زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے

جیون کی ناؤ ڈالی تھی

تھا کتنا کس بل بانہوں میں

لوہُو میں کتنی لالی تھی

یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے

اور ناؤ پُورم پار لگی

ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں

کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں

کچھ مانجھی تھے انجان بہُت

کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جِتنے چاہو دوش دھرو

ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

اب کیسے پار اُترنا ہے

جب اپنی چھاتی میں ہم نے

اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے

تھا ویدوں پر وشواش بہت

اور یاد بہت سےنسخے تھے

یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں

ساری بپتا کٹ جائے گی

اور سب گھاؤ بھر جائیں گے

ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے

کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے

وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے

اور ٹوٹکے سب بیکار گئے

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جتنے چاہو دوش دھرو

چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 26
وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے
وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا
جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی
سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا
فیض احمد فیض

کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
کس شہر نہ شُہرہ ہُوا نادانیِ دل کا
کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا
آؤ کریں محفل پہ زرِ زخم نمایاں
چرچا ہے بہت بے سر و سامانیِ دل کا
دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ
شاید کوئی محرم ملے ویرانیِ دل کا
پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو
سونپا تھا جسے کام نگہبانیِ دل کا
دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے
کس رہ سے پیام آیا ہے زندانیِ دل کا
اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا
فیض احمد فیض

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

۔ ۱۔

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

۔۲۔

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

فیض احمد فیض

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

فیض احمد فیض

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہرِ طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
خوشا کہ آج ہر اک مُدّعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا
وہ حیلہ گر جو وفا جُو بھی ہے جفا خُو بھی
کِیا بھی فیض تو کس بُت سے دوستانہ کیا
فیض احمد فیض

لینن گراڈ کا گورستان

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

لینن گراڈ 1976ء

فیض احمد فیض

دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 19
حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اُترا نہیں اشکوں کا عذاب
اپنے ذمّے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے
کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب
درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے
سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل
"ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے کب سے”
فیض احمد فیض

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عطا کرو اک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ سرِ رہ گزر فتادہ
کہ ایک دن پھر نظر میں آئے
وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ
وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے
قبائے رنگیں، ادائے سادہ
فیض احمد فیض

یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی
مقابلِ صفِ اعداء جسے کیا آغاز
وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی
کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا
بہت تلاش پسِ قتلِ عام ہوتی رہی
یہ برہمن کا کرم، وہ عطائے شیخِ حرم
کبھی حیات کبھی مَے حرام ہوتی رہی
جو کچھ بھی بن نہ پڑا، فیض لُٹ کے یاروں سے
تو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی
فیض احمد فیض

موری اَرج سُنو

"موری ارج سُنو دست گیر پیر”

"مائی ری، کہوں کاسے میں

اپنے جیا کی پیر”

"نیا باندھو رے،

باندھو رے کنارِ دریا”

"مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”

اس صورت سے

عرض سناتے

درد بتاتے

نیّا کھیتے

مِنّت کرتے

رستہ تکتے

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں

اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے

جس کو تم نے عرض گزاری

جو تھا ہاتھ پکڑنے والا

جس جا لاگی ناؤ تمھاری

جس سے دُکھ کا دارُو مانگا

تورے مندر میں جو نہیں آیا

وہ تو تُمھیں تھے

وہ تو تُمھیں تھے

فیض احمد فیض

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

جو کچھ پایا کھو جائے گا

جو مل نہ سکا وہ پائیں گے

یہ دن تو وہی پہلا دن ہے

جو پہلا دن تھا چاہت کا

ہم جس کی تمنّا کرتے رہے

اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے

یہ دن تو کئی بار آیا

سو بار بسے اور اُجڑ گئے

سو بار لُٹے اور بھر پایا

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا

فیض احمد فیض

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار

لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے

نِکھر گئے ہیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مُشک بو ہیں

جو تیرے عُشّاق کا لہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

ملالِ احوالِ دوستاں بھی

خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی

غُبارِ خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھِل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

فیض احمد فیض

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے

خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی

کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے

یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں

میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے

اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!

بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

فیض احمد فیض

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

فیض احمد فیض

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض

ہم تو مجبور تھے اس دل سے

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دم

گردشِ خوں سے وہ کُہرام بپا رہتا ہے

جیسے رندانِ بلا نوش جو مل بیٹھیں بہم

میکدے میں سفرِ جام بپا رہتا ہے

سوزِ خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئی

داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی

مرہمِ یاس سے مائل بہ شِفا ہونے لگا

زخمِ اُمّید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کی جس کی ضد پر

ہم نے اُس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریر

جس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

ہم نے اُس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیر

جس میں جُز صنعتِ خونِ سرِ پا کچھ بھی نہ تھا

دل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھی

کلفتِ زیست تو منظور تھی ہر طور مگر

راحتِ مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی

فیض احمد فیض

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

جو گزر گئی ہیں راتیں

اُنہیں پھر جگا کے لائیں

جو بسر گئی ہیں باتیں

اُنہیں یاد میں بُلائیں

چلو پھر سے دل لگائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

کسی شہ نشیں پہ جھلکی

وہ دھنک کسی قبا کی

کسی رگ میں کسمسائی

وہ کسک کسی ادا کی

کوئی حرف بے مروّت

کسی کُنجِ لب سے پھُوٹا

وہ چھنک کے شیشۂ دل

تہِ بام پھر سے ٹوٹا

یہ مِلن کی نامِلن کی

یہ لگن کی اور جلن کی

جو سہی ہیں وارداتیں

جو گُزر گئی ہیں راتیں

جو بِسر گئی ہیں باتیں

کوئی ان کی دھُن بنائیں

کوئی ان کا گیت گائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

فیض احمد فیض

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دوپہر ستم کی

بے سبب ستم کی

دوپہر درد و غیظ و غم کی

بے زباں درد و غیظ و غم کی

اس دوزخی دوپہر کے تازیانے

آج تن پر دھنک کی صورت

قوس در قوس بٹ گئے ہیں

زخم سب کھُل گئے ہیں

داغ جانا تھا چھٹ گئے ہیں

ترے توشے میں کچھ تو ہو گا

مرہمِ درد کا دوشالہ

تن کے اُس انگ پر اُڑھا دے

درد سب سے سوا جہاں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دشت نفرتوں کے

بے درد نفرتوں کے

کرچیاں دیدۂ حسد کی

خس و خاشاک رنجشوں کے

اتنی سنسان شاہراہیں

اتنی گنجان قتل گاہیں

جن سے آئے ہیں ہم گزر کر

آبلہ بن کے ہر قدم پر

یوں پاؤں کٹ گئے ہیں

رستے سمٹ گئے ہیں

مخملیں اپنے بادلوں کی

آج پاؤں تلے بچھا دے

شافیِ کربِ رہرواں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے مہِ شبِ نگاراں

اے رفیقِ دلفگاراں

اس شام ہمزباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہریاراں

ہم پہ مہرباں ہو

فیض احمد فیض

سجاد ظہیر کے نام

نہ اب ہم ساتھ سیرِ گُل کریں گے

نہ اب مل کر سرِ مقتل چلیں گے

حدیثِ دلبراں باہم کریں گے

نہ خونِ دل سے شرحِ غم کریں گے

نہ لیلائے سخن کی دوست داری

نہ غم ہائے وطن پر اشکباری

سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر

نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر

بنامِ شاہدِ نازک خیالاں

بیادِ مستیِ چشمِ غزالاں

بنامِ انبساطِ بزمِ رنداں

بیادِ کلفتِ ایّامِ زنداں

صبا اور اُس کا اندازِ تکلّم

سحر اور اُس کا آغازِ تبسّم

فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے

یہی تو مسندِ پیرِ مغاں ہے

سحر گہ اب اُسی کے نام ساقی

کریں اتمامِ دورِ جام ساقی

بساطِ بادہ و مینا اُٹھا لو

بڑھا دو شمعِ محفل بزم والو

پیو اب ایک جامِ الوداعی

پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

(دہلی)

فیض احمد فیض

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

ہم کیا کرتے کس رہ چلتے

ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے

ان رشتوں کے جو چھوٹ گئے

ان صدیوں کے یارانوں کے

جو اک اک کرکے ٹوٹ گئے

جس راہ چلے، جس سمت گئے

یوں پاؤں لہو لہان ہوئے

سب دیکھنے والے کہتے تھے

یہ کیسی ریت رچائی ہے

یہ مہندی کیوں لگائی ہے

وہ کہتے تھے، کیوں قحط وفا

کا ناحق چرچا کرتے ہو

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

یہ راہیں جب اٹ جائیں گی

سو رستے ان سے پھوٹیں گے

تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی

سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

فیض احمد فیض

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا

مری ذات ذرۂ بے نشاں

مرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مری ذات کا جو نشاں ملے

مجھے راز نظم جہاں ملے

جو مجھے یہ راز نہاں ملے

مری خامشی کو بیاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت دو جہاں ملے

فیض احمد فیض

اشک آباد کی شام

جب سورج نے جاتے جاتے

اشک آباد کے نیلے افق سے

اپنے سنہری جام

میں ڈھالی

سرخئ اول شام

اور یہ جام

تمہارے سامنے رکھ کر

تم سے کیا کلام

کہا پرنام

اٹھو

اور اپنے تن کی سیج سے اٹھ کر

ایک شیریں پیغام

ثبت کرو اس شام

کسی کے نام

کنار جام

شاید تم یہ مان گئیں اور تم نے

اپنے لب گلفام

کیے انعام

کسی کے نام

کنار جام

یا شاید

تم اپنے تن کی سیج پہ سج کر

تھیں یوں محو آرام

کہ رستہ تکتے تکتے

بجھ گئی شمع شام

اشک آباد کے نیلے افق پر

غارت ہو گئی شام

فیض احمد فیض

کوئی ٹھکانہ بتاؤ کہ قافلہ اترے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
ہزار درد شبِ آرزو کی راہ میں ہے
کوئی ٹھکانہ بتاؤ کہ قافلہ اترے
قریب اور بھی آؤ کہ شوق دید مٹے
شراب اور پلاؤ کہ کچھ نشہ اترے
قطعہ
فیض احمد فیض

ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
میرے دامن میں آگرے سارے
جتنے طشت فلک میں تارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیض احمد فیض

جس روز قضا آئے گی

کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اولِ شب

بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب

جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در

اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار

یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب

شاید اس طرح کہ جس طور تہِ نوک سناں

کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے

اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ

از کراں تابہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے

جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

خواہ قاتل کی طرح ائے کہ محبوب صفت

دل سے بس ہو گی یہی حرف ودع کی صورت

للہ الحمد بانجام دلِ دل زدگاں

کلمۂ شکر بنام لبِ شیریں دہناں

فیض احمد فیض

دراز دستیِ پیر مغاں کی نذر ہوا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 0
جو پیرہن میں کوئی تار محتسب سے بچا
دراز دستیِ پیر مغاں کی نذر ہوا
اگر جراحت قاتل سے بخشوا لائے
تو دل سیاستِ چارہ گراں کی نذر ہوا
قطعہ
فیض احمد فیض

نسخہء الفت میرا

گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال

شعر میں ڈھل کے ثنائے رُخِ جانانہ بنے

پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر

طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے

ہے بہت تشنہ مگر نسخہء الفت میرا

اس سبب سے کہ ہر اک لمحہء فرصت میرا

دل یہ کہتا ہے کہ ہو قربتِ جاناں میں بسر

فیض احمد فیض

تیرگی جال ہے ۔۔۔

تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور

اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات

جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور

مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات

جگ سمندر ہے ساحل پہ ہیں ماہی گیر

جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے

میری باری کب آئے گی کیا جانیے

دن کے بھالے سے مجھ کو کریں گے شکار

رات کے جال میں یا کریں گے اسیر؟

فیض احمد فیض

سالگرہ

شاعر کا جشنِ سالگرہ ہے شراب لا

منصب، خطاب، رُتبہ انہیں کیا نہیں ملا

بس نقص ہے تو اتنا کہ ممدوح نے کوئی

مصرع کسی کتاب کے شایاں نہیں لکھا

فیض احمد فیض

آرزو

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا

مجھے بزمِ دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے

کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں

ترے در پہ آ کے صدا کروں

تجھے غمگسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں

یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں

فیض احمد فیض

بہ نوکِ شمشیر

میرے آبا کہ تھے نا محرمِ طوق و زنجیر

وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم

نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر

روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم

سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر

فیض احمد فیض

داغستانی خاتون اور شاعر بیٹا

اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

اس کی ہر بات میں سمجھتی تھی

اب وہ شاعر بنا ہے نامِ خدا

لیکن افسوس کوئی بات اس کی

میرے پلے ذرا نہیں پڑتی

فیض احمد فیض

بھائی

آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مِرا

اسٹالن گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا

میری ماں اب بھی لیے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم

جب سے اب تک ہے وہی تن پہ ردائے ماتم

اور اس دُکھ سے مِری آنکھ کا گوشہ تر ہے

اب مِری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے

فیض احمد فیض

میں تیرے سپنے دیکھوں

برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

برف گرے پربت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

صبح کی نیل پری، میں تیرے سپنے دیکھوں

کویل دھوم مچائے،میں تیرے سپنے دیکھوں

آئے اور اُڑ جائے، میں تیرے سپنے دیکھوں

باغوں میں پتے مہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

شبنم کے موتی دہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

اس پیار میں کوئی دھوکا ہے

تو نار نہیں کچھ اور ہے شے

ورنہ کیوں ہر ایک سمے

میں تیرے سپنے دیکھوں

فیض احمد فیض

کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
کہیں تو کاروانِ درد کی منزل ٹھہر جائے
کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے
کوئی دم بادبانِ کشتیِ صہبا کو تہہ رکھو
ذرا ٹھہرو غبارِ خاطرِ محفل ٹھہر جائے
خُمِ ساقی میں جز زہرِ ہلاہل کچھ نہیں باقی
جو ہو محفل میں اس اکرام کے قابل، ٹھہر جائے
ہماری خامشی بس دل سے لب تک ایک وقفہ ہے
یہ طوفاں ہے جو پل بھر بر لبِ ساحل ٹھہر جائے
نگاہِ منتظر کب تک کرے گی آئینہ بندی
کہیں تو دشتِ غم میں یار کا محمل ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی
آشوبِ نظر سے کی ہم نے چمن آرائی
جو شے بھی نظر آئی، گل رنگ نظر آئی
امیدِ تلطف میں‌ رنجیدہ رہے دونوں
تو اور تری محفل، میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے، انجان نہ بن سکیے
یوں ٹوٹ گئی دل میں‌ شمشیرِ شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہِ دل ہے
کیا رکھا ہے مقتل میں ، اے چشمِ تماشائی
فیض احمد فیض

تہ بہ تہ دل کی کدورت

میری آنکھوں میں امنڈ آئی توکچھ چارہ نہ تھا

چارہ گر کی مان لی

اور میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

اور اب ہر شکل و صورت

عالمِ موجود کی ہر ایک شے

میری آنکھوں کے لہو سے اس طرح ہم رنگ ہے

خورشید کا کندن لہو

مہتاب کی چاندی لہو

صبحوں کا ہنسنا بھی لہو

راتوں کا رونا بھی لہو

ہر شجر مینارِ خوں، ہر پھول خونیں دیدہ ہے

ہر نظر اک تارِ خوں، ہر عکس خوں مالیدہ ہے

موجِ خوں جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگ

جذبہء شوقِ شہادت ،درد،غیظ و غم کا رنگ

اور تھم جائے تو کجلا کر

فقط نفرت کا، شب کا،موت کا،

ہر اک رنگ کے ماتم کا رنگ

چارہ گر ایسا نہ ہونے دے

کہیں سے لا کوئی سیلابِ اشک

آبِ وضو

جس میں دُھل جائیں تو شاید دھُل سکے

میری آنکھوں ،میری گرد آلود آنکھوں کا لہو ۔۔۔۔

فیض احمد فیض

حذر کرو مرے تن سے

سجے تو کیسے سجے قتلِ عام کا میلہ

کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا

مرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

چراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے

نہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے

مرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

مگر وہ زہرِ ہلاہل بھرا ہے نس نس میں

جسے بھی چھیدو ہر اِک بوند قہرِ افعی ہے

ہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کی

ہر اک میں مُہر بلب غیض و غم کی گرمی ہے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوبِ صحرا ہے

جسے جلاؤ تو صحنِ چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشکِ صبا میری جان زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے

فیض احمد فیض

اب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 28
شرح بے دردیِ حالات نہ ہونے پائی
اب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائی
پھر وہی وعدہ جو اقرار نہ بننے پایا
پھر وہی بات جو اثبات نہ ہونے پائی
پھر وہ پروانے جنہیں اذنِ شہادت نہ ملا
پھر وہ شمعیں کہ جنہیں رات نہ ہونے پائی
پھر وہی جاں بلبی لذتِ مے سے پہلے
پھر وہ محفل جو خرابات نہ ہونے پائی
پھر دمِ دید رہے چشم و نظر دید طلب
پھر شبِ وصل ملاقات نہ ہونے پائی
پھر وہاں بابِ اثر جانیے کب بند ہوا
پھر یہاں ختم مناجات نہ ہونے پائی
فیض سر پر جو ہر اِک روز قیامت گزری
ایک بھی روز مکافات نہ ہونے پائی
فیض احمد فیض

ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

رہا نہ کچھ بھی زمانے میں جب نظر کو پسند

تری نظر سے کیا رشتہء نظر پیوند

ترے جمال سے ہر صبح پر وضو لازم

ہر ایک شب ترے در پر سجود کی پابند

نہیں رہا حرمِ دل میں اِک صنم باطل

ترے خیال کے لات و منات کی سوگند

مثال زینہء منزل بکارِ شوق آیا

ہر اِک مقام کہ ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

خزاں تمام ہوئی کس حساب میں لکھیے

بہارِ گل میں جو پہنچے ہیں شاخِ گل کو گزند

دریدہ دل ہے کوئی شہر میں ہماری طرح

کوئی دریدہ دہن شیخِ شہر کے مانند

شعار کی جو مداراتِ قامتِ جاناں

کیا ہے فیض درِ دل، درِ فلک سے بلند

فیض احمد فیض

فرشِ نومیدیِ دیدار

دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک

جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک

ٹوکتی ھے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

اور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرح

ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے فریاد کناں

دل یہ کہتا ھے کہ کہیں اور چلے جائیں جہاں

کوئی دروازہ عبث وا ہو نہ بیکار کوئی

یاد فریاد کا کشکول لیے بیٹھی ہو

محرمِ حسرتِ دیدار ھو دیوار کوئی

نہ کوئی سایہء گُل ہجرتِ گل سے ویراں

یہ بھی کر دیکھا ھے سو بار کہ جب راہوں میں

دیس پردیس کی بے مہر گزرگاہوں میں

قافلے قامت و رخسار و لب و گیسو کے

پردہء چشم پہ یوں اترے ہیں بے صورت و رنگ

جس طرح بند دریچوں پہ گرے بارشِ سنگ

اور دل کہتا ہے ہر بار چلو لوٹ چلو

اس سے پہلے کہ وہاں جائیں تو یہ دکھ بھی نہ ہو

یہ نشانی کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اُس صحن میں ہر سُو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

فیض احمد فیض

جرسِ گُل کی صدا

اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا

دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ

جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ

ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو

ہم کہ رمازِ رموزِ غمِ پنہانی ہیں

اپنی گردن پہ بھی ہے رشتہ فگن خاطرِ دوست

ہم بھی شوقِ رہِ دلدار کے زندانی ہیں

جب بھی ابروئے درِ یار نے ارشاد کیا

جس بیاباں میں بھی ہم ہوں گے چلے آئیں گے

در کھُلا دیکھا تو شاید تمہیں پھر دیکھ سکیں

بند ھو گا تو صدا دے کے چلے جائیں گے

فیض احمد فیض

اِک قدح ساقیِ مہوش جو کرے ہوش تمام

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
اِک سخن مطربِ زیبا کہ سلگ اٹھے بدن
اِک قدح ساقیِ مہوش جو کرے ہوش تمام
ذکرِ صبحے کہ رُخ یار سے رنگیں تھا چمن
یادِ شب ہا کہ تنِ یار تھا آغوش تمام
قطعہ
فیض احمد فیض

یا شمع پگھل رہی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
بالیں پہ کہیں رات ڈھل رہی ہے
یا شمع پگھل رہی ہے
پہلو میں کوئی چیز جل رہی ہے
تم ہو کہ مری جاں نکل رہی ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

خورشیدِ محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن

کھُل کے ہنسنے کے دن، گیت گانے کے دن

پیار کرنے کے دن، دل لگانے کے دن

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

زخم کتنے ابھی بختِ بسمل میں ہیں

دشت کتنے ابھی راہِ منزل میں ہیں

تیر کتنے ابھی دستِ قاتل میں ہیں

آج کا دن زبوں ہے، مرے دوستو

آج کے دن تو یوں ہے، مرے دوستو

جیسے درد و الم کے پرانے نشاں

سب چلے سوئے دل کارواں، کارواں

ہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواں

سے اٹھے نالہءالاماں، الاماں

آج کے دن نہ پوچھو،مرے دوستو

کب تمہارے لہو کے دریدہ عَلم

فرقِ خورشیدِ محشر پہ ہوں گے رقم

از کراں تا کراں کب تمہارے قدم

لے کے اٹھے گا وہ بحرِ خوں یم بہ یم

جس میں دھُل جائے گا آج کے دن کا غم

سارے درد و الم سارے جور و ستم

دور کتنی ہے خورشید محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

فیض احمد فیض

مرثیے

۔۱۔

دور جا کر قریب ہو جتنے

ہم سے کب تم قریب تھے اتنے

اب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گے

وصل و ہجراں بہم ہوئے کتنے

۔۲۔

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا

رنگ بدلے کسی صورت شبِ تنہائی کا

دولتِ لب سے پھر اے خسروِ شیریں دہناں

آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا

گرمیِ رشک سے ہر انجمنِ گُل بدناں

تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا

صحنِ گلشن میں کبھی اے شہِ شمشاد قداں

پھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کا

ایک بار اور مسیحائے دلِ دل زدگاں

کوئی وعدہ، کوئی اقرار مسیحائی کا

دیدہء و دل کو سنبھالو کہ سرِ شامِ فراق

ساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا

۔۳۔

کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک رہ دکھلاؤ گے

کب تک چین کی مہلت دو گے، کب تک یاد نہ آؤ گے

بیتا دید اُمید کا موسم، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں

کب بھیجو گے درد کا بادل، کب برکھا برساؤ گے

عہدِ وفا یا ترکِ محبت، جو چاہو سو آپ کرو

اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منواؤ گے

کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجر کی رات ڈھلی

گیسوؤں والے کون تھے کیا تھے، ان کو کیا جتلاؤ گے

فیض دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی، لُٹ جانا بھی

تم اس حسن کے لطف و کرم پہ کتنے دن اتراؤ گے

فیض احمد فیض

عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

ہارٹ اٹیک

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے

ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا

ہر بُنِ مُو سے ٹپکنا چاہا

اور کہیں دور ترے صحنِ چمن میں گویا

پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر

حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانہء تن میں گویا

سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کُھل کر

سلسلہ وار پتا دینے لگیں

رخصتِ قافلہء شوق کی تیاری کا

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں

ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا

درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا

ہم نے چاہا بھی ، مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا

فیض احمد فیض

دلدار دیکھنا

طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دلدار دیکھنا

گُل ہو نہ جائے مشعلِ رخسار دیکھنا

آتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنا

لو دے اٹھے نہ طرہء طرار دیکھنا

جذبِ مسافرانِ رہِ یار دیکھنا

سر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھنا

کوئے جفا میں قحطِ خریدار دیکھنا

ہم آ گئے تو گرمیِ بازار دیکھنا

اُس دلنواز شہر کے اطوار دیکھنا

بے التفات بولنا، بیزار دیکھنا

خالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلق

رعبِ قبا و ہیبتِ دستار دیکھنا

جب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھنا

جس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھنا

پھر ہم تمیزِ روز و مہ و سال کر سکیں

اے یادِ یار پھر اِدھر اِک بار دیکھنا

فیض احمد فیض

دُعا

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا

کوئی بت، کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی

زہر امروز میں شیرینیِ فردا بھردے

وہ جنہیں تابِ گراں باریِ ایام نہیں

ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کردے

جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں

ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے

جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں

ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کردے

جن کا دیں پیرویِ کذب وریا ہے ان کو

ہمتِ کفر ملے، جرأتِ تحقیق ملے

جن کے سر منتظرِ تیغِ جفا ہیں ان کو

دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

عشق کا سرِ نہاں جانِ تپاں ہے جس سے

آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

(یومِ آزادی)

فیض احمد فیض

سرِ وادیِ سینا

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا

پھر رنگ پہ ہے شعلہء رخسارِ حقیقت

پیغامِ اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت

اے دیدہء بینا

اب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہے

اب قاتلِ جاں چارہِ گرِ کلفتِ غم ہے

گلزارِ ارم پرتوِ صحرائے عدم ہے

پندارِ جنوں

حوصلہء راہِ عدم ہے کہ نہیں ہے

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا،اے دیدہء بینا

پھر دل کو مصفا کرو، اس لوح پہ شاید

مابینِ من و تو نیا پیماں کوئی اترے

اب رسمِ ستم حکمت خاصانِ زمیں ہے

تائیدِ ستم مصلحتِ مفتیِ دیں ہے

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے

لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

فیض احمد فیض

نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے
صفِ زاہداں ہے تو بے یقیں، صفِ میکشاں ہے تو بے طلب
نہ وہ صبح درود و وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے
نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
یہ نظرتھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تودل میں کبھو کی ہے
کفِ باغباں پہ بہارِ گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن، میں نمود میرے لہو کی ہے
نہیں ‌خوفِ روزِ سیہ ہمیں، کہ ہے فیض ظرفِ نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن، جو لگن اُس آئینہ رُو کی ہے
فیض احمد فیض

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

اس خیاباں میں

جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں

کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے

کون بے رنگ ہوئی رنگ و تعب سے پہلے

اور اب سے پہلے

کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں

خون کا قحط پرا

گُل کی شہ رگ پہ کڑا

وقت پڑا

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیں

اس میں کس وقت کہاں

آگ لگی تھی پہلے

اس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اول

زہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماں

کس جگہ جوت جگی تھی پہلے

سوچنے دو

ہم سے اس دیس کا تم نام ونشاں پوچھتے ہو

جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے

اور یاد آئے تو محبوبِ گزشتہ کی طرح

روبرو آنے سے جی گھبرائے

ہاں مگر جیسے کوئی

ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو

آ نکلتا ہے کبھی رات بِتانے کے لئے

ہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہی

دل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیے

دل کی کیا پوچھتے ہو

سوچنے دو

فیض احمد فیض

شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے
وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیطِ حسن کرتے
تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
وہی چشمہء بقا تھا جسے سب سراب سمجھے
وہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے
ترا لطف وجہِ تسکیں، نہ قرار شرحِ غم سے
کہ ہیں دل میں وہ گلے بھی جو ملال تک نہ پہنچے
کوئی یار جاں سے گزرا، کوئی ہوش سے نہ گزرا
یہ ندیم یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے
چلو فیض دل جلائیں کریں پھر سے عرضِ جاناں
وہ سخن جو لب تک آئے پہ سوال تک نہ پہنچے
فیض احمد فیض

پھر دل کے آئینے سے لہو پھوٹنے لگا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
دیوارِ شب اور عکسِ رُخِ یار سامنے
پھر دل کے آئینے سے لہو پھوٹنے لگا
پھر وضعِ احتیاط سے دھندلا گئی نظر
پھر ضبطِ آرزو سے بدن ٹوٹنے لگا
قطعہ
فیض احمد فیض

ایک شہرِ آشوب کا آغاز

اب بزمِ سخن صحبتِ لب سوختگاں ہے

اب حلقہء مے طائفہء بے طلباں ہے

گھر رہیے تو ویرانیِ دل کھانے کو آوے

رہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے

پیوندِ رہِ کوچہء زر چشمِ غزالاں

پابوسِ ہوس افسرِ شمشاد قداں ہے

یاں اہلِ جنوں یک بہ دگر دست و گریباں

واں جیشِ ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہے

اب صاحبِ انصاف ہے خود طالبِ انصاف

مُہر اُس کی ہے میزان بہ دستِ دگراں ہے

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

فیض احمد فیض

سپاہی کا مرثیہ

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو

جاگو میرے لال،

اب جاگو میرے لال

تمری سیج سجاون کارن

دیکھو آئی رین اندھیارن

نیلے شال دو شالے لے کر

جن میں اِن دُکھیَن اکھیَن نے

ڈھیر کیے ہیں اتنے موتی

اتنے موتی جن کی جیوتی

دان سے تمرا

جگ جگ لاگا

نام چمکنے

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو

جاگو میرے لال

اب جاگو میرے لال

گھر گھر بکھرا بھور کا کندن

گھور اندھیرا اپنا آنگن

جانے کب سے راہ تکے ہیں

بالی دلہنیا ، بانکے ویِرن

سونا تمرا راج پڑا ہے

دیکھو کتنا کاج پڑا ہے

بیری بیراجے راج سنگھاسن

تم ماٹی میں لال

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال

ہٹ نہ کرو ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال

اب جاگو میرے لال

فیض احمد فیض

اعلانِ جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
کس حرف پہ تو نے گوشہء لب اے جانِ جہاں غماز کیا
اعلانِ جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا
سو پیکاں تھے پیوستِ گلو، جب چھیڑی شوق کی لےَ ہم نے
سو تیر ترازو تھے دل میں جب ہم نے رقص آغاز کیا
بے حرص و ہوا، بے خوف و خطر، اِس ہاتھ پہ سر، اُس کف پہ جگر
یوں کوئے صنم میں وقتِ سفر نظارہء بامِ ناز کیا
جس خاک میں مل کر خاک ہوئے، وہ سرمہء چشمِ خلق بنی
جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا، ہمرنگِ گلِ طناز کیا
لو وصل کی ساعت آپہنچی، پھر حکمِ حضوری پر ہم نے
آنکھوں کے دریچے بند کیے، اور سینے کا در باز کیا
فیض احمد فیض

بَلیک آؤٹ

جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں

خاک میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جا

کھو گئی ہیں میری دونوں آنکھیں

تم جو واقف ہو بتاؤ کوئی پہچان مری

اس طرح ہے کہ ہر اِک رگ میں اُتر آیا ہے

موج در موج کسی زہر کا قاتل دریا

تیرا ارمان، تری یاد لیے جان مری

جانے کس موج میں ٖغلطاں ہے کہاں دل میرا

ایک پل ٹھہرو کہ اُس پار کسی دنیا سے

برق آئے مری جانب، یدِ بیضا لے کر

اور مری آنکھوں کے گُم گشتہ گہر

جامِ ظلمت سے سیہ مست

نئی آنکھوں کے شب تاب گُہر

لوٹا دے

ایک پل ٹھہرو کہ دریا کا کہیں پاٹ لگے

اور نیا دل میرا

زہر میں دھُل کے، فنا ہو کے

کسی گھاٹ لگے

پھر پئے نذر نئے دیدہ و دل لے کے چلوں

حسن کی مدح کروں، شوق کا مضمون لکھوں

فیض احمد فیض

غم نہ کر، غم نہ کر

درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر

یار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کر

زخم بھر جائے گا،

غم نہ کر، غم نہ کر

دن نکل آئے گا

غم نہ کر، غم نہ کر

ابر کھُل جائے گا، رات ڈھل جائے گی

غم نہ کر، غم نہ کر

رُت بدل جائے گی

غم نہ کر، غم نہ کر

فیض احمد فیض

یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ
سایہء چشم میں‌حیراں رُخِ روشن کا جمال
سُرخیء لب میں‌ پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پئے ہوں کہ اگر لطف کرو آخرِ شب
شیشہء مے میں‌ ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نَے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے
دل نے لےَ بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ
اک سخن اور کہ پھر رنگِ تکلم تیرا
حرفِ سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
فیض احمد فیض

یہاں سے شہر کو دیکھو

یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ

کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل

ہر ایک راہ گزر گردشِ اسیراں ہے

نہ سنگِ میل، نہ منزل، نہ ؐمخلصی کی سبیل

جو کوئی تیز چلے رہ تو پوچھتا ہے خیال

کہ ٹوکنے کوئی للکار کیوں نہیں آئی

جو کوئی ہاتھ ہلائے تو وہم کو ہے سوال

کوئی چھنک، کوئی جھنکار کیوں نہیں آئی

یہاں سے شہر کو دیکھو تو ساری خلقت میں

نہ کوئی صاحبِ تمکیں، نہ کوئی والیِ ہوش

ہر ایک مردِ جواں مجرمِ رسن بہ گلو

ہر اِک حسینہء رعنا، کنیزِ حلقہ بگوش

جو سائے دُور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں

نہ جانے محفلِ غم ہے کہ بزمِ جام و سبُو

جو رنگ ہر در و دیوار پر پریشاں ہے

یہاں سے کچھ نہیں کھُلتا یہ پھول ہیں کہ لہو

کراچی، مارچ 1965ء

فیض احمد فیض

کاسہء چشم میں خوں نابِ جگر لے کے چلو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
دیدہء تر پہ وہاں کون نظر کرتا ہے
کاسہء چشم میں خوں نابِ جگر لے کے چلو
اب اگر جاؤ پئے عرض و طلب اُن کے حضور
دست و کشکول نہیں کاسہء سر لے کے چلو
قطعہ
فیض احمد فیض

خونِ تمنا دریا دریا، دریا دریا عیش کی لہر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
زنداں زنداں شورِ انالحق، محفل محفل قلقلِ مے
خونِ تمنا دریا دریا، دریا دریا عیش کی لہر
دامن دامن رُت پھولوں کی، آنچل آنچل اشکوں کی
قریہ قریہ جشن بپا ہے، ماتم شہر بہ شہر
قطعہ
فیض احمد فیض

لہو کا سراغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخیِ لبِ خنجر نہ رنگِ نوکِ سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ صرف خدمتِ شاہاں کہ خوں بہا دیتے

نہ دیں کی نذر کہ بیعانہء جزا دیتے

نہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتا

کسی عَلم پہ رقم ھو کے مشتہر ہوتا

پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

کسی کو بہرِ سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

نہ مدعی، نہ شہادت، حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

کراچی، جنوری 1965ء

فیض احمد فیض

انتساب

آج کے نام

اور

آج کے غم کے نام

آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا

زرد پتوں کا بن

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

درد کی انجمن جو مرا دیس ہے

کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام

کِرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام

پوسٹ مینوں کے نام

تانگے والوں کے نام

ریل بانوں کے نام

کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام

بادشاہِ جہاں، والیِ ما سوا، نائب اللہ فی الارض،

دہقاں کے نام

جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے

جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھالے گئے

ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے

دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے

جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے

دھجیاں ہو گئی ہے

ان دکھی ماؤں کے نام

رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور

نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤ ں میں سنبھلتے نہیں

دکھ بتاتے نہیں

منتوں زاریوں سےبہلتے نہیں

ان حسیناؤں کے نام

جن کی آنکھوں کے گُل

چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے

مرجھاگئے ہیں

ان بیاہتاؤ ں کے نام

جن کے بدن

بے محبت ریا کار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیں

بیواؤں کے نام

کٹڑیوں؎۱ اور گلیوں، محلوں کے نام

جن کی ناپاک خاشا ک سے چاند راتوں

کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو

جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا

آنچلوں کی حنا

چوڑیوں کی کھنک

کاکلوں کی مہک

آرزو مند سینوں کی اپنے پسینےمیں جلنے کی بو

پڑھنے والوں کے نام

وہ جو اصحابِ طبل و علم

کے دروں پر کتاب اور قلم

کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے

پہنچے، مگر لوٹ کر گھر نہ آئے

وہ معصوم جو بھولپن میں

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن

لے کے پہنچے جہاں

بٹ رہے تھے، گھٹا ٹوپ، بے انت راتوں کے سائے

ان اسیروں کے نام

جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر

جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صر صر میں

جل جل کے انجم نما ہو گئے ہیں

آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام

وہ جو خوشبوئے گل کی طرح

اپنے پیغام پر خود فدا ہو گئے ہیں

(ناتمام)

؎۱ کٹڑی۔ کٹڑے کی تصغیر، پنجابی میں ملحقہ مکانوں کے احاطے کو کہتے ہیں

فیض احمد فیض

فیض

میں فیض سے کوئی بیس سال قبل اس وقت متعارف ہواتھا جب وہ ایم ۔اے۔او کالج ، امرتسر میں لیکچرار تھے۔ایک اور پرانے دوست جو اس وقت فیض کے رفیق کار تھے، کل اچانک ایڈنبرا میں دکھائی دیے اور ان سے مل کر مجھے بیتے ہوئے دن یاد آگئے، معلوم یہ ہوا کہ فیض کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس قدیم دوست کی ایڈنبرا میں آمد سے مجھے مطلع کریں گے۔لیکن وہ بھول گئے، اس زمانے میں بھی وہ اپنی بھول جانے کی عادت اور غائب دماغی کی وجہ سے خاصے مشہور تھے، لیکن ان کے طالب علم ان کی اس عادت کو آسانی سے درگزر کردیتے تھے۔کیونکہ کوئی پروفیسر یہ بھول جائے کہ اسے طلبا کولیکچر دینا تھا تو انہیں کبھی اس کا افسوس نہیں ہوتا۔اسی طرح تانگہ چلانے والوں کا بھی ان کے ساتھ یہی رویہ تھا، کیونکہ وہ کسی کے گھر جا کر باتوں میں مصروف ہوجاتے اور یہ بھول جاتے کہ باہر تانگہ کھڑا ہوا ہے اور اس طرح تانگے والوں کا کرایہ بڑھتا رہتا تھا۔اور ادبی لوگ انہیں یوں معاف کردیتے تھے کہ وہ اس وقت بھی ایک اہم شاعر تھے۔مجھے یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہوئی کہ اس ہفتے لندن میں ایک ادبی تقریب ان کے اعزاز میں منعقد کی جارہی ہے اور مجھے اس کا افسوس ہے کہ میں خود وہاں حاضر ہونے سے قاصر ہوں۔گزشتہ بار کوئی پانچ سال قبل جب وہ انگلستان آئے تھے تو ایک ایسی ہی تقریب میں شریک ہونے کا مجھے شرف حاصل ہوا تھا۔اس تقریب کے فوراًبعد فیض یورپ روانہ ہورہے تھے تاکہ وطن واپس جا سکیں۔جہاں انہیں جیل میں ڈال کر ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا، کئی ادبی شخصیتوں کی زندگی میں اس قسم کی خفیف غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہی ہیں۔اس بار وہ نسبتاً زیادہ طویل مدت کے لیے انگلستان میں قیام کررہے ہیں تاکہ خوش قسمتی سے ان کے دوستوں کو مستقبل قریب میں اسی قسم کسی اور غلط فہمی کا خوف باقی نہ رہے، نیز کسی محب وطن شاعر کو اپنے وطن سے خواہ کتنا ہی لگاؤ کیوں نہ ہو، یہ امر خاصا دل خوش کن ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ (کسی دوست کی طرح)بہت قریب سے جائزہ لینے کے بجائے چار یا پانچ ہزار میل کے فاصلے سے اپنے وطن کے بارے میں غور و خوض کرے۔یہ امر بلاشبہ افسوسناک ہے کہ فیض مع اہل و عیال ہمارے یہاں کے متعدد پر سکون اور رومان انگیز مقامات مثلاً میرے آبائی شہر مانچسٹر، بالیک ڈسٹرکٹ جہاں ایک زمانے میں اتنے سارے شاعروں نے عروج پایا، سب سے بڑھ کر ایڈنبرا میں رہنے کے بجائے لندن میں سکونت اختیار کررہے ہیں۔اسی شہر میں جو اینٹوں، کہر ، شور و غل اور اہالیان لندن کا ایک دیو ہیکل مجموعہ ہے۔ڈاکٹر جانسن کہا کرتے تھے کہ جب آدمی لندن سے اکتا جائے تو وہ زندگی سے اکتا جاتا ہے۔لیکن یہ اٹھارہویں صدی میں ہوتا تھا، آج تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ جب آدمی زندگی سے اکتا جائے تو وہ لندن کا رخ کرتا ہے۔فیض بلا کے سگریٹ نوش واقع ہوئے ہیں، ہ بری عادت لندن کے کہر اور دھند کے ساتھ مل کر کہیں ان کی انتہائی تابناک صلاحیتوں کو ماند نہ کردے تاہم مجھے کامل یقین ہے کہ اپنی بیوی اور بچیوں کی مدد سے وہ اس مسئلے پر قابو پا لیں گے۔نیز یہ کہ ایک ادبی شخصیت کی حیثیت سے اس ملک میں ان کا قیام حقیقی معنوں میں تخلیقی ثابت ہو گا، وہ اب تک بہت کچھ کرچکے ہیں، لیکن انہیں ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے۔اور اب جب کہ وہ دوسرے ہنگاموں سے آزاد ہیں، انہیں یقیناً خیال آئے گا کہ ان سے کس قدر زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ان بیس برسوں میں مجھے یقین ہے کہ میں نے انہیں اس قسم کے موضوعات پر کم از کم بیس کتابیں لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔جدید معاشرے میں فنکار کا مرتبہ، تاریخ ادب اردو یا مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کی نوعیت وغیرہ وغیرہ۔

ہر شخص کو جو ان سے واقف ہے، فطری طور پر یہ توقع بھی ہو گی کہ وہ اپنے فرصت کے اوقات میں مزید نظمیں لکھیں گے۔میری ہمیشہ سے یہ خواہش بھی رہی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی بعض نظمیں خصوصاً ہمارے عہد کی ترقی پسند شاعری کا ترجمہ اردو میں کریں۔جو اسی روایت یا عالمی تحریک سے تعلق رکھتی ہو، جس سے خود ان کی شاعری وابستہ ہے۔ویسے جارج بارد، جنہوں نے آئرستان ، ڈنمارک اور دوسرے علاقوں کی شاعری کو انگریزی میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے، اپنی ایک کتاب لیونگرومیں لکھتے ہیں کہ ’ترجمہ زیادہ سے زیادہ ایک بازگشت ہی ہوتا ہے۔‘تمام ترجمہ کرنے والے یقیناًیہی محسوس کرتے ہونگے لیکن کچھ نہ ہونے سے باز گشت بھی بہرحال بہتر ہے۔اور فیض کی پیدا کردہ بازگشت کم از کم مترنم ضرور ہو گی۔گزشتہ دنوں ان سے یہ سن کر میں بے حد متاثر ہو ا کہ خود ان کی بعض نظمیں سواحلی زبان میں ترجمہ ہونے کے بعد مشرقی افریقہ میں پڑھی جارہی ہیں۔جہاں ایک ملک گیر زبان کی حیثیت سے سواحلی کا مستقبل بہت تابناک نظر آتا ہے۔مجھے امید ہے کہ جلد ہی دوسری زبانوں میں بھی ان کے کلام کا ترجمہ ہوجائے گا۔

ایک اسکاٹ خاتون نے جو کئی سال تک افغانستان میں رہی ہیں، فیض کے والد کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے، جو اس زمانے میں وہاں وزیر اعلیٰ تھے(فیض کے والد سلطان احمد خاں افغانستان میں چیف سکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔)مصنفہ کے بیان کے مطابق وہ بڑے پختہ عز م و ارادے کے مالک تھے اور انتہائی انتشار کے ماحول میں نظم و نسق قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔امرتسر کی آزادانہ زندگی کے زمانے سے فیض بھی دوسرے متعدد باحوصلہ انسانوں کے دوش بدوش اس جد و جہد میں مصروف ہیں کہ ہمارے جدید عہد کے انتشار میں ضبط و توازن قائم کیا جائے۔جو کبھی کبھی افغانستان کے دور قدیم سے زیادہ مایوس کن نظر آتا ہے۔میں ایک اور پشت کو سرگرم عمل دیکھنے کا خواہاں ہوں، اور چشم تصور سے فیض کی بیٹیوں کو اپنی اپنی رغبت کے عظیم کارناموں کی تکمیل میں منہمک دیکھ بھی رہا ہوں، ان میں ایک کو غالباً پاکستان کی پہلی عظیم مصورہ کی حیثیت سے اور دوسری کو شاید پہلی خاتون صدر کی حیثیت سے۔دریں اثنا فیض کے دوستوں کو ہر ہفتے کے خاتمے پر ان سے دریافت کرت رہنا چاہیے کہ کہ انہوں نے کتنے صفحات لکھ لیے ہیں اور ہر روز شام کو معلوم کرتے رہنا چاہیے کہ انہوں نے کتنے سگریٹ نہیں پیے ہیں۔

27، نیلس سٹریٹ ایڈنبر

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 37
شرحِ فراق ، مدحِ لبِ مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں
یار آشنا نہیں کوئی ، ٹکرائیں کس سے جام
کس دل رُبا کے نام پہ خالی سَبُو کریں
سینے پہ ہاتھ ہے ، نہ نظر کو تلاشِ بام
دل ساتھ دے تو آج غمِ آرزو کریں
کب تک سنے گی رات ، کہاں تک سنائیں ہم
شکوے گِلے سب آج ترے رُو بُرو کریں
ہمدم حدیثِ کوئے ملامت سُنائیو
دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں
آشفتہ سر ہیں ، محتسبو، منہ نہ آئیو
سر بیچ دیں تو فکرِ دل و جاں عدو کریں
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
فیض احمد فیض

دھوکے دئیے کیا کیا ہمیں بادِ سحری نے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
ہر سَمت پریشاں تری آمد کے قرینے
دھوکے دئیے کیا کیا ہمیں بادِ سحری نے
ہر منزلِ غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا
بہلایا ہے ہر گام بہت در بدری نے
تھے بزم میں سب دودِ سرِ بزم سے شاداں
بیکار جلایا ہمیں روشن نظری نے
مَے خانے میں عاجز ہُوئے آزُردہ دِلی سے
مسجد کا نہ رکھا ہمیں آشفتہ سری نے
یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیض، کبھی بخیہ گری نے
فیض احمد فیض

نہ شب کو دن سے شکایت ، نہ دن کو شب سے ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت ، نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گِلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہُوا ہے جب سے دلِ ناصبُور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شررِ ہے تو بھڑکے ، جو پھول ہے تو کِھلے
طرح طرح کی طلب ، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے
بمبئی
فیض احمد فیض

پاس رہو

تم مرے پا س رہو

میرے قاتل ، مرے دِلدار،مرے پاس رہو

جس گھڑی رات چلے،

آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے

مرہمِ مُشک لئے، نشترِالماس لئے

بَین کرتی ہوئی، ہنستی ہُوئی ، گاتی نکلے

درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے

جس گھڑی سینوں میں ڈُوبے ہُوئے دل

آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگیں

آس لئے

اور بچوں کے بلکنے کی طرح قُلقُل مے

بہرِ ناسودگی مچلے تو منائے نہ مَنے

جب کوئی بات بنائے نہ بنے

جب نہ کوئی بات چلے

جس گھڑی رات چلے

جس گھڑی ماتمی ، سُنسان، سیہ رات چلے

پاس رہو

میرے قاتل، مرے دلِدار مرے پاس رہو!

(ماسکو)

فیض احمد فیض

رنگ ہے دل کا مرے

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر ، راہگزر راہگزر، شیشہ مَے شیشہ مے

اور اب شیشہ مَے ،راہگزر، رنگِ فلک

رنگ ہے دل کا مرے ،’’خون جگر ہونے تک‘‘

چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار کا رنگ

سرمئی رنگ کہ ہے ساعتِ بیزار کا رنگ

زرد پتّوں کا ،خس وخار کا رنگ

سُرخ پُھولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ

زہر کا رنگ ، لہو رنگ ، شبِ تار کا رنگ

آسماں ، راہگزر،شیشہ مَے،

کوئی بھیگا ہُوا دامن ،کوئی دُکھتی ہوئی رگ

کوئی ہر لخطہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے

اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ ،کوئی رُت ،کوئی شے

ایک جگہ پر ٹھہرے،

پھر سے اک بار ہر اک چیز وہی ہو کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر ، راہگزر راہگزر، شیشہ مَے شیشہ مے

(ماسکو)

فیض احمد فیض

جب تیری سمندر آنکھوں میں

یہ دُھوپ کنارا، شام ڈھلے

مِلتے ہیں دونوں وقت جہاں

جو رات نہ دن ، جو آج نہ کل

پل بھر کو امر ،پل بھر میں دھواں

اِس دھوپ کنارے، پل دو پل

ہونٹوں کی لپک

باہوں کی چھنک

یہ میل ہمارا ، جھوٹ نہ سچ

کیوں زار کرو، کیوں دوش دھرو

کس کارن، جھوٹی بات کرو

جب تیری سمندر آنکھوں میں

اس شام کا سورج ڈوبے گا

سُکھ سوئیں گے گھر دَر والے

اور راہی اپنی رہ لے گا

(لندن سے)

فیض احمد فیض

خوشا ضمانتِ غم

دیارِ یار تری جوششِ جنوں پہ سلام

مرے وطن ترے دامانِ تار تار کی خیر

رہِ یقین افشانِ خاک و خوں پہ سلام

مرے چمن ترے زخموں کے لالہ زار کی خیر

ہر ایک خانۂ ویراں کی تیرگی پہ سلام

ہر ایک خاک بسر، خانماں خراب کی خیر

ہر ایک کشتۂ ناحق کی خامشی پہ سلام

ہر ایک دیدۂ پُرنم کی آب و تاب کی خیر

رواں رہے یہ روایت ، خوشا ضمانتِ غم

نشاطِ ختمِ غمِ کائنات سے پہلے

ہر اک کے ساتھ رہے دولتِ امانتِ غم

کوئی نجات نہ پائے نَجات سے پہلے

سکوں ملے نہ کبھی تیرے پافگاروں کو

جمالِ خونِ سرِ خار کو نظر نہ لگے

اماں ملے نہ کہیں تیرے جاں نثاروں

جلالِ فرقِ سرِ دار کو نظر نہ لگے

(لندن)

فیض احمد فیض

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 30
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دُشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چُکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
اُدھر ایک حرف کہ کُشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سُن کے اُڑا دیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
فیض احمد فیض

شہرِ یاراں

آسماں کی گود میں دم توڑتا ہے طفل ابر

جم رہا ہے ابر کے ہونٹوں پہ خوں آلود کف

بُجھتے بُجھتے بُجھ گئی ہے عرش کے حُجروں میں آگ

دھیرے دھیرے بِچھ رہی ہے ماتمی تاروں کی صف

اے صبا شاید ترے ہمراہ یہ خونناک شام

سر جھکائے جارہی ہے شہرِ یاراں کی طرف

شہر یاراں جس میں اِس دم ڈھونڈتی پھرتی ہے موت

شیر دل بانکوں میں اپنے تیر و نشتر کے ہدف

اِک طرف بجتی ہیں جوشِ زیست کی شہنائیاں

اِک طرف چنگھاڑتے ہیں اہرمن کے طبل و دف

جاکے کہنا اے صبا ، بعد از سلامِ دوستی

آج شب جس دم گُزر ہو شہرِ یاراں کی طرف

دشتِ شب میں اس گھڑی چپ چاپ ہے شاید رواں

ساقیِ صبحِ طرب ، نغمہ بلب ، ساغر بکف

وہ پہنچ جائے تو ہو گی پھر سے برپا انجمن

اور ترتیبِ مقام و منصب و جاہ و شرف

فیض احمد فیض

فصلِ گُل آئی امتحاں کی طرح

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 28
یک بیک شورشِ فغاں کی طرح
فصلِ گُل آئی امتحاں کی طرح
صحنِ گلشن میں بہرِ مشتاقاں
ہر روش کِھنچ گئی کماں کی طرح
پھر لہو سے ہر ایک کاسۂ داغ
پُر ہُوا جامِ ارغواں کی طرح
یاد آیا جنُونِ گُم گشتہ
بے طلب قرضِ دوستاں کی طرح
جانے کس پر ہو مہرباں قاتِل
بے سبب مرگِ ناگہاں کی طرح
ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں
دل سنبھالے رہو زباں کی طرح
فیض احمد فیض

کہاں جاؤ گے

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند

عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے

عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری

سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے

آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں

اپنی تنہائی سمیٹے گا ، بچھائے گا کوئی

بے وفائی کی گھڑی ، ترکِ مدارات کا وقت

اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی!

ترکِ دنیا کا سماں ، ختمِ ملاقات کا وقت

اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں ، رہنے دو

کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو

اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے

اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح

زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے

اور ہر کشتۂ واماندگیِ آخرِ شب

بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب

جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے

فیض احمد فیض

جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آگئی، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 26
آج یوں موج در موج غم تھم گیا، اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا
جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آگئی، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا
جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم، رُو بُرو پھر سرِ رہگزار آگیا
صبحِ فردا کو پھر دل ترسنے لگا ، عمرِ رفتہ ترا اعتبار آگیا
رُت بدلنے لگی رنگِ دل دیکھنا ، رنگِ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں
زخم چھلکا کوئی یا کوئی گُل کِھلا ، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا
خونِ عُشاق سے جام بھرنے لگے ، دل سُلگنے لگے ، داغ جلنے لگے
محفلِ درد پھر رنگ پر آگئی ، پھر شبِ آرزُو پر نکھار آگیا
سر فروشی کے انداز بدلے گئے ، دعوتِ قتل پر مقتل شہر میں
ڈال کر کوئی گردن میں طوق آگیا ، لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آگیا
فیض کیا جانیے یار کس آس پر ، منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبر
میکشوں پر ہُوا محتسب مہرباں ، دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آگیا
فیض احمد فیض

قاصدا ، قیمتِ گلگشتِ بہاراں کیا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
ان دنوں رسم و رہِ شہرِ نگاراں کیا ہے
قاصدا ، قیمتِ گلگشتِ بہاراں کیا ہے
کُوئے جاناں ہے کہ مقتل ہے کہ میخانہ ہے
آج کل صورتِ بربادیِ یاراں کیا ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

دو مرثیے

۔ ۱ ۔

ملاقات مری

ساری دیوار سیہ ہو گئی تا حلقۂ دام

راستے بجھ گئے رُخصت ہُوئے رہ گیر تمام

اپنی تنہائی سے گویا ہوئی پھر رات مری

ہو نہ ہو آج پھر آئی ہے ملاقات مری

اک ہتھیلی پہ حِنا ، ایک ہتھیلی پہ لُہو

اک نظر زہر لئے ایک نظر میں دارو

دیر سے منزلِ دل میں کوئی آیا نہ گیا

فرقتِ درد میں بے آب ہُوا تختۂ داغ

کس سے کہیے کہ بھرے رنگ سے زخموں کے ایاغ

اور پھر خود ہی چلی آئی ملاقات مری

آشنا موت جو دشمن بھی ہے غم خوار بھی ہے

وہ جو ہم لوگوں کی قاتل بھی ہے دلدار بھی ہے

۔۲ ۔

ختم ہوئی بارشِ سنگ

ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر

ٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمر

اب کسی سَمت اندھیرا نہ اُجالا ہو گا

بُجھ گئی دل کی طرح راہِ وفا میرے بعد

دوستو! قافلۂ درد کا اب کیا ہو گا

اب کوئی اور کرے پرورشِ گلشنِ غم

دوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنم

تھم گیا شورِ جنوں ختم ہوئی بارشِ سنگ

خاکِ رہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ

کُوئے جاناں میں کُھلا میرے لہو کا پرچم

دیکھئے دیتے ہیں کِس کِس کو صدا میرے بعد

’’کون ہوتا ہے حریفِ مَے مرد افگنِ عشق

ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد‘‘

فیض احمد فیض

سنتے تھے وہ آئیں گے ، سنتے تھے سحر ہو گی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
کب ٹھہرے گا درد اے دل ، کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے ، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی ، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تری شنوائی اے دیدۂ تر ہو گی
کب مہکے گی فصلِ گل ، کب بہکے گا میخانہ
کب صبحِ سخن ہو گی ، کب شامِ نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے ، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گی
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامتِ جانانہ
کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی
فیض احمد فیض

کِھلتی ہے صبح گل کی طرح رنگ و بُو سے پُر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
ڈھلتی ہے موجِ مَے کی طرح رات ان دِنوں
کِھلتی ہے صبح گل کی طرح رنگ و بُو سے پُر
ویراں ہیں جام پاس کرو کچھ بہار کا
دل آرزو سے پُر کرو، آنکھیں لُہو سے پُر
قطعہ
فیض احمد فیض

سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے

فیض احمد فیض ۔ قطعہ
آگئی فصلِ سکُوں چاک گریباں والو
سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے
دوستوں بزم سجاؤ کہ بہار آئی ہے
کِھل گئے زخم ، کوئی پھول کِھلے یا نہ کھلے
فیض احمد فیض

تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ رہگزار چلے گئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
فیض احمد فیض

زندگی

ملکۂ شہرِ زندگی تیرا

شُکر کسِ طور سے ادا کیجے

دولتِ دل کا کچھ شمار نہیں

تنگ دستی کا کیا گلہ کیجے

جو ترے حُسن کے فقیر ہوئے

ان کو تشویشِ روزگار کہاں؟

درد بیچیں گے گیت گائیں گے

اِس سے خوش وقت کاروبارکہاں؟

جام چھلکا توجم گئی محفل

مِنّت لُطفِ غم گسار کسے؟

اشک ٹپکا تو کِھل گیا گلشن

رنجِ کم ظرفیِ بہار کسے؟

خوش نشیں ہیں کہ چشم و دل کی مراد

دَیر میں ہے نہ خانقاہ میں ہے

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

ہر صنم اپنی بارگاہ میں ہے

کون ایسا غنی ہے جس سے کوئی

نقدِ شمس و قمر کی بات کرے

جس کو شوقِ نبرد ہو ہم سے

جائے تسخیرِ کائنات کرے

فیض احمد فیض

جو عُمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو
جو عُمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشتِ خاکِ جِگر ، ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مَے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا ، لو جام اُلٹائے دیتے ہیں
قطعہ
فیض احمد فیض

قیدِ تنہائی

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

خواب ہی خواب میں بیدار ہُوا درد کا شہر

خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی

عدم آبادِ جُدائی میں سحر ہونے لگی

کاسۂ دل میں بھری اپنی صبُوحی میں نے

گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

آنکھ سے دُور کسی صبح کی تمہید لیے

کوئی نغمہ ، کوئی خوشبو ، کوئی کافر صورت

بے خبر گزری ، پریشانیِ اُمیّد لیے

گھول کر تلخیِ دیروز میں اِمروز کا زہر

حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے

دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام

حُسنِ آفاق ، جمالِ لب و رخسار کے نام

(زندانِ قلعۂ لاہور)

فیض احمد فیض

ترا حُسن دستِ عیسیٰ ، تری یاد رُوئے مریم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نَجات دل کا عالم
ترا حُسن دستِ عیسیٰ ، تری یاد رُوئے مریم
دل و جاں فدائے راہے کبھی آکے دیکھ ہمدم
سرِ کوئے دل فگاراں شبِ آرزو کا عالم
تری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگزر میں گزراں
نہ ہُوا کہ مَرمِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم
لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصلِ گُل کا ماتم
لاہورجیل
فیض احمد فیض

آج بازار میں پابجولاں چلو

چشمِ نم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں

تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پابجولاں چلو

دست افشاں چلو ، مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو ، خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

حاکم شہر بھی ، مجمعِ عام بھی

تیرِ الزام بھی ، سنگِ دشنام بھی

صبحِ ناشاد بھی ، روزِ ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے

دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار چلو

(لاہورجیل)

فیض احمد فیض

شورشِ زنجیر بسم اللہ

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ

ہر اک جانب مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ

گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ

درِ زنداں پہ بُلوائے گئے پھر سے جُنوں والے

دریدہ دامنوں والے ،پریشاں گیسوؤں والے

جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ

ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

گنو سب داغ دل کے ، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی

سرِ دربار پُرسش ہورہی ہے پھر گناہوں کی

کرو یارو شمارِ نالۂ شب گیر بسم اللہ

ستم کی داستاں ، کُشتہ دلوں کا ماجرا کہیے

جو زیر لب نہ کہتے تھے وہ سب کچھ برملا کہیے

مُصرِ ہے محتسب رازِ شہیدانِ وفا کہیے

لگی ہے حرفِ نا گُفتہ پر اب تعزیر بِسم اللہ

سرِ مقتل چلو بے زحمتِ تقصیر بِسم اللہ

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

(لاہورجیل)

فیض احمد فیض

تم اچھے مسیحا ہو شِفا کیوں نہیں دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شِفا کیوں نہیں دیتے
دردِ شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے
خونِ دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے
مِٹ جائے گی مُخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے
ہاں نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں نغمہ گرو ساز صدا کیوں نہیں دیتے
پیمانِ جُنوں ہاتھوں کو شرمائے گا کب تک
دل والو! گریباں کا پتا کیوں نہیں دیتے
بربادیِ دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمنِ جاں ہے تو بُھلا کیوں نہیں دیتے
لاہورجیل
فیض احمد فیض

کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
نہ دید ہے نہ سخن ، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں!

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدم

کوئی اترا نہ میداں میں ، دشمن نہ ہم

کوئی صف بن نہ پائی ، نہ کوئی علم

منتشرِ دوستوں کو صدا دے سکا

اجنبی دُشمنوں کا پتا دے سکا

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چُکی!

جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدم

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں

جسم خستہ ہے ، ہاتھوں میں یارا نہیں

اپنے بس کا نہیں بارِ سنگ ستم

بارِ سنگِ ستم ، بار کہسار غم

جس کو چُھوکر سبھی اک طرف ہو گئے

بات کی بات میں ذی شرف ہو گئے

دوستو، کوئے جاناں کی نا مہرباں

خاک پر اپنے روشن لہو کی بہار

اب نہ آئے گی کیا؟ اب کِھلے گا نہ کیا

اس کفِ نازنیں پر کوئی لالہ زار؟

اس حزیں خامشی میں نہ لَوٹے گا کیا

شورِ آوازِ حق ، نعرئہ گیر و دار

شوق کا امتحاں جو ہُوا سو ہُوا

جسم و جاں کا زیاں جو ہُوا سو ہُوا

سُود سے پیشتر ہے زیاں اور بھی

دوستو ماتمِ جسم وجاں اور بھی

اور بھی تلخ تر امتحاں اور بھی

فیض احمد فیض

سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 10
جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں
سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں
وہ تیرگی ہے رہِ بُتاں میں چراغِ رُخ ہے نہ شمعِ وعدہ
کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں
بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا
ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں
قریب آ اے مہِ شبِ غم ، نظر پہ کُھلتا نہیں کچھ اس دم
کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے ، کون سے نام بجھ گئے ہیں
بہار اب آکے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشنِ رنگ و نغمہ
وہ گل سرِ شاخ جل گئے ہیں ، وہ دل تہِ دام بجھ گئے ہیں
فیض احمد فیض

شام

اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے

کوئی اُجڑا ہوا ، بے نُور پُرانا مندر

ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے

چاک ہر بام ، ہر اک در کا دمِ آخر ہے

آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے

جسم پر راکھ ملے ، ماتھے پہ سیندور ملے

سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے

اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے

جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام

دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام

اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہو گا

اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا

آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے

چُپ کی زنجیر کٹے ، وقت کا دامن چُھوٹے

دے کوئی سنکھ دہائی ، کوئی پایل بولے

کوئی بُت جاگے ، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے

فیض احمد فیض