کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے اپریل 4, 2012فیض احمد فیض،دستِ تہِ سنگ،غزلآس،اُداسadmin فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12 نہ دید ہے نہ سخن ، اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے قطعہ فیض احمد فیض Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔ Related