اُس کو ہم سے گِلہ رہے گا ایسے ہی
کچھ کر لیں وہ خفا رہے گا ایسے ہی
اُسے ہنسانے کی ہر کوشش ہے بے سود
اُس کا منہ تو بنا رہے گا ایسے ہی
اُس کو ہم سے گِلہ رہے گا ایسے ہی
کچھ کر لیں وہ خفا رہے گا ایسے ہی
اُسے ہنسانے کی ہر کوشش ہے بے سود
اُس کا منہ تو بنا رہے گا ایسے ہی
بابا، تم نے
اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر
اپنے آبا کی قبروں کو چھوڑا تھا۔
ہم نے بھی ہجرت کی ہے
اپنی اولاد کے ’روشن‘ مستقبل کے لیے۔
پھُول کسی گلشن میں کھِلے
یا کسی کے آنگن کی کیاری میں ،
سڑک کے بیچ میں ، یا
فٹ پاتھ پہ لگے ہوئے پودے میں ،
اس کے رنگ وہی ہیں
اس کی مہک وہی۔
سُورج سُورج ہے
چاہے مشرق سے نکلے
چاہے مغرب سے۔
گو صُلح اور امن سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ
موزوں نہیں پیام یہ ہر ایک کے لیے
دشمن کو ڈھیل دی تو ہُوا سَر پہ وہ سوار
کلہاڑی اپنے پاؤں پہ ہرگز نہ ماریے
بادل کی طرح سایہ بھی دیں غیر کو ضرور
لیکن کبھی گرجنا برسنا بھی چاہیے
جتنی بھیک مجھے درکار تھی
اس کے لیے میرا کشکول
بہت چھوٹا تھا۔
آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول
اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا۔
کچھ تو جہاں میں اہلِ سخاوت کی تعداد بڑھی
کچھ میں نے بھی سیکھے نئے نئے انداز،
دستِ سوال بڑھانے کے،
عرضِ تمنّا کرنے کے۔
میرا کام تو چل نِکلا۔
سوچ رہا ہوں لے آؤں
اِک عمدہ سا کشکول۔
صاحبِ عالی مقام
جس کا نہیں کوئی نام
اپنوں پہ حاکم ہے یہ
غیر کا ادنی غلام
وہ کہتے ہیں کہ جنت کی غلامی سے
کہیں بہتر ہے دوزخ کی شہنشاہی۔
میں کہتا ہوں وہ جنت ہی نہیں
جس میں غلامی ہو،
اگرچہ بادشاہت اک نشانی ہے جہنّم کی
جہانِ تازہ مِرے دم قدم سے پیدا ہو
بہشت ارض پہ اُس کے کرم سے پیدا ہو
خوشی کی صُبح شبِ تارِ غم سے پیدا ہو
سکون وسوسہء بیش و کم سے پیدا ہو
زبانِ تیشہ سے ایسے ہو کچھ بیانِ حُسن
اَذانِ عشق دہانِ صنم سے پیدا ہو
نظامِ کہنہ اگر چاہیے حیاتِ نَو
یہ وقت ہے کہ تُو میرے قلم سے پیدا ہو
شجر سے کٹ کے جو بے جان ہو گئی تھی شاخ
قلم بنی تو وہ دوبارہ ہو گئی زندہ
شبِ سیہ سے زیادہ سیہ سیاہی سے
تمام عالمِ تاریک ہو گیا روشن
پہلی آواز:
آؤ لکھو پڑھو
تاکہ بہتر طریقے سے خدمت کرو
مُلک اور قوم کی۔
خواندگی خواندگی ورنہ پسماندگی!
دوسری آواز:
اِتنا پڑھ لِکھ کے بھی
میری حالت وہی،
آج اِس کی تو کل اُس کی دہلیز پر
منتظر، ملتجی،
خواندگی!
اِس پڑھائی لِکھائی سے کیا فائدہ
جو سکھائے فقط ایسی تحریر
آغاز جس کا جناب و حضور
انتہا تابعداری کا اک غیر مشروط پیمان
اور پیشگی شکریہ
جانے کس بات کا
کل کی بات ہے
کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا!
