنے ہی خدوخال تک
میری کتاب ہست میں ، محفوظ ہے لکھا ہوا
ہر واقعہ، ہر حادثہ، روزِ ازل سے حال تک
اُس پیرِ دانشمند کی عمر طویل اُلٹے اگر
دیکھے، ہے کتنا فاصلہ اقوال سے افعال تک
شاید کہ تم ہو جانتے، چہرہ شناسی کا ہنر
آیا ہوں کتنی دیر سے، پوچھے نہیں احوال تک
آفتاب اقبال شمیم

آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
شیشوں سے ٹکرائیں شیشے، بھید کھلیں یوں آنکھوں میں
آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں
کیا درشن تھے، ہم تو رہتی عمر کی نیندیں ہار آئے
جاگ رہا ہے اُس گوری کے حُسن کا افسوس آنکھوں میں
اے خود داری آئینے میں عکس مکرر کس کا ہے
کوئی بالکل اُس جیسا ہی رہتا ہے کیوں آنکھوں میں
جاناں ! پہلے رسمِ وفا کی تیاری ہو لینے دو
پھر جذبوں کا سورج بن کر چمکے گا خوں آنکھوں میں
بینائی کی پیاس بڑھے اور ظلمت کا احساس بڑھے
اندر کے در کھولتی جائیں کرنیں جوں جوں آنکھوں میں
شغل کیا جائے بے موسم چاک گریباں کرنے کا
لفظوں کے جادو سے کر لو منظر گلگلوں آنکھوں میں
آفتاب اقبال شمیم

اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
لات و مناتِ جہل کے فرزند ہیں بہت
اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت
کُھلتے نہیں یہ زورِ مسلسل کے باوجود
آلودگیِٔ کہنہ سے در بند ہیں بہت
دے وقفۂ سکون پر اُٹھا ہُوا قدم
راہِ سفر میں سختیاں ہرچند ہیں بہت
کھوئیں گے کیا یہ معرکہ دوبارہ ہار کر
فکرِ زیاں کریں جو خرد مند ہیں بہت
پوشیدگی ہے ایک طرح کی برہنگی
دلقِ گدا پہ مکر کے پیوند ہیں بہت
اِن کو شعورِ رفتہ و آئندہ دیجئے
یہ لوگ رسمِ وقت کے پابند ہیں بہت
آفتاب اقبال شمیم

روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
صبحِ اُمید، شب یاس کے پیراہن میں
روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں
میں درِ شام پہ بیٹھا ہوں سوالی بن کر
اک ستارا ہی اُتر آئے مرے آنگن میں
نارسائی میں رہو اور کرشمہ دیکھو
ہے عبادت کا مزہ گوریوں کے درشن میں
ابر تو برسا بہت، پیاس نہ مِٹ پائی مگر
کاش میں مر ہی گیا ہوتا کسی ساون میں
بے صدا ہوتی گئیں روشنیاں وقت کے ساتھ
وہ جو پیغام سا دیتی تھیں ہمیں بچپن میں
زندگی! کھل کے مرے سامنے آ یا چھپ جا
تو نے رکھا ہے ہمیشہ سے مجھے اُلجھن میں
قید میں دیوے بشارت مجھے آزادی کی
آسماں رہتا ہے دن رات مرے روزن میں
آفتاب اقبال شمیم

بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
ایک بلندی سے یوں ، آئی صدائے خیال
بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال
اسمِ بہار آفریں یاد نہیں ، دیکھئے
کب وہ مسیحا ہمیں دے گا شفائے خیال
سیر فلک ہو گئی، جو نہ ملا مل گیا
کیسے عجب معجزے کر کے دکھائے خیال
کیسے اُسے دیکھتی آنکھ نظر کے سوا
وہ جو کفِ گل پہ ہے رنگِ جنائے خیال
دُور زر و زور کے منطقۂ گرم سے
راس مجھے آگئی آب و ہوائے خیال
جوئے ستارہ بہے باغِ شب ہجر میں
تختِ صبا پر اُسے دُور سے لائے خیال
دشتِ تضادات میں کھو نہ گیا ہو کہیں
آئی نہیں دیر سے کوئی صدائے خیال
آفتاب اقبال شمیم

تال سے باہر کبھی ہے اور کبھی ہے تال میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 37
بس یہی دشواریاں ہیں آدمی کی چال میں
تال سے باہر کبھی ہے اور کبھی ہے تال میں
اپنے فردا کو بدل سکتا ہوں ماضی کو نہیں
یعنی آدھا دخل ہے میرا مرے احوال میں
بُن رہا ہے حرف و ہندسہ سے جو تارِ عنکبوت
تُو کہیں پکڑا نہ جائے آپ اپنے جال میں
خود کلامی اور تنہائی میں کمرے کا سفر
کیا بتاؤں اک صدی کاٹی ہے میں نے سال میں
ہے تماشا بند آنکھوں میں اُبھرنا عکس کا
روشنی آئی کہاں سے خواب کی تمثال میں
آفتاب اقبال شمیم

