زمرہ جات کے محفوظات: غزل

مجنوں کی محنتیں سب میں خاک میں ملائوں

دیوان اول غزل 286
وحشت میں ہوں بلا گر وادی پر اپنی آئوں
مجنوں کی محنتیں سب میں خاک میں ملائوں
ہنس کر کبھو بلایا تو برسوں تک رلایا
اس کی ستم ظریفی کس کے تئیں دکھائوں
فریادی ہوں تو ٹپکے لوہو مری زباں سے
نالے کو بلبلوں کے خاطر میں بھی نہ لائوں
پوچھو نہ دل کے غم کو ایسا نہ ہووے یاراں
مانند روضہ خواں کے مجلس کے تیں رلائوں
لگتی ہے آگ تن میں دیکھے سے داغ اس کے
اس دل جلے ہوئے پہ کتنا ہی جی جلائوں
اک دم تو چونک بھی پڑ شور و فغاں سے میرے
اے بخت خفتہ کب تک تیرے تئیں جگائوں
از خویش رفتہ ہر دم فکر وصال میں ہوں
کتنا میں کھویا جائوں یارب کہ تجھ کو پائوں
عریاں تنی کی شوخی وحشت میں کیا بلا تھی
تہ گرد کی نہ بیٹھی تا تن کے تیں چھپائوں
اگلے خطوں نے میرے مطلق اثر نہ بخشا
قاصد کے بدلے اب کے جادو مگر چلائوں
دل تفتگی نے مارا مجھ کو کہاں مژہ دے
اک قطرہ آب تا میں اس آگ کو بجھائوں
آسودگی تو معلوم اے میر جیتے جی یاں
آرام تب ہی پائوں جب جی سے ہاتھ اٹھائوں
میر تقی میر

ایک مدت سے وہ مزاج نہیں

دیوان اول غزل 285
بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں
درد اگر یہ ہے تو مجھے بس ہے
اب دوا کی کچھ احتیاج نہیں
ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن
مرض عشق کا علاج نہیں
شہر خوبی کو خوب دیکھا میر
جنس دل کا کہیں رواج نہیں
میر تقی میر

لڑنے لگے ہیں ہجر میں اس کے ہوا سے ہم

دیوان اول غزل 284
کرتے ہیں گفتگو سحر اٹھ کر صبا سے ہم
لڑنے لگے ہیں ہجر میں اس کے ہوا سے ہم
ہوتا نہ دل کا تا یہ سرانجام عشق میں
لگتے ہی جی کے مر گئے ہوتے بلا سے ہم
چھوٹا نہ اس کا دیکھنا ہم سے کسو طرح
پایان کار مارے گئے اس ادا سے ہم
داغوں ہی سے بھری رہی چھاتی تمام عمر
یہ پھول گل چنا کیے باغ وفا سے ہم
غافل نہ اپنی دیدہ درائی سے ہم کو جان
سب دیکھتے ہیں پر نہیں کہتے حیا سے ہم
دو چار دن تو اور بھی آ تو کراہتہً
اب ہوچکے ہیں روز کی تیری جفا سے ہم
آئینے کی مثال پس از صد شکست میر
کھینچا بغل میں یار کو دست دعا سے ہم
میر تقی میر

ہمیشہ آگ ہی برسے ہے یاں ہوا ہے گرم

دیوان اول غزل 283
حذر کہ آہ جگر تفتگاں بلا ہے گرم
ہمیشہ آگ ہی برسے ہے یاں ہوا ہے گرم
ہزار حیف کہ درگیر صحبت اس سے نہیں
جگر کی آگ نے ہنگامہ کر رکھا ہے گرم
کہاں ہے تیغ و سپر آفتاب کی بارے
وہ سرد مہر ہمارا بھی اب ہوا ہے گرم
نہ اتنی دارو پی ظالم کہ اس خمار میں ہوں
مزاج گرم ہے پھر اور یہ دوا ہے گرم
گیا جہان سے خورشید ساں اگرچہ میر
ولیک مجلس دنیا میں اس کی جا ہے گرم
میر تقی میر

لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم

دیوان اول غزل 282
گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم
لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم
کام کیا آتے ہیں گے معلومات
یہ تو سمجھے ہی نہ کہ کیا ہیں ہم
تم ہی بیگانگی کرو نہ کرو
دلبرو وے ہی آشنا ہیں ہم
اے بتاں اس قدر جفا ہم پر
عاقبت بندئہ خدا ہیں ہم
سرمہ آلودہ مت رکھا کر چشم
دیکھ اس وضع سے خفا ہیں ہم
ہے نمک سود سب تن مجروح
تیرے کشتوں میں میرزا ہیں ہم
تیرے کوچے میں تا بہ مرگ رکھا
کشتۂ منت وفا ہیں ہم
خوف ہم کو نہیں جنوں سے کچھ
یوں تو مجنوں کے بھی چچا ہیں ہم
آستاں پر ترے ہی گذری عمر
اسی دروازے کے گدا ہیں ہم
ڈرتے ہیں تیری بے دماغی سے
کیونکہ پھر یار جی بلا ہیں ہم
کوئی خواہاں نہیں ہمارا میر
گوئیا جنس ناروا ہیں ہم
میر تقی میر

گئے گذرے خضر علیہ السلام

دیوان اول غزل 281
اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
گئے گذرے خضر علیہ السلام
دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئی
سخن یاں ہوا ختم حاصل کلام
مجھے دیکھ منھ پر پریشاں کی زلف
غرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام
سر شام سے رہتی ہیں کاہشیں
ہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام
قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہی
چلے بس تو واں جا کے کریے قیام
نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اور
نہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام
جہاں میر زیر و زبر ہو گیا
خراماں ہوا تھا وہ محشر خرام
میر تقی میر

گئے گذرے ہیں آخر ایسے کیا ہم

دیوان اول غزل 280
نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم
گئے گذرے ہیں آخر ایسے کیا ہم
کھنچے گی کب وہ تیغ ناز یارب
رہے ہیں دیر سے سر کو جھکا ہم
نہ جانا یہ کہ کہتے ہیں کسے پیار
رہیں بے لطفیاں ہی یاں تو باہم
بنے کیا خال و زلف و خط سے دیکھیں
ہوئے ہیں کتنے یہ کافر فراہم
مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھ
بہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم
کہیں پیوند ہوں یارب زمیں کے
پھریں گے اس سے یوں کب تک جدا ہم
ہوس تھی عشق کرنے میں ولیکن
بہت نادم ہوئے دل کو لگا ہم
کب آگے کوئی مرتا تھا کسی پر
جہاں میں کر گئے رسم وفا ہم
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئے اک عمر کے پیچھے رہا ہم
موا جس کے لئے اس کو نہ دیکھا
نہ سمجھے میر کا کچھ مدعا ہم
میر تقی میر

نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم

دیوان اول غزل 279
کرتے نہیں ہیں دوری سے اب اس کی باک ہم
نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم
بیٹھے ہم اپنے طور پہ مستوں میں جب اٹھے
جوں ابرتر لیے اٹھے دامن کو پاک ہم
آہستہ اے نسیم کہ اطراف باغ کے
مشتاق پر فشانی ہیں اک مشت خاک ہم
شمع و چراغ و شعلہ و آتش شرار و برق
رکھتے ہیں دل جلے یہ بہم سب تپاک ہم
مستی میں ہم کو ہوش نہیں نشأتین کا
گلشن میں اینڈتے ہیں پڑے زیر تاک ہم
جوں برق تیرے کوچے سے ہنستے نہیں گئے
مانند ابر جب اٹھے تب گریہ ناک ہم
مدت ہوئی کہ چاک قفس ہی سے اب تو میر
دکھلا رہے ہیں گل کو دل چاک چاک ہم
میر تقی میر

پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم

دیوان اول غزل 278
جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم
پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم
ہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیں
پھاٹے میں پائوں دینے کو آئے کہاں سے تم
اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیں
کیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم
تنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنک
چشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم
جائو نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہی
پچھتائوگے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم
قصہ مرا سنوگے تو جاتی رہے گی نیند
آرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی
آتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم
جتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہم
ہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم
رہتے نہیں ہو بن گئے میر اس گلی میں رات
کچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم
میر تقی میر

ایسا نہ ہو کہ میرے جی کا ضرر کرو تم

دیوان اول غزل 277
آئے تو ہو طبیباں تدبیر گر کرو تم
ایسا نہ ہو کہ میرے جی کا ضرر کرو تم
رنگ شکستہ میرا بے لطف بھی نہیں ہے
ایک آدھ رات کو تو یاں بھی سحر کرو تم
تھی چشم داشت مجھ کو اے دلبراں یہ تم سے
دل کو مرے اڑاکر آنکھوں میں گھر کرو تم
اس بزم خوش کے محرم ناآشنا ہیں سارے
کس کو کہوں کہ واں تک میری خبر کرو تم
ہے پیچ دار از بس راہ وصال و ہجراں
ان دو ہی منزلوں میں برسوں سفر کرو تم
یہ ظلم ہے تو ہم بھی اس زندگی سے گذرے
سوگند ہے تمھیں اب جو درگذر کرو تم
روے سخن کہاں تک غیروں کی اور آخر
ہم بھی تو آدمی ہیں ٹک منھ ادھر کرو تم
ہو عاشقوں میں اس کے تو آئو میر صاحب
گردن کو اپنی مو سے باریک تر کرو تم
کیا لطف ہے وگرنہ جس دم وہ تیغ کھینچے
سینہ سپر کریں ہم قطع نظر کرو تم
میر تقی میر

گل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم

دیوان اول غزل 276
کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم
گل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم
خورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ تو
شبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم
جیتے ہیں تو دکھادیں گے دعواے عندلیب
گل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنی
کھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم
تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخود
دنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگذر کہ ہم
اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں
اتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم
جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبر
رکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم
جیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میر
کرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم
میر تقی میر

تجھ کو بالیں پر نہ دیکھا کھولی سو سو بار چشم

دیوان اول غزل 275
کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم
تجھ کو بالیں پر نہ دیکھا کھولی سو سو بار چشم
ہجر میں پاتا نہیں گریے کے سر رشتے کو میں
ہر سحر اٹھ باندھ دے ہے آنسوئوں کا تار چشم
گوئیا ناسور زخم دل تھی یہ اے ہم نشیں
پیش ازیں کیا کیا سمیں دکھلاتی تھی خوں بار چشم
سینکڑوں ہوں کشتنی تو لاویں کچھ تاب نگاہ
ایک دو کا کام کب ہے اس سے ہونا چار چشم
جرم کیا غیروں کا طالع چشم پوشی کرتے ہیں
دیکھ کر احوال میرا موند لے ہے یار چشم
روز و شب وا رہنے سے پیدا ہے میر آثار شوق
ہے کسو نظارگی کا رخنۂ دیوار چشم
میر تقی میر

مثل مشہور ہے یہ تو کہ ہے دنیا میں دلبر دل

دیوان اول غزل 271
کرو تم یاد گر ہم کو رہے تم میں بھی اکثر دل
مثل مشہور ہے یہ تو کہ ہے دنیا میں دلبر دل
بھلا تم نقد دل لے کر ہمیں دشمن گنو اب تو
کبھو کچھ ہم بھی کرلیں گے حساب دوستاں در دل
میر تقی میر

لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل

دیوان اول غزل 270
مندا ہے اختلاط کا بازار آج کل
لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل
اس مہلت دو روزہ میں خطرے ہزار ہیں
اچھا ہے رہ سکو جو خبردار آج کل
اوباشوں ہی کے گھر تجھے پانے لگے ہیں روز
مارا پڑے گا کوئی طلبگار آج کل
ملنے کی رات داخل ایام کیا نہیں
برسوں ہوئے کہاں تئیں اے یار آج کل
گلزار ہورہے ہے مرے دم سے کوے یار
اک رنگ پر ہے دیدئہ خوں بار آج کل
تاشام اپنا کام کھنچے کیونکے دیکھیے
پڑتی نہیں ہے جی کو جفا کار آج کل
کعبے تلک تو سنتے ہیں ویرانہ و خراب
آباد ہے سو خانۂ خمار آج کل
ٹھوکر دلوں کو لگنے لگی ہے خرام میں
لاوے گی اک بلا تری رفتار آج کل
ایسا ہی مغبچوں میں جو آنا ہے شیخ جی
تو جارہے ہیں جبہ و دستار آج کل
حیران میں ہی حال کی تدبیر میں نہیں
ہر اک کو شہر میں ہے یہ آزار آج کل
اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
میر تقی میر

صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل

دیوان اول غزل 269
شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل
صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل
آج آوارہ ہو اے بال اسیران قفس
یہ گل و باغ و خیابان نہ ہوویں گے کل
وعدئہ وصل رہا ہے شب آئندہ پہ میر
بخت خوابیدہ جو ٹک جاگتے سوویں گے کل
میر تقی میر

اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل

دیوان اول غزل 268
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل
اک آن میں بدلتی ہے صورت جہان کی
جلد اس نگارخانے سے کر انتقال چل
سالک بہر طریق بدن ہے وبال جاں
یہ بوجھ تیرے ساتھ جو ہے اس کو ڈال چل
آوارہ میرے ہونے کا باعث وہ زلف ہے
کافر ہوں اس میں ہووے اگر ایک بال چل
دنیا ہے میر حادثہ گاہ مقرری
یاں سے تو اپنا پائوں شتابی نکال چل
میر تقی میر

ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال

دیوان اول غزل 267
سیر کر عندلیب کا احوال
ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال
تب غم تو گئی طبیب ولے
پھر نہ آیا کبھو مزاج بحال
سبزہ نورستہ رہگذار کا ہوں
سر اٹھایا کہ ہو گیا پامال
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے
آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
سرد مہری کی بسکہ گل رو نے
اوڑھی ابر بہار نے بھی شال
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا
کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
ہم تو سہ گذرے کج روی تیری
نہ نبھے گی پر اے فلک یہ چال
دیدئہ تر پہ شب رکھا تھا میر
لکۂ ابر ہے مرا رومال
میر تقی میر

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

دیوان اول غزل 266
کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال
پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال
مشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمود
جو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال
مو کو عبث ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہے
اس کا دہن ہے وہم و گمان و کمر خیال
رخسار پر ہمارے ڈھلکنے کو اشک کے
دیکھے ہے جو کوئی سو کرے ہے گہر خیال
کس کو دماغ شعر و سخن ضعف میں کہ میر
اپنا رہے ہے اب تو ہمیں بیشتر خیال
میر تقی میر

یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل

دیوان اول غزل 265
گل کی جفا بھی جانی دیکھی وفاے بلبل
یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جاے بلبل
کر سیر جذب الفت گل چیں نے کل چمن میں
توڑا تھا شاخ گل کو نکلی صداے بلبل
کھٹکے ہیں خار ہوکر ہر شب دل چمن میں
اتنے لب و دہن پر یہ نالہاے بلبل
یک رنگیوں کی راہیں طے کرکے مر گیا ہے
گل میں رگیں نہیں یہ ہیں نقش پاے بلبل
آئی بہار و گلشن گل سے بھرا ہے لیکن
ہر گوشۂ چمن میں خالی ہے جاے بلبل
پیغام بے غرض بھی سنتے نہیں ہیں خوباں
پہنچی نہ گوش گل تک آخر دعاے بلبل
یہ دل خراش نالے ہر شب کے میر تیرے
کر دیں گے بے نمک ہی شور نواے بلبل
میر تقی میر

چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل

دیوان اول غزل 264
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل
چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش
جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ
یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہواے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں
بلبل ستم ہوا نہ جو تونے بھی کھائے گل
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے
اے گل فروش کریو سمجھ کر بہاے گل
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ
قابل درود بھیجنے کے ہے صفاے گل
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو
بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سواے گل
گل چیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میر کے
لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہاے گل
میر تقی میر

تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ

دیوان اول غزل 263
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ
تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ
بات امل کی چلی ہی جاتی ہے
ہے مگر عوج بن عنق کی ٹانگ
بن جو کچھ بن سکے جوانی میں
رات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ
عشق کا شور کوئی چھپتا ہے
نالۂ عندلیب ہے گل بانگ
اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کی
دیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ
کس طرح ان سے کوئی گرم ملے
سیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ
چلی جاتی ہے حسب قدر بلند
دور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ
تفرہ باطل تھا طور پر اپنے
ورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ
میں نے کیا اس غزل کو سہل کیا
قافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ
میر بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
میر تقی میر

