سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے

فیض احمد فیض ۔ قطعہ
آگئی فصلِ سکُوں چاک گریباں والو
سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے
دوستوں بزم سجاؤ کہ بہار آئی ہے
کِھل گئے زخم ، کوئی پھول کِھلے یا نہ کھلے
فیض احمد فیض

تبصرہ کریں