ریت سے جھُلسے ہوئے روئے زمیں کو دھو دیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 37
اُس نے اک اقرار میں ہاں سے نہیں کو دھو دیا
ریت سے جھُلسے ہوئے روئے زمیں کو دھو دیا
آخرش وہ اور اس کی بوریا ہی رہ گئے
دل کی طغیانی نے شاہ و شہ نشیں کو دھو دیا
دل میں اُسکی شکل کے سو عکس اب بنتے نہیں
ایک ہی آنسو نے چشمِ بے یقیں کو دھو دیا
دھوپ کو ابرِ مقدس ارغوانی کر گیا
بوسۂ باراں نے ہر شے کی جبیں کو دھو دیا
ظلم برپا تو ہوا لیکن کہاں برپا ہوا
میری غفلت نے کسی کی آستیں کو دھو دیا
جسم پر چھائی ہوئی شہوت کے ابرِ نار کا
قہر وُہ برسا کہ ہر نقشِ حسیں کو دھو دیا
آفتاب اقبال شمیم

بے ملاقات ملاقاتیں ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
تجھ سے تنہائیوں میں باتیں ہوں
بے ملاقات ملاقاتیں ہوں
دل میں چاہت ہو بہت جینے کی
لب پہ مرنے کی منا جاتیں ہوں
رُخ تو بدلا ہے، مگر کیا معلوم!
راہِ دیگر میں نئی گھاتیں ہوں
ہے یہ ایسی ہی لڑائی جس میں
کبھی جیتیں ہوں کبھی باتیں ہوں
ہو فقیروں کو تونگر کر دیں
حسن کے نام پہ خیراتیں ہوں
دن کھلیں تازہ گلابوں جیسے
مے سے مہکائی ہوئی راتیں ہوں
جن سے صحرا بھی ہرے ہو جائیں
اس قدر ٹوٹ کے برسائیں ہوں
آفتاب اقبال شمیم

ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
جو دل میں ہے اُسے کہنا ہے صاف صاف مجھے
ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے
مرے سخن اُسے اچھے لگیں ، لگیں نہ لگیں
جو کر سکے تو کرے زندگی معاف مجھے
کسی گدا کی طرح کوئے رزق و جنس میں کیوں
تمام عمر ہی کرنا پڑا طواف مجھے
یہ جور و جبر میں کس کے حساب میں ڈالوں
بجا کہ اپنی کمی کا ہے اعتراف مجھے
یہ نصرتیں ، یہ شکستیں ۔ تمام بے معنی
نہال کر گیا آخر یہ انکشاف مجھے
ہر ایک شکل پسِ شکل مسخروں جیسی
یہ کارِ فکر و متانت لگے ہے لاف مجھے
آفتاب اقبال شمیم

کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
وُہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک
کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک
کھڑی ہیں روشنیاں دست بستہ صدیوں سے
حرا کے غار سے لے کر گیا کے برگد تک
اُٹھے تو اُس کے فسوں سے لہک لہک جائے
نظر پہنچ نہ سکے اُس کی قامت و قد تک
پتہ چلا کہ حرارت نہیں رہی دل میں
گزر کے آگ سے آئے تھے اپنے مقصد تک
وہی اساس بنا عمر کے حسابوں کی
پہاڑا یاد کیا تھا جو ایک سے صد تک
وہی جو دوش پر اپنے اُٹھا سکا خود کو
نیشبِ فرش سے پہنچا فرازِ مسند تک
آفتاب اقبال شمیم

کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
تشنہ لبِ سوال کو دیکھئے کب شفا ملے
کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے
اپنی پرانی اصل پر آتا ہوں لوٹ لوٹ کر
سمجھوں میں انتہا جسے وہ مجھے ابتدا ملے
سرد حقیقتوں سے دور جبرِ یقین سے پرے
پائیں نمو، یہ ذہن و دل ایسی کوئی جگہ ملے
اپنے ہی آپ میں رہے گنجِ لئیم کی طرح
اُس بتِ خود پسند سے دل کی نیاز کیا ملے
ہار گیا ہوں بار بار، اتنا مگر ضرور ہے
ہاتھ قمار باز کا بدلا ہوا ذرا ملے
اُس جا تمہاری آس کیا اور ہماری یاس کیا
دھوپ جہاں سفر میں ہو سایہ گریز پا ملے
آفتاب اقبال شمیم

یہ زمیں کوئی نہ ہو وہ آسماں کوئی نہ ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 34
سوچئے گر آدمی ہی درمیاں کوئی نہ ہو
یہ زمیں کوئی نہ ہو وہ آسماں کوئی نہ ہو
خود کلامی نے غموں کا بوجھ ہلکا کر دیا
اب مرا، میری بلا سے راز داں کوئی نہ ہو
آج بھی مجھ کو مری گمنامیاں اچھی لگیں
کل بھی چاہوں گا مرا نام و نشاں کوئی نہ ہو
سختی ء حالات نے اندر سے پتھر کر دیا
شہر بھر میں ، ورنہ کیوں شوروفغاں کوئی نہ ہو
تنگ ہیں مجھ پر زمین و آسماں کی وُسعتیں
مجھ سا آوارہ بھی اے اہلِ جہاں کوئی نہ ہو
آفتاب اقبال شمیم

یعنی شب کو جاگئے صبح کو دفتر جائیے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 34
روز کی یکساں مسافت پر مکرر جائیے
یعنی شب کو جاگئے صبح کو دفتر جائیے
یہ زمانے بھر کی باتیں ختم ہوتی ہیں کہاں
رات کافی ہو چکی اب جائیے گھر جائیے
بیٹھئے سر تان کر گاہے صلیبوں کے تلے
اور گاہے آپ اپنی چاپ سے ڈر جائیے
تب ہو آغاز سفر جب آنکھ لو دینے لگے
اس شبِ تاریک میں ہو کر منور جائیے
آنکھ کو حسرت کہ بہرِ دید سو عمریں ملیں
اور دل چاہے کہ اُس بے مہر پر مر جائیے
ایک ان سلجھی پہیلی ہے جسے دنیا کہیں
آئیے اوسان لے کر اور ششدر جائیے
نا امیدی میں بھی وابستہ رہیں اُمید سے
ہو سکے تو اُسکی خاطر کچھ نہ کچھ کر جائیے
آفتاب اقبال شمیم

پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 33
وُہ جامِ فتح ہو کہ وُہ جامِ شکست ہو
پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو
پھر کیوں نہ آدمی ہو ثمر ایسے باغ کا
اسبابِ خیر و شر کا جہاں بندوبست ہو
خبروں میں بل پڑے ہوئے شیشے کا وصف ہے
شاید کہ تم بلند ہو شاید کہ پست ہو
ہر ہاں نہیں میں اور نہیں ہاں میں رونما
جیسے یہ ہست بود ہو اور بود ہست ہو
مشکل نہیں ہے وارنا احساں پہ عدل کا
فطرت میں آدمی نہ اگر تنگ دست ہو
اتنا ہوا کہ سنگ کو تجرید مل گئی
تم مان لو کہ اصل میں تم بت پرست ہو
آفتاب اقبال شمیم

کہ فلک سے جوڑ کر بھی نہ ہوئی زمیں زیادہ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 33
میری سیر کی تمنا، تھی مگر کہیں زیادہ
کہ فلک سے جوڑ کر بھی نہ ہوئی زمیں زیادہ
ترا دستِ شعبدہ گر، کُھلا بعدِ وقت مجھ پر
ترے بازوؤں سے نکلی تری آستیں زیادہ
کبھی جیت کر نہ جیتے، کبھی ہار کر نہ ہارے
کہ دکھایا ظرف ہم نے کہیں کم کہیں زیادہ
ہے فراق میں بھی یوں تو، وُہ مہِ منیر جیسا
ہو اگر قریں زیادہ تو لگے حسیں زیادہ
بڑا سخت واقعہ تھا، جسے سہہ لیا ہے میں تو
میرے حوصلے سے شاید مرا غم نہیں زیادہ
ہے وہی حریفِ امکاں جو گماں سے منحرف ہو
وہ منکروں میں ٹھہرے جو کرے یقیں زیادہ
آفتاب اقبال شمیم

سبطِ علی صبا ہو یا احمد شمیم ہو؟

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 32
کیا تم بھی چل دئیے، کہو کیسے ندیم ہو
سبطِ علی صبا ہو یا احمد شمیم ہو؟
دیتا ہے کھل کے دید مگر دور دور سے
جیسے سخی کے بھیس میں کوئی لئیم ہو
بستی میں سب مکان و مکیں ایک سے ملیں
تم کون ہو بتاؤ کہاں پر مقیم ہو
ساری حقیقتوں میں حقیقت نہیں کوئی
اُس پر کھلے یہ بھید جو اپنا غتیم ہو
پاپوشِ خاک پہنئے، چلئے ہمارے ساتھ
ہاں یہ بھی شرط ہے کہ بدن بے گلیم ہو
لا کر نیا نظام چلاؤ گے کس طرح
تم تو درونِ ذات ابھی تک قدیم ہو
آفتاب اقبال شمیم

رقص کرتے ہوئے بوئے گل نے کہا، ہر کوئی ناچتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 32
صحن گلشن میں گونجی صدائے صبا، ہر کوئی ناچتا ہے
رقص کرتے ہوئے بوئے گل نے کہا، ہر کوئی ناچتا ہے
کچھ گھڑی پیشتر حبس ہی حبس تھا، پھر اچانک ہوا کا
نعرۂ مست بستی میں اونچا ہوا، ہر کوئی ناچتا ہے
پھر بپا ہو گیا ایک جشن کہن قریۂ پُر فضا میں
پھر قبیلۂ نخلاں ہے نغمہ سرا، ہر کوئی ناچتا ہے
آبجوئے سرِ شہر نے لہر میں آ کے سرگوشیاں کیں
خود میں ٹھہرے ہوئے جوہڑوں کے سوا ہر کوئی ناچتا ہے
ایک پردے کا ہے فاصلہ زاہد و زہد کے درمیاں بھی
کوئی مانے نہ مانے درونِ قبا، ہر کوئی ناچتا ہے
پھر بدن کا لہو وجد میں آ گیا، دیکھ کر اُس حسیں کو
دھڑکنوں نے کہا دھڑکنوں نے سنا، ہر کوئی ناچتا ہے
عرش و ابر و ستارہ و مہتاب سب، ڈگمگانے لگے جب
سمفنی چھیڑ دے نغمہ گر بحر کا، ہر کوئی ناچتا ہے
ژن ژن تھیاؤ کی خالق محترمہ تائے آوے لیان کی نذر
آفتاب اقبال شمیم

سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کیا معجزہ کرتے ہیں ، آلاتِ صدا اُن کے
سب اصل کی نقلیں ہیں ، ذہنوں کے ورق دیکھو
سچائی کا لفظ آئے لب پر کبھی بھُولے سے
پھر چہرۂ دنیا کو ہوتے ہوئے فق دیکھو
زنجیر اُتروا دیں دروازوں کی مستک سے
کب شہر مکینوں کو ملتا ہے یہ حق دیکھو
کیا جانئے کیا ہووے معیار نئے دن کا
تا شام بُھلا ڈالو صبح جو سبق دیکھو
سینہ شبِ ظلمت کا، انوار سے شق دیکھو
ہاں مطلع خواہش پر خوابوں کی شفق دیکھو
وعدے کی کرن چمکی امکان کی دوری سے
روشن تو ہوئے کچھ کچھ تاریک طبق دیکھو
آفتاب اقبال شمیم

مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کبھی خود کو درد شناس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!
مری عمر سرائے مہکے ہے، گُل ہجراں سے
کبھی آؤ آ کر باس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے چاند میں شکل دکھائی دے، جو دہائی دے
کوئی چارۂ ہوش و حواس کرو، کبھی آؤ نا!
اُسی گوشۂ یاد میں بیٹھا ہوں ، کئی برسوں سے
کسی رفت گزشت کا پاس کرو، کبھی آؤ نا!
کہیں آب و ہوائے تشنہ لبی، مجھے مار نہ دے
اسے برکھا بن کر راس کرو کبھی آؤ نا!
سدا آتے جاتے موسم کی، یہ گلاب رتیں
کوئی دیر ہیں ، یہ احساس کرو، کبھی آؤ نا!
آفتاب اقبال شمیم

طاقِ اُمید میں یہ دیپ جلائے رکھو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 30
تندیِٔ باد سے آنکھوں کو بچائے رکھو
طاقِ اُمید میں یہ دیپ جلائے رکھو
میری خوش فہمیاں بھی میری وفا کا ہیں ثبوت
اُس کا فرمان جو ہے، آس لگائے رکھو
تم کہ شائستۂِ غم ہو، یہ تمہیں لازم ہے
ایک مسکان سی ہونٹوں پہ سجائے رکھو
قدرِ یک جام تمہیں بعد میں ہو گی معلوم
ربط دنیا سے کوئی دیر گنوائے رکھو
غم خود افروز بھی ہے تجربہ آموز بھی ہے
روز بڑھتا ہے اسے روز گھٹائے رکھو
جس کا سُن سکنا جفا کار کی فطرت میں نہیں
عادتاً تم بھی وہی شور مچائے رکھو
آفتاب اقبال شمیم

تم آدمی ہو، تو آدمی کی، ہتک نہ کرنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 30
تمیزِ فرزندِ ارض و ابنِ فلک نہ کرنا
تم آدمی ہو، تو آدمی کی، ہتک نہ کرنا
یہ جمع و تفریق، ضرب و تقسیم کی صدی ہے
عقیدہ ٹھہرا عدد کی منطق پہ شک نہ کرنا
پسِ خراباتِ بند جاری ہے مے گساری
سکھایا جام و سبو کو ہم نے کھنک نہ کرنا
چھلاوے بن جائیں آگے جا کر یہی غزالاں
تعاقب ان مہ وشوں کا تم دور تک نہ کرنا
یہ غم کہ معنی تجھے لگے ہے سراب معنی
اکیلے سہنا، اسے غمِ مشترک نہ کرنا
آفتاب اقبال شمیم

موجِ دریا کا سخن، غور سے سُن

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 29
حرف ہم رازِ کہن، غور سے سُن
موجِ دریا کا سخن، غور سے سُن
خامشی، ضرب اذیت کا جواب
سازِ خود داریِٔ تن، غور سے سُن
پھر کوئی آئینہ ٹوٹا ہے کہیں
پھڑپھڑاتی ہے کرن، غور سے سُن
دے گا صدیوں کی عبارت کا سراغ
میں ہوں خود اپنا متن، غور سے سُن
قامتِ حسن سے نسبت ہے اِسے
قصّۂ دارو سُن، غور سے سُن
لہجہ گُل میں بہ اندازِ عُرول
گُنگناتا ہے چمن، غور سے سُن
آفتاب اقبال شمیم

دکھائے حیرانیوں کا منظر، بہے سمندر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 29
حدوں میں رہ کر، حدوں سے باہر، بہے سمندر
دکھائے حیرانیوں کا منظر، بہے سمندر
زمیں کی آغوشِ پُرسکوں میں سکوں نہ پائے
ہوا کی راہوں میں ابر بن کر، بہے سمندر
یہ جان و جُنبش ثمر ہیں پانی کی ٹہنیوں کے
بدل کے شکلِ نوید گھر گھر، بہے سمندر
یہ سب کے سب ہیں پڑاؤ اسکی روانیوں کے
پہاڑ یا برف یا صنوبر، بہے سمندر
ہری کویتا کے شبد مٹی پہ لکھتا جائے
زبانِ اسرار کا سخن ور، بہے سمندر
یہ وجہ فعلِ وجود اصل وجود بھی ہے
یہی ہے دریا یہی شناور، بہے سمندر
اسی حوالے سے آنکھ پر منکشف ہوئے ہیں
زمین، افلاک اور خاور، بہے سمندر
رُکے تو ایسے بسیط و ساکت، ہو موت جیسے
بنامِ ہستی بہے برابر، بہے سمندر
فنا کرے تو بقا کی گنجائشیں بھی رکھے
ہو جیسے انسان کا مقدر، بہے سمندر
آفتاب اقبال شمیم

