زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 56
تھا کہیں اک حاصلِ رنجِ سفر جیسا بھی تھا
ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا
اب تو یہ پرچھائیاں پہچان میں آتیں نہیں
ان میں اک چہرہ چراغِ بام و در جیسا بھی تھا
دل کی بے رنگی سے بہتر تھی لہو کی ایک بوند
وہ بھی اک سرمایہ تھا اے چشمِ تر جیسا بھی تھا
خاک تھا اپنا بدن آخر بکھرنا تھا اسے
ہاں مگر اس خاک میں کچھ گنجِ زر جیسا بھی تھا
کچھ ہواؤں کا بھی اندازہ نہ تھا پہلے ہمیں
اور کچھ سر میں غرورِ بال و پر جیسا بھی تھا
کون مانے گا کہ اس ترکِ طلب کے باوجود
پہلے ہم لوگوں میں کچھ سودائے سر جیسا بھی تھا
عرفان صدیقی

کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 55
اے ہوا‘ کل تیری راہوں پر نشاں میرا بھی تھا
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
اب خیال آتا ہے سب کچھ راکھ ہوجانے کے بعد
کچھ نہ کچھ تو سائباں در سائباں میرا بھی تھا
اس کی آنکھوں میں نہ جانے عکس تھا کس کا مگر
انگلیوں پر ایک لمس رائیگاں میرا بھی تھا
کیوں تعاقب کر رہی ہے تشنگی‘ اے تشنگی
کیا کوئی خیمہ سرِ آب رواں میرا بھی تھا
جان پر کب کھیلتا ہے کوئی اوروں کے لیے
ایک بچہ دشمنوں کے درمیاں میرا بھی تھا
شہر کے ایوان اپنی مٹھیاں کھولیں ذرا
اس زمیں پر ایک ٹکڑا آسماں میرا بھی تھا
میں نے جس کو اگلی نسلوں کے حوالے کر دیا
یار سچ پوچھو تو وہ بارِ گراں میرا بھی تھا
عرفان صدیقی

وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ایک ضد تھی مرا پندارِ وفا کچھ بھی نہ تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
تھا بہت کچھ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
یوں کسی شخص کے چہرے پہ لکھا کچھ بھی نہ تھا
اَب بھی چپ رہتے تو مجرم نظر آتے وَرنہ
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں شوقِ نوا کچھ بھی نہ تھا
یاد آتا ہے کئی دوستیوں سے بھی سوا
اِک تعلق جو تکلف کے سوا کچھ بھی نہ تھا
سب تری دین ہے، یہ رنگ، یہ خوشبو، یہ غبار
میرے دَامن میں تو اَے موجِ ہوا کچھ بھی نہ تھا
اور کیا مجھ کو مرے دیس کی دَھرتی دیتی
ماں کا سرمایہ بجز حرفِ دُعا کچھ بھی نہ تھا
لوگ خود جان گنوا دینے پہ آمادہ تھے
اِس میں تیرا ہنر اَے دستِ جفا کچھ بھی نہ تھا
سبز موسم میں ترا کیا تھا، ہوا نے پوچھا
اُڑ کے سوکھے ہوئے پتّے نے کہا کچھ بھی نہ تھا
عرفان صدیقی

جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 53
نوحہ گزار ہوٗ کی صدا کے سوا نہ تھا
جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا
پل بھر میں سیم تاب تو پل بھر میں لالہ رنگ
وہ دشت اِک طلسم سرا کے سوا نہ تھا
اُن کی ظفر پہ جیش حریفاں تھی حیرتی
اُن کی طرف تو کوئی خدا کے سوا نہ تھا
کارِ آفریں کے دست بریدہ کی دسترس
اک فرض تھا کہ عرض وفا کے سوا نہ تھا
کیا قافلہ گیا ہے ادھر سے کہ جس کے ساتھ
کچھ ساز و برگ شور درا کے سوا نہ تھا
زیر قدم تھی دور تلک خاک ناسپاس
سر پر کچھ آسماں کی ردا کے سوا نہ تھا
اک سیل خوں تھا اور خدا کی زمین پر
کوئی گواہ تیغ جفا کے سوا نہ تھا
یہ چشم کم نظر تہہ خنجر کہے جسے
کچھ بھی گلوئے صبر و رضا کے سوا نہ تھا
عرفان صدیقی

وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہر چند میں قسمت کا سکندر تو نہیں تھا
وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا
یہ خون میں اِک لہر سی کیا دَوڑ رہی ہے
سایہ جسے سمجھے تھے وہ پیکر تو نہیں تھا
آنکھوں میں ہیں گزری ہوئی راتوں کے خزانے
پہلو میں وہ سرمایۂ بستر تو نہیں تھا
اِتنا بھی نہ کر طنز، تنگ ظرفئ دِل پر
قطرہ تھا، بہرحال سمندر تو نہیں تھا
غزلوں میں تو یوں کہنے کا دَستور ہے وَرنہ
سچ مچ مرا محبوب ستم گر تو نہیں تھا
یہ زَخم دِکھاتے ہوئے کیا پھرتے ہو عرفانؔ
اِک لفظ تھا پیارے، کوئی نشتر تو نہیں تھا
عرفان صدیقی

عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 51
خرابہ تھا مگر ایسا نہیں تھا
عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا
اندھیرا تھا مری گلیوں میں لیکن
پسِ دیوار و در ایسا نہیں تھا
زمیں نامہرباں اتنی نہیں تھی
فلک حدِ نظر ایسا نہیں تھا
کوئی اُونچا نہیں اُڑتا تھا، پھر بھی
کوئی بے بال و پر ایسا نہیں تھا
قفس میں جس طرح چپ ہے یہ طائر
سرِ شاخِ شجر ایسا نہیں تھا
کوئی آزار تھا پہلے بھی دل کو
مگر اے چارہ گر، ایسا نہیں تھا
نہیں تھا میں بھی اتنا بے تعلق
کہ تو بھی بے خبر ایسا نہیں تھا
اس انجامِ سفر پر کیا بتاؤں
کہ آغازِ سفر ایسا نہیں تھا
مرے خوابوں کے دریا خشک ہوجائیں
نہیں‘ اے چشمِ تر‘ ایسا نہیں تھا
یہ آسودہ جو ہے‘ میری ہوس ہے
مرا سودائے سر ایسا نہیں تھا
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 49
جس نے میری ہی طرف تیر چلایا میں تھا
اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا
ان چراغوں کے اب اتنے بھی قصیدے نہ پڑھو
یار، تم نے جسے راتوں کو جلایا، میں تھا
اے ہوا میرے سفینے کو ڈبونے والی
دیکھ، تونے جسے ساحل پہ لگایا، میں تھا
خاک پر ڈھیر ہے قاتل، یہ کرشمہ کیا ہے
کہ نشانے پہ تو مدت سے خدایا، میں تھا
جو مجھے لے کے چلی تھی وہ ہوا لوٹ گئی
پھر کبھی جس نے پتہ گھر کا نہ پایا، میں تھا
اب لہو تم کو بھی پیارا ہے چلو یوں ہی سہی
ورنہ یہ رنگ تو اس دشت میں لایا میں تھا
عرفان صدیقی

ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 48
اپنے آنگن ہی میں تھا، راہ گزر میں کیا تھا
ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا
سبز پتوں نے بہت راز چھپا رکھے تھے
رُت جو بدلی تو یہ جانا کہ شجر میں کیا تھا
تھا کمیں گاہ میں سنّاٹے کا عالم، لیکن
اِک نیا رنگ یہ ٹوٹے ہوئے پَر میں کیا تھا
تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا
اور کیا دیکھتی دُنیا ترے چہرے کے سوا
کم سے کم رَنگ تھا سُرخی میں، خبر میں کیا تھا
تم یہ دیکھو کہ فقط خاک ہے پیراہن پر
یہ نہ پوچھو کہ مرے رختِ سفر میں کیا تھا
تم نہ ہوتے تو سمجھتی تمہیں دُنیا عرفانؔ
فائدہ عرضِ ہنر میں تھا، ہنر میں کیا تھا
عرفان صدیقی

پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 47
خرد کے پاس فرسوُدہ دلیلوں کے سوا کیا تھا
پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
ہوا رَستے کی، منظر موسموں کے، سایہ پیڑوں کا
سفر کا ماحصل بیکار میلوں کے سوا کیا تھا
تو وہ شب بھر کی رَونق چند خیموں کی بدولت تھی
اَب اِس میدان میں سنسان ٹیلوں کے سوا کیا تھا
پرندوں کی قطاریں اُڑ نہیں جاتیں تو کیا کرتیں
ہماری بستیوں میں خشک جھیلوں کے سوا کیا تھا
تعجب کیا ہے وعدے ہی اگر حصے میں آئے ہیں
مری کوشش کے ہاتھوں میں وسیلوں کے سوا کیا تھا
عرفان صدیقی

وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 46
مروّتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
بہت دِنوں میں یہ بادل اِدھر سے گزرا ہے
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا
ڈبو دیا ہے تو اَب اِس کا کیا گلہ کیجیے
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا
توُ یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں
کہ یہ درخت تھا اور پتّیاں بھی رکھتا تھا
ہر ایک ذرّہ تھا گردش میں آسماں کی طرح
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا
عرفان صدیقی

شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 45
میں جب تازہ تر تھا تو اکثر تصور میں عکس رخِ دیگراں کھینچتا تھا
شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا
کسی شہرِ فردائے امن و اماں کی کرن اپنی جانب بلاتی تھی مجھ
اور اپنی طرف ایک خیمے میں روشن چراغِ شبِ درمیاں کھینچتا تھا
عجب سلسلہ تھا وہ جنگ آزما خاک پر جاں بہ لب چھوڑ جاتے تھے مجھ کو
پسِ معرکہ ایک دستِ کرم میرے سینے سے نوک سناں کھینچتا تھا
یہی شخص جو اب جہانِ مکافات میں قاتلوں سے اماں چاہتا ہے
کبھی پھینکتا تھا کمند آہوؤں پر کبھی طائروں پر کماں کھینچتا تھا
وصالِ بتاں کے لیے سوزِ جاں، عشق کا امتحاں، کچھ ضروری نہیں ہے
سو اب جا کے مجھ پر کھلا ہے کہ میں اتنے رنج و محن رائیگاں کھینچتا تھا
عرفان صدیقی

کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
جنگلوں سے کون سا جھونکا لگا لایا اسے
دل کہ جگنو تھا چراغِ انجمن لگنے لگا
اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
روز ان آنکھوں میں بازارِ سمن لگنے لگا
اوّل اوّل اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
رفتہ رفتہ رائیگاں کارِ سخن لگنے لگا
جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
وہ حجابِ درمیانِ جان و تن لگنے لگا
ہم کہاں کے یوسفِ ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
رم کیا اتنا کہ آہوئے ختن لگنے لگا
ہم بڑے اہلِ خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدرِ منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
عرفان صدیقی

سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 43
وہ جس نے پود لگائی ہے پھول بھی دے گا
سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا
ابھی تو اور جلو گے اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
کبھی تو کوئی پڑھے گا لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
پناہ چاہو تو پھر پیرہن بچاؤ نہیں
جو راستہ تمہیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
وہی بچائے گا تم کو، اور امتحاں کے لیے
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
بچا بھی لے گا وہ کچھ آزمائشوں سے تمہیں
اور امتحاں کے لیے کوئی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
وہ دشت اوس بھی دے گا، تو پھول بھی دے گا
MERGED وہ جس نے باغ اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسنِ قبول بھی دے گا
یہ لَو سنبھال کے رکھو اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اِس کو طول بھی دے گا
مسافرت میں ہیں کیا پیرہن کی فکر کریں
جو راستہ ہمیں گھر دے گا دُھول بھی دے گا
زمانہ مجھ کو سکھا دے گا جنگ کے آداب
وہ زخم ہی نہیں دے گا اُصول بھی دے گا
عرفان صدیقی

دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 42
یہ باغ جس نے اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
بچا بھی لے گا بڑی آزمائشوں سے مگر
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
یہ دشت اوس بھی دے گا، ببول بھی دے گا
ابھی سے لو نہ بڑھاؤ اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
مسافروں کو کہاں آتا پیرہن کا خیال
جو راستہ ہمیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
کبھی تو سمجھے گا کوئی لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 40
خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہو گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
وہ سب اک بجھنے والے شعلۂ جاں کا تماشا تھا
دوبارہ ہو وہی رقصِ شرر ایسا نہیں ہو گا
وہ ساری بستیاں وہ سارے چہرے خاک سے نکلیں
یہ دُنیا پھر سے ہو زیر و زبر ایسا نہیں ہو گا
مرے گم گشتگاں کو لے گئی موجِ رواں کوئی
مجھے مل جائے پھر گنجِ گہر ایسا نہیں ہو گا
خرابوں میں اب ان کی جستجو کا سلسلہ کیا ہے
مرے گردوں شکار آئیں ادھر ایسا نہیں ہو گا
ہیولے رات بھر محراب و در میں پھرتے رہتے ہیں
میں سمجھا تھا کہ اپنے گھر میں ڈر ایسا نہیں ہو گا
میں تھک جاؤں تو بازوئے ہوا مجھ کو سہارا دے
گروں تو تھام لے شاخِ شجر ایسا نہیں ہو گا
کوئی حرفِ دُعا میرے لیے پتوار بن جائے
بچا لے ڈوبنے سے چشمِ تر ایسا نہیں ہو گا
کوئی آزار پہلے بھی رہا ہو گا مرے دل کو
رہا ہو گا مگر اے چارہ گر ایسا نہیں ہو گا
بحدِ وسعتِ زنجیر گردش کرتا رہتا ہوں
کوئی وحشی گرفتارِ سفر ایسا نہیں ہو گا
بدایوں تیری مٹّی سے بچھڑ کر جی رہا ہوں میں
نہیں اے جانِ من، بارِ دگر ایسا نہیں ہو گا
عرفان صدیقی

نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 39
یمن ویراں ہوا اب دل کی جولانی سے کیا ہو گا
نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا
قبا سے کیا ہوا ہنگامۂ شوقِ تماشا میں
ہم آنکھیں بند کر لیں گے تو عریانی سے کیا ہو گا
مری دُنیائے جاں میں صرف میرا حکم چلتا ہے
بدن کی خاک پر اوروں کی سلطانی سے کیا ہو گا
یہاں کس کو خبر ہو گی غبارِ شہ سواراں میں
میں خوشبو ہی سہی میری پریشانی سے کیا ہو گا
پھر اک نوبرگ نے روئے بیاباں کر دیا روشن
میں ڈرتا تھا کہ حاصل ایسی ویرانی سے کیا ہو گا
عرفان صدیقی

آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ہو چکا کھیل بہت جی سے گزر جانے کا
آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا
ہم بھی زندہ تھے مسیحا نفسوں کے ہوتے
سچ تو یہ ہے کہ وہی وقت تھا مر جانے کا
بے سروکار فلک بے در و دیوار زمیں
سر میں سودا ہے مری جان کدھر جانے کا
ہم یہاں تک خس و خاشاک بدن کو لے آئے
آگے اب کوئی بھی موسم ہو بکھر جانے کا
کوئی دشوار نہیں شیوۂ شوریدہ سری
ہاں اگر ہے تو ذرا خوف ہے سر جانے کا
اب تلک بزم میں آنا ہی تھا اک کار ہنر
ہم نے آغاز کیا کار ہنر جانے کا
عرفان صدیقی

قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 37
بھرا ہے اشک ندامت سے جام پانی کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
زیارت در خیمہ نہ تھی نصیب فرات
سو آج تک ہے سفر ناتمام پانی کا
رگ گلو نے بجھائی ہے تیغ ظلم کی پیاس
کیا ہے خون شہیداں نے کام پانی کا
علم ہوا سر نیزہ جو ایک مشکیزہ
شجر لگا سر صحرائے شام پانی کا
اگر وہ تشنگئ لازوال یاد رہے
کبھی نہ آئے زبانوں پہ نام پانی کا
اُسے تلاش نہ کر دشت کربلا میں کہ ہے
ہمارے دیدۂ تر میں قیام پانی کا
عرفان صدیقی

یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خشک ہوتا ہی نہیں دیدۂ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل پر ہے کوئی نقش دگر پانی کا
کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا در شبیر پہ سر پانی کا
تیری کھیتی لب دریا ہے تو مغروز نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا
عرفان صدیقی

نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 35
اب کے برس کیا موسم ہے دل جنگل کی ویرانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
صبح تلک جینا تھا سو ہم نے بات کو کیا کیا طول دیا
اگلی رات کو پھر سوچیں گے اگلا موڑ کہانی کا
اور کسی کی ملک ہے بھائی‘ جس پر دونوں قائم ہیں
تکیہ میری فقیری کا اور تخت تری سلطانی کا
جسم کا شیشہ کاجل کرتی کالی رات خرابی کی
آنکھوں کی محراب میں روشن، چہرہ اک سیدانی کا
عرفان صدیقی

مرا منظرنامہ خوابوں کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چڑیوں پھولوں مہتابوں کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
آنکھوں میں لوح خزانوں کی
شانوں پر بوجھ خرابوں کا
یا نصرت آج کمانوں کی
یا دائم رنگ گلابوں کا
اِک اِسم کی طاہر چادر میں
طے موسم دُھوپ عذابوں کا
کبھی بادل چھت کی چھاؤں میں آ
کبھی ناتا توڑ طنابوں کا
یہی بستی میرے پرکھوں کی
یہی رَستہ ہے سیلابوں کا
مرے پتھر ہونٹ حکایت ہیں
میں حرف تری محرابوں کا
عرفان صدیقی

جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب اور کوئی منزل دشوار سوچئے
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
سب کاروبار عرض تمنا فضول ہے
دل میں لہو زباں میں اثر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر چکا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 32
طوفاں میں تا بہ حد نظر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
کچھ خاک تھی سو وقت کی آندھی میں اُڑ گئی
آخر نشان سوز جگر کچھ نہیں بچا
ہر شئے کو ایک سیل بلاخیز لے گیا
سودا نہ سر، چراغ نہ در، کچھ نہیں بچا
سب جل گیا جو تھا ہمیں پیارا جہان میں
خوشبو نہ گل، صدف نہ گہر، کچھ نہیں بچا
مٹی بھی نذر حسرت تعمیر ہو گئی
گھر میں سوائے برق و شرر کچھ نہیں بچا
اُس پار ساحلوں نے سفینے ڈبو دیے
سب کچھ بچا لیا تھا مگر کچھ نہیں بچا
یا بازوئے ستم میں ہے یہ تیغ آخری
یا دست کشتگاں میں ہنر کچھ نہیں بچا
ڈرتے رہے تو موج ڈراتی رہی ہمیں
اَب ڈوب جائیے کہ خطر کچھ نہیں بچا
کچھ نقدِ جاں سفر میں لٹانا بھی ہے ضرور
کیا کیجئے کہ زادِ سفر کچھ نہیں بچا
یہ کاروبارِ عرضِ تمنا فضول ہے
دل میں لہو، دُعا میں اثر کچھ نہیں بچا
اب اور کوئی راہ نکالو کہ صاحبو
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر گیا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تجھ کو بھی اے ہوائے شب جی کا زیاں بہت ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
رختِ سفر اُٹھا گیا کون سرائے خواب سے
رات پھر اس نواح میں گریۂ جاں بہت ہوا
موسمِ گل سے کم نہ تھا موسمِ انتظار بھی
شاخ پہ برگِ آخری رقص کناں بہت ہوا
کوئی افق تو ہو کہ ہم جس کی طرف پلٹ سکیں
شام ہوئی تو یہ خیال دل پہ گراں بہت ہوا
عرفان صدیقی

تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اُس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہوُ روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدّر لکھا ہوا
پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے
کس کے لیے ہے چشمۂ کوثر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منوّر لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اَوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے شعرِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوترابؑ کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
فہرستِ چاکراں میں سلاطیں کے ساتھ ساتھ
میرا بھی نام ہے سرِ دفتر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوال ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبرؐ لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ خداساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
MERGED نقشِ ظفر تھا لوح ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہو روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمین
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منور لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے بیتِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوتراب کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوالِ ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبر لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم‘ تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ‘ خدا ساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
عرفان صدیقی

ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گھٹی میں ہے وِلا کا وہ نشہ پڑا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
صدیوں سے چاکرِ درِ حیدرؑ ہوں دیکھ لو
گردن میں میری طوق ہے اُن کا پڑا ہوا
اور یہ بھی دیکھ لو اسی نسبت کے فیض سے
پیروں پہ ہے مرے سگِ دُنیا پڑا ہوا
سورج کے بعد ماہِ منوّر ہوا طلوُع
تھا بزمِ چار سوُ میں اندھیرا پڑا ہوا
باطل تمام حق سے الگ ہو کے جا گرا
کیا دستِ ذوالفقار تھا سچا پڑا ہوا
اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز
کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا
اپنے لہو میں مست ہیں تشنہ لبانِ عشق
صحرا میں چھوڑ آئے ہیں دریا پڑا ہوا
بخشش سو بے حساب، نوازش سو بے حساب
ہے مدح گو کو مدح کا چسکا پڑا ہوا
عرفان صدیقی

چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 27
تمام جلنا جلانا فسانہ ہوتا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
عجب گداز پرندے بدن میں اڑتے ہوئے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہوتا ہوا
ہری زمین سلگنے لگی تو راز کھلا
کہ جل گیا وہ شجر شامیانہ ہوتا ہوا
نظر میں ٹھہری ہوئی ایک روشنی کی لکیر
افق پہ سایۂ شب بیکرانہ ہوتا ہوا
رقابتیں مرا عہدہ بحال کرتی ہوئی
میں جان دینے کے فن میں یگانہ ہوتا ہوا
عرفان صدیقی

ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
یہ سرخ پھول سا کیا کھل رہا ہے نیزے پر
یہ کیا پرندہ ہے شاخش شجر پہ دارا ہوا
ابھی زمیں پہ نشاں تھے عذاب رفتہ کے
پھر آسمان پہ ظاہر وہی ستارہ ہوا
میں ڈر رہا تھا وہ خنجر نہ ہو چھپائے ہوئے
ردا ہٹی تو وہی زخم آشکارا ہوا
یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
تو کیا ہوا میں اگر دوسرا کنارہ ہوا
عرفان صدیقی

تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 25
چراغ دینے لگے گا دُھواں، نہ چھوُ لینا
تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا
زَمیں چھٹی تو بھٹک جاؤ گے خلاؤں میں
تم اڑُتے اُڑتے کہیں آسماں نہ چھوُ لینا
نہیں تو برف سا پانی تمہیں جلا دے گا
گلاس لیتے ہوئے اُنگلیاں نہ چھوُ لینا
ہمارے لہجے کی شائستگی کے دھوکے میں
ہماری باتوں کی گہرائیاں نہ چھوُ لینا
اُڑے تو پھر نہ ملیں گے رَفاقتوں کے پرند
شکایتوں سے بھری ٹہنیاں نہ چھوُ لینا
مروّتوں کو محبت نہ جاننا عرفانؔ
تم اپنے سینے سے نوکِ سناں نہ چھوُ لینا
عرفان صدیقی

میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 24
عشق میاں اِس آگ میں میرا ظاہر ہی چمکا دینا
میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا
آؤ تمہاری نذر کریں ہم ایک چراغ حکایت کا
جب تک جاگو روشن رکھنا نیند آئے تو بجھا دینا
بیس اکیس برس پیچھے ہمیں کب تک ملتے رہنا ہے
دیکھو، اَب کی بار ملو تو دِل کی بات بتا دینا
سینے کے ویرانے میں یہ خوشبو ایک کرامت ہے
ورنہ اتنا سہل نہیں تھا راکھ میں پھول کھلا دینا
دِل کی زمیں تک روشنیاں تھیں، چہرے تھے، ہریالی تھی
اب تو جہاں بھی ساحل پانا کشتی کو ٹھہرا دینا
مولا، پھر مرے صحرا سے بن برسے بادل لوٹ گئے
خیر، شکایت کوئی نہیں ہے اگلے برس برسا دینا
خواجہ خضر سنو ہم کب سے اس بستی میں بھٹکتے ہیں
تم کو اگر تکلیف نہ ہو تو جنگل تک پہنچا دینا
عرفان صدیقی

پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 23
وہ ہلالِ ماہِ وصال ہے دلِ مہرباں اسے دیکھنا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
مری عاشقی مری شاعری ہے سمندروں کی شناوری
وہی ہم کنار اسے چاہنا وہی بے کراں اسے دیکھنا
وہ ستارہ ہے سرِ آسماں ابھی میری شامِ زوال میں
کبھی میرے دستِ کمال میں تہہِ آسماں اسے دیکھنا
وہ ملا تھا نخلِ مراد سا ابھی مجھ کو نجدِ خیال میں
تو ذرا غبارِ شمال میں مرے سارباں اسے دیکھنا
نہ ملے خبر کبھی دوستو مرے حال میرے ملال کی
تو بچھڑ کے اپنے حبیب سے پسِ کارواں اسے دیکھنا
عرفان صدیقی

آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 22
دست قاتل کیا کٹے اے چشم تر کیا دیکھنا
آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا
کچھ تو چٹانوں سے نکلے جوئے خوں یا جوئے شیر
پتھروں کے بیچ رہنا ہے تو سر کیا دیکھنا
ہم نے خود بن باس لینے کا کیا تھا فیصلہ
یار اب مڑ مڑ کے سوئے بام و در کیا دیکھنا
اپنے ہی جوش نمو میں رقص کرنا چاہیے
راستہ جھونکوں کا اے شاخ شجر کیا دیکھنا
اب کدھر سے وار ہو سکتا ہے یہ بھی سوچئے
کل جدھر سے تیر آیا تھا اُدھر کیا دیکھنا
عرفان صدیقی

مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رکھنا یا فہرست میں تم مرا نام نہ رکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
سارے بوسے خاک میں مل گئے آتے آتے
اب کے ہوا کے ہاتھ میں یہ پیغام نہ رکھنا
شب کے مسافر اور پھر ایسی شب کے مسافر
دیکھ ہماری آس چراغِ شام نہ رکھنا
ورنہ خالی ہوجائیں گے سارے خزانے
آئندہ کسی سر پہ کوئی انعام نہ رکھنا
ایسے شور کے شہر میں اتنا مدھم لہجہ
اونچا سننے والوں پر الزام نہ رکھنا
میں چاہوں مرے دل کا لہو کسی کام آجائے
موسم چاہے چہروں کو گلفام نہ رکھنا
عرفان صدیقی

آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 20
خواب میں بھی میری زنجیرِ سفر کا جاگنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
اَگلے دِن کیا ہونے والا تھا کہ اَب تک یاد ہے
انتظارِ صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا
بستیوں سے شب نوردوں کا چلا جانا مگر
رات بھر اَب بھی چراغِ رہ گزر کا جاگنا
آخری اُمید کا مہتاب جل بجھنے کے بعد
میرا سو جانا مرے دیوار و دَر کا جاگنا
پھر ہواؤں سے کسی امکان کی ملنا نوید
پھر لہو میں آرزوئے تازہ تر کا جاگنا
ایک دِن اُس لمس کے اَسرار کھلنا جسم پر
ایک شب اِس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
اُس کا حرفِ مختصر بیداریوں کا سلسلہ
لفظ میں معنی کا، معنی میں اثر کا جاگنا
بے نوا پتّے بھی آیاتِ نمو پڑھتے ہوئے
تم نے دیکھا ہے کبھی شاخِ شجر کا جاگنا
یک بیک ہر روشنی کا ڈوب جانا اور پھر
آسماں پر اک طلسمِ سیم و زر کا جاگنا
عرفان صدیقی

لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 19
اس بھیڑ میں گم اے دل نہ ہونا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
اچھا یہ سچ ہے، اچھی یہ ضد ہے
قائل نہ کرنا، قائل نہ ہونا
اس نے جو مل کر ہم کو سکھایا
حاصل نہ کرنا، حاصل نہ ہونا
جنگل نہ جانے کیوں چاہتے ہیں
بستی کی حد میں داخل نہ ہونا
بس جی دکھانا لوگوں کے دکھ پر
لوگوں کے دُکھ میں شامل نہ ہونا
قاتل سے لڑنا مشکل نہیں ہے
ممکن نہیں ہے بسمل نہ ہونا
عرفان صدیقی

ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ہوا کا چلنا‘ دریچوں کا باز ہو جانا
ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا
مرے کنار سے اٹھنا مرے ستارے کا
اور اس کے بعد شبوں کا دراز ہو جانا
وہ میرے شیشے پہ آنا تمام گردِ ملال
پھر ایک شخص کا آئینہ ساز ہو جانا
وہ جاگنا مری خاکِ بدن میں نغموں کا
کسی کی انگلیوں کانے نواز ہو جانا
خیال میں ترا کُھلنا مثالِ بند قبا
مگر گرفت میں آنا تو راز ہو جانا
میں اس زمیں پہ تجھے چاہنے کو زندہ ہوں
مجھے قبول نہیں بے جواز ہو جانا
عرفان صدیقی

سیاہ رات سے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
سیاہ رات سے سورج نکالنے والا
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
شب کیسہ سے ہے ورج نکالنے والا
سنہری فصلوں کے بادل میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح کوئی چیز اس کے ہاتھ میں تھی
مرا بدن تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
زمیں کا درد اُٹھانے کا ظرف تو دیتا
یہ بوجھ بھی مرے شانوں پہ ڈالنے والا
عرفان صدیقی

سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مرا خدا، مرے شیشے اُجالنے والا
سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا
سن اے ہرے بھرے موسم میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح بدن میں اُتر گئی کوئی چیز
میں اِس قدر تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
مجھے ملی تو سپر بن گئی ہے میرے لیے
وہ شئے کہ جس سے وہ تھا تیغ ڈھالنے والا
کسی کے نام میں یہ درد کیا لکھوں کہ یہاں
ہر ایک ہے یہ امانت سنبھالنے والا
میں ان کو بانٹتا جاؤں مجھے یہ ظرف بھی دے
محبتیں مری جھولی میں ڈالنے والا
عرفان صدیقی

اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رُکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آپ ہے پہرا لگا ہوا کیسا
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خوُنبار
اُفق اُفق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
اذان ہے کہ علم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
یہ لوگ دشت جفا میں کسے پُکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
گلوئے خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
وہ مہربان اجازت تو دے رہا ہے مگر
یہ جاں نثار ہیں مقتل سے لوٹنا کیسا
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہو گا، مقابلہ کیسا
سلگتی ریت میں جو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
یہ سرُخ بوُند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئنہ کیسا
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لیے
اُجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
سیاہ نیزوں پہ سورج اُبھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
تجھے بھی یاد ہے اے آسماں کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے سانحہ کیسا
عرفان صدیقی

سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دیکھیے خون میں کیا اٹھتا ہے طغیانی سا
سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا
ہاتھ میں موجِ ہوا پاؤں تلے ریگِ رواں
سرو ساماں ہے بہت‘ بے سرو سامانی سا
سیکھ لی کس نے مری شکرگزاری کی ادا
ریت پر ایک نشاں اور ہے پیشانی سا
یہ زمیں اِتنی پُراَسرار بنانے والے
کوئی عالم مری آنکھوں کو بھی حیرانی سا
وہ کسی ساعتِ حاصل سا وصال آمادہ
میں کسی لمحۂ نایاب کا زندانی سا
عرفان صدیقی

پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 13
عکس کیا آئینہ داروں کو دکھاؤں تیرا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
کون پاسکتا ہے کھوئی ہوئی خوشبو کا سراغ
کن ہواؤں سے پتا پوچھنے جاؤں تیرا
تو مرے عشق کی دُنیائے زیاں کا سچ ہے
کیوں کسی اور کو افسانہ سناؤں تیرا
پچھلے موسم میں تری خوش بدنی یاد کروں
راکھ کے ڈھیر میں اک پھول کھلاؤں تیرا
تو مجھے کتنے ہی چہروں میں نظر آتا ہے
کوئی پوچھے تو میں کیا نام بتاؤں تیرا
عرفان صدیقی

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی

بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دھنک سے پھول سے‘ برگِ حنا سے کچھ نہیں ہوتا
بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا
بہت کچھ دوستو‘ بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے
فقط اس خنجرِ دستِ جفا سے کچھ نہیں ہوتا
اگر وسعت نہ دیجے وحشتِ جاں کے علاقے کو
تو پھر آزادیِ زنجیر پا سے کچھ نہیں ہوتا
کوئی کونپل نہیں اس ریت کی تہ میں تو کیا نکلے
یہاں اے سادہ دل کالی گھٹا سے کچھ نہیں ہوتا
ازل سے کچھ خرابی ہے کمانوں کی سماعت میں
پرندو! شوخیِ صوت و صدا سے کچھ نہیں ہوتا
چلو‘ اب آسماں سے اور کوئی رابطہ سوچیں
بہت دن ہو گئے حرفِ دُعا سے کچھ نہیں ہوتا
عرفان صدیقی

عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پکارتا ہے مگر دھیان میں نہیں آتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
بس ایک نام ہے اپنا نشاں، جو یاد نہیں
اور ایک چہرہ جو پہچان میں نہیں آتا
میں گوشہ گیر ہوں صدیوں سے اپنے حجرے میں
مصافِ بیعت و پیمان میں نہیں آتا
مجھے بھی حکم نہیں شہر سے نکلنے کا
مرا حریف بھی میدان میں نہیں آتا
میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں
کہ جمع ہو کے بھی میزان میں نہیں آتا
مرے خدا، مجھے اس آگ سے نکال کہ تو
سمجھ میں آتا ہے، ایقان میں نہیں آتا
عرفان صدیقی

دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 9
اپنی وحشت کی سنو اذن و اجازت پہ نہ جاؤ
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
کتنے ہی دشت و دمن مجھ میں پڑے پھرتے ہیں
صاحبو‘ کوہکن و قیس کی شہرت پہ نہ جاؤ
لاکھ راس آئے مگر کام ہے نادانی کا
تم مرے ماحصلِ کارِ محبت پہ نہ جاؤ
ظرفِ منعم سے بڑا ہے مرا دامانِ طلب
اپنی زر مہریں گنو میری ضرورت پہ نہ جاؤ
اور اک جست میں دیوار سے ٹکرائے گا سر
قید پھر قید ہے زنجیر کی وسعت پہ نہ جاؤ
ہوُ کے صحراؤں میں ان لوگوں کی یاد آتی ہے
ہم سے گھر میں بھی جو کہتے تھے کھلی چھت پہ نہ جاؤ
عرفان صدیقی

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 8
میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہوجاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
دشت سے دور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں
دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ
جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ
وہ ستم گر تمہیں تسخیر کیا چاہتا ہے
خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ
عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ
ابھی پیکر ہی جلا ہے تویہ عالم ہے میاں
آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ
میں ہوں یا موجِ فنا اور یہاں کوئی نہیں
تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ
عرفان صدیقی

اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مصافِ دشت تماشا نہیں ٹھہر جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
سوادِ شب میں کسی سمت کا سراغ کہاں
یہ سیمیا ہے ستارہ نہیں ٹھہر جاؤ
تم اس حریف کو پامال کر نہیں سکتے
تمہاری ذات ہے دُنیا نہیں ٹھہر جاؤ
یہ ہوُ کا وقت، یہ جنگل گھنا، یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ
ہوا رکے تو وہی اک صدا سنائی دے
’’انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ‘‘
عرفان صدیقی

خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں
توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ
اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت
آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ
چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل
کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ
وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے
اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ تقریر میں آ
ایک رنگ آخری منظر کی دَھنک میں کم ہے
موجِ خوں، اُٹھ کے ذرا عرصۂ شمشیر میں آ
عرفان صدیقی

سینہ کشادہ گردن کشیدہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 5
اب تک وہی دھج او نارسیدہ
سینہ کشادہ گردن کشیدہ
بستی میں ہم اور جنگل میں آہو
دونوں گریزاں دونوں رمیدہ
اچھی تمہاری دنیائے نو ہے
جب دیکھئے تب ناآفریدہ
جو کچھ سنا تھا خود ہم پہ بیتا
نکلا شنیدہ مانند دیدہ
جوگی کہ بھوگی سب ایک جیسے
لذت چشیدہ حسرت گزیدہ
زلفوں سے بڑھ کر زنجیر تیری
مری نگاہ گیسو بریدہ
لگتی نہیں یاں موتی کی قیمت
کیسا تمہارا اشک چکیدہ
سب شاعری ہے عرفانؔ صاحب
تم کون ایسے دامن دریدہ
عرفان صدیقی

دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 4
اس آشوب میں کیا انہونی سوچ رہا ہوں
دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں
تیر کوئی مرے رستے کاٹ دے اس سے پہلے
چار دشائیں اپنے پروں میں آج سمولوں
حال تو پوچھے چارہ گر کا دستِ گریزاں
دستک ہو تو سینے کا دروازہ کھولوں
تھک گیا لمبی رات میں تنہا جلتے جلتے
سورج نکلے اور محراب سے رُخصت ہو لوں
عرفان صدیقی

سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دونوں اپنے کام کے ماہر‘ دونوں بڑے ذہین
سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین
گرگ وہاں کوئی سر نہیں کرتا آہو پر بندوق
اس بستی کو جنگل کہنا‘ جنگل کی توہین
سوختگاں کی بزمِ سخن میں صدر نشیں آسیب
چیخوں کے صد غزلوں پر سناٹوں کی تحسین
فتنۂ شب نے ختم کیا سب آنکھوں کا آزار
سارے خواب حقیقت بن گئے سارے وہم یقین
ہم بھی پتھر‘ تم بھی پتھر سب پتھر ٹکراؤ
ہم بھی ٹوٹیں‘ تم بھی ٹوٹو‘ سب ٹوٹیں‘ آمین
عرفان صدیقی

مارے گا قاتل چیخے گا مقتول

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ قاعدہ ہے اے شخص مت بھول
مارے گا قاتل چیخے گا مقتول
کچھ ہو رہا ہے دل میں کہ جس کا
احساس معلوم اظہار مجہول
دو چار دن تک محشر کا منظر
دو چار دن بعد سب حسب معمول
نیچے سے اوپر بہتا ہے پانی
یہ جرم تسلیم یہ بات معقول
کیوں کوئی کاٹے اوروں کا بویا
پچھلے نہ دیں گے اگلوں کو محصول
رمزوں میں بولیں عقدے نہ کھولیں
ایسے سخنور عہدوں سے معزول
کھڑکی سے باہر جھانکے تو کیوں کر
چھوٹا ہے بچہ اونچا ہے اسٹول
دل میرا استاد دنیا گزرگاہ
پڑھتا ہوں گھر میں جاتا ہوں اسکول
عرفان صدیقی

مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 1
کنارِ سوتھ بنا ہے کنارِ رکناباد
مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد
ہمارے کنجِ ابد عافیت میں کچھ بھی نہیں
یہ کارگاہِ عناصر یہ عالمِ ایجاد
یہ دل بھی دیکھ کہ اس خانہ باغِ ہجراں میں
وہی ہے آج بھی جاناں نظامِ بست و کشاد
سوادِ یاد میں چھائی ہوئی ہیں چھاؤنیاں
مسافرانِ جہانِ وصال زندہ باد
پسِ غبارِ مسافت چراغ جلتے رہیں
خدا رکھے یہ پراسرار بستیاں آباد
اب اس کے آگے جو کچھ فیصلہ ہو قسمت کا
ترے سمند بھی میرے غزال بھی آزاد
فقیر جاتے ہیں پھیرا لگا کے ڈیرے کو
مدام دولتِ دولت سرائے یار زیاد
عرفان صدیقی

سوسن کا سپنا ۔ THE REVERIE OF POOR SUSAN by William Wordsworth

سوسن کا سپنا

THE REVERIE OF POOR SUSAN

گلی کی نکڑ سے جھانکتا

صبح نو کا چہرہ

اسی جگہ پر چہک رہا ہے

قفس میں گاتا ہوا پرندہ

بلند آہنگ میٹھی تانوں میں

تین برسوں سے مست طائر

غریب سوسن کے راستے میں

حسین نغمے بچھا رہا ہے

مہکتی اور نیم باز صبحوں

کی خامشی میں

پیام خنداں سنا رہا ہے

پر آج سوسن کو کیا ہوا ہے

کھلی نگاہوں میں کسمساتا دبیز منظر

نویلے سپنے جگا رہا ہے

اُدھر کہیں گوشۂ وطن میں

بلند ہوتی ہوئی پہاڑی

یہ پیڑ ، یہ بے لباس کہرے کی سرسراہٹ

یہ وادیوں کے گداز سینوں

میں بہتے دریا

یہ سبز ٹکڑے

اور ان کے قدموں میں

ایک تنہا سی زرد کُٹیا

کہ آشیاں ننھی فاختہ کا

فقط یہی دلنواز کُٹیا

اسے جہاں سے عزیز تر ہے

وہ گُم ہے اپنے وطن کے جنت نظیر

سپنے میں کھو چکی ہے

مگر کہیں عکس ڈھل رہے ہیں

یہ دھند ، دریا پگھل رہے ہیں

پہاڑی کیا سر اُٹھا سکے گی

ندی کو بہنے میں عار ہو گا

کہ اس کی بے بس کھلی نگاہوں

سے رنگ سارے پھسل رہے ہیں …

At the corner of Wood Street, when daylight appears,

Hangs a Thrush that sings loud, it has sung for three years:

Poor Susan has passed by the spot, and has heard

In the silence of morning the song of the Bird۔

Tis a note of enchantment; what ails her? She sees

A mountain ascending, a vision of trees;

Bright volumes of vapour through Lothbury glide,

And a river flows on through the vale of Cheapside۔

Green pastures she views in the midst of the dale,

Down which she so often has tripped with her pail;

And a single small cottage, a nest like a dove’s,

The one only dwelling on earth that she loves۔

She looks, and her heart is in heaven: but they fade,

The mist and the river, the hill and the shade:

The stream will not flow, and the hill will not rise,

And the colours have all passed away from her eyes!

گلناز کوثر

پُل پر سے … Composed upon Westminister Bridge by William Wordsworth

Earth has not anything to show more fair:

Dull would he be of soul who could pass by

A sight so touching in its majesty:

This City now doth، like a garment، wear

The beauty of the morning؛ silent، bare،

Ships، towers، domes، theatres، and temples lie

Open unto the fields، and to the sky؛

All bright and glittering in the smokeless air۔

Never did the sun more beautifully steep

In his first splendour، valley، rock، or hill؛

Ne’er saw I، never felt، a calm so deep!

The river glideth at his own sweet will:

Dear God! The very houses seem asleep؛

And all that mighty heart is lying still!

پُل پر سے …

اس سے سندر پَل دھرتی کے

جیون میں کب آیا ہو گا

بھور سمے کی اُجلی چادر

اوڑھ کے شہر تو چُپ بیٹھا ہے

کوئی اِس پل میں اُترے بِن

دھرتی سے اب کیسے گزرے

گم صُم اونچے مندر،

گول سے گنبد

اور چمکیلے منبر

سجی ہوئی تماشا گاہیں

ساگر کے سینے پر

ٹھہرے ہوئے سفینے

کرنوں کے جھرنے کے نیچے

آنکھیں موندے

گیان دھیان میں کھوئے ہوئے ہیں

ہولے ہولے ہوا کی کوری باہیں

جن کو سہلاتی ہیں

اور جھرنے کی شیتل بوندیں

کب یوں پربت ، ٹیلوں اور وادی کے تن پر

سَر سَر کرتی اتری ہوں گی

دل میرا کب اس سے پہلے

ایسے شانت سمے کو چھو کر

گزرا ہو گا

دریا من مانی موجوں کے

دھیمے سُروں میں

کھویا ہوا ہے

شہر کا گیانی من

اِک مدھم سناٹے میں

سویا ہوا ہے …

گلناز کوثر

تتلی سے ۔ TO A BUTTERFLY by William Wordsworth

Stay near me – do not take thy flight

A little longer stay in sight!

Much converse do I find in thee،

Historian of my infancy!

Float near me: do not yet depart!

Dead times revive in thee:

Thou bring’st، gay creature as thou art!

A solemn image to my heart

My father’s family!

