admin کی تمام پوسٹیں

دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 347
باہر کھڑا ہوں کون و مکاں کے قفس سے میں
دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں
دیکھو یہ پھڑپھڑاتے ہوئے زخم زخم پر
لڑتا رہا ہوں عمر بھر اپنے قفس سے میں
اے دوست جاگنے کی کوئی رات دے مجھے
تنگ آ گیا ہوں نیند کے کارِ عبث سے میں
بے وزن لگ رہا ہے مجھے کیوں مرا وجود
بالکل صحیح چاند پہ اترا ہوں بس سے میں
اک سوختہ دیار کے ملبے پہ بیٹھ کر
انگار ڈھانپ سکتا نہیں خار و خس سے میں
جذبوں کی عمر میں نے مجرد گزار دی
منصور روزہ دار ہوں چودہ برس سے میں
منصور آفاق

کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 346
جس کاپھرہو گیا اک بوسہ ء پُرجوش سے میں
کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں
سرد آنکھوں میں فقط موت کی ویرانی تھی
کب تلک بولتااُس چہرئہ خاموش سے میں
چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری زیست گزار
بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں
کیا کوئی تیرے اندھیروں سے نکل سکتا ہے
پوچھ سکتا تو ہوں اُس چشمِ سیہ پوش سے میں
اک طرف پڑتی رہی منظرِجاناں پہ چمک
اک طرف آتا رہا جاتا رہا ہوش سے میں
رات کھو جاؤں میں لتا کے سریلے پن میں
صبح آغاز کروں نغمہ ء گوگوش سے میں
اُس بلندی پہ کہاں ہاتھ پہنچنا تھا مگر
دیکھتا چاند رہا دیدئہ مے نوش سے میں
کیسی ہوتی ہے کسی دورِسگاں کی وحشت
پوچھنا چاہتا ہوں یہ کسی خرگوش سے میں
یہ روایت ہے مرے عہدِسخن پیشہ کی
کرلوں بس صدرنوازی ذرا پاپوش سے میں
ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں
منصور آفاق

سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 345
کھلا گیا کوئی آسیب زار کمرے میں
سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں
یہ شیمپین یہ کینڈل یہ بے شکن بستر
پڑا ہوا ہے ترا انتظار کمرے میں
یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں
دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں
پلٹ پلٹ کے گیا بار بار کمرے میں
جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائی تھیں
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمار کمرے میں
تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں
نہیں ہے قید سے ممکن فرار کمرے میں
چھپا رہا تھا کسی سے دھویں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگار کمرے میں
منصور آفاق

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

بولی وہ تھی خدا کے لہجے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 343
سنتے ہم ہیں ہواکے لہجے میں
بولی وہ تھی خدا کے لہجے میں
دے رہی ہے ہماری تنہائی
بدعائیں دعا کے لہجے میں
رات کی آنکھ اوس کے آنسو
بھردے بادصبا کے لہجے میں
گفتگو کر رہی تھی بچوں سے
تھا تحیر فنا کے لہجے میں
خامشی کی کہانیاں منصور
لکھ گیا کافکا کے لہجے میں
منصور آفاق

سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 342
لگا دئیے گئے خطرے کے مارک پانی میں
سنا ہے پھر کوئی پھرتی ہے شارک پانی میں
اے بلدیہ کوئی بارش سے بھی روابط رکھ
کہ کھو گیاہے وہ بچوں کا پارک پانی میں
پڑا ہوا تھا وہ دریا میں اور پیاسا تھا
اتر رہا ہے سو بوتل کا کارک پانی میں
مجھے کرنٹ کنارے پہ لگ رہا تھا رات
ترے بدن کا عجب تھا سپارک پانی میں
میں رو دیا تو اچانک کسی نے آن کیا
ہزار واٹ کا اک بلب ڈارک پانی میں
منصور آفاق

ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 341
دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں
ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں
اسمِ اللہ کے تصور سے گرے
آبشارِ بیکرانی آنکھ میں
لال قلعے سے قطب مینار تک
وقت کی ہے شہ جہانی آنکھ میں
لکھ رہا ہے اس کا آیت سا وجود
ایک تفسیرِ قرانی آنکھ میں
دودھیا باہیں ، سنہری چوڑیاں
گھومتی ہے اک مدھانی آنکھ میں
دیکھتا ہوں جو دکھاتا ہے مجھے
یار کی ہے حکمرانی آنکھ میں
برف رُت کے اس تعلق کی غزل
دھوپ نے ہے گنگنانی آنکھ میں
اجڑے خوابو!، ٹوٹی امیدو!سنو
ایک بستی ہے بسانی آنکھ میں
چل رہی ہے اپنے کرداروں کے ساتھ
فلم کی اب تک کہانی آنکھ میں
چاہتی ہے کیوں بصارت تخلیہ
کون ہے ظلِ ’سبحانی‘ آنکھ میں
کپکپاتے ساحلوں سے ہمکلام
دھوپ ہے کتنی سہانی آنکھ میں
آمد آمد شاہِ نظارہ کی ہے
سرخ مخمل ہے بچھانی آنکھ میں
تجھ سے پہلے توہواکرتے تھے اور
روشنی کے کچھ معانی آنکھ میں
پہلے ہوتے تھے مقاماتِ عدم
اب فقط ہے لا مکانی آنکھ میں
دیکھتے رہنا ہے نقشِ یار بس
بزمِ وحشت ہے سجانی آنکھ میں
بس یہی ہیں یادگاریں اپنے پاس
بس یہی آنسو نشانی آنکھ میں
اُس حویلی کے کھنڈر کی آج بھی
چیختی ہے بے زبانی آنکھ میں
زیرِآب آنے لگی تصویرِیار
پھیلتا جاتا ہے پانی آنکھ میں
شکرہے اُس اعتمادِذات کی
آ گیا ہوں غیر فانی آنکھ میں
دیکھ آئی ہے کسی کو اُس کے ساتھ
اب نہیں ہے خوش گمانی آنکھ میں
منصور آفاق

جمع ہیں سب التماسیں آنکھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 340
ہجر کی ماری نراسیں آنکھ میں
جمع ہیں سب التماسیں آنکھ میں
چیختی ہیں کیا ہوئی نہرِ فرات
کربلا کی اب بھی پیاسیں آنکھ میں
آخرش تھک ہار کر پتھرا گئیں
انتظاریں اور آسیں آنکھ میں
کس طرح سنولاگئی ہیں صبح کو
رقص کرتی چند یاسیں آنکھ میں
ایک ہیں ، صحرا نوردی کی قسم
مختلف قسموں کی گھاسیں آنکھ میں
اس سے کیا منصور ملنا جب تمام
رنجشیں دل میں براسیں آنکھ میں
منصور آفاق

مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 339
بلا کا ضبط تھا دریا نے کھو دیا مجھ میں
مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں
شبِ سیاہ کہاں سے رگوں میں آئی ہے
تڑپ رہا ہے کوئی آج تو دیا مجھ میں
عجیب کیف تھا ساقی کی چشم رحمت میں
شراب خانہ ہی سارا سمو دیا مجھ میں
رکھا ہے گنبدِ خضرا کے طاق میں شاید
بلا کی روشنی کرتا ہے جو دیا مجھ میں
ہزار درد کے اگتے رہے شجر منصور
کسی نے بیج جو خواہش کا بو دیا مجھ میں
منصور آفاق

ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 338
ڈال دی اس نے محبت کی نئی سم مجھ میں
ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں
اس کی آنکھوں سے مجھے ہوتا ہے کیا کیا معلوم
کون کرتا ہے یہ جذبوں کے تراجم مجھ میں
روح تک جکڑی ہوئی ہے میری زنجیروں میں
کم نہیں ایک تعلق کے مظالم مجھ میں
گھونٹ دیتا ہے گلا روز مرے خوابوں کا
کوئی رہتا ہے خطرناک سا مجرم مجھ میں
بخش کے مجھ کو تہی دامنی دنیا بھر کی
رکھ دیا درد بھرا سینہء حاتم مجھ میں
چھو کے دیکھوں تو مرے ہاتھ پہ رہ جاتی ہیں
اس قدر خواہشیں ہیں نرم و ملائم مجھ میں
جانے کب آتا ہے ہونٹوں پہ کرامت بن کر
کروٹیں لیتا ہے اک نغمہء خاتم مجھ میں
اس کے آنسو مری بخشش کے لیے کافی ہیں
وہ جو بہتا ہے کوئی چشمہء نادم مجھ میں
میں نے چپکائی ہے کاغذ پہ سنہری تتلی
اب بھی پوشیدہ ہے شاید کوئی ظالم مجھ میں
کتنی قبروں پہ کروں فاتحہ خوانی منصور
مر گئے پھر مرے کچھ اور مراسم مجھ میں
منصور آفاق

بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 337
بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں
اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں
میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ ستم گو رہا ہوں میں
لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں
ابھرے ہیں میری آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں
منصور آفاق

پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 336
پھر وہی بھول کر رہا ہوں میں
پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں
جانتا ہوں منافقت کے گُر
شہر میں معتبر رہا ہوں میں
رابطے سانپ بنتے جاتے تھے
رخنے مٹی سے بھر رہا ہوں میں
رات کچھ اور انتظار مرا
آسماں پر ابھر رہا ہوں میں
ایک اندھا کنواں ہے چاروں اور
زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں
آخری بس بھی جانے والی ہے
اور تاخیر کر رہا ہوں میں
ساتھ چھوڑا تھا جس جگہ تُو نے
بس اسی موڑ پر رہا ہوں میں
جانتا ہے تُو میری وحشت بھی
تیرے زیرِ اثر رہا ہوں میں
تتلیاں ہیں مرے تعاقب میں
کیسا گرمِ سفر رہا ہوں میں
کچھ بدلنے کو ہے کہیں مجھ میں
خود سے منصور ڈر رہا ہوں میں
منصور آفاق

کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 335
اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں
طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں
مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں
مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں
گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں
کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں
منصور آفاق

ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 334
ابھی تو شاخ سے اپنی، جدا ہوا ہوں میں
ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں
یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں
وصالِ زانوئے جاناں کے انتظار میں رات
خود اپنے ہاتھ پہ سر رکھ کے سو گیا ہوں میں
لہو میں دوڑتی پھرتی ہے لمس کی خوشبو
تیر ے خیال سے شاید گلے ملا ہوں میں
ستم کہ جس کی جدائی میں بجھ رہا ہے بدن
اسی چراغ کی مانگی ہوئی دعا ہوں میں
یہ المیہ نہیں سورج مقابلے پر ہے
یہ المیہ ہے کہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں
پڑے ہوئے ہیں زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں
منصور آفاق

اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 333
برسات میں نمازِ ہوا کا وضوہوں میں
اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں
کرتی ہے یاد مجھ کو اشاروں کنایوں سے
مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں
اک دوسرے سے کہتے نہیں جانتے تو ہیں
تُو میرے چار سو ہے ترے چار سو ہوں میں
مجھ کو بھی گنگنائے تہجد گزار دوست
اُس کیلئے تو نغمہ اللہ ھو ہوں میں
پھیلی ہوئی ہے آگ کی دونوں طرف بہار
منصور کیسے آج یہ زیبِ گلو ہوں میں
منصور آفاق

پانیوں پر خرام کرلوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 332
آسماں ہم کلام کر لوں میں
پانیوں پر خرام کرلوں میں
تم گلی سے سنا ہے گزرو گے
گھر میں کچھ اہتمام کرلوں میں
چاہتا ہوں کہ سایۂ گل میں
دھوپ اپنی تمام کرلوں میں
پھر کریں گے بہار کی باتیں
پہلے تھوڑاسا کام کرلوں میں
تیرے رخسار سے چرا کے شفق
سرخ رو اپنی شام کرلوں میں
بخش اتنی اجازتیں منصور
تیرے دل میں قیام کرلوں میں
منصور آفاق

جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 331
پڑھتا رہا ہوں قیس کا نوحہ فراق میں
جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں
دو موم بتیاں تھیں ، ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں
میں باندھ باندھ دیتا تھا کھونٹے سے اپنا آپ
وحشت کامجھ پہ ایسا تھا غلبہ فراق میں
جس میں بھری ہو نیند سے مری سلگتی آنکھ
دیکھا نہیں ہے میں نے وہ عرصہ فراق میں
شاید مرا لباس تھا وہ دلربا وصال
میں دیکھتا تھا خود کو برہنہ فراق میں
منصوراُس چراغِ بدن سے وصال کا
آسیب بن گیا تھا ارادہ فراق میں
منصور آفاق

رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 330
کرتا ہوں اپنے آپ سے جھگڑا فراق میں
رہتا نہیں ہوں دوستو اپنا فراق میں
میں دیکھتا ہوں تیرے خدو خال کے چراغ
آئینہ دیکھتا ہے تماشا فراق میں
بڑھتی ہے اس کے صحن میں آشفتگی مری
کرتا ہوں چاند رات کا پیچھا فراق میں
یاجانتے ہیں راستے یاجانتا ہوں میں
کیسے یہ ایک سال گزارا فراق میں
میں تو بناتا رہتا ہوں تصویرِخواب کی
تُو بول کیا ہے مشغلہ تیرا فراق میں
ساحل پہ دیکھتے ہیں کئی درد اور بھی
میں اور انتظار کا دریا فراق میں
منصور پھیربس وہی آنکھوں پہ دھجیاں
وہ یادگارِ دستِ زلیخا فراق میں
منصور آفاق

ٹھیک رہتی ہیں ثوابوں کی کتابیں شلیف میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 329
باندھ کر رکھ آسمانوں کی طنابیں شلیف میں
ٹھیک رہتی ہیں ثوابوں کی کتابیں شلیف میں
سوچتی ہیں کس طرح تھے تیرے پیکر کے خطوط
میری بھیجی تین شرٹیں ، دو جرابیں شلیف میں
آتی صدیوں کے لئے کچھ تو مرے کاٹج میں ہو
میں نے آنکھوں سے چرا کر رکھ دیں خوابیں شلیف میں
میز پر تیرے کرم کی نرم آتش چاہئے
رہنے دے اپنی کہن سالہ شرابیں شلیف میں
بس کے اسٹاپوں پہ چپ ہیں دکھ کتابیں کھول کر
فائلیں ہیں راستوں میں اور جابیں شلیف میں
کچھ سوالوں کی بلند آہنگ سچائی کی خیر
سب دبے لہجے کی رکھ دی ہیں جوابیں شلیف میں
وقت کی دیمک ترے کچھ حاشیوں کے ساتھ ساتھ
درج ہیں تاریخ کی ساری خرابیں شلیف میں
منصور آفاق

تخلیق کرناملک ہے مرضی کا دیس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 328
نقشہ بنا نا ہے نئی دھرتی کا دیس میں
تخلیق کرناملک ہے مرضی کا دیس میں
ڈاکوہوئے امیر تو مفلس غریب چور
عفریت ہے حرام پرستی کا دیس میں
لوگوں نے رکھ لیا ہے اندھیرے کا نام صبح
ہو گا کہاں ظہور سفیدی کا دیس میں
کب تن پہ کپڑے ہونگے کب سر پہ ہو گی چھت
کب ختم ہو گا مسئلہ روٹی کا دیس میں
زینہ بہ زنیہ جاتے ہیں پاؤں فلک کی سمت
اک سلسلہ ہے دھند کی سیڑھی کا دیس میں
پستی کی انتہا پہ مسافر پہنچ گئے
اک راستہ عجب تھابلندی کا دیس میں
کیکر کے پھول دارپرانے درخت کا
پھر سے مقابلہ ہے چنبیلی کا دیس میں
منصور لکھ’’جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
منظر وہی ہے غالب و دہلی کا دیس میں
منصور آفاق

ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 327
تم نے کھینچا وہ افسون ہر دور میں
ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں
صبحِ جمہوریت کے اجالوں پہ بس
تم نے مارا ہے شب خون ہر دور میں
نور و نکہت پہ طاقت سے نافذ ہوا
ظلمتِ شب کا قانون ہر دور میں
بس لہو فاختہ کا گرایا گیا
اور کٹی شاخِ زیتون ہر دور میں
زندگی چیختی اور سسکتی رہے
ہے یہی کارِ مسنون ہر دور میں
ملتی لوگوں کو منصور روٹی نہیں
اور فیاض قارون ہر دور میں
منصور آفاق

حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 326
افسردگی کی پھیلتی جھاڑی تھی اور میں
حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں
ضد میں تھا کہ پہنچنا ہے بس دوسری طرف
ناقابل عبور پہاڑی تھی اور میں
بے سمت جا رہا تھا بہت ہی سپیڈ میں
پچھلا پہر تھا رات کا، گاڑی تھی اور میں
پہنے ہوئے تھاکوئی فقیرانہ سا لباس
اس کے بدن پہ قیمتی ساڑھی تھی اور میں
منصور سرد و گرم چشیدہ تھا ہجر میں
وہ بزمِ عاشقاں میں اناڑی تھی اور میں
منصور آفاق

اسمِ اللہ کا تصور اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 325
بے کرانی ، نور سے پُر اور میں
اسمِ اللہ کا تصور اور میں
دور تک حسنِ عدم آباد میں
لامکانی کا تحیر اور میں
منحرف دنیا سے ، اللہ سے وصال
ذکرِ سری کا تاثر اور میں
اک سمندر نور کا پھیلا ہوا
اک سکوت آور تغیر اور میں
اک الوہی ریت پر الہامِ شام
یخ ہوا کا نرم سا سُر اور میں
ہیں مقابل چشمِ باہو کے طفیل
نفس کا جرمِ تکاثر اور میں
منصور آفاق

انتظارِ خوابِ احمد اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 324
نیند کا اک سبز گنبد اور میں
انتظارِ خوابِ احمد اور میں
ذات کی پہچان کا پہلا سفر
منزلِ حیرت کی سرحد اور میں
ساحلِ دل کی ملائم ریت پر
نقشِ پا کی چشم اسود اور میں
لیلیٰ اظہار کے گل پوش لب
نغمۂ اسمِ محمدﷺ اور میں
جذبہ ء تخلیق کی سر جوشیاں
سوچ کا پر نور معبد اور میں
لاکھ روشن کائناتوں کے ا میں
اک شعورِ ذات کی حد اور میں
قریہ ء ادراک کی جلتی زمیں
ایک سایہ دار برگد اور میں
محرمِ لاہوت کی وسعت میں گم
بوعلی، منصور، سرمد اور میں
منصور آفاق

ایک مرحوم آدمی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 323
غم کی تقریبِ ملتوی اور میں
ایک مرحوم آدمی اور میں
اک پہاڑی درے میں مل بیٹھے
شہر والوں کا ایلچی اور میں
اپنا ماضی تلاش کرتے ہیں
تیری آنکھوں میں زندگی اور میں
بات کرتی ہوئی اندھیرے سے
ایک لڑکی حرام کی اور میں
اپنی بستی کے گارہاہوں گیت
اینٹ سے اینٹ بج چکی اور میں
پڑھ رہا ہوں کتابِ دل منصور
وقت کی آنکھ لگ گئی اور میں
منصور آفاق

تیرا وعدہ تری گلی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 322
آخرِ شب کی بے کلی اور میں
تیرا وعدہ تری گلی اور میں
دل سے اٹھتے ہوئے دھویں کے قریب
ایک لکڑی سی ادھ جلی اور میں
منتظر ہیں جنابِ جبرائیل
گفتگو میں مگن علی اور میں
رات کو کاٹتے ہیں چاقو سے
شہر کی ایک باولی اور میں
شام کے ساتھ ساتھ بہتے تھے
ایک سپنے میں سانولی اور میں
عارض و لب کی دلکشی اور لوگ
ایک تصویر داخلی اور میں
حاشیوں سے نکلتا اک چہرہ
چند ریکھائیں کاجلی اور میں
منصور آفاق

تازہ چھلکوں کی دلکشی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 321
اک لباسِ نمائشی اور میں
تازہ چھلکوں کی دلکشی اور میں
ایک اجڑی ہوئی گلی میں چپ
کچھ پرانے رہائشی اور میں
جانے کس سمت چلتے جاتے ہیں
قبر سی رات، خامشی اور میں
خاک کی جستجو میں پھرتے ہیں
ایک اڑتا ہوا رشی اور میں
نامراد آئے کوچہء جاں سے
میرا ہر اک سفارشی اور میں
اپنے اپنے محاذ پر منصور
ایک ملعون سازشی اور میں
منصور آفاق

اک تھکی ہاری اونٹنی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 320
ریگِ صحرا کی سنسنی اور میں
اک تھکی ہاری اونٹنی اور میں
تیرے نقش قدم کی کھوج میں ہیں
آج بھی تھل میں چاندنی اور میں
تیرا کمرہ، دہکتی انگیٹھی
برف پروردہ روشنی اور میں
چند فوٹو گراف آنکھوں کے
دیکھتے ہیں شگفتنی اور میں
لائٹیں آف، لائنیں انگیج
ایک کمرے میں کامنی اور میں
گنگ بیٹھا ہوا ہوں پہروں سے
ایک تصویر گفتنی اور میں
منصور آفاق

رو رہے ہیں سرائیکی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 319
مائی بھاگی کی گائیکی اور میں
رو رہے ہیں سرائیکی اور میں
مسکراہٹ سے کانپ جاتے ہیں
میری افسردہ سائیکی اور میں
آم کے پیڑ لے کے پھرتا ہوں
ایک کوٹھی کرائے کی اور میں
کتنے کپڑوں کے جوڑے لے آیا
اس نے دعوت دی چائے کی اور میں
زلف کی دوپہر کے سائے میں
شام عبرت سرائے کی اور میں
کتنی صدیوں سے ہوں تعاقب میں
ایک آواز سائے کی اور میں
منصور آفاق

لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 318
ریت کی شال پہ بھیگا ہوا ساجن اور میں
لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں
تھا یہ اندیشہ کہ سبقت نہ کرے موت کہیں
کچھ اسی واسطے جلدی میں تھے دشمن اور میں
شہرِ لاہور میں داتا کی گلی کے باہر
ایک مٹیار کا ہوتا ہوا درشن اور میں
نیپ ریکارڈ پہ بجتا ہوا غمگین نغمہ
رات کی کالی اداسی ،مرا انگن اور میں
شور برپا تھا بلائیں تھیں فضا میں منصور
آمنے سامنے جیسے تیرا جوبن اور میں
منصور آفاق

رو پڑے میری کافری اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 317
آسماں کی برابری اور میں
رو پڑے میری کافری اور میں
چار سو ہیں دعا کے گلدستے
بیچ میں آخری جری اور میں
لفظ کی بے بسی کی بستی میں
چشم و لب کی سخن وری اور میں
اپنی اپنی تلاش میں گم ہیں
عمر بھر کی مسافری اور میں
مر گئے اختتام سے پہلے
اک کہانی تھی متھ بھری اور میں
کچھ نہیں بانٹتے تناسب سے
میرا احساس برتری اور میں
ایک فیری کے خالی عرشے پر
رقص کرتی تھی جل پری اور میں
فہمِ منصور سے تو بالا ہے
یہ تری بندہ پروری اور میں
منصور آفاق

پھر مصلیٰ پہ ہیں خدا اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 316
اک پرانا برآمدہ اور میں
پھر مصلیٰ پہ ہیں خدا اور میں
جس میں ساقی ہیں حضرت اِ قبال
وہی رومی کا میکدہ اور میں
کیا کنارِ ابد کلام کریں
وہ ازل زاد کج ادا اور میں
کوہ سے آرہے ہیں بستی میں
ایک بہتی ہوئی ندا اور میں
آقائے دو جہاں ﷺ کی حرمت پر
میرے ماں باپ بھی فدا اور میں
آسماں سے ابھی ابھی منصور
اطلاعاتِ آمدہ اور میں
منصور آفاق

پہنچا تاخیر کی طرح میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 315
اڑتی تصویر کی طرح میں
پہنچا تاخیر کی طرح میں
خالی میدان میں پڑا تھا
ٹوٹی شمشیر کی طرح میں
اس کی بک شیلف میں رکھا تھا
دیوانِ میر کی طرح میں
گھر کا رستہ بتا رہا تھا
خود کو اک تیر کی طرح میں
اس کے ہاتھوں میں بولتا تھا
خط کی تحریر کی طرح میں
منصور آفاق

خلوصِ زر لٹاتی جائے شہزادی محبت میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 314
بڑی سیدھی محبت میں بڑی سادی محبت
خلوصِ زر لٹاتی جائے شہزادی محبت میں
اسے دیوارِ جاں پر کوئی آویزاں کرے کیسے
کہ ہے تصویر کا ہر نقش فریادی محبت میں
نظر میں وصل کی قوسِ قزح ہے ،پاؤں میں بادل
سنورتی جاتی ہے پھولوں بھری وادی محبت میں
سنا ہے اپنے گھر کے بام و در تک پھونک آیا ہوں
جہاں تک مجھ سے ممکن تھا ،کی بربادی محبت میں
تیرے بالوں میں میرے انگلیوں کے تار لزراں ہوں
بس اتنی چاہئے منصور آزادی محبت میں
منصور آفاق

ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 313
پھول کا ایک حوالہ ہوا میں
ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں
آنکھ سے دیکھنے والے ہوئے تم
روح سے دیکھنے والا ہوا میں
چن لئے وقت نے موتی میرے
ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہوا میں
اس نے مٹی میں دبا رکھا ہے
سکہ ہوں سونے سے ڈھالا ہوا میں
مجھ میں چہکار پرندوں کی ہے
صبح کا سرد اجالا ہوا میں
لوٹ کر آیا نہیں ہوں شاید
گیند کی طرح اچھالا ہوا میں
پیشوائی کیلئے دنیا اور
اپنی بستی سے نکالا ہوا میں
زندگی نام ہے میرا منصور
موت کا ایک نوالہ ہوا میں
منصور آفاق

پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 312
دریچوں سے سیہ پردوں کو سرکاتا ہوا میں
پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں
وہی ہوں میں مجھے پہچان دن کی روشنی میں
وہی تیرے مسلسل خواب میں آتا ہوا میں
کسی منہ زور تتلی کا تعاقب کر رہا ہوں
یہ خوشبو کی طرح پھولوں میں چکراتا ہوا میں
تمنا ہے رہوں جاگیر میں اپنی ہمیشہ
زمیں پر گفتگو کے پھول مہکاتا ہوا میں
جہاں کوکس لئے منصوردیتا ہوں دکھائی
کہیں آتا ہوا میں اور کہیں جاتا ہوا میں
منصور آفاق

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق

ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 310
اس واسطے یہ شدتیں پھرتی ہیں پیاس میں
ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں
سبزے پہ رنگ آتے ہیں جاتے ہیں عصر سے
شاید چھپی ہوئی کوئی تتلی ہے گھاس میں
میں کر چکا ہوں اس سے ملاقات کتنی بار
آتا نہیں کسی کے جو پانچوں حواس میں
سرکار کا نہ نام لو اے واعظانِ شہر
موتی جڑے ہوئے ہیں تمہارے لباس میں
لایحزنُ کے ساز کو چھیڑو کہ ان دنوں
لپٹا ہوا ہے عہد ہمارا ہراس میں
آنکھوں سے اشک بن کے بہی ہیں عقیدتیں
محصور ہو سکیں نہ گمان و قیاس میں
تیرے حسیں خیال کی ڈھونڈیں نزاکتیں
تاروں کے نور میں کبھی پھولوں کی باس میں
طیبہ کی مے تو دشمنِ عقل و خرد نہیں
ہم لوگ پی کے آئے ہیں ہوش و حواس میں
عریاں ہے پھول چنتی کہیں زندگی کا جسم
منصور گم ہے گوئی سراپا کپاس میں
منصور آفاق

جائز ہوئی دھمال شبِ امتناع میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 309
اس نے لئے الاپ وہ بزمِ سماع میں
جائز ہوئی دھمال شبِ امتناع میں
دنیا کی خوبروئی ہے میرے طلسم سے
میرے علاوہ کیا ہے فلک کی متاع میں
بگلا کوئی اکیلا کھڑا تھا مری طرح
مرغابیوں کے ایک بڑے اجتماع میں
یہ جرم ہے تو اس کو کروں گا میں بار بار
کہنا یہی ہے میں نے بس اپنے دفاع میں
لکھی تھیں میرے حسنِ نظر کی کہانیاں
منصور آفتاب کی پہلی شعاع میں
منصور آفاق

میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 308
باقی سب چیزیں تو رکھی ہیں اٹیچی کیس میں
میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں
زندگی کی دوڑ ہے اور دوڑنا ہے عمر بھر
شرط گھوڑا جیت سکتا ہی نہیں ہے ریس میں
رقص کرتی لڑکیاں میوزک میں تیزی اور شراب
نیکیاں ملتی ہیں مجھ سے کیوں بدی کے بھیس میں
میں برہنہ گھومتا تھا ہجر کی فٹ پاتھ پر
رات جاڑے کی اکیلی سو گئی تھی کھیس میں
کیوں بدلتا جا رہا ہے روح کا جغرافیہ
کون سرحد پار سے آیا بدن کے دیس میں
منصور آفاق

سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 307
سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں
سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں
تجھ ایسی نرم گرم کئی لڑکیوں کے ساتھ
میں نے شبِ فراق ڈبو دی شراب میں
آنکھیں ، خیال، خواب، جوانی، یقین، سانس
کیا کیا نکل رہا ہے کسی کے حساب میں
قیدی بنا لیا ہے کسی حور نے مجھے
یوں ہی میں پھر رہا تھا دیار ثواب میں
مایوس آسماں ابھی ہم سے نہیں ہوا
امید کا نزول ہے کھلتے گلاب میں
دیکھوں ورق ورق پہ خدوخال نور کے
سورج صفت رسول ہیں صبحِ کتاب میں
سیسہ بھری سماعتیں بے شک مگر بڑا
شورِ برہنگی ہے سکوتِ نقاب میں
منصور آفاق

کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 306
کون ٹینس کھیلتی جاتی تھی وجد و حال میں
کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں
جانے کس نے رات کا خاکہ اڑایا اس طرح
چاند کا پیوند ٹانکا اس کی کالی شال میں
ایک کوا پھڑ پھڑا کر جھاڑتا تھا اپنے پر
تھان لٹھے کے بچھے تھے دور تک چترال میں
لوگ مرتے جا رہے تھے ساحلوں کی آس پر
ناؤ آتی جا رہی تھی پانیوں کے جال میں
کوئی پتھر کوئی ٹہنی ہاتھ آتی ہی نہیں
گر رہا ہوں اپنے اندر کے کسی پاتال میں
جن گناہوں کی تمنا تنگ کرتی تھی مجھے
وہ بھی ہیں تحریر میرے نامہء اعمال میں
میں نے یہ منصور دیکھا اس سے مل لینے کے بعد
اپنی آنکھیں بچھ رہی تھیں اپنے استقبال میں
منصور آفاق

اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 305
گم تھے سرگم لاکھ اس کے چہرہ ء معصوم میں
اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں
رات کے بستر پہ خالی جسم اپنا پھینک کر
روح پھر رہنے چلی ہے ماضی ء مرحوم میں
ایک فوٹو پر اچانک پڑ گئی میری نظر
اور میں بہتا گیا پھر نغمۂ کلثوم میں
بن رہی ہیں ہر قدم پر رات کا اک دائرہ
اک تھکے سورج کی کرنیں قریۂ معدوم میں
چار بھیڑیں ایک بکری ایک گائے ایک میں
اور رکھوالی کو چرواہی شبِ مخدوم میں
جل پری آگے بڑھی شوقِ وصال انگیز سے
اور میں لوٹ آیا یکدم ساعتِ معلوم میں
دل دھڑکتا جا رہا ہے دیکھئے منصور کا
اک تھکی ہاری غزل کے پیکرِ منظوم میں
منصور آفاق

مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 304
گھلی تھی ایک ویراں چرچ کی گھمبیر تا رب میں
مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں
خدا جانے کہانی کار کتنا دلربا ہو گا
عجب رومان پرور لمس کی دھڑکن ہے مذہب میں
مجھے اکثر وہ ہجراں کی سیاہی میں دکھائی دی
سلگتے گھاؤ کی صورت ہے کوئی سینہء شب میں
خدا کے قید خانے سے کوئی باہر نہیں نکلا
اگرچہ ہے بلا کی قوتِ پرواز ہم سب میں
ازل کی شام سے آنکھیں کسی کی خوبصورت ہیں
رکا ہے وقت صدیوں سے کسی کے عارض و لب میں
منصور آفاق

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق

فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 302
مر گئے ہم، برت ورت کر لیں
فاتحہ پڑھ لیں ، تعزیت کر لیں
خواب دفنا کے لوٹ آئے ہیں
اب دعا ہائے مغفرت کر لیں
دائرے میں برے شگون کے، ہم
کیسے معلوم اک جہت کر لیں
کس طرف دوستوں کی منزل ہے
کچھ ہوا سے مشاورت کر لیں
گر چکی ہے زمین پیچھے سے
کس طرح ہم مراجعت کر لیں
من و سلویٰ کی کیا تمنا میں
آسماں سے مفاہمت کر لیں
روگ بنتے ہوئے تعلق سے
یہی بہتر ہے معذرت کر لیں
کوچۂ یار کی مسافت میں
طے حدودِ مسافرت کر لیں
وصل میں اِس لباسِ اطلس کی
ہم ذرا سی مخالفت کر لیں
بے تحاشا کیا ہے خرچ اسے
اب تو دل کی ذرا بچت کر لیں
یہ بھی صورت ہے اک تعلق کی
ہجر سے ہی مطابقت کر لیں
ڈھنگ جینے کا سیکھ لیں ہم بھی
وقت سے کچھ مناسبت کر لیں
طور بھی فتح کر لیں جلوہ بھی
کچھ وسیع اور سلطنت کر لیں
اس نظر کے فریب سے نکلیں
دل سے بھی کچھ مخاصمت کر لیں
کب کہا ہے زبان بندی کا
کلکِ ناخوردہ صرف قط کر لیں
کاٹ دیں راستے، گرا دیں پل
رابطوں سے مفارقت کر لیں
پوچھ لیں کیا کریں مسائل کا
کچھ خدا سے مراسلت کر لیں
جا بسیں قیس کے محلے میں
اک ذرا اپنی تربیت کر لیں
ظلم کا ہے محاصرہ منصور
آخری اب مزاحمت کر لیں
منصور آفاق

کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 301
اداسی پیش کریں اضطراب پیش کریں
کسی کو کیا دلِ خانہ خراب پیش کریں
طلائی طشتِ جواہر کے بیچ میں رکھ کر
خیال گاہِ محبت میں خواب پیش کریں
بتائیں کیسے کہ کس کس جگہ مراسم تھے
گذشتہ عمر کا کیسے حساب پیش کریں
کسی طرح اسے اپنے قریب لے آئیں
ملازمت کا کہیں کوئی جاب پیش کریں
طوافِ کوچہ ء جاناں سے جو ملامنصور
چلو وہ شہر کو حج کا ثواب پیش کریں
منصور آفاق

جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 300
اب کوئی اورخدا کعبہ میں آباد کریں
جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں
اتنی بے رحم سلگتی ہوئی تنہائی میں
در کوئی ہے جہاں انصاف کی فریاد کریں
زندگی اور خدا دونوں بڑے تیزمزاج
کس کو ناشاد کریں اور کسے شاد کریں
شب کی تعمیر گرانا کوئی آساں تو نہیں
تھک نہ جائے کہیں آ وقت کی امداد کریں
ہے ازل ہی سے وفا اپنے قبیلے کی سرشت
کیا گلہ تجھ سے ترے خانماں برباد کریں
روک کر ہاتھ سے خورشید کی گردش منصور
وقت کی قید سے آفاق کو آزاد کریں
منصور آفاق

آسماں معتبر کیے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 299
ذہن میں جمع ڈر کیے جائیں
آسماں معتبر کیے جائیں
جتنے لمحے بھی ہو سکیں ممکن
روشنی میں بسر کیے جائیں
پھول جیسے قلم قیامت ہیں
وار ، تلوار پر کیے جائیں
موسم آنے پہ باغ میں روشن
قمقموں سے شجر کیے جائیں
آسمانوں کو جاننے کے لیے
اپنے پاتال سر کیے جائیں
حیف ! بدنامیاں محبت میں
چاک سب پوسٹر کیے جائیں
وقت کے سائیکل پہ ہم منصور
اک کنویں میں سفر کیے جائیں
منصور آفاق

نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 298
خاک پر آسماں ہوئے جائیں
نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں
دل نے خوشبو کشید کرلی ہے
ہم کہاں رائیگاں ہوئے جائیں
تتلیوں کے پروں پہ لکھے ہم
وقت کی داستاں ہوئے جائیں
گفتگو کی گلی میں ہم اپنی
خامشی سے عیاں ہوئے جائیں
مسجدِ دل کی خالی چوکھٹ پر
ہم عشاء کی اذاں ہوئے جائیں
اُس مکیں کی امید پر منصور
ہم سراپا مکاں ہوئے جائیں
منصور آفاق

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 297
تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لیے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں
خوبصورت بھی، اکیلی بھی، پڑوسن بھی ہے
لیکن اک غیر سے کیاملنے ملانے لگ جائیں
نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں
پل کی ریلنگ کو پکڑ رکھا ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں
منصور آفاق

اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 296
آنکھ بنو تم اور ہم منظر بن جائیں
اور وہیں پھر دونوں پتھر بن جائیں
ان پیروں سے کیسے گریزاں منزل ہو
جو آپ ہی رستہ آپ سفر بن جائیں
جن لوگوں کے بیج کجی سے نکلے ہوں
وہ کیسے سایہ دار شجر بن جائیں
گھل جائیں لہروں میں ایک سمندر کی
ریت پہ پھیلی دھوپ کی چادر بن جائیں
مار کے سورج کے سینے میں طنز کے تیر
خود نہ کہیں ہم ایک تمسخر بن جائیں
جنس کے بینر لٹکائیں بازاروں میں
اور فرائیڈ سے دانش ور بن جائیں
جو موجود نہیں تقویم کے اندر بھی
ان تاریخوں کا کیلنڈر بن جائیں
کچھ یاروں کی لاشیں گل سڑ جائیں گی
بہتر ہے منصور فریزر بن جائیں
منصور آفاق

شام کے شعلے بھی گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 295
شعر کچھ موت پر کہے جائیں
شام کے شعلے بھی گنے جائیں
اس سے، آٹو گراف بک پہ نہیں
دستخط ہاتھ پر لیے جائیں
رفتگاں کا خیال آتا ہے
روح سے رابطے کئے جائیں
ہم کوگوتم بھی زخم دیتا ہے
شاردا سے کہاں پرے جائیں
پانیوں کو زمیں پہ آنا ہے
جتنی اونچائی پر چلے جائیں
دو وجودوں کی ایک آہٹ سے
خواب کچھ ریت پر بنُے جائیں
بانسری کی سریں کہیں منصور
گیت دریا کے بھی سنے جائیں
منصور آفاق

اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 294
مرتے ہوئے سورج پر دو شعر کہے جائیں
اِس بجھتی چتا کے بھی شعلے تو گنے جائیں
گل کرتا ہوں اب شمعیں ا ے قافلے والومیں
جو چاہتے ہیں جانا ،وہ لوگ چلے جائیں
چل سندھ کے ساحل پرہر موجہ ء طوفاں میں
دریا کے مغنی سے کچھ گیت سنے جائیں
پھر پائے محمدﷺکے مصحف کی تلاوت ہو
پھر نقشِ کفِ پا کے الہام پڑھے جائیں
سو زخم اثاثہ ہوں اک پاؤں دھروں جب بھی
خنجر مرے رستے میں اس طرح چنے جائیں
ہم دار ستادوں سے منصور نہیں ممکن
جس سمت زمانہ ہو اس سمت بہے جائیں
منصور آفاق

کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 293
مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں
تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی
پہاڑ مجھ سے محبت کریں تو پھٹ جائیں
ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں
میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں
اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں
زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں
چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں
گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں
اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں
ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں
مرا تو مشورہ اتنا ہے صاحبانِ قلم
قصیدہ لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں
وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں
منصور آفاق

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 291
ایک جیسی روشنی ہو، لامکانوں میں دیے ہوں
سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں
قمقمے ہوں پانیوں میں جگمگائیں شاہراہیں
شہر ہوں تہذیب گاہیں ، گلستانوں میں دیے ہوں
فکرِ مال وزر بدل دے ،آگہی کے در بدل دے
یہ نظامِ شربدل دے،درس خانوں میں دیے ہوں
اب نہ غربت ہو کہیں بس،دے مساواتِ حسیں بس
روٹی کپڑا ہی نہیں بس،سب مکانوں میں دیے ہوں
ایک ازلوں کی کہاوت ،بھوک اور رج میں عداوت
ظلم طبقاتی تفاوت ،سب خزانوں میں دیے ہوں
سندھ دریا کی ہوں نظمیں اور روہی کی ہوں بزمیں
جگنوئوں کے حاشیے ہوں ، آسمانوں میں دیے ہوں
دے بسروچشم سب کو موت لیکن دیکھ اتنا
لوگ جیون میں جیے ہوں ،آشیانوں میں دیے ہوں
لفظ سچا ہی نہ ہو بس ،نام اچھا ہی نہ ہو بس
کام اچھے بھی کیے ہوں سب گمانوں میں دیے ہوں
رات تاروں کیلئے ہو چاند ساروں کے لیے ہو
نور کی منصور شب ہو داستانوں میں دیے ہوں
منصور آفاق

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق

میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 289
میں عشق میں ہوں خاموش رہو میں عشق میں ہوں
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں
اے شعلۂ گل کے سرخ لبوں کی شوخ شفق
چپ چاپ رہو آوازنہ دو میں عشق میں ہوں
اے صحن چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
مت پھولوں کے اب ہار پُرو میں عشق میں ہوں
آوازنہ دے اب کوئی مجھے چپ رنگ رہیں
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں
ہے تیز بہت یہ آگ لہو کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بیباک نہ ہو میں عشق میں ہوں
ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم و ستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں
اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں
منصور اسے یہ کہہ کر رو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 288
اے کوچہ ء دل کے بخت ورو میں عشق میں ہوں
اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں
تم شہر کی سب دیوار وں اورپوشاکوں پر
دل پینٹ کرو تصویر گرو میں عشق میں ہوں
بازار کی ساری رقاصاؤ گلیوں میں
اب ڈھول بجا کر رقص کرو میں عشق میں ہوں
کچھ رنگِچراغاں اور کرو کچھ اور کرو
کچھ سرخ غبارے اور بھرو میں عشق میں ہوں
اب ہاتھ بڑھاکر سب کے گربیاں چاک کرو
اب زور سے تم منصور کہو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

پڑا ملنگِ علی کے دلِ فراغ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 287
جہاں ازل بھی ابد بھی ،اک ایسے باغ میں ہوں
پڑا ملنگِ علی کے دلِ فراغ میں ہوں
میں جاودانی کا پانی ، میں جرعہِ آبِ حیات
یہ اور بات کہ ٹوٹے ہوئے ایاغ میں ہوں
ستارہ ، قمقمہ ، جگنو ، دیا ہے میرا نام
میں کائناتِ سیہ کے ہر اک داغ میں ہوں
مری طرف بھی نظر کر ، مجھے بھی دیکھ کہ میں
ترے مزار کے جلتے ہوئے چراغ میں ہوں
اندھیرے خوف زدہ ہیں مری شہادت سے
کھٹکتا رہتا سدا رات کے دماغ میں ہوں
میں دوپہر کے تسلسل کا سوختہ منصور
چراغ لے کے کسی رات کے سراغ میں ہوں
منصور آفاق

میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 286
گلی کے موڑ پہ ٹھہری ہوئی بہار میں ہوں
میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں
مرے مزاج میں ہرجائی پن ہی آنا تھا
مقیم روزِ ازل سے میں کوئے یار میں ہوں
تمہارے تاج محل سے جو پے بہ پے ابھرے
میں خستہ بام انہی زلزلوں کی مار میں ہوں
ہے آنے والے زمانوں پہ دسترس لیکن
میں اپنے ماضی ء مرحوم کے جوار میں ہوں
تمہارا پوچھتے رہتے ہیں لوگ مجھ سے بھی
یہی بہت ہے کہ میں بھی کسی شمار میں ہوں
جو مجھ پہ اٹھی تھی لطف و کرم میں بھیگی ہوئی
اُس اک نظر کے مسلسل ابھی خمار میں ہوں
میرا مقام یہ اہل خرد کہاں جانیں
سوادِ حسنِ نظرمیں ، نواحِ یار میں ہوں
مرے سوا جو کسی اور کا نہ ہو منصور
اک ایسے شخص کے برسوں سے انتظار میں ہوں
منصور آفاق

زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 285
اپنے جینے کے فوائد کچھ تو ہوں
زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں
میرے گیتوں کو پہن لو تتلیو!
پھول میرے بھی مقلد کچھ تو ہوں
کوئی اچھا کام کرنا چاہتا ہوں
شہر میں میرے بھی حاسد کچھ تو ہوں
جن کی جنگیں زندگی کے واسطے
ایسے بھی تیرے مجاہد کچھ تو ہوں
تیرے قبضے میں زمین و آسماں
کچھ اِ دھر بھی ذاتِ واحد! کچھ تو ہوں
اس کی آنکھیں تیغ تیورہی سہی
قتل کے لیکن شواہد کچھ تو ہوں
لرزہ بر اندام جن سے دیوتا
ایسے منکر ایسے ملحد کچھ تو ہوں
کچھ تو ہوں منصور باتیں دین کی
نور پھیلاتے عقائد کچھ تو ہوں
منصور آفاق

کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 284
میں کوئی اداس سکوت ہوں میں کسی بروگ کی چیخ ہوں
کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں
کہیں ٹوٹ پھوٹ نہ جائے وہ مجھے آسمان کا خوف ہے
کوئی آہ ہوں میں فقیر کی ،کسی’ اللہ لوگ‘ کی چیخ ہوں
مرے صحنِ دل میں پڑی ہوئی بڑی خوفناک سی شام ہے
کوئی بین ہوں کسی رات کا کسی تازہ سوگ کی چیخ ہوں
کبھی حسرتوں کے زبان سُن کبھی اشک و آہ کی تان سُن
کبھی بھیرویں کا الاپ میں کبھی راگ جوگ کی چیخ ہوں
کبھی گفتگو کروں نرگ سے کبھی بات چیت سورگ سے
کوئی ڈائیلاگ ہوں کشف کا،میں کسی ابھوگ کی چیخ ہوں
منصور آفاق

یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 283
دل نہیں مانتا میں پھرتجھے چھوڑ آیا ہوں
یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں
پاؤں پتھر تھے پہاڑوں کی طرح لگتے ہیں
سچ یہی ہے تری خاطر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہاں بھول گیا تھا مجھے رکھ کر جاناں
میں اسی جگہ پہ آخر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہنم کی گلی میں مجھے چھوڑآیا تھا
میں تو جنت میں مسافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
جتنا ممکن تھا ترا ساتھ دیا ہے لیکن
آخرش میں بھی اے کافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
منصور آفاق

پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 282
تم ایسے لوگوں کا رستہ میں چھوڑ دیتا ہوں
پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں
میں اس مقام پہ پہنچا ہوں عشق میں کہ جہاں
فراق و وصل کو آپس میں جوڑ دیتا ہوں
مجھے مزاج کی وحشت نے فتح مند رکھا
کہ ہار جاؤں تو سر اپنا پھوڑ دیتا ہوں
ابھی دھڑکتا ہے دل بھیڑیے کے سینے میں
ابھی غزال پکڑتا ہوں ، چھوڑ دیتا ہوں
ڈرا ہوا ہوں میں اپنے مزاج سے منصور
جو میری ہو نہ سکے، شے وہ توڑ دیتا ہوں
منصور آفاق

میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 281
زمانے سے بچھڑنا چاہتا ہوں
میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں
مقام صفر سے ملنے کی خاطر
کسی ٹاور سے گرنا چاہتا ہوں
لہومیں کالے کتے بھونکتے ہیں
کسی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں
یہ کیوں پستی سے کرتا ہے محبت
میں پانی کو سمجھنا چاہتا ہوں
کبھی وحشی مسائل سے نکل کر
تجھے کچھ دیر رونا چاہتا ہوں
ذرا اونچی کرو آواز اس کی
ہوا کی بات سننا چاہتا ہوں
میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی میں
بدن کا بورڈ پڑھنا چاہتا ہوں
پڑا ہوں بند اپنی ڈائری میں
کہیں پہ میں بھی کھلنا چاہتا ہوں
ازل سے پاؤں میں ہے ریل گاڑی
کہیں منصور رکنا چاہتا ہوں
منصور آفاق

اندھیرا ہے جہاں تک دیکھتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 280
زمیں سے آسماں تک دیکھتا ہوں
اندھیرا ہے جہاں تک دیکھتا ہوں
جہاں تک ذہن و دل کی دسترس ہے
میں منظر کو وہاں تک دیکھتا ہوں
یونہی صحرا کہاں دیتے ہیں خبریں
ہوا کے میں نشاں تک دیکھتا ہوں
پرندے کھیلتے ہیں تیلیوں میں
قفس سے آشیاں تک دیکھتا ہوں
بجز دل ہے کہاں منصور ٹھہرا
مکاں سے لامکاں تک دیکھتا ہوں
منصور آفاق

آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 279
در کوئی جنتِ پندار کا وا کرتا ہوں
آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں
رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم
وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں
وہ ترا، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا
یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں
پہلے خود آپ بناتا ہوں تماشا اپنا
پھر تماشائی کا کردار ادا کرتا ہوں
پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں
اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں
کبھی آنکھوں سے بھری راہ گزر مجھ پہ گراں
دشت پیمائی کبھی آبلہ پا کرتا ہوں
مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا
ننگے پاؤں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں
منصور آفاق

الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 278
عدم کو صفحہء ادراک پر بناتا ہوں
الاؤ سا خس و خاشاک پر بناتا ہوں
زمیں سے دور بناتا ہوں خاک کے چہرے
خدا بناؤں تو افلاک پر بناتا ہوں
مری زمین کی بنیاد میں شرارے ہیں
مکان سوختہ املاک پر بناتا ہوں
ستارہ لفظ تراشوں میں چاند تحریریں
اک آسمانِ ادب خاک پر بناتا ہوں
لہو کی بوندیں گراتا ہوں اپنے دامن سے
دلِ تباہ کو پوشاک پر بناتا ہوں
مرا وجود مکمل ابھی نہیں منصور
سو اپنے آپ کو پھر چاک پر بناتا ہوں
منصور آفاق

فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 277
میں رابطوں کے مکاں معتبر بناتا ہوں
فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں
اڑان دیکھ مرے آہنی پرندوں کی
مسیح میں بھی ہوں لوہے کے پر بناتا ہوں
فروغ دیدئہ ابلاغ کے وسیلے سے
یہ اپنے آپ کو کیا باخبر بناتا ہوں
خدا کی شکل بنانی پڑے گی کاغذ پر
میں اپنا باطنی چہرہ اگر بناتا ہوں
سمٹ گئے ہیں جہاں تو مرے ہتھیلی میں
سو اب میں ذات کے اندر سفر بناتا ہوں
یونہی یہ لفظ چمکتے نہیں اندھیرے میں
جلا جلا کے کتابیں شرر بناتا ہوں
نکل پڑے نہ زمانہ مرے تعاقب میں
سو نقش پا بھی بہت سوچ کر بناتا ہوں
بس ایک صرف سناتا ہوں آیتِ منسوخ
فروغ خیر سے تہذیبِ شر بناتا ہوں
مرے دماغ میں بس عنکبوت رہتے ہیں
میں وہم بنتا ہوں خوابوں میں ڈر بناتا ہوں
اکھیڑ دیتا ہوں نقطے حروف کے منصور
میں قوسیں کاٹ کے تازہ ہنر بناتا ہوں
منصور آفاق

تمہارے راستے میں روشنی ہو پھول ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 276
یہ دعا کے چند حرف بس قبول ہوں
تمہارے راستے میں روشنی ہو پھول ہوں
گرفت میں کائناتِ ذات کا خرام
تمہارے ذہن پر علوم کے نزول ہوں
لغاتِ کن فکاں کھلے تمہارے نام سے
کتابیں رازداں سخن سرا رسول ہوں
ہمیشہ ہم قدم رہے بہار رقص میں
اداس چاند ہو نہ گل رتیں ملول ہوں
وہاں وہاں پہ تم سے زعفران کھل اٹھیں
جہاں جہاں پہ خار ہوں ببول ہوں
ہوں منزلِ یقیں کے اونٹ دشتِ وقت میں
خیامِ صبر و انتظار باشمول ہوں
انہیں بھی دیکھنا ضمیرِ عالمین سے
دل و دماغ کے جو طے شدہ اصول ہوں
ہزار حاصلی سہی قیام ، موت ہے
سدا نئے سفر ، نئے حصول ہوں
رکو تو گردشیں رکیں طلسمِ چاک کی
چلو تو چاند تارے راستے کی دھول ہوں
بہشت ماں کی قبر ہوتمہارے کام سے
وہ فاطمہ تھی اس پہ مہرباں بتول ہوں
منصور آفاق

عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 275
میں لگا دوں آئینے گلیوں میں کیسے سینکڑوں
عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں
کم نہیں دکھ تیرے جانے کا مگر جانِ بہار
زخم میرے دل میں پہلے بھی ہیں ایسے سینکڑوں
اس کی آنکھوں نے کسے لوٹا ہے اس کو کیا خبر
اس کو رستے میں ملیں گے میرے جیسے سینکڑوں
روح کی حیرت زدہ آواز آتی ہی نہیں
وائلن کے تار لرزاں مجھ میں ویسے سینکڑوں
اک اکیلا تشنہ لب ہوں میں کنویں کے آس پاس
پھرتے ہیں منصور بے خود تیری مے سے سینکڑوں
منصور آفاق

ایک چہرے کے پسِ منظر میں چہرے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 274
پل صراطِ آسماں پر چل رہے تھے سینکڑوں
ایک چہرے کے پسِ منظر میں چہرے سینکڑوں
جمع ہیں نازل شدہ انوار کتنے شیلف میں
معجزے حاصل ہوئے لا حاصلی کے سینکڑوں
چاند پہ ٹھہرو، کرو اپنے ستارے پر قیام
رات رہنے کے لیے سورج پہ خیمے سینکڑوں
صفر سے پہلا عدد معلوم ہونا ہے ابھی
ہیں ریاضی میں ابھی موجود ہندسے سینکڑوں
میں کہاں لاہور بھر میں ڈھونڈنے جاؤں اسے
لال جیکٹ میں حسین ملبوس ہوں گے سینکڑوں
شہر کی ویراں سڑک پر میں اکیلا رتجگا
سو رہے ہیں اپنی شب گاہوں میں جوڑے سینکڑوں
مال و زر، نام و نسب، حسن و ادا، دوشیزگی
میں بڑا بے نام سا، تیرے حوالے سینکڑوں
کیوں بھٹکتی پھر رہی ہے میرے پتواروں کی چاپ
خامشی ! تیرے سمندر کے کنارے سینکڑوں
کوئی بھی آیا نہیں چل کر گلی کے موڑ تک
دیکھنے والوں نے کھولے ہیں دریچے سینکڑوں
منصور آفاق

مجھ میں پھر بھی دکھ کسی کے ہیں پنپنے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 273
میرے ساتھی میرے پیارے میرے اپنے سینکڑوں
مجھ میں پھر بھی دکھ کسی کے ہیں پنپنے سینکڑوں
اور کیا حاصل ہوا ہے روز و شب کی نیند سے
چند تعبیریں غلط سی اور سپنے سینکڑوں
یہ بھی میرا مسئلہ ہے لوگ اچھے کیوں نہیں
دکھ دیے ہیں رحم پروردہ تڑپ نے سینکڑوں
گل کیے پھر اپنے آسودہ گھروندوں کے چراغ
دو ممالک کی کسی تازہ جھڑپ نے سینکڑوں
رات کے دل میں لکھیں نظمیں بیاضِ صبح پر
بھاپ اٹھتی چائے کے بس ایک کپ نے سینکڑوں
منصور آفاق

دل شکستے جاں الستے سبز مستے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 272
چل پڑے دار و رسن کو ہنستے ہنستے سینکڑوں
دل شکستے جاں الستے سبز مستے سینکڑوں
یہ پہنچ جاتے ہیں کیسے خاکِ طیبہ کے غلام
آسمانوں تک بیک براق جستے سینکڑوں
روک سکتی ہیں یہ کانٹے دار باڑیں کیا مجھے
چلنے والے کے لیے ہوتے ہیں رستے سینکڑوں
میرے صحرا تک پہنچ پائی نہ بدلی آنکھ کی
تیرے دریا پر رہے بادل برستے سینکڑوں
دل کی ویرانی میں اڑتا ہے فقط گرد و غبار
کیسے ممکن تھا یہاں بھی لوگ بستے سینکڑوں
منصور آفاق

اے زمیں ! ترکِ تعلق کے بہانے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 271
روشنی کے، رنگ و بو کے آستانے سینکڑوں
اے زمیں ! ترکِ تعلق کے بہانے سینکڑوں
اک ترے بالوں کی وہ دو چار میٹر لمبی لٹ
اک ترے شاداب جوبن کے فسانے سینکڑوں
صبح تازہ دودھ جیسی رات قہوے کی طرح
روٹی جیسے چاند پر گزرے زمانے سینکڑوں
چھین کے گل کر دیے بامِ خیال و خواب سے
تیری یادوں کے دیے پاگل ہوا نے سینکڑوں
صرف تیرے قرب کا پل دسترس سے دور ہے
زندگی میں آئے ہیں لمحے سہانے سینکڑوں
منصور آفاق

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق

رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 269
وہ آنجہانی پاؤں وہ مرحوم ایڑیاں
رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں
ہر انچ دکھ پڑے ہیں گئی گزری دھول کے
ہر فٹ زمیں کے ماتھے کا مقسوم ایڑیاں
ہر روز تارکول کی سڑکیں بناتی ہیں
ہاری ہوئی پھٹی ہوئی محروم ایڑیاں
غالب تھا ہمسفر سو اذیت بہت ہوئی
کہتی ہیں دو اٹھی ہوئی مظلوم ایڑیاں
سنگیت کے بہاؤ پہ شاید صدا کا رقص
گوگوش کی سٹیج پہ مرقوم ایڑیاں
پیاسا کہیں فرات کا ساحل پڑا رہے
چشمہ نکال دیں کہیں معصوم ایڑیاں
چلنے لگے ہیں پنکھے ہواؤں کے دشت میں
ہونے لگی ہیں ریت پہ معدوم ایڑیاں
پاتال کتنے پاؤں ابھی اور دور ہیں
ہر روز مجھ سے کرتی ہیں معلوم ایڑیاں
لکھنے ہیں نقشِ پا کسی دشتِ خیال میں
تانبا تپی زمین ! مری چوم ایڑیاں
منصور میرے گھر میں پہنچتی ہیں پچھلی رات
اڑتی ہے جن سے دھوپ وہ مخدوم ایڑیاں
منصور آفاق

پانیوں میں تیرتی شاداب کومل بیریاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 268
یاد کی اک نہر پر وہسکی کی بوتل بیریاں
پانیوں میں تیرتی شاداب کومل بیریاں
دیکھتا ہوں دھوپ کی جلتی چتا کے آس پاس
سائباں ، دیوار ، چھتری، زلف، بادل ، بیریاں
ایک دھاگوں سے بھری تعویز در تعویز رات
گہرے پرآسیب سائے ، خوف سے شل بیریاں
اب تو ڈھیلے پھینکتے لڑکے سے کہہ دو ہنس پڑے
خود ہی تھل کی جھک گئی ہیں پھل سے بوجھل بیریاں
تیز ہو جائے ہوا تو شرٹ اپنی کھول دیں
گرمیوں کے سر پھرے موسم کی پاگل بیریاں
چاہتی ہیں کوئی پتھر مارنے والابھی ہو
اپنے جوبن پر جب آجاتی ہیں کومل بیریاں
جن کے آنچل میں گزار آئے بدن کی دو پہر
یاد ہیں وہ گاؤں کی سب شوخ چنچل بیریاں
منصور آفاق

ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 267
دوبارہ کاٹنے آؤ گے… آس ہے سائیاں
ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں
مری دعاؤں پہ چیلیں جھپٹنے والی ہیں
یہ ایک چیخ بھری التماس ہے سائیاں
عجیب شہد سا بھرنے لگا ہے لہجے میں
یہ حرفِ میم میں کیسی مٹھاس ہے سائیاں
تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں
جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں
ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں
ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں
کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں
نجانے کون سی کھائی میں گر پڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں
منصور آفاق

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق

ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 265
اپنے لفظوں کی مہک باد صبا سے پاؤں
ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں
ٹافیاں جیب میں برسوں سے لئے پھرتا ہوں
کاش گلیوں میں کہیں تیرے نواسے پاؤں
میرے صحرائے عرب کے اے کرم ور بادل
دور تک بھٹکے ہوئے آدمی پیاسے پاؤں
انگلیاں تیرے وسیلے کی مہک دیتی ہیں
اپنی بخشش کا یقیں دستِ دعا سے پاؤں
ایک تندور میں محراب کی تعمیر کروں
سایۂ ابر سے منصور دلاسے پاؤں
منصور آفاق

بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 264
وہ نیلی روشنی وہ سرائے وہ نرم آگ
بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ
وہ موسمِ بہار کا ساحل پہ پہلادن
وہ گرم گرم شام کی چائے وہ نرم آگ
وہ تیز دھن وصال کی وہ روشنی کے گیت
وہ چار ناچتے ہوئے سائے وہ نرم آگ
ہرسمت حسنِ لمس کی بہکی ہوئی کشش
عریانیوں کو رقص میں لائے وہ نرم آگ
حسنِ طلب کی آخری حد پہ کھڑی ہوں میں
لاؤ کہیں سے ڈھونڈھ کے مائے وہ نرم آگ
منصور کیا بتاؤں میں خوابوں کی داستاں
بعداز وصال کیسے سلائے وہ نرم آگ
منصور آفاق

زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 263
آگئے ہیں نیاگرے ہم لوگ
زندگی پہ جہاں مرے ہم لوگ
چہچہاتی تھیں چار سو چڑیاں
ہوتے تھے جب ہرے بھرے ہم لوگ
اُس جگہ کچھ ہمارے جیسا ہے
جاتے رہتے ہیں آگرے ہم لوگ
رقصِ سرمد کا موسم آیا ہے
اب پہن لیں نا گھاگرے ہم لوگ
اے خداوندِ جادہ و منزل
چل پڑے تیرے آسرے ہم لوگ
سارا منظراسی کا ہے منصور
ہیں ازل سے بے منظرے ہم لوگ
منصور آفاق

آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق

چار سو فوراً سراسر اور رنگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 261
ہم بدن ہوتے ہی بستر اور رنگ
چار سو فوراً سراسر اور رنگ
بھر گیا ہوں میں ترے انوار سے
بھیج دے بس اک دیابھر اور رنگ
اترا ہوں قوسِ قزح سے میں ابھی
ہیں مگر تیرے لبوں پراور رنگ
روشنی تھوڑی سی بہتر جب ہوئی
ہو گئے یکدم اجاگر اور رنگ
کینوس منصور صبحوں کا کہے
اک تناسب میں ہیں منظر اور رنگ
منصور آفاق

دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 260
ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک
اک شام پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُر خار پہ دستک
پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک
کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ابد زار پہ دستک
دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک
بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک
کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک
ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرئہ اسرار پہ دستک
ہے فرض یہی تجھ پہ یہی تیری عبادت
دے خاک نسب ! خانہء سیار پہ دستک
درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
یہ کون ہے دیتا ہے جو پندار پہ دستک
وہ دیکھیے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ، چشم گنہگار پہ دستک
اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازئہ آزار پہ دستک
دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں
درشن کے لیے دے درِ دلدار پہ دستک
برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک
پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک
افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک
مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک
دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک
اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک
منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
منصور آفاق

رات خاموش ہے تکمیلِ ہنر ہونے تک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 259
وقت کی فاختہ اڑتی نہیں پر ہونے تک
رات خاموش ہے تکمیلِ ہنر ہونے تک
ختم ہوجائے گی منزل پہ تری بانگِ درا
گرمی ء ذوق عمل ہو گا سفر ہونے تک
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
یہ تو وقفہ ہے فقط ان کو خبر ہونے تک
ایک لمحہ ہے قیامت کا بس اپنے ہمراہ
دیر کتنی ہے جہان زیر و زبر ہونے تک
قتل گہ میں ہیں چراغوں کی کروڑوں لاشیں
کتنے مصلوب دئیے ہونگے سحر ہونے تک
کوئی حرکت ہی دکھائی نہیں دیتی منصور
راکھ ہوجائیں گے ہم رات بسر ہونے تک
منصور آفاق

بلب جلتا رہے اذانِ سحر ہونے تک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 258
ہجر کی رات بھری قبر کے سر ہونے تک
بلب جلتا رہے اذانِ سحر ہونے تک
دفن ہو جائیں گے بنیادمیں دیواروں کی
بامِ ابلاغ کی ہم پہلی خبر ہونے تک
برف بستی میں گری ہے کوئی بارہ فٹ تک
لوگ محفوظ ہیں بس جسم پہ فر ہونے تک
خواب ہو جاتی ہیں رنگوں بھری بندر گاہیں
پھرتے رہتے ہیں جہاں گرد سفر ہونے تک
آنکھ تعبیر کی منزل پہ پہنچ جائے گی
منتظر خواب رہیں عمر بسر ہونے تک
کتنے جانکاہ مراحل سے گزرنا ہو گا
ایک معصوم کوپنل کو ثمر ہونے تک
اس کی فٹ پاتھ بسیرا ہے قیامت کی نوید
حشر آجائے گا منصور کا گھر ہونے تک
نذرِ غالب
منصور آفاق

لکھ کر بکھیرنی ہے وفا کی رپورتاژ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 257
اک راکھ کے بدن کو ہوا کی رپورتاژ
لکھ کر بکھیرنی ہے وفا کی رپورتاژ
میں کھڑکیوں سے صبح کی پہلی کرن کے ساتھ
پڑھتا ہوں روز باد صبا کی رپورتاژ
تشکیل کائنات کی رودادِ گم شدہ
ہو گی کہاں پہ لوحِ خدا کی رپورتاژ
شاید ہے مانگنے کی جبلت وجود میں
لمبی بہت ہے دستِ دعا کی رپورتاژ
تقسیم کیا کرو گے وسائل زمین کے
لکھتے رہو گے جرم و سزا کی رپورتاژ
لکھتے ہیں روز خونِ جگر کو نچوڑ کے
سورج کے ہاتھ شامِ فنا کی رپورتاژ
لاشوں بھری سرائے سے نکلے گی کب تلک
جانِ جہاں کے ناز و ادا کی رپورتاژ
پڑھتے بنام علم ہیں بچے سکول میں
بالِ ہما کے بختِ رسا کی رپورتاژ
شاید لبِ فرات لہو سے لکھی گئی
اس زندگی کی نشو و نما کی رپورتاژ
برسوں سے نیکیوں کا فرشتہ رقم کرے
منصور صرف آہ و بکا کی رپورتاژ
منصور آفاق

اب تعلق میں بردباری چھوڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 256
وحشتیں اوڑھ، انتظاری چھوڑ
اب تعلق میں بردباری چھوڑ
دیکھنا چاند کیا سلاخوں سے
کج نظر سارتر سے یاری چھوڑ
دستِ ابلیس سے ثواب نہ پی
یہ تہجد کی بادہ خواری چھوڑ
زندہ قبروں پہ پھول رکھنے آ
مرنے والوں کی غم گساری چھوڑ
مردہ کتے کا دیکھ لے انجام
مشورہ مان، شہریاری چھوڑ
کچھ تو اعمال میں مشقت رکھ
یہ کرم کی حرام کاری چھوڑ
صبح کی طرح چل! برہنہ ہو
یہ اندھیرے کی پردہ داری چھوڑ
توڑ دے ہجر کے کواڑوں کو
اب دریچوں سے چاند ماری چھوڑ
بھونک اب جتنا بھونک سکتا ہے
ظلم سے التجا گزاری چھوڑ
آج اس سے تُو معذرت کر لے
یہ روایت کی پاس داری چھوڑ
رکھ بدن میں سکوت مٹی کا
یہ سمندر سی بے قراری چھوڑ
چھوڑ آسانیاں مصائب میں
دشت میں اونٹ کی سواری چھوڑ
یہ سفیدی پھری ہوئی قبریں
چھوڑ عیسیٰ کے یہ حواری چھوڑ
شہرِ غالب سے بھاگ جا منصور
میر جیسی غزل نگاری چھوڑ
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق

دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 254
بل کھاتے موڑ تیرے ، تیرا یہ مال روڈ
دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ
وہ وجد و حال و مستی جانے کہاں گئے ہیں
خالی پڑا ہوا ہے کب سے دھمال روڈ
رہ جائے گی یہ پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ
اے زندگی یہاں سے کوئی نکال روڈ
بارش برس رہی ہے آنکھوں کے آس پاس
سیلاب میں گھری ہے اپنی کنال روڈ
نکلے نفی کے شہر سے اثبات کی سڑک
جائے جو آسماں کو من کی قتال روڈ
ناراض موسموں سے آئی ہے کوئی کال
منصور ہو گئی ہے گھر کی بحال روڈ
منصور آفاق

بھیجا نہیں سو یار کو اس بار عید کارڈ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 253
اس کے لیے تھا باعثِ آزار عید کارڈ
بھیجا نہیں سو یار کو اس بار عید کارڈ
ایسا نہیں کہ بھول گیا ہے تمام شہر
آئے ہیں اپنے پاس بھی دوچار عید کارڈ
تیرہ برس کے بعد بھی اک یاد کے طفیل
میں نے اٹھایا تو لگا انگار عید کارڈ
ہر سال بھیجتا ہوں جسے اپنے آپ کو
اک ہے مری کہانی کا کردار عید کارڈ
کرنا ہے کب تلک شبِ انکار میں قیام
پچھلے برس کا آخری اقرار عید کارڈ
منصور سرورق پہ ہے تصویر شام کی
آیا ہے کیسا آئینہ بردار عید کارڈ
منصور آفاق

اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 252
رنگ تھے کچھ نیل پالش کے مری آنکھوں کے بیچ
اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ
راکھ کے گرنے کی بھی آواز آتی تھی مجھے
مر رہا تھا آخری سگریٹ مرے ہونٹوں کے بیچ
ہاتھ میں تو لالہ و گل تھے مرے حالات کے
پشت پر کاڑھی ہوئی تھی کھوپڑی سانپوں کے بیچ
کون گزرا ہے نگارِ چشم سے کچھ تو کہو
پھر گئی ہے کون سی شے یاد کی گلیوں کے بیچ
دو ملاقاتوں کے دن تھے آدمی کے پاس بس
اور کُن کا فاصلہ تھا دونوں تاریخوں کے بیچ
گوشت کے جلنے کی بو تھی قریۂ منصور میں
کھال اتری تھی ہرن کی، جسم تھا شعلوں کے بیچ
منصور آفاق

نیند سے بولائی دستک تیری دیواروں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 251
ڈھونڈتی ہے آسماں پر در کوئی تاروں کے بیچ
نیند سے بولائی دستک تیری دیواروں کے بیچ
گفتگو کیا ہو مقابل جب ہیں خالی پگڑیاں
پہلے تو سر بھی ہوا کرتے تھے دستاروں کے بیچ
اے خدا میرا بھرم رکھنا، فراتِ وقت پر
اک انا کا بانکپن ہے کتنی تلواروں کے بیچ
ریل کی پٹری بچھائی جا رہی ہے اس کے ساتھ
ایک کاٹج کیا بنایا میں نے گلزاروں کے بیچ
جانتی تھی اور سب کو ایک بس میرے سوا
وہ کہیں بیٹھی ہوئی تھی چند فنکاروں کے بیچ
دھوپ بھی ہے برف تیری سرد مہری کے طفیل
رات بھی پھنکارتی ہے تیرے آزاروں کے بیچ
منصور آفاق

ایک ہی کیوں آدمی ہے سارے دروازوں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 250
دل کی بستی سوچتی ہے جاگتے رازوں کے بیچ
ایک ہی کیوں آدمی ہے سارے دروازوں کے بیچ
کھو گئیں میری سخن بستہ نوائیں درد میں
رہ گیا آہوں کا رقصِ مشتعل سازوں کے بیچ
ایک چڑیا سے تقاضائے وفا اچھا نہیں
جاں نثاری کی سعادت قرض شہبازوں کے بیچ
تم جسے کہتے تھے چرخ نیلگوں اک وہم تھا
گم ہوئی اس کی بلندی میری پروازوں کے بیچ
اپنے شانوں پر اٹھا رکھی تھی خود میں نے صلیب
ہے مگر تاریخ کا الزام ہمرازوں کے بیچ
ہر قدم پر کھینچ لیتا تھا کوئی اندھا کنواں
سو بسا لی اپنی بستی اپنے خمیازوں کے بیچ
شہر ہونا چاہیے تھا اس سڑک کے آس پاس
کوئی غلطی رہ گئی ہے میرے اندازوں کے بیچ
سن رہا ہوں یاد کے پچھلے پہر کی ہچکیاں
دور سے آتی ہوئی بے مہر آوازوں کے بیچ
منصور آفاق

گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 249
نقشے کچھ قریۂ سما کے کھینچ
گمشدہ بستیوں کے خا کے کھینچ
تیری آنکھوں میں کیا تناسب ہے
میرے فوٹو گراف آ کے کھینچ
تیری خوشبو چرا لے آئی ہے
کان اڑتی ہوئی ہوا کے کھینچ
روند دے پاؤں میں کفن کی رات
چیتھڑے دامنِ فنا کے کھینچ
اچھی کرلی ہے خاک کی تقسیم
اب فلک پر لکیریں جا کے کھینچ
دیکھ کھڑکی میں آ گیا ہے چاند
ہاتھ اپنا ذرا بڑھا کے کھینچ
دن کو پکڑا تو ہے کنارے سے
زور پورا مگر لگا کے کھینچ
بند کر دے یہ کیمرہ منصور
اس کا فوٹو اسے بتا کے کھینچ
منصور آفاق

میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 248
گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ
بے شکل صورتوں کا ٹھکانا بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ
جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ، مانا بھی اپنے آپ
جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ
صرفِ نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ
کتنا ابھی ابھی تر و تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ
منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
منصور آفاق