زمرہ جات کے محفوظات: غزل

نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 489
قیامت خیز طوفانوں سے لڑ جانے کی جلدی تھی
نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو ہم ملے ہی تھے ابھی تو گل کھلے ہی تھے
تجھے کیا اس قدر جاناں بچھڑ جانے کی جلدی تھی
نئی رُت سے بہت پہلے فقظ تُو ہی نہیں بدلی
یہاں پر تو درختوں کو بھی جھڑ جانے کی جلدی تھی
مجھے تو ہجر میں رہنے کی عادت تھی مگر جاناں
تجھے بھی ایسا لگتا ہے اجڑ جانے کی جلدی تھی
بجا ہے ہاتھ کو میرے تمنا تیری تھی لیکن
ترے دامن کو بھی شاید ادھڑ جانے کی جلدی تھی
فقط دوچار لمحوں میں سمت آئی ہتھیلی پر
زمیں کے وسعتوں کو بھی سکڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو اس نے بدلا تھا لباسِ جسم ہی منصور
مری قسمت کو بھی کتنی بگڑ جانے کی جلدی تھی
منصور آفاق

جانے کیوں میری بے گناہی کی پھر بھی بستی گواہی دیتی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 488
ساری پوشاک خون سے تر تھی، دور سے بھی دکھائی دیتی تھی
جانے کیوں میری بے گناہی کی پھر بھی بستی گواہی دیتی تھی
دن نکلتے ہی بجنے لگتا تھا ایک ڈھولک کا کیروا مجھ میں
رات بھر وائلن کے ہونٹوں سے بھیرویں سی سنائی دیتی تھی
ایک ہوتی تھی تجھ سی شہزادی ا لف لیلیٰ کی داستانوں میں
جو گرفتاریوں کے موسم میں قیدیوں کو رہائی دیتی تھی
ایک امید مجھ میں ہوتی تھی، خواب بوتی تھی پھول کھلتے تھے
تیلیاں توڑتی قفس کی تھی آسماں تک رسائی دیتی تھی
کیا کہوں کھو گئی کہاں مجھ سے شام ہوتے ہی جو بڑے دل سے
موتیے کے سفید گجروں کو اپنی نازک کلائی دیتی تھی
ایک کیفیتِ عدم جس میں جنتِ خواب کے خزانے تھے
روح کل کی شراب سے بھر کر وہ بدن کی صراحی دیتی تھی
ایک ٹوٹے ہوئے کوارٹر میں وہ تمنا بھی مر گئی آخر
وہ جو منصور کے تخیل کو شوقِ عالم پناہی دیتی تھی
منصور آفاق

آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 487
سونی سونی پورٹ کی جھلمل چھوڑ گئی تھی
آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی
فلم کا ہیرو دیکھ کے بھولی بھالی لڑکی
سینما ہال کی کرسی پر دل چھوڑ گئی تھی
شاید ملک سے باہر ننگ زیادہ تھا کچھ
مزدوروں کو کپڑے کی مل چھوڑ گئی تھی
اس نے میرے ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ
جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی
میں نے اپنے جسم سے پردہ کھنچ لیا تھا
اور مجھے پھر ساری محفل چھوڑ گئی تھی
منصور آفاق

میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 486
خون سے اتنی سنورتی تو نہ تھی
میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی
چاند کھڑکی سے نکل آتا تھا
رات سیڑھی سے اترتی تو نہ تھی
موج ٹکراتی تھی ساحل سے مگر
ایسے سینے سے ابھرتی تو نہ تھی
یہ درِ یار پہ کیسا تھاہجوم
نئے عشاق کی بھرتی تو نہ تھی
لوگ کہتے ہیں محبت پہلے
اتنی آسانی سے مرتی تو نہ تھی
منصور آفاق

کمرے میں اندھیرا تھا روشنی سڑک پر تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 485
کھڑکیوں کے شیشوں سے دیکھتی سڑک پر تھی
کمرے میں اندھیرا تھا روشنی سڑک پر تھی
قمقموں کی آنکھیں تھیں جھلملاتی کاروں میں
قہقہے تھے پیڑوں پر اک ہنسی سڑک پر تھی
سائرن بجاتی تھیں گاڑیاں قطاروں میں
فائروں کی گونجیں تھیں سنسنی سڑک پر تھی
آتے جاتے لوگوں پر موسمِ بہارا ں تھا
منتظر پرندوں کی ،ٹاہلی سڑک پر تھی
روڈ پر سپاہی بھی پھینکتے تھے آنسو گیس
احتجاجی ریلی بھی ناچتی سڑک پر تھی
سرخ سے اشارے پر چیختے سلنسر تھے
اور دھواں کے پہلو میں دھول بھی سڑک پر تھی
ہیرہ منڈی جانا تھا کچھ عرب سفیروں نے
کس قدر ٹریفک اُس اک رکی سڑک پر تھی
جمع ایک دنیا تھی دیکھتی تھی کیا منصور
ایک چھوٹی سی بچی گر پڑی سڑک پر تھی
منصور آفاق

ندی کو کچھ پرانے کوہساروں سے شکایت تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 484
خموشی سے گلہ تھا اور قراروں سے شکایت تھی
ندی کو کچھ پرانے کوہساروں سے شکایت تھی
کہاں بادِ خزاں کی بادشاہی جانے والی ہے
یونہی گلزاروں کو آتی بہاروں سے شکایت تھی
لہو برسا دیا ہے مسجدِ اقصیٰ کے سجدوں پر
جنہیں آزاد جیون کی پکاروں سے شکایت تھی
کوئی قاتل بلایاہے شبِ غم کے مغنی نے
اسے تیور سروں کی بجتی تاروں سے شکایت تھی
ہمیں توکربلا کے ریگ زاروں سے شکایت ہے
ہمیں توکربلا کے ریگ زاروں سے شکایت تھی
ابھی تک اشہبِ دوراں کی خالی پیٹھ ہے منصور
گذشتہ کو بھی مشرق کے سواروں سے شکایت تھی
منصور آفاق

مجھ سے موسیٰ کو ملاقات کی خواہش کیا تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 483
ایک ٹوٹی ہوئی مسجد میں رہائش کیا تھی
مجھ سے موسیٰ کو ملاقات کی خواہش کیا تھی
شامیانوں سے نگر ڈھانپ رہی تھی دنیا
حاکمِ شہر کی جادو بھری بارش کیا تھی
اپنے خالق کی بھی تفہیم وہ رکھ سکتا تھا
مجھ سے مت پوچھ کہ روبوٹ کی دانش کیا تھی
ناچتی پھرتی تھی اک نیم برہنہ ماڈل
خالی بوتیک تھا کپڑوں کی نمائش کیا تھی
جل گئی تھی مری آغوش گلوں سے منصور
رات وہ بوسۂ سرگرم کی سازش کیا تھی
منصور آفاق

ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 482
اک شخص نے ہونٹوں سے کوئی نظم کہی تھی
ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی
میں انگلیاں بالوں میں یونہی پھیر رہا تھا
وہ کمرے کی کھڑکی سے مجھے دیکھ رہی تھی
اس شخص کے گھر وہی حالت تھی مگر اب
بِڈ روم کی دیوار پہ تصور نئی تھی
آئی ہے پلٹ کر کئی صدیوں کے سفر سے
اس گیٹ کے اندر جو ابھی کار گئی تھی
موسم کے تغیر نے لکھا مرثیہ اس کا
منصور ندی مل کے جو دریا سے بہی تھی
منصور آفاق

شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 481
روشنی سائے میں کھڑی ہے ابھی
شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی
دیکھنا ہے اسے مگر اپنی
آنکھ دیوار میں گڑی ہے ابھی
آسماں بھی مرا مخالف ہے
ایک مشکل بہت بڑی ہے ابھی
ایک بجھتے ہوئے تعلق میں
شام کی آخری گھڑی ہے ابھی
ہم سے مایوس آسماں کیا ہو
موتیوں سے زمیں جڑی ہے ابھی
ایک ٹوٹے ہوئے ستارے کی
میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے ابھی
موسمِ گل ہے میرے گلشن میں
شاخ پر ایک پنکھڑی ہے ابھی
وہ کھلی ہے گلاب کی کونپل
میری قسمت کہاں سڑی ہے ابھی
سایہء زلف کی تمازت ہے
رات کی دوپہر کڑی ہے ابھی
اس میں بچپن سے رہ رہا ہوں میں
آنکھ جس خواب سے لڑی ہے ابھی
میں کھڑا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں
ایک دیمک زدہ چھڑی ہے ابھی
آگ دہکا نصیب میں منصور
برف خاصی گری پڑی ہے ابھی
منصور آفاق

بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 480
پہنچنے والی ہے انگریز کی گرانٹ ابھی
بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی
میں تیری فونڈری بیچوں گا وقت آنے پر
تُو میرے بیج دے اسٹیل کے پلانٹ ابھی
تجھے کلاس کے کچھ چور مل بھی سکتے ہیں
فریب کار بہت ہیں کچھ اور چھانٹ ابھی
او بادشاہِ ٹھگاں ! میں ترا مخالف ہوں
اکھیڑ نی ہے جومیری اکھیڑ جھانٹ ابھی
امیرِ شہر نے امپوٹ کھالیں کردی ہیں
غریبِ شہروہی اپنے جوتے گانٹھ ابھی
نئے چراغ جلا صبح کیلئے منصور
ہے تیرے ملک پہ قابض وہی خرانٹ ابھی
منصور آفاق

تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 479
ابھی پرکھ اسے کچھ دن، ہوا کو جانچ ابھی
تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی
او دل کو توڑنے والی ذرا خیال سے چل
چٹخ رہا ہے مری کرچیوں کا کانچ ابھی
جنہیں وسیلہ بناتا ہوں میں یقین کے ساتھ
ہیں مہربان مری ذات پر وہ پانچ ابھی
وہاں سے دور مرے زاویے کی اونچائی
جہاں نصیب کی جاری ہے کھینچ کھانچ ابھی
سجا کے ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے افسانے
اٹھائے پھرتی ہے تہذیب اپنا خوانچ ابھی
خراب سمت نما نے کنارے چھین لیے
بھٹک رہی ہے سمندر میں اپنی لانچ ابھی
مرے غزال یہ منظر سمیٹ لینے دے
نہ بھر زقند ابھی تُو، نہ بھر قلانچ ابھی
بڑے سکون سے بستی میں لوگ رہتے تھے
کھلی نہیں تھی کسی بنک کی برانچ ابھی
نئی غزل کا زمانہ ابھی نہیں آیا
ڈھا رہے ہیں پرانی غزل کا ڈھانچ ابھی
کسی کا وصل مکمل نہ کر سکا منصور
ادھوری ہے مرے جلتے بدن کی سانچ ابھی
منصور آفاق

کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 478
مری طرح سے کیا ہے فراڈ اُس نے بھی
کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی ضد ہے مسیحا کے دل میں رہنے کی
تہی رکھا ہے مریضوں سے واڈ اُس نے بھی
پہن لی جسم پہ میں نے بھی کھال چیتے کی
سیاہ فام رکھا باڈی گاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی شوق ہے نخروں کا چانج کرنے کا
ہزار دیکھے ہیں بچپن میں لاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی بیچنا آزادی کا مجسمہ ہے
فروخت کرنا ہے لینن گراڈ اُس نے بھی
نکل گیا تھا بڑھا کے سپیڈ میں جس پر
خرید لی وہی ہنڈا اکاڈ اُس نے بھی
گھری تھی غنڈوں میں رضیہ وہاں مگر منصور
بس اندھا دھند گھمائی تھی راڈ اُس نے بھی
منصور آفاق

مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 477
قریب ہونے کے رستے تلاشے اُس نے بھی
مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی
مجھے بھی اپنی وجاہت کے زعم نے روکا
تمام رات بہانے تراشے اُس نے بھی
مری بھی پیٹھ پہ رکھی ہے حسرتوں کی صلیب
اٹھائے اپنی تمنا کے لاشے اُس نے بھی
سناہے میری طرح رات رات دیکھے ہیں
شکست و ریخت کے وحشی تماشے اُس نے بھی
اگرچہ عشق ہے مجرم مگر بنائے ہیں
دیارِ ہجرکے اجڑے مہاشے اُس نے بھی
حساب درد کا جس رات کر رہا تھا میں
شماراپنے کئے تولے ماشے اُس نے بھی
نکل سکی نہ اداسی مزاج سے میرے
اگرچہ خواب ہشاشے بشاشے اُس نے بھی
پلٹ کے دشت سے آئی نہ میری تنہائی
نگاہِ ناز کے ریشم فراشے اُس نے بھی
میں خوش دماغوں کی بستی کو ساتھ لایا تھا
بلا رکھے تھے کئی خوش معاشے اُس نے بھی
مجھے بھی چیخ سنائی دی لمس کی منصور
خیال میں مرے شانے خراشے اُس نے بھی
منصور آفاق

میں وہاں سو رہا تھا ویسے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 476
میں نے کیا دیکھنا تھا ویسے بھی
میں وہاں سو رہا تھا ویسے بھی
اس کی آنکھیں بدلنے والی تھیں
اور میں بے وفا تھا ویسے بھی
اس نے مجھ کو پڑھانا چھوڑ دیا
میں بڑا ہو گیا تھا ویسے بھی
کچھ مزاج آشنا نہ تھی دنیا
کچھ تعلق نیا تھا ویسے بھی
کچھ ضروری نہیں تھے درد و الم
میں اسے پوجتا تھا ویسے بھی
چاند شامل ہوا صفِ شب میں
دن اکیلا کھڑا تھا ویسے بھی
ذکر چل نکلا خوبروئی کا
یاد وہ آ رہا تھا ویسے بھی
میں اکیلا کبھی نہیں سویا
میں نے اس کو کہا تھا ویسے بھی
اس نے چاہا نہیں مجھے منصور
میں کسی اور کا تھا ویسے بھی
منصور آفاق

اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 475
کسی کے ساتھ چلا آیا اختتام پہ بھی
اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی
اثر پذیری کے قصے میں کتنی باتیں ہیں
کلام پہ بھی ہے موقوف ہم کلام پہ بھی
دورد آیتِ الہام پہ کروڑوں ہوں
سلامتی ہو مرے مصرعِ دوام پہ بھی
مرے وجود میں مدغم وجود کیا کرتا
وہ میرے ساتھ جھگڑتا رہا ہے نام پہ بھی
رواں ہے اشہبِ دوراں خدا کی مرضی سے
ہیں پا رکاب میں اور ہاتھ ہیں لگام پہ بھی
ہے جنگ فلسفۂ فکر کے پہاڑوں پر
تصادم ایک نئے عالمی نظام پہ بھی
بپا ہے وادئ تاریخ میں بھی آویزش
لڑائی محنت و سرمایہ کے مقام پہ بھی
وطن بھی میرے ملالوں کی داستاں منصور
اداسیوں کی حکومت خرامِ شام پہ بھی
منصور آفاق

ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 474
حجاب پہ بھی ہے اور چادرِ مہین پہ بھی
ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی
جدال ایک نظامِ معاش پر بھی ہے
جہاد قضیۂ ملکیتِ زمین پہ بھی
ہے پیداوار کے سرچشموں پہ بھی ٹکراؤ
ہے ایک غزوہ جہاں میں فروغِ دین پہ بھی
وہ کور چشم مرے عہد کے خدا جن کو
دکھائی داغ دئیے صبحِ بہترین پہ بھی
مرے لئے تو وہ پیشانیاں سیہ منصور
شکن شکن ہوئیں جو لہجۂ متین پہ بھی
منصور آفاق

قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 473
مقیم صبح مری چاند کے شرف میں بھی
قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی
میں تیرا ساتھ صداقت کو چھوڑ کر دونگا
کہا نہیں ہے یہ میں نے کسی حلف میں بھی
لڑائی ایک صلیب و ہلال میں بھی ہے
ہے اس طرف میں بھی پیکار اس طرف میں بھی
ہے گولہ باری مسلسل غزہ کی پٹی میں
بپا ہے معرکۂ خیر و شر نجف میں بھی
تمام عمر کی خود پہ ہی فائرنگ منصور
قیام میرا رہا ہے مرے ہدف میں بھی
منصور آفاق

پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 472
اسے بدلتے ہوئے دیکھتے رہے ہم بھی
پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی
اکیلے رہنے کی عادت نہ تھی سو عرصے تک
بغیر اس کے پریشاں بہت رہے ہم بھی
سمیٹ رکھے تھے بارش کے اشک پتوں نے
کچھ ایسا پارک کا موسم تھا رو پڑے ہم بھی
لپیٹ رکھی ہے پت چھڑ کی شال برسوں سے
کبھی بہارمیں ہوتے ہرے بھرے ہم بھی
قریب ہوتے گئے ایک خالی رستے پر
ملول وہ بھی بہت تھی اداس تھے ہم بھی
اسے بھی نیند سے شاید کوئی عداوت تھی
پرانے جاگنے والے تھے رات کے ہم بھی
وہ آتے جاتے ہمیں دیکھنے لگی منصور
پھر اس کے بارے میں کچھ سوچنے لگے ہم بھی
منصور آفاق

اچھی مجھے اداسی شروعات میں لگی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 471
معصوم ،دلرباسی شروعات میں لگی
اچھی مجھے اداسی شروعات میں لگی
چاروں طرف سیاہ سمندر تھا بعد میں
بھیگی ہوئی ہوا سی شروعات میں لگی
پھر ڈر گیا چڑیل کی بدروح دیکھ کر
اچھی وہ خوش لباسی شروعات میں لگی
پھر جھرجھری سی آگئی سایوں کے خوف سے
تنہائی کچھ خداسی شروعات میں لگی
پھر ہو گئی سموتھ سمندر سی کیفیت
جذبوں کو بدحواسی شروعات میں لگی
پھر اپنی تشنگی کا مجھے آ گیا خیال
صحرا کی ریت پیاسی شروعات میں لگی
کچھ دیر میں میڈونا کی تصویر بن گئی
وہ ناصرہ عباسی شروعات میں لگی
پھر یوں ہوا کہ مجھ کو پجاری بنا دیا
وہ مجھ کو دیو داسی شروعات میں لگی
خانہ بدوش تھی کوئی منصور زندگی
وہ بستیوں کی باسی شروعات میں لگی
منصور آفاق

یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 470
گزری تمام ماہِ محرم میں زندگی
یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی
کیسا عجب تھا اس کی اچٹتی نظر کا فیض
ساری بدل گئی ہے مری دم میں زندگی
صحرا کی دو پہر سے مسلسل میں ہم کلام
پھرتی ہے دشت دشت شبِ غم میں زندگی
کچھ کچھ سرکتی ہے کوئی ٹوٹی ہوئی چٹان
چلتی نہیں فراق کے موسم میں زندگی
ہرشام ایک مرثیہ ہر صبح ایک بین
اک چیخ ہے شعور کے عالم میں زندگی
منصور دوگھروں میں ہے آباد ایک جسم
تقسیم آدھی آدھی ہوئی ہم میں زندگی
منصور آفاق

پھر وہی قوسِ قزح جیسی مصیبت ہو گی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 469
دستکیں کہتی ہیں پھر وہی قیامت ہو گی
پھر وہی قوسِ قزح جیسی مصیبت ہو گی
اگلا پھر بے بسی کا ہو گا وزیرِ اعظم
اگلی پھر بے کسی کی کوئی حکومت ہو گی
پھر غلط بول پڑے اپنے ذرائع ابلاغ
میڈیا والوں کی پھر ایک ضیافت ہو گی
پھر ہمیں فول بنائیں گے ہمارے ہیرو
پھر نیا قصہ ء غم پھرنئی آفت ہو گی
ریٹ ڈالر کا بڑھا دیں گے فرشتے منصور
پھر کسی کوٹھی پہ اللہ کی رحمت ہو گی
منصور آفاق

یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 468
عمر دھویں سے پیلی ہو گی
یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی
موت مرا معمول رہے گا
کوئی کہاں تبدیلی ہو گی
پھیل رہا ہے سرد رویہ
رات بڑی برفیلی ہو گی
ہجر کا اپنا ایک نشہ ہے
غم کی شام نشیلی ہو گی
میں نے سگریٹ سلگانا ہے
ماچس میں اک تیلی ہو گی
غالب کے قہوہ خانے میں
بات ذرا تفصیلی ہو گی
اچھی طرح سے بال سکھا لے
تیز ہوا سردیلی ہو گی
ہفتوں بعد ہے نکلا سورج
دھوپ بہت نوکیلی ہو گی
کال آئی ہے امریکہ سے
موسم میں تبدیلی ہو گی
گرم دسمبر کے پہلو میں
جسم کی آگ لجیلی ہو گی
نوٹ پیانو کے سُن سُن کر
رم جھم اور سریلی ہو گی
دن بھی ہو گا آگ بگولا
رات بھی کالی نیلی ہو گی
اک اتوار ملے گی مجھ سے
اور بڑی شرمیلی ہو گی
شعر بنانا چھوڑ دے لیکن
یہ منصور بخیلی ہو گی
منصور آفاق

یہ رات چاند رات ہے کم آن سائیکی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 467
پہلو میں آ کہ اپنا ہو عرفان سائیکی
یہ رات چاند رات ہے کم آن سائیکی
میرے سگار میں رہے جلتے تمام عمر
احساس، خواب، آگہی، وجدان، سائیکی
اٹکا ہوا ہے خوف کے دھڑ میں مرا دماغ
وحشت زدہ خیال، پریشان سائیکی
باہر مرے حریمِ حرم سے نکل کے آ
اپنے چراغِ طور کو پہچان سائیکی
رستہ نجات کا ترے لاکٹ میں بند ہے
باہر کہیں نہیں کوئی نروان سائیکی
لاکھوں بلیک ہول ہیں مجھ میں چھپے ہوئے
میری خلاؤں سے بھی ہے سنسان سائیکی
کیا تُو برہنہ پھرتی ہے میری رگوں کے بیچ
میرے بدن میں کیسا ہے ہیجان سائیکی
خالی ہے دیکھ یاد کی کرسی پڑی ہوئی
سونا پڑا ہے شام کا دالان سائیکی
دریا نکل بھی سکتا ہے صحرائے چشم سے
تجھ میں دھڑکتا ہے کوئی طوفان سائیکی
یہ گیت یہ بہار یہ دستک یہ آہٹیں
یہ کیا کسی کا رہ گیا سامان سائیکی
یہ حسرتیں یہ روگ یہ ارماں یہ درد و غم
کرتی ہو جمع میر کا دیوان، سائیکی
شاخوں سے بر گ و بارکی امید کیا کروں
پہنچا ہوا جڑوں میں ہے سرطان سائیکی
ممکن ہے تجھ سے اپنی ملاقات ہوکبھی
موجود ہیں بڑے ابھی امکان سائیکی
گرداب کھینچ سکتے ہیں پاتال کی طرف
کوئی جہاز کا نہیں کپتان سائیکی
پھر ڈھونڈتا ہے تیرے خدو خال روح میں
منصور کا ہے پھر نیا رومان سائیکی
منصور آفاق

یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 466
ہے توقع درِ انکار کے کھل جانے کی
یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی
چلنا ہے بادِ محبت کی بلاخیزی میں
ہم کو پروانہیں دستار کے کھل جانے کی
ہم معاشرتی شبِ جبر میں کیا لکھیں گے
بات ہے دستِ گرفتار کے کھل جانے کی
شعلہ ء گل کا ابھی رقص دکھاتی ہوں تجھے
اک ذرادیر ہے بازار کے کھل جانے کی
لوگ منصور پلٹ جاتے ہیں دروازوں سے
ہم کو امید ہے دیوار کے کھل جانے کی
منصور آفاق

پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 465
اک ایک سایہ ء ہجراں کے ساتھ پوری کی
پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی
میں ایک کُن کی صدا تھا سو عمر بھر میں نے
ادھوری جو تھی پڑی کائنات پوری کی
عجیب عالمِ وحشت، عجیب دانائی
کبھی بکھیرا، کبھی اپنی ذات پوری کی
تھلوں کی ریت میں بو بو کے پیاس کے کربل
پھر آبِ سندھ نے رسمِ فرات پوری کی
پلک پلک پہ ستارے رکھے سہاگ کی رات
نہ پوچھ چاند کی کیسے برات پوری کی
کئی برس سے ادھوری پڑی تھی، سو میں نے
یہ مانگ تانگ کے سانسیں ، حیات پوری کی
یہ اور بات کہ دل میں اتر گیا پھر بھی
کسی سے ملتے ہوئے احتیاط پوری کی
یہ اور بات کہ آنسو ورق ورق پہ رکھے
کتابِ فلسفہء انبساط پوری کی
یہ اور بات کہ کام آ گئی کوئی نیکی
اُس اجنبی نے مگر واردات پوری کی
ہزار کہہ کے بھی میں کچھ نہ کہہ سکا منصور
کہا نہ کچھ بھی مگر اس نے بات پوری کی
منصور آفاق

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق

کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 463
گرا کے پھول اٹھائے کوئی کڑی تھل کی
کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی
ابھی تو پاؤں میں باقی ہے ہجر کا ہفتہ
پڑی ہے راہ ابھی ایک اور منگل کی
حنائی ہاتھ پہ شاید پلیٹ رکھی تھی
ہوا کے جسم سے خوشبو اٹھی تھی چاول کی
بچھی ہوئی ہیں سحر خیزیوں تلک آنکھیں
ملی ہوئی ہے شبوں سے لکیر کاجل کی
لیا ہے شام کا شاور ابھی ابھی کس نے
گلی میں آئی ہے خوشبو کہاں سے جل تھل کی
شفق کے لان میں صدیوں سے شام کی لڑکی
بجا رہی ہے مسلسل پرات پیتل کی
نکھر نکھر گیا کمرے میں رنگ کا موسم
ذرا جو شال بدن کے گلاب سے ڈھلکی
کسی کو فتح کیا میں نے پیاس کی رت میں
اڑے جو کارک تو شمپین جسم پر چھلکی
چھتوں پہ لوگ اٹھائے ہوئے تھے بندوقیں
تمام شہر پہ اتری تھی رات جنگل کی
جھلس گیا تھا دسمبر کی رات میں منصور
وہ سرسراتی ہوئی آگ تیرے کمبل کی
منصور آفاق

وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق

تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 461
تحقیق کہ دنیا میں بس وسعتیں اتنی ہیں ادراک کے دامن کی
تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی
میں شکل بناتا ہوں تعمیری رویوں کی کیوں اسکی وساطت سے
صحرائی بگولوں میں جو گھومتی رہتی ہے اک آنکھ توازن کی
سفاک پہاڑوں پراگتی ہوئی بھیڑوں سے جو اون نکلتی ہے
تقویم کے چرخے پرمیں اس سے بناتا ہوں اک شال تمدن کی
پھر ہاتھ میں دل لے کرٹکراتا ہو ں ممکن سے موجود کے کمرے میں
تقدیر کے فرغل سے بس موت دکھائی دے تصویر میں جیون کی
تہذیبِ محمدﷺکی کرتا ہوں نگہبانی اقراء کی علامت سے
منصور جہاں بھی ہے یہ حرف کا سرمایہ میراث ہے مومن کی
منصور آفاق

چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 460
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی
چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی
لیکن میں روک سکتانہیں رات کی گھڑی
دیوار پر لگادی ہے اوقات کی گھڑی
باہر سے لوٹ جائے وہ مہتاب کی کرن
اب ختم ہوچکی ہے ملاقات کی گھڑی
اچھی ہیں یار کی متلون مزاجیاں
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی
بہتا ہے میرے سینے میں اک چشمۂ دعا
ٹھہری ہوئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی
یہ اور بات دیکھ کے پہچانتے نہیں
آتی ہے روز، روزِ مکافات کی گھڑی
دیکھو ازل نژاد ہے چلتی ہوئی ہوا
سمجھو ابد خرام ہے آیات کی گھڑی
اب ختم ہورہی ہے مشقت نصیب کی
چلنے پہ آگئی ہے حوالات کی گھڑی
گھڑیال مسجدوں کے بتاتے ہیں اور وقت
کچھ اور کہہ رہی ہے سماوات کی گھڑی
اعمال دیکھ کر مرے آقائے لوح نے
امت سے چھین لی ہے فتوحات کی گھڑی
منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
چلتی سدا ہے زخم میں حالات کی گھڑی
منصور آفاق

پھر زندگی کی شہر میں تحریک چل پڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 459
جب اُس جمالِ صبح کی بوتیک چل پڑی
پھر زندگی کی شہر میں تحریک چل پڑی
اُس دلنواز شخص کی آمد کے ساتھ ساتھ
میرے مکان سے شبِ تاریک چل پڑی
نکلا بس ایک اسم افق کی کتاب سے
تاویلیں سب سمیٹ کے تشکیک چل پڑی
جس کیلئے سڑک پہ لڑا تھا میں وقت سے
بس بھیج کے وہ ہدیہ ء تبریک چل پڑی
منصور بس اتر کے گیا تھا وہ کج نہاد
گاڑی پھر اس کے بعد مری ٹھیک چل پڑی
منصور آفاق

یہ عجب تم نے نکالی ہے شریعت اپنی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 458
ذبح خانے سی بنالی ہے شریعت اپنی
یہ عجب تم نے نکالی ہے شریعت اپنی
قتل منسون ،دھماکے جائز، تاوان حلال
ان دنوں دیکھنے والی ہے شریعت اپنی
کعبۂ دل کی ہے بس فرض مسلسل صلوات
عشق میں کیسی مثالی ہے شریعت اپنی
ہم غلامانِ محمدﷺ ہیں ، علی کے بھی غلام
بس طریقت میں بلالی ہے شریعت اپنی
کون مسجد میں در آیا ہے ہماری منصور
کس نے منبر سے چرالی ہے شریعت اپنی
منصور آفاق

یعنی کہ میں اکیلا ہوں درویش آدمی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 457
اس عہدِ بے شرف میں شرف کیش آدمی
یعنی کہ میں اکیلا ہوں درویش آدمی
مانا ہیں آسماں سے مراسم رکھے ہوئے
میرا قبیلہ خاک ، مرا خویش آدمی
جو کاٹتا رہا ہے مجھے سانپ کی طرح
لگتا تھا آنکھ سے تو کم و بیش آدمی
اس کو خبر نہیں ہے حیات و ممات کی
جو کائنات کے نہیں درپیش آدمی
کچھ بول اس شعور کی اندھی گپھا میں
منصور کوئی دیتا ہے اپدیش آدمی
منصور آفاق

پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 456
اک حبس کے مریض کو تازہ ہوا ملی
پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی
کل رات باغ میں مجھے پتوں کے دکھ ملے
لیکن وہاں سے نکلا توبادِ صبا ملی
کیسے کروں وسیلے کی عظمت سے انحراف
مجھ کو خدا کی ذات بھی بل واسطہ ملی
اک دن ملا بہار میں ہنستا ہوا مجھے
اک شام غم کا کرتی ہوئی تجربہ ملی
بولیں گے جبرائیل بھی میرے وجود میں
مجھ کو کسی فقیر سے جس دن دعا ملی
شہرِ ابد نژاد ابھی کتنا دور ہے
پوچھوں گا کائنات کی جو ابتدا ملی
منصور میں نے بانٹ دی خستہ حروف میں
مجھ کو جو آسماں سے شرابِ بقا ملی
منصور آفاق

اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 455
اک تعلق کی شروعات تھی ہونے والی
اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی
لوح پر دیکھ لیا مشرق و مغرب کا نصیب
بس کہیں صبح ، کہیں رات تھی ہونے والی
دیکھنے والا تھا، پھر مڑکے، کوئی ایک نظر
کیا ہوا ، دید کی خیرات تھی ہونے والی
اپنے قہوے کا سماوار ابھی ٹھنڈا تھا
اور مسجد میں مناجات تھی ہونے والی
لینے آئے ہوئے تھے رومی و اقبال ہمیں
اپنی باہو سے ملاقات تھی ہونے والی
کیا ہوا ، وقت بدلنے کی خبر آئی تھی
وا کہیں چشمِ سماوات تھی ہونے والی
تم نہ ملتے تو یہاں سے بھی ہمیں جانا تھا
ایسی کچھ صورتِ حالات تھی ہونے والی
اب جہاں دھوپ نکل آئی ہے کنجِ لب سے
کچھ ہی پہلے یہاں برسات تھی ہونے والی
اس کے کہنے پہ بدل آئے ہیں رستہ اپنا
جب محبت میں اسے مات تھی ہونے والی
ہم چلے آئے ہیں اُس حسن کے دستر خواں سے
جب ہماری بھی مدارات تھی ہونے والی
قتل نامہ تھا کہ جلاد نے ڈھاڑیں ماریں
کیسی اک مرگِ مفاجات تھی ہونے والی
ارتقاء آخری منزل پہ تھا میرا اُس وقت
خلق جب جنسِجمادات تھی ہونے والی
میں پلٹ آیا ہوں منصور ’’مقامِ ہو‘‘ سے
اک عجب بات مرے ساتھ تھی ہونے والی
منصور آفاق

ہر ایک لمس پہ اتریں مصیبتیں کیسی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 454
پڑاؤ کیسے بدن کے مسافتیں کیسی
ہر ایک لمس پہ اتریں مصیبتیں کیسی
مخالفین میں لختِ جگر بھی شامل ہیں
مرے نصیب میں آئیں رقابتیں کیسی
کسی کو بیٹھنے اٹھنے کا کیا سلیقہ ہے
یہ گفتگو میں کسی کی نزاکتیں کیسی
نگار خانہ جاں کے فراق سے پہلے
میں کہہ رہا تھا کسی سے محبتیں کیسی
بس اک فریب سے بہلا رہا ہوں چشم ولب
ترے بغیر جہاں بھر کی راحتیں کیسی
اگر ہے جرم، تجھے چھو کے دیکھ لینا بھی
تو ساتھ رہنے کی مجھ کو اجازتیں کیسی
جلو میں گھومتی پھرتی ہے نازنینوں کے
مری غزل کی پری چہرہ صحبتیں کیسی
کسی مقام پہ رکتا نہیں کوئی منصور
تعلقات ہیں کیسے رفاقتیں کیسی
منصور آفاق