میں نوعُمر تھا،
پیِری خود سے صدیوں دُور نظر آتی تھی۔
اب میں پیِری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں ،
بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں
جیسے ان اَدوار سے میں گزرا ہی نہیں ۔
مِری اچھی وجیہہ،
میں تجھ سے خوش ہوں اِتنا
کہ اکثر سوچتا ہوں ،
اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے،
خالق مجھ سے کہتا
کہ چن لے اِن ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے
اِک اپنے لیے،
تو میں تجھے ہی منتخب کرتا۔
میں خوش قسمت ہوں کتنا!
دعا گو ہوں
سدا جیتی رہے
اور ایسی ہی اچھی رہے تُو!
جب تک
میری ماں زندہ تھی ،
میں بچّہ تھا۔
مہرباں آج ہوئے مجھ پہ امامِ شبیرؑ
صبرِایّوبؑ میں ہے ضربِ علیؑ کا سا وصف
تیغ کی طرح چمکتی ہے نیامِ شبیرؑ
جائے سجدہ میں ملیں جادۂ جنّت کے سراغ
دل میں تیرے جو اُتر جائے پیامِ شبیرؑ
اہلِ ایمان کی ہر صبح ہے صبحِ عاشور
ان کی ہر شام کا عنوان ہے شامِ شبیرؑ
وقت پڑنے پہ کہیں شمر کے ہمراہ نہ ہوں
ویسے کہتے تو ہیں ہم خود کو غلامِ شبیرؑ
میرے حصّے میں بھی ہوتی یہ حیاتِ جاوید
نامۂ رشک ہے یہ خِضرؑ بنامِ شبیرؑ
آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اِس کا حصول
جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیرؑ
شرط ہے راہبری تا بہ شہادت باصرؔ
محض ورثے میں ملا کس کو مقامِ شبیرؑ
تجھ سے ہی مرے مالک اِس نے حوصلہ پایا
ٹھوکروں سے رستے کی خود کو جو بچا پایا
زندگی میں جنت کا اُس نے در کھُلا پایا
حرف حرف کا تیرے ذرّہ ذرّہ ہے شاہد
جو بھی کچھ کہا ہم نے نقش بَر ہوا پایا
اُس کی راہ پر باصرؔ آ گئے جو ہم آخِر
جس قدر گنوایا تھا اُس سے دس گُنا پایا
مری دانست میں نامِ محمد
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
(ب س ک)
کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں
دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
باصِر سلطان کاظمی کا یہ شعراور اِس کا انگریزی ترجمہ، جو شاعر اور دیبجانی چیٹرجی کی مشترکہ کاوش ہے ،دس دیگر زبانوں کے شعری نمونوں کے ساتھ ،پتھرپہ کندہ کر کے لندن سے ملحقہ شہر سلاؤ ((Slough کے میکنزی سکوائر(McKenzie Square) میں نصب کیا گیا ہے۔ شعراء میں فلسطین کے معروف شاعر محمود درویش بھی شامل ہیں ۔ اِس پروجیکٹ کے لیے آرٹس کونسل آف انگلینڈ نے اوکسفورڈشائر کے سنگ تراش Alec Peevar کی خدمات حاصل کیں ۔
اپنی والدہ مرحومہ شفیقہ بیگم اور مرحومہ چچی شکیلہ جبین کے نام
پروفیسر مشکور حسین یاد
باصِر کاظمی کی شاعری میں عوام کی روزمرّہ زندگی کے بارے میں زیادہ باتیں ہیں اور ایسی زبان اور ایسے انداز میں ہیں کہ جن کو آج کے ادب ناپسند عوام بھی سمجھ سکتے ہیں اور سمجھتے ہیں… ایسی آسان زبان جس میں معنی کی گہرائی اس انداز سے پیدا ہوئی ہو جس میں عام معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی غوطہ لگا سکے۔یعنی جہاں زبان کی سادگی کو نظر انداز کر کے عام آدمی بھی مفہوم کی طرف متوجہ ہو جائے… خالصتہَ باصِر کے اسلوبِ کی مثال ملاحظہ کیجیے:
دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اِس لیے
ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر
لوگ جب مِلتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو
جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مِرے ہات پہ بات
کیا کیا وہ ہمیں سنا گیا ہے
رہ رہ کے خیال آ رہا ہے
اِک بات نہ کہہ کے آج کوئی
باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے
یہ ناصِر کاظمی کا اسلوب تو قطعی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باصِر اپنے اسلوبِ خاص سے ہٹتا بھی ہے تو کمال دکھاتا ہے یعنی عام آدمی کو بڑی حد تک اِس تجربہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے:
کچھ دکھائی نہیں دیتا ترے سودائی کو
دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو
مگر اس کے اسلوب میں معنی خیزی کا کمال بھی دیکھیے۔ بڑی عام سی بات ہے:
ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے
تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رکی تو ہے
اب آپ اس شعر کے ایک لفظ بارش سے جتنے چاہے معانی نکال سکتے ہیں۔ لیکن باصِر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے یعنی دوسرے دور سے تیسرے میں داخل ہوتا ہے تو اپنے خاص اسلوب کی طرف زیادہ متوجہ نظر آتا ہے:
ہم کو اپنا شہر یاد آتا نہ شاید اِس قدر
کیا کریں رہتا ہے تیرے شہر کا موسم خراب
باصِرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں
بیمار ہو پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بِگڑے ہوئے کام سنوارے
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروّت
کہا ہم بے مروّت ہی سہی، تو
باصِر عام طورپر شاعرانہ حربے استعمال نہیں کرتابلکہ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جان بوجھ کر بڑے بڑے شاعروں کو اور بڑی بڑی قسم کی شاعری کو دور سے اپنا ٹھینگا دکھا رہا ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خالص شاعری میں حربے استعمال نہیں ہوا کرتے۔ یعنی خالص شاعری کو کسی طرح کے حربوں کی ضرورت نہیں البتہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے…باصِر کے دو چار شعر اور سن لیجیے:
کتنا کام کریں گے
اب آرام کریں گے
ویسے تو وہ دوست ہیں سبھی کے
کام آتے ہیں پر کسی کسی کے
زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
اللہ ایسے موقعے مجھے بار بار دے
جتنا ادھار ہے مرے سر سے اتار دے
پڑا ہے آج ہمیں ایک مطلبی سے کام
خدا کرے کہ اُسے ہم سے کام پڑ جائے
برا ہرگز نہیں اُس کا رویّہ
مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے
…اب ذرا باصِر کاظمی کاشعر زندگی کے تماشے کے بارے میں سنیے۔ کسی طمطراق اور طنطنے کے بغیر باصِر زندگی کو ایک عام آدمی کی طرح بھی دیکھتا ہے اوراُس کو اِس پر غور و فکر کے لیے بھی اکسا رہا ہے لیکن کسی شورو غوغا کے ساتھ نہیں:
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گئی ہے زندگی
ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی
موجِ خیال پڑھتے وقت مجھے بار بار قرآنِ پاک کی سورہ شعرا کی آخری آیات یاد آتی رہیں جن میں پہلی بات تو یہ کہی گئی ہے کہ شعراکی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیونکہ شعرا اپنے اشعار میں جو چاہتے ہیں بلا ضرورت بیان کر دیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ و ہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں۔وہی بات کہ شعرا کی شاعری میں حقائق کا اظہار اس طرح نہیں ہوتاجس سے عام آدمی صحیح معنی میں مستفید ہو سکے۔ غالباَ باصِر کے لاشعور میں یا شعور میں یہ بات کچھ زیادہ ہی مضبوطی کے ساتھ جاگزیں ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایسی شاعری کرے جس سے ہر آدمی مستفید ہو سکے… باصِر خواہ مخواہ کے وہم و گمان کی وادیوں میں بھٹکتا نہیں پھرتابلکہ اپنے بظاہر دھیمے لہجے میں ظلم و ستم کے خلاف آواز ہی بلند کرتا رہا ہے۔
