زمرہ جات کے محفوظات: کلیاتِ شکیب جلالی ۔ غیر مدوّن کلام ۔ غزلیں

مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں

سرو و سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں
مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں
چھوٹی سی اک خلوص کی دنیا بسائیں گے
آبادیوں سے دور چناروں کے سائے میں
تاریکیوں میں اور سیاہی نہ گھولیے
زلفیں بکھیریے نہ ستاروں کے سائے میں
جانے بھنور سے کھیلنے والے کہاں گئے
کشتی تو آ گئی ہے کناروں کے سائے میں
مانوس ہو گئی ہے خزاں سے مری بہار
اب لُطف کیا ملے گا بہاروں کے سائے میں
بلبل کی زندگی تو بہر حال کٹ گئی
پھولوں کی گود میں ، کبھی خاروں کے سائے میں
انگڑائی لی جنوں نے، خرد سو گئی، شکیبؔ
نغمات کی لطیف پھواروں کے سائے میں
شکیب جلالی

عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے

رازِ حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے
عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے
ہمدردیوں کا ذکر کروں اِن سے یا نہیں
ظاہرپرست دوست ہیں، دشمن زمانہ ہے
مرعوب کرسکے گا نہ مجھ کو جمالِ دوست
میرا مزاج میری نظر باغیانہ ہے
بیٹھا ہوں بجلیوں کا تصوّر کیے ہوئے
گہوارہِ جمال مرا آشیانہ ہے
ترسا رہے ہو کیوں خس و خاشاک کے لیے
میرا چمن ہے اور مرا آشیانہ ہے
شاید مری حیات کا مرکز بدل گیا
میرے لبوں پہ آج خوشی کا ترانہ ہے
تسلیم، اُڑ کے جا نہیں سکتا مگر، شکیبؔ
نظروں کے سامنے تو مرا آشیانہ ہے
شکیب جلالی

خدا گواہ بہاروں میں آگ لگ جائے

وہ دیکھ لیں تو نظاروں میں آگ لگ جائے
خدا گواہ بہاروں میں آگ لگ جائے
جو لُطفِ شورشِ طوفاں تمھیں اٹھانا ہے
دعا کرو کہ کناروں میں آگ لگ جائے
نگاہِ لطف و کرم دل پہ اس طرح ڈالو
بجھے بجھے سے شراروں میں آگ لگ جائے
نظر اٹھا کے جنوں دیکھ لے اگر اک بار
تجلیات کے دھاروں میں آگ لگ جائے
بہارساز ہے میری نظر کی ہر جُنبش
مری بلا سے بہاروں میں آگ لگ جائے
کسی کے عزمِ مکمل کی آبرو رہ جائے
اگر تمام سہاروں میں آگ لگ جائے
گلُوں کے رُخ سے شرارے ٹپک رہے ہیں ، شکیبؔ
عجب نہیں جو بہاروں میں آگ لگ جائے
شکیب جلالی

چشمِ مے گوں تری یاد آئی ہے

جب بھی گُلشن پہ گھٹا چھائی ہے
چشمِ مے گوں تری یاد آئی ہے
کس کے جلووں کو نظر میں لاؤں
حسن خود میرا تماشائی ہے
آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن
بات پر بات نکل آئی ہے
زندگی بخش عزائم کی قسم
ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے
مرگ و ہستی کا مٹا کر احساس
زندگی موت سے ٹکرائی ہے
مجھ کو دنیا کی محبت پہ، شکیبؔ
اکثر اوقات ہنسی آئی ہے
شکیب جلالی

حُسن کی زندگی محبت ہے

حُسن کو عشق کی ضرورت ہے
حُسن کی زندگی محبت ہے
کیوں اُٹھے جا رہے ہو محفل سے
کیا قیامت ہے، کیا قیامت ہے
آپ برہم نہ ہوں تو میں کہہ دوں
آپ سے کچھ مجھے شکایت ہے
پوچھ لو مجھ سے کائنات کا حال
دل کے ہاتھوں میں نبضِ فطرت ہے
جاگ اُٹّھیں مری تمنائیں
مسکرانا ترا قیامت ہے
ظلم کو جو کہ زندگی بخشے
ایسی فریاد سے بغاوت ہے
میں جو چاہوں جہاں پہ چھا جاؤں
جذبہِ دل مرا سلامت ہے
سن کے بولے وہ میرا حال، شکیبؔ
کچھ فسانہ ہے، کچھ حقیقت ہے
شکیب جلالی

اب جمالات سے بغاوت ہے

رقص و نغمات سے بغاوت ہے
اب جمالات سے بغاوت ہے
غم کا ماحول جو بدل نہ سکیں
ایسے نغمات سے بغاوت ہے
میرے احساس کے اجالوں کو
چاندنی رات سے بغاوت ہے
حسن سے انتقام لینا ہے
دل کی ہر بات سے بغاوت ہے
جن سے اعصاب مُضمحل ہو جائیں
ان غزلیات سے بغاوت ہے
قلب کی واردات جن میں نہ ہو
ان حکایات سے بغاوت ہے
جو کہ فکر و عمل سے عاری ہوں
ان روایات سے بغاوت ہے
وقت کے ساتھ جو بدل نہ سکیں
ایسے حالات سے بغاوت ہے
جو نہ سمجھیں نئے تقاضوں کو
ان خیالات سے بغاوت ہے
غم کی خودداریاں، شکیبؔ، نہ پوچھ
اب شکایات سے بغاوت ہے
شکیب جلالی

حسن کے راز دار ہیں ہم لوگ

عشق کے غم گُسا ر ہیں ہم لوگ
حسن کے راز دار ہیں ہم لوگ
دستِ قدرت کو ناز ہے ہم پر
وقت کے شاہ کار ہیں ہم لوگ
ہم سے قائم ہے گُلستاں کا بھرَم
آبروئے بہار ہیں ہم لوگ
منزلیں ہیں ہمارے قدموں میں
حاصلِ رہ گزار ہیں ہم لوگ
ہم سے تنظیم ہے زمانے کی
محورِ روزگار ہیں ہم لوگ
ہم جو چاہیں گے اب وہی ہو گا
صاحبِ اختیار ہیں ہم لوگ
ہم سے روشن ہے کائنات، شکیبؔ
اصلِ لیل و نہار ہیں ہم لوگ
شکیب جلالی

کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ

نہ ساحل پہ مرنا، نہ طُوفاں میں جینا
کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ
لُٹایا جو آنکھوں نے غم کا خَزینہ
عیاں ہو گیا رازِ دل کا دَفینہ
محبت کے آنسو بڑے قیمتی ہیں
چمکتا ہے ان سے وفا کا نَگینہ
نگاہوں کے آغوش میں خود کو پا کر
حیا ہو رہی ہے پسینہ پسینہ
یہ پَت جھڑ کا موسم، یہ سنسان گُلشن
ہو جیسے پریشان حال اک حَسینہ
عزائم کو بیدار کرنے کی خاطر
چٹانوں سے ٹکرا رہا ہوں سَفینہ
اٹھاؤ نہ پردے رخِ آتشیں سے
نگاہوں کو آنے لگا ہے پسینہ
گوارا نہیں ان کی رُسوائی دل کو
نہ دیکھو یہ ٹوٹا ہوا آبگینہ
شکیبؔ! اہلِ دنیا کے اطوار دیکھے
لبوں پر تبسّم، دلوں میں ہے کِینہ
شکیب جلالی

نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے

بڑھے گا جو طوفان میں بے سہارے
نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے
جوانی سے ٹکرا رہی ہے جوانی
تمنا میں حل ہو رہے ہیں شرارے
نگاہیں اٹھا کر کسی نے جو دیکھا
وہیں دم بخود ہو گئے ماہ پارے
سنا جب کسی نے مرا قصہِ غم
گرے آنکھ سے ٹوٹ کر دو ستارے
حوادث میں ملتی ہے مجھ کو مسّرت
میں طوفاں میں پیدآ کروں گا کنارے
وہ دن حاصلِ عشق و اُلفت ہیں ہمدم
کہ جو میں نے فُرقت میں ان کی گزارے
ہوا جن پہ نفرت کا دھوکا جہاں کو
محبت نے ایسے بھی کچھ روپ دھارے
ذرا کوئی سازِ محبت تو چھیڑے
عجب کیا جو گانے لگیں یہ نظارے
کہیں محورِ غم، کہیں روحِ نغمہ
شکیبؔ! ان کی نظروں کے رنگیں اشارے
شکیب جلالی

اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا

خواب آلودہ ہے ماحول، طرب خانے کا
اک نیا دور ہو ساقی، نئے پیمانے کا
وہ اگر اپنی نگاہوں سے اشارہ کردیں
لُطف آجائے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
جام دیتے ہوئے نظریں نہ ملا اے ساقی
پھر چھلک جائے گا ساغر کسی دیوانے کا
دو نگاہوں کا تصادم، دو دلوں کی فریاد
وہ ہے آغاز، یہ انجام ہے افسانے کا
یہ بدلتا ہوا موسم، یہ اداسی، یہ سُکوت
اک تصوّر ہے گُلستاں میں بھی ویرانے کا
ایسی باتوں کا نہ کہنا ہی مناسب ہے، شکیبؔ
دل کہیں ٹوٹ نہ جائے کسی دیوانے کا
شکیب جلالی

عشق کا احترام کرتے ہیں

وہ نظر سے سلام کرتے ہیں
عشق کا احترام کرتے ہیں
اس قدر وہ قریب ہیں مجھ سے
بے رُخی سے کلام کرتے ہیں
جن سے پردہ پڑے تعلّق پر
ایسے جلووں کو عام کرتے ہیں
منزلیں تو نشانِ منزل ہیں
راہ رَو کب قیام کرتے ہیں
غمِ دوراں سے بھاگنے والے
مے کدے میں قیام کرتے ہیں
اہلِ طوفاں جُمودِ ساحل کو
دور ہی سے سلام کرتے ہیں
کِھنچ کے منزل، شکیبؔ، آتی ہے
خود کو جب تیز گام کرتے ہیں
شکیب جلالی

جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو

خردفریبِ نظاروں کی کوئی بات کرو
جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو
کسی کی وعدہ خلافی کا ذکر خوب نہیں
مرے رفیق ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ساز زمانے کی بات رہنے دو
خلوصِ دوست کے ماروں کی کوئی بات کرو
گھٹا کی اوٹ سے چھپ کر جو دیکھتے تھے ہمیں
انھی شریر ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ذکرِ حوادث سے کانپ اٹھتا ہے
سُکوں بدوش کناروں کی کوئی بات کرو
نہیں ہے حدِّ نظر تک، وجود ساحل کا
فضا مُہیب ہے، دھاروں کی کوئی بات کرو
سلامِ شوق لیے تھے کسی نے، جن سے، شکیبؔ
انھی لطیف اشاروں کی کوئی بات کرو
شکیب جلالی

بہر صورت نمایاں گلستاں در گلستاں ہم ہیں

کبھی حُسنِ گُل و لالہ، کبھی رنگِ خزاں ہم ہیں
بہر صورت نمایاں گلستاں در گلستاں ہم ہیں
نرالا ہے زمانے ہی سے ذوقِ رہ روی اپنا
امیرِ کارواں ہم ہیں، نہ گردِ کارواں ہم ہیں
حوادث کی کشاکش ہے، وہ ساحل ہے، یہ طوفاں ہے
زمانہ جن سے بچتا ہے انھیں کے درمیاں ہم ہیں
ہمارا ذوقِ خودبینی یہاں پر جلوہ ساماں ہے
اگر سچ پوچھیے تو رونقِ بزمِ جہاں ہم ہیں
جنوں میں ایک سجدہ وُسعتِ عالم پہ حاوی ہے
شکیبؔ، اس درجہ گویا بے نیازِ آستاں ہم ہیں
شکیب جلالی