آپ اپنا سا منا اے آفتاب اقبال کر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 28
ایک دن سر سے بلائے مصلحت کو ٹال کر
آپ اپنا سا منا اے آفتاب اقبال کر
بستیاں نقدِ روا داری سے خالی ہو گئیں
اے خدا سیم و زرِ غم سے انہیں خوشحال کر
تیری آنکھوں کی تپش میں جی کے مرنا ہے مجھے
دھوپ سبزے کو جلا دیتی ہے جیسے پال کر
زرد سناٹے میں آویزاں ہے برگِ گہنگی
اے زمستاں کی ہوا آ کر اِسے پامال کر
دھونڈنے نکلے تو پا کر بھی نہ تجھ کو پا سکے
گُم شدہ رہ کر اُسے اپنا پتا ارسال کر
آفتاب اقبال شمیم

کسی آس پر، کسی یاس میں کبھی جی اُٹھا کبھی مر گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 28
میں بھی کتنا سادہ مزاج تھا کہ یقیں گمان پہ کر گیا
کسی آس پر، کسی یاس میں کبھی جی اُٹھا کبھی مر گیا
چلو یارِ وعدہ نواز سے کسی روز جا کے پتہ کریں
وہ جو اُس کے در کا اسیر تھا، اُسے کیا ہوا، وہ کدھر گیا
وہ شبِ عجیب گزر گئی، سو گزر گئی مگر اِس طرح
کہ سحر کا آئینہ دیکھ کر میں تو اپنے آپ سے ڈر گیا
تری آس کیا، کہ ہے ابر کا تو ہوا کے رُخ سے معاملہ
جو سنور گیا تو سنور گیا، جو بکھر گیا تو بکھر گیا
میری رہگزار میں رہ گئی یہی باز گشت صداؤں کی
کوئی بے نمود سا شخص تھا وُہ گزر گیا، وُہ گزر گیا
ہوئے منکشف مری آنکھ پر کئی اور زاویے دید کے
کوئی اشکِ ضبط اگر کبھی پسِ چشم آ کے ٹھہر گیا
آفتاب اقبال شمیم

کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
لگا دیں خوف نے ایسی بھی کچھ پابندیاں مجھ پر
کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر
میں خاک افتادہ رکھتا ہوں اُفق سے ربط آنکھوں کا
بہت جھک کر اُترتا ہے شکوہِ آسماں مجھ پر
ملا دیتا ہوں اپنے خواب کو اُس کی حقیقت سحر
تبھی تو مشکلیں بنتی نہیں آسانیاں مجھ پر
مرا یوں جاگتے رہنا انہیں اچھا نہیں لگتا
ہیں دُز دان شبِ غفلت بہت نا مہرباں مجھ پر
کچھ ایسے زندگی بے پرسش احوال گزری ہے
کسی کا پوچھنا بھی اب گزرتا ہے گراں مجھ پر
کشید شعر جب چھلکے غزل کے آبگینے میں
تو برسانے لگے سیمِ ستارہ کہکشاں مجھ پر
آفتاب اقبال شمیم

وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
یہ وقت آساں ، کبھی عدو پر گراں بھی ہو گا
وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا
یہی سجھائے ہمیں یہ ٹھہرا ہوا ستارہ
کہ جو بظاہر رُکا ہوا ہے رواں بھی ہو گا
اگر سفر میں رہا نہ آگے سے اور آگے
تو پھر وہ شہرِ مثال ہم پر عیاں بھی ہو گا
اُداس مت ہو خدا اگر واقعی خدا ہے
ضرور اِن بستیوں پہ وہ مہرباں بھی ہو گا
چلو تو یاروں کی چاہتیں ساتھ لیتے جاؤ
کہ راستے میں قبیلۂ دشمناں بھی ہو گا
بگاڑ بیٹھے ہو دل سے ان دنیا داریوں میں
کہا نہ تھا ایسے فائدے میں زیاں بھی ہو گا
آفتاب اقبال شمیم

باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 26
ایسے طلوع قطرہ خون کنج لب سے ہو
باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر
کیوں خود پہ رحم کھا کے کہیں اُنگلیوں سے تم
آسودگی کی گرہیں لگاتے ہو جان پر
اے شاہِ صوت! مژدۂ فردا نما سنا
خوش فہمیوں کی آیتیں نازل ہوں کان پر
ہر دم زمینِ عمر سے بے دخلیوں کا خوف
جیسے یہ کشتِ جبر ملی ہو لگان پر
کیا جانئے کہ علم کے کس مرحلے میں ہوں
کیوں جھوٹ کو فروغ دوں سچ کے گمان پر
آفتاب اقبال شمیم

رند کو تاجِ عرب، تختِ عجم مل جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 26
نشۂ مے ہے اگر نشۂ غم مل جائے
رند کو تاجِ عرب، تختِ عجم مل جائے
وقت کے چارہ گرو کوئی کرامات کرو
ارضِ بیمار کو ٹوٹا ہوا دم مل جائے
ہم کہ بگڑی ہوئی تقدیر کے پیارے ٹھہرے
ڈھونڈنے جائیں خوشی اور الم مل جائے
مصلحت نامۂ ہر روز پڑھا کر، اس میں
کیا خبر تجھ کو ترا نام رقم مل جائے
اک سرایت سی ترے لمس کی محسوس کروں
جیسے پتے کو دمِ باد کا نم مل جائے
میں کہ ذرّہ ہوں مرا ظرفِ تمنا دیکھو
چاہتا ہوں کہ مجھے لوح و قلم مل جائے
آفتاب اقبال شمیم

صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہمیشہ سے کیا ہے رشک میں نے اپنی قسمت پر
صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر
میں اپنی ذات میں آوارہ گردِ دو جہاں ٹھہرا
یہ نثر روز مرّہ بار ہے میری طبیعت پر
مجھے اپنا زیاں کرنے میں اک تسکین ملتی ہے
سمجھتا ہوں کہ اس سے قرض گھٹتا ہے محبت پر
ہر اک بازار اس کی کُنڈلی کا پیچ لگتا ہے
یہ مارِ زرد جو بیٹھا ہوا ہے دل کی دولت پر
آفتاب اقبال شمیم

اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہاں اسی دن دھوپ میں ہریالیاں شامل ہوئیں
اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں
بادِ آزادی میں ہم سب ناچنے والوں کے ساتھ
پھول پہنے، رقص کرتی ڈالیاں شامل ہوئیں
بوئے گُل سے جانئے کیوں بوئے خوں آنے لگی
باغ میں جب سے تری رکھوالیاں شامل ہوئیں
قہر تو اُس وقت ٹوٹا تھا، صفِ اعدا میں جب
چشم و لب سے قتل کرنے والیاں شامل ہوئیں
خیر کو شر اور شر کو خیر کرنے میں یہاں
جانئے کن کن کی بداعمالیاں شامل ہوئیں
اتنا پیارا ہو گیا ہوں دوستوں کو، کیا کہوں
جب بھی میرا ذکر آیا گالیاں شامل ہوئیں
آفتاب اقبال شمیم

کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
عبث ہے یہ پہرے بٹھانا لب و گوش پر
کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر
سفر بھی شعورِ سفر بھی ہے، چلنا تو ہے
وبالِ شب و روز رکھے ہوئے دوش پر
مجھے آن کی آن میں کچھ سے کچھ کر دیا
کسی نے وہ شب خون مارا مرے ہوش پر
یہ خواہش تو تھی ہاں مگر اتنی ہمت نہ تھی
کہ لکھتا زمانے کو میں نوکِ پاپوش پر
مزا چھپ کے پینے میں پہلے سے دُونا ملے
لگا اور پابندیاں مجھ سے مے نوش پر
کبھی تو ہوا تازیانہ لگائے اِسے
کہ دیکھیں سمندر کو آئے ہوئے جوش پر
آفتاب اقبال شمیم

ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
آخرِکار سمیٹیں گے اسے اہلِ نبرد
ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد
ایک ہی جور پہ انداز دگر برپا ہے
مژدہ کیا لائے کہیں سے بھی ترا شہر نورد
موسموں کا یہ بدلنا بھی مقدر ٹھہرا
زرد سے سبز کبھی اور کبھی سبز سے زرد
جان دینے سے بھی آگے کا کوئی معرکہ ہو
طے کرے جو میرے اس مثبت و منفی کی نبرد
آفتاب اقبال شمیم

آپ کو یار پسند اور مجھے دار پسند

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند
آپ کو یار پسند اور مجھے دار پسند
جیت کر جانئے کیوں ، میں بھی ذرا خوش نہ ہوا
اور دنیا نے بھی میرے لئے کی ہار پسند
ڈال دے وہ بھی جو آنکھوں میں چھپا رکھی ہو
ایسی کنجوسیاں کرتے نہیں مے خوار پسند
ساتھ ہی لے گیا پرسش کی تمنا شاید
ہائے وہ سب سے جدا شاعرِ دشوار پسند
اُن کے آلاتِ صدا جو بھی کہیں خوب کہیں
وُہ بڑے لوگ ہیں کرتے نہیں انکار پسند
موت آسان تھی جینے سے مگر کیا کیجئے
آ گئی در کے بجائے مجھے دیوار پسند
آفتاب اقبال شمیم

ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
سزائے جذبہ و احساس کاٹتے رہئے
ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے
اِس اژدہامِ حریصاں کو ہے یہی مطلوب
کہ ایک دوسرے کا ماس کاٹتے رہئے
ہر ایک شکل ملے مثلِ نخل بے چہرہ
یہی کہ شہر میں بن باس کاٹتے رہئے
یہ کارِ زندگی ہے کارِ کوہکن سے کٹھن
بصارتوں سے یہ الماس کاٹتے رہئے
بہ فیضِ نکتہ وری موسم بہار میں بھی
خزاں کی چھوڑی ہوئی گھاس کاٹتے رہئے
اِس انتظار کی لا حاصلی پہ زور ہی کیا
پرائے وقت کو بے آس کاٹتے رہئے
آفتاب اقبال شمیم

اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اس سمت محلے گلیوں کے یہ لڑکے ہیں بیباک بہت
اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت
ان سڑکوں پر جب خون بہا اور جب شاخیں بے برگ ہوئیں
دیکھا کہ پرانے قصّہ گو، کی آنکھیں تھیں نمناک بہت
آزاد ہے اُس کے قبضے سے تا حال علاقہ جذبوں کا
ویسے تو جہاں پر بیٹھی ہے اُس زور آور کی دھاک بہت
وُہ اوّل اوّل دیوانہ، تھا آخر آخر فرزانہ
اے دنیا! تیرا کیا کہنا، تو نکلی ہے چالاک بہت
کوتاہ نظر کا رشتہ ہے اور نوک ہنر بھی تیز نہیں
کچھ وقفۂ ہستی تھوڑا ہے اور سینے کو ہیں چاک بہت
دائم ناداری پیسوں کی اور یاری اپنے جیبوں کی
آئے ہیں ہمارے حصے میں اسباب بہت، اِملاک بہت
اکثر یہ شکایت کی ہم سے، اس شہر کے خوش پوشاکوں نے
وُہ جنم جنم کا آوارہ رستے میں اُڑانے خاک بہت
آفتاب اقبال شمیم

یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اگر ہر شہر اپنی ذات میں بغداد ہو جائے
یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے
وہ ریگستاں جسے مورخ بھی قاصر تھے جلانے سے
کہاں ممکن ہے تیری آگ سے برباد ہو جائے
کرشمہ دیکھئے اُس کی خبر سازی کی صنعت کا
ستم احسان بن جائے، کرم بے داد ہو جائے
کہاں تک تجربہ پر تجربہ کرتے چلے جائیں
سبق وُہ دو، ہمیشہ کے لئے جو یاد ہو جائے
اگر تقدیر سے اک خواب بھی سچا نکل آئے
تو اِس دورانِ غم کی مختصر میعاد ہو جائے
ابھی اِس شہر میں سچ بولنے کی رُت نہیں آئی
تو اِس پت جھڑ میں کوئی شعر ہی ارشاد ہو جائے
آفتاب اقبال شمیم

یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
نظر کے شہ نشیں سے اُٹھ کے جب وُہ مہرباں گیا
یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا
بس ایک عکس دور ہی ملا سڑک کے موڑ پر
جو موتیے کے ہار بیچتا تھا وہ کہاں گیا
ہوا کا خوش نورد اپنے ساتھ گرد لے اُڑا
چلا تو تھا سبک سبک مگر گراں گراں گیا
ملا نہ اسمِ آخریں ، درِ شفا نہ وا ہوا
اگرچہ دور دور تک یقیں گیا، گماں گیا
وہی نظر کے فاصلے وہی دلوں کی دُوریاں
ملا نہ کوئی آشنا وہ اجنبی جہاں گیا
مگر یہ کیا ضرور ہے کہ پھر سے تجربہ کریں
وُہ ایک کارِ رائیگاں تھا اور رائیگاں گیا
یہ نغمۂ مراد ہے، رُکے تو پھر سے چھیڑ دے
رہے گا اپنے پاس کیا جو ذکرِ دوستاں گیا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
بیٹھا ہوں ہونٹوں کے نیچے اوک رکھے
کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے
ایک ابد تک یونہی چلتے رہنا ہے
پاؤں کے اندر کانٹے کی نوک رکھے
کھو دینے اور پا لینے کے دھندے میں
یہ دنیا تو بندے کو ڈرپوک رکھے
دیکھا دیکھی فیصلہ کرنے والے کو
نا آسودہ رستے کا ہر چوک رکھے
ایک شعورِ غم دینے کے بدلے میں
کوئی ہم پر ظلم روا بے ٹوک رکھے
سطح ہوا پر سانس کی چند لکیروں سے
نقش بنانے کا کوئی کیا شوق رکھے
آفتاب اقبال شمیم

اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا
کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا
جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا
خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے
ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا
تھا عشق کا حوالہ نیا، ہم نے اس لئے
مضمونِ دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا
یوں بھی پناہ سایہ کڑی دھوپ میں ملی
آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا
آیا نیا شعور نئی اُلجھنوں کے ساتھ
سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا
بس کہ امامِ عصر کا فرمان تھا یہی
منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا
آفتاب اقبال شمیم

نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا
نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا
کچھ روشنیِٔ طبع ضروری ہے وگرنہ
ہاتھوں میں اُتر آتا ہے یہ سر کا اندھیرا
وُہ حکم کہ ہے عقل و عقیدہ پہ مقدّم
چھٹنے ہی نہیں دیتا مقدر کا اندھیرا
کیا کیا نہ ابوالہول تراشے گئے اس سے
جیسے یہ اندھیرا بھی ہو پتھر کا اندھیرا
دیتی ہے یہی وقت کی توریت گواہی
زر کا جو اجالا ہے وُہ ہے زر کا اندھیرا
ہر آنکھ لگی ہے اُفق دار کی جانب
سورج سے کرن مانگتا ہے ڈر کا اندھیرا
آفتاب اقبال شمیم

خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
میں کیا ہوں کیا نہیں ، یہی جھگڑا پڑا رہا
خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا
کرتا بھی کیا کہ آتشِ دل تیز تھی بہت
تا عمر اپنی جان میں پگھلا ہوا رہا
ہر بار خود سے ڈر گیا آئینہ دیکھ کر
میں اپنے آپ میں بھی کوئی دوسرا رہا
اِس گھر سے لمحہ وار نکالا گیا مجھے
یک طرفہ مجھ پہ ہست کا دروازہ وا رہا
شاید کہ زندگی کوئی تمثیل گاہ تھی
ورنہ میں کیوں خود اپنا تماشا بنا رہا
جس کی زباں تھی جس کے اشاروں سے مختلف
میں اُس کے در پہ اپنا پتا پوچھتا رہا
آفتاب اقبال شمیم

مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤنا
مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا
کھُلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا
حجابِ ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا
ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے
کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا
جو چاہو تو زمانے کا زمانہ واژگوں کر دو
مگر پہلے حدودِ جاں میں ہنگامہ اٹھاؤ نا
سبک دوشِ زیاں کر دیں زیاں اندیشاں دل کی
ذرا اسبابِ دنیا راہِ دنیا میں لٹاؤ نا
لئے جاتے ہیں لمحے ریزہ ریزہ کر کے آنکھوں کو
نہایت دیر سے میں منتظر بیٹھا ہوں ، آؤ نا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
اُس حسن نے آنکھ کے امبر پر، جو نقش ابھارا ایسا تھا
کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا
پھر تیز ہوا نے پاؤں میں ، ڈالی زنجیر بگولے کی
سو ہم نے گریباں چاک کیا، موسم کا اشارہ ایسا تھا
تھی تو افراط شرابوں کی، لیکن ہم پیاسے کیا کرتے
جو جام چکھا سو توڑ دیا، معیار ہمارا ایسا تھا
ناداری دائز ناداری مارث ہماری نسلوں کی
مر کے بھی نہ جو بے باق ہوا، جینے کا خسارا ایسا تھا
قاتل کو بھی کچھ دقّت نہ ہوئی، مرنا بھی ہمیں آسان لگا
سر فخر سے اونچا رکھنے کا انداز گوارا ایسا تھا
آفتاب اقبال شمیم

قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
زخم کھائے ہوئے پانی کا تماشا دیکھیں
قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں
گاہے پستی کا مکیں ، گاہے بلندی پہ رواں
وقت کی نقل مکانی کا تماشا دیکھیں
جانتے ہیں کہ بنے واقعہ، قصّہ کیسے
ہم کہانی میں کہانی کا تماشا دیکھیں
اتنی خلقت میں مگر آدمی ناپید ملے
جنسِ ارزاں کی گرانی کا تماشا دیکھیں
دن میں سورج کبھی دو بار نکل آئے تو
ہم بھی دوبارہ جوانی کا تماشا دیکھیں
دیمکیں چاٹ چکی ہوں گی صلیبیں کتنی
ہم کہاں کس کی نشانی کا تماشا دیکھیں
پیرہن لمس میں ہوں جیسے بھرے بدنوں کے
لفظ اندر سے معانی کا تماشا دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا
پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا
میاں ، اس اشتہاروں کی دکاں میں جو نہیں وہ ہے
یہ آنکھیں ہار جائیں گی، تماشا جیت جائے گا
برابر ہی چھڑا دے گی بالآخر مصلحت ہم کو
میں تجھ کو آزماؤں گا تو مجھ کو آزمائے گا
مگر رکھنی ہے اپنے حوصلے کی آبرو تو نے
مجھے معلوم ہے تو زخم کھا کر مسکرائے گا
زرِ گم نام کو پھر ڈھونڈھ کر آثارِ فردا میں
زمانہ دیر تک میرے لئے آنسو بہائے گا
آفتاب اقبال شمیم

نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
سپردگی میں نکل گیا وہ زمیں سے آگے
نشانِ سجدہ پڑا تھا اُس کا، جبیں سے آگے
رواں سمندر کا چلتا ساحل ہے آدمی بھی
اُسی کی زد میں کہیں سے پیچھے کہیں سے آگے
ضرور ہم بھی مسائل دل پہ غور کرتے
نکلنے پاتے کبھی جو نانِ جویں سے آگے
ابھی تو نو مشقِ جستجو ہوں ، ابھی سفر میں
ہے اور کچھ بھی حدودِ عقل و یقیں سے آگے
سفر کا خاکہ لگے کہ پَرکار سے بنا ہے
وہی ذرا سی نمود ہاں کی، نہیں سے آگے
پلٹ گیا خوش مشام طائر، سراغ پا کر
کہ بوئے سازش اڑی تھی جائے کمیں سے آگے
آفتاب اقبال شمیم

شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
میں جسے ملنے یہاں آیا وہ رخصت ہو چکا
شہرِ مشرق میں بپا روزِ قیامت ہو چکا
اب درِ آئندگاں پہ جا کے دستک دیجئے
یارِ خواب افروز اب کا بے مروّت ہو چکا
اُن سے کہنا خامۂ امکاں سے پھر لکھیں اُسے
وُہ سنہرا لفظ جو حرفِ عبارت ہو چکا
کل وہ پھر جائیں گے جاں دینے فرازِ دار پر
اور ایسا دیکھنا برسوں کی عادت ہو چکا
اب بیاض شوق کا اگلا ورق اُلٹائیے
آج کا منظر تو خونِ دل سے لت پت ہو چکا
میں کھنڈر سا رہ گیا اے رفتگاں ! اے رفتگاں !
اپنے ہی لشکر کے ہاتھوں شہر غارت ہو چکا
آفتاب اقبال شمیم

بے نیازیاں اُسکی، ہو کے آبدیدہ لکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 16
بات ایک جیسی ہے، ہجو یا قصیدہ لکھ
بے نیازیاں اُسکی، ہو کے آبدیدہ لکھ
جمع کر یہ آوازیں میری خود کلامی کی
اور ان کی املا سے درد کا جریدہ لکھ
ذہن کی ہدایت ہے، کاتب زمانہ کو
عقل کی دلیلوں سے آج کا عقیدہ لکھ
رنگ و روشنائی کی حدِّ اوج سے اوپر
ہو سکے تو اندازاً قامتِ کشیدہ لکھ
دیکھ اِن خلاؤں میں نقطہ ہائے نور اُس کے
تو بھی ایک خالق ہے شعر چیدہ چیدہ لکھ
آفتاب اقبال شمیم