محبت ہے تو ہو کنفرم تھوڑی سی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 453
اتاریں اب بدن کی شرم تھوڑی سی
محبت ہے تو ہو کنفرم تھوڑی سی
ضروری ہے لہو میں آگ بھی لیکن
سبک اندام تھوڑی، نرم تھوڑی سی
چل اپنے سادہ و معصوم سے دل پر
چڑھا لے بھیڑے کی چرم تھوڑی سی
اب اپنا قتل کرنا چاہتا ہوں میں
اجازت دے مجھے اے دھرم تھوڑی سی
’بیا جاناں بصد سامانِ رسوائی ‘
خموشی ہے، خبر ہو گرم تھوڑی سی
کسی کے نرم و نازک جسم سے مل کر
ہوئی ہے آتما بھی پرم تھوڑی سی
سکوتِ شام جیسی ایک دوشیزہ
محبت میں ہوئی سرگرم تھوڑی سی
منصور آفاق

اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 452
آب رواں میں پھر نئی شامت دکھائی دی
اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی
اس کے خیال بھی تھے پرانے ، بہت قدیم
اس کے لباس میں بھی قدامت دکھائی دی
تقریبِ گل میں سرو کئی آئے تھے مگر
ہر سمت تیری رونقء قامت دکھائی دی
پہلے بدن کا معجزہ دیکھا نگاہ نے
پھر گفتگو میں ایک کرامت دکھائی دی
میں نے بھلا دیں ساری گذشتہ کی تلخیاں
تھوڑی سی اُس نظر میں ندامت دکھائی دی
جاری ہے ٹوٹ پھوٹ وجود و شہود میں
کوئی کہیں بھی شے نہ سلامت دکھائی دی
منصور چپ کھڑی تھی کہیں شام کی کرن
چھیڑا توزندگی کی علامت دکھائی دی
منصور آفاق

جاں لباس مجاز میں رکھ دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 451
بس کسی اعتراض میں رکھ دی
جاں لباس مجاز میں رکھ دی
رات کھولے تھے کچھ پرانے خط
پھر محبت دراز میں رکھ دی
یادِ یاراں نے پھر وہ چنگاری
ایک مردہ محاذ میں رکھ دی
یوں تو سب کچھ کہا مگر اس نے
راز کی بات راز میں رکھ دی
تان لی تھی رقیب پر بندوق
ربطِ جاں کے لحاظ میں رکھ دی
کس نے تیرے خیال کی دھڑکن
دست طبلہ نواز میں رکھ دی
شرٹ ہینگر پہ ٹانک دی میں نے
اور لڑکی بیاض میں رکھ دی
اس نے پستی گناہ کی لیکن
ساعتِ سرفراز میں رکھ دی
مرنے والا نشے میں لگتا تھا
کیسی مستی نماز میں رکھ دی
رات آتش فشاں پہاڑوں کی
اپنے سوز و گداز میں رکھ دی
کس نے سورج مثال تنہائی
میری چشم نیاز میں رکھ دی
داستاں اور اک نئی اس نے
میرے غم کے جواز میں رکھ دی
مسجدوں میں دھمال پڑتی ہے
کیفیت ایسی ساز میں رکھ دی
پھر ترے شاعرِ عجم نے کوئی
نظم صحنِ عکاظ میں رکھ دی
کس نے پہچان حسن کی منصور
دیدۂ عشق باز میں رکھ دی
منصور آفاق

بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 450
آثارِ قدیمہ ، مری تہذیب مٹا دی
بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی
وہ بھی تو درِ کعبہ پہ سجاآتے تھے نظمیں
میں نے بھی اباسین میں اک نظم بہادی
جو علم کے معروف سمندر ہیں انہوں نے
اک آگ کتب خانۂ دجلہ میں لگادی
اطلاع کی کوئی بیل نہ بجی خانۂ دل میں
اخبار بھی کرتے رہے تصویری منادی
یہ ڈیڑھ ارب بھوک زدہ آدمی کیوں ہیں
کچھ بول چناروں بھری کشمیر کی وادی
پھر رات کی چادر پہ ابھر آئے ستارے
پھر روشنی منصور اندھیرے میں ملادی
منصور آفاق

چاندکی شمع آخر بجھائی گئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 449
ایک امید کھڑکی سے آئی ، گئی
چاندکی شمع آخر بجھائی گئی
اپنے اندر ہی روتے سمندر رہے
کب کہانی کسی کو سنائی گئی
اس کے جانے پہ احساس کچھ یوں ہوا
اپنے پہلو سے اٹھ کر خدائی گئی
اپنے مژگاں میں آنسو پروتا رہا
یوں غزل بزم میں رات گائی گئی
تم یہود و نصاریٰ کی زرگاہ میں
بک گئے جب بھی بولی لگائی گئی
تم کرائے کے قاتل ہو حاکم نہیں
تم سے اپنوں پہ گولی چلائی گئی
آگ تھی غم کی منصور کافر نژاد
اس سے مسلم کی میت جلائی گئی
منصور آفاق

سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 448
کلی لبادۂ تزئین سے نکل آئی
سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی
دکھائی فلم کسی نے وصال کی پہلے
پھر اس کے بعد وہی سین سے نکل آئی
مرے خدا کی بھی قربان گاہ مٹی تھی
بہار پھول کی تدفین سے نکل آئی
اسے خرید لیا مولوی کفایت نے
جو نیکی سیٹھ کرم دین سے نکل آئی
چراغ لے کے میں بیٹھا ہی تھا کہ صبحِ ازل
خرامِ آبِ اباسین سے نکل آئی
مریدِ خاص ہوئی تخلیے کی آخرکار
خرد نصیحت و تلقین سے نکل آئی
حروف وردِ انا الحق پہ کرتے تھے مجبور
سو میری آنکھ طواسین سے نکل آئی
مجھے جگایا کسی نے یوں حسنِ قرات سے
کہ صبح سورۃ یاسین سے نکل آئی
گریزاں یار بھی تکرار سے ہوا کچھ کچھ
طبعیت اپنی بھی توہین سے نکل آئی
گزر ہوا ہے جہاں سے بھی فوج کا منصور
زمین گھاس کے قالین سے نکل آئی
منصور آفاق

کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 447
وہ بر گزیدہ خطا رات عاصیوں سے ہوئی
کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی
ہر ایک صبح منور ہوئی ترے غم سے
ہر ایک شام فروزاں اداسیوں سے ہوئی
میں کھوجنے کے عمل میں شکار اپنا ہوا
مری اکیلگی چہرہ شناسیوں سے ہوئی
لپک کے بھاگ بھری نے کسی کو چوم لیا
گھٹا کی بات جو روہی کی پیاسیوں سے ہوئی
بہت سے داغ اجالوں کے رہ گئے منصور
جہاں میں رات عجب بد حواسیوں سے ہوئی
منصور آفاق

نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 446
اس کی حرافہ یاد ہے آفت بنی ہوئی
نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی
جلتی جہاں تھی آگ وہاں دیکھ تو سہی
اڑتی ہے راکھ، نوحۂ عبرت بنی ہوئی
وہ جمع لوگ ہیں کسی پاگل کے آس پاس
کوئی ہے انقلاب کی صورت بنی ہوئی
لگتا ہے تم ملاؤ گی اس کو بھی خاک میں
تھوڑی سی جو ہے شہر میں عزت بنی ہوئی
وہ اپنی خواہشوں کی ہے تکمیل کا چلن
جو چیز ہے جہاں میں محبت بنی ہوئی
ہر رات نظمِ تازہ اترتی ہے صحن میں
کیاہے جدائی باعثِ برکت بنی ہوئی
منصور رکھ د یا ہے اٹھا کرسٹور میں
پھرتی تھی وہ جو میری ضرورت بنی ہوئی
منصور آفاق

اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 445
کالکیں چہرے سے چھل کے صبح شرمندہ ہوئی
اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی
جس کی نس نس میں اندھیرے تھے تبسم آفریں
اس کلی کے ساتھ کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
وہ مجسم رات وہ کالی صراحی کے خطوط
دامنِ خوباں میں سل کے صبح شرمندہ ہوئی
حسرتوں کی ٹھیکرے تھے، ڈھیر تھے افسوس کے
پھر کھنڈر میں آ کے دل کے صبح شرمندہ ہوئی
اس نے زلفوں کو بکھیرا اور سورج بجھ گیا
سامنے لہراتے ظل کے صبح شرمندہ ہوئی
ہر نمو مٹی کی کالی قبر سے آباد تھی
بیچ شہرِآب و گل کے صبح شرمندہ ہوئی
یار کے رخسار پر ہے اک عجب کالا گلاب
پھر مقابل ایک تل کے صبح شرمندہ ہوئی
کنجِ لب سے ہی نکلتی یار کے تو بات تھی
بس افق کے پاس کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
جھانک سکتی ہی نہیں مٹی کے اندر روشنی
خاک پہ منصور پل کے صبح شرمندہ ہوئی
منصور آفاق

کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 444
آب و دانہ کے لئے آئے پرندویہ سکونت کیا ہوئی
کچھ کہو وہ رت بدلنے پر پلٹ جانے کی عادت کیا ہوئی
چند دن وہ ساحلوں پر رکنے والے کیا ہوئے بحری جہاز
دور دیسوں کے سفر سے لوٹ آنے کی روایت کیا ہوئی
دیکھنے آئے تھے ہم کافر تو حسنِ کافرانہ کو مگر
اس گنہ آباد بستی میں مسلمانوں کی ہجرت کیا ہوئی
ساحلوں پر ڈوبتے سورج پہ اتری ہے کوئی پیتل کی کونج
سیپیاں چنتی ہوئی سر گرم کرنوں کی حرارت کیا ہوئی
ہو گئی بچی کی چھاتی تو سلگتے سگریٹوں سے داغ داغ
وہ جو آنی تھی زمیں پر آسمانوں سے قیامت کیا ہوئی
کیا ہوا وہ جنگ سے اجڑاہوابچوں بھرا منصورپارک
وہ کتابوں سے بھری تہذیب کی روشن عمارت کیا ہوئی
منصور آفاق

سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 443
گھر لوٹنے میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی
کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی
وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی
جو گیت لا زوال تھے وہ گیت کیا ہوئے
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی
ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
منصور آفاق

جس کی جیب سے سگریٹ نکلے اس کے نام حشیش ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 442
پکڑے گئے ہم محشر میں اور ایسی غلط تفتیش ہوئی
جس کی جیب سے سگریٹ نکلے اس کے نام حشیش ہوئی
جاتے جاتے اس نے مڑ کرمیری جانب دیکھا تھا
گھنٹہ بھر تقریب تھی لیکن ایک نظر بخشیش ہوئی
دیواروں میں دیکھ کے اپنی شکل کے اتنے زیادہ عکس
اک بھولی بھالی سی ناگن شیش محل میں شیش ہوئی
دیوانے پن کے جنگل میں آنکھ کھلی تو علم ہوا
کپڑے لیراں لیراں اور بے ہنگھم اپنی ریش ہوئی
کس کی حکومت آئی ہے یہ کالک کیسی ہے منصور
آدھے دن تک رات جو دیکھی سورج کو تشویش ہوئی
منصور آفاق

پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 441
نیلگوں دیوار پر اک بے صدا دستک ہوئی
پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی
پھر مجھے ابدال ہونے کا یقیں ہونے لگا
جب تلاش اپنی مکمل عرش کی حدتک ہوئی
میری چیخیں اپنی دھڑکن میں چھپا لیتی رہی
کس قدر اپنی سلگتی خامشی زیرک ہوئی
چاند تارے حسنِ فطرت کے تحائف ہو گئے
آسماں پر جب مکمل رات کی کالک ہوئی
میں نے جب سوچا، نہیں کوئی نہیں اسکا شریک
وہم ٹھہرا جسم اپنا جاں سراپا شک ہوئی
جس کے چاروں سمت ڈھلوانیں ہوں منہ کھولے ہوئے
زندگی اپنی وہی وحشت زدہ بالک ہوئی
ہم نفس میرے رہے منصور سقراط و حسین
روشنی مذہب ہوا اور چاندنی مسلک ہوئی
منصور آفاق

صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 440
جاگ اٹھی جو قسمت تھی پھوٹی ہوئی
صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی
صحنِ باغِ ارم کی ہیں رہداریاں
ہاتھیوں کے پڑاؤ سے ٹوٹی ہوئی
ہر طرف ہیں کھجوروں کے زخمی درخت
بستیاں ہیں مدینے کی لوٹی ہوئی
آسماں ہو گیا مہرباں خاک پر
لوٹ آئی ہے رُت کوئی روٹھی ہوئی
دل میں منصور خودکُش دھماکہ ہوا
اور پھر اپنی بن اطلاع جھوٹی ہوئی
منصور آفاق

دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 439
یاد کے فلور پرچائے ہے پڑی ہوئی
دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی
پھانسیوں پہ جھولتی اک خبرہے موت کی
اپنی اپنی طے شدہ سوچ میں گڑی ہوئی
بدمزاج وقت ہے کچھ ملال خیز سا
اختتامِ سال سے شام ہے لڑی ہوئی
آتے جاتے دیکھ کر درد کچھ مرے ہوئے
اک الست مست کی ذات میں جھڑی ہوئی
بولتے تھے عادتاً کم بھرے ہوئے دماغ
دانش و شعور کی شوخ پنکھڑی ہوئی
آتی جاتی گاڑیاں موڑ کاٹنے لگیں
چلتے چلتے وہ گلی روڈ پر کھڑی ہوئی
چلنے والا تار پرمسخروں میں کھو گیا
جب صراطِ وقت پر آخری گھڑی ہوئی
آدمی کے گوشت کی ریشہ رشہ داستاں
صدرِ امن گاہ کے دانت میں اڑی ہوئی
منصور آفاق

روہی دو فرلانگ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 438
پیر فرید کی بانگ ہوئی
روہی دو فرلانگ ہوئی
آنکھ سے دیکھا باہو کی
دنیا ایک سوانگ ہوئی
شاہ حسین کی بستی میں
مادھولال کی مانگ ہوئی
بول وہ بلھا بول گیا
پار جگر کے سانگ ہوئی
اربوں سال کی تنہائی
اپنی ایک چھلانگ ہوئی
بات ہوئی بس اوروں سے
کال ہمیشہ رانگ ہوئی
کوئی کہاں منصور ملا
عمر سراپا تانگ ہوئی
منصور آفاق

پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 437
دریچے یاد کے شفاف کر رہا ہے کوئی
پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی
نکھرتی جاتی ہے شبنم اداس آنکھوں میں
کسی گلاب کو سی آف کر رہا ہے کوئی
گرا رہے ہیں در و بام چند بلڈوزر
سنا ہے شہر مرا ، صاف کر رہا ہے کوئی
بتا رہا ہے بدن کی نزاکتوں کا ناپ
بیان حسن کے اوصاف کر رہا ہے کوئی
بڑھا رہا ہے سرِشام وصل کی خواہش
وہ روشنی کا سوئچ آف کر رہا ہے کوئی
وہ لکھ رہا ہے کہ کرنا ہے رات کو کیا کیا
شبِفراق کا اصراف کر رہا ہے کوئی
بڑھارہا ہے محبت کے وائرس منصور
شبِ وصال سے انصاف کر رہا ہے کوئی
منصور آفاق

عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 436
شیخ صاحب کہے افلاک نشیں ہے کوئی
عشق فرمائے جہاں میں ہوں وہیں ہے کوئی
پاؤں پڑتی ہے ازل کی صبح انوار فروش
چہرۂ برقِ تجلیٰ کی جبیں ہے کوئی
جانتا ہوں میں محمدﷺکے وسیلے سے اسے
مجھ کو محسوس نہیں ہوتا کہیں ہے کوئی
ذرے ذرے میں دھڑ کتا ہے وہ مشعوقِ ازل
کرسی و عرش و سموات و زمیں ہے کوئی
کیسی یکتائی کا احساس مجھے ہے منصور
ایک بس اس کے سوا میرا نہیں ہے کوئی
منصور آفاق

ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 435
آشنا سا لگتا ہے اپنی پُر خواب چاپ سے کوئی
ہے مرے تعاقب میں ، نیند کے بس سٹاپ سے کوئی
موسمِ جدائی کی تنگ تھا زرد سی طوالت سے
رُت خرید لایا ہے وصل کی، لمس شاپ سے کوئی
قوس قوس آوازیں دور تک دائرے بناتی تھیں
لکھ رہا تھا کمرے میں گیت سا کیا الاپ سے کوئی
رقص کے الاؤ میں ڈوب کر پاؤں سے کلائی تک
جل اٹھا تھا ڈھولک کی نرم سی تیز تھاپ سے کوئی
سردیوں کی برفانی صبح میں گرم گرم سے بوسے
پھینکتا تھا ہونٹوں کی برف سی سرد بھاپ سے کوئی
جو کہیں نہیں موجود، روح کے آس پاس میں منصور
پوچھتا رہا اس کا، دیر تک اپنے آپ سے کوئی
منصور آفاق

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 433
مجھ ایسا غیر پسندیدہ بے محل کوئی
نہیں ہے اور کہ میرا نہیں بدل کوئی
گزار اعمرنہ سنجیدگی کے صحرا میں
ضروری ہے تری محفل میں بیربل کوئی
پھٹی ہوئی کسی چادر سے ڈھانپ دیتے ہیں
تلاش کرتے نہیں مسئلے کا حل کوئی
فنانژاد علاقہ ہے میری مٹی کا
نکال سکتا نہیں خاک سے اجل کوئی
یہ پوچھتا تھا کوئی اور بھی ہے میرے سوا
ملاتھا دشتِ جنوں میں مجھے پنل کوئی
اسی جریدۂ کون و مکاں کی سطروں میں
چھپی ہوئی ہے مرے واسطے غزل کوئی
نجانے کون شہادت سے سرفراز ہوا
کنارِ چشمۂ کوثر بنا محل کوئی
ٹھہر گیا ہے ستم ناک وقت میرے لئے
یا کائنات کی گردش میں ہے خلل کوئی
مری شکست کے اسباب پوچھتے کیا ہو
ہے کھیل ہی کے قواعد گیا بدل کوئی
اجل حیات کا پہلا سرا نہیں منصور
مراجعت کی مسافت کا ہے عمل کوئی
منصور آفاق

سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 432
رات کے پچھلے پہر ، دور الاؤ کوئی
سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی
ہار جاؤں گا تو دنیاسے بھی اٹھ جاؤں گا
بس لگانا ہے مجھے آخری داؤ کوئی
ٹوٹ جانے میں بھلا کونسی اچھائی ہے
نرمگی کوئی، سرِ شاخ جھکاؤ کوئی
لوگ کہتے ہیں کہ باہو کے ہے دوہوں میں شفا
بیٹھ کے میرے سرہانے ذرا گاؤ کوئی
چاند کے روپ میں اک طنزِ مسلسل کی طرح
سینہ ء شب میں سلگتا ہوا گھاؤ کوئی
لوگ مرجاتے ہیں ساحل کی تمنا لے کر
اور سمندر میں چلی جاتی ہے ناؤ کوئی
کاش بچپن کی بہشتوں سے نہ باہر آؤں
روک لے عمر کے دریا کا کٹاؤ کوئی
لڑکھڑانا ہے نشیبوں میں ہمیشہ منصور
روک سکتا نہیں پانی کا بہاؤ کوئی
منصور آفاق

ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 431
بڑی اداس بڑی بے قرار تنہائی
ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی
مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں
مجھے عزیز مری اشکبار تنہائی
فراق یہ کہ وہ آغوش سے نکل جائے
وصال یہ کرے بوس و کنار تنہائی
پلٹ پلٹ کے مرے پاس آئی وحشت سے
کسی کو دیکھتے ہی بار بار تنہائی
مرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا ہے
میں سوگوار … تو ہے سوگوار تنہائی
کوئی قریب سے گزرے تو جاگ اٹھتی ہے
شبِ سیہ میں مری جاں نثار تنہائی
مجھے ہے خوف کہیں قتل ہی نہ ہو جائے
یہ میرے غم کی فسانہ نگار تنہائی
نواح جاں میں ہمیشہ قیام اس کا تھا
دیارِ غم میں رہی غمگسار تنہائی
ترے علاوہ کوئی اور ہم نفس ہی نہیں
ذرا ذرا مجھے گھر میں گزار تنہائی
یونہی یہ شہر میں کیا سائیں سائیں کرتی ہے
ذرا سے دھیمے سروں میں پکار تنہائی
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار، تنہائی
جو وجہ وصل ہوئی سنگسار تنہائی
تھی برگزیدہ ، تہجد گزار تنہائی
مری طرح کوئی تنہا اُدھر بھی رہتا ہے
بڑی جمیل، افق کے بھی پار تنہائی
کسی سوار کی آمد کا خوف ہے، کیا ہے
بڑی سکوت بھری، کوئے دار، تنہائی
دکھا رہی ہے تماشے خیال میں کیا کیا
یہ اضطراب و خلل کا شکار تنہائی
بفیضِ خلق یہی زندگی کی دیوی ہے
کہ آفتاب کا بھی انحصار تنہائی
اگرچہ زعم ہے منصور کو مگر کیسا
تمام تجھ پہ ہے پروردگار تنہائی
منصور آفاق

تخلیہ اے زندگانی تخلیہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 430
دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ
تخلیہ اے زندگانی تخلیہ
ظلِ سبحانی ہیں آئے درد کے
اے کنیزِ شادمانی تخلیہ
آرہا ہے وہ چراغِ صبح پا
چاند تارو ، مہربانی ، تخلیہ
مہ وشو!اب یاسمن کے باغ کی
دیکھتے ہیں گل فشانی ، تخلیہ
بجلیو! موسیٰ کلیم اللہ سے میں
سن رہاہوں لن ترانی تخلیہ
بارگاہِ دل میں شرمندہ نہ کر
لمس کی اندھی جوانی تخلیہ
ہے دمِ عارف نسیمِ صبح دم
اے کلیمی اے شبانی تخلیہ
زندگی سے بھر گیا دل حسرتو!
اب کہانی کیا بڑھانی تخلیہ
واہ ، آئی ہے کئی صدیوں کے بعد
پھر صدائے کن فکانی تخلیہ
جائیے کہ آئینے کے سامنے
شکلِ ہستی ہے بنانی تخلیہ
جارہا ہوں میں عدم کے باغ میں
موسموں کی میزبانی تخلیہ
آرہا ہے مجھ سے ملنے آفتاب
بادلوں کی سائبانی تخلیہ
ملنا ہے منصور نے منصور سے
گم کرو اب شکل یعنی تخلیہ
منصور آفاق

میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 429
مل جاؤ تھوڑی دیر تو آ کر کسی جگہ
میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ
میں روزنامچہ ہوں تری صبح و شام کا
مجھ کو چھپا دے شیلف کے اندر کسی جگہ
جادو گری حواس کی پھیلی ہوئی ہے بس
ہوتا نہیں ہے کوئی بھی منظر کسی جگہ
کچھ دن گزارتا ہوں پرندوں کے آس پاس
جنگل میں چھت بناتا ہوں جا کر کسی جگہ
منصور اس گلی میں تو آتی نہیں ہے دھوپ
گھر ڈھونڈ کوئی مین سڑک پر کسی جگہ
منصور آفاق

آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 428
اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ
آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ
حالِ دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے
اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ
رات بھر دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے
جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ
وقت کا احساس کھو جاتا تھا میری بزم میں
اپنے بازو پر گھڑی اب باندھ کر آتا ہے وہ
میں ہوا کی گفتگو لکھتا ہوں برگِ شام پر
جو کسی کو بھی نہیں آتا ہنر آتا ہے وہ
سر بریدوں کو تنک کر رات سورج نے کہا
اور جب شانوں پہ رکھ کر اپنا سر آتا ہے وہ
منصور آفاق

بم گراتا رہا خود اپنی ہی دہلیز پہ وہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 427
عالمی بنک کے اک وفد کی تجویز پہ وہ
بم گراتا رہا خود اپنی ہی دہلیز پہ وہ
کیا بتاتا کہ مرا اس سے تعلق کیا تھا
رو بھی سکتا نہ تھا تکفین پہ تجہیز پہ وہ
کھوجنی پڑتی ہے ماتھے سے وہ قیمت لیکن
ایک لیبل سا لگا دیتا ہے ہر چیز پہ وہ
ہو نہیں سکتا شب و روز کا مالک کوئی
عمر ہر شخص کو دیتا ہے فقط لیز پہ وہ
جانے کیا دیکھ کے کل شام کتابِ دل میں
خامشی چھوڑ گیا صفحۂ تقریظ پہ وہ
خوش تھی مٹی کہ مجھے مل گئے صدیوں کے خطوط
چیخ اٹھی تھی مگر ذہن کی تفویض پہ وہ
اس نئے دور کا منصور عجب عامل ہے
نام خود اپنا ہی لکھ دیتا ہے تعویز پہ وہ
منصور آفاق

سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 426
صبا طیبہ سے آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
قدم لینے لگے سبزہ ، شجر بھیجیں سلام اس پر
وہ گلشن میں جو آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کشادہ رکھتے ہیں اتنا درِ دل ہم چمن والے
کہ سایہ سرسرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
محبت کے بلکتے چیختے بے چین موسم میں
جو بلبل گنگنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
پہاڑی راگ کی بہتی ہوئی لے میں کہیں کوئی
ندی جب دکھ سنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
یہ انکا رنگِ فطرت ہے ، یہ انکا ظرف ہے منصور
کہ کانٹا زخم کھائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
منصور آفاق

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 424
الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ
یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ
یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ
کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ
نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ
سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ
وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ
وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ
ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ
منصور آفاق

کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 423
نجاتِ خلقتِ جاں لا الہ الا اللہ
کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ
یہ خوفِ آتشِ دوزخ یہ خطرۂ ابلیس
وہاں کہاں کہ جہاں لا الہ الا اللہ
بگاڑ سکتی ہے کیا اس کا چرخ کی گردش
ہے جس کی جائے اماں لا الہ الا اللہ
یہ جائیدادِ جہاں کچھ نہیں ہے اُس کے لئے
ہے جس کے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ
یہ کائنات یہ عالم نہیں وہاں باہو
جہاں جہاں پہ عیاں لا الہ الا اللہ
سلطان باہو کی فارسی غزل کا ترجمہ
منصور آفاق

مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 422
صدیوں پہ ہے محیط سکونت کا واقعہ
مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ
ممکن نہیں ہے صبحِ ازل پھر اسے لکھے
جیسا تھا بزمِ شمعِ ہدایت کا واقعہ
ہم اہلِ عشق ہیں سو بڑے جلد باز تھے
عجلت میں ہم نے لکھا محبت کا واقعہ
وہ دلنواز چیخ مری گود میں گری
یہ کاکروچ کی ہے خباثت کا واقعہ
جا خانۂ وراق پہ آواز دے کے دیکھ
مت پوچھ مجھ سے اس کی عنایت کا واقعہ
پاؤں رکھا جہاں پہ وہیں پھول کھل اٹھے
پھیلا ہے سارے دشت میں وحشت کا واقعہ
منصور اعتقاد ضروری سہی مگر
ہونا نہیں ہے کوئی قیامت کا واقعہ
منصور آفاق

یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 421
میں دیکھتا ہوں جھیل میں مہتاب ہمیشہ
یعنی کہیں پانی میں ترا خواب ہمیشہ
برسات کے موسم نے دعا دی مرے غم کو
آباد پرندوں سے ہو تالاب ہمیشہ
اجڑے ہوئے لوگوں کی دعا ہے کہ تمہارا
یہ تازہ تعلق رہے شاداب ہمیشہ
جاں سوختہ ہو جائے بھلے آگ میں میری
تجھ کو ملے خسخانہ و برفاب ہمیشہ
منصور شبِ غم کے سیہ پوش سفر میں
یادیں رہیں سرچشمۂ اسباب ہمیشہ
منصور آفاق

مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 420
دکھائی دے نگاہوں کو چراغِ طور کا چہرہ
مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ
مسلسل ابر وباراں میں کئی صدیاں گزار آئیں
دمشقِ صبح کی آنکھیں ، فراتِ نور کا چہرہ
جنابِ شیخ کو غلمان کی آنکھیں پسند آئیں
مجھے اچھا لگا اک کھکھلاتی حور کا چہرہ
مری تہذیب کا نغمہ ، اذاں میرے تمدن کی
یہی میلاد کی آنکھیں یہی عاشور کا چہرہ
اندھیری رات سے اُس زلف کوتشبیہ کیسے دوں
بھرا ہے غم کی کالک سے شبِ دیجور کا چہرہ
سنو جنت کے پھولوں سے کہیں بڑھ کر ہے پاکیزہ
کڑکتی دھوپ میں کھلتا ہوا مزدور کا چہرہ
ستم ہے لوگ پاکستان کہتے ہیں اسے منصور
بدلتاہے جہاں اقدار کا دستور کا چہرہ
منصور آفاق

آیا ہے نکل کر یہ سمندر سے ستارہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 419
اجلا ہے بہت شام کے منظر سے ستارہ
آیا ہے نکل کر یہ سمندر سے ستارہ
یک لخت نگاہوں میں کئی رنگ ہیں آئے
گزرا ہے ابھی میرے برابر سے ستارہ
قسمت کہیں یخ بستہ رویوں میں جمی ہے
نکلا ہی نہیں اپنا دسمبر سے ستارہ
ہر شام نکلتا تھا کسی شاخِ حسیں سے
رکھتا تھا تعلق وہ صنوبر سے ستارہ
تم اندھی جوانی کی کرامات نہ پوچھو
وہ توڑدیا کرتی تھی پتھر سے ستارہ
میں کس طرح لے جاؤں اسے اپنی گلی میں
منصور شناسا ہے جہاں بھر سے ستارہ
منصور آفاق

نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 418
اپنے بارے میں کسی سے پوچھنا بے فائدہ
نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ
جا کہیں دفنا دے گزرے موسموں کی میتیں
دیکھ مردہ مسئلوں پر سوچنا بے فائدہ
جب نظر میں صبحِ دوشیزہ کا ہو حسنِ خرام
چاند کی گردن میں باہیں ڈالنا بے فائدہ
کیا تعلق کی لحد پر فاتحہ خوانی کروں
ایک پتھر کے بدن سے بولنا بے فائدہ
اب یہی بہتر ہے دونوں بھول جائیں گزرے دن
اب کہیں کچھ دیر مل کر بیٹھنا بے فائدہ
ہیر کو منصور کھیڑے لے گئے ہیں اپنے ساتھ
آنسوئوں سے اب ستارے ڈھالنا بے فائدہ
تیری خوشبوئے بدن سے ساونی کے رنگ ہیں
تُو نہ ہو تو بارشوں میں بھیگنا بے فائدہ
صبح کے یخ بستہ خالی صحن میں تیرے بغیر
نرم و نازک دھوپ کے پر کھولنا بے فائدہ
جز ترے کیا موجِ دریا، جز ترے کیابادِ شام
تُو نہ ہو تو ساحلوں پر گھومنابے فائدہ
تیرے بن کیا عکس اپنا، تیرے بن تمثال کیا
تُو نہیں تو پانیوں میں دیکھنا بے فائدہ
تیرے ہونے سے یہ گندم کی سنہری بالیاں
ورنہ بیجوں کا تہوں سے پھوٹنا بے فائدہ
تُو نہ ہو توکیا درختوں سے ہوا کی گفتگو
شاخِ گل پہ کونپلوں کا جاگنا بے فائدہ
تُونہ ہو تو راستوں میں بھولنے کا لطف کیا
اب مرا پگڈنڈیوں کو ناپنا بے فائدہ
جز ترے سندر رتیں بے کار ،بے مصرف تمام
تُو نہیں تو موسموں کا سامنا بے فائدہ
منصور آفاق

دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 417
جسم نا پاک پر جامہء پاک بے فائدہ
دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ
صاحبِ فہم ہو توتمہیں اک الف کافی ہے
یہ کتابوں بھرا عقل و ادراک بے فائدہ
آدمی آخری حد ہے تشکیل و تخلیق کی
گردشِ وقت کا گھومتا چاک بے فائدہ
اس کی ساری توجہ رہی اپنی تلوار کی دھار پر
میں نے پہنی ہے زخموں کی پوشاک بے فائدہ
اِس دماغِ شرر خیز میں جھوٹ کے ڈھیر ہیں
تیری دستار کے اتنے پیچاک بے فائدہ
کون سا ا س نے منصور کمرے میں آ جانا ہے
گریۂ شب کا شورِ المناک بے فائدہ
منصور آفاق

روشنی اے روشنی اے روشنی چشم توجہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 416
قبر سے تاریک تر جیون گلی چشم توجہ
روشنی اے روشنی اے روشنی چشم توجہ
چھپ نہیں سکتا خدا اگلی صدی تک آدمی سے
ہے ابھی افلاک پر کچھ سرسری چشم توجہ
وقتِ رخصت دیر تک جاتی ہوئی بس کا تعاقب
دھول میں پھر کھو گئی اشکوں بھری چشم توجہ
آپ جیسی ایک لڑکی پر لکھی ہے نظم میں نے
اک ذرا سی چاہیے بس آپ کی چشم توجہ
وہ اندھیرا تھا کہ میلوں دور چلتی گاڑیوں کی
روشنی کے ساتھ فوراً چل پڑی چشمِ توجہ
بیل بجی مدھم سروں میں در ہوا وا دھیرے دھیرے
اس کو دیکھا اور پھر پتھرا گئی چشمِ توجہ
اپنے چہرے پر سیاہی تھوپ دے منصور صاحب
اس کی ساری نیگرو کی سمت تھی چشم توجہ
منصور آفاق

جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 415
پاؤں کی وحشت بچھاتی جا رہی ہے راستہ
جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ
احتراماً چل رہا ہوں میں سڑک کے ساتھ ساتھ
اور سڑک ہے کہ بڑھاتی جا رہی ہے راستہ
اک بڑی اونچی پہاڑی رفتہ رفتہ ہاتھ سے
میرے پاؤں میں گراتی جا رہی ہے راستہ
سوچتا ہوں میری پُر آشوب بستی کس لیے
اپنا دریا سے ملاتی جا رہی ہے راستہ
پیچھے پیچھے پاؤں اٹھتے جا رہے ہیں شوق میں
آگے آگے وہ بتاتی جا رہی ہے راستہ
رہ بناتا جا رہا ہوں وقت میں منصور میں
عمر کی آندھی اڑاتی جا رہی ہے راستہ
منصور آفاق

دور تک ہے عزت و ناموس کی قربان گاہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 414
ہے محیطِ جاں شبِ محبوس کی قربان گاہ
دور تک ہے عزت و ناموس کی قربان گاہ
بہہ رہا ہے مقتلِ احساس سے تازہ لہو
زندگی ہے عالم محسوس کی قربان گاہ
آ مجھے دے زخم پھر سے ، آ چلا تیغِ ادا
سرخ کر میرے دلِ مایوس کی قربان گاہ
پاؤں پر مہندی لگاسکتی ہے خوں کی ہم نفس
کرچیاں ہوتے ہوئے فانوس کی قربان گاہ
چل رہے ہیں الٹے پاؤں راستوں پرسارے لوگ
یہ نگر ہے منزل معکوس کی قربان گاہ
خوبصورت لوگ بھی اور خوبصورت پھول بھی
خوشبوئوں کے دلربا ملبوس کی قربان گاہ
سعد پل آیا نہیں کوئی کہیں بھی راہ میں
ہر گھڑی ہے ساعتِ منحوس کی قربان گاہ
وہ لگا دی شیخ نے سیدھی جہنم میں چھلانگ
حسن بھی تھامحشرِ مخصوص کی قربان گاہ
پھر انا الحق کی صدائے دلربا تجسیم کر
ڈھونڈھ پھرمنصور دشتِ سوس کی قربان گاہ
منصور آفاق

فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 413
انداز گفتگو کے، مدارات کے بھی دیکھ
فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ
ممکن نہیں ہے قید میں رکھنا چراغ کو
یہ اضطراب اپنی سیہ رات کے بھی دیکھ
بادل پہن لیے ہیں درختوں کے جسم نے
یہ معجزے پہاڑ پہ برسات کے بھی دیکھ
اک آخری امید تھی مٹی میں مل گئی
کچھ روز اب تُو سختیِ حالات کے بھی دیکھ
قربت کی انتہا پہ ہیں صدیوں کے فاصلے
منصور سلسلے یہ ملاقات کے بھی دیکھ
منصور آفاق

صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 412
جلتی ہوئی چتا سے نکلتے ہوئے بھی دیکھ
صبحِ فلک پہ اب مجھے چلتے ہوئے بھی دیکھ
جس کو بلا کا زعم تھا اپنے مزاج پر
وہ آہنی چٹان پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
چھو کر کسی گلاب کو موجِ بدن کے رنگ
بہتی ہوئی ندی میں مچلتے ہوئے بھی دیکھ
اے بادِ تندِ یار تجھے اور کیا کہوں
بجھتے ہوئے چراغ کو جلتے ہوئے بھی دیکھ
پاگل سا ہو گیا تھا جسے دیکھ کر کبھی
اس چودھویں کے چاند کو ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ
مجھ کو گرا دیا تھا زمیں پر تو کیا ہوا
سطحِ زمیں سے گیند اچھلتے ہوئے بھی دیکھ
وہ بھی تو ایک پیڑ تھا اپنے نصیب کا
موسم کے ساتھ اس کو بدلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور پھر کھڑا ہے خود اپنے ہی پاؤں پر
جو گر گیا تھا اس کو سنبھلتے ہوئے بھی دیکھ
منصور آفاق

مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 411
قوسِ قزح کے لکھے ہوئے تبصرے بھی دیکھ
مہکے ہوئے بدن کے ذرا حاشیے بھی دیکھ
رنگوں بھرے لباس کی مہکار پر نہ جا
میرے خیال و خواب کے ویراں کدے بھی دیکھ
تْو نے گرا دیا تھا فلک سے تو اب مجھے
بادِ صبا کے رنگ پہ چلتے ہوئے بھی دیکھ
دونوں طرف وجود ترا ہی کہیں نہ ہو
گردن ذرا گھما کے تُو کُن کے سرے بھی دیکھ
بے شک گلے لگا کے سمندر کو، رو مگر
ساحل کے پاس بنتے ہوئے بلبلے بھی دیکھ
ہر چند تارکول ہے پگھلی ہوئی تمام
میں بھی تو چل رہا ہوں سڑک پر، مجھے بھی دیکھ
سورج مرے قدم ہیں ستارے ہیں میری گرد
تسخیر کائنات کے یہ مرحلے بھی دیکھ
اک دلنواز خواب کی آمد کے آس پاس
آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے قمقمے بھی دیکھ
کھینچی ہیں تم نے صرف لکیریں ہوا کے بیچ
بنتے ہوئے خطوط کے یہ زاویے بھی دیکھ
میں جل رہا ہوں تیز ہواؤں کے سامنے
اے شہرِ شب نژاد مرے حوصلے بھی دیکھ
منصور آفاق

ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 410
طویل و تیرہ سہی شب مگر تسلی رکھ
ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ
اسے گزرنا انہی پتھروں سے ہے آخر
اومیری شوق بھری رہگزر تسلی رکھ
ابھی سے صبحِ جدائی کا خوف کیا کرنا
ہے مہتاب ابھی بام پر تسلی رکھ
کسی کا ساتھ گھڑی دو گھڑی بھی کافی ہے
او زندگی کی رہِ مختصر تسلی رکھ
نہیں نکلتی ترے منظروں سے بینائی
یہیں کہیں ہے ، گرفتِ نظر تسلی رکھ
شکست عشق میں ہوتی نہیں کبھی منصور
یہ ہار ، ہار نہیں ، ہار کر تسلی رکھ
منصور آفاق

یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 409
یا بدن کے سرخ گجروں کی مہک محدود رکھ
یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ
دھن کوئی کومل سی بس ترتیب کے لمحے میں ہے
اے محافظ کالے بوٹوں کی دھمک محدود رکھ
سو رہا ہے تیرے پہلو میں کوئی غمگین شخص
چوڑیوں کی رنگ پروردہ کھنک محدود رکھ
باغباں ہر شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں زرد سانپ
گھونسلوں تک اپنی چڑیوں کی چہک محدود رکھ
جاگنے لگتے ہیں گلیوں میں غلط فہمی کے خواب
آئینے تک اپنی آنکھوں کی چمک محدود رکھ
لوگ چلنے لگتے ہیں قوسِ قزح کی شال پر
اپنے آسودہ تبسم کی دھنک محدود رکھ
منصور آفاق

یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 408
یہی تیرے غم کا کِتھارسس، یونہی چشمِ نم سے ٹپک کے پڑھ
یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ
جو اکائی میں نہیں ذہن کی اسے سوچنے کا کمال کر
یہ شعور نامۂ خاک سن، یہ درود لوحِ فلک کے پڑھ
یہی رتجگوں کی امانتیں ہیں بیاضِ جاں میں رکھی ہوئی
جو لکھے نہیں ہیں نصیب میں وہ ملن پلک سے پلک کے پڑھ
مرے کینوس پہ شفق بھری نہ لکیریں کھینچ ملال کی
کوئی نظم قوسِ قزح کی لکھ کوئی رنگ ونگ دھنک کے پڑھ
ترے نرم سر کا خرام ہو مری روح کے کسی راگ میں
مجھے انگ انگ میں گنگنا، مرا لمس لمس لہک کے پڑھ
یہ بجھا دے بلب امید کے، یہ بہشتِ دیدِ سعید کے
ابھی آسمان کے بورڈ پر وہی زخم اپنی کسک کے پڑھ
او ڈرائیور مرے دیس کے او جہاں نما مری سمت کے
یہ پہنچ گئے ہیں کہاں پہ ہم، ذرا سنگ میل سڑک کے پڑھ
کوئی پرفیوم خرید لا، کوئی پہن گجرا کلائی میں
نئے موسموں کا مشاعرہ کسی مشکبو میں مہک کے پڑھ
ہے کتابِ جاں کا ربن کھلا کسی واڈکا بھری شام میں
یہی افتتاحیہ رات ہے ذرا لڑکھڑا کے، بہک کے پڑھ
یہ ہے ایک رات کا ناولٹ، یہ ہے ایک شام کی سرگزشت
یہ فسانہ تیرے کرم کا ہے، اسے اتنا بھی نہ اٹک کے پڑھ
کئی فاختاؤں کی ہڈیاں تُو گلے میں اپنے پہن کے جا
وہ جو عہد نامۂ امن تھا اسے بزم شب میں کھنک کے پڑھ
منصور آفاق

قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 407
وہ جھوٹ بولتے پھرتے ہیں آیتیں پڑھ پڑھ
قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ
یہ چاہتے ہیں کہ کچھ دن گزاریں مرضی سے
جی تھک گیا ہے فلک کی ہدایتیں پڑھ پڑھ
شکار ہونا ہے احساسِ کمتری کا ہمیں
عجائباتِ جہاں کی حکایتیں پڑھ پڑھ
یہ لگ رہا ہے کہ جبریل اپنے اندر ہے
ورق ورق پہ اترتی عنایتیں پڑھ پڑھ
یہ ارتقاء کا تماشا ابھی ادھورا ہے
خیال آتا ہے ہستی کی غایتیں پڑھ پڑھ
یہ سوچتے ہیں ازل کتنا خوبصورت تھا
تباہ حال ابد کی نہایتیں پڑھ پڑھ
خزاں رسیدہ ہواکے خلاف ہونا تھا
گرے ہوئے کی مسلسل شکایتیں پڑھ پڑھ
حسابِ خرچۂ تدفین کر رہے ہیں ہم
بنک کاروں کی بھیجی کفایتیں پڑھ پڑھ
اے اہل کوفہ ہمیں یاد کربلا آئے
خطوط میں یہ ہزاروں حمایتیں پڑھ پڑھ
بڑھا سکے ہیں نہ قوت خرید کی منصور
ہر ایک چیز پہ اتنی رعایتیں پڑھ پڑھ
منصور آفاق

پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 406
جو پھیرتا تھا تہجد کے کینوس پہ وہ ہاتھ
پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ
بنا رہا ہے جو قوسِ قزح کی تصویریں
دکھائی دے مجھے بادل کے کارنس پہ وہ ہاتھ
نگار خانۂ جاں کی نمائشِ کُن میں
لکیر کھینچ رہا ہے برس برس پہ وہ ہاتھ
یہ سوچتے ہوئے میری کہاں علامت ہے
کبھی پروں پہ رکھے وہ ،کبھی قفس پہ وہ ہاتھ
کسی کو خواب میں شایدپکڑ رکھا تھا کہیں
جمے ہوئے تھے مسہری کے میٹرس پہ وہ ہاتھ
عجیب بجلیاں بھر دیں ، عجیب کیف دیا
بنامِ زندگی ،ہائے اک ایک نس پہ وہ ہاتھ
نئے وصال دکھاتی ہے رات بھر منصور
کچھ ایسے رکھتی ہے گزرے ہوئے قصص پہ وہ ہاتھ
منصور آفاق

پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 405
چل رہی ہے زندگی کی اک بھیانک رات ساتھ
پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ
میں نے سوچا کیا کہیں گے میرے بچپن کے رفیق
اور پھر رختِ سفر میں رکھ لیے حالات ساتھ
میں اکیلا رونے والا تو نہیں ہوں دھوپ میں
دے رہی ہے کتنے برسوں سے مرا برسات ساتھ
چاہیے تھا صرف تعویذِ فروغِ کُن مجھے
دے دیا درویش نے اذنِ شعورِ ذات ساتھ
یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصد ہواؤں کے ہیں سوکھے پات ساتھ
ایک بچھڑے یار کی پرسوز یادوں میں مگن
کوئی بگلا چل رہا تھا پانیوں کے ساتھ ساتھ
منصور آفاق

روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 404
آگ تھی رنگ تھے اور مے تھی کہیں
روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں
سو گئی رات کے سائے گنتی ہوئی
جو ملاقات گلیوں میں طے تھی کہیں
میرے جیسا کوئی اور بیلے میں تھا
بانسری کی فسردہ سی لے تھی کہیں
شور تھا شہر میں عشق کاہر طرف
کوئی تازہ محبت کی نے تھی کہیں
اس کے اندر اترنا ہے گہرائی تک
سیکھتا جا کے ہوں ٹیلی پیتھی کہیں
جگمگاتی پھرے عشقِ منصور میں
کوئی سیتی کہیں کوئی کیتھی کہیں
منصور آفاق

تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 403
کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں
عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں
اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں
بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں
تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں
اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں
ڈرا دیا کسی خودکُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں
کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں
ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں
ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں
ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کیے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں
کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں
ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں
اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں
بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں
بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں
دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں
منصور آفاق

کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 402
شب کہیں اور شب کے سائے کہیں
کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں
ہے کہیں انتظارِ گاہِ حیات
اور ہے موت کی سرائے کہیں
کانچ سے بھی زیادہ نازک ہے
سنگ دل ، دل تو آزمائے کہیں
شخصیت کا یہ خول رہنے دے
میری رائے بدل نہ جائے کہیں
ہرطرف راستے ہیں گلیاں ہیں
گھر کوئی بھی نظر نہ آئے کہیں
جاگ اٹھیں نہ رات کی آنکھیں
کوئی سایہ سا سرسرائے کہیں
دونوں عالم کو خوف ہے منصور
خاک کا دل نہ ٹوٹ جائے کہیں
منصور آفاق

ایک سناٹا ہے گھر میں اور تو کچھ بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 401
خوف سا ہے بام و در میں اور تو کچھ بھی نہیں
ایک سناٹا ہے گھر میں اور تو کچھ بھی نہیں
کچھ نمک ہے زخم کا ، کچھ روشنی ہے یاد کی
چشمِ غم کی بوند بھر میں اور تو کچھ بھی نہیں
یاد کا ہے سائباں اور زندگی کی دھوپ ہے
اس ستم گر دوپہر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان کی رخشاں مسکراہٹ حاملِ صد مہر و مہ
ایک سورج ہے سحر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان سے رک سکتے ہیں کب دیوانگانِکوئے یار
کچھ بلائیں ہیں سفر میں اور تو کچھ بھی نہیں
ان کی چاہت کے سوا تاریک ہے فردِ عمل
داغ ہیں قلب و جگر میں اور تو کچھ بھی نہیں
گنبدِ خضرا کا ہر ذرہ بہشت آباد ہے
دہر کے دوزخ نگر میں اور تو کچھ بھی نہیں
نازشِ تخلیق ہے آفاق میں بس ایک ذات
میری فکرِ معتبر میں اور تو کچھ بھی نہیں
منصور آفاق

اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 400
وہ بدن کون ہے کچھ اپنا بتائے بھی نہیں
اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں
دور تک برف بھری رات کے سناٹے ہیں
شہر میں یادکے ڈھلتے ہوئے سائے بھی نہیں
وصل خاموش بھی پُرشوربھی اپنے اندر
آگ محسوس بھی ہو اور جلائے بھی نہیں
کینوس میں مرے رنگوں کو رکھے قید کوئی
اورتصویر تعلق کی بنائے بھی نہیں
کوئی منصورمرے بسترِ آباد کے بیچ
مجھ کو بھی سونے بھی نہ دے اور جگائے بھی نہیں
منصور آفاق

پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 399
اور جینے کا سبب کوئی نہیں
پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں
صرف اک جاں سے گزرنا ہے مجھے
مجھ سا بھی سہل طلب کوئی نہیں
خواہشِ رزق درندوں کی طرح
جیسے اس شہر کا رب کوئی نہیں
وقت کیفیتِ برزخ میں ہے
کوئی سورج، کوئی شب، کوئی نہیں
ایک تعزیتی خاموشی ہے
شہر میں مہر بلب کوئی نہیں
وصل کی رات بھی تنہا میں تھا
میرے جیسا بھی عجب کوئی نہیں
کیوں گزرتا ہوں وہاں سے منصور
اس گلی میں مرا جب کوئی نہیں
منصور آفاق

تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 398
آسماں ! بول کہ اُس پار جہاں ہے کہ نہیں
تُو جہاں ہے کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں
اس خلاباز کی آواز میں سناٹے تھے
چاند پر جس نے کہا ’کوئی یہاں ہے کہ نہیں
مجھ میں موجود ہے کیسے ،یہ سمجھنا ہے ابھی
یہ سوال اور ہے ذرہ میں کہاں ہے کہ نہیں
کوئی لوٹا ہی نہیں روح کے تہہ خانے سے
کیسے معلوم ہو وہ مجھ میں نہاں ہے کہ نہیں
سو گئی تھی جو زرِ فاحشہ کے بستر میں
وہ سپہ آج کفِ شعلہ دھاں ہے کہ نہیں
پھر نکل عرشِ محبت کے سفر پر منصور
پہلے یہ دیکھ وہاں جان جہاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق

اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 397
اپنی بستی میں کہیں امن و اماں ہے کہ نہیں
اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں
حلقہ زن ہوکے درِ دل پہ پکارے کوئی
زندگی تیرے لئے بارگراں ہے کہ نہیں
جس میں شہزادیاں سوئی تھیں بوقت تقسیم
اب وہ بستی میں تری اندھا کنواں ہے کہ نہیں
جو کسی کو بھی برہنہ نہیں ہونے دیتا
آسماں پر وہ سیہ پوش دھواں ہے کہ نہیں
خانۂ خاک تو آباد بتانِ زر سے
آسماں پر بھی کہیں تیرا مکاں ہے کہ نہیں
میرے جیسوں کو بتاتا ہے جو رستے کا پتہ
اُس ستارے کا کہیں نام و نشاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق

یہ عمل تو پارسائی میں نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 396
درد کیوں چہرہ نمائی میں نہیں
یہ عمل تو پارسائی میں نہیں
آسماں ہیں میرے اندر ہی کہیں
ہاں مگر میری رسائی میں نہیں
فاقہ مستی کائناتوں پر محیط
معجزہ کوئی گدائی میں نہیں
میرے بنجاروں تمہاری خیر ہو
ایک بھی چوڑی کلائی میں نہیں
وقت میری وحدتوں میں ہے مقیم
میں زمانے کی اکائی میں نہیں
صرف میں منصور اک موجود ہوں
کوئی بھی پوری خدائی میں نہیں
منصور آفاق

میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 395
دھوپ میں پھرتا ہوں دن بھر خواب میں رہتا نہیں
میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں
ہے مناسب بے کسی کی کوٹھری میرے لئے
غم پہن کر میں شبِ مہتاب میں رہتا نہیں
کھل کے روتا ہوں ہمیشہ بادلوں کے ساتھ میں
یونہی ہجراں کے ادب آداب میں رہتا نہیں
ایک صحرا ہے مرے چاروں طرف پھیلا ہوا
میں مری جاں ! قریۂ شاداب میں رہتا نہیں
ہر طرف بکھری ہوئی منصور ویرانی سی ہے
میں مکاں کے عالمِ اسباب میں رہتا نہیں
منصور آفاق

بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 394
تاریخ ساز ’’لوٹ‘‘ کوئی دیکھتا نہیں
بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں
رقصاں ہیں ایڑیوں کی دھنوں پر تمام لوگ
کالے سیاہ بوٹ کوئی دیکھتا نہیں
انصاف گاہ ! تیرے ترازو کے آس پاس
اتنا سفید جھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
چکلالہ چھاؤنی کی طرف ہے تمام رش
اسلام آباد روٹ کوئی دیکھتا نہیں
طاقت کے آس پاس حسیناؤں کا ہجوم
میرا عوامی سوٹ کوئی دیکھتا نہیں
سب دیکھتے ہیں میری نئی کار کی طرف
چہرے کی ٹوٹ پھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
منصور آفاق

کوئی تمہیدِ انقلاب نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 393
اپنی نیندوں میں کوئی خواب نہیں
کوئی تمہیدِ انقلاب نہیں
ساحلوں پر برہنہ جوڑے ہیں
پر کوئی آنکھ بے حجاب نہیں
ہم سفر احتیاط، میرا بدن
نیکیوں کی کوئی کتاب نہیں
کچھ دنوں سے بجا ہے شب کا ایک
اور گھڑیال بھی خراب نہیں
عمر گزری ہے ایک کمرے میں
پھر بھی ہم رنگ اپنے خواب نہیں
کس لیے ذہن میں در آتے ہیں
جن سوالات کے جواب نہیں
آنکھ بھی خالی ہو گئی منصور
اور گٹھڑی میں بھی ثواب نہیں
منصور آفاق

ہو بھی جاؤ جو کسی اورکا ہونا ہے تمہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 392
یہی دوچار برس آنکھ نے رونا ہے تمہیں
ہو بھی جاؤ جو کسی اورکا ہونا ہے تمہیں
آخری بات کہ کس وقت ملیں گے کل ہم
مجھ کو معلوم ہے اب رات ہے ، سونا ہے تمہیں
یاد رکھنا کہ تمہیں چارہ گری کرنی ہے
زخم سینے ہیں مرے ،چاک پرونا ہے تمہیں
کیا گزاروگے اسی خیمہ ء افلاک میں رات
کیا بنانا یہی فٹ پاتھ بچھونا ہے تمہیں
کوئی خودکُش سا دھماکہ بھی ضروری ہے وہاں
جلدی سے جائے وقوعہ کو بھی دھونا ہے تمہیں
تم سے پہلوں نے جہاں اپنے قدم رکھے تھے
اسی آسیب زدہ غار میں کھونا ہے تمہیں
روح تک دیکھنے کی تم میں بصارت ہی نہیں
صرف کافی یہی مٹی کاکھلونا ہے تمہیں
سرخ فوارہ کی دھاروں کے دمادم کی قسم
رات کی چھاتی میں بس تیر چبھونا ہے تمہیں
دیکھنے ہیں مجھے جذبوں کی صراحی کے خطوط
میں نے وہسکی سے کسی روز بھگونا ہے تمہیں
صرف ہم نصف کے مالک ہیں بحکمِ ربی
فصل بھی کاٹنی ہے بیج بھی بونا ہے تمہیں
میری باہو سے ملاقات ہے ہونے والی
زندگی !’’ ہو‘‘ کے سمندر میں ڈبونا ہے تمہیں
تم پرندے ہو کسی وقت بھی اڑسکتے ہو
ساتھ رکھنے کے لئے جاں میں سمونا ہے تمہیں
جس میں چلتی چلی جاتی ہے قیامت منصور
اُس دوپٹے کا پکڑنا کوئی کونا ہے تمہیں
منصور آفاق

خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 391
ایٹمی جنگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں
وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں
شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں
ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں
ایک آواز منصور کاغذ پہ پھیلی ہوئی ہے
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں
منصور آفاق

یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 390
تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں
خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں
بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے
یہ جو سنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں
روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بد گمان کیسے ہیں
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں
کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں
کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں ، ساربان کیسے ہیں
چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے
خالی خالی برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں
دیکھتا تھا رم جھم سی بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں
اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے ہیں منصور
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں
منصور آفاق