کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
نہ دید ہے نہ سخن ، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

تبصرہ کریں