مری توبہ کی خیر برسات آئی

نظر پھر حضورِ خرابات آئی
مری توبہ کی خیر برسات آئی
اُدھر ان کے لب پر مری بات آئی
اِدھر رقص میں روحِ نغمات آئی
وہ جب سے گئے ہیں خدا جانتا ہے
نہ وہ چاند نکلا، نہ وہ رات آئی
کبھی صبحِ خنداں نے آنسو بہائے
کبھی مُسکراتی ہوئی رات آئی
ہر اک گام پر جُرأتیں کہہ رہی ہیں
یہ منزل بطورِ نشانات آئی
صراحی اٹھائی نہ ساغر سنبھالے
عجب شان سے اپنی برسات آئی
وہ خود راز داں بن کے آئے تھے لیکن
زباں تک نہ دل کی کوئی بات آئی
مجھے ان کے وعدے پہ بالکل یقیں تھا
مگر جب ستاروں بھری رات آئی
نہ کہتا، شکیبؔ، ان سے حالِ غمِ دل
مگر کیا کروں بات پَر بات آئی
شکیب جلالی

وگرنہ عُذر نہ تھا آپ کو سُنانے میں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عُذر نہ تھا آپ کو سُنانے میں
یہ منتشر سے اُجالے، یہ زندگی، یہ سُکوت
تمھیں پکار کے آئے ہیں اک زمانے میں
چمن سے دور تھے لیکن بہارساماں تھے
کچھ ایسے پھول بھی پیدا ہوئے زمانے میں
ضرور دھوکے میں منزل سے دور آپہنچے
جھجک رہا ہے بہت راہبر بتانے میں
شکیبؔ، میری خوشی سے کبھی جو خوش نہ ہوئے
مجھے سُرور ملا ان کے مسکرانے میں
شکیب جلالی

کسی کے جلووں کی زَد پہ نظروں کا امتحاں یاد آرہا ہے

نقاب اٹھنے پہ ہر ارادہ، تھا رایگاں، یاد آرہا ہے
کسی کے جلووں کی زَد پہ نظروں کا امتحاں یاد آرہا ہے
زہے مسرّت، مری خوشی سے کبھی چمن مسکرادیا تھا
زہے تصوّر، وہ مسکراتا ہوا سماں یاد آرہا ہے
بہار آئی ہے پھر چمن میں ، گھٹائیں گھِر گھِر کے آرہی ہیں
سجود ریزی پہ بجلیوں کی، پھر آشیاں یاد آرہا ہے
کلی کلی گیت گارہی ہے، بہار کی دل فریبیوں کے
ستم ظریفی تو دیکھیے مجھ کو آسماں یاد آرہا ہے
کسی مسافر کی آرزو میں نشانِ منزل بھٹک رہے ہیں
کسی مسافر کو شامِ غُربت میں کارواں یاد آرہا ہے
چمن کی رنگینیاں سمٹ کر، مرے تخیّل پہ چھاگئی ہیں
مجھے برنگِ بہار، پھر کوئی مہرباں یاد آرہا ہے
جہاں کہ اذنِ سجود پا کر جبیں کو میں نے اٹھا لیا تھا
قدم قدم، پر شکیبؔ، مجھ کو وہ آستاں یاد آرہا ہے
شکیب جلالی

بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا

میری ناکامی کا افسانہ بھی کیا افسانہ تھا
بُجھ رہی تھی شمعِ محفل، رقص میں پروانہ تھا
ملتی جلتی داستاں وجہِ غلط فہمی ہوئی
آپ شرمندہ نہ ہوں یہ میرا ہی افسانہ تھا
کشمکش کی زَد میں تھا انساں کا ذوقِ بندگی
ایک جانب تیرا کعبہ، اک طرف بُت خانہ تھا
میرے غم انگیز نغمے جانِ محفل بن گئے
ورنہ تیرا سازِ مطرب سوز سے بیگانہ تھا
ان کی آنکھوں نے کبھی بخشا تھا کیفِ بے خودی
زندگی مسرور تھی اور وَجد میں مے خانہ تھا
آبدیدہ ہو گئے اہلِ ستم بھی، اے شکیبؔ
ہائے کتنا سوز میں ڈوبا ہوا افسانہ تھا
شکیب جلالی

آرزو میں بھی سادگی نہ رہی

حُسن میں جب سے بے رُخی نہ رہی
آرزو میں بھی سادگی نہ رہی
ان کا غم جب سے راس آیا ہے
دل کی کوئی خوشی، خوشی نہ رہی
جب کبھی موت کا خیال آیا
زیست میں کوئی دلکشی نہ رہی
آپ سے ایک بات کہنی ہے
لیجیے مجھ کو یاد بھی نہ رہی
کہہ رہی ہے بہ چشمِ تر شبنم
مُسکرا کر کَلی، کَلی نہ رہی
جب کبھی وہ، شکیبؔ، یاد آئے
چاند تاروں میں روشنی نہ رہی
شکیب جلالی

جلوے کسی کے، میری نظر نے سنوار کے

آئینہِ جمال دکھایا نکھار کے
جلوے کسی کے، میری نظر نے سنوار کے
میں اوجِ کہکشاں سے بھی آگے نکل گیا
کچھ حوصلے بڑھے تھے مرے اعتبار کے
دیتا ہے ذرّہ ذرّہ چمن کا سبق ہمیں
شبنم مِٹی مگر گُل و ریحاں نکھار کے
گُل کو، چمن کو، سبزے کو، کہہ کر جُدا جُدا
انساں نے کردیے کئی ٹکڑے بہار کے
رنگینیِ حیات کا کیا تذکرہ، شکیبؔ
دُھندلے سے ہیں نقوش فریبِ بہار کے
شکیب جلالی

میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں
میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں
آغوشِ حادثات میں پائی ہے پرورش
جو برق پُھونک دے، وہ مرا آشیاں نہیں
کیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگ؟
ہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں
گھبرائیے نہ گردشِ ایّام سے ہنوز
ترتیبِ فصلِ گُل ہے یہ دورِ خزاں نہیں
کچھ برق سوز تنکے مجھے چاہئیں، شکیبؔ
جھک جائیں گُل کے بار سے وہ ڈالیاں نہیں
شکیب جلالی

اک چراغِ رہ گزر ہے جو مری منزل میں ہے

ایک ادنیٰ سی توجہ جو کسی کے دل میں ہے
اک چراغِ رہ گزر ہے جو مری منزل میں ہے
راستے کی کُلفتوں پر ہنس رہے ہیں آبلے
کون جانے لُطف کتنا دوریِ منزل میں ہے
ان کی تصویروں میں پاتا ہوں ابھی تک دل کشی
کچھ نہ کچھ احساس اپنا بھی کسی کے دل میں ہے
تلخیِ اَیّام سے گھبرا کے بُھولا تھا تمھیں
اب نہیں معلوم کیوں دل کا سکوں مشکل میں ہے
ہم کو جانے کیا سمجھ کر وہ بھلا بیٹھے، شکیبؔ
پھر بھی ان کی یاد جانے کیوں ہمارے دل میں ہے
شکیب جلالی

نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے

یہ کہتا ہے خانہ خراب اٹھتے اٹھتے
نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے
گھٹا جیسے گِھر آئے ماہِ جبیں پر
گری اس طرح سے نقاب اٹھتے اٹھتے
ذرا فلسفہ زندگی کا سمجھتے
کدھر چل دیے یہ حُباب اٹھتے اٹھتے
ابھی سے اٹھائیں تو شاید اُٹھیں گے
قیامت میں مستِ شراب اٹھتے اٹھتے
شبِ وصل بیٹھے ہیں محجوب سے وہ
اٹھے گا مگر یہ حجاب اٹھتے اٹھتے
شکیبؔ! آزمانے کو کشتی کی جرأت
بھنور بن گئی موجِ آب اٹھتے اٹھتے
شکیب جلالی

رشک کرتی ہیں فضائیں بھی شبستانوں کی

تم نے تقدیر جگا دی مرے ارمانوں کی
رشک کرتی ہیں فضائیں بھی شبستانوں کی
لاکھ تم بُھولو، مگر رنج کی زَد پر آ کر
یاد آجاتی ہے بھولے ہوئے انسانوں کی
ہوں گے منظر یہی، خآ کے یہی، کردار یہی
سُرخیاں صرف بدل جائیں گی افسانوں کی
ڈگمگاجاتے ہیں اب تک مری توبہ کے قدم
یاد جب آتی ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کی
آپ کو میری قسم، آپ نہ ہوں آزردہ
کیا ہُوا، لُٹ گئی دُنیا مرے ارمانوں کی
پھر، شکیبؔ، آج مری زیست پہ غم حاوی ہے
پھر بدلنے لگی سُرخی مرے افسانوں کی
شکیب جلالی

خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے

اک معمّا سمجھ کے بھول گئے
خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے
مرنے والے جہانِ رنگیں کو
اک تماشا سمجھ کے بھول گئے
میری آنکھوں کی التجاؤں کو
آپ شکوہ سمجھ کے بھول گئے
یاد، میری بلا کرے ان کو
وہ مجھے کیا سمجھ کے بھول گئے!
یوں تو غیروں پہ بھی عنایت ہے
مجھ کو اپنا سمجھ کے بھول گئے
بے سہارا سمجھ کے یاد کیا
رسمِ دنیا سمجھ کے بھول گئے
ان کا بخشا ہوا الم بھی، شکیبؔ
لطفِ بے جا سمجھ کے بھول گئے
شکیب جلالی

کچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کے

رُخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کے
کچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کے
ایثار، خودشناسی، توحید اور صداقت
اے دل ستون ہیں یہ ایوانِ بندگی کے
رنج و اَلَم میں کچھ کچھ آمیزشِ مسرّت
ہیں نقش کیسے دلکش تصویرِ زندگی کے
فرضی خدا بنائے، سجدے کیے بُتوں کو
اللہ رے کرشمے احساسِ کمتری کے
قلب و جگر کے ٹکڑے یہ آنسوؤں کے قطرے
اللہ راس لائے، حاصل ہیں زندگی کے
صحرائیوں سے سیکھے کوئی، رُموزِ ہستی
آبادیوں میں اکثر دشمن ہیں آگہی کے
جانِ خلوص بن کر ہم، اے شکیبؔ، اب تک
تعلیم کر رہے ہیں آدابِ زندگی کے
شکیب جلالی

دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی

وحشت کے ان معماروں سے، بنیادِ ایواں ٹوٹ گئی
دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی
اے عزمِ جواں شورش کیسی، اب تک تو یہ سنتے آئے ہیں
دو نازک سی پتواروں سے، ہر جرأتِ طوفاں ٹوٹ گئی
تخیئل کی دَرپردہ ضربیں، وحشی کا سہارا بن ہی گئیں
زنجیروں کی جھنکاروں سے، پابندیِ زنداں ٹوٹ گئی
زنداں کی اندھیری راتوں میں، جینے کا سہارا ختم ہُوا
افسوس کہ ان بے چاروں سے، تصویرِ گلستاں ٹوٹ گئی
دیوانوں نے آخر گلشن، رو رو کے بیاباں کر ڈالا
آنکھوں کے لرزتے پاروں سے، دیوارِ گلستاں ٹوٹ گئی
قسمت کی کرشمہ سازی تھی یا لُطف و کرم ملّاحوں کا
ٹکرا کر خشک کناروں سے پروردہِ طوفاں ٹوٹ گئی
دکھ درد کے ماروں کا ہر غم، ساغر کی کھنک میں ڈوب گیا
پیمانوں کی جھنکاروں سے فکرِ غمِ دوراں ٹوٹ گئی
بارِ غمِ اُلفت اُٹھ نہ سکا، کم ظرفوں کی نبضیں چھوٹ گئیں
افسوس ہے ان بیماروں سے، توقیرِ غمِ جاں ٹوٹ گئی
ہستیِ شکیبؔ زار کو، رنج و غم کے ہی چرکے کافی تھے
ان نازک سی دیواروں سے تعمیرِ دل و جاں ٹوٹ گئی
شکیب جلالی

