عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مصافِ دشت تماشا نہیں ٹھہر جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
سوادِ شب میں کسی سمت کا سراغ کہاں
یہ سیمیا ہے ستارہ نہیں ٹھہر جاؤ
تم اس حریف کو پامال کر نہیں سکتے
تمہاری ذات ہے دُنیا نہیں ٹھہر جاؤ
یہ ہوُ کا وقت، یہ جنگل گھنا، یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ
ہوا رکے تو وہی اک صدا سنائی دے
’’انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ‘‘
عرفان صدیقی