زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس

دیوان اول غزل 236
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس
اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مژگاں بھی بہ گئیں مرے رونے سے چشم کی
سیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا
روتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
حیراں ہوں میر نزع میں اب کیا کروں بھلا
احوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
میر تقی میر

ہیں مژہ دستور سابق ہی یہ میری نم ہنوز

دیوان اول غزل 235
ہوچکا خون جگر رونا نہیں کچھ کم ہنوز
ہیں مژہ دستور سابق ہی یہ میری نم ہنوز
دل جلوں پر روتے ہیں جن کو ہے کچھ سوز جگر
شمع رکھتی ہے ہماری گور پر ماتم ہنوز
وضع یکساں اس زمانے میں نہیں رہتی کہیں
قد ترا چوگاں رہا ہے کس طرح سے خم ہنوز
آرہا ہے جی مرا آنکھوں میں اک پل اور ہوں
پر نہیں جاتا کسی کے دیکھنے کا غم ہنوز
وہ جو عالم اس کے اوپر تھا سو خط نے کھو دیا
مبتلا ہے اس بلا میں میر اک عالم ہنوز
میر تقی میر

ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز

دیوان اول غزل 234
مجھ کو پوچھا بھی نہ یہ کون ہے غم ناک ہنوز
ہوچکے حشر میں پھرتا ہوں جگر چاک ہنوز
اشک کی لغزش مستانہ پہ مت کیجو نظر
دامن دیدئہ گریاں ہے مرا پاک ہنوز
ایک بھی تار گریبان کفن بیچ نہیں
جم ہوئی بیٹھی ہے چھاتی پہ مری خاک ہنوز
بھر نظر دیکھنے پاتا نہیں میں نزع میں بھی
منھ کے تیں پھیرے ہی لیتا ہے وہ بیباک ہنوز
بعد مرنے کے بھی آرام نہیں میر مجھے
اس کے کوچے میں ہے پامال مری خاک ہنوز
میر تقی میر

تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز

دیوان اول غزل 233
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز
دل بھی پر داغ چمن ہے پر اسے کیا کیجے
جی سے جاتی ہی نہیں حسرت دیدار ہنوز
بہ کیے عمر ہوئی ابر بہاری کو ولے
لہو برسا رہے ہیں دیدئہ خوں بار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
نا امیدی میں تو مر گئے پہ نہیں یہ معلوم
جیتے ہیں کون سی امید پہ ناچار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ
تو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز
ایک دن بال فشاں ٹک ہوئے تھے خوش ہوکر
ہیں غم دل کی اسیری میں گرفتار ہنوز
کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گذرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سر خار ہنوز
منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہگار ہنوز
اڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز
ایک بھی زخم کی جا جس کے نہ ہو تن پہ کہیں
کوئی دیتا ہے سنا ویسے کو آزار ہنوز
ٹک تو انصاف کر اے دشمن جان عاشق
میان سے نکلی پڑے ہے تری تلوار ہنوز
میر کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہیے
ہے تجھے کوئی گھڑی قوت گفتار ہنوز
ابھی اک دم میں زباں چلنے سے رہ جاتی ہے
درد دل کیوں نہیں کرتا ہے تو اظہار ہنوز
آنسو بھر لا کے بہت حزن سے یہ کہنے لگا
کیا کہوں تجھ کو سمجھ اس پہ نہیں یار ہنوز
آنکھوں میں آن رہا جی جو نکلتا ہی نہیں
دل میں میرے ہے گرہ حسرت دیدار ہنوز
میر تقی میر

ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز

دیوان اول غزل 232
ضبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز
ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز
آتش دل نہیں بجھی شاید
قطرئہ اشک ہے شرارہ ہنوز
خاک میں ہے وہ طفل اشک اس بن
چشم ہے جس کا گاہوارہ ہنوز
اشک جھمکا ہے جب نہ نکلا تھا
چرخ پر صبح کا ستارہ ہنوز
ایک بار آ کے پھر نہیں آیا
عمر کی طرح وہ دوبارہ ہنوز
لب پہ آئی ہے جان کب کی ہے
اس کی موقوف یک اشارہ ہنوز
کب کی توبہ کی میر نے لیکن
ہے بتر از شراب خوارہ ہنوز
عمر گذری دوائیں کرتے میر
درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز
میر تقی میر

بسمل پڑی ہے چرخ پہ میری دعا ہنوز

دیوان اول غزل 231
ہوتا نہیں ہے باب اجابت کا وا ہنوز
بسمل پڑی ہے چرخ پہ میری دعا ہنوز
باقی نہیں ہے دل میں یہ غم ہے بجا ہنوز
ٹپکے ہے خون دم بہ دم آنکھوں سے تا ہنوز
دن رات کو کھنچا ہے قیامت کا اور میں
پھرتا ہوں منھ پہ خاک ملے جابجا ہنوز
خط کاڑھ لا کے تم تو منڈا بھی چلے ولے
ہوتی نہیں ہماری تمھاری صفا ہنوز
غنچے چمن چمن کھلے اس باغ دہر میں
دل ہی مرا ہے جو نہیں ہوتا ہے وا ہنوز
گذری نہ پار عرش کہ تسکین ہو مجھے
افسوس میری آہ رہی نارسا ہنوز
احوال نامہ بر سے مرا سن کے کہہ اٹھا
جیتا ہے وہ ستم زدہ مہجور کیا ہنوز
غنچہ نہ بوجھ دل ہے کسی مجھ سے زار کا
کھلتا نہیں جو سعی سے تیری صبا ہنوز
توڑا تھا کس کا شیشۂ دل تونے سنگ دل
ہے دل خراش کوچے میں تیرے صدا ہنوز
چلو میں اس کے میرا لہو تھا سو پی چکا
اڑتا نہیں ہے طائر رنگ حنا ہنوز
بے بال و پر اسیر ہوں کنج قفس میں میر
جاتی نہیں ہے سر سے چمن کی ہوا ہنوز
میر تقی میر

پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ

دیوان اول غزل 230
آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ
پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ
لاکھوں جتن کیے نہ ہوا ضبط گریہ لیک
سنتے ہی نام آنکھ سے آنسو گرے کڑوڑ
زخم دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو
اب ضبط گریہ سے ہے ادھر ہی کو سب نچوڑ
گرمی سے بر شگال کی پروا ہے کیا ہمیں
برسوں رہی ہے جان کے رکنے کی یاں مروڑ
بلبل کی اور چشم مروت سے دیکھ ٹک
بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ
کچھ کوہکن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام
بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ
بے طاقتی سے میر لگے چھوٹنے پران
ظالم خیال دیکھنے کا اس کے اب تو چھوڑ
میر تقی میر

جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر

دیوان اول غزل 227
آزار دیکھے کیا کیا ان پلکوں سے اٹک کر
جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر
سرو و تدرو دونوں پھر آپ میں نہ آئے
گلزار میں چلا تھا وہ شوخ ٹک لٹک کر
کب آنکھ کھول دیکھا تیرے تئیں سرہانے
ناچار مر گئے ہم سر کو پٹک پٹک کر
حاصل بجز کدورت اس خاکداں سے کیا ہے
خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر
یہ مشت خاک یعنی انسان ہی ہے روکش
ورنہ اٹھائی کن نے اس آسماں کی ٹکر
دل کام چاہتا ہے اب اس کے گیسوئوں سے
واں مر گئے ہیں کتنے برسوں اٹک اٹک کر
ٹک منھ سے اس کے دی شب برقع سرک گیا تھا
جاتی رہی نظر سے مہتاب سی چھٹک کر
دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
کل رقص شیخ مطلق دل کو لگا نہ میرے
آیا وہ حیز شرعی کتنا مٹک مٹک کر
منزل کی میر اس کی کب راہ تجھ سے نکلے
یاں خضر سے ہزاروں مر مر گئے بھٹک کر
میر تقی میر

انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر

دیوان اول غزل 226
جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر
انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
جھمکے دکھاکے باعث ہنگامہ ہی رہے
پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر
کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم
اچھا نہیں ہے آ نہ ہمیں امتحان کر
کم گو جو ہم ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
اچھی نہیں یہ بات مت اتنی زبان کر
ہم وے ہیں جن کے خوں سے تری راہ سب ہے گل
مت کر خراب ہم کو تو اوروں میں سان کر
تا کشتۂ وفا مجھے جانے تمام خلق
تربت پہ میری خون سے میرے نشان کر
ناز و عتاب و خشم کہاں تک اٹھایئے
یارب کبھو تو ہم پہ اسے مہربان کر
افسانے ما و من کے سنیں میر کب تلک
چل اب کہ سوویں منھ پہ دوپٹے کو تان کر
میر تقی میر

زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر

دیوان اول غزل 225
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز
کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
گرو مے ہوں آئو شیخ شہر
ابر جھوما ہی جا ہے صحرا پر
دل پر خوں تو تھا گلابی شراب
جی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
یاں جہاں میں کہ شہر کوراں ہے
سات پردے ہیں چشم بینا پر
فرصت عیش اپنی یوں گذری
کہ مصیبت پڑی تمنا پر
طارم تاک سے لہو ٹپکا
سنگ باراں ہوا ہے مینا پر
میر کیا بات اس کے ہونٹوں کی
جینا دوبھر ہوا مسیحا پر
میر تقی میر

بگلا شکار ہووے تو لگتے ہیں ہاتھ پر

دیوان اول غزل 224
داڑھی سفید شیخ کی تو مت نظر میں کر
بگلا شکار ہووے تو لگتے ہیں ہاتھ پر
اے ابر خشک مغز سمندر کا منھ نہ دیکھ
سیراب تیرے ہونے کو کافی ہے چشم تر
آخر عدم سے کچھ بھی نہ اکھڑا مرا میاں
مجھ کو تھا دست غیب پکڑ لی تری کمر
ہجراں کی شب سے مجھ کو گلہ نئیں کہ ان نے بھی
دیکھی نہیں ہے خواب میں آنکھوں کبھی سحر
سوتا تھا بے خبر تو نشے میں جو رات کو
سو بار میر نے تری اٹھ اٹھ کے لی خبر
میر تقی میر

دستۂ داغ و فوج غم لے کر

دیوان اول غزل 223
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
دستۂ داغ و فوج غم لے کر
دست کش نالہ پیش رو گریہ
آہ چلتی ہے یاں علم لے کر
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک
غم دوری چلے ہیں ہم لے کر
تیری وضع ستم سے اے بے درد
ایک عالم گیا الم لے کر
بارہا صید گہ سے اس کی گئے
داغ یاس آہوے حرم لے کر
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر
رہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق
جائے گا جان بھی یہ غم لے کر
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصد
ہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
میر صاحب ہی چوکے اے بد عہد
ورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
میر تقی میر

موتی گویا جڑے ہیں مینے پر

دیوان اول غزل 222
خط میں ہے کیا سماں پسینے پر
موتی گویا جڑے ہیں مینے پر
کوئی ہوتا ہے دل طپش سے برا
ایک دم کے لہو نہ پینے پر
دل سے میرے شکستیں الجھی ہیں
سنگ باراں ہے آبگینے پر
چاک سینے سے کھل گئے ٹانکے
کیا رفو کم ہوا ہے سینے پر
جور دلبر سے کیا ہوں آزردہ
میر اس چار دن کے جینے پر
میر تقی میر

ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار

دیوان اول غزل 221
رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار
ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار
لوح تربت پہ مری پہلے یہ لکھیو کہ اسے
یار دشمن ہو گیا جان سے مار آخرکار
مشت خاک اپنی جو پامال ہے یاں اس پہ نہ جا
سر کو کھینچے گا فلک تک یہ غبار آخرکار
سیر کر کثرت عالم کی مری جان کہ پھر
تن تنہا ہے تو اور کنج مزار آخرکار
چشم وا دیکھ کے اس باغ میں کیجو نرگس
آنکھوں سے جاتی رہے گی یہ بہار آخرکار
ابتدا ہی میں محبت کی ہوئے ہم تو تمام
ہوتا ہو گا یہی کچھ عشق میں یار آخرکار
اول کار محبت تو بہت سہل ہے میر
جی سے جاتا ہے ولے صبر و قرار آخرکار
میر تقی میر

خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر

دیوان اول غزل 220
ہو آدمی اے چرخ ترک گردش ایام کر
خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر
دنیا ہے بے صرفہ نہ ہو رونے میں یا کڑھنے میں تو
نالے کو ذکر صبح کر گریے کو ورد شام کر
مست جنوں رہ روز و شب شہرہ ہو شہر ودشت میں
مجلس میں اپنی نقل خوش زنجیر کا بادام کر
جتنی ہو ذلت خلق میں اتنی ہے عزت عشق میں
ناموس سے آ درگذر بے ننگ ہوکر نام کر
مر رہ کہیں بھی میر جا سرگشتہ پھرنا تا کجا
ظالم کسو کا سن کہا کوئی گھڑی آرام کر
میر تقی میر

غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر

دیوان اول غزل 219
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر
غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر
اس روے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہوکر
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہوکر
پردہ رہے گا کیونکر خورشید خاوری کا
نکلے ہے صبح وہ بھی اب بے نقاب ہوکر
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہوکر
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہوکر
شرم و حیا کہاں تک ہیں میر کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہوکر
میر تقی میر

ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور

دیوان اول غزل 218
دل جو اپنا ہوا تھا زخمی چور
ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور
صبح اس سرد مہر کے آگے
قرص خورشید ہو گیا کافور
ہم ضعیفوں کو پائمال نہ کر
دولت حسن پر نہ ہو مغرور
عرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں
گر اٹھے ہے غبار خاطر مور
شکوئہ آبلہ ابھی سے میر
ہے پیارے ہنوز دلی دور
میر تقی میر

حال ہے اور قال ہے کچھ اور

دیوان اول غزل 217
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
حال ہے اور قال ہے کچھ اور
وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں
دم میں عاشق کا حال ہے کچھ اور
سہل مت بوجھ یہ طلسم جہاں
ہر جگہ یاں خیال ہے کچھ اور
تو رگ جاں سمجھتی ہو گی نسیم
اس کے گیسو کا بال ہے کچھ اور
نہ ملیں گو کہ ہجر میں مر جائیں
عاشقوں کا وصال ہے کچھ اور
کوزپشتی پہ شیخ کی مت جائو
اس پہ بھی احتمال ہے کچھ اور
اس میں اس میں بڑا تفاوت ہے
کبک کی چال ڈھال ہے کچھ اور
میر تلوار چلتی ہے تو چلے
خوش خراموں کی چال ہے کچھ اور
میر تقی میر

پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر

دیوان اول غزل 216
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر
وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا
رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر
کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے
ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر
ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں
آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر
رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے
یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر
برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر
طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے
گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر
کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا
دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر
میر تقی میر

ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر

دیوان اول غزل 215
دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر
کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن
مرتے ہیں خاک رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر
قد کش چمن کے اپنی خوبی کو نیو چلے ہیں
پایا پھل اس سے آخر کیا سرو نے اکڑ کر
وہ سر چڑھا ہے اتنا اپنی فروتنی سے
کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پائوں پڑ کر
پاے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم
مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر
دوری میں دلبروں کی کٹتی ہے کیونکے سب کی
آدھا نہیں رہا ہوں تجھ سے تو میں بچھڑ کر
اب کیسا زہد و تقویٰ دارو ہے اور ہم ہیں
بنت العنب کے اپنا سب کچھ گیا گھسڑ کر
دیکھو نہ چشم کم سے معمورئہ جہاں کو
بنتا ہے ایک گھر یاں سو صورتیں بگڑ کر
اس پشت لب کے اوپر دانے عرق کے یوں ہیں
یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر
ناسازگاری اپنے طالع کی کیا کہیں ہم
آیا کبھو نہ یاں ٹک غیروں سے یار لڑ کر
اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر ہی کے اٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اڑ کر
میر تقی میر

جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر

دیوان اول غزل 214
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر
جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر
افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے
پھر مر گئے ترے تئیں یک بار دیکھ کر
ناخواندہ خط شوق لگے چاک کرنے تو
قاصد تو کہیو ٹک کہ جفا کار دیکھ کر
کوئی جو دم رہا ہے سو آنکھوں میں ہے پھر اب
کریو ٹک ایک وعدئہ دیدار دیکھ کر
دیکھیں جدھر وہ رشک پری پیش چشم ہے
حیران رہ گئے ہیں یہ اسرار دیکھ کر
جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے
آتا ہے جی بھرا در و دیوار دیکھ کر
تیرے خرام ناز پہ جاتے ہیں جی چلے
رکھ ٹک قدم زمیں پہ ستمگار دیکھ کر
طالع نے چشم پوشی کی یاں تک کہ ہم نشیں
چھپتا ہے مجھ کو دور سے اب یار دیکھ کر
جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے ناچار دیکھ کر
میر تقی میر

جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دیوان اول غزل 213
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتائوگے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
یارب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کہ بیٹھ رہوں پائوں گاڑ کر
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کو
تنکے کو جو دکھادے ہے پل میں پہاڑ کر
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سے
کچھ ڈھیر کرچکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میر
بہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
میر تقی میر

جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار

دیوان اول غزل 212
لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار
جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار
ہوئیں کس ستم دیدہ کے پاس یک جا
نگاہیں شرر ریز پلکیں جگر بار
کہو کوئی دیکھے اسے سیر کیونکر
کہ ہے اس تن نازک اوپر نظر بار
حلاوت سے اپنی جو آگاہ ہوں تو
چپک جائیں باہم وے لعل شکر بار
سبک کر دیا دل کی بے طاقتی نے
نہ جانا تھا اس کی طرف ہم کو ہر بار
گدھا سا لدا پھرتا ہے شیخ ہر سو
کہ جبہ ہے یک بار و عمامہ سر بار
مرے نخل ماتم پہ ہے سنگ باراں
نہایت کو لایا عجب یہ شجر بار
ہمیں بار اس درپہ کثرت سے کیا ہو
لگا ہی رہے ہے سدا واں تو دربار
یہ آنکھیں گئیں ایسی ہوکر در افشاں
کہ دیکھے سے آیا تر ابر گہربار
کب اس عمر میں آدمی شیخ ہو گا
کتابیں رکھیں ساتھ گو ایک خربار
جہاں میر رہنے کی جاگہ نہیں ہے
چلا چاہیے یاں سے اسباب کر بار
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر

دیوان اول غزل 210
قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر
نہ دیکھا آخر اس آئینہ رو نے
نظر سے بھی نگاہ واپسیں پر
گئے دن عجز و نالہ کے کہ اب ہے
دماغ نالہ چرخ ہفتمیں پر
ہوا ہے ہاتھ گلدستہ ہمارا
کہ داغ خوں بہت ہے آستیں پر
خدا جانے کہ کیا خواہش ہے جی کو
نظر اپنی نہیں ہے مہروکیں پر
پر افشانی قفس ہی کی بہت ہے
کہ پرواز چمن قابل نہیں پر
جگر میں اپنے باقی روتے روتے
اگرچہ کچھ نہیں اے ہم نشیں پر
کبھو جو آنکھ سے چلتے ہیں آنسو
تو بھر جاتا ہے پانی سب زمیں پر
قدم دشت محبت میں نہ رکھ میر
کہ سر جاتا ہے گام اولیں پر
میر تقی میر

یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر

دیوان اول غزل 209
کر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفا کار اس قدر
یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر
بھاگے مری صورت سے وہ عاشق میں اس کی شکل پر
میں اس کا خواہاں یاں تلک وہ مجھ سے بیزار اس قدر
منزل پہنچنا یک طرف نے صبر ہے نے ہے سکوں
یکسر قدم میں آبلے پھر راہ پرخار اس قدر
ہے جاے ہر دل میں تری آ درگذر کر بے وفا
کر رحم ٹک اپنے اپرمت ہو دل آزار اس قدر
جز کشمکش ہووے تو کیا عالم سے ہم کو فائدہ
یہ بے فضا ہے اک قفس ہم ہیں گرفتار اس قدر
غیر اور بغل گیری تری عید اور ہم سے بھاگنا
ہم یار ہوں یوں غم زدے خوش ہوئیں اغیار اس قدر
طاقت نہیں ہے بات کی کہتا تھا نعرہ ماریے
کیا جانتا تھا میر ہوجاوے گا بیمار اس قدر
میر تقی میر

اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر

دیوان اول غزل 208
یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر
اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر
سفر ہستی کا مت کر سرسری جوں باد اے رہرو
یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تامل کر
سن اے بے درد گلچیں غارت گلشن مبارک ہے
پہ ٹک گوش مروت جانب فریاد بلبل کر
نہ وعدہ تیرے آنے کا نہ کچھ امید طالع سے
دل بیتاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر
یہ کیا جانوں کہ کیوں رونے لگا رونے سے رہ کر میں
مگر یہ جانتا ہوں مینھ گھر آتا ہے پھر کھل کر
مرے پاس اس کی خاک پا کو بیماری میں رکھا تھا
نہ آیا سر مرا بالیں پہ اودھر جو گیا ڈھل کر
تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کے میرے
وہ رشک ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گل کر
تری خاموشی سے قمری ہوا شور جنوں رسوا
ہلاٹک طوق گردن کو بھی ظالم باغ میں غل کر
گداز عاشقی کا میر کے شب ذکر آیا تھا
جو دیکھا شمع مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر
میر تقی میر

اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

دیوان اول غزل 207
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار
ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار
کیا زمزمہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صفیر
آیا جو میں چمن میں تو جاتی رہی بہار
کس ڈھب سے راہ عشق چلوں ہے یہ ڈر مجھے
پھوٹیں کہیں نہ آبلے ٹوٹیں کہیں نہ خار
کوچے کی اس کے راہ نہ بتلائی بعد مرگ
دل میں صبا رکھے تھی مری خاک سے غبار
اے پاے خم کہ گردش ساغر ہو دستگیر
مرہون درد سر ہو کہاں تک مرا خمار
وسعت جہاں کی چھوڑ جو آرام چاہے میر
آسودگی رکھے ہے بہت گوشۂ مزار
میر تقی میر

نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر

دیوان اول غزل 206
نہ ہو ہرزہ درا اتنا خموشی اے جرس بہتر
نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے
نظر اے ابر تر آپھی نہ آوے گا برس بہتر
سدا ہو خار خار باغباں گل کا جہاں مانع
سمجھ اے عندلیب اس باغ سے کنج قفس بہتر
برا ہے امتحاں لیکن نہ سمجھے تو تو کیا کریے
شہادت گاہ میں لے چل سب اپنے بوالہوس بہتر
سیہ کر دوں گا گلشن دود دل سے باغباں میں بھی
جلا آتش میں میرے آشیاں کے خار و خس بہتر
کیا داغوں سے رشک باغ اے صد آفریں الفت
یہ سینہ ہم کو بھی ایسا ہی تھا درکار بس بہتر
قدم تیرے چھوئے تھے جن نے اب وہ ہاتھ ہی سر ہے
مرے حق میں نہ ہونا ہی تھا یاں تک دسترس بہتر
عبث پوچھے ہے مجھ سے میر میں صحرا کو جاتا ہوں
خرابی ہی پہ دل رکھا ہے جو تونے تو بس بہتر
میر تقی میر

پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر

دیوان اول غزل 205
غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپاکر
پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر
ہر گام سد رہ تھی بتخانے کی محبت
کعبے تلک تو پہنچے لیکن خدا خدا کر
نخچیرگہ میں تجھ سے جو نیم کشتہ چھوٹا
حسرت نے اس کو آخر مارا لٹا لٹاکر
اک لطف کی نگہ بھی ہم نے نہ چاہی اس سے
رکھا ہمیں تو ان نے آنکھیں دکھا دکھاکر
ناصح مرے جنوں سے آگہ نہ تھا کہ ناحق
گودڑ کیا گریباں سارا سلا سلاکر
اک رنگ پاں ہی اس کا دل خوں کن جہاں ہے
پھبتا ہے اس کو کرنا باتیں چبا چباکر
جوں شمع صبح گاہی یک بار بجھ گئے ہم
اس شعلہ خو نے ہم کو مارا جلا جلاکر
اس حرف ناشنو سے صحبت بگڑ ہی جا ہے
ہر چند لاتے ہیں ہم باتیں بنا بناکر
میں منع میر تجھ کو کرتا نہ تھا ہمیشہ
کھوئی نہ جان تونے دل کو لگا لگاکر
میر تقی میر

اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر

دیوان اول غزل 204
اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گذر
اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر
دھڑکا تھا دل طپیدن شب سے سو آج صبح
دیکھا وہی کہ آنسوئوں میں چو پڑا جگر
ہم تو اسیر کنج قفس ہوکے مرچلے
اے اشتیاق سیر چمن تیری کیا خبر
مت عیب کر جو ڈھونڈوں میں اس کو کہ مدعی
یہ جی بھی یوں ہی جائے گا رہتا ہے تو کدھر
آتی ہی بوجھیو تو بلا اپنے سر صبا
وے مشک فام زلفیں پریشاں ہوئیں اگر
جاتی نہیں ہے دل سے تری یاد زلف و رو
روتے ہی مجھ کو گذرے ہے کیا شام کیا سحر
کیا جانوں کس کے تیں لب خنداں کہے ہے خلق
میں نے جو آنکھیں کھول کے دیکھیں سو چشم تر
اے سیل ٹک سنبھل کے قدم بادیے میں رکھ
ہر سمت کو ہے تشنہ لبی کا مری خطر
کرتا ہے کون منع کہ سج اپنی تو نہ دیکھ
لیکن کبھی تو میر کے کر حال پر نظر
میر تقی میر

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر

چمن کی صبح کوئی دم کو شام ہے صیاد

دیوان اول غزل 202
قفس تو یاں سے گئے پر مدام ہے صیاد
چمن کی صبح کوئی دم کو شام ہے صیاد
بہت ہیں ہاتھ ہی تیرے نہ کر قفس کی فکر
مرا تو کام انھیں میں تمام ہے صیاد
یہی گلوں کو تنک دیکھوں اتنی مہلت ہو
چمن میں اور تو کیا مجھ کو کام ہے صیاد
ابھی کہ وحشی ہے اس کشمکش کے بیچ ہے میر
خدا ہی اس کا ہے جو تیرا رام ہے صیاد
میر تقی میر

ہے تو کس آفریدہ کے مانند

دیوان اول غزل 201
اے گل نو دمیدہ کے مانند
ہے تو کس آفریدہ کے مانند
ہم امید وفا پہ تیری ہوئے
غنچۂ دیر چیدہ کے مانند
خاک کو میری سیر کرکے پھرا
وہ غزال رمیدہ کے مانند
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال
سبزئہ نو دمیدہ کے مانند
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو
نالہ تیغ کشیدہ کے مانند
ہم گرفتار حال ہیں اپنے
طائر پر بریدہ کے مانند
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میں
صید درخوں طپیدہ کے مانند
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیں
کب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندئہ زرخریدہ کے مانند
میر تقی میر

اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد

دیوان اول غزل 200
ہوں رہگذر میں تیرے ہر نقش پا ہے شاہد
اڑتی ہے خاک میری باد صبا ہے شاہد
طوف حرم میں بھی میں بھولا نہ تجھ کو اے بت
آتا ہے یاد تو ہی میرا خدا ہے شاہد
شرمندئہ اثر کچھ باطن مرا نہیں ہے
وقت سحر ہے شاہد دست دعا ہے شاہد
نالے میں اپنے پنہاں میں بھی ہوں ساتھ تیرے
شاہد ہے گرد محمل شور درا ہے شاہد
ایذا ہے میر پر جو وہ تو کہوں ہی گا میں
بارے یہ کہہ کہ تیری خاطر میں کیا ہے شاہد
میر تقی میر

آخرکار کیا کہا قاصد

دیوان اول غزل 199
نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد
آخرکار کیا کہا قاصد
کوئی پہنچا نہ خط مرا اس تک
میرے طالع ہیں نارسا قاصد
سر نوشت زبوں سے زر ہو خاک
راہ کھوٹی نہ کر تو جا قاصد
گر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں
یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد
یہ تو رونا ہمیشہ ہے تجھ کو
پھر کبھو پھر کبھو بھلا قاصد
اب غرض خامشی ہی بہتر ہے
کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد
شب کتابت کے وقت گریے میں
جو لکھا تھا سو بہ گیا قاصد
کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے
بھیجا کب تک کروں نیا قاصد
ہے طلسمات اس کا کوچہ تو
جو گیا سو وہیں رہا قاصد
باد پر ہے برات جس کا جواب
اس کو گذرے ہیں سالہا قاصد
نامۂ میر کو اڑاتا ہے
کاغذ باد گر گیا قاصد
میر تقی میر

ابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد

دیوان اول غزل 198
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
ابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد
جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے ناسمجھ
کھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد
شمع مزار اور یہ سوز جگر مرا
ہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد
حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاس
اغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
کرتا ہوں میں جو نالے سر انجام باغ میں
منھ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد
بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیو
صحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد
بیٹھا ہوں میر مرنے کو اپنے میں مستعد
پیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد
میر تقی میر

یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد

دیوان اول غزل 197
کیا ہے یہ جو گاہے آجاتی ہے آندھی کوئی زرد
یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد
شوق میں یہ محمل لیلیٰ کے ہو کر بے قرار
اک نہاد وادی مجنوں سے اٹھ چلتی ہے گرد
وجہ دم سردی نہیں میں جانتا رونے کے بعد
مینھ برسا ہے کہیں شاید ہوا آتی ہے سرد
مار رکھا باطن پیر مغاں نے شیخ کو
مل گیا اس پیر زن کو غیب سے ایک پیرمرد
ایک شب پہلو کیا تھا گرم ان نے تیرے ساتھ
رات کو رہتا ہے اکثر میر کے پہلو میں درد
میر تقی میر

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

دیوان اول غزل 195
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح
کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
میں اور قیس و کوہکن اب جو زباں پہ ہیں
مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں
کس سے ہوا دوچار وہ عیار ایک طرح
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں
پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
گھر اس کے جاکے آتے ہیں پامال ہوکے ہم
کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو
آتا نہیں نظر وہ طرحدار ایک طرح
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا
ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا
صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم
تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
بن جی دیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں
گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میر کو
ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
میر تقی میر

رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح

دیوان اول غزل 194
ہونے لگا گذار غم یار بے طرح
رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح
اب کچھ طرح نہیں ہے کہ ہم غم زدے ہوں شاد
کہنے لگا ہے منھ سے ستمگار بے طرح
جاں بر تمھارے ہاتھ سے ہو گا نہ اب کوئی
رکھنے لگے ہو ہاتھ میں تلوار بے طرح
فتنہ اٹھے گا ورنہ نکل گھر سے تو شتاب
بیٹھے ہیں آ کے طالب دیدار بے طرح
لوہو میں شور بور ہے دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ

دیوان اول غزل 193
ساتھ ہو اک بے کسی کے عالم ہستی کے بیچ
باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ
عرش پر ہے ہم نمد پوشان الفت کا دماغ
اوج دولت کا سا ہے یاں فقر کی پستی کے بیچ
ہم سیہ کاروں کا ہنسنا وہ ہے میخانے کی اور
آگئے ہیں میر مسجد میں چلے مستی کے بیچ
میر تقی میر

دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ

دیوان اول غزل 192
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ
دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ
حرف زن مت ہو کسی سے تو کہ اے آفت شہر
جاتے رہتے ہیں ہزاروں کے سر اک بات کے بیچ
میری طاعت کو قبول آہ کہاں تک ہو گا
سبحہ اک ہاتھ میں ہے جام ہے اک ہات کے بیچ
سرمگیں چشم پہ اس شوخ کی زنہار نہ جا
ہے سیاہی مژہ میں وہ نگہ گھات کے بیچ
بیٹھیں ہم اس کے سگ کو کے برابر کیوں کر
کرتے ہیں ایسی معیشت تو مساوات کے بیچ
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گذری
پندگو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ
زندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں
ایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
بے مے و مغبچہ اک دم نہ رہا تھا کہ رہا
اب تلک میر کا تکیہ ہے خرابات کے بیچ
میر تقی میر

بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ

دیوان اول غزل 191
فائدہ مصر میں یوسفؑ رہے زندان کے بیچ
بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ
تو نہ تھا مردن دشوار میں عاشق کے آہ
حسرتیں کتنی گرہ تھیں رمق اک جان کے بیچ
چشم بد دور کہ کچھ رنگ ہے اب گریہ پر
خون جھمکے ہے پڑا دیدئہ گریان کے بیچ
حال گلزار زمانہ کا ہے جیسے کہ شفق
رنگ کچھ اور ہی ہوجائے ہے اک آن کے بیچ
تاک کی چھائوں میں جوں مست پڑے سوتے ہوں
اینڈتی ہیں نگہیں سایۂ مژگان کے بیچ
جی لیا بوسۂ رخسار مخطط دے کر
عاقبت ان نے ہمیں زہر دیا پان کے بیچ
دعوی خوش دہنی اس سے اسی منھ پر گل
سر تو ٹک ڈال کے دیکھ اپنے گریبان کے بیچ
کرتے ململ کے پہن آتے تو ہو رندوں میں
شیخ صاحب نہ کہیں جفتے پڑیں شان کے بیچ
کان رکھ رکھ کے بہت درد دل میر کو تم
سنتے تو ہو پہ کہیں درد نہ ہو کان کے بیچ
میر تقی میر

ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ

دیوان اول غزل 190
کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ
ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ
جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا
کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منھ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں
شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ
جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن
پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ
عاشقی و بے کسی و رفتگی
جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ
جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب
وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ
اس کے آتش ناک رخساروں بغیر
لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ
بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار
پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ
یارو مت اس کا فریب مہر کھائو
میر بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ
میر تقی میر

شاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج

دیوان اول غزل 189
آئے ہیں میر منھ کو بنائے خفا سے آج
شاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج
واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملے
کھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج
جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیں
ہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج
ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھ
ٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج
تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج
میر تقی میر

کسو کی زلف ڈھونڈی مو بہ مو کا کل کو سب لٹ لٹ

دیوان اول غزل 188
نہ پایا دل ہوا روز سیہ سے جس کا جا لٹ پٹ
کسو کی زلف ڈھونڈی مو بہ مو کا کل کو سب لٹ لٹ
تو کن نیندوں پڑا سوتا تھا دروازے کو موندے شب
میں چوکھٹ پر تری کرتا رہا سر کو پٹک کھٹ کھٹ
چٹیں لگتی ہیں دل پر بلبلوں کے باغباں تو جو
چمن میں توڑتا ہے ہر سحر کلیوں کے تیں چٹ چٹ
ترے ہجراں کی بیماری میں میر ناتواں کو شب
ہوا ہے خواب سونا آہ اس کروٹ سے اس کروٹ
میر تقی میر

تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت

دیوان اول غزل 187
ہر صبح دم کروں ہوں الحاح با انابت
تو بھی مری دعا سے ملتی نہیں اجابت
مت لے حساب طاقت اے ضعف مجھ سے ظالم
لائق نہیں ہے تیرے یہ کون سی ہے بابت
کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
گم ہووے نامہ بر سے یارب مری کتابت
میر تقی میر

کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات

دیوان اول غزل 186
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات
کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات
اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے
پھر کھلے گی زبان جب کی بات
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو
بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
کس کا روے سخن نہیں ہے ادھر
ہے نظر میں ہماری سب کی بات
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے
غصے میں اس کے زیر لب کی بات
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحم
ہے خدا جانیے یہ کب کی بات
گو کہ آتش زباں تھے آگے میر
اب کی کہیے گئی وہ تب کی بات
میر تقی میر

رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت

دیوان اول غزل 185
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت
رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتا
بے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت
ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدام
سر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت
دل خراشی و جگر چاکی و خون افشانی
ہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت
رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہ
ساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت
پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہ
غالباً زیر زمیں میر ہے آرام بہت
میر تقی میر

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

دیوان اول غزل 184
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد
مرجائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم
تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت
ہر جنس کے خواہاں ملے بازارجہاں میں
لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت
اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا
زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت
ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق
ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت
کچھ مست ہیں ہم دیدئہ پرخون جگر سے
آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت
بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز
یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت
مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل
ہر سر نہیں اے میر سزاوارمحبت
میر تقی میر

ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات

دیوان اول غزل 183
پلکوں پہ تھے پارئہ جگر رات
ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات
اک دن تو وفا بھی کرتے وعدہ
گذری ہے امیدوار ہر رات
مکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیں
جانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات
تو پاس نہیں ہوا تو روتے
رہ رہ گئی ہے پہر پہر رات
کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں
رو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات
واں تم تو بناتے ہی رہے زلف
عاشق کی بھی یاں گئی گذر رات
ساقی کے جو آنے کی خبر تھی
گذری ہمیں ساری بے خبر رات
کیا سوز جگر کہوں میں ہمدم
آیا جو سخن زبان پر رات
صحبت یہ رہی کہ شمع روئی
لے شام سے تا دم سحر رات
کھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بن
کٹتی نہیں آتی پھر نظر رات
دن وصل کا یوں کٹا کہے تو
کاٹی ہے جدائی کی مگر رات
کل تھی شب وصل اک ادا پر
اس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات
جاگے تھے ہمارے بخت خفتہ
پہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات
کرنے لگا پشت چشم نازک
سوتے سے اٹھا جو چونک کر رات
تھی صبح جو منھ کو کھول دیتا
ہر چند کہ تب تھی اک پہر رات
پر زلفوں میں منھ چھپا کے پوچھا
اب ہووے گی میر کس قدر رات
میر تقی میر

تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت

دیوان اول غزل 182
سب ہوئے نادم پئے تدبیر ہو جاناں سمیت
تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت
تنگ ہوجاوے گا عرصہ خفتگان خاک پر
گر ہمیں زیرزمیں سونپا دل نالاں سمیت
باغ کر دکھلائیں گے دامان دشت حشر کو
ہم بھی واں آئے اگر مژگان خون افشاں سمیت
قیس و فرہاد اور وامق عاقبت جی سے گئے
سب کو مارا عشق نے مجھ خانماں ویراں سمیت
اٹھ گیا پردہ نصیحت گر کے لگ پڑنے سے میر
پھاڑ ڈالا میں گریباں رات کو داماں سمیت
میر تقی میر

کیا فکر کروں میں کہ کسو ڈھب ہو ملاقات

دیوان اول غزل 181
روزانہ ملوں یار سے یا شب ہو ملاقات
کیا فکر کروں میں کہ کسو ڈھب ہو ملاقات
نے بخت کی یاری ہے نہ کچھ جذب ہے کامل
وہ آپھی ملے تو ملے پھر جب ہو ملاقات
دوری میں کروں نالہ و فریاد کہاں تک
یک بار تو اس شوخ سے یارب ہو ملاقات
جاتی ہے غشی بھی کبھو آتے ہیں بخود بھی
کچھ لطف اٹھے بارے اگر اب ہو ملاقات
وحشت ہے بہت میر کو مل آیئے چل کر
کیا جانیے پھر یاں سے گئے کب ہو ملاقات
میر تقی میر

عرق شرم میں گیا ہے ڈوب

دیوان اول غزل 179
دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب
عرق شرم میں گیا ہے ڈوب
آئی کنعاں سے باد مصر ولے
نہ گئی تا بہ کلبۂ یعقوبؑ
بن عصا شیخ یک قدم نہ رکھے
راہ چلتا نہیں یہ خر بے چوب
اس لیے عشق میں نے چھوڑا تھا
تو بھی کہنے لگا برا کیا خوب
پی ہو مے تو لہو پیا ہوں میں
محتسب آنکھوں پر ہے کچھ آشوب
میر شاعر بھی زور کوئی تھا
دیکھتے ہو نہ بات کا اسلوب
میر تقی میر

ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب

دیوان اول غزل 178
کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب
ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب
تو کہاں اس کی کمر کیدھر نہ کریو اضطراب
اے رگ گل دیکھیو کھاتی ہے جو تو پیچ و تاب
موند رکھنا چشم کا ہستی میں عین دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب
تو ہو اور دنیا ہو ساقی میں ہوں مستی ہو مدام
پر بط صہبا نکالے اڑ چلے رنگ شراب
ہے ملاحت تیرے باعث شور پر تجھ سے نمک
ٹک تو رہ پیری چلی آتی ہے اے عہد شباب
کب تھی یہ بے جرأتی شایان آہوے حرم
ذبح ہوتا تیغ سے یا آگ میں ہوتا کباب
کیا ہو رنگ رفتہ کیا قاصد ہو جس کو خط دیا
جز جواب صاف اس سے کب کوئی لایا جواب
واے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں
جام مے پر گردش آوے اور میخانہ خراب
چوب حرفی بن الف بے میں نہیں پہچانتا
ہوں میں ابجد خواں شناسائی کو مجھ سے کیا حساب
مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سرشک آبدار
مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب
کچھ نہیں بحرجہاں کی موج پر مت بھول میر
دور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب
میر تقی میر

تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب

دیوان اول غزل 177
ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب
تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب
اس پر لہو کے پیاسے ہیں تیرے لبوں کے رشک
اک نام کو رہی ہے عقیق یمن میں آب
شب سوز دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
روئی ہے یاں تلک کہ بھرا ہے لگن میں آب
دل لے گیا تھا زیرزمیں میں بھرا ہوا
آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب
رویا تھا تیری چشم و مژہ یاد کرکے میں
ہے نیزہ نیزہ تب سے نواح ختن میں آب
ناسور پھونک پھونک کے پیجو خبر ہے شرط
ہے آپ داغ کوچۂ زخم کہن میں آب
دریا میں قطرہ قطرہ ہے آب گہر کہیں
ہے میر موجزن ترے ہر یک سخن میں آب
میر تقی میر

پڑتی رہی ہے زور سے شبنم تمام شب

دیوان اول غزل 176
رویا کیے ہیں غم سے ترے ہم تمام شب
پڑتی رہی ہے زور سے شبنم تمام شب
رکنے سے دل کے آج بچا ہوں تو اب جیا
چھاتی ہی میں رہا ہے مرا دم تمام شب
یہ اتصال اشک جگر سوز کا کہاں
روتی ہے یوں تو شمع بھی کم کم تمام شب
شکوہ عبث ہے میر کہ کڑھتے ہیں سارے دن
یا دل کا حال رہتا ہے درہم تمام شب
گذرا کسے جہاں میں خوشی سے تمام روز
کس کی گئی زمانے میں بے غم تمام شب
میر تقی میر

ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب

دیوان اول غزل 175
اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پرآب روز و شب
ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب
اک وقت رونے کا تھا ہمیں بھی خیال سا
آئی تھی آنکھوں سے چلی سیلاب روز و شب
اس کے لیے نہ پھرتے تھے ہم خاک چھانتے
رہتا تھا پاس وہ در نایاب روز و شب
قدرت تو دیکھ عشق کی مجھ سے ضعیف کو
رکھتا ہے شاد بے خور و بے خواب روز و شب
سجدہ اس آستاں کا نہیں یوں ہوا نصیب
رگڑا ہے سر میانۂ محراب روز و شب
اب رسم ربط اٹھ ہی گئی ورنہ پیش ازیں
بیٹھے ہی رہتے تھے بہم احباب روز و شب
دل کس کے رو و مو سے لگایا ہے میر نے
پاتے ہیں اس جوان کو بیتاب روز و شب
میر تقی میر

سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب

دیوان اول غزل 174
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب
مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے
اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب
دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا
کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب
دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی
رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب
کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا
اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب
مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا
روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب
مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں
گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب
میر تقی میر

گل منھ نہ کھولتا تھا بلبل نہ بولتا تھا

دیوان اول غزل 173
تجھ بن چمن میں جو تھا دل کو ٹٹولتا تھا
گل منھ نہ کھولتا تھا بلبل نہ بولتا تھا
میر تقی میر

صحرا میں رفتہ رفتہ کانٹوں نے سر اٹھایا

دیوان اول غزل 172
پاے پر آبلہ سے مجھ کو بنی گئی ہے
صحرا میں رفتہ رفتہ کانٹوں نے سر اٹھایا
میر تقی میر

اس تشنہ کام نے تو پانی بھی پھر نہ مانگا

دیوان اول غزل 171
دل تاب ٹک بھی لاتا تو کہنے میں کچھ آتا
اس تشنہ کام نے تو پانی بھی پھر نہ مانگا
میر تقی میر

ایک دو دم زار باراں رو گیا

دیوان اول غزل 167
ابر جب مجھ خاک پر سے ہو گیا
ایک دو دم زار باراں رو گیا
کیا کہوں میں میر اپنی سرگذشت
ابتدا ہی قصے میں وہ سو گیا
میر تقی میر

اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا

دیوان اول غزل 163
دل گیا رسوا ہوئے آخر کو سودا ہو گیا
اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا
میر تقی میر

رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا

دیوان اول غزل 162
خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا
رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا
سیاہ بخت سے میرے مجھے کفایت تھی
لیا ہے داغ نے دامن عبث سیاہی کا
نگہ تمام تو اس کی خدا نہ دکھلاوے
کرے ہے قتل اثر جس کی کم نگاہی کا
کسو کے حسن کے شعلے کے آگے اڑتا ہے
سلوک میر سنو میرے رنگ کاہی کا
میر تقی میر

ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا

دیوان اول غزل 161
بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا
ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا
اے آہ سرد عرصۂ محشر میں یخ جما
جلتا ہوں میں سنوں کہ جہنم ٹھٹھر گیا
کاکل میں نہیّں خط میں نہیں زلف میں نہیں
روز سیہ کے ساتھ مرا دل کدھر گیا
مفلس سو مر گیا نہ ہوا وصل یار کا
ہجراں میں اس کے جی بھی گیا اور زر گیا
تیری ہی رہگذر میں یہ جی جارہا ہے شوخ
سنیو کہ میر آج ہی کل میں گذر گیا
میر تقی میر

ملے گا نیند بھر تب مجھ کو سونا

دیوان اول غزل 160
نظر میں آوے گا جب جی کا کھونا
ملے گا نیند بھر تب مجھ کو سونا
تماشے دیکھتے ہنستا چلا آ
کرے ہے شیشہ بازی میرا رونا
مرا خوں تجھ پہ ثابت ہی کرے گا
کنارے بیٹھ کر ہاتھوں کو دھونا
وصیت میر نے مجھ کو یہی کی
کہ سب کچھ ہونا تو عاشق نہ ہونا
میر تقی میر

مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا

دیوان اول غزل 159
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا
کیا ڈر اسے ہے گرمی خورشید حشر سے
سایہ پڑا ہے جس پہ مری آہ سرد کا
میر تقی میر

بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا

دیوان اول غزل 158
مجھے تو نور نظر نے تنک بھی تن نہ دیا
بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا
لباس دیکھ لیے میں نے تیری پوشش کے
کہ بعد مرگ کنھیں نے مجھے کفن نہ دیا
کھلی نہ بات کئی حرف تھے گرہ دل میں
اجل نے اس سے مجھے کہنے اک سخن نہ دیا
میر تقی میر

دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا

دیوان اول غزل 157
کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا
دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا
کیونکر میں فتح پائوں تری زلفوں پر کہ اب
یک دل شکست خوردہ مرا دو طرف ہوا
میر تقی میر

تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا

دیوان اول غزل 156
جواے قاصد وہ پوچھے میربھی ایدھر کو چلتا تھا
تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا
سماں افسوس و بیتابی سے تھا کل قتل کو میرے
تڑپتا تھا ادھر میں اور ادھر وہ ہاتھ ملتا تھا
میر تقی میر

رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا

دیوان اول غزل 155
گرچہ امید اسیری پہ میں ناشاد آیا
رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا
لوہو پینے کو مرا بس تھی مری تشنہ لبی
کاہے کو کیجیے تصدیع یہ جلاد آیا
میر تقی میر

وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا

دیوان اول غزل 154
یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا
وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا
محشر سوائے کیا ہو اسے التیام میر
یہ زخم سینہ جائے گا میرا وہیں سیا
میر تقی میر

دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا

دیوان اول غزل 153
اٹھوں نہ خاک سے کشتہ میں کم نگاہی کا
دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا
سنو ہو جل ہی بجھوں گا کہ ہورہا ہوں میں
چراغ مضطرب الحال صبح گاہی کا
میر تقی میر

لب ساغر پہ منھ رکھ رکھ کے ہر شیشہ بہکتا تھا

دیوان اول غزل 152
مئے گلگوں کی بو سے بسکہ میخانہ مہکتا تھا
لب ساغر پہ منھ رکھ رکھ کے ہر شیشہ بہکتا تھا
جلا کیونکر نہ ہو گا آشیان بلبل بے کس
برنگ آتش خس پوش رنگ گل دہکتا تھا
میر تقی میر

بے درد سر بھی صبح تلک سر دھنا کیا

دیوان اول غزل 151
قصہ تمام میر کا شب کو سنا کیا
بے درد سر بھی صبح تلک سر دھنا کیا
مل چشم سے نگہ نے دھتورا دیا مجھے
خس بھر نہ چھوڑا دل کو میں تنکے چنا کیا
میر تقی میر

اڑتا ہے ابھی رنگ گل باغ جہاں کا

دیوان اول غزل 150
ہو بلبل گلگشت کہ اک دن ہے خزاں کا
اڑتا ہے ابھی رنگ گل باغ جہاں کا
ہے مجھ کو یقیں تجھ میں وفا ایسی جفا پر
گھر چاک برابر ہوئے اس میرے گماں کا
سینے میں مرے آگ لگی میرے سخن سے
جوں شمع جلایا ہوا ہوں اپنی زباں کا
آرام عدم میں نہ تھا ہستی میں نہیں چین
معلوم نہیں میرا ارادہ ہے کہاں کا
میر تقی میر

چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا

دیوان اول غزل 149
طفل مطرب جو میرے ہاتھ آتا
چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا
خواب میں بھی رہا تو آنے سے
دیکھنے ہی کا تھا یہ سب ناتا
الفت اس تیغ سے تھی بے حد میر
قتل کرتا تو لوہو جم جاتا
میر تقی میر

شعلۂ آہ دل گرم محبت سے اٹھا

دیوان اول غزل 148
جب کہ تابوت مرا جاے شہادت سے اٹھا
شعلۂ آہ دل گرم محبت سے اٹھا
عمر گذری مجھے بیمار ہی رہتے ہے بجا
دل عزیزوں کا اگر میری عیادت سے اٹھا
میر تقی میر

کس طرح آفتاب نکلے گا

دیوان اول غزل 147
وہ جو پی کر شراب نکلے گا
کس طرح آفتاب نکلے گا
محتسب میکدے سے جاتا نہیں
یاں سے ہوکر خراب نکلے گا
یہی چپ ہے تو درد دل کہیے
منھ سے کیونکر جواب نکلے گا
جب اٹھے گا جہان سے یہ نقاب
تب ہی اس کا حجاب نکلے گا
عرق اس کے بھی منھ کا بو کیجو
گر کبھو یہ گلاب نکلے گا
آئو بالیں تلک نہ ہو گی دیر
جی ہمارا شتاب نکلے گا
دفتر داغ ہے جگر اس بن
کسو دن یہ حساب نکلے گا
تذکرے سب کے پھر رہیں گے دھرے
جب مرا انتخاب نکلے گا
میر دیکھوگے رنگ نرگس کا
اب جو وہ مست خواب نکلے گا
میر تقی میر

مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا

دیوان اول غزل 146
نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا
مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا
اگر اگتے رہے اے ناامیدی داغ ایسے ہی
تو کاہے کو کوئی تخم تمنا دل میں بوئے گا
الٰہی وہ بھی دن ہو گا کہ جس میں ایک ساعت بھی
میں روئوں گا وہ اپنے ہاتھ میرے منھ کو دھوئے گا
جو ایسے شور سے روتا ہے دن کو میر تو شب کو
نہ سونے دے گا ہمسایوں کو نے یہ آپ سوئے گا
میر تقی میر

گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا

دیوان اول غزل 145
اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا
گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا
کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے
سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا
ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا
اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا
سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا
کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا
اب وہ جگر طپش سے تڑپتا ہے تشنہ لب
مدت تلک جو میر کا لوہو پیا کیا
میر تقی میر

اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

دیوان اول غزل 144
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا
اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے
آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں
دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں
شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی
درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
میر تقی میر

دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا

دیوان اول غزل 143
یار عجب طرح نگہ کر گیا
دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کی
پیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا
کوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میر
نامۂ اعمال سیہ کر گیا
میر تقی میر

دل جو عقدہ تھا سخت وا نہ ہوا

دیوان اول غزل 142
سینہ دشنوں سے چاک تا نہ ہوا
دل جو عقدہ تھا سخت وا نہ ہوا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
دل سے اک داغ ہی جدا نہ ہوا
ظلم و جور و جفا ستم بیداد
عشق میں تیرے ہم پہ کیا نہ ہوا
ہم تو ناکام ہی جہاں میں رہے
یاں کبھو اپنا مدعا نہ ہوا
میر افسوس وہ کہ جو کوئی
اس کے دروازے کا گدا نہ ہوا
میر تقی میر

جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا

دیوان اول غزل 141
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا
میر تقی میر

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

دیوان اول غزل 140
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے
گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو
گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو
دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی
میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی
رخساروں کو گو تونے برقع سے چھپا رکھا
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں
جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے
سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی
میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
قطعی ہے دلیل اے میر اس تیغ کی بے آبی
رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
میر تقی میر

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

دیوان اول غزل 139
گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا
سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامال
وہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا
ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کے
اتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا
الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم
اگر خیال تمھیں ہووے نیزہ بازی کا
بتائو ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑی
نہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کے
طریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا
کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگ
دلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا
بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میر
رکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا
میر تقی میر

میں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا

دیوان اول غزل 138
آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا
میں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا
تیرے کوچے میں مری خاک بھی پامال ہوئی
تھا وہ بے درد مجھے جن نے وفا کو سونپا
اب تو جاتا ہی ہے کعبے کو تو بت خانے سے
جلد پھر پہنچیو اے میر خدا کو سونپا
میر تقی میر

پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا

دیوان اول غزل 137
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر
بڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے
مری اور دامان صحرا ہوا تھا
زہے طالع اے میر ان نے یہ پوچھا
کہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
میر تقی میر