زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
گر مے پہ ہے پابندی کچھ اُس کا بدل آئے
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے
ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات
گھر کا ہر فرد چل دیا باہر
ارادہ حمد کہنے کا تھا
لفظِ حمد لکھا۔
خیال آیا کہ اس سے پہلے
حرفِ میم یا حرفِ الف لکھ دوں
تو اُس کا نام بن جائے
وہ جس کا نام لینا اک عبادت ہے۔
محمدؐ لکھ دیا ہم نے تو گویا حمد بھی کہہ دی،
پڑھیں تو چشم ودل شاداں
لکھیں تو انگلیاں نازاں
محمدؐ سے زیادہ خوبصورت نام کس کا ہے؟
متفرق اشعار
1997
سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے
دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے
…
اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ
جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ
آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم
کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ
ستمبر
…
حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا
کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا
دسمبر
…
2000
سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے
اور تِرا حُسن سب حسینوں میں
12 ۱کتوبر
…
2001
جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ
اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو
3دسمبر
…
2003
کھُلتے ہی نہیں کسی صورت
وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں
ہیں سارے کے سارے آدم خور
شہروں میں جو شیر چیتے ہیں
جنوری
…
یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید
اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا
28جنوری
…
نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں
میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں
9مارچ
…
نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا
روز کا راستہ ہے یہ میرا
3اپریل
…
جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ
اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ
4دسمبر
…
2004
گئے خط بے اثر سارے
اُسے بھیجوں گا اب سی وی
4اپریل
…
نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید
کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا
10جون
…
وہاں جانے سے کیا ڈرنا
جہاں سب جائیں گے اک دن
غلط سمجھے ہیں جو ہم کو
بہت پچھتائیں گے اک دن
13جولائی
…
جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں
رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں
3ستمبر
…
2005
کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو
جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو
10جولائی
…
اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار
جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم
19ستمبر
…
شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا
مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا
ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو
کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا
دسمبر
…
ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے
خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا
دسمبر
…
اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار
جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم
19دسمبر
2006
کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ
نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات
سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ
کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات
16فروری
…
گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام
یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام
یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب
نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام
نومبر
…
گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے
کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے
دسمبر
…
ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ
وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی
8دسمبر
…
2007
جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے
شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے
5جولائی
قالین باف ۔ محمد اطہر طاہر
Carpet-Weaver
M۔ Athar Tahir
اُن عمارتوں کے درمیان جو بھکاری عورتوں کی طرح
روشنی کے لیے ایک دوسرے کی حریف تھیں
میرا خیال ہے کہ میں راہ بھول کر
جب ایک کُنجِ عزلت میں پہنچا تو اُس سے دوچار ہوا۔
وہ گٹھری بنا ہوا تھا، عمارت کے اندر، اندھیرے کی روشنی میں
اُس کی انگلیاں ، اُون کے کام کے باعث بے حِس،
پرانی کام چلاؤ مشین پر مشقّت کرتی ہیں
چوہے کی سی مختصر تیز رفتار سے
جبکہ یہ اپنی روزی کماتا ہے
فی مربع انچ گِرہوں کے حساب سے
محض مؤذن کی اذان کے فاصلے پر
عظیم بزرگ کے مزار پر
پیشہ ور مانگنے والے
اپنے دھات کے کشکول کھانا لینے کے لیے بڑھاتے ہیں
بے شمار خدا کے پیارے
چاولوں کی دیگیں اور پھولوں کے ہار لے کر
اس سبز گنبد والے ولی کا شکریہ ادا کرنے آتے ہیں ۔
سفارشیں یہاں بھی چلتی ہیں ۔
ناصر کاظمی کے گھر کے لیے ایک دعائے خیر ۔ سائمن فلیچر
A Prayer for the well-being of Nasir Kazmi’s House
Simon Fletcher
’’پیڑ لگانے والا شخص
بیشتر اوقات اس کا پھل کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتا‘‘
سفید کبوتر اسی طرح جمع رہیں
چھت پر ناصر کاظمی کے گھر
پتنگ، زعفرانی، چمک دار نیلے،
اُڑتے رہیں اوپر ناصر کاظمی کے گھر
ارغوانی گلاب، پودے، درخت
پھلیں پھولیں ناصر کاظمی کے گھر
سورج چمکے،بارشیں اپنے موسم میں
برستی رہیں ناصر کاظمی کے گھر
۱ہلِ خانہ، حلیم، عالِم
لمبی عمر پائیں ناصر کاظمی کے گھر
ہمدردی کا ایک ننھا سا پُل ۔ سائمن فلیچر
‘A Little Bridge of Sympathy’
Simon Fletcher
(For Basir Sultan Kazmi)
ہم باہمی معاملات پر بات کرتے ہیں ،
جبکہ گفتگو چوکڑیاں بھرتی ہے
مثلِ غزال کمرے میں اور
فرازہ کھانا پکاتی ہے اور وجیہہ
’ریڈرز آف دی لوسٹ آرک( خزانوں کے متلاشی)‘ دیکھتی ہے،
ہماری بات چیت سے اُدھر، دوسرے کمرے میں ۔
تمہارے مرحوم والد، عظیم گفتگو کرنے والے،
لاہور کی گلیوں میں گھومتے ہیں
تمہارے ذہن میں ، اپنے صاف گو دوستوں کے ہمراہ
رات کے پچھلے پہر؛
تمہارے دادا، کلف لگے ہوئے فوجی لباس میں
سُرخی مائل بھوری تصویر میں نظر آتے ہیں ۔
میں تمہیں بتاتا ہوں کھیتوں میں کام کرنا
اپنے والد کے ساتھ، فصل کاٹنا،
پھل توڑنا، ہل چلانے کی مشقّت، جبکہ
میرے دادا چائے پیتے ہیں
ایک خاص سیاست دان کے ساتھ؛ یہ سب کچھ
حافظے کے محدّب عدسے میں سے گزر کر آتا ہے۔
اپنے ’گمشدہ خزانوں ‘ کے متلاشی، ہم
کئی برسوں اور زبانوں کو عبور کر کے پہنچتے ہیں
ہمدردی کے پل بنانے۔
ماضی ایک دوسرا مُلک ہے،
بے شک، اور جو کچھ ہم نے وہاں کیا؛
لیکن اصل بات وہ ہے جو ہم دونوں اب کرتے ہیں ۔
بے ملاوٹ پیغام ۔ سائمن فلیچر
Unmixed Message
Simon Fletcher
(For Basir and Debjani)
سو ہم کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟
زمین گھومتی ہے اور کچھ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں ،
دوسروں کی ترجیح ہے پھُوٹ ڈالنا اور حکمرانی کرنا،
ایک مؤثر منصوبہ جو ہم نے سکول میں سیکھا۔
اِس کا نتیجہ، ہمیں پتا ہے، بے حالی
قحط، خشک سالی اور جنگ اور موت۔
سو ہم مسترد کرتے ہیں اِن جنگجو احمقوں کو
اِن کے دوستوں اورساتھیوں ،پٹھوؤں ،آلۂ کاروں کو،
اور حمایت کرتے ہیں پکنکوں ، پارٹیوں ، کھیلوں کی،
جہاں ہر کوئی حصّہ لے سکتا ہے
اورمحسوس نہیں کرتا خود کو گُونگا اور نظرانداز کیا گیا،
پیغام واضح ہے، پیچیدہ نہیں ۔
ثقافتی مسالا ۔ سائمن فلیچر
سو یہ کیسے ہوا، ہم کیسے مِلے؟
سرائے میں نہیں ، نہ ہی گلی میں ،
مگر ہمارے اندر کی کسی چیز نے ہمیں اکٹھا کیا
تاکہ ہم اپنی محبتوں کے نغمے گائیں ہر موسم میں ۔
مذہب، زبان،مشغلے اور تذکیر تانیث
شاعری نے آمیخت کیے،جیسے کسی بلینڈر میں ۔
لاہورکی نایاب بوٹیاں ؛ خوش ذائقہ، تُرش؛
دہلی کے لذیذ مسالے،جن سے کوئی زبان نہ جلے۔
اور پکوان کو چٹ پٹا بنانے کے لیے،کھانے کا دَور مکمل کرنے کے لیے،
ایک پرانا انگریزی چٹخارہ، وُرسٹرشائرکی چٹنی!
سہرا
دوست کے سہرے پہ کہتے ہیں سخنور سہرا
ہے ترے سہرے کا اے دوست مِرے سر سہرا
ہم کو ہر دولہا یہ کہتا ہُوا آیا ہے نظر
تاج کیا چیز ہے دیکھو مِرے سَر پر سہرا
کامیابی نہیں ہوتی کوئی اِس سے بڑھ کر
ہے سکندر وہی جس کا ہے مقدّر سہرا
تاکہ تاریکیِ شب مانعِ دیدار نہ ہو
لائے ہیں دھُوپ کے تاروں سے بنا کر سہرا
اِس میں بس جاتی ہے خوشبو جو حسیں یادوں کی
سُوکھ جانے پہ بھی رہتا ہے معطّر سہرا
چشمِ بد راہ نہ پائے گی کسی طور وحید
ہے دعاؤں کا تِرے سہرے کے اُوپر سہرا
اہلِ ذوق آئیں تو ہم اُن کو بتائیں باصِرؔ
دل سے کہتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کیونکر سہرا
جنگل میں مور
ایک دن اِک مور سے کہنے لگی یہ مورنی:
خوش صَدا ہے ، خوش اَدا ہے، خوش قدم خوش رَنگ ہے،
اِس بیاباں تک مگر افسوس تُو محدود ہے۔
جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ،
ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار۔
کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی!
کاش مخلوقِ خدا ہو تیرے فن سے فیض یاب!
مور بولا: اے مِری ہم رقص میری ہم نوا،
تُو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدر،
کتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں ۔
اَن گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنر۔
داد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مِرا۔
اِس طرح گویا اُنہیں تسخیر کر لیتا تھا میں ۔
دیکھتا جب اُن کی آنکھوں میں ستائش کی چمک،
بس اُسی لمحے پَروں کو میرے لگ جاتے تھے پَر۔
پھر ہوا یوں ایک دن دورانِ رقص،
غالباَ شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چُبھا۔
رقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہُوا معذور میں
رفتہ رفتہ ہو گیا اہلِ جہاں سے دُور میں ۔
بعد مُدّت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں ،
دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤسِ خوش قد خوش جمال،
مجھ سے بہتر اور کتنا مختلف،
کر رہا تھا اپنے فن سے اہلِ مجلس کو نہال۔
دیر تک دیکھا کیا میں اُس کو اوروں کی طرح
یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرح۔
کاروانِ زندگی رکتا نہیں
وقت کا دریا کبھی رکتا نہیں
آج میں ، کل کوئی ،پرسوں کوئی اور،
اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دور۔
رقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے
یا فقط تیرے لیے، تیرے لیے، تیرے لیے
غزل کہتے ہیں
اُس کے آنے پہ غزل کہتے ہیں
اُس کے جانے پہ غزل کہتے ہیں
دھُوپ نکلے تو غزل ہوتی ہے
اَبر چھانے پہ غزل کہتے ہیں
ناشتے پر ہے غزل کا سامان
رات کھانے پہ غزل کہتے ہیں
مُہر ہم اپنے تخلّص کی لیے
دانے دانے پہ غزل کہتے ہیں
دل اُجڑنے پہ بہت شعر ہوئے
گھر بَسانے پہ غزل کہتے ہیں
منہ دکھائی میں غزل کا تحفہ
رُخ چھُپانے پہ غزل کہتے ہیں
نہیں لازم کہ کوئی زخم لگے
سَر کھُجانے پہ غزل کہتے ہیں
ہے کچہری کبھی موضوعِ سخن
کبھی تھانے پہ غزل کہتے ہیں
انقلابی ہوئے جب سے شاعر
کارخانے پہ غزل کہتے ہیں
اِس قدر سہل غزل کہنا ہے
سانس آنے پہ غزل کہتے ہیں
بیٹھ کر کُنجِ قفس میں باصرؔ
آشیانے پہ غزل کہتے ہیں
گھر کی مُرغی
وہ زمانے گئے جب تھی یہ غریبوں کی غذا
قدر و قیمت میں تو اب لحم سے بڑھ کر ہے دال
اِس میں ہے یارو سَراسَر مری عزّت افزائی
گھر کی مُرغی کو جو تم دال برابر سمجھو
رونی صورت
اُس کو ہم سے گِلہ رہے گا ایسے ہی
کچھ کر لیں وہ خفا رہے گا ایسے ہی
اُسے ہنسانے کی ہر کوشش ہے بے سود
اُس کا منہ تو بنا رہے گا ایسے ہی
دوسری ہجرت
بابا، تم نے
اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر
اپنے آبا کی قبروں کو چھوڑا تھا۔
ہم نے بھی ہجرت کی ہے
اپنی اولاد کے ’روشن‘ مستقبل کے لیے۔
مشرق اور مغرب
پھُول کسی گلشن میں کھِلے
یا کسی کے آنگن کی کیاری میں ،
سڑک کے بیچ میں ، یا
فٹ پاتھ پہ لگے ہوئے پودے میں ،
اس کے رنگ وہی ہیں
اس کی مہک وہی۔
سُورج سُورج ہے
چاہے مشرق سے نکلے
چاہے مغرب سے۔
دِفاع
گو صُلح اور امن سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ
موزوں نہیں پیام یہ ہر ایک کے لیے
دشمن کو ڈھیل دی تو ہُوا سَر پہ وہ سوار
کلہاڑی اپنے پاؤں پہ ہرگز نہ ماریے
بادل کی طرح سایہ بھی دیں غیر کو ضرور
لیکن کبھی گرجنا برسنا بھی چاہیے
کشکول
جتنی بھیک مجھے درکار تھی
اس کے لیے میرا کشکول
بہت چھوٹا تھا۔
آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول
اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا۔
اِمداد
کچھ تو جہاں میں اہلِ سخاوت کی تعداد بڑھی
کچھ میں نے بھی سیکھے نئے نئے انداز،
دستِ سوال بڑھانے کے،
عرضِ تمنّا کرنے کے۔
میرا کام تو چل نِکلا۔
سوچ رہا ہوں لے آؤں
اِک عمدہ سا کشکول۔
عالی جاہ
صاحبِ عالی مقام
جس کا نہیں کوئی نام
اپنوں پہ حاکم ہے یہ
غیر کا ادنی غلام
بادشاہت جہنم میں
وہ کہتے ہیں کہ جنت کی غلامی سے
کہیں بہتر ہے دوزخ کی شہنشاہی۔
میں کہتا ہوں وہ جنت ہی نہیں
جس میں غلامی ہو،
اگرچہ بادشاہت اک نشانی ہے جہنّم کی
نِدائے آدم
جہانِ تازہ مِرے دم قدم سے پیدا ہو
بہشت ارض پہ اُس کے کرم سے پیدا ہو
خوشی کی صُبح شبِ تارِ غم سے پیدا ہو
سکون وسوسہء بیش و کم سے پیدا ہو
زبانِ تیشہ سے ایسے ہو کچھ بیانِ حُسن
اَذانِ عشق دہانِ صنم سے پیدا ہو
نظامِ کہنہ اگر چاہیے حیاتِ نَو
یہ وقت ہے کہ تُو میرے قلم سے پیدا ہو
قلم دوات
شجر سے کٹ کے جو بے جان ہو گئی تھی شاخ
قلم بنی تو وہ دوبارہ ہو گئی زندہ
شبِ سیہ سے زیادہ سیہ سیاہی سے
تمام عالمِ تاریک ہو گیا روشن
خواندگی
پہلی آواز:
آؤ لکھو پڑھو
تاکہ بہتر طریقے سے خدمت کرو
مُلک اور قوم کی۔
خواندگی خواندگی ورنہ پسماندگی!
دوسری آواز:
اِتنا پڑھ لِکھ کے بھی
میری حالت وہی،
آج اِس کی تو کل اُس کی دہلیز پر
منتظر، ملتجی،
خواندگی!
پڑھو گے لِکھو گے
اِس پڑھائی لِکھائی سے کیا فائدہ
جو سکھائے فقط ایسی تحریر
آغاز جس کا جناب و حضور
انتہا تابعداری کا اک غیر مشروط پیمان
اور پیشگی شکریہ
جانے کس بات کا
’نوعُمری اور پیری‘
کل کی بات ہے
کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا!
میں نوعُمر تھا،
پیِری خود سے صدیوں دُور نظر آتی تھی۔
اب میں پیِری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں ،
بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں
جیسے ان اَدوار سے میں گزرا ہی نہیں ۔
بیٹی کی دسویں سالگرہ پر
مِری اچھی وجیہہ،
میں تجھ سے خوش ہوں اِتنا
کہ اکثر سوچتا ہوں ،
اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے،
خالق مجھ سے کہتا
کہ چن لے اِن ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے
اِک اپنے لیے،
تو میں تجھے ہی منتخب کرتا۔
میں خوش قسمت ہوں کتنا!
دعا گو ہوں
سدا جیتی رہے
اور ایسی ہی اچھی رہے تُو!
بچپن
جب تک
میری ماں زندہ تھی ،
میں بچّہ تھا۔
کب سے خواہش تھی کہ میں لکھوں سلامِ شبیرؑ
مہرباں آج ہوئے مجھ پہ امامِ شبیرؑ
صبرِایّوبؑ میں ہے ضربِ علیؑ کا سا وصف
تیغ کی طرح چمکتی ہے نیامِ شبیرؑ
جائے سجدہ میں ملیں جادۂ جنّت کے سراغ
دل میں تیرے جو اُتر جائے پیامِ شبیرؑ
اہلِ ایمان کی ہر صبح ہے صبحِ عاشور
ان کی ہر شام کا عنوان ہے شامِ شبیرؑ
وقت پڑنے پہ کہیں شمر کے ہمراہ نہ ہوں
ویسے کہتے تو ہیں ہم خود کو غلامِ شبیرؑ
میرے حصّے میں بھی ہوتی یہ حیاتِ جاوید
نامۂ رشک ہے یہ خِضرؑ بنامِ شبیرؑ
آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اِس کا حصول
جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیرؑ
شرط ہے راہبری تا بہ شہادت باصرؔ
محض ورثے میں ملا کس کو مقامِ شبیرؑ
بوجھ اتنے صدموں کا دل اگر اُٹھا پایا
تجھ سے ہی مرے مالک اِس نے حوصلہ پایا
ٹھوکروں سے رستے کی خود کو جو بچا پایا
زندگی میں جنت کا اُس نے در کھُلا پایا
حرف حرف کا تیرے ذرّہ ذرّہ ہے شاہد
جو بھی کچھ کہا ہم نے نقش بَر ہوا پایا
اُس کی راہ پر باصرؔ آ گئے جو ہم آخِر
جس قدر گنوایا تھا اُس سے دس گُنا پایا
غریبم شاعرم گوشہ نشینم
مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا
کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے
اے صاحبِ فن اتار تصویر
آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری
دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں
میدان میں طِفل سے ڈریں گے
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ
ہے خزاں بھی بہار میں مصروف
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک
حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا
کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ
ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
یہ دل کرے گا کسی دن کوئی بڑی لغزش
ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا
جو میری غزل سرائی کے تھے
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
آ گئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں
ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں
مری دانست میں نامِ محمد
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
(ب س ک)
کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں
دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
باصِر سلطان کاظمی کا یہ شعراور اِس کا انگریزی ترجمہ، جو شاعر اور دیبجانی چیٹرجی کی مشترکہ کاوش ہے ،دس دیگر زبانوں کے شعری نمونوں کے ساتھ ،پتھرپہ کندہ کر کے لندن سے ملحقہ شہر سلاؤ ((Slough کے میکنزی سکوائر(McKenzie Square) میں نصب کیا گیا ہے۔ شعراء میں فلسطین کے معروف شاعر محمود درویش بھی شامل ہیں ۔ اِس پروجیکٹ کے لیے آرٹس کونسل آف انگلینڈ نے اوکسفورڈشائر کے سنگ تراش Alec Peevar کی خدمات حاصل کیں ۔
موجِ خیال ۔ متفرق اشعار
1970
ہماری آنکھ نہ ہوتی تو حُسن کیا کرتے
ہمارے دل میں نہ ہوتے تو وہ کہاں ہوتے
میری خوشی میں تیری خوشی تھی
اب دُکھ میں کیوں بھاگ رہا ہے
بعد موت کے ہماری روح
دنیا کو کیا پاتی ہو گی
یہ تھوڑا تھوڑا جو پینے کو مل رہا ہے تو کیا
مزا ہی جب ہے کہ پینے کے بعد پیاس رہے
1974
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تُو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
1986
اب کے جھگڑا ہے مِرا خوبیِ تقدیر کے ساتھ
نامۂ شیریں ملا تلخیِ تاخیر کے ساتھ
ہم نے دانستہ بھُلا ڈالے جو دیکھے تھے خواب
زندگی کٹ نہیں سکتی تِری تصویر کے ساتھ
فاصلے کسی طرح کچھ اگر ہوئے کم بھی
دیکھتے رہے تم بھی سوچتے رہے ہم بھی
گرچہ اپنی جیب میں بھی کچھ سِکے ہیں
لیکن اِس بازار میں یہ کب چلتے ہیں
1987
یا تو مجنوں کی سی وحشت ہی دکھائی ہوتی
زندگی ورنہ قرینے سے بِتائی ہوتی
دور رہتا ہے وہ دانستہ مری محفل سے
ہے کوئی بات کہ جاتی نہیں اُس کے دل سے
یہ آنکھیں دماغ اور دل دشمن ہیں جگر تیرے
مارا تجھے اپنوں نے الزام ہے غیروں پر
یہ مزاجِ یار کی بھول ہے بھلا یہ کہاں کا اصول ہے
کسی ایک دن جو بھلا لگا وہ تمام عُمر بھلا لگے
کہتا رہا میں اُس سے کہ ہاں ہاں کہو کہو
لیکن زبانِ دوست پہ ’بس کچھ نہیں‘ رہا
تم روشنیِ صبح ہو میں تیرگیِ شب
سچ ہے کہ مرے تم سے ستارے نہیں ملتے
جاتا نہیں ہے جڑ سے کبھی عشق کا مرض
ہوتا ہے چند روز دوائی سے فائدہ
شکوے کا اب خیال بھی آتا نہیں ہمیں
وہ بات ہی نہیں تو لڑائی سے فائدہ
مِل رہا ہے آج وہ جس طور سے
آپ نے دیکھا نہیں ہے غور سے
آپ تو اُس کے لیے سُولی چڑھیں
اور وہ پینگیں بڑھائے اور سے
1990
ہر بات کا سُراغ نہاں اُس کی ضد میں ہے
چاہا تھا اپنے آپ کو پانا سو کھو گئے
اچھے ہیں سب حیات کے جتنے بھی دور ہیں
یہ بات جو سمجھ گئے وہ لوگ اور ہیں
16اکتوبر
1991
ہو جائیں نفس چند کہیں آ کے جو آباد
سمجھو کہ وہیں پڑ گئی اِک شہر کی بنیاد
یکم جنوری
1993
کرو میلا نہ دل اپنا سُنا ہوگا یہ تم نے بھی
بُرا کہنا بھلے لوگوں کو عادت ہے زمانے کی
بچھڑنے والے اپنے ساتھ کیا کیا لے گئے باصرؔ
یہ دنیا دلنشیں اتنی نہیں اب جتنی پہلے تھی
12فروری
اللہ ایسے موقعے مجھے بار بار دے
جتنا ادھار ہے مرے سر سے اتار دے
16جون
آتا نہیں اُنہیں کبھی خود سے مرا خیال
میں گاہے گاہے خود ہی بتاتا ہوں اپنا حال
باصرِؔ تمام دن کی مشقت بجا مگر
ہے ابتدائے شب ابھی سونے کا کیا سوال
اگست
1994
دنیا کے بکھیڑوں سے نکل پائیں گے کیسے
کہتے تو تھے آئیں گے مگر آئیں گے کیسے
7مئی
پڑا ہے آج ہمیں ایک مطلبی سے کام
خدا کرے کہ اُسے ہم سے کام پڑ جائے
13مارچ
1995
میری خوش وقتی سے پرخاش کچھ ایسی ہے تجھے
دل جلے جس سے مرا بات وہ کرنی ہے تجھے
مجھے کرنی تو ہے کچھ بات مگر ایسے نہیں
آج لگتا ہے کسی بات کی جلدی ہے تجھے
20نومبر
1996
ہو جس کی ہمیں طلب زیادہ
ملتی ہے وہ چیز کب زیادہ
پہلے سے زیادہ گرم ہے جیب
لینے لگے قرض اب زیادہ
18مارچ
اہلِ دل آ گئے کہاں سے کہاں
دیکھیے جائیں گے یہاں سے کہاں