زمرہ جات کے محفوظات: شعراء
تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح
کس کو آواز لگاتا ہے کھنڈر کا وارث
اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
اب تک آیا بھی نہیں تھا ابھی پیمانۂ لب
تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا
دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا
وہ مہرباں پسِ گردِ سفر چلا بھی گیا
میری پگڑی گر گئی لیکن مرا سر بچ گیا
بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا
وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا
میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
وہ باد صبا کہلائیں تو کیا
اُٹھ کے چلنا ہی تو ہے، کوچ کی تیاری کیا
اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
نام تیرا نہ بتانا تھا سو ایسا ہی کیا
میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا
بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا
میں بجھا تو مرے بچوں نے اجالی دُنیا
روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا
راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا
ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا
میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا
پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا
لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا
میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا
میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا
میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا
بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا
وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا
عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا
ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا
پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا
آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا
میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا
سیاہ رات سے سورج نکالنے والا
سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
سینہ کشادہ گردن کشیدہ
دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں
سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین
مارے گا قاتل چیخے گا مقتول
مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد
سوسن کا سپنا ۔ THE REVERIE OF POOR SUSAN by William Wordsworth
سوسن کا سپنا |
THE REVERIE OF POOR SUSAN |
| گلی کی نکڑ سے جھانکتا
صبح نو کا چہرہ اسی جگہ پر چہک رہا ہے قفس میں گاتا ہوا پرندہ بلند آہنگ میٹھی تانوں میں تین برسوں سے مست طائر غریب سوسن کے راستے میں حسین نغمے بچھا رہا ہے مہکتی اور نیم باز صبحوں کی خامشی میں پیام خنداں سنا رہا ہے پر آج سوسن کو کیا ہوا ہے کھلی نگاہوں میں کسمساتا دبیز منظر نویلے سپنے جگا رہا ہے اُدھر کہیں گوشۂ وطن میں بلند ہوتی ہوئی پہاڑی یہ پیڑ ، یہ بے لباس کہرے کی سرسراہٹ یہ وادیوں کے گداز سینوں میں بہتے دریا یہ سبز ٹکڑے اور ان کے قدموں میں ایک تنہا سی زرد کُٹیا کہ آشیاں ننھی فاختہ کا فقط یہی دلنواز کُٹیا اسے جہاں سے عزیز تر ہے وہ گُم ہے اپنے وطن کے جنت نظیر سپنے میں کھو چکی ہے مگر کہیں عکس ڈھل رہے ہیں یہ دھند ، دریا پگھل رہے ہیں پہاڑی کیا سر اُٹھا سکے گی ندی کو بہنے میں عار ہو گا کہ اس کی بے بس کھلی نگاہوں سے رنگ سارے پھسل رہے ہیں … |
At the corner of Wood Street, when daylight appears,
Hangs a Thrush that sings loud, it has sung for three years: Poor Susan has passed by the spot, and has heard In the silence of morning the song of the Bird۔ Tis a note of enchantment; what ails her? She sees A mountain ascending, a vision of trees; Bright volumes of vapour through Lothbury glide, And a river flows on through the vale of Cheapside۔ Green pastures she views in the midst of the dale, Down which she so often has tripped with her pail; And a single small cottage, a nest like a dove’s, The one only dwelling on earth that she loves۔ She looks, and her heart is in heaven: but they fade, The mist and the river, the hill and the shade: The stream will not flow, and the hill will not rise, And the colours have all passed away from her eyes! |
پُل پر سے … Composed upon Westminister Bridge by William Wordsworth
Earth has not anything to show more fair:
Dull would he be of soul who could pass by
A sight so touching in its majesty:
This City now doth، like a garment، wear
The beauty of the morning؛ silent، bare،
Ships، towers، domes، theatres، and temples lie
Open unto the fields، and to the sky؛
All bright and glittering in the smokeless air۔
Never did the sun more beautifully steep
In his first splendour، valley، rock، or hill؛
Ne’er saw I، never felt، a calm so deep!
The river glideth at his own sweet will:
Dear God! The very houses seem asleep؛
And all that mighty heart is lying still!
پُل پر سے …
اس سے سندر پَل دھرتی کے
جیون میں کب آیا ہو گا
بھور سمے کی اُجلی چادر
اوڑھ کے شہر تو چُپ بیٹھا ہے
کوئی اِس پل میں اُترے بِن
دھرتی سے اب کیسے گزرے
گم صُم اونچے مندر،
گول سے گنبد
اور چمکیلے منبر
سجی ہوئی تماشا گاہیں
ساگر کے سینے پر
ٹھہرے ہوئے سفینے
کرنوں کے جھرنے کے نیچے
آنکھیں موندے
گیان دھیان میں کھوئے ہوئے ہیں
ہولے ہولے ہوا کی کوری باہیں
جن کو سہلاتی ہیں
اور جھرنے کی شیتل بوندیں
کب یوں پربت ، ٹیلوں اور وادی کے تن پر
سَر سَر کرتی اتری ہوں گی
دل میرا کب اس سے پہلے
ایسے شانت سمے کو چھو کر
گزرا ہو گا
دریا من مانی موجوں کے
دھیمے سُروں میں
کھویا ہوا ہے
شہر کا گیانی من
اِک مدھم سناٹے میں
سویا ہوا ہے …
تتلی سے ۔ TO A BUTTERFLY by William Wordsworth
Stay near me – do not take thy flight
A little longer stay in sight!
Much converse do I find in thee،
Historian of my infancy!
Float near me: do not yet depart!
Dead times revive in thee:
Thou bring’st، gay creature as thou art!
A solemn image to my heart
My father’s family!
Oh! pleasant، pleasant were th days،
The time when in our childish plays،
My sister Emmeline and I
Together chased the butterfly!
a very hunter did I rush
Upon the prey؛ — with leaps and springs
I followed on from brake to bush؛
But she، God lover her! feared to brush
the dust from off its wing
تتلی سے
ذرا رُکو میری خالی آنکھوں
کے آئینوں میں
تمہی سے روشن ہوئے ہیں
گزرے حسیں دنوں کے چراغ
ٹھہرو، ابھی نہ جاؤ
تمہی وہ خوش رُو ہو
جس سے ماضی کی
مُردہ شاخیں ہری ہوئی ہیں
ہمارے گاتے ، لُبھاتے بچپن
کا شوخ منظر
انہی ہواؤں میں ڈولتا ہے
یہ تم سے بڑھ کر
کسے پتہ ہے
کہ کیسے رنگوں کے لہریوں پر
ہم اپنی حیراں نظر جمائے
تمہارے پیچھے نکل پڑے تھے
میں ایک معصوم دل شکاری
جو اپنی ننھی بہن کی خاطر
یوں جھاڑیوں سے الجھتا کیسے
ہزار جتنوں سے پہنچا تم تک
خداکی اُلفت میں
ننھی کیسی گداز دل تھی
یہ ریشمی رنگ جھڑ نہ جائیں
تمہیں وہ چھونے سے ڈر رہی تھی
لہو سے بھری اس سڑک پر
خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر
مرا دل مری پہلی پہچان کو ڈھونڈتا ہے
لہو سے بھری اس سڑک پر
خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر
تڑپتی، بلکتی ہوئی میری فریاد
کٹتے ، سسکتے ہوئے دل سے اُٹھتی صدائیں
مری زخمی چیخیں
کوئی آج سنتا نہیں ہے
مرے ساتھ دم توڑتی میری معصوم خواہش کی
بجھتی نگاہوں میں خوابوں کی، رنگوں کی آواز
سنتا نہیں ہے کوئی آج لیکن
کہیں وقت کے اگلے اندھے پڑاؤ پہ
اِس جلتی دھرتی کی راکھ
ان فضاؤں میں اُڑنے لگے گی
کسی تُند ریلے کے
سرکش بہاؤ میں سب
ٹوٹ کر بہتا ہو گا
تو لہروں ، ہواؤں میں میری
صدا بھی ملے گی …
یہ وہ دھرتی نہیں ہے
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے جہاں میرا بچپن
مرا تتلیوں ، پھولوں ، رنگوں سے لبریز بچپن
کسی شاہزادی کی رنگیں کہانی کی حیرت میں گم تھا
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
جہاں میری آنکھوں …
بہت خواب بُنتی ہوئی میری شفاف آنکھوں
میں اوّل جوانی کا احساس ہلکورے لینے لگا تھا
وہ گوشہ جہاں بیٹھ کر میں نے پہروں
کتابیں پڑھی تھیں
درختوں پہ، پھولوں پہ، چڑیوں پہ
نظمیں کہی تھیں
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
جہاں میرے دل پر
مرے کورے ، معصوم دل پر
کسی شرمگیں اُجلی ساعت نے
اِسم محبت لکھا تھا
جہاں زندگی کو برس در برس
میں نے کھل کر جیا تھا
سانحہ کراچی کی وڈیو فوٹیج دیکھ کر
خدایا …
مری زندگی میں
یہ خونخوار لمحہ
اذیت بھری لہر
کٹتی رگیں
جیسے میرا لہو
اس کے بہتے لہو میں
دھڑکنے لگا ہو
وہ دلدوز چیخیں
کہیں میرے
سوکھے گلے میں
اٹکنے لگی ہیں
مری ٹوٹتی سانس نے
آخری بار
بے رحم سی اس سڑک کو
چھوا ہے
مری زرد ، بجھتی نگاہوں
میں بس ڈولتی ایک حیرت
خدایا …
نہیں …
دِیا وہ بجھ گیا ہے
ہواؤ … !!!
کس دِیے کی لَو پہ تم نے
ہاتھ رکھا ہے
سسکتے ، ڈولتے ، تاریک منظر کو
ہماری نم گزیدہ آنکھ نے مشکل سنبھالا ہے
یہ کیا کہ ننھے جھونکے نے
شبستاں پھونک ڈالا ہے
دِیا وہ جس کے در سے
روشنی جب دان میں ملتی
تو حرفوں کے سیہ اندھیر رستوں سے
اُجالے پھوٹ پڑتے تھے
دِیا وہ بجھ گیا ہے
دِیا وہ بجھ گیا ہے اور دھواں
اِک سیدھی ، سوکھی شاخ کے جیسے
چٹختا ہے
ذرا سوچو
دھویں کی شاخ سے
بل کھا کے ٹوٹے
ننھے مرغولے کا جیون
کتنا ہوتا ہے
تو ہم بھی روشنی کے سارے چہرے
کاغذوں کے خالی خاکوں میں
سجا کر بھول جائیں گے
مگر پھر یوں کسی تاریک شب میں
جب کوئی روشن ستارہ
ٹوٹ جائے گا
ہمیں یہ دھند میں رکھا
دِیا بھی
یاد آئے گا …
کیا رکھا ہے
چھوڑو کیا رکھا ہے … اب یہ چھوٹی چھوٹی
چبھنے والی … نوکیلی سی باتیں
تم کیا ڈھونڈ رہے ہو
نہیں یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے
سچ کہتے ہو درد بڑا تھا
لیکن اب تو کچھ بھی نہیں ہے
آخری منظر کیا دیکھا تھا
اندھی رُت اور گہرے سائے
ارے ذرا نرمی سے
نازک پھول سا لمحہ
کیا ہے جو اَب شاخ سے ٹوٹ کے گرنے لگا ہے
پھول تو پھول ہے … لیکن دل کچھ بھول رہا ہے
پلکوں کے پردوں کے پیچھے … کیا ہے … کیا ہے
آہ … یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے
تم جو کل آتے تو … لیکن
سچ کہتے ہو
خاک اُڑاتے کمرے میں رکھا بھی کیا ہے
یونہی خالی بیٹھے بیٹھے دیر ہوئی ہے