Oh! pleasant، pleasant were th days،

The time when in our childish plays،

My sister Emmeline and I

Together chased the butterfly!

a very hunter did I rush

Upon the prey؛ — with leaps and springs

I followed on from brake to bush؛

But she، God lover her! feared to brush

the dust from off its wing

تتلی سے

ذرا رُکو میری خالی آنکھوں

کے آئینوں میں

تمہی سے روشن ہوئے ہیں

گزرے حسیں دنوں کے چراغ

ٹھہرو، ابھی نہ جاؤ

تمہی وہ خوش رُو ہو

جس سے ماضی کی

مُردہ شاخیں ہری ہوئی ہیں

ہمارے گاتے ، لُبھاتے بچپن

کا شوخ منظر

انہی ہواؤں میں ڈولتا ہے

یہ تم سے بڑھ کر

کسے پتہ ہے

کہ کیسے رنگوں کے لہریوں پر

ہم اپنی حیراں نظر جمائے

تمہارے پیچھے نکل پڑے تھے

میں ایک معصوم دل شکاری

جو اپنی ننھی بہن کی خاطر

یوں جھاڑیوں سے الجھتا کیسے

ہزار جتنوں سے پہنچا تم تک

خداکی اُلفت میں

ننھی کیسی گداز دل تھی

یہ ریشمی رنگ جھڑ نہ جائیں

تمہیں وہ چھونے سے ڈر رہی تھی

گلناز کوثر

لہو سے بھری اس سڑک پر

خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر

مرا دل مری پہلی پہچان کو ڈھونڈتا ہے

لہو سے بھری اس سڑک پر

خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر

تڑپتی، بلکتی ہوئی میری فریاد

کٹتے ، سسکتے ہوئے دل سے اُٹھتی صدائیں

مری زخمی چیخیں

کوئی آج سنتا نہیں ہے

مرے ساتھ دم توڑتی میری معصوم خواہش کی

بجھتی نگاہوں میں خوابوں کی، رنگوں کی آواز

سنتا نہیں ہے کوئی آج لیکن

کہیں وقت کے اگلے اندھے پڑاؤ پہ

اِس جلتی دھرتی کی راکھ

ان فضاؤں میں اُڑنے لگے گی

کسی تُند ریلے کے

سرکش بہاؤ میں سب

ٹوٹ کر بہتا ہو گا

تو لہروں ، ہواؤں میں میری

صدا بھی ملے گی …

گلناز کوثر

یہ وہ دھرتی نہیں ہے

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے جہاں میرا بچپن

مرا تتلیوں ، پھولوں ، رنگوں سے لبریز بچپن

کسی شاہزادی کی رنگیں کہانی کی حیرت میں گم تھا

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

جہاں میری آنکھوں …

بہت خواب بُنتی ہوئی میری شفاف آنکھوں

میں اوّل جوانی کا احساس ہلکورے لینے لگا تھا

وہ گوشہ جہاں بیٹھ کر میں نے پہروں

کتابیں پڑھی تھیں

درختوں پہ، پھولوں پہ، چڑیوں پہ

نظمیں کہی تھیں

نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے

جہاں میرے دل پر

مرے کورے ، معصوم دل پر

کسی شرمگیں اُجلی ساعت نے

اِسم محبت لکھا تھا

جہاں زندگی کو برس در برس

میں نے کھل کر جیا تھا

گلناز کوثر

سانحہ کراچی کی وڈیو فوٹیج دیکھ کر

خدایا …

مری زندگی میں

یہ خونخوار لمحہ

اذیت بھری لہر

کٹتی رگیں

جیسے میرا لہو

اس کے بہتے لہو میں

دھڑکنے لگا ہو

وہ دلدوز چیخیں

کہیں میرے

سوکھے گلے میں

اٹکنے لگی ہیں

مری ٹوٹتی سانس نے

آخری بار

بے رحم سی اس سڑک کو

چھوا ہے

مری زرد ، بجھتی نگاہوں

میں بس ڈولتی ایک حیرت

خدایا …

نہیں …

گلناز کوثر

دِیا وہ بجھ گیا ہے

ہواؤ … !!!

کس دِیے کی لَو پہ تم نے

ہاتھ رکھا ہے

سسکتے ، ڈولتے ، تاریک منظر کو

ہماری نم گزیدہ آنکھ نے مشکل سنبھالا ہے

یہ کیا کہ ننھے جھونکے نے

شبستاں پھونک ڈالا ہے

دِیا وہ جس کے در سے

روشنی جب دان میں ملتی

تو حرفوں کے سیہ اندھیر رستوں سے

اُجالے پھوٹ پڑتے تھے

دِیا وہ بجھ گیا ہے

دِیا وہ بجھ گیا ہے اور دھواں

اِک سیدھی ، سوکھی شاخ کے جیسے

چٹختا ہے

ذرا سوچو

دھویں کی شاخ سے

بل کھا کے ٹوٹے

ننھے مرغولے کا جیون

کتنا ہوتا ہے

تو ہم بھی روشنی کے سارے چہرے

کاغذوں کے خالی خاکوں میں

سجا کر بھول جائیں گے

مگر پھر یوں کسی تاریک شب میں

جب کوئی روشن ستارہ

ٹوٹ جائے گا

ہمیں یہ دھند میں رکھا

دِیا بھی

یاد آئے گا …

گلناز کوثر

کیا رکھا ہے

چھوڑو کیا رکھا ہے … اب یہ چھوٹی چھوٹی

چبھنے والی … نوکیلی سی باتیں

تم کیا ڈھونڈ رہے ہو

نہیں یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے

سچ کہتے ہو درد بڑا تھا

لیکن اب تو کچھ بھی نہیں ہے

آخری منظر کیا دیکھا تھا

اندھی رُت اور گہرے سائے

ارے ذرا نرمی سے

نازک پھول سا لمحہ

کیا ہے جو اَب شاخ سے ٹوٹ کے گرنے لگا ہے

پھول تو پھول ہے … لیکن دل کچھ بھول رہا ہے

پلکوں کے پردوں کے پیچھے … کیا ہے … کیا ہے

آہ … یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے

تم جو کل آتے تو … لیکن

سچ کہتے ہو

خاک اُڑاتے کمرے میں رکھا بھی کیا ہے

یونہی خالی بیٹھے بیٹھے دیر ہوئی ہے

دیکھو سورج ڈھلنے لگا ہے

کہاں چلو گے

شہر میں چاروں جانب سورج ڈھلنے لگا ہے

لیکن تم کیا دیکھ رہے ہو

دیر ہوئی ہے

میرے پتھر قدموں کے نیچے یہ دھرتی

رُکی ہوئی ہے

ہاں پر تم کہہ کر تو دیکھو

لیکن چھوڑو … کیا رکھا ہے

بس تم ہنستی کھیلتی ، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہو گے

سورج ڈھلتے ڈھلتے آخر ڈھل جائے گا

اور پرے دو پیڑ ہیولے بن جائیں گے …

گلناز کوثر

رات کے بعد …

وقت کی سرمئی نگاہوں میں

گُھل رہی ہیں بڑی خموشی سے

رات کی ڈوبتی ہوئی سانسیں

اُلجھے اُلجھے ہوئے مرے دل سے

دُھل رہی ہیں نشاط کی گھڑیاں

کھڑکیوں سے پرے لرزتی ہے

چاپ اِک ملگجے اُجالے کی

گرم کمرے سے رات کی مہماں

دل رُبا ساعتیں پلٹتی ہیں

سازِ جاں تھک کے سو گیا ہے کہیں

تھم چکی کب سے آرزوئے حیات

دیر سے چُپ، اُداس ، رنجیدہ

پھر کسی سوچ سے گریزاں ہوں

ڈوبتا چاند اِک تسلسل سے

ذہن کے آہنی دریچوں پر

سہمے سہمے خیال دھرتا ہے

اور بکھرا ہوا یہ شب خانہ

مجھ سے ڈھیروں سوال کرتا ہے …

گلناز کوثر

شام اترتی رہی

چپ کھڑی سامنے والی دِیوار پر

سانولے سرد ہاتھوں سے

رخنوں میں دبکی حرارت کھرچتی،

سبک ، سرمئی پیرہن کو لیے

کیاریوں کے شفق رنگ منظر نگلتی

کھُلے آنگنوں اور ستونوں ، درختوں

دریچوں پہ

گہرے سیہ رنگ خوابوں کی دستک لیے

جھانکتی ، تاکتی بند دروازوں ،درزوں سے ہوتی ہوئی

میز پر چائے کے خالی مگ سے اُلجھتی ، سرکتی

کسی گم شدہ سوچ کے زرد مرغولوں کو

تھپتھپاتی ہوئی

شام اُترتی رہی

ایک بے جان چہرے پہ

خالی نگاہوں کے خاکوں کو چھوتی، لرزتی

کسی خوف کی ان چھوئی ساعتوں سے

ذرا کانپتی ، کپکپاتی

بہت دیر سے بند دھڑکن پہ بے سُود

آہٹ کو دھرتی ہوئی

شام اترتی رہی

گلناز کوثر

سالگرہ

تن کی مٹی

اور بھی کومل

اُلجھے سلجھے

ریشم میں

چاندی کے ڈورے

اور نمایاں

اور بھی گہری

سوچ کی سلوٹ

نینوں میں

سپنوں کا سایہ

ہلکا ، مدھم

اندر پھیلا

درد کا بادل

اور بھی میلا

اور بھی گہرا

چلتے چلتے

دُور کہیں اِک

منظر پگھلا

تارا نکلا

وقت کے ہاتھ سے

دھیرے دھیرے

ایک برس کا

سکہ پھسلا

شام اترتی رہی

گلناز کوثر

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میں

سرخ لہو نے بہتے بہتے

حیرانی سے

تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا

ابھی تو میں ان نیلی، گرم رگوں میں

کیسے دوڑ رہا تھا

بجھتی ہوئی اِک سانس کی لَو نے

اپنے ننھے جیون کی

اس آخری تیز، کٹیلی ہچکی کو جھٹکا

دوخالی نظریں

دُور دھویں کے پار

کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں

ابھی ابھی تو نیلا امبر

باہیں کھولے تنا کھڑا تھا

مُندی مُندی سی دھوپ

یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی

پھر کس نے اس جیتے جاگتے

منظر میں یہ آگ بھری ہے

کالی فضا میں اُڑتے ریشے

آدھی اُدھڑی بے بس لاشیں

سرخ لہو نے حیرانی سے

جلے ہوئے منظر کو دیکھا

آخری تیز، کٹیلی ہچکی

ٹوٹ رہی تھی …

گلناز کوثر

خاک زادوں کے بس میں کہاں

اِس سے پہلے تو ہر سُو جھلستی ہوئی زندگی

ظلمتوں کے بدن میں دھڑکتی تھی اور دُور گرتی تھیں

سہمے ہوئے وقت کے تھال پر سسکیاں

اُٹھ رہا تھا کہیں ضبط گر آنکھ کی پُتلیوں سے دھواں

کانپتی تھی زمیں، زرد تھا آسماں

اور فضاؤں پہ چھایا ہوا خوف کا سائباں

اس سے پہلے کہیں گُل مہکتے نہ تھے، دل چہکتے نہ تھے

اور بھٹکتے تھے صحرا نوردوں کے بے سمت و در کارواں، الاماں، الاماں

پھر مگر اِس تپکتے ہوئے آسماں کے تلے ایک جھونکا چلا

ایک جھونکا چلا تو بدلنے لگا ہے سماں

چھٹ گئیں ظلمتیں، مٹ گیا گدلی ، بے رنگ آنکھوں سے سہمے ہوئے

خوف کا ہر نشاں …

خاک زادوں کے بس میں کہاں

چھو سکیں رفعت بندگی

کہہ سکیں حرف بھی ذات ارفع کے شایان شاں، لڑکھڑاتی زباں

ہم خطاکار، بے دست، بھٹکے ہوئے

خاک زادوں کے بس میں کہاں

ریگ زاروں پہ کُھل کے برستی ہوئی … رحمتوں کا بیاں

خاک زادوں کے بس میں کہاں

گلناز کوثر

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیے

خوف کے خالی پیکر

خوں مرا مانگنے

بے خوف چلی آتی ہے

اور جلتی ہوئی آنکھوں کے

تحیر کے تلے

ایک سناٹا

بہت شور کیا کرتا ہے

کچھ تو کٹتا ہے،

تڑپتا ہے

بہاتا ہے لہو

اور کھل جاتے ہیں

ریشوں کے پرانے بخیے

رات ہر بار مری

جاگتی پلکیں چُن کر

اندھے ، گمنام دریچوں پہ

سجا جاتی ہے

اور دھندلائے ہوئے

گرد زدہ رستوں میں

ایک آہٹ کا سرا ہے

کہ نہیں ملتا ہے

آسماں گیلی چٹانوں پہ

ٹکا ئے چہرہ

سسکیاں لیتا ہے

سہمے ہوئے بچے کی طرح

اور دریچوں پہ دھری

کانپتی پلکیں میری

گل زمینوں کے نئے

خواب بُنا کرتی ہیں

گلناز کوثر

شام

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

دھیرے دھیرے

دور اُفق پر

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

نارنجی بل کھاتی لہریں

کب سے ساکت پیڑوں پر

دم توڑ چکی ہیں

پنچھی کب کے لوٹ گئے ہیں

گہرے نیلے مرغولوں نے

سرد فضا کو گھیر لیا ہے

تنہائی کا گم صم سایا

سناٹے میں گونج رہا ہے

سینے میں اِک پیاس کا صحرا

جاگ اُٹھا ہے

دیر سے پچھلی یاد کے جھونکے

دل کی خالی دِیواروں کو

چھید رہے ہیں

سانس کا ریشم الجھ گیا ہے

اور کسی بے چین گھڑی نے

رات کا رستہ روک لیا ہے

بنجر آنکھ میں شام کا منظر

ٹھہر گیا ہے …

گلناز کوثر

عافیت

اسی میں عافیت ہے ہم

صبح سے شام تک پتلے ورق

ان پتلیوں میں گاڑتے جائیں

اُچٹتی کوری تحریریں

ادق حرفوں کو دہرائیں

سویرے سے ہی اپنے خالی چہرے پر

کسی بھی تمتماتے جوش کو کس کے چڑھائیں

اور لکڑی سے بنے تختے کے نیچے ٹانگیں جوڑیں

سر جھکائیں

اجنبی بے صوت سی دنیا میں کھو جائیں

اسی میں عافیت ہے جو وہ کہتے ہیں

ہم اپنے آپ کی جانب

کبھی بھی لوٹ نہ پائیں …

گلناز کوثر

قوس

قوس پھوٹی ہے یوں

شاعر وقت کے دست تخلیق سے

جیسے تپتے ، جھلستے تھپیڑوں کے

آنچل سے لپٹی ہوئی

دھیمے احساس کی نرم کونپل کہ جو

سر اُٹھاتے ہی موسم کا رُخ پھیر دے

جذب کے ایک مدھم بہاؤ پہ احساس کی ڈولتی ناؤ

اور وقت کی تال پر رقص کرتی ہوئی

اپسرا کے بدن سے اُمڈتی ہوئی کوئی انمٹ ادا

قوس پھوٹی ہے یوں

جیسے سانسوں کی تازہ حرارت تلے

پھر سے سہمے ہوئے دل دھڑکنے لگیں

خواب پلکوں کے گیلے کناروں پہ

چپکے سے آ کے بسیرا کریں

تو نگاہوں میں پھر سے وہی

زندگی کی چمک جاگ اُٹھے

کھو گئی جو زمانے کے اس پھیر میں

قوس تیرے مرے جذب کی ترجماں

خواہشوں کا بیاں

آرزو کی زباں

دوستو ہم تو لمحوں کی دیوار پر

شام سرما کی ڈھلتی ہوئی دھوپ ہیں

جانے کل ہوں نہ ہوں

پر ہماری سبک چاہتوں کے نشاں

قوس کے زندہ حرفوں میں سمٹے ہوئے

دُور تک جائیں گے

آنے والے زمانوں کے احساس کا

رنگ کہلائیں گے!!!

