زمرہ جات کے محفوظات: نظم

اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

کاٹھ کے پل کے آمنے سامنے

وہاں وہ ننھی منی سندری

سدا اکیلی رہتی تھی

اور اُس کا کوئی یار نہ تھا —-

نظم: تزے۔ یے

(والٹ وٹمین کے شعری مجموعے ’’لیوزآف گراس‘‘ مطبوعہ 1891-92ء سے ’’کراسنگ بروکلین فیری‘‘ کا ترجمہ۔ 1965ء میں ناصر کا ظمی نے امریکن سنٹر لاہور کے ایما پر کنیتھ ایس لن کے مرتب کردہ مضامین کے مجموعے ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ کا ترجمہ کیا، جو اُردو مرکز لاہور کے زیراہتمام شائع ہوا۔ تزے۔ یے نظم اسی کتاب ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ سے اخذ کی گئی ہیں ۔)

ناصر کاظمی

اے ارضِ وطن

تو جنت میرے خوابوں کی

تری مٹی کے ہر ذرّے میں

خوشبو ہے نئے گلابوں کی

تو جنت میرے آبا کی

گل ریز ہے تیرا ہر گوشہ

زرخیز ہے تیری ہر وادی

تو دولت میری نسلوں کی

ترے دامن میں پوشیدہ ہے

تقدیر سنہری فصلوں کی

تو ساحل میری کشتی کا

ہر آن بدلتے موسم میں

تو حاصل میری کھیتی کا

تو محنت ہے مزدُوروں کی

آبادی میں ، ویرانی میں

تو طاقت ہے مجبوروں کی

تو جنت ماہی گیروں کی

تو سندر بن مرے گیتوں کا

تو ٹھنڈی رات جزیروں کی

تو چاند اندھیری راتوں کا

اُمید کے تنہا جنگل میں

تو جگنو ہے برساتوں کا

تو سرمایہ مری غربت کا

میں تیرے دَم سے زندہ ہوں

تو پرچم ہے مری ہمت کا

ترے جنگل ، پربت ہرے رہیں

یہی رنگ رہے تری جھیلوں کا

چشمے پانی سے بھرے رہیں

تری مانگ جواں رہے پھولوں سے

ترے ننھے پودے ہنستے رہیں

تری گود بھری رہے جھولوں سے

تو میرا لہو میں تیرا لہو

تو میرا شجر میں تیرا ثمر

جو تیرا عدو وہ میرا عدو

اے ارضِ وطن مجھے تیری قسم

جب تجھ کو ضرورت ہو میری

شمشیر بنے گا میرا قلم

میں تیرے لیے پھر آؤں گا

ہر عہد میں تیری نسلوں کو

خوشیوں کے گیت سناؤں گا

(۱۹۷۱ ۔ لاہور ٹی وی)

ناصر کاظمی

قائدِاعظم

دُنیا کو یاد تیری حکایت ہے آج بھی

ہر ایک دل میں تیری محبت ہے آج بھی

کانوں میں گونجتی ہے ابھی تک تری صدا

آنکھوں کے سامنے تری صورت ہے آج بھی

تیرا کلام انجمن افروز کل بھی تھا

تیرا پیام شمعِ ہدایت ہے آج بھی

تزئینِ باغ تشنہِ تکمیل ہے ابھی

میرے وطن کو تیری ضرورت ہے آج بھی

ناصر کاظمی

ہر محاذِ جنگ پر

اے خدائے دو جہاں

تیرے حکم سے بہار اور خزاں

تو نے خاکِ مردہ کو شجر دیے

رَس بھرے ثمر دیے

بحر کو صدف، صدف کو بے بہا گہر دیے

تازہ موسموں کے ساتھ

طائروں کو تازہ بال و پر دیے

بے گھروں کو گھر دیے

اے مرے کریم رب!

کس زباں سے تیرا شکر ہو ادا

تو نے ہم کو یہ نیا وطن دیا

ہم نے یہ نیا وطن ترے ہی نام پر لیا

اس نئے چمن میں کتنے رنگ رنگ پھول ہیں

کیسے کیسے شہر اور کیسے کیسے لوگ ہیں

کیسے کیسے شاعر اور نغمہ گر

کتنے اہلِ علم اور باکمال

کس قدر جری دلیر نوجواں

جن کے دل سے جاوداں ہے اس چمن کی داستاں

اے مرے کریم ربّ تو نے اپنے بندوں کو ہزارہا ہنر دیے

اور مجھے قلم دیا

اے علیم تیرے عِلم کے حضور

میرے عِم اور ہنر کی کیا بساط

آج مجھ کو اتنی مہلت اَور دے کہ لکھ سکوں وہ داستاں

جو اپنے خوں سے لکھ رہے ہیں سرحدوں کے پاسباں

یہ صف شکن دلیر ہیں مرے قلم کی آبرو

انہی کے دَم سے آج پھر مرا قلم ہے سرخرو

قلم جو لفظِ تازہ کا شکاری تھا

قلم جو حرف و صوت کا پجاری تھا

وہی قلم بلند ہو کے اب جہاد کا علم بنا

وہی قلم مجاہدوں کے ہاتھ میں وہ برقِ شعلہ خو بنا

جو دُشمنوں کی صف پہ ٹوٹ ٹوٹ کر گرا

اب اپنے کاغذوں پہ چشمِ خوں فشاں کا نم نہیں

اب اپنے کاغذوں پہ جاتے موسموں کا غم نہیں

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ کار گاہِ رزم ہے

جہاں پہ فتحِ قوم کا نشان میری نظم ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ بحر بے کنار ہے

جہاں ہر ایک موج فتح مند ذوالفقار ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں ہے وہ فضائے بیکراں

جہاں ہوا کے پاسباں ہیں ہر طرف شررفشاں

مرے قلم کی روشنائی تیرگی کو زہر ہے

مرے قلم کے سحر سے چھڑی ہے داستان،

رزمِ خندق و حنین کی

علیؓ کی ذُوالفقار سے جو بچ گئے

وہ زد میں ہیں حسینؓ کی

مرے قلم وہ معرکے دکھا مجھے

جہاں ہمارے غازیوں نے ظلم وجور کے ہر اِک نشان کو مٹا دیا

مری جبیں کی ہر شکن کو زندہ کر

کہ اب عدو ہماری تیغِ ضوفشاں کی زد میں ہے

مرے یقیں کو تازہ کر

کہ اب عدو ہماری ضربِ جاوداں کی زد میں ہے

یہ جنگ آج کفر و دیں کی جنگ ہے

یہ میری قوم کے یقیں کی جنگ ہے

یہ میری پاک سر زمیں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج حق پرست ملتوں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج صلح جو صداقتوں کی جنگ ہے

ترے کرم سے اے مرے کریم ربّ

مرا قلم ہے سرخرو

مرا قلم ہے میرے فن کی آبرو

مری صدا میں آج آتے موسموں کا نور ہے

مری نوا میں آج صبحِ فتح کا ظہور ہے

کہ میری پاک سر زمیں کا

ایک ایک فرد پوری قوم ہے

پوری قوم آج ایک فرد ہے

عدو کا رنگ زرد ہے

مرا وطن یونہی رہے گا تا ابد

مرا چمن یونہی رہے گا تا ابد

ارضِ پاک تیرے صبر کی قسم!

تیرے غازیوں ، شہیدوں کی قسم!

جب تلک ہے دَم میں دَم

جب تلک ہے اپنی سرحدوں پہ یورشِ ستم

عدو سے پنجہ آزما رہیں گے ہم

ہر محاذِ جنگ پر

قلب وچشم وگوش کے محاذ پر

عقل وتاب وہوش کے محاذ پر

خواب اور خیال کے محاذ پر

شعر اور ساز کے محاذ پر

شہر شہر گاؤں گاؤں

گلیوں اور کھیتوں میں

جنگلوں ، پہاڑوں میں

وادیوں ، جزیروں اور جھیلوں میں

میگھنا سے راوی تک

سبز اور سنہرے دیس کے چمکتے رمنوں میں

نشر گاہوں ، درس گاہوں

کارخانوں ، دفتروں میں اور گھروں میں

بحروبر میں اور فضا میں

دُشمنوں کے راستوں میں

دشمنوں کی بستیوں میں

ہر نئے محاذ پر

ہر محاذِ جنگ پر

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

(۱۲ دسمبر ۱۹۷۱ ۔ لاہور ٹی وی)

ناصر کاظمی

آج تری یادوں کا دن ہے

تیری یاد سے مشرق مغرب

جاگ رہے ہیں شہر ہمارے

تیرے نام سے گونج رہے ہیں

علم اور حکمت کے گہوارے

کہیں لیک تیرے ہاتھوں کی

کہیں تری باتوں کی خوشبو

کہیں چمک تیری آنکھوں کی

کہیں تری آواز کا جادُو

عزم ترا کہسار کی عظمت

تیری فکر سمندر گہرا

دو دھاری تلوار کی ضربت

لمبا قد اور جسم اکہرا

تو نے کھوئی ہوئی باتوں کو

مایوسی میں یاد دلایا

تو نے سوئی ہوئی راتوں کو

بیداری کا خواب دکھایا

تیری یاد سے مہک رہے ہیں

گلشن ، بن ، بستی ، ویرانے

ہونٹ ہونٹ پر نام ہے تیرا

گلی گلی تیرے افسانے

قائدِاعظم میرے دل میں

تیری محبت زندہ رہے گی

نام ترا تابندہ رہے گا

یاد تری پائندہ رہے گی

(۱۱ ستمبر ۱۹۶۹ ۔ لاہو ر ٹی وی)

ناصر کاظمی

تیرگی ختم ہوئی

تیرگی ختم ہوئی ، صبح کے آثار ہوئے

شہر کے لوگ نئے عزم سے بیدار ہوئے

شب کی تاریکی میں جو آئے تھے رہزن بن کر

صبح ہوتے ہی وہ رُسوا سرِبازار ہوئے

جگمگانے لگیں پھر میرے وطن کی گلیاں

ظلم کے ہاتھ سمٹ کر پسِ دیوار ہوئے

ہم پہ احساں ہے ترا شہر کی اے نہرِ عظیم

تو نے سینے پہ سہے ، شہر پہ جو وار ہوئے

شاخ در شاخ چمکنے لگے خوشبو کے چراغ

عالمِ خاک سے پیدا نئے گلزار ہوئے

ناصر کاظمی

تو ہے عزیزِ ملت

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

احساں ہے تیرا ہم پر اے قوم کے دلاور

تو عزم کا ستارہ ، تو ہے ہلالِ جرأت

تو خادمِ وطن ہے ، تجھ سے وطن کی عزت

گاتے ہیں تیرے نغمے راوی ، چناب، جہلم

تاروں کی سلطنت پر اُڑتا ہے تیرا پرچم

سلہٹ سے تا کراچی پھیلے ہیں تیرے شہپر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

رَن کچھ کے معرکے میں جوہر دکھائے تو نے

واہگہ کی سرحدوں سے لشکر ہٹائے تو نے

توپوں کے منہ کو موڑا ، ٹینکوں کا مان توڑا

جو تیری زد میں آیا تو نے نہ اُس کو چھوڑا

زندہ کیا وطن کو تو نے شہید ہو کر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

اُونچی تری اُڑانیں ، کاری ترے نشانے

تونے جلا کے چھوڑے دُشمن کے آشیانے

باندھا ہے وہ نشانہ دُشمن کے گھر میں جا کر

تو نے گرائے ہنٹر اِک آن میں جھپٹ کر

بجلی ہیں تیرے بمبر ، شاہیں ہیں تیرے سیبر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

ساندل کے آسماں سے روکے ہیں تو نے حملے

راوی کی وادیوں پر احساں ہیں تیرے کتنے

چھنب اور جوڑیاں میں گاڑا ہے تو نے جھنڈا

اے دوارکا کے غازی زندہ ہے نام تیرا

ہیبت سے تیری لرزاں کہسار اور سمندر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

وہ شہر بلھے شاہ کا بستا ہے تیرے دَم سے

خوشحال خاں کی نگری ہے تیرے دَم قدم سے

داتا کا شہر تو نے پائندہ کر دیا ہے

اقبال کے وطن کو پھر زندہ کر دیا ہے

ہر دیس ، ہر نگر میں چرچا ہے تیرا گھر گھر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

(۲۹ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

تو ہے مری زندگی

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

تو ہے مری روشنی اے مرے پیارے وطن

اے مری خلدِ بریں تیری بہاروں کی خیر

اے مرے عزم و یقیں تیرے دیاروں کی خیر

تیرے ستاروں کی خیر

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

پاک ترے آبشار پاک ہیں تیرے جبل

پاک تیری کھیتیاں پاک ترے پھول پھل

جلوئہ صبحِ ازل

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

تیری فضا پر کھلے چاند ستاروں کے راز

عرش کی محراب میں پڑھتے ہیں شاہین نماز

پاک دل و پاک باز

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

ناصر کاظمی

صدائے کشمیر

صدائے کشمیر آ رہی ہے ، ہماری منزل قریب تر ہے

یہ عدل و انصاف کی گھڑی ہے، ستم کی میعاد مختصر ہے

لہو شہیدوں کا رنگ لایا

نئی سحر کی اُمنگ لایا

غرور کا اَبر چھٹ رہا ہے

رُخِ حوادث پلٹ رہا ہے

یہ پیڑ اب تیر بن گئے ہیں

چنار شمشیر بن گئے ہیں

خدا کا قہر و عذاب آیا

عدو کا روزِ حساب آیا

گھروں سے نکلے ہیں اہلِ ایماں

کسی کے بس کا نہیں یہ طوفاں

گزر کے چشموں سے، بحر و بر سے

ہر ایک گھر تک پہنچ گئی ہے

سری نگر تک پہنچ گئی ہے

یہ تیغ تھامے نہ تھم سکے گی

عدو کی محفل نہ جم سکے گی

علم ہمارا نہ جھک سکے گا

یہ سیل روکے نہ رُک سکے گا

(۲۴ اکتوبر ۱۹۶۵ ۔ آزاد کشمیر ریڈیو)

ناصر کاظمی

سرگودھا میرا شہر

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

سب کی آنکھوں کا تارا ہے سرگودھا میرا شہر

سورج سے گھر ، چاند سی گلیاں ، جنت کی تصویر

بانکے چھیل چھبیلے گبھرو غیرت کی شمشیر

سبک چال نخریلے گھوڑے، کڑیل نیزہ باز

آنکھیں تیز کڑکتی بجلی تاروں کی ہمراز

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

تھل ، جنگل ، پربت اور بیلے ہرے بھرے شاداب

سونا سی لہراتی فصلیں ، نہریں بھی خوش آب

سرحد سرحد اس کے سپاہی آگے بڑھتے جائیں

ان کے ساتھ خدا کی رحمت اور بہنوں کی دُعائیں

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

ہر دَم اس کے جیٹ طیارے اُڑنے کو تیار

تیز ہوا بازوں کا دستہ چوکس اور ہشیار

دُشمن کے کتنے طیارے پل میں کیے برباد

سرگودھا کے شہبازوں کو وقت کرے گا یاد

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

(۱۵ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

سیالکوٹ توزندہ رہے گا

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

زندہ قوموں کی تاریخ میں نام ترا تابندہ رہے گا

جموں اور کشمیر سے پہلے تو ہے نصرت کا دروازہ

دُشمن بھی اب کر بیٹھا ہے تیری جرأت کا اندازہ

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

شاعرِ مشرق کا تو مسکن ، تجھ پہ بزرگوں کا ہے سایا

جس نے تجھ پر ہاتھ اُٹھا یا ، تو نے اُس کا نام مٹایا

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

دوسری جنگِ عظیم کے بعد نہیں دیکھی ہے ایسی لڑائی

سرحد سرحد دیکھ چکی ہے دُنیا دُشمن کی پسپائی

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

تیری سرحد سرحد پر دُشمن کا قبرستان بنا ہے

تیری جانبازی کا سکہ دُنیا نے اب مان لیا ہے

زندہ رہے گا زندہ رہے گا، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

پاک فوج ہے تیری محافظ ایک وار بس اَور دکھادے

اُٹھ اور نام علیؑ کا لے کر دُشمن کو مٹی میں ملا دے

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

(۹ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

وطن

اے وطن تجھ سے نیا عہدِ وفا کرتے ہیں

مال کیا چیز ہے ، ہم جان فدا کرتے ہیں

سرخ ہو جاتی ہے جب صحنِ چمن کی مٹی

اسی موسم میں نئے پھول کھلا کرتے ہیں

اے نگہبانِ وطن تیرا نگہباں ہو خدا

شہر کے لوگ ترے حق میں دُعا کرتے ہیں

ناصر کاظمی

ساتواں رنگ

بال کالے ، سفید برف سے گال

چاند سا جسم ، کوٹ بادل کا

لہریا آستین ، سرخ بٹن

کچھ بھلا سا تھا رنگ آنچل کا

اب کے آئے تو یہ ارادہ ہے

دونوں آنکھوں سے اس کو دیکھوں گا

ناصر کاظمی

گجر پھولوں کے

اک کرن چشم و چراغِ دلِ شب

کیوں اسے خونِ رگِ دل نہ کہوں

رقص کرتی ہے کبھی شیشوں پر

کبھی روزن سے اُتر آتی ہے

کبھی اِک جامہِ آویزاں کی

نرم سلوٹ کے خنک گوشوں میں

گیت بنتی ہے گجر پھولوں کے

ناصر کاظمی

بارش کی دُعا

اے داتا بادل برسا دے

فصلوں کے پرچم لہرا دے

دیس کی دولت دیس کے پیارے

سوکھ رہے ہیں کھیت ہمارے

ان کھیتوں کی پیاس بجھا دے

اے داتا بادل برسا دے

یوں برسیں رحمت کی گھٹائیں

داغ پرانے سب دُھل جائیں

اب کے برس وہ رنگ جما دے

اے داتا بارش برسا دے

کھیتوں کو دانوں سے بھر دے

مردہ زمیں کو زندہ کر دے

تو سنتا ہے سب کی دعائیں

داتا ہم کیوں خالی جائیں

ہم کو بھی محنت کا صلہ دے

اے داتا بادل برسا دے

(دو فروری ۱۹۶۷)

ناصر کاظمی

نیا سفر

اندھیروں کی نگری سے پھوٹی کرن

مہکنے لگا خاک دانِ کہن

اُٹھا محملِ وقت کا سارباں

نئی منزلوں کو چلے کارواں

سریلی ہواؤں نے چھیڑا وہ راگ

لگی اوس سے خیمہِ گل میں آگ

صبا گل کی نس نس میں بسنے لگی

اُجالوں کی برکھا برسنے لگی

نئے پھول نکلے نئے روپ میں

زمیں جھم جھمانے لگی دھوپ میں

ترنجِ فلک کی ضیا پھیل کر

زرِ گل بچھانے لگی خاک پر

فضا جگمگائی گلِ سنگ سے

ہوا پھر گئی گردشِ رنگ سے

پہاڑوں سے لاوا نکلنے لگا

جگر پتھروں کا پگھلنے لگا

چمن در چمن وہ رمق اب کہاں

وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں

کراں تا کراں ظلمتیں چھا گئیں

وہ جلوے طبق در طبق اب کہاں

بجھی آتشِ گل اندھیرا ہوا

وہ اُجلے سنہرے ورق اب کہاں

سریلی ہواؤں میں رَس گھول کر

طیور اُڑ گئے بولیاں بول کر

زمیں بٹ گئی ، آسماں بٹ گیا

چمن بٹ گیا ، آشیاں بٹ گیا

نکلنے لگا آبشاروں سے دُود

ہوا قلزمِ ماہ جل کر کبود

پہاڑوں میں میداں میں جنگل میں آگ

سمندر میں خشکی میں جل تھل میں آگ

گرجنے لگیں آگ کی بدلیاں

جھلسنے لگیں پیاس سے کھیتیاں

وہ آندھی چلی دَورِ آلام کی

کہ رُکنے لگی نبض ایام کی

اُٹھے یوں نجیبانِ انجم سپاہ

گرا ہار کر تاش کا بادشاہ

رہِ جستجو مختصر ہو گئی

ہمالہ کی چوٹی بھی سر ہو گئی

پرانی بہاریں قفس میں گئیں

وہ انساں گئے اور وہ رسمیں گئیں

نئی گردشوں میں گھرا آسماں

زمینِ کہن پر گرا آسماں

’’ہوا ایک جنگل میں آ کر گزر

کسو کو نہیں یاں کسو کی خبر‘‘

ہوا نوحہ گر دشتِ شب کا نقیب

صدا اس کی پرہول ، صورت عجیب

یہ وحشی جہاں محوِ فریاد ہو

وہاں کوئی بستی نہ آباد ہو

جہاں گھر بنائے یہ خانہ خراب

وہاں کے مکینوں کو آئے نہ خواب

سرِ شام بستی میں رونے لگے

مگر دن نکلتے ہی سونے لگے

پرانی حویلی کی دیوار پر

کرے ہاؤ ہو ہاؤ ہو رات بھر

پھڑکتا رہا اور روتا رہا

بھرے شہر کی نیند کھوتا رہا

کسی منچلے نے جو دیکھا اُدھر

اُڑایا اُسے کنکری مار کر

اُٹھی اک صدا بام کے متصل

جسے سن کے پھٹ جائے پتھر کا دِل

لیے چونچ میں کنکری اُڑ گیا

گھنے جنگلوں کی طرف مڑ گیا

بلندی سے آخر گرایا اُسے

کسی آبجو میں بہایا اُسے

نہ پھر شہر کی سمت آیا کبھی

وہ نوحہ نہ اُس نے سنایا کبھی

اِدھر فکر سے جان گھلنے لگی

خیالوں کی کھڑکی سی کھلنے لگی

نظر آیا ملکِ سخن کنکری

غزل کنکری اور بھجن کنکری

گھلی کنکری اور پانی ہوئی

پئے گوشِ عبرت کہانی ہوئی

پلٹ کر جو دیکھا سماں اور تھا

کہ پردے میں فتنہ نہاں اور تھا

نیا شور لے کر جمودی اُٹھے

سخن ور گئے اور نمودی اُٹھے

چٹخنے لگے یوں زباں پر سخن

جلے جیسے سوکھے درختوں کا بن

’’نہ بلبل غزل خواں نہ طیروں کا شور

سبھی دیکھتے میر کے منہ کی اَور‘‘

نہاں رازِ مطلوب و طالب رہا

ہر آواز پر میر غالب رہا

بجھے یوں اجالوں میں تیرہ ضمیر

پریشاں ہو جیسے دُھوئیں کی لکیر

نہ چشمِ بصیرت نہ ذوقِ ہنر

ہوئیں ساری اقدار زیر و زبر

رہ و رسمِ اجداد سے کٹ گئے

ہم اپنی روایات سے کٹ گئے

یہاں میر و غالب کا فن کیا کرے

سخن ساز عرضِ سخن کیا کرے

اُجڑتا رہا بوستانِ ادب

مگر پھول کھلتے رہے زیرِ لب

تصوّر کی تیغِ دو دَم چوم کر

چھپے کنج میں ہم ، قلم چوم کر

مجھے شورِ چرخ و زمیں لے گیا

تصوّر کہیں سے کہیں لے گیا

بدلنے لگی آسمانوں کی لے

نیا چاند اُترا سرِ برگِ نے

زمیں اجنبی آسماں اجنبی

سفر اجنبی کارواں اجنبی

خنک نیلے نیلے بحیرے کہیں

بحیروں کے اندر جزیرے کہیں

خنک پانیوں پر سفینے رواں

سفینوں پہ اُڑتے ہوئے بادباں

شرابور رستے ، معطر فضا

شجر خوب صورت ، ثمر خوش نما

سنیلے مکاں اور سجیلے مکیں

مکیں جن کی چھب دل رُبا دل نشیں

کہیں بدلیاں گیت گاتی ہوئیں

کہیں بارشیں گنگناتی ہوئیں

کسی مدھ بھری صبح کی آس میں

شتر مرغ دبکے ہوئے گھاس میں

کہیں پیچ در پیچ بیلوں کے جال

کہیں گھاٹیوں میں رمیدہ غزال

فضا در فضا پھول سی تتلیاں

پروں پر اُٹھائے ہوئے گلستاں

کہیں منزلوں کے دھواں دھار گھیر

کہیں سونے سنسان رستوں کے پھیر

کہیں گردِ مہتاب اُڑتی ہوئی

نشیبوں میں بل کھا کے اُڑتی ہوئی

ہوا تازہ رس پھول چنتی ہوئی

زمیں اَن سنے راگ بنتی ہوئی

ستارے گئے ظلمتوں کو لیے

چٹخنے لگے شاخچوں پر دِیے

کھلا جنت صبح کا در کھلا

بہ آوازِ اللہ اکبر کھلا

مہکنے لگیں دھان کی کھیتیاں

کہ ابرِ بہاری برس کر کھلا

چلے مدتوں کے رُکے راہ رو

کوئی پا برہنہ ، کوئی سر کھلا

جنھیں پانیوں میں اُترنا پڑے

وہ ہاتھوں میں رکھتے ہیں خنجر کھلا

لرزنے لگی تنگنائے سخن

کہ شاہینِ معنی کا شہپر کھلا

نئی رُت نے چھیڑا نیا ارغنوں

فضا میں جھلکتا ہے لمحوں کا خوں

ہوئے نغمہ زن طائرانِ چمن

کہ عرصے میں اُترے ہیں اہلِ سخن

وہ درویشِ گلگوں قبا آ گئے

وہ رندانِ خونیں نوا آگئے

نئے دن کا سورج دَمکنے لگا

زمیں کا ستارہ چمکنے لگا

(جولائی ۔ ۵۴)

ناصر کاظمی

شہر غریب

رات سنسان آدمی نہ دیا

کس سے پوچھوں تری گلی کا پتا

شہر میں بے شمار رَستے ہیں

کیا خبر تو کدھر گیا ہو گا

آج کس رُو سیاہ آندھی نے

سبز تاروں کا کھیت لوٹ لیا

تھم گئے ریت کے رواں چشمے

سو گیا گیت ساربانوں کا

آ رہی ہے یہ کس کے پاؤں کی چاپ

پھیلتا جا رہا ہے سناٹا

یہ مرے ساتھ چل رہا ہے کون

کس نے مجھ کو ابھی پکارا تھا

سامنے گھورتی ہیں دو آنکھیں

اور پیچھے لگی ہے کوئی بلا

ڈُوبی جاتی ہیں وقت کی نبضیں

آ رہی ہے کوئی عجیب ندا

اک طرف بے اماں اجاڑ مکاں

اک طرف سلسلہ مزاروں کا

سرنگوں چھتریاں کھجوروں کی

بال کھولے کھڑی ہو جیسے قضا

یہ دِیا سا ہے کیا اندھیرے میں

ہو نہ ہو یہ مکان ہے تیرا

دل تو کہتا ہے در پہ دستک دوں

سوچتا ہوں کہ تو کہے گا کیا

جانے کیوں میں نے ہاتھ روک لیے

یہ مجھے کس خیال نے گھیرا

کسی بے نام وہم کی دیمک

چاٹنے آ گئی لہو میرا

دشتِ شب میں اُبھر کے ڈوب گئی

کسی ناگن کی ہولناک صدا

تیرے دیوار و در کے سایوں پر

مجھ کو ہوتا ہے سانپ کا دھوکا

بوٹا بوٹا ہے سانپ کی تصویر

پتا پتا ہے سانپ کا ٹیکا

آسماں جیسے سانپ کی کنڈلی

تارا تارا ہے سانپ کا منکا

آ رہی ہے لکیر سانپوں کی

ہر گلی پر ہے سانپ کا پہرا

سانپ ہی سانپ ہیں جدھر دیکھو

شہر تیرا تو گڑھ ہے سانپوں کا

تیرے گھر کی طرف سے میری طرف

بڑھتا آتا ہے ایک سایا سا

دھوپ سا رنگ برق سی رفتار

جسم شاخِ نبات سا پتلا

پھول سا پھن چراغ سی آنکھیں

یہ تو راجا ہے کوئی سانپوں کا

ہاں مری آستیں کا سانپ ہے یہ

کیوں نہ ہو مجھ کو جان سے پیارا

ایک ہی پل میں یوں ہوا غائب

جیسے پانی سے عکس بجلی کا

کٹ گئی پھر مرے خیال کی رَو

شیشہِ خواب کار ٹوٹ گیا

ناگہاں سیٹیاں سی بجنے لگیں

رات کا شہر پل میں جاگ اُٹھا

آنکھیں کھلنے لگیں دریچوں کی

سانس لینے لگی خموش فضا

میں تو چپ چاپ چل رہا تھا مگر

شہر والوں نے جانے کیا سمجھا

تیری بستی میں اتنی رات گئے

کون ہوتا بھلا یہ میرے سوا

ارے یہ میں ہوں تیرا شہر غریب

تو گلی میں تو آ کے دیکھ ذرا

سوچتا ہوں کھڑا اندھیرے میں

تو نے دروازہ کیوں نہیں کھولا

میرا ساتھی مرا شریکِ سفر

رہ گیا پچھلی رات کا تارا

کہاں لے آئی تو مجھے تقدیر

میں کہاں آ گیا ہوں میرے خدا

یہاں پھلتا نہیں کوئی آنسو

یہاں جلتا نہیں کسی کا دیا

تیرا کیا کام تھا یہاں ناصر

تو بھلا اس نگر میں کیوں آیا

(۱۹۵۴)

ناصر کاظمی

مطلعِ ثانی

دل کھینچتی ہے منزلِ آبائے رفتنی

جو اس پہ مرمٹے وہی قسمت کے تھے دھنی

وہ شیر سو رہے ہیں وہاں کاظمین کے

ہیبت سے جن کی گرد ہوئے کوہِ آہنی

شاہانِ فقر وہ مرے اجدادِ باکمال

کرتی ہے جن کی خاک بھی محتاج کو غنی

سر خم کیا نہ افسر و لشکر کے سامنے

کس مرتبہ بلند تھی اُن کی فروتنی

کرتی تھی ان کے سایہِ محمود میں قیام

قسمت مآبی ، خوش نسبی ، پاک دامنی

شب بھر مراقبے میں نہ لگتی تھی اُن کی آنکھ

دن کو تلاشِ رزق میں کرتے تھے جاں کنی

تھی گفتگو میں نرم خرامی نسیم کی

ہر چند وہ دلیر تھے تلوار کے دھنی

جاتے ہیں اب بھی اس کی زیارت کو قافلے

اُس در کے زائروں کو نہیں خوفِ رہزنی

اُس آستاں کی خاک اگر ضوفشاں نہ ہو

برجوں سے آسمان کے اُڑ جائے روشنی

انبالہ ایک شہر تھا ، سنتے ہیں اب بھی ہے

میں ہوں اُسی لٹے ہوئے قریے کی روشنی

اے ساکنانِ خطہِ لاہور! دیکھنا

لایا ہوں اُس خرابے سے میں لعلِ معدنی

جلتا ہوں داغِ بے وطنی سے مگر کبھی

روشن کرے گی نام مرا سوختہ تنی

خوش رہنے کے ہزار بہانے ہیں دہر میں

میرے خمیر میں ہے مگر غم کی چاشنی

یارب! زمانہ ممتحنِ اہلِ صبر ہے

دے اس دنی کو اور بھی توفیقِ دُشمنی

ناصر یہ شعر کیوں نہ ہوں موتی سے آبدار

اس فن میں کی ہے میں نے بہت دیر جانکنی

ہر لفظ ایک شخص ہے ، ہر مصرع آدمی

دیکھو مری غزل میں مرے دل کی روشنی

ناصر کاظمی

مطلعِ اوّل

ہر کوچہ اِک طلسم تھا ہر شکل موہنی

قصہ ہے اس کے شہر کا یارو شنیدنی

تھا اِک عجیب شہر درختوں کی اوٹ میں

اب تک ہے یاد اس کی جگا جوت روشنی

سچ مچ کا اِک مکان پرستاں کہیں جسے

رہتی تھی اس میں ایک پری زاد پدمنی

اُونچی کھلی فصیلیں ، فصیلوں پہ برجیاں

دیواریں سنگِ سرخ کی ، دروازے چندنی

جھل جھل جھلک رہے تھے پسِ چادرِ غبار

خیمے شفق سے لال ، چتر تخت کندنی

فوّارے چھوٹتے ہوئے مر مر کے صحن میں

پھیلی تھی جس کے گرد گلِ بانس کی بنی

ہر بوستاں کے پھول تھے اس عیش گاہ میں

ہر دیس کے پرندوں نے چھائی تھی چھاؤنی

جھرمٹ کبوتروں کے اُترتے تھے رنگ رنگ

نیلے ، اُجال ، جوگیے ، گلدار ، کاسنی

پٹ بیجنا سی انکھڑیاں گلِ چاندنی سے تاج

چونچوں میں خس کی تیلیاں پنجوں میں پینجنی

سارنگیاں سی بجتی تھیں جب کھولتے تھے پر

یکبار گونج اُٹھتی تھی سنسان کنگنی

اِستادہ اصطبل میں سبک سیر گھوڑیاں

ٹاپوں میں جن کی گرد ہو گردونِ گردنی

رہتی تھی اس نواح میں ایسی بھی ایک خلق

پوشاک جس کی دُھوپ تھی، خوراک چاندنی

کل رات اس پری کی عروسی کا جشن تھا

دیکھی تھی میں نے دُور سے بس اس کی روشنی

ہر ملک ہر دیار کے خوش وضع میہماں

بیٹھے تھے زیبِ تن کیے ملبوس درشنی

جلنے لگیں درختوں میں خوشبو کی بتیاں

پھر چھیڑ دی ہوائے نیستاں نے سمفنی

ہاتھوں میں رنگترے لیے سر پر صراحیاں

کچی نکور باندیاں نکلیں بنی ٹھنی

کشمش ، چھوارے ، کاغذی بادام ، چار مغز

رکھے تھے رنگ رنگ کے میوے چشیدنی

مرغابیاں تلی ہوئیں ، تیتر بھنے ہوئے

خستہ کباب سیخ کے اور نان روغنی

صندل، کنول، سہاگ پڑا ، سہرا ، عطر ، پھول

لائی سجا کے تھال میں اک شوخ کامنی

شیشے اُچھال اُچھال کے گاتے تھے مغچے

بیٹھی تھی شہ نشین پہ اک دختِ اَرمنی

رقاصِ رنگ ناچتے پھرتے تھے صف بہ صف

دُولہا بنا گلال ، بسنتی دُلہن بنی

سازوں کی گت پلٹ گئی ، طبلے ٹھٹک گئے

پی کر شراب ناچ رہی تھی وہ کنچنی

انگارہ سا بدن جو دَمکتا تھا بار بار

گل منہ پہ ڈھانپ لیتے تھے کرنوں کی اوڑھنی

ہر دانگ باجنے لگے باجے نشاط کے

مردنگ ، ڈھول ، تان پرا ، سنکھ سنکھنی

آکاش سے برس پڑے رنگوں کے آبشار

نیلے ، سیہ ، سفید ، ہرے ، لال ، جامنی

اتنے میں ایک کفرِ سراپا نظر پڑا

پھرتی تھی ساتھ ساتھ لگی جس کے چاندنی

ماتھے پہ چاند ، کانوں میں نیلم کی بالیاں

ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں ، شانوں پہ سوزنی

پلکیں دراز خطِ شعاعی سی تیز تیز

پتلی ہر ایک آنکھ کی ہیرے کی تھی کنی

ٹھوڑی وہ آئنہ سی کہ بس دیکھتے رہیں

جوبن کے گھاٹ پر وہ کنول دو شگفتنی

گردن بھڑکتی لو سی کہ جی چاہے جل مریں

کالے سیاہ بال کہ بدمست ناگنی

وہ اُنگلیاں شفق سی کہ ترشے ہوئے قلم

اُجلے روپہلے گال کہ ورقے نوشتنی

کندن سا رُوپ ، دھوپ سا چہرہ ، پون سی چال

دامن کشیدنی ، لب و عارض چشیدنی

صورت نظر نواز ، طبیعت ادا شناس

سو حسن ظاہری تو کئی وصف باطنی

پردے اُٹھا دیے تھے نگاہوں نے سب مگر

دل کو رہا ہے شکوئہ کوتاہ دامنی

اُڑ اُڑ کے راج ہنسوں نے جنگل جگا دیا

گھوڑوں کی رَتھ میں بیٹھ گئے جب بنا بنی

منہ دیکھتے ہی رہ گئے سب ایک ایک کا

منہ پھیر کر گزر گئی وہ راج ہنسنی

منظر مجھے ہوس نے دکھائے بہت مگر

ٹھہرا نہ دل میں حسن کا رنگِ شکستنی

تارا سحر کا نکلا تو ٹھنڈی ہوا چلی

نیند آ گئی مجھے کہ وہاں چھاؤں تھی گھنی

ناصر کاظمی

بندۂ مزدور کے اوقات

جب جب نیند آتی ہے

جاگنا پڑتا ہے۔

کھانے کی مہلت نہیں ملتی

جب لگتی ہے بھوک۔

کھاتے ہیں تو بھوک نہیں ہوتی اُس وقت،

سونے لگتے ہیں تو نیند نہیں آتی۔

باصر کاظمی

دوہری شہریت

ایک وطن وہ ہوتا ہے

جس میں ہم رہتے ہیں ۔

ایک وطن وہ ہوتا ہے

جو ہم میں رہتا ہے،

جب تک ہم رہتے ہیں ۔

باصر کاظمی

دشت نوردی

رستے ’’ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

پڑ گئے چل چل پاؤں میں چھالے

ایسی بھول بھلیاں ہیں یہ

جیسے ہوں مکڑی کے جالے

باصر کاظمی

راہِ راست

نہیں لازم کہ بیابان میں وحشت کیجے

یا کسی کوہ کے دامن میں مشقت کیجے

آج اک حور شمائل نے کہا عاشق سے

مجھ کو پانا ہے تو گھر جا کے عبادت کیجے

باصر کاظمی

واپسی

چڑھائی کرتی چلی جا رہی ہے فوجِ عدو

نپولین کی طرح۔

وہ بے خبر ہے کہ بدلے گا جیسے ہی موسم

پڑے گی برف

چلے گی ہوا زمستانی،

نہیں ملے گا اُسے واپسی کا رستہ بھی۔

باصر کاظمی

’شاہی محل ‘کے ایک ملازم کی نجی گفتگو

اگرچہ شکوہ مناسب نہیں زباں کے لیے

تڑپ رہا ہے مرا نطق اِس بیاں کے لیے

جہاں سب اپنے ہوں موجود گر وہاں نہ کہوں

سنبھال رکھوں میں یہ بات پھر کہاں کے لیے

ملا ہمیں کہ رعایا بھی چاہیے تھی کچھ

’’بنا ہے ’ملک ‘تجمل حسین خاں کے لیے‘‘

باصر کاظمی

وادی الملوک کے ایک کارکن کی عرض داشت

مالک اگرچہ تُو ہے

رازق بھی تُو مِرا ہے

لیکن تِرا یہ بندہ

اکثر یہ سوچتا ہے

یہ کیا کہ رزق میرا

فرعون سے جڑا ہے

یا مقبرے بنا کے

یا مقبرے دکھا کے

(۔ مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل))

باصر کاظمی

تنبیہہ

خیر کی ان سے نہ رکھنا امید

ہیں یہ ابلیس کے دیرینہ مرید

ایک مخلص کی ہے تجھ کو تاکید

دیکھ غفلت نہ ہو اب تجھ سے مزید

اب تو حربے انہیں حاصل ہیں جدید

کچھ بھی کر سکتی ہیں افواجِ یزید

باصر کاظمی

ریفرنڈم

سردار کی نیت کو ٹٹولا نہیں کرتے

بس ہاتھ اٹھا دیتے ہیں بولا نہیں کرتے

’’جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘

باصر کاظمی

اتحاد

لُوٹنا ہو گا غریبوں کو جبھی ایک ہوئے

ورنہ یہ رہزن و قزاق کبھی ایک ہوئے؟

کامیابی نے تو ڈالی ہے ہمیشہ تفریق

جب کبھی مار پڑی اِن کو تبھی ایک ہوئے

باصر کاظمی

مساوات

خونی و خائن و راشی و شقی ایک ہوئے

اُس کے دربار میں پہنچے تو سبھی نیک ہوئے

خاص لوگوں کے لیے اگلی صفیں ہیں یارب

تیری سرکار میں بھی لوگ کہاں ایک ہوئے

باصر کاظمی

ایک ڈیم فول کو نصیحت

اک پیرِ خرد مندہوا مجھ سے مخاطب:

خوش ہو کہ طبیعت بڑی حساس ہے تیری

سب درد زمانے کے ترے درد بنے ہیں

قسمت سے ملی ہے تجھے یہ نعمتِ گریہ

ہر درد مگر لائقِ گریہ نہیں ہوتا

کر سکتے ہیں روشن بھی ترے کُلبے کو یہ اشک

اور غرق بھی ہو سکتا ہے سب کچھ ترا اِن میں

2010

باصر کاظمی

انکم ٹیکس

انہوں نے پوچھا کہ جو کمایا کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

کہا بتائیں گے کیسے آیا مگر نہ پوچھو جدھر گیا وہ

کمائی محنت کی راس آئی کبھی غریبی نہ پاس آئی

بغیر محنت کے جو بھی پایا جدھر سے آیا اُدھر گیا وہ

بہت سمجھتا تھا خود کو شاطِر تمہارا نادان دوست باصِرؔ

ذرا سے اک فائدے کی خاطر بڑا سا نقصان کر گیا وہ

باصر کاظمی

این۔ آر۔ او

ایسا ہی نام تھا کچھ

ہم نے کبھی پڑھا تھا

ہاں یاد آ گیا اب

اور کیسا یاد آیا

وہ بادشاہِ روما

نیرو تھا نام جس کا

تم بھی تو جانتے ہو

نیروجو کر رہا تھا

جب روم جل رہا تھا

دیکھو تو کیسے کیسے قانون ہیں ہمارے

جن کے بنانے والے قارون ہیں ہمارے

(این۔ آر۔ او(National Reconciliation Ordinance): اِس حکم نامے کے تحت حکومتِ پاکستان نے ’ملک اور قوم کے اعلی مفاد‘ میں متعدد خاص لوگوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات واپس لے لیے۔یہ مقدمات مختلف سنگین نوعیت کے الزامات،بالخصوص مالی بدعنوانیوں کے الزامات ،کے تحت قائم کیے گئے تھے۔)

باصر کاظمی

اہلِ سیاست

ڈھونڈتے ہیں خلوص ہم کِن میں

ہے غرض اپنی ہی بھری جِن میں

آ گیا کھُل کے سامنے آخر

تھا جو پوشیدہ ان کے باطِن میں

کچھ تو تھے غیر کچھ ہمارے نہیں

فرق اتنا ہے اُن میں اور اِن میں

باصر کاظمی

حفظِ ماتقدم

کہا اک بھیڑ نے کچھ میمنوں سے

مرے پیارو، ہمیشہ ساتھ ریوڑ کے رہو۔

تمہارے دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی ہو

جو ڈھال کی صورت محافظ ہو۔

چراگاہوں سے باہر

جگمگاتے راستے تم کو بلائیں گے،

چمکتی لہلہاتی خستہ ہریالی لُبھائے گی،

تمہارے دل کو کھینچے گی۔

تم اپنے پاؤں اپنے ہاتھ میں رکھنا۔

نہ ہونے کو نہ ہو کچھ بھی

مگر ہونے کو ہو سکتا ہے کچھ بھی۔

سنو، ایسے کسی انجان رستے پر،

کسی بے دھیان لمحے میں ،

اچانک بھیڑئے کر دیں اگرحملہ،

دلِ دہشت زدہ میں ایک دہلاتی ہوئی خواہش

بصد حسرت امڈتی ہے،

رگوں میں سنسناتی ہے،

یہ کہتی ہے کہ ہائے!

کاش اُن کتوں کی سُن لیتے

جو دن بھر بھونکتے تھے۔

باصر کاظمی

نجات

یہ صاف دکھائی دے رہا تھا

باندھا تھا کبھی جو عہد، اُس سے

دونوں ہی رہائی چاہتے تھے

بے وجہ لڑائی چاہتے تھے۔

اُس کو بھی بہانہ چاہیے تھا

موقعے کی تلاش میں تھے ہم بھی

دونوں ہی جدائی چاہتے تھے۔

باصر کاظمی

ایک دوست کی حق تلفی پر

گویا کہ جدا سب سے ترا ساز ہے پیارے

اعزاز نہ ملنا بھی تو اعزاز ہے پیارے

ہوتی ہے تری بات نمایاں سرِ محفل

ہر چند کہ دھیمی تری آواز ہے پیارے

ہم جانتے ہیں تیرے ارادوں کو بخوبی

پہچانتے ہیں جو ترا انداز ہے پیارے

تو دوست ہے چپکے سے بتا دیتے ہیں تجھ کو

جو حرف زمانے کے لیے راز ہے پیارے

ہوتے نظر آتے ہیں جہاں راستے مسدود

تیرے لیے اک باب نیا باز ہے پیارے

کچھ آج ہی اونچا نہیں سر فخر سے اپنا

تجھ پر تو ہمیشہ سے ہمیں ناز ہے پیارے

باصر کاظمی

ایک مکالمہ

شاعر: ان کی تنقید سدِ راہِ شوق

ان کی تعریف ایک زریں طوق

بیشتر میرے عہد کے نقاد

بددیانت، بخیل یا بدذوق

نقاد: طبعِ موزوں تو اک عنایت ہے

یہ بتا تیری کیا ریاضت ہے

صِرف تعریف چاہتا ہے تُو

تیرا مقصد حصولِ شہرت ہے

2011

باصر کاظمی

شجر ہونے تک

صبر کرنے کی جو تلقین کیا کرتے تھے

اب یہ لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہا کرتے تھے

رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک

بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک

1-3فروری 2009

باصر کاظمی

جنگل میں مور

ایک دن اِک مور سے کہنے لگی یہ مورنی:

خوش صَدا ہے ، خوش اَدا ہے، خوش قدم خوش رَنگ ہے،

اِس بیاباں تک مگر افسوس تُو محدود ہے۔

جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ،

ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار۔

کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی!

کاش مخلوقِ خدا ہو تیرے فن سے فیض یاب!

مور بولا: اے مِری ہم رقص میری ہم نوا،

تُو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدر،

کتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں ۔

اَن گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنر۔

داد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مِرا۔

اِس طرح گویا اُنہیں تسخیر کر لیتا تھا میں ۔

دیکھتا جب اُن کی آنکھوں میں ستائش کی چمک،

بس اُسی لمحے پَروں کو میرے لگ جاتے تھے پَر۔

پھر ہوا یوں ایک دن دورانِ رقص،

غالباَ شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چُبھا۔

رقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہُوا معذور میں

رفتہ رفتہ ہو گیا اہلِ جہاں سے دُور میں ۔

بعد مُدّت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں ،

دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤسِ خوش قد خوش جمال،

مجھ سے بہتر اور کتنا مختلف،

کر رہا تھا اپنے فن سے اہلِ مجلس کو نہال۔

دیر تک دیکھا کیا میں اُس کو اوروں کی طرح

یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرح۔

کاروانِ زندگی رکتا نہیں

وقت کا دریا کبھی رکتا نہیں

آج میں ، کل کوئی ،پرسوں کوئی اور،

اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دور۔

رقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے

یا فقط تیرے لیے، تیرے لیے، تیرے لیے

باصر کاظمی

غزل کہتے ہیں

اُس کے آنے پہ غزل کہتے ہیں

اُس کے جانے پہ غزل کہتے ہیں

دھُوپ نکلے تو غزل ہوتی ہے

اَبر چھانے پہ غزل کہتے ہیں

ناشتے پر ہے غزل کا سامان

رات کھانے پہ غزل کہتے ہیں

مُہر ہم اپنے تخلّص کی لیے

دانے دانے پہ غزل کہتے ہیں

دل اُجڑنے پہ بہت شعر ہوئے

گھر بَسانے پہ غزل کہتے ہیں

منہ دکھائی میں غزل کا تحفہ

رُخ چھُپانے پہ غزل کہتے ہیں

نہیں لازم کہ کوئی زخم لگے

سَر کھُجانے پہ غزل کہتے ہیں

ہے کچہری کبھی موضوعِ سخن

کبھی تھانے پہ غزل کہتے ہیں

انقلابی ہوئے جب سے شاعر

کارخانے پہ غزل کہتے ہیں

اِس قدر سہل غزل کہنا ہے

سانس آنے پہ غزل کہتے ہیں

بیٹھ کر کُنجِ قفس میں باصرؔ

آشیانے پہ غزل کہتے ہیں

باصر کاظمی

گھر کی مُرغی

وہ زمانے گئے جب تھی یہ غریبوں کی غذا

قدر و قیمت میں تو اب لحم سے بڑھ کر ہے دال

اِس میں ہے یارو سَراسَر مری عزّت افزائی

گھر کی مُرغی کو جو تم دال برابر سمجھو

باصر کاظمی

رونی صورت

اُس کو ہم سے گِلہ رہے گا ایسے ہی

کچھ کر لیں وہ خفا رہے گا ایسے ہی

اُسے ہنسانے کی ہر کوشش ہے بے سود

اُس کا منہ تو بنا رہے گا ایسے ہی

باصر کاظمی

دوسری ہجرت

بابا، تم نے

اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر

اپنے آبا کی قبروں کو چھوڑا تھا۔

ہم نے بھی ہجرت کی ہے

اپنی اولاد کے ’روشن‘ مستقبل کے لیے۔

باصر کاظمی

مشرق اور مغرب

پھُول کسی گلشن میں کھِلے

یا کسی کے آنگن کی کیاری میں ،

سڑک کے بیچ میں ، یا

فٹ پاتھ پہ لگے ہوئے پودے میں ،

اس کے رنگ وہی ہیں

اس کی مہک وہی۔

سُورج سُورج ہے

چاہے مشرق سے نکلے

چاہے مغرب سے۔

باصر کاظمی

دِفاع

گو صُلح اور امن سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ

موزوں نہیں پیام یہ ہر ایک کے لیے

دشمن کو ڈھیل دی تو ہُوا سَر پہ وہ سوار

کلہاڑی اپنے پاؤں پہ ہرگز نہ ماریے

بادل کی طرح سایہ بھی دیں غیر کو ضرور

لیکن کبھی گرجنا برسنا بھی چاہیے

باصر کاظمی

کشکول

جتنی بھیک مجھے درکار تھی

اس کے لیے میرا کشکول

بہت چھوٹا تھا۔

آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول

اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا۔

باصر کاظمی

اِمداد

کچھ تو جہاں میں اہلِ سخاوت کی تعداد بڑھی

کچھ میں نے بھی سیکھے نئے نئے انداز،

دستِ سوال بڑھانے کے،

عرضِ تمنّا کرنے کے۔

میرا کام تو چل نِکلا۔

سوچ رہا ہوں لے آؤں

اِک عمدہ سا کشکول۔

باصر کاظمی

بادشاہت جہنم میں

وہ کہتے ہیں کہ جنت کی غلامی سے

کہیں بہتر ہے دوزخ کی شہنشاہی۔

میں کہتا ہوں وہ جنت ہی نہیں

جس میں غلامی ہو،

اگرچہ بادشاہت اک نشانی ہے جہنّم کی

باصر کاظمی

نِدائے آدم

جہانِ تازہ مِرے دم قدم سے پیدا ہو

بہشت ارض پہ اُس کے کرم سے پیدا ہو

خوشی کی صُبح شبِ تارِ غم سے پیدا ہو

سکون وسوسہء بیش و کم سے پیدا ہو

زبانِ تیشہ سے ایسے ہو کچھ بیانِ حُسن

اَذانِ عشق دہانِ صنم سے پیدا ہو

نظامِ کہنہ اگر چاہیے حیاتِ نَو

یہ وقت ہے کہ تُو میرے قلم سے پیدا ہو

باصر کاظمی

قلم دوات

شجر سے کٹ کے جو بے جان ہو گئی تھی شاخ

قلم بنی تو وہ دوبارہ ہو گئی زندہ

شبِ سیہ سے زیادہ سیہ سیاہی سے

تمام عالمِ تاریک ہو گیا روشن

باصر کاظمی

خواندگی

پہلی آواز:

آؤ لکھو پڑھو

تاکہ بہتر طریقے سے خدمت کرو

مُلک اور قوم کی۔

خواندگی خواندگی ورنہ پسماندگی!

دوسری آواز:

اِتنا پڑھ لِکھ کے بھی

میری حالت وہی،

آج اِس کی تو کل اُس کی دہلیز پر

منتظر، ملتجی،

خواندگی!

باصر کاظمی

پڑھو گے لِکھو گے

اِس پڑھائی لِکھائی سے کیا فائدہ

جو سکھائے فقط ایسی تحریر

آغاز جس کا جناب و حضور

انتہا تابعداری کا اک غیر مشروط پیمان

اور پیشگی شکریہ

جانے کس بات کا

باصر کاظمی

’نوعُمری اور پیری‘

کل کی بات ہے

کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا!

میں نوعُمر تھا،

پیِری خود سے صدیوں دُور نظر آتی تھی۔

اب میں پیِری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں ،

بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں

جیسے ان اَدوار سے میں گزرا ہی نہیں ۔

باصر کاظمی

بیٹی کی دسویں سالگرہ پر

مِری اچھی وجیہہ،

میں تجھ سے خوش ہوں اِتنا

کہ اکثر سوچتا ہوں ،

اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے،

خالق مجھ سے کہتا

کہ چن لے اِن ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے

اِک اپنے لیے،

تو میں تجھے ہی منتخب کرتا۔

میں خوش قسمت ہوں کتنا!

دعا گو ہوں

سدا جیتی رہے

اور ایسی ہی اچھی رہے تُو!

باصر کاظمی

ہم تو لہریں ہیں

ہم تو جیسے لہریں ہیں

آسمان کو

چھونے کی خواہش میں

ہم جست لگائیں

تو لگتا ہے

پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں

ہم تو پل چھن میں

اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے

اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں

جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے

دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں

اس موجود میں جو موجود ہے

سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے

ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں

توقیر عباس

کوئی ہے؟

کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،

لگاتے ہوئے،

میں سراپا صدا بن گیا،

لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے

مجھے گھورتے،

ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،

میری جانب لپکتی،

مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی

وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،

کہاں، کس طرف آتے جاتے،

خبر کچھ نہیں تھی،

برسوں پہلے اسی شہر میں،

بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،

ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،

وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،

ساتھ دینے کا اک عہد تھا،

اپنی چاہت کے اقرار میں،

کہہ کے لبیک

آواز سے دستخط کر دئیے

اور پھر ایک دن

اپنے اقرار کو بھول کر

میں اسے بھول کر،

اُن دیاروں کی جانب چلا،

جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،

جب میں لوٹا

کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،

کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،

وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،

اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،

ایک بے چہرگی تھی ۔

جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ

ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا

اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بے خدوخال چہرہ ہوا

میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں

اور میں

بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا

اور گرتا چلا جا رہا ہوں

توقیر عباس

کہانی تونے کتنی دیر کی

کہانی تونے کتنی دیر کی

کچھ دیر پہلے

بام و در روشن تھے

آنگن جگمگاتے تھے

سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی

تتلیوں کے رنگ قائم تھے

پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں

پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں

شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں

استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے

اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا

اگر تو جلد آ جاتی

ترا باطن منور

تجھے سیراب کرتے

مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے

توقیر عباس

عجب مزدور ہے

عجب مزدور ہے

ہر کام کرتا ہے

گھڑی کی سوئیوں میں گھومتا ہے

بہاو بن کے بہتا ہے

زمانوں سے زمانوں تک

شکست و ریخت کرتا ہے

کہیں تعمیر کرتا ہے

خزانے برد کرتا ہے

کہیں دھرتی کی تہہ سے

کوئی گنجِ گمشدہ بھی کھینچ لاتا ہے

کسی کا ساتھ دیتا ہے

کسی کوچھوڑ جاتا ہے

پہاڑوں جنگلوں میں بھی

نظر آتا ہے اپنا کام کرتا

لٹیرا بھی ہے جابر بھی

سخی بھی مہرباں بھی ہے

وہ چاروں سمت چلتا ہے

اسے تو چلتے جانا ہے

ازل کی وادیوں سے

ابد کے سبزہ زاروں تک

عجب مزدور ہے

توقیر عباس

دور پیڑوں کے سائے میں

دور پیڑوں کے سائے میں۔۔۔

حرکت، مسلسل

مرا دھیان اس کی طرف

اوردل میں کئی واہمے

دل کی دھڑکن میں دھڑکیں

کئی گردشیں

اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا

عجب خوف پیڑوں کے سائےمیں پلتا ہوا

اک تحرک

جو کھلتا نہیں

اور میں منتظر

جو بھی ہونا ہے اب ہو

اور اب ایک آہٹ نے دہلا دیا

بہت دھیمی آہٹ

اجل نے چھوا ہو

کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی

کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا

تحرک کی ہچکی سنی

اور ہر چیز اپنی جگہ تھم گئی

سیاہی کا پردہ گرا

قمقمے جل اُٹھے

اور گھر جگمگانے لگے

توقیر عباس

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

چوبداروں کی جاں پر بنی تھی

سپاہی ہراساں تھے

راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا

رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایہ جما تھا

کہانی مکمل نہیں تھی

وزیروں کے اذہان عاجز تھے

کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں

ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں

منادی کرا دی گئی

لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لائے تو انعام پائے

مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے

جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں

توقیر عباس

بکھری راکھ سے۔۔۔

اور اب دھیان میں لاؤں

وہ پل

لاکھ یگوں کے یم کا رستہ جس پر

چھدے ہوئے جسموں کی دھڑکن

نوحہ کناں تھی

ٹوٹتے جڑتے سلسلے لمحوں کے

ٹھیکریاں جب ہیروں سے مس ہو کر

تاب یاب تھیں

کتنے سورج اپنی راکھ میں غلطاں تھے

سب دھاگے ٹوٹ کے بکھر گئے تھے

جسم جلاتی گرم ہوا کی لپٹیں

رنگوں کو صحرا کے پھیکے پن میں ڈھال رہی تھیں

کوندے جھماکے لاکھ نطارے

کتنی کائناتیں جو

بود نہ بود کے ایک نظام سے جڑ کر

ایک تسلسل سے مصروف عمل تھیں

چاروں جانب اڑتی راکھ تھی

دور کہیں پربجتی بانسری

جس کی دھن میں

بکھری راکھ سے روئے زماں کی

پھر تشکیل ہوئی تھی

توقیر عباس

اس دن

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،

کون تھا جس کے لئے

اس کی ہمدردی نہیں تھی،

جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،

سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،

سب اشیا ء کو دیکھا،

دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،

تھل میں ویرانی رقصاں ہے،

پیڑ ہیں پاگل ہوا میں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،

پنچھی کتنا اڑتے ہیں،

کو ہ فقط تخریب کی زد پر آ کر گرتے

زلزلےپیداکرتے رہتے ہیں،

ہوا بھی اندھی ہے،

جو سب سے مراسم رکھتی ہے،

اس جیسے سب انساں

اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،

اس نے دیکھا،

سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،

سب کچھ جدا جدا ہے،

لیکن اک دوجے سے

لاکھوں رشتے جڑے ہو ئے ہیں۔

توقیر عباس

ایک نغمہ ۔ پنجابی میں

"وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار”

روزی دیوے گا سائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار

ہیر نوں چھَڈ ٹر گیوں رنجھیٹے

کھیڑیاں دے گھر پاے گئے ہاسے

کانگ اڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

پِنڈ وچ کڈی ٹوہر شریکاں

یاراں دے ڈھے پئے منڈاسے

ویراں دیاں ٹُٹ گئیاں بائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

روزی دیوے گا سائیں

کانگ اُڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

خیر مناون سنگی ساتھی

چرخے اولے روون مٹیاراں

ہاڑاں دردیاں سُنجیاں رائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں

چھڈ غیراں دے محل چو محلے

اپنے ویہڑے دی رِیس نہ کائی

اپنی جھوک دیاں ستّے خیراں

بیبا تُس نے قدر نہ پائی

موڑ مہاراں

تے آ گھر باراں

مُڑ آ کے مول نہ جائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

فیض احمد فیض

ایک ترانہ ۔ پنجابی میں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

بھولیا! تُوں جگ دا ان داتا

تیری باندی دھرتی ماتا

توں جگ دا پالن ہار

تے مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

جرنل، کرنل، صوبیدار

ڈپٹی، ڈی سی، تھانیدار

سارے تیرا دتّا کھاون

توں جے نہ بیجیں، توں جے نہ گاہویں

بھُکھّے، بھانے سب مر جاون

ایہہ چاکر توں سرکار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

وچ کچہری، چونکی تھانے

کیہہ اَن بھول تے کیہہ سیانے

کیہہ اشراف تے کیہہ نمانے

سارے کھجّل خوار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

ایکا کر لئو، ہو جاؤ کٹھّے

بھُل جاؤ رانگڑ، چیمے چٹھے

سبھے دا اِک پریوار

مردا کیوں جائیں

جے چڑھ آون فوجاں والے

توں وی چھَویاں لمب کرا لے

تیرا حق، تری تلوار

تے مردا کیوں جائیں

دے اللہ ہُو دی مار

تے مردا کیوں جائیں

فیض احمد فیض

گیت

جلنے لگیں یادوں کی چتائیں

آؤ کوئی بَیت بنائیں

جن کی رہ تکتے تکے جُگ بیتے

چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں

آنکھیں موند کے نِت پل دیکھیں

آنکھوں میں اُن کی پرچھائیں

اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر

بے دردوں کے سامنے جائیں

جب رونا آوے مسکائیں

جب دل ٹوٹے دیپ جلائیں

پریم کتھا کا انت نہ کوئی

کتنی بار اسے دھرائیں

پریت کی ریت انوکھی ساجن

کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں

فیض اُن سے کیا بات چھپی ہے

ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں

فیض احمد فیض

گاؤں کی سڑک

یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا

یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا

کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی

یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن

یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن

جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی

نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ

مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا

کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے

سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

(بیروت)

فیض احمد فیض

میرے ملنے والے

وہ در کھلا میرے غمکدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں

فرشِ افسردگی بچھانے

وہ آگئی رات چاند تاروں کو

اپنی آزردگی سنانے

وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے

یاد کے زخم کو منانے

وہ دوپہر آئی آستیں میں

چھپائے شعلوں کے تازیانے

یہ آئے سب میرے ملنے والے

کہ جن سے دن رات واسطا ہے

پہ کون کب آیا، کب گیا ہے

نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے

خیال سوئے وطن رواں ہے

سمندروں کی ایال تھامے

ہزار وہم وگماں سنبھالے

کئی طرح کے سوال تھامے

(بیروت)