( مطبوعہ ’علامت‘، مئی 1999ئ)
ہماری آنکھ نہ ہوتی تو حُسن کیا کرتے
ہمارے دل میں نہ ہوتے تو وہ کہاں ہوتے
میری خوشی میں تیری خوشی تھی
اب دُکھ میں کیوں بھاگ رہا ہے
بعد موت کے ہماری روح
دنیا کو کیا پاتی ہو گی
یہ تھوڑا تھوڑا جو پینے کو مل رہا ہے تو کیا
مزا ہی جب ہے کہ پینے کے بعد پیاس رہے
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تُو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
اب کے جھگڑا ہے مِرا خوبیِ تقدیر کے ساتھ
نامۂ شیریں ملا تلخیِ تاخیر کے ساتھ
ہم نے دانستہ بھُلا ڈالے جو دیکھے تھے خواب
زندگی کٹ نہیں سکتی تِری تصویر کے ساتھ
فاصلے کسی طرح کچھ اگر ہوئے کم بھی
دیکھتے رہے تم بھی سوچتے رہے ہم بھی
گرچہ اپنی جیب میں بھی کچھ سِکے ہیں
لیکن اِس بازار میں یہ کب چلتے ہیں
یا تو مجنوں کی سی وحشت ہی دکھائی ہوتی
زندگی ورنہ قرینے سے بِتائی ہوتی
دور رہتا ہے وہ دانستہ مری محفل سے
ہے کوئی بات کہ جاتی نہیں اُس کے دل سے
یہ آنکھیں دماغ اور دل دشمن ہیں جگر تیرے
مارا تجھے اپنوں نے الزام ہے غیروں پر
یہ مزاجِ یار کی بھول ہے بھلا یہ کہاں کا اصول ہے
کسی ایک دن جو بھلا لگا وہ تمام عُمر بھلا لگے
کہتا رہا میں اُس سے کہ ہاں ہاں کہو کہو
لیکن زبانِ دوست پہ ’بس کچھ نہیں‘ رہا
تم روشنیِ صبح ہو میں تیرگیِ شب
سچ ہے کہ مرے تم سے ستارے نہیں ملتے
جاتا نہیں ہے جڑ سے کبھی عشق کا مرض
ہوتا ہے چند روز دوائی سے فائدہ
شکوے کا اب خیال بھی آتا نہیں ہمیں
وہ بات ہی نہیں تو لڑائی سے فائدہ
مِل رہا ہے آج وہ جس طور سے
آپ نے دیکھا نہیں ہے غور سے
آپ تو اُس کے لیے سُولی چڑھیں
اور وہ پینگیں بڑھائے اور سے
ہر بات کا سُراغ نہاں اُس کی ضد میں ہے
چاہا تھا اپنے آپ کو پانا سو کھو گئے
اچھے ہیں سب حیات کے جتنے بھی دور ہیں
یہ بات جو سمجھ گئے وہ لوگ اور ہیں
16اکتوبر
ہو جائیں نفس چند کہیں آ کے جو آباد
سمجھو کہ وہیں پڑ گئی اِک شہر کی بنیاد
یکم جنوری
کرو میلا نہ دل اپنا سُنا ہوگا یہ تم نے بھی
بُرا کہنا بھلے لوگوں کو عادت ہے زمانے کی
بچھڑنے والے اپنے ساتھ کیا کیا لے گئے باصرؔ
یہ دنیا دلنشیں اتنی نہیں اب جتنی پہلے تھی
12فروری
اللہ ایسے موقعے مجھے بار بار دے
جتنا ادھار ہے مرے سر سے اتار دے
16جون
آتا نہیں اُنہیں کبھی خود سے مرا خیال
میں گاہے گاہے خود ہی بتاتا ہوں اپنا حال
باصرِؔ تمام دن کی مشقت بجا مگر
ہے ابتدائے شب ابھی سونے کا کیا سوال
اگست
دنیا کے بکھیڑوں سے نکل پائیں گے کیسے
کہتے تو تھے آئیں گے مگر آئیں گے کیسے
7مئی
پڑا ہے آج ہمیں ایک مطلبی سے کام
خدا کرے کہ اُسے ہم سے کام پڑ جائے
13مارچ
میری خوش وقتی سے پرخاش کچھ ایسی ہے تجھے
دل جلے جس سے مرا بات وہ کرنی ہے تجھے
مجھے کرنی تو ہے کچھ بات مگر ایسے نہیں
آج لگتا ہے کسی بات کی جلدی ہے تجھے
20نومبر
ہو جس کی ہمیں طلب زیادہ
ملتی ہے وہ چیز کب زیادہ
پہلے سے زیادہ گرم ہے جیب
لینے لگے قرض اب زیادہ
18مارچ
اہلِ دل آ گئے کہاں سے کہاں
دیکھیے جائیں گے یہاں سے کہاں