زمرہ جات کے محفوظات: غزل

سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں

بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں
سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں
یہ کوہ و دشت بھی آئینہِ بہار بنے
فقط چمن کے نظارے مجھے قبول نہیں
تمھارے ذوقِ کرم پر بہت ہوں شرمندہ
مراد یہ ہے سہارے مجھے قبول نہیں
مثالِ موج سمندر کی سمت لوٹ چلو
سُکوں بدوش کنارے مجھے قبول نہیں
میں اپنے خوں سے جلاؤں گا رَہ گزر کے چراغ
یہ کہکشاں، یہ ستارے مجھے قبول نہیں
شکیبؔ! جس کو شکایت ہے کُھل کے بات کرے
ڈھکے چُھپے سے اشارے مجھے قبول نہیں
شکیب جلالی

وہ پاس آ رہا تھا کہ میں دُور ہٹ گیا

بس اک شعاعِ نُور سے سایہ سمٹ گیا
وہ پاس آ رہا تھا کہ میں دُور ہٹ گیا
پھر درمیانِ عقل و جنوں جنگ چھڑ گئی
پھر مجمعِ حواس گروہوں میں بٹ گیا
کیا اب بھی تیری خاطرِ نازک پہ بار ہُوں
پتھر نہیں کہ میں ترے رستے سے ہٹ گیا
یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا
وہ لمحہِ شعور جسے جاں کَنی کہیں
چہرے سے زندگی کے، نقابیں اُلٹ گیا
اب کون جائے، کُوئے ملامت سے لوٹ کر
قدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا
آخر، شکیبؔ! خُوے سِتم اس نے چھوڑ دی
ذوقِ سفر کو دیکھ کے صحرا سمٹ گیا
شکیب جلالی

اوپگلے کیا سوچ کے تو نے جیون کی بازی ہاری ہے

اُس مَدھ ماتی سُندر چھب کی متوالی دُنیا ساری ہے
اوپگلے کیا سوچ کے تو نے جیون کی بازی ہاری ہے
جھیل نہیں اِندر کی سبھا ہے، پُھول نہیں چنچل پریاں ہیں
جنگل میں ایسی رُت کب تھی، یہ سب دھیان کی گُل کاری ہے
رُوپ محل کی چور گلی سے، دیکھوکس کو بُلاوا آئے
اک ہیروں کا سوداگر ہے اَور اِک من کا بیوپاری ہے
گھر سے اکیلا جو بھی نِکلا اس نے اپنی کھوج نہ پائی
چندرما کا ہاتھ پکڑلو، یہ رات بڑی اندھیاری ہے
کِس سے روئیں پیار کا دُکھڑا، کِس سے پائیں داد وفا کی
کچھ گونگے بہرے لوگوں کی، اس بستی میں سرداری ہے
شکیب جلالی

کچھ شرارے بھی رگِ جاں کو جُھلسنے والے

اَبر بن کر مری آنکھوں سے برسنے والے
کچھ شرارے بھی رگِ جاں کو جُھلسنے والے
مُلتفت پا کے تجھے ، ہوش گنوا بیٹھیں گے
یہ تری نیم نِگاہی کو ترسنے والے
کوئی پیکر ہو جھلکتے ہیں انہی کے خدو خال
بن گئے جزوِ نظر ، دھیان میں بسنے والے
دوست داری کا تقاضا ہے کہ میں کچھ نہ کہوں
آستینوں کے مکیں ہیں ، مجھے ڈسنے والے
مُفتیِ شہر کی تقریر سے ڈرنا کیا ہے
کہیں ایسے بھی گرجتے ہیں برسنے والے
طاق مژگان پہ لرزتے رہے اشکوں کے چراغ
کس تکلیف سے بہیے ٗ آج یہ بہنے والے
شکیب جلالی

اب شمع بکف پھرتا ہے دیوانہِ مہتاب

اوجھل ہوا نظروں سے ضیا خانہِ مہتاب
اب شمع بکف پھرتا ہے دیوانہِ مہتاب
بخشی ہیں تحیّر کی نگاہوں کو پناہیں
دائم رہے آباد صنم خانہِ مہتاب
ڈھونڈے نہ ملی جاے سکُوں قریہِ شب میں
کاندھے پہ اٹھائے پھرے کاشانہِ مہتاب
پھِر اُڑنے لگے گیسوے غم دوشِ فضا پر
پھر کوئی چھلکتا ہوا پیمانہِ مہتاب
شمعیں نہ بھڑک اٹھیں شبستانِ جنوں کی
ہم کہتے ہوئے ڈرتے ہیں افسانہِ مہتاب
تم سے تو کوئی فیض نہیں عرش نشینو
ہم خاک بسر، لائے ہیں نذرانہِ مہتاب
شکیب جلالی

صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

اس گُل بدن کی بُوئے قبا یاد آ گئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی
یہ کون زندگی میں نشہ گھولنے لگا
کس کی اداے ہوش رُبا یاد آ گئی
یاد آگئے کسی کے تبسّم تراش لب
کِھلتے ہوئے کنول کی ادا یاد آ گئی
پھر دل کی دَھڑکنوں نے بِچھائی بِساطِ رقص
پھر وہ نگاہِ نغمہ سرا یاد آ گئی
گھبرا کے چاند چھپ گیا بادل کی اوٹ میں
بے ساختہ وہ جانِ حیا یاد آ گئی
تنہائیوں کی گونج نے جب بھی دیا فریب
مجھ کو شکستِ دل کی صدا یاد آ گئی
شکیب جلالی

کوئی موسم ہو مرا، زخم ہرا رہتا ہے

دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہے
کوئی موسم ہو مرا، زخم ہرا رہتا ہے
شب کو ہو گا اُفقِ جاں سے ترا حُسن طلوع
یہ وہ خورشید ہے جو دن کو چھپا رہتا ہے
یہی دیوارِ جدائی ہے زمانے والو
ہر گھڑی کوئی مقابل میں کھڑا رہتا ہے
کتنا چپ چاپ ہی گزرے کوئی میرے دل سے
مدّتوں ثبت نشانِ کفِ پا رہتا ہے
سارے در بند ہوئے شہر میں دیوانے پر
ایک خوابوں کا دریچہ ہی کُھلا رہتا ہے
شکیب جلالی

رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے

کاسہِ سر کو ان سے کچھ پتھر خیرات مِلے
رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے
یُوں سِمٹا بیٹھا ہُوں اندھیارے کی بانہوں میں
بھولے بھٹکے شاید تیری زُلف کی رات مِلے
کاش اک ایسی صُبح بھی آئے ہجر کی رات کے بعد
جب میں سو کر اُٹھوں ہات میں تیرا ہات مِلے
شہرِسمن کو چھوڑا جن کی یاد سے گھبرا کر
بَن میں وُہ قاتل لمحے گرد کی صورت سات ملیِ
تم سے جیالے انساں ہم نے کم دیکھے ہیں ، شکیبؔ
اس کوچے میں یوں تو اور بہت حضرات ملے
شکیب جلالی

زخموں کی طرح سِینہِ سوزاں میں رہے پُھول

شاخوں پہ رہے اور نہ داماں میں رہے پُھول
زخموں کی طرح سِینہِ سوزاں میں رہے پُھول
دوشیزگیِ رنگ کے لُٹ جانے کا ڈر تھا
سہمے ہوئے آغوشِ بہاراں میں رہے پھول
کیا کم ہے یہ احسان ترا یادِ بہاراں !
ہمراہ مِرے گوشہِ زنداں میں رہے پُھول
شُعلہ صفت و بَرق شعار و شفق انداز
کیا کیا نہ مِرے دیدہِ حیراں میں رہے پھول
اک موجِ بلاخیز بہا لے گئی آخر
کچھ دیر تو کنجِ خسِ مِژگاں میں رہے پُھول
اک طرفہ تماشا تھی بدلتی ہوئی رُت بھی
غیروں کی طرح اپنے گلستاں میں رہے پُھول
شکیب جلالی

ہر روش پر گُل کتر جائے گی دھوپ

پَو پھٹے جب مَوج میں آئے گی دھوپ
ہر روش پر گُل کتر جائے گی دھوپ
صُبح ہونے کی اَسیرو دیر ہے!
روزنِ زنداں میں در آئے گی دھوپ
سر بہ خم ہو جائیں گے اصنامِ شب،
چڑھتے سُورج کی خبر لائے گی دھوپ
کُہر میں لپٹے ہوئے اجسام پر
ایک زرّیں شال بُن جائے گی دھوپ
اُونگھتی تَنہائیوں کے کان میں
نغمگی کا شہد ٹپکائے گی دھوپ
تا بہ کَے اختر شماری، اے شکیبؔ
بُجھتے تاروں کو نگل جائے گی دھوپ
شکیب جلالی

ہم گردشِ ایّام سے گھبرائے ہوئے ہیں

دورِ سحر و شام سے گھبرائے ہوئے ہیں
ہم گردشِ ایّام سے گھبرائے ہوئے ہیں
پابستہِ زنجیر تو رُک رُک کے چلیں گے
دشواریِ ہرگام سے گھبرائے ہوئے ہیں
اُمّیدِ چراغاں ہے نہ اُمّیدِ سَحر ہے
زندانی سرِ شام سے گھبرائے ہوئے ہیں
نآ کردہ خطاؤں کا بھی اقرار نہ کرلیں
بے باکیِ الزام سے گھبرائے ہوئے ہیں
ساقی کوئی ہنگامہِ نوخیز بپا کر
ہم شغلِ مے و جام سے گھبرائے ہوئے ہیں
کانٹوں کا بیاں اور ہے، کلیوں کی صدا اور
اُلجھے ہوئے پیغام سے گھبرائے ہوئے ہیں
کُچھ لوگ ہیں مرعوب، شکیبؔ آپ کے فن سے
کچھ لوگ فقط نام سے گھبرائے ہوئے ہیں
شکیب جلالی

مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں

محجوب ہے کیوں بنتِ عَنَب سوچ رہے ہیں
مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں
بُجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سرِ محفل
کیا رنگ جمے آخرِ شب سوچ رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے پتّوں کو درختوں سے تعلّق؟
ہم دُور کھڑے شہرِ طرب سوچ رہے ہیں
تبدیلیِ حالات نے بَدلے ہیں خیالات
پہلے نہیں سوچا تھا جو اب سوچ رہے ہیں
ہم ابھرے بھی، ڈوبے بھی سیاہی کے بھنور میں
ہم سوئے نہیں شب، ہمہ شب سوچ رہے ہیں
ایمان کی شہ رگ ہُوں میں اِنسان کا دل ہوں
کیا آپ مرا نام و نَسَب سوچ رہے ہیں
شکیب جلالی

زنداں میں بھی جینے کا عجب ڈھنگ نکالا

زنجیر کی جھنکار کو سنگیت میں ڈھالا
زنداں میں بھی جینے کا عجب ڈھنگ نکالا
وہ خاک نکھاریں گے خدوخال سَحر کے
جو چہرہِ مہتاب پہ بُنتے رہے جالا
تپتے ہوئے صحرا کے کسی کام نہ آیا
گلگشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا
ہم نے جسے آزاد کیا حلقہِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اُجالا
انسان کی عظمت کی گواہی کے لیے ہو
کعبہ ہو کہ بُت خانہ ، کلیسا کہ شوالا
شکیب جلالی

چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی

ڈُوبتے سورج کی جب یاد آ گئی
چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی
شب کے دَریا میں پڑے ایسے بھنور
چاند کی کشتی بھی غوطہ کھا گئی
کتنے چمکیلے ستارے جل بجھے
پو پھٹے اِک برق سی لہرا گئی
جانے کتنے گُل کدوں کا راز تھی
وہ کلی جو بِن کھِلے مُرجھا گئی
آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہ نماؤں کی ہنسی تڑپا گئی
زندگی! تجھ سے شکایت کیا کریں
آج ہم سے موت بھی شرما گئی
شکیب جلالی

خزاں نے لُوٹ لیا ہے جنوں کا گہوارہ

کہیں مہک، نہ ترنّم، نہ رقصِ گل پارہ
خزاں نے لُوٹ لیا ہے جنوں کا گہوارہ
کبھی جو شاق گزرتا ہے خندہِ انجم
سسکنے لگتا ہے نوکِ مژہ پہ اک تارہ
طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ
شبِ الم میں ہمیں روشنی سے مطلب ہے
وہ کہکشاں ہو، قمر ہو، کہ کوئی سیّارہ
حیات برف کے سانچے میں ڈھل نہیں سکتی
دہک رہا ہے ابھی دل میں ایک انگارہ
شکیب جلالی

ظلمت میں اور ڈوب گئے بستیوں کے لوگ

جب بھی چراغ لے کے اٹھے بستیوں کے لوگ
ظلمت میں اور ڈوب گئے بستیوں کے لوگ
جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہوسکی
چھائی گھٹا تو جُھوم اٹھے بستیوں کے لوگ
پُروا چلی تو اور سلگنے لگے بدن،
پل بھر بھی رات سو نہ سکے بستیوں کے لوگ
بپھرے ہوئے بھنور نے سفینہ نگل لیا
ساحل سے دیکھتے ہی رہے بستیوں کے لوگ
خوشبو کی اِک لپٹ پہ کِھنچے آرہے تھے ہم
کانٹوں کے ہار لے کر بڑھے بستیوں کے لوگ
بھٹکے ہوئے غریب مسافر پہ، اے شکیبؔ
رَہ زَن سمجھ کے ٹوٹ پڑے بستیوں کے لوگ
شکیب جلالی

مُطربہ چھیڑ دے خوشی کے گیت

لے اُڑی ہے صَبا کلی کے گیت
مُطربہ چھیڑ دے خوشی کے گیت
ہم سے پہلے کہاں تھا سوز و گداز
ساز بے سُر تھے اور پھیکے گیت
نیند میں زہر گھول دیتے ہیں
رات کو ایک اجنبی کے گیت
موج رہ رہ کے سر کو دُھنتی ہے
کتنے سندر ہیں جل پری کے گیت
تم تو سرگوشیوں میں کھوئے رہے
کب سُنے تم نے خامُشی کے گیت
موت کے سامنے بھی لہرا کر
ہم نے گائے ہیں زندگی کے گیت
جس کا دُکھ درد تم نہ بانٹ سکے
بُھول بھی جاؤ اُس کوی کے گیت
گونجتے ہیں، شکیبؔ، خوابوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت
شکیب جلالی

ہُوا کا رخ نہ پہچانے بگولے

چلے تھے ہم سے ٹکرانے بگولے
ہُوا کا رخ نہ پہچانے بگولے
یہی حاصل ہے ذوقِ رَہ رَوی کا
یہی دوچار ویرانے، بگولے
تمھاری جلوہ گاہیں لالہ و گُل
ہمارے آینہ خانے بگولے
اگر بیٹھا ہُوں سستانے کی خاطر
چلے آئے ہیں سمجھانے بگولے
مِرے قدموں کی مہریں رہ گزر پر
مری جُرأت کے افسانے بگولے
مزاجِ گردشِ دوراں نہ بدلا
رہے گردش میں پیمانے بگولے
مِرا مسلک، شکیبؔ، ان سے جُدا ہے
نہ جوڑیں مجھ سے یارانے بگولے
شکیب جلالی

ایک مرکز پہ آگئے ہیں حواس

جب کبھی بڑھ گیا ہے خوف و ہراس
ایک مرکز پہ آگئے ہیں حواس
رات تارے بھی میرے ساتھ رہے
مضمحل مضمحل اُداس اُداس
نرم و نازک سے آبگینے ہیں
ان کی دوشیزگی، مرا احساس
جب اُجالوں کے تیر چلتے ہیں
چاک ہوتا ہے ظُلمتوں کا لباس
چاند کی پُربہار وادی میں
ایک دوشیزہ چُن رہی ہے کپاس
خار تو شہرِ گُل کی رونق تھے!
کس نے خاروں کو دے دیا بن باس
شکیب جلالی

ماحول میں رچ گئی سیاہی

اربابِ سَحر کی خودنگاہی
ماحول میں رچ گئی سیاہی
رخشندہ نجوم دُور شب میں
دیتے رہے صبح کی گواہی
پہنچے سرِ دار ہنستے گاتے
ہم نے رسمِ جُنوں نباہی
اے راہبرو! ذرا تو سوچو
بھٹکیں گے کہاں کہاں یہ راہی
نیچی ہے نظر سِتم گروں کی
ثابت ہے ہماری بے گُناہی
شب خون پڑے گا تیرگی پر
مہتاب بدست ہے سیاہی
شکیب جلالی

جس کسی کے ساتھ مل بیٹھے اسی سے تم کو اُلفت ہو گئی

چند لمحوں کا تصرّف کیا ہوا ان سے عقیدت ہو گئی
جس کسی کے ساتھ مل بیٹھے اسی سے تم کو اُلفت ہو گئی
اس طرح اکثر ہوا ہے دشمنوں کی خواہشوں کا احترام
جو بھی شے مرغوب تھی ان کو مجھے بھی اس سے رغبت ہو گئی
کل تلک ہر خواہشِ پُرکار بھی میری گوارا تھی انھیں
آج اک معصوم سی لغزش سزاوارِ شکایت ہو گئی
میں سمجھتا ہوں کہ ان پر اپنی خامی کا ہوا ہے انکشاف
لوگ کہتے ہیں مرے حالِ زُبوں سے ان کو نفرت ہو گئی
شکیب جلالی

شگُفتِ رنگ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

سَحر میں حُسن ہے کیسا! بہارِ شب کیا ہے
شگُفتِ رنگ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے
یہ اور بات ہے کوئی کسی کا دوست نہ ہو
اگر ہے کوئی تو پھر دشمنی عجب کیا ہے
’’کوئی بتائے کہ اب کیا جواب دوں ان کو،،
وہ پوچھتے ہیں مرے پیار کا سبب کیا ہے
وہ ایک بات جو سینے میں مثلِ راز نہ تھی
سمجھ گیا ہو زمانہ تو پھر عجب کیا ہے
وہ زرنگار ستارے بھی چھپ گئے آخر
خلا میں ڈھونڈ رہا ہوں متاعِ شب کیا ہے
زہے کرم کہ ہمیشہ سے تم مخالف ہو
وگرنہ جب بھی نہ تھا کچھ شکیبؔ، اب کیا ہے
شکیب جلالی

سمن کدوں کو سجاؤ بہار آئی ہے

بساطِ رنگ بچھاؤ بہار آئی ہے
سمن کدوں کو سجاؤ بہار آئی ہے
صبا کے ہاتھ ملا ہے پیامِ بیداری
کلی کلی کو جگاؤ بہار آئی ہے
سَحر کا رنگ، ستاروں کا نُور پگھلا کر
رُخِ چمن پہ بہاؤ بہار آئی ہے
نگارِ باغ کی دوشیزگی نکھر جائے
کلی کو پُھول بناؤ بہار آئی ہے
فضا کی تشنہ لَبی پر مٹھاس بکھرا دو
رسیلے گیت سناؤ بہار آئی ہے
کوئی خوشی کا فسانہ کوئی ہنسی کی بات
لَبوں سے پھول گراؤ بہار آئی ہے
نظر کے ساتھ شفق رنگ، مے کا دَور چلے
فضا کو مست بناؤ بہار آئی ہے
غمِ خزاں کا چمن میں کوئی نشاں نہ ملے
اک ایسا جشن مناؤ بہار آئی ہے
یہیں پہ جنتِ قلب و نظر کی ہو تشکیل
یہیں پہ خُلد بساؤ بہار آئی ہے
شکیب جلالی

کوئی بھی لذّت عام نہیں ہے

دھوپ کہیں ہے چھاؤں کہیں ہے
کوئی بھی لذّت عام نہیں ہے
یوں بیٹھے ہیں تھکے مسافر
جیسے منزل یہیں کہیں ہے
گردشِ دوراں توبہ توبہ
ہم کو خدا بھی یاد نہیں ہے
جس کو چاہا حُسن میں ڈھالا
تجھ سے میری آنکھ حَسیں ہے
ان کی کوئی بات سناؤ
جن کا مجھ سے میل نہیں ہے
دوست ہیں دل میں، ذہن میں دشمن
کوئی بھی مجھ سے دُور نہیں ہے
شکیب جلالی

یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا
گونجتے ہیں شکیبؔ آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت
ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس
بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو
بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو
ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو
جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ
مجھ کو آمادہِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں
خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں
پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں
خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں
ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں
طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ
اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آ گئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی
آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی
جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی
اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی
دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے
سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے
گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے
اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے
کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے
ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا
ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا
تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی
کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے
یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے
ہم نے جسے آزاد کیا حلقہِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا
ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا
سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا
سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی
یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیبؔ
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے
نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں پیمانے ہی پیمانے ہیں

پلکوں کے نشیلے سایے میں مے خانے ہی مے خانے ہیں
جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں پیمانے ہی پیمانے ہیں
ان سہمی سہمی آنکھوں میں سُرخی ہے مدھر آشاؤں کی
ان اُلجھی اُلجھی سانسوں میں افسانے ہی افسانے ہیں
اُلفت کے سودے کون کرے، نفرت کی جھولی کون بھرے
ہم کاروباری دنیا میں بیگانے ہی بیگانے ہیں
جب موسمِ گُل کی آمد تھی دنیا نے پسارے تھے دامن
اب موسمِ گُل کی رخصت پر دیوانے ہی دیوانے ہیں
تاریک بگولے رقصاں ہیں اک خول چڑھا ہے کرنوں پر
مایوس دلوں کو کیا کہیے، غم خانے ہی غم خانے ہیں
ہر شاخ سے گہنے چھین لیے، ہر ڈال سے موتی بِین لیے
اب کھیت سنہری کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں
کوئی جو انھیں اپنا لیتا بَن باس نہ لیتے دیوانے
آباد گھروندوں میں اے دل بیگانے ہی بیگانے ہیں
شکیب جلالی

آنکھوں کی سنہری جھیلوں میں تصویریں سجدہ کرتی ہیں

آکاش کے ماتھے کی اُجلی تحریریں سجدہ کرتی ہیں
آنکھوں کی سنہری جھیلوں میں تصویریں سجدہ کرتی ہیں
وہ جال ہوں کالی زُلفوں کے یا تا ر ہوں سونے چاندی کے
دیوانے ہیں ہم دیوانوں کو زنجیریں سجدہ کرتی ہیں
ان نازک نازک پوروں سے سنگین لکیریں ڈالی ہیں
تدبیر کے زانو پر اکثر تقدیریں سجدہ کرتی ہیں
مے رنگ لہو کے دانوں کی مالا پہنائی جاتی ہے
بے باک گُلو کی عظمت کو شمشیریں سجدہ کرتی ہیں
پلکوں پہ لرزتے اشکوں کی توقیر نہ جانے کیا ہو گی
کہتے ہیں سُلگتی آہوں کو تاثیریں سجدہ کرتی ہیں
کس آس پہ اپنے شانوں پر ہم بوجھ اٹھائیں محلوں کے
یہ شوخ کَلس جھک جاتے ہیں تعمیریں سجدہ کرتی ہیں
آداب وہی ہیں الفت کے، ترتیب نے پہلو بدلے ہیں
جب رانجھے سجدہ کرتے تھے اب ہیریں سجدہ کرتی ہیں
شکیب جلالی

ہمارے بانکپن کا تذکرہ ہے

وہ زنداں یا چمن کا تذکرہ ہے
ہمارے بانکپن کا تذکرہ ہے
مرے حُسنِ سماعت پر نہ جاؤ
کسی غنچہ دہن کا تذکرہ ہے
سیاہ زلفوں کی زنجیروں میں پنہاں
نئی اُجلی کرن کا تذکرہ ہے
زبانِ خار و خس تک بات پہنچے
بہاریں پیرہن کا تذکرہ ہے
دھواں دینے لگے ہیں لالہ و گُل
کسی شعلہ بدن کا تذکرہ ہے
ابھی دریادلی کا ذکر ہو گا
ابھی تشنہ دہن کا تذکرہ ہے
دیارِ کہکشاں سے شہرِ گُل تک
ہماری انجمن کا تذکرہ ہے
شکیبؔ! اہلِ زباں کی محفلوں میں
ترے طرزِسخن کا تذکرہ ہے
شکیب جلالی

میری جرأت نگہِ پیش نما رکھتی ہے

یادِ ایّام سے شکوہ نہ گلہ رکھتی ہے
میری جرأت نگہِ پیش نما رکھتی ہے
سطحی رنگ فسانوں کا ہے بہروپ حیات
دل کی گہرائی حقائق کو چُھپا رکھتی ہے
اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِ مظلوم صدا رکھتی ہے
اپنی ہستی پہ نہیں خود ہی یقیں دنیا کو
یہ ہر اک بات میں ابہام رَوا رکھتی ہے
میری ہستی کہ رہینِ غمِ الفت ہے، شکیبؔ
دل میں اُٹھتے ہوئے شبہات دبا رکھتی ہے
شکیب جلالی

کس درجہ سست گام ہیں پھولوں کے قافلے

بعد از خزاں بھی خشک بگولوں کے سلسلے
کس درجہ سست گام ہیں پھولوں کے قافلے
کیوں کر بڑھائیں ربط کسی اجنبی کے ساتھ
ساتھی تھے عمر بھر کے جو غیروں سے جا ملے
جو کائناتِ درد سے مانوس ہی نہیں
وہ کر رہے ہیں پیار کی دنیا کے فیصلے
اے پیکرِ غرور کہ ہم بھی ہیں بااصول
طے ہوسکیں گے کیا یہ پُراَسرار فاصلے
ایثار کے دیار سے نفرت کے شہر تک
ہیں کس قدر طویل محبت کے سلسلے
افسانہِ بہار پھر ان کی زبان سے
خوشبو اُڑی، نسیم چلی، پھول سے کھلے
گہنا گئے بوقتِ سَحر دل کے وَلولے
کیا کچھ نہ حال ہو گا اُمنگوں کا، دن ڈھلے
تیری شبیہ کا ہے خلاؤں میں رقص پھر
محرابِ زندگی میں ہزاروں دیے جلے
اُس کو یقین کیا دلِ اخلاص کِیش کا
مایوسیوں کی گود میں جو زندگی پَلے
آساں بنا رہا تھا جنھیں احتیاط سے
دشوار ہو گئے وہی نازک سے مرحلے
آئے تھے وہ وفا کی نمایش کے واسطے
میرے تعلّقات کو آلودہ کر چلے
مسمار ہو سکے نہ گھروندے وفاؤں کے
آتے رہے پیار کی بستی میں زلزلے
شعلوں کے رنگ میں، کہیں شبنم کے روپ میں
منظوم ہیں، شکیبؔ، مرے دل کے وَلولے
شکیب جلالی

یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں

دل گرفتہ ہیں ، جگر خون ہوئے جاتے ہیں
یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں
اس قرینے سے گُنہ گار ہوئے ہیں رُسوا
اہلِ تقدیس بھی مطعون ہوئے جاتے ہیں
ہم تو ہر غم کو محبت کا تقاضا سمجھے
کیا خبر تھی ترے ممنون ہوئے جاتے ہیں
قلبِ خوددار شکستہ تو محبت زخمی
میرے محسن کے کئی خون ہوئے جاتے ہیں
دولتِ اُنس و محبت ہے فقط اِن کا نصیب
میرے احباب تو قارون ہوئے جاتے ہیں
اپنا کہتے ہوئے ڈرتی ہے مری سادہ رَوی
اس قدر شوخ سے مضمون ہوئے جاتے ہیں
جس قدر تجھ پہ لٹاتے ہیں متاعِ ہستی
اتنے ہی ہم ترے مرہون ہوئے جاتے ہیں
شکیب جلالی

بغیرِ شکایت مصائب میں جی لے

زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے
بغیرِ شکایت مصائب میں جی لے
حوادث کی زَد میں بڑھے جا رہے ہیں
مری آرزوؤں کے نازک قبیلے
وہ ساتھی جسے غم سے نسبت نہیں ہے
اَلَم کو کُریدے نہ زخموں کو چھیلے
غرور و محبت میں تفریق دیکھو
یہ سونے کی وادی، یہ مٹی کے ٹیلے
ہمیں دل کی ہر بات سچ سچ بتا دو
بناؤ نہ باتیں، تراشو نہ حیلے
نہ چھیڑو، پرانے فسانے نہ چھیڑو
لہو ہی بہے گا اگر زخم چھیلے
شکیب جلالی

وہ اِک نگاہ جو بیگانہ وار گُزری ہے

حجابِ رنگِ نظارہ پہ بار گُزری ہے
وہ اِک نگاہ جو بیگانہ وار گُزری ہے
بزعمِ عِشق اُبھر کے جو لَب پہ آ نہ سکی
وہ چیخ حُسنِ سماعت پہ بار گُزری ہے
شگُفتہ رنگ اُجالوں کے کارواں تو نہیں
مِری نگاہ فقط سیم بار گُزری ہے
تمھارے غم کا مجھے درد بے سبب تو نہیں
مری حیات بہت سوگوار گزری ہے
وہ ایک رات کہ جَب رَوشنی علیل رہی
وہ ایک رات بصد اِنتشار گُزری ہے
مِری نگاہ بُہت حق پسند ہے شاید
کبھی کبھی مُجھے خود ناگوار گزری ہے
مزاج حُسن بہ تمثیلِ برق کیوں ہے، شکیبؔ
صداے درد تھی سیماب وار گُزری ہے
شکیب جلالی

خلافِ حُسنِ توقع بہار گزری ہے

کسی کے پاے شکستہ پہ بار گزری ہے
خلافِ حُسنِ توقع بہار گزری ہے
وقارِ حسن بہ تمثیلِ برق کیوں ہے آج
صداے درد تھی سیماب وار گزری ہے
خزاں کا عکس ہی دیکھا ہے صبحِ گلشن میں
بشکلِ آینہ موجِ بہار گزری ہے
یہ جَاں بلب سے شگوفے یہ مُردہ رنگ کنول
یہاں سے رحمتِ ابرِ بہار گزری ہے!
رِداے حسن کے ٹکڑے فضا میں پھیلے ہیں
مری نگاہ بصد انتشار گزری ہے
شکیبؔ! فرطِ عقیدت میں کہہ گئے ہیں وہ بات
جو آگہی پہ بہت ناگوار گزری ہے
شکیب جلالی

اجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے

اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے
اجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے
اُس کا مذکور کہیں شکوہِ محسن میں نہیں
میری خوددار روایات سے دُکھ پہنچا ہے
دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دُکھ پہنچا ہے
احتراماً مرے ہونٹوں پہ مُسلّط تھا سُکوت
اُن کے بڑھتے ہوئے شبہات سے دُکھ پہنچا ہے
یا انھیں لغزشِ معصوم، گراں گزری ہے
یا غلط فہمیِ حالات سے دُکھ پہنچا ہے
میرے اشکوں کو شکایت نہیں کوئی تم سے
مجھ کو اپنی ہی کسی بات سے دُکھ پہنچا ہے
میری جرأت پہ، شکیبؔ، آج خرد حاوی ہے
آج ناکامیِ حالات سے دُکھ پہنچا ہے
شکیب جلالی

بقدرِ فکر شکایت بدلتی رہتی ہے

غمِ حیات کی لذّت بدلتی رہتی ہے
بقدرِ فکر شکایت بدلتی رہتی ہے
حَریمِ راز، امیدِ کرم کہ ذوقِ نمود
خلوصِ دوست کی قیمت بدلتی رہتی ہے
کبھی غرور، کبھی بے رخی، کبھی نفرت
شبیہِ جوشِ محبت بدلتی رہتی ہے
نہیں کہ تیرا کرم مجھ کو ناگوار نہیں
یہ غم ہے وجہِ مسرّت بدلتی رہتی ہے
اگر فریب حَسیں ہو تو پھر فریب نہیں
خطا معاف حقیقت بدلتی رہتی ہے
کبھی جو غیر تھا وہ میری زندگی ہے آج
بَقیدِ وقت صداقت بدلتی رہتی ہے
مرے چلن کو تغیّر نہیں زمانے میں
تری نگاہِ عنایت بدلتی رہتی ہے
کبھی ملُول، کبھی شادماں ، کبھی بے حِس
ترے شکیبؔ کی حالت بدلتی رہتی ہے
شکیب جلالی

ایک خواہش، ہزار تہ خانے

کوئی اِس دل کا حال کیا جانے
ایک خواہش، ہزار تہ خانے
آپ سمجھے نہ ہم ہی پہچانے
کتنے مبہم تھے دل کے افسانے
زِیست کے شور و شر میں ڈوب گئے
وقت کو ناپنے کے پیمانے
پھر ہُوا کوئی بدگماں ہم سے
پھر جنم لے رہے ہیں افسانے
شوخیِ برق ہے نہ رقصِ نسیم
سوگئے ہیں بہار کے شانے
کتنا مشکل ہے منزلوں کا حُصول
کتنے آساں ہیں جال پھیلانے
دُور سے ایک چیخ اُبھری تھی
بن گئے بے شُمار افسَانے
موت نے آج خود کُشی کرلی
زیست پر کیا بنی خُدا جانے
راز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں
لوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے
وقت نے یہ کہا ہے رُک رُک کر
آج کے دوست کل کے بیگانے
شکیب جلالی

بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

اب انھیں پُرسشِ حالات گراں گزرے گی
بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی
خواہشِ لطفِ پرستش کو مٹا دو دل سے
میری خودداریِ جذبات گراں گزرے گی
مجھ سے پہلے رُخِ سادہ کی حقیقت کیا تھی
منہ نہ کُھلواؤ، مری بات گراں گزرے گی
تم اچانک جسے ہمراہ بنا بیٹھے ہو
ایک دن تم کو وہی ذات گراں گزرے گی
پاس ہو کر بھی اگر دُور رہا مجھ سے کوئی
اور بھی تاروں بھری رات گراں گزرے گی
دل میں اظہارِ محبت پہ کوئی خوش ہو گا
ظاہراً پُھول سی یہ بات گراں گزرے گی
شکیب جلالی