دیکھو سورج ڈھلنے لگا ہے
کہاں چلو گے
شہر میں چاروں جانب سورج ڈھلنے لگا ہے
لیکن تم کیا دیکھ رہے ہو
دیر ہوئی ہے
میرے پتھر قدموں کے نیچے یہ دھرتی
رُکی ہوئی ہے
ہاں پر تم کہہ کر تو دیکھو
لیکن چھوڑو … کیا رکھا ہے
بس تم ہنستی کھیلتی ، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہو گے
سورج ڈھلتے ڈھلتے آخر ڈھل جائے گا
اور پرے دو پیڑ ہیولے بن جائیں گے …
رات کے بعد …
وقت کی سرمئی نگاہوں میں
گُھل رہی ہیں بڑی خموشی سے
رات کی ڈوبتی ہوئی سانسیں
اُلجھے اُلجھے ہوئے مرے دل سے
دُھل رہی ہیں نشاط کی گھڑیاں
کھڑکیوں سے پرے لرزتی ہے
چاپ اِک ملگجے اُجالے کی
گرم کمرے سے رات کی مہماں
دل رُبا ساعتیں پلٹتی ہیں
سازِ جاں تھک کے سو گیا ہے کہیں
تھم چکی کب سے آرزوئے حیات
دیر سے چُپ، اُداس ، رنجیدہ
پھر کسی سوچ سے گریزاں ہوں
ڈوبتا چاند اِک تسلسل سے
ذہن کے آہنی دریچوں پر
سہمے سہمے خیال دھرتا ہے
اور بکھرا ہوا یہ شب خانہ
مجھ سے ڈھیروں سوال کرتا ہے …
شام اترتی رہی
چپ کھڑی سامنے والی دِیوار پر
سانولے سرد ہاتھوں سے
رخنوں میں دبکی حرارت کھرچتی،
سبک ، سرمئی پیرہن کو لیے
کیاریوں کے شفق رنگ منظر نگلتی
کھُلے آنگنوں اور ستونوں ، درختوں
دریچوں پہ
گہرے سیہ رنگ خوابوں کی دستک لیے
جھانکتی ، تاکتی بند دروازوں ،درزوں سے ہوتی ہوئی
میز پر چائے کے خالی مگ سے اُلجھتی ، سرکتی
کسی گم شدہ سوچ کے زرد مرغولوں کو
تھپتھپاتی ہوئی
شام اُترتی رہی
ایک بے جان چہرے پہ
خالی نگاہوں کے خاکوں کو چھوتی، لرزتی
کسی خوف کی ان چھوئی ساعتوں سے
ذرا کانپتی ، کپکپاتی
بہت دیر سے بند دھڑکن پہ بے سُود
آہٹ کو دھرتی ہوئی
شام اترتی رہی
سالگرہ
تن کی مٹی
اور بھی کومل
اُلجھے سلجھے
ریشم میں
چاندی کے ڈورے
اور نمایاں
اور بھی گہری
سوچ کی سلوٹ
نینوں میں
سپنوں کا سایہ
ہلکا ، مدھم
اندر پھیلا
درد کا بادل
اور بھی میلا
اور بھی گہرا
چلتے چلتے
دُور کہیں اِک
منظر پگھلا
تارا نکلا
وقت کے ہاتھ سے
دھیرے دھیرے
ایک برس کا
سکہ پھسلا
شام اترتی رہی
بم دھماکہ
سرما کی بے رحم فضا میں
سرخ لہو نے بہتے بہتے
حیرانی سے
تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا
ابھی تو میں ان نیلی، گرم رگوں میں
کیسے دوڑ رہا تھا
بجھتی ہوئی اِک سانس کی لَو نے
اپنے ننھے جیون کی
اس آخری تیز، کٹیلی ہچکی کو جھٹکا
دوخالی نظریں
دُور دھویں کے پار
کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں
ابھی ابھی تو نیلا امبر
باہیں کھولے تنا کھڑا تھا
مُندی مُندی سی دھوپ
یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی
پھر کس نے اس جیتے جاگتے
منظر میں یہ آگ بھری ہے
کالی فضا میں اُڑتے ریشے
آدھی اُدھڑی بے بس لاشیں
سرخ لہو نے حیرانی سے
جلے ہوئے منظر کو دیکھا
آخری تیز، کٹیلی ہچکی
ٹوٹ رہی تھی …