زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

کرنے آئی ہے مری ساقی گری شام ڈھلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
آج تنہائی کسی ہمدمِ دیریں کی طرح
کرنے آئی ہے مری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر بیٹھے ہیں ہم دونوں کہ مہتاب اُبھرے
اور ترا عکس جھلکنے لگے ہر سائے تلے
قطعہ
فیض احمد فیض

آگ سُلگاؤ آبگینوں میں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 7
رات ڈھلنے لگی ہے سینوں میں
آگ سُلگاؤ آبگینوں میں
دلِ عُشاق کی خبر لینا
پھول کِھلتے ہیں ان مہینوں میں
قطعہ
فیض احمد فیض

جشن کا دن

جنُوں کی یاد مناؤ کہ جشن کا دن ہے

صلیب و دار سجاؤ کہ جشن کا دن ہے

طرب کی بزم ہے بدلو دِلوں کے پیراہن

جگر کے چاک سِلاؤ کہ جشن کا دن ہے

تنک مزاج ہے ساقی نہ رنگِ مَے دیکھو

بھرے جو شیشہ ، چڑھاؤ کہ جشن کا دن ہے

تمیزِ رہبر و رہزن کرو نہ آج کے دن

ہر اک سے ہاتھ ملاؤ کہ جشن کا دن ہے

ہے انتظارِ ملامت میں ناصحوں کا ہجوم

نظر سنبھال کے جاؤ کہ جشن کا دن ہے

وہ شورشِ غمِ دل جس کی لے نہیں کوئی

غزل کی دُھن میں سُناؤ کہ جشن کا دن ہے

فیض احمد فیض

سفر نامہ

۱ ۔ پیکنگ

یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ

اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے

دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے

میرے کیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال

میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں

میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری

میرے مقدور میں ہے معجزۂ کُن فَیَکُوں

۲ ۔ سِنکیانگ

اب کوئی طبل بجے گا ، نہ کوئی شاہسوار

صبحدم موت کی وادی کو روانہ ہو گا!

اب کوئی جنگ نہ ہو گی نہ کبھی رات گئے

خون کی آگ کو اشکوں سے بُجھانا ہو گا

کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں

وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا

سہم ، خونخوار درندے کی طرح آئے گا

اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ

خوں لُٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہو گا

ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت

مطربہ! کوئی غزل رنگِ حِنا کی صورت

فیض احمد فیض

اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
میخانوں کی رونق ہیں ، کبھی خانقہوں کی
اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے
دلداریِ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

دستِ تہِ سنگ آمدہ

بیزار فضا ، درپئے آزارِ صبا ہے

یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے

ہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسم

اب سیر کے قابل روشِ آب و ہوا ہے

اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات

چھائی ہوئی ہر وانگ ملامت کی گھٹا ہے

وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی

ہر کاسۂ مے زہرِ ھلاہل سے سوا ہے

ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں

یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے

اس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے

مقصودِ رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے

احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے

اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے

ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں

ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے

ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم

ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے

ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک

ہر حرفِ تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے

تعزیرِ سیاست ہے ، نہ غیروں کی خطا ہے

وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے

زندانِ رہِ یار میں پابند ہوئے ہم

زنجیر بکف ہے ، نہ کوئی بند بپا ہے

"مجبوری و دعوائے گرفتاریِ الفت

دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے”

فیض احمد فیض

کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہُوا آباد
کِس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
قطعہ
فیض احمد فیض

فیض از فیض

اپنے بارے میں باتیں کرنے سے مجھے سخت وحشت ہوتی ہے ۔اس لئے کہ سب لوگوں کا مرغوب مشغلہ یہی ہے۔اس انگریزی لفظ کے معذرت چاہتاہوں لیکن اب تو ہمارے ہاں اس کے مشتقات بوریت وغیرہ بھی استعمال میں آنے لگے ہیں۔اس لئے اب اسے اردو میں روزمرہ میں شامل سمجھنا چاہیے۔تومیں یہ کہہ رہا تھاکہ مجھے اپنے بارے میں قیل وقال بری لگتی ہے۔بلکہ میں تو شعر میں بھی حتیٰ الامکان واحد متکلم کا صیغہ استعمال نہیں کرتا،اور ’’میں ‘‘کے بجائے ہمیشہ’’ہم‘‘لکھتاآیا ہوں۔چنانچہ جب ادبی ساغران حضرات مجھ سے یہ پوچھنے بیٹھتے ہیں کہ تم شعرکیوں کہتے ہو تو بات کو ٹالنے کے لئے جو دل میں آئے کہہ دیتاہوں۔مثلاً یہ کہ بھئی میں جیسے بھی کہتاہوں جس لئے بھی کہتا ہوں تم شعر میں خود ڈھونڈواورمیرا سر کھانے کی کیاضرورت ہے۔لیکن ان میں ڈھیٹ قسم کے لوگ جب بھی نہیں مانتے۔چنانچہ آج کی گفتگوکی سب ذمہ داری ان حضرات کے سر ہے مجھ پر نہیں ہے۔

شعر گوئی کا واحدعذرِ گناہ تومجھے نہیں معلوم۔اس میں بچپن کی فضائے گردوپیش میں شعر کا چرچا دوست احباب کی ترغیب اور دل کی لگی سبھی کچھ شامل ہے۔یہ نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی بات ہے جس میں ۹۲۔۸۲ء سے۵۳ء تک کی تحریریں شامل ہیں،جو ہماری طالب العلمی کے دن تھے۔یوں توان سب اشعارکاقریب قریب ایک ہی ذہنی اورجذباتی واردات سے تعلق ہے اور اس واردات کا ظاہری محرک تو وہی ایک حادثہ ہے جواس عمر میں نوجوان دلوں پر گزرجایاکرتا ہے۔لیکن اب جو دیکھتا ہوں تویہ دور بھی ایک دور نہیں تھا بلکہ اس کے بھی دو الگ الگ حصے تھے۔جن کی داخلی اورخارجی کیفیت کافی مختلف تھی۔وہ یوں ہے کہ۰۲ء سے۰۳ء تک زمانہ ہمارے ہاں معاشی اورسماجی طورسے کچھ عجب طرح کی بے فکری،آسودگی اورولولہ انگیزی کا زمانہ تھا،جس میں اہم قومی اورسیاسی تحریکوں کے ساتھ ساتھ نثر ونظم میں بیشتر سنجیدہ فکرومشاہدہ کے بجائے کچھ رنگ رلیاں منانے کا سا اندازتھا۔شعر میں اولاً حسرت موہانی اوران کے بعد جوش،حفیظ جالندھری اوراختر شیرانی کی ریاست قائم تھی،افسانے میں یلدرم اورتنقید میں حسن برائے حسن اور ادب برائے ادب کا چرچاتھا۔نقشِ فریادی کی ابتدائی نظمیں ، ’’خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوارہوتو‘‘مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو‘‘ تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں‘‘وغیرہ وغیرہ اسی ماحول کے زیراثر مرتب ہوئیں اور اس فضا میں ابتدائے عشق کا تحیر بھی شامل تھا۔لیکن ہم لوگ اس دور کی ایک جھلک بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ صحبتِ یار آخرشد۔پھر دیس پرعالمی کساد بازاری کے سائے ڈھلنے شروع ہوئے۔کالج کے بڑے بڑے بانکے تیس مارخاں تلاشِ معاش میں گلیوں کی خاک پھانکنے لگے۔یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئی‘اجڑے ہوئے کسان کھیت کھلیان چھوڑکر شہروں میں مزدوری کرنے لگے اوراچھی خاصی شریف بہو بیٹیاں بازار میں آبیٹھیں۔گھر کے باہر یہ حال تھااورگھر کے اندر مرگِ سوزِ محبت کا کہرام مچاتھا۔یکایک یوں محسوس ہونے لگا کہ دل و دماغ پر سبھی راستے بندہو گئے ہیں اور اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔اس کیفیت کا اختتام جو نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی آخری نظموں کی کیفیت ہے ایک نسبتا غیر معروف نظم پر ہوتا ہے، جسے میں نے یاس کا نام دیا تھا۔وہ یوں ہے:

