کِھلتی ہے صبح گل کی طرح رنگ و بُو سے پُر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
ڈھلتی ہے موجِ مَے کی طرح رات ان دِنوں
کِھلتی ہے صبح گل کی طرح رنگ و بُو سے پُر
ویراں ہیں جام پاس کرو کچھ بہار کا
دل آرزو سے پُر کرو، آنکھیں لُہو سے پُر
قطعہ
فیض احمد فیض

تبصرہ کریں