فیض احمد فیض

دو نظمیں فلسطین کے لئے

۔ ۱ ۔

میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن

تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے

تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے

تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی

تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی

سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا

کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا

دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں

اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں

جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم

لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم

تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد

میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

بیروت ۸۰ ء

۔ ۲ ۔

فلسطینی بچے کیلیے لوری

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی، ابا، باجی، بھائی

چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب

اور بھی تجھ کو رلوائیں گے

تو مسکائے گا تو شاید

سارے اک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

کیا کریں

مری تری نگاہ میں

جو لاکھ انتظار ہیں

جو میرے تیرے تن بدن میں

لاکھ دل فگار ہیں

جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے

سب قلم نزار ہیں

جو میرے تیرے شہر کی

ہر اک گلی میں

میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں

جو میری تیری رات کے

ستارے زخم زخم ہیں

جو میری تیری صبح کے

گلاب چاک چاک ہیں

یہ زخم سارے بے دوا

یہ چاک سارے بے رفو

کسی پہ راکھ چاند کی

کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں، بتا

یہ ہے، کہ محض جال ہے

مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا

جو ہے تو اس کا کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں

بتا ، بتا ،

بتا ، بتا

(بیروت)

فیض احمد فیض

پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

ہم تو مجبورِ وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن

جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا

کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی

خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے

’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر

لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘؎۱

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں

اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم

ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے

(؎۱ یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں۔)

فیض احمد فیض

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

ٹھہر گئی آسماں کی ندیا

وہ جا لگی افق کنارے

اداس رنگوں کی چاندنیّا

اتر گئے ساحلِ زمیں پر

سبھی کھویّا

تمام تارے

اکھڑ گئی سانس پتیوں کی

چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں

گجر بچا حکمِ خامشی کا

تو چپ میں گم ہو گئی صدائیں

سحر کی گوری کی چھاتیوں سے

ڈھلک گئی تیرگی کی چادر

اور اس بجائے

بکھر گئے اس کے تن بدن پر

نراس تنہائیوں کے سائے

اور اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کہ دن ڈھلے شہر سے نکل کر

کدھر کو جانے کا رخ کیا تھا

نہ کوئی جادہ، نہ کوئی منزل

کسی مسافر کو اب دماغِ سفر نہیں ہے

یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی

کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

یہ وقت آئے تو بے ارادہ

کبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوں

اتار کر ذات کا لبادہ

کہیں سیاہی ملامتوں کی

کہیں پہ گل بوٹے الفتوں کے

کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی

کہیں پہ خونِ جگر کے دھبّے

یہ چاک ہے پنجۂ عدو کا

یہ مہر ہے یارِ مہرباں کی

یہ لعل لب ہائے مہوشاں کے

یہ مرحمت شیخِ بد زباں کی

یہ جامۂ روز و شب گزیدہ

مجھے یہ پیراہن دریدہ

عزیز بھی، ناپسند بھی ہے

کبھی یہ فرمانِ جوشِ وحشت

کہ نوچ کر اس کو پھینک ڈالو

کبھی یہ حرفِ اصرارِ الفت

کہ چوم کر پھر گلے لگا لو

(تاشقند)

فیض احمد فیض

تین آوازیں

ظالم

جشن ہے ماتمِ امّید کا آؤ لوگو

مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو

عدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے

تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نے

جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو

بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو

ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے میں نے

سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے

اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا

فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لیے

اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا

ابر آئے گا خس و خار کے انبار لیے

میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی

میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی

اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے

سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے

فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا

عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا

مظلوم

رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے

صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے

دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا

دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا

یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر

یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر

کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے

ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے

وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟

ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

ندائے غیب

ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو

کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے

اُٹھے گا جب جَمِّ سرفروشاں

پڑیں گے دارو رَسن کے لالے

کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی

یہیں عذاب و ثواب ہو گا

یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر

یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

فیض احمد فیض

لاؤ تو قتل نامہ مرا

سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی

تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی

ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو

کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام

بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی

’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں

کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘

فیض احمد فیض

دو نظمیں

۔ ۱ ۔

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن

جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم

منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

۔ ۲ ۔

شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے

چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں

دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں

پانی میں نہائے ہیں بوٹے

گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے

جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے

خوں کا ہر داغ دمکتا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے

ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے

عالم میں اُن کا شہرہ ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں

وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں

اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

غم نے سانچے میں ڈھالا ہے

اِک باپ کے پتھر چہرے کو

مردہ بیٹے کے ماتھے کو

اِک ماں نے رو کر چوما ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی

اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے

پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن

اب بادل ہے نہ برکھا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)

————————-

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

کوئ عاشق کسی محبوبہ سے!

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا

پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ

ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہو گا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم

کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہو گا

گردِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں

تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو

(لندن)

فیض احمد فیض

پھول مرجھا گئے سارے

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو

شمعیں بے نور ہو گئی ہیں

آئینے چور ہو گئے ہیں

ساز سب بج کے کھو گئے ہیں

پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں

اور اُن بادلوں کے پیچھے

دور اِس رات کا دلارا

درد کا ستارا

ٹمٹما رہا ہے

جھنجھنا رہا ہے

مسکرا رہا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

دلِ من مسافرِ من

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رُخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یارِ نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سرِ کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بُری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا

(لندن)

فیض احمد فیض

نعت

اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو

آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو

خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال

بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو

آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر

اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو

آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ

از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو

باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند

روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو​

فیض احمد فیض

شامِ غربت

دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے

غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے

نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے

شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے

بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے

درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے

ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے

آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے

درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے

دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​

فیض احمد فیض

اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر

قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے

جو عزم و ہمت کے مدعی تھے

اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی

آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے

جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے

جو اہلِ دستار محترم تھے

ہوس کے پرپیچ راستوں میں

کلہ کسی نے گرو رکھ دی

کسی نے دستار بیچ دی ہے

اُدھر بھی دیکھو

جو اپنے رخشاں لہو کےدینار

مفت بازار میں لٹا کر

نظر سے اوجھل ہوئے

اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،

اُدھر بھی دیکھو

جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر

جہاں سے رخصت ہوئے

اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد

چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​

فیض احمد فیض

ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار

۔ ۱ ۔

جینے کے لیے مرنا

یہ کیسی سعادت ہے

مرنے کے لیے جینا

یہ کیسی حماقت ہے

۔ ۲ ۔

اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح

اور مل کر جیو

ایک بَن کی طرح

۔ ۳ ۔

ہم نے امّید کے سہارے پر

ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے

جس طرح تم سے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض

آج شب کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی

خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی

اور مکیں کوئی نہیں ہے،

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

"کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت”

کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت

کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں

کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم

ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم

اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے​

فیض احمد فیض

جو میرا تمہارا رشتہ ہے

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے

وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں

لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق

مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں

یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال

یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال

اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے

’’گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے‘‘

فیض احمد فیض

یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا

کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن

نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے

کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا

جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی

جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا

بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا

یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم

جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا

نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی

یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم

جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا

شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

(ناتمام)

فیض احمد فیض

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

ترکِ الفت کے دشت سے چن کر

آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

تیری دہلیز پر سجا آئے

پھر تری یاد پر چڑھا آئے

باندھ کر آرزو کے پلے میں

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​

فیض احمد فیض

اس وقت تو یُوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن

اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو

گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید

اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ

تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے

ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

(میو ہسپتال، لاہور)

فیض احمد فیض

ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

کیا خوف ز یلغارِ اعداء

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہدا

ڈر کاہے کا!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

قد جاء الحق و زَہَق الباطِل

فرمودۂ ربِّ اکبر

ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے

جو آئنے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لَو سے

اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

جو چہرے لہو کے غازے کی

زینت سے سوا پُرنور ہوئی

اب ان کے رنگیں پرتو سے

اس شہر کی گلیاں روشن ہیں

اور تاباں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر

ہم پایۂ قصرِ دارا ہے

ہر غازی رشکِ اسکندر

ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

(بیروت)

فیض احمد فیض

عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے

گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے

پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے

ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے

ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے

راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے

رشک کرتے رہے

اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ

جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے

اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ

کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح

رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اسی قافلے میں کشاں لے چلا

(بیروت)

فیض احمد فیض

تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے

جیون کی ناؤ ڈالی تھی

تھا کتنا کس بل بانہوں میں

لوہُو میں کتنی لالی تھی

یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے

اور ناؤ پُورم پار لگی

ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں

کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں

کچھ مانجھی تھے انجان بہُت

کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جِتنے چاہو دوش دھرو

ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

اب کیسے پار اُترنا ہے

جب اپنی چھاتی میں ہم نے

اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے

تھا ویدوں پر وشواش بہت

اور یاد بہت سےنسخے تھے

یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں

ساری بپتا کٹ جائے گی

اور سب گھاؤ بھر جائیں گے

ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے

کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے

وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے

اور ٹوٹکے سب بیکار گئے

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جتنے چاہو دوش دھرو

چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

۔ ۱۔

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

۔۲۔

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

فیض احمد فیض

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

فیض احمد فیض

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

لینن گراڈ کا گورستان

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

لینن گراڈ 1976ء

فیض احمد فیض