دنیاے تخیّل مری آباد نہیں ہے

پہلو ہی میں جب سے دلِ ناشاد نہیں ہے
دنیاے تخیّل مری آباد نہیں ہے
نکلے جو انالحق کی صدا حرکتِ دل سے
ایمان کی تکمیل ہے، اِلحاد نہیں ہے
اچھا ہے کہ تم بھول گئے میری وفائیں
مجھ کو بھی کوئی جَور و ستم یاد نہیں ہے
اے لفظِ مسرّت! تجھے غم ہی سے بدل دوں
خودداریِ دل طالبِ امداد نہیں ہے
ہے مظہرِ انوارِ ازل ذوقِ شکیبؔ، اور
بدذوق یہ کہتا ہے: خداداد نہیں ہے
شکیب جلالی

مٹے ہیں لاکھوں ستارے ہی کہکشاں کے لیے

ہر ایک موت ہے تعمیرِ نکتہ داں کے لیے
مٹے ہیں لاکھوں ستارے ہی کہکشاں کے لیے
یہ بہکی بہکی سی باتیں یہ مضمحل نظریں
سُکوں نواز نہ بن جائیں نیم جاں کے لیے
غَرَض کے واسطے جیتی ہے فطرتاً دنیا
بہار پھول کھلاتی نہیں خزاں کے لیے
خوشی زمانے کو مرغوب ہی سہی، لیکن
الم حَسین ہے عنوانِ داستاں کے لیے
خرامِ ناز، نظرمست، منتشر زلفیں
یہ اہتمام ہے کیوں، کس لیے، کہاں کے لیے!
حقائقِ غمِ اُلفت کبھی چُھپے ہیں شکیبؔ!
بیان کیسے بدلتا میں راز داں کے لیے
شکیب جلالی

بہکے بہکے جو یہ مے خوار نظر آتے ہیں

ساغرِ چشم سے سرشار نظر آتے ہیں
بہکے بہکے جو یہ مے خوار نظر آتے ہیں
کُلفتیں آج بھی قائم ہیں قَفَس کی شاید
گُلستاں حاملِ افکار نظر آتے ہیں
جن پہ بے لوث محبت بھی بجا ناز کرے
ایسے نایاب ہی کردار نظر آتے ہیں
خود ہی آتی ہے مسرّت انھیں مژدہ دینے
جو ہر اک غم کے سزاوار نظر آتے ہیں
بے سہارا جو گزر جاتے ہیں طوفانوں سے
کچھ یہاں ایسے بھی خوددار نظر آتے ہیں
جن مراحل کو سمجھنے سے خرد قاصر ہے
وہ جنوں کے لیے شہ کار نظر آتے ہیں
کسبِ ثروت ہی، شکیبؔ، آج کا فن ہے شاید
طالبِ زر مجھے فن کار نظر آتے ہیں
شکیب جلالی

کیوں ہنس رہے ہو چاند ستارو، جواب دو

رنگینیِ حیات کے مارو جواب دو
کیوں ہنس رہے ہو چاند ستارو، جواب دو
کیا مل گیا غریب کی دنیا اُجاڑ کے!
بولو تو اے لرزتے شرارو، جواب دو
کشتی ڈُبو ہی سکتا ہوں، طوفاں نہیں تو کیا
ہو کس لیے اُداس کنارو، جواب دو
بربادیاں سُکون بہ داماں ہیں یا نہیں
کچھ تو خزاں رسیدہ بہارو، جواب دو
کیا تلخیِ حیات سے دل کش ہے تلخ مے؟
اے تلخیِ شراب کے مارو، جواب دو
کیا میری آہ تم سے اُلجھتی ہے راہ میں ؟
سہمے ہوئے سے چاند ستارو، جواب دو
تھیں کس کے دم قدم سے یہاں کی وہ رونقیں
میری اُداس راہ گزارو جواب دو
کیا عزمِ سُوے صحنِ گلستاں ہے آج یا؟
آئی ہو میرے پاس بہارو، جواب دو
عزمِ شکیبؔ زار سے ضد تو نہیں تمھیں
یہ اہتمام کس لیے دھارو، جواب دو
شکیب جلالی

گو کہ مُشتِ غُبار ہے انساں

دوشِ ہستی پہ بار ہے انساں
گو کہ مُشتِ غُبار ہے انساں
گر اصولِ حیات ہو مفقود
چلتا پھرتا مزار ہے انساں
سیم و زر کا بھلا ہو، جس کے طفیل
آج کل باوقار ہے انساں
جس کو سجدہ کیا فرشتوں نے
وہ ہی خاک و غُبار ہے انساں !
درد، غم اور کُلفتیں توبہ
تلخیِ صد خمار ہے انساں
صرف آدم کی ایک لغزش پر
آج تک اشک بار ہے انساں
غم کے ماروں سے پوچھیے تو شکیبؔ
صاحبِ اختیار ہے انساں ؟
شکیب جلالی

نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک

زمانے میں نہیں باقی کوئی نام و نشاں اب تک
نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک
متاع و مال کیا، عزت بچا لینا بھی مشکل ہے
مسلمانوں کا قدرت لے رہی ہے امتحاں اب تک
ستم کوشی پہ نازاں ہیں یہ کُفر و شِرک کے بندے
الٰہی کیسے قائم ہیں زمین و آسماں اب تک
جُھلس دینے پہ بھی مُسلم کو، دل ٹھنڈا نہیں ہوتا
جلائی جا چکی ہیں بستیوں کی بستیاں اب تک
دلا کر یادِ رفعت عہدِ ماضی کی، مسلماں کو
تعجب کیا جو طعنہ دے رہی ہیں پستیاں اب تک
شکیبؔ زار کچھ ایسی اُلجھ کر رہ گئی ہستی
نہ سُلجھیں سعیِ پیہم سے بھی اپنی گُتّھیاں اب تک
شکیب جلالی

