زمرہ جات کے محفوظات: غزل

دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 42
یہ باغ جس نے اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
بچا بھی لے گا بڑی آزمائشوں سے مگر
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
یہ دشت اوس بھی دے گا، ببول بھی دے گا
ابھی سے لو نہ بڑھاؤ اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
مسافروں کو کہاں آتا پیرہن کا خیال
جو راستہ ہمیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
کبھی تو سمجھے گا کوئی لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 40
خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہو گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
وہ سب اک بجھنے والے شعلۂ جاں کا تماشا تھا
دوبارہ ہو وہی رقصِ شرر ایسا نہیں ہو گا
وہ ساری بستیاں وہ سارے چہرے خاک سے نکلیں
یہ دُنیا پھر سے ہو زیر و زبر ایسا نہیں ہو گا
مرے گم گشتگاں کو لے گئی موجِ رواں کوئی
مجھے مل جائے پھر گنجِ گہر ایسا نہیں ہو گا
خرابوں میں اب ان کی جستجو کا سلسلہ کیا ہے
مرے گردوں شکار آئیں ادھر ایسا نہیں ہو گا
ہیولے رات بھر محراب و در میں پھرتے رہتے ہیں
میں سمجھا تھا کہ اپنے گھر میں ڈر ایسا نہیں ہو گا
میں تھک جاؤں تو بازوئے ہوا مجھ کو سہارا دے
گروں تو تھام لے شاخِ شجر ایسا نہیں ہو گا
کوئی حرفِ دُعا میرے لیے پتوار بن جائے
بچا لے ڈوبنے سے چشمِ تر ایسا نہیں ہو گا
کوئی آزار پہلے بھی رہا ہو گا مرے دل کو
رہا ہو گا مگر اے چارہ گر ایسا نہیں ہو گا
بحدِ وسعتِ زنجیر گردش کرتا رہتا ہوں
کوئی وحشی گرفتارِ سفر ایسا نہیں ہو گا
بدایوں تیری مٹّی سے بچھڑ کر جی رہا ہوں میں
نہیں اے جانِ من، بارِ دگر ایسا نہیں ہو گا
عرفان صدیقی

نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 39
یمن ویراں ہوا اب دل کی جولانی سے کیا ہو گا
نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا
قبا سے کیا ہوا ہنگامۂ شوقِ تماشا میں
ہم آنکھیں بند کر لیں گے تو عریانی سے کیا ہو گا
مری دُنیائے جاں میں صرف میرا حکم چلتا ہے
بدن کی خاک پر اوروں کی سلطانی سے کیا ہو گا
یہاں کس کو خبر ہو گی غبارِ شہ سواراں میں
میں خوشبو ہی سہی میری پریشانی سے کیا ہو گا
پھر اک نوبرگ نے روئے بیاباں کر دیا روشن
میں ڈرتا تھا کہ حاصل ایسی ویرانی سے کیا ہو گا
عرفان صدیقی

آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ہو چکا کھیل بہت جی سے گزر جانے کا
آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا
ہم بھی زندہ تھے مسیحا نفسوں کے ہوتے
سچ تو یہ ہے کہ وہی وقت تھا مر جانے کا
بے سروکار فلک بے در و دیوار زمیں
سر میں سودا ہے مری جان کدھر جانے کا
ہم یہاں تک خس و خاشاک بدن کو لے آئے
آگے اب کوئی بھی موسم ہو بکھر جانے کا
کوئی دشوار نہیں شیوۂ شوریدہ سری
ہاں اگر ہے تو ذرا خوف ہے سر جانے کا
اب تلک بزم میں آنا ہی تھا اک کار ہنر
ہم نے آغاز کیا کار ہنر جانے کا
عرفان صدیقی

قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 37
بھرا ہے اشک ندامت سے جام پانی کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
زیارت در خیمہ نہ تھی نصیب فرات
سو آج تک ہے سفر ناتمام پانی کا
رگ گلو نے بجھائی ہے تیغ ظلم کی پیاس
کیا ہے خون شہیداں نے کام پانی کا
علم ہوا سر نیزہ جو ایک مشکیزہ
شجر لگا سر صحرائے شام پانی کا
اگر وہ تشنگئ لازوال یاد رہے
کبھی نہ آئے زبانوں پہ نام پانی کا
اُسے تلاش نہ کر دشت کربلا میں کہ ہے
ہمارے دیدۂ تر میں قیام پانی کا
عرفان صدیقی

یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خشک ہوتا ہی نہیں دیدۂ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل پر ہے کوئی نقش دگر پانی کا
کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا در شبیر پہ سر پانی کا
تیری کھیتی لب دریا ہے تو مغروز نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا
عرفان صدیقی

نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 35
اب کے برس کیا موسم ہے دل جنگل کی ویرانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
صبح تلک جینا تھا سو ہم نے بات کو کیا کیا طول دیا
اگلی رات کو پھر سوچیں گے اگلا موڑ کہانی کا
اور کسی کی ملک ہے بھائی‘ جس پر دونوں قائم ہیں
تکیہ میری فقیری کا اور تخت تری سلطانی کا
جسم کا شیشہ کاجل کرتی کالی رات خرابی کی
آنکھوں کی محراب میں روشن، چہرہ اک سیدانی کا
عرفان صدیقی

مرا منظرنامہ خوابوں کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چڑیوں پھولوں مہتابوں کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
آنکھوں میں لوح خزانوں کی
شانوں پر بوجھ خرابوں کا
یا نصرت آج کمانوں کی
یا دائم رنگ گلابوں کا
اِک اِسم کی طاہر چادر میں
طے موسم دُھوپ عذابوں کا
کبھی بادل چھت کی چھاؤں میں آ
کبھی ناتا توڑ طنابوں کا
یہی بستی میرے پرکھوں کی
یہی رَستہ ہے سیلابوں کا
مرے پتھر ہونٹ حکایت ہیں
میں حرف تری محرابوں کا
عرفان صدیقی

جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب اور کوئی منزل دشوار سوچئے
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
سب کاروبار عرض تمنا فضول ہے
دل میں لہو زباں میں اثر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر چکا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 32
طوفاں میں تا بہ حد نظر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
کچھ خاک تھی سو وقت کی آندھی میں اُڑ گئی
آخر نشان سوز جگر کچھ نہیں بچا
ہر شئے کو ایک سیل بلاخیز لے گیا
سودا نہ سر، چراغ نہ در، کچھ نہیں بچا
سب جل گیا جو تھا ہمیں پیارا جہان میں
خوشبو نہ گل، صدف نہ گہر، کچھ نہیں بچا
مٹی بھی نذر حسرت تعمیر ہو گئی
گھر میں سوائے برق و شرر کچھ نہیں بچا
اُس پار ساحلوں نے سفینے ڈبو دیے
سب کچھ بچا لیا تھا مگر کچھ نہیں بچا
یا بازوئے ستم میں ہے یہ تیغ آخری
یا دست کشتگاں میں ہنر کچھ نہیں بچا
ڈرتے رہے تو موج ڈراتی رہی ہمیں
اَب ڈوب جائیے کہ خطر کچھ نہیں بچا
کچھ نقدِ جاں سفر میں لٹانا بھی ہے ضرور
کیا کیجئے کہ زادِ سفر کچھ نہیں بچا
یہ کاروبارِ عرضِ تمنا فضول ہے
دل میں لہو، دُعا میں اثر کچھ نہیں بچا
اب اور کوئی راہ نکالو کہ صاحبو
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر گیا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تجھ کو بھی اے ہوائے شب جی کا زیاں بہت ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
رختِ سفر اُٹھا گیا کون سرائے خواب سے
رات پھر اس نواح میں گریۂ جاں بہت ہوا
موسمِ گل سے کم نہ تھا موسمِ انتظار بھی
شاخ پہ برگِ آخری رقص کناں بہت ہوا
کوئی افق تو ہو کہ ہم جس کی طرف پلٹ سکیں
شام ہوئی تو یہ خیال دل پہ گراں بہت ہوا
عرفان صدیقی

تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اُس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہوُ روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدّر لکھا ہوا
پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے
کس کے لیے ہے چشمۂ کوثر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منوّر لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اَوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے شعرِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوترابؑ کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
فہرستِ چاکراں میں سلاطیں کے ساتھ ساتھ
میرا بھی نام ہے سرِ دفتر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوال ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبرؐ لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ خداساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
MERGED نقشِ ظفر تھا لوح ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہو روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمین
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منور لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے بیتِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوتراب کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوالِ ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبر لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم‘ تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ‘ خدا ساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
عرفان صدیقی

ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گھٹی میں ہے وِلا کا وہ نشہ پڑا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
صدیوں سے چاکرِ درِ حیدرؑ ہوں دیکھ لو
گردن میں میری طوق ہے اُن کا پڑا ہوا
اور یہ بھی دیکھ لو اسی نسبت کے فیض سے
پیروں پہ ہے مرے سگِ دُنیا پڑا ہوا
سورج کے بعد ماہِ منوّر ہوا طلوُع
تھا بزمِ چار سوُ میں اندھیرا پڑا ہوا
باطل تمام حق سے الگ ہو کے جا گرا
کیا دستِ ذوالفقار تھا سچا پڑا ہوا
اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز
کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا
اپنے لہو میں مست ہیں تشنہ لبانِ عشق
صحرا میں چھوڑ آئے ہیں دریا پڑا ہوا
بخشش سو بے حساب، نوازش سو بے حساب
ہے مدح گو کو مدح کا چسکا پڑا ہوا
عرفان صدیقی

چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 27
تمام جلنا جلانا فسانہ ہوتا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
عجب گداز پرندے بدن میں اڑتے ہوئے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہوتا ہوا
ہری زمین سلگنے لگی تو راز کھلا
کہ جل گیا وہ شجر شامیانہ ہوتا ہوا
نظر میں ٹھہری ہوئی ایک روشنی کی لکیر
افق پہ سایۂ شب بیکرانہ ہوتا ہوا
رقابتیں مرا عہدہ بحال کرتی ہوئی
میں جان دینے کے فن میں یگانہ ہوتا ہوا
عرفان صدیقی

ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
یہ سرخ پھول سا کیا کھل رہا ہے نیزے پر
یہ کیا پرندہ ہے شاخش شجر پہ دارا ہوا
ابھی زمیں پہ نشاں تھے عذاب رفتہ کے
پھر آسمان پہ ظاہر وہی ستارہ ہوا
میں ڈر رہا تھا وہ خنجر نہ ہو چھپائے ہوئے
ردا ہٹی تو وہی زخم آشکارا ہوا
یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
تو کیا ہوا میں اگر دوسرا کنارہ ہوا
عرفان صدیقی

تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 25
چراغ دینے لگے گا دُھواں، نہ چھوُ لینا
تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا
زَمیں چھٹی تو بھٹک جاؤ گے خلاؤں میں
تم اڑُتے اُڑتے کہیں آسماں نہ چھوُ لینا
نہیں تو برف سا پانی تمہیں جلا دے گا
گلاس لیتے ہوئے اُنگلیاں نہ چھوُ لینا
ہمارے لہجے کی شائستگی کے دھوکے میں
ہماری باتوں کی گہرائیاں نہ چھوُ لینا
اُڑے تو پھر نہ ملیں گے رَفاقتوں کے پرند
شکایتوں سے بھری ٹہنیاں نہ چھوُ لینا
مروّتوں کو محبت نہ جاننا عرفانؔ
تم اپنے سینے سے نوکِ سناں نہ چھوُ لینا
عرفان صدیقی

میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 24
عشق میاں اِس آگ میں میرا ظاہر ہی چمکا دینا
میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا
آؤ تمہاری نذر کریں ہم ایک چراغ حکایت کا
جب تک جاگو روشن رکھنا نیند آئے تو بجھا دینا
بیس اکیس برس پیچھے ہمیں کب تک ملتے رہنا ہے
دیکھو، اَب کی بار ملو تو دِل کی بات بتا دینا
سینے کے ویرانے میں یہ خوشبو ایک کرامت ہے
ورنہ اتنا سہل نہیں تھا راکھ میں پھول کھلا دینا
دِل کی زمیں تک روشنیاں تھیں، چہرے تھے، ہریالی تھی
اب تو جہاں بھی ساحل پانا کشتی کو ٹھہرا دینا
مولا، پھر مرے صحرا سے بن برسے بادل لوٹ گئے
خیر، شکایت کوئی نہیں ہے اگلے برس برسا دینا
خواجہ خضر سنو ہم کب سے اس بستی میں بھٹکتے ہیں
تم کو اگر تکلیف نہ ہو تو جنگل تک پہنچا دینا
عرفان صدیقی

پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 23
وہ ہلالِ ماہِ وصال ہے دلِ مہرباں اسے دیکھنا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
مری عاشقی مری شاعری ہے سمندروں کی شناوری
وہی ہم کنار اسے چاہنا وہی بے کراں اسے دیکھنا
وہ ستارہ ہے سرِ آسماں ابھی میری شامِ زوال میں
کبھی میرے دستِ کمال میں تہہِ آسماں اسے دیکھنا
وہ ملا تھا نخلِ مراد سا ابھی مجھ کو نجدِ خیال میں
تو ذرا غبارِ شمال میں مرے سارباں اسے دیکھنا
نہ ملے خبر کبھی دوستو مرے حال میرے ملال کی
تو بچھڑ کے اپنے حبیب سے پسِ کارواں اسے دیکھنا
عرفان صدیقی

آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 22
دست قاتل کیا کٹے اے چشم تر کیا دیکھنا
آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا
کچھ تو چٹانوں سے نکلے جوئے خوں یا جوئے شیر
پتھروں کے بیچ رہنا ہے تو سر کیا دیکھنا
ہم نے خود بن باس لینے کا کیا تھا فیصلہ
یار اب مڑ مڑ کے سوئے بام و در کیا دیکھنا
اپنے ہی جوش نمو میں رقص کرنا چاہیے
راستہ جھونکوں کا اے شاخ شجر کیا دیکھنا
اب کدھر سے وار ہو سکتا ہے یہ بھی سوچئے
کل جدھر سے تیر آیا تھا اُدھر کیا دیکھنا
عرفان صدیقی

مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رکھنا یا فہرست میں تم مرا نام نہ رکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
سارے بوسے خاک میں مل گئے آتے آتے
اب کے ہوا کے ہاتھ میں یہ پیغام نہ رکھنا
شب کے مسافر اور پھر ایسی شب کے مسافر
دیکھ ہماری آس چراغِ شام نہ رکھنا
ورنہ خالی ہوجائیں گے سارے خزانے
آئندہ کسی سر پہ کوئی انعام نہ رکھنا
ایسے شور کے شہر میں اتنا مدھم لہجہ
اونچا سننے والوں پر الزام نہ رکھنا
میں چاہوں مرے دل کا لہو کسی کام آجائے
موسم چاہے چہروں کو گلفام نہ رکھنا
عرفان صدیقی

آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 20
خواب میں بھی میری زنجیرِ سفر کا جاگنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
اَگلے دِن کیا ہونے والا تھا کہ اَب تک یاد ہے
انتظارِ صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا
بستیوں سے شب نوردوں کا چلا جانا مگر
رات بھر اَب بھی چراغِ رہ گزر کا جاگنا
آخری اُمید کا مہتاب جل بجھنے کے بعد
میرا سو جانا مرے دیوار و دَر کا جاگنا
پھر ہواؤں سے کسی امکان کی ملنا نوید
پھر لہو میں آرزوئے تازہ تر کا جاگنا
ایک دِن اُس لمس کے اَسرار کھلنا جسم پر
ایک شب اِس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
اُس کا حرفِ مختصر بیداریوں کا سلسلہ
لفظ میں معنی کا، معنی میں اثر کا جاگنا
بے نوا پتّے بھی آیاتِ نمو پڑھتے ہوئے
تم نے دیکھا ہے کبھی شاخِ شجر کا جاگنا
یک بیک ہر روشنی کا ڈوب جانا اور پھر
آسماں پر اک طلسمِ سیم و زر کا جاگنا
عرفان صدیقی

لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 19
اس بھیڑ میں گم اے دل نہ ہونا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
اچھا یہ سچ ہے، اچھی یہ ضد ہے
قائل نہ کرنا، قائل نہ ہونا
اس نے جو مل کر ہم کو سکھایا
حاصل نہ کرنا، حاصل نہ ہونا
جنگل نہ جانے کیوں چاہتے ہیں
بستی کی حد میں داخل نہ ہونا
بس جی دکھانا لوگوں کے دکھ پر
لوگوں کے دُکھ میں شامل نہ ہونا
قاتل سے لڑنا مشکل نہیں ہے
ممکن نہیں ہے بسمل نہ ہونا
عرفان صدیقی

ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ہوا کا چلنا‘ دریچوں کا باز ہو جانا
ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا
مرے کنار سے اٹھنا مرے ستارے کا
اور اس کے بعد شبوں کا دراز ہو جانا
وہ میرے شیشے پہ آنا تمام گردِ ملال
پھر ایک شخص کا آئینہ ساز ہو جانا
وہ جاگنا مری خاکِ بدن میں نغموں کا
کسی کی انگلیوں کانے نواز ہو جانا
خیال میں ترا کُھلنا مثالِ بند قبا
مگر گرفت میں آنا تو راز ہو جانا
میں اس زمیں پہ تجھے چاہنے کو زندہ ہوں
مجھے قبول نہیں بے جواز ہو جانا
عرفان صدیقی

سیاہ رات سے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
سیاہ رات سے سورج نکالنے والا
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
شب کیسہ سے ہے ورج نکالنے والا
سنہری فصلوں کے بادل میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح کوئی چیز اس کے ہاتھ میں تھی
مرا بدن تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
زمیں کا درد اُٹھانے کا ظرف تو دیتا
یہ بوجھ بھی مرے شانوں پہ ڈالنے والا
عرفان صدیقی

سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مرا خدا، مرے شیشے اُجالنے والا
سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا
سن اے ہرے بھرے موسم میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح بدن میں اُتر گئی کوئی چیز
میں اِس قدر تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
مجھے ملی تو سپر بن گئی ہے میرے لیے
وہ شئے کہ جس سے وہ تھا تیغ ڈھالنے والا
کسی کے نام میں یہ درد کیا لکھوں کہ یہاں
ہر ایک ہے یہ امانت سنبھالنے والا
میں ان کو بانٹتا جاؤں مجھے یہ ظرف بھی دے
محبتیں مری جھولی میں ڈالنے والا
عرفان صدیقی

اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رُکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آپ ہے پہرا لگا ہوا کیسا
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خوُنبار
اُفق اُفق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
اذان ہے کہ علم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
یہ لوگ دشت جفا میں کسے پُکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
گلوئے خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
وہ مہربان اجازت تو دے رہا ہے مگر
یہ جاں نثار ہیں مقتل سے لوٹنا کیسا
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہو گا، مقابلہ کیسا
سلگتی ریت میں جو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
یہ سرُخ بوُند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئنہ کیسا
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لیے
اُجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
سیاہ نیزوں پہ سورج اُبھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
تجھے بھی یاد ہے اے آسماں کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے سانحہ کیسا
عرفان صدیقی

سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دیکھیے خون میں کیا اٹھتا ہے طغیانی سا
سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا
ہاتھ میں موجِ ہوا پاؤں تلے ریگِ رواں
سرو ساماں ہے بہت‘ بے سرو سامانی سا
سیکھ لی کس نے مری شکرگزاری کی ادا
ریت پر ایک نشاں اور ہے پیشانی سا
یہ زمیں اِتنی پُراَسرار بنانے والے
کوئی عالم مری آنکھوں کو بھی حیرانی سا
وہ کسی ساعتِ حاصل سا وصال آمادہ
میں کسی لمحۂ نایاب کا زندانی سا
عرفان صدیقی

پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 13
عکس کیا آئینہ داروں کو دکھاؤں تیرا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
کون پاسکتا ہے کھوئی ہوئی خوشبو کا سراغ
کن ہواؤں سے پتا پوچھنے جاؤں تیرا
تو مرے عشق کی دُنیائے زیاں کا سچ ہے
کیوں کسی اور کو افسانہ سناؤں تیرا
پچھلے موسم میں تری خوش بدنی یاد کروں
راکھ کے ڈھیر میں اک پھول کھلاؤں تیرا
تو مجھے کتنے ہی چہروں میں نظر آتا ہے
کوئی پوچھے تو میں کیا نام بتاؤں تیرا
عرفان صدیقی

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی

بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دھنک سے پھول سے‘ برگِ حنا سے کچھ نہیں ہوتا
بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا
بہت کچھ دوستو‘ بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے
فقط اس خنجرِ دستِ جفا سے کچھ نہیں ہوتا
اگر وسعت نہ دیجے وحشتِ جاں کے علاقے کو
تو پھر آزادیِ زنجیر پا سے کچھ نہیں ہوتا
کوئی کونپل نہیں اس ریت کی تہ میں تو کیا نکلے
یہاں اے سادہ دل کالی گھٹا سے کچھ نہیں ہوتا
ازل سے کچھ خرابی ہے کمانوں کی سماعت میں
پرندو! شوخیِ صوت و صدا سے کچھ نہیں ہوتا
چلو‘ اب آسماں سے اور کوئی رابطہ سوچیں
بہت دن ہو گئے حرفِ دُعا سے کچھ نہیں ہوتا
عرفان صدیقی

عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پکارتا ہے مگر دھیان میں نہیں آتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
بس ایک نام ہے اپنا نشاں، جو یاد نہیں
اور ایک چہرہ جو پہچان میں نہیں آتا
میں گوشہ گیر ہوں صدیوں سے اپنے حجرے میں
مصافِ بیعت و پیمان میں نہیں آتا
مجھے بھی حکم نہیں شہر سے نکلنے کا
مرا حریف بھی میدان میں نہیں آتا
میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں
کہ جمع ہو کے بھی میزان میں نہیں آتا
مرے خدا، مجھے اس آگ سے نکال کہ تو
سمجھ میں آتا ہے، ایقان میں نہیں آتا
عرفان صدیقی

دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 9
اپنی وحشت کی سنو اذن و اجازت پہ نہ جاؤ
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
کتنے ہی دشت و دمن مجھ میں پڑے پھرتے ہیں
صاحبو‘ کوہکن و قیس کی شہرت پہ نہ جاؤ
لاکھ راس آئے مگر کام ہے نادانی کا
تم مرے ماحصلِ کارِ محبت پہ نہ جاؤ
ظرفِ منعم سے بڑا ہے مرا دامانِ طلب
اپنی زر مہریں گنو میری ضرورت پہ نہ جاؤ
اور اک جست میں دیوار سے ٹکرائے گا سر
قید پھر قید ہے زنجیر کی وسعت پہ نہ جاؤ
ہوُ کے صحراؤں میں ان لوگوں کی یاد آتی ہے
ہم سے گھر میں بھی جو کہتے تھے کھلی چھت پہ نہ جاؤ
عرفان صدیقی

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 8
میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہوجاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
دشت سے دور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں
دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ
جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ
وہ ستم گر تمہیں تسخیر کیا چاہتا ہے
خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ
عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ
ابھی پیکر ہی جلا ہے تویہ عالم ہے میاں
آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ
میں ہوں یا موجِ فنا اور یہاں کوئی نہیں
تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ
عرفان صدیقی

اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مصافِ دشت تماشا نہیں ٹھہر جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
سوادِ شب میں کسی سمت کا سراغ کہاں
یہ سیمیا ہے ستارہ نہیں ٹھہر جاؤ
تم اس حریف کو پامال کر نہیں سکتے
تمہاری ذات ہے دُنیا نہیں ٹھہر جاؤ
یہ ہوُ کا وقت، یہ جنگل گھنا، یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ
ہوا رکے تو وہی اک صدا سنائی دے
’’انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ‘‘
عرفان صدیقی

خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں
توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ
اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت
آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ
چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل
کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ
وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے
اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ تقریر میں آ
ایک رنگ آخری منظر کی دَھنک میں کم ہے
موجِ خوں، اُٹھ کے ذرا عرصۂ شمشیر میں آ
عرفان صدیقی

سینہ کشادہ گردن کشیدہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 5
اب تک وہی دھج او نارسیدہ
سینہ کشادہ گردن کشیدہ
بستی میں ہم اور جنگل میں آہو
دونوں گریزاں دونوں رمیدہ
اچھی تمہاری دنیائے نو ہے
جب دیکھئے تب ناآفریدہ
جو کچھ سنا تھا خود ہم پہ بیتا
نکلا شنیدہ مانند دیدہ
جوگی کہ بھوگی سب ایک جیسے
لذت چشیدہ حسرت گزیدہ
زلفوں سے بڑھ کر زنجیر تیری
مری نگاہ گیسو بریدہ
لگتی نہیں یاں موتی کی قیمت
کیسا تمہارا اشک چکیدہ
سب شاعری ہے عرفانؔ صاحب
تم کون ایسے دامن دریدہ
عرفان صدیقی

دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 4
اس آشوب میں کیا انہونی سوچ رہا ہوں
دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں
تیر کوئی مرے رستے کاٹ دے اس سے پہلے
چار دشائیں اپنے پروں میں آج سمولوں
حال تو پوچھے چارہ گر کا دستِ گریزاں
دستک ہو تو سینے کا دروازہ کھولوں
تھک گیا لمبی رات میں تنہا جلتے جلتے
سورج نکلے اور محراب سے رُخصت ہو لوں
عرفان صدیقی

سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دونوں اپنے کام کے ماہر‘ دونوں بڑے ذہین
سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین
گرگ وہاں کوئی سر نہیں کرتا آہو پر بندوق
اس بستی کو جنگل کہنا‘ جنگل کی توہین
سوختگاں کی بزمِ سخن میں صدر نشیں آسیب
چیخوں کے صد غزلوں پر سناٹوں کی تحسین
فتنۂ شب نے ختم کیا سب آنکھوں کا آزار
سارے خواب حقیقت بن گئے سارے وہم یقین
ہم بھی پتھر‘ تم بھی پتھر سب پتھر ٹکراؤ
ہم بھی ٹوٹیں‘ تم بھی ٹوٹو‘ سب ٹوٹیں‘ آمین
عرفان صدیقی

مارے گا قاتل چیخے گا مقتول

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ قاعدہ ہے اے شخص مت بھول
مارے گا قاتل چیخے گا مقتول
کچھ ہو رہا ہے دل میں کہ جس کا
احساس معلوم اظہار مجہول
دو چار دن تک محشر کا منظر
دو چار دن بعد سب حسب معمول
نیچے سے اوپر بہتا ہے پانی
یہ جرم تسلیم یہ بات معقول
کیوں کوئی کاٹے اوروں کا بویا
پچھلے نہ دیں گے اگلوں کو محصول
رمزوں میں بولیں عقدے نہ کھولیں
ایسے سخنور عہدوں سے معزول
کھڑکی سے باہر جھانکے تو کیوں کر
چھوٹا ہے بچہ اونچا ہے اسٹول
دل میرا استاد دنیا گزرگاہ
پڑھتا ہوں گھر میں جاتا ہوں اسکول
عرفان صدیقی

مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 1
کنارِ سوتھ بنا ہے کنارِ رکناباد
مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد
ہمارے کنجِ ابد عافیت میں کچھ بھی نہیں
یہ کارگاہِ عناصر یہ عالمِ ایجاد
یہ دل بھی دیکھ کہ اس خانہ باغِ ہجراں میں
وہی ہے آج بھی جاناں نظامِ بست و کشاد
سوادِ یاد میں چھائی ہوئی ہیں چھاؤنیاں
مسافرانِ جہانِ وصال زندہ باد
پسِ غبارِ مسافت چراغ جلتے رہیں
خدا رکھے یہ پراسرار بستیاں آباد
اب اس کے آگے جو کچھ فیصلہ ہو قسمت کا
ترے سمند بھی میرے غزال بھی آزاد
فقیر جاتے ہیں پھیرا لگا کے ڈیرے کو
مدام دولتِ دولت سرائے یار زیاد
عرفان صدیقی

فرد فرد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 647
گھر سے سفید داڑھی حاجی پہن کے نکلا
پھر سود خور کیسی نیکی پہن کے نکلا

امکان کے صحرا میں کہیں خیمہ نشیں ہیں
ہم سلسلۂ قیس کے سجادہ نشیں ہیں

خوشبو پہن کے نکلا میں دل کے موسموں میں
اور جنگ کی رُتوں میں وردی پہن کے نکلا

ہر روز ڈبو دیتے ہیں طوفان بسیرا
ہم دل کے جزیرے میں کہیں گوشہ نشیں ہیں

منصور آفاق

اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 646
دل کو کچھ دن اور بھی برباد رکھنا چاہیے
اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے
کونج کی سسکاریاں سُن کر کھلا رخصت کی شام
گھر بڑی شے ہے اسے آباد رکھنا چاہیے
ریل میں جس سے ہوئی تھی یونہی دم بھر گفتگو
خوبصورت آدمی تھا، یاد رکھنا چاہیے
موسم گل ہے کہیں بھی لڑکھڑا سکتا ہے دل
ہر گھڑی اندیشۂ افتاد رکھنا چاہیے
فربہ بھیڑوں کی چراگاہوں میں خیمہ زن نہ رہ
اک سفر جاری سفر کے بعد رکھنا چاہیے
باغ چاہے کہر میں گم ہے تجھے آنکھوں کے بیچ
بس وہی خوش قامتِ شمشاد رکھنا چاہیے
مت پکڑ منصور پتوں میں یہ چھپتی تیتری
ایسی نازک چیز کو آزاد رکھنا چاہیے
منصور آفاق

پانی میں رنگ اس نے شفق کے ملا دیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 645
میں نے ذرا جو دھوپ سے پردے اٹھا دیے
پانی میں رنگ اس نے شفق کے ملا دیے
پوچھی پسند یار کی میں نے فراق سے
آہستگی سے رات نے مجھ کو کہا، دیے
کہہ دو شبِ سیاہ سے لے آئے کالکیں
ہاتھوں پہ رکھ کے نکلی ہے خلقِ خدا دیے
ہر دل چراغ خانہ ہے ہر آنکھ آفتاب
کتنے بجھا سکے گی زمیں پر، ہوا، دیے
بڑھنے لگی تھی دھوپ مراسم کی آنکھ میں
دریا کے میں نے دونوں کنارے ملا دیے
بالوں میں میرے پھیر کے کچھ دیر انگلیاں
کیا نقش دل کی ریت پہ اس نے بنا دیے
بھادوں کی رات روتی ہے جب زلفِ یار میں
ہوتے ہیں میری قبر پہ نوحہ سرا دیے
کافی پڑی ہے رات ابھی انتظار کی
میرا یقین چاند، مرا حوصلہ دیے
اتنا تو سوچتے کہ دیا تک نہیں ہے پاس
مٹی میں کیسے قیمتی موتی گنوا دیے
کچھ پل ستم شعار کی گلیوں میں گھوم لے
عرصہ گزر گیا ہے کسی کو دعا دیے
میں نے بھی اپنے عشق کا اعلان کر دیا
فوٹو گراف شیلف پہ اس کے سجا دیے
منصور سو گئے ہیں اجالے بکھیر کر
گلیوں میں گھومتے ہوئے سورج نما دیے
منصور آفاق

عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 644
گوش بر آواز، کم آمیز کے پیچھے رہے
عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے
ہاتھ چھونے کا کہاں موقع فراہم ہوسکا
اک طرف وہ اک طرف ہم میز کے پیچھے رہے
اونٹنی چلتی رہی تاروں سے رستہ پوچھ کر
رات بھر ہم صبح دل آویز کے پیچھے رہے
وہ سمندر سے لپٹ جاتی رہی ہر ایک بار
بس یونہی ہم موجِ تند و تیز کے پیچھے رہے
روح کی شب زندہ داری کی بہشتیں چھوڑ کر
جسم کی ہم وحشتِ شب خیز کے پیچھے رہے
چشمۂ دل سے نکل کر آنسوئوں کے ساتھ ہم
آنکھ کو آتی ہوئی کاریز کے پیچھے رہے
دوصدی پہلے مجھے کھینچا گیا تھا باندھ کر
پھر ہمیشہ یہ قدم انگریز کے پیچھے رہے
مسئلہ کشمیرکا منصور یہ ہے ، سب قزاق
زعفراں کی وادی ء زرخیر کے پیچھے رہے
منصور آفاق

ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 643
لوگ موسیٰ جیسے دستِبیض کے پیچھے رہے
ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے
زندگی کے اونٹ صحرائے بدن آباد میں
موت کے وحشی غضب کے غیظ کے پیچھے رہے
انگلیاں لیکن برابر ہو سکیں نہ ہاتھ کی
ہم تفاوت کی گلی میں ایض کے پیچھے رہے
جس کی آنکھیں برکتوں کی گہری نیلی جھیلیں ہیں
زندگی بھربس اُسی بے فیض کے پیچھے رہے
عمر بھر منصور دنیا دار ،کتوں کی طرح
مال کے ناپاک مردہ حیض کے پیچھے رہے
منصور آفاق

بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 642
مراسلے دیارِ غیب کے قلی کے دوش پر پڑے رہے
بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے
پیانو پہ مچلتی انگلیوں کے بولتے سروں کی یاد میں
تمام عمر سمفنی کے ہاتھ چشم و گوش پر پڑے رہے
ہزار ہا کلائیاں بہار سے بھری رہیں ہری رہیں
نصیب زرد موسموں کے دستِ گل فروش پر پڑے رہے
برہنہ رقص میں تھی موت کی کوئی گھڑی ہزار شکر ہے
کہ سات پردے میرے دیدئہ شراب نوش پر پڑے رہے
اٹھا کے لے گئی خزاں تمام رنگ صحن سے حیات کے
کسی نے جو بنائے تھے وہ پھول میز پوش پر پڑے رہے
منصور آفاق

دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 641
موجوں کو اٹھتی بھاپ کے لالے پڑے رہے
دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے
منہ کو کلیجہ آئے جب آئے کسی کی یاد
کیا کیا حسیں چڑیلوں سے پالے پڑے رہے
پھر چاند نے بھی چھوڑ دیا رات کادیار
جب بستروں میں دیکھنے والے پڑے رہے
چیزیں تو جھاڑتا رہا جاروب کش مگر
ذہنوں پہ عنکبوت کے جالے پڑے رہے
تاریخ جھوٹ کا ہی اثاثہ بنی رہی
تحقیق کے مکانوں پہ تالے پڑے رہے
حلقے پڑے رہے مری آنکھوں کے ارد گرد
مہتاب کے نواح میں ہالے پڑے رہے
تسخیرِاسم ذات مکمل ہوئی مگر
منصوراپنے کان میں بالے پڑے رہے
منصور آفاق

سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 640
اعمال میں اپنے حسن و خوبی ساتھ رہے
سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے
یہ پیڑ شریعت کے سایہ دار ہیں لیکن
کچھ ہوش کی وادی میں مجذوبی ساتھ رہے
دلدار کے نقشِ پاپیشانی پر چہکیں
محبوب کی گلیوں میں محبوبی ساتھ رہے
پُر وجد قوالی ہو یا عشق کی باتیں ہوں
ہر ایک عمل میں خوش اسلوبی ساتھ رہے
یہ ایک بروزِحشر گواہی کافی ہے
ظلمات کی جانب سے معتوبی ساتھ رہے
منصوراکیلا چھوڑا نہیں ہے رستے میں
اس شہرِ طلب میں درد بخوبی ساتھ رہے
منصور آفاق

اس میں تُو آباد رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 639
خواہ یہ دل برباد رہے
اس میں تُو آباد رہے
شکر ہے دشتِ حسرت میں
پاؤں مسافت زاد رہے
برسوں غم کے مکتب میں
میر مرے استاد رہے
اک لمحے کی خواہش میں
برسوں ہم ناشاد رہے
ایک دعا دکھیارے کی
غم سے تُو آزاد رہے
اشکوں سے تعمیر ہوئی
درد مری بنیاد رہے
جیسا بھی ہوں تیرا ہوں
اتنا تجھ کو یاد رہے
تیری گلی میں سانس سدا
مائل بر فریاد رہے
زخم نہ چاٹے کوئی بھی
مر جائے یا شاد رہے
میں برمنگھم قید رہا
وہ اسلام آباد رہے
میرے نواحِ جاں منصور
کتنے ستم ایجاد رہے
منصور آفاق

یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 638
زندگی شہرِ دل کی خرامی سے ہے
یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے
اُس سراپا عنایت پہ بھیجیں دورد
اپنی آزادی جس کی غلامی سے ہے
یہ مناظر کی میٹھی حسیں دلکشی
ایک پاکیزہ اسم گرامی سے ہے
کائناتِ شبِ تیرہ و تار میں
روشنی اُس کی قرآں کلامی سے ہے
جس کے ہونے سے ظاہر خدا ہو گیا
اپنا ہونا تواُس نامِ نامی سے ہے
جوبھی اچھاہے اس کی عطاسے لکھا
جو لکھا ہے غلط میری خامی سے ہے
ان سے منصور پہلو تہی جن کا بھی
ربط ابلیس جیسے حرامی سے ہے
منصور آفاق

یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 637
تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے
کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف
جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے
میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے
لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے
گزر گیا ہے جو طوفاں گزرنے والاتھا
یہ ملبہ زندگی ہے، اب کہاں تباہی ہے
بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں
دیارِ دل میں مسلسل رواں تباہی ہے
دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب
مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے
فراز مند ہے ابلیس کا علم منصور
گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے
منصور آفاق

اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 636
ہر بزم قہقہوں سے بھرے تذکروں کی ہے
اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے
جو خوش دماغ لوگ ہیں بستی پہ بوجھ ہیں
کچھ ہے توبات بس یہاں خالی سروں کی ہے
وہ باغِ شالامار خرید یں جو بس چلے
فطرت کچھ ایسی دیس کے سودا گروں کی ہے
گلیوں میں ایک سے ہیں مکانوں کے خدوخال
غلطی کہیں ہماری نہیں منظروں کی ہے
منصور حاکموں کی توجہ کہیں ہے اور
قسمت ابھی ہمارے عجائب گھروں کی ہے
منصور آفاق

مری تمثیل کرداروں سے خالی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 635
سحر سورج سے، شب تاروں سے خالی ہے
مری تمثیل کرداروں سے خالی ہے
نکالیں کوئی کیا ابلاغ کی صورت
خلا مصنوعی سیاروں سے خالی ہے
چھتوں پر آب و دانہ ڈال جلدی سے
فضا بمبار طیاروں سے خالی ہے
مزاجِ حرص کو دونوں جہاں کم ہیں
سرشتِ خوف انکاروں سے خالی ہے
اس آوارہ مزاجی کے سبب شاید
فضلیت اپنی، دستاروں سے خالی ہے
کہیں گر ہی نہ جائے نیلی چھت منصور
کہ سارا شہر دیواروں سے خالی ہے
منصور آفاق

گلی گلی ہیں دھماکے، فساد جاری ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 634
ستم گرو نہ کہو یہ جہاد جاری ہے
گلی گلی ہیں دھماکے، فساد جاری ہے
مری بہشت کو دوزخ بنا رہے ہیں لوگ
بنامِ دین غضب کا عناد جاری ہے
کسی قیامتِ صغریٰ میں جی رہاہوں میں
حسیں دنوں پہ مگر اعتقاد جاری ہے
غزل کی آخری ہچکی اُدھرسنائی دے
مشاعروں کا ادھر انعقاد جاری ہے
نظر میں خواب تو برفیں جمی ہے جھیلوں میں
ہر ایک شے میں کوئی انجماد جاری ہے
وہ جس کے ہجرکی وحدت ملی مجھے منصور
اُس ایک حسنِ مکمل کی یاد جاری ہے
منصور آفاق

کسی نے جنگ مری زندگی بنا دی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 633
یہ کائناتِ بدن چھاونی بنا دی ہے
کسی نے جنگ مری زندگی بنا دی ہے
دماغ اسلحہ خانہ بنا دیا ہے مرا
تمام جلد مری آہنی بنا دی ہے
یہ پانچ وقت شہادت کی بولتی انگلی
مشین گن کی سیہ لبلبی بنا دی ہے
یہ نقشِ پا نہیں بارود کی سرنگیں ہیں
بموں کی آگ مری روشنی بنا دی ہے
یہ کس نے کافری منصور کی ہے بستی میں
حلال ،ظلم بکف خود کشی بنا دی ہے
منصور آفاق

ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 632
تیرے کرنوں والے ہٹ میں رات کرنا چاہتی ہے
ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے
اپنے بنگلوں کے سوئمنگ پول کی تیراک لڑکی
میرے دریا میں بسر اوقات کرنا چاہتی ہے
وقت کی رو میں فراغت کا نہیں ہے کوئی لمحہ
اور اک بڑھیا کسی سے بات کرنا چاہتی ہے
چاہتا ہوں میں بھی بوسے کچھ لبوں کی لاٹری کے
وہ بھی ملین پونڈ کی برسات کرنا چاہتی ہے
مانگتا پھرتا ہوں میں بھی آگ کا موسم کہیں سے
وہ بھی آتشدان کی خیرات کرنا چاہتی ہے
کیسے کی اس نے نفی جوبات کرنا چاہتی ہے
جو نہیں وہ ذات کیا اثبات کرنا چاہتی ہے
منصور آفاق

شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 631
آگ میں برگ وسمن کی جھڑی لگ سکتی ہے
شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے آنے کی خوشی میں اسکے
بام پہ قمقموں کی اک لڑی لگ سکتی ہے
اس کے وعدہ پہ مجھے پورا یقیں ہے لیکن
لوٹ آنے میں گھڑی دو گھڑی لگ سکتی ہے
رک بھی سکتی ہے یہ چلتی ہوئی اپنی گاڑی
میخ ٹائر میں کہیں بھی پڑی لگ سکتی ہے
جب کوئی ساتھ نہ دینے کا ارداہ کر لے
ایک نالی بھی ندی سے بڑی لگ سکتی ہے
دامِ ہمرنگ زمیں غیر بچھا سکتے ہیں
کوچۂ یار میں دھوکا دھڑی لگ سکتی ہے
اِس محبت کے نتائج سے ڈر آتا ہے مجھے
اِس شگوفے پہ کوئی پھلجھڑی لگ سکتی ہے
میں میانوالی سے آسکتاہوں ہر روز یہاں
خوبصورت یہ مجھے روکھڑی لگ سکتی ہے
جرم یک طرفہ محبت ہے ازل سے منصور
اِس تعلق پہ تجھے ہتھکڑی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