گلناز کوثر

کیوں آئے ہو

کیوں آئے ہو

بجھتے ہوئے تاروں کی

چھاؤں میں دھیرے دھیرے

گیت سناتے

خواب جگاتے

لفظوں سے تصویر بناتے

ابھی پرانے درد کا ماتم بپا ہے

دِل میں

شور بہت ہے

جان بھی الجھی ہے

کچھ منظر پگھلانے میں

جیون کا بوسیدہ ریشم

سلجھانے میں

پچھلی یاد بھلانے میں

کیوں آئے ہو

نینوں میں تاروں کو سجائے

پھول اُٹھائے

من دہکائے

وقت کہاں باقی ہے

چاند کے بجھنے میں،

ڈھل جانے میں

خواب ڈھونڈنے جانا پڑے گا

ذہن کے مردہ خانے میں …

گلناز کوثر

تِیتری تُو نے کیا بات کی

تِیتری …

تُو نے کیا بات کی

اَدھ کِھلی پنکھڑی کا نویلا بدن

یک بیک چونک کر کپکپانے لگا

رات سے پھول کے

نرم بستر پہ مدہوش

شبنم کے قطرے

جواں سال پتوں کی ڈھلوان پر سے

لُڑھکنے لگے …

غُل مچاتے پرندے

ٹھٹک کر

بڑی دیر تک

گول ، حیران آنکھیں گھماتے رہے

اُجلے جھونکے

لچکتے ، لپکتے ہوئے

اجنبی پیڑ کے

سبز آنچل میں

چہرہ چھپانے لگے

تِیتری …

تُو نے ایسی بھی کیا بات کی

اِک عجب سنسنی سی

ہواؤں کے ہونٹوں پہ

ٹھہری رہی

اور چمن کا چمن

خوف کے کالے، خاموش

پنجوں میں جکڑا رہا

پر اِدھر

ایک معصوم ، سہما ہوا

زرد غنچہ

بڑی دیر تک

مسکراتا رہا …

گلناز کوثر

لوٹ آؤ

رُکو دوست … کہاں چلے

سرما کی نرم دھوپ کو پیڑوں پر کھیلتا نہ دیکھو گے

رنگ بدلتے پیڑ ، دھوپ ، بارش اور کہرے سے کبھی خالی نہ ہوں گے

تمہارا پسندیدہ گیت تمہارے لیپ ٹاپ پر بجتا رہے گا

تمہارے سر پھرے دوست نفاست سے سجے تمہارے کمرے کو

بکھیرنے کے لیے ہر دم تیار رہیں گے

قہقہے گونجتے رہیں گے

چائے کے کپ بجتے رہیں گے

سب کچھ ویسا ہی رہے گا

جیسا کہ تم چاہتے رہے ہو

بس تم ان سب کو ایک آخری موقع دو

اپنی خوابوں ، کتابوں سے بھری دنیا میں

لوٹ آؤ …

گلناز کوثر

کلاس فیلو

بڑی مدتوں میں ملے ہیں تو

مجھے یوں لگا تجھے دیکھ کر

کہیں ڈھلتی شام کی اوٹ سے

ابھی جھانکتی ہے کرن کوئی

ابھی خیمہ زن ہیں

مرے وجود میں راحتیں

مہ و سال کے

کسی پھیر میں

جو گنوائیں میں نے

وہ لذتیں

مجھے یوں لگا

وہی ذائقے

مرے دل میں پھر سے مہک اُٹھے

کسی تمتماتے خیال سے

مرے سرد جمتے لہو میں

نغمے لہک اُٹھے

مرے جسم کے

سبھی برف زار دہک اُٹھے

مجھے یوں لگا

ابھی دوڑ کر

تُو کہے گی آؤ

گداز لمحوں سے

پیڑ کی

کسی شاخ پر

کوئی خواب لکھیں

بہار کا یونہی گنگنائیں

حسین سا کوئی گیت

فصل خزاں کے آنے میں

دیر ہے

ابھی دیر ہے …

گلناز کوثر

بہ جانب دل حزیں

یہ سن رسیدہ مکڑیوں

کے کُلبلاتے قافلے

لچکتے ، رینگتے ، لپکتے

آ رہے ہیں دُور سے

کراری سبز پُتلیاں

اِک آنچ سے تپی ہوئی

لبوں میں تیز دھار کے

مہین بے قرار تار

بڑھے ہیں کیسے شوق سے

بُنیں گے آج واہموں کے

دل نشیں حسین جال

سو گرد بے حساب سے

اُٹھے گی آج پھر صدا

وہ اپنی خلدِ بے رخی میں

تا بہ سر گڑا ہوا

تُو آگ میں گھرا ہوا

توُخاک پر پڑا ہوا

اسے کوئی سُنے گا کیا؟

گلناز کوثر

تمہاری آنکھوں کے لیے ایک نظم

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

دھیرے دھیرے بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

اُجلے حیراں کٹوروں کے نمناک گوشوں کو

چھُوتی ہیں … ڈرتی ہیں … ڈر کے پلٹتی ہیں

بے تاب … دھڑ دھڑ دھڑکتی ہوئی

جھالروں کے تلے

لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی … بدلیاں

کھوجتی ہیں نئے آسماں … تتلیاں

کھوئی کھوئی، پریشان، گُم صُ، بھٹکتی ہوئی

قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کرچیاں

وقت کی راکھ سے

ادھ بُنے خواب چُنتی ہیں

چپکے سے لکھتی ہیں … سہمی ہوئی … درد کی داستاں

اُلجھی اُلجھی ہوئی بے زباں تتلیاں

سوچتی ہیں بہت

کچھ بھی کہتی نہیں

ڈوبتی ہیں، اُبھرتی ہیں

برفاب ساحل پہ ٹوٹی ہوئی … کشتیاں

تیز سرکش ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی

پر شکستہ، بہت ہولے ہولے سنبھلتی ہوئی … تتلیاں

چوری چوری اُترتی ہیں گمنام رستوں پہ

کب سے بھڑکتے ہوئے اِک الاؤ کو چھوتی ہیں

جلتے ہوئے سرد، بے چین دل پر مرے

ہاتھ رکھتی ہیں پر

کچھ بھی کہتی نہیں

دھیرے دھیرے … بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

گلناز کوثر

سوکھا پتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

میں بھی سوکھا پتا ہوتا

ہوا کی ہلکی سی تھپکی پر

زنداں کا دروازہ کھلتا

دھوپ کے اُجلے منظر

میرا تن سہلاتے

رنگ مہکتی ، کچی مٹی کا میری بھی

روح میں گُھلتا

ہوا کی مدھم لہروں پر

ہلکورے لیتا بہتا جاتا

سوکھی چٹخی آنکھیں کوئی

خواب نہ بُنتیں

مُرجھانے کا، جھڑ جانے کا

دل میں کوئی خوف نہ ہوتا

ننھی ننھی جگمگ آنکھیں،

مڑی مڑی سی پلکیں

چھوٹے چھوٹے پاؤں

حیرانی سے بڑھتے میری جانب

اور میں بہتا جاتا

آتے جاتے قدموں کی

آوازیں سنتا

قدموں کی آوازیں

جیسے دَھڑ دَھڑ کوئی

دھرتی کُوٹے

اور پھر وہ آوازیں

جن میں سُر گاتے ہوں

یا کچھ جھجکی ، گرتی پڑتی ،

مدھم چاپیں

دن بھر جاگتی گلیوں میں

یوں خاک اُڑاتا

رات گئے پھر سُونی، ویراں

سڑکوں پر آوارہ پھرتا

اور پیڑوں کی اوٹ میں

ملنے والوں کی سرگوشی سنتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

آزادی کا اِک دن

ساری عمر کی قید سے

اچھا ہوتا

میں بھی سوکھا پتا ہوتا …

گلناز کوثر

ابھی کچھ دن

اداسی آج بھی …

بے صَوت حرفوں کے

گھنے جنگل سے

خاموشی کی بس اِک

کنکری چُن کر

ہمارے دِل کے

ساکت ساحلوں پر

پھینک جائے گی

دُبکتی چاندنی

آنکھیں نہ کھولے گی

سُلگتی موج سے اب بھی

تلاطم کی کوئی صورت

نہ نکلے گی

ابھی کچھ دن اُجالے دھند کے

صحرا سے گزریں گے

پرندے اپنے دم سادھے رہیں گے

گھونسلوں کے در نہ کھولیں گے

ابھی کچھ دن …

ابھی کچھ اور دن ہم بھی

کسی سے کچھ نہ بولیں گے …

گلناز کوثر

پاگل عورت کے لیے ایک نظم ؎

انجانی بے درد مسافر

بارہ برسوں سے سڑکوں پہ بھٹک رہی ہے

جیسے ہوش کے آخری لمحے

اُس نے سفر کی ٹھانی ہو

پھر اِک اندھی بہری منزل

اُس کی آنکھ سے چپک گئی ہو

پھر اِک گم صم گونگا رستہ

اُس کے پیڑ سے لپٹ گیا ہو

پھر اِک پتھر جیسا وعدہ

اُس کی رُوح پہ آن دھرا ہو

اور وعدے کی سل پر جیسے

بارہ برس کی گرد کے نیچے

سہما سا اِک خواب پڑا ہو

روکھے سوکھے بالوں میں اب

وقت کی چاندی پھیل رہی ہے

بوسیدہ کپڑوں کی درزیں

روزن بنتی جاتی ہیں

لیکن دھول بھری آنکھوں سے

آس کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں

لیکن میل بھرے ہاتھوں نے

زادِ سفر کو تھام رکھا ہے

اور خالی دل سوچ رہا ہے

آج تو اُس کو آنا ہو گا …

(بارہ طویل برسوں تک لاہور کی سڑکوں پر مال روڈ، جی پی او اور سکرٹریٹ کے بس سٹاپس پر اکثر ایک پاگل عورت کاندھے پر بیگ لٹکائے انتظار میں کھڑی نظر آیا کرتی تھی … سنا ہے شاید کالج کے زمانے میں اسے کسی ایسے لڑکے سے محبت ہوئی جس سے شادی ممکن نہ تھی … نتیجتاً دونوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا … کسی بس سٹاپ پر ملنا طے تھا مگر لڑکا نہیں آیا … اور وہ بھی لوٹ کر گھر نہیں گئی … بارہ برسوں نے اس عورت کے ظاہری حلیے کو کافی حد تک بدل دیا لیکن آنکھوں میں ٹھہرا انتظار ویسے کا ویسا ہی رہا ۔)

گلناز کوثر

ستارہ

ستارہ سر شام پھر بند کھڑکی کے پیچھے

پرانے درختوں کی ناکارہ شاخوں پہ سجنے لگا تھا

بہت ننھے روزن سے کرنوں کا ہالہ

کسی ویراں ، آسیب تن سے

اُلجھنے لگا تھا

ستارہ رُوپہلے شبستاں کے منظر سے

آنکھیں چرائے

لُٹے گھر کے تنہا و تاریک کمرے کی

بوسیدہ کھڑکی پہ

کرنیں بچھائے

بہت خشک وحشت بھری

اُس کی بے بس نگاہوں کو چھونے لگا تھا

وہ روزن سے پھوٹی ہوئی

تیز کرنوں سے بچتا بچاتا

اسی اُونچی دِیوار کے ایک کونے میں

بیٹھا رہا تھا

وہ بیٹھا رہا تھا

وہ اپنے بہت میلے ہاتھوں کی

ادھڑی رگوں کو چھپائے

پریشاں نگاہوں سے

کرنوں کے ہالے کو

تکتا رہا تھا

ستارہ کہیں بند کھڑکی کے پیچھے

بہت منتظر تھا

گلناز کوثر

ڈر لگتا ہے

تم کیسے سمجھو گے

لیکن

ہم نے تو

دیکھا ہے

جیون بھر کا حاصل

ایک یہی لمحہ ہے

پل ہے

تارے جیسا

جھلمل جھلمل،

شیتل،کومل

ورنہ اس بے کار

سفر میں رکھا کیا ہے

وقت کے سینے پر

بے مقصد بہتے جاؤ

ہچکولے اور تنہا کشتی

ہاں تو …

ایک یہی پل ہے جو

لیکن …

جیسے …

ہاں پر تم

کیا جان سکو گے؟

کیسی کیسی گانٹھیں

دھول، نکیلے پتھر

ہچکولے اور تنہا کشتی

کومل پل بھی

جھوٹ نہیں ہے

اس سے پہلے

لمحے کے

چھونے سے پہلے

تم تو نہیں سمجھو گے لیکن

آؤ کہیں چھپ جائیں

کتنا ڈر لگتا ہے …

گلناز کوثر

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر

اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف

پھول بل کھائی، اُلجھی ہوئی بیل پر

زندگی کے اہم فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے

میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن

جمی ہے یہاں آج تک

ننھے دھبے میں اِک بے کلی میرے احساس کی

اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی

چائے کا اِک پرانا نشاں