زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

جس کا ڈر تھا یہ وہ گھڑی ہے میاں

دل لگی، دل کو لگ گئی ہے میاں
جس کا ڈر تھا یہ وہ گھڑی ہے میاں
لوگ کیوں اِس قَدَر سکون سے ہیں ؟
بے حِسی ہے کہ بے رُخی ہے میاں؟
آ رہی ہے تپش مِرے دِل تَک
کیا کہیِں آگ لگ گئی ہے میاں ؟
ہنس رہے ہیں تمام دیوانے
جانے غفلت کہ آگَہی ہے میاں
حادثے نقش ہونا چاہتے ہیں
میری دہلیز دیکھ لی ہے میاں
ڈھونڈتا پھِر رہا ہے دشمن کو
جبکہ دشمن خود آدمی ہے میاں
ضامنؔ! اَللہ دے شفا تُم کو
تُم کو تَو کَربِ آگہی ہے میاں
سہل ہوتا تَو کہہ چکے ہوتے
جیسی بھی ہے گذر رہی ہے میاں
گُل کبھی ہو گیا تھا ایک چراغ
آج تک اُس کی روشنی ہے میاں
اِس مَرَض کا علاج کیسے ہو؟
ہر طرف ایک اَبتَری ہے میاں !
کوچہِ حُسن تَو نہیں یہ جگہ
دیکھی بھالی سی لگ رہی ہے میاں
کوئی پہچان جائے گا ضامنؔ
چُپ رہو یہ وہی گَلی ہے میاں
ضامن جعفری

وہ مثلِ آئینہ ہیں مقابل سے بے نیاز

دِل دے کر اُن کو بیٹھے ہیں ہم دِل سے بے نیاز
وہ مثلِ آئینہ ہیں مقابل سے بے نیاز
حُسن اَزَل کی راہ میں کیا فکرِ سنگِ مِیِل
راہِ جنوں ہے دُوریِ منزل سے بے نیاز
ہر موجِ غم سے جن کو لپٹنے کا شوق ہو
کشتی کا کیا کریں گے وہ ساحل سے بے نیاز
کس بندِ آب و گِل میں بَسَر کر رہی ہے رُوح
دُنیا کے مشکلات و مراحل سے بے نیاز
خونِ وفا کو بہنا ہے ضامنؔ بہے گا وہ
ایک ایک قطرہ خنجر و قاتل سے بے نیاز
ضامن جعفری

ہم سے جنوں کی بات کرو تم ہوش و خِرَد کو جانے دو

دل پہ قیامت ٹوٹ پڑی ہے آنکھ کو خوں برسانے دو
ہم سے جنوں کی بات کرو تم ہوش و خِرَد کو جانے دو
بات نہ کرنا چُپ رہنا نظریں نہ ملاؤ دیکھ توَ لو
اِس پر بھی گر چہرے کا رنگ اُڑتا ہے اُڑ جانے دو
مَن کی بات چھُپانا مشکل آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں
ایسے بھی کیا دل پر پَہرے کچھ تو زباں تک آنے دو
سحرِ محبت ہے یہ سب، مجبوری بھی جھنجھلاہٹ بھی
اُن کے مُنہ میں جو آئے چپ چاپ سنو کہہ جانے دو
دونوں کو احساسِ محبت، دونوں کو انکار بھی ہے
لو! میدانِ عشق میں ضامنؔ کود پڑے دیوانے دو
ضامن جعفری

ذرا دوہرا مرا عہدِ شباب آہستہ آہستہ

دِکھا چشمِ تصوّر پھر وہ خواب آہستہ آہستہ
ذرا دوہرا مرا عہدِ شباب آہستہ آہستہ
کسی کے مصحفِ رُخ پر نگاہیں جَم کَے رہ جائیں
پڑھی جائے بَہ فُرصَت یہ کتاب آہستہ آہستہ
نیازِ عشق و نازِ حسن ہَوں مصروفِ سرگوشی
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
کوئی مدہوش دزدیدہ نظر اُٹھ اُٹھ کے جھُکتی ہو
خموشی چار سُو محوِ خطاب آہستہ آہستہ
نگاہوں میں ہو بحرِ سرخوشی اُور وہ سرِ ساحل
پٹکتے پھِر رہے ہَوں سر حباب آہستہ آہستہ
گذرتا وقت وہ اُستاد ہے اَزبَر کرا دے گا
کتابِ زندگی کے سارے باب آہستہ آہستہ
نوشتِ برق رفتاری ہے تاریخِ نگاہ و دل
پڑھی جاتی ہے لیکن یہ کتاب آہستہ آہستہ
دیارِ حُسن میں اَب راج ہو گا عشق کا، ضامنؔ!
میں برپا کر رہا ہُوں انقلاب آہستہ آہستہ
ضامن جعفری

کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے

دریائے محبّت میں کشتی تھی تند تھا دھارا کیا کرتے
کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے
طوفانِ بَلا تھا زوروں پر موجَوں میں تلاطم بڑھتا تھا
اُور ٹوٹتا جاتا تھا اپنا ایک ایک سہارا کیا کرتے
ساحل کی تمنّا کیا کرتے موجَوں پہ سفینہ چھوڑ دیا
کشتی تھی شکستہ طوفاں میں معدوم کنارا کیا کرتے
پابندِ قَفَس ہم گلشن میں اُور شاخ پہ تھا دستِ گل چیں
خود ٹوٹتے دیکھا تھا اپنی قسمت کا ستارا کیا کرتے
سنبھلا نہ مریضِ الفت جب، کام آ نہ سکی جب کوئی دَوا
پھر بہرِ شرابِ دید آخر اُن ہی کو پُکارا کیا کرتے
برباد رہے، بدنام ہُوئے، دنیا سے شکستہ دل نکلے
اَبنائے زمانہ کو ضامنؔ اَب اَور گوارا کیا کرتے
ضامن جعفری

ڈھُونڈنا ہم کو اِن حَوالوں میں

دَرد میں آنسُووَں میں چھالوں میں
ڈھُونڈنا ہم کو اِن حَوالوں میں
ڈُوبتے وَقت کی ہَنسی مَت پُوچھ
سَب ہی اَپنے تھے ہَنسنے والوں میں
مَر چُکا ہے ضمیرِ کُوزہ گَراں
گھِر گئے چاک بَد سفالوں میں
ہَم جنوں میں ہیں آپ اَپنی مِثال
ہَم کو مَت ڈھُونڈنا مِثالوں میں
آئینہ دیکھ کر شُبہ سا ہُوا
کوئی باقی ہے مِلنے والوں میں
شہر کے شہر ہو گئے خالی
لوگ بَستے ہیں اَب خیالوں میں
میں اَندھیروں میں تھا بھٹکتا رَہا
آپ کو کیا مِلا اُجالوں میں
اَور کوئی جگہ نہیں محفوظ
چَین سے رہ مِرے خیالوں میں
اُس کی آنکھیں کلام کرتی رہیِں
میں بھی اُلجھا نہیں سوالوں میں
حُسن و عشق آج کس قَدَر خُوش ہیں
آپ اُور مُجھ سے باکمالوں میں
کِس پہ ضامنؔ نے یہ کہی ہے غزل
ہیں چِہ مِیگوئیاں غزالوں میں
ضامن جعفری

ہر ایک شخص مجھے آئینہ سا لگتا ہے

خیالِ یار میں ڈُوبا ہُوا سا لگتا ہے
ہر ایک شخص مجھے آئینہ سا لگتا ہے
ہجومِ غم میں ہمیں اے مُغَنّیِ ہستی
ہر ایک ساز ترا بے صدا سا لگتا ہے
وہ نام جس سے کہ رغبت نہیں رہی مجھ کو
زبانِ غیر پر اب بھی بُرا سا لگتا ہے
جہاں ہر ایک کی منزل جُدا ہو فکر جُدا
مجھے ہجوم تجھے قافلہ سا لگتا ہے
غزل میں جس کو تَخَلُّص کہا گیا ضامنؔ
کبھی کبھی مُجھے شورِ اَنا سا لگتا ہے
ضامن جعفری

طوفاں مری خواہش ہیں تو گرداب مرے خواب

خورشید نہ یہ انجم و مہتاب مرے خواب
طوفاں مری خواہش ہیں تو گرداب مرے خواب
پوچھے تو کوئی کون ہے ہر شخص کے اندر
جو چیختا رہتا ہے مرے خواب مرے خواب
اِس خوف سے کرتا ہی نہیں تجھ سے بیاں میں
کرجائیں نہ تجھ کو کہِیں بیخواب مرے خواب
گھبراتا ہے دل دُور سے اب دیکھ کر اِن کو
اِک دَور تھا جب تھے مرے احباب مرے خواب
ضامنؔ وہ چلا آتا ہے ہر خواب میں میرے
واقف ہے کہ ہیں واقفِ آداب مرے خواب
ضامن جعفری

حیرتِ آئینہ آئینے سے باہر آئے

خواہشِ حسنِ طلب ہے کوئی منظر آئے
حیرتِ آئینہ آئینے سے باہر آئے
لاکھ منظر مرے اطراف میں ہَوں گرمِ سخن
بات تَو جب ہے مرے لب پہ مکرّر آئے
حیرتِ عشق سے محتاط رہے قامتِ حسن
ڈُوب جاتا ہے یہاں جو بھی سمندر آئے
غیر ممکن ہے ابھی ہو مرا اندازَہِ ظرف
درد پہلے تَو مرے دل کے برابر آئے
ایک قطرہ بھی تشخّص کا بھرم رکھتا ہے
چاہے دریا میں ہو یا بن کے سمندر آئے
قلعہ در قلعہ لڑی ذات کی اِک فوجِ اَنا
ہم بھی دیوار پہ دیوار گرا کر آئے
وقت کے گہرے سمندر میں پتہ بھی نہ چلا
دعوے کرتے ہُوئے کتنے ہی شناور آئے
آزمائش تھی مرے حسنِ نظر کی ضامنؔ
کس قیامت کے مری راہ میں منظر آئے
ضامن جعفری

کیوں نہ ہَوں کیا کسی سے کم ہیں ہم

خسروِ کِشوَرِ اَلَم ہیں ہم
کیوں نہ ہَوں کیا کسی سے کم ہیں ہم
شبِ تنہائی اب یہ ڈر کیسا
اَور کوئی نہیں ہے ہم ہیں ہم
کس قدر پُر سکون ہے دنیا
لبِ خاموش و چشمِ نَم ہیں ہم
کچھ عناصِر ابھی نہیں بِکھرے
دَمِ تحریر تَو بَہَم ہیں ہم
زندگی ایسی رایگاں بھی نہیں
کچھ دِلوں پر کہیِں رَقَم ہیں ہم
احتیاطاً کِیا نہ ذِکر اُن کا
سارا موضوع بیش و کم ہیں ہم
ضامنؔ! اِک رازِ کاینات کہوں ؟
خود پُجاری ہیں خود صَنَم ہیں ہم
ضامن جعفری

اِک بُت نے ہم کو صاحبِ ایمان کر دیا

حیرت ہے حق پہ کفر نے احسان کر دیا
اِک بُت نے ہم کو صاحبِ ایمان کر دیا
سوچا تھا کام رکّھیں گے ہم اپنے کام سے
نار و بہشت! تم نے پریشان کر دیا
کل شب تمہارے ساتھ کے جاگے ہُوئے تھے ہم
اِمشَب تمہاری یاد نے ہلکان کر دیا
ہم نے جہانِ کُفر کو عِلم و عَمَل بغیر
کلمہ پڑھا پڑھا کے مسلمان کر دیا
عاشق کے گھر میں حُسن پہ صدقے کے واسطے
ایمان رہ گیا تھا سو ایمان کر دیا
اے حُسن! کوئی تیری رَقابَت کی حد بھی ہے
دل کو حواس و ہوش سے انجان کر دیا
یادوں سے سہل ہو گیا تنہائی کا سفر
ضامنؔ کے ساتھ آپ نے سامان کر دیا
ضامن جعفری

فَقَط نِگاہ تَو وجہِ یقیں نہیں ہوتی

حضور! ایسے محبّت کہیِں نہیں ہوتی
فَقَط نِگاہ تَو وجہِ یقیں نہیں ہوتی
خَیال و خواب کی دُنیا حَسیں سہی لیکن
خَیال و خواب سے دُنیا حَسیں نہیں ہوتی
جھُکا گیا ہے کِسی چشمِ نَم کا حُسنِ کلام
سَماعَتوں پہ تَو خَم یہ جبیں نہیں ہوتی
قَدَم ہی سَلطَنَتِ عشق میں نہ رَکھتے ہم
ہمارے واسطے گَر شہ نشیں نہیں ہوتی
میں ہر نَظَر سے زمانے کی خوب واقف ہُوں
کرے جو رُوح میں گھر وہ کہیں نہیں ہوتی
کسی کا حرفِ محبّت جو کان میں پَڑتا
ہمارے پاؤں تَلے پھِر زمیں نہیں ہوتی
میں اعترافِ محبّت کی سوچتا لیکن
قَدَم قَدَم پہ اَنا کی نہیں نہیں ہوتی
مَتاعِ عشق کو ضامنؔ سنبھال کر رَکھیے
یہ ہر نگاہ کے زیرِ نَگیں نہیں ہوتی
ضامن جعفری

محبّت ہو گئی ہے کی نہیں ہے

حضور اِس میں خَطا میری نہیں ہے
محبّت ہو گئی ہے کی نہیں ہے
طبیعت اب کہیِں لگتی نہیں ہے
کوئی محفل وہ محفل ہی نہیں ہے
بُرا مَت ماننا باتوں کا میری
کوئی اِن میں لگی لپٹی نہیں ہے
گذارا کر رہا ہُوں اِس سے لیکن
زمانے سے مری بَنتی نہیں ہے
مجھے بھاتا نہیں آئینہ بالکل
مروّت تو ذرا سی بھی نہیں ہے
میں دِل کی بات کہہ دُوں اُن سے ضامنؔ
مگر وہ بات کہنے کی نہیں ہے
ضامن جعفری

ہو کوئی بے بَصَر تَو بھَلا کیا دکھائی دے

حُسنِ نظر کو حُسن ہر اِک جا دکھائی دے
ہو کوئی بے بَصَر تَو بھَلا کیا دکھائی دے
خوش رنگیِ چمن بھی ہے غارت گرِ سکوں
گلشن بہ ہر نظر رخِ زیبا دکھائی دے
رشکِ صد انجمن ہے وہ تنہا اگر ملے
آجائے انجمن میں تَو تنہا دکھائی دے
اِس انجمن میں سَب کو ہے اپنی پڑی ہُوئی
دربارِ حُسن حشر کا نقشا دکھائی دے
الزامِ خودکُشی ہمیں دینے سے پیشتر
قاتل سے بھی کہیَں نہ مسیحا دکھائی دے
کب تک پیے گا شہر میں آنسو ہر ایک شخص
ہے کوئی جس کو قطرے میں دریا دکھائی دے
ضامنؔ! یہ کیسا گلشنِ امّید ہے جہاں
ہر برگِ گل پہ خونِ تمنّا دکھائی دے
ضامن جعفری

اور اِدھر عشق کہ یہ بات سَمَجھتا ہی نہیں

حُسن کو جراتِ اِظہارِ تمنّا ہی نہیں
اور اِدھر عشق کہ یہ بات سَمَجھتا ہی نہیں
اُس سے کہنا کہ ذَرا غَور سے دیکھے مُجھ کو
مُجھ کو وہ دُکھ تَو نہیں جِس کا مداوا ہی نہیں
تُم بھی اِظہارِ محبّت کو ہَوَس جانوگے
میں نے حَیرَت ہے اِس انداز سے سوچا ہی نہیں
گُفتُگو کرنے کو اَب اُس سے زباں کون سی ہو
میرا لہجہ مِرے اَلفاظ سَمَجھتا ہی نہیں
مُنتَظِر سَب تھے کہ احسان کریں گے مُجھ پَر
اہلِ ساحِل کو مَگَر میں نے پُکارا ہی نہیں
ناگواری کا ذرا سا بھی جو خَدشہ ہوتا
حالِ دِل آپ سے واللہ میں کہتا ہی نہیں
آنکھ رَکھتا ہُوں ، نَظَر رَکھتا ہُوں ، لیکن ضامنؔ
حاصِلِ حُسنِ نَظَر کوئی تماشا ہی نہیں
ضامن جعفری

کیوں کہیَں اپنی جفا میری خوشی کہہ لیجیے

حسرت و رنج و اَلَم قسمت مری کہہ لیجیے
کیوں کہیَں اپنی جفا میری خوشی کہہ لیجیے
ہر قدم پر گھونٹتا ہُوں اِک تمنّا کا گَلا
زندگی کو ایک پیہم خودکشی کہہ لیجیے
زندگی نے کیا دیا جز داغِ ناکامی ہمیں
جی رہے ہیں پھر بھی، پاسِ بندگی کہہ لیجیے
کیوں پشیماں آپ ہیں اپنی جفائیں سوچ کر
گردشِ دواراں ، فلک کی کجرَوی کہہ لیجیے
نقشِ حیرت یہ، وہ اِک پرتَو نگاہِ حسن کا
نقشِ مانی کہیے، سحرِ سامری کہہ لیجیے
کاشفِ رازِ حقیقت کہیے ضامنؔ موت کو
اُور فریبِ سَر بَسَر کو زندگی کہہ لیجیے
ضامن جعفری

ہَمیَں یقین ہے ہَم زیبِ داستاں ہوں گے

حریمِ ناز کے قصّے اگر بیاں ہوں گے
ہَمیَں یقین ہے ہَم زیبِ داستاں ہوں گے
عَجَب شناخت ہے یہ شاہراہِ ہَستی کی
تَمام قافلے سُوئے عَدَم رَواں ہوں گے
نہ سمجھیں سہل پسند آپ اہلِ ساحل کو
ذرا سی دیر میں موجوں کے درمیاں ہوں گے
ہمارے ضبطِ سخن پر نہ جائیے صاحب
یہ بند ٹُوٹا تَو پھر آپ بھی کہاں ہوں گے
کہاں کہاں اُنہیَں ڈھونڈا مِرے تَخَیُّل نے
خیال تھا وہ ستاروں کے درمیاں ہوں گے
مِرا خیال ہے کوئی یہاں نہیں آتا
جو عِلم ہوتا یہاں اِتنے اِمتحاں ہوں گے
رَوِش حَسیِنوں کی ضامنؔ اِس اعتماد پہ ہے
ہمارے زَخم بھی ہم جیسے بے زباں ہوں گے
ضامن جعفری

آہِ سوزاں دیکھ! زخمِ دل دُھواں ہو جائے گا

حاصلِ عشقِ بتاں سب رایگاں ہو جائے گا
آہِ سوزاں دیکھ! زخمِ دل دُھواں ہو جائے گا
لے تَو لوں بوسہ تری دہلیز کا آ کر مگر
مرجعِ عشّاقِ عالم آستاں ہو جائے گا
خاک میری مائلِ پرواز ہے بن کر غبار
ہے یقیں اِس کو تُو اِک دن آسماں ہو جائے گا
بیٹھ کر تنہا تجھے سوچُوں مگر ہو گا یہی
ہمسَفَر یادوں کا پھر اِک کارواں ہو جائے گا
عشق ہے اِک نقشِ محکم، عشق ہے نقشِ جلی
حُسن ہے اِمروز، کل وہم و گماں ہو جائے گا
بے وفائی کا گِلہ کس سے کریں کیونکر کریں
جب جدا خود استخواں سے استخواں ہو جائے گا
ہر گھڑی لب پر غزل، ضامنؔ! یہ باتیں چھوڑ دو
’’ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا‘‘
ضامن جعفری

ربط ہے، ہم سے سِوا، دل کو نگاہِ ناز سے

چھیڑ کر! مضرابِ مژگانِ صَنَم! اِس ساز سے
ربط ہے، ہم سے سِوا، دل کو نگاہِ ناز سے
شکوَہِ بندِ قَفَس نے کچھ گِلہ صیّاد سے
ہے شکایت ہم کو اپنی قوّتِ پرواز سے
با نگاہِ بے خطا، بے جنبشِ لب گفتگو
حالِ دل وہ پوچھتے بھی ہیں تَو کس انداز سے
تا نہ شرمندہ ہَوں وہ، چُپ ہُوں ، اگر نالے کروں
عہدِ رفتہِکھنچ کے لَوٹ آئے مری آواز سے
دیکھنا پابندِ الفت کی ذرا مجبوریاں
چارہ جوئی مرغِ دل کرتا ہے تیر انداز سے
نالہِ دل پر ہیں رَقصاں اَب بھی ماضی کے نقوش
ہے عجب جھنکار پیدا ساز کی آواز سے
شکوہِ جَور و جفا ہو محو جُوں حرفِ غَلَط
دیکھ لو ضامنؔ کو اِک بار اَور اُسی انداز سے
ضامن جعفری

چھُپا ہے کون وہاں ، کس کے قاتلوں میں سے ہے

چھَنا جو رنگِ شَفَق گَہرے بادلوں میں سے ہے
چھُپا ہے کون وہاں ، کس کے قاتلوں میں سے ہے
جو حُسن و عشق و تغزل کے کاملوں میں سے ہے
سُنا ہے چاند کو تکتا ہے باولوں میں سے ہے
امیرِ شہر نے رکھ دی نوازنے کی یہ شرط
ثبوت لاؤ کہ یہ شخص جاہلوں میں سے ہے
رکھا ہے خارِ تمنا کی تشنگی کے لئے
بچا جو آبلہ پاؤں کے آبلوں میں سے ہے
یہاں تو نطق و سَماعَت کا فاصلہ ضامنؔ
یہ لگ رہا ہے کہ صدیوں کے فاصلوں میں سے ہے
ضامن جعفری

ڈھونڈتے ہیں ناخدا و کشتی و ساحل مجھے

چشمِ حیرت بن کے دیکھے ہے مری منزل مجھے
ڈھونڈتے ہیں ناخدا و کشتی و ساحل مجھے
مشغلہ شوق و جنوں کا کامِ ذوقِ جستجو
صد منازل سے عزیز اِک سعیِ لا حاصل مجھے
ننگ ہے خوباں کا ہم کو اشتراکِ عنصری
اَور رُسوا کر رہے ہیں تیرے آب و گِل مجھے
میری طرح کب کسی نے پھر چڑھایا سَر اسے
ڈھونڈتی پھرتی ہے خاکِ کوچہِ قاتل مجھے
ضامنؔ! اُٹھتے جا رہے ہیں بیخودی میں خود قدم
لے کے جاتا ہے کہاں دیکھوں تَو میرا دل مجھے
ضامن جعفری

شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں

جو لوگ دار و سلاسل کے انتظار میں ہیں
شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں
نظر میں کوئی نہیں ہے ابھی قد و قامت
وہ اپنے مدِّ مقابل کے انتظار میں ہیں
سہولیات و لوازم سبھی مہیّا ہیں
ہم اب تو جرأتِ قاتل کے انتظار میں ہیں
وہ صبر و چین و سکون و قرار لُوٹ چکے
قرینہ کہتا ہے اب دل کے انتظار میں ہیں
سفر کا شوق ہے جن کو نہ زادِ راہ کی فکر
سنا یہ ہے کہ وہ منزل کے انتظار میں ہیں
فرازِ دار ہے انعام اہلِ علم یہاں
یہ کاخ و کُو کسی جاہل کے انتظار میں ہیں
جنہیں تمیز نہیں دوست اَور دشمن میں
وہ ایک جوہرِ قابل کے انتظار میں ہیں
یہ معجزہ ہے کہ ہم سب سکون سے ضامنؔ!
بھَنوَر میں بیٹھ کے ساحل کے انتظار میں ہیں
ضامن جعفری

اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو

جو بھی دِل میں ہے کَہو، پاسِ اَدَب رہنے دو
اَیسی فَرسُودہ رسومات کو اَب رہنے دو
تِیر کِس سمت سے آیا ہے یہی کافی ہے
تِیر اَنداز کا اَب نام و نَسَب رہنے دو
مُجھ سے اُترے ہوئے چہرے نہیں دیکھے جاتے
کوئی پُوچھے بھی تَو کہتا ہُوں ، سَبَب رہنے دو
جِس کو خُورشیدِ قَیامَت سے اُجالا نہ مِلے
کیا عَجَب گَر وہ کہے ظُلمَتِ شَب رہنے دو
دِل کا اصرار ہے جو دِل میں ہے کہہ دُوں اُن سے
ذہن کہتا ہے، وہ اَب وہ نہیں ، اَب رہنے دو
کون رکھتا ہے رہ و رَسمِ زمانہ کا خیال
صِرف کہنے کی یہ باتیں ہیں ، یہ سَب رہنے دو
مُجھ کو طُوفاں نے ڈبویا نہیِں ، خُود ڈُوبا ہُوں
اہلِ ساحِل سے کہو جَشنِ طَرَب رہنے دو
عَکسِ قاتِل نَظَر آجائے نہ زَخموں میں کہیِں
جیسے مَقتَل میں پَڑا ہُوں اسی ڈَھَب رہنے دو
قحطِ اَقدار میں یہ مِہر و مُرَوَّت، ضامنؔ!
کیا ضرورَت ہے تکلّف کی یہ سَب رہنے دو
ضامن جعفری

دفعتاً دیکھ کے نظروں کو جُھکایا کیوں تھا؟

جو بھی آیا تھا خیال اُ ن کو وہ آیا کیوں تھا؟
دفعتاً دیکھ کے نظروں کو جُھکایا کیوں تھا؟
اب اگر ٹوٹ گیا ہے تو شکایت کیسی؟
دل تو شیشہ ہی تھا، پتھر سے لگایا کیوں تھا؟
آئینہ دیکھ کر آئینے سے لڑنے والے
تو بھلا سامنے آئینے کے آیا کیوں تھا؟
آپ کی دَین ہیں پلکوں پہ یہ رقصاں موتی
اب ہے احساسِ ندامت تو رُلایا کیوں تھا؟
خواہشِ پُرسشِ احوال نہ تھی گر ضامنؔ
تم نے ایک ایک کو دکھ اپنا سنایا کیوں تھا؟
ضامن جعفری

ہم نے بس ایک اِسی فن میں ریاضت کی ہے

جو بھی انسان ملا اُس سے محبت کی ہے
ہم نے بس ایک اِسی فن میں ریاضت کی ہے
اپنی تکمیل کی خاطر تمہیں چاہا سب نے
اور دعویٰ یہ کیا تم سے محبت کی ہے
کیسے پہچانوگے دیکھا ہی نہ ہو جس کو کبھی
کیا سمجھ پاؤگے سچائی جو چاہت کی ہے
بد گمانی کامرقع ہے وہ حسنِ خودبیں
اور اِدھر عشق کو ضد ہے تو صداقت کی ہے
لوگ نفرت علی الاعلان کِیا کرتے ہیں
ہم گنہگار ہوئے ہیں کہ محبت کی ہے
اُن کے محتاط تغافل کا سحر ہے ضامنؔ
بات دیوانگیٔ شوق کو حیرت کی ہے
ضامن جعفری

زمیں زیرِ قَدَم سَر پَر خدا محسوس ہوتا ہے

جہاں میں ہُوں ہر اِک بے آسرا محسوس ہوتا ہے
زمیں زیرِ قَدَم سَر پَر خدا محسوس ہوتا ہے
شَجَر کی یاد نے پوچھا ہے ہم سے دَشتِ غُربَت میں
نہیں ہے سَر پہ اَب سایہ تَو کیا محسوس ہوتا ہے
میں کِس رَستے سے تجھ تَک آؤں کہ تُو دَنگ رہ جائے
ہر اِک رَستے پہ کوئی نقشِ پا محسوس ہوتا ہے
ہمارے شعر سُن کر اُن پہ خاموشی سی ہے طاری
سکوتِ ذات میں شورِ اَنا محسوس ہوتا ہے
جُدا ہو راہ و منزل سَب کی اُس کو بِھیڑ کہتے ہیں
نہ جانے آپ کو کیوں قافلہ محسوس ہوتا ہے
کسی کو جب غزل میری سُناتا ہے کوئی ضامنؔ
وہ کہتا ہے یہ کوئی دِل جَلا محسوس ہوتا ہے
ضامن جعفری

ذرا سی دھول چَھٹے راستہ سجھائی تو دے

جنوں کو دامِ خِرد سے کبھی رہائی تو دے
ذرا سی دھول چَھٹے راستہ سجھائی تو دے
میں بندگی کو بھی نادیدہ رفعتیں دے دُوں
وہ ایک پل کے لیے ہی مجھے خدائی تو دے
سکوتِ مرگ ہو کیسے حیات کا قائل
کبھی کبھی کوئی آوازِ پا سُنائی تو دے
یہ کیا کہ چھوڑ دیا نائبِ خدا کہہ کر
بشر کو اوجِ بشر تک کبھی رسائی تو دے
ابھی نہ دعویِٰ تکمیلِ عشق کر ضامنؔ
نظر کو منزلِ جذب و فنا دِکھائی تو دے
ضامن جعفری

میانِ ہجر و وصال رکھ کر عجب قیامت سی ڈھا رہے ہیں

جنونِ خفتہ جگا رہے ہیں وہ سامنے کھل کے آ رہے ہیں
میانِ ہجر و وصال رکھ کر عجب قیامت سی ڈھا رہے ہیں
مرے بھی ہمدرد، مُنہ پہ ہیں ، اُن کی ہاں میں ہاں بھی ملا رہے ہیں
خدا ہی جانے جنابِ ناصح یہ اونٹ کس کل بٹھا رہے ہیں
علامتِ عشق ہے یہ دن میں نظر جو تارے سے آ رہے ہیں
جھکے ہیں سر عاشقوں کے اُور وہ جو مُنہ میں آئے سنا رہے ہیں
حیاتِ دو روزہ تم سے مل کر ذرا سی رنگین ہو گئی تھی
گرانیِ طبع دُور کر لو، ہم اپنی دنیا میں جا رہے ہیں
سُنانا چاہی جو ایک تازہ غزل اُنہیں تَو وہ بولے ضامنؔ
ہمیں پتہ ہے جو اس میں ہو گا، یہ آپ پھر دل جَلا رہے ہیں
ضامن جعفری

برق میرے بھی آشیاں سے چلی

جب کبھی میری آسماں سے چلی
برق میرے بھی آشیاں سے چلی
عشق اَور آرزوئے عشق کی بات
حُسنِ خود بین و خوش گماں سے چلی
اُس نے پوچھا تَو کہہ دیا میں نے
رَوِشِ خونِ دل یہاں سے چلی
حُسنِ خودبیں کی رسمِ نخوت و ناز
عشق کی سعیِ رایگاں سے چلی
یادِ ماضی سے روز کہتا ہُوں
ٹھیَر جا! تُو ابھی کہاں سے چلی
آج فکرِ غزل مری ضامنؔ
کہکشاؤں کے درمیاں سے چلی
ضامن جعفری

دِل کو آنکھوں میں رَکھ لِیا کیجے

جَب کبھی اُن کا سامنا کیجے
دِل کو آنکھوں میں رَکھ لِیا کیجے
ٹھان ہی لی ہے اب تَو کیا کیجے
جائیے! عرضِ مدّعا کیجے
کہیِں نیچی نہ ہو نظَر صاحب
حالِ دل سب سے مت کہا کیجے
کوئی شعلہ نَفَس ہے محفل میں
میرے جینے کی بس دُعا کیجے
جُنبِشِ لَب نَظَر میں رہتی ہے
گفتگو آنکھ سے کِیا کیجے
جب اشارے کنائے ہیں موجود
جو کہیَں کھُل کے مت کَہا کیجے
ڈال کر پھر نَظَر اَجَل انداز
میرے حق میں کوئی دُعا کیجے
اُسی انداز میں وہی الفاظ
جب بھی موقع ہو کہہ دیا کیجے
میں ہُوں ضامنؔ مجھے تَو کم از کم
رازِ الفت سے آشنا کیجے
ضامن جعفری

مختصر سا ہے سَفَر ساماں بہت

تنگیٔ دِل وسعتِ داماں بہت
مختصر سا ہے سَفَر ساماں بہت
کیا ضرورت اِتنی آبادی کی تھی؟
دِل دُکھانے کو ہے ایک اِنساں بہت
دیکھا گَرد آلُود آئینہ جو کَل
دیکھ کر دونوں ہوئے حیراں بہت
قید میں کب تک رہے گی زندگی؟
آپ کے پہلے بھی ہیں احساں بہت
گھر کے اندر بَند ہیں میں اُور گھُٹَن
گھر کے باہر مَوت کے امکاں بہت
زندگی رقصِ اَجَل میں تھَک کے چُور
اَور اَجَل خُوش ہے کہ ہیں مہماں بہت
ضامن جعفری

سکونِ قلب گریزاں ہے ہر فغاں خاموش

ترے اسیرِ جفا کی ہے داستاں خاموش
سکونِ قلب گریزاں ہے ہر فغاں خاموش
تری جفا پہ بھلا کس کو جراتِ فریاد
زمیں تھی محوِ تماشا و آسماں خاموش
شبِ فراق کے ماروں کو دیکھ کر مایوس
چلا فَلَک سے ستاروں کا کارواں خاموش
بیانِ غم پہ مرے سب رہے ترے ہمساز
ہر ایک گوش بر آواز و ہر زباں خاموش
شکست و فتح و نشیب و فراز کے ہمراز
یہ زخمہائے جگر مثلِ کہکشاں خاموش
جفائے یار لباسِ وفا میں تھی ملبوس
سو لے کے آگئے ضامنِؔ یہ ارمغاں خاموش
ضامن جعفری

محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو

ترمیمِ عہد نامہِ روزِ اَلَست ہو
محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو
پہلے وہ عصرِ حاضر و ماضی کرے بَہَم
ایسے کہ ہست بود نہ ہو، بود ہست ہو
ہر احتیاط حُسن پہ لازم قرار پائے
فطرت ہو عشق کی کہ وہ موقع پَرَست ہو
جب ہو اَنائے حُسن کے حُسنِ اَنا کی بات
ہو فتحِ عشق گرچہ بظاہر شکَست ہو
لگتا ہے جیسے سُن کے "اَلَستُ بِرَبّکُم”
ضاؔمن ہنوز وردِ "بَلیٰ” میں ہو، مست ہو
ضامن جعفری

کہاں کہاں نہ مِرے دِل نے داغ چُن کے لیے

تَرَس رہی ہے محبّت صدائے کُن کے لیے
کہاں کہاں نہ مِرے دِل نے داغ چُن کے لیے
یہ بے نیازیِ منزل ہے چشمِ حیراں کی
میں کیا رہینِ سفَر ہُوں سفَر کی دُھن کے لیے
کبھی نہ پُوچھا یہ بادِ صَبا کے جھونکوں نے
کوئی پیام اگر بھیجنا ہو اُن کے لیے
نہ پا سکا کہیِں نَشو و نُما نہالِ خلوص
نہ سازگار فضا پائی بیخ و بُن کے لیے
یہ تجربات و حوادث ہیں زینتِ قرطاس
کہیِں سے پڑھ کے لیے ہیں نہ ہم نے سُن کے لیے
نَظَر جُھکی ہی رہی پیشِ قلب و رُوح سَدا
سکونِ زیست کی خواہش بہت کی اُن کے لیے
سجی ہے انجمنِ زیست غالباً ضامنؔ
دِل و دماغ کی تکرارِ کُن مَکُن کے لیے
ضامن جعفری

لُغّتِ عشق میں حیرت کی زباں کہتے ہیں

پیشِ حُسن آپ جسے عجزِ بیاں کہتے ہیں
لُغّتِ عشق میں حیرت کی زباں کہتے ہیں
اتنے محتاط ہیں ہم پھر بھی شکایت ہم سے
گفتنی ہو بھی تَو ہم بات کہاں کہتے ہیں
چشمِ پُر آب کی کیا اُن سے وضاحت کیجے
اس کو محرومِ نظارہ کی زباں کہتے ہیں
وہ حقیقت ہے گماں کہتے ہیں ہم جس کو مگر
مصلحت ہے جو حقیقت کو گماں کہتے ہیں
تُم جسے سمجھے ہو خاموش نگاہی ضامنؔ
ہم سخن فہم اُسے سحرِ بیاں کہتے ہیں
ضامن جعفری

ہے کرب نمایاں تِرے انکار کے پیچھے

پوشیدہ ہے کچھ پردۂ اَسرار کے پیچھے
ہے کرب نمایاں تِرے انکار کے پیچھے
سایے کے بھلا کیا قد و قامت سے اُلجھنا
سورج سے تَو نمٹو جو ہے دیوار کے پیچھے
لَوٹ آئے ہیں خاموش نہ دیکھی گئی ہم سے
ارزانیٔ دل رونقِ بازار کے پیچھے
گر سچ ہے تمہیں ترکِ مراسم کا نہیں دکھ
پھر کیا ہے یہ سب چشمِ گُہَربار کے پیچھے
پاگل تو نہیں ہو جو یہ چہروں پہ سکوں ہے
کیوں بیٹھے ہو ہلتی ہوئی دیوار کے پیچھے
در اصل نگاہوں میں کھٹکتا ہے مرا سر
ہیں لوگ بظاہر مری دستار کے پیچھے
دنیا کی نگاہوں میں تو میں ناچ رہا ہوں
وہ ڈور لئے بیٹھا ہے دیوار کے پیچھے
کیوں لگتے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے دل کی سی آواز
کیا راز ہے ضامنؔ ترے اشعار کے پیچھے
ضامن جعفری

کیا یہاں رہتا ہے حق گوئی سے رغبت والا

پُوچھتا پھرتا ہے گھر گھر کوئی طاقت والا
کیا یہاں رہتا ہے حق گوئی سے رغبت والا
قریہِ ذات میں محبوس مکینوں کے لئے
کون سا وقت اب آئے گا قیامت والا
کیسی بستی ہے کہ سب زخم لئے پھِرتے ہیں
کوئی دیکھا ہی نہیں اَشکِ ندامت والا
مصلحت زندہ ہے یا زندہ ہیں اندیشہ و خوف
ڈھونڈتے پھِریے خلوص اَور محبّت والا
دل لگانا بہت آسان ہے لیکن ضامنؔ
سوچ لیجے گا ذرا کام ہے فرصت والا
ضامن جعفری

زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے

پوچھ تو لیتے کہ ہیں درد کے مارے کیسے
زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے
اُن کی نفرت سے ملا میری محبت کو فروغ
رُخ مخالف ہی سہی، تند ہیں دھارے کیسے
لوگ مُنہ سے نہ کہیں دل میں تو سوچیں گے ضرور
ڈوبنے والوں نے پائے تھے سہارے کیسے
اہلِ اخلاص و محبت پہ عنایت کیجے
حسرتِ دید میں بیٹھے ہیں بِچارے کیسے
درد مندانِ محبت کی نہ غایت نہ غرض
کیسے فریاد کرے کوئی پکارے کیسے
بے رُخی ایک محبت ہی کا رُخ ہے ضامنؔ
چشمِ محتاط میں ہوتے ہیں اشارے کیسے
ضامن جعفری

شایَد اَب اِسے کَرنا پَڑے تَرکِ وَطَن اَور

بیچارگیِ رُوح بھی ڈھونڈے ہے بَدَن اَور
شایَد اَب اِسے کَرنا پَڑے تَرکِ وَطَن اَور
اِدراکِ حَقیقَت کی حَقیقَت ہی بھَلا کیا
سَب سامنے رَکھ دُوں جو مِلے اِذنِ سخَن اَور
سَمجھایا تھا اے دِل! کہ نہ جا بَزمِ ہَوَس میں
جا اَب وَہیِں جا! جا کے مَر اے سوختہ تَن اَور
مانے گی نَظَر تیری نہ مانے گا مِرا دِل
بہتَر ہے کہ ہَم چھیڑدَیں مَوضُوعِ سخن اَور
یہ خواہِشِ مَرحُوم یہ سَب تارِ گریباں
احباب سے کہہ دو کہ نہ لائیں وہ کَفَن اَور
تُم بات سَمَجھتے ہی نہیں ہو تَو کَریں کیا؟
ڈُھونڈیں گے بَہَر حال کوئی طَرزِ سُخَن اَور
اَچّھی نہیں یہ سجدہ و اِنکار کی تَکرار
عاجِز نہ کر اے چَپقَلِشِ رُوح و بَدَن اَور
ضاؔمن! پئے خُوشنودیِ قِرطاس و قَلَم آپ
کُچھ روز اَبھی کیجیے آرائشِ فَن اَور
ضامن جعفری

تری مشقِ ستم پیہم نہیں ہے

بَقَدرِ ظرف اب بھی غم نہیں ہے
تری مشقِ ستم پیہم نہیں ہے
مری ہمّت کا اندازہ تو کیجے
کوئی میرا شریکِ غم نہیں ہے
سبَق لے لالہِ کم ظرف مجھ سے
ہے دل خوں آنکھ لیکن نم نہیں ہے
میں کیوں ممنونِ دشمن ہُوں پئے غم
عزیزوں ہی کا احساں کم نہیں ہے
کوئی سمجھائے یہ بات اُس کو ضامنؔ
مجھے اُس کا ہے اپنا غم نہیں ہے
ضامن جعفری

پھِر ہر اِک لمحہِ گُم گَشتہ کو رویا جائے

ایک تصویر میں ہَر دَرد سمویا جائے
پھِر ہر اِک لمحہِ گُم گَشتہ کو رویا جائے
اُس نے یہ کہہ کے کِیا تَرکِ تَعَلُّق مجھ سے
یاد رَکھنے کو ضروری ہے کہ کھویا جائے
داغِ اُلفَت ہی تَو پہچان ہے تیری میری
کیسے ممکن ہے کہ اِس داغ کو دھویا جائے
آپ کے بعد ہے گر کوئی قَیامَت باقی؟
وہ بھی آجائے تَو پِھر چَین سے سویا جائے
تُو ہے وہ داغ جو بنیاد ہے سَب داغَوں کی
داغِ ہَستی تجھے کس طَور سے دھویا جائے
ضامنؔ! اُس چَشمِ گُہَر بار سے جو برسے ہیں
ایک اِک موتی کو پلکوں میں پرویا جائے
ضامن جعفری

نقشِ وفا ہُوں نقشِ کفِ پا نہیں ہُوں میں

اے گردبادِ وقت! بکھرتا نہیں ہُوں میں
نقشِ وفا ہُوں نقشِ کفِ پا نہیں ہُوں میں
حیرت سرا ہُوں شہرِ تمنّا نہیں ہُوں میں
مایوس ہو نہ مجھ سے کہ تجھ سا نہیں ہُوں میں
دیکھا ضرور سب نے رُکا کوئی بھی نہیں
کہتا رہا ہر اِک سے تماشا نہیں ہُوں میں
رَستے میں مِل گیا ہُوں تَو کچھ استفادہ کر
ہُوں سنگِ مِیل پاؤں میں کانٹا نہیں ہُوں میں
بیٹھا جو لے کے خود کو تَو معلوم یہ ہُوا
تنہا دِکھائی دیتا ہُوں تنہا نہیں ہُوں میں
ہَمدَردِیوں کے خوف سے ضامنؔ یہ حال ہے
اب دل پہ ہاتھ رکھ کے نکلتا نہیں ہُوں میں
ضامن جعفری

یا دِل میں اُتَر جانا یا دِل سے اُتَر جانا

اَے عِشق نہیں ممکن اَب لَوٹ کَے گھر جانا
یا دِل میں اُتَر جانا یا دِل سے اُتَر جانا
ہَنستا گُلِ تَر کوئی جَب دیکھا تَو یاد آیا
تاریخ میں صَدیوں کا لَمحوں میں گُذَر جانا
ہَر ذَرَّہِ خاکی میں اِک عِشق کی دُنیا تھی
تُم نے تَو ہَمیَں جاناں ! بَس خاک بَسَر جانا
ہو جَذب کی جَب مَنزِل ہَستی و عَدَم کیسے؟
کیا پار اُتَرنا اُور کیا ڈُوب کَے مَر جانا
ہے آتشِ اُلفَت سے یہ طُرفہ سُلوک اُن کا
آنکھوں سے ہَوا دینا ہونٹوں سے مُکَر جانا
ہَر سانس کے آنے سے ہَر سانس کے جانے تَک
ہَستی کو سَدا ضامنؔ مُہلَت کا سَفَر جانا
ضامن جعفری

اَب ذَوق نہیں ہے کہ تَماشا نہیں ہوتا

اے حُسنِ نَظَر کیوں تِرا چَرچا نہیں ہوتا
اَب ذَوق نہیں ہے کہ تَماشا نہیں ہوتا
تجسیمِ تصوّر کی کرامات تَو دیکھو
عاشق شبِ ہجراں میں بھی تَنہا نہیں ہوتا
کیا تَذکرۂ مہر و وفا بیٹھے ہو لے کر
پہلے کبھی ہوتا تھا اب ایسا نہیں ہوتا
یہ رَشک ہے دُنیا اِسے مانے کہ نہ مانے
رُسوا جِسے کہتے ہیں وہ رُسوا نہیں ہوتا
تُم دَردِ محبّت سے گُذَر لو تَو یقیں آئے
یہ دَرد ہے وہ جس کا مداوا نہیں ہوتا
ضامنؔ! اُنہیں اِصرار ہے جو چاہیں کہیَں ہم
اُور ہم سے سرِ بزم تقاضا نہیں ہوتا
ضامن جعفری

اب تا بہ کےَ خرَد کا تماشہ دِکھائی دے

اے جذب! اے جنوں! کوئی جلوہ دِکھائی دے
اب تا بہ کےَ خرَد کا تماشہ دِکھائی دے
ہر شخص ہے تصوّرِ منزل لیے ہُوئے
منزل تو جب مِلے کوئی رستہ دِکھائی دے
مُڑ مُڑ کے دیکھتا ہُوں سرِ ریگزارِ دشت
شاید غبار میں کوئی چہرہ دِکھائی دے
پردہ تو امتحانِ نظر کا ہے ایک نام
بینا ہے وہ جسے پسِ پردہ دِکھائی دے
عہدِ شباب جانے کب آ کر نکل گیا
ہم منتظر رہے کہ وہ لمحہ دِکھائی دے
ضامنؔ سرشکِ غم میں ہے ماضی کی آب و تاب
یادیں مجھے، زمانے کو قطرہ دِکھائی دے
ضامن جعفری

خود سے ملتا ہوں تو پھر کھُل کے برستا ہوں میں

انجمن ہو تو بہت بولتا ہنستا ہوں میں
خود سے ملتا ہوں تو پھر کھُل کے برستا ہوں میں
دیکھتا رہتا ہوں ملنے کو تَرَستا ہوں میں
یوں گذر جاتے ہو جیسے کوئی رَستا ہوں میں
خواہشِ وصل ہو پہنے ہُوئے پیراہنِ عشق
اِس کو اِخلاص کی تَضحیک سمجھتا ہوں میں
بوالہوس چیَن سے رہتے ہیں خزاں ہو کہ بہار
بوئے گل، بادِ صبا، سب کو تَرَستا ہوں میں
حُسن نے لمس کو معراجِ محبت جانا
ایسے معیار پہ کب پورا اُترتا ہوں میں
عشق دائم ہے اگر وصل کا پابند نہ ہو
جھومتا اَور ہے دل جتنا تڑپتا ہوں میں
حُسن کو ساری روایات سے باغی کردوں
اِس کی تدبیر کوئی دیکھئے کرتا ہوں میں
وہ تو یہ کہیے جنوں میرا مرے کام آیا
پھر بہلتا نہیں ضامنؔ جو مچلتا ہوں میں
ضامن جعفری

شہر میں آگ لَگا دی جائے

اُن کی تَصویِر دِکھا دی جائے
شہر میں آگ لَگا دی جائے
آؤ! شُعلوں کو ہَوا دی جائے
کوئی اَفواہ اُڑا دی جائے
کیا پَتا! ہو یَہی اُن کے دِل میں
دِل کی بات اُن کو بَتا دی جائے
میری قِسمَت پہ یہ پَتّھَر کی لَکیِر
کِس نے کھینچی ہے؟ مِٹا دی جائے
بیگُناہی کو گُنہ ٹھہرا کَر
اَیسے لوگوں کو سَزا دی جائے
عَرش تَک جانے نہ پائے فَریاد
کوئی دِیوار اُٹھا دی جائے
کَون بَستی میں سُنے گا اَپنی
جا کَے جَنگَل میں صَدا دی جائے
دوستوں سے یہ گُذارِش ہے مِری
یاد آؤں تَو دُعا دی جائے
دِل کو میں مار چُکا ہُوں صاحب
اَور اَب کِتنی سَزا دی جائے
جَب وہ مائل بہ کَرَم ہَوں ضامِنؔ
دِل کی رَفتار بَڑھا دی جائے
ضامن جعفری

تمام شہر جَلا اُس کے گھر کا ذکر نہیں

امیرِ شہر کے دستِ ہُنَر کا ذکر نہیں
تمام شہر جَلا اُس کے گھر کا ذکر نہیں
پڑھا ہے ہم نے بہت ہاتھ کی لکیروں کو
کِسی معاہدہِ خَیر و شَر کا ذکر نہیں
تمہارے حُسن کی تاریخ نامکمّل ہے
کسی جگہ مرے حُسنِ نظر کا ذکر نہیں
صلیب و دار کے سائے میں ہے تمام سَفَر
میں جس سَفَر میں ہُوں اُس میں شَجَر کا ذکر نہیں
تمہاری سنگ دِلی کی گواہ ہے تاریخ
کسی وَرَق پہ کَہیِں در گُزر کا ذکر نہیں
بہت عجیب ہیں دیدہ وَران نَو ضامنؔ
نظر کا زعم ہے اہلِ نظر کا ذکر نہیں
ضامن جعفری

دامانِ آرزو، مِرے دَستِ دُعا میں تھا

اِلزام تھا، ثبوت تھا، پھِر کیا سَزا میں تھا!
دامانِ آرزو، مِرے دَستِ دُعا میں تھا
خوش باش تھا میں فِکر و نظر کے جہان میں
عرشِ خیال کی اِک اَنوکھی فَضا میں تھا
وہ تَو گُناہ تھا ہی جو نِکلا زبان سے
وہ بھی گُنہ تھا جو مِرے ذہنِ رَسا میں تھا
یہ کہہ کے سَب نے مُلک بَدَر کَر دِیا مُجھے
جُراَت تَو دیکھیے! یہ صَفِ با وَفا میں تھا
میں زہر پی کے زندہ تھا لیکن مِرے طَبیِب
کیا جانے کیا مِلا ہُوا تیری دَوا میں تھا
اِس جُرم میں پکڑ کے سَزا دی گئی مجھے
ضامنؔ! میں سَنگِ میِل رَہِ اِرتِقا میں تھا
ضامن جعفری

گُذرا ہے کوئی ٹُوٹا ہُوا دل لئے ہُوئے

اِک دَرد سا ہے شورِ عنادل لئے ہُوئے
گُذرا ہے کوئی ٹُوٹا ہُوا دل لئے ہُوئے
اِس قافلے کو دشت نَوَردی کا شوق ہے
کوئی نہیں ہے خواہشِ منزل لئے ہُوئے
اہلِ نظر کی ژرف نگاہی کو کیا ہُوا؟
کب سے کھڑا ہُوا ہُوں یہاں دل لئے ہُوئے
دل بد گماں ہے حُسن سے انجامِ عشق پر
دَہلیز تک گیا ہُوں بہ مشکل لئے ہُوئے
پوچھا اگر کسی نے تَو دیجے گا کیا جواب
پھِرتے ہیں یُوں جو آپ مرا دل لئے ہُوئے
ضامنؔ! رہِ حیات میں ہردَم کا ساتھ ہے
مشکل کو میں ہُوں مجھ کو ہے مشکل لئے ہُوئے
محوِ سَفَر ہے حُسنِ اَزَل اے نگاہِ شوق
ذَرّے فضا میں اُڑتے ہیں محمل لئے ہُوئے
کوئی تُمہارے حُسن کا ہَمسَر نہ لا سکا
آئینے سب ہیں دعویِٰ باطل لئے ہُوئے
جلووں کے ازدحام میں جلوہ بس ایک ہے
جلوہ بھی وہ کہ زیست کا حاصل لئے ہُوئے
غارَت گَرِ سکوں ہے وہ حُسنِ خِرَد شکن
پِھرتا ہُوں دِل میں مَدِّ مقابل لئے ہُوئے
حیرت سے دیکھتے ہیں مُجھے عافیت پَرَست
مَوجَوں کی گود میں ہُوں میں ساحل لئے ہُوئے
ضامنؔ خُدا نَکَردہ جنوں ہو خِرَد نَواز
ہر آرزو جِلَو میں ہو قاتل لئے ہُوئے
ضامن جعفری

ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں

آغاز میں نہ کوئی سہارا ہے بعد میں
ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں
ہر دَور نے ہمیَں نظر انداز بھی کِیا
ہر دَور نے ہمیِں کو پُکارا ہے بعد میں
طوفاں سے موج موج نہ کیا کیا لڑے ہیں ہم
ہر بار سوچتے تھے کنارا ہے بعد میں
اے انجمن مزاج تری خلوتوں کے فیض
تنہائیوں نے ہم کو جو مارا ہے بعد میں
احسانِ غیر لے کے یہ ہم جانتے ہیں دوست
کس طرح وقت ہم نے گذارا ہے بعد میں
دیکھا ہے اُس نے بھر کے نظر جب کبھی ہمیں
صدقہ ہر اَک نظر کا اُتارا ہے بعد میں
وہ لاکھ ملتفت ہَوں پَر اَے دِل یہ سوچ لے
انجامِ التفات گوارا ہے بعد میں ؟
اِس عشقِ سادہ لوح پَہ ضامنؔ خدا کی مار
پہلے اُنھیں خدا کو پُکارا ہے بعد میں
ضامن جعفری

ہر لمحہ وہ رقصِ دل و جاں بھول گئے کیا

آغازِ محبت کا سماں بھول گئے کیا
ہر لمحہ وہ رقصِ دل و جاں بھول گئے کیا
چہرے کی تب و تاب وہ آہٹ پہ ہماری
ہر پل وہ سوئے دَر نِگَراں بھول گئے کیا
کیا حرفِ محبت کو تکلّم کی ضرورت
آنکھوں میں ہے جو حُسنِ بیاں بھول گئے کیا
وہ حسن و جوانی کے لپکتے ہوئے شعلے
اور اُن میں سکونِ دو جہاں بھول گئے کیا
ہر چیز اہم تھی، نظر و لہجہ و الفاظ
ہر چیز پہ سو سو تھے گماں بھول گئے کیا
یوں یاد دِلاتا ہوں اُنہیں وعدۂ فردا
میں آپ کے صدقے مری جاں بھول گئے کیا
ہے کوئی جو اُن سے یہ ذرا پوچھ کے آئے
قدریں وہ بزرگوں کی میاں بھول گئے کیا
شیرینیٔ گفتار ہے ضامنؔ جو تمہاری
ہے صدقۂ شیریں دہناں بھول گئے کیا
ضامن جعفری

اُس کی جوانی کے مُنہ لگتا وقت کی کیا اوقات

اُس کے روپ کے آگے پانی بھرتے ہیں دن رات
اُس کی جوانی کے مُنہ لگتا وقت کی کیا اوقات
ہوش ٹھکانے عشق کے آئیں جب وہ لے انگڑائی
چشمِ حیرت بڑھتا دیکھے حسن کو دو دو ہات
پچھلے پہر وہ رات کو اُس کے ہنسنے کا انداز
روح کو بھائے جیسے سوکھی مٹّی کو برسات
چشم زدن میں ساری دنیا محوِ رقص لگی
اُس نے آہستہ سے کہی جب ایک قیامت بات
ہنستی آنکھیں کھِلتا چہرہ اور کھَنَک آواز
عشق نے اُس کے پاؤں میں رکھ دی خوشیوں کی سوغات
حسن دیالُو ہے دے جس کو جتنا چاہے دان
ضامنؔ! تُم نے کہہ دی یہ سوَ باتوں کی اِک بات
ضامن جعفری

عِشق بے نِسبَتِ "کُن” خُود "فَیَکُوں ” ہے یُوں ہے

اِس کی تَوجیہہ عَبَث ہے کہ یہ یُوں ہے یُوں ہے
عِشق بے نِسبَتِ "کُن” خُود "فَیَکُوں ” ہے یُوں ہے
اَپنی پہچان پَہ مائِل ہے بہت رُوحِ حیات
ہَر طَرَف شورِ اَنالحق جو فزوں ہے یُوں ہے
زُعمِ دانائی کو اِدراکِ حَقیقَت تھا مُحال
یہ مِرا صَدقَہِ اَندازِ جُنوں ہے یُوں ہے
تُم نے دیکھی ہی نہیں ہے تَپِشِ دَشتِ خَیال
ذِہن کی آبلہ پائی جو فُزوں ہے یُوں ہے
بحرِ مَوّاجِ بَشَر اَپنی حَقیِقَت کو نَہ بُھول
سَرحَدِ عِجز پَہ تُو قَطرَہِ خُوں ہے یُوں ہے
اَز اَزَل تا بَہ اَبَد خالِق و مَخلُوق کا کھیل
ہَم یہی سُنتے چَلے آئے ہیں کیوں ہے یُوں ہے
عَدل و اِنصاف کی تعریف مُکَمَّل کَر دُوں
حُکم اُس کا ہے مِرا صَبر و سُکوں ہے یُوں ہے
میں وہی ہُوں کہ جو تھا، تُجھ کو لگا ہُوں بہتَر
صَیقَلِ آئینَہِ ظَرف فُزوں ہے یُوں ہے
حُسن آمادَہِ اِظہارِ نَدامَت ہے ضَرور
عشق کے سامنے یہ سر جو نِگوں ہے یُوں ہے
مُشتِ خاک اَور یہ ہَنگامَہِ ہَستی ضامنؔ!
قید میں رُوح کا اِک رَقصِ جُنوں ہے یُوں ہے
ضامن جعفری

کیا اہلِ خِرد کیفِ جنوں ڈھونڈ رہے ہیں

اِس عالمِ وحشت میں سکوں ڈھونڈ رہے ہیں
کیا اہلِ خِرد کیفِ جنوں ڈھونڈ رہے ہیں
قاتل بھی ہے خنجر بھی ہے موجود مگر لوگ
مقتول کے ہاتھوں ہی پہ خوں ڈھونڈ رہے ہیں
اے ظرفِ تنک مایَہِ دنیائے دَنی، ہم
ظرف اب کوئی وسعت میں فزوں ڈھونڈ رہے ہیں
پس منظرِ "کُن” کیا تھا ہمیں بھی تو ہو معلوم
ہم لمحہِ قبل از "فَیَکُوں” ڈھونڈ رہے ہیں
معلوم نہیں حلقہِ احباب میں ضامنؔ
وہ چیز جو ناپید ہے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں
ضامن جعفری

زَخمِ دِل ایسے سُلَگتا نہیں دیکھا کوئی

اس طرح کا کبھی منظر نہیں دیکھا کوئی
زَخمِ دِل ایسے سُلَگتا نہیں دیکھا کوئی
نِذرِ گلچیں جو کرے شاخ سے خود توڑ کے گُل
باغباں ہم نے تَو ایسا نہیں دیکھا کوئی
آج ہم آپ کو آئینہ دِکھائیں گے ضرور
آپ نے حُسنِ سَراپا نہیں دیکھا کوئی
لگ نہ جائے کسی حاسِد کی نَظَر اِس لیے ہم
دِل میں کہہ لیتے ہیں تم سا نہیں دیکھا کوئی
کھیل اُلفَت کا بہت کھیلنے والے دیکھے
جان پر کھیلنے والا نہیں دیکھا کوئی
کیا شکایت وہ اندھیروں کی کرے گا ضامنؔ
عمر بھر جس نے اُجالا نہیں دیکھا کوئی
ضامن جعفری

نَظَر نے جھُکنا ابھی تَو سیکھا ہے جب سے یہ کچھ بڑی ہُوئی ہے

اَزَل سے حُسن اَور چَشمِ حیَراں کو اپنی اپنی پڑی ہُوئی ہے
نَظَر نے جھُکنا ابھی تَو سیکھا ہے جب سے یہ کچھ بڑی ہُوئی ہے
ضمیرِ انساں نے حَدِّ امکاں کی رفعتوں پر پُہنچ کے دیکھا
جِلَو میں اس کے کوئی نہ کوئی اِک آرزو بھی کھَڑی ہُوئی ہے
بَتائے کوزہ گروں کو کوئی کہ زینتِ چاک اَور کیا ہے
وہ مُشتِ خاک اُن کے راستوں میں جو ہر قَدَم پر پَڑی ہُوئی ہے
یہ رُوح و تَن کا مُناقَشہ جو اَزَل سے ہے تا اَبَد رہے گا
نہ رُوح بھاگی نہ تَن دَبا ہے نَظَر نَظَر سے لَڑی ہُوئی ہے
یہ احسن الخلق یا اِلٰہی کہیں نہ ہو سعیِ رایگاں ہی
کہ اس کی فطرت جہاں تھی پہلے وَہیں ابھی تک گَڑی ہُوئی ہے
ہُوئی نہ باغِ عَدَم میں سَرزَد خَطا کَبھی کوئی ہَم سے ضامنؔ
ہُوئی بھی ہو تَو یہ قیدِ ہَستی سَزا زِیادَہ کَڑی ہُوئی ہے
ضامن جعفری

ہر سانس میں رچ بس جاتی ہے یہ آگ قیامت ہوتی ہے

آزاد ہو جو ہر خواہش سے ایسی بھی محبت ہوتی ہے
ہر سانس میں رچ بس جاتی ہے یہ آگ قیامت ہوتی ہے
اس درجہ خلوص و الفت پر دنیا تو یقینا چَونکے گی
ہر ایک پہ شک ہر اِک پہ شبہ، یہ ایک روایت ہوتی ہے
جب اُن سے لڑائی ہوتی ہے یہ سوچ کے میں ہنس پڑتا ہوں
ویسے تو علامت اچھی ہے، اپنوں سے شکایت ہوتی ہے
امید پہ دنیا قائم ہے یہ ٹوٹتی بنتی رہتی ہے
ہر روز کا مرنا جینا ہے ہر روز قیامت ہوتی ہے
بہتر ہے یہی ہم تم دونوں قصہ کو ادھورا رہنے دیں
خود لوگ مکمل کر لیں گے لوگوں کو تو عادت ہوتی ہے
وہ ساعت جانے کون سی تھی جب ہم نے روگ یہ پالا تھا
اِس کارِجنوں سے اب دیکھیں کب ہم کو فرصت ہوتی ہے
جب ربطِ مسلسل تھا اُن سے اُس وقت اور اب میں فرق یہ ہے
پہلے تو ذرا سی قربت تھی اب روز قیامت ہوتی ہے
مجبور ہوں اپنی فطرت سے، ضامنؔ! میں سراپا اُلفت ہوں
میں عشقِ مجسّم کیا جانوں کیا چیز یہ نفرت ہوتی ہے
ضامن جعفری

خود کو کھو دیجئے سُرخ رُو کیجئے

آرزو کیجئے جُستُجو کیجئے
خود کو کھو دیجئے سُرخ رُو کیجئے
رُوح کی مانیے ہاؤ ھُو کیجئے
آئینہ لیجئے رو بَرو کیجئے
دل سے تنہائی میں گفتُگو کیجئے
اُس سے مِلنا ہو گر تَو وضو کیجئے
عشق وہ چیز ہےکُو بَہ کُو کیجئے
آج ضامنؔ سے کچھ دُو بَدُو کیجئے
ضامن جعفری

جُستُجو کیجئے

آرزو کیجئے
جُستُجو کیجئے
خود کو کھو دیجئے
سُرخ رُو کیجئے
رُوح کی مانیے
ہاؤ ھُو کیجئے
آئینہ لیجئے
رو بَرو کیجئے
دل سے تنہائی میں
گفتُگو کیجئے
اُس سے مِلنا ہو گر
تَو وضو کیجئے
عشق وہ چیز ہے
کُو بَہ کُو کیجئے
آج ضامنؔ سے کچھ
دُو بَدُو کیجئے
ضامن جعفری

اب مجھے یہ امتحاں کھَلنے لگا

ارتباطِ جسم و جاں کھَلنے لگا
اب مجھے یہ امتحاں کھَلنے لگا
اک متاعِ زندگی لگتا تھا جو
اب وہ حرفِ رایگاں کھَلنے لگا
آنچ آئی جب اصولوں پر مرے
التفاتِ دوستاں کھَلنے لگا
تیری منزل تھی مرا نقشِ قدم
اب مرا نام و نشاں کھَلنے لگا
اشکبار آنکھوں نے مانگی ہے دعا
آگ لگ جائے، دُھواں کھَلنے لگا
کب تلک قتلِ زبان و حرف و لفظ
شاعرِ شعلہ بیاں کھَلنے لگا
علم و دانش، حرف و فن آزاد ہَوں
حلقۂ دانشوراں کھَلنے لگا
کب سے ہُوں محرومِ کنجِ عافیت
یہ جہانِ اَبلَہاں کھَلنے لگا
فطرتِ آزاد کو ضامنؔ مری
ہر جگہ اک آسماں کھَلنے لگا
ضامن جعفری

دستِ گلچین را رگِ گُل نیشتر باید شُدَن

اَر بِخواہی زیستن شوریدہ سر باید شُدَن
دستِ گلچین را رگِ گُل نیشتر باید شُدَن
آرزوہا غنچہ خُسپیِدند از روزِ اَزَل
ساز و سر انجامِ دل طَورِ دِگر باید شُدَن
اے گِلِ کوزہ نمی پُرسی چِرا از دوَرِ چرخ
تا بَہ کَے کوزہ شَوَم کوزہ گَرَم باید شُدَن
تا ہمینِ نیک و بد باہمدگر یکجان شَوَند
ریشِ جان را یک علاجے نیشتر باید شُدَن
سہل ناید این سفر ضامنؔ بدین رنج و الَم
اَندَکی رفتارِ گردون تیز تر باید شُدَن
ضامن جعفری

لوگ کہتے ہیں کچھ ہُوا ہی نہیں

آدمی آدمی رہا ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں کچھ ہُوا ہی نہیں
وہ جو ہوتا ہے سب کو دنیا سے
وہ تعلّق تَو مجھ کو تھا ہی نہیں
سب ہی بے دست و پا سے لگتے ہیں
کوئی گِرتَوں کو تھامتا ہی نہیں
سَو سوالوں کا اِک جواب یہ ہے
مجھ سے پوچھا گچھا گیا ہی نہیں
میں کہ واقف ہُوں ساری دُنیا سے
آپ اپنے کو جانتا ہی نہیں
جب بھی آیا وہ مجھ سے ملنے کو
میں وہ کمبخت! گھر پہ تھا ہی نہیں
دولتِ دل تَو بانٹ دی ضامنؔ
اب مرے پاس کچھ رَہا ہی نہیں
ضامن جعفری

دِل پریشان ہے کہ کیا ہو گا

آج پھر اُن سے سامنا ہو گا
دِل پریشان ہے کہ کیا ہو گا
گفتگو سے کریں گے وہ بھی گریز
دل ہمیں بھی سنبھالنا ہو گا
پھر کوئی بات ہو گئی ہو گی
کچھ نگاہوں نے کہہ دیا ہو گا
کیا ہُوا ہم جو ہمسَفَر نہ ہُوئے
شہر بھر ساتھ ہو لیا ہو گا
دوستی میں تَو یہ بھی ہوتا ہے
لڑکھڑائے تو تھامنا ہو گا
ہم نے سمجھا دیا تھا دیکھ اے دِل
زندگی بھر کا سلسلہ ہو گا
پھر خیالوں میں کھو گئے ضامنؔ
کوئی چپکے سے آ گیا ہو گا
ضامن جعفری

جو ہاتھ دل پہ تھا یدِ بیضا نہیں ہُوا

اِتنا بھی تجھ سے سوزِ تمنّا نہیں ہُوا
جو ہاتھ دل پہ تھا یدِ بیضا نہیں ہُوا
بخشی وفا کو اُس نے یہ کہہ کر حیاتِ نَو
حیرت ہے کوئی زخم پُرانا نہیں ہُوا
تنہائی بولنے لگی، تم جب چلے گئے
وہ انہماک تھا کہ میں تنہا نہیں ہُوا
ہم بھی ملے تھے دل سے، جب اُن سے ملا تھا دل
لیکن پھر اُس کے بعد سے ملنا نہیں ہُوا
ایوانِ دل میں گونج رہا ہے سکوتِ مرگ
اِک عرصۂ دراز سے کھٹکا نہیں ہُوا
کیوں قَیسِ عامری اُنہَیں آیا ہے یاد؟ کیا؟
دشتِ جنوں کو ہم نے سنبھالا نہیں ہُوا؟
کم ظرفیوں کے دوَر میں جینا پڑا ہمیں
معیارِ ظرف کے لئے اچھّا نہیں ہُوا
ضامنؔ! مروّتیں بھی تھیں ، مجبوریاں بھی تھیں
وہ منتظر تھے، ہم سے تقاضا نہیں ہُوا
ضامن جعفری

کچھ بھی ہوجائے پریشاں نہیں ہوتا کوئی

اب کسی بات پہ حیراں نہیں ہوتا کوئی
کچھ بھی ہوجائے پریشاں نہیں ہوتا کوئی
عقل نے ڈال دیے جب سے جنوں پر تالے
خود سے بھی دست و گریباں نہیں ہوتا کوئی
سر بَہ سجدہ ہُوئے اِک روز ملائک پھر بھی
قائلِ عالمِ امکاں نہیں ہوتا کوئی
گوشہِ عافیت اِک سب کے ہے اندر موجود
جانے کیا سوچ کے مہماں نہیں ہوتا کوئی
چشمِ گریاں سے ٹَپَک پڑتا ہے ضامنؔ یہ سوال
کیسا گلشن ہے غزل خواں نہیں ہوتا کوئی
ضامن جعفری

مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں

اب صحنِ چمن میں کچھ بھی نہیں ہر چیز کو رو کر آیا ہُوں
مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں
شُہرہ تھا بہت صنّاعی کا چرچا تھا بہت گُل کاری کا
دیکھا تَو لہو کے چھینٹے تھے اشکوں سے جو دھو کر آیا ہُوں
اُمّید کو زیرِ خاک کِیا دامانِ تمنّا چاک کِیا
میں خُونِ جگر قطرہ قطرہ لَڑیوں میں پرو کر آیا ہُوں
رہبر جو مِلے رہزن نکلے منزل جو چُنی منزل ہی نہ تھی
اُور زادِ سفر کا بھی یہ ہُوا جو تھا بھی وہ کھو کر آیا ہُوں
جس شخص کو بھی دیکھا ضامنؔ وہ غرقِ شکوہِ ماضی تھا
ہر ایک کِرَن مستقبل کی ماضی میں ڈبو کر آیا ہُوں
ضامن جعفری

لے دے کے فقط ساتھ ہے بے بال و پَری کا

اب دَور کہاں عشوہ گری خوش نَظَری کا
لے دے کے فقط ساتھ ہے بے بال و پَری کا
تزئینِ در و بامِ مہ و سال ہے جاری
ہر زخم چراغاں ہے مری بارہ دَری کا
ہر داغِ تمنّا ہے کسی بت کا تعارف
ہر زخم قصیدہ ہے کسی چارہ گری کا
سمجھے ہی نہیں اہلِ خرد کیفِ جنوں کو
کچھ ذائقہ چکھتے تَو سہی بے خَبَری کا
کیوں حُسن نے برپا کیا ہنگامۂ محشر؟
مقصد ہے تماشا مری آشفتہ سَری کا
فردوسَبدَر جب سے ہُوئے حضرتِ ضامنؔ
معیار زمانے میں ہُوئے در بَدَری کا
ضامن جعفری

تعارف

-۱-

بقدرِ شوق نہیں ظرف تنگَنائے غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

غالب کا یہ شعر عموماًغزل پر نظم کی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ یہاں خیال اور ہیئت کے ناگزیر رشتے کی بات کی گئی ہے ۔ ہر سچے فن کار کے ہاں خیال اپنی ہیئت کا تعین خود کرتا ہے۔ جو بات نظم میں کہی جاسکتی ہے وہ نظم ہی میں کہی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی موضوع کے لیے ناول درکار ہے تو کوئی بھی اور صنف اس کے اظہار سے قاصر ہو گی۔ ’’کچھ اور چاہیے وسعت‘‘ سے یہ واضح ہے کہ غزل کی یکسر نفی مقصود نہیں ۔ شوق کا جو حصہ بیان ہونے سے رہ گیا ہے وہ غزل میں نہیں سمویا جا سکتا۔ اس کے لیے کوئی ’’ظرف‘‘ چاہیے۔ مختلف اصنافِ سخن وہ امکانی ظروف ہیں جن کے ذریعے خیالات اظہار پاسکتے ہیں ۔

ناصر کاظمی بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں لیکن انھوں نے نظمیں بھی لکھیں اور مضامین بھی اور ’’سر کی چھایا‘‘ کی صورت میں ایک ڈرامہ تخلیق کیا۔ دراصل ان کا تمام تر تخلیقی سفر نت نئے جہانوں کی جستجو سے عبارت تھا۔

’’سر کی چھایا‘‘ ہیئت کے اعتبار سے ڈرامہ ہے اور روح کے اعتبار سے شاعری۔

ہر منظر گویا کسی نظم کا بند ہے۔ ہر مکالمہ قافیہ ردیف سے آزاد لیکن کسی نہ کسی بحر کا پابند ہے۔ ہر کردار شروع سے آخر تک ایک مخصوص بحر میں گفتگو کرتا ہے۔ مثلاً مرکزی کردار عبدل کی ہر بات اس بحر میں ہے: فعلاً فعلاً فعلاً فعلاً ۔

منظوم ڈرامے پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس کی زبان غیرفطری اور مصنوعی، اور امکانات محدود ہوتے ہیں ۔ ٹی ایس ایلیٹ اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر زندہ اور بڑے نثری ڈرامے کے کردار جو زبان بولتے ہیں وہ عام زندگی میں بولی جانے والی زبان سے اتنی ہی مختلف ہوتی ہے جتنی کہ نظم۔ نظم کی طرح یہ بھی بار بار لکھی گئی ہوتی ہے۔ ادیب اپنے اردگرد بولی جانے والی زبان میں سے بہت کچھ مسترد کرتا ہے اور جو کچھ چنتا ہے اسے بھی ایک خاص ترتیب دیتا ہے۔ اس سلسلے میں کئی نئے الفاظ تخلیق کرتا ہے۔ گویا ادب کی زبان بہت زیادہ نتھری اور منجھی ہوئی ہوتی ہے۔ سان اوکیسے (SEAN O’ CASEY) کہتا ہے کہ اگر گلی یا ڈرائنگ روم میں بولا جانے والا کوئی مکالمہ ہوبہو کسی ڈرامے میں شامل کردیا جائے تو نتیجہ نہایت مضحکہ خیز اور بھونڈا ہو گا۔ ڈی ایچ لارنس ادبی کلام (ART SPEECH) اور روزمرہ بول چال (CONTEMPORARY SPEECH) میں تفریق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صرف ادبی کلام ہی کلام کہلانے کا مستحق ہے (ART SPEECH IS THE ONLY SPEECH)۔

دنیائے ادب کا مطالعہ لارنس کی اس بات کی تائید کرتا ہے۔ مثلاً اگر ہم شیکسپیئر کے کسی ہم عصر کو پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس کی زبان شیکسپیئر سے کتنی مختلف ہے۔ اس کے ہمعصر حقیقت نگاری کے شوق میں اپنی ہمعصر زبان لکھتے رہے۔ اسی لیے زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریریں غیرمقبول اور غیرمعروف ہوتی گئیں ۔ زبان تو سدا ارتقائی منازل میں رہتی ہے۔ وقت کی کسوٹی پر وہی تحریر پوری اترتی ہے جو تخلیقی ہو اگر اس اعتبار سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ نثری ڈراموں کی نثر بھی ایسی ہی مصنوعی ہوتی ہے جیسی کہ نظم یا بصورتِ دیگر نظم بھی ایسی ہی فطری ہو سکتی ہے جیسی کہ نثر۔ البتہ شاعری کو ڈرامے کا ذریعہ بنانے کے ضمن میں ایلیٹ نے ایک تنبیہہ بھی کر رکھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر شاعری سجاوٹ کے لیے ایک اضافی سامانِ آرائش کے طور پر استعمال ہو یا صرف اس لیے کہ ادبی ذوق کے لوگوں کو ڈرامہ دیکھتے وقت شاعری سننے کا لطف بھی فراہم کیا جائے، تو یہ بالکل بے جا ہو گی۔ اسے محض شاعری کی ڈرامائی تشکیل ہونے کی بجائے ڈرامائی حیثیت میں اپنا جواز پیش کرنا چاہیے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسا کوئی ڈرامہ منظوم نہیں ہونا چاہیے جس کے لیے نثر ڈرامائی طور پر موزوں ہو۔

منظوم ڈرامے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نثر بہت سے جذبات اور احساسات کے اظہار سے قاصر ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنھیں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو جب ’’ہمارے‘‘ الفاظ مافی الضمیر کے اظہار کے لیے مایوس کن حد تک ناکافی نظر آتے ہیں ۔ ہر وہ شخص جسے کبھی اپنے کسی عزیز کو تعزیتی خط لکھنا پڑا ہو، اس بات سے بخوبی واقف ہو گا۔ ’’ہماری‘‘ زبان کی بے چارگی اس وقت بھی سدِراہ بنتی ہے جب ہمارا سامنا عظیم الشان حسن، کراہت انگیز بدصورتی، شدید تکلیف، غیرمعمولی اچھائی یا خوفناک عیاری سے ہوتا ہے۔ ہم میں سے بیشتر نے دیکھا ہو گا؛ اگر محسوس نہیں کیا کہ شدید غصے یا رنج کے عالم میں کچھ نہ کہہ سکنے کی بے بسی، دم گھٹنے کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے اور خوشی اتنی بلندیوں کو چھو سکتی ہے کہ ہم الفاظ نہ ملنے کے باعث رو پڑتے ہیں ۔ اس قسم کی صورتِ حال میں صرف شاعری ہی جذبے کا کچھ اظہار کر پاتی ہے کیونکہ شاعری روزمرہ زبان کی بہ نسبت ہماری داخلی سچائی کے قریب تر ہوتی ہے۔ پس شاعری انسانی روح کی ایک مستقل خواہش اور ضرورت ہے اور ڈرامے کا ایک فطری ذریعہ۔

-۲-

پھر کئی لوگ نظر سے گذرے

پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا

ڈرامے کا ڈھانچہ کچھ اِس طرح سے ہے کہ زیادہ تر مناظر کرداروں کے ماضی سے متعلق ہیں ۔ پہلا منظر گاڑی کے ایک ڈبے کا اندرونی منظر ہے۔ احمد، فیاض اور مولوی صاحب باتیں کر رہے ہیں ۔ مرکزی کردار عبدل ایک طرف بیٹھا ہے۔ اس کا آبائی گاؤں سورج پور جو احمد اور فیاض کی منزل ہے، راستے میں پڑتا ہے۔ وہ عبدل کو نہیں پہچانتے مگر ان کی باتیں سن کر عبدل انہی ں پہچان جاتا ہے۔ فیاض اس کے بچپن کا ساتھی ہے اور احمد اس کے دوست اکبر کا کاروبار میں حصہ دار ہے۔ اپنی محبوبہ نندی سے آخری ملاقات اس کی آنکھوں میں پھر جاتی ہے:

کہاں ہو نندی؟ یاد ہیں وہ دن؟

جب ہم چھوٹے چھوٹے سے تھے!

————

میں اور حسنی کھیل رہے تھے!!

اگلے پانچ مناظر عبدل کی یادوں کا حصہ ہیں ۔ دوسرا منظر 24 برس پہلے بچپن کا ہے اور باقی چار نوجوانی کے دَور کے۔ ساتواں منظر ہمیں پھر ریل کے اندر لے آتا ہے۔ عبدل کھڑکی کے پاس بیٹھا سوچ رہا ہے۔ احمد اور فیاض دوسری طرف بیٹھے باتیں کر رہے ہیں ۔ پہلے فیاض اپنے حافظے سے کچھ باتیں بیان کرتا ہے اور پھر احمد:

میں نے وہ رات دیکھی ہے جب آسمان سرخ تھا

اگلے پانچ مناظر احمدکی یادوں پر مشتمل ہیں جو اس ترتیب سے پیش کی گئی ہیں کہ کہانی مکمل طور پر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ آخری منظر پھر ریل گاڑی کا ہے۔ رات گہری ہوچکی ہے۔ سورج پور بہت نزدیک آچکا ہے۔ احمد اور فیاض بدستور باتیں کر رہے ہیں ۔ عبدل گہری سوچ میں سر جھکائے بیٹھا ہے۔ اسے طرح طرح کے خیال آوازیں دیتے ہیں ۔ اچانک گاڑی رُک جاتی ہے۔ فیاض پہلی بار عبدل سے مخاطب ہوتا ہے۔

کون سا اسٹیشن ہے بھائی؟

آپ یہاں اتریں گے صاحب؟

احمد: نہیں ! یہ تو جنگل ہے!

-۳-

کہتے ہیں کشمکش ڈرامے کی جان ہے۔ ’’سُرکی چھایا‘‘ میں داخلی اور خارجی دونوں کی طرح کی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ خارجی کشمکش پھر دو طرح کی ہے: فرد کے خلاف جیسے عبدل اور بلھے کی اور پھر حسنی اور بلھے کی کشمکش بلکہ چپقلش دوسری، فرد اور معاشرے کی باہمی کشمکش جس کا شکار عبدل، نندی اور حسنی ہوتے ہیں ۔ لیکن ’سر کی چھایا‘ بنیادی طور پر داخلی کشمکش کا ڈرامہ ہے۔ عبدل اس کا شکار پہلی بار اس وقت ہوتا ہے جب لوگ جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں ۔

نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن

————

بولو نندی کہاں چھپی ہو؟

باہر جاؤں !

لیکن نندی

نندی مر جائے گی عبدل

————

اگلے منظر میں جب عبدل چھپتا چھپاتا گھر آتا ہے اور اپنے ماں باپ کی گفتگو سنتا ہے تو ایک نئی کشمکش میں پھنس جاتا ہے۔ ’’کبھی وہ بوڑھے ماں باپ کی طرف دیکھتا ہے کبھی بدنامی کا ڈر اسے ستاتا ہے۔ نندی کے بعد وہ اب گاؤں میں ٹھہرنا نہیں چاہتا۔‘‘

آواز: وہ رستہ ہے!

راتوں رات نکل جا عبدل!

عبدل: لیکن یہ میرا گھر!

یہ میرے ماں باپ!

کہاں جاؤں گا؟

نندی! میرے ارمانوں کا آخری سنگم

آواز: اب اس پیڑ سے اڑجا

اس کی جڑیں اب سوکھ چکی ہیں

————

————

اس کے بعد عبدل ساتویں منظر میں نظر آتا ہے۔ وہی پہلا، گاڑی والا منظر۔ اب وہ ایک نئی کشمکش میں مبتلا ہے۔ سورج پور، اس کی مٹی، اس کا گاؤں ، راستے میں پڑتا ہے:

ایک کرن پھر وقت کی سیڑھی سے اُتری ہے

لیکن میں تو —- اس دھرتی میں میرا کوئی نہیں ہے

سات برس کے بعد یہاں سے پھر گزرا ہوں

وہی پہاڑ اور وہی نظارے!

اس وادی میں کیسے اتروں !

اس دھرتی سے میرا ناطہ ٹوٹ چکا ہے۔

اپنے وقت کا اک اک ساتھی چھوٹ چکا ہے

آخری منظر میں عبدل کی کشمکش اور ذات کی تقسیم اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اُسے طرح طرح کے خیال آوازیں دیتے ہیں اور وہ باری باری ان کا جواب بھی دیتا ہے۔ ’’آواز‘‘ کی ’’تجاویز‘‘ یا ’’آرائ‘‘ کے حق میں یا خلاف فیصلے بھی کرتا ہے۔

آواز:۔ سورج پور اُترو گے عبدل؟

وہاں نہ جانا!

وہاں ترا اب کوئی نہیں ہے!

عبدل: اس دھرتی سے میرا ناطہ ٹوٹ چکا ہے۔

————

آواز: تو نے نندی کو مارا ہے!

تو نے اس کا خون پیا ہے!

تو نے حسنی کو مارا ہے!

تو اپنے ماں باپ کا قاتل

تو ہی بلھے کا قاتل ہے۔

اتنے تن داروں کا خون تری گردن پر!

تو خونی ہے!

توقاتل ہے!

عبدل: تو جھوٹا ہے

نندی اپنی موت مری ہے

حسنی میرا جگر ی دوست تھا

آواز: تو بزدل ہے!

تو نے سورج پور کو اجاڑا

عبدل: تو جھوٹا ہے!

تو بزدل ہے!

اس کے علاوہ ہمیں ایک اور کشمکش کا سراغ بھی ملتا ہے۔ وہ ہے طبقاتی کشمکش۔ چھٹے منظر میں عبدل کی ماں نصیبن، جب اپنے بیٹے کی جان کے بارے میں متفکر ہوتی ہے تو نہایت بے بسی اور غصّے کے عالم میں کہتی ہے:

نہ ہوا اس وقت میری ماں کا جایا

دیکھ لیتی ان زمینداروں کا مان

میرے بیٹے کو اگر کچھ ہو گیا تو شیرمے پی لوں گی ان کے !

پھر آٹھویں منظر میں احمد چکی کی آواز سن کر کہتا ہے:

یہ آٹے کی چکی ابھی تک یونہی چل رہی ہے

یہ چکی میں کیا پس رہا ہے؟

۔۔۔ مگر گاؤں بھر میں دہائی مچی ہے کہ آٹا نہیں

کال ہے، لوگ مرجائیں گے۔

لوگ بھوکوں مرے جا رہے ہیں

————

————

یہ سب نفع خوروں کی سازش ہے

غلّے کا توڑا نہیں !

اپنے کھیتوں کو دیکھو!

ذرا اپنی فصلوں کو دیکھو!

ہری ہیں ، بھری ہیں !

مگر یہ زمیندار، یہ کالی منڈی کے تاجر!

-۴-

سوائے عبدل کے سبھی کردار TYPES ہیں ۔ نندی روایتی محبوبہ ہے جس کے ایک طرف عاشق کی محبت ہے اور دوسری طرف گھر والوں کی عزت۔ محبوب سے ملنے کی شدید خواہش بھی ہے اور ’’ظالم سماج‘‘ کا زبردست خوف بھی جس کی نمائندگی اس کا بھائی بلھا اور اس کے ساتھی کرتے ہیں ۔ عبدل کے ماں باپ روایتی ماں باپ ہیں جنھیں اپنی اولاد کے دلوں سے زیادہ لوگوں کی زبانوں کا خیال ہوتا ہے۔ احمد، حسنی اور اکبر افسانوی دنیا کے جاں نثار ساتھی ہیں ۔

ان سب کے برعکس عبدل دنیائے ادب کے بیشتر رومانوی مرکزی کرداروں سے مختلف نظر آتا ہے، مثلاً نندی کو کھودینے پر نہ تو وہ فرہاد کی طرح سر پھوڑتا ہے نہ مجنوں کی طرح دیوانہ ہو جاتا ہے، نہ رومیو کی طرح زہر پیتا ہے نہ ورتھر کی طرح اپنی کنپٹی میں گولی اتارتا ہے۔ جب جنگل میں آگ لگتی ہے اور نندی بچھڑ جاتی ہے تو عبدل اسے ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کرتا ہے لیکن جلد ہی اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ کامیابی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس کے اندر سے آواز آتی ہے۔

الٹے پاؤں ہٹ جا عبدل

نندی اب نہ ملے گی

اس کی قسمت میں جلنا ہے

الٹے پاؤں ہٹ جا!

اس کا پہلا ردعمل اس کے خلاف ہوتا ہے اور بڑا شدید:

لیکن نندی! اسے اکیلا چھوڑ کے جاؤں !

نہیں نہیں میں جل جاؤں گا!

جل جاؤں گا!

جل جاؤں گا!

لیکن پھر اس کے اندر کا حقیقت پسند انسان اسے سمجھاتا ہے:

آگ کسی کی میت نہیں ہے

اپنی جان بچالے عبدل!

نندی اب نہ ملے گی

اندھی آگ کا رستہ چھوڑ کے راتوں رات نکل جا پیارے

وہ رستہ ہے!

————

اوربالآخر عبدل یہ مشورہ قبول کرلیتا ہے اور دل پر پتھر رکھ کے وہ ’’رستہ‘‘ اختیار کر لیتا ہے:

ناصر یہ وفا نہیں جنوں ہے

اپنا بھی نہ خیرخواہ رہنا

اس کے بعدجب ’’آواز‘‘ اسے قائل کر لیتی ہے کہ اب اس کے ’’پیڑ‘ ‘ کی جڑیں سوکھ چکی ہیں ! اس کے ’’پھل‘‘ کو اندر سے ’’کیڑوں ‘‘ نے چاٹ لیا ہے اور اب اس میں کبھی ’’رس‘‘ نہیں پڑے گا تو وہ گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتا ہے اور ’’کڑوے نیم کی ٹہنی‘ ‘ چن لیتا ہے۔

سات برس گزر جانے کے بعدبھی اگرچہ اسے ضمیر کی خلش کبھی کبھی تنگ کرتی ہے لیکن اسے یقین ہے کہ نہ تو اس نے بے وفائی کا مظاہرہ کیا تھا نہ بزدلی کا۔ آخری منظر میں جب ’’آواز‘‘ اسے ملامت کا نشانہ بناتی ہے تو وہ اپنا پورا پورا دفاع کرتا ہے۔

-۵-

ریل کے منظر کے علاوہ ’’سر کی چھایا‘‘ کے تمام مناظر ’’سورج پور‘‘ یا اس کے گردونواح کے ہیں اور سورج پور ایک گاؤں ہے۔ چنانچہ ہمیں ہر وہ بات نظر آتی ہے جودیہاتی زندگی اور ماحول میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً، مویشی، کنواں ، رہٹ، حقہ، ندی، مرچوں کے کھیت، سرسوں کی پھلچی، کیکر، املی، بڑھ، پیپل اور نیم کے درخت، دھوپ، چھاؤں ، تنبورہ، اِک تارہ، ناچ کتھا، میلے ٹھیلے، لوگوں کی سادگی، قناعت، ضعیف الاعتقادی، قسمت پر یقین وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سب سے زیادہ لائقِ توجہ جانور اور پرندے ہیں ۔ مضافات میں پائے جانے والے تقریباً تمام چوپائے اور پرندے موجود ہیں اور بعض تو باقاعدہ کرداروں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دوسرے منظر کے آغاز میں کرداروں کی فہرست یوں ہے:

پپو۔ (عبدل) عمر 6 سال

گٹی۔ (حسنی) عمر 8 سال

کٹو۔ گلہری

—- بندر

بلھا۔ سورج پور کے نمبردار کا لڑکا عمر 9 سال

نندی۔ بلھے کی بہن عمر 6 سال

منظر کے دوران میں کٹو کیکر کے تنے پر سے بار بار اترتی ہے، سڑک کے درمیان تک آتی ہے، پھر بندروں کے ڈر سے یا کوئی آہٹ سن کر لوٹ جاتی ہے۔ اور اس منظر کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ’’بلھا نندی کا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے گزر جاتا ہے اور کٹو پھر واپس کیکر کے تنے پر چڑھ جاتی ہے۔ بند ر شور مچاتے ہیں ۔

تیسرے منظر کے کرداروں میں گھوڑااور بیل بھی شامل ہیں اور باقاعدہ مکالمہ بھی کرتے ہیں ۔ ناچ کتھا میں ’’بندوساز چھیڑتا ہے اور حسنی ناچنے لگتا ہے۔ ہرنوں کی ایک ڈار چوکڑیاں بھرتی ہوئی گزر جاتی ہے۔‘‘

چوتھے منظر میں ’’عبدل سامنے ایک کیکر کے درخت پر گڑسل کو کنکر مارتا ہے‘‘ پھر نندی اور عبدل کے مابین جو مکالمہ ہوتا ہے اس میں اُلّو، نیل کنٹھ، چوہے، کالے ناگ، بھیڑوں اور اونٹوں کا ذکر آتا ہے اور فاختہ تو خاصی دیر موضوعِ گفتگو بنی رہتی ہے۔

ساتویں منظر میں بھوکی گائیں اور ان کے دودھ سے خالی تھن عبدل کے خیال میں آتے ہیں ۔ آٹھویں منظر میں حسنی کے گیتوں میں کونج، چیل، بل بتوریوں اور چڑیوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اکبر جنگلی کبوتروں کی ٹکڑیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بندو اُلّو کی آواز کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔

یہ پرندے، جانور اور درخت، محض پرندے، جانور اور درخت ہی نہیں ہیں ۔ جاندار ہونے کی حد تک ان کا درجہ انسانوں سے کچھ کم نظر نہیں آتا۔ مثلاً، ساتویں منظر میں فیاض کا کہنا:

ہاں کچھ ایسا ہی قصہ ہے

گھوڑ سواری کھیل نہیں ہے

اپنے پاس بھی دو گھوڑے ہیں

میں نے انہی ں بچوں کی طرح سے پالا ہے

یا جیسے آٹھویں منظر میں حسنی گاتا ہے :

چڑیاں ترسیں گھونٹ کو دھرتی دھول اڑائے

تم رہو اس دیس میں ہم سے رہا نہ جائے

پھر بعض کو تو عام سطح سے کچھ بلندتر مقام دیا گیا ہے۔ مثلاً چوتھے منظر میں فاختہ کے بارے میں نندی کہتی ہے:

امی کہتی تھیں یہ اک مقدس پرندہ ہے اس کونہیں مارتے!

اور آٹھویں منظر میں جب اکبر کبوتروں کو مارنے کی بات کرتا ہے تو بندو کہتا ہے:

بڑا ہی بھولا پنچھی ہے یہ سیّد اس کی ذات

بھرے سمے مت مارو اس کو مانو میری بات

یا ساتویں منظر کا یہ مکالمہ:

فیاض : گھوڑا تو بس قسمت والے کو ملتاہے

اس کے کانوں سے جنت کی ہوا آتی ہے

اس کی ٹاپ سے دھرتی کا دل کانپ اٹھتا ہے

احمد: مگر کالے گھوڑے کی کیا بات ہے

تم نے دیکھا ہے شاید وہ گھوڑا

وہی کالا گھوڑا!

وہ گھوڑا نہیں آدمی ہے!

اس کے علاوہ کچھ کو مبارک یا منحوس بھی گردانا گیا ہے۔ ساتویں منظر ہی میں احمد کہتا ہے:

مرے پاس بھی ایک چینا ہے

اس میں بڑا دم ہے بھائی!

بڑا ہی مبارک ہے یہ چینا گھوڑا

مرے پاس جس دِن سے ہے یوں سمجھ لو کہ بس لکشمی آ گئی

آٹھویں منظر میں حسنی گاتا ہے:

ایک کونج میں ایسی دیکھی اڑے چھوڑ کے ڈار

سانجھ بھئے جس دیس میں اترے وہاں نہ ہو اجیار

پھر الّو کی آواز سن کر بندو کہتا ہے :

یہ بولے جس گاؤں ماں پھر نہ بسے وہ گاؤں

یارو اب نئیں بولنا یہاں کسی کا ناؤں

اور گھوڑوں کی باتیں کرتے ہوئے احمد یہ بھی کہتا ہے:

بعض گھوڑا تو سچ مچ ہی منحوس ہوتا ہے

پرندوں اور جانوروں کے ساتھ ساتھ درخت بھی جاندار اور بعض انسانی خصوصیات کے حامل نظر آتے ہیں ۔ مثلاً چوتھے منظر میں نندی کہتی ہے:

شام کی خامشی میں درختوں پہ کنکر نہیں مارتے

شام کو پیڑ آرام کرتے ہیں عبدل

اور عبدل کہتا ہے: وہ املی کا درخت ابھی تک اسی طرح خاموش کھڑا ہے۔

یہ درخت ان کی یادوں کا محافظ اور محبت کا گواہ ہے۔ اس کے برعکس پیپل کا یہ درخت مخالف کی صورت میں نظر آتا ہے:

عبدل: اس تالاب کے پیپل کے نزدیک نہ جانا!

یہ سب کچھ ایسا بے معنی اور بے سبب بھی نہیں ۔ جغرافیائی حالات انسانی زندگی پر بے حد اثرانداز ہوتے ہیں ۔ کسی خاص قسم کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی بہت سی آسائشیں اور مشکلیں محض اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ وہ اُس خاص علاقے میں رہتے ہیں ۔ یہ وہ حالات ہوتے ہیں جن کے ہونے یا نہ ہونے پر نہ صرف یہ کہ انسان کا اختیار بہت کم ہوتا ہے بلکہ یہ اس کی مرضی کے خلاف اس کی زندگی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں ۔ انسان بے پناہ محنت اور توجہ سے ایک کام کرتا ہے مگر کوئی معمولی سا واقعہ یا حادثہ سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے:

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

گویا فطرت میں انسان کی موافق اور مخالف دونوں طرح کی قوتیں کارفرما ہیں ۔ منصوبہ بندی کرتے وقت ان کا خاص دھیان رکھنا چاہیے۔ پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ موافق قوتیں مخالف قوتوں میں بدل جائیں ۔ ایسا یا تو انسان کی اپنی کوتاہی سے یا باہر کے حالات میں یکدم اور بعض اوقات بڑے پیمانے پر تبدیلی آنے کے باعث ہوتا ہے۔ مثلاً، زندگی کرنے کے لیے ’’سورج پور‘‘ ایک مثالی گاؤں تھا۔ عمدہ فصلیں ، صحت مند مویشی، گھنا جنگل، بھرپور ندی، غرض جو چاہیے سو تھا۔ مگر جیسا کہ آخری منظر میں فیاض کی زبانی پتا چلتا ہے :

سات برس میں اس دھرتی کی ایسی کایا پلٹی!

پہلے جنگل راکھ ہوا، پھر کال پڑا

سیلاب تو بس ایسا آیا کہ توبہ میری!

دیہاتی ماحول کے ضمن میں ایک اور قابلِ توجہ بات دیہاتی زبان ہے۔ مشرقی پنجاب کے شہروں ، انبالہ اور پٹیالہ اور گردونواح میں بولی جانے والی زبان، ’’سر کی چھایا‘‘ میں کئی جگہ استعمال کی گئی ہے۔ مثلاً پہلے منظر میں ایک اسٹیشن پر ملی جلی آوازیں :

بیرا گڈی چلنے لاگی دوڑ کے آجا

تیرا ٹکس کہاں ہے؟

چھجو چاچا میرا بکسا کھڑکی ماں تے پھینک دے جلدی

اچھا اللہ بیلی بیرا!

ہو! چٹھی استابی پایئے!

تیسرے منظر میں کورس کی آواز:

اس بانکے رے ترچھے گھونگٹ ماں توں سارے جگ تے نیاری دیکھے

پھر ایک آواز: متھے پر جھمر لشکاں مارے مانگ ماں چمکیں ٹوماں

دوسری آواز: سارا گاؤں دہائیاں دیوے سہر ماں پڑگئیں دھوماں

پھر عورت کا کہنا : ہٹ دور پرے کل موئے

تو میرا جوبن چھوئے

تیری اکھیوں ماں ڈالوں سوئے

کل موئے

بیل اور گھوڑے کا تمام تر مکالمہ اسی زبان میں ہے۔ بندو از اول تا آخر یہی زبان بولتا ہے اور کہیں حسنی اور بلھا بھی۔ نویں منظر میں ’’ناری‘‘ سے اور دسویں منظر میں بلھے سے حسنی کے مکالمے زیادہ تر اسی زبان میں ہیں ۔

-۶-

اڑ گئے شاخوں سے یہ کہہ کر طیور

اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے

ہجرت ’’سر کی چھایا‘‘ کا ایک اہم موضوع ہے۔ ناموافق حالات میں انسان نقل مکانی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ جیسے آٹھویں منظر میں حسنی کہتا ہے:

چڑیاں ترسیں گھونٹ کو دھرتی دھول اڑائے

تم رہو اس دیس میں ہم سے رہا نہ جائے

لیکن ایسی صورتِ حال بھی پیدا ہو سکتی ہے جب عافیت اور بقا کا واحد راستہ ہجرت ہی ہوتا ہے۔ چھٹے منظر میں ’’آواز‘‘ کہتی ہے:

وہ رستہ ہے!

راتوں رات نکل جا عبدل!

لیکن برسوں کے رشتوں کو یکدم توڑ دینے کا تصور بھی جانکاہ ہے۔

عبدل: لیکن یہ میرا گھر!

یہ میرے ماں باپ !

کہاں جاؤں گا ؟

نندی میرے ارمانوں کا آخری سنگم!

اب ’’آواز‘ ‘ مدلّل طریقے سے عبدل کو قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے:

اب اس پیڑ سے اُڑجا

اس کی جڑیں اب سوکھ چکی ہیں

اس کے پھل کو اندر سے کیڑوں نے چاٹ لیا ہے

ہوا چلے یا پانی برسے

اب اس پھل میں رس نہ پڑ ے گا

چاند کی کرنیں دستک دے کر

الٹے پاؤں پلٹ جائیں گی

چھلکا پیلا پڑجائے گا

اب اس پیڑ سے اڑجا

دور کسی جنگل میں ڈال بسیرا

کڑوے نیم کی ٹہنی چن لے

’’پیڑ‘‘ خاندان اور گھر کی علامت ہے جس کی جڑیں (گاؤں سے رشتہ) سوکھ چکی ہیں ۔ اس کے پھل (مستقبل) کو کیڑوں نے ایسے کھوکھلا کر دیا ہے کہ اب کسی ’’ہوا‘ ‘یا ’’پانی‘‘ سے اس میں ’’رس‘‘ نہیں پڑسکتا ہے۔ ’’چاند کی کرنیں ‘‘ ہمدرد اور تعمیر میں ممد قوتیں ہیں جو آئیں گی ضرور لیکن مایوس ہو کر لوٹ جائیں گی جیسے کسی لاعلاج مریض کو دیکھ کر طبیب۔ چھلکا یعنی ظاہری روپ رفتہ رفتہ ماند پڑجائے گا۔ چنانچہ اب اپنے گاؤں میں عبدل کے پنپنے کا کوئی امکاں باقی نہیں رہا۔ اب چاہے اسے دور کسی جنگل میں بسیر اڈالنا پڑے، سورج پورسے بہرطور نکلنا ہو گا۔ پھل دار درخت کو چھوڑ نا ہو گا چاہے آشیانہ کڑوے نیم کی ٹہنی پر بنانا پڑے۔ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا، اگر چہ بڑی تلخ ہے۔

ہجرت ہی کے ضمن میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ بعض اوقات انفرادی اور اجتماعی ترقی اور تعمیر کے لیے ہجرت ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً، پہلے منظر میں احمداور فیاض کا یہ مکالمہ:

احمد: (فیاض سے)

آپ بھی اب نویں شہر میں گھر بنالیں

بڑی خوبصورت جگہ ہے

فیاض: جی ہاں !اپنا ارادہ تو پکا ہے

پھول گلی میں پچھلے برس دو قطعۂ زمین لیے تھے۔

اب تو نیویں کھدنے لگی ہیں ۔

اللہ کو منظور ہو ا تو گھر بھی جلدی بن جائے گا!

احمد: اب تو چاروں طرف سے وہاں لوگ بسنے لگے ہیں

نئی طرز کی کوٹھیاں بن رہی ہیں

کھلی صاف شیشہ سی سڑکیں ہیں

سٹرکوں کے دونوں طرف سنگتروں کے درختوں کا اِک سلسلہ ہے۔

یہی احمد سات برس پہلے (آٹھویں منظر میں ) نقل مکانی کی آرزو کرتا ہے مگر حالات اجازت نہیں دیتے:

چلو شہر میں چل کے ڈیرہ لگائیں

مگر بھائی ہم تو پنہ گیر ہیں

شہر میں کیا کریں گے ؟

وہاں ان دنوں کام ملنا بھی مشکل ہے

اپنا کوئی یار ڈپٹی کلکٹر ہی ہوتا

نہیں یا ر اب تو یہیں مر رہیں گے

اسی گاؤں میں گھر بنائیں گے

اب تو یہی تھل بسائیں گے

اب یہی احمد ’’پرانی‘‘ جگہ کو چھوڑ کر ’’نویں ‘‘ شہر میں ایک بہت بڑی حویلی میں رہتا ہے۔ اس کے برعکس حشمت، نصیبن اور بلھے کے ماں باپ جنھوں نے تعصب آمیز محبت کی وجہ سے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، سیلاب میں بہہ گئے۔ آخری منظر میں فیاض اور احمد کا یہ مکالمہ ان کے رویے پر ’’تبصرہ‘‘ کرتا ہے:

فیاض: بندو اور میں کشتی لے کر سب سے پہلے عبدل کے ڈیرے میں پہنچے

حشمت باوا اور نصیبن گھر سے نہ نکلے

احمد: میں بھی اس رات اکبر کو لے کر گیا تھا مگر وہ نہ مانے!

اجی یہ پرانے زمانے کے بوڑھے کسی کی نہیں مانتے

خیرا چھے تھے وہ لوگ!

دنیا میں اب ایسی شکلیں کہاں ہیں ؟

-۷-

پھر درد نے آگ راگ چھیڑا

لوٹ آئے وہی سمے پرانے

آگ ’’سر کی چھایا‘‘ کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک ہے۔ کبھی یہ شدید گرمی کی شکل اختیارکرتی ہے، کبھی کڑی دھوپ کی، کہیں یہ نفرت کا شعلہ ہے، کہیں حسد کا دھواں ، کبھی وصال کی آنچ اور کبھی فراق کی سوزش۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس گاؤں کی یہ کہانی ہے وہ ’’سورج پور‘‘ ہے۔ موسم گرمیوں کا ہے۔ پہلے منظر کے آغازہی میں احمد فیاض سے کہتا ہے:

دیکھیے نا اُدھر کس قدر دھوپ ہے!

آپ اِدھر میرے نزدیک آجائیں

پھر تھوڑی ہی دیر بعد کہتا ہے:

چار دن کتنی جھڑیاں لگیں پھر بھی گرمی کی شدت وہی ہے!

باتوں باتوں میں سورج پور کا ذکر آتا ہے تو سات برس پرانی آگ اور گاؤں کی بربادی کا تذکرہ ہوتا ہے۔ عبدل سوچتاہے:

سورج پور اب بھی نہ بسے گا

سورج پور! ۔۔۔ وہ آگ کی نگری!

وہ اندھیاری رات ۔۔۔ وہ جنگل!

چوتھے منظر میں زرینہ کا گانا سن کر یا سمینہ کہتی ہے:

اچھا جی اب میں سمجھی!

تو بھی جلی ہوئی ہے

پھر عبدل کہتا ہے:

ریت کے تارے آگ کی ہولی کھیل رہے ہیں

پانچواں منظر تو ہے ہی ’’آگ کا منظر‘‘ —- سات برس پہلے والا۔

عبدل: کیسے بھاگوں ؟

آگ —- آگ —- آگ

چاروں جانب آگ کا دریا

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

آواز: آگ کسی کی میت نہیں ہے

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

چھٹے منظر میں ’’جنگل کی آگ کے شعلے ابھی تک بھڑک رہے ہیں ۔۔۔‘‘

آٹھویں منظر میں : ’’۔۔۔ الاؤ کی آگ بھڑک رہی ہے‘‘ حسنی گاتا ہے:

رنگ برنگے گربڑے آگ کے پنکھ لگائے

گھپ اندھیری سانجھ ماں کس نے یہاں اڑائے

نویں منظر میں آگ اندر کی آگ بن جاتی ہے:

بھانبڑ جلے سریر ماں رنگ اچھالیں نین

من دیپے جس رین ماں یہی نہ ہو وہ رین

یا حسد کی آگ:

دھرتی اوپر نیلا گگن، گگن پہ ناچیں پھول

ان کی چھایا دیکھ کے جل میں جلیں بھنبھول

مگر کچھ ہی دیر بعد آگ اپنی اصل صورت میں سامنے آجاتی ہے:

احمد : ارے وہ اُدھر آگ!

اس آگ کے پاس ۔۔۔ اک آدمی زاد!

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

حسنی: دھڑ دھڑ جلے سوکھی لکڑی جگر جگر انگار

آگ کی اٹھتی لاٹ سے نکلیں سرخ انار

یہ آگ ناری کا پردہ بھی ہو سکتی ہے اور دفاع بھی:

اگنی برن کی اوٹ ماں ، اپنا بدن چھپا

او ناری او مورکھ ناری اپنا ناؤں بتا

پھر عذاب کی شکل بھی ہو سکتی ہے:

ناری: ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

بجلی پڑے ان محلوں پر، تم پر پڑو انگار

منظر جب ختم ہوتا ہے ’’تو آگ کے شعلے آسمان تک بلند ہو رہے ہیں ۔۔۔‘‘

دسویں منظر میں بھی ’’چاروں طرف سے جنگل دہڑ دہڑ جلتا ہے‘‘۔ پھر جب احمد پوچھتا ہے :

آگ کس نے لگائی تھی بھائی!

ملا کچھ پتہ ؟

تو ذہن میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ فساد کی جڑکون ہے؟ اصل قصور کس کا ہے؟

گیارھویں منظر میں آگ تعمیری کام کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ یہاں وہ انسان کی مطیع اور دوست ہے:

شیشہ گر: ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

یہ چمنی ہے! چمنی میں ایندھن جلتا ہے۔

ایندھن کولے کا ہوتا ہے۔ لکڑی اور پتھر کا کولہ!

یہ بھٹی ہے! بھٹی میں شیشہ پگھلتا ہے اور سانچوں میں گرتا رہتا ہے۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

بارھویں منظر میں گرمیوں کی دوپہر ہے اور ’’عورت ‘ کا گانا‘‘ آگ سے معمور ہے:

کنچن روپ دکھائے

سرگم سا (سارے گاما سا)

جل میں آگ لگائے

چھم چھم ناچے کھڑی دوپہری

دھوپ کی تانیں گہری گہری

سرگم سا

جل میں آگ لگائے

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

اورجب اکبر کہتا ہے: ہمارے مفتی گذر گئے ہیں

یہ آخری شمع رہ گئی تھی

تو آگ ٹھنڈک اور روشنی کا تاثر لیے ہوئے ہے۔

-۸-

چڑھتے سورج کی ادا کو پہچان

ڈوبتے دن کی ندا غور سے سن

یہ شعر ناصر کاظمی کی جس غزل کا ہے، انہی ں اس قدر پسند تھی کہ جب ان کے آخری انٹرویو میں ان سے شعر سنانے کی فرمائش کی گئی تو انھوں نے اس کا انتخاب کیا۔ کہا کہ ’’بعض وجوہ کی بنا پر مجھے پسندہے کہ طلوع و غروب کے مناظر ہیں ۔ حیرت و عبرت کہ دنیا میں کیا ہوتا ہے۔ کس طرح چیزیں ڈوبتی ابھرتی ہیں ۔ کس طرح صبح شامیں ہوتی ہیں ۔۔۔‘‘

اِتفاق کی بات ہے کہ ’’سر کی چھایا‘‘ میں بھی یہ طلوع و غروب اور چیزوں کا ڈوبنا ابھرنا بہت واضح طور پر دکھائی دیتا ہے :

رواں دواں لیے جاتا ہے وقت کا دھارا

’’سر کی چھایا‘’ جس کی ابتدا ’’کس قدر دھوپ‘‘ اور لوگوں سے بھرپور، بارونق گاؤں میں ہوتی ہے، ایسے مقام پر آ کر ختم ہوتی ہے، جہاں بے اختیار یہ شعر یاد آتا ہے۔

جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو

بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے

ڈرامے کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے:

’’شام کا وقت ہے ۔۔۔‘‘

’’وقت —- ڈھلتا سورج‘‘

جب فیاض پوچھتا ہے، ’’سورج پور اب تھوڑی دور ہی ہو گا؟‘‘ تو احمد کا جواب ہے، ’’نہیں گھر پہنچتے پہنچتے ہمیں رات پڑجائے گی۔‘‘ تھوڑی دیر بعد جب ’’گاڑی ایک ننھے سے اسٹیشن پر رک جاتی ہے، تو ’’سورج ڈوب رہا ہے۔‘‘ پھرمولوی صاحب باتوں باتوں میں کہتے ہیں :

بتوں کی چاہ گئی ہو برا ضعیفی کا

اِدھر تو پک گئے بال اور اُدھر سدھارے دانت

اپنا دن ڈوب چکا بابا!

یہاں دن ڈوبنے کے اور معنی ہیں ۔

صرف دوسرا اور تیسرا منظر ’’دن چڑھے‘‘ کا ہے۔ چوتھا منظر پھر شام کا۔

عبدل نندی سے پہلی بات یہی کرتا ہے:

آؤ میں تم کو گھر چھوڑ آؤں

دیکھو سورج کتنا نیچے اتر گیا ہے!

جب اکبر ملتا ہے تو اس کے جملے یہ ہیں :

بڑی اندھیری ہے آج کی شام

آندھی آئے گی

اب شام کے ساتھ ساتھ تاریکی اور آندھی بھی شریک ہو گئی۔ جب گھوڑ سواروں کے آنے پر گرد اڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو نندی کہتی ہے:

چلو اس بنی کے درختوں میں چھپ جائیں

رات ہو گئی ہے!

پانچواں منظر ایسے شروع ہوتا ہے: ’’اندھیرے جنگل میں عبدل نندی کو ڈھونڈتا ہے ۔۔۔ خاصی رات ہو گئی ہے۔‘‘ چھٹے منظر کا آغاز یہ ہے: ’’آدھی رات گذر چکی ہے۔‘‘ ساتواں منظر پھر ریل گاڑی کا ہے اور پہلا جملہ ہے، ’’سورج ڈوب رہا ہے۔‘‘ آٹھویں منظر میں بھی ’’شام ہو رہی ہے‘‘۔ نواں منظر ۔۔۔ ’’اندھیری رات ہے۔ سناٹا ایک حادثے کی طرح پھیلتا جا رہا ہے ۔۔۔‘‘ دسویں منظر میں ’’رات ہو گئی ہے‘‘ البتہ گیارھویں منظر میں صبح کا وقت ہے، اور بارھویں میں ’’گرمیوں کی دوپہر ہے‘‘۔ آخری منظر کی ابتدا ’’رات ہو گئی ہے‘‘ سے ہوتی ہے اور انتہا:

کوئی آواز بھی تو نہیں !

کوئی بتی نہیں !

یہ تو جنگل ہے سنسان جنگل!!

-۹-

ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار

عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے

ناصر کاظمی سے ایک بار سوال کیا گیا کہ آپ نے شعر کیوں اور کیسے کہنا شروع کیا تو انھوں نے اس کا ایک سبب یہ بتایا کہ انہی ں یوں لگتا تھا کہ جو خوبصورت چیزیں وہ فطرت میں دیکھتے ہیں ، ان کے بس میں نہیں آتیں ؛ ان کی گرفت سے نکل جاتی ہیں اور ہمیشہ کے لیے چلی جاتی ہیں ۔ جو وقت مر جاتا ہے وہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا۔ شاعری میں زندہ ہو سکتا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ جذبہ ہر تخلیق کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے، خواہ شاعری ہو یا نثر، مصوری اور سنگتراشی ہو یا موسیقی۔ جو لمحہ جتنا خوبصورت اور قیمتی ہو گا، اسے پھیلانے اور محفوظ کرنے کی خواہش اتنی ہی شدید ہو گی۔ تخلیق کار کامیاب ہو یا ناکام، اس لمحے کی یاد نہ صرف باقی رہتی ہے بلکہ تڑپاتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے حسن پرستی پر ماضی پرستی کا گمان ہونا کچھ ایسا عجب نہیں ۔

ہر ڈرامہ نگاریا ناول نویس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے اپنے خیالات، یادوں اور خوابوں کی تشہیر کرناچاہتا ہے۔ یعنی مخلوق کے پردے میں خالق خود بول رہا ہوتا ہے۔ یہ بات ایک حدتک درست ہے۔ تخلیق کا تخلیق کار سے ایسا ہی تعلق ہوتا ہے جیسا پھل کا درخت سے یا خوشبو کا پھول سے۔ اگر ناصرکا ظمی کے ایک اچھے قاری کو مصنف کا نام بتائے بغیر ’’سر کی چھایا‘‘ پڑھنے کو دی جائے تو وہ جلد ہی جان جائے گا کہ یہ کس کی تخلیق ہے۔

رفتگاں کی یاد، ہجرت کا تجربہ، فراق، اداسی، فطرت سے لگاؤ، جانوروں اور پرندوں سے محبت، سیروسیاحت، گھوڑ سواری اور موسیقی کا شوق وغیرہ، ناصر کاظمی کی زندگی اور شاعری کی چند نمایاں اور اہم ترین خصوصیات ہیں اور ’’سر کی چھایا‘‘ میں بھی انتہائی شدت کے ساتھ کارفرما نظر آتی ہیں ۔

’’سر کی چھایا‘‘ محض ایک پڑھی جانے والی منظوم کہانی نہیں بلکہ باقاعدہ سٹیج پر پیش کیا جانے والا ڈرامہ ہے۔ یہ حقیقی سٹیج اور اس کے تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔

بقول ولسن نائٹ، ڈرامے کو کاغذ کے اوراق سے جیتے جاگتے سٹیج پر منتقل کرنا کسی نازک فرنیچر یا بھاری مشینری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا سا عمل ہے۔ اگر اسے جوں کا توں لے جایا جائے تو ٹوٹ پھوٹ لازمی ہے۔ اس کے مختلف حصوں یا پرزوں کو الگ الگ کر کے احتیاط سے لے جانا پڑے گا اور پھر انہی ں جوڑ کر دوبارہ تشکیل کرنا ہو گا۔ چنانچہ ہدایت کار ڈرامے کو نئے سرے سے تخلیق کرنے کا اہل ہونا چاہیے۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب وہ ڈرامے کی مابعد الطبیعاتی اساس سے واقف ہو۔ وہ اسے محض ایک اچھی کہانی نہ سمجھے جس میں کہیں ڈرامائی صورت ہائے احوال ہوں ۔ اسے چاہیے کہ سب سے پہلے انتہائی توجہ سے ڈرامے کی مدلل تعبیر اور تفسیر کرے۔ تفصیلات پر غور و فکر بے ثمر ثابت ہو گا جب تک ان میں رشتہ قائم کرنے والا وحدانی خیال بے نقاب نہ کیا جائے۔ محض سطح سے کام نہیں نکالا جا سکتا۔ باطنی معانی میں اترنا ضروری ہے۔ ہم کوئی ڈرامہ پیش نہیں کر سکتے جب تک اس کا مکمل احاطہ نہ کر لیں اور اسے ایک وحدت کے طور پر نہ دیکھنے لگیں ۔ انفرادی لمحوں کی بجائے پورا ڈرامہ نظر میں ہونا چاہیے۔ ایک صورتِ حال دوسری صورتوں کی وضاحت یا عکاسی کرتی ہوئی دکھائی دے۔ فوری اور لمحاتی تاثر کافی نہیں ہوتا۔

’’سر کی چھایا‘‘ کی مابعدالطبیعاتی اساس کیا ہے؟ اس کے باطنی معانی کیا ہیں اور وہ وحدانی خیال کیا ہے جو اس کے اجزاء میں ایک پائیدار رشتہ قائم کرتا ہے؟

عبدل تمام حساس انسانوں کا نمائندہ ہے ۔ اس کا کرب ہم سب کا کرب ہے۔ اس کی کہانی ہر انسان کی کہانی ہے۔ انسان —- جسے چننے اور مسترد کرنے پر اختیار ہے لیکن یہی اختیار اس کی سب سے بڑی مجبوری بھی ہے۔ ’’کچھ حاصل کرنے کا مطلب بہت کچھ کھو دینا بھی ہے۔ ایک طرف دیکھنے کے معنی ہیں باقی ہر طرف سے منہ موڑ لینا۔ ایک جگہ پاؤں رکھنے کا مطلب سینکڑوں جگہ پاؤں نہ رکھنا ہے۔ پھر جو کچھ حاصل ہوتا ہے اسے بھی تو ثبات نہیں ۔ زندگی ہر لحظہ دستبردار ہوتے رہنے کا نام ہے۔ اپنی آرزوئوں ، صلاحیتوں اور قوتوں سے، اپنے خوابوں ، ساتھیوں اور پیاروں سے؛‘‘ اور بالآخر کیفیت اس شعر کے مصداق ہوجاتی ہے:

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں

جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

حافظہ انتہائی قیمتی نعمتوں میں سے ہے لیکن یہ اتنا بڑا عذاب بھی بن سکتا ہے کہ انسان اس کے چھن جانے کی دُعا مانگے۔ محبوب کی یاد دل دھڑکنے کا سبب بھی ہو سکتی ہے اور دم نکلنے کا باعث بھی۔ آگہی سکون بھی بخشتی ہے اور ایک دائمی آشوب بھی۔ دوربینی شکست کو فتح میں بھی بدل دیتی ہے مگر بعض اوقات جنگ سے پہلے ہی ہتھیار پھینکنے کا باعث بن جاتی ہے۔ دوراندیشی عمل کے لیے بھی محرک بنتی ہے اور بے عملی کو بھی جنم دیتی ہے۔ مستقبل کی فکر کبھی تو پیغامِ بیداری بن جاتی ہے اور کبھی ایسی مایوسی پیدا کرتی ہے کہ تمام جدوجہد لا حاصل اور بے ثمر نظر آتی ہے۔ خیالِ یارکڑی دھوپ کے سفر میں سر پر چادر کا کام دیتا ہے تو شب کی تنہائیوں میں کانٹوں کا بستر بھی بن جاتا ہے۔

تو کیا قنوطیت، یاسیت اور بے عملی ’’سر کی چھایا‘‘ کی اساس ہے؟ ہر گز نہیں ؟ عبدل تمام مشکلات، مخالفتوں اور حادثوں کے باوجود زندگی کو ایک نعمت سمجھتا ہے وہ اگرچہ شدید محبت کرنے کا اہل ہے اور اپنی محبوبہ کے ساتھ جل مرنے کو بھی تیار ہو جاتا ہے لیکن اس کے اندر کا حقیقت پسند انسان ہمیشہ غالب آجاتا ہے۔ اس کے خواب بہت حسین اور شیریں ہیں مگر وہ دنیا کو ان پر قربان نہیں کرتا:

کچھ آدمی کی بھی مجبوریاں ہیں دنیا میں

ارے وہ دردِ محبت سہی تو کیا مر جائیں

نندی کو حاصل کرنے کے لیے وہ جان کی بازی لگا دیتا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ:

وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں

عبدل کی کہانی سے ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ زندگی سے فرار کی کوشش دُکھ اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ ماضی میں پناہ لینا ممکن نہیں ۔ عبدل، احمد اور فیاض بار بار یادوں کی دنیا میں جاتے ہیں لیکن جلد یا بدیر حقیقت کی دنیا (گاڑی) میں واپس آجاتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ انہی ں واپس آنا پڑتا ہے۔ آٹھویں منظر میں احمد نامساعد حالات کے باوجود شکست ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ مایوسی کی باتیں کرتے ہوئے ایک نئے عزم اور امید کے ساتھ کہتا ہے:

اسی گاؤں میں گھر بنائیں گے

اب تو یہی تھل بسائیں گے

پھر گیارھویں منظر میں جب اکبر اس سے کہتا ہے:

تو اِتنی جلدی ہی کیا ہے احمد؟

میرا تو دِل کانپتا ہے جب بھی خیال آتا ہے دوستوں کا

یہ حصے وِصے کی بات چھوڑو!

جو کام کرنا ہے کرتے جاؤ!

تو اس کا جواب ہے:

میں قانون کی رو سے کہتا ہوں

ورنہ مرا دل بھی دکھتا ہے

حسنی بھی اپنا بڑا یار تھا

اور عبدل تمھارا بڑا دوست تھا

بلکہ دونوں تمھارے ہی ساتھی —-

مگر خیر! چھوڑو یہ باتیں !

ذراکنچ گھر تو دکھا دو!

آخری دو سطریں انتہائی اہم ہیں بلکہ زیر بحث موضوع کے بارے میں فیصلہ کن۔ بیتے ہوئے حسین لمحے کسے عزیز نہیں ہوتے؟ مگر کنچ گھر (حال اور مستقبل) زیادہ اہم ہے۔ زندگی ماضی اور مستقبل میں توازن قائم کرنے کا نام ہے۔ ماضی سے سبق سیکھ کر، قوت حاصل کر کے مستقبل کو سنوارنا ہی عینِ حیات ہے:

ہر نفس شوق بھی ہے منزل کا

ہر قدم یادِ رفتگاں بھی ہے

اور دیکھا جائے تو ’’برگِ نے‘ ‘ کا یہ شعر ’’سر کی چھایا‘‘ کا عنوان بن سکتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گاڑی کے سفر نے زندگی کے سفر کو مجسم اور متحرک شکل دے دی ہے۔ مسافر اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے بھی بیتاب ہیں اور یادوں میں بھی کھو کھو جاتے ہیں ۔ لیکن جونہی ماضی غالب آنے لگتا ہے، گاڑی رک جاتی ہے اور وہ بھی تاریک اور سنسان جنگل میں ۔ گاڑی ایک لحاظ سے تصور کی علامت بھی ہے جو ماضی میں زیادہ دور نکل جائے تو غیر فعال ہو کر رہ جاتا ہے۔

وجہِ تسکیں بھی ہے خیال اس کا

حد سے بڑھ جائے تو گراں بھی ہے

باصر سلطان کاظمی

اگست 1981

یاد آئے پھر کتنے زمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں

رات ملے کچھ یار پرانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
یاد آئے پھر کتنے زمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
کتنے رنگا رنگ مسافر شانہ بہ شانہ رقص کناں
چھوڑ گئے کتنے افسانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
اِن ہنستے ہونٹوں کے پیچھے کتنے دُکھ ہیں ہم سے پوچھ
ہم نے دیکھے ہیں ویرانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
میخواروں کی صف سے پرے کچھ ایسے عالی ظرف بھی تھے
بھر نہ سکے جن کے پیمانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
میں کس کارن پچھلے پہر تک تنہا بیٹھا رہتا ہوں
کون میرے اِس دَرد کو جانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
یہ کیا حال بنا لائے یہ کیسا روگ لگا لائے
تم تو گئے تھے جی بہلانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
ناصر تم لوگوں سے چھپ کر چپکے چپکے رات گئے
کیوں جاتے ہو جی کو جلانے اِنٹر کانٹی نینٹل میں
ناصر کاظمی

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

یہ قوم کے شاہین ہیں جرأت کے ستارے

اُڑتے ہیں یہ شاہیں تہِ افلاک جہاں تک

اِک آگ کا دریا نظر آتا ہے وہاں تک

مشرق کے کنارے کبھی مغرب کے کنارے

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

اِک جست میں دشمن کے نشیمن کو جلایا

جو سامنے آیا اُسے اِک پل میں گرایا

ہیں اِن کے پر و بال میں بجلی کے شرارے

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

بھولے سے کبھی اِن کے نشانے نہیں چوکے

فی النار کیے آن میں طیارے عدو کے

کچھ ڈھیر کیے خاک پہ کچھ راہ میں مارے

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

ہو اَمن کا موسم تو یہ خوشبو ہیں صبا ہیں

اور جنگ میں دشمن کے لیے قہرِ خدا ہیں

محفوظ ہے یہ پاک وطن اِن کے سہارے

چھائے ہیں فضاؤں پہ ہوا باز ہمارے

(۱۱ دسمبر ۱۹۷۱)

ناصر کاظمی

اے غازیانِ صاحبِ کردار دیکھنا

اے غازیانِ صاحبِ کردار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

سارے جہاں کی تم پہ نظر ہے بڑھے چلو

ہر گام سوئے فتح و ظفر ہے بڑھے چلو

خالی نہ جائے کوئی بھی اب وار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

راہِ خدا میں بدر کے اصحاب کی طرح

بڑھنا ہے تم کو نوح کے سیلاب کی طرح

کرنا ہے آج کفر کو مسمار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

رکھنا ہے تم کو ملتِ اسلام کا بھرم

شیرانہ ہر محاذ پہ آگے بڑھے قدم

ایمان پر ہے کفر کی یلغار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

اللہ اور رسولؐ کا پیغام ہے وہی

اسلام اور دشمنِ اسلام ہے وہی

اے پیروانِ حیدرِ کرار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

بارہ کروڑ ہونٹوں پہ ہے ایک ہی صدا

اے ارضِ پاک تیرا نگہبان ہے خدا

ظاہر ہوئے ہیں فتح کے آثار دیکھنا

بچ کر نہ جائے لشکرِ کفار دیکھنا

(۸ دسمبر ۱۹۷۱ ۔ اُستاد امانت علی خاں ، فتح علی خاں )

ناصر کاظمی

میرے سر مرے دل کی صدائیں

ترے گن گائیں

تیری وفا کے گیت سنائیں

ترے گن گائیں

تو غازی تو مردِ میداں

ساری قوم ہے تجھ پر نازاں

تیرے ساتھ ہیں سب کی دُعائیں

ترے گن گائیں

تو ہے عظمت پاک وطن کی

شان ہے تجھ سے پاک چمن کی

پاک چمن کی پاک ہوائیں

ترے گن گائیں

دھوم ہے تیری عالم عالم

گھر گھر چمکا فتح کا پرچم

گھر گھر میں خوشیاں لہرائیں

ترے گن گائیں

میرے سر سنگیت کی کلیاں

مہک رہی ہیں جن سے گلیاں

کیسے کیسے رُوپ دکھائیں

ترے گن گائیں

(۱۰ نومبر ۱۹۶۵ ۔ کلا رتی راگ، آوازیں ۔ اُستاد نزاکت علی خان، سلامت علی خان۔ طبلے پر سنگت۔ شوکت حسین)

ناصر کاظمی

تو ہے دِلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن

تو ہے دِلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن

تیری گلی گلی کی خیر اے مِرے دل رُبا وطن

پھول ہیں تیرے ماہتاب ذرّے ہیں تیرے آفتاب

تیرے ایک رنگ میں تیری بہار کا شباب

داغِ خزاں سے پاک ہے تیرے چمن کا پیرہن

تیری گلی گلی کی خیر اے مِرے دل رُبا وطن

تیرے علم ہیں سربلند عرصہِ کارزار میں

تیرے جواں ہیں سربکف وادی و کوہسار میں

اَبر و ہوا کے ہم قدم تیرے دلیر صف شکن

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

تیری ہوائیں مشکبو تیری فضائیں گلفشاں

تیرے ستارہ و ہلال عظمت و امن کا نشاں

دُھوم تری نگر نگر شان تری دمن دمن

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

(۹ نومبر ۱۹۶۵ ۔ بسنت بہار۔ آوازیں ۔ اُستاد نزاکت علی خاں ، سلامت علی خاں ۔ طبلے پر سنگت —- شوکت حسین)

ناصر کاظمی

فوجی بینڈ

اے ارضِ پاک تو ہے دارالاماں ہمارا

دائم ہے تیرے دم سے نام و نشاں ہمارا

تو پاک سر زمیں ہے تو منزلِ یقیں ہے

پرچم کا تیرے سایا ہے سائباں ہمارا

دشمن نہ چھو سکیں گے اب تیری سرحدوں کو

بیدار ہو چکا ہے اب کارواں ہمارا

تاروں کی سلطنت میں اُڑتے ہیں اپنے شاہیں

حیرت سے دیکھتا ہے منہ آسماں ہمارا

پربت کی چوٹیوں پر چمکے علم ہمارے

گہرے سمندروں میں ہے آشیاں ہمارا

ہر شاخ اِس چمن کی شمشیرِ حیدری ہے

حملہ نہ سہ سکے گی بادِ خزاں ہمارا

روکے نہ رُک سکے گی تیغِ جہاد اپنی

تھامے نہ تھم سکے گا سیلِ رواں ہمارا

سینچا ہے خونِ دل سے اِن کیاریوں کو ہم نے

تازہ رہے گا ہر دَم یہ گلستاں ہمارا

(پیشکش سلور پولیس لاہور ۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۵ ۔ آواز۔ سلیم رضا)

ناصر کاظمی

عقیدتوں کا سلام تجھ پر

عقیدتوں کا سلام تجھ پر

عقیدتوں کا سلام تجھ پر

عزیزِ ملت نشانِ حیدر

بجا ہے یہ احترام تیرا

رہے گا تا حشر نام تیرا

تری شہادت سے اے سپاہی

ملی ہے قرآن کو گواہی

عزیزِ ملت نشانِ حیدر

محاذ پر جاگتا رہا تو

پہاڑ بن کر ڈٹا رہا تو

وطن کو پائندہ کر گیا تو

وفا کو پھر زندہ کر گیا تو

عزیزِ ملت نشانِ حیدر

سلام کہتا ہے شہر تجھ کو

سلام کہتی ہے نہر تجھ کو

سلام کہتے ہیں تجھ کو ہمدم

سلام کہتا ہے سبز پرچم

عزیزِ ملت نشانِ حیدر

رہِ وفا کا شہید ہے تو

نویدِ صبحِ اُمید ہے تو

یہ زندگی جو تجھے ملی ہے

یہ زندگی رشکِ زندگی ہے

عزیزِ ملت نشانِ حیدر

(۷ اکتوبر ۱۹۶۵ ۔ موسیقی ۔ کالے خان۔ آوازیں ۔ منیر حسین اور ساتھی)

ناصر کاظمی

چینی دُھن پر

تو ہی ہماری جان ہے

تو قوتِ ایمان ہے

تو ہی ہماری آن ہے

اے پاک وطن

تجھ سے ہماری شان ہے

تجھ سے ہماری آبرو

قریہ بہ قریہ کو بہ کو

اے جان و دل کی آرزو

اے پاک وطن

تجھ سے ہماری شان ہے

تری زمیں کے پاسباں

شمس و قمر کے رازداں

تری بہاریں جاوداں

اے پاک وطن

تجھ سے ہماری شان ہے

قلب و نظر کی روشنی

تو ہے نویدِ زندگی

تو ہے جلالِ حیدری

اے پاک وطن

تجھ سے ہماری شان ہے

(یکم اکتوبر ۱۹۶۵ ۔ موسیقی۔ کالے خان، تقریباً چالیس آوازیں )

ناصر کاظمی

پاک ارضِ وطن کے جیالے

پاک ارضِ وطن کے جیالے

یہ جواں ہیں بڑی شان والے

پاک بے باک اِن کی جوانی

جرأتوں عظمتوں کی نشانی

وقت لکھے گا اِن کی کہانی

آنے والی سحر کے اُجالے

یہ جواں ہیں بڑی شان والے

اِن سے عزت ہمارے وطن کی

اِن سے رنگینیاں انجمن کی

یہ ہیں خوشبو وفائے چمن کی

پاک ماؤں کی گودی کے پالے

یہ جواں ہیں بڑی شان والے

ماہ و خورشید کے ہمسفر ہیں

یہ جواں فاتحِ بحر و بر ہیں

پاک سرحد پہ سینہ سپر ہیں

فتح نصرت کا پرچم سنبھالے

یہ جواں ہیں بڑی شان والے

میری آواز کی شان ہیں یہ

میرے گیتوں کا ارمان ہیں یہ

میرے سنگیت کی جان ہیں یہ

میری آواز اِن کے حوالے

یہ جواں ہیں بڑی شان والے

(۱۸ ستمبر ۱۹۶۵ ۔ ملکہِ موسیقی روشن آرا بیگم)

ناصر کاظمی

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

تیرے عزم کے حضور سرنگوں ہیں آسماں

تیرے دم سے جاوداں زندگی کی داستاں

شادماں رواں دواں

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

تیری ایک ضرب سے کوہسار کٹ گئے

دشمنوں کے مورچے ہٹ گئے اُلٹ گئے

زلزلے پلٹ گئے

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

ہم عنانِ کہکشاں پرفشاں ترے جہاز

ہم رکابِ آسماں تیری فوجِ ترک تاز

تو ہے زندگی کا راز

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

پانیوں کی سلطنت میں ضوفشاں ترے علم

وقت کی کتاب میں تیرا نام ہے رقم

تو ہے ملک کا بھرم

پاک فوج کے جواں تو ہے عزم کا نشاں

(۱۶ ستمبر ۱۹۶۵ موسیقی ۔ کالے خان۔ آوازیں ۔ سلیم رضا، نورجہاں بیگم اور ساتھی۔)

ناصر کاظمی

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

وادیوں میں گھاٹیوں میں سربکف

بادلوں کے ساتھ ساتھ صف بہ صف

دشمنوں کے مورچوں پہ ہر طرف

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

بے مثال ارضِ پاک کے جواں

لازوال سرحدوں کے پاسباں

بڑھ رہے ہیں خاک و خوں کے درمیاں

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

ساتھیو بلا رہی ہے زندگی

خون میں نہا رہی ہے زندگی

موت کو بھگا رہی ہے زندگی

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

ڈرنے والے ہم نہیں ہیں جنگ سے

گاڑیوں سے توپ اور تفنگ سے

ڈٹ کے ہم لڑیں گے ڈھنگ ڈھنگ سے

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

موج موج بڑھ رہے ہیں لشکری

لشکرِ غنیم میں ہے ابتری

گونجنے لگی صدائے حیدری

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

(۸ ستمبر ۱۹۶۵ موسیقی۔ سلیم حسین آوازیں ۔سلیم رضا، منیر حسین اور ساتھی)

ناصر کاظمی

ہمارے پاک وطن کی شان

ہمارے پاک وطن کی شان

ہمارے شیر دلیر جوان

خدا کی رحمت اِن کے ساتھ

خدا کا ہاتھ ہے اِن کا ہاتھ

ہے اِن کے دَم سے پاکستان

ہمارے شیر دلیر جوان

ستارے جرأت ہمت کے

وطن کی عظمت شوکت کے

عدو کی غارت کا سامان

ہمارے شیر دلیر جوان

یقینِ محکم کی تصویر

شجاعت نصرت کی تفسیر

اخوت اور عمل کی جان

ہمارے شیر دلیر جوان

(ناصر کاظمی کی ڈائری سے ۔ ۷/۹/۱۹۶۵ ۔ موسیقی ۔ کالے خان۔آوازیں۔سلیم رضا، منیر حسین اور ساتھی۔)

ناصر کاظمی

فوری تحفہ

اس سے پہلے کہ ہم زمین کے ہوں زمین ہماری تھی۔

سو سال سے زیادہ مدت تک وہ ہماری تھی

اس سے پیشتر کہ ہم اس کے باسی بنے ’’میساکوٹس‘‘ اور ’’ورجینیا‘‘ ہمارے تھے

لیکن ہم انگلستان کے تھے، نوآباد تھے،

ہمارے پاس وہ تھا جو ابھی ہمیں ملا نہیں تھا،

ہمارے پاس متاعِ نایافت کے سوا کچھ نہ تھا

ہم کسی چیز کو رو کے ہوئے تھے جس نے ناتواں بنا دیا

اور آخرکار ہمیں احساس ہوا کہ یہ ہم خود تھے

ہم اپنے آپ کو اپنی سرزمین سے دور کھینچے ہوئے تھے،

پھر انجام کار ہم نے اپنے آپ کو سپرد کرنے ہی میں عافیت جانی۔

ہم جیسے بھی تھے ہم نے اپنے آپ کو یکسر سپرد کر دیا

(یہ تحفہ بہت سی جنگوں کی صورت میں تھا)

اُس سر زمین کو جو مغرب کی سمت مبہم طور پر چلی جا رہی تھی،

اُس سر زمین کو جس میں نہ کہانیاں تھیں نہ فن نہ وسعت،

جیسی وہ تھی اور جیسی وہ مستقبل میں ہونے والی تھی۔

ناصر کاظمی

بروکلین گھاٹ کو عبور کرتے ہوئے

-۱-

اے مدکے چڑھتے ہوئے دھارے ! میں تجھے دیکھ رہا ہوں —-روبرو!

اے مغرب کے بادلو —-اے پہر دوپہر میں ڈوبنے والے سورج —-میں تمھیں بھی دیکھ رہا ہوں ۔

اے عام لباس میں ملبوس مرد و زن کے ہجوم —-! تو میرے لیے کس قدر تجسس انگیز ہے!

مسافر کشتیوں میں سوار سینکڑوں لوگ، جو گھروں کو لوٹ رہے ہیں ،

میرے لیے اس قدر تجسس انگیز ہیں کہ آپ تصوّر بھی نہیں کر سکتے ،

اور اے وہ لوگو، جو آج سے برسوں بعد اسی طرح کشتیوں پر سوار ہو کر ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف جاؤ گے تم میرے لیے اور بھی تجسس انگیز ہو اور میں چشمِ تصور میں تمھیں اپنے سامنے اس طرح مجسم پاتا ہوں کہ تم اندازہ ہی نہیں کر سکتے ۔

-۲-

میں شب و روز لمحہ بہ لمحہ تمام اشیائے عالم سے غیرمحسوس طور پر فیضانِ حیات حاصل کرتا ہوں ،

کائنات کا نظام کس قدر سادہ، ٹھوس اور مربوط ہے، جہاں میں جدا —-ہرفرد جدا —- پھر بھی سب اسی نظام کا حصہ،

ماضی اور مستقبل کی جیتی جاگتی تصویریں ،

اور گلیوں میں راہ چلتے ہوئے، یاد ریا کو عبور کرتے ہوئے،

معمولی سے معمولی مناظر اور خفیف سے خفیف آوازوں سے پیدا ہونے والی جمالی کیفیات میرے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں ۔

میں بہتے جل کی تیز دھارا میں تیرتا ہوا کہیں کا کہیں نکل جاتا ہوں ،

یہ سب محسوسات میرے اور آنے والے لوگوں کے درمیان ایک رابطہ قائم کرتے ہیں ۔

وہ بھی یقینی طور پر زندگی، محبت، بصارت اور سماعت جیسی نعمتوں سے ہماری طرح بہرہ ور ہوں گے۔ دوسرے لوگ بھی اسی گھاٹ کے دروازوں میں داخل ہوں گے۔

اور ساحل ساحل پار اتریں گے،

وہ بھی مد کے چڑھتے ہوئے پانی کا نظارہ دیکھیں گے،

وہ بھی منہاٹن کے شمال اور مغرب میں جہازوں کو آتے جاتے اور اس کے جنوب اور مشرق میں بروکلِن کی پہاڑیوں کو دیکھیں گے،

وہ ان چھوٹے بڑے جزیروں کا نظارہ کریں گے ؛

نصف صدی بعد، وہ لوگ بھی ان سب چیزوں کو دیکھیں گے، جبکہ اسی طرح آدھ ایک گھنٹے میں سورج ڈوبنے والا ہو گا،

آج سے ایک صدی یا کئی صدیوں کے بعد، وہ لوگ ان چیزوں کو دیکھیں گے،

اور ڈوبتے ہوئے سورج، مدکے چڑھتے ہوئے اور جزر کے اترتے ہوئے پانی کے نظاروں سے اسی طرح لطف اندوز ہوں گے۔

-۳-

زمان ومکان کی کوئی حقیقت نہیں —- سب مسافت سمٹ کر رہ جاتی ہے،

اے آئندہ نسل کے، بلکہ کئی آنے والی نسلوں کے زن و مرد،

میں بھی تمھار ہمدم ہوں ،

دریا اور آسمان کو دیکھ کر جوا حساسات تمھارے دلوں میں جنم لیتے ہیں ، ان سے میں بھی آشنا ہوں ،

جس طرح تم میں سے کوئی بھی زندہ انبوہ کا ایک فرد ہے، اسی طرح میں بھی تھا،

جس طرح تم اس دریا کے روح پر ور نظارے اور بہتے ہوئے پانی کی ضوفشانیوں سے تازہ دم ہوتے ہو، اسی طرح میرے دل میں بھی تروتازگی پیدا ہوتی تھی،

جس طرح تم جنگلے پر جھکے ہوئے محسوس کرتے ہو کہ تم پانی کے ساتھ بہے چلے جا رہے ہو،

اسی طرح میں بھی کھڑا ہو جاتا تھا اور اپنے آپ کو پانی کے ساتھ رواں دواں محسوس کرتا۔

میں نے بھی اس قدیم دریا کو بار بار عبور کیا،

میں بھی سال کے آخری مہینے میں مرغابیوں کو فضا میں بہت بلندی پر یوں محوِ پرواز دیکھتا کہ ان کے جسم متحرک ہوتے لیکن پر ساکت ہوتے،

میں ان پرندوں کے جسم کے بعض حصوں کو شوخ زردی سے روشن اور باقی حصوں کو گھمبیر سائے میں ڈوبا ہوا دیکھتا ،

یہ پرندے فضا میں آہستہ آہستہ چکر کاٹتے رہتے اور پھر رفتہ رفتہ جنوب کی طرف پرواز کرنے لگتے،

میں موسم گرما کے نیلگوں آسمان کا عکس پانی میں دیکھتا،

میری آنکھیں کرنوں کے جگمگاتے راستے کو دیکھ کر چکا چوند ہوجاتیں ،

سورج سے چمکتے پانی میں روشنی کی خوبصورت مرکز گریز لکیروں کو اپنے سر کے ارد گرد رقصاں دیکھتا ،

جنوب اور جنوب مغرب کی پہاڑیوں پر ہلکی سی دھند چھائی ہوئی ہوتی،

میں بھی سفید بادلوں کو دیکھتا ، جن میں بنفشی رنگ کی جھلک نظر آتی،

میں بھی خلیج کے نچلے حصے سے جہازوں کو آتے ہوئے دیکھتا،

یہ جہاز رفتہ رفتہ میری طرف بڑھتے چلے آتے اور میں ان مسافروں کو دیکھتا جو مجھ سے قریب ہوتے،

میں دو مستولوں والی اور ایک مستول والی کشتیوں کے سفید بادبان اور لنگرانداز جہازوں کو دیکھتا،

ان کے ملاح مستولوں ، رسیوں اور چپوؤں پر کام میں جتے ہوئے نظر آتے یا جہاز کو اتھلے پانی سے نکالنے کے لیے چپوؤں کو چلاتے ہوئے صاف نظر آتے،

گول گول مستول، حرکت کرتے ہوئے جہاز اور ان پر سانپ کی مانند بل کھاتے ہوئے جھنڈوں کو دیکھتا،

چھوٹی بڑی دخانی کشتیاں سرگرم سفر ہوتیں اور ان کے کپتان اپنی جگہوں پر مستعددکھائی دیتے،

متحرک جہاز کے پیچھے پانی کی ایک سفید لکیر دکھائی دیتی اور اس کے پہیوں کے گھومنے سے تھرتھراہٹ کی آواز سنائی دیتی ۔

تمام قوموں کے پرچم دیکھتا، جو غروبِ آفتاب کے وقت اتار لیے جاتے،

شام کے جھٹپٹے میں لہروں کے کنارے صدف کی مانند نظر آتے، ایسا محسوس ہوتا جیسے فطرت کے ہاتھ دریا سے پیالے بھر بھر کے نکال رہے ہیں ، ان لہروں کے سروں پر رنگین کلغیاں نظر آتیں اور ہر طرف لہروں کی آب وتاب دکھائی دیتی،

پانی کی سطح رفتہ رفتہ دھند لکے میں غائب ہو جاتی، گودی کے قریب پتھر سے بنے ہوئے مال گوداموں کی خاکستری دیواریں ،

دریا پر سایوں کا ہجوم، جہازوں کو کھینے والے بڑے سٹیمر کے دونوں طرف چھوٹی کشتیاں مثلاً خشک گھاس لانے والی کشتیاں ، جہازوں سے سامان اتارنے والی کشتیاں ،

دریا کے اس پار ڈھلائی کے کارخانوں کی چمنیوں سے بلند ہونے والے شعلے رات کی تاریکی میں اور بھی نمایاں ہو جاتے،

اور ان کی کھلتی بندہوتی سرخ اور زرد روشنی تاریکی کے پس منظر میں مکانوں کے بالائی حصوں اور گلیوں کے ان حصوں میں نظر آتی جہاں مکانات کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔

-۴-

یہ سارے مناظر میرے لیے ویسے ہی تھے جیسے اب تمھارے لیے ہیں ،

میں نے ان شہروں سے اور تیز بہتے ہوئے شاندار دریاؤں سے جی بھر کے پیار کیا،

جن مردوں اور عورتوں کو میں نے دیکھا میں نے ان سے قربت محسوس کی،

مجھے دوسرے لوگوں کا بھی قرب حاصل ہو گا —- وہ لوگ جو مجھے دیکھنے کے لیے ماضی میں جھانکتے ہیں ، کیونکہ میں نے انہی ں دیکھنے کے لیے مستقبل میں جھانکا تھا،

(وہ وقت آ کر رہے گا، خواہ آج ہی شب وروز کے کسی لمحے میں میرے دل کی دھڑکنیں بند ہوجائیں )۔

-۵-

پھر ہمارے درمیان حدِ فاصل کیا ہے؟

ہمارے درمیان بیسیوں یا سینکڑوں سا ل کا وقفہ کیا حقیقت رکھتا ہے؟

اس کی حقیقت کچھ بھی ہو یہ حدِ فاصل نہیں بن سکتا —- مسافت حدِ فاصل نہیں بن سکتی، جگہ حدِ فاصل نہیں بن سکتی،

میں بھی کبھی زندہ تھا اور کئی پہاڑیوں والا برکلن میرا تھا،

میں بھی جزیرہ منہاٹن کے بازاروں میں گھوما ہوں اور اس کے چاروں طرف بکھرے پانی میں نہایا ہوں ،

میں نے اپنی ذات میں یک بیک ابھرتے ہوئے عجیب و غریب سوالوں کو محسوس کیا ہے ۔

دن کے وقت لوگوں کے ہجوم میں کبھی کبھی یہ سوال میرے ذہن میں ابھرتے،

رات گئے گھر کو لوٹتے ہوئے یا بستر پر لیٹے ہوئے میں ان خیالات میں گم ہو جاتا،

میں ہمیشہ انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں رہتا،

میری شناخت بھی میرے وجود سے کی جاتی تھی،

میں جانتا تھا کہ میرے وجود سے میری شناخت ہوتی ہے اور آئندہ بھی میری ذات کی شناخت میرے وجود سے ہو گی۔

-۶-

یہ کیفیت صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں ہے کہ کبھی کبھی تاریک خیالات آپ کے ذہن پر چھا جاتے ہیں ،

میرے ذہن پر بھی اسی طرح تاریک خیالات مسلط ہوتے رہتے ہیں ،

مجھے بھی اپنی زندگی کے بہترین افعال لغو اور مشکوک نظر آنے لگتے ہیں ،

میرے دل میں رہ رہ کر یہ سوال اُبھرتا کیا میرے عظیم خیالات درحقیقت بے معنی ہیں ؟

صرف آپ ہی کو معلوم نہیں کہ شر کی حقیقت کیا ہے،

میں بھی جانتا ہوں کہ شر کی حقیقت کیا ہے،

میں بھی متضاد خیالات کا شکار رہا،

میں بے تکی باتیں کرتا، شرم سے چہرہ سرخ ہو جاتا، نفرت کرتا، جھوٹ بولتا، چوری کرتا اور کِینہ پروری کرتا،

میں اپنی مکاری، غصہ، شہوت اور جنسی خواہشات کے بارے میں زبان کھولنے کی جرأت نہیں کر سکتا،

میں بھی متلون مزاج، مغرور، حریص ، کم ظرف، مکار، بزدل اور کِینہ پرور تھا، بھیڑیے، سانپ اور سؤر کی خبیث عادات کی مجھ میں کمی نہیں تھی،

پر فریب نظروں اور لغو باتوں کے علاوہ جنسی خواہشات میرے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھیں ،

انکار، نفرت، التوا، کمینگی اور سستی جیسے عناصر میرے اعمال میں شامل تھے،

میں سب باتوں میں نوعِ انسان کے ساتھ برابر کا شریک تھا، انہی جیسے دن گزارتا اور انہی جیسے اتفاقی واقعات سے دوچار ہوتا،

جب نوجوان لوگ مجھے اپنی طرف آتے ہوئے یا کہیں سے گزرتے ہوئے دیکھتے تو نہایت صاف اور بلند آواز میں مجھے میرے خاص نام سے پکارتے ،

جب میں کھڑا ہو جاتا تو وہ اپنے بازو میری گرد ن میں حمائل کر دیتے یا جب میں بیٹھتا تو ان کے جسم بے پروائی کے انداز میں میرے جسم سے مس ہوتے،

میں اپنے کئی محبوبوں کو بازاروں ، مسافر کشتیوں یا عوامی اجتماعات میں دیکھتا، لیکن ان سے بات نہ کرتا،

میں باقی لوگوں کی طرح زندگی گزارتا، انہی کی طرح ہنستا، کھیلتا، کھاتا، پیتا اور نیند کے مزے لوٹتا ایسا کردار ادا کرتا، جس سے کسی ایکٹر یا ایکٹریس کے فن کا مظاہرہ ہوتا،

وہی پرانا کردار، جس کی تشکیل خود ہمارے ہاتھوں میں ہے، اس سے خواہ ہم انتہائی بلندی پر پہنچ جائیں خواہ انتہائی پستی کی طرف چلے جائیں یا کبھی بلندی اور کبھی پستی کی طرف مائل ہوں ۔

-۷-

میں نے تمھیں قریب سے قریب تر ہو کر دیکھا ہے،

اب تم جتنا میرے متعلق خیال کرتے ہو، میں بھی تمھارے متعلق اتنا ہی سوچتا تھا —- میں نے یہ خیالات قبل از وقت ہی اپنے ذہن میں محفوظ کرلیے تھے،

تم نے ابھی جنم بھی نہیں لیا تھا کہ میں گھنٹوں بڑی سنجیدگی سے تمھارے خیالوں میں گم رہتا۔

کس کو معلوم تھا کہ مجھ پر کیا کیا چیزیں گہرا اثر ڈالتی ہیں ؟

کون جانتا ہے کہ اس قدر مسافت کے باوجود میں تمھیں اپنی چشمِ بصیرت سے صاف دیکھ رہا ہوں حالانکہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ؟

-۸-

آہ، منہاٹن جو جہازوں کے مستولوں سے پٹا پڑا ہے، کیا میرے لیے اس سے شاندار اور قابلِ تعریف کوئی چیز ہو سکتی ہے؟

یہ دریا، غروبِ آفتاب کا یہ منظر، مد کی ابھرتی ہوئی لہریں جن کے کنارے صدف جیسے ہیں ؟

مرغابیاں جن کے جسم متحرک ہیں ، دھندلکے میں خشک گھاس سے لدی ہوئی کشتیاں اور رات گئے تک جہازوں سے سامان اتارنے والی کشتیاں ؟

کون سے دیوتا ان لوگوں سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں جو گرم جوشی سے میرا ہاتھ پکڑتے ہیں اور جب میں قریب جاتا ہوں تو پیاری آواز میں مجھے میرے خاص نام سے پکارتے ہیں ؟

جب جب کسی عورت یا مرد سے میری آنکھیں چار ہوتی ہیں تو ہمارے باہمی ربط سے بڑھ کر اور کس چیز میں لطافت ہو سکتی ہے؟

وہ کون سی چیز ہے جو میری ذات کو تمھارے وجود میں مدغم کرتی ہے اور میرے خیالات کو تمھارے خیالات سے ہم آہنگ کرتی ہے؟

ہم خود ہی ان خیالات کا تجزیہ کر سکتے ہیں ، کیا ہم اس پر قادر نہیں ہیں ؟

میں نے جس چیز کا ذکر کیے بغیر وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے قبول نہیں کر لیا؟

کیا یہ حقیقت نہیں کہ مطالعہ سے اس کا علم نہیں ہو سکتا تھا اور تبلیغ سے اسے سر انجام نہیں دیا جا سکتا تھا؟

-۹-

اے دریا اپنی روانی سے کام رکھ! مد کی حالت میں موجیں مارتا رہ اور جزر کی حالت میں پرسکون ہو کر چل !

اے صدف جیسے کنارے اور رنگین کلغی رکھنے والی لہرو، خوب اٹکھیلیاں کرو!

اے غروبِ آفتاب کے وقت کے رنگین بادلو، اپنی عظمت کی مجھے بھی جھلک دکھاتے جاؤ اور ان مردوں اور عورتوں کو بھی جو آئندہ نسلوں میں جنم لیں گے!

اے بے شمار مسافرو، ساحل ساحل پار اترتے رہو!

منہاٹن کے اونچے مستولو، اپنے سر اور بلند کرو! بروکلن کی خوبصورت پہاڑیو اپنے سر اور بلند کرو!

اے میرے ششدر اور جستجو پسند دماغ اپنی سرگرمیوں کو تیز تر کر دے! اسی طرح سوالات اور جوابات کی ادھیڑ بن میں لگارہ!

کائنات کے اسرار کا حل تلاش کرنے میں یونہی سر مارتا رہ!

اے محبت میں سرشار اور پیاسی آنکھو، یونہی گھر، بازار اور لوگوں کے ہجوم کو دیکھتی رہو!

اے نوجوانوں کی آوازو، یونہی مترنم لہجے میں بلند ہوتی رہو اور مجھے میرے خاص نام سے پکارتی رہو!

اے میری دیرینہ زندگی، یونہی وہ کردار ادا کرتی رہ جس سے کسی فنکار کی عظمت ظاہر ہوتی ہے

وہ پرانا کردار ادا کرتی رہ، جس کی بلندی یا پستی ہم سب کے دائرہِ اختیار میں ہے!

اے میرے اشعار کو پڑھنے والو، ذرا سوچو تو سہی کیا میں نامعلوم طریقوں سے تمھیں دیکھ رہا ہوں یا نہیں ؟

پاؤں جمالو، دریا کے اوپر جنگلے پر جھک جاؤ، انہی ں سہارا دو جو بے پروائی کے انداز میں اپنے جسم کو تمھارے جسم سے مس کیے ہوئے ہیں اور پھر یوں محسوس کرو جیسے تم بھی پانی کے ساتھ بہے جا رہے ہو،

اے سمندری پرندو، اڑتے رہو! ایک طرف کو جھک کر اڑان جاری رکھو یا فضا کی بلندیوں میں لمبے لمبے چکر کاٹتے رہو!

اے آبِ رواں ، موسمِ گرما کے آسمان کے عکس کو اپنے سینے میں اتار لے اور اس وقت تک اسے محفوظ رکھ، جب تک نظارہ کرنے والوں کی نیچے جھکی ہوئی آنکھیں سیر نہ ہو جائیں !

اے روشنی کی لہرو، سورج کی شعاعوں سے چمکتے پانی میں میرے عکس سے اسی طرح منعطف ہوتی رہو!

اے جہازو، خلیج کے نچلے حصے سے آتے رہو! اے سفید بادبان والی چھوٹی بڑی کشتیو! کبھی اوپر سے نیچے اور کبھی نیچے سے اوپر کو چلتی رہو!

اے تمام اقوام کے قومی پرچمو، یونہی ہوا میں لہراتے رہو! حسبِ معمول غروبِ آفتاب کے وقت اترتے رہو!

اے ڈھلائی کے کارخانوں کی چمنیو، اپنے شعلوں کو یونہی فضا میں بلند کرتی رہو! رات کی تاریکی میں اپنے سیاہ سائے ڈالتی رہو! مکانوں کے بالائی حصوں پرا پنی سرخ اور زرد روشنی پھینکتی رہو!

موجودہ دور کے اور مستقبل کے موہوم پیکرو، اپنی حقیقت ظاہر کرتے رہو!

تم روح کے لیے حجاب کا کام دیتے ہو، یونہی روح پر چھائے رہو!

محبتِ الٰہی کی خوشبو میرے لیے اور تمھارے جسموں کو تمھارے لیے معطر کرتی رہے!

اے شہرو، اپنی رونق کو اور دوبالا کرو! اے وسیع اور بھرپور دریاؤ، تمھارے جہاز اسی طرح سامان لاتے رہیں اور تم اس طرح اپنے نظارے جاری رکھو!

اپنی وسعت کو اور زیادہ کرو، روح کو غذا بہم پہنچانے کے لیے شاید تم سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں ،

اے فطرت کے بے زبان اور حسین مبلغو، تم نے بہت عرصہ تک انتظار کیا ہے، تم ہمیشہ انتظار میں محو رہتے ہو،

ہم نہایت گرمجوشی سے تمھارا استقبال کرتے ہیں اور ہمارے جذبات تمھارے حق میں کبھی سرد نہیں پڑیں گے،

تم ہمیں کبھی دھوکا نہیں دو گے یا ہم سے کبھی کنارہ کشی اختیار نہیں کرو گے،

ہم تمھیں اپنے کام میں لاتے ہیں ، اور تمھیں کبھی نظرانداز نہیں کرتے —- ہم تمھیں ہمیشہ کے لیے اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے ہیں ،

ہم تمھاری گہرائی کو نہیں پا سکتے —- ہم تم سے محبت کرتے ہیں —- تم جامع کمالات ہو،

تمھاری بنیادیں ابد پر استوار ہیں ،

تم کسی کے لیے بڑے اور کسی کے لیے چھوٹے پیمانے پر روحانی غذا بہم پہنچانے کا سبب ہو۔

ناصر کاظمی

وی تی —-

انہد مرلی شور مچایا

مرشد نے سب بھید بتائے

عقل و ہوش و حواس اُڑائے

مدہوشی میں ہوش سکھا کر

منزل کا رستہ دکھلایا

انہد مرلی شور مچایا

جلوئہ وحدتِ کامل دیکھا

نقشِ دوئی کو باطل دیکھا

عالم کے اَسرار کو سمجھا

دھیان گیان کے راز کو پایا

انہد مرلی شور مچایا

نورِ حقائق ہوا نمایاں

سرِ حقیقت ہو گئے آساں

فاش ہوا ہر نکتہِ پنہاں

قرب و بعد کا فرق مٹایا

انہد مرلی شور مچایا

سن کر اس مرلی کی باتیں

اُلجھے راز انوکھی باتیں

بھولے سبھی صفاتیں ذاتیں

وحدت نے وہ رنگ جمایا

انہد مرلی شور مچایا

(ترجمہ از خواجہ غلام فرید، نومبر ۱۹۶۸ ۔ جشنِ فرید منعقدہ ملتان میں پڑھا گیا)

ناصر کاظمی

پی، فو، جن

اُس کے ریشمی پھرن کی سرسراب خاموش ہے

مر مر کی پگڈنڈی دھول سے اَٹی ہوئی ہے

اُس کا خالی کمرہ کتنا ٹھنڈا اور سونا ہے

دروازوں پر گرے ہوئے پتوں کے ڈھیر لگے ہیں

اُس سندری کے دھیان میں بیٹھے

میں اپنے دکھیارے من کی کیسے دِھیر بند ھاؤں

ناصر کاظمی

جاڑے کی رات

مرا بستر کیسا سونا ہے

میں راتوں جاگتا رہتا ہوں

جب خنکی بڑھنے لگتی ہے

اور رین پون لہراتی ہے

یہ پردے سر سر کرتے ہیں

ساگر سا شور مچاتے ہیں

میں سوچتا ہوں کبھی یہ لہریں

ترے پاس مجھے پھر لے جائیں !!

(والٹ وٹمین کے شعری مجموعے ’’لیوزآف گراس‘‘ مطبوعہ 1891-92ء سے ’’کراسنگ بروکلین فیری‘‘ کا ترجمہ۔ 1965ء میں ناصر کا ظمی نے امریکن سنٹر لاہور کے ایما پر کنیتھ ایس لن کے مرتب کردہ مضامین کے مجموعے ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ کا ترجمہ کیا، جو اُردو مرکز لاہور کے زیراہتمام شائع ہوا۔ چائن وتنائی نظم اسی کتاب ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ سے اخذ کی گئی ہیں ۔)

ناصر کاظمی

اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

کاٹھ کے پل کے آمنے سامنے

وہاں وہ ننھی منی سندری

سدا اکیلی رہتی تھی

اور اُس کا کوئی یار نہ تھا —-

نظم: تزے۔ یے

(والٹ وٹمین کے شعری مجموعے ’’لیوزآف گراس‘‘ مطبوعہ 1891-92ء سے ’’کراسنگ بروکلین فیری‘‘ کا ترجمہ۔ 1965ء میں ناصر کا ظمی نے امریکن سنٹر لاہور کے ایما پر کنیتھ ایس لن کے مرتب کردہ مضامین کے مجموعے ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ کا ترجمہ کیا، جو اُردو مرکز لاہور کے زیراہتمام شائع ہوا۔ تزے۔ یے نظم اسی کتاب ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ سے اخذ کی گئی ہیں ۔)

ناصر کاظمی

اے ارضِ وطن

تو جنت میرے خوابوں کی

تری مٹی کے ہر ذرّے میں

خوشبو ہے نئے گلابوں کی

تو جنت میرے آبا کی

گل ریز ہے تیرا ہر گوشہ

زرخیز ہے تیری ہر وادی

تو دولت میری نسلوں کی

ترے دامن میں پوشیدہ ہے

تقدیر سنہری فصلوں کی

تو ساحل میری کشتی کا

ہر آن بدلتے موسم میں

تو حاصل میری کھیتی کا

تو محنت ہے مزدُوروں کی

آبادی میں ، ویرانی میں

تو طاقت ہے مجبوروں کی

تو جنت ماہی گیروں کی

تو سندر بن مرے گیتوں کا

تو ٹھنڈی رات جزیروں کی

تو چاند اندھیری راتوں کا

اُمید کے تنہا جنگل میں

تو جگنو ہے برساتوں کا

تو سرمایہ مری غربت کا

میں تیرے دَم سے زندہ ہوں

تو پرچم ہے مری ہمت کا

ترے جنگل ، پربت ہرے رہیں

یہی رنگ رہے تری جھیلوں کا

چشمے پانی سے بھرے رہیں

تری مانگ جواں رہے پھولوں سے

ترے ننھے پودے ہنستے رہیں

تری گود بھری رہے جھولوں سے

تو میرا لہو میں تیرا لہو

تو میرا شجر میں تیرا ثمر

جو تیرا عدو وہ میرا عدو

اے ارضِ وطن مجھے تیری قسم

جب تجھ کو ضرورت ہو میری

شمشیر بنے گا میرا قلم

میں تیرے لیے پھر آؤں گا

ہر عہد میں تیری نسلوں کو

خوشیوں کے گیت سناؤں گا

(۱۹۷۱ ۔ لاہور ٹی وی)

ناصر کاظمی

قائدِاعظم

دُنیا کو یاد تیری حکایت ہے آج بھی

ہر ایک دل میں تیری محبت ہے آج بھی

کانوں میں گونجتی ہے ابھی تک تری صدا

آنکھوں کے سامنے تری صورت ہے آج بھی

تیرا کلام انجمن افروز کل بھی تھا

تیرا پیام شمعِ ہدایت ہے آج بھی

تزئینِ باغ تشنہِ تکمیل ہے ابھی

میرے وطن کو تیری ضرورت ہے آج بھی

ناصر کاظمی

ہر محاذِ جنگ پر

اے خدائے دو جہاں

تیرے حکم سے بہار اور خزاں

تو نے خاکِ مردہ کو شجر دیے

رَس بھرے ثمر دیے

بحر کو صدف، صدف کو بے بہا گہر دیے

تازہ موسموں کے ساتھ

طائروں کو تازہ بال و پر دیے

بے گھروں کو گھر دیے

اے مرے کریم رب!

کس زباں سے تیرا شکر ہو ادا

تو نے ہم کو یہ نیا وطن دیا

ہم نے یہ نیا وطن ترے ہی نام پر لیا

اس نئے چمن میں کتنے رنگ رنگ پھول ہیں

کیسے کیسے شہر اور کیسے کیسے لوگ ہیں

کیسے کیسے شاعر اور نغمہ گر

کتنے اہلِ علم اور باکمال

کس قدر جری دلیر نوجواں

جن کے دل سے جاوداں ہے اس چمن کی داستاں

اے مرے کریم ربّ تو نے اپنے بندوں کو ہزارہا ہنر دیے

اور مجھے قلم دیا

اے علیم تیرے عِلم کے حضور

میرے عِم اور ہنر کی کیا بساط

آج مجھ کو اتنی مہلت اَور دے کہ لکھ سکوں وہ داستاں

جو اپنے خوں سے لکھ رہے ہیں سرحدوں کے پاسباں

یہ صف شکن دلیر ہیں مرے قلم کی آبرو

انہی کے دَم سے آج پھر مرا قلم ہے سرخرو

قلم جو لفظِ تازہ کا شکاری تھا

قلم جو حرف و صوت کا پجاری تھا

وہی قلم بلند ہو کے اب جہاد کا علم بنا

وہی قلم مجاہدوں کے ہاتھ میں وہ برقِ شعلہ خو بنا

جو دُشمنوں کی صف پہ ٹوٹ ٹوٹ کر گرا

اب اپنے کاغذوں پہ چشمِ خوں فشاں کا نم نہیں

اب اپنے کاغذوں پہ جاتے موسموں کا غم نہیں

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ کار گاہِ رزم ہے

جہاں پہ فتحِ قوم کا نشان میری نظم ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں وہ بحر بے کنار ہے

جہاں ہر ایک موج فتح مند ذوالفقار ہے

یہ کاغذ اپنے ہاتھ میں ہے وہ فضائے بیکراں

جہاں ہوا کے پاسباں ہیں ہر طرف شررفشاں

مرے قلم کی روشنائی تیرگی کو زہر ہے

مرے قلم کے سحر سے چھڑی ہے داستان،

رزمِ خندق و حنین کی

علیؓ کی ذُوالفقار سے جو بچ گئے

وہ زد میں ہیں حسینؓ کی

مرے قلم وہ معرکے دکھا مجھے

جہاں ہمارے غازیوں نے ظلم وجور کے ہر اِک نشان کو مٹا دیا

مری جبیں کی ہر شکن کو زندہ کر

کہ اب عدو ہماری تیغِ ضوفشاں کی زد میں ہے

مرے یقیں کو تازہ کر

کہ اب عدو ہماری ضربِ جاوداں کی زد میں ہے

یہ جنگ آج کفر و دیں کی جنگ ہے

یہ میری قوم کے یقیں کی جنگ ہے

یہ میری پاک سر زمیں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج حق پرست ملتوں کی جنگ ہے

یہ جنگ آج صلح جو صداقتوں کی جنگ ہے

ترے کرم سے اے مرے کریم ربّ

مرا قلم ہے سرخرو

مرا قلم ہے میرے فن کی آبرو

مری صدا میں آج آتے موسموں کا نور ہے

مری نوا میں آج صبحِ فتح کا ظہور ہے

کہ میری پاک سر زمیں کا

ایک ایک فرد پوری قوم ہے

پوری قوم آج ایک فرد ہے

عدو کا رنگ زرد ہے

مرا وطن یونہی رہے گا تا ابد

مرا چمن یونہی رہے گا تا ابد

ارضِ پاک تیرے صبر کی قسم!

تیرے غازیوں ، شہیدوں کی قسم!

جب تلک ہے دَم میں دَم

جب تلک ہے اپنی سرحدوں پہ یورشِ ستم

عدو سے پنجہ آزما رہیں گے ہم

ہر محاذِ جنگ پر

قلب وچشم وگوش کے محاذ پر

عقل وتاب وہوش کے محاذ پر

خواب اور خیال کے محاذ پر

شعر اور ساز کے محاذ پر

شہر شہر گاؤں گاؤں

گلیوں اور کھیتوں میں

جنگلوں ، پہاڑوں میں

وادیوں ، جزیروں اور جھیلوں میں

میگھنا سے راوی تک

سبز اور سنہرے دیس کے چمکتے رمنوں میں

نشر گاہوں ، درس گاہوں

کارخانوں ، دفتروں میں اور گھروں میں

بحروبر میں اور فضا میں

دُشمنوں کے راستوں میں

دشمنوں کی بستیوں میں

ہر نئے محاذ پر

ہر محاذِ جنگ پر

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

ایک ہزار سال تک لڑیں گے ہم

(۱۲ دسمبر ۱۹۷۱ ۔ لاہور ٹی وی)

ناصر کاظمی

آج تری یادوں کا دن ہے

تیری یاد سے مشرق مغرب

جاگ رہے ہیں شہر ہمارے

تیرے نام سے گونج رہے ہیں

علم اور حکمت کے گہوارے

کہیں لیک تیرے ہاتھوں کی

کہیں تری باتوں کی خوشبو

کہیں چمک تیری آنکھوں کی

کہیں تری آواز کا جادُو

عزم ترا کہسار کی عظمت

تیری فکر سمندر گہرا

دو دھاری تلوار کی ضربت

لمبا قد اور جسم اکہرا

تو نے کھوئی ہوئی باتوں کو

مایوسی میں یاد دلایا

تو نے سوئی ہوئی راتوں کو

بیداری کا خواب دکھایا

تیری یاد سے مہک رہے ہیں

گلشن ، بن ، بستی ، ویرانے

ہونٹ ہونٹ پر نام ہے تیرا

گلی گلی تیرے افسانے

قائدِاعظم میرے دل میں

تیری محبت زندہ رہے گی

نام ترا تابندہ رہے گا

یاد تری پائندہ رہے گی

(۱۱ ستمبر ۱۹۶۹ ۔ لاہو ر ٹی وی)

ناصر کاظمی

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

تم ہو پاک وطن کا گہنا

دُھوم ہے گھر گھر آج تمھاری

خوشبو کی نہریں ہیں جاری

شاخوں نے پھر گہنا پہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

پھول ہیں تھوڑے ، خار بہت ہیں

پردے میں اغیار بہت ہیں

اپنا بھید کسی سے نہ کہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

تم ہو شہیدوں کا نذرانہ

تم کو قسم ہے سر نہ جھکانا

آپس کے دُکھ مل کر سہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

راوی اور چناب کے پیارو

جہلم ، سندھ کی آنکھ کے تارو

آج سے میرے دل میں رہنا

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

(۱۵ نومبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

تیرگی ختم ہوئی

تیرگی ختم ہوئی ، صبح کے آثار ہوئے

شہر کے لوگ نئے عزم سے بیدار ہوئے

شب کی تاریکی میں جو آئے تھے رہزن بن کر

صبح ہوتے ہی وہ رُسوا سرِبازار ہوئے

جگمگانے لگیں پھر میرے وطن کی گلیاں

ظلم کے ہاتھ سمٹ کر پسِ دیوار ہوئے

ہم پہ احساں ہے ترا شہر کی اے نہرِ عظیم

تو نے سینے پہ سہے ، شہر پہ جو وار ہوئے

شاخ در شاخ چمکنے لگے خوشبو کے چراغ

عالمِ خاک سے پیدا نئے گلزار ہوئے

ناصر کاظمی

تو ہے عزیزِ ملت

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

احساں ہے تیرا ہم پر اے قوم کے دلاور

تو عزم کا ستارہ ، تو ہے ہلالِ جرأت

تو خادمِ وطن ہے ، تجھ سے وطن کی عزت

گاتے ہیں تیرے نغمے راوی ، چناب، جہلم

تاروں کی سلطنت پر اُڑتا ہے تیرا پرچم

سلہٹ سے تا کراچی پھیلے ہیں تیرے شہپر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

رَن کچھ کے معرکے میں جوہر دکھائے تو نے

واہگہ کی سرحدوں سے لشکر ہٹائے تو نے

توپوں کے منہ کو موڑا ، ٹینکوں کا مان توڑا

جو تیری زد میں آیا تو نے نہ اُس کو چھوڑا

زندہ کیا وطن کو تو نے شہید ہو کر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

اُونچی تری اُڑانیں ، کاری ترے نشانے

تونے جلا کے چھوڑے دُشمن کے آشیانے

باندھا ہے وہ نشانہ دُشمن کے گھر میں جا کر

تو نے گرائے ہنٹر اِک آن میں جھپٹ کر

بجلی ہیں تیرے بمبر ، شاہیں ہیں تیرے سیبر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

ساندل کے آسماں سے روکے ہیں تو نے حملے

راوی کی وادیوں پر احساں ہیں تیرے کتنے

چھنب اور جوڑیاں میں گاڑا ہے تو نے جھنڈا

اے دوارکا کے غازی زندہ ہے نام تیرا

ہیبت سے تیری لرزاں کہسار اور سمندر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

وہ شہر بلھے شاہ کا بستا ہے تیرے دَم سے

خوشحال خاں کی نگری ہے تیرے دَم قدم سے

داتا کا شہر تو نے پائندہ کر دیا ہے

اقبال کے وطن کو پھر زندہ کر دیا ہے

ہر دیس ، ہر نگر میں چرچا ہے تیرا گھر گھر

تو ہے عزیزِ ملت تو ہے نشانِ حیدر

(۲۹ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

تو ہے مری زندگی

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

تو ہے مری روشنی اے مرے پیارے وطن

اے مری خلدِ بریں تیری بہاروں کی خیر

اے مرے عزم و یقیں تیرے دیاروں کی خیر

تیرے ستاروں کی خیر

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

پاک ترے آبشار پاک ہیں تیرے جبل

پاک تیری کھیتیاں پاک ترے پھول پھل

جلوئہ صبحِ ازل

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

تیری فضا پر کھلے چاند ستاروں کے راز

عرش کی محراب میں پڑھتے ہیں شاہین نماز

پاک دل و پاک باز

تو ہے مری زندگی اے مرے پیارے وطن

ناصر کاظمی

صدائے کشمیر

صدائے کشمیر آ رہی ہے ، ہماری منزل قریب تر ہے

یہ عدل و انصاف کی گھڑی ہے، ستم کی میعاد مختصر ہے

لہو شہیدوں کا رنگ لایا

نئی سحر کی اُمنگ لایا

غرور کا اَبر چھٹ رہا ہے

رُخِ حوادث پلٹ رہا ہے

یہ پیڑ اب تیر بن گئے ہیں

چنار شمشیر بن گئے ہیں

خدا کا قہر و عذاب آیا

عدو کا روزِ حساب آیا

گھروں سے نکلے ہیں اہلِ ایماں

کسی کے بس کا نہیں یہ طوفاں

گزر کے چشموں سے، بحر و بر سے

ہر ایک گھر تک پہنچ گئی ہے

سری نگر تک پہنچ گئی ہے

یہ تیغ تھامے نہ تھم سکے گی

عدو کی محفل نہ جم سکے گی

علم ہمارا نہ جھک سکے گا

یہ سیل روکے نہ رُک سکے گا

(۲۴ اکتوبر ۱۹۶۵ ۔ آزاد کشمیر ریڈیو)

ناصر کاظمی

سرگودھا میرا شہر

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

سب کی آنکھوں کا تارا ہے سرگودھا میرا شہر

سورج سے گھر ، چاند سی گلیاں ، جنت کی تصویر

بانکے چھیل چھبیلے گبھرو غیرت کی شمشیر

سبک چال نخریلے گھوڑے، کڑیل نیزہ باز

آنکھیں تیز کڑکتی بجلی تاروں کی ہمراز

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

تھل ، جنگل ، پربت اور بیلے ہرے بھرے شاداب

سونا سی لہراتی فصلیں ، نہریں بھی خوش آب

سرحد سرحد اس کے سپاہی آگے بڑھتے جائیں

ان کے ساتھ خدا کی رحمت اور بہنوں کی دُعائیں

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

ہر دَم اس کے جیٹ طیارے اُڑنے کو تیار

تیز ہوا بازوں کا دستہ چوکس اور ہشیار

دُشمن کے کتنے طیارے پل میں کیے برباد

سرگودھا کے شہبازوں کو وقت کرے گا یاد

زندہ دِلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر

(۱۵ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

سیالکوٹ توزندہ رہے گا

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

زندہ قوموں کی تاریخ میں نام ترا تابندہ رہے گا

جموں اور کشمیر سے پہلے تو ہے نصرت کا دروازہ

دُشمن بھی اب کر بیٹھا ہے تیری جرأت کا اندازہ

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

شاعرِ مشرق کا تو مسکن ، تجھ پہ بزرگوں کا ہے سایا

جس نے تجھ پر ہاتھ اُٹھا یا ، تو نے اُس کا نام مٹایا

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

دوسری جنگِ عظیم کے بعد نہیں دیکھی ہے ایسی لڑائی

سرحد سرحد دیکھ چکی ہے دُنیا دُشمن کی پسپائی

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

تیری سرحد سرحد پر دُشمن کا قبرستان بنا ہے

تیری جانبازی کا سکہ دُنیا نے اب مان لیا ہے

زندہ رہے گا زندہ رہے گا، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

پاک فوج ہے تیری محافظ ایک وار بس اَور دکھادے

اُٹھ اور نام علیؑ کا لے کر دُشمن کو مٹی میں ملا دے

زندہ رہے گا زندہ رہے گا ، سیالکوٹ تو زندہ رہے گا

(۹ ستمبر ۱۹۶۵)

ناصر کاظمی

وطن

اے وطن تجھ سے نیا عہدِ وفا کرتے ہیں

مال کیا چیز ہے ، ہم جان فدا کرتے ہیں

سرخ ہو جاتی ہے جب صحنِ چمن کی مٹی

اسی موسم میں نئے پھول کھلا کرتے ہیں

اے نگہبانِ وطن تیرا نگہباں ہو خدا

شہر کے لوگ ترے حق میں دُعا کرتے ہیں

ناصر کاظمی

گلشن پاک ہمارا

گلشن پاک ہمارا

تن من دھن سے پیارا

ہم کو ناز ہے اس گلشن پر

ہم نے کتنی جانیں دے کر

اس کا رنگ اُبھارا

گلشن پاک ہمارا

بستے شہر زمیں کے سہرے

تہذیبوں کے روشن چہرے

گھر گھر چاند ستارا

گلشن پاک ہمارا

پاک فضا ، پرچم نورانی

بیداری کی زندہ نشانی

نصرت کا گہوارہ

گلشن پاک ہمارا

ناصر کاظمی