سر بہ سجدہ ہے آگہی توبہ

بے خودی سی ہے بے خودی! توبہ
سر بہ سجدہ ہے آگہی توبہ
ذہن و دل پر ہے بارشِ انوار
پی ہے مے یا کہ چاندنی توبہ
دُکھ کا احساس ہے نہ فِکر نشاط
پینے والوں کی آگہی! توبہ
ان کا غم ہے بہت عزیز مجھے
چھوڑ دی میں نے مے کشی توبہ
اک جہاں بن گیا مرا دشمن
آپ کا لُطفِ ظاہری توبہ
ہے تمھی سے شکستِ دل کا گِلہ
میری اُلفت کی سادگی توبہ
ایک ہے شمع، لاکھ پروانے
تیرگی سی ہے تیرگی! توبہ
کتنے دل خون ہو گئے ہوں گے
ان کی آنکھوں میں ہے نمی توبہ
رازِ غم پا گئے ہیں لوگ، شکیبؔ
ہنسنے والوں کی بے کسی توبہ
شکیب جلالی

ان کی توقیر بن گیا ہوں میں

غم کی تصویر بن گیا ہوں میں
ان کی توقیر بن گیا ہوں میں
خوابِ پنہاں تھے آپ کے جلوے
جن کی تعبیر بن گیا ہوں میں
آج ہستی ہے کیوں تبسم ریز
کس کی تقدیر بن گیا ہوں میں
آپ چُھپ چُھپ کے مسکراتے ہیں
وجہِ تشہیر بن گیا ہوں میں
جو بھی ہے، ہم خیال ہے میرا
حُسنِ تحریر بن گیا ہوں میں
اب دعاؤں کو ہے مری حاجت
لَبِ تاثیر بن گیا ہوں میں
دم بخود ہیں ، شکیبؔ، لوح و قلم
حُسنِ تدبیر بن گیا ہوں میں
شکیب جلالی

غم بہ اندازِ شادکامی ہے

قہقہہ آنسوؤں کا حامی ہے
غم بہ اندازِ شادکامی ہے
راہ دشوار ہے نہ منزل دور
جذبہِ رَہ روی میں خامی ہے
وقت کی قید، خواہشوں کے جال
زیست کچھ بھی سہی، غلامی ہے
حُسنِ احساس حُسن کا ہے طِلسم
عشق نظروں کی شادکامی ہے
آپ میں گر وفا نہیں تو کیا
چاند میں بھی تو ایک خامی ہے
ہر گھڑی کچھ نزاکتوں کا خیال
یہ محبت بھی اک غلامی ہے
اب شکیبؔ! آنسوؤں کو پی جاؤ
غم کی معراج شادکامی ہے
شکیب جلالی

تیرے جگ کی ریت نرالی

کوئی ہے داتا کوئی سوالی
تیرے جگ کی ریت نرالی
موتی رولے ساحل ساحل
پھر بھی ہے دامن خالی خالی
ان کی قسمت دُودھ کے ساگر
میرا حصہ زہر کی پیالی
بادِ صبا ہے زخم سراپا
خار اُگے ہیں ڈالی ڈالی
دَھن کے رُوپہلی تہہ خانوں پر
پھن لہرائے ناگن کالی
میں نے جس کے عیب چھپائے
اسی نے میری بات اُچھالی
اس کے علاوہ ہم کیا بولیں
تم نے دل کی بات چُرا لی
شکیب جلالی

آمدِ صبحِ شب اندام پہ رونا آیا

خوابِ گُل رنگ کے انجام پہ رونا آیا
آمدِ صبحِ شب اندام پہ رونا آیا
دل کا مفہوم اشاروں سے اُجاگر نہ ہوا
بے کسیِ گلہِ خام پہ رونا آیا
کبھی اُلفت سی جھلکتی ہے، کبھی نفرت سی
اے تعلق! ترے ابہام پہ رونا آیا
میری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیں
جانے کیوں آج اسی نام پہ رونا آیا
لے کے ابھرے گی سحَر پھر وہی پژمُردہ کرن
کیا کہوں ! تیرگیِ شام پہ رونا آیا
بے سبب اپنی نگاہوں سے گرا جاتا ہوں
اس فسوں کاریِ الزام پہ رونا آیا
اتنے ارزاں تو نہیں تھے مرے اشکوں کے گُہر
آج کیوں تلخیِ آلام پہ رونا آیا؟
لائقِ حسنِ نظر تھے نہ کبھی ان کے خطوط
آج محرومیِ پیغام پہ رونا آیا
اب بھی منزل مرے قدموں کی تمنائی ہے
کیا کہوں حسرتِ یک گام پہ رونا آیا
رونے والا تو کرے گا نہ کسی کا شکوہ
لاکھ کہیے غمِ ایّام پہ رونا آیا
ان کے شبہات میں کچھ اور اضافہ تھا شکیبؔ
اشکِ سادہ کے اس انعام پہ رونا آیا
شکیب جلالی

زخمی نظر سے چُوم لیا خار خار کو

یوں بھی دیا خراجِ عقیدت بہار کو
زخمی نظر سے چُوم لیا خار خار کو
دنیا اسی کو تنگ نظر کہہ رہی ہے آج
جس نے پناہ دی ہے ترے اعتبار کو
کیسے کہیں کہ ہم سے ہے توقیرِ رنگ و بُو
اب تک چھپا رہے ہیں وہ رازِ بہار کو
منزل پہ آ کے خواہشِ منزل بدل گئی
پھر کوئی جستجو ہے مرے جذبِ کار کو
بروقت آگیا ہے کوئی وعدہ کوش آج
اک دن چُھپا لیا تھا غمِ انتظار کو
تسلیم وہ حَسیں ہیں مگر میرے ذوق نے
تشکیل دی ہے ایک نئے شاہکار کو
کرنے لگا ہے چھیڑ، غمِ عشق سے، شکیبؔ
یہ حوصلہ ہوا ہے غمِ روزگار کو
شکیب جلالی

دنیا کو ہم بہ حُسنِ نظر دیکھتے رہے

ذرّوں میں آفتاب و قمر دیکھتے رہے
دنیا کو ہم بہ حُسنِ نظر دیکھتے رہے
لوگ ان سے مانگتے رہے لُطف و کرم کی بھیک
ہم خامشیِ غم کا اثر دیکھتے رہے
ظلمت میں اعتمادِ نظر ضَوفشاں رہا
ہر رنگ میں جمالِ سَحر دیکھتے رہے
یہ زندگی ہے تازہ اُمنگوں کا اک الاؤ
ہر ہر نَفَس میں رقصِ شرر دیکھتے رہے
دنیا سے بے خبر کئی عالم گزر گئے
ہم محویت میں جانے کدھر دیکھتے رہے
چُھپتے رہے وہ طالبِ دیدار جان کر
ہم تھے کہ ان کا حُسنِ نظر دیکھتے رہے
آدابِ رَہ روی سے جو واقف نہیں ، شکیبؔ
ان کو بھی ہم شریکِ سفر دیکھتے رہے
شکیب جلالی

میرا دل لُطفِ مسرّت کا سزاوار نہ ہو

جب تَلک سارا زمانہ ہی طرب زار نہ ہو
میرا دل لُطفِ مسرّت کا سزاوار نہ ہو
اک نیا دل سا دھڑکتا ہے مرے سینے میں
ان کی نظروں کے تصادم کی یہ جھنکار نہ ہو
قوتِ دید و نظر ان پہ نچھاور ہو جائے
اس طرح دیکھ کہ پھر زحمتِ دیدار نہ ہو
بے سبب تو نہیں ہونٹوں پہ خموشی کا نُزول
سوچتا ہوں کہ کسی پر میرا غم بار نہ ہو
ہائے، وہ آگ کہ جو دل میں سُلگتی ہی رہے
ہائے، وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو
یہ تبسّم مرا حق ہے تو عنایت ہو جائے
وہ عنایت کہ جو مِنّت کشِ ایثار نہ ہو
مسکراہٹ کو ترستی ہیں ابھی کچھ کلیاں
میرے ہونٹوں پہ تبسّم ابھی بیدار نہ ہو
بدگمانی تو محبت کی علامت ہے، شکیبؔ
یہ بھی ممکن ہے گلستاں میں کوئی خار نہ ہو
شکیب جلالی

اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی

جس دم قفس میں موسمِ گُل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
دھند لا گئے نقوش تو سایہ سا بن گیا
دیکھا کیا میں ان کو، جہاں تک نظر گئی
بہتر تھا، مَیں جو دُور سے پُھولوں کو دیکھتا
چھونے سے پتّی پتّی ہَوا میں بکھر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی
تنہائیوں کے شہر میں کون آئے گا، شکیبؔ
سو جاؤ، اب تو رات بھی آدھی گزر گئی
شکیب جلالی

ہم غمِ بے کنار کھو بیٹھے

آپ کی یادگار کھو بیٹھے
ہم غمِ بے کنار کھو بیٹھے
اب بہاریں ہوں لاکھ جلوہ کناں
جوہرِ اعتبار کھو بیٹھے
ان کے جلووں کو زندگی کہہ کر
ہم نظر کا وقار کھو بیٹھے
آپ سے مل کے ہم نے کیا پایا
اپنے دل کا قرار کھو بیٹھے
خارزاروں سے اس طرح اُلجھے
ہم خلوصِ بہار کھو بیٹھے
غم کی تشنہ لَبی تو قائم ہے
آپ سا غم گُسار کھو بیٹھے
ان سے ہم اس قدر قریب ہوئے
زندگی کا وقار کھو بیٹھے
ہر حقیقت فریب لگتی ہے
جب کوئی اعتبار کھو بیٹھے
جس پہ نازاں ہیں قُربتیں بھی، شکیبؔ
وہ شبِ انتظار کھو بیٹھے
شکیب جلالی

آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا

ہم نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم اصولاً تو بچ ہی نکلے تھے
التجاؤں نے مل کے لوٹ لیا
رہزنوں کا نصیب کیا کہیے
رہ نماؤں نے مل کے لوٹ لیا
اک بہانہ تھی شورشِ طوفاں
ناخداؤں نے مل کے لوٹ لیا
کج کُلاہوں سے ہوشیار تھے ہم
خوش اداؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم زَباں دیکھتے رہے چپ چاپ
بے نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
راہ زنِ ہوش کچھ تو غم زدہ تھے
کچھ جفاؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو امینِ جمالِ یزداں ہیں
ان خداؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو کبھی وجہِ عشرتِ دل تھیں
ان فضاؤں نے مل کے لوٹ لیا
شکیب جلالی

صحرا میں گلاب پل رہے ہیں

آدابِ چمن بدل رہے ہیں
صحرا میں گلاب پل رہے ہیں
دنیا کی حقیقتیں وہی ہیں
اندازِ نظر بدل رہے ہیں
آمد ہے کس اسیرِ نو کی
زنداں میں چراغ جل رہے ہیں
ہمّت نے جواب دے دیا ہے
دیوانے پھر بھی چل رہے ہیں
ہونٹوں پہ ہنسی اور آنکھ پْرنم
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
آشائیں غُروب ہو رہی ہیں
امید کے سایے ڈھل رہے ہیں
وہ راہ، شکیبؔ، کب ہے اپنی
جس راہ پہ لوگ چل رہے ہیں
شکیب جلالی

میں ہوں کہیں، غبار کہیں، ہم سفر کہیں

گم ہی نہ ہو گئی ہو مری رہ گزر کہیں
میں ہوں کہیں، غبار کہیں، ہم سفر کہیں
جذبِ نظر کا، کر تو رہے ہیں وہ امتحاں
رُک ہی نہ جائے گردشِ شام و سَحر کہیں
سمجھا ہر اک یہی کہ تخاطب مجھی سے ہے
مرکوز یوں ہوئی نگہِ معتبر کہیں
تھی کچھ تو مصلحت جو نگاہیں نہ مل سکیں
مجھ کو غلط سمجھ لے نہ وہ کم نظر کہیں
غم دے کے چھین لیں ، یہ نہیں اُن کے بس کی بات
مٹتا ہے دل سے داغِ غمِ مُعتبر کہیں !
ہم تو منا ہی لیں گے انھیں یہ یقین ہے
اور ایک بار روٹھ گئے ہم اگر کہیں
شکیب جلالی

وہ چار پھول کہ جو حاصلِ بہار رہے

کلی کلی کی نگاہوں میں مثلِ خار رہے
وہ چار پھول کہ جو حاصلِ بہار رہے
وہ جھرمٹوں میں ستاروں کے جلوہ گر ہیں آج
بَلا سے ان کی اگر کوئی اشک بار رہے
طِلسم اثر ہے فضا، چاندنی فسوں انداز
حضورِ دوست یہ ممکن نہیں قرار رہے
سیاہیوں کے بگولے چراغِ رَہ بن جائیں
جو حوصلہ شبِ غربت میں پختہ کار رہے
اب انتہاے اَلَم بھی گراں نہیں دل پر
مگر وہ غم جو ترے رُخ پہ جلوہ بار رہے
وہ بات کیا تھی ہمیں خود بھی اب تو یاد نہیں
نہ پوچھ ہم ترے کس درجہ راز دار رہے
خلوصِ عشق کے جذبات عام کرنا ہیں
کچھ اور دن یہ فضا مجھ کو سازگار رہے
یہ کشمکش، یہ بھلاوے حیات پرور ہیں
کسی کے دل میں اگر عشق کا وقار رہے
کسی کا قُرب اگر قُربِ عارضی ہے، شکیبؔ
فراقِ دوست کی لذّت ہی پائدار رہے
شکیب جلالی

میرا ہر فقرہ مکمل داستاں ہو جائے گا

رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا
میرا ہر فقرہ مکمل داستاں ہو جائے گا
دھیرے دھیرے اجنبیت ختم ہو ہی جائے گی
رہتے رہتے یہ قفس بھی آشیاں ہو جائے گا
ہم نے حاصل کرنا چاہا تھا خلوصِ جاوداں
کیا خبر تھی کوئی ہم سے بدگماں ہو جائے گا
فطرتِ انساں میں ہونا چاہیے ذوقِ عمل
خاک کے ہر ذرّے سے پیدا جہاں ہو جائے گا
کر دیا تبدیل ہم نے اپنا اندازِ سفر
اب تو رہزن بھی شریکِ کارواں ہو جائے گا
شکیب جلالی

حیات صَرفِ خرابات ہو گئی ہو گی

شکست خوردہِ حالات ہو گئی ہو گی
حیات صَرفِ خرابات ہو گئی ہو گی
کبھی جو پُرسشِ حالات ہو گئی ہو گی
خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی
جو راہِ شوق میں حائل تھا اک جہان تو کیا
نظر نظر میں ملاقات ہو گئی ہو گی
جہانِ تازہ کی شمعیں بھی بجھ گئی ہوں گی
مرے جہاں میں اگر رات ہو گئی ہو گی
ہَوا سے آپ کی زلفیں بکھر گئی ہوں گی
فضا میں بارشِ ظلمات ہو گئی ہو گی
کسی نے شرم سے چہرہ چھپا لیا ہو گا
نگاہ محوِ جمالات ہو گئی ہو گی
وہ اجنبی کی طرح پیش آئے ہوں گے، شکیبؔ
جو راستے میں ملاقات ہو گئی ہو گی
شکیب جلالی

ہم نے ایسے راگ سُنے

دنیا جن پر سر کو دُھنے
ہم نے ایسے راگ سُنے
بھولے پنچھی آن پھنسے
وقت نے دَھن کے جال بُنے
ہم نے بہاروں کی خاطر
صحرا صحرا خار چُنے
مست ہیں وہ بھی نغموں میں
زخمی چیخیں کون سُنے
کاش یہ باہمّت راہی
دنیا کی باتیں نہ سُنے
زخموں کا دل رکھنے کو
ہم نے چمن سے خار چُنے
کس کو پڑی ہے، دل سے، شکیبؔ
جو اوروں کی بات سُنے
شکیب جلالی

شمع بن جاؤ رات اندھیری ہے

راہ دکھلاؤ رات اندھیری ہے
شمع بن جاؤ رات اندھیری ہے
جا رہے ہیں وہ روٹھ کر اِس وقت
ان کو سمجھاؤ رات اندھیری ہے
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
شمعِ مے لاؤ رات اندھیری ہے
پھنس ہی جائیں گے بے اماں پنچھی
جال پھیلاؤ رات اندھیری ہے
تیرگی کا ہے آنکھ پر پہرہ
اب تو آجاؤ رات اندھیری ہے
میری آنکھوں میں جل رہے ہیں دیے
یوں نہ گھبراؤ رات اندھیری ہے
چاندنی ہو شکیبؔ کی تم ہی
بُھول بھی جاؤ رات اندھیری ہے
شکیب جلالی

جس سے ملے ہم دل سے مِلے

منھ پہ کیے سب شِکوے گِلے
جس سے ملے ہم دل سے مِلے
دُکھ میں دامن چھوڑ دیا
سُکھ میں ساتھی آن مِلے
چارہ گروں کی بات نہ کر
زخم، نہ سِلنے تھے نہ سِلے
حُسنِ تکلّم، لُطفِ بیاں
کلیاں چٹکیں، پھول کِھلے
وہ سمجھیں یا ہم جانیں
بات کہی اور لَب نہ ہلے
غم کی شدّت میں بھی، شکیبؔ
لوگوں سے ہم ہنس کے ملے
شکیب جلالی

ہر گُلِ تر کی آنکھ بھر آئی

میرے دل کی کَلی جو مُرجھائی
ہر گُلِ تر کی آنکھ بھر آئی
پھر ہوئی روشنی خلاؤں میں
پھر کسی بے وفا کی یاد آئی
جُھک گئیں مل کے شرم سے نظریں
اک نئے موڑ پر حیات آئی
ان کی قُربت بھی بار ہے دلبر
کس قدر ہے لطیف تنہائی
اُٹھ گیا اعتبار منزل کا
دیکھ لی رہبروں کی دَانائی
ان کی چاہت بھی اب نہیں منظور
تھے کبھی ہم بھی ان کے سودائی
بے خطر حادثوں سے ٹکرایا
یوں مرے عزم نے جِلا پائی
عزم نے زندگی کو جیت لیا
اپنی پستی پہ موت شرمائی
ڈر کے پیچھے کھسک گیا ساحل
یوں جزیرے سے ناو ٹکرائی
مجھ کو احساسِ غم، شکیبؔ، نہ تھا
ان کو دیکھا تو آنکھ بھر آئی
شکیب جلالی

نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے

محبت میں زباں کی بے زبانی اب بھی ہوتی ہے
نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے
سرِ محفل وہ کوئی بات بھی مجھ سے نہیں کرتے
مگر تنہائیوں میں گُل فِشانی اب بھی ہوتی ہے
چُھپاؤ لاکھ بے چینی کو خاموشی کے پردے میں
تمھارے رُخ سے دل کی ترجمانی اب بھی ہوتی ہے
ہمارا حال چُھپ کر پوچھتا تھا کوئی پہلے بھی
ہمارے حال پر یہ مہربانی اب بھی ہوتی ہے
تمھاری ہی کمی محسوس ہوتی ہے مجھے ورنہ
وہ موسم، وہ فضا، وہ رُت سُہانی اب بھی ہوتی ہے
زمانہ دل کی باتوں کو کبھی کُھل کر نہیں کہتا
بہ اندازِ شکایت قدردانی اب بھی ہوتی ہے
نکل آیا زمان و آشیاں کی قید سے لیکن
بقا کی رَہ میں حائل زندگانی اب بھی ہوتی ہے
شکیب جلالی

لذتِ غم وہی تو پائیں گے

ہر مصیبت پہ مسکرائیں گے
لذتِ غم وہی تو پائیں گے
جرأتِ برق آزمائیں گے
ہم بھی ایک آشیاں بنائیں گے
جس قدر ان سے مُلتفت ہو گے
تم سے وہ دور ہوتے جائیں گے
حوضِ کوثر سے آرہے ہیں ہم
تیری آنکھوں سے پی کے جائیں گے
آنے والوں کا احترام، شکیبؔ
جانے والے کبھی نہ آئیں گے
شکیب جلالی

آپ سے ہاں ! مگر نہیں ہوتے

دوست کیا معتبر نہیں ہوتے
آپ سے ہاں ! مگر نہیں ہوتے
ہم ہی خطرات مول لیتے ہیں
راستے پر خطر نہیں ہوتے
محوِ پرواز ہے خلاؤں میں
عقل کے بال و پر نہیں ہوتے
منزلیں میرے ساتھ چلتی ہیں
راستے مختصر نہیں ہوتے
رہنماؤں کے ساتھ رہنے سے
حوصلے معتبر نہیں ہوتے
زندگانی سے کھیلنے والے
موت سے بے خبر نہیں ہوتے
چار دن کی، شکیبؔ، قربت سے
فاصلے مختصر نہیں ہوتے
شکیب جلالی

راز داں اب قریب آ جائیں

یہ خلائیں ہیں گوش بر آواز
راز داں اب قریب آ جائیں
ہم سفر رہ گئے بہت پیچھے
آؤ کچھ دیر کو ٹھہر جائیں
دوستی کا فریب ہی کھائیں
آؤ کاغذ کی ناو تیرائیں
ہم اگر رَہ رَوی کا عزم کریں
منزلیں کِھنچ کے خود چلی آئیں
ان بہاروں کی آبرو رکھ لو
مسکرا دو کہ پھول کِھل جائیں
مجھ کو آمادہِ سفر نہ کرو
راستے پُر خطر نہ ہو جائیں
ان پناہوں میں کچھ نہیں ہے اب
بادہ کش مے کدے سے لوٹ آئیں
راستے سے ہٹا لو تاروں کو
میرے پیروں تلے نہ آ جائیں
مُطربہ ایسا گیت چھیڑ کہ ہم
زندگی کے قریب ہو جائیں
گیسوئے زیست کے یہ اُلجھاؤ
آؤ مل کر شکیبؔ، سلجھائیں
شکیب جلالی

ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

کم تر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے
جن کے لیے زبان بھی احسان مند ہے
میں نے کچھ ایسے کام لیے ہیں نگاہ سے
ہمراہ اپنے رونقِ محفل لیے ہوئے
وہ کون جا رہا ہے تری جشن گاہ سے!
تعظیم، یہ مقامِ ادب ہے، خرد نواز!
تم بات کر رہے ہو محبت پناہ سے
حُسنِ حیاپسند کو دیکھا ہے بے نقاب
شرما رہے ہیں آج ہم اپنی نگاہ سے
مستی سی چھا رہی ہے فضائے حیات پر
کوئی شراب گھول رہا ہے نگاہ سے
اک شعلہِ جمال سے نظریں پگھل گئیں
ہم تشنہ کام آئے تری جلوہ گاہ سے
ویسی ہی کچھ حَسین سزا دیجیے حضور
جیسا حَسین جُرم ہوا ہے نگاہ سے
کہنے کو اب بھی خاک نشیں ہے یہ دل مگر
تاروں کو چھو لیا ہے محبت کی راہ سے
اب تو شکیبؔ! رکھ لو بھرم زعمِ حُسن کا
جلوے اُلجھ رہے ہیں تمھاری نگاہ سے
شکیب جلالی

کیجیے خم کار زلفوں کو پریشان کیجیے

اپنی ذہنی کشمکش کو اب نمایاں کیجیے
کیجیے خم کار زلفوں کو پریشان کیجیے
اس طرح شاید نکھر جائے یہ پھیکی چاندنی
اپنی زُلفوں کے گھنے سایے پریشان کیجیے
روکیے بڑھتی ہوئی تاریکیوں کو روکیے
کیجیے اپنے رخِ تاباں کو عریاں کیجیے
جو کہ ہمت ہار جائیں ، آ کے ساحل کے قریب
ایسی نازک کشتیوں کو نذرِ طوفاں کیجیے
رنج کا احساس دل سے مٹ نہیں سکتا کبھی
آپ کتنا بھی تبسم کو نمایاں کیجیے
کچھ نہ کچھ تو آپ کو مجھ سے تعلق ہے ضرور
مجھ کو رسوا کر کے یوں خود کو نہ عریاں کیجیے
پھر بھی ان کی یاد آتی ہی رہے گی، اے شکیبؔ
جس قدر بھی ہو خیالوں کو پریشاں کیجیے
شکیب جلالی

مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں

سرو و سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں
مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں
چھوٹی سی اک خلوص کی دنیا بسائیں گے
آبادیوں سے دور چناروں کے سائے میں
تاریکیوں میں اور سیاہی نہ گھولیے
زلفیں بکھیریے نہ ستاروں کے سائے میں
جانے بھنور سے کھیلنے والے کہاں گئے
کشتی تو آ گئی ہے کناروں کے سائے میں
مانوس ہو گئی ہے خزاں سے مری بہار
اب لُطف کیا ملے گا بہاروں کے سائے میں
بلبل کی زندگی تو بہر حال کٹ گئی
پھولوں کی گود میں ، کبھی خاروں کے سائے میں
انگڑائی لی جنوں نے، خرد سو گئی، شکیبؔ
نغمات کی لطیف پھواروں کے سائے میں
شکیب جلالی

عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے

رازِ حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے
عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے
ہمدردیوں کا ذکر کروں اِن سے یا نہیں
ظاہرپرست دوست ہیں، دشمن زمانہ ہے
مرعوب کرسکے گا نہ مجھ کو جمالِ دوست
میرا مزاج میری نظر باغیانہ ہے
بیٹھا ہوں بجلیوں کا تصوّر کیے ہوئے
گہوارہِ جمال مرا آشیانہ ہے
ترسا رہے ہو کیوں خس و خاشاک کے لیے
میرا چمن ہے اور مرا آشیانہ ہے
شاید مری حیات کا مرکز بدل گیا
میرے لبوں پہ آج خوشی کا ترانہ ہے
تسلیم، اُڑ کے جا نہیں سکتا مگر، شکیبؔ
نظروں کے سامنے تو مرا آشیانہ ہے
شکیب جلالی

خدا گواہ بہاروں میں آگ لگ جائے

وہ دیکھ لیں تو نظاروں میں آگ لگ جائے
خدا گواہ بہاروں میں آگ لگ جائے
جو لُطفِ شورشِ طوفاں تمھیں اٹھانا ہے
دعا کرو کہ کناروں میں آگ لگ جائے
نگاہِ لطف و کرم دل پہ اس طرح ڈالو
بجھے بجھے سے شراروں میں آگ لگ جائے
نظر اٹھا کے جنوں دیکھ لے اگر اک بار
تجلیات کے دھاروں میں آگ لگ جائے
بہارساز ہے میری نظر کی ہر جُنبش
مری بلا سے بہاروں میں آگ لگ جائے
کسی کے عزمِ مکمل کی آبرو رہ جائے
اگر تمام سہاروں میں آگ لگ جائے
گلُوں کے رُخ سے شرارے ٹپک رہے ہیں ، شکیبؔ
عجب نہیں جو بہاروں میں آگ لگ جائے
شکیب جلالی

چشمِ مے گوں تری یاد آئی ہے

جب بھی گُلشن پہ گھٹا چھائی ہے
چشمِ مے گوں تری یاد آئی ہے
کس کے جلووں کو نظر میں لاؤں
حسن خود میرا تماشائی ہے
آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن
بات پر بات نکل آئی ہے
زندگی بخش عزائم کی قسم
ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے
مرگ و ہستی کا مٹا کر احساس
زندگی موت سے ٹکرائی ہے
مجھ کو دنیا کی محبت پہ، شکیبؔ
اکثر اوقات ہنسی آئی ہے
شکیب جلالی

حُسن کی زندگی محبت ہے

حُسن کو عشق کی ضرورت ہے
حُسن کی زندگی محبت ہے
کیوں اُٹھے جا رہے ہو محفل سے
کیا قیامت ہے، کیا قیامت ہے
آپ برہم نہ ہوں تو میں کہہ دوں
آپ سے کچھ مجھے شکایت ہے
پوچھ لو مجھ سے کائنات کا حال
دل کے ہاتھوں میں نبضِ فطرت ہے
جاگ اُٹّھیں مری تمنائیں
مسکرانا ترا قیامت ہے
ظلم کو جو کہ زندگی بخشے
ایسی فریاد سے بغاوت ہے
میں جو چاہوں جہاں پہ چھا جاؤں
جذبہِ دل مرا سلامت ہے
سن کے بولے وہ میرا حال، شکیبؔ
کچھ فسانہ ہے، کچھ حقیقت ہے
شکیب جلالی

اب جمالات سے بغاوت ہے

رقص و نغمات سے بغاوت ہے
اب جمالات سے بغاوت ہے
غم کا ماحول جو بدل نہ سکیں
ایسے نغمات سے بغاوت ہے
میرے احساس کے اجالوں کو
چاندنی رات سے بغاوت ہے
حسن سے انتقام لینا ہے
دل کی ہر بات سے بغاوت ہے
جن سے اعصاب مُضمحل ہو جائیں
ان غزلیات سے بغاوت ہے
قلب کی واردات جن میں نہ ہو
ان حکایات سے بغاوت ہے
جو کہ فکر و عمل سے عاری ہوں
ان روایات سے بغاوت ہے
وقت کے ساتھ جو بدل نہ سکیں
ایسے حالات سے بغاوت ہے
جو نہ سمجھیں نئے تقاضوں کو
ان خیالات سے بغاوت ہے
غم کی خودداریاں، شکیبؔ، نہ پوچھ
اب شکایات سے بغاوت ہے
شکیب جلالی

حسن کے راز دار ہیں ہم لوگ

عشق کے غم گُسا ر ہیں ہم لوگ
حسن کے راز دار ہیں ہم لوگ
دستِ قدرت کو ناز ہے ہم پر
وقت کے شاہ کار ہیں ہم لوگ
ہم سے قائم ہے گُلستاں کا بھرَم
آبروئے بہار ہیں ہم لوگ
منزلیں ہیں ہمارے قدموں میں
حاصلِ رہ گزار ہیں ہم لوگ
ہم سے تنظیم ہے زمانے کی
محورِ روزگار ہیں ہم لوگ
ہم جو چاہیں گے اب وہی ہو گا
صاحبِ اختیار ہیں ہم لوگ
ہم سے روشن ہے کائنات، شکیبؔ
اصلِ لیل و نہار ہیں ہم لوگ
شکیب جلالی

کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ

نہ ساحل پہ مرنا، نہ طُوفاں میں جینا
کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ
لُٹایا جو آنکھوں نے غم کا خَزینہ
عیاں ہو گیا رازِ دل کا دَفینہ
محبت کے آنسو بڑے قیمتی ہیں
چمکتا ہے ان سے وفا کا نَگینہ
نگاہوں کے آغوش میں خود کو پا کر
حیا ہو رہی ہے پسینہ پسینہ
یہ پَت جھڑ کا موسم، یہ سنسان گُلشن
ہو جیسے پریشان حال اک حَسینہ
عزائم کو بیدار کرنے کی خاطر
چٹانوں سے ٹکرا رہا ہوں سَفینہ
اٹھاؤ نہ پردے رخِ آتشیں سے
نگاہوں کو آنے لگا ہے پسینہ
گوارا نہیں ان کی رُسوائی دل کو
نہ دیکھو یہ ٹوٹا ہوا آبگینہ
شکیبؔ! اہلِ دنیا کے اطوار دیکھے
لبوں پر تبسّم، دلوں میں ہے کِینہ
شکیب جلالی

نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے

بڑھے گا جو طوفان میں بے سہارے
نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے
جوانی سے ٹکرا رہی ہے جوانی
تمنا میں حل ہو رہے ہیں شرارے
نگاہیں اٹھا کر کسی نے جو دیکھا
وہیں دم بخود ہو گئے ماہ پارے
سنا جب کسی نے مرا قصہِ غم
گرے آنکھ سے ٹوٹ کر دو ستارے
حوادث میں ملتی ہے مجھ کو مسّرت
میں طوفاں میں پیدآ کروں گا کنارے
وہ دن حاصلِ عشق و اُلفت ہیں ہمدم
کہ جو میں نے فُرقت میں ان کی گزارے
ہوا جن پہ نفرت کا دھوکا جہاں کو
محبت نے ایسے بھی کچھ روپ دھارے
ذرا کوئی سازِ محبت تو چھیڑے
عجب کیا جو گانے لگیں یہ نظارے
کہیں محورِ غم، کہیں روحِ نغمہ
شکیبؔ! ان کی نظروں کے رنگیں اشارے
شکیب جلالی

اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا

خواب آلودہ ہے ماحول، طرب خانے کا
اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا
وہ اگر اپنی نگاہوں سے اشارہ کردیں
لُطف آجائے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
جام دیتے ہوئے نظریں نہ ملا اے ساقی
پھر چھلک جائے گا ساغر کسی دیوانے کا
دو نگاہوں کا تصادم، دو دلوں کی فریاد
وہ ہے آغاز، یہ انجام ہے افسانے کا
یہ بدلتا ہوا موسم، یہ اداسی، یہ سُکوت
اک تصوّر ہے گُلستاں میں بھی ویرانے کا
ایسی باتوں کا نہ کہنا ہی مناسب ہے، شکیبؔ
دل کہیں ٹوٹ نہ جائے کسی دیوانے کا
شکیب جلالی

عشق کا احترام کرتے ہیں

وہ نظر سے سلام کرتے ہیں
عشق کا احترام کرتے ہیں
اس قدر وہ قریب ہیں مجھ سے
بے رُخی سے کلام کرتے ہیں
جن سے پردہ پڑے تعلّق پر
ایسے جلووں کو عام کرتے ہیں
منزلیں تو نشانِ منزل ہیں
راہ رَو کب قیام کرتے ہیں
غمِ دوراں سے بھاگنے والے
مے کدے میں قیام کرتے ہیں
اہلِ طوفاں جُمودِ ساحل کو
دور ہی سے سلام کرتے ہیں
کِھنچ کے منزل، شکیبؔ، آتی ہے
خود کو جب تیز گام کرتے ہیں
شکیب جلالی

جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو

خردفریبِ نظاروں کی کوئی بات کرو
جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو
کسی کی وعدہ خلافی کا ذکر خوب نہیں
مرے رفیق ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ساز زمانے کی بات رہنے دو
خلوصِ دوست کے ماروں کی کوئی بات کرو
گھٹا کی اوٹ سے چھپ کر جو دیکھتے تھے ہمیں
انھی شریر ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ذکرِ حوادث سے کانپ اٹھتا ہے
سُکوں بدوش کناروں کی کوئی بات کرو
نہیں ہے حدِّ نظر تک، وجود ساحل کا
فضا مُہیب ہے، دھاروں کی کوئی بات کرو
سلامِ شوق لیے تھے کسی نے، جن سے، شکیبؔ
انھی لطیف اشاروں کی کوئی بات کرو
شکیب جلالی

بہر صورت نمایاں گلستاں در گلستاں ہم ہیں

کبھی حُسنِ گُل و لالہ، کبھی رنگِ خزاں ہم ہیں
بہر صورت نمایاں گلستاں در گلستاں ہم ہیں
نرالا ہے زمانے ہی سے ذوقِ رہ روی اپنا
امیرِ کارواں ہم ہیں، نہ گردِ کارواں ہم ہیں
حوادث کی کشاکش ہے، وہ ساحل ہے، یہ طوفاں ہے
زمانہ جن سے بچتا ہے انھیں کے درمیاں ہم ہیں
ہمارا ذوقِ خودبینی یہاں پر جلوہ ساماں ہے
اگر سچ پوچھیے تو رونقِ بزمِ جہاں ہم ہیں
جنوں میں ایک سجدہ وُسعتِ عالم پہ حاوی ہے
شکیبؔ، اس درجہ گویا بے نیازِ آستاں ہم ہیں
شکیب جلالی

مری توبہ کی خیر برسات آئی

نظر پھر حضورِ خرابات آئی
مری توبہ کی خیر برسات آئی
اُدھر ان کے لب پر مری بات آئی
اِدھر رقص میں روحِ نغمات آئی
وہ جب سے گئے ہیں خدا جانتا ہے
نہ وہ چاند نکلا، نہ وہ رات آئی
کبھی صبحِ خنداں نے آنسو بہائے
کبھی مُسکراتی ہوئی رات آئی
ہر اک گام پر جُرأتیں کہہ رہی ہیں
یہ منزل بطورِ نشانات آئی
صراحی اٹھائی نہ ساغر سنبھالے
عجب شان سے اپنی برسات آئی
وہ خود راز داں بن کے آئے تھے لیکن
زباں تک نہ دل کی کوئی بات آئی
مجھے ان کے وعدے پہ بالکل یقیں تھا
مگر جب ستاروں بھری رات آئی
نہ کہتا، شکیبؔ، ان سے حالِ غمِ دل
مگر کیا کروں بات پَر بات آئی
شکیب جلالی

وگرنہ عُذر نہ تھا آپ کو سُنانے میں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عُذر نہ تھا آپ کو سُنانے میں
یہ منتشر سے اُجالے، یہ زندگی، یہ سُکوت
تمھیں پکار کے آئے ہیں اک زمانے میں
چمن سے دور تھے لیکن بہارساماں تھے
کچھ ایسے پھول بھی پیدا ہوئے زمانے میں
ضرور دھوکے میں منزل سے دور آپہنچے
جھجک رہا ہے بہت راہبر بتانے میں
شکیبؔ، میری خوشی سے کبھی جو خوش نہ ہوئے
مجھے سُرور ملا ان کے مسکرانے میں
شکیب جلالی

کسی کے جلووں کی زَد پہ نظروں کا امتحاں یاد آرہا ہے

نقاب اٹھنے پہ ہر ارادہ، تھا رایگاں، یاد آرہا ہے
کسی کے جلووں کی زَد پہ نظروں کا امتحاں یاد آرہا ہے
زہے مسرّت، مری خوشی سے کبھی چمن مسکرادیا تھا
زہے تصوّر، وہ مسکراتا ہوا سماں یاد آرہا ہے
بہار آئی ہے پھر چمن میں ، گھٹائیں گھِر گھِر کے آرہی ہیں
سجود ریزی پہ بجلیوں کی، پھر آشیاں یاد آرہا ہے
کلی کلی گیت گارہی ہے، بہار کی دل فریبیوں کے
ستم ظریفی تو دیکھیے مجھ کو آسماں یاد آرہا ہے
کسی مسافر کی آرزو میں نشانِ منزل بھٹک رہے ہیں
کسی مسافر کو شامِ غُربت میں کارواں یاد آرہا ہے
چمن کی رنگینیاں سمٹ کر، مرے تخیّل پہ چھاگئی ہیں
مجھے برنگِ بہار، پھر کوئی مہرباں یاد آرہا ہے
جہاں کہ اذنِ سجود پا کر جبیں کو میں نے اٹھا لیا تھا
قدم قدم، پر شکیبؔ، مجھ کو وہ آستاں یاد آرہا ہے
شکیب جلالی

بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا

میری ناکامی کا افسانہ بھی کیا افسانہ تھا
بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا
ملتی جلتی داستاں وجہِ غلط فہمی ہوئی
آپ شرمندہ نہ ہوں یہ میرا ہی افسانہ تھا
کشمکش کی زَد میں تھا انساں کا ذوقِ بندگی
ایک جانب تیرا کعبہ، اک طرف بُت خانہ تھا
میرے غم انگیز نغمے جانِ محفل بن گئے
ورنہ تیرا سازِ مطرب سوز سے بیگانہ تھا
ان کی آنکھوں نے کبھی بخشا تھا کیفِ بے خودی
زندگی مسرور تھی اور وَجد میں مے خانہ تھا
آبدیدہ ہو گئے اہلِ ستم بھی، اے شکیبؔ
ہائے کتنا سوز میں ڈوبا ہوا افسانہ تھا
شکیب جلالی

آرزو میں بھی سادگی نہ رہی

حُسن میں جب سے بے رُخی نہ رہی
آرزو میں بھی سادگی نہ رہی
ان کا غم جب سے راس آیا ہے
دل کی کوئی خوشی، خوشی نہ رہی
جب کبھی موت کا خیال آیا
زیست میں کوئی دلکشی نہ رہی
آپ سے ایک بات کہنی ہے
لیجیے مجھ کو یاد بھی نہ رہی
کہہ رہی ہے بہ چشمِ تر شبنم
مُسکرا کر کَلی، کَلی نہ رہی
جب کبھی وہ، شکیبؔ، یاد آئے
چاند تاروں میں روشنی نہ رہی
شکیب جلالی

جلوے کسی کے، میری نظر نے سنوار کے

آئینہِ جمال دکھایا نکھار کے
جلوے کسی کے، میری نظر نے سنوار کے
میں اوجِ کہکشاں سے بھی آگے نکل گیا
کچھ حوصلے بڑھے تھے مرے اعتبار کے
دیتا ہے ذرّہ ذرّہ چمن کا سبق ہمیں
شبنم مِٹی مگر گُل و ریحاں نکھار کے
گُل کو، چمن کو، سبزے کو، کہہ کر جُدا جُدا
انساں نے کردیے کئی ٹکڑے بہار کے
رنگینیِ حیات کا کیا تذکرہ، شکیبؔ
دُھندلے سے ہیں نقوش فریبِ بہار کے
شکیب جلالی

میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں
میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں
آغوشِ حادثات میں پائی ہے پرورش
جو برق پُھونک دے، وہ مرا آشیاں نہیں
کیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگ؟
ہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں
گھبرائیے نہ گردشِ ایّام سے ہنوز
ترتیبِ فصلِ گُل ہے یہ دورِ خزاں نہیں
کچھ برق سوز تنکے مجھے چاہئیں، شکیبؔ
جھک جائیں گُل کے بار سے وہ ڈالیاں نہیں
شکیب جلالی

اک چراغِ رہ گزر ہے جو مری منزل میں ہے

ایک ادنیٰ سی توجہ جو کسی کے دل میں ہے
اک چراغِ رہ گزر ہے جو مری منزل میں ہے
راستے کی کُلفتوں پر ہنس رہے ہیں آبلے
کون جانے لُطف کتنا دوریِ منزل میں ہے
ان کی تصویروں میں پاتا ہوں ابھی تک دل کشی
کچھ نہ کچھ احساس اپنا بھی کسی کے دل میں ہے
تلخیِ اَیّام سے گھبرا کے بُھولا تھا تمھیں
اب نہیں معلوم کیوں دل کا سکوں مشکل میں ہے
ہم کو جانے کیا سمجھ کر وہ بھلا بیٹھے، شکیبؔ
پھر بھی ان کی یاد جانے کیوں ہمارے دل میں ہے
شکیب جلالی

نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے

یہ کہتا ہے خانہ خراب اٹھتے اٹھتے
نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے
گھٹا جیسے گِھر آئے ماہِ جبیں پر
گری اس طرح سے نقاب اٹھتے اٹھتے
ذرا فلسفہ زندگی کا سمجھتے
کدھر چل دیے یہ حُباب اٹھتے اٹھتے
ابھی سے اٹھائیں تو شاید اُٹھیں گے
قیامت میں مستِ شراب اٹھتے اٹھتے
شبِ وصل بیٹھے ہیں محجوب سے وہ
اٹھے گا مگر یہ حجاب اٹھتے اٹھتے
شکیبؔ! آزمانے کو کشتی کی جرأت
بھنور بن گئی موجِ آب اٹھتے اٹھتے
شکیب جلالی

رشک کرتی ہیں فضائیں بھی شبستانوں کی

تم نے تقدیر جگا دی مرے ارمانوں کی
رشک کرتی ہیں فضائیں بھی شبستانوں کی
لاکھ تم بُھولو، مگر رنج کی زَد پر آ کر
یاد آجاتی ہے بھولے ہوئے انسانوں کی
ہوں گے منظر یہی، خآ کے یہی، کردار یہی
سُرخیاں صرف بدل جائیں گی افسانوں کی
ڈگمگاجاتے ہیں اب تک مری توبہ کے قدم
یاد جب آتی ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کی
آپ کو میری قسم، آپ نہ ہوں آزردہ
کیا ہُوا، لُٹ گئی دُنیا مرے ارمانوں کی
پھر، شکیبؔ، آج مری زیست پہ غم حاوی ہے
پھر بدلنے لگی سُرخی مرے افسانوں کی
شکیب جلالی

خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے

اک معمّا سمجھ کے بھول گئے
خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے
مرنے والے جہانِ رنگیں کو
اک تماشا سمجھ کے بھول گئے
میری آنکھوں کی التجاؤں کو
آپ شکوہ سمجھ کے بھول گئے
یاد، میری بلا کرے ان کو
وہ مجھے کیا سمجھ کے بھول گئے!
یوں تو غیروں پہ بھی عنایت ہے
مجھ کو اپنا سمجھ کے بھول گئے
بے سہارا سمجھ کے یاد کیا
رسمِ دنیا سمجھ کے بھول گئے
ان کا بخشا ہوا الم بھی، شکیبؔ
لطفِ بے جا سمجھ کے بھول گئے
شکیب جلالی

کچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کے

رُخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
کچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کے
ایثار، خودشناسی، توحید اور صداقت
اے دل ستون ہیں یہ ایوانِ بندگی کے
رنج و اَلَم میں کچھ کچھ آمیزشِ مسرّت
ہیں نقش کیسے دلکش تصویرِ زندگی کے
فرضی خدا بنائے، سجدے کیے بُتوں کو
اللہ رے کرشمے احساسِ کمتری کے
قلب و جگر کے ٹکڑے یہ آنسوؤں کے قطرے
اللہ راس لائے، حاصل ہیں زندگی کے
صحرائیوں سے سیکھے کوئی، رُموزِ ہستی
آبادیوں میں اکثر دشمن ہیں آگہی کے
جانِ خلوص بن کر ہم، اے شکیبؔ، اب تک
تعلیم کر رہے ہیں آدابِ زندگی کے
شکیب جلالی

دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی

وحشت کے ان معماروں سے، بنیادِ ایواں ٹوٹ گئی
دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی
اے عزمِ جواں شورش کیسی، اب تک تو یہ سنتے آئے ہیں
دو نازک سی پتواروں سے، ہر جرأتِ طوفاں ٹوٹ گئی
تخیئل کی دَرپردہ ضربیں، وحشی کا سہارا بن ہی گئیں
زنجیروں کی جھنکاروں سے، پابندیِ زنداں ٹوٹ گئی
زنداں کی اندھیری راتوں میں، جینے کا سہارا ختم ہُوا
افسوس کہ ان بے چاروں سے، تصویرِ گلستاں ٹوٹ گئی
دیوانوں نے آخر گلشن، رو رو کے بیاباں کر ڈالا
آنکھوں کے لرزتے پاروں سے، دیوارِ گلستاں ٹوٹ گئی
قسمت کی کرشمہ سازی تھی یا لُطف و کرم ملّاحوں کا
ٹکرا کر خشک کناروں سے پروردہِ طوفاں ٹوٹ گئی
دکھ درد کے ماروں کا ہر غم، ساغر کی کھنک میں ڈوب گیا
پیمانوں کی جھنکاروں سے فکرِ غمِ دوراں ٹوٹ گئی
بارِ غمِ اُلفت اُٹھ نہ سکا، کم ظرفوں کی نبضیں چھوٹ گئیں
افسوس ہے ان بیماروں سے، توقیرِ غمِ جاں ٹوٹ گئی
ہستیِ شکیبؔ زار کو، رنج و غم کے ہی چرکے کافی تھے
ان نازک سی دیواروں سے تعمیرِ دل و جاں ٹوٹ گئی
شکیب جلالی

دنیاے تخیّل مری آباد نہیں ہے

پہلو ہی میں جب سے دلِ ناشاد نہیں ہے
دنیاے تخیّل مری آباد نہیں ہے
نکلے جو انالحق کی صدا حرکتِ دل سے
ایمان کی تکمیل ہے، اِلحاد نہیں ہے
اچھا ہے کہ تم بھول گئے میری وفائیں
مجھ کو بھی کوئی جَور و ستم یاد نہیں ہے
اے لفظِ مسرّت! تجھے غم ہی سے بدل دوں
خودداریِ دل طالبِ امداد نہیں ہے
ہے مظہرِ انوارِ ازل ذوقِ شکیبؔ، اور
بدذوق یہ کہتا ہے: خداداد نہیں ہے
شکیب جلالی

مٹے ہیں لاکھوں ستارے ہی کہکشاں کے لیے

ہر ایک موت ہے تعمیرِ نکتہ داں کے لیے
مٹے ہیں لاکھوں ستارے ہی کہکشاں کے لیے
یہ بہکی بہکی سی باتیں یہ مضمحل نظریں
سُکوں نواز نہ بن جائیں نیم جاں کے لیے
غَرَض کے واسطے جیتی ہے فطرتاً دنیا
بہار پھول کھلاتی نہیں خزاں کے لیے
خوشی زمانے کو مرغوب ہی سہی، لیکن
الم حَسین ہے عنوانِ داستاں کے لیے
خرامِ ناز، نظرمست، منتشر زلفیں
یہ اہتمام ہے کیوں، کس لیے، کہاں کے لیے!
حقائقِ غمِ اُلفت کبھی چُھپے ہیں شکیبؔ!
بیان کیسے بدلتا میں راز داں کے لیے
شکیب جلالی

بہکے بہکے جو یہ مے خوار نظر آتے ہیں

ساغرِ چشم سے سرشار نظر آتے ہیں
بہکے بہکے جو یہ مے خوار نظر آتے ہیں
کُلفتیں آج بھی قائم ہیں قَفَس کی شاید
گُلستاں حاملِ افکار نظر آتے ہیں
جن پہ بے لوث محبت بھی بجا ناز کرے
ایسے نایاب ہی کردار نظر آتے ہیں
خود ہی آتی ہے مسرّت انھیں مژدہ دینے
جو ہر اک غم کے سزاوار نظر آتے ہیں
بے سہارا جو گزر جاتے ہیں طوفانوں سے
کچھ یہاں ایسے بھی خوددار نظر آتے ہیں
جن مراحل کو سمجھنے سے خرد قاصر ہے
وہ جنوں کے لیے شہ کار نظر آتے ہیں
کسبِ ثروت ہی، شکیبؔ، آج کا فن ہے شاید
طالبِ زر مجھے فن کار نظر آتے ہیں
شکیب جلالی

کیوں ہنس رہے ہو چاند ستارو، جواب دو

رنگینیِ حیات کے مارو جواب دو
کیوں ہنس رہے ہو چاند ستارو، جواب دو
کیا مل گیا غریب کی دنیا اُجاڑ کے!
بولو تو اے لرزتے شرارو، جواب دو
کشتی ڈُبو ہی سکتا ہوں، طوفاں نہیں تو کیا
ہو کس لیے اُداس کنارو، جواب دو
بربادیاں سُکون بہ داماں ہیں یا نہیں
کچھ تو خزاں رسیدہ بہارو، جواب دو
کیا تلخیِ حیات سے دل کش ہے تلخ مے؟
اے تلخیِ شراب کے مارو، جواب دو
کیا میری آہ تم سے اُلجھتی ہے راہ میں ؟
سہمے ہوئے سے چاند ستارو، جواب دو
تھیں کس کے دم قدم سے یہاں کی وہ رونقیں
میری اُداس راہ گزارو جواب دو
کیا عزمِ سُوے صحنِ گلستاں ہے آج یا؟
آئی ہو میرے پاس بہارو، جواب دو
عزمِ شکیبؔ زار سے ضد تو نہیں تمھیں
یہ اہتمام کس لیے دھارو، جواب دو
شکیب جلالی

گو کہ مُشتِ غُبار ہے انساں

دوشِ ہستی پہ بار ہے انساں
گو کہ مُشتِ غُبار ہے انساں
گر اصولِ حیات ہو مفقود
چلتا پھرتا مزار ہے انساں
سیم و زر کا بھلا ہو، جس کے طفیل
آج کل باوقار ہے انساں
جس کو سجدہ کیا فرشتوں نے
وہ ہی خاک و غُبار ہے انساں !
درد، غم اور کُلفتیں توبہ
تلخیِ صد خمار ہے انساں
صرف آدم کی ایک لغزش پر
آج تک اشک بار ہے انساں
غم کے ماروں سے پوچھیے تو شکیبؔ
صاحبِ اختیار ہے انساں ؟
شکیب جلالی

نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک

زمانے میں نہیں باقی کوئی نام و نشاں اب تک
نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک
متاع و مال کیا، عزت بچا لینا بھی مشکل ہے
مسلمانوں کا قدرت لے رہی ہے امتحاں اب تک
ستم کوشی پہ نازاں ہیں یہ کُفر و شِرک کے بندے
الٰہی کیسے قائم ہیں زمین و آسماں اب تک
جُھلس دینے پہ بھی مُسلم کو، دل ٹھنڈا نہیں ہوتا
جلائی جا چکی ہیں بستیوں کی بستیاں اب تک
دلا کر یادِ رفعت عہدِ ماضی کی، مسلماں کو
تعجب کیا جو طعنہ دے رہی ہیں پستیاں اب تک
شکیبؔ زار کچھ ایسی اُلجھ کر رہ گئی ہستی
نہ سُلجھیں سعیِ پیہم سے بھی اپنی گُتّھیاں اب تک
شکیب جلالی

رنج و غم کی شکار ہے دنیا

مُفلسوں کی پُکار ہے دنیا
رنج و غم کی شکار ہے دنیا
کیا بتاؤں کہ اپنی حالت کی
خود ہی آئینہ دار ہے دنیا
حالِ باطن کسی کو کیا معلوم
ظاہراً دوست دار ہے دنیا
کہہ رہی ہے خزاں کی مایوسی
اک فریبِ بہار ہے دنیا
اُنس و الفت، خلوص و غیرت کا
دامنِ تار تار ہے دنیا
اک زمانہ ہے صد اَلَم بر دوش
جانے کس کی بہار ہے دنیا
ذرہ ذرہ، شکیبؔ، ہے بے چین
قلب کا انتشار ہے دنیا
شکیب جلالی

ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہوسکا
ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
رہ تو گئی فریبِ مسیحا کی آبرو
ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا
خوش ہوں کہ بات شورشِ طوفاں کی رہ گئی
اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا
بے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں
اچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا
کچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں
دل کو کسی کا لُطف گوارا نہ ہو سکا
فرطِ خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے
جب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا
الٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر، شکیبؔ
دعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا
شکیب جلالی

اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی

جس وقت فصلِ گُل کی قَفَس میں خبر گئی
اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی
تنکے کی طرح بہ گیا ہر ساحلِ مراد
طوفانِ غم! اُمید کی کشتی کدھر گئی؟
وہ سُن کے میرا قصّہِ غم، ایسے رو دیے
جیسے گُلوں پہ شبنمِ گریاں بکھر گئی
کیا جانیے کہ مجھ کو نہیں اعتماد کیوں
تارے تو کہہ رہے ہیں شبِ غم گُزر گئی
قسمت میں ڈوب جانا ہی تھا ایک دن، شکیبؔ
ہاں ! آبروے شورشِ طوفاں مگر گئی
شکیب جلالی

جرأتِ جذبِ ذوقِ دید مانے تو آزما کے ہم

ان کی نقاب ہی رہے حُسنِ طلب اٹھا کے ہم
جرأتِ جذبِ ذوقِ دید مانے تو آزما کے ہم
جن کو یقین ہی نہ ہو، ان سے اَلم کا ذکر کیا
پُرسشِ حالِ زار پر رہ گئے مسکرا کے ہم
فرطِ خوشی ہے یا فقط وہم و خیال کا سراب
منزلِ زیست کے نشاں کھو سے گئے ہیں پآ کے ہم
خطرہِ برق و باد ہے اور نہ فکرِ آشیاں
بیٹھ گئے ہیں آشیاں اپنا ہی خود جلا کے ہم
زیست کی غم سے نسبتیں کام ہی آج آگئیں
’’ہر غمِ بے پناہ پر رہ گئے مسکرا کے ہم،،
ایسے بھی داغ عشق نے بخشے ہیں قلبِ زار کو
چاہیں بھی گر شکیبؔ تو، رکھ نہ سکیں چھپا کے ہم
شکیب جلالی