تجھ کو آوارہ نظرچاند کی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 630
رات کی جھیل سے علت کوئی لگ سکتی ہے
تجھ کو آوارہ نظرچاند کی لگ سکتی ہے
میں کوئی میز پہ رکھی ہوئی تصویر نہیں
دیکھئے بات مجھے بھی بری لگ سکتی ہے
ایک ہی رات پہ منسوخ نہیں ہو سکتا
یہ تعلق ہے یہاں عمر بھی لگ سکتی ہے
انگلیاں پھیر کے بالوں میں دکھائیں جس نے
اس سے لگتا ہے مری دوستی لگ سکتی ہے
آپ کی سانس میں آباد ہوں سانسیں میری
یہ دعا صرف مجھے آپ کی لگ سکتی ہے
یہ خبرمیرے مسیحا نے سنائی ہے مجھے
شہرِ جاناں میں تری نوکری لگ سکتی ہے
یہ کوئی گزری ہوئی رت کی دراڑیں سی ہیں
اس جگہ پر کوئی تصویر سی لگ سکتی ہے
پارک میں چشمِ بلاخیز بہت پھرتی ہیں
تجھ کو گولی کوئی بھٹکی ہوئی لگ سکتی ہے
ہے یہی کار محبت۔۔۔۔ سو لگا دے منصور
داؤ پہ تیری اگر زندگی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 629
آنکھوں سے منصور شباہت گر جاتی ہے
ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے
روز کسی بے انت خزاں کے زرد افق میں
ٹوٹ کے مجھ سے شاخِ تمازت گر جاتی ہے
باندھ کے رکھتا ہوں مضبوط گرہ میں لیکن
پاکستانی نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے
اک میری خوش وقتی ہے جس کے دامن میں
صرف وہی گھڑیال سے ساعت گر جاتی ہے
لیپ کے سوتا ہوں مٹی سے نیل گگن کو
اٹھتا ہوں تو کمرے کی چھت گر جاتی ہے
ہجر کی لمبی گلیاں ہوں یا وصل کے بستر
آخر اک دن عشق میں صحت گر جاتی ہے
برسوں ظلِّ الہی تخت نشیں رہتے ہیں
خلقِ خدا کی روز حکومت گر جاتی ہے
منصور آفاق

ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 628
یہ کیا چراغِ تمنا کی روشنی ہوئی ہے
ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے
تُو چشمِ ہجر کی رنگت پہ تبصرہ مت کر
یہ انتظار کے جاڑے میں جامنی ہوئی ہے
نہ پوچھ مجھ سے طوالت اک ایک لکنت کی
یہ گفتگو کئی برسوں میں گفتنی ہوئی ہے
چمکتی ہے کبھی بجلی تو لگتا ہے شاید
یہیں کہیں کوئی تصویر سی بنی ہوئی ہے
ابھی سے کس لیے رکھتے ہو بام پر آنکھیں
ابھی تو رات کی مہتاب سے ٹھنی ہوئی ہے
ابھی نکال نہ کچھ انگلیوں کی پوروں سے
ابھی یہ تارِ رگ جاں ذرا تنی ہوئی ہے
شراب خانے سے کھلنے لگے ہیں آنکھوں میں
شعاعِ شام سیہ، ابر سے چھنی ہوئی ہے
نظر کے ساتھ سنبھلتا ہوا گرا پلو
مری نگاہ سے بے باک اوڑھنی ہوئی ہے
کچھ اور درد کے بادل اٹھے ترے در سے
کچھ اور بھادوں بھری تیرگی گھنی ہوئی ہے
کلی کلی کی پلک پر ہیں رات کے آنسو
یہ میرے باغ میں کیسی شگفتنی ہوئی ہے
اک ایک انگ میں برقِ رواں دکھائی دے
کسی کے قرب سے پیدا وہ سنسنی ہوئی ہے
جنوں نواز بہت دشتِ غم سہی لیکن
مرے علاوہ کہاں چاک دامنی ہوئی ہے
میں رنگ رنگ ہوا ہوں دیارِ خوشبو میں
لٹاتی پھرتی ہے کیا کیا، ہوا غنی ہوئی ہے
سکوتِ دل میں عجب ارتعاش ہے منصور
یہ لگ رہا ہے دوبارہ نقب زنی ہوئی ہے
منصور آفاق

اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 627
دیکھوں میں سبز گنبد تسکین ہے تو یہ ہے
اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے
ان پر درود بھیجوں ان پر سلام بھیجوں
ان کی میں نعت لکھوں تحسین ہے تو یہ ہے
وقتِ قضا تب آئے جب میں مدنیہ پہنچوں
تجہیز ہے تو یہ ہے تکفین ہے تو یہ ہے
میرے نصیب میں ہوشہرِ نبیﷺ کی مٹی
تقدیر ہے تو یہ ہے تدفین ہے تو یہ ہے
چہرے پہ نور برسے،ہونٹوں سے پھول برسیں
ان کی نظر میں آؤں تزئین ہے تو یہ ہے
قرآن کہہ رہا ہے منصور ہرسخن میں
فرقان ہے تو یہ ہے یٰسین ہے تو یہ ہے
منصور آفاق

آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 626
ہر قدم تلوار پر ہے ، ہر نگہ نیزے پہ ہے
آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے
دوپہر ہے موت کی گرمی ہے کالی رات میں
ظلم کا مصنوعی سورج پھرسوا نیزے پہ ہے
جاہلوں کے شہر میں ہے بے دماغوں کا خرام
علم کی دستار مٹی میں ، قبا نیزے پہ ہے
میں اسی کے راستے پر چل رہا ہوں دشت میں
ہاں وہی جس شخص کی حمدو ثنا نیزے پہ ہے
ہے محمدﷺکے نواسے سی شبیہ منصور کچھ
دیکھ کچھ نزدیک جا کر، دیکھ کیا نیزے پہ ہے
منصور آفاق

اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 625
دماغِ کائنات کے خلل سے ساتھ ساتھ ہے
اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے
فلک ہے مجھ پہ مہرباں کہ ماں کی ہے دعا مجھے
زمیں مرے ہرے بھرے عمل سے ساتھ ساتھ ہے
یہ کس نے وقت کو اسیر کر لیا ہے خواب میں
یہ آج کس طرح گذشتہ کل سے ساتھ ساتھ ہے
قدم قدم پہ کھینچتی ہے مجھ کو رات کی طرف
یہ روشنی جو شاہ کے محل سے ساتھ ساتھ ہے
جو گا رہی ہے کافیاں لہو میں شاہ حسین کی
وہ مادھو لال آگ گنگا جل سے ساتھ ساتھ ہے
کہے، کہاں نظامِ زر تغیرات کا امیں ؟
وہ جدلیات جو جدل جدل سے ساتھ ساتھ ہے
کچھ اس کے ہونے کا سبب بھی ہونا چاہیے کہیں
وہ جو نمودِ علت و علل سے ساتھ ساتھ ہے
جہاں پہ پہلے علم تھا کہ کیا عمل کروں گا میں
یہ حال اُس مقامِ ماحصل سے ساتھ ساتھ ہے
ابھی فلک کی زد میں ہے سری نگر کا راستہ
یہ برف پوش رُت تراڑ کھل سے ساتھ ساتھ ہے
منصور آفاق

اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 624
مان لیا وہ بھی میرا یار نہیں ہے
اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے
جاگ رہا ہوں میں کتنے سال ہوئے ہیں
کیسے کہوں اس کا انتظار نہیں ہے
ٹوٹ گئے ہیں دو پھر امید بھرے دل
ٹکڑے ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہے
میرا بدن برف ہے یا تیرِ نظر میں
پہلے پہل والی اب کے مار نہیں ہے
عہدِ خزاں میں ہے میرا باغ کہ جیسے
دامنِ تقدیر میں بہار نہیں ہے
سنگ اچھالے ہیں اس نے بام سے مجھ پر
جیسے گلی اس کی رہگزار نہیں ہے
ایک دعا بس ہے میرے پاس عشاء کی
رات! مرا کوئی غمگسار نہیں ہے
صرف گھٹا ہے جو دل میں روئے برس کے
اور کوئی چشمِ اشکبار نہیں ہے
سرخ ہے بے شک نمود چہرئہ تاریخ
دامنِ تہذیب داغ دار نہیں ہے
سنگ زدہ اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن
آدمی ہے کوئی کوہسار نہیں ہے
پار کروں گا میں اپنی آگ کا دریا
دیکھ رہا ہوں یہ بے کنار نہیں ہے
وقت نہیں آج اس کے پاس ذرا بھی
اور یہاں رنگِ اختصار نہیں ہے
مست ہوائیں بھی ماہتاب بھی لیکن
رات بھری زلفِ آبشار نہیں ہے
گھوم رہا ہوں فصیلِ ذات کے باہر
کوئی بھی دروازئہ دیار نہیں ہے
ایک نہیں قحط عشق صرف یہاں پر
شہر میں کوئی بھی کاروبار نہیں ہے
پھیر ہی جا مجھ پہ اپنا دستِ کرامت
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے”
درج ہے نیلی بہشتِ خواب کا منظر
آنکھ میں منصور کی غبار نہیں ہے
بنام غالب
منصور آفاق

گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 623
لوگوں کی بے وفائی کب اختیار میں ہے
گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے
اعلان جا کے کردومسجد کی چھت پہ چڑھ کر
میں چاہتاہوں جس کو وہ میری کار میں ہے
اک کونج رو رہی ہے سوکھی ہوئی ندی پر
سہمی ہوئی سی لرزش اس کی پکار میں ہے
میں چاہتا ہوں اس سے وعدہ نبھانا لیکن
غم سے نجات جو ہے خود سے فرار میں ہے
بے شک ہزاروں میں نے اشعار کہہ دئیے ہیں
سچ پوچھ تو ابھی تک بات اختصار میں ہے
میرے یہ لفظ بھی تو کرلاہٹیں ہیں میری
میرا وجود شامل کونجوں کی ڈار میں ہے
تقدیر کے طلسم سے سورج نکل گیا
دیکھو کئی دنوں سے راتوں کے غار میں ہے
اٹھ چل کنارِ سندھ پہ کرتے ہیں کچھ شکار
مچھلی کی بھی ضرورت منصور جار میں ہے
منصور آفاق

مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 622
کتاب ہاتھ میں ہے اور کج، کلاہ میں ہے
مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے
بلند بام عمارت کی آخرش منزل
مقامِ صفر کی بے رحم بارگاہ میں ہے
پڑی ہے ایش ٹرے میں سلگتے لمس کی راکھ
ملن کی رات ابھی عرصہء گناہ میں ہے
بھٹکتا پھرتا ہوں ظلمات کے جزیرے میں
بڑا اندھیرا کسی دیدئہ سیاہ میں ہے
پسِ فراق ہے موجود وصل کا چہرہ
چراغ صبحِ ازل سے مزارِ آہ میں ہے
ترے وصال کی راتوں کی خیر ہو لیکن
وہ بات تجھ میں نہیں ہے جو تیری چاہ میں ہے
کبھی تو ہو گا تمنا کی منزلوں سے پرے
ابھی تو تیرا مسافر طلب کی راہ میں ہے
رکا نہیں ہوں کسی ڈاٹ کام پر منصور
گلوب پاؤں تلے تو خلا نگاہ میں ہے
منصور آفاق

لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 621
یخ ہوا ہے برف کا برفیلا پن ہے
لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے
یہ بھی پیوستہ گزشتہ سے ہے موسم
برگِ گل میں زرد رُت کا پیلا پن ہے
میں مزاجاً دھیمے پن کا آدمی ہوں
تیرے کپڑوں میں بہت بھڑکیلا پن ہے
کینچلی ہے سانپ کی بھی خوبصورت
اس کے بھی اندر کہیں زہریلا پن ہے
اونٹی پر پیاس کا ہے ساتواں دن
آندھیاں ہیں دشت کا سوتیلا پن ہے
محوِ حیرت ہوں کہ اُس بازار میں بھی
کیسے باقی اب تلک شرمیلا پن ہے
راستے مدِ مقابل آکھڑے ہیں
کیسا میرے پاؤں کا پتھریلا پن ہے
تبصرہ اس کے رویے پر کروں کیا
خار کی پہچان ہی نوکیلاپن ہے
ہم نفس منصور برسوں سے ہے سورج
گیلے من میں کچھ ابھی تک گیلا پن ہے
منصور آفاق

یعنی خدا ، مقامِ نہیں پر مقیم ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 620
ہمسایہ ہے ہمارا ، یہیں پر مقیم ہے
یعنی خدا ، مقامِ نہیں پر مقیم ہے
ہم کیا کہ گنج بخش وہ ہجویرکا فقیر
لاہور ! تیری خاکِ بریں پر مقیم ہے
جائے نمازِ سنگ سے جس کی طلب ہمیں
وہ داغِ سجدہ اپنی جبیں پر مقیم ہے
کمپاس رکھ نہ عرشے پہ لا کر زمین کے
وہ عرشِ دل کے فرشِ حسیں پر مقیم ہے
تم آسماں نورد ہو جس کی تلاش میں
منصور مان لو وہ زمیں پر مقیم ہے
منصور آفاق

اسے کہنا بغیر اس کے مری دنیا مکمل ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 619
میں خود پہلو میں ہوں اپنے بدن اپنا مکمل ہے
اسے کہنا بغیر اس کے مری دنیا مکمل ہے
گلی کی برف پر کھنچیں لکیریں بے خیالی میں
ادھورے نقش ہیں کچھ کچھ مگر چہرہ مکمل ہے
مجھے روکا ہوا ہے جسم کی دہلیز پر اس نے
ادھوری ہے وفا اپنی، تعلق نامکمل ہے
لکیر اپنے لہو کی ہے ابھی اِن دونوں ٹکڑوں میں
خزانے تک پہنچنے کا کہاں نقشہ مکمل ہے
مجھے شہر نگاراں سے نئے کچھ زخم لینے ہیں
وہ جو دل میں رفو کا کام نکلا تھا مکمل ہے
بلا کا خوبصورت ہے کوئی اُس بالکونی میں
ہے بے مفہوم سا مکھڑا مگر کتنا مکمل ہے
محبت کا سفر بھی کیا کرشمہ ساز ہے منصور
ادھر منزل نہیں آئی ادھر رستہ مکمل ہے
منصور آفاق

زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 618
اک دیے کا ہوانے کیا قتل ہے
زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے
تیرے کالر پہ جو سج گیا ہے گلاب
تیلیوں کیلئے پھول کا قتل ہے
دین نے ایک انسان کے قتل کو
ساری انسانیت کا کہا قتل ہے
دل نے چاہا اسی وقت اس کاقصاص
جب کسی بے گنہ کا ہوا قتل ہے
اپنے نزدیک انسانی اعمال میں
جرم کی آخری انتہا قتل ہے
بے گناہی کا جو شخص قاتل ہوا
صرف منصور اس کا روا قتل ہے
منصور آفاق

دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 617
عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے
جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے
رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے
ہے رقیبِ دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے
مشورہ جا کے زلیخا سے کروں
کیا کروں نامہرباں معشوق ہے
صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے
ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں
اور ان کے درمیاں معشوق ہے
گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے
وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے
میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے
ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
منصور آفاق

منحصر لوگوں کی کمک پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 616
شہر کی فتح بابِ شک پر ہے
منحصر لوگوں کی کمک پر ہے
کلمہ کا ورد کر رہے ہیں لوگ
آخری شو کا رش سڑک پر ہے
فیملی جا رہی ہے لے کے اسے
گھر کا سامان بھی ٹرک پر ہے
پڑھ رہا ہوں ہزار صدیوں سے
کیا کسی نے لکھا دھنک پر ہے
بھیج مت پرفیوم جانِ جاں
حق مرا جسم کی مہک پر ہے
چاند ہے محوِ خواب پہلو میں
یعنی بستر مرا فلک پر ہے
میری پلکوں کی ساری رعنائی
موتیوں کی چمک دمک پر ہے
آس کا شہر ہے سمندر میں
اور بنایا گیا نمک پر ہے
دل کی موجودگی کا افسانہ
بادلوں کی گرج چمک پر ہے
چاند کی ہاتھ تک رسائی بھی
دلِ معصوم کی ہمک پر ہے
کس نے ہونا ہے شہر کا حاکم
فیصلہ بوٹ پر دھمک پر ہے
کون قاتل ہے فیصلہ، منصور
فائروں کی فقط لپک پر ہے
منصور آفاق

تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 615
مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادوگری پر ہے
تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے
ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے
تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانش وری پر ہے
سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے
صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آ کر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے
مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے
منصور آفاق

مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 614
تری تعمیر کی بنیاد اپنی بے گھری پر ہے
مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے
جسے حاصل کیا ہے تُو نے اپنی بیچ کر لاشیں
مرا تھو ایسی صدرِ مملکت کی نوکری پر ہے
فقط میری طرف سے ہی نہیں یہ پھولوں کا تحفہ
خدا کی لعنتِ پیہم بھی تیری قیصری پر ہے
جلوس اپنا ابھی نکلے گا کالی کالی قبروں سے
نظر اپنی بھی زر آباد کی خوش منظری پر ہے
قسم مجھ کو بدلتے موسموں کے سرخ رنگوں کی
ترا انجام اب لوگوں کی آشفتہ سری پر ہے
نظامِ زر !مجھے سونے کے برتن دے نہ تحفے میں
مرا ایمان تو خالی شکم کی بوزری پر ہے
زیادہ حیثیت رکھتی ہے پانی پت کی جنگوں سے
وہ اک تصویر بابر کی جو تزکِ بابری پر ہے
فرشتے منتظر ہیں بس سجا کر جنتیں اپنی
مرا اگلا پڑاؤ اب مریخ و مشتری پر ہے
وہ جو موج سبک سر ناچتی ہے میری سانسوں میں
سمندر کا تماشا بھی اسی بس جل پری پر ہے
اسے صرفِ نظر کرنے کی عادت ہی سہی لیکن
توقع، بزم میں اپنی مسلسل حاضری پر ہے
یقینا موڑ آئیں گے مرے کردار میں لیکن
ابھی تو دل کا افسانہ نگاہِ سرسری پر ہے
عجب تھیٹر لگا ہے عرسِ حوا پر کہ آدم کی
توجہ صرف اعضائے بدن کی شاعری پر ہے
وفا کے برف پروردہ زمانے یاد ہیں لیکن
یقیں منصور جذبوں کی دہکتی جنوری پر ہے
منصور آفاق

علم بس عشق کے سبق پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 613
آنکھ کے قطرۂ عرق پر ہے
علم بس عشق کے سبق پر ہے
منزلِ ہجر سے ذرا آگے
اپنا گھر چشمۂ قلق پر ہے
کوئی آیا ہے میرے آنگن میں
ابر صحرائے لق و دق پر ہے
ایک ہی نام ایک ہی تاریخ
ڈائری کے ورق ورق پر ہے
شامِ غم کے نگار خانے میں
زخم پھیلا ہوا شفق پر ہے
سن رہا ہوں کہ میرے ہونے کی
روشنی چودھویں طبق پر ہے
دیکھ کر کارِ امت شبیر
لگ رہا ہے یزید حق پر ہے
منصور آفاق

زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 612
دریچوں پر اذانِ وقت کی دستک برابر ہے
زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے
خدا پر رزق کی تقسیم کا الزام صدیوں سے
مساواتِ محمد میں مقدر تک برابر ہے
جہاں ہم خود نہیں رہتے وہ گھر اپنا نہیں ہوتا
کرایہ خاک کا اور سود کی کالک برابر ہے
تمہیں اے صاحبانِ زر ،ہے دوزخ کی وعیدِ خاص
ڈرو۔دنیا میں بھی اس کی پکڑبے شک برابر ہے
کبھی گزرے نہ وہ تجھ پرجوگزری مجھ پہ سوگزری
قیامت ہجر کی اورموت کی ٹھنڈک برابر ہے
مجھے لگتا ہے تم سوئے نہیں ہو رات بھر منصور
تمہاری چار پائی پر پڑی اجرک برابر ہے
منصور آفاق

کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 611
چیخ کے دائرے میں تگ و تاز موجود ہے
کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے
ویری سوری کہ تیری سماعت کا ہے مسئلہ
میری خاموشی میں میری آواز موجود ہے
وقت کرتالب و لہجے کی صرف کاپی نہیں
اس کے چلنے میں بھی میرا انداز موجود ہے
خواہشِ زلف دستِ بریدہ سے جاتی نہیں
ٹوٹے پیروں میں بھی شوقِ پرواز موجود ہے
خاتمہ کی کہانی فسانہ ہے امکان کا
ہر نہایت پہ اک اور آغاز موجود ہے
خاکِ منصور!تجھ پہ کوئی حرف کیا آئیگا
تیرے پہلو میں یہ تیرا جاں باز موجود ہے
منصور آفاق

لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 610
آگ کے پاگل بگولے رقص میں ہیں موت ہے
لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے
رہ رہا ہے آنکھ میں جس کی فرشتۂ اجل
سب عمل دجال کے اُس شخص میں ہیں موت ہے
ورنہ کمرے کم بہت ہی اپنی آبادی سے تھے
خوبیاں بھی کچھ مکاں کے نقص میں ہیں موت ہے
پھر بھی دل ہے کہ مسلسل مانگتا ہے اس کا قرب
کتنے خطرے صحبتِ برعکس میں ہیں موت ہے
سہل انگاری مزاجاًحضرتِمنصور میں
رقص کرتی بجلیاں ہمرقص میں ہیں موت ہے
منصور آفاق

لفظوں کا کوئی پھول تہجد کا وقت ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 609
مصرع! شبِ نزول تہجد کا وقت ہے
لفظوں کا کوئی پھول تہجد کا وقت ہے
کوئی دعا قبول ہو میرے ملال کی
ہر چیز ہے ملول تہجد کا وقت ہے
جی چاہتا ہے آنکھ کو مل جائے لمحہ بھر
اک ساعتِ رسول تہجد کا وقت ہے
دونوں جہاں کے واسطے مجھ کو چراغ کر
کرالتجا قبول تہجد کا وقت ہے
منصور آسمان سے اتریں مرے نصیب
اپنے بدل اصول تہجد کا وقت ہے
منصور آفاق

افلاک پہ بھی شامِ محرم ہے عجب ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 608
قاتل بھی شریکِ صفِ ماتم ہے عجب ہے
افلاک پہ بھی شامِ محرم ہے عجب ہے
بہتے ہیں کئی طرح کے افسوس نظر سے
یہ آنکھ بھی دریاؤں کا سنگم ہے عجب ہے
پھولوں کے مراسم ہیں کہیں آتشیں لب سے
شعلوں کی مصاحب کہیں شبنم ہے عجب ہے
کل تک وہی شداد تھا نمرود تھا لیکن
اب وہی مسیحاوہی گوتم ہے عجب ہے
منظر ہے وہی لوگ مگر اور کوئی ہیں
دیکھو وہی دریا وہی شیشم ہے عجب ہے
وہ جس نے نکالا تھا بہشت آباد سے ہم کو
خوابوں میں وہی دانہ ء گندم ہے عجب ہے
ہم ڈھونڈتے نکلے تھے جسے عرشِ بریں پر
گلیوں میں وہی حسنِ مجسم ہے عجب ہے
منصور مجھے چھوڑا ہے اک شخص نے لیکن
ہر آنکھ میں انکار کا موسم ہے عجب ہے
منصور آفاق

تم سادہ لوح شخص ہو ، دنیا خراب ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 607
آنکھیں نہیں شرارِ تمناخراب ہے
تم سادہ لوح شخص ہو ، دنیا خراب ہے
پانی کھڑاہے دل میں گڑھے ہیں جگہ جگہ
میں آرہاہوں ، ٹھہرو، یہ رستہ خراب ہے
مسجد کے بیچ اس کی کہانی کچھ اور ہے
حجرے کے بیچ صاحبِ حجرہ خراب ہے
سیلاب آئے گا میری چشم پُرآب میں
کتنے دنوں سے نیتِ دریا خراب ہے
بازو کو مت پکڑ ، مرے پہلو ست دوررہ
اے لمسِ یار !میرا ارادہ خراب ہے
برسوں ہوئے ہیں یاد سے باہر نہیں گیا
جاتا کہاں کہ سارا زمانہ خراب ہے
منصور کچھ بچا نہیں اب جس کے واسطے
دروازے پر کھڑا وہی خانہ خراب ہے
منصور آفاق

کیا تم نے اجالوں کا سفر بند کیا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 606
مانا مرے سورج کو نظر بند کیا ہے
کیا تم نے اجالوں کا سفر بند کیا ہے
جسموں کیلئے تم نے اٹھائی ہیں فصیلیں
بتلاؤ کہ احساس کا در بند کیا ہے
ہر روز نکلتا ہے بڑی شان سے سورج
راتوں نے کہاں بابِ سحر بند کیا ہے
کمبخت چہکتے ہوئے رازوں کی امیں تھی
اس واسطے بوتل کو بھی سر بند کیا ہے
اب لوٹ کے جاتا نہیں یادوں کی گلی میں
گم گشتہ زمانوں میں گزر بند کیا ہے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا
اس عہد نے جذبوں کا سفر بند کیا ہے
کچھ دن تو درِ دل بھی مقفل کرو منصور
دروازہ روابط کا اگر بند کیا ہے
منصور آفاق

چیک پہ چلتا ہوا قلم کیا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 605
لکھنے والوں میں محترم کیا ہے
چیک پہ چلتا ہوا قلم کیا ہے
ہے بلندی کا فوبیا ورنہ
یہ حریمِ حرم ورم کیا ہے
مسئلے تو ہزار ہیں لیکن
تیری موجودگی میں غم کیا ہے
روز پانی میں ڈوب جاتا ہوں
ایک دریا مجھے بہم کیا ہے
اے سٹیچو بشیر بابا کے
بول کیا ؟ دید کیا ؟ قدم کیا ہے ؟
مرہمِ لمس بے کنار سہی
صحبتِ انتظار کم کیا ہے
موت منصور پر نہیں آتی
کھینچ لے جو کوئی وہ دم کیا ہے
منصور آفاق

اس لِونگ روم کا وال پیپر اکھڑنے لگا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 604
ہجر کو تاپتے تاپتے جسم سڑنے لگا ہے
اس لِونگ روم کا وال پیپر اکھڑنے لگا ہے
گھر کے باہر گلی میں بھی بکھرے ہیں پتے خزاں کے
کیسا تنہائی کے پیڑ سے درد جھڑنے لگا ہے
خواب جیسے دریچے میں آتی ہے دوشیزہ کوئی
کچھ دنوں سے مرا چاند پر ہاتھ پڑنے لگا ہے
اک تو بالشتیے ہم، پلازوں کی اونچائی میں ہیں
دوسرا شہر میں آسماں بھی سکڑنے لگا ہے
آندھیاں اور بھی تیز رفتار ہونے لگی ہیں
اب تو یہ لگ رہا ہے کہ خیمہ اکھڑنے لگا ہے
منصور آفاق

مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 603
رسن کا سامنے رستہ پڑا ہے
مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے
ازل کی جاگتی آنکھوں میں آ کر
کہاں سے نیند کا جھونکا پڑا ہے
ابھی کچھ اور جینا چاہتا ہوں
ابھی اجداد کا قرضہ پڑا ہے
یزیدوں سے میں کیسے صلح کرلوں
مرے گھر تازیہ میرا پڑا ہے
خدا سے عین ممکن ہے ملاقات
ابھی تو آخری زینہ پڑا ہے
سبھی عشاق ہیں اک روحِ کل کے
فقیروں میں کبھی جھگڑا پڑا ہے
بھلا مایوس کیوں ہوں آسماں سے
جسے مارا گیا زندہ پڑا ہے
اک ایسی مملکت میں جی رہا ہوں
جہاں آسیب کا سایہ پڑا ہے
بصد افسوس تیرانامِ نامی
مجھے دیوار پر لکھنا پڑا ہے
جہالت کے جہاں بہتے ہیں دریا
اسی اسکول میں پڑھنا پڑا ہے
یہ شامِزرد رُو کا سرخ فتنہ
ہے باقی جب تلک دنیا، پڑا ہے
اسی پل کا ہوں میں بھی ایک حصہ
جہاں خاموش دریا سا پڑا ہے
ابھی آتش فشاں کچھ اور بھی ہیں
پہاڑوں میں ابھی لاوا پڑا ہے
پڑا تہذیب کے منہ پر طمانچہ
سڑک پہ پھر کوئی ننگا پڑا ہے
زمانے سے چھپا رکھی ہیں آنکھیں
مگر وہ دیکھنے والا پڑا ہے
نہیں ہے تیری لافانی کہانی
مجھے منصور سے کہنا پڑا ہے
منصور آفاق

پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 602
فروغِ کُن کو صوتِ صورِ اسرافیل ہونا ہے
پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے
زمیں پر خیر و شر کے آخری ٹکراؤ تک مجھ کو
کبھی ہابیل ہونا ہے کبھی قابیل ہونا ہے
کہاں معلوم ہوتا ہے تماشا ہونے سے پہلے
کسے پردے میں رہنا ہے کسے تمثیل ہونا ہے
ابھی تعلیم لینی ہے محبت کی، ابھی میں نے
بدن کے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونا ہے
دماغِ کوزہ گر میں ہیں ابھی تک خال وخد میرے
ابھی تک ایسا لگتاہے مجھے تشکیل ہونا ہے
کوئی ہے نوری سالوں کی طوالت پر کہیں منصور
مجھے رفتار سر کرتی ہوئی قندیل ہونا ہے
منصور آفاق

وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 601
امیدِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہے
وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے
اٹھانیں کیسی ہیں اسکی ، خطوط کیسے ہیں
بدن کا قریۂ نقش و نگار کیسا ہے
ادائیں کیسی ہیں کھانے کی میز پر اس کی
لباس کیسا ہے اْس کا، سنگھار کیسا ہے
وہ کیسے بال جھٹکتی ہے اپنے چہرے سے
لبوں سے پھوٹتے دن کا نکھار کیسا ہے
وہ شاخیں کیسی ہے دامن کے پھول کیسے ہیں
مقامِوصل کا قرب و جوار کیسا ہے
وہ پاؤں گھومتے کیسے ہیں اپنی گلیوں میں
طلسمِ شوق کا پھیلا دیار کیسا ہے
سیاہی گرتی ہے دنیا پہ یا سنہرا پن
وہ زلفیں کیسی ہیں وہ آبشار کیسا ہے
طواف کرتا ہے جس کا یہ کعبہِاعظم
وہ پاک باز ، تہجد گزار کیسا ہے
یہ کس خیال کی مستی ہے میری آنکھوں میں
شراب پی ہی نہیں ہے…خمار کیسا ہے
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر یہ مجھے انتظار کیسا ہے
یہ اجنبی سی محبت کہاں سے آئی ہے
یونہی جو روح سے نکلا ہے ، پیار کیسا ہے
بس ایک سایہ تعاقب میں دیکھتا ہوں میں
کسی کے ہونے کا یہ اعتبار کیسا ہے
وہ پھول جس کی مہک سے مہک رہا ہوں میں
کھلا ہوا کہیں ، دریا کے پار ،کیسا ہے
وہ جس کی نرم تپش سے دھک رہا ہے دل
وہ آسمان کے پیچھے شرار کیسا ہے
یہ آپ دھول اڑاتی ہے کس لئے منزل
یہ راستے پہ مسلسل غبار کیسا ہے
نواحِ جاں میں فقط چاند کی کرن منصور
بدن میں آگ ہے کیسی ، بخار کیسا ہے
منصور آفاق

بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 600
وہ پور پورہے کیسی، علاج کیسا ہے
بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے
مثالِ دانہ ء گندم غذائیں کیسی ہیں
کسی بہشت کا تازہ اناج کیسا ہے
کیا اب بھی ذہن کشادہ ہے آنکھیں روشن ہیں
گزر ہے کیسی بتا ، کام کاج کیسا ہے
عجب جلوس نکالے ہیں دھڑکنیں مجھ میں
یہ تیز ہوتا ہوا احتجاج کیسا ہے
ہمیشگی کیلئے موت کیوں ضروری ہے
اے آسمان یہ تیرا رواج کیسا ہے
مٹھاس بھی ہے نشہ بھی ہے اس کے پہلو میں
شراب و شہد کا وہ امتزاج کیسا ہے
دھمال ڈالنی ماتم کی تال پر ہے مجھے
یہ رسم کیسی ہے غم کی ، رواج کیسا ہے
گلے میں کھوپڑیوں کی قدیم مالا سی
ہر ایک شخص ہے کاہن ، سماج کیسا ہے
نظر سنا نہیں سکتی لہو کی آوازیں
بدن سے پوچھ بدن کا مزاج کیسا ہے
یہ پوچھتی ہے مسافت بھری ہوئی گاڑی
مرے فلیٹ کا خالی گیراج کیسا ہے
گذشتہ شب کی اداسی نکال دے گھر سے
بس اتنا ذہن میں رکھ تیرا آج کیسا ہے
میں رو پڑا ہوں اسے سوچ کر کہاں منصور
یہ بزمِغیر میں غم کا خراج کیسا ہے
منصور آفاق

اک محمد خدا پہ اترا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 599
آسماں کے حرا پہ اترا ہے
اک محمد خدا پہ اترا ہے
بول ! زنجیر ریل گاڑی کی
کون کیسی جگہ پہ اترا ہے
سوچتا ہوں کہ رحم کا بادل
کب کسی کربلا پہ اترا ہے
کس کے جوتے کا کھردرا تلوا
سدرئہ المنتہیٰ پہ اترا ہے
خیر کی آرزو نہ راس آئی
قہر دستِ دعا پہ اترا ہے
جھونک دے گی ہر آنکھ میں منصور
راکھ کا دکھ ہوا پہ اترا ہے
منصور آفاق

کوئی تو ہے جو ریاضت کا ثمر دیتا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 598
کاسہ ء اجر کو امکان سے بھر دیتا ہے
کوئی تو ہے جو ریاضت کا ثمر دیتا ہے
خیر امکانِ تباہی سے تو انکار نہیں
عشق کی موج ہے آباد بھی کر دیتا ہے
اس سے کہنا کہ یہ دکھ قابلِ برداشت نہیں
وہ جو تکلیف میں پتھر کا جگر دیتا ہے
وہ جو کل ہاتھ پہ سر رکھ کے ادھر آیا تھا
وہ برا شخص سہی ساتھ مگر دیتا ہے
میں نے تقسیم کی منزل پہ اسے وصل کہا
ایک لمحہ جو مجھے میری خبر دیتا ہے
اس سے کہنا کہ مجھے روشنی ای میل کرے
اپنے جلووں سے جو مہتاب کو بھر دیتا ہے
عمر سوجاتی ہے ساحل کی طلب میں منصور
کیا وہ قطرے میں سمندر کا سفر دیتا ہے
منصور آفاق

چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 597
کوئی دہلیزِ جاں سے اٹھتا ہے
چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے
ہے ابھی کوئی خالی بستی میں
وہ دھواں سا مکاں سے اٹھتا ہے
چھوڑ آتا ہے نقشِ پا کا چراغ
پاؤں تیرا جہاں سے اٹھتا ہے
جس بلندی کو عرش کہتے ہیں
ذکر تیراؐ وہاں سے اٹھتا ہے
اس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے کہا
درد سا کچھ یہاں سے اٹھتا ہے
اک ستارہ صفت سرِ آفاق
دیکھتے ہیں کہاں سے اٹھتا ہے
ہم ہی ہوتے ہیں اس طرف منصور
پردہ جب درمیاں سے اٹھتا ہے
منصور آفاق

پھر کسی نے سونا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 596
خالی پھر بچھونا ہے
پھر کسی نے سونا ہے
سربلند لوگوں کا
بادشاہ بونا ہے
پوری کیسے ہو تعبیر
خواب آدھا’ پونا‘ ہے
دوسروں کے ماتم پر
اپنا اپنا رونا ہے
اجنبی ہے دنیا سی
کون مجھ سا ہونا ہے
انتظارِ جاری نے
کیا کسی کو کھونا ہے
آنسوئوں کی بارش سے
قیقہوں کو دھونا ہے
وقت ایک بچہ سا
آدمی کھلونا ہے
زخم زخم دامن کا
چاک کیا پرونا ہے
میں ہوں اور تنہائی
گھر کا ایک کونا ہے
چائے کی پیالی میں
آسماں ڈبونا ہے
کائنات سے باہر
کیا کسی نے ہونا ہے
عرش کا گریباں بھی
آگ میں بھگونا ہے
موت کو بھی آخر کار
قبر میں سمونا ہے
آبلوں کے دریا کو
دشت بھر چبھونا ہے
تیرے دل میں میرا غم
پھر مجھے کہونا، ہے
حسن دھوپ میں منصور
سانولا سلونا ہے
منصور آفاق

یہی میری خدا شناسی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 595
میرے دل میں بڑی اداسی ہے
یہی میری خدا شناسی ہے
جانتا ہوں میں ایک ایسا مکاں
لامکاں بھی جہاں کا باسی ہے
میں ہی اِس عہد کا تعارف ہوں
جسم شاداب ، روح پیاسی ہے
زندگی نام کی ہے اک لڑکی
واجبی سی ہے بے وفا سی ہے
جس سے دریارواں دواں منصور
مرے ساغر میں بھی ذرا سی ہے
منصور آفاق

پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 594
ہر شام شعاعیں بجھتی ہیں ہر صبح سیاہی ڈھلتی ہے
پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے
کچھ رنگ اِدھر سے آتے ہیں کچھ رنگ اُدھر سے جاتے ہیں
تاریکی دباتی ہے پاؤں جب روشنی پنکھا جھلتی ہے
تجدید محبت کی کوشش بے سود ہے مجھکو بھول بھی جا
کب راکھ سے شعلے اٹھتے ہیں کب ریت میں کشتی چلتی ہے
یہ کس نے حسیں دوشیزہ کے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا
اب چونک کے نیند سے اٹھی ہے گھبرا کے وہ آنکھیں ملتی ہے
ہم لوگ ستم کے شہروں میں مصروف عمل ہیں زیرِ زمیں
آغوشِ شبِ نادیدہ میں تحریک سحر کی پلتی ہے
کیوں اس کا لکھا ہے نام بتا۔۔اس شہر کی سب دیواروں پر
ناراض یونہی وہ شخص نہیں منصوریہ تیری غلطی ہے
منصور آفاق

ایک بزنس جس میں بس نقصان ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 593
اچھے بزنس مین کی پہچان ہے
ایک بزنس جس میں بس نقصان ہے
دوڑتی پھرتی ہوئی بچی کے پاس
دور تک اک گھاس کا میدان ہے
صبح تازہ کی اذاں کے واسطے
میرے کمرے میں بھی روشن دان ہے
پتھروں سے مل نہ پتھر کی طرح
سنگ میں بھی روح کا امکان ہے
چند ہیں ابرِ رواں کی چھتریاں
باقی خالی دھوپ کادالان ہے
اتنا ہے پاکیزگی سے رابطہ
میرے گھر کا نام پاکستان ہے
موت آفاقی حقیقت ہے مگر
زندگی پر بھی مرا ایمان ہے
جتنی ممکن ہے جگہ دامن میں دے
روشنی منصور کی مہمان ہے
منصور آفاق

جوکھل نہیں سکا دروازہ توڑنا ہے مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 592
اجل پہننی ہے بھونچال اوڑھنا ہے مجھے
جوکھل نہیں سکا دروازہ توڑنا ہے مجھے
کسی سے میلوں پرے بیٹھ کر کسی کے ساتھ
تعلق اپنی نگاہوں کا جوڑنا ہے مجھے
نکالنا ہے غلاظت کو زخم کے منہ سے
یہ اپنے ملک کا ناسور پھوڑنا ہے مجھے
کسی کا لمس قیامت کا چارم رکھتا ہے
مگر یہ روز کا معمول توڑنا ہے مجھے
مجھے زمیں کو تحفظ فراہم کرنا ہے
رخ آسمانی بلاؤں کا موڑنا ہے مجھے
فش اینڈ چپس سے اکتا گیا ہوں اب منصور
بس ایک ذائقے کا وصل چھوڑنا ہے مجھے
منصور آفاق

گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 591
گنبدوں سی کچھ اٹھانیں یاد آتی ہیں مجھے
گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے
میرے گھر میں تو کوئی پتیل کا برتن بھی نہیں
کس لیے سونے کی کانیں یاد آتی ہیں مجھے
ان نئی تعمیر کردہ مسجدوں کو دیکھ کر
کیوں شرابوں کی دکانیں یاد آتی ہیں مجھے
یاد آتی ہے مجھے اک شیرنی سے رسم و راہ
اور دریچوں کی مچانیں یاد آتی ہیں مجھے
جب کبھی جاؤں میانوالی تو عہدِدردکی
کچھ پرانی داستانیں یاد آتی ہیں مجھے
شام جیسے ہی اترتی ہے کنارِ آبِ سندھ
دو پرندوں کی اڑانیں یاد آتی ہیں مجھے
سیکھتی تھی کوئی اردو رات بھر منصور سے
ایک ہوتی دو زبانیں یاد آتی ہیں مجھے
منصور آفاق

جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 590
دکھا رہا ہے بدن پھر نیا نکور مجھے
جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے
مقابلہ کا کہے موسموں کی وحشت سے
نکل کے دھوپ کی پیٹنگ سے تازہ تھور مجھے
میں رات رات نہاتا تھا جس کی کرنوں سے
وہ بھولتا ہی نہیں ہے سیہ بلور مجھے
مثالِ مصرعِ غالب مرے بدن پہ اتر
لبِ سروش صفت اور کر نہ بور مجھے
یا مری ذات کا کوئی وجودہے ہی نہیں
یا زندگی میں ملے لوگ چشم کور مجھے
عجب ہیں میری محبت مزاجیاں منصور
سمجھ رہا ہے کوئی چاند پھر چکور مجھے
منصور آفاق