زمرہ جات کے محفوظات: غزل

ہوتا اگر اختیار کچھ دیر

کرتا اُسے بے قرار کچھ دیر
ہوتا اگر اختیار کچھ دیر
کیا روئیں فریبِ آسماں کو
اپنا نہیں اعتبار کچھ دیر
آنکھوں میں کٹی پہاڑ سی رات
سو جا دلِ بے قرار کچھ دیر
اے شہرِ طرب کو جانے والو
کرنا مرا انتظار کچھ دیر
بے کیفیٔ روز و شب مسلسل
سرمستیٔ انتظار کچھ دیر
تکلیفِ غمِ فراق دائم
تقریبِ وصالِ یار کچھ دیر
یہ غنچہ و گل ہیں سب مسافر
ہے قافلۂ بہار کچھ دیر
دنیا تو سدا رہے گی ناصر
ہم لوگ ہیں یادگار کچھ دیر
ناصر کاظمی

اک نئی آس کا پہلو نکلا

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا
اک نئی آس کا پہلو نکلا
لے اُڑی سبزۂ خود رو کی مہک
پھر تری یاد کا پہلو نکلا
میٹھی بولی میں پپیہے بولے
گنگناتا ہوا جب تو نکلا
آئیں ساون کی اندھیری راتیں
کہیں تارا کہیں جگنو نکلا
نئے مضمون سجھاتی ہے صبا
کیا ادھر سے وہ سمن بو نکلا
پاؤں چلنے لگی جلتی ہوئی ریت
دشت سے جب کوئی آہو نکلا
کئی دن رات سفر میں گزرے
آج تو چاند لبِ جو نکلا
طاقِ میخانہ میں چاہی تھی اماں
وہ بھی تیرا خمِ ابرو نکلا
اہلِ دل سیرِ چمن سے بھی گئے
عکسِ گل سایۂ گیسو نکلا
واقعہ یہ ہے کہ بدنام ہوئے
بات اتنی تھی کہ آنسو نکلا
ناصر کاظمی

ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
لبِ جو چھاؤں میں درختوں کی
وہ ملاقات تھی عجب کوئی
جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا
وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی
کچھ خبر لے کہ تیری محفل سے
دُور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی
نہ غمِ زندگی نہ دردِ فراق
دل میں یونہی سی ہے طلب کوئی
یاد آتی ہیں دُور کی باتیں
پیار سے دیکھتا ہے جب کوئی
چوٹ کھائی ہے بارہا لیکن
آج تو درد ہے عجب کوئی
جن کو مٹنا تھا مٹ چکے ناصرؔ
اُن کو رسوا کرے نہ اب کوئی
ناصر کاظمی

لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں

سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں
اوّلیں قرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا اُلجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہے سیرِ چراغاں ناصرؔ
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
ناصر کاظمی

کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو

دورِ فلک جب دُہراتا ہے موسمِ گل کی راتوں کو
کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو
ریگِ رواں کی نرم تہوں کو چھیڑتی ہے جب کوئی ہوا
سونے صحرا چیخ اُٹھتے ہیں آدھی آدھی راتوں کو
آتشِ غم کے سیلِ رواں میں نیندیں جل کر راکھ ہوئیں
پتھر بن کر دیکھ رہا ہوں آتی جاتی راتوں کو
میخانے کا افسردہ ماحول تو یونہی رہنا ہے
خشک لبوں کی خیر مناؤ کچھ نہ کہو برساتوں کو
ناصرؔ میرے منہ کی باتیں یوں تو سچے موتی ہیں
لیکن اُن کی باتیں سن کر بھول گئے سب باتوں کو
ناصر کاظمی

بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں

نصیبِ عشق دلِ بے قرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
تلافیٔ ستمِ روزگار کون کرے
تو ہم سخن بھی نہیں رازدار بھی تو نہیں
زمانہ پرسشِ غم بھی کرے تو کیا حاصل
کہ تیرا غم غمِ لیل و نہار بھی تو نہیں
تری نگاہِ تغافل کو کون سمجھائے
کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں
تو ہی بتا کہ تری خامشی کو کیا سمجھوں
تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں
وفا نہیں نہ سہی رسم و راہ کیا کم ہے
تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں
اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست
مگر چراغِ سرِ رہگزار بھی تو نہیں
بہت فسردہ ہے دل، کون اس کو بہلائے
اُداس بھی تو نہیں بے قرار بھی تو نہیں
تو ہی بتا ترے بے خانماں کدھر جائیں
کہ راہ میں شجرِ سایہ دار بھی تو نہیں
فلک نے پھینک دیا برگِ گل کی چھاؤں سے دُور
وہاں پڑے ہیں جہاں خار زار بھی تو نہیں
جو زندگی ہے تو بس تیرے دردمندوں کی
یہ جبر بھی تو نہیں اختیار بھی تو نہیں
وفا ذریعۂ اظہارِ غم سہی ناصر
یہ کاروبار کوئی کاروبار بھی تو نہیں
ناصر کاظمی

گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی

کم فرصتئی خوابِ طرب یاد رہے گی
گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی
ہرچند ترا عہدِ وفا بھول گئے ہم
وہ کشمکشِ صبر طلب یاد رہے گی
سینے میں امنگوں کا وہی شور ہے اب تک
وہ شوخیٔ یک جنبشِ لب یاد رہے گی
پھر جس کے تصوّر میں برسنے لگیں آنکھیں
وہ برہمیٔ صحبتِ شب یاد رہے گی
گو ہجر کے لمحات بہت تلخ تھے لیکن
ہر بات بعنوانِ طرب یاد رہے گی
ناصر کاظمی

تری آواز اب تک آ رہی ہے

خموشی اُنگلیاں چٹخا رہی ہے
تری آواز اب تک آ رہی ہے
دلِ وحشی لیے جاتا ہے لیکن
ہوا زنجیر سی پہنا رہی ہے
ترے شہرِ طرب کی رونقوں میں
طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے
کرم اے صرصرِ آلامِ دوراں
دلوں کی آگ بجھتی جا رہی ہے
کڑے کوسوں کے سناٹے ہیں لیکن
تری آواز اب تک آ رہی ہے
طنابِ خیمۂ گل تھام ناصرؔ
کوئی آندھی اُفق سے آ رہی ہے
ناصر کاظمی

دلّی اب کے ایسی اُجڑی گھر گھر پھیلا سوگ

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلّی اب کے ایسی اُجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اُٹھ اُٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ
جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان
دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ
ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اُداس
وہی پرانی باتیں اُس کی وہی پرانا روگ
ناصر کاظمی

نگاہِ شوق کس منزل سے گزری

صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری
نگاہِ شوق کس منزل سے گزری
کبھی روئے کبھی تجھ کو پکارا
شبِ فرقت بڑی مشکل سے گزری
ہوائے صبح نے چونکا دیا یوں
تری آواز جیسے دل سے گزری
مرا دل خوگرِ طوفاں ہے ورنہ
یہ کشتی بارہا ساحل سے گزری
ناصر کاظمی

وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جائے

کسے دیکھیں کہاں دیکھا نہ جائے
وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جائے
مری بربادیوں پر رونے والے
تجھے محوِ فغاں دیکھا نہ جائے
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگِ آسماں دیکھا نہ جائے
سفر ہے اور غربت کا سفر ہے
غمِ صد کارواں دیکھا نہ جائے
کہیں آگ اور کہیں لاشوں کے انبار
بس اے دورِ زماں دیکھا نہ جائے
در و دیوار ویراں شمع مدھم
شبِ غم کا سماں دیکھا نہ جائے
پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
بھری برسات خالی جا رہی ہے
سرِ ابرِ رواں دیکھا نہ جائے
کہیں تم اور کہیں ہم، کیا غضب ہے
فراقِ جسم و جاں دیکھا نہ جائے
وہی جو حاصلِ ہستی ہے ناصر
اُسی کو مہرباں دیکھا نہ جائے
ناصر کاظمی

حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا

نازِ بیگانگی میں کیا کچھ تھا
حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا
لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے
عہدِ آوارگی میں کیا کچھ تھا
آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے
عالمِ بے خودی میں کیا کچھ تھا
یاد ہیں مرحلے محبت کے
ہائے اُس بے کلی میں کیا کچھ تھا
کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی
آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا
کتنے مانوس لوگ یاد آئے
صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا
رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ
پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
ناصر کاظمی

لب پہ مشکل سے تری بات آئی

یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی
لب پہ مشکل سے تری بات آئی
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہائے کیا ہو گا اگر رات آئی
بستیاں چھوڑ کے برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئی
کوئی جب مل کے ہوا تھا رخصت
دلِ بے تاب وہی رات آئی
سایۂ زلفِ بتاں میں ناصرؔ
ایک سے ایک نئی رات آئی
ناصر کاظمی

تم اپنی سی کر گزرے

کوئی جیے یا کوئی مرے
تم اپنی سی کر گزرے
دل میں تیری یادوں نے
کیسے کیسے رنگ بھرے
اب وہ اُمنگیں ہیں نہ وہ دل
کون اب تجھ کو یاد کرے
پیار کی ریت نرالی ہے
کوئی کرے اور کوئی بھرے
پھول تو کیا کانٹے بھی نہیں
کیسے اُجڑے باغ ہرے
بادل گرجا پون چلی
پھلواری میں پھول ڈرے
پت جھڑ آنے والی ہے
رَس پی کر اُڑ جا بھونرے
ناصر کاظمی

بوئے گل ہے سراغ میں گل کے

دِن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے
بوئے گل ہے سراغ میں گل کے
دلِ ویراں میں دوستوں کی یاد
جیسے جگنو ہوں داغ میں گل کے
کیسی آئی بہار اب کے برس
بوئے خوں ہے ایاغ میں گل کے
اب تو رستوں میں خاک اُڑتی ہے
سب کرشمے تھے باغ میں گل کے
آنسوئوں کے دیے جلا ناصرؔ
دم نہیں اب چراغ میں گل کے
ناصر کاظمی

کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا
باقی ہیں تمام رنگ میرے
آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں
یادوں کے بجھے ہوے سویرے
دیتے ہیں سراغ فصلِ گل کا
شاخوں پہ جلے ہوے بسیرے
منزل نہ ملی تو قافلوں نے
رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے
جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے
رودادِ سفر نہ چھیڑ ناصر
پھر اشک نہ تھم سکیں گے میرے
ناصر کاظمی

مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
مرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے
اب اُن دنوں کا تصوّر بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اُداس نہیں
ناصر کاظمی

یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے

شہر در شہر گھر جلائے گئے
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
اک طرف جھوم کر بہار آئی
اک طرف آشیاں جلائے گئے
اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب
اک طرف جشنِ جم منائے گئے
کیا کہوں کس طرح سرِبازار
عصمتوں کے دیے بجھائے گئے
آہ وہ خلوتوں کے سرمائے
مجمعِ عام میں لٹائے گئے
وقت کے ساتھ ہم بھی اے ناصرؔ
خار و خس کی طرح بہائے گئے
ناصر کاظمی

بس غمِ دوراں ہارے ہم

پہنچے گور کنارے ہم
بس غمِ دوراں ہارے ہم
سب کچھ ہار کے رستے میں
بیٹھ گئے دکھیارے ہم
ہر منزل سے گزرے ہیں
تیرے غم کے سہارے ہم
دیکھ خیالِ خاطرِ دوست
بازی جیت کے ہارے ہم
آنکھ کا تارا آنکھ میں ہے
اب نہ گنیں گے تارے ہم
ناصر کاظمی

بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے

نہ آنکھیں ہی برسیں نہ تم ہی ملے
بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے
نہ جانے کہاں لے گئے قافلے
مسافر بڑی دور جا کر ملے
وہی وقت کی قید ہے درمیاں
وہی منزلیں اور وہی فاصلے
جہاں کوئی بستی نظر آ گئی
وہیں رُک گئے اجنبی قافلے
تمھیں دل گرفتہ نہیں دوستو
ہمیں بھی زمانے سے ہیں کچھ گلے
ہمیں بھی کریں یاد اہلِ چمن
چمن میں اگر کوئی غنچہ کھلے
ابھی اور کتنی ہے میعادِ غم
کہاں تک ملیں گے وفا کے صلے
ناصر کاظمی

تو مجھ سے میں تجھ سے دُور

دیکھ محبت کا دستور
تو مجھ سے میں تجھ سے دُور
تنہا تنہا پھرتے ہیں
دل ویراں آنکھیں بے نور
دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لیے جاتا ہے دُور
ہم اپنا غم بھول گئے
آج کسے دیکھا مجبور
دل کی دھڑکن کہتی ہے
آج کوئی آئے گا ضرور
کوشش لازم ہے پیارے
آگے جو اُس کو منظور
سورج ڈوب چلا ناصر
اور ابھی منزل ہے دُور
ناصر کاظمی

آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات

عشق میں جیت ہوئی یا مات
آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات
یوں آیا وہ جانِ بہار
جیسے جگ میں پھیلے بات
رنگ کھلے صحرا کی دھوپ
زلف گھنے جنگل کی رات
کچھ نہ سنا اور کچھ نہ کہا
دل میں رہ گئی دل کی بات
یار کی نگری کوسوں دُور
کیسے کٹے گی بھاری رات
بستی والوں سے چھپ کر
رو لیتے ہیں پچھلی رات
سناٹوں میں سنتے ہیں
سنی سنائی کوئی بات
پھر جاڑے کی رُت آئی
چھوٹے دن اور لمبی رات
ناصر کاظمی

خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال
بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے
ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے
بقدرِ تشنہ لبی پرشسِ وفا نہ ہوئی
چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے
خیال آ گیا مایوس رہگزاروں کا
پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے
کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
اُمیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے
ناصر کاظمی

قصہ تھا دراز کھو گئے ہم

کچھ کہہ کے خموش ہو گئے ہم
قصہ تھا دراز کھو گئے ہم
تو کون ہے تیرا نام کیا ہے
کیا سچ ہے کہ تیرے ہو گئے ہم
زلفوں کے دھیان میں لگی آنکھ
پرکیف ہوا میں سو گئے ہم
ناصر کاظمی

مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں
مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں
بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں
یہاں تک بڑھ گئے آلامِ ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہو گئے ہیں
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
نگاہِ یاس کو نیند آ رہی ہے
مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ہیں
اُنھیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں
جنھیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
ناصر کاظمی

میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی

حاصلِ عشق ترا حسن پشیماں ہی سہی
میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی
حسن بھی حسن ہے محتاجِ نظر ہے جب تک
شعلۂ عشق چراغِ تہِ داماں ہی سہی
کیا خبر خاک ہی سے کوئی کرن پھوٹ پڑے
ذوقِ آوارگیٔ دشت و بیاباں ہی سہی
پردۂ گل ہی سے شاید کوئی آواز آئے
فرصتِ سیر و تماشائے بہاراں ہی سہی
ناصر کاظمی

اپنی دنیا دیکھ ذرا

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا
اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سناٹا
جھونپڑی والوں کی تقدیر
بجھا بجھا سا ایک دیا
خاک اُڑاتے ہیں دن رات
میلوں پھیل گئے صحرا
زاغ و زغن کی چیخوں سے
سونا جنگل گونج اُٹھا
سورج سر پر آ پہنچا
گرمی ہے یا روزِ جزا
پیاسی دھرتی جلتی ہے
سوکھ گئے بہتے دریا
فصلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا
او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا
ناصر کاظمی

جاگ مسافر اب تو جاگ

ختم ہوا تاروں کا راگ
جاگ مسافر اب تو جاگ
دھوپ کی جلتی تانوں سے
دشتِ فلک میں لگ گئی آگ
دن کا سنہرا نغمہ سن کر
ابلقِ شب نے موڑی باگ
کلیاں جھلسی جاتی ہیں
سورج پھینک رہا ہے آگ
یہ نگری اندھیاری ہے
اس نگری سے جلدی بھاگ
ناصر کاظمی

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ
لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ
اب کی فصلِ بہار سے پہلے
رنگ تھے گلستاں میں کیا کیا کچھ
کیا کہوں اب تمھیں خزاں والو!
جل گیا آشیاں میں کیا کیا کچھ
دل ترے بعد سو گیا ورنہ
شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ
ناصر کاظمی

پھر آئے گا دورِ صبحگاہی

مایوس نہ ہو اُداس راہی
پھر آئے گا دورِ صبحگاہی
اے منتظرِ طلوعِ فردا
بدلے گا جہانِ مرغ و ماہی
پھر خاک نشیں اُٹھائیں گے سر
مٹنے کو ہے نازِ کجکلاہی
انصاف کا دن قریب تر ہے
پھر داد طلب ہے بے گناہی
پھر اہلِ وفا کا دور ہو گا
ٹوٹے گا طلسمِ کم نگاہی
آئینِ جہاں بدل رہا ہے
بدلیں گے اوامر و نواہی
ناصر کاظمی

اِک بار جو آئے پھر نہ آئے

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آئے تو سنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اُس کو کہاں سے ڈھونڈ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھرائے
مہکی ہوئی سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلائے
راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں
آنچل میں حیا سے منہ چھپائے
اُڑتی ہوئی زلف یوں پریشاں
جیسے کوئی راہ بھول جائے
کچھ پھول برس پڑے زمیں پر
کچھ گیت ہوا میں لہلہائے
ناصر کاظمی

تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی

محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئی تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اُداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرے دل کو قرار ہے
میں جیسے آشنائے بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
ناصر کاظمی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے اَلَمِ حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گذری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمھارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
ناصر کاظمی

اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے

جی بھی کرتا ہے تجھ سے ملنے کو
اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے
لطفِ مے سے ہم آشنا ہیں مگر
یہ مضر ہی نہیں حرام بھی ہے
سر بلندی کی آرزو کے ساتھ
دل میں کچھ خوفِ انہدام بھی ہے
باصر کاظمی

جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی

جس کو دوائے دل کہتے ہیں یہ تو نہیں کہ نہیں ملتی
جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی
باور کر لو سچ کہتا ہوں تم سے ملتی ہے اک شکل
آئینہ دیکھو اور بتاؤ ملتی ہے کہ نہیں ملتی
کالے بادل حائل ہو جاتے ہیں ورنہ دھوپ مری
سورج سے تو آ جاتی ہے لیکن چھت پہ نہیں ملتی
عزت چاہتے ہو باصِرؔ تو یاد رکھو میری یہ بات
نیت جب تک ٹھیک نہ ہو جاں دے کر بھی یہ نہیں ملتی
باصر کاظمی

بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں

شعر لکھواتے ہیں جب خود کو تو ہم لکھتے ہیں
بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں
شور کرتا ہے رگ وپے میں سخن اک مدت
تب کہیں جا کے اٹھاتے ہیں قلم لکھتے ہیں
بولتے ہیں کہ عنایت ہے یہ تیری یارب
اور جب تک ہے ترا ہم پہ کرم لکھتے ہیں
باصر کاظمی

باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ

جب تک نہ اپنے ہاتھ میں لیں انتظام لوگ
باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ
کیا خاص لوگ ہوتے ہیں اور کیسے عام لوگ
اُن کی طرف سے بھاڑ میں جائیں تمام لوگ
یا تو گھٹا دیا اُسے یا پھر بڑھا دیا
کب دے سکے کسی کو بھی اُس کا مقام لوگ
باصر کاظمی

قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر

مزاج اپنا غلامی سے یہ بنا ہے کہ ہم
قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر
ہدف ہے گرچہ نشانے پہ ایک مدت سے
میں کیا کروں کہ مرا تیر ہے کماں میں اسیر
نہ کر سکا جو فراہم قفس مجھے صیاد
تو کر دیا مجھے میرے ہی آشیاں میں اسیر
رہا تو کر انہیں پھر دیکھ معجزے باصِرؔ
جو قوتیں ہیں تری خاکِ ناتواں میں اسیر
باصر کاظمی

اب شہر میں کم بناتے ہیں

سامان جو ہم بناتے ہیں
اب شہر میں کم بناتے ہیں
ہوتے ہیں لغت میں پتھر لفظ
ہیرا انہیں ہم بناتے ہیں
جو ہاتھ قلم اُٹھاتے تھے
ہیہات وہ بم بناتے ہیں
رکھ دیتے ہیں توڑ کے جو باصِرؔ
ہم کو وہی غم بناتے ہیں
باصر کاظمی

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان

جس راہ پر بھی ہم چلے اُس سے یہی آئی صدا
نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان
جتنی بلندی دیکھنی تھی دیکھ لی آگے تو بس
ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان
تقدیر مجبوری نہیں یہ تو کسی بھی چیز کا
امکان ہے امکان ہے امکان ہے امکان
ذوقِ سخن اتنا بڑھا اپنا کہ اب تو ہر طرف
دیوان ہے دیوان ہے دیوان ہے دیوان
گو بادشاہت کا مخالف ہوں مگر ٹیپو مرا
سلطان ہے سلطان ہے سلطان ہے سلطان
باصِرؔ سے ہوتی ہے خطا یہ سوچ کے کر درگذر
نادان ہے نادان ہے نادان ہے نادان
باصر کاظمی

اب تھوڑی سی پِلا کافی

دورِ جام رہا کافی
اب تھوڑی سی پِلا کافی
کچھ خاموشی ہے درکار
دن بھر شور رہا کافی
دل کے دکھ کا مداوا مے
دردِ سر کی دوا کافی
میرا بائی کا بھجن سنا
بلہے شاہ کی گا کافی
مِل گئی دنیا ہی میں ہمیں
باصِر سزا جزا کافی
باصر کاظمی

نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں

مقابلہ ہے کہ ہیں کس کے پاس کیا خبریں
نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں
ہے میرے پاس خدا کا دیا ہوا سب کچھ
اگر مرے لیے لانا ہے کچھ تو لا خبریں
سنی سنائی پہ کرتا نہیں یقین کوئی
سنانی چھوڑ مرے دوست اب دکھا خبریں
دیا نہ دھیان کسی نے کھلا نہ در کوئی
نگر نگر لیے پھرتی رہی ہوا خبریں
ہوئی کسی کی توجہ نہ جس عمارت پر
اُسی کے ملبے میں بکھری ہیں جا بجا خبریں
باصر کاظمی

سہل اُس نے ہی کی مری مشکل

آزمانے کو جس نے دی مشکل
سہل اُس نے ہی کی مری مشکل
زندگی تو اِسی طرح سے ہے
کبھی آسان اور کبھی مشکل
میرے معمول کے ملاقاتی
کوئی چھوٹی کوئی بڑی مشکل
جو تمہارے لیے سہولت ہے
وہ ہمارے لیے بنی مشکل
چھوڑ آیا تھا میں جسے پیچھے
سامنے ہے مرے وہی مشکل
یوں تو آرام ہر طرح کا ہے
رات سونے میں کچھ ہوئی مشکل
باصر کاظمی

سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی

ہر چند رہگزر تھی دشوار قافیے کی
سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی
دن کا سکون غارت راتوں کی نیند غائب
سر پر لٹک رہی ہے تلوار قافیے کی
ہم اس کو باندھتے کیا جکڑا ہے اس نے ہم کو
اب دیکھتے ہیں صورت ناچار قافیے کی
اِس آس پر کہ شاید ہو جائے تنگ ہم پر
کرتے رہے خوشامد اغیار قافیے کی
تازہ ہوا چلی اور اک لہر دل میں اٹھی
روکے نہ رک سکی پھر یلغار قافیے کی
پایا سراغِ مضموں گاہے ردیف میں بھی
لازم نہ تھی سماجت ہر بار قافیے کی
دشتِ خیال میں پھر کیا کیا کھُلے مناظر
کچھ دیر کو ہٹی تھی دیوار قافیے کی
جب شعر کا سفینہ بحرِ غزل میں ڈولا
اُس وقت کام آئی پتوار قافیے کی
مغرب کی ہو کہانی یا مشرقی روایت
اونچی رہی ہمیشہ دستار قافیے کی
کچھ شعر کام کے بھی اِس میں نکالے ہم نے
وہ کہتے تھے زمیں ہے بیکار قافیے کی
پھر اور کوئی نغمہ بھائے نہ اُس کو باصِرؔ
جو ایک بار سن لے جھنکار قافیے کی
باصر کاظمی

جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل

کیا بیاں کیجیے اب وسعتِ دامانِ غزل
جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل
آپ ہم لاکھ بگاڑا کریں اس کی صورت
کوئی قوت ہے پُراسرار نگہبانِ غزل
قطب تھا اُن میں کوئی اور ولی تھا کوئی
دیکھنے میں تو وہ تھے محض ثنا خوانِ غزل
چاہیے شعر کو اب بھی وہی سودا وہی درد
توسنِ طبع وہی اور وہی میدانِ غزل
میرِ محفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر
اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل
آتشِ عشق نے دی جرأتِ اظہار مجھے
شجرِ غم کا ثمر ہے مرا دیوانِ غزل
کام گو بند نہیں کوئی بھی غالب کے بغیر
نام سے اُس کے ہی روشن ہے خیابانِ غزل
ناسخ و ذوق و ظفر، مومن و حالی و امیر
ان کے پھولوں سے مہکتا ہے گلستانِ غزل
راہ شاعر کو دکھاتا ہے وہی داغِ فراق
آج بھی ہجر کا سامان ہے سامانِ غزل
سفرِ فکر میں اقبال رہا میرا انیس
اُس نے سیراب کیا میرا بیابانِ غزل
لخت ہائے جگرِ وحشی کو معمولی نہ جان
کوئی یاقوتِ غزل ہے کوئی مرجانِ غزل
عمر بھر ہم کو وفا پیشہ اُسی نے رکھا
ہم نے باندھا تھا لڑکپن میں جو پیمانِ غزل
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصِرؔ
مدرسہ میرا ہے ناصِر کا دبستانِ غزل
باصر کاظمی

گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ

جل رہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ
گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ
شاخِ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے
اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ
چند چھینٹے پڑے تھے بارش کے
شہر میں ہر طرف ہوا کیچڑ
دیکھتے ہی اُسے، ہوا محسوس
مجھ سے پھر ہو گئی کہیں گڑبڑ
آزمائش میں آ گئے باصِرؔ
پھر کسی بات کی ہوئی ہے پکڑ
باصر کاظمی

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور
جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ
تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام
ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی
کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ
باصر کاظمی

کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ
اِدھر بھی آئی تھی موجِ بہار ایک منٹ
پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا
ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ
ابد تلک ہوئے ہم اُس کے وسوسوں کے اسیر
کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ
اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی
جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ
پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصِرؔ
کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ
باصر کاظمی

اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ
اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ
چاند ہے اور آسمان ہے صاف
رہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ
اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین
اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ
شعر کیا شاعری کے بارے میں
سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ
کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ
اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ
وہ ملے بھی تو بس یہ پوچھیں گے
کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ
صحبتِ اہلِ ذوق ہے باصِرؔ
اب سناؤ کلام آٹھ سے پانچ
باصر کاظمی

ہے دستورِ زمانہ بادشاہت

رواج و رسمِ دنیا بادشاہت
ہے دستورِ زمانہ بادشاہت
کہو کیا چاہیے؟ پوچھا گیا جب
کہا سب نے کہ آقا بادشاہت
چھپانے کے لیے کچھ، گاہے گاہے
دکھاتی ہے تماشا بادشاہت
اگر محکوم ہی رہنا تھا ہم کو
تو کیا جمہوریت کیا بادشاہت
بہت بھاگے تھے باصِرؔ آمروں سے
ملی دنیا میں ہر جا بادشاہت
باصر کاظمی

بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں

گو بیاباں میں ہوں اور بے بس و بے یار ہوں میں
بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں
شانِ مصروفیت آوارگی میں بھی تھی کچھ
گھر میں ہر چند کہ مصروف ہوں بیکار ہوں میں
اُسی طوفان کی اک لہر مری ناؤ بنی
تم اُدھر ڈھونڈ رہے ہو مجھے اِس پار ہوں میں
مٹ گئے سینکڑوں اقرار حمایت کے تری
آج بھی گونج رہا ہے جو وہ انکار ہوں میں
میرے بارے میں کبھی فرض نہ کر لینا کچھ
سرِ تسلیم کبھی ہوں کبھی تلوار ہوں میں
باصر کاظمی

اپنی بات کرو گے

جب بھی بات کرو گے
اپنی بات کرو گے
آج تو میں سمجھا تھا
میری بات کرو گے
مجھ کو پتا ہے اب تم
کس کی بات کرو گے
جیسی صحبت ہو گی
ویسی بات کرو گے
جب بولو گے باصِرؔ
الٹی بات کرو گے
باصر کاظمی

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

کسی گنتی کسی شمار میں تھے

گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
کسی گنتی کسی شمار میں تھے
سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظ
اک پُراسرار سے حصار میں تھے
خوش ہوا ہوں غموں سے مل کے یوں
جیسے یہ میرے انتظار میں تھے
تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں
جو کبھی پہلے تین چار میں تھے
اب وہ سارے خزاں میں ہیں باصِرؔ
رنگ جتنے کبھی بہار میں تھے
باصر کاظمی

ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب

اُن پہ لاتی نہیں عذاب کتاب
ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب
کبھی سورج کی آب و تاب کتاب
ہے کبھی سایہء سحاب کتاب
لکھ رہا ہوں میں آجکل واعظ
تیری تقریر کا جواب کتاب
آپ ہی نے تو کی تھی فرمائش
لیجیے پیش ہے جناب کتاب
ہم سے باصِرؔ کبھی پڑھی نہ گئی
جو ہوئی شاملِ نصاب کتاب
باصر کاظمی

دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش
دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش
زنداں کی سلاخوں سی ہیں پانی کی یہ تاریں
صیاد سے کچھ کم نہیں ہر وقت کی بارش
لازم نہیں پیدل چلوں یا دوڑ لگاؤں
ہیں گھر کے مرے کام ہی اچھی بھلی ورزش
مانا کہ علاج اس کے سوا کچھ نہیں لیکن
کیا دل کے بدلنے سے بدل جائے گی خواہش
کوتاہیاں اپنی تو دکھائی نہیں دیتیں
ہر بات میں آتی ہے نظر غیر کی سازش
کچھ سنگِ گراں مایہ ہمیں بھی ملے باصِرؔ
سچ ہے کہ اکارت نہیں جاتی کوئی کاوش
باصر کاظمی

روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی
روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی
حیران کن تھی چُپ بھی تمہاری مرے لیے
بولے ہو اب تو بات بھی تم نے عجیب کی
سامانِ عیش دیکھ کے بزمِ نشاط میں
رہتی ہے یاد کس کو نصیحت طبیب کی
کب تک کرو گے اہلِ سیاست پہ اعتبار
یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی
ہو جن کی سب توجہ سمندر کے اُس طرف
اُن کو صدا سنائی نہ دے گی قریب کی
سینہ بہ سینہ کرتی ہے یہ ہر طرف سفر
حق بات کو نہیں ہے ضرورت نقیب کی
باصِرؔ بلا مقابلہ وہ منتخب ہوا
میری شکستہ پائی ہے محسن رقیب کی
باصر کاظمی

دوستو آگے چڑھائی ہے بہت

تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت
دوستو آگے چڑھائی ہے بہت
کہہ رہی ہے آج بھی نہرِ فرات
ساتھ ہو تو ایک بھائی ہے بہت
روز اک تازہ امید اک تازہ رنج
ہم کو غربت راس آئی ہے بہت
اے خرد اب کچھ مرے دل کی بھی سوچ
اِس نے بھی آفت مچائی ہے بہت
بیٹھتا ہے شیخ کب رندوں کے پاس
اُس کو زعمِ پارسائی ہے بہت
دیس کی کایا پلٹنے کے لیے
ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت
باصر کاظمی

کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون

گر برستا ہی رہا اِس طرح افلاک سے خون
کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون
میرے زخموں کو میسر نہیں مرہم پٹی
پونچھتا رہتا ہوں بس اپنی ہی پوشاک سے خون
جیسے دریا سے نکلتی ہوں بہت سی نہریں
ایسے بہتا ہے مرے دامنِ صد چاک سے خون
کیا ہوا ہے مرے اندر کہ ہوا ہے جاری
میری آنکھوں سے مرے منہ سے مری ناک سے خون
اتنا تڑپی ہے یہ مے خواروں کی محرومی پر
مے نہیں آج ٹپکتا ہے رگِ تاک سے خون
پھر شبِ ہجر مرے شہر پہ ہے سایہ فگن
آج پھر چاہیے اِس کو کسی بے باک سے خون
باصر کاظمی

پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک

اعمالِ کج کریں گے تعاقب قبور تک
پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک
کچھ اور جاگ لینے دے اے شامِ زندگی
سونا ہے اس کے بعد تو صبحِ نشور تک
اپنا وہی سوال تھا اُس کا وہی جواب
کیا کیا نہ کوہ دیکھے ہمالہ سے طور تک
گذرے گا کیسے کیسے مدارج سے کیا خبر
لمبا سفر ہے خاک کے ذرے کا نور تک
غافل ہیں اِس قدر کہ گذرتا ہے یہ گمان
ہم کو جگا نہ پائے گی آوازِ صور تک
باصِرؔ کہاں ہیں روز کے وہ ہمسفر مرے
خالی پڑی ہوئی ہے سڑک دور دور تک
باصر کاظمی

اِس میں لگ جائے گا جگر پورا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا
اِس میں لگ جائے گا جگر پورا
یا تو ہو جائیں اِس میں پورے غرق
یا کریں عشق سے حذر پورا
جانتا ہوں کہ خیر خواہ ترے
تجھ کو رکھتے ہیں باخبر پورا
مشورہ اُس مشیر سے مت کر
ہو جو آدھا اِدھر اُدھر پورا
پھول خوشبو سے بھر گئے باصِرؔ
چاند چمکا ہے رات بھر پورا
باصر کاظمی

ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں

کیا جو اغیار برا سوچتے ہیں
ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں
سوچتے ہیں کہ نہ سوچیں گے کچھ
سوچتے بھی ہیں تو کیا سوچتے ہیں
سوچتا ہوں کہ مرے بارے میں
وہ نہیں سوچتے یا سوچتے ہیں
زندگی گزری بنا کچھ سوچے
ہے یہ اب اس کی سزا سوچتے ہیں
میں دعا دیتا ہوں اُن کو باصِرؔ
جو مرے دکھ کی دوا سوچتے ہیں
باصر کاظمی

دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان

اک دل کے زیاں پر ہو پریشان مری جان
دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان
جانا کہ یہی ہوں گے مری جان کے درپے
کہتے نہیں تھکتے جو مری جان مری جان
جنت پہ اگر حق ہے تو بس تیرا ہے واعظ
اپنا تو کوئی دین نہ ایمان مری جان
اک عمر گزاری اسے آنکھوں سے لگاتے
اب کھول کے بھی دیکھ لو قرآن مری جان
اوروں کی شکایت جو کیا کرتے ہو باصِرؔ
کچھ آپ ہی بن جاؤ جو انسان مری جان
باصر کاظمی

گر مے پہ ہے پابندی کچھ اُس کا بدل آئے

معمول میں رندوں کے ساقی نہ خلل آئے
گر مے پہ ہے پابندی کچھ اُس کا بدل آئے
مایوس نہیں کرتا میں تجھ کو مگر اے دل
جو آج نہیں آیا مشکل ہے وہ کل آئے
چاہا بھی کہ ہو جائیں کچھ اہلِ ہوس جیسے
پر جو اُنہیں آتے ہیں ہم کو نہ وہ چھل آئے
شاید یہی بہتر ہے ہو جائیں ہمیں سیدھے
قبل اِس کے کہ ماتھے پر اُس شوخ کے بَل آئے
تم دیکھ تو لو آ کر بیمار کو اپنے، پھر
چاہے یہ شفا پائے یا اِس کی اجل آئے
باصر کاظمی

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے
آزاد ہو کے جونہی کھُلے میرے بال و پر
مجھ پر کھُلا کہ پاؤں تہِ دام رہ گئے
میں دے سکا نہ ان کو کسی تجربے کی آنچ
افسوس کچھ خیال مرے خام رہ گئے
کرتی رہی زباں مری بے دست و پا مجھے
باتوں میں عمر بیت گئی کام رہ گئے
میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تک
باصِرؔ بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے
باصر کاظمی

ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات
کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا
کرتا ہوں اِس لیے میں بہت بچ بچا کے بات
پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات
کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات
اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو
اک وہ کہ چل دیے جو ہنسی میں اُڑا کے بات
کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سے
کرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات
وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاں
ملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات
مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشک
ہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رُلا کے بات
باصِرؔ بیانِ سادہ کو پایا ہے بے اثر
کیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات
باصر کاظمی

گھر کا ہر فرد چل دیا باہر

ایک دروازہ کیا کھُلا باہر
گھر کا ہر فرد چل دیا باہر
دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہر
اِس طرح ایک دم نہ جا باہر
چل دیے یوں صنم کدے سے ہم
جیسے مل جائے گا خدا باہر
ایک تجھ سے رہے ہمیشہ دور
ورنہ کیا کچھ نہیں ملا باہر
گھر میں آ کر سکوں ملا باصِرؔ
کس قدر تیز تھی ہوا باہر
باصر کاظمی

غریبم شاعرم گوشہ نشینم

نہ کوئی ہمنوا میرا نہ ہمدم
غریبم شاعرم گوشہ نشینم
اب اِس سے بڑھ کے کیا نام و نَسَب ہو
مَن آدم ابنِ آدم ابنِ آدم
بہت چھوٹی سی اپنی سلطنت میں
مَنم سلطان ہم سلطان زادم
کٹی ہے زندگی لفظوں میں اپنی
سخن گویم سخن دانم دبیرم
مرا اعمال نامہ مختصر ہے
تہی دستم و لیکن شادمانم
مری دانِست میں نامِ محمدؐ
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
باصر کاظمی

مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا

صریحاَ روزِ محشر کا سا نقشہ اُس سمے تھا
مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا
جدا تھے راستے منزل اگرچہ ایک ہی تھی
کہانی وصل کی عنوان جس کا فاصلے تھا
کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے ہیں
مگر شطرنج سے جو عِشق مجھ کو تھا کِسے تھا
دیا تھا اختیارِ انتخاب اُس نے مجھے سب
مجھے معلوم ہے پہلے سے تو کچھ بھی نہ طے تھا
بصارت اور سَماعت کے لیے کیا کچھ نہ تھا پر
الگ ہر رنگ ہر آواز سے اِک بَرگِ نَے تھا
باصر کاظمی

کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا

ہو کوئی بھی کاروبار دھندا
کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا
واعظ نے لگا دیا کہیں اور
مسجد کے لیے ملا جو چندا
راجا ترا ہار موتیوں کا
بن جائے گا کل گَلے کا پھندا
اب ہم ہی کریں گے صاف یہ شہر
ہم نے ہی اِسے کیا ہے گندا
ہیں شعر نئے سو کھُردرے ہیں
درکار ہے خواندگی کا رَندا
کاغذ پہ نہ چھپ سکا جو قول
پتھّر پہ کیا گیا ہے کندہ
باصر کاظمی

آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا

ہر دم نہیں دماغ ہمیں تیری چاہ کا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
تو اور آئنے میں ترا عکس رُوبرُو
نظّارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا
ہے خانۂ خدا بھی وہاں بت کدے کی شکل
غلبہ ہو جس زمیں پہ کسی بادشاہ کا
گو شرع و دین سب کے لیے ایک ہیں مگر
ہر شخص کا الگ ہے تصور گناہ کا
اِک گوشۂ بِساط سے پورس نے دی صدا
میں ہو گیا شکار خود اپنی سپاہ کا
باصرؔ توعہد شِکنی کا موقع نہ دے اُسے
ویسے بھی کم ہے اُس کا ارادہ نباہ کا
باصر کاظمی

وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے

جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے
وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے
یہ بھی کٹ جائے گی جو تھوڑی بہت باقی ہے عمر
ہم یہی کرتے رہیں گے کام اپنے عام سے
اُس درِ انصاف کے درباں بھی ہیں منصف بہت
ہم جونہی فریاد سے باز آئے وہ دشنام سے
عاشقی میں لُطف تو سارا تجسس کی ہے دین
کر دیا آغاز میں کیوں آشنا انجام سے
خاک سے بنتی ہے جیسے خِشت ہم کچھ اِس طرح
دیکھ کیا سونا بناتے ہیں خیالِ خام سے
اِس طرح مل جائے شاید باریابی کا شرف
مشورہ ہے اب کے عرضی بھیج فرضی نام سے
یا تو وہ تصویر ہے پیشِ نظر یا کچھ نہیں
ہاتھ دھو دیدوں سے باصرؔ یہ گئے اب کام سے
باصر کاظمی

اے صاحبِ فن اتار تصویر

منظر ہے کہ شاہکار تصویر
اے صاحبِ فن اتار تصویر
رہ جاتی ہے یادگار تصویر
ہر چیز سے پایدار تصویر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھو گے بار بار تصویر
تصویر کی یار کو ضرورت
محتاجِ جمالِ یار تصویر
معمولی سے کیمرے نے باصرِؔ
کیا کھینچی ہے شاندار تصویر
باصر کاظمی

آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری

پڑھنی تھی کتابِ زیست ساری
آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری
تھی آج تو بات ہی کچھ اور
تصویر اُتارتے تمہاری
ہیں چار طرف کے راستے بند
گزرے گی یہاں سے اک سواری
خوش ہو گئے دو گھڑی کچھ یار
سُبکی تو بہت ہوئی ہماری
ثابت کرو اپنے دعوے باصرِؔ
شیخی تو جناب نے بگھاری
باصر کاظمی

دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں

حالات خراب ہو گئے ہیں
دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں
آسان سوال تھے اگرچہ
دشوار جواب ہو گئے ہیں
لیتی تھیں گھٹائیں جن سے رنگ
محتاجِ خضاب ہو گئے ہیں
راتیں ہیں پہاڑ سی اور دن
مانندِ حباب ہو گئے ہیں
جو کام کبھی گُنہ تھے باصرِؔ
اب کارِ ثواب ہو گئے ہیں
باصر کاظمی

میدان میں طِفل سے ڈریں گے

باتیں تو بڑی بڑی کریں گے
میدان میں طِفل سے ڈریں گے
سب فائدے آپ کے لیے ہیں
نقصان ہیں جتنے ہم بھریں گے
دشمن کی نہیں کوئی ضرورت
آپس ہی میں ہم لڑیں مریں گے
تصویر بنائی اُس نے لیکن
تصویر میں رنگ ہم بھریں گے
باصر کاظمی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ

فائدہ ہو اگر ہمارا کُچھ
اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ
کل ضرورت پڑے تری شاید
آج ہو جائے گا گزارا کُچھ
دھیان میں آئی شکل وہ سرِ شام
ہو گیا صُبح تک سہارا کُچھ
آسماں کا تھا شب عجب احوال
چاند کہتا تھا کُچھ سِتارا کُچھ
باصر کاظمی

ہے خزاں بھی بہار میں مصروف

سازشِ انتشار میں مصروف
ہے خزاں بھی بہار میں مصروف
ہم نے رکھا کئی طرح خود کو
فرصتِ انتظار میں مصروف
مثلِ سیاّرگاں بنی آدم
اپنے اپنے مدار میں مصروف
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حُسن سولہ سِنگھار میں مصروف
آہ وہ وقت جب لہو میرا
تھا دلِ بیقرار میں مصروف
زندگی کٹ رہی ہے باصرِؔ کی
بے ثمر کاروبار میں مصروف
باصر کاظمی

اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی

پہلے ہی زندگی تھی ہماری پہاڑ سی
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
دنیا اِسے خلیج بنا دے گی ایک دن
ہم دونوں کے جو بیچ پڑی ہے دراڑ سی
مشکِل ہُوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہُوئی ہے ڈور سے کوئی دُگاڑ سی
اپنی حدود کا بھی کچھ اِدراک چاہیے
اچھا ہے درمیاں میں رہے ایک باڑ سی
تھی بے اثر غزالِ شکستہ کی آہِ نرم
اب چاہیے ہے شیرِ ببر کی دہاڑ سی
باصر کاظمی

اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ

کچھ قرار آنے لگا تھا مدتوں جلنے کے بعد
اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ
چل رہے تھے کب سے ننگے پاؤں جلتی ریت پر
کیا عجب چڑھنے لگی ہے اب جو اپنے سر کو آگ
دوستو محفوظ مت سمجھو تم اپنے آپ کو
ایک گھر کی آگ سے لگ جائے گی ہر گھر کو آگ
باصر کاظمی

فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر

اپنا زیادہ وقت ہوا نوکری کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کردی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
وہ جاں تو کر چکے ہیں کبھی کے کسی کی نذر
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ مواقع ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مری بے خودی کی نذر
باصر ؔہمارے کام نہ آیا ہمارا دل
کچھ اُن کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی

لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت

اُس کے لیے کچھ بھی کریں انجام شکایت
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
جو کچھ اُسے درکار ہے وہ سب ہے میسّر
کس بات کی کرتا ہے وہ گُلفام شکایت
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہِ دام شکایت
ہم نے ہی نہ خود کو کیا تیرے لیے تیار
تجھ سے نہیں کچھ گردشِ ایّام شکایت
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے تِرا نام شکایت
موقع ہی نہ پایا کبھی تنہائی میں ورنہ
کرتے نہ کبھی تجھ سے سرِ عام شکایت
ہم فرش نشیں خوش ہیں اِسی بات پہ باصرِؔ
پہنچی تو کسی طور لبِ بام شکایت
باصر کاظمی

کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک

اُن کو سب کچھ ہی لگ رہا ہے ٹھیک
کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک
کبھی لب بستگی مناسب ہے
اور کبھی عرضِ مدعا ہے ٹھیک
ڈوب جائیں گے سُنتے سُنتے ہم
سب غلط ایک ناخدا ہے ٹھیک
آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو
مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک
تھی شفا چارہ گر کی باتوں میں
ہم سمجھتے رہے دوا ہے ٹھیک
چَین سے سو رہا ہے ہمسایا
چلیے کوئی تو گھر بنا ہے ٹھیک
ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا
وہ بھی دُشمن سے جا مِلا ہے، ٹھیک
کر دیا تھا عدو نے کام خراب
کر کے کتنے جتن کیا ہے ٹھیک
تیرا بیمار تجھ کو بھُول گیا
کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ٹھیک
کچھ دوا کر کہ زخمِ دل باصرِؔ
خود بخود بھی کبھی ہُوا ہے ٹھیک
باصر کاظمی

حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات

پڑھتا ہوں بے شک نماز بھول گیا میں صلات
حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات
خواہشِ زر کی سدا مجھ پہ حکومت رہی
جسم حرَم ہے مرا ذہن مگر سومنات
کتنا ہی ناپاک ہو مال سمیٹا ہُوا
پاک سمجھتا ہوں میں دے کے ذرا سی زکات
باندھوں کہ کھولوں اِنہیں رہتی ہے یہ کشمکش
اِس لیے گویا مجھے تُو نے دئیے تھے یہ ہات
مجھ سے ہیں بہتر شجر اور چرند و پرند
پاس تِرے حُکم کا کرتے ہیں دِن ہو کہ رات
اپنا کرَم کر کہ کُچھ اِن میں نَم و دَم پڑے
سوکھ چلا ہے قلم خشک ہوئی ہے دوات
باصر کاظمی

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں

معلوم ہے کہ وہ تو ملے گا نہیں کہیں
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں
جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں
اک دوسرے کو دیکھتے ہیں آئینے کی طرح
ہو جائیں روبرو جو کبھی دو حسیں کہیں
مقصود اِس سے اہلِ نظر کا ہے اِمتحاں
وہ سامنے نہیں ہے مگر ہے یہیں کہیں
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصرِؔ مکیں کہیں
باصر کاظمی

وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے

بھروسہ کرکے دیکھا میں نے تو سو بار دل سے
وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے
سُنے گا شوق سے قصے زمانے بھر کے لیکن
کہاں سنتا ہے دل کی بات وہ دلدار دل سے
ہو اقلیمِ شہنشاہی کہ جمہوری ولایت
رعایا کی کبھی ہوتی نہیں سرکار دل سے
کٹا سکتے نہیں انگلی بھی اب تو اُس کی خاطر
کبھی ہم جان تک دینے کو تھے تیار دل سے
کچھ اپنے بھی تو شامل تھے عدو کے ساتھ اس میں
کروں میں کس طرح تسلیم اپنی ہار دل سے
دِکھانے کے لیے دنیا کو چاہے کچھ بھی کر دیں
کبھی بھی صلح کر سکتے نہیں اغیار دل سے
نبھائی ایک مدّت ہم نے لیکن آج کل کچھ
مرا دل مجھ سے ہے بیزار، میں بیزار دل سے
چہکتی بولتی دھڑکن ہوئی ویران کیونکر
کوئی پوچھے کبھی آ کر مرے بیمار دل سے
اُترتے ہیں کچھ اُس کے دل میں بھی یہ دیکھنا ہے
لکھے ہیں میں نے تو یہ سب کے سب اشعار دل سے
باصر کاظمی

اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
ہمیں تو آنکھوں کے دیکھے کا اعتبار نہیں
اُدھر بھروسہ ہے کتنا سنی سُنائی کا
ہمیں تو لگتی ہے دشوار بندگی بھی بہت
عجیب تھے جنہیں دعوی رہا خدائی کا
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
باصر کاظمی

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر

ممکن نہیں خموش رہوں لب سیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
انصاف کا اصولِ توازن یہ خوب ہے
دیتے نہیں وہ حق بھی مرا کچھ لیے بغیر
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اِس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
ناصح کریں گے تیری نصیحت پہ ہم عمل
ہو آئے اُس گلی سے جو تُو دل دیے بغیر
اب اُس کی ہوش مندی کی دینی پڑے گی داد
شیشے میں جس نے تجھ کو اُتارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا

نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا
ہیں ذہن و دل مرے تیار کچھ بھی سننے کو
اگر مرض ہے مرا لاعلاج مجھ کو بتا
نہ تھا بلندی و پستی کے درمیاں کچھ بھی
پہاڑ سے جو میں لُڑھکا ڈھلان پر نہ ٹِکا
منا لیا تھا کسی طور کل جسے ہم نے
سنا ہے اب ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ خفا
ابھی بھی وقت ہے باصرِؔ ہماری بات سنو
تمہارے ساتھ نہ ہو جو ہمارے ساتھ ہوا
باصر کاظمی

کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ

اچھا کہ برا نہیں رہا کچھ
کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ
ہر چند بتا نہیں رہا کچھ
میں تجھ سے چھُپا نہیں رہا کچھ
اک ننھی سی لَو سے سب کچھ تھا
بُجھتے ہی دیا نہیں رہا کچھ
اب کس کو چمن میں ڈھونڈتی ہے
اے بادِ صبا نہیں رہا کچھ
اب ہم بھی بدل گئے ہیں باصرِؔ
اب اُن سے گِلہ نہیں رہا کچھ
باصر کاظمی

ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے

مخمور چشمِ یار نے ایسا کیا مجھے
ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے
تجھ کو تو اپنی ساکھ ہے اے چارہ گر عزیز
تو نے مرے لیے نہیں اچھا کیا مجھے
کیا کیا دکھائے رنگ مجھے تیرے ہجر نے
دریا بنا دیا کبھی صحرا کیا مجھے
جو شعر میں نے چھوڑ دیا اُن کو یاد تھا
’’شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے‘‘
باصر کاظمی

آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح

سوئے بہت مگر کسی بیمار کی طرح
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
کچھ ایسی پُختہ ہو گئی دِل توڑنے کی خو
اِقرار کر رہے ہیں وہ اِنکار کی طرح
بیکار سمجھے جاتے ہیں فن کار اِس لیے
دن رات کام کرتے ہیں بیگار کی طرح
میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں
پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح
باصر کاظمی

سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک

صد حیف رہے خواب و خیالات کی حد تک
سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک
یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل
اچھا ہے مگر صِرف عمارات کی حد تک
کر سکتے تماشا تو زمانے کو دکھاتے
لفظوں کے کمالات کرامات کی حد تک
آوارہ خرامی کی بھلا اب کسے فرصت
ہوتی ہے ملاقات ملاقات کی حد تک
خوشیوں میں تو کرتا ہوں شریک اوروں کو لیکن
رہتے ہیں مرے رنج مری ذات کی حد تک
ہوتے ہیں عموماَ یہ مِری دھُوپ کے دشمن
بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک
دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی
کچھ راہنماؤں کے بیانات کی حد تک
افسوس کہ صاحب نے کیا اُن پہ بھروسہ
تھی جن کی وفاداری مراعات کی حد تک
اب حِکمتِ قرآن شب و روز میں اپنے
باقی ہے فقط قرأتِ آیات کی حد تک
ہر گام پہ تھا راہنما دین جو اپنا
محدود ہُوا صِرف عبادات کی حد تک
ڈرتا ہوں میں واعظ سے کہ اقبالؔ نہیں ہوں
شکوہ مرا ہوتا ہے مناجات کی حد تک
ہر چند مہذب کوئی ہم سا نہیں باصرؔ
بہکیں تو چلے جائیں خرافات کی حد تک
باصر کاظمی

یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی

نہیں کچھ فرق اب رہیے جہاں بھی
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
بیاباں کی شکایت کیسی یارو
ہوا پرخار اب تو گُلستاں بھی
معلق ہو گئے باصرِؔ فضا میں
زمیں چھوٹی تو روٹھا آسماں بھی
باصر کاظمی