رنج و غم کی شکار ہے دنیا

مُفلسوں کی پُکار ہے دنیا
رنج و غم کی شکار ہے دنیا
کیا بتاؤں کہ اپنی حالت کی
خود ہی آئینہ دار ہے دنیا
حالِ باطن کسی کو کیا معلوم
ظاہراً دوست دار ہے دنیا
کہہ رہی ہے خزاں کی مایوسی
اک فریبِ بہار ہے دنیا
اُنس و الفت، خلوص و غیرت کا
دامنِ تار تار ہے دنیا
اک زمانہ ہے صد اَلَم بر دوش
جانے کس کی بہار ہے دنیا
ذرہ ذرہ، شکیبؔ، ہے بے چین
قلب کا انتشار ہے دنیا
شکیب جلالی

ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہوسکا
ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
رہ تو گئی فریبِ مسیحا کی آبرو
ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا
خوش ہوں کہ بات شورشِ طوفاں کی رہ گئی
اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا
بے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں
اچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا
کچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں
دل کو کسی کا لُطف گوارا نہ ہو سکا
فرطِ خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے
جب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا
الٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر، شکیبؔ
دعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا
شکیب جلالی

اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی

جس وقت فصلِ گُل کی قَفَس میں خبر گئی
اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی
تنکے کی طرح بہ گیا ہر ساحلِ مراد
طوفانِ غم! اُمید کی کشتی کدھر گئی؟
وہ سُن کے میرا قصّہِ غم، ایسے رو دیے
جیسے گُلوں پہ شبنمِ گریاں بکھر گئی
کیا جانیے کہ مجھ کو نہیں اعتماد کیوں
تارے تو کہہ رہے ہیں شبِ غم گُزر گئی
قسمت میں ڈوب جانا ہی تھا ایک دن، شکیبؔ
ہاں ! آبروے شورشِ طوفاں مگر گئی
شکیب جلالی

جرأتِ جذبِ ذوقِ دید مانے تو آزما کے ہم

ان کی نقاب ہی رہے حُسنِ طلب اٹھا کے ہم
جرأتِ جذبِ ذوقِ دید مانے تو آزما کے ہم
جن کو یقین ہی نہ ہو، ان سے اَلم کا ذکر کیا
پُرسشِ حالِ زار پر رہ گئے مسکرا کے ہم
فرطِ خوشی ہے یا فقط وہم و خیال کا سراب
منزلِ زیست کے نشاں کھو سے گئے ہیں پآ کے ہم
خطرہِ برق و باد ہے اور نہ فکرِ آشیاں
بیٹھ گئے ہیں آشیاں اپنا ہی خود جلا کے ہم
زیست کی غم سے نسبتیں کام ہی آج آگئیں
’’ہر غمِ بے پناہ پر رہ گئے مسکرا کے ہم،،
ایسے بھی داغ عشق نے بخشے ہیں قلبِ زار کو
چاہیں بھی گر شکیبؔ تو، رکھ نہ سکیں چھپا کے ہم
شکیب جلالی

بس اک نگاہِ کرم کا اُمیدوار ہوں میں

تمھارے عشق میں مجبور و بے قرار ہوں میں
بس اک نگاہِ کرم کا اُمیدوار ہوں میں
مسرّتیں ہیں زمانے کو، اور الَم مجھ کو
کسی نرالے مصوّر کا شاہکار ہوں میں
کسی کی شانِ کریمی کی لاج رہ تو گئی
گُنَہ نہ کرنے کا بے شک گناہ گار ہوں میں
ستم ظریفیِ دوراں، ارے معاذ اللہ
گُلوں کی طرح سے اک قلبِ داغ دار ہوں میں
تری نگاہِ کرم نے شگفتگی دے دی
وگرنہ دیر کی اُجڑی ہوئی بہار ہوں میں
چلے بھی آئیں خدارا کہ وقتِ آخر ہے
ازل سے آپ کی تصویرِ انتظار ہوں میں
نہ جانے لوگ مجھے کیوں شکیبؔ کہتے ہیں
کسی کی یاد میں ہر وقت بے قرار ہوں میں
شکیب جلالی

بڑا ہی کرم آپ فرما رہے ہیں

وفا کا صلہ ہم جفا پا رہے ہیں
بڑا ہی کرم آپ فرما رہے ہیں
یہ بحرِ حوادث کے پُرشور دھارے
ڈُبو کر مجھے خود بھی پچھتا رہے ہیں
بہار آئی ہے اور آتی رہے گی
مگر وہ گُلِ تر جو مُرجھا رہے ہیں
ابھی عزمِ صحرا نَوردی کہاں ہے
پیاماتِ منزل چلے آرہے ہیں
نہ دنیا، نہ عُقبٰی، نہ خُلد ان کا مسکن
شہیدِ محبت کہاں جا رہے ہیں
غمِ جاوداں ہے محبت کا حاصل
محبت میں ہم زندگی پا رہے ہیں
شکیبؔ! ان کی ہر بات عینِ یقیں ہے
خدا جانے کیوں وہ قسم کھا رہے ہیں
شکیب جلالی