رسوائیاں گئی ہیں عقیق یمن تلک

دیوان اول غزل 262
کب دسترس ہے لعل کو تیرے سخن تلک
رسوائیاں گئی ہیں عقیق یمن تلک
آزادگی یہ چھوڑ قفس ہم نہ جاسکے
حسن سلوک ضعف سے صحن چمن تلک
تردستیاں ہوں دست و گریبان ہاتھ کی
زیر زمیں بھی پہنچیں گی چاک کفن تلک
روتا ہوں آہوئوں میں تری چشم یاد کر
طوفاں کیے ہیں سینکڑوں دشت ختن تلک
مارا گیا خرام بتاں پر سفر میں میر
اے کبک کہتا جائیو اس کے وطن تلک
میر تقی میر

طوفاں ہے میرے اشک ندامت سے یاں تلک

دیوان اول غزل 261
جاتے ہیں لے خرابی کو سیل آسماں تلک
طوفاں ہے میرے اشک ندامت سے یاں تلک
شاید کہ دیوے رخصت گلشن ہوں بے قرار
میرے قفس کو لے تو چلو باغباں تلک
قید قفس سے چھوٹ کے دیکھا جلا ہوا
پہنچے نہ ہوتے کاشکے ہم آشیاں تلک
اتنا ہوں ناتواں کہ در دل سے اب گلہ
آتا ہے ایک عمر میں میری زباں تلک
میں ترک عشق کرکے ہوا گوشہ گیر میر
ہوتا پھروں خراب جہاں میں کہاں تلک
میر تقی میر

ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک

دیوان اول غزل 260
دست و پا مارے وقت بسمل تک
ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ
سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
درپئے محمل اس کے جیسے جرس
میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
بجھ گئے ہم چراغ سے باہر
کہیو اے باد شمع محفل تک
نہ گیا میر اپنی کشتی سے
ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
میر تقی میر

کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک

دیوان اول غزل 259
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک
کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا
خزف سے لے کے دیکھا درتر تک
جسے شب آگ سا دیکھا سلگتے
اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
ترا منھ چاند سا دیکھا ہے شاید
کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک
جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر
گیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک
ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک
پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک
کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار
ولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق
کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
یہی دردجدائی ہے جو اس شب
تو آتا ہے جگر مژگان تر تک
دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں
اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک
کہاں پھر شور شیون جب گیا میر
یہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک
میر تقی میر

دوری رہ ہے راہ بر نزدیک

دیوان اول غزل 258
شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک
دوری رہ ہے راہ بر نزدیک
آہ کرنے میں دم کو سادھے رہ
کہتے ہیں دل سے ہے جگر نزدیک
دور والوں کو بھی نہ پہنچے ہم
یہی نہ تم سے ہیں مگر نزدیک
ڈوبیں دریا و کوہ و شہر و دشت
تجھ سے سب کچھ ہے چشم تر نزدیک
حرف دوری ہے گرچہ انشا لیک
دیجو خط جا کے نامہ بر نزدیک
دور اب بیٹھتے ہیں مجلس میں
ہم جو تم سے تھے بیشتر نزدیک
خبر آتی ہے سو بھی دور سے یاں
آئو یک بار بے خبر نزدیک
توشۂ آخرت کا فکر رہے
جی سے جانے کا ہے سفر نزدیک
دور پھرنے کا ہم سے وقت گیا
پوچھ کچھ حال بیٹھ کر نزدیک
مر بھی رہ میر شب بہت رویا
ہے مری جان اب سحر نزدیک
میر تقی میر

کر جائوں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک

دیوان اول غزل 257
بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک
کر جائوں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک
اتنا دن اور دل سے طپش کرلے کاوشیں
یہ مجہلہ تمام ہی ہے آج شب تلک
نقاش کیونکے کھینچ چکا تو شبیہ یار
کھینچوں ہوں ایک ناز ہی اس کا میں اب تلک
شب کوتہ اور قصہ مری جان کا دراز
القصہ اب کہا کروں تجھ سے میں کب تلک
باقی یہ داستان ہے اور کل کی رات ہے
گر جان میری میر نہ آپہنچے لب تلک
میر تقی میر

جس کی لے دام سے تاگوش گل آواز ہے ایک

دیوان اول غزل 256
میر گم کردہ چمن زمزمہ پرداز ہے ایک
جس کی لے دام سے تاگوش گل آواز ہے ایک
کچھ ہو اے مرغ قفس لطف نہ جاوے اس سے
نوحہ یا نالہ ہر اک بات کا انداز ہے ایک
ناتوانی سے نہیں بال فشانی کا دماغ
ورنہ تا باغ قفس سے مری پرواز ہے ایک
گوش کو ہوش کے ٹک کھول کے سن شور جہاں
سب کی آواز کے پردے میں سخن ساز ہے ایک
چاہے جس شکل سے تمثال صفت اس میں درآ
عالم آئینے کے مانند در باز ہے ایک
میر تقی میر

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

دیوان اول غزل 255
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
رنگینی عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم
صحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
کب سے متحمل ہے جفائوں کا دل زار
زنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھرائو کیے ہیں
مارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ
پر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے
واقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک
اک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے
پوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو
یوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا
جاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں
سو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں
ہیں میر جی آوارہ پری دار سے اب تک
میر تقی میر

آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے لامکاں تک

دیوان اول غزل 254
اب وہ نہیں کہ شورش رہتی تھی آسماں تک
آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے لامکاں تک
بہ بھی گیا بدن کا سب ہوکے گوشت پانی
اب کارد اے عزیزاں پہنچی ہے استخواں تک
تصویر کی سی شمعیں خاموش جلتے ہیں ہم
سوز دروں ہمارا آتا نہیں زباں تک
روتے پھرے ہیں لوہو یک عمر اس گلی میں
باغ و بہار ہی ہے جاوے نظر جہاں تک
آنکھیں جو روتے روتے جاتی رہیں بجا ہے
انصاف کر کہ کوئی دیکھے ستم کہاں تک
بے لطف تیرے کیونکر تجھ تک پہنچ سکیں ہم
ہیں سنگ راہ اپنی کتنے یہاں سے واں تک
ہم بے نصیب سر کو پتھر سے کیوں نہ پھوڑیں
پہنچا کبھو نہ جبہہ اس سنگ آستاں تک
مانند طیر نوپر اٹھے جہاں گئے ہم
دشوار ہے ہمارا آنا پھر آشیاں تک
تن کام میں ہمارے دیتا نہیں وہی کچھ
حاضر ہیں میر ہم تو اپنی طرف سے جاں تک
میر تقی میر

چھاتی پہ بعد مرگ بھی دل جم ہے زیر خاک

دیوان اول غزل 253
بے چین مجھ کو چاہتا ہر دم ہے زیر خاک
چھاتی پہ بعد مرگ بھی دل جم ہے زیر خاک
آسودگی جو چاہے تو مرنے پہ دل کو رکھ
آشفتگی طبع بہت کم ہے زیرخاک
تنہا تو اپنی گور میں رہنے پہ بعد مرگ
مت اضطراب کریو کہ عالم ہے زیر خاک
مجنوں نہ تھا کہ جس کے تئیں سونپ کر مروں
آشفتگی کا مجھ کو نپٹ غم ہے زیر خاک
رویا تھا نزع میں میں اسے یاد کر بہت
اب تک مری ہر ایک مژہ نم ہے زیر خاک
کیا آسماں پہ کھینچے کوئی میر آپ کو
جانا جہاں سے سب کو مسلم ہے زیر خاک
میر تقی میر

شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق

دیوان اول غزل 252
درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق
تو نہ ہووے تو نظم کل اٹھ جائے
سچے ہیں شاعراں خدا ہے عشق
میر تقی میر

تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف

دیوان اول غزل 251
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف
تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف
کوئی داد دل آہ کس سے کرے
ہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگ
دھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھر
اک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف
بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھو
ہماری طرف سے سحر کی طرف
بخود کس کو اس تاب رخ نے رکھا
کرے کون شمس و قمر کی طرف
نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر
ہوا تھا مری چشم تر کی طرف
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل
نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
مناسب نہیں حال عاشق سے صبر
رکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف
کسے منزل دلکش دہر میں
نہیں میل خاطر سفر کی طرف
رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میر
گئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف
میر تقی میر

ہر خوں گرفتہ جائے ہے جلاد کی طرف

دیوان اول غزل 250
غالب ہے تیرے عہد میں بیداد کی طرف
ہر خوں گرفتہ جائے ہے جلاد کی طرف
کن نے لیا ہے تم سے مچلکا کہ داد دو
ٹک کان ہی رکھا کرو فریاد کی طرف
ہر تار زلف قیمت فردوس ہے ترا
کرتا ہے کون طرئہ شمشاد کی طرف
ہم نے تو پرفشانی نہ جانی کہ ایک بار
پرواز کی چمن سے سو صیاد کی طرف
حیران کار عشق ہے شیریں کا نقش میر
کچھ یوں ہی دیکھتا نہیں فرہاد کی طرف
میر تقی میر

راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف

دیوان اول غزل 249
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف
راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف
آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی طپش
ہجر کی شب مجھ پہ گذری غیرت روز مصاف
ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل
آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف
پائوں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو
تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خوش غلاف
صف الٹ جا عاشقوں کی گر ترے ابرو ہلیں
ایک دم تلوار کے چلنے میں ہووے ملک صاف
شیخ مت روکش ہو مستوں کا تو اس جبے اپر
لیتے استنجے کو ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف
عشق کے بازار میں سودا نہ کیجو تو تو میر
سر کو جب واں بیچ چکتے ہیں تو یہ ہے دست لاف
میر تقی میر

کہاں دماغ ہمیں اس قدر دروغ دروغ

دیوان اول غزل 247
ہم اور تیری گلی سے سفر دروغ دروغ
کہاں دماغ ہمیں اس قدر دروغ دروغ
تم اور ہم سے محبت تمھیں خلاف خلاف
ہم اور الفت خوب دگر دروغ دروغ
غلط غلط کہ رہیں تم سے ہم تنک غافل
تم اور پوچھو ہماری خبر دروغ دروغ
فروغ کچھ نہیں دعوے کو صبح صادق کے
شب فراق کو کب ہے سحر دروغ دروغ
کسو کے کہنے سے مت بدگماں ہو میر سے تو
وہ اور اس کو کسو پر نظر دروغ دروغ
میر تقی میر

واہ وا رے آتش جاں سوز پھر تاثیر شمع

دیوان اول غزل 246
یوں جلا ڈالا کہ کچھ روشن نہ ہوئی تقریر شمع
واہ وا رے آتش جاں سوز پھر تاثیر شمع
میر تقی میر

اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع

دیوان اول غزل 245
سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع
اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع
میر تقی میر

ہوتے ہیں یہ لوگ بھی کتنے پریشاں اختلاط

دیوان اول غزل 243
سب سے آئینہ نمط رکھتے ہیں خوباں اختلاط
ہوتے ہیں یہ لوگ بھی کتنے پریشاں اختلاط
تنگ آیا ہوں میں رشک تنگ پوشی سے تری
اس تن نازک سے یہ جامے کو چسپاں اختلاط
میر تقی میر

چشم نم دیدہ سے عاشق کی سدا جاری ہے فیض

دیوان اول غزل 242
سال میں ابر بہاری تجھ سے اک باری ہے فیض
چشم نم دیدہ سے عاشق کی سدا جاری ہے فیض
میر تقی میر

اک مصیبت ہے میرے تیں درپیش

دیوان اول غزل 240
دل تو افگار ہے جگر ہے ریش
اک مصیبت ہے میرے تیں درپیش
پان تو لیتا جا فقیروں کے
برگ سبز است تحفۂ درویش
ایک دم مہر برسوں تک کینہ
یوں ہی گذری ہے اپنی اس کی ہمیش
فکر کر زاد آخرت کا بھی
میر اگر تو ہے عاقبت اندیش
میر تقی میر

کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش

دیوان اول غزل 239
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش
ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب
موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام
کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ
تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا
اک سادہ گل فروش کا آکر سبد بدوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار
آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے
بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو
عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا
وے صحبیتں کہاں گئیں کیدھر وے ناو نوش
جزلالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں
ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبوبدوش
جھومے ہے بید جاے جوانان مے گسار
بالاے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش
میر تقی میر

آہ افسوس صد ہزار افسوس

دیوان اول غزل 238
مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس
ہم تو ملتے تھے جب اہا ہاہا
نہ رہا ووہیں روزگار افسوس
یوں گنواتا ہے دل کوئی مجھ کو
یہی آتا ہے بار بار افسوس
قتل کر تو ہمیں کرے گا خوشی
یہ توقع تھی تجھ سے یار افسوس
رخصت سیر باغ تک نہ ہوئی
یوں ہی جاتی رہی بہار افسوس
خوب بدعہد تو نہ مل لیکن
میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس
خاک پر میر تیری ہوتا ولے
نہ ہوا اتنا اقتدار افسوس
میر تقی میر

آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

دیوان اول غزل 237
کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس
آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
گرم ہو گا حشر کو ہنگامۂ دعویٰ بہت
کاشکے مجھ کو نہ لے جاویں مرے قاتل کے پاس
دور اس سے جوں ہوا دل پر بلا ہے مضطرب
اس طرح تڑپا نہیں جاتا کسو بسمل کے پاس
بوے خوں آتی ہے باد صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کے پاس
آہ نالے مت کیا کر اس قدر بیتاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کے پاس
میر تقی میر

اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس

دیوان اول غزل 236
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس
اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مژگاں بھی بہ گئیں مرے رونے سے چشم کی
سیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا
روتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
حیراں ہوں میر نزع میں اب کیا کروں بھلا
احوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
میر تقی میر

ہیں مژہ دستور سابق ہی یہ میری نم ہنوز

دیوان اول غزل 235
ہوچکا خون جگر رونا نہیں کچھ کم ہنوز
ہیں مژہ دستور سابق ہی یہ میری نم ہنوز
دل جلوں پر روتے ہیں جن کو ہے کچھ سوز جگر
شمع رکھتی ہے ہماری گور پر ماتم ہنوز
وضع یکساں اس زمانے میں نہیں رہتی کہیں
قد ترا چوگاں رہا ہے کس طرح سے خم ہنوز
آرہا ہے جی مرا آنکھوں میں اک پل اور ہوں
پر نہیں جاتا کسی کے دیکھنے کا غم ہنوز
وہ جو عالم اس کے اوپر تھا سو خط نے کھو دیا
مبتلا ہے اس بلا میں میر اک عالم ہنوز
میر تقی میر

ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز

دیوان اول غزل 234
مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز
اشک کی لغزش مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامن دیدئہ گریاں ہے مرا پاک ہنوز
ایک بھی تار گریبان کفن بیچ نہیں
جم ہوئی بیٹھی ہے چھاتی پہ مری خاک ہنوز
بھر نظر دیکھنے پاتا نہیں میں نزع میں بھی
منھ کے تیں پھیرے ہی لیتا ہے وہ بیباک ہنوز
بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز
میر تقی میر

تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز

دیوان اول غزل 233
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز
دل بھی پر داغ چمن ہے پر اسے کیا کیجے
جی سے جاتی ہی نہیں حسرت دیدار ہنوز
بہ کیے عمر ہوئی ابر بہاری کو ولے
لہو برسا رہے ہیں دیدئہ خوں بار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
نا امیدی میں تو مر گئے پہ نہیں یہ معلوم
جیتے ہیں کون سی امید پہ ناچار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ
تو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز
ایک دن بال فشاں ٹک ہوئے تھے خوش ہوکر
ہیں غم دل کی اسیری میں گرفتار ہنوز
کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گذرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سر خار ہنوز
منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہگار ہنوز
اڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز
ایک بھی زخم کی جا جس کے نہ ہو تن پہ کہیں
کوئی دیتا ہے سنا ویسے کو آزار ہنوز
ٹک تو انصاف کر اے دشمن جان عاشق
میان سے نکلی پڑے ہے تری تلوار ہنوز
میر کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہیے
ہے تجھے کوئی گھڑی قوت گفتار ہنوز
ابھی اک دم میں زباں چلنے سے رہ جاتی ہے
درد دل کیوں نہیں کرتا ہے تو اظہار ہنوز
آنسو بھر لا کے بہت حزن سے یہ کہنے لگا
کیا کہوں تجھ کو سمجھ اس پہ نہیں یار ہنوز
آنکھوں میں آن رہا جی جو نکلتا ہی نہیں
دل میں میرے ہے گرہ حسرت دیدار ہنوز
میر تقی میر

ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز

دیوان اول غزل 232
ضبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز
ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز
آتش دل نہیں بجھی شاید
قطرئہ اشک ہے شرارہ ہنوز
خاک میں ہے وہ طفل اشک اس بن
چشم ہے جس کا گاہوارہ ہنوز
اشک جھمکا ہے جب نہ نکلا تھا
چرخ پر صبح کا ستارہ ہنوز
ایک بار آ کے پھر نہیں آیا
عمر کی طرح وہ دوبارہ ہنوز
لب پہ آئی ہے جان کب کی ہے
اس کی موقوف یک اشارہ ہنوز
کب کی توبہ کی میر نے لیکن
ہے بتر از شراب خوارہ ہنوز
عمر گذری دوائیں کرتے میر
درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز
میر تقی میر

بسمل پڑی ہے چرخ پہ میری دعا ہنوز

دیوان اول غزل 231
ہوتا نہیں ہے باب اجابت کا وا ہنوز
بسمل پڑی ہے چرخ پہ میری دعا ہنوز
باقی نہیں ہے دل میں یہ غم ہے بجا ہنوز
ٹپکے ہے خون دم بہ دم آنکھوں سے تا ہنوز
دن رات کو کھنچا ہے قیامت کا اور میں
پھرتا ہوں منھ پہ خاک ملے جابجا ہنوز
خط کاڑھ لا کے تم تو منڈا بھی چلے ولے
ہوتی نہیں ہماری تمھاری صفا ہنوز
غنچے چمن چمن کھلے اس باغ دہر میں
دل ہی مرا ہے جو نہیں ہوتا ہے وا ہنوز
گذری نہ پار عرش کہ تسکین ہو مجھے
افسوس میری آہ رہی نارسا ہنوز
احوال نامہ بر سے مرا سن کے کہہ اٹھا
جیتا ہے وہ ستم زدہ مہجور کیا ہنوز
غنچہ نہ بوجھ دل ہے کسی مجھ سے زار کا
کھلتا نہیں جو سعی سے تیری صبا ہنوز
توڑا تھا کس کا شیشۂ دل تونے سنگ دل
ہے دل خراش کوچے میں تیرے صدا ہنوز
چلو میں اس کے میرا لہو تھا سو پی چکا
اڑتا نہیں ہے طائر رنگ حنا ہنوز
بے بال و پر اسیر ہوں کنج قفس میں میر
جاتی نہیں ہے سر سے چمن کی ہوا ہنوز
میر تقی میر

پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ

دیوان اول غزل 230
آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ
پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ
لاکھوں جتن کیے نہ ہوا ضبط گریہ لیک
سنتے ہی نام آنکھ سے آنسو گرے کڑوڑ
زخم دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو
اب ضبط گریہ سے ہے ادھر ہی کو سب نچوڑ
گرمی سے بر شگال کی پروا ہے کیا ہمیں
برسوں رہی ہے جان کے رکنے کی یاں مروڑ
بلبل کی اور چشم مروت سے دیکھ ٹک
بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ
کچھ کوہکن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام
بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ
بے طاقتی سے میر لگے چھوٹنے پران
ظالم خیال دیکھنے کا اس کے اب تو چھوڑ
میر تقی میر

جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر

دیوان اول غزل 227
آزار دیکھے کیا کیا ان پلکوں سے اٹک کر
جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر
سرو و تدرو دونوں پھر آپ میں نہ آئے
گلزار میں چلا تھا وہ شوخ ٹک لٹک کر
کب آنکھ کھول دیکھا تیرے تئیں سرہانے
ناچار مر گئے ہم سر کو پٹک پٹک کر
حاصل بجز کدورت اس خاکداں سے کیا ہے
خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر
یہ مشت خاک یعنی انسان ہی ہے روکش
ورنہ اٹھائی کن نے اس آسماں کی ٹکر
دل کام چاہتا ہے اب اس کے گیسوئوں سے
واں مر گئے ہیں کتنے برسوں اٹک اٹک کر
ٹک منھ سے اس کے دی شب برقع سرک گیا تھا
جاتی رہی نظر سے مہتاب سی چھٹک کر
دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
کل رقص شیخ مطلق دل کو لگا نہ میرے
آیا وہ حیز شرعی کتنا مٹک مٹک کر
منزل کی میر اس کی کب راہ تجھ سے نکلے
یاں خضر سے ہزاروں مر مر گئے بھٹک کر
میر تقی میر

انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر

دیوان اول غزل 226
جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر
انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
جھمکے دکھاکے باعث ہنگامہ ہی رہے
پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر
کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم
اچھا نہیں ہے آ نہ ہمیں امتحان کر
کم گو جو ہم ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
اچھی نہیں یہ بات مت اتنی زبان کر
ہم وے ہیں جن کے خوں سے تری راہ سب ہے گل
مت کر خراب ہم کو تو اوروں میں سان کر
تا کشتۂ وفا مجھے جانے تمام خلق
تربت پہ میری خون سے میرے نشان کر
ناز و عتاب و خشم کہاں تک اٹھایئے
یارب کبھو تو ہم پہ اسے مہربان کر
افسانے ما و من کے سنیں میر کب تلک
چل اب کہ سوویں منھ پہ دوپٹے کو تان کر
میر تقی میر

زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر

دیوان اول غزل 225
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز
کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
گرو مے ہوں آئو شیخ شہر
ابر جھوما ہی جا ہے صحرا پر
دل پر خوں تو تھا گلابی شراب
جی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
یاں جہاں میں کہ شہر کوراں ہے
سات پردے ہیں چشم بینا پر
فرصت عیش اپنی یوں گذری
کہ مصیبت پڑی تمنا پر
طارم تاک سے لہو ٹپکا
سنگ باراں ہوا ہے مینا پر
میر کیا بات اس کے ہونٹوں کی
جینا دوبھر ہوا مسیحا پر
میر تقی میر

بگلا شکار ہووے تو لگتے ہیں ہاتھ پر

دیوان اول غزل 224
داڑھی سفید شیخ کی تو مت نظر میں کر
بگلا شکار ہووے تو لگتے ہیں ہاتھ پر
اے ابر خشک مغز سمندر کا منھ نہ دیکھ
سیراب تیرے ہونے کو کافی ہے چشم تر
آخر عدم سے کچھ بھی نہ اکھڑا مرا میاں
مجھ کو تھا دست غیب پکڑ لی تری کمر
ہجراں کی شب سے مجھ کو گلہ نئیں کہ ان نے بھی
دیکھی نہیں ہے خواب میں آنکھوں کبھی سحر
سوتا تھا بے خبر تو نشے میں جو رات کو
سو بار میر نے تری اٹھ اٹھ کے لی خبر
میر تقی میر

دستۂ داغ و فوج غم لے کر

دیوان اول غزل 223
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
دستۂ داغ و فوج غم لے کر
دست کش نالہ پیش رو گریہ
آہ چلتی ہے یاں علم لے کر
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک
غم دوری چلے ہیں ہم لے کر
تیری وضع ستم سے اے بے درد
ایک عالم گیا الم لے کر
بارہا صید گہ سے اس کی گئے
داغ یاس آہوے حرم لے کر
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر
رہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق
جائے گا جان بھی یہ غم لے کر
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصد
ہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
میر صاحب ہی چوکے اے بد عہد
ورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
میر تقی میر

موتی گویا جڑے ہیں مینے پر

دیوان اول غزل 222
خط میں ہے کیا سماں پسینے پر
موتی گویا جڑے ہیں مینے پر
کوئی ہوتا ہے دل طپش سے برا
ایک دم کے لہو نہ پینے پر
دل سے میرے شکستیں الجھی ہیں
سنگ باراں ہے آبگینے پر
چاک سینے سے کھل گئے ٹانکے
کیا رفو کم ہوا ہے سینے پر
جور دلبر سے کیا ہوں آزردہ
میر اس چار دن کے جینے پر
میر تقی میر

ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار

دیوان اول غزل 221
رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار
ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار
لوح تربت پہ مری پہلے یہ لکھیو کہ اسے
یار دشمن ہو گیا جان سے مار آخرکار
مشت خاک اپنی جو پامال ہے یاں اس پہ نہ جا
سر کو کھینچے گا فلک تک یہ غبار آخرکار
سیر کر کثرت عالم کی مری جان کہ پھر
تن تنہا ہے تو اور کنج مزار آخرکار
چشم وا دیکھ کے اس باغ میں کیجو نرگس
آنکھوں سے جاتی رہے گی یہ بہار آخرکار
ابتدا ہی میں محبت کی ہوئے ہم تو تمام
ہوتا ہو گا یہی کچھ عشق میں یار آخرکار
اول کار محبت تو بہت سہل ہے میر
جی سے جاتا ہے ولے صبر و قرار آخرکار
میر تقی میر

خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر

دیوان اول غزل 220
ہو آدمی اے چرخ ترک گردش ایام کر
خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر
دنیا ہے بے صرفہ نہ ہو رونے میں یا کڑھنے میں تو
نالے کو ذکر صبح کر گریے کو ورد شام کر
مست جنوں رہ روز و شب شہرہ ہو شہر ودشت میں
مجلس میں اپنی نقل خوش زنجیر کا بادام کر
جتنی ہو ذلت خلق میں اتنی ہے عزت عشق میں
ناموس سے آ درگذر بے ننگ ہوکر نام کر
مر رہ کہیں بھی میر جا سرگشتہ پھرنا تا کجا
ظالم کسو کا سن کہا کوئی گھڑی آرام کر
میر تقی میر

غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر

دیوان اول غزل 219
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر
غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر
اس روے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہوکر
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہوکر
پردہ رہے گا کیونکر خورشید خاوری کا
نکلے ہے صبح وہ بھی اب بے نقاب ہوکر
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہوکر
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہوکر
شرم و حیا کہاں تک ہیں میر کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہوکر
میر تقی میر

ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور

دیوان اول غزل 218
دل جو اپنا ہوا تھا زخمی چور
ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور
صبح اس سرد مہر کے آگے
قرص خورشید ہو گیا کافور
ہم ضعیفوں کو پائمال نہ کر
دولت حسن پر نہ ہو مغرور
عرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں
گر اٹھے ہے غبار خاطر مور
شکوئہ آبلہ ابھی سے میر
ہے پیارے ہنوز دلی دور
میر تقی میر

حال ہے اور قال ہے کچھ اور

دیوان اول غزل 217
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
حال ہے اور قال ہے کچھ اور
وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں
دم میں عاشق کا حال ہے کچھ اور
سہل مت بوجھ یہ طلسم جہاں
ہر جگہ یاں خیال ہے کچھ اور
تو رگ جاں سمجھتی ہو گی نسیم
اس کے گیسو کا بال ہے کچھ اور
نہ ملیں گو کہ ہجر میں مر جائیں
عاشقوں کا وصال ہے کچھ اور
کوزپشتی پہ شیخ کی مت جائو
اس پہ بھی احتمال ہے کچھ اور
اس میں اس میں بڑا تفاوت ہے
کبک کی چال ڈھال ہے کچھ اور
میر تلوار چلتی ہے تو چلے
خوش خراموں کی چال ہے کچھ اور
میر تقی میر

پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر

دیوان اول غزل 216
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر
وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا
رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر
کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے
ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر
ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں
آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر
رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے
یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر
برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر
طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے
گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر
کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا
دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر
میر تقی میر

ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر

دیوان اول غزل 215
دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر
کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن
مرتے ہیں خاک رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر
قد کش چمن کے اپنی خوبی کو نیو چلے ہیں
پایا پھل اس سے آخر کیا سرو نے اکڑ کر
وہ سر چڑھا ہے اتنا اپنی فروتنی سے
کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پائوں پڑ کر
پاے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم
مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر
دوری میں دلبروں کی کٹتی ہے کیونکے سب کی
آدھا نہیں رہا ہوں تجھ سے تو میں بچھڑ کر
اب کیسا زہد و تقویٰ دارو ہے اور ہم ہیں
بنت العنب کے اپنا سب کچھ گیا گھسڑ کر
دیکھو نہ چشم کم سے معمورئہ جہاں کو
بنتا ہے ایک گھر یاں سو صورتیں بگڑ کر
اس پشت لب کے اوپر دانے عرق کے یوں ہیں
یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر
ناسازگاری اپنے طالع کی کیا کہیں ہم
آیا کبھو نہ یاں ٹک غیروں سے یار لڑ کر
اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر ہی کے اٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اڑ کر
میر تقی میر

جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر

دیوان اول غزل 214
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر
جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر
افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے
پھر مر گئے ترے تئیں یک بار دیکھ کر
ناخواندہ خط شوق لگے چاک کرنے تو
قاصد تو کہیو ٹک کہ جفا کار دیکھ کر
کوئی جو دم رہا ہے سو آنکھوں میں ہے پھر اب
کریو ٹک ایک وعدئہ دیدار دیکھ کر
دیکھیں جدھر وہ رشک پری پیش چشم ہے
حیران رہ گئے ہیں یہ اسرار دیکھ کر
جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے
آتا ہے جی بھرا در و دیوار دیکھ کر
تیرے خرام ناز پہ جاتے ہیں جی چلے
رکھ ٹک قدم زمیں پہ ستمگار دیکھ کر
طالع نے چشم پوشی کی یاں تک کہ ہم نشیں
چھپتا ہے مجھ کو دور سے اب یار دیکھ کر
جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے ناچار دیکھ کر
میر تقی میر

جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دیوان اول غزل 213
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتائوگے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
یارب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کہ بیٹھ رہوں پائوں گاڑ کر
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کو
تنکے کو جو دکھادے ہے پل میں پہاڑ کر
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سے
کچھ ڈھیر کرچکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میر
بہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
میر تقی میر

جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار

دیوان اول غزل 212
لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار
جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار
ہوئیں کس ستم دیدہ کے پاس یک جا
نگاہیں شرر ریز پلکیں جگر بار
کہو کوئی دیکھے اسے سیر کیونکر
کہ ہے اس تن نازک اوپر نظر بار
حلاوت سے اپنی جو آگاہ ہوں تو
چپک جائیں باہم وے لعل شکر بار
سبک کر دیا دل کی بے طاقتی نے
نہ جانا تھا اس کی طرف ہم کو ہر بار
گدھا سا لدا پھرتا ہے شیخ ہر سو
کہ جبہ ہے یک بار و عمامہ سر بار
مرے نخل ماتم پہ ہے سنگ باراں
نہایت کو لایا عجب یہ شجر بار
ہمیں بار اس درپہ کثرت سے کیا ہو
لگا ہی رہے ہے سدا واں تو دربار
یہ آنکھیں گئیں ایسی ہوکر در افشاں
کہ دیکھے سے آیا تر ابر گہربار
کب اس عمر میں آدمی شیخ ہو گا
کتابیں رکھیں ساتھ گو ایک خربار
جہاں میر رہنے کی جاگہ نہیں ہے
چلا چاہیے یاں سے اسباب کر بار
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر

دیوان اول غزل 210
قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر
نہ دیکھا آخر اس آئینہ رو نے
نظر سے بھی نگاہ واپسیں پر
گئے دن عجز و نالہ کے کہ اب ہے
دماغ نالہ چرخ ہفتمیں پر
ہوا ہے ہاتھ گلدستہ ہمارا
کہ داغ خوں بہت ہے آستیں پر
خدا جانے کہ کیا خواہش ہے جی کو
نظر اپنی نہیں ہے مہروکیں پر
پر افشانی قفس ہی کی بہت ہے
کہ پرواز چمن قابل نہیں پر
جگر میں اپنے باقی روتے روتے
اگرچہ کچھ نہیں اے ہم نشیں پر
کبھو جو آنکھ سے چلتے ہیں آنسو
تو بھر جاتا ہے پانی سب زمیں پر
قدم دشت محبت میں نہ رکھ میر
کہ سر جاتا ہے گام اولیں پر
میر تقی میر

یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر

دیوان اول غزل 209
کر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفا کار اس قدر
یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر
بھاگے مری صورت سے وہ عاشق میں اس کی شکل پر
میں اس کا خواہاں یاں تلک وہ مجھ سے بیزار اس قدر
منزل پہنچنا یک طرف نے صبر ہے نے ہے سکوں
یکسر قدم میں آبلے پھر راہ پرخار اس قدر
ہے جاے ہر دل میں تری آ درگذر کر بے وفا
کر رحم ٹک اپنے اپرمت ہو دل آزار اس قدر
جز کشمکش ہووے تو کیا عالم سے ہم کو فائدہ
یہ بے فضا ہے اک قفس ہم ہیں گرفتار اس قدر
غیر اور بغل گیری تری عید اور ہم سے بھاگنا
ہم یار ہوں یوں غم زدے خوش ہوئیں اغیار اس قدر
طاقت نہیں ہے بات کی کہتا تھا نعرہ ماریے
کیا جانتا تھا میر ہوجاوے گا بیمار اس قدر
میر تقی میر

اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر

دیوان اول غزل 208
یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر
سفر ہستی کا مت کر سرسری جوں باد اے رہرو
یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تامل کر
سن اے بے درد گلچیں غارت گلشن مبارک ہے
پہ ٹک گوش مروت جانب فریاد بلبل کر
نہ وعدہ تیرے آنے کا نہ کچھ امید طالع سے
دل بیتاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر
یہ کیا جانوں کہ کیوں رونے لگا رونے سے رہ کر میں
مگر یہ جانتا ہوں مینھ گھر آتا ہے پھر کھل کر
مرے پاس اس کی خاک پا کو بیماری میں رکھا تھا
نہ آیا سر مرا بالیں پہ اودھر جو گیا ڈھل کر
تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کے میرے
وہ رشک ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گل کر
تری خاموشی سے قمری ہوا شور جنوں رسوا
ہلاٹک طوق گردن کو بھی ظالم باغ میں غل کر
گداز عاشقی کا میر کے شب ذکر آیا تھا
جو دیکھا شمع مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر
میر تقی میر

اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

دیوان اول غزل 207
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار
ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار
کیا زمزمہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صفیر
آیا جو میں چمن میں تو جاتی رہی بہار
کس ڈھب سے راہ عشق چلوں ہے یہ ڈر مجھے
پھوٹیں کہیں نہ آبلے ٹوٹیں کہیں نہ خار
کوچے کی اس کے راہ نہ بتلائی بعد مرگ
دل میں صبا رکھے تھی مری خاک سے غبار
اے پاے خم کہ گردش ساغر ہو دستگیر
مرہون درد سر ہو کہاں تک مرا خمار
وسعت جہاں کی چھوڑ جو آرام چاہے میر
آسودگی رکھے ہے بہت گوشۂ مزار
میر تقی میر

نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر

دیوان اول غزل 206
نہ ہو ہرزہ درا اتنا خموشی اے جرس بہتر
نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے
نظر اے ابر تر آپھی نہ آوے گا برس بہتر
سدا ہو خار خار باغباں گل کا جہاں مانع
سمجھ اے عندلیب اس باغ سے کنج قفس بہتر
برا ہے امتحاں لیکن نہ سمجھے تو تو کیا کریے
شہادت گاہ میں لے چل سب اپنے بوالہوس بہتر
سیہ کر دوں گا گلشن دود دل سے باغباں میں بھی
جلا آتش میں میرے آشیاں کے خار و خس بہتر
کیا داغوں سے رشک باغ اے صد آفریں الفت
یہ سینہ ہم کو بھی ایسا ہی تھا درکار بس بہتر
قدم تیرے چھوئے تھے جن نے اب وہ ہاتھ ہی سر ہے
مرے حق میں نہ ہونا ہی تھا یاں تک دسترس بہتر
عبث پوچھے ہے مجھ سے میر میں صحرا کو جاتا ہوں
خرابی ہی پہ دل رکھا ہے جو تونے تو بس بہتر
میر تقی میر

پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر

دیوان اول غزل 205
غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپاکر
پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر
ہر گام سد رہ تھی بتخانے کی محبت
کعبے تلک تو پہنچے لیکن خدا خدا کر
نخچیرگہ میں تجھ سے جو نیم کشتہ چھوٹا
حسرت نے اس کو آخر مارا لٹا لٹاکر
اک لطف کی نگہ بھی ہم نے نہ چاہی اس سے
رکھا ہمیں تو ان نے آنکھیں دکھا دکھاکر
ناصح مرے جنوں سے آگہ نہ تھا کہ ناحق
گودڑ کیا گریباں سارا سلا سلاکر
اک رنگ پاں ہی اس کا دل خوں کن جہاں ہے
پھبتا ہے اس کو کرنا باتیں چبا چباکر
جوں شمع صبح گاہی یک بار بجھ گئے ہم
اس شعلہ خو نے ہم کو مارا جلا جلاکر
اس حرف ناشنو سے صحبت بگڑ ہی جا ہے
ہر چند لاتے ہیں ہم باتیں بنا بناکر
میں منع میر تجھ کو کرتا نہ تھا ہمیشہ
کھوئی نہ جان تونے دل کو لگا لگاکر
میر تقی میر

اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر

دیوان اول غزل 204
اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گذر
اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر
دھڑکا تھا دل طپیدن شب سے سو آج صبح
دیکھا وہی کہ آنسوئوں میں چو پڑا جگر
ہم تو اسیر کنج قفس ہوکے مرچلے
اے اشتیاق سیر چمن تیری کیا خبر
مت عیب کر جو ڈھونڈوں میں اس کو کہ مدعی
یہ جی بھی یوں ہی جائے گا رہتا ہے تو کدھر
آتی ہی بوجھیو تو بلا اپنے سر صبا
وے مشک فام زلفیں پریشاں ہوئیں اگر
جاتی نہیں ہے دل سے تری یاد زلف و رو
روتے ہی مجھ کو گذرے ہے کیا شام کیا سحر
کیا جانوں کس کے تیں لب خنداں کہے ہے خلق
میں نے جو آنکھیں کھول کے دیکھیں سو چشم تر
اے سیل ٹک سنبھل کے قدم بادیے میں رکھ
ہر سمت کو ہے تشنہ لبی کا مری خطر
کرتا ہے کون منع کہ سج اپنی تو نہ دیکھ
لیکن کبھی تو میر کے کر حال پر نظر
میر تقی میر

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر

چمن کی صبح کوئی دم کو شام ہے صیاد

دیوان اول غزل 202
قفس تو یاں سے گئے پر مدام ہے صیاد
چمن کی صبح کوئی دم کو شام ہے صیاد
بہت ہیں ہاتھ ہی تیرے نہ کر قفس کی فکر
مرا تو کام انھیں میں تمام ہے صیاد
یہی گلوں کو تنک دیکھوں اتنی مہلت ہو
چمن میں اور تو کیا مجھ کو کام ہے صیاد
ابھی کہ وحشی ہے اس کشمکش کے بیچ ہے میر
خدا ہی اس کا ہے جو تیرا رام ہے صیاد
میر تقی میر

ہے تو کس آفریدہ کے مانند

دیوان اول غزل 201
اے گل نو دمیدہ کے مانند
ہے تو کس آفریدہ کے مانند
ہم امید وفا پہ تیری ہوئے
غنچۂ دیر چیدہ کے مانند
خاک کو میری سیر کرکے پھرا
وہ غزال رمیدہ کے مانند
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال
سبزئہ نو دمیدہ کے مانند
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو
نالہ تیغ کشیدہ کے مانند
ہم گرفتار حال ہیں اپنے
طائر پر بریدہ کے مانند
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میں
صید درخوں طپیدہ کے مانند
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیں
کب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندئہ زرخریدہ کے مانند
میر تقی میر

اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد

دیوان اول غزل 200
ہوں رہگذر میں تیرے ہر نقش پا ہے شاہد
اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد
طوف حرم میں بھی میں بھولا نہ تجھ کو اے بت
آتا ہے یاد تو ہی میرا خدا ہے شاہد
شرمندئہ اثر کچھ باطن مرا نہیں ہے
وقت سحر ہے شاہد دست دعا ہے شاہد
نالے میں اپنے پنہاں میں بھی ہوں ساتھ تیرے
شاہد ہے گرد محمل شور درا ہے شاہد
ایذا ہے میر پر جو وہ تو کہوں ہی گا میں
بارے یہ کہہ کہ تیری خاطر میں کیا ہے شاہد
میر تقی میر

آخرکار کیا کہا قاصد

دیوان اول غزل 199
نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد
آخرکار کیا کہا قاصد
کوئی پہنچا نہ خط مرا اس تک
میرے طالع ہیں نارسا قاصد
سر نوشت زبوں سے زر ہو خاک
راہ کھوٹی نہ کر تو جا قاصد
گر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں
یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد
یہ تو رونا ہمیشہ ہے تجھ کو
پھر کبھو پھر کبھو بھلا قاصد
اب غرض خامشی ہی بہتر ہے
کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد
شب کتابت کے وقت گریے میں
جو لکھا تھا سو بہ گیا قاصد
کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے
بھیجا کب تک کروں نیا قاصد
ہے طلسمات اس کا کوچہ تو
جو گیا سو وہیں رہا قاصد
باد پر ہے برات جس کا جواب
اس کو گذرے ہیں سالہا قاصد
نامۂ میر کو اڑاتا ہے
کاغذ باد گر گیا قاصد
میر تقی میر

ابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد

دیوان اول غزل 198
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
ابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد
جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے ناسمجھ
کھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد
شمع مزار اور یہ سوز جگر مرا
ہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد
حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاس
اغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
کرتا ہوں میں جو نالے سر انجام باغ میں
منھ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد
بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیو
صحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد
بیٹھا ہوں میر مرنے کو اپنے میں مستعد
پیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد
میر تقی میر

یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد

دیوان اول غزل 197
کیا ہے یہ جو گاہے آجاتی ہے آندھی کوئی زرد
یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد
شوق میں یہ محمل لیلیٰ کے ہو کر بے قرار
اک نہاد وادی مجنوں سے اٹھ چلتی ہے گرد
وجہ دم سردی نہیں میں جانتا رونے کے بعد
مینھ برسا ہے کہیں شاید ہوا آتی ہے سرد
مار رکھا باطن پیر مغاں نے شیخ کو
مل گیا اس پیر زن کو غیب سے ایک پیرمرد
ایک شب پہلو کیا تھا گرم ان نے تیرے ساتھ
رات کو رہتا ہے اکثر میر کے پہلو میں درد
میر تقی میر

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

دیوان اول غزل 195
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح
کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
میں اور قیس و کوہکن اب جو زباں پہ ہیں
مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں
کس سے ہوا دوچار وہ عیار ایک طرح
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں
پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
گھر اس کے جاکے آتے ہیں پامال ہوکے ہم
کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو
آتا نہیں نظر وہ طرحدار ایک طرح
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا
ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا
صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم
تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
بن جی دیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں
گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میر کو
ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
میر تقی میر

رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح

دیوان اول غزل 194
ہونے لگا گذار غم یار بے طرح
رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح
اب کچھ طرح نہیں ہے کہ ہم غم زدے ہوں شاد
کہنے لگا ہے منھ سے ستمگار بے طرح
جاں بر تمھارے ہاتھ سے ہو گا نہ اب کوئی
رکھنے لگے ہو ہاتھ میں تلوار بے طرح
فتنہ اٹھے گا ورنہ نکل گھر سے تو شتاب
بیٹھے ہیں آ کے طالب دیدار بے طرح
لوہو میں شور بور ہے دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ

دیوان اول غزل 193
ساتھ ہو اک بے کسی کے عالم ہستی کے بیچ
باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ
عرش پر ہے ہم نمد پوشان الفت کا دماغ
اوج دولت کا سا ہے یاں فقر کی پستی کے بیچ
ہم سیہ کاروں کا ہنسنا وہ ہے میخانے کی اور
آگئے ہیں میر مسجد میں چلے مستی کے بیچ
میر تقی میر

دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ

دیوان اول غزل 192
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ
دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ
حرف زن مت ہو کسی سے تو کہ اے آفت شہر
جاتے رہتے ہیں ہزاروں کے سر اک بات کے بیچ
میری طاعت کو قبول آہ کہاں تک ہو گا
سبحہ اک ہاتھ میں ہے جام ہے اک ہات کے بیچ
سرمگیں چشم پہ اس شوخ کی زنہار نہ جا
ہے سیاہی مژہ میں وہ نگہ گھات کے بیچ
بیٹھیں ہم اس کے سگ کو کے برابر کیوں کر
کرتے ہیں ایسی معیشت تو مساوات کے بیچ
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گذری
پندگو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ
زندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں
ایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
بے مے و مغبچہ اک دم نہ رہا تھا کہ رہا
اب تلک میر کا تکیہ ہے خرابات کے بیچ
میر تقی میر

بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ

دیوان اول غزل 191
فائدہ مصر میں یوسفؑ رہے زندان کے بیچ
بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ
تو نہ تھا مردن دشوار میں عاشق کے آہ
حسرتیں کتنی گرہ تھیں رمق اک جان کے بیچ
چشم بد دور کہ کچھ رنگ ہے اب گریہ پر
خون جھمکے ہے پڑا دیدئہ گریان کے بیچ
حال گلزار زمانہ کا ہے جیسے کہ شفق
رنگ کچھ اور ہی ہوجائے ہے اک آن کے بیچ
تاک کی چھائوں میں جوں مست پڑے سوتے ہوں
اینڈتی ہیں نگہیں سایۂ مژگان کے بیچ
جی لیا بوسۂ رخسار مخطط دے کر
عاقبت ان نے ہمیں زہر دیا پان کے بیچ
دعوی خوش دہنی اس سے اسی منھ پر گل
سر تو ٹک ڈال کے دیکھ اپنے گریبان کے بیچ
کرتے ململ کے پہن آتے تو ہو رندوں میں
شیخ صاحب نہ کہیں جفتے پڑیں شان کے بیچ
کان رکھ رکھ کے بہت درد دل میر کو تم
سنتے تو ہو پہ کہیں درد نہ ہو کان کے بیچ
میر تقی میر

ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ

دیوان اول غزل 190
کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ
ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ
جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا
کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منھ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں
شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ
جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن
پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ
عاشقی و بے کسی و رفتگی
جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ
جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب
وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ
اس کے آتش ناک رخساروں بغیر
لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ
بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار
پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ
یارو مت اس کا فریب مہر کھائو
میر بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ
میر تقی میر

شاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج

دیوان اول غزل 189
آئے ہیں میر منھ کو بنائے خفا سے آج
شاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج
واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملے
کھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج
جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیں
ہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج
ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھ
ٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج
تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج
میر تقی میر

کسو کی زلف ڈھونڈی مو بہ مو کا کل کو سب لٹ لٹ

دیوان اول غزل 188
نہ پایا دل ہوا روز سیہ سے جس کا جا لٹ پٹ
کسو کی زلف ڈھونڈی مو بہ مو کا کل کو سب لٹ لٹ
تو کن نیندوں پڑا سوتا تھا دروازے کو موندے شب
میں چوکھٹ پر تری کرتا رہا سر کو پٹک کھٹ کھٹ
چٹیں لگتی ہیں دل پر بلبلوں کے باغباں تو جو
چمن میں توڑتا ہے ہر سحر کلیوں کے تیں چٹ چٹ
ترے ہجراں کی بیماری میں میر ناتواں کو شب
ہوا ہے خواب سونا آہ اس کروٹ سے اس کروٹ
میر تقی میر

تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت

دیوان اول غزل 187
ہر صبح دم کروں ہوں الحاح با انابت
تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت
مت لے حساب طاقت اے ضعف مجھ سے ظالم
لائق نہیں ہے تیرے یہ کون سی ہے بابت
کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
گم ہووے نامہ بر سے یارب مری کتابت
میر تقی میر