admin کی تمام پوسٹیں
منسوب ہے مجھی سے مقدر زمین کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
کرتا ہوں زندگی ولے نا چاریوں کے ساتھ
دل کہیں پر اور کہیں پر ذہن تھا بھٹکا ہوا
پیو، کہ اور زیادہ ہو روشنی روشن
بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا
بس توجہ زیاد مانگتا ہوں
کہا جو اُس نے وہی شہر کا اصول ہوا
اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو
چاہا تو گھٹا لینا چاہا تو بڑھا لینا
آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہئے
میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا
کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی
قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا
اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو
دیا ہم نے نہ دنیا کو، کچھ ایسا تھا دماغ اپنا
آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم
اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر
عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا
ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی
اُنہی کے دم سے منوّر ہوا شعور مرا
وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے
تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
فرد فرد
لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے
دن میں سپنے دیکھنا، آنکھوں کا معمول
غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے
ایک نغمہ ۔ پنجابی میں
"وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں او یار
ٹِک رہو تھائیں او یار”
روزی دیوے گا سائیں او یار
ٹِک رہو تھائیں او یار
ہیر نوں چھَڈ ٹر گیوں رنجھیٹے
کھیڑیاں دے گھر پاے گئے ہاسے
کانگ اڈاون ماواں بھیناں
ترلے پاون لکھ ہزاراں
پِنڈ وچ کڈی ٹوہر شریکاں
یاراں دے ڈھے پئے منڈاسے
ویراں دیاں ٹُٹ گئیاں بائیں
او یار
ٹِک رو تھائیں او یار
روزی دیوے گا سائیں
کانگ اُڈاون ماواں بھیناں
ترلے پاون لکھ ہزاراں
خیر مناون سنگی ساتھی
چرخے اولے روون مٹیاراں
ہاڑاں دردیاں سُنجیاں رائیں
او یار
ٹِک رو تھائیں او یار
وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں
چھڈ غیراں دے محل چو محلے
اپنے ویہڑے دی رِیس نہ کائی
اپنی جھوک دیاں ستّے خیراں
بیبا تُس نے قدر نہ پائی
موڑ مہاراں
تے آ گھر باراں
مُڑ آ کے مول نہ جائیں
او یار
ٹِک رو تھائیں او یار
ایک ترانہ ۔ پنجابی میں
اٹھ اُتاں نوں جٹّا
مردا کیوں جائیں
بھولیا! تُوں جگ دا ان داتا
تیری باندی دھرتی ماتا
توں جگ دا پالن ہار
تے مردا کیوں جائیں
اٹھ اُتاں نوں جٹّا
مردا کیوں جائیں
جرنل، کرنل، صوبیدار
ڈپٹی، ڈی سی، تھانیدار
سارے تیرا دتّا کھاون
توں جے نہ بیجیں، توں جے نہ گاہویں
بھُکھّے، بھانے سب مر جاون
ایہہ چاکر توں سرکار
مردا کیوں جائیں
اٹھ اُتاں نوں جٹّا
مردا کیوں جائیں
وچ کچہری، چونکی تھانے
کیہہ اَن بھول تے کیہہ سیانے
کیہہ اشراف تے کیہہ نمانے
سارے کھجّل خوار
مردا کیوں جائیں
اٹھ اُتاں نوں جٹّا
ایکا کر لئو، ہو جاؤ کٹھّے
بھُل جاؤ رانگڑ، چیمے چٹھے
سبھے دا اِک پریوار
مردا کیوں جائیں
جے چڑھ آون فوجاں والے
توں وی چھَویاں لمب کرا لے
تیرا حق، تری تلوار
تے مردا کیوں جائیں
دے اللہ ہُو دی مار
تے مردا کیوں جائیں
گیت
جلنے لگیں یادوں کی چتائیں
آؤ کوئی بَیت بنائیں
جن کی رہ تکتے تکے جُگ بیتے
چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں
آنکھیں موند کے نِت پل دیکھیں
آنکھوں میں اُن کی پرچھائیں
اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر
بے دردوں کے سامنے جائیں
جب رونا آوے مسکائیں
جب دل ٹوٹے دیپ جلائیں
پریم کتھا کا انت نہ کوئی
کتنی بار اسے دھرائیں
پریت کی ریت انوکھی ساجن
کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں
فیض اُن سے کیا بات چھپی ہے
ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں
ہم تہی دامنوں سے کیا لینا
صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
گاؤں کی سڑک
یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا
یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا
کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی
یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن
یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن
جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی
نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ
مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ
خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا
کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی
چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے
سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی
(بیروت)
میرے ملنے والے
وہ در کھلا میرے غمکدے کا
وہ آ گئے میرے ملنے والے
وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں
فرشِ افسردگی بچھانے
وہ آگئی رات چاند تاروں کو
اپنی آزردگی سنانے
وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے
یاد کے زخم کو منانے
وہ دوپہر آئی آستیں میں
چھپائے شعلوں کے تازیانے
یہ آئے سب میرے ملنے والے
کہ جن سے دن رات واسطا ہے
پہ کون کب آیا، کب گیا ہے
نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے
خیال سوئے وطن رواں ہے
سمندروں کی ایال تھامے
ہزار وہم وگماں سنبھالے
کئی طرح کے سوال تھامے
(بیروت)
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
بیروت
دو نظمیں فلسطین کے لئے
۔ ۱ ۔
میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن
تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے
تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے
تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی
تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی
سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا
کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا
دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں
اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں
جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم
لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد
بیروت ۸۰ ء
۔ ۲ ۔
فلسطینی بچے کیلیے لوری
مت رو بچے
رو رو کے ابھی
تیری امی کی آنکھ لگی ہے
مت رو بچے
کچھ ہی پہلے
تیرے ابا نے
اپنے غم سے رخصت لی ہے
مت رو بچے
تیرا بھائی
اپنے خواب کی تتلی پیچھے
دور کہیں پردیس گیا ہے
مت رو بچے
تیری باجی کا
ڈولا پرائے دیس گیا ہے
مت رو بچے
تیرے آنگن میں
مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں
چندرما دفنا کے گئے ہیں
مت رو بچے
امی، ابا، باجی، بھائی
چاند اور سورج
تو گر روئے گا تو یہ سب
اور بھی تجھ کو رلوائیں گے
تو مسکائے گا تو شاید
سارے اک دن بھیس بدل کر
تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے
(بیروت)
کیا کریں
مری تری نگاہ میں
جو لاکھ انتظار ہیں
جو میرے تیرے تن بدن میں
لاکھ دل فگار ہیں
جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے
سب قلم نزار ہیں
جو میرے تیرے شہر کی
ہر اک گلی میں
میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں
جو میری تیری رات کے
ستارے زخم زخم ہیں
جو میری تیری صبح کے
گلاب چاک چاک ہیں
یہ زخم سارے بے دوا
یہ چاک سارے بے رفو
کسی پہ راکھ چاند کی
کسی پہ اوس کا لہو
یہ ہے بھی یا نہیں، بتا
یہ ہے، کہ محض جال ہے
مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا
جو ہے تو اس کا کیا کریں
نہیں ہے تو بھی کیا کریں
بتا ، بتا ،
بتا ، بتا
(بیروت)
پیرس
دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں
زرد رُو روشنیاں
ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم
اس بھرے شہر کی ناسودگیاں
دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے
عظمتِ رفتہ کے نشاں
پیش منظر میں
کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی
دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے
روزمرہ کی طرح
زیرِ لب
شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے
اور کوئی اجنبی
ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا
اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا
(پیرس)
ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
ہم تو مجبورِ وفا ہیں
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں
تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے
کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے
کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی
خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے
’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا
جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا
مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘؎۱
ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے
(؎۱ یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں۔)
یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے
ٹھہر گئی آسماں کی ندیا
وہ جا لگی افق کنارے
اداس رنگوں کی چاندنیّا
اتر گئے ساحلِ زمیں پر
سبھی کھویّا
تمام تارے
اکھڑ گئی سانس پتیوں کی
چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں
گجر بچا حکمِ خامشی کا
تو چپ میں گم ہو گئی صدائیں
سحر کی گوری کی چھاتیوں سے
ڈھلک گئی تیرگی کی چادر
اور اس بجائے
بکھر گئے اس کے تن بدن پر
نراس تنہائیوں کے سائے
اور اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہے
کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے
کہ دن ڈھلے شہر سے نکل کر
کدھر کو جانے کا رخ کیا تھا
نہ کوئی جادہ، نہ کوئی منزل
کسی مسافر کو اب دماغِ سفر نہیں ہے
یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی
کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے
یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے
یہ وقت آئے تو بے ارادہ
کبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوں
اتار کر ذات کا لبادہ
کہیں سیاہی ملامتوں کی
کہیں پہ گل بوٹے الفتوں کے
کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی
کہیں پہ خونِ جگر کے دھبّے
یہ چاک ہے پنجۂ عدو کا
یہ مہر ہے یارِ مہرباں کی
یہ لعل لب ہائے مہوشاں کے
یہ مرحمت شیخِ بد زباں کی
یہ جامۂ روز و شب گزیدہ
مجھے یہ پیراہن دریدہ
عزیز بھی، ناپسند بھی ہے
کبھی یہ فرمانِ جوشِ وحشت
کہ نوچ کر اس کو پھینک ڈالو
کبھی یہ حرفِ اصرارِ الفت
کہ چوم کر پھر گلے لگا لو
(تاشقند)
تین آوازیں
ظالم
جشن ہے ماتمِ امّید کا آؤ لوگو
مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو
عدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے
تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نے
جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو
بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو
ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے میں نے
سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے
اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا
فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لیے
اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا
ابر آئے گا خس و خار کے انبار لیے
میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی
میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی
اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے
سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے
فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا
عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا
مظلوم
رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے
صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے
دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا
دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا
یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر
یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر
کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے
ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے
وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے
وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے
گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟
ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟
ندائے غیب
ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو
کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اُٹھے گا جب جَمِّ سرفروشاں
پڑیں گے دارو رَسن کے لالے
کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں عذاب و ثواب ہو گا
یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہو گا
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
لاؤ تو قتل نامہ مرا
سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی
رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی
ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی
آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو
کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی
آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی
’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘
دو نظمیں
۔ ۱ ۔
ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم
زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے
جان دیتے رہے زندگی کے لیے
ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے
فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے
جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے
مال والے حقارت سے تکتے رہے
طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے
ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن
جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی
جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا
اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی
سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم
قید خانے سہے، تازیانے سہے
لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا
اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے
خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ
دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم
طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم
منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم
۔ ۲ ۔
شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے
چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں
دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں
پانی میں نہائے ہیں بوٹے
گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے
جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے
خوں کا ہر داغ دمکتا ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے
ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے
عالم میں اُن کا شہرہ ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں
وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں
اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
غم نے سانچے میں ڈھالا ہے
اِک باپ کے پتھر چہرے کو
مردہ بیٹے کے ماتھے کو
اِک ماں نے رو کر چوما ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی
اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے
پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن
اب بادل ہے نہ برکھا ہے
شوپیں کا نغمہ بجتا ہے
(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)
————————-
منظر
رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام
بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ
جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ
حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل
نِیل کی جِھیل
جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب
ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ
بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب
میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ
شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب
جس طرح دور کسی خواب کا نقش
آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ
دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ
تم نے کہا ’’آہستہ‘‘
چاند نے جھک کے کہا
’’اور ذرا آہستہ‘‘
(ماسکو)
کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
ماسکو
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
ماسکو
کوئ عاشق کسی محبوبہ سے!
گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا
پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو
عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد
پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو
جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی
آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو
گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد
اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا
ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ
ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہو گا
کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم
کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہو گا
گردِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے
تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں
تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو
اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں
تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو
(لندن)
پھول مرجھا گئے سارے
پھول مرجھا گئے ہیں سارے
تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو
شمعیں بے نور ہو گئی ہیں
آئینے چور ہو گئے ہیں
ساز سب بج کے کھو گئے ہیں
پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں
اور اُن بادلوں کے پیچھے
دور اِس رات کا دلارا
درد کا ستارا
ٹمٹما رہا ہے
جھنجھنا رہا ہے
مسکرا رہا ہے
(لندن)
دلِ من مسافرِ من
مرے دل، مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رُخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سرِ کوئے ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بُری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا
(لندن)
نعت
اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو
آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو
خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال
بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو
آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر
اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو
آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ
از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو
باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند
روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو
شامِ غربت
دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے
غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے
نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے
شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے
بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے
درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے
ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے
آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے
درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے
ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے
ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے
دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے
متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر
پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے
اِدھر نہ دیکھو
اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر
قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے
جو عزم و ہمت کے مدعی تھے
اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی
آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے
جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے
جو اہلِ دستار محترم تھے
ہوس کے پرپیچ راستوں میں
کلہ کسی نے گرو رکھ دی
کسی نے دستار بیچ دی ہے
اُدھر بھی دیکھو
جو اپنے رخشاں لہو کےدینار
مفت بازار میں لٹا کر
نظر سے اوجھل ہوئے
اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،
اُدھر بھی دیکھو
جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر
جہاں سے رخصت ہوئے
اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں
رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد
چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی
ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد
جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی
ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار
۔ ۱ ۔
جینے کے لیے مرنا
یہ کیسی سعادت ہے
مرنے کے لیے جینا
یہ کیسی حماقت ہے
۔ ۲ ۔
اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح
اور مل کر جیو
ایک بَن کی طرح
۔ ۳ ۔
ہم نے امّید کے سہارے پر
ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے
جس طرح تم سے عاشقی کی ہے
پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا
دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی
آج شب کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی
خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی
اور مکیں کوئی نہیں ہے،
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
"کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت”
کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت
کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں
کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم
ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم
اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
جو میرا تمہارا رشتہ ہے
میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے
وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں
لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق
مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں
یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال
یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال
اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے
’’گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے‘‘
رات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہم
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے
احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے
یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔
نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا
کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن
نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے
کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا
جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے
نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی
جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا
بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا
یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم
جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا
نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی
یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم
جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا
شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی
(ناتمام)
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول
ترکِ الفت کے دشت سے چن کر
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول
تیری دہلیز پر سجا آئے
پھر تری یاد پر چڑھا آئے
باندھ کر آرزو کے پلے میں
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے
اس وقت تو یُوں لگتا ہے
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا
آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن
اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا
ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو
گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا
شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا
اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ
تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے
(میو ہسپتال، لاہور)
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا
ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
بالآخر اِک دن جیتیں گے
کیا خوف ز یلغارِ اعداء
ہے سینہ سپر ہر غازی کا
کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا
صف بستہ ہیں ارواح الشہدا
ڈر کاہے کا!
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
قد جاء الحق و زَہَق الباطِل
فرمودۂ ربِّ اکبر
ہے جنت اپنے پاؤں تلے
اور سایۂ رحمت سر پر ہے
پھر کیا ڈر ہے!