اللہ کو اگر منظور نہ ہو، ہر مقصد باطل ہوتا ہے

کیا چیز ہے یہ سعیِ پیہم، کیا جذبہِ کامل ہوتا ہے!
اللہ کو اگر منظور نہ ہو، ہر مقصد باطل ہوتا ہے
اک ٹیس سی پَیہم پاتا ہوں، کیا اس کو محبت کہتے ہیں !
محسوس مجھے میٹھا میٹھا کچھ درد سا اے دل ہوتا ہے
تسکین کو دھوکا دیتے ہیں، ناکامِ تمنا یہ کہہ کر:
ہر گام پہ منزل ہوتی ہے، ہر موج میں ساحل ہوتا ہے
یہ رنج و الم ہی میرے لیے اب زیست کا عنواں ہیں ہمدم
اس دنیا میں پہلے پہلے ہر کام ہی مشکل ہوتا ہے
تسکین سی کیوں مل جاتی ہے، مضرابِ دستِ شوق مجھے
ہر تارِ گریباں، کیا وحشت کے ساز کا حامل ہوتا ہے
دھیرے دھیرے چلنے والے، یہ راہ روی کو کیا جانیں
جو تھک کر راہ میں بیٹھ گیا ہو، صاحبِ منزل ہوتا ہے؟
کیا کم ہے شکیبؔ زار جو حُسنِ دوست سے نسبت رکھتا ہو
جس دل میں نہ ہو اُلفت کی تڑپ، کس کام کا وہ دل ہوتا ہے
شکیب جلالی

محبت بقدرِ محبت نہیں ہے

زمانے کی پہلی سی فطرت نہیں ہے
محبت بقدرِ محبت نہیں ہے
نقاب اپنے رُخ سے اٹھاتے تو ہیں وہ
مگر میری نظروں کو فرصت نہیں ہے
تلاطم میں پاتا ہوں میں امنِ ساحل
مجھے امنِ ساحل سے نسبت نہیں ہے
یہ ہیں اہلِ دنیا کے دلچسپ دھوکے
کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے
نہ ہو جس میں بے لوث کوئی بھی سجدہ
خدا جانے کیا ہے، عبادت نہیں ہے
زمانے میں انساں ہے انساں کا دشمن
یہاں اب خلوص و محبت نہیں ہے
نگاہوں سے ان کی نگاہیں ملائیں
شکیبؔ حزیں ! اتنی فرصت نہیں ہے
شکیب جلالی

کھائے جاتی ہے مگر کیوں دوریِ منزل مجھے

لے کے پہنچے گا کبھی تو جذبہِ کامل مجھے
کھائے جاتی ہے مگر کیوں دوریِ منزل مجھے
یوں تو کہنے کو چلا چلتا ہوں سُوے بزمِ دوست
راس کیوں آنے لگی پابندیِ محفل مجھے
کر رہے تھے کیا، ذرا کھاؤ تو آنکھوں کی قسم
کھیل دل کا کھیلتے تھے دیکھ کر غافل مجھے!
اس طرح اس نے کیا ہے شیشہِ دل چُور چُور
ذرّے ذرّے میں نظر آتا ہے اکثر دل مجھے
تھک کے آخر رہ گئی یہ سوچ کر سعیِ عمل
لے نہ ڈوبے نزدِ ساحل شورشِ ساحل مجھے
اک تلاطم سا بپا ہے ماہ پاروں کے قریب
دیکھ کر شاید بلندی کی طرف مائل مجھے
کیسی کیسی اُلجھنیں ہیں باریابی میں، شکیبؔ
بارگاہِ عشق میں دل کر گیا گھایل مجھے
شکیب جلالی

اے حُکمِ شہریار، کہاں آگیا ہُوں میَں

یہ جھاڑیاں ، یہ خار، کہاں آگیا ہُوں مَیں
اے حُکمِ شہریار، کہاں آگیا ہُوں میَں
ہر عندلیب مرگِ تبسّم پہ نوحہ خواں
ہر پھول سوگوار، کہاں آگیا ہُوں میَں
کیا واقعی نہیں ہے یہ موسیقیوں کا شہر
کیوں چُپ ہیں نغمہ کار، کہاں آگیا ہُوں مَیں
پُھولوں کی سرزمیں ہے نہ خوشبو کی رَہ گزر
اے حسرتِ بہار، کہاں آگیا ہُوں مَیں
جا تو رہا تھا چشمہِ آبِ حیات پر
یہ دُھول، یہ غبار، کہاں آگیا ہُوں مَیں
رَہ زَن مُجھی سے پوچھ رہے ہیں مرا پتا
اے حُسنِ اعتبار! کہاں آگیا ہُوں مَیں
شکیب جلالی

داغِ جگر کو رشکِ گُلستاں بنا دیا

گلہائے صبر و ضبط کا خواہاں بنا دیا
داغِ جگر کو رشکِ گُلستاں بنا دیا
پابندیوں نے موت کا ساماں بنا دیا
قلبِ حزیں کو تلخیِ زنداں بنا دیا
جلووں نے ان کی دید کا ساماں بنا دیا
میرے تصوّرات کو عُریاں بنا دیا
منظور تھی جو شانِ کریمی کو بندگی
خالق نے مُشتِ خاک کو انساں بنا دیا
مایوسیوں نے دل کا سَفینہ ڈبو کے آج
افسوس ایک موج کو طوفاں بنا دیا
اللہ رے فریبِ تصوّر کی خوبیاں
دشواریِ فراق کو آساں بنا دیا
دیکھا شکیبؔ! نقطے جما کر بنائے حَرف
حَرفوں سے شعر، شعر سے دیواں بنا دیا
شکیب جلالی

کیوں میرے دردِ دل کا مُداوا کرے کوئی

وعدوں کو اپنے کس لیے ایفا کرے کوئی
کیوں میرے دردِ دل کا مُداوا کرے کوئی
کس طرح ان کے جَور کا شِکوہ کرے کوئی
توہینِ عشق کیسے گوارا کرے کوئی
پہلو ہزار عیش کے نکلیں گے رنج میں
یہ شرط ہے کہ رنج گوارا کرے کوئی
اے چشمِ شوق یاد بھی ہے داستانِ طُور
جلووں کا ان سے کیسے تقاضا کرے کوئی
اپنی حدوں سے آج گزرتا ہے ذوقِ دید
اب ہو سکے، شکیبؔ، تو پروا کرے کوئی
شکیب جلالی

اُداس چاند ستارو! کوئی تو بات کرو

مریضِ غم کے سہارو! کوئی تو بات کرو
اُداس چاند ستارو! کوئی تو بات کرو
کہاں ہے، ڈوب چکا اب تو ڈوبنے والا
شکستہ دل سے کنارو! کوئی تو بات کرو
مرے نصیب کو بربادیوں سے نسبت ہے
لُٹی ہوئی سی بہارو! کوئی تو بات کرو
کہاں گیا وہ تمھارا بلندیوں کا جنون
بجھے بجھے سے شرارو! کوئی تو بات کرو
اسی طرح سے عجب کیا جو کچھ سُکون ملے
’’غمِ فراق کے مارو! کوئی تو بات کرو،،
تمھارا غم بھی مٹاتی ہیں مستیاں کہ نہیں
شرابِ ناب کے مارو! کوئی تو بات کرو
تمھاری خاک اُڑاتا نہیں شکیبؔ تو کیا
اُداس راہ گزارو! کوئی تو بات کرو
شکیب جلالی

ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا

آج بیمارِ محبت بھی فسانہ ہو گیا
ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا
ہر نَفَس پیشِ نظر رہتا ہے حُسنِ رُوے دوست
کیسے کہہ دوں ان کی فُرقت میں زمانہ ہو گیا
کہتے کہتے رُک گئے وہ جانے کیا، میر ے لیے
کچھ دلِ مضطر تعارف غائبانہ ہو گیا
اللہ اللہ جذبہِ بُلبلُ کی رنگ آمیزیاں
حُسنِ الفت سے گُلستاں آشیانہ ہو گیا
وجہِ تسکیں تھا، زمانے میں شکیبؔ زار کو
ایک دل جو تیری نظروں کا نشانہ ہو گیا
شکیب جلالی

کہ تیری یاد میں تیرا وصال ہے تُو ہے

ادھر ہے ضبط، ادھر اک خیال ہے تُو ہے
کہ تیری یاد میں تیرا وصال ہے تُو ہے
مُحال فطرتِ انسان کو ہے پابندی
کہ قیدِ جسمِ شکستہ سا جال ہے تُو ہے
ضیاے ماہ و کواکب ہے جس سے شرمندہ
مرا ہلال بہ اوجِ کمال ہے تُو ہے
ترا جواب کہاں فتنہِ قیامت میں
ستم ستم ہے، کرم اک مثال ہے تُو ہے
شکیبؔ، رات کے تاروں کی مسکراہٹ میں
ترا جلال ہے، تیرا جمال ہے، تُو ہے
شکیب جلالی

غم کا خُوگر بنا دیا تم نے

یہ وفا کا صلہ دیا تم نے
غم کا خُوگر بنا دیا تم نے
جام و مِینا ہے ہر گھڑی درکار
رِند گویا بنا دیا تم نے
ہوشِ دیدار بھی نہیں باقی
کیا نظر سے پلا دیا تم نے
غمِ ہستی اُٹھائے پھرتا ہے
خاک کو کیا بنا دیا تم نے
درد کی لذّتیں، ارے توبہ
مر کے جینا سکھا دیا تم نے
بجلیو! کچھ کمی ہے شاخوں کی
اک نشیمن جلا دیا تم نے
تم سے لطف و کرم کی کیا اُمّید
ہنستے ہنستے رُلا دیا تم نے
درد میں اب خلش نہیں باقی
عینِ درماں بنا دیا تم نے
جس میں پنہاں، شکیبؔ، تھا غمِ دل
وہ فسانہ سُنا دیا تم نے
شکیب جلالی

گھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے

نقابِ رُخ اٹھایا جا رہا ہے
گھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے
زمانے کی نگاہوں میں سمو کر
مجھے دل سے بُھلایا جا رہا ہے
کہاں کا جام، جب یاں ذوقِ مستی
نگاہوں سے پلایا جا رہا ہے
ابھی اَرمان کچھ باقی ہیں دل میں
مجھے پھر آزمایا جا رہا ہے
پلا کر پھر شرابِ حسن و جلوہ
مجھے بے خود بنایا جا رہا ہے
سلامت آپ کا جورِ مسلسل
مرے دل کو دُکھایا جا رہا ہے
شکیبؔ، اب وہ تصوّر میں نہ آئیں
کلیجا منھ کو آیا جا رہا ہے
شکیب جلالی

تمھیں بھی رُلانے کو جی چاہتا ہے

غمِ دل سنانے کو جی چاہتا ہے
تمھیں بھی رُلانے کو جی چاہتا ہے
یہ میں کس کا نقشِ قدم دیکھتا ہوں
یہ کیوں سر جُھکانے کو جی چاہتا ہے
سُلوکِ زمانہ سے تنگ آگیا ہوں
بیاباں بسانے کو جی چاہتا ہے
غمِ زندگانی سے اُکتا گیا ہوں
مگر غم اٹھانے کو جی چاہتا ہے
کسی فتنہ خُو کی تمنّا تو دیکھو
مجھے بھول جانے کو جی چاہتا ہے
جبیں ہی رہے یا ترا سنگِ در ہی
جنوں آزمانے کو جی چاہتا ہے
شکیبؔ، اس طرح کچھ قفس راس آیا
کہ گلشن جلانے کو جی چاہتا ہے
شکیب جلالی

جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے

موسمِ گُل ہے، بھری برسات ہے
جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے
رنج و غم میں زندگی پاتا ہوں میں
لطف اُن کا موجبِ صَدمات ہے
اُٹھتے جاتے ہیں نگاہوں سے حجاب
جرأتوں پر عالمِ جذبات ہے
کون سی منزل پہ لے آیا جنوں
اب مجسّم حُسن، میری ذات ہے
گِردِ رُخ زُلفیں ہیں اُن کی یا، شکیبؔ
صبح کو گھیرے اندھیری رات ہے
شکیب جلالی