یاس

بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصہ ہائے فکر وعمل

برم ہستی کے جام پھوٹ گئے

چِھن گیا کیف کوثر و تسنیم

زحمتِ گریہ و بکا بے سود

شکوہ بختِ نارسا بے سود

ہوچکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مدتوں سے بابِ قبول

بے نیازِ دُعا ہے رب کریم

بُجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظارِ فضول رہنے دے

راز الفت نباہنے والے

بارِ غم سے کراہنے والے

کاوش بے حصول رہنے دے

34ء میں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور 35ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسر میں ملازمت کرلی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصرلکھنے والوں کی ذہنی اورجذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاء صاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اوران کی بیگم رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی۔پھر ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی ، مزدور تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔اس دبستان میں سب سے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا تھاکہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کرکے سوچنااول تو ممکن ہی نہیں،اس لئے کہ اس میں بہر حال گردوپیش کے سبھی تجربات شامل ہوتے ہیں اوراگر ایسا ممکن ہوبھی تو انتہائی غیر سودمند فعل ہے کہ ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اورکدورتوں مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی بہت محدود اورحقیر شے ہے۔اس کی وسعت اور پہنائی کا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اورجذباتی رشتے ہیں،خاص طور پر انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔چنانچہ غمِ جاناں اورغمِ دوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔اسی نئے احساس کی ابتداء نقشِ فریادی کے دوسرے حصے کی پہلی نظم سے ہوتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے ’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘

اور اگر آپ خاتون ہیں تو’’مرے محبوب نہ مانگ‘‘

’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھاتھا کہ توہے درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟

تومل جائے تو تقدیر نِگُوں ہوجائے

یوں نہ تھا،میں نے فقط چاہاتھا یُوں ہوجائے

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت سے سوا

راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے

جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کوبھی نظرکیا کیجئے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن ،مگرکیا کیجئے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

اس کے بعد تیر ہ چودہ برس’’کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں‘‘میں گزرے اورپھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔نقشِ فریادی کے بعد کی دوکتابیں’’دست صبا‘‘اور’’زنداں نامہ‘‘اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طورپر تویہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا سلسلہ مجھ سے پہلی سی محبت ،سے شروع ہو اتھالیکن جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے،جس میں فکرونظر کا ایک آدھ نیا دریچہ خودبخود کھل جاتا ہے۔چنانچہ اول تویہ ہے کہ ابتدائے شباب کی طرح تمام حسیات یعنی(Sensations)پھر تیز ہوجاتی ہیں اور صبح کی پَو،شام کے دُھندلکے،آسمان کی نیلاہٹ،ہوا کے گذار کے بارے میں وہی پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔دوسرے یوں ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کا وقت اورفاصلے دونوں باطل ہوجاتے ہیں۔نزدیک کی چیزیں بھی بہت دور ہوجاتی ہیں اوردور کی نزدیک اورفرداودی کا تفرقہ کچھ اس طور سے مت جاتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ قیامت معلوم ہوتا ہے اورکبھی ایک صدی کل کی بات۔تیسری بات یہ ہے کہ فراغتِ ہجراں میں فکرومطالعہ کے ساتھ عروسِ سخن کے ظاہری بناؤ سنگھاؤ پر توجہ دینے کی زیادہ مہلت ملتی ہے۔جیل خانے کے بھی دو دور تھے۔ایک حیدرآباد جیل کا جواس تجربے کے انکشاف کے تحیر کا زمانہ تھا،ایک منٹگمری جیل کا جو اس تجربے سے اکتاہٹ اورتھکن کا زمانہ تھا۔ان دو کیفیتوں کی نمائندہ یہ دو نظمیں ہیں ،پہلی’’دستِ صبا‘‘ میں ہے دوسری’’زندان نامہ‘‘میں ہے۔

زندان نامہ کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ، محو ہیں بنانے میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہ بام پر دمکتا ہے

مہرباں چاندنی کا دست جمیل

خاک میں گُھل گئی ہے آب نجوم

نُور میں گُھل گئی ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہوسکیں گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں

’’اے روشنیوں کے شہر‘‘

سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر

دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر

دور افق تک گھٹتی،بڑھتی ،اٹھتی،گرتی رہتی ہے

کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر

بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر

اے روشنیوں کے شہر

اے روشنیوں کے شہر

کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ

ہر جانب بے نورکھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ

تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ

آج مرا دل فکر میں ہے

اے روشنیوں کے شہر

شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو

خیر ہو تیری لیلاؤں کی ،ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو

زنداں نامے کے بعد کچھ ذہنی افراتفری کا زمانہ ہے جس میں اپنا اخباری پیشہ چُھٹا ،ایک بار جیل گئے۔مارشل لاء کا دور آیا،اورذہنی گردوپیش کی فضا میں پھر سے کچھ انسداد راہ اورکچھ نئی راہوں کی طلب کا احساس پیداہوا۔اس سکوت اورانتظار کی آئینہ دار ایک نظم ہے’’شام‘‘اور ایک نامکمل غزل کے چند اشعار:

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی!

فیض

فیض احمد فیض

تقریر

محترم اراکینِ مجلسِ صدارت ، خواتین اور حضرات!

الفاظ کی تخلیق وترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے۔لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی ہے ۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے۔ایسے کوئی الفاظ میرے ذہن میں نہیں آرہے ، جن میں اپنی عزت افزائی کے لئے لینن پرائز کمیٹی،سوویٹ یونین کے مختلف اداروں ،دوستوں اور سب خواتین اورحضرات کا شکریہ خاطر خواہ طور سے ادا کرسکوں۔لینن امن انعام کی عظمت تو اسی ایک بات سے واضح ہے کہ اس سے لینن کا محترم نام اور مقدس لفظ وابستہ ہے۔لینن جو دور حاضر میں انسانی حریت کا سب سے بزرگ علم بردار ہے اور امن جو انسانی زندگی اور اس زندگی کے حسن وخوبی کی شرطِ اول ہے۔مجھے اپنی تحریر وعمل میں ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا جس اس عظیم اعزاز کے شایان شان ہو۔لیکن اس عزت بخشی کی ایک وجہ ضرور ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس تمنا اور آدرش کے ساتھ مجھے اور میرے ساتھیوں کو وابستگی رہی ہے یعنی امن اور آزادی کی تمنا وہ بجائے خود اتنی عظیم ہے کہ اس واسطے سے ان کے حقیر اور ادنیٰ کارکن بھی عزت اوراکرام کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

یوں تو ذہنی طور سے مجنون اور جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ سبھی مانتے ہیں کہ امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیز ہے اور سبھی تصور کرسکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت،دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ،شاعر کا قلم ہے اور مصور کاموئے قلم اورآزادی ان سب صفات کی ضامن اورغلامی ان سب خوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اورحیوان میں تمیز کرتی ہے۔یعنی شعور اورذہانت ،انصاف اور صداقت،وقار اورشجاعت،نیکی اور رواداری____اس لئے بظاہر امن اورآزادی اورکے حصول اور تکمیل کے متعلق ہوشمند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہ ہونا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے یوں نہیں ہے کہ انسانیت کی ابتدارء سے اب تک ہر عہداور ہر دور میں متضاد عوامل اور قوتیں برسرِعمل اور برسرپیکار رہی ہیں۔یہ قوتیں ہیں ،تخریب وتعمیر،ترقی اور زوال،روشنی اور تیرگی،انصا ف دوستی کی قوتیں۔یہی صورت آج بھی ہے اور اسی نوعیت کی کشمکش آج بھی جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ آج کل انسانی مسائل اور گزشتہ دور کی انسانی الجھنوں میں کئی نوعیتوں سے بھی فرق ہے۔دورِ حاضر میں جنگ سے دوقبیلوں کا باہمی خون خرابہ مراد نہیں ہے۔نہ آج کل امن سے خون خرابے کا خاتمہ مراد ہے۔آج کل جنگ اور امن کے معنی ہیں امنِ آدم کی بقااور فنا۔بقااورفنا ان دو الفاظ پر انسانی تاریخ کے خاتمے یا تسلسل کا دارومدار ہے۔انہیں پرانسانوں کی سرزمین کی آبادی اوربربادی کا انحصار ہے۔یہ پہلا فرق ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اب سے پہلے انسانوں کو فطرت کے ذخائر پر اتنی دسترس اور پیداوار کے ذرائع پر اتنی قدرت نہ تھی کہ ہر گروہ اوربرادری کی ضرورتیں پوری طرح تسکین پاسکتیں۔اس لئے آپس میں چھین جھپٹ اور لوٹ مار کا کچھ نہ کچھ جواز بھی موجود ہے۔لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے۔انسانی عقل ، سائنس اورصنعت کی بدولت اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہ جس میں سب تن بخوبی پل سکتے ہیں اور سبھی جھولیاں بھرسکتی ہیں۔بشرطیکہ قدرت کے یہ بے بہا ذخائر پیداوار کے یہ بے اندازہ خرمن،بعض اجارہ داروں اورمخصوص طبقوں کی تسکینِ ہوس کے لئے نہیں،بلکہ جملہ انسانوں کی بہبود کے لئے کام میں لائے جائیں۔اورعقل اورسائنس اورصنعت کی کل ایجادیں اورصلاحتیں تخریب کے بجائے تعمیری منصوبوں میں صرف ہوں۔لیکن یہ جبھی ممکن ہے کہ انسانی معاشرے میں ان مقاصد سے مطابقت پیدا ہو اورانسانی معاشرے کے ڈھانچے کی بنائیں ہوسِ ،استحصال اوراجارہ داری کے بجائے انصاف برابری،آزادی اوراجتماعی خوش حالی میں اٹھائیں جائیں۔اب یہ ذہنی اورخیالی بات نہیں،عملی کام ہے۔اس عمل میں امن کی جدوجہد اورآزادی کی حدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔اس لئے کہ امن کے دوست اوردشمن اورآزادی کے دوست اور دشمن ایک ہی قبیلے کے لوگ،ایک ہی نوع کی قوتیں ہیں۔ایک طرف وہ سامراجی قوتیں ہیں جن کے مفاد،جن کے اجارے جبر اورحسد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اورجنہیں ان اجاروں کے تحفظ کے لئے پوری انسانیت کی بھینٹ بھی قبول ہے۔دوسری طرف وہ طاقتیں ہیں جنہیں بنکوں اور کمپنیوں کی نسبت انسانوں کی جان زیادہ عزیز ہے۔جنہیں دوسروں پر حکم چلانے کے بجائے آپس میں ہاتھ بٹانے اورساتھ مل کر کام کرنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔سیاست واخلاق،ادب اورفن،روزمرہ زندگی،غرض کئی محاذوں پر کئی صورتوں میں تعمیر اورتخریب انسان دوستی اور انسان دشمنی کی یہ چپقلش جاری ہے۔

آزادی پسند اور امن پسند لوگوں کے لئے ان میں سے ہر محاز اورہرصورت پر توجہ دینا ضروری ہے۔مثال کے طور پر سامراجی اورغیر سامراجی قوتوں کی لازمی کشمکش کے علاوہ بدقسمتی سے بعض ایسے ممالک میں بھی شدید اختلاف موجود ہیں،جنہیں حال ہی میں آزادی ملی۔ایسے اختلافات ہمارے ملک پاکستان اور ہمارے سب سے قریبی ہمسایہ ہندوستان میں موجود ہیں۔بعض عرب ہمساہہ ممالک میں اور بعض افریقی حکومتوں میں موجود ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے اختلافات سے وہی طاقتیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں جو امن عالم اورانسانی برادری کی دوستی اور یگانگت کو پسند نہیں کرتیں۔اسلئے صلح پسنداورامن دوست صفوں میں ان اختلافات کے منصفانہ حل پر غوروفکر اوراس حل میں امداددینا بھی لازم ہے۔

اب سے کچھ دن پہلے جب سوویت فضاؤں کا تازہ کارنامہ ہر طرف دنیا میں گونج رہا تھاتومجھے باربارخیال آتا رہا کہ آج کل جب ہم ستاروں کی دنیا میں بیٹھ کر اپنی ہی دنیا کا نظارہ کرسکتے ہیں توچھوٹی چھوٹی کمینگیاں،خود غرضیاں ،یہ زمین کے چند ٹکڑوں کو بانٹنے کو کوششیں اورانسانوں کی چند ٹولیوں پر اپنا سکہ چلانے کی خواہش کیسی بعیدازعقل باتیں ہیں۔اب جبکہ ساری کائنات کے راستے ہم پرکشادہ ہو گئے ہیں۔ساری دنیاکے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں،توکیاانسانوں میں ذی شعور،منصف مزاج اوردیانت دارلوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کو منواسکے کہ یہ جنگی اڈے سمیٹ لو۔یہ بم اورراکٹ ،توپیں بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائے سب مل کر تسخیر کائنات کو چلو۔جہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،جہاں کس کو کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے،جہاں لا محدود فضائیں ہیں اوران گنت دنائیں۔مجھے یقین ہے کہ سب رکاوٹوں اورمشکلوں کے باوجود ہم لوگ اپنی انسانی برادری سے یہ بات منواکررہیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ انسانیت جس نے اپنے دشمنوں سے آج تک کبھی ہار نہیں کھائی اب بھی فتح یاب ہوکررہے گی۔اورآخرِکار جنگ ونفرت اورظلم کدورت کے بجائے ہمارے باہمی زندگی کی بناوہی ٹھہرے گی جس کی تلقین اب سے بہت پہلے فارسی شاعر حافظ نے کی تھی

خلل پذیر بود ہر بناکہ می بینی

مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است

فیض احمد فیض

آگ سلگاو آبگینوں میں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 34
رات ڈھلنے لگی ہے سینوں میں
آگ سلگاو آبگینوں میں
دلِ عشا ق کی خبر لینا
پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں
قطعہ
فیض احمد فیض

نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 33
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہوا ہے جب سے دلِ ناصبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے
طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارہء سحری ہمکلام کب سے ہے
لاہور
فیض احمد فیض

کیا خبر آج خراماں سرِ‌گلزار ہے کون

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
کیا خبر آج خراماں سرِ‌گلزار ہے کون
شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی
یہ جو نکلا ہے لیے مشعلِ رخسار، ہے کون
رات مہکی ہوئی آتی ہے کہیں سے پوچھو
آج بکھرائے ہوئے زلفِ طرحدار ہے کون
پھر درِ دل پہ کوئی دینے لگا ہے دستک
جانیے پھر دلِ وحشی کا طلبگار ہے کون
فیض احمد فیض

تو صبح جھوم کے گلزار ہو گئی یکسر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
کِھلے جو ایک دریچے میں آج حسن کے پھول
تو صبح جھوم کے گلزار ہو گئی یکسر
جہاں کہیں‌ بھی گرا نور اُن نگاہوں سے
ہر ایک چیز طرحدار ہو گئی یکسر
قطعہ
فیض احمد فیض

تمہاری یاد سے دل ہمکلام رہتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 30
تمہارے حسن سے رہتی ہے ہمکنار نظر
تمہاری یاد سے دل ہمکلام رہتا ہے
رہی فراغتِ ہجراں تو ہو رہے گا طے
تمہاری چاہ کا جو جو مقام رہتا ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌ لطف کا آہنگ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
تمام شب دلِ وحشی تلاش کرتا ہے
ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌ لطف کا آہنگ
ہر ایک صبح ملاتی ہے بار بار نظر
ترے دہن سے ہر اک لالہ و گلاب کا رنگ
قطعہ
فیض احمد فیض

کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 28
یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے قاصد
کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے
ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن
رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے
ہوسِ‌ مطرب و ساقی میں‌پریشاں اکثر
ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے
شوق والوں‌ کی حزیں‌ محفلِ شب میں اب بھی
آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے
اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی
داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے
ناتمام ۔ لاہور
فیض احمد فیض

کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 27
شہر میں‌ چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے
لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں‌ نے
حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیں‌تمہید اب کے
چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق
ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا، نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں‌ جو ہوا تیز چلی
لا کے رکھو سرِ محفل کوئی خورشید اب کے
کراچی
فیض احمد فیض

کوئی عاشق کسی محبوبہ سے

یاد کی راہگزر جس پہ اسی صورت سے

مدتیں بیت گئی ہیں تمہیں چلتے چلتے

ختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلو

موڑ پڑتا ہے جہاں دشتِ فراموشی کا

جس سے آگے نہ کوئی میں ہوں نہ کوئی تم ہو

سانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دم

تم پلٹ آؤ، گزر جاؤ، یا مڑ کردیکھو

گرچہ واقف ہیں نگاہیں کہ یہ سب دھوکا ہے

گر کہیں‌ تم سے ہم آغوش ہوئی پھر سے نظر

پھوٹ نکلے گی وہاں اور کوئی راہگزر

پھر اسی طرح جہاں ہو گا مقابل پیہم

سایہء زلف کا اور جنببشِ بازو کا سفر

دوسری بات بھی جھوٹی ہے کہ دل جانتا ہے

یاں کوئی موڑ کوئی دشت کوئی گھات نہیں

جس کے پردے میں‌ مرا ماہِ رواں ڈوب سکے

تم سے چلتی رہے یہ راہ، یونہی اچھا ہے

تم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو کوئی بات نہیں

فیض احمد فیض

بنیاد کچھ تو ہو

کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو

کچھ تو کہو ستم کشو، فریاد کچھ تو ہو

بیداد گر سے شکوۂ بیداد کچھ تو ہو

بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا

اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا

مقتل میں‌ کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا

رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو

خوں پر گواہ دامنِ جلّاد کچھ تو ہو

جب خوں بہا طلب کریں ،بنیاد کچھ تو ہو

گرتن نہیں ، زباں سہی، آزاد کچھ تو ہو

دشنام، نالہ، ہاؤ ہو، فریاد کچھ تو ہو

چیخے ہے درد، اے دلِ برباد کچھ تو ہو

بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

سب کاٹ دو بسمل پودوں کو

بے آب سسکتے مت چھوڑو

سب نوچ لو

بیکل پھولوں کو

شاخوں پہ بلکتے مت چھوڑو

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

سب محنت، صبحوں شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

کھیتی کے کونوں، کھدروں میں

پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو

پھر مٹی سینچو اشکوں سے

پھر اگلی رت کی فکر کرو

پھر اگلی رت کی فکر کرو

جب پھر اک بار اُجڑنا ہے

اک فصل پکی تو بھر پایا

جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہء در تو دیکھو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہء در تو دیکھو
ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو ، پندگرو، راہگزر تو دیکھو
وہ تو وہ ہے، تمہیں ہوجائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی اُن کا جگر تو دیکھو
دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اِک دن دلِ پُر خوں کا ہنر تو دیکھو
صبح کی طرح جھمکتا ہے شبِ غم کا افق
فیض، تابندگیء دیدہء تر تو دیکھو
فیض احمد فیض

Africa Come Back

آجاؤ، میں نے سن لی ترے ڈھول کی ترنگ

آجاؤ، مست ہو گئی میرے لہو کی تال

“آجاؤ ایفریقا“

آجاؤ، میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا

آجاؤ، میں نے چھیل دی آنکھوں سے غم کی چھال

آجاؤ، میں نے درد سے بازو چھڑا لیا

آجاؤ، میں نے نوچ دیا بے کسی کا جال

’’جاؤ ایفریقا“

پنجے میں ہتھکڑی کی کڑی بن گئی ہے گرز

گردن کا طوق توڑ کے ڈھالی ہے میں نے ڈھال

“آجاؤ ایفریقا“

جلتے ہیں ہر کچھار میں بھالوں کے مرگ نین

دشمن لہو سے رات کی کالک ہوئی ہے لال

“آجاؤ ایفریقا“

دھرتی دھڑک رہی ہے مرے ساتھ ایفریقا

دریا تھرک رہا ہے توبن دے رہا ہے تال

میں ایفریقا ہوں، دھار لیا میں نے تیرا روپ

میں تو ہوں ،میری چال ہے تیری ببر چال

“آجاؤ ایفریقا“

آؤ ببر کی چال

“آجاؤ ایفریقا“

(منٹگمری جیل ۔ ؎۱افریقی حریت پسندوں کا نعرہ)

فیض احمد فیض

رنگِ رخسار کی پھوہار گری

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
صبح پھوٹی تو آسماں پہ ترے
رنگِ رخسار کی پھوہار گری
رات چھائی تو روئے عالم پر
تیری زلفوں کی آبشار گری
قطعہ
فیض احمد فیض

درد آئے گا دبے پاؤں

اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو

فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے

درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ

وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے

شعلہء درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا

دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا

حلقہء زلف کہیں، گوشہء رخسار کہیں

ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں

لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں

۔۔

دل سے پھر ہو گی مری بات کہ اے دل اے دل

یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا

یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا

اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہو گا

مشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائے

یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے

رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہو گا

جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل

دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل

یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی

درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل

لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار

طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ

وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤ

جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر

منتظر ہو گا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر

ان کو شعلوں‌کے رجز اپنا پتا تو دیں‌گے

خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گے

دور کتنی ہے ابھی صبح، بتا تو دیں گے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

دریچہ

گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں

ہر ایک اپنے مسیحا کے خوں کا رنگ لیے

ہر ایک وصلِ خداوند کی امنگ لیے

کسی پہ کرتے ہیں ابرِ بہار کو قرباں

کسی پہ قتل مہِ تابناک کرتے ہیں

کسی پہ ہوتی ہے سرمست شاخسار دو نیم

کسی پہ بادِ صبا کو ہلاک کرتے ہیں

ہر آئے دن یہ خداوندگانِ مہر و جمال

لہو میں‌ غرق مرے غمکدے میں‌ آتے ہیں

اور آئے دن مری نظروں کے سامنے ان کے

شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

ہم بادہ کشوں کے حصے کی، اب جام میں کمتر جاتی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
ہم بادہ کشوں کے حصے کی، اب جام میں کمتر جاتی ہے
یوں عرض و طلب سے کب اے دل، پتھر دل پانی ہوتے ہیں
تم لاکھ رضا کی خُو ڈالو، کب خوئے ستمگر جاتی ہے
بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں
سر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ہے
ہاں، جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجے
ہر رہ جو اُدھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے
اب کوچہء دلبر کا رہرو، رہزن بھی بنے تو بات بنے
پہرے سے عدو ٹلتے ہی نہیں اور رات برابر جاتی ہے
ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہیں، ہر روز نسیمِ صبحِ وطن
یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

منتِ‌این و آں تو چھوٹے گی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
فکرِ سود و زیاں تو چھوٹے گی
منتِ‌این و آں تو چھوٹے گی
خیر، دوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی
قطعہ
فیض احمد فیض

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں‌کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں‌کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم

ہم چلے آئے ،لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل ، دل میں قندیلِغم

اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں‌میں مارے گئے

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عُشاق کے قافلے

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم

جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں‌ مارے گئے

فیض احمد فیض

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ھے درد کا رشتہ، یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
حضورِ‌ یار ہوئی دفترِ جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے
مقام، فیض، کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

اے روشنیوں‌کے شہر

سبزہ سبزہ، سوکھ رہی ہے پھیکی، زرد دوپہر

دیواروں‌کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر

دور افق تک گھٹتی، بڑھتی ، اُٹھتی، گرتی رہتی ہے

کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر

بستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر

اے روشنیوں کے شہر

کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ

ہر جانب بے نور کھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ

تھک کر ہرسو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ

آج مرا دل فکر میں ہے

اے روشنیوں کے شہر

شب خوں سے منھ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو

خیر ہو تیری لیلاؤں کی، ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیے جلائیں، اونچی رکھیں لو

(لاہور جیل)

فیض احمد فیض

دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوقِ فضول و الفتِ ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرفِ ملامت سے شاد ہے
اے جانِ جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لبمی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں
دستِ فلک میں گردشِ ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیض غزل ابتدا کرو
وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہے اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچہء جاناں میں‌کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان توآنی جانی ہے ، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدانِ وفا دربار نہیں یاں‌ نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
فیض احمد فیض

شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی
سروہی ہے تو آستاں ہے وہی
جاں وہی ہے تو جانِ جاں‌ہے وہی
اب جہاں مہرباں نہیں کوئی
کوچہء یارِ مہرباں ہے وہی
برق سو بار گر کے خاک ہوئی
رونقِ خاکِ آشیاں ہے وہی
آج کی شب وصال کی شب ہے
دل سے ہر روز داستاں ہے وہی
چاند تارے ادھر نہیں آتے
ورنہ زنداں میں‌ آسماں ہے وہی
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے

بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی!

ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں

بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا

ہم سے جہاں میں کشتہء غم اور کیا نہ تھے

گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم

کیوں محوِ مدح خوبیء تیغِ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے

لب پر ہے تلخیء مئے ایام ، ورنہ فیض

ہم تلخیء کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

فیض احمد فیض

دل کی حالت سنبھل چلی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
بات بس سے نکل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے
اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے
اب طبیعت بہل چلی ہے
اشک خونناب ہو چلے ہیں
غم کی رنگت بدل چلی ہے
یا یونہی، بجھ رہی ہیں شمعیں
یا شبِ ہجر ٹل چلی ہے
لاکھ پیغام ہو گئے ہیں
جب صبا ایک پل چلی ہے
جاو اب سو رہو ستارو
درد کی رات ڈھل چلی ہے
فیض احمد فیض

وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
نہ آج لطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے
وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں
قطعہ
فیض احمد فیض

ملاقات

یہ رات اُس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے ، تجھ سے عظیم تر ہے

عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں

میں لاکھ مشعل بکف ستاروں

کے کارواں، گھِر کے کھو گئے ہیں

ہزار مہتاب، اس کے سائے

میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں

یہ رات اُس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

مگر اسی رات کے شجر سے

یہ چند لمحوں کے زرد پتے

گرے ہیں، اور تیرے گیسوؤں میں

الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں

اسی کی شبنم سے خامشی کے

یہ چند قطرے، تری جبیں پر

برس کے ، ہیرے پرو گئے ہیں

۔ ۲ ۔

بہت سیہ ہے یہ رات لیکن

اسی سیاہی میں رونما ہے

وہ نہرِ خوں جو مری صدا ہے

اسی کے سائے میں نور گر ہے

وہ موجِ زر جو تری نظر ہے

وہ غم جو اس وقت تیری باہوں

کے گلستاں میں‌ سلگ رہا ہے

(وہ غم، جو اس رات کا ثمر ہے)

کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں

کی آنچ میں تو یہی شرر ہے

ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے

جگر میں‌ٹوٹے ہیں تیر جتنے

جگر سے نوچے ہیں، اور ہر اک

کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

الم نصیبوں، جگر فگاروں

کی صبح، افلاک پر نہیں ہے

جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

سحر کا روشن افق یہیں ہے

یہیں‌پہ غم کے شرار کھل کر

شفق کا گلزار بن گئے ہیں

یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے

قطار اندر قطار کرنوں

کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے

یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے

یقیں جو غم سے کریم تر ہے

سحر جو شب سے عظیم تر ہے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے
خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم اُن سے رشتہء دل استوار کرتے رہے
وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی
ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخنِ‌ رازدار کرتے رہے
ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے
انہیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
جناح ہسپتال، کراچی
فیض احمد فیض

دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی
جب تجھے یاد کرلیا، صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی
دل سے تو ہر معاملہ کرکے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
آخرِ شب کے ہمسفر فیض نجانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا، صبح کدھر نکل گئی
جناح ہسپتال کراچی
فیض احمد فیض

سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے
جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے
مقام ہے اب کوئی نہ منزل، فرازِ دار و رسن سے پہلے
نہیں رہی اب جنوں کی زنجیر پر وہ پہلی اجارہ داری
گرفت کرتے ہیں کرنے والے خرد پہ دیوانہ پن سے پہلے
کرے کوئی تیغ کا نظارہ، اب اُن کو یہ بھی نہیں گوارا
بضد ہے قاتل کہ جانِ بسمل فگار ہو جسم و تن سے پہلے
غرورِ سرو و سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والیء چمن تھے عروجِ سرو و سمن سے پہلے
ادھر تقاضے ہیں مصلحت کے، ادھر تقاضائے دردِ دل ہے
زباں سنبھالیں کہ دل سنبھالیں ، اسیر ذکر وطن سے پہلے
حیدرآباد جیل ١٧، ٢٢ مئی ٥٤ء
فیض احمد فیض

اے حبیبِ عنبر دست!

کسی کے دستِ عنایت نے کنجِ زنداں میں

کیا ہے آج عجب دل نواز بندوبست

مہک رہی ہے فضا زلفِ یار کی صورت

ہوا ہے گرمیء خوشبو سے اس طرح سرمست

ابھی ابھی کوئی گزرا ہے گل بدن گویا

کہیں قریب سے ، گیسو بدوش ، غنچہ بدست

لیے ہے بوئے رفاقت اگر ہوائے چمن

تو لاکھ پہرے بٹھائیں قفس پہ ظلم پرست

ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخِ مہرووفا

کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست

یہ شعرِ حافظِ شیراز ، اے صبا! کہنا

ملے جو تجھ سے کہیں وہ حبیبِ عنبر دست

"خلل پذیر بود ہر بنا کہ مے بینی

بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است”

(سنٹرل جیل حیدر آباد ٨٢)

فیض احمد فیض

ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم ، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچہء قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں
فیض احمد فیض

شکر ہے زندگی تباہ نہ کی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 1
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہُوے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی
تھے شبِ ہجر، کام اور بہت
ہم نے فکرِ دلِ تباہ نہ کی
کون قاتل بچا ہے شہر میں فیض
جس سے یاروں نے رسم وراہ نہ کی
فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

اپنالی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
میخانے کی رونق ہیں کبھی خانقہوں کی
اپنالی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے
دلداریء واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے
فیض احمد فیض

سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 41
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خُو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض

جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 40
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں
آنکھوں میں درد مندی، ہونٹوں پہ عذر خواہی
جانانہ وارآئی شامِ فراقِ یاراں
ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی ورنہ
آساں نہ تھی کچھ ایسی راہِ وفا شعاراں
مجرم ہو خواہ کوئی، رہتا ہے ناصحوں کا
روئے سخن ہمیشہ سوئے جگر فگاراں
ہے اب بھی وقت زاہد، ترمیمِ زہد کر لے
سوئے حرم چلا ہے انبوہِ بادہ خواراں
شاید قریب پہنچی صبحِ وصال ہمدم
موجِ صبا لیے ہے خوشبوئے خوش کناراں
ہے اپنی کشتِ ویراں، سرسبز اس یقیں سے
آئیں گے اس طرف بھی اک روز ابرو باراں
آئے گی فیض اک دن بادِ بہار لے کر
تسلیمِ مے فروشاں، پیغامِ مے گساراں
فیض احمد فیض

یاد

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب

دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے

کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ

اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدہم مدہم

دورافق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ

گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں، رکھا ہے

دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات

یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق

ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک صبح

رات باقی تھی ابھی جب سرِ بالیں آکر

چاند نے مجھ سے کہا۔۔۔“جاگ سحر آئی ہے

جاگ اس شب جو مئے خواب ترا حصہ تھی

جام کے لب سے تہ جام اتر آئی ہے“

عکسِ جاناں کو ودع کرکے اُٹھی میری نظر

شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر

جابجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور

چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر

ڈوبتے، تیرتے، مرجھاتے رہے، کھلتے رہے

رات اور صبح بہت دیر گلے ملتے رہے

صحنِ زنداں میں رفیقوں کے سنہرے چہرے

سطحِ ظلمت سے دمکتے ہوئے ابھرے کم کم

نیند کی اوس نے ان چہروں سے دھو ڈالا تھا

دیس کا درد، فراقِ رخِ محبوب کا غم

دور نوبت ہوئی، پھرنے لگے بیزار قدم

زرد فاقوں کے ستائے ہوئے پہرے والے

اہلِ زنداں کے غضبناک ، خروشاں نالے

جن کی باہوں میں پھرا کرتے ہیں باہیں ڈالے

لذتِ خواب سے مخمور ہوائیں جاگیں

جیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیں

دور دروازہ کھلا کوئی، کوئی بند ہوا

دور مچلی کوئی زنجیر ، مچل کر روئی

دور اُترا کسی تالے کے جگر میں خنجر

سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی

گویا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمنِ جاں

سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جناتِ گراں

جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں

میرے بیکار شب و روز کی نازک پریاں

اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر

جس کے ترکش میں ہیں امید کے جلتے ہوئے تیر

(ناتمام)

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ،محو ہیں بنائے میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہء بام پر دمکتا ہے!

مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل

خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم

نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

فیض احمد فیض

آشنا شکل ہر حسیں کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
آشنا شکل ہر حسیں کی ہے
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہرگھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبحِ گل ہو کہ شامِ مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ، بیانِ حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے
فیض اوجِ خیال سے ہم نے
آسماں سندھ کی زمیں کی ہے
فیض احمد فیض

پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں
بہار آئے گی جب آئے گی، یہ شرط نہیں
کہ تشنہ کام رہیں گرچہ بادہ رکھتے ہیں
تری نظر کا گلہ کیا؟ جو ہے گلہ دل کا
تو ہم سے ہے، کہ تمنا زیادہ رکھتے ہیں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرقِ خوں ہیں کہ ہم
خیالِ وضعِ قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیر ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
جوابِ واعظِ چابک زباں میں فیض ہمیں
یہی بہت ہیں جو دو حرفِ سادہ رکھتے ہیں
نذرِ غالب
فیض احمد فیض

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 34
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے دروبام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سربسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
فیض احمد فیض

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر

جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا

کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے

جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کامسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں

وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی

صد ناز سے اُترا کرتی تھی

صہبائے غمِ جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے

یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا

جو مے تھی بہادی مٹی میں

مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید

اُن شوخ بلوریں سپنوں کے

تم مست جوانی میں جن سے

خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری، دفتر، بھوک اور غم

ان سپنوں سے ٹکراتے رہے

بے رحم تھا چومکھ پتھراو

یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں

موتی ہے تمہاری عزت کا

وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی

شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے

تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی

ہے چورنگر، یاں مفلس کی

گرجان بچی تو آن گئی

یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر

سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں

یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط

چبھتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر!

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو

پر دل کی گزر کب ہوتی ہے

اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا

یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کارگہِ ہستی میں جہاں

یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں

ہر شے کا بدل مل سکتا ہے

سب دامن پُر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں

جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور

یاں دھن دولت کا انت نہیں

ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر

کب لوٹ چھپٹ سے ہستی کی

دوکانیں خالی ہوتی ہیں

یا پربت پربت ہیرے ہیں

یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر

پردے لٹکائے پھرتے ہیں

ہر پربت کو، ہر ساگر کو

نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھِڑ کر

یہ پردے نوچ گراتے ہیں

ہستی کے اُٹھائی گیروں کی

ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رَن پڑتا ہے

نِت بستی بستی نگر نگر

ہر بستے گھر کے سینے میں

ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں

وہ جوت جگاتے رہتے ہیں

یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں

وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر

اس بازی میں بَد جاتے ہیں

اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو

اِس رَن سے بلاوے آتے ہیں

فیض احمد فیض

جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمنِ دیں ، راحتِ جاں ٹھہری ہے
ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے
ہے وہی عارضِ لیلیٰ ، وہی شیریں کا دہن
نگہِ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے
بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موجِ شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے
دستِ صیاد بھی عاجز ، ہے کفِ گلچیں بھی
بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے
آتے آتے یونہی دم بھر کو رکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
فیض احمد فیض

نثار میں تیری گلیوں کے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد

؎۱ کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جُو کے لیے

جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں

بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی

کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں

ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے

کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی

چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے

کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہو گی

غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں

گرفتِ سایہء دیوار و در میں جیتے ہیں

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی

یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول

نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے

ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں

علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

؎۱ سنگ ہارا بستند و سگاں را کشادند (شیخ سعدی)

فیض احمد فیض

اگست 1952ء

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں

گوشے رہِ چمن میں غزلخواں ہوے تو ہیں

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر

کچھ کچھ سحر کے رنگ پَر افشاں ہوے تو ہیں

ان میں لہو جلا ہو ہمارا، کہ جان و دل

محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

ہاں کج کرو کلاہ کہ سب کچھ لٹا کے ہم

اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں

اہلِ قفس کی صبحِ چمن میں کھلے گی آنکھ

بادِ صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیں

ہے دشت اب بھی دشت، مگر خونِ پا سے فیض

سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں

فیض احمد فیض

جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں
ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں، مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں
فیض احمد فیض

ایرانی طلبا کے نام

جو امن اور آزادی کی جدوجہد میں کام آئے

یہ کون سخی ہیں

جن کے لہوکی

اشرفیاں، چھن چھن، چھن چھن،

دھرتی کے پیہم پیاسے

کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں

کشکول کو بھرتی ہیں

یہ کون جواں ہیں ارضِ عجم

یہ لکھ لُٹ

جن کے جسموں کی

بھرپور جوانی کا کندن

یوں خاک میں ریزہ ریزہ ہے

یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے

اے ارضِ عجم، اے ارضِ عجم

کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دئے

ان آنکھوں نے اپنے نیلم

ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں

ان ہاتوں کی“ بے کل چاندی

کس کام آئی، کس ہاتھ لگی؟“

“اے پوچھنے والے پردیسی!

یہ طفل و جواں

اُس نور کے نورس موتی ہیں

اُس آگ کی کچی کلیاں ہیں

جس میٹھے نور اور کڑوی آگ

سے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹا

صبحِ بغاوت کا گلشن

اور صبح ہوئی من من، تن تن

ان جسموں کا چاندی سونا

ان چہروں کے نیلم، مرجاں،

جگ مگ جگ مگ، رُخشاں رُخشاں

جو دیکھنا چاہے پردیسی

پاس آئے دیکھے جی بھر کر

یہ زیست کی رانی کا جھومر

یہ امن کی دیوی کا کنگن!“

فیض احمد فیض

نوحہ

مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جانتے ہوئے

لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں

اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے

اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی ، یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں

مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال

آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوسِ جواب

آکے لے جاو تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول

مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

فیض احمد فیض

موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 26
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اُس بزم میں جانے کا نام
دلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زلف بکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا ، ساقی کا، مے کا، خُم کا ،پیمانے کانام
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
فیض اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے جنہیں
آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانے کا نام
فیض احمد فیض

وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں
تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں
یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ
یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں
پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید
گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں
فقیہہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں
کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں
نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب زیانِ چمن
کھلے نہ پھول ، اسے انتظام کہتے ہیں
کہو تو ہم بھی چلیں فیض، اب نہیں سِردار
وہ فرقِ مرتبہء خاص و عام ، کہتے ہیں
فیض احمد فیض

علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنہیں پسند، اُنہیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہء جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنہیں خبر تھی کہ شرطِ نواگری کیا ہے
وہ خوش نوا گلہء قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
فیض احمد فیض

دو عشق

۔ ١ ۔

تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیِ گلفام

وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام

وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت

وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام

امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر

لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے

اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس بام سے نکلے گا ترے حسن کا خورشید

اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی

اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب

اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی

پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی

جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے

ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے

ہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے

کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں

آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دستِ صبا کو

ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں

۔ ٢ ۔

چاہا ہے اسی رنگ سے لیلائے وطن کو

تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں

ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل

رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

اُس جانِ جہاں کو بھی یونہی قلب و نظر نے

ہنس ہنس کے صدا دی، کبھی رو رو کے پکارا

پورے کیے سب حرفِ تمنا کے تقاضے

ہر درد کو اجیالا، ہر اک غم کو سنوارا

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری

تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار

گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر

کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام

چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت

اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل

ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت

فیض احمد فیض

ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
قصہء سازشِ اغیار کہوں یانہ کہوں
شکوہء یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں
جانے کیا وضع ہے اب رسمِ وفا کی اے دل
وضعِ دیرینہ پہ اصرار کروں یا نہ کروں
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہلِ ہوس
مدحِ زلف و لب و رخسار کروں یا نہ کروں
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صبا
پوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
گویا اس سوچ میں ہے دل میں لہو بھر کے گلاب
دامن و جیب کو گلنار کروں یا نہ کروں
ہے فقط مرغِ غزلخواں کہ جسے فکر نہیں
معتدل گرمیء گفتار کروں یا نہ کروں
نذرِ سودا
فیض احمد فیض

عشق کے دم قدم کی بات کرو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
عجزِ اہل ستم کی بات کرو
عشق کے دم قدم کی بات کرو
بزمِ اہل طرب کو شرماو
بزمِ اصحابِ غم کی بات کرو
بزمِ ثروت کے خوش نشینوں سے
عظمتِ چشمِ نم کی بات کرو
ہے وہی بات یوں بھی اور یوں بھی
تم ستم یا کرم کی بات کرو
خیر، ہیں اہلِ دیر جیسے ہیں
آپ اہل حرم کی بات کرو
ہجر کی شب تو کٹ ہی جائے گی
روزِ وصلِ صنم کی بات کرو
جان جائیں گے جاننے والے
فیض، فرہاد و جم کی بات کرو
فیض احمد فیض

ترانہ

دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت

چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک

کچھ حشر تو ان سے اُٹھے گا۔ کچھ دور تو نالے جائیں گے

فیض احمد فیض

۔۔۔۔۔۔تمہارے حسن کے نام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

بکھر گیا جو کبھی رنگِ پیرہن سرِ بام

نکھر گئی ہے کبھی صبح، دوپہر ، کبھی شام

کہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قبا

چمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام

بنی بساطِ غزل جب ڈبو لیے دل نے

تمہارے سایہء رخسار و لب میں ساغر و جام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

تمہارے ہاتھ پہ ہے تابشِ حنا جب تک

جہاں میں باقی ہے دلداریء عروسِ سخن

تمہارا حسن جواں ہے تو مہرباں ہے فلک

تمہارا دم ہے تو دمساز ہے ہوائے وطن

اگر چہ تنگ ہیں اوقات ، سخت ہیں آلام

تمہاری یاد سے شریں ہے تلخیء ایام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

فیض احمد فیض

شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارہء شام
شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے
کوئی پکارو کہ اک عمر ہونے آئی ہے
فلک کو قافلہء روز و شام ٹھہرائے
یہ ضد ہے یادِ حریفانِ بادہ پیما کی
کہ شب کو چاند نہ نکلے، نہ دن کو ابر آئے
صبا نے پھر درِ زنداں پہ آکے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے
فیض احمد فیض

عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
ہمارے دم سے ہے کوئے جنوں میں اب بھی خجل
عبائے شیخ و قبائے امیر و تاج شہی
ہمیں سے سنتِ منصور و قیس زندہ ہے
ہمیں سے باقی ہے گل دامنی و کجکلہی
فیض احمد فیض

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشمِ صبح میں آنسو اُبھرنے لگتے ہیں
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض

تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر، بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری، بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
نہ گل کھلے ہیں، نہ اُن سے ملے، نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
چمن میں غارتِ گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے
فیض احمد فیض

سرِ مقتل

کہاں ہے منزلِ راہِ تمنا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب ہم پر بھی گزرے گی، یہ فردا ہم بھی دیکھیں گے

ٹھہر اے دل، جمالِ روئے زیبا ہم بھی دیکھیں گے

ذرا صیقل تو ہولے تشنگی بادہ گساروں کی

دبا رکھیں گے کب تک جوشِ صہبا ہم بھی دیکھیں گے

اٹھا رکھیں گے کب تک جام و مینا ہم بھی دیکھیں گے

صلا آتو چکے محفل میں اُس کوئے ملامت سے

کسے روکے گا شورِ پندِ بے جا ہم بھی دیکھیں گے

کسے ہے جاکے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے

چلے ہیں جان و ایماں آزمانےآج دل والے

وہ لائیں لشکرِ اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے

وہ آئیں تو سرِ مقتل،تماشا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب کی آخری ساعت گراں کیسی بھی ہو ہمدم

جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے

جو فرقِ صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں گے

فیض احمد فیض

نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
ترا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھا ہوں
نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی
نیسم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے
مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی
فیض احمد فیض

طوق و دار کا موسم

روش روش ہے وہی انتظار کا موسم

نہیں ہے کوئی بھی موسم، بہار کا موسم

گراں ہے دل پہ غمِ روزگار کا موسم

ہے آزمائشِ حسنِ نگار کا موسم

خوشا نظارۂ رخسارِ یار کی ساعت

خوشا قرارِ دلِ بے قرار کا موسم

حدیثِ بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرف

خرامِ ابرِ سرِ کوہسار کا موسم

نصیبِ صحبتِ یاراں نہیں تو کیا کیجے

یہ رقص سایہء سرو و چنار کا موسم

یہ دل کے داغ تو دکھتے تھی یوں بھی پر کم کم

کچھ اب کے اور ہے ہجرانِ یار کا موسم

یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم

یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم

قفس ہے بس میں تمہارے، تمہارے بس میں نہیں

چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم

صبا کی مست خرامی تہِ کمند نہیں

اسیرِ دام نہیں ہے بہار کا موسم

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

فیض احمد فیض

بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوانِ ہوس میں
بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیں
ہاں جرمِ وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت
وہ سارے خطا کار سرِ دار کھڑے ہیں
فیض احمد فیض

دامنِ یوسف

جاں بیچنے کو آئے تو بے دام بیج دی

اے اہلِ مصر، وضعِ تکلف تو دیکھیے

انصاف ہے کہ حُکمِ عقوبت سے پیشتر

اک بار سوئے دامن یوسف تو دیکھیے!

فیض احمد فیض

شورشِ بربط و نَے

پہلی آواز

اب سعِی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکا

تاروں پہ کمندیں پھینک چکے، مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکا

اب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجے

کس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکینِ دل ناداں کیجے

شیرینیء لب، خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیں

شادابیء دل، تفریحِ نظر، اب زیست کا درماں کوئی نہیں

جینے کے فسانے رہنے دو، اب ان میں الجھ کر کیا لیں گے

اک موت کا دھندا باقی ہے، جب چاہیں گے نپٹالیں گے

یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ میری لحد، وہ تیری ہے

دوسری آواز

ہستی کی متاعِ بے پایاں ، جاگیر تری ہے نہ میری ہے

اس بزم میں اپنی مشعلِ دل، بسمل ہے تو کیا، رخشاں ہے تو کیا

یہ بزم چراغاں رہتی ہے، اک طاق اگر ویراں ہے تو کیا

افسردہ ہیں گر ایام ترے، بدلا نہیں مسلکِ شام و سحر

ٹھہرے نہیں موسمِ گل کے قدم ، قائم ہے جمالِ شمس و قمر

آباد ہے وادیء کاکل و لب، شاداب و حسیں گلگشتِ نظر

مقسوم ہے لذتِ دردِ جگر، موجود ہے نعمتِ دیدہء تر

اس دیدہء تر کا شکر کرو، اس ذوقِ نظر کا شکر کرو

اس شام و سحر کا شکر کرو، اس شمس و قمر کا شکر کرو

پہلی آواز

گر ہے یہی مسلکِ شمس و قمر ان شمس و قمر کا کیا ہو گا

رعنائیِ شب کا کیا ہو گا، اندازِ سحر کا کیا ہو گا

جب خونِ جگر برفاب بنا، جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں

اس دیدہء تر کا کیا ہو گا، اس ذوقِ نظر کا کیا ہو گا

جب شعر کے خیمے راکھ ہوئے، نغموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں

یہ ساز کہاں سر پھوڑیں گے، اس کلکِ گہر کا کیا ہو گا

جب کنجِ قفس مسکن ٹھہرا، اور جیب و گریباں طوق و رسن

آئے کہ نہ آئے موسمِ گل، اس دردِ جگر کا کیا ہو گا

دوسری آواز

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک

اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک

ان طوق و سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے

وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہء طبلِ قیصر و کَے

آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کا

اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، امروز ہے اپنا ہر فردا

یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں

یہ لوح و قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

فیض احمد فیض

ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 8
صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی
ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں
وہ ہاتھ ڈھونڈ رہے ہیں بساطِ محفل میں
کہ دل کے داغ کہاں ہیں نشستِ درد کہاں
فیض احمد فیض

کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 7
نہ پوچھ جب سے ترا انتظار کتنا ہے
کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں
ترا ہی عکس ہے اُن اجنبی بہاروں میں
جو تیرے لب، ترے بازو، ترا کنار نہیں
فیض احمد فیض

لوح و قلم

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے

ویرانئ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخئ ایام ابھی اور بڑھے گی

ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا

دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سرخئ مے سے

تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا

رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

صبح آزادی اگست 47ء

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جاکے رکے گا سفینہء غمِ دل

جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے

چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے

دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے

پکارتی رہیں، باہیں، بدن بلاتے ہیں

بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن

بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن

سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور

سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام

بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور

نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام

جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن

کسی پہ چارہء ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی

ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

فیض احمد فیض

مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن

تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن

میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی

گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے

جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ

تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ

تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!

روز و شب، شام و سحر میں تجھےبہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں،

آبشاروں کے، بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت

آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت

تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر

گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر

یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں

نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی

تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا

اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں

اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

فیض احمد فیض

سیاسی لیڈر کے نام

سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھ

رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے

جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز

جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے

اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں

اتنے گھاو ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہے

جابجا نور نے اک جال سا بن رکھا ہے

دور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے

تیرا سرمایہ، تری آس یہی ہاتھ تو ہیں

اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں

تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن

تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں

اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن

رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے!

فیض احمد فیض

اے دلِ بیتاب ٹھہر!

تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہے

شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی

دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے

رات کا گرم لہو اور بھی بہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازہء رخسارِ سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر

ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز

مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی

ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں

لغزشِ پا میں ہے پابندئ آداب ابھی

اپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دو

اپنے میخانوں کو میخانہ تو بن لینے دو

جلد یہ سطوتِ اسباب بھی اُٹھ جائے گی

یہ گرانبارئ آداب بھی اُٹھ جائے گی

خواہ زنجیر چھنکتی ہی، چھنکتی ہی رہے

فیض احمد فیض

16 دسمبر 1952

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے

فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض ۔ قطعات

فیض احمد فیض ۔ قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
**
دل رہین غم جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفل ہستی
اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

**

وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
**
فضائے دل پر اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
متفرق اشعار
فیض احمد فیض

قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض

شاہراہ

ایک افسردہ شاہراہ ہے دراز

دور افق پر نظر جمائے ہوئے

سرد مٹی پہ اپنے سینے کے

سرمگیں حسن کو بچھائے ہوئے

جس طرح کوئی غمزدہ عورت

اپنے ویراں کدے میں محو خیال

وصل محبوب کے تصور میں

مو بمو چور، عضو عضو نڈھال

فیض احمد فیض

ہم لوگ

دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطار

نور خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے

حسن محبوب کے سیال تصور کی طرح

اپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے لپٹائے ہوئے

غایت سود و زیاں، صورت آغاز و مآل

وہی بے سود تجسس، وہی بے کار سوال

مضمحل ساعت امروز کی بے رنگی سے

یاد ماضی سے غمیں ، دہشت فردا سے نڈھال

تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں

سوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیں

اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں

اور اک الجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش

دشت و زنداں کی ہوس، چاک گریباں کی تلاش

فیض احمد فیض

موضوع سخن

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام

دھل کے نکلے گی ابھی چشمہ مہتاب سے رات

اور۔۔مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی

اور۔۔ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات

ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے

کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں

ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں

آج پھر حسن دلآرا کی وہی دھج ہو گی

وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر

رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار

صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر

اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی

جان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہی

آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے

آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں

ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کیا گزری ہے؟

ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق

کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے

یہ حسیں کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا

کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہ ے

یہ ہر اک سمت پراسرار کڑی دیواریں

جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ

یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیں

جن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہونگے

لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کمبخت دلآویز خطوط

آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہونگے

اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں

طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

فیض احمد فیض

مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 38
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی
متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سر خسرو سے نازکجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
فیض احمد فیض

اقبال

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر

آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا

سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں

ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

اب دور جاچکا ہے شاہ گدانما

اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں

چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص

دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے

اور اس کی لے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال

اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز

یہ گیت مثل شعلہ جوالہ تند و تیز

اس کی لپک سے باد فنا کا جگر گداز

جیسے چراغ وحشت صر صر سے بے خطر

یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر

فیض احمد فیض

پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
پھر لوٹا ہے خورشید جہانتاب سفر سے
پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے
پھر آگ بھڑکنے لگی ہر ساز طرب میں
پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدہ تر سے
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگزر سے
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے
ساغر تو کھنکت ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
پاپوش کی کیا فکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سر سے
فیض احمد فیض

بول

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول، زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زیاں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض احمد فیض

کتے

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑادو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کے مرجانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبالیں

کوئی ان کو احساس ذلت دلادے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے

فیض احمد فیض

آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 33
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہم
آؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سے
سرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانی حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کی
دل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہم
سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیں
اور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشق
اب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
فیض احمد فیض

چند روز اور مری جان!

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں

فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں

ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے

اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم

آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد

اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار

چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد

دل کی بے سود تڑپ،جسم کی مایوس پکار

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز

فیض احمد فیض

جانے کس کس کو آج رو بیٹھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہوجائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
فیض احمد فیض