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اِک دن جیتیں گے
بالآخر اِک دن جیتیں گے
(بیروت)
ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے
بیروت نگارِ بزمِ جہاں
بیروت بدیلِ باغِ جناں
بچوں کی ہنستی آنکھوں کے
جو آئنے چکنا چور ہوئے
اب ان کے ستاروں کی لَو سے
اس شہر کی راتیں روشن ہیں
اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان
بیروت نگارِ بزمِ جہاں
جو چہرے لہو کے غازے کی
زینت سے سوا پُرنور ہوئی
اب ان کے رنگیں پرتو سے
اس شہر کی گلیاں روشن ہیں
اور تاباں ہے ارضِ لبنان
بیروت نگارِ بزمِ جہاں
ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر
ہم پایۂ قصرِ دارا ہے
ہر غازی رشکِ اسکندر
ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے
یہ شہر ازل سے قائم ہے
یہ شہر ابد تک دائم ہے
بیروت نگارِ بزمِ جہاں
بیروت بدیلِ باغِ جناں
(بیروت)
باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا
دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے
گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے
پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے
ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے
ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے
راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے
رشک کرتے رہے
اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے
لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ
جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے
اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا
دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے
گلو میں کبھی طوق کا واہمہ
کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر
اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح
رسن در گلو، پابجولاں ہمیں
اسی قافلے میں کشاں لے چلا
(بیروت)
تُم ہی کہو کیا کرنا ہے
جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے
جیون کی ناؤ ڈالی تھی
تھا کتنا کس بل بانہوں میں
لوہُو میں کتنی لالی تھی
یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے
اور ناؤ پُورم پار لگی
ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں
کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں
کچھ مانجھی تھے انجان بہُت
کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جِتنے چاہو دوش دھرو
ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی
اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے
اب کیسے پار اُترنا ہے
جب اپنی چھاتی میں ہم نے
اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے
تھا ویدوں پر وشواش بہت
اور یاد بہت سےنسخے تھے
یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں
ساری بپتا کٹ جائے گی
اور سب گھاؤ بھر جائیں گے
ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے
کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے
وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے
اور ٹوٹکے سب بیکار گئے
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جتنے چاہو دوش دھرو
چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی
اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے
یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے
(لندن)
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا
آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
۔ ۱۔
آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی
دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی
حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے
جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت
اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے
صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت
حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے
تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے
لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں
۔۲۔
آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا
ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز
جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح
چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز
آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت
لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز
نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی
صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی
درِ اُمید کے دریوزہ گر
پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں
شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں
پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں
میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں
پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے
درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے
پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا
کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے
ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے
کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام اُلجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
لینن گراڈ کا گورستان
سرد سِلوں پر
زرد سِلوں پر
تازہ گرم لہو کی صورت
گلدستوں کے چھینٹے ہیں
کتبے سب بے نام ہیں لیکن
ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے
غافل سونے والے کا
یاد میں رونے والے کا
اپنے فرض سے فارغ ہو کر
اپنے لہو کی تان کے چادر
سارے بیٹے خواب میں ہیں
اپنے غموں کا ہار پرو کر
امّاں اکیلی جاگ رہی ہے
لینن گراڈ 1976ء
دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی
موری اَرج سُنو
"موری ارج سُنو دست گیر پیر”
"مائی ری، کہوں کاسے میں
اپنے جیا کی پیر”
"نیا باندھو رے،
باندھو رے کنارِ دریا”
"مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”
اس صورت سے
عرض سناتے
درد بتاتے
نیّا کھیتے
مِنّت کرتے
رستہ تکتے
کتنی صدیاں بیت گئی ہیں
اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے
جس کو تم نے عرض گزاری
جو تھا ہاتھ پکڑنے والا
جس جا لاگی ناؤ تمھاری
جس سے دُکھ کا دارُو مانگا
تورے مندر میں جو نہیں آیا
وہ تو تُمھیں تھے
وہ تو تُمھیں تھے
تم اپنی کرنی کر گزرو
اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو
جب دل ٹکڑے ہو جائے گا
اور سارے غم مِٹ جائیں گے
جو کچھ پایا کھو جائے گا
جو مل نہ سکا وہ پائیں گے
یہ دن تو وہی پہلا دن ہے
جو پہلا دن تھا چاہت کا
ہم جس کی تمنّا کرتے رہے
اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے
یہ دن تو کئی بار آیا
سو بار بسے اور اُجڑ گئے
سو بار لُٹے اور بھر پایا
اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو
جب دل ٹکڑے ہو جائے گا
اور سارے غم مِٹ جائیں گے
تم خوف و خطر سے در گزرو
جو ہونا ہے سو ہونا ہے
گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے
گر رونا ہے تو رونا ہے
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہو گا دیکھا جائے گا
بہار آئی
بہار آئی تو جیسے یک بار
لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے
نِکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مُشک بو ہیں
جو تیرے عُشّاق کا لہو ہیں
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
ملالِ احوالِ دوستاں بھی
خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی
غُبارِ خاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کھِل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے
یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے
احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے
خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی
کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے
یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں
میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے
اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے
کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!
بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے
ڈھاکہ سے واپسی پر
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد