زمرہ جات کے محفوظات: چمن کوئی بھی ہو

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو ۔ انتظار حسین

‘پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو’

رفتہ رفتہ اس شاعری کی قبولیت اِس درجہ پر ہوئی کہ ملکہ برطانیہ کی جانب سے ایم بی ای کا اعزاز برائے ادبی خدمات بحیثیت شاعر سے نوازا گیا۔ اور یہ کہ اردو شاعر کی حیثیت سے یہ تو پہلی ہی مرتبہ ہوا ورنہ لندن سے رجوع کرنے والے جنوبی ایشیاسے جو ادیب ہوئے ہیںانہوں نے انگریزی میں لکھااور بکر پرائز ایسے انعامات سے نوازے گئے ۔ مگر باصِر نے اردو میں لکھ کر ایم بی ای کا اعزاز حاصل کیا۔ اِس طرح انہیں دوسرے اعزاز پانے والوں سے ایک امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی۔ مگر اتنا ہی نہیں، تخصیص کے ساتھ باصِرکی بعض غزلوں کوعجب رنگ سے قبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی ایک غزل جس کا مطلع اِس طرح سے ہے:

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

اس کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اور ساتھ میں اردو متن کو بھی ہسپتالوں میں نصب کیاگیا۔ ایک اور شعر یوں ہے:

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

یہ شعر انگریزی میں ترجمہ کے ساتھ سلائو کے میکنزی سکوائر میں نصب کیاگیا۔اصل میں باصِر کے یہاں بیچ بیچ میں ایسے اشعار ملتے ہیں جو ضرب المثل بننے کی صلاحیت کی غمازی کرتے ہیں۔ اول الذکر شعر ایسا ہی شعر ہے۔ ایسے اور شعر بھی باصِر کے ہاں نظر آئیں گے۔ مثلاً یہ شعر دیکھئے:

رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک

بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک

دوسرا مصرع ضرب المثل والی شان رکھتا ہے۔ کیا مضائقہ ہے کہ چند ایک شعر اِدھر اُدھر سے نقل کر دیں۔ پتہ تو چلے کہ اِس شاعر نے اپنے رنگ میں کیا کیا گل کھلائے ہیں۔

غم برگد کا گھنا درخت

خوشیاں ننھے ننھے پھول

اہلِ دل آگئے کہاں سے کہاں

دیکھیے جائیں گے یہاں سے کہاں

باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں

کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

مشکل ہوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا

اُلجھی ہوئی ہے ڈور سے کوئی دگاڑ سی

(اقتباس از ’بندگی نامہ‘، روزنامہ ایکسپریس، 24 اپریل، 2015)

پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب ۔ انتظار حسین

باصِر کاظمی کے طور سے کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے پتہ چل گیا تھا کہ نامور باپ کا بیٹا ہونا کچھ ایسا سہل نہیں ہے۔ اس میں بے شک کچھ سہولتیں بھی ہیں مگر بیٹا اگر سمجھدار ہے تو اسے مشکلات کا بھی ادراک ہونا چاہیے:

اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش

پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب

فخر اِس حد تک تو بجا ہے مگر فخر کے ساتھ یہ بھی پتا ہونا چاہیے:

بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی

ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ

دُور اندیش بیٹے تویہ کرتے ہیں کہ باپ والے رستے ہی سے کنی کاٹ جاتے ہیں، اپنا راستہ اس سے ہٹ کر نکالتے ہیں۔ باصِر نے یہ دُور اندیشی نہیں دکھائی۔ شاعری میں قدم رکھا اور بیچ کھیت غزل کہنی شروع کردی۔ ہاں ایک عقلمندی کی، باپ کے شہر کو چھوڑ دیا۔ اِس شہر کے بارے میں تو شاعر نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ

ع گلی گلی مِری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

دوسرے شاعروں کے ہاں بے شک شہر کی کوئی معنویت نہ ہو، ناصِر کی شاعری میں تو ہے اور بہت ہے۔ اِس شہر کو چھوڑنے کا مطلب تھا، ناصِر کے ہاں شعری تجربے کا جو رنگ تھا اُس سے ایک آبرومندانہ فاصلہ قائم کرنا۔اِس نئے مجموعے کو دیکھ کراحساس ہوا کہ باصِر کی نقل مکانی کا تجربہ ضائع نہیں گیا۔اِس سے اُس کے شعری تجربے کا رنگ کچھ بدل گیا ہے۔ویسے یہ کوئی لازم تو نہیں ہے کہ ایسی تبدیلی شاعری میں اعلانیہ نظر آئے۔وہ تو شاعری کے اندرسرایت کرجاتی ہے۔پھر احتیاط سے پڑھنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے۔سو باصِر کی یہ شکایت برحق ہے:

میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں

پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح

… جس تبدیلی کامیںذکرکر رہاتھااس کے کچھ بدیہی اشارے اِس شاعری میں نظرآجائیںگے۔کتنے ایسے شعرہیںجوچغلی کھاتے ہیںکہ شاعر اپنے دیارسے دوردیارِغیرمیںبیٹھاایک مختلف آب وہوا میں سانس لے رہا ہے۔نئی نعمتوں کے میسر آنے پر خوش ہے اورگمشدہ نعمتوں کے لیے ترس رہا ہے۔ان گمشدہ نعمتوںمیں سب سے بڑھ کر دھوپ کی نعمت ہے:

ہوتے ہیں عموماََ یہ مری دھوپ کے دشمن

بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک

ہم کہ جو ہر ابر کو ابرِ کرم سمجھا کیے

آگئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

اور اب اِس تقابل میںچھوڑے ہوئے اپنے شہر کی قدر سمجھ میں آرہی ہے:

یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل

اچھا ہے مگر صرف عمارات کی حد تک

یا یہ کہ:

لاکھ آسائشیں پردیس مہیا کر دے

ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی

اور یہ جو باصِر نے کہا ہے کہ

حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مِری

ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں

اِس سے مجھے خیال آرہا ہے کہ یہاں سے جو خلقت نقل مکانی کر کے اللہ میاں کے پچھواڑے جاکر آباد ہوئی ہے اس کی حالت بدلی بھی ہے تو کس رنگ سے۔ ارے اپنی شاعری ہی کو لے لو۔ مشاعروں کی روایت دیارِ غیر میں جاکر اور زور پکڑ گئی مگر عجب ہوا کہ یہاں سے جو روایتی غزل دامن میں لے کر گئے تھے وہ وہاں جا کر مزید روایتی بن گئی اور جو یہاں سے دامن میں تھوڑی سی ملائیت گرہ میں باندھ کر لے گئے تھے وہ وہاں جا کر تہذیبی شناخت کے نام پر اور زور پکڑ گئی بلکہ بگڑ کر قیامت بن گئی۔ سو بات صرف اتنی نہیں ہے کہ ع ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں،بلکہ یوں ہے کہ

اہلِ دنیا یہاں جو آتے ہیں

اپنے انگارے ساتھ لاتے ہیں

اور کتنے ہمارے یہاں کے انگارے وہاں کی خرابیوں سے شہ پا کر آگ بن گئے۔ اور ہاں ایک بات اور۔اُس دیار میں بیٹھ کر اپنے دیار کی طرف دیکھیں تو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ ہماری دھوپ چھائوں اور دل بادل تو خیر ہوئے مگر ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور اِس زمیں کو کیا سے کیا بنا دیا ہے تو یہ زاویہء نگاہ بھی اِس بدلے ہوئے شعری تجربے میں جھلکتا نظر آئے گا۔

(اقتباس از ’پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب‘۔ ’اپنی دانست میں‘، انتظار حسین، سنگِ میل، لاہور، 2014 )

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

قالین باف ۔ محمد اطہر طاہر

Carpet-Weaver

M۔ Athar Tahir

اُن عمارتوں کے درمیان جو بھکاری عورتوں کی طرح

روشنی کے لیے ایک دوسرے کی حریف تھیں

میرا خیال ہے کہ میں راہ بھول کر

جب ایک کُنجِ عزلت میں پہنچا تو اُس سے دوچار ہوا۔

وہ گٹھری بنا ہوا تھا، عمارت کے اندر، اندھیرے کی روشنی میں

اُس کی انگلیاں ، اُون کے کام کے باعث بے حِس،

پرانی کام چلاؤ مشین پر مشقّت کرتی ہیں

چوہے کی سی مختصر تیز رفتار سے

جبکہ یہ اپنی روزی کماتا ہے

فی مربع انچ گِرہوں کے حساب سے

محض مؤذن کی اذان کے فاصلے پر

عظیم بزرگ کے مزار پر

پیشہ ور مانگنے والے

اپنے دھات کے کشکول کھانا لینے کے لیے بڑھاتے ہیں

بے شمار خدا کے پیارے

چاولوں کی دیگیں اور پھولوں کے ہار لے کر

اس سبز گنبد والے ولی کا شکریہ ادا کرنے آتے ہیں ۔

سفارشیں یہاں بھی چلتی ہیں ۔

باصر کاظمی

ناصر کاظمی کے گھر کے لیے ایک دعائے خیر ۔ سائمن فلیچر

A Prayer for the well-being of Nasir Kazmi’s House

Simon Fletcher

’’پیڑ لگانے والا شخص

بیشتر اوقات اس کا پھل کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتا‘‘

سفید کبوتر اسی طرح جمع رہیں

چھت پر ناصر کاظمی کے گھر

پتنگ، زعفرانی، چمک دار نیلے،

اُڑتے رہیں اوپر ناصر کاظمی کے گھر

ارغوانی گلاب، پودے، درخت

پھلیں پھولیں ناصر کاظمی کے گھر

سورج چمکے،بارشیں اپنے موسم میں

برستی رہیں ناصر کاظمی کے گھر

۱ہلِ خانہ، حلیم، عالِم

لمبی عمر پائیں ناصر کاظمی کے گھر

باصر کاظمی

ہمدردی کا ایک ننھا سا پُل ۔ سائمن فلیچر

‘A Little Bridge of Sympathy’

Simon Fletcher

(For Basir Sultan Kazmi)

ہم باہمی معاملات پر بات کرتے ہیں ،

جبکہ گفتگو چوکڑیاں بھرتی ہے

مثلِ غزال کمرے میں اور

فرازہ کھانا پکاتی ہے اور وجیہہ

’ریڈرز آف دی لوسٹ آرک( خزانوں کے متلاشی)‘ دیکھتی ہے،

ہماری بات چیت سے اُدھر، دوسرے کمرے میں ۔

تمہارے مرحوم والد، عظیم گفتگو کرنے والے،

لاہور کی گلیوں میں گھومتے ہیں

تمہارے ذہن میں ، اپنے صاف گو دوستوں کے ہمراہ

رات کے پچھلے پہر؛

تمہارے دادا، کلف لگے ہوئے فوجی لباس میں

سُرخی مائل بھوری تصویر میں نظر آتے ہیں ۔

میں تمہیں بتاتا ہوں کھیتوں میں کام کرنا

اپنے والد کے ساتھ، فصل کاٹنا،

پھل توڑنا، ہل چلانے کی مشقّت، جبکہ

میرے دادا چائے پیتے ہیں

ایک خاص سیاست دان کے ساتھ؛ یہ سب کچھ

حافظے کے محدّب عدسے میں سے گزر کر آتا ہے۔

اپنے ’گمشدہ خزانوں ‘ کے متلاشی، ہم

کئی برسوں اور زبانوں کو عبور کر کے پہنچتے ہیں

ہمدردی کے پل بنانے۔

ماضی ایک دوسرا مُلک ہے،

بے شک، اور جو کچھ ہم نے وہاں کیا؛

لیکن اصل بات وہ ہے جو ہم دونوں اب کرتے ہیں ۔

باصر کاظمی

بے ملاوٹ پیغام ۔ سائمن فلیچر

Unmixed Message

Simon Fletcher

(For Basir and Debjani)

سو ہم کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟

زمین گھومتی ہے اور کچھ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں ،

دوسروں کی ترجیح ہے پھُوٹ ڈالنا اور حکمرانی کرنا،

ایک مؤثر منصوبہ جو ہم نے سکول میں سیکھا۔

اِس کا نتیجہ، ہمیں پتا ہے، بے حالی

قحط، خشک سالی اور جنگ اور موت۔

سو ہم مسترد کرتے ہیں اِن جنگجو احمقوں کو

اِن کے دوستوں اورساتھیوں ،پٹھوؤں ،آلۂ کاروں کو،

اور حمایت کرتے ہیں پکنکوں ، پارٹیوں ، کھیلوں کی،

جہاں ہر کوئی حصّہ لے سکتا ہے

اورمحسوس نہیں کرتا خود کو گُونگا اور نظرانداز کیا گیا،

پیغام واضح ہے، پیچیدہ نہیں ۔

باصر کاظمی

ثقافتی مسالا ۔ سائمن فلیچر

سو یہ کیسے ہوا، ہم کیسے مِلے؟

سرائے میں نہیں ، نہ ہی گلی میں ،

مگر ہمارے اندر کی کسی چیز نے ہمیں اکٹھا کیا

تاکہ ہم اپنی محبتوں کے نغمے گائیں ہر موسم میں ۔

مذہب، زبان،مشغلے اور تذکیر تانیث

شاعری نے آمیخت کیے،جیسے کسی بلینڈر میں ۔

لاہورکی نایاب بوٹیاں ؛ خوش ذائقہ، تُرش؛

دہلی کے لذیذ مسالے،جن سے کوئی زبان نہ جلے۔

اور پکوان کو چٹ پٹا بنانے کے لیے،کھانے کا دَور مکمل کرنے کے لیے،

ایک پرانا انگریزی چٹخارہ، وُرسٹرشائرکی چٹنی!

باصر کاظمی

جراحتِ دل ۔ سائمن فلیچر

لگے ہیں اِس میں کئی سال اعتراف کروں

نیا بنا دیا تُو نے مِرا دلِ شاعر

مِرا خیال تھا لکھتا ہوں میں ہنر سے مگر

میں جانتا نہ تھا ہوتا ہے کیا دلِ شاعر

جگا کے مجھ کو مِرے خوابِ سبز سے تُو نے

گَلے سے اپنے لگایا مِرا دلِ شاعر

مجھے دکھائی نہ دیتی تھی رہ جو لے جاتی

مقامِ اوج پہ مجھ کو جو تھا دلِ شاعر

میں چل رہا تھا بہت مطمئن، مگر نادان

اِسی گماں میں کہ پہلو میں تھا دلِ شاعر

تجھے خبر تھی کہ رستہ کٹھن تھا، ناہموار

تھکائے دیتا تھا مجھ کو ترا دلِ شاعر

ہوا خنک ہوئی سیکھا نیا ہنر باصِر

سو یہ ہے ایک تشکّر بھرا دلِ شاعر

باصر کاظمی

میرے دوست: باصِر اور سائمن دیبجانی چیٹرجی

دو یار زِیرک و از بادہء کہن دو منے

فراغتے و کتابے و گوشہء چمنے

شمس الدین محمد حافظ

حافِظ، تجھے تھی بادہء عمدہ کی آرزو

فرصت کی اور کتاب کی۔۔۔ یہ تیری دولتیں !

اِک گوشہء چمن بھی تِری خواہشوں میں تھا،

دو دوستوں کی بزم مگر شرطِ اوّلیں ۔

سو دیکھ رشک سے مجھے دو دوستوں کے ساتھ

اِک شرقِ نرم دوسرا سرگرم غرب سے

معمور اِن کے دم سے مِرا ساغرِ سرُور

یہ ہیں مِری کتاب مِرا گلشنِ سکون۔

باصر کاظمی

زخمی ہرن ۔ ولیم کوپر (The Stricken Deer ۔ William Cowper)

میں ایک زخمی ہرن تھا، جسے ڈار چھوڑے ہُوئے

ایک عرصہ ہُوا تھا؛ کئی تِیر گہرے لیے

میرا بیتاب پہلو شِکستہ تھا، جب میں ہٹا

دُور اُفتادہ سایوں میں اِک پُرسکوں موت کو ڈھونڈنے

وہاں مجھ کو پایا اِک ایسے نے جو خود بھی تھا

تِیر انداز ہاتھوں کا گھائل شدہ۔اُس کے پہلو میں تھے،

اور ہاتھوں میں اور پاؤں میں ، کتنے ظالم نشاں ۔

نرم قوّت سے اُس نے مِرے تِیر،

باہر نِکالے، مِرے زخم اچھے کیے، اور کہا جاؤ زندہ رہو۔

تبھی سے میں ، ہمراہ کچھ ساتھیوں کے، الگ

اور خاموش جنگل میں آوارہ پھِرتا ہوں ، اُن

اپنے گُنجان منظر کے سابق شناساؤں سے دُور؛

ہمراہ کچھ ساتھیوں کے، کسی اور کی آرزو کے بغیر۔

باصر کاظمی

مرو کے ایک نوجوان کی حکایت جس نے حضرت سیّد مخدوم علی ہجویری ؒ کے حضور آ کر دشمنوں کے ستم کی فریاد کی ۔ (از ’اسرار و رموز‘، علّامہ محمد اقبال)

سیّدِ ہجویرؒ مخدومِ اُمم

جس کا مرقد پیرِ سنجر کو حرم

چھوڑ کر کہسار آیا ہند میں

بیج بویا بندگی کا ہند میں

اُس سے تازہ ہو گیا عہدِ عمرؓ

حرف سے اُس کے ہُوا حق معتبر

پاسبانِ عزّتِ اُمّ الکتاب

خانہء باطِل کیا جس نے خراب

خاکِ پنجاب اُس کے دم سے جی اُٹھی

صبح اُس کے مہر سے روشن ہوئی

تھا وہ عاشق قاصِدِ طیّارِ عشق

جس کے ماتھے سے عیاں اسرارِ عشق

اُس کی عظمت کی ہے یہ اِک داستاں

باغ کو غنچے میں کرتا ہوں نہاں

اِک جواں جس کی تھی قامت مثلِ سرو

وارِدِ لاہور شد از شہرِ مرو

سیّدِ والا کی خدمت میں گیا

تاکہ تاریکی ہو سورج سے فنا

اور ہُوا گویا کہ ہوں در دشمناں

جیسے مِینا پتھروں کے درمیاں

تُو سِکھا مجھ کو شہِ گردوں مکاں

زندہ رہنا دشمنوں کے درمیاں

پِیرِدانا ذات میں جس کی جمال

کر گیا عہدِ محبت با جلال

بولے اے ناواقفِ رازِ حیات

غافِل از انجام و آغازِ حیات

اور مت اندیشہء اٖغیار کر

قوّتِ خوابیدہ کو بیدار کر

سنگ نے خود کو جونہی شیشہ کہا

بن گیا شیشہ ہی اور ٹکڑے ہُوا

راہرو گر خود کو سمجھا ناتواں

راہزن کو اُس نے دے دی اپنی جاں

آب و گِل سمجھے گا خود کو تا کُجا

شعلۂ طُور اپنی مٹی سے اُٹھا

تُو عزیزوں سے خفا رہتا ہے کیوں

دشمنوں کا تُو گِلہ کرتا ہے کیوں

سچ کہوں دشمن بھی تیرا دوست ہے

ہے تِرے بازار کی رونق یہ شے

جانتا ہو جو مقاماتِ خودی

فضلِ حق جانے جو ہو دشمن قوی

کِشتِ انساں کے لیے بادل عدو

اُس کے اِمکانات کو بخشے نمو

سنگِ رَہ پانی ہے گر ہے حوصلہ

سیل کو پست و بلندِ جادہ کیا

مِثلِ حیواں کھانا پینا کس لیے

گر نہ ہو محکم تو جینا کس لیے

گر خودی سے خود کو تُو محکم کرے

چاہے تو دنیا کو پھر برہم کرے

خود سے ہو آزاد گر چاہے فنا

خود میں ہو آباد گر چاہے بقا

موت غفلت ہے خودی سے مہرباں

تُو سمجھتا ہے فراقِ جسم و جاں

صورتِ یوسف خودی میں کر قیام

قید سے تختِ شہی تک کر خرام

گُم خودی میں ہو کے مردِ کار بن

مردِ حق بن حامِلِ اسرار بن

داستانیں کہہ کے راز افشا کروں

غنچے کو زورِ نفس سے وا کروں

’’ہے یہی بہتر کہ رازِ دِلبراں

دوسروں کے قصّے میں کیجیے بیاں ‘‘

پِیرِسنجر: خواجہ معین الدّین چشتیؒ جو حضرت ہجویریؒ کے مزار پر تشریف لائے تھے۔

باصر کاظمی

سہرا

دوست کے سہرے پہ کہتے ہیں سخنور سہرا

ہے ترے سہرے کا اے دوست مِرے سر سہرا

ہم کو ہر دولہا یہ کہتا ہُوا آیا ہے نظر

تاج کیا چیز ہے دیکھو مِرے سَر پر سہرا

کامیابی نہیں ہوتی کوئی اِس سے بڑھ کر

ہے سکندر وہی جس کا ہے مقدّر سہرا

تاکہ تاریکیِ شب مانعِ دیدار نہ ہو

لائے ہیں دھُوپ کے تاروں سے بنا کر سہرا

اِس میں بس جاتی ہے خوشبو جو حسیں یادوں کی

سُوکھ جانے پہ بھی رہتا ہے معطّر سہرا

چشمِ بد راہ نہ پائے گی کسی طور وحید

ہے دعاؤں کا تِرے سہرے کے اُوپر سہرا

اہلِ ذوق آئیں تو ہم اُن کو بتائیں باصِرؔ

دل سے کہتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کیونکر سہرا

باصر کاظمی

کوئی ہے؟

کوئی ہے۔۔۔۔۔؟

ہے کوئی؟

جو ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بات سُنے۔

دیکھو، مجھے مدد نہیں چاہیے۔

مجھے کسی سے کُچھ لینا نہیں

بلکہ کُچھ دینا ہے۔

میرے بہن بھائی مجھ سے دُور ہیں ،

میرے دوست اپنی اپنی جگہ خوش ہیں ،

میرا اپنے کسی رشتے دار سے کوئی رابطہ نہیں ۔

میرے پاس ایک خزانہ ہے

جو میں کسی کو دینا چاہتا ہوں ۔

اِسے حاصِل کرنا بہت آسان ہے۔

یہ خزانہ اُس کا ہو جائے گا

جو میری بات سُنے گا۔

کوئی ہے۔۔۔۔۔؟

ہے کوئی۔۔۔۔؟

باصر کاظمی

نثری نظم

کیوں نہیں ؟

آخر اِس میں مسئلہ کیا ہے؟

شاعری اور نثر

متضاد چیزیں نہیں

کہ اکٹھی نہ ہو سکیں ،

ضِدّین نہیں زوجین ہیں

جو ایک دوسرے کا رُتبہ بڑھاتی ہیں ،

ایک دوسرے کی آبیاری کرتی ہیں ۔

شاعری کیوں ؟

تاکہ بات اچھی لگے

اور یاد رہ جائے۔

اچھی نثر کے جملے بھی

موزوں اور رواں ہوتے ہیں ؛

یاد رہتے ہیں ۔

اچھی شاعری کی طرح یہ بھی

’’الفاظ کی بہترین ترتیب‘‘ کا نام ہے۔

نظم منظّم ضرور ہو

منظوم ہو نہ ہو۔

رہی نام کی بات،

کیا خوب کہا تھا کسی نے

اور سب جانتے ہیں کہ کس نے کہا تھا۔

نام میں کیا ہے؟ ہم جسے گُلاب کہتے ہیں

وہ کسی اور نام سے بھی ایسی ہی سہانی خوشبو دے گا۔

نثر اور نظم کا ملاپ

زوجین کا نکاح ہے،

بشرطیکہ نکاح خواں

دونوں سے بخوبی واقف ہو۔

باصر کاظمی

جنگل میں مور

ایک دن اِک مور سے کہنے لگی یہ مورنی:

خوش صَدا ہے ، خوش اَدا ہے، خوش قدم خوش رَنگ ہے،

اِس بیاباں تک مگر افسوس تُو محدود ہے۔

جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ،

ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار۔

کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی!

کاش مخلوقِ خدا ہو تیرے فن سے فیض یاب!

مور بولا: اے مِری ہم رقص میری ہم نوا،

تُو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدر،

کتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں ۔

اَن گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنر۔

داد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مِرا۔

اِس طرح گویا اُنہیں تسخیر کر لیتا تھا میں ۔

دیکھتا جب اُن کی آنکھوں میں ستائش کی چمک،

بس اُسی لمحے پَروں کو میرے لگ جاتے تھے پَر۔

پھر ہوا یوں ایک دن دورانِ رقص،

غالباَ شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چُبھا۔

رقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہُوا معذور میں

رفتہ رفتہ ہو گیا اہلِ جہاں سے دُور میں ۔

بعد مُدّت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں ،

دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤسِ خوش قد خوش جمال،

مجھ سے بہتر اور کتنا مختلف،

کر رہا تھا اپنے فن سے اہلِ مجلس کو نہال۔

دیر تک دیکھا کیا میں اُس کو اوروں کی طرح

یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرح۔

کاروانِ زندگی رکتا نہیں

وقت کا دریا کبھی رکتا نہیں

آج میں ، کل کوئی ،پرسوں کوئی اور،

اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دور۔

رقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے

یا فقط تیرے لیے، تیرے لیے، تیرے لیے

باصر کاظمی

غزل کہتے ہیں

اُس کے آنے پہ غزل کہتے ہیں

اُس کے جانے پہ غزل کہتے ہیں

دھُوپ نکلے تو غزل ہوتی ہے

اَبر چھانے پہ غزل کہتے ہیں

ناشتے پر ہے غزل کا سامان

رات کھانے پہ غزل کہتے ہیں

مُہر ہم اپنے تخلّص کی لیے

دانے دانے پہ غزل کہتے ہیں

دل اُجڑنے پہ بہت شعر ہوئے

گھر بَسانے پہ غزل کہتے ہیں

منہ دکھائی میں غزل کا تحفہ

رُخ چھُپانے پہ غزل کہتے ہیں

نہیں لازم کہ کوئی زخم لگے

سَر کھُجانے پہ غزل کہتے ہیں

ہے کچہری کبھی موضوعِ سخن

کبھی تھانے پہ غزل کہتے ہیں

انقلابی ہوئے جب سے شاعر

کارخانے پہ غزل کہتے ہیں

اِس قدر سہل غزل کہنا ہے

سانس آنے پہ غزل کہتے ہیں

بیٹھ کر کُنجِ قفس میں باصرؔ

آشیانے پہ غزل کہتے ہیں

باصر کاظمی

مشرق اور مغرب

پھُول کسی گلشن میں کھِلے

یا کسی کے آنگن کی کیاری میں ،

سڑک کے بیچ میں ، یا

فٹ پاتھ پہ لگے ہوئے پودے میں ،

اس کے رنگ وہی ہیں

اس کی مہک وہی۔

سُورج سُورج ہے

چاہے مشرق سے نکلے

چاہے مغرب سے۔

باصر کاظمی

دِفاع

گو صُلح اور امن سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ

موزوں نہیں پیام یہ ہر ایک کے لیے

دشمن کو ڈھیل دی تو ہُوا سَر پہ وہ سوار

کلہاڑی اپنے پاؤں پہ ہرگز نہ ماریے

بادل کی طرح سایہ بھی دیں غیر کو ضرور

لیکن کبھی گرجنا برسنا بھی چاہیے

باصر کاظمی

نِدائے آدم

جہانِ تازہ مِرے دم قدم سے پیدا ہو

بہشت ارض پہ اُس کے کرم سے پیدا ہو

خوشی کی صُبح شبِ تارِ غم سے پیدا ہو

سکون وسوسہء بیش و کم سے پیدا ہو

زبانِ تیشہ سے ایسے ہو کچھ بیانِ حُسن

اَذانِ عشق دہانِ صنم سے پیدا ہو

نظامِ کہنہ اگر چاہیے حیاتِ نَو

یہ وقت ہے کہ تُو میرے قلم سے پیدا ہو

باصر کاظمی

خواندگی

پہلی آواز:

آؤ لکھو پڑھو

تاکہ بہتر طریقے سے خدمت کرو

مُلک اور قوم کی۔

خواندگی خواندگی ورنہ پسماندگی!

دوسری آواز:

اِتنا پڑھ لِکھ کے بھی

میری حالت وہی،

آج اِس کی تو کل اُس کی دہلیز پر

منتظر، ملتجی،

خواندگی!

باصر کاظمی

’نوعُمری اور پیری‘

کل کی بات ہے

کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا!

میں نوعُمر تھا،

پیِری خود سے صدیوں دُور نظر آتی تھی۔

اب میں پیِری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں ،

بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں

جیسے ان اَدوار سے میں گزرا ہی نہیں ۔

باصر کاظمی

بیٹی کی دسویں سالگرہ پر

مِری اچھی وجیہہ،

میں تجھ سے خوش ہوں اِتنا

کہ اکثر سوچتا ہوں ،

اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے،

خالق مجھ سے کہتا

کہ چن لے اِن ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے

اِک اپنے لیے،

تو میں تجھے ہی منتخب کرتا۔

میں خوش قسمت ہوں کتنا!

دعا گو ہوں

سدا جیتی رہے

اور ایسی ہی اچھی رہے تُو!

باصر کاظمی

کب سے خواہش تھی کہ میں لکھوں سلامِ شبیرؑ

مہرباں آج ہوئے مجھ پہ امامِ شبیرؑ

صبرِایّوبؑ میں ہے ضربِ علیؑ کا سا وصف

تیغ کی طرح چمکتی ہے نیامِ شبیرؑ

جائے سجدہ میں ملیں جادۂ جنّت کے سراغ

دل میں تیرے جو اُتر جائے پیامِ شبیرؑ

اہلِ ایمان کی ہر صبح ہے صبحِ عاشور

ان کی ہر شام کا عنوان ہے شامِ شبیرؑ

وقت پڑنے پہ کہیں شمر کے ہمراہ نہ ہوں

ویسے کہتے تو ہیں ہم خود کو غلامِ شبیرؑ

میرے حصّے میں بھی ہوتی یہ حیاتِ جاوید

نامۂ رشک ہے یہ خِضرؑ بنامِ شبیرؑ

آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اِس کا حصول

جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیرؑ

شرط ہے راہبری تا بہ شہادت باصرؔ

محض ورثے میں ملا کس کو مقامِ شبیرؑ

باصر کاظمی

بوجھ اتنے صدموں کا دل اگر اُٹھا پایا

تجھ سے ہی مرے مالک اِس نے حوصلہ پایا

ٹھوکروں سے رستے کی خود کو جو بچا پایا

زندگی میں جنت کا اُس نے در کھُلا پایا

حرف حرف کا تیرے ذرّہ ذرّہ ہے شاہد

جو بھی کچھ کہا ہم نے نقش بَر ہوا پایا

اُس کی راہ پر باصرؔ آ گئے جو ہم آخِر

جس قدر گنوایا تھا اُس سے دس گُنا پایا

باصر کاظمی

غریبم شاعرم گوشہ نشینم

نہ کوئی ہمنوا میرا نہ ہمدم
غریبم شاعرم گوشہ نشینم
اب اِس سے بڑھ کے کیا نام و نَسَب ہو
مَن آدم ابنِ آدم ابنِ آدم
بہت چھوٹی سی اپنی سلطنت میں
مَنم سلطان ہم سلطان زادم
کٹی ہے زندگی لفظوں میں اپنی
سخن گویم سخن دانم دبیرم
مرا اعمال نامہ مختصر ہے
تہی دستم و لیکن شادمانم
مری دانِست میں نامِ محمدؐ
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
باصر کاظمی

مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا

صریحاَ روزِ محشر کا سا نقشہ اُس سمے تھا
مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا
جدا تھے راستے منزل اگرچہ ایک ہی تھی
کہانی وصل کی عنوان جس کا فاصلے تھا
کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے ہیں
مگر شطرنج سے جو عِشق مجھ کو تھا کِسے تھا
دیا تھا اختیارِ انتخاب اُس نے مجھے سب
مجھے معلوم ہے پہلے سے تو کچھ بھی نہ طے تھا
بصارت اور سَماعت کے لیے کیا کچھ نہ تھا پر
الگ ہر رنگ ہر آواز سے اِک بَرگِ نَے تھا
باصر کاظمی

کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا

ہو کوئی بھی کاروبار دھندا
کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا
واعظ نے لگا دیا کہیں اور
مسجد کے لیے ملا جو چندا
راجا ترا ہار موتیوں کا
بن جائے گا کل گَلے کا پھندا
اب ہم ہی کریں گے صاف یہ شہر
ہم نے ہی اِسے کیا ہے گندا
ہیں شعر نئے سو کھُردرے ہیں
درکار ہے خواندگی کا رَندا
کاغذ پہ نہ چھپ سکا جو قول
پتھّر پہ کیا گیا ہے کندہ
باصر کاظمی

آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا

ہر دم نہیں دماغ ہمیں تیری چاہ کا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
تو اور آئنے میں ترا عکس رُوبرُو
نظّارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا
ہے خانۂ خدا بھی وہاں بت کدے کی شکل
غلبہ ہو جس زمیں پہ کسی بادشاہ کا
گو شرع و دین سب کے لیے ایک ہیں مگر
ہر شخص کا الگ ہے تصور گناہ کا
اِک گوشۂ بِساط سے پورس نے دی صدا
میں ہو گیا شکار خود اپنی سپاہ کا
باصرؔ توعہد شِکنی کا موقع نہ دے اُسے
ویسے بھی کم ہے اُس کا ارادہ نباہ کا
باصر کاظمی

وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے

جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے
وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے
یہ بھی کٹ جائے گی جو تھوڑی بہت باقی ہے عمر
ہم یہی کرتے رہیں گے کام اپنے عام سے
اُس درِ انصاف کے درباں بھی ہیں منصف بہت
ہم جونہی فریاد سے باز آئے وہ دشنام سے
عاشقی میں لُطف تو سارا تجسس کی ہے دین
کر دیا آغاز میں کیوں آشنا انجام سے
خاک سے بنتی ہے جیسے خِشت ہم کچھ اِس طرح
دیکھ کیا سونا بناتے ہیں خیالِ خام سے
اِس طرح مل جائے شاید باریابی کا شرف
مشورہ ہے اب کے عرضی بھیج فرضی نام سے
یا تو وہ تصویر ہے پیشِ نظر یا کچھ نہیں
ہاتھ دھو دیدوں سے باصرؔ یہ گئے اب کام سے
باصر کاظمی

اے صاحبِ فن اتار تصویر

منظر ہے کہ شاہکار تصویر
اے صاحبِ فن اتار تصویر
رہ جاتی ہے یادگار تصویر
ہر چیز سے پایدار تصویر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھو گے بار بار تصویر
تصویر کی یار کو ضرورت
محتاجِ جمالِ یار تصویر
معمولی سے کیمرے نے باصرِؔ
کیا کھینچی ہے شاندار تصویر
باصر کاظمی

آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری

پڑھنی تھی کتابِ زیست ساری
آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری
تھی آج تو بات ہی کچھ اور
تصویر اُتارتے تمہاری
ہیں چار طرف کے راستے بند
گزرے گی یہاں سے اک سواری
خوش ہو گئے دو گھڑی کچھ یار
سُبکی تو بہت ہوئی ہماری
ثابت کرو اپنے دعوے باصرِؔ
شیخی تو جناب نے بگھاری
باصر کاظمی

دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں

حالات خراب ہو گئے ہیں
دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں
آسان سوال تھے اگرچہ
دشوار جواب ہو گئے ہیں
لیتی تھیں گھٹائیں جن سے رنگ
محتاجِ خضاب ہو گئے ہیں
راتیں ہیں پہاڑ سی اور دن
مانندِ حباب ہو گئے ہیں
جو کام کبھی گُنہ تھے باصرِؔ
اب کارِ ثواب ہو گئے ہیں
باصر کاظمی

میدان میں طِفل سے ڈریں گے

باتیں تو بڑی بڑی کریں گے
میدان میں طِفل سے ڈریں گے
سب فائدے آپ کے لیے ہیں
نقصان ہیں جتنے ہم بھریں گے
دشمن کی نہیں کوئی ضرورت
آپس ہی میں ہم لڑیں مریں گے
تصویر بنائی اُس نے لیکن
تصویر میں رنگ ہم بھریں گے
باصر کاظمی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ

فائدہ ہو اگر ہمارا کُچھ
اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ
کل ضرورت پڑے تری شاید
آج ہو جائے گا گزارا کُچھ
دھیان میں آئی شکل وہ سرِ شام
ہو گیا صُبح تک سہارا کُچھ
آسماں کا تھا شب عجب احوال
چاند کہتا تھا کُچھ سِتارا کُچھ
باصر کاظمی

ہے خزاں بھی بہار میں مصروف

سازشِ انتشار میں مصروف
ہے خزاں بھی بہار میں مصروف
ہم نے رکھا کئی طرح خود کو
فرصتِ انتظار میں مصروف
مثلِ سیاّرگاں بنی آدم
اپنے اپنے مدار میں مصروف
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حُسن سولہ سِنگھار میں مصروف
آہ وہ وقت جب لہو میرا
تھا دلِ بیقرار میں مصروف
زندگی کٹ رہی ہے باصرِؔ کی
بے ثمر کاروبار میں مصروف
باصر کاظمی

اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی

پہلے ہی زندگی تھی ہماری پہاڑ سی
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
دنیا اِسے خلیج بنا دے گی ایک دن
ہم دونوں کے جو بیچ پڑی ہے دراڑ سی
مشکِل ہُوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہُوئی ہے ڈور سے کوئی دُگاڑ سی
اپنی حدود کا بھی کچھ اِدراک چاہیے
اچھا ہے درمیاں میں رہے ایک باڑ سی
تھی بے اثر غزالِ شکستہ کی آہِ نرم
اب چاہیے ہے شیرِ ببر کی دہاڑ سی
باصر کاظمی

اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ

کچھ قرار آنے لگا تھا مدتوں جلنے کے بعد
اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ
چل رہے تھے کب سے ننگے پاؤں جلتی ریت پر
کیا عجب چڑھنے لگی ہے اب جو اپنے سر کو آگ
دوستو محفوظ مت سمجھو تم اپنے آپ کو
ایک گھر کی آگ سے لگ جائے گی ہر گھر کو آگ
باصر کاظمی

فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر

اپنا زیادہ وقت ہوا نوکری کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کردی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
وہ جاں تو کر چکے ہیں کبھی کے کسی کی نذر
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ مواقع ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مری بے خودی کی نذر
باصر ؔہمارے کام نہ آیا ہمارا دل
کچھ اُن کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی

لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت

اُس کے لیے کچھ بھی کریں انجام شکایت
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
جو کچھ اُسے درکار ہے وہ سب ہے میسّر
کس بات کی کرتا ہے وہ گُلفام شکایت
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہِ دام شکایت
ہم نے ہی نہ خود کو کیا تیرے لیے تیار
تجھ سے نہیں کچھ گردشِ ایّام شکایت
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے تِرا نام شکایت
موقع ہی نہ پایا کبھی تنہائی میں ورنہ
کرتے نہ کبھی تجھ سے سرِ عام شکایت
ہم فرش نشیں خوش ہیں اِسی بات پہ باصرِؔ
پہنچی تو کسی طور لبِ بام شکایت
باصر کاظمی

کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک

اُن کو سب کچھ ہی لگ رہا ہے ٹھیک
کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک
کبھی لب بستگی مناسب ہے
اور کبھی عرضِ مدعا ہے ٹھیک
ڈوب جائیں گے سُنتے سُنتے ہم
سب غلط ایک ناخدا ہے ٹھیک
آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو
مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک
تھی شفا چارہ گر کی باتوں میں
ہم سمجھتے رہے دوا ہے ٹھیک
چَین سے سو رہا ہے ہمسایا
چلیے کوئی تو گھر بنا ہے ٹھیک
ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا
وہ بھی دُشمن سے جا مِلا ہے، ٹھیک
کر دیا تھا عدو نے کام خراب
کر کے کتنے جتن کیا ہے ٹھیک
تیرا بیمار تجھ کو بھُول گیا
کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ٹھیک
کچھ دوا کر کہ زخمِ دل باصرِؔ
خود بخود بھی کبھی ہُوا ہے ٹھیک
باصر کاظمی

حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات

پڑھتا ہوں بے شک نماز بھول گیا میں صلات
حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات
خواہشِ زر کی سدا مجھ پہ حکومت رہی
جسم حرَم ہے مرا ذہن مگر سومنات
کتنا ہی ناپاک ہو مال سمیٹا ہُوا
پاک سمجھتا ہوں میں دے کے ذرا سی زکات
باندھوں کہ کھولوں اِنہیں رہتی ہے یہ کشمکش
اِس لیے گویا مجھے تُو نے دئیے تھے یہ ہات
مجھ سے ہیں بہتر شجر اور چرند و پرند
پاس تِرے حُکم کا کرتے ہیں دِن ہو کہ رات
اپنا کرَم کر کہ کُچھ اِن میں نَم و دَم پڑے
سوکھ چلا ہے قلم خشک ہوئی ہے دوات
باصر کاظمی

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں

معلوم ہے کہ وہ تو ملے گا نہیں کہیں
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں
جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں
اک دوسرے کو دیکھتے ہیں آئینے کی طرح
ہو جائیں روبرو جو کبھی دو حسیں کہیں
مقصود اِس سے اہلِ نظر کا ہے اِمتحاں
وہ سامنے نہیں ہے مگر ہے یہیں کہیں
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصرِؔ مکیں کہیں
باصر کاظمی

وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے

بھروسہ کرکے دیکھا میں نے تو سو بار دل سے
وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے
سُنے گا شوق سے قصے زمانے بھر کے لیکن
کہاں سنتا ہے دل کی بات وہ دلدار دل سے
ہو اقلیمِ شہنشاہی کہ جمہوری ولایت
رعایا کی کبھی ہوتی نہیں سرکار دل سے
کٹا سکتے نہیں انگلی بھی اب تو اُس کی خاطر
کبھی ہم جان تک دینے کو تھے تیار دل سے
کچھ اپنے بھی تو شامل تھے عدو کے ساتھ اس میں
کروں میں کس طرح تسلیم اپنی ہار دل سے
دِکھانے کے لیے دنیا کو چاہے کچھ بھی کر دیں
کبھی بھی صلح کر سکتے نہیں اغیار دل سے
نبھائی ایک مدّت ہم نے لیکن آج کل کچھ
مرا دل مجھ سے ہے بیزار، میں بیزار دل سے
چہکتی بولتی دھڑکن ہوئی ویران کیونکر
کوئی پوچھے کبھی آ کر مرے بیمار دل سے
اُترتے ہیں کچھ اُس کے دل میں بھی یہ دیکھنا ہے
لکھے ہیں میں نے تو یہ سب کے سب اشعار دل سے
باصر کاظمی

اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
ہمیں تو آنکھوں کے دیکھے کا اعتبار نہیں
اُدھر بھروسہ ہے کتنا سنی سُنائی کا
ہمیں تو لگتی ہے دشوار بندگی بھی بہت
عجیب تھے جنہیں دعوی رہا خدائی کا
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
باصر کاظمی

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر

ممکن نہیں خموش رہوں لب سیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
انصاف کا اصولِ توازن یہ خوب ہے
دیتے نہیں وہ حق بھی مرا کچھ لیے بغیر
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اِس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
ناصح کریں گے تیری نصیحت پہ ہم عمل
ہو آئے اُس گلی سے جو تُو دل دیے بغیر
اب اُس کی ہوش مندی کی دینی پڑے گی داد
شیشے میں جس نے تجھ کو اُتارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا

نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا
ہیں ذہن و دل مرے تیار کچھ بھی سننے کو
اگر مرض ہے مرا لاعلاج مجھ کو بتا
نہ تھا بلندی و پستی کے درمیاں کچھ بھی
پہاڑ سے جو میں لُڑھکا ڈھلان پر نہ ٹِکا
منا لیا تھا کسی طور کل جسے ہم نے
سنا ہے اب ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ خفا
ابھی بھی وقت ہے باصرِؔ ہماری بات سنو
تمہارے ساتھ نہ ہو جو ہمارے ساتھ ہوا
باصر کاظمی

کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ

اچھا کہ برا نہیں رہا کچھ
کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ
ہر چند بتا نہیں رہا کچھ
میں تجھ سے چھُپا نہیں رہا کچھ
اک ننھی سی لَو سے سب کچھ تھا
بُجھتے ہی دیا نہیں رہا کچھ
اب کس کو چمن میں ڈھونڈتی ہے
اے بادِ صبا نہیں رہا کچھ
اب ہم بھی بدل گئے ہیں باصرِؔ
اب اُن سے گِلہ نہیں رہا کچھ
باصر کاظمی

ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے

مخمور چشمِ یار نے ایسا کیا مجھے
ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے
تجھ کو تو اپنی ساکھ ہے اے چارہ گر عزیز
تو نے مرے لیے نہیں اچھا کیا مجھے
کیا کیا دکھائے رنگ مجھے تیرے ہجر نے
دریا بنا دیا کبھی صحرا کیا مجھے
جو شعر میں نے چھوڑ دیا اُن کو یاد تھا
’’شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے‘‘
باصر کاظمی

آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح

سوئے بہت مگر کسی بیمار کی طرح
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
کچھ ایسی پُختہ ہو گئی دِل توڑنے کی خو
اِقرار کر رہے ہیں وہ اِنکار کی طرح
بیکار سمجھے جاتے ہیں فن کار اِس لیے
دن رات کام کرتے ہیں بیگار کی طرح
میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں
پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح
باصر کاظمی

سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک

صد حیف رہے خواب و خیالات کی حد تک
سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک
یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل
اچھا ہے مگر صِرف عمارات کی حد تک
کر سکتے تماشا تو زمانے کو دکھاتے
لفظوں کے کمالات کرامات کی حد تک
آوارہ خرامی کی بھلا اب کسے فرصت
ہوتی ہے ملاقات ملاقات کی حد تک
خوشیوں میں تو کرتا ہوں شریک اوروں کو لیکن
رہتے ہیں مرے رنج مری ذات کی حد تک
ہوتے ہیں عموماَ یہ مِری دھُوپ کے دشمن
بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک
دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی
کچھ راہنماؤں کے بیانات کی حد تک
افسوس کہ صاحب نے کیا اُن پہ بھروسہ
تھی جن کی وفاداری مراعات کی حد تک
اب حِکمتِ قرآن شب و روز میں اپنے
باقی ہے فقط قرأتِ آیات کی حد تک
ہر گام پہ تھا راہنما دین جو اپنا
محدود ہُوا صِرف عبادات کی حد تک
ڈرتا ہوں میں واعظ سے کہ اقبالؔ نہیں ہوں
شکوہ مرا ہوتا ہے مناجات کی حد تک
ہر چند مہذب کوئی ہم سا نہیں باصرؔ
بہکیں تو چلے جائیں خرافات کی حد تک
باصر کاظمی

یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی

نہیں کچھ فرق اب رہیے جہاں بھی
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
بیاباں کی شکایت کیسی یارو
ہوا پرخار اب تو گُلستاں بھی
معلق ہو گئے باصرِؔ فضا میں
زمیں چھوٹی تو روٹھا آسماں بھی
باصر کاظمی

یہ دل کرے گا کسی دن کوئی بڑی لغزش

ہوئی ہے آج تو بس ایک عام سی لغزش
یہ دل کرے گا کسی دن کوئی بڑی لغزش
بس اس قدر ہی یہ دنیا سمجھ میں آئی ہے
وہیں سزا ملی ہم کو جہاں ہوئی لغزش
ہُوا ہے کھیل جو میری گرفت سے باہر
ضرور مجھ سے ہوئی ہے کہیں کوئی لغزش
ازالۂ غلَطی کا ہے انحصار اِس پر
وہ صبح کی غلَطی ہے کہ شام کی لغزش
نہیں ہے جیتنا ممکن ترے لیے باصرِؔ
ترا حریف نہ جب تک کرے کوئی لغزش
باصر کاظمی

ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا

کہاں سیاستِ اغیار نے ہلاک کیا
ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا
کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانی
کسی کو رونقِ گلزار نے ہلاک کیا
کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجبِ مرگ
کسی کو جادہء پُرخار نے ہلاک کیا
کسی کو شعلہء خورشید نے جلا ڈالا
کسی کو سایہء اشجار نے ہلاک کیا
سوادِ شام کسی کے لیے پیامِ اجل
کسی کو صبح کے آثار نے ہلاک کیا
کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ
کسی کو حسرتِ دیدار نے ہلاک کیا
کوئی شکار ہوا اپنی ہچکچاہٹ کا
کسی کو جرأتِ اظہار نے ہلاک کیا
کسی کا تختہ بچھایا نصیبِ خُفتہ نے
کسی کو طالعِ بیدار نے ہلاک کیا
وہی ہلاکو کہ جس نے کیے ہزاروں ہلاک
اُسے بھی وقت کی یلغار نے ہلاک کیا
کسی کو مار گیا اُس کا کم سخن ہونا
کسی کو کثرتِ اشعار نے ہلاک کیا
وہی خسارہ ہے سب کی طرح ہمیں درپیش
ہمیں بھی گرمیِ بازار نے ہلاک کیا
کبھی تباہ ہوئے مشورہ نہ ملنے سے
کبھی نوشتہء دیوار نے ہلاک کیا
ملی تھی جس کے لبوں سے نئی حیات ہمیں
اُسی کی شوخیِ گفتار نے ہلاک کیا
خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی
ہمیں بلندیِ معیار نے ہلاک کیا
باصر کاظمی

جو میری غزل سرائی کے تھے

وہ دن تری بے وفائی کے تھے
جو میری غزل سرائی کے تھے
دل اشکوں کی داد چاہتا تھا
سامان یہ جگ ہنسائی کے تھے
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی
آثار تری بڑائی کے تھے
گو تلخ زباں تھے اہلِ محفل
شیدائی سبھی مٹھائی کے تھے
نالے تو بلا کے تھے ہی باصرِؔ
نغمے بھی ترے دہائی کے تھے
باصر کاظمی

کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ

مگن ہوئے ہیں کسی اور ہی لگن میں لوگ
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
وہی ہیں رنگ خزاں اور بہار کے لیکن
کچھ اور دیکھنے جاتے ہیں اب چمن میں لوگ
بدل دیے ہیں زمانے نے عشق کے انداز
سو دیکھ پائیں گے کیا قیس و کوہکن میں لوگ
ترس گئے ہیں مرے کان حرفِ شیریں کو
لیے ہوئے ہیں بڑی تلخیاں دہن میں لوگ
اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی اِنہیں
اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ
کہی تھی تو نے تو ہر بات صاف صاف مگر
نجانے سمجھے ہیں کیا اپنے بھولپن میں لوگ
میں کیا بتاؤں تجھے خوب جانتا ہے تو
شریک ہوتے ہیں کیوں تیری انجمن میں لوگ
دکھائی دی تھی جو اِتنی طویل رات کے بعد
تلاش کرتے رہے مہر اُس کرن میں لوگ
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصِر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ
باصر کاظمی

آ گئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

ہم کہ جو ہر ابر کو ابرِ کرم سمجھا کیے
آ گئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے
اُس نے اپنے منہ پہ انگلی رکھ کے آنکھیں بند کیں
میں نے کچھ کہنے کو اپنے ہونٹ جونہی وا کیے
روز لگ جاتے ہیں اُس کے صحن میں کاغذ کے ڈھیر
مستعد خط لکھنے والوں سے زیادہ ڈاکیے
ایک سورج کے لیے یہ کہکشاں در کہکشاں
اک زمیں کے واسطے سو آسماں پیدا کیے
خیر ہو چارہ گری کی میرے چارہ گر تجھے
مدتیں گزریں کسی بیمار کو اچھا کیے
باصر کاظمی

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پُکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی سِتارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تِل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
اِتنی جلدی نہ بنا رائے مِرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گُذارا کم ہے
باغ اک ہم کو مِلا تھا مگر اِس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بِگاڑا ہے سنوارا کم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
باصر کاظمی

باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد
مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں
جونہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب
سارے جہاں کی اُس میں ملیں گی خرابیاں
سرکار کا ہے اپنا ہی معیارِ انتخاب
یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں
آدم خطا کا پُتلا ہے گر مان لیں یہ بات
نکلیں گی اِس خرابی سے کتنی خرابیاں
اُن ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم
جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں
بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج
جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں
باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اُس میں ہیں
کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
باصر کاظمی

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب

کرتے نہ ہم جو اہلِ وطن اپنا گھر خراب
ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب
اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے
اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب
اک بار جو اتر گیا پٹٹری سے دوستو
دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب
منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے
اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب
ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک
ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب
اے دل مجھے پتہ ہے کہ لایا ہے تو کہاں
چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب
اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش
پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب
اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے
کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوئے کمالِ ہنر خراب
اِس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بِلا سبب
صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب
لگتا ہے اِن کو زنگ کسی اور رنگ کا
کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب
اک قدر داں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک
ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب
خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے
آئی ہے آج پھر کوئی گھرسے خبر خراب
باصر کاظمی

اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام

کام سے بڑھ کر تھا جن کو جاہ و اکرام سے کام
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
جن کا کام بنانا چاہا اُن سے بگڑ گئی
اسی لیے اب ہم رکھتے ہیں اپنے کام سے کام
کوئی نہ کوئی نئی مصیبت روز کھڑی کرتے ہو
ایک بھی دن کرنے نہ دیا ہم کو آرام سے کام
ابھی تو اُس میں دیکھتے ہو دنیا بھر کے اوصاف
پوچھوں گا جس روز پڑے گا اُس گلفام سے کام
لوگ گلی کوچوں میں بچارے ہو جاتے ہیں خوار
تم تو فقط کہہ دیتے ہو بالائے بام سے کام
زاہد اس سے قبل کہ جانا ہو داتا کے پاس
ہو توفیق تو کچھ کر لو سَر گنگا رام سے کام
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصِر تیرے نام سے کام
تھوڑی دیر رُکے ہیں باصرؔ ٹھنڈی چھاؤں میں ہم
پیڑ گِنے وہ باغ ہے جس کا ہمیں تو آم سے کام
باصر کاظمی

زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
دل و نظر کی جو بچھڑے ہوئے تھے مدت سے
ہوئی ہے آج ملاقات اک پرانی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
تصورات میں اپنے ہے ایک ایسی جگہ
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرِؔ
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر کاظمی

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

مری دانست میں نامِ محمد

کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم

(ب س ک)

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

باصِر سلطان کاظمی کا یہ شعراور اِس کا انگریزی ترجمہ، جو شاعر اور دیبجانی چیٹرجی کی مشترکہ کاوش ہے ،دس دیگر زبانوں کے شعری نمونوں کے ساتھ ،پتھرپہ کندہ کر کے لندن سے ملحقہ شہر سلاؤ ((Slough کے میکنزی سکوائر(McKenzie Square) میں نصب کیا گیا ہے۔ شعراء میں فلسطین کے معروف شاعر محمود درویش بھی شامل ہیں ۔ اِس پروجیکٹ کے لیے آرٹس کونسل آف انگلینڈ نے اوکسفورڈشائر کے سنگ تراش Alec Peevar کی خدمات حاصل کیں ۔

باصر کاظمی