admin کی تمام پوسٹیں

کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 447
وہ بر گزیدہ خطا رات عاصیوں سے ہوئی
کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی
ہر ایک صبح منور ہوئی ترے غم سے
ہر ایک شام فروزاں اداسیوں سے ہوئی
میں کھوجنے کے عمل میں شکار اپنا ہوا
مری اکیلگی چہرہ شناسیوں سے ہوئی
لپک کے بھاگ بھری نے کسی کو چوم لیا
گھٹا کی بات جو روہی کی پیاسیوں سے ہوئی
بہت سے داغ اجالوں کے رہ گئے منصور
جہاں میں رات عجب بد حواسیوں سے ہوئی
منصور آفاق

نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 446
اس کی حرافہ یاد ہے آفت بنی ہوئی
نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی
جلتی جہاں تھی آگ وہاں دیکھ تو سہی
اڑتی ہے راکھ، نوحۂ عبرت بنی ہوئی
وہ جمع لوگ ہیں کسی پاگل کے آس پاس
کوئی ہے انقلاب کی صورت بنی ہوئی
لگتا ہے تم ملاؤ گی اس کو بھی خاک میں
تھوڑی سی جو ہے شہر میں عزت بنی ہوئی
وہ اپنی خواہشوں کی ہے تکمیل کا چلن
جو چیز ہے جہاں میں محبت بنی ہوئی
ہر رات نظمِ تازہ اترتی ہے صحن میں
کیاہے جدائی باعثِ برکت بنی ہوئی
منصور رکھ د یا ہے اٹھا کرسٹور میں
پھرتی تھی وہ جو میری ضرورت بنی ہوئی
منصور آفاق

اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 445
کالکیں چہرے سے چھل کے صبح شرمندہ ہوئی
اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی
جس کی نس نس میں اندھیرے تھے تبسم آفریں
اس کلی کے ساتھ کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
وہ مجسم رات وہ کالی صراحی کے خطوط
دامنِ خوباں میں سل کے صبح شرمندہ ہوئی
حسرتوں کی ٹھیکرے تھے، ڈھیر تھے افسوس کے
پھر کھنڈر میں آ کے دل کے صبح شرمندہ ہوئی
اس نے زلفوں کو بکھیرا اور سورج بجھ گیا
سامنے لہراتے ظل کے صبح شرمندہ ہوئی
ہر نمو مٹی کی کالی قبر سے آباد تھی
بیچ شہرِآب و گل کے صبح شرمندہ ہوئی
یار کے رخسار پر ہے اک عجب کالا گلاب
پھر مقابل ایک تل کے صبح شرمندہ ہوئی
کنجِ لب سے ہی نکلتی یار کے تو بات تھی
بس افق کے پاس کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
جھانک سکتی ہی نہیں مٹی کے اندر روشنی
خاک پہ منصور پل کے صبح شرمندہ ہوئی
منصور آفاق

کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 444
آب و دانہ کے لئے آئے پرندویہ سکونت کیا ہوئی
کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی
چند دن وہ ساحلوں پر رکنے والے کیا ہوئے بحری جہاز
دور دیسوں کے سفر سے لوٹ آنے کی روایت کیا ہوئی
دیکھنے آئے تھے ہم کافر تو حسنِ کافرانہ کو مگر
اس گنہ آباد بستی میں مسلمانوں کی ہجرت کیا ہوئی
ساحلوں پر ڈوبتے سورج پہ اتری ہے کوئی پیتل کی کونج
سیپیاں چنتی ہوئی سر گرم کرنوں کی حرارت کیا ہوئی
ہو گئی بچی کی چھاتی تو سلگتے سگریٹوں سے داغ داغ
وہ جو آنی تھی زمیں پر آسمانوں سے قیامت کیا ہوئی
کیا ہوا وہ جنگ سے اجڑاہوابچوں بھرا منصورپارک
وہ کتابوں سے بھری تہذیب کی روشن عمارت کیا ہوئی
منصور آفاق

سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 443
گھر لوٹنے میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی
کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی
وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی
جو گیت لا زوال تھے وہ گیت کیا ہوئے
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی
ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
منصور آفاق

جس کی جیب سے سگریٹ نکلے اس کے نام حشیش ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 442
پکڑے گئے ہم محشر میں اور ایسی غلط تفتیش ہوئی
جس کی جیب سے سگریٹ نکلے اس کے نام حشیش ہوئی
جاتے جاتے اس نے مڑ کرمیری جانب دیکھا تھا
گھنٹہ بھر تقریب تھی لیکن ایک نظر بخشیش ہوئی
دیواروں میں دیکھ کے اپنی شکل کے اتنے زیادہ عکس
اک بھولی بھالی سی ناگن شیش محل میں شیش ہوئی
دیوانے پن کے جنگل میں آنکھ کھلی تو علم ہوا
کپڑے لیراں لیراں اور بے ہنگھم اپنی ریش ہوئی
کس کی حکومت آئی ہے یہ کالک کیسی ہے منصور
آدھے دن تک رات جو دیکھی سورج کو تشویش ہوئی
منصور آفاق

پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 441
نیلگوں دیوار پر اک بے صدا دستک ہوئی
پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی
پھر مجھے ابدال ہونے کا یقیں ہونے لگا
جب تلاش اپنی مکمل عرش کی حدتک ہوئی
میری چیخیں اپنی دھڑکن میں چھپا لیتی رہی
کس قدر اپنی سلگتی خامشی زیرک ہوئی
چاند تارے حسنِ فطرت کے تحائف ہو گئے
آسماں پر جب مکمل رات کی کالک ہوئی
میں نے جب سوچا، نہیں کوئی نہیں اسکا شریک
وہم ٹھہرا جسم اپنا جاں سراپا شک ہوئی
جس کے چاروں سمت ڈھلوانیں ہوں منہ کھولے ہوئے
زندگی اپنی وہی وحشت زدہ بالک ہوئی
ہم نفس میرے رہے منصور سقراط و حسین
روشنی مذہب ہوا اور چاندنی مسلک ہوئی
منصور آفاق

صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 440
جاگ اٹھی جو قسمت تھی پھوٹی ہوئی
صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی
صحنِ باغِ ارم کی ہیں رہداریاں
ہاتھیوں کے پڑاؤ سے ٹوٹی ہوئی
ہر طرف ہیں کھجوروں کے زخمی درخت
بستیاں ہیں مدینے کی لوٹی ہوئی
آسماں ہو گیا مہرباں خاک پر
لوٹ آئی ہے رُت کوئی روٹھی ہوئی
دل میں منصور خودکُش دھماکہ ہوا
اور پھر اپنی بن اطلاع جھوٹی ہوئی
منصور آفاق

دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 439
یاد کے فلور پرچائے ہے پڑی ہوئی
دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی
پھانسیوں پہ جھولتی اک خبرہے موت کی
اپنی اپنی طے شدہ سوچ میں گڑی ہوئی
بدمزاج وقت ہے کچھ ملال خیز سا
اختتامِ سال سے شام ہے لڑی ہوئی
آتے جاتے دیکھ کر درد کچھ مرے ہوئے
اک الست مست کی ذات میں جھڑی ہوئی
بولتے تھے عادتاً کم بھرے ہوئے دماغ
دانش و شعور کی شوخ پنکھڑی ہوئی
آتی جاتی گاڑیاں موڑ کاٹنے لگیں
چلتے چلتے وہ گلی روڈ پر کھڑی ہوئی
چلنے والا تار پرمسخروں میں کھو گیا
جب صراطِ وقت پر آخری گھڑی ہوئی
آدمی کے گوشت کی ریشہ رشہ داستاں
صدرِ امن گاہ کے دانت میں اڑی ہوئی
منصور آفاق

روہی دو فرلانگ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 438
پیر فرید کی بانگ ہوئی
روہی دو فرلانگ ہوئی
آنکھ سے دیکھا باہو کی
دنیا ایک سوانگ ہوئی
شاہ حسین کی بستی میں
مادھولال کی مانگ ہوئی
بول وہ بلھا بول گیا
پار جگر کے سانگ ہوئی
اربوں سال کی تنہائی
اپنی ایک چھلانگ ہوئی
بات ہوئی بس اوروں سے
کال ہمیشہ رانگ ہوئی
کوئی کہاں منصور ملا
عمر سراپا تانگ ہوئی
منصور آفاق

پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 437
دریچے یاد کے شفاف کر رہا ہے کوئی
پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی
نکھرتی جاتی ہے شبنم اداس آنکھوں میں
کسی گلاب کو سی آف کر رہا ہے کوئی
گرا رہے ہیں در و بام چند بلڈوزر
سنا ہے شہر مرا ، صاف کر رہا ہے کوئی
بتا رہا ہے بدن کی نزاکتوں کا ناپ
بیان حسن کے اوصاف کر رہا ہے کوئی
بڑھا رہا ہے سرِشام وصل کی خواہش
وہ روشنی کا سوئچ آف کر رہا ہے کوئی
وہ لکھ رہا ہے کہ کرنا ہے رات کو کیا کیا
شبِفراق کا اصراف کر رہا ہے کوئی
بڑھارہا ہے محبت کے وائرس منصور
شبِ وصال سے انصاف کر رہا ہے کوئی
منصور آفاق

عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 436
شیخ صاحب کہے افلاک نشیں ہے کوئی
عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی
پاؤں پڑتی ہے ازل کی صبح انوار فروش
چہرۂ برقِ تجلیٰ کی جبیں ہے کوئی
جانتا ہوں میں محمدﷺکے وسیلے سے اسے
مجھ کو محسوس نہیں ہوتا کہیں ہے کوئی
ذرے ذرے میں دھڑ کتا ہے وہ مشعوقِ ازل
کرسی و عرش و سموات و زمیں ہے کوئی
کیسی یکتائی کا احساس مجھے ہے منصور
ایک بس اس کے سوا میرا نہیں ہے کوئی
منصور آفاق

ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 435
آشنا سا لگتا ہے اپنی پُر خواب چاپ سے کوئی
ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی
موسمِ جدائی کی تنگ تھا زرد سی طوالت سے
رُت خرید لایا ہے وصل کی، لمس شاپ سے کوئی
قوس قوس آوازیں دور تک دائرے بناتی تھیں
لکھ رہا تھا کمرے میں گیت سا کیا الاپ سے کوئی
رقص کے الاؤ میں ڈوب کر پاؤں سے کلائی تک
جل اٹھا تھا ڈھولک کی نرم سی تیز تھاپ سے کوئی
سردیوں کی برفانی صبح میں گرم گرم سے بوسے
پھینکتا تھا ہونٹوں کی برف سی سرد بھاپ سے کوئی
جو کہیں نہیں موجود، روح کے آس پاس میں منصور
پوچھتا رہا اس کا، دیر تک اپنے آپ سے کوئی
منصور آفاق

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 433
مجھ ایسا غیر پسندیدہ بے محل کوئی
نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی
گزار اعمرنہ سنجیدگی کے صحرا میں
ضروری ہے تری محفل میں بیربل کوئی
پھٹی ہوئی کسی چادر سے ڈھانپ دیتے ہیں
تلاش کرتے نہیں مسئلے کا حل کوئی
فنانژاد علاقہ ہے میری مٹی کا
نکال سکتا نہیں خاک سے اجل کوئی
یہ پوچھتا تھا کوئی اور بھی ہے میرے سوا
ملاتھا دشتِ جنوں میں مجھے پنل کوئی
اسی جریدۂ کون و مکاں کی سطروں میں
چھپی ہوئی ہے مرے واسطے غزل کوئی
نجانے کون شہادت سے سرفراز ہوا
کنارِ چشمۂ کوثر بنا محل کوئی
ٹھہر گیا ہے ستم ناک وقت میرے لئے
یا کائنات کی گردش میں ہے خلل کوئی
مری شکست کے اسباب پوچھتے کیا ہو
ہے کھیل ہی کے قواعد گیا بدل کوئی
اجل حیات کا پہلا سرا نہیں منصور
مراجعت کی مسافت کا ہے عمل کوئی
منصور آفاق

سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 432
رات کے پچھلے پہر ، دور الاؤ کوئی
سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی
ہار جاؤں گا تو دنیاسے بھی اٹھ جاؤں گا
بس لگانا ہے مجھے آخری داؤ کوئی
ٹوٹ جانے میں بھلا کونسی اچھائی ہے
نرمگی کوئی، سرِ شاخ جھکاؤ کوئی
لوگ کہتے ہیں کہ باہو کے ہے دوہوں میں شفا
بیٹھ کے میرے سرہانے ذرا گاؤ کوئی
چاند کے روپ میں اک طنزِ مسلسل کی طرح
سینہ ء شب میں سلگتا ہوا گھاؤ کوئی
لوگ مرجاتے ہیں ساحل کی تمنا لے کر
اور سمندر میں چلی جاتی ہے ناؤ کوئی
کاش بچپن کی بہشتوں سے نہ باہر آؤں
روک لے عمر کے دریا کا کٹاؤ کوئی
لڑکھڑانا ہے نشیبوں میں ہمیشہ منصور
روک سکتا نہیں پانی کا بہاؤ کوئی
منصور آفاق

ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 431
بڑی اداس بڑی بے قرار تنہائی
ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی
مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں
مجھے عزیز مری اشکبار تنہائی
فراق یہ کہ وہ آغوش سے نکل جائے
وصال یہ کرے بوس و کنار تنہائی
پلٹ پلٹ کے مرے پاس آئی وحشت سے
کسی کو دیکھتے ہی بار بار تنہائی
مرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا ہے
میں سوگوار … تو ہے سوگوار تنہائی
کوئی قریب سے گزرے تو جاگ اٹھتی ہے
شبِ سیہ میں مری جاں نثار تنہائی
مجھے ہے خوف کہیں قتل ہی نہ ہو جائے
یہ میرے غم کی فسانہ نگار تنہائی
نواح جاں میں ہمیشہ قیام اس کا تھا
دیارِ غم میں رہی غمگسار تنہائی
ترے علاوہ کوئی اور ہم نفس ہی نہیں
ذرا ذرا مجھے گھر میں گزار تنہائی
یونہی یہ شہر میں کیا سائیں سائیں کرتی ہے
ذرا سے دھیمے سروں میں پکار تنہائی
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار، تنہائی
جو وجہ وصل ہوئی سنگسار تنہائی
تھی برگزیدہ ، تہجد گزار تنہائی
مری طرح کوئی تنہا اُدھر بھی رہتا ہے
بڑی جمیل، افق کے بھی پار تنہائی
کسی سوار کی آمد کا خوف ہے، کیا ہے
بڑی سکوت بھری، کوئے دار، تنہائی
دکھا رہی ہے تماشے خیال میں کیا کیا
یہ اضطراب و خلل کا شکار تنہائی
بفیضِ خلق یہی زندگی کی دیوی ہے
کہ آفتاب کا بھی انحصار تنہائی
اگرچہ زعم ہے منصور کو مگر کیسا
تمام تجھ پہ ہے پروردگار تنہائی
منصور آفاق

تخلیہ اے زندگانی تخلیہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 430
دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ
تخلیہ اے زندگانی تخلیہ
ظلِ سبحانی ہیں آئے درد کے
اے کنیزِ شادمانی تخلیہ
آرہا ہے وہ چراغِ صبح پا
چاند تارو ، مہربانی ، تخلیہ
مہ وشو!اب یاسمن کے باغ کی
دیکھتے ہیں گل فشانی ، تخلیہ
بجلیو! موسیٰ کلیم اللہ سے میں
سن رہاہوں لن ترانی تخلیہ
بارگاہِ دل میں شرمندہ نہ کر
لمس کی اندھی جوانی تخلیہ
ہے دمِ عارف نسیمِ صبح دم
اے کلیمی اے شبانی تخلیہ
زندگی سے بھر گیا دل حسرتو!
اب کہانی کیا بڑھانی تخلیہ
واہ ، آئی ہے کئی صدیوں کے بعد
پھر صدائے کن فکانی تخلیہ
جائیے کہ آئینے کے سامنے
شکلِ ہستی ہے بنانی تخلیہ
جارہا ہوں میں عدم کے باغ میں
موسموں کی میزبانی تخلیہ
آرہا ہے مجھ سے ملنے آفتاب
بادلوں کی سائبانی تخلیہ
ملنا ہے منصور نے منصور سے
گم کرو اب شکل یعنی تخلیہ
منصور آفاق

میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 429
مل جاؤ تھوڑی دیر تو آ کر کسی جگہ
میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ
میں روزنامچہ ہوں تری صبح و شام کا
مجھ کو چھپا دے شیلف کے اندر کسی جگہ
جادو گری حواس کی پھیلی ہوئی ہے بس
ہوتا نہیں ہے کوئی بھی منظر کسی جگہ
کچھ دن گزارتا ہوں پرندوں کے آس پاس
جنگل میں چھت بناتا ہوں جا کر کسی جگہ
منصور اس گلی میں تو آتی نہیں ہے دھوپ
گھر ڈھونڈ کوئی مین سڑک پر کسی جگہ
منصور آفاق

آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 428
اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ
آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ
حالِ دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے
اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ
رات بھر دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے
جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ
وقت کا احساس کھو جاتا تھا میری بزم میں
اپنے بازو پر گھڑی اب باندھ کر آتا ہے وہ
میں ہوا کی گفتگو لکھتا ہوں برگِ شام پر
جو کسی کو بھی نہیں آتا ہنر آتا ہے وہ
سر بریدوں کو تنک کر رات سورج نے کہا
اور جب شانوں پہ رکھ کر اپنا سر آتا ہے وہ
منصور آفاق

بم گراتا رہا خود اپنی ہی دہلیز پہ وہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 427
عالمی بنک کے اک وفد کی تجویز پہ وہ
بم گراتا رہا خود اپنی ہی دہلیز پہ وہ
کیا بتاتا کہ مرا اس سے تعلق کیا تھا
رو بھی سکتا نہ تھا تکفین پہ تجہیز پہ وہ
کھوجنی پڑتی ہے ماتھے سے وہ قیمت لیکن
ایک لیبل سا لگا دیتا ہے ہر چیز پہ وہ
ہو نہیں سکتا شب و روز کا مالک کوئی
عمر ہر شخص کو دیتا ہے فقط لیز پہ وہ
جانے کیا دیکھ کے کل شام کتابِ دل میں
خامشی چھوڑ گیا صفحۂ تقریظ پہ وہ
خوش تھی مٹی کہ مجھے مل گئے صدیوں کے خطوط
چیخ اٹھی تھی مگر ذہن کی تفویض پہ وہ
اس نئے دور کا منصور عجب عامل ہے
نام خود اپنا ہی لکھ دیتا ہے تعویز پہ وہ
منصور آفاق

سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 426
صبا طیبہ سے آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
قدم لینے لگے سبزہ ، شجر بھیجیں سلام اس پر
وہ گلشن میں جو آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کشادہ رکھتے ہیں اتنا درِ دل ہم چمن والے
کہ سایہ سرسرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
محبت کے بلکتے چیختے بے چین موسم میں
جو بلبل گنگنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
پہاڑی راگ کی بہتی ہوئی لے میں کہیں کوئی
ندی جب دکھ سنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
یہ انکا رنگِ فطرت ہے ، یہ انکا ظرف ہے منصور
کہ کانٹا زخم کھائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
منصور آفاق

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 424
الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ
یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ
یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ
کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ
نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ
سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ
وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ
وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ
ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ
منصور آفاق

کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 423
نجاتِ خلقتِ جاں لا الہ الا اللہ
کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ
یہ خوفِ آتشِ دوزخ یہ خطرۂ ابلیس
وہاں کہاں کہ جہاں لا الہ الا اللہ
بگاڑ سکتی ہے کیا اس کا چرخ کی گردش
ہے جس کی جائے اماں لا الہ الا اللہ
یہ جائیدادِ جہاں کچھ نہیں ہے اُس کے لئے
ہے جس کے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ
یہ کائنات یہ عالم نہیں وہاں باہو
جہاں جہاں پہ عیاں لا الہ الا اللہ
سلطان باہو کی فارسی غزل کا ترجمہ
منصور آفاق

مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 422
صدیوں پہ ہے محیط سکونت کا واقعہ
مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ
ممکن نہیں ہے صبحِ ازل پھر اسے لکھے
جیسا تھا بزمِ شمعِ ہدایت کا واقعہ
ہم اہلِ عشق ہیں سو بڑے جلد باز تھے
عجلت میں ہم نے لکھا محبت کا واقعہ
وہ دلنواز چیخ مری گود میں گری
یہ کاکروچ کی ہے خباثت کا واقعہ
جا خانۂ وراق پہ آواز دے کے دیکھ
مت پوچھ مجھ سے اس کی عنایت کا واقعہ
پاؤں رکھا جہاں پہ وہیں پھول کھل اٹھے
پھیلا ہے سارے دشت میں وحشت کا واقعہ
منصور اعتقاد ضروری سہی مگر
ہونا نہیں ہے کوئی قیامت کا واقعہ
منصور آفاق

یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 421
میں دیکھتا ہوں جھیل میں مہتاب ہمیشہ
یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ
برسات کے موسم نے دعا دی مرے غم کو
آباد پرندوں سے ہو تالاب ہمیشہ
اجڑے ہوئے لوگوں کی دعا ہے کہ تمہارا
یہ تازہ تعلق رہے شاداب ہمیشہ
جاں سوختہ ہو جائے بھلے آگ میں میری
تجھ کو ملے خسخانہ و برفاب ہمیشہ
منصور شبِ غم کے سیہ پوش سفر میں
یادیں رہیں سرچشمۂ اسباب ہمیشہ
منصور آفاق

مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 420
دکھائی دے نگاہوں کو چراغِ طور کا چہرہ
مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ
مسلسل ابر وباراں میں کئی صدیاں گزار آئیں
دمشقِ صبح کی آنکھیں ، فراتِ نور کا چہرہ
جنابِ شیخ کو غلمان کی آنکھیں پسند آئیں
مجھے اچھا لگا اک کھکھلاتی حور کا چہرہ
مری تہذیب کا نغمہ ، اذاں میرے تمدن کی
یہی میلاد کی آنکھیں یہی عاشور کا چہرہ
اندھیری رات سے اُس زلف کوتشبیہ کیسے دوں
بھرا ہے غم کی کالک سے شبِ دیجور کا چہرہ
سنو جنت کے پھولوں سے کہیں بڑھ کر ہے پاکیزہ
کڑکتی دھوپ میں کھلتا ہوا مزدور کا چہرہ
ستم ہے لوگ پاکستان کہتے ہیں اسے منصور
بدلتاہے جہاں اقدار کا دستور کا چہرہ
منصور آفاق

آیا ہے نکل کر یہ سمندر سے ستارہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 419
اجلا ہے بہت شام کے منظر سے ستارہ
آیا ہے نکل کر یہ سمندر سے ستارہ
یک لخت نگاہوں میں کئی رنگ ہیں آئے
گزرا ہے ابھی میرے برابر سے ستارہ
قسمت کہیں یخ بستہ رویوں میں جمی ہے
نکلا ہی نہیں اپنا دسمبر سے ستارہ
ہر شام نکلتا تھا کسی شاخِ حسیں سے
رکھتا تھا تعلق وہ صنوبر سے ستارہ
تم اندھی جوانی کی کرامات نہ پوچھو
وہ توڑدیا کرتی تھی پتھر سے ستارہ
میں کس طرح لے جاؤں اسے اپنی گلی میں
منصور شناسا ہے جہاں بھر سے ستارہ
منصور آفاق

نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 418
اپنے بارے میں کسی سے پوچھنا بے فائدہ
نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ
جا کہیں دفنا دے گزرے موسموں کی میتیں
دیکھ مردہ مسئلوں پر سوچنا بے فائدہ
جب نظر میں صبحِ دوشیزہ کا ہو حسنِ خرام
چاند کی گردن میں باہیں ڈالنا بے فائدہ
کیا تعلق کی لحد پر فاتحہ خوانی کروں
ایک پتھر کے بدن سے بولنا بے فائدہ
اب یہی بہتر ہے دونوں بھول جائیں گزرے دن
اب کہیں کچھ دیر مل کر بیٹھنا بے فائدہ
ہیر کو منصور کھیڑے لے گئے ہیں اپنے ساتھ
آنسوئوں سے اب ستارے ڈھالنا بے فائدہ
تیری خوشبوئے بدن سے ساونی کے رنگ ہیں
تُو نہ ہو تو بارشوں میں بھیگنا بے فائدہ
صبح کے یخ بستہ خالی صحن میں تیرے بغیر
نرم و نازک دھوپ کے پر کھولنا بے فائدہ
جز ترے کیا موجِ دریا، جز ترے کیابادِ شام
تُو نہ ہو تو ساحلوں پر گھومنابے فائدہ
تیرے بن کیا عکس اپنا، تیرے بن تمثال کیا
تُو نہیں تو پانیوں میں دیکھنا بے فائدہ
تیرے ہونے سے یہ گندم کی سنہری بالیاں
ورنہ بیجوں کا تہوں سے پھوٹنا بے فائدہ
تُو نہ ہو توکیا درختوں سے ہوا کی گفتگو
شاخِ گل پہ کونپلوں کا جاگنا بے فائدہ
تُونہ ہو تو راستوں میں بھولنے کا لطف کیا
اب مرا پگڈنڈیوں کو ناپنا بے فائدہ
جز ترے سندر رتیں بے کار ،بے مصرف تمام
تُو نہیں تو موسموں کا سامنا بے فائدہ
منصور آفاق

دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 417
جسم نا پاک پر جامہء پاک بے فائدہ
دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ
صاحبِ فہم ہو توتمہیں اک الف کافی ہے
یہ کتابوں بھرا عقل و ادراک بے فائدہ
آدمی آخری حد ہے تشکیل و تخلیق کی
گردشِ وقت کا گھومتا چاک بے فائدہ
اس کی ساری توجہ رہی اپنی تلوار کی دھار پر
میں نے پہنی ہے زخموں کی پوشاک بے فائدہ
اِس دماغِ شرر خیز میں جھوٹ کے ڈھیر ہیں
تیری دستار کے اتنے پیچاک بے فائدہ
کون سا ا س نے منصور کمرے میں آ جانا ہے
گریۂ شب کا شورِ المناک بے فائدہ
منصور آفاق

روشنی اے روشنی اے روشنی چشم توجہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 416
قبر سے تاریک تر جیون گلی چشم توجہ
روشنی اے روشنی اے روشنی چشم توجہ
چھپ نہیں سکتا خدا اگلی صدی تک آدمی سے
ہے ابھی افلاک پر کچھ سرسری چشم توجہ
وقتِ رخصت دیر تک جاتی ہوئی بس کا تعاقب
دھول میں پھر کھو گئی اشکوں بھری چشم توجہ
آپ جیسی ایک لڑکی پر لکھی ہے نظم میں نے
اک ذرا سی چاہیے بس آپ کی چشم توجہ
وہ اندھیرا تھا کہ میلوں دور چلتی گاڑیوں کی
روشنی کے ساتھ فوراً چل پڑی چشمِ توجہ
بیل بجی مدھم سروں میں در ہوا وا دھیرے دھیرے
اس کو دیکھا اور پھر پتھرا گئی چشمِ توجہ
اپنے چہرے پر سیاہی تھوپ دے منصور صاحب
اس کی ساری نیگرو کی سمت تھی چشم توجہ
منصور آفاق

جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 415
پاؤں کی وحشت بچھاتی جا رہی ہے راستہ
جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ
احتراماً چل رہا ہوں میں سڑک کے ساتھ ساتھ
اور سڑک ہے کہ بڑھاتی جا رہی ہے راستہ
اک بڑی اونچی پہاڑی رفتہ رفتہ ہاتھ سے
میرے پاؤں میں گراتی جا رہی ہے راستہ
سوچتا ہوں میری پُر آشوب بستی کس لیے
اپنا دریا سے ملاتی جا رہی ہے راستہ
پیچھے پیچھے پاؤں اٹھتے جا رہے ہیں شوق میں
آگے آگے وہ بتاتی جا رہی ہے راستہ
رہ بناتا جا رہا ہوں وقت میں منصور میں
عمر کی آندھی اڑاتی جا رہی ہے راستہ
منصور آفاق

دور تک ہے عزت و ناموس کی قربان گاہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 414
ہے محیطِ جاں شبِ محبوس کی قربان گاہ
دور تک ہے عزت و ناموس کی قربان گاہ
بہہ رہا ہے مقتلِ احساس سے تازہ لہو
زندگی ہے عالم محسوس کی قربان گاہ
آ مجھے دے زخم پھر سے ، آ چلا تیغِ ادا
سرخ کر میرے دلِ مایوس کی قربان گاہ
پاؤں پر مہندی لگاسکتی ہے خوں کی ہم نفس
کرچیاں ہوتے ہوئے فانوس کی قربان گاہ
چل رہے ہیں الٹے پاؤں راستوں پرسارے لوگ
یہ نگر ہے منزل معکوس کی قربان گاہ
خوبصورت لوگ بھی اور خوبصورت پھول بھی
خوشبوئوں کے دلربا ملبوس کی قربان گاہ
سعد پل آیا نہیں کوئی کہیں بھی راہ میں
ہر گھڑی ہے ساعتِ منحوس کی قربان گاہ
وہ لگا دی شیخ نے سیدھی جہنم میں چھلانگ
حسن بھی تھامحشرِ مخصوص کی قربان گاہ
پھر انا الحق کی صدائے دلربا تجسیم کر
ڈھونڈھ پھرمنصور دشتِ سوس کی قربان گاہ
منصور آفاق

فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 413
انداز گفتگو کے، مدارات کے بھی دیکھ
فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ
ممکن نہیں ہے قید میں رکھنا چراغ کو
یہ اضطراب اپنی سیہ رات کے بھی دیکھ
بادل پہن لیے ہیں درختوں کے جسم نے
یہ معجزے پہاڑ پہ برسات کے بھی دیکھ
اک آخری امید تھی مٹی میں مل گئی
کچھ روز اب تُو سختیِ حالات کے بھی دیکھ
قربت کی انتہا پہ ہیں صدیوں کے فاصلے
منصور سلسلے یہ ملاقات کے بھی دیکھ
منصور آفاق

صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 412
جلتی ہوئی چتا سے نکلتے ہوئے بھی دیکھ
صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ
جس کو بلا کا زعم تھا اپنے مزاج پر
وہ آہنی چٹان پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
چھو کر کسی گلاب کو موجِ بدن کے رنگ
بہتی ہوئی ندی میں مچلتے ہوئے بھی دیکھ
اے بادِ تندِ یار تجھے اور کیا کہوں
بجھتے ہوئے چراغ کو جلتے ہوئے بھی دیکھ
پاگل سا ہو گیا تھا جسے دیکھ کر کبھی
اس چودھویں کے چاند کو ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ
مجھ کو گرا دیا تھا زمیں پر تو کیا ہوا
سطحِ زمیں سے گیند اچھلتے ہوئے بھی دیکھ
وہ بھی تو ایک پیڑ تھا اپنے نصیب کا
موسم کے ساتھ اس کو بدلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور پھر کھڑا ہے خود اپنے ہی پاؤں پر
جو گر گیا تھا اس کو سنبھلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور آفاق

مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 411
قوسِ قزح کے لکھے ہوئے تبصرے بھی دیکھ
مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ
رنگوں بھرے لباس کی مہکار پر نہ جا
میرے خیال و خواب کے ویراں کدے بھی دیکھ
تْو نے گرا دیا تھا فلک سے تو اب مجھے
بادِ صبا کے رنگ پہ چلتے ہوئے بھی دیکھ
دونوں طرف وجود ترا ہی کہیں نہ ہو
گردن ذرا گھما کے تُو کُن کے سرے بھی دیکھ
بے شک گلے لگا کے سمندر کو، رو مگر
ساحل کے پاس بنتے ہوئے بلبلے بھی دیکھ
ہر چند تارکول ہے پگھلی ہوئی تمام
میں بھی تو چل رہا ہوں سڑک پر، مجھے بھی دیکھ
سورج مرے قدم ہیں ستارے ہیں میری گرد
تسخیر کائنات کے یہ مرحلے بھی دیکھ
اک دلنواز خواب کی آمد کے آس پاس
آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے قمقمے بھی دیکھ
کھینچی ہیں تم نے صرف لکیریں ہوا کے بیچ
بنتے ہوئے خطوط کے یہ زاویے بھی دیکھ
میں جل رہا ہوں تیز ہواؤں کے سامنے
اے شہرِ شب نژاد مرے حوصلے بھی دیکھ
منصور آفاق

ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 410
طویل و تیرہ سہی شب مگر تسلی رکھ
ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ
اسے گزرنا انہی پتھروں سے ہے آخر
اومیری شوق بھری رہگزر تسلی رکھ
ابھی سے صبحِ جدائی کا خوف کیا کرنا
ہے مہتاب ابھی بام پر تسلی رکھ
کسی کا ساتھ گھڑی دو گھڑی بھی کافی ہے
او زندگی کی رہِ مختصر تسلی رکھ
نہیں نکلتی ترے منظروں سے بینائی
یہیں کہیں ہے ، گرفتِ نظر تسلی رکھ
شکست عشق میں ہوتی نہیں کبھی منصور
یہ ہار ، ہار نہیں ، ہار کر تسلی رکھ
منصور آفاق

یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 409
یا بدن کے سرخ گجروں کی مہک محدود رکھ
یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ
دھن کوئی کومل سی بس ترتیب کے لمحے میں ہے
اے محافظ کالے بوٹوں کی دھمک محدود رکھ
سو رہا ہے تیرے پہلو میں کوئی غمگین شخص
چوڑیوں کی رنگ پروردہ کھنک محدود رکھ
باغباں ہر شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں زرد سانپ
گھونسلوں تک اپنی چڑیوں کی چہک محدود رکھ
جاگنے لگتے ہیں گلیوں میں غلط فہمی کے خواب
آئینے تک اپنی آنکھوں کی چمک محدود رکھ
لوگ چلنے لگتے ہیں قوسِ قزح کی شال پر
اپنے آسودہ تبسم کی دھنک محدود رکھ
منصور آفاق

یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 408
یہی تیرے غم کا کِتھارسس، یونہی چشمِ نم سے ٹپک کے پڑھ
یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ
جو اکائی میں نہیں ذہن کی اسے سوچنے کا کمال کر
یہ شعور نامۂ خاک سن، یہ درود لوحِ فلک کے پڑھ
یہی رتجگوں کی امانتیں ہیں بیاضِ جاں میں رکھی ہوئی
جو لکھے نہیں ہیں نصیب میں وہ ملن پلک سے پلک کے پڑھ
مرے کینوس پہ شفق بھری نہ لکیریں کھینچ ملال کی
کوئی نظم قوسِ قزح کی لکھ کوئی رنگ ونگ دھنک کے پڑھ
ترے نرم سر کا خرام ہو مری روح کے کسی راگ میں
مجھے انگ انگ میں گنگنا، مرا لمس لمس لہک کے پڑھ
یہ بجھا دے بلب امید کے، یہ بہشتِ دیدِ سعید کے
ابھی آسمان کے بورڈ پر وہی زخم اپنی کسک کے پڑھ
او ڈرائیور مرے دیس کے او جہاں نما مری سمت کے
یہ پہنچ گئے ہیں کہاں پہ ہم، ذرا سنگ میل سڑک کے پڑھ
کوئی پرفیوم خرید لا، کوئی پہن گجرا کلائی میں
نئے موسموں کا مشاعرہ کسی مشکبو میں مہک کے پڑھ
ہے کتابِ جاں کا ربن کھلا کسی واڈکا بھری شام میں
یہی افتتاحیہ رات ہے ذرا لڑکھڑا کے، بہک کے پڑھ
یہ ہے ایک رات کا ناولٹ، یہ ہے ایک شام کی سرگزشت
یہ فسانہ تیرے کرم کا ہے، اسے اتنا بھی نہ اٹک کے پڑھ
کئی فاختاؤں کی ہڈیاں تُو گلے میں اپنے پہن کے جا
وہ جو عہد نامۂ امن تھا اسے بزم شب میں کھنک کے پڑھ
منصور آفاق

قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 407
وہ جھوٹ بولتے پھرتے ہیں آیتیں پڑھ پڑھ
قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ
یہ چاہتے ہیں کہ کچھ دن گزاریں مرضی سے
جی تھک گیا ہے فلک کی ہدایتیں پڑھ پڑھ
شکار ہونا ہے احساسِ کمتری کا ہمیں
عجائباتِ جہاں کی حکایتیں پڑھ پڑھ
یہ لگ رہا ہے کہ جبریل اپنے اندر ہے
ورق ورق پہ اترتی عنایتیں پڑھ پڑھ
یہ ارتقاء کا تماشا ابھی ادھورا ہے
خیال آتا ہے ہستی کی غایتیں پڑھ پڑھ
یہ سوچتے ہیں ازل کتنا خوبصورت تھا
تباہ حال ابد کی نہایتیں پڑھ پڑھ
خزاں رسیدہ ہواکے خلاف ہونا تھا
گرے ہوئے کی مسلسل شکایتیں پڑھ پڑھ
حسابِ خرچۂ تدفین کر رہے ہیں ہم
بنک کاروں کی بھیجی کفایتیں پڑھ پڑھ
اے اہل کوفہ ہمیں یاد کربلا آئے
خطوط میں یہ ہزاروں حمایتیں پڑھ پڑھ
بڑھا سکے ہیں نہ قوت خرید کی منصور
ہر ایک چیز پہ اتنی رعایتیں پڑھ پڑھ
منصور آفاق

پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 406
جو پھیرتا تھا تہجد کے کینوس پہ وہ ہاتھ
پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ
بنا رہا ہے جو قوسِ قزح کی تصویریں
دکھائی دے مجھے بادل کے کارنس پہ وہ ہاتھ
نگار خانۂ جاں کی نمائشِ کُن میں
لکیر کھینچ رہا ہے برس برس پہ وہ ہاتھ
یہ سوچتے ہوئے میری کہاں علامت ہے
کبھی پروں پہ رکھے وہ ،کبھی قفس پہ وہ ہاتھ
کسی کو خواب میں شایدپکڑ رکھا تھا کہیں
جمے ہوئے تھے مسہری کے میٹرس پہ وہ ہاتھ
عجیب بجلیاں بھر دیں ، عجیب کیف دیا
بنامِ زندگی ،ہائے اک ایک نس پہ وہ ہاتھ
نئے وصال دکھاتی ہے رات بھر منصور
کچھ ایسے رکھتی ہے گزرے ہوئے قصص پہ وہ ہاتھ
منصور آفاق

پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 405
چل رہی ہے زندگی کی اک بھیانک رات ساتھ
پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ
میں نے سوچا کیا کہیں گے میرے بچپن کے رفیق
اور پھر رختِ سفر میں رکھ لیے حالات ساتھ
میں اکیلا رونے والا تو نہیں ہوں دھوپ میں
دے رہی ہے کتنے برسوں سے مرا برسات ساتھ
چاہیے تھا صرف تعویذِ فروغِ کُن مجھے
دے دیا درویش نے اذنِ شعورِ ذات ساتھ
یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصد ہواؤں کے ہیں سوکھے پات ساتھ
ایک بچھڑے یار کی پرسوز یادوں میں مگن
کوئی بگلا چل رہا تھا پانیوں کے ساتھ ساتھ
منصور آفاق

روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 404
آگ تھی رنگ تھے اور مے تھی کہیں
روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں
سو گئی رات کے سائے گنتی ہوئی
جو ملاقات گلیوں میں طے تھی کہیں
میرے جیسا کوئی اور بیلے میں تھا
بانسری کی فسردہ سی لے تھی کہیں
شور تھا شہر میں عشق کاہر طرف
کوئی تازہ محبت کی نے تھی کہیں
اس کے اندر اترنا ہے گہرائی تک
سیکھتا جا کے ہوں ٹیلی پیتھی کہیں
جگمگاتی پھرے عشقِ منصور میں
کوئی سیتی کہیں کوئی کیتھی کہیں
منصور آفاق

تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 403
کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں
عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں
اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں
بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں
تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں
اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں
ڈرا دیا کسی خودکُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں
کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں
ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں
ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں
ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کیے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں
کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں
ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں
اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں
بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں
بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں
دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں
منصور آفاق

کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 402
شب کہیں اور شب کے سائے کہیں
کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں
ہے کہیں انتظارِ گاہِ حیات
اور ہے موت کی سرائے کہیں
کانچ سے بھی زیادہ نازک ہے
سنگ دل ، دل تو آزمائے کہیں
شخصیت کا یہ خول رہنے دے
میری رائے بدل نہ جائے کہیں
ہرطرف راستے ہیں گلیاں ہیں
گھر کوئی بھی نظر نہ آئے کہیں
جاگ اٹھیں نہ رات کی آنکھیں
کوئی سایہ سا سرسرائے کہیں
دونوں عالم کو خوف ہے منصور
خاک کا دل نہ ٹوٹ جائے کہیں
منصور آفاق

ایک سناٹا ہے گھر میں اور تو کچھ بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 401
خوف سا ہے بام و در میں اور تو کچھ بھی نہیں
ایک سناٹا ہے گھر میں اور تو کچھ بھی نہیں
کچھ نمک ہے زخم کا ، کچھ روشنی ہے یاد کی
چشمِ غم کی بوند بھر میں اور تو کچھ بھی نہیں
یاد کا ہے سائباں اور زندگی کی دھوپ ہے
اس ستم گر دوپہر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان کی رخشاں مسکراہٹ حاملِ صد مہر و مہ
ایک سورج ہے سحر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان سے رک سکتے ہیں کب دیوانگانِکوئے یار
کچھ بلائیں ہیں سفر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان کی چاہت کے سوا تاریک ہے فردِ عمل
داغ ہیں قلب و جگر میں اور تو کچھ بھی نہیں
گنبدِ خضرا کا ہر ذرہ بہشت آباد ہے
دہر کے دوزخ نگر میں اور تو کچھ بھی نہیں
نازشِ تخلیق ہے آفاق میں بس ایک ذات
میری فکرِ معتبر میں اور تو کچھ بھی نہیں
منصور آفاق

اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 400
وہ بدن کون ہے کچھ اپنا بتائے بھی نہیں
اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں
دور تک برف بھری رات کے سناٹے ہیں
شہر میں یادکے ڈھلتے ہوئے سائے بھی نہیں
وصل خاموش بھی پُرشوربھی اپنے اندر
آگ محسوس بھی ہو اور جلائے بھی نہیں
کینوس میں مرے رنگوں کو رکھے قید کوئی
اورتصویر تعلق کی بنائے بھی نہیں
کوئی منصورمرے بسترِ آباد کے بیچ
مجھ کو بھی سونے بھی نہ دے اور جگائے بھی نہیں
منصور آفاق

پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 399
اور جینے کا سبب کوئی نہیں
پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں
صرف اک جاں سے گزرنا ہے مجھے
مجھ سا بھی سہل طلب کوئی نہیں
خواہشِ رزق درندوں کی طرح
جیسے اس شہر کا رب کوئی نہیں
وقت کیفیتِ برزخ میں ہے
کوئی سورج، کوئی شب، کوئی نہیں
ایک تعزیتی خاموشی ہے
شہر میں مہر بلب کوئی نہیں
وصل کی رات بھی تنہا میں تھا
میرے جیسا بھی عجب کوئی نہیں
کیوں گزرتا ہوں وہاں سے منصور
اس گلی میں مرا جب کوئی نہیں
منصور آفاق

تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 398
آسماں ! بول کہ اُس پار جہاں ہے کہ نہیں
تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں
اس خلاباز کی آواز میں سناٹے تھے
چاند پر جس نے کہا ’کوئی یہاں ہے کہ نہیں
مجھ میں موجود ہے کیسے ،یہ سمجھنا ہے ابھی
یہ سوال اور ہے ذرہ میں کہاں ہے کہ نہیں
کوئی لوٹا ہی نہیں روح کے تہہ خانے سے
کیسے معلوم ہو وہ مجھ میں نہاں ہے کہ نہیں
سو گئی تھی جو زرِ فاحشہ کے بستر میں
وہ سپہ آج کفِ شعلہ دھاں ہے کہ نہیں
پھر نکل عرشِ محبت کے سفر پر منصور
پہلے یہ دیکھ وہاں جان جہاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق

اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 397
اپنی بستی میں کہیں امن و اماں ہے کہ نہیں
اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں
حلقہ زن ہوکے درِ دل پہ پکارے کوئی
زندگی تیرے لئے بارگراں ہے کہ نہیں
جس میں شہزادیاں سوئی تھیں بوقت تقسیم
اب وہ بستی میں تری اندھا کنواں ہے کہ نہیں
جو کسی کو بھی برہنہ نہیں ہونے دیتا
آسماں پر وہ سیہ پوش دھواں ہے کہ نہیں
خانۂ خاک تو آباد بتانِ زر سے
آسماں پر بھی کہیں تیرا مکاں ہے کہ نہیں
میرے جیسوں کو بتاتا ہے جو رستے کا پتہ
اُس ستارے کا کہیں نام و نشاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق

یہ عمل تو پارسائی میں نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 396
درد کیوں چہرہ نمائی میں نہیں
یہ عمل تو پارسائی میں نہیں
آسماں ہیں میرے اندر ہی کہیں
ہاں مگر میری رسائی میں نہیں
فاقہ مستی کائناتوں پر محیط
معجزہ کوئی گدائی میں نہیں
میرے بنجاروں تمہاری خیر ہو
ایک بھی چوڑی کلائی میں نہیں
وقت میری وحدتوں میں ہے مقیم
میں زمانے کی اکائی میں نہیں
صرف میں منصور اک موجود ہوں
کوئی بھی پوری خدائی میں نہیں
منصور آفاق

میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 395
دھوپ میں پھرتا ہوں دن بھر خواب میں رہتا نہیں
میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں
ہے مناسب بے کسی کی کوٹھری میرے لئے
غم پہن کر میں شبِ مہتاب میں رہتا نہیں
کھل کے روتا ہوں ہمیشہ بادلوں کے ساتھ میں
یونہی ہجراں کے ادب آداب میں رہتا نہیں
ایک صحرا ہے مرے چاروں طرف پھیلا ہوا
میں مری جاں ! قریۂ شاداب میں رہتا نہیں
ہر طرف بکھری ہوئی منصور ویرانی سی ہے
میں مکاں کے عالمِ اسباب میں رہتا نہیں
منصور آفاق

بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 394
تاریخ ساز ’’لوٹ‘‘ کوئی دیکھتا نہیں
بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں
رقصاں ہیں ایڑیوں کی دھنوں پر تمام لوگ
کالے سیاہ بوٹ کوئی دیکھتا نہیں
انصاف گاہ ! تیرے ترازو کے آس پاس
اتنا سفید جھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
چکلالہ چھاؤنی کی طرف ہے تمام رش
اسلام آباد روٹ کوئی دیکھتا نہیں
طاقت کے آس پاس حسیناؤں کا ہجوم
میرا عوامی سوٹ کوئی دیکھتا نہیں
سب دیکھتے ہیں میری نئی کار کی طرف
چہرے کی ٹوٹ پھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
منصور آفاق

کوئی تمہیدِ انقلاب نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 393
اپنی نیندوں میں کوئی خواب نہیں
کوئی تمہیدِ انقلاب نہیں
ساحلوں پر برہنہ جوڑے ہیں
پر کوئی آنکھ بے حجاب نہیں
ہم سفر احتیاط، میرا بدن
نیکیوں کی کوئی کتاب نہیں
کچھ دنوں سے بجا ہے شب کا ایک
اور گھڑیال بھی خراب نہیں
عمر گزری ہے ایک کمرے میں
پھر بھی ہم رنگ اپنے خواب نہیں
کس لیے ذہن میں در آتے ہیں
جن سوالات کے جواب نہیں
آنکھ بھی خالی ہو گئی منصور
اور گٹھڑی میں بھی ثواب نہیں
منصور آفاق

ہو بھی جاؤ جو کسی اورکا ہونا ہے تمہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 392
یہی دوچار برس آنکھ نے رونا ہے تمہیں
ہو بھی جاؤ جو کسی اورکا ہونا ہے تمہیں
آخری بات کہ کس وقت ملیں گے کل ہم
مجھ کو معلوم ہے اب رات ہے ، سونا ہے تمہیں
یاد رکھنا کہ تمہیں چارہ گری کرنی ہے
زخم سینے ہیں مرے ،چاک پرونا ہے تمہیں
کیا گزاروگے اسی خیمہ ء افلاک میں رات
کیا بنانا یہی فٹ پاتھ بچھونا ہے تمہیں
کوئی خودکُش سا دھماکہ بھی ضروری ہے وہاں
جلدی سے جائے وقوعہ کو بھی دھونا ہے تمہیں
تم سے پہلوں نے جہاں اپنے قدم رکھے تھے
اسی آسیب زدہ غار میں کھونا ہے تمہیں
روح تک دیکھنے کی تم میں بصارت ہی نہیں
صرف کافی یہی مٹی کاکھلونا ہے تمہیں
سرخ فوارہ کی دھاروں کے دمادم کی قسم
رات کی چھاتی میں بس تیر چبھونا ہے تمہیں
دیکھنے ہیں مجھے جذبوں کی صراحی کے خطوط
میں نے وہسکی سے کسی روز بھگونا ہے تمہیں
صرف ہم نصف کے مالک ہیں بحکمِ ربی
فصل بھی کاٹنی ہے بیج بھی بونا ہے تمہیں
میری باہو سے ملاقات ہے ہونے والی
زندگی !’’ ہو‘‘ کے سمندر میں ڈبونا ہے تمہیں
تم پرندے ہو کسی وقت بھی اڑسکتے ہو
ساتھ رکھنے کے لئے جاں میں سمونا ہے تمہیں
جس میں چلتی چلی جاتی ہے قیامت منصور
اُس دوپٹے کا پکڑنا کوئی کونا ہے تمہیں
منصور آفاق

خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 391
ایٹمی جنگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں
وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں
شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں
ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں
ایک آواز منصور کاغذ پہ پھیلی ہوئی ہے
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں
منصور آفاق

یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 390
تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں
خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں
بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے
یہ جو سنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں
روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بد گمان کیسے ہیں
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں
کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں
کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں ، ساربان کیسے ہیں
چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے
خالی خالی برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں
دیکھتا تھا رم جھم سی بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں
اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے ہیں منصور
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں
منصور آفاق

یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 389
کھڑکیاں بدلتی ہیں ، در بدلتے رہتے ہیں
یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں
موسموں کی تبدیلی معجزے دکھاتی ہے
جسم ایک رہتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں
وہ بچھڑ بھی سکتا ہے، میں بدل بھی سکتا ہوں
کیا کریں محبت کے ڈر بدلتے رہتے ہیں
کائنات کا پنجرہ کوئی در نہیں رکھتا
اور ہم پرندوں کے پر بدلتے رہتے ہیں
ارتقاء کے پردے میں کیا عجیب صورت ہے
ہم نہیں بدل سکتے، پر، بدلتے رہتے ہیں
منصور آفاق

قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 388
یہ مسجدوں میں جوخود کُش شہید ہوتے ہیں
قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں
طلب بھی پاتی ہے ترتیب ٹیلی ویژ ن سے
جہاں کو دیکھ کے ہم بھی جدید ہوتے ہیں
ہر اک دور کا اک شاہ حسین ہوتا ہے
ہرایک دور میں خواجہ فرید ہوتے ہیں
نکل کے گھر سے یونہی رات رات چلتا ہوں
بڑے ہی یا د کے حملے شدید ہوتے ہیں
یزید کوئی بھی ہوتا نہیں حسین مزاج
حسین نام کے لیکن یزید ہوتے ہیں
میں جتنی کرتا ہوں کوشش درست کرنے کی
خراب اتنے مسائل مزید ہوتے ہیں
نکلتی ہے یہ مصائب سے شاعری منصور
یہ مصرعے خونِ جگرسے کشید ہوتے ہیں
منصور آفاق

نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 387
رات کا شور، اندھیروں کی زباں سنتے ہیں
نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں
ایک سقراط نے زنجیر بپا آنا ہے
دوستو آؤ عدالت میں بیاں سنتے ہیں
کیوں پلٹتی ہی نہیں کوئی صدا کوئی پکار
یہ تو طے تھا کہ مرے چارہ گراں سنتے ہیں
اب بدلنی ہے شب و روز کی تقویم کہ لوگ
شام کے وقت سویرے کی اذاں سنتے ہیں
ایسے منفی تو لب و دیدہ نہیں ہیں اس کے
کچھ زیادہ ہی مرے وہم و گماں سنتے ہیں
بات کرتی ہے ہوا میری نگہ سے منصور
اور رک رک کے مجھے آبِ رواں سنتے ہیں
منصور آفاق

برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 386
جمع ہو جاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں
برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں
ایک آسیب ہے اس شخص کی رعنائی بھی
خوشبوئیں بولتی ہیں رنگ وہاں سنتے ہیں
ایک ویرانہ ہے، قبریں ہیں ، خموشی ہے مگر
دل یہ کہتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں سنتے ہیں
زندگی ان کی شہیدوں کی طرح ہے شاید
آنکھ رکھتے ہیں شجر، بات بھی، ہاں ! سنتے ہیں
تخت گرتے ہیں تو یاد آتی ہے اپنی ورنہ
ہم فقیروں کی کہاں شاہ جہاں سنتے ہیں
بیٹھ کر ہم بھی ذرا ذاتِ حرا میں منصور
وہ جو آواز ہے سینے میں نہاں ، سنتے ہیں
منصور آفاق

شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 385
من و سلویٰ لیے ا فلاک سے بم گرتے ہیں
شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں
فتح مندی کی خبر آتی ہے واشنگٹن سے
اور لاہور کے ۸۷یہر روز علم گرتے ہیں
زرد پتے کی کہانی تو ہے موسم پہ محیط
ٹوٹ کے روز کہیں شاخ سے ہم گرتے ہیں
رقص ویک اینڈ پہ جتنا بھی رہے تیز مگر
طے شدہ وقت پہ لوگوں کے قدم گرتے ہیں
شہر کی آخری خاموش سڑک پر جیسے
میرے مژگاں سے سیہ رات کے غم گرتے ہیں
جانے کیا گزری ہے اس دل کے صدف پر منصور
ایسے موتی تو مری آنکھ سے کم گرتے ہیں
منصور آفاق

جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 384
یونہی ہم بستیوں کو خوبصورت تر بناتے ہیں
جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں
بنا کر فرش سے بستر تلک ٹوٹی ہوئی چوڑی
گذشتہ رات کا تصویر میں منظر بناتے ہیں
لکھا ہے اس نے لکھ بھیجو شبِ ہجراں کی کیفیت
چلو ٹھہرے ہوئے دریا کو کاغذ پر بناتے ہیں
سمندر کے بدن جیسا ہے عورت کا تعلق بھی
لہو کی آبدوزوں کے سفر گوہر بناتے ہیں
مکمل تجربہ کرتے ہیں ہم اپنی تباہی کا
کسی آوارہ دوشیزہ کو اب دلبر بناتے ہیں
شرابوں نے دیا سچ بولنے کا حوصلہ منصور
غلط موسم مجھے کردار میں بہتر بناتے ہیں
منصور آفاق

آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 383
ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں
وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطحِ آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
منصور آفاق

عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 382
جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں
عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں
ہم سمجھتے ہیں بہت، لہجے کی تلخی کو مگر
تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں
دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں
پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی ایٹم بم سے
وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں
ڈھونڈنے کے لیے گلیوں میں کوئی عرش نشیں
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں
ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کے لیے
دشت میں شہر سے کچھ بھیڑیے آئے ہوئے ہیں
کیا کریں اپنی رندھی ، زرد ، فسردہ آواز
غول کے غول یہاں بھونکنے آئے ہوئے ہیں
تجھ سے کچھ لینا نہیں ، دیکھ ! پریشان نہ ہو
ہم یہاں گزری رتیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں
تھوڑی تھوڑی سی خوشی بانٹنے والے شاید
کوئی تبدیلی بڑی روکنے آئے ہوئے ہیں
اتنا کافی ہے تجھے بات سمجھنے کیلئے
ہم یہاں آئے نہیں ہیں بھلے آئے ہوئے ہیں
ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں
کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں
منصور آفاق

دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 381
دیکھتے لپک تیرے طنز کی تو ہم بھی ہیں
دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں
کھلتے کھلتے کھلتے ہیں اپنی اپنی دنیا میں
تم اگر تجسس ہو سنسنی تو ہم بھی ہیں
تم سہی سیہ بدلی آنسوئوں کے موسم کی
آس پاس مژگاں کے کچھ نمی تو ہم بھی ہیں
عشق کی شریعت میں کیا جو قیس پہلے تھے
ہجر کی طریقت میں آخری تو ہم بھی ہیں
جانتے ہیں دنیا کو درد کا سمندر ہے
اور اس سمندر میں اک گلی تو ہم بھی ہیں
پیڑ سے تعلق تو ٹوٹ کے بھی رہتا ہے
سوختہ سہی لیکن شبنمی تو ہم بھی ہیں
دو گھڑی کا قصہ ہے زندگی محبت میں
دو گھڑی تو تم بھی ہو دو گھڑی تو ہم بھی ہیں
جیل کی عمارت ہے عاشقی کی صحبت بھی
بیڑیاں اگر تم ہو ہتھکڑی تو ہم بھی ہیں
نام وہ ہمارا پھر اک کرن کے ہونٹوں پر
وقت کے ستارے پر۔ ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
کیا ہوا جو ہجراں کی رہ رہے ہیں مشکل میں
یار کے شبستاں میں یاد سی تو ہم بھی ہیں
دیدنی زمانے میں بے خبر بہاروں سے
گلستانِ حیرت کی اک کلی تو ہم بھی ہیں
مانا عشق کرنے کا کچھ پتہ نہیں تم کو
دلبری کی بستی میں اجنبی تو ہم بھی ہیں
یہ الگ گوارا ہم وقت کو نہیں لیکن
جس طرح کے ہوتے ہیں آدمی تو ہم بھی ہیں
کربلا کی وحشت سے، سلسلہ نہیں لیکن
ساحلوں پہ دریا کے تشنگی تو ہم بھی ہیں
ہیر تیرے بیلے میں آنسوئوں کے ریلے میں
خالی خالی بیلے میں بانسری تو ہم بھی ہیں
تم چلو قیامت ہو تم چلو مصیبت ہو
بے بسی تو ہم بھی ہیں ، بے کسی تو ہم بھی ہیں
صبح کے نکلتے ہی بجھ تو جانا ہے ہم کو
رات کی سہی لیکن روشنی تو ہم بھی ہیں
دیکھتے ہیں پھولوں کو، سوچتے ہیں رنگوں کو
خوشبوئوں کے مکتب میں فلسفی تو ہم بھی ہیں
ایک الف لیلیٰ کی داستاں سہی کوئی
دوستو کہانی اک متھ بھری تو ہم بھی ہیں
منصور آفاق

کہیں بجھی سگریٹوں کے ٹکڑے ،کہیں کتابیں کھلی پڑی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 380
فراق کی انتظار گاہ میں کہیں شرابیں کھلی پڑی ہیں
کہیں بجھی سگریٹوں کے ٹکڑے ،کہیں کتابیں کھلی پڑی ہیں
کہا تو ہے سر پھری ہوا سے چلے سنبھل کر بہت سنبھل کر
میں خیمہء کائنات ہوں اور مری طنابیں کھلی پڑی ہیں
کوئی توآیا ہے خواب گاہِ دل و نظر میں ، یہ چھپ چھپا کے
تجوری ٹوٹی ہوئی ہے غم کی ، تمام خوابیں کھلی پڑی ہیں
جو انتظاروں کے ہم نفس ہیں قفس میں بس ہیں وہی پرندے
ملن کے چڑیاگھروں میں وحشت بھری شتابیں کھلی پڑی ہیں
وہاں ہے رخشِ حیات منصور اپنا پہنچا ، جہاں ابد پر
کہیں پہ ٹوٹی ہوئی ہیں باگیں ، کہیں رکابیں کھلی پڑی ہیں
منصور آفاق

ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 379
یزید زاد الگ، کربلا علیحدہ ہیں
ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں
نمازِ جسم میں کعبہ کی سمت لازم ہے
نمازِ عشق کے قبلہ نما علیحدہ ہیں
مرے فراق کے جلتے ہوئے سیہ موسم
تمہی کہو مری جاں ! تم سے کیا علیحدہ ہیں
سمجھ رہی ہو محبت میں وصل کو تعبیر
ہمارے خواب میں کہتا نہ تھا، علیحدہ ہیں
ہماری دھج کو نظر بھر کے دیکھتے ہیں لوگ
ہجوم شہر میں ہم کج ادا علیحدہ ہیں
سیاہ بختی ٹپکتی ہے ایک تو چھت سے
ترے ستم مری جانِ وفا علیحدہ ہیں
منصور آفاق

اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 378
یہ جو جلتے دئیوں کی آنکھیں ہیں
اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں
حسنِ گل پوش کے تعاقب میں
پھر کئی تتلیوں کی آنکھیں ہیں
دھند لاہٹ دکھائی دیتی ہے
نم زدہ کھڑکیوں کی آنکھیں ہیں
کافی تنکے ہیں چُن لئے لیکن
چار سو بجلیوں کی آنکھیں ہیں
نیم وا رہتی ہیں محبت سے
کھلتی کب لڑکیوں کی آنکھیں ہیں
یہ جو سیارے ہیں خلاؤں میں
جنگجو بستیوں کی آنکھیں ہیں
راستہ ہے مدینہ کا منصور
پھول سی بچیوں کی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 377
آسمانوں کے دفینے کی طرف آنکھیں ہیں
خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں
اس میں اک نام دھڑکتا ہے بڑے زور کے ساتھ
اپنی تو اپنے ہی سینے کی طرف آنکھیں ہیں
لوگ مشکل میں عبادت کریں واشنگٹن کی
شکر ہے اپنی ، مدینے کی طرف آنکھیں ہیں
روضے کی جالیاں چھونے کا شرف جس کو ملا
اُس انگوٹھی کے نگینے کی طرف آنکھیں ہیں
آرہا ہے جو سرِ عرش سے میری جانب
اُس اترے ہوئے زینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس پہ بطحا کا سفر کرتے تھے عشاقِ رسول
اُس کرم بار سفینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس میں آیا تھا اجالوں کا پیمبر منصور
اُس بہاروں کے مہینے کی طرف آنکھیں ہیں
منصور آفاق

ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 376
رات جن کاجلی آنکھوں سے لڑی آنکھیں ہیں
ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں
آنکھ جھپکوں تو نکل آتی ہیں دیواروں سے
میرے کمرے میں دو آسیب بھری آنکھیں ہیں
ہجر کی جھیل ترا دکھ بھی ہے معلوم مگر
یہ کوئی نہر نہیں ہے یہ مری آنکھیں ہیں
دیکھتے ہیں کہ یہ سیلاب اترتا کب ہے
دیر سے ایک ہی پانی میں کھڑی آنکھیں ہیں
جن کی مژگاں پہ نمی دیکھ کے تُو روتی تھی
تیز بارش میں ترے در پہ وہی آنکھیں ہیں
کون بچھڑا ہے کہ گلیوں میں مرے چاروں طرف
غم زدہ چہرے ہیں او ر ر وتی ہوئی آنکھیں ہیں
انتظاروں کی دو شمعیں ہیں کہ بجھتی ہی نہیں
میری دہلیز پہ برسوں سے دھری آنکھیں ہیں
اب ٹھہر جا اے شبِ غم کہ کئی سال کے بعد
اک ذرا دیر ہوئی ہے یہ لگی آنکھیں ہیں
باقی ہر نقش اُسی کا ہے مرے سنگ تراش
اتنا ہے اس کی ذرا اور بڑی آنکھیں ہیں
خوف آتا ہے مجھے چشمِ سیہ سے منصور
دیکھ تو رات کی یہ کتنی گھنی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

اک مرحلۂ شوق میں ہم جلوہ نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 375
پیروں تلے ہر لمحہ نیا طور نئی برق
اک مرحلۂ شوق میں ہم جلوہ نشیں ہیں
پیچھے سے کوئی اچھی خبر آئے تو جائیں
برزخ سے ذرا پہلے ابھی رستہ نشیں ہیں
دوچار نکل آئے ہیں جلباب سے باہر
منصور ابھی دوست کئی پردہ نشیں ہیں
منصور آفاق

تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 374
ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشیں ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشیں ہیں
خس خانہ و برفاب کی خواہش نہیں رکھتے
ہم دھوپ صفت لوگ ہیں خاشاک نشیں ہیں
امید بغاوت کی ہم ایسوں سے نہ رکھو
ہم ظلم کے نخچیر ہیں ، فتراک نشیں ہیں
اطراف میں بکھری ہوئی ہے سوختہ بستی
ہم راکھ اڑاتے ہوئے املاک نشیں ہیں
معلوم ہے کیا تم نے کہا ہے پسِ تحریر
اسباقِ خفی ہم کو بھی ادراک نشیں ہیں
کیا کوزہ گری بھول گیا ہے کوئی منصور
ہم لوگ کئی سال ہوئے چاک نشیں ہیں
منصور آفاق

پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 373
الفاظ پہن کر ہمی اوراق نشیں ہیں
پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں
یہ بات الگ روشنی ہوتی ہے کہیں اور
ہم مثلِ چراغِ شبِ غم طاق نشیں ہیں
سورج کی طرف دیکھنے والوں کی قسم ہم
اک خوابِ عشاء اوڑھ کے اشراق نشیں ہیں
چاہیں تو زباں کھینچ لیں انکار کی ہم لوگ
بس خوفِ خدا ہے ہمیں ، اشفاق نشیں ہیں
آتی ہیں شعاعوں سے انا الحق کی صدائیں
ہم نورِ ہیں منصور ہیں آفاق نشیں ہیں
منصور آفاق

اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق

طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 371
دیارِ گل میں بھیانک بلائیں حاکم ہیں
طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں
سفید پوش ہیں سہمے ہوئے مکانوں میں
گلی میں پھرتی ہے کالک بلائیں حاکم ہیں
یہاں سے ہجرتیں کرنی ہیں خوش دماغوں نے
یہاں ہے موت کی ٹھنڈک بلائیں حاکم ہیں
یہ گفتگو سے سویرے طلوع کرتی ہیں
وطن پہ رات کی زیرک بلائیں حاکم ہیں
نکل پڑے ہیں ہزاروں سگانِ آدم خور
کھلے ہیں موت کے پھاٹک بلائیں حاکم ہیں
وہ ساری روشنیوں کی سہانی آوازیں
تھا اقتدار کا ناٹک بلائیں حاکم ہیں
جو طمطراق سے جالب کے گیت گاتی ہیں
وہ انقلاب کی گاہک بلائیں حاکم ہیں
کسی چراغ میں ہمت نہیں ہے جلنے کی
بڑا اندھیرا ہے بے شک بلائیں حاکم ہیں
سعودیہ سے ہواہے نزولِ پاک ان کا
چلو وطن میں مبارک بلائیں حاکم ہیں
خدا کے نام دھماکے نبیؐ کے نام فساد
بنامِ دین ہے بک بک بلائیں حاکم ہیں
یہ مال و زر کی پجاری ہیں وقت کی قارون
نہیں ہے مذہب و مسلک بلائیں حاکم ہیں
نظر نہ آئیں سہولت سے آنکھ کو منصور
لگا کے دیکھئے عینک بلائیں حاکم ہیں
منصور آفاق

پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 370
جنگلوں میں جگنوں کے قافلے ممنوع ہیں
پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں
صرف پروانے کو جلنے کی اجازت بزم میں
رونے پر پابندیاں ہیں ، قہقہے ممنوع ہیں
دشت کی تپتی زمیں پرمعجزہ کوئی کریں
ننگے پاؤں چلنا ہے اور آبلے ممنوع ہیں
بام پر اب دل جلائیں اورمژہ پر دھڑکنیں
روشنی بھی کرنی ہے اور قمقمے ممنوع ہیں
موج کومنصورہے چلنا ہوا کے ساتھ ساتھ
ساحلوں پرپانیوں کے بلبلے ممنوع ہیں
منصور آفاق

کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 369
اک بلیک آوٹ ہے روشن دئیے ممنوع ہیں
کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں
ہم محبت کی ریاضی پاس کر سکتے نہیں
اک مثلت لازمی ہے زاویے ممنوع ہیں
کوئی تحفہ تو کجا خط بھی پہنچ سکتا نہیں
اُس گلی میں ہر طرح کے ڈاکیے ممنوع ہیں
ہجر میں ممکن نہیں ہے استراحت کا خیال
راحتوں کے سلسلے میرے لئے ممنوع ہیں
بارشیں منصور برسانے کا آڈر ہے مگر
آسماں پر بادلوں کے حاشیے ممنوع ہیں
منصور آفاق

میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 368
یاد کے گلی میں دو اجنبی مسافر ہیں
میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں
گھر میں کمپیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں
چند ٹن بیئر کے ہیں چند چپس کے پیکٹ
رات کی سڑک ہے اور ہم یونہی مسافر ہیں
کون ریل کو سگنل لالٹین سے دے گا
گاؤں کے سٹیشن پر اک ہمی مسافر ہیں
نیند کے جزیرے پر، آنکھ کی عمارت میں
اجنبی سے لگتے ہیں ، یہ کوئی مسافر ہیں
شب پناہ گیروں کے ساتھ ساتھ رہتی ہے
روشنی کی بستی میں ہم ابھی مسافر ہیں
اور اک سمندر سا پھر عبور کرنا ہے
خار و خس کی کشتی ہے کاغذی مسافر ہیں
چند اور رہتے ہیں دھوپ کے قدم منصور
شام کی گلی کے ہم آخری مسافر ہیں
منصور آفاق

قانون کے جدید دیاروں میں قید ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 367
ہم چوک چوک سرخ اشاروں میں قید ہیں
قانون کے جدید دیاروں میں قید ہیں
جنگل میں لومڑی کی شہنشاہی ان دنوں
بیچارے شیر اپنے کچھاروں میں قید ہیں
یہ سبز میز پوش پہ بکھرے ہوئے خیال
دراصل چند فرضی بہاروں میں قید ہیں
بے حد و بے کراں کا تصور بجا مگر
سارے سمندر اپنے کناروں میں قید ہیں
منصور زر پرست ہیں فالج زدہ سے جسم
یہ لوگ زرق برق سی کاروں میں قید ہیں
منصور آفاق

جسم کی ہر اک سڑک پر کیمرے موجود ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 366
مخبری کے غیر مرئی ڈاکیے موجود ہیں
جسم کی ہر اک سڑک پر کیمرے موجود ہیں
کھل نہیں سکتے اگر بابِ نبوت کے کواڑ
سینکڑوں جبریل مجھ میں کس لیے موجود ہیں
بس صدا ڈی کوڈ کرنی ہے خموشی کی مجھے
کتنے سگنل عرش سے آئے ہوئے موجود ہیں
چاند شاید پیڑ کی شاخوں میں الجھا ہے کہیں
صحن میں کچھ روشنی کے شیڈ سے موجود ہیں
قیمتی سوٹوں کی جلسہ گاہ میں خاموش رہ
کرسیوں پر کیسے کیسے نابغے موجود ہیں
کھول کر اپنے گریباں کے بٹن ہم سرفروش
موت کی بندوق کے پھر سامنے موجود ہیں
منصور آفاق

آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 365
پلکیں کسی برہن کے کھلے سر کی طرح ہیں
آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں
گرتے ہیں ہمی میں کئی بپھرے ہوئے دریا
ہم وقت ہیں ، لمحوں کے سمندر کی طرح ہیں
بس ٹوٹتے پتوں کی صدائیں ہیں ہوا میں
موسم بھی مرادوں کے مقدر کی طرح ہیں
رکھتے ہیں اک اک چونچ میں کنکر کئی دکھ کے
اب حرف ابابیلوں کے لشکر کی طرح ہیں
بکتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا ہو گا
اب ہم بھی کسی آخری زیور کی طرح ہیں
یہ خواب جنہیں اوڑھ کے سونا تھا نگر کو
فٹ پاتھ پہ بچھتے ہوئے بستر کی طرح ہیں
ناراض نہ ہو اپنے بہک جانے پہ جاناں
ہم لوگ بھی انسان ہیں ، اکثر کی طرح ہیں
اب اپنا بھروسہ نہیں ، ہم ساحلِ جاں پر
طوفان میں ٹوٹے ہوئے لنگر کی طرح ہیں
تم صرفِ نظر کیسے، کہاں ہم سے کرو گے
وہ لوگ ہیں ہم جو تمہیں ازبر کی طرح ہیں
منصور ہمیں بھولنا ممکن ہی نہیں ہے
ہم زخم میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 364
سورج پہ گلابوں کے تصور کی طرح ہیں
ہم دیدئہ حیرت ہیں ، تحیر کی طرح ہیں
چھیڑو نہ ہمیں دوستو پھر تھم نہ سکیں گے
ملہار کے ہم بھیگے ہوئے سُر کی طرح ہیں
صد شکر کہ سینے میں دھڑکتا ہے ابھی دل
ہم کفر کے لشکر میں سہی حر کی طرح ہیں
بجھ جاتا ہے سورج کا ہمیں دیکھ کے چہرہ
ہم شام کے آزردہ تاثر کی طرح ہیں
ہر دور میں شاداب ہیں سر سبز ہیں منصور
وہ لوگ جو موسم کے تغیر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 363
لٹنے کو خزانوں بھرے مندر کی طرح ہیں
ہم لوگ سدھارتھ کے کھلے در کی طرح ہیں
ہم حرفِ زمیں ، چیختی صدیوں کی امانت
گم گشتہ ثقافت کے سخنور کی طرح ہیں
ہم پھول کنول کے ہیں ہمیں نقش کھنڈر کے
آثارِ قدیمہ کے پیمبر کی طرح ہیں
فرعون کے اہرام بھی موسیٰ کا عصا بھی
ہم نیل کی تہذیب کے منظر کی طرح ہیں
آدم کے ہمی نقشِ کفِ پا ہیں فلک پر
کعبہ میں ہمی عرش کے پتھر کی طرح ہیں
ہم گنبد و مینار ہوئے تاج محل کے
ہم قرطبہ کے سرخ سے مرمر کی طرح ہیں
ہم عہدِ ہڑپہ کی جوانی پہ شب و روز
دیواروں میں روتی ہوئی صرصر کی طرح ہیں
منصور آفاق

ہم ریس کے گھوڑے ہیں ، مقدر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 362
جیتے ہوئے لوگوں کے سوئمبر کی طرح ہیں
ہم ریس کے گھوڑے ہیں ، مقدر کی طرح ہیں
ہر لمحہ پیانو سے نئی شکل ابھاریں
یہ انگلیاں اپنی، کسی بت گر کی طرح ہیں
کیا چھاؤں کی امید لیے آئے گا کوئی
ہم دشت میں سوکھے ہوئے کیکر کی طرح ہیں
الحمدِ مسلسل کا تسلسل ہے ہمی سے
ہم صبحِ ازل زاد کے تیتر کی طرح ہیں
جلتے ہوئے موسم میں ہیں یخ بستہ ہوا سے
ہم برف بھری رات میں ہیٹر کی طرح ہیں
حیرت بھری نظروں کے لیے جیسے تماشا
ہم گاؤں میں آئے ہوئے تھیٹر کی طرح ہیں
یہ بینچ بھی ہے زانوئے دلدار کی مانند
یہ پارک بھی اپنے لیے دلبر کی طرح ہیں
پیاسوں سے کہو آئیں وہ سیرابیِ جاں کو
ہم دودھ کی بہتی ہوئی گاگر کی طرح ہیں
منصور ہمیں چھیڑ نہ ہم شیخِ فلک کے
مسجد میں لگائے ہوئے دفتر کی طرح ہیں
منصور آفاق

یہ برگزیدہ لوگ بھی پتھر پرست ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 361
قرباں جواہرات پہ ہیں ، زر پرست ہیں
یہ برگزیدہ لوگ بھی پتھر پرست ہیں
کچھ ہیں اسیرِ عشوہِحسنِ سفید فام
باقی جو اہلِ زرہیں وہ ڈالر پرست ہیں
تجھ سے معاملہ نہیں اپنا، ہوائے شام
پانی ہیں ہم ، ازل سے سمندر پرست ہیں
ہم دوپہر میں مانتے سورج کو ہیں خدا
صحرا کی سرد رات میں اختر پرست ہیں
الٹا ئیں جن کا نام تو لکھیں وہاب ہم
تنظیمِ اسم ذات کے وہ سرپرست ہیں
منصور جبر و قدر کی ممکن نہیں ہے بحث
ہم بولتے نہیں ہیں ، مقدر پرست ہیں
منصور آفاق

نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 360
طلسمِ مرگ کے جادومیں محوِ استراحت ہیں
نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں
شبیں چنگاریوں کے بستروں میں خواب بنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں
خموشی کا بدن ہے چادرِ باردو کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں
کہیں سویا ہواہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
ابھی شیرِ خدا دارو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ابھریں گے بامِ صبحِ مشرق پر ابھی منصور
مرے سورج ابھی جگنو میں محو استراحت ہیں
منصور آفاق

وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 359
یہ راہِ محبت ہے ساتھی اس راہ پہ جو بھی آتے ہیں
وہ راہ کے ہرہر کاٹنے پر کچھ خونِجگر ٹپکاتے ہیں
اس دور کا ہم سرمایہ ہیں ہم اہل جنوں ہم اہل وفا
ہم کرب میں ڈوبی دنیا کو پھر کرب و بلا میں لاتے ہیں
تم لوگ فرازِ منبر سے شبیر پہ بس تقریر کرو
ہم رند اُتر کر میداں میں پھررسم وہی دھراتے ہیں
تاریخ کا یہ دوراھا ہے اک سمت وفا اک سمت جفا
کچھ جاہ و حشم کے راہی ہیں ،، کچھ دارورسن کو جاتے ہیں
یہ لوح و قلم کے مفتی کا منصورازل سے فتویٰ ہے
جو زخمِ جگر کو بوسے دیں وہ لوگ مرادیں پاتے ہیں
منصور آفاق

بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 358
وقت ساکت ہے ،جامد یہ حالات ہیں
بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں
میری رائے پہ اے زندگی رحم کر
تیرے بارے میں اچھے خیالات ہیں
دے رہاہے مرا چہرہ سب کے جواب
تیری آنکھوں میں جتنے سوالات ہیں
پاؤں آگے بڑھا ، دار پر وار کر
موت کے کھیل میں ہم ترے ساتھ ہیں
گھاس کھاتے رہو بم بناتے رہو
اپنی باقی ابھی کچھ فتوحات ہیں
تیری زلفوں کی کرنیں تلاوت کریں
تیرے چہرے کی آنکھوں میں آیات ہیں
آتے جاتے ہیں اکثرشبِ تار میں
یہ ستارے تو اپنے مضافات ہیں
غم ہے تنہائی ہے ، ہجر ہے رات ہے
ہم پہ منصور کیا کیا عنایات ہیں
منصور آفاق

رنگوں کے ہم ہیں عاشق ، خوشبو کو چاہتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 357
کھلتی ہوئی کلی کودل سے سراہتے ہیں
رنگوں کے ہم ہیں عاشق ، خوشبو کو چاہتے ہیں
ہم چھوڑتے نہیں ہیں چلتے ہوئے کسی کو
ممکن جہاں تلک ہورشتہ نباہتے ہیں
لگتا ہے میری جاں سے اٹھتی ہیں یہ صدائیں
پت چھڑ کی جب رتوں میں پتے کراہتے ہیں
ہو جاتی ہے خبرکہ اکتا گئے ہیں ہم سے
محفل میں اپنی ساجن جب بھی جماہتے ہیں
منصور تازہ روگ سے خود کو تباہتے ہیں
جی کو مثالِ میر ذرا ہم بساہتے ہیں
منصور آفاق

گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 356
یہی بس چار نعتیں تھیں جو سینے پر سجالی ہیں
گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں
وہی تیرا تمدن ہے بنو ہاشم کی گلیوں میں
امیہ کے نسب نے تازہ تہذیبیں بنا لی ہیں
ترؐے مذہب میں گنجائش نہیں تھی زرکی سو ہم نے
گھروں سے اشرفیاں ، شام سے پہلے نکالی ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے مدینہ آنے والا ہے
لبوں پر کپکپاہٹ ہے یہ آنکھیں رونے والی ہیں
نگاہیں دیکھتی تھیں کتنے سچے خواب یثرب کے
یہ پہچانے ہوئے گھر ہیں یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں
وہی لاہوتی کیفیت اترتی ہے رگ و پے میں
وہی نوری فضائیں ہیں وہی صبحیں نرالی ہیں
کوئی قوسِ قزح سی بھر گئی منصور آنکھوں میں
حریمِ رحمتِ عالم کے کیا رنگِ جمالی ہیں
منصور آفاق

وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 355
میں سوچتا ہوں کہ شہرِ شب کو ملامتوں سے رفاقتیں ہیں
وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں
نظر کی رنگیں مسافتوں کا نہ پوچھ انجام کیا رہا ہے
جنوں کے پُرسوزرتجگوں میں کتابِ دل کی تلاوتیں ہیں
بہکتی راتوں کی چاندنی سے بہلتی زرپوش زندگی ہے
قزح کے رقاص شیش محلوں کو صرف شاموں کی چاہتیں ہیں
خزاں کی سرکش جسارتوں نے مرے وطن کی بہار یں لوٹیں
چمن کی خود ساختہ رُتوں میں منافقت کی حکومتیں ہیں
درندگی کی یہ فکرِ تازہ یہ پاگلوں کے قتالِخود کُش
خرد کے پرہول فیصلے ہیں ستم کی اندھی روایتیں ہیں
وفاکے منصور معبدوں میں دکھوں کی آتش بجھی نہیں ہے
تری نوازش کے سلسلے ہیں تری نظر کی عنایتیں ہیں
منصور آفاق

ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 354
پلیز جمع کرومت ملال کی آنکھیں
ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں
جواب دو کہ فریضہ یہی تمہارا ہے
ہیں انتظار میں ، میرے سوال کی آنکھیں
بڑا ہے شوق مسافر نوازیوں کا انہیں
بچھا رہے ہیں شجر اپنی چھال کی آنکھیں
مرا خیال ہے تارے نہیں یہ آنکھیں ہیں
شبِ فراق میں صبحِ وصال کی آنکھیں
حنوط کرنا پڑے گا چراغِ شام مجھے
کھلی ہوئی افق پر زوال کی آنکھیں
کٹا ہوا یہ کوئی کیک تو نہیں منصور
پڑی ہیں تھال میں اک اور سال کی آنکھیں
منصور آفاق

نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 353
پڑی ہیں ہر طرف وابستگانِ دید کی آنکھیں
نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں
مکمل ہو چکا ہے آخری پیراگراف اپنا
ابھر آئی ہیں کاغذ پر نئی تمہید کی آنکھیں
خدا جانے تجھے کیسی بڑی مجبوری لاحق تھی
مسلسل کھاتی تھیں چغلی تری تردید کی آنکھیں
ستاروں سے صدائیں آتی تھی سبحان اللہ کی
لپکتی تھیں عجب اُس غیرتِ ناہید کی آنکھیں
پلٹ آتی ہیں باغوں کی بہاریں تو مگرمنصور
بھری رہتی ہیں اشکوں سے ہر آتی عید کی آنکھیں
منصور آفاق

اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 352
اوڑھ لیتی ہیں ستاروں کا لبادہ آنکھیں
اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں
کوئی گستاخ اشارہ نہ کوئی شوخ نگہ
اپنے چہرے پہ لیے پھرتا ہوں سادہ آنکھیں
دھوپ کا کرب لیے کوئی افق پر ابھرا
اپنی پلکوں میں سمٹ آئیں کشادہ آنکھیں
ایک دہلیز پہ رکھا ہے ازل سے ماتھا
ایک کھڑکی میں زمانوں سے ستادہ آنکھیں
آنکھ بھر کے تجھے دیکھیں گے کبھی سوچا تھا
اب بدلتی ہی نہیں اپنا ارادہ آنکھیں
شہر کا شہر مجھے دیکھ رہا ہے منصور
کم تماشا ہے بہت اور زیادہ آنکھیں
منصور آفاق

عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 351
نشاں بناتی تھیں پشت پر جووہی پرانی چٹائیاں تھیں
عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں
شبِ برگزیدہ دراز گیسو،ہمہ آفتاب نگاہ اس کی
چراغ ایسے تھے ہاتھ اس کے ، بہار ایسی کلائیاں تھیں
رتوں نے قوسِ قزح پہن لی تھی رنگ خوشبوسے مل گئے تھے
زمین پھولوں سے بھر گئی تھی کچھ ایسی چہرہ نمائیاں تھیں
جو لفظ مچلے زبانِ کُن پر،جو بات نکلی لبِ کرم سے
لکھوک ہا اس میں فائدے تھے کروڑ وں اس میں بھلائیاں تھیں
غلام شاہِ جہاں ہوئے ہیں جو خاک تھے آسماں ہوئے ہیں
پہاڑ اس کے ہوئیں کرم سے وہی جو محکوم رائیاں تھیں
منصور آفاق

قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 350
زندگی ہے دیدۂ سفاک کی جلتی زمیں
قریۂ خوں ریزہے ادراک کی جلتی زمیں
ٹوٹتے جاتے ہیں قسمت کے ستارے ان دنوں
گر رہی ہے خاک پر افلاک کی جلتی زمیں
ہر طرف خودکُش دھماکے ہر طرف ظالم فساد
مانگتی ہے رحم ارضِ پاک کی جلتی زمیں
بند کمرے میں در آئی ہے کسی دیوار سے
ہجر میں دشتِ گریباں چاک کی جلتی زمیں
دیکھتا ہوں خواب میں منصور بمباری کے بعد
سوختہ شہروں سے اڑتی خاک کی جلتی زمیں
منصور آفاق

ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 349
اتفاقات سے بگڑ کے میں
ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں
طشت میں سر بھی اپنا رکھتا تھا
رقص بھی دیکھتا تھا دھڑ کے میں
حل کروں کیسے عقل مندی سے
مسئلے پاگلوں کی بڑ کے میں
کہہ رہا تھا یہ چہرہ لڑکی کا
زندگی ہے بلا کی لڑکے میں
ہجر کی کیفیت ابھی تک تھی
بولتا تھا اکھڑ اکھڑ کے میں
سانس تو لکڑیاں بھی لیتی ہیں
جی رہا ہوں کہاں بچھڑ کے میں
سایوں کے بیچ گزرا کرتا تھا
اُس گلی سے سکڑ سکڑ کے میں
اٹھ کھڑا تھاکسی کی آمد پر
اپنی دیوار کو پکڑ کے میں
دل دھڑکتا تھا ایک دنیا کا
جڑ گیا ہوں کہیں ،اجڑ کے میں
کیسے منصور خالی بستر تھا
لوٹ آیا تھا تڑکے تڑکے میں
اپنے بیٹوں صاحب منصور اور عادل منصور کیلئے
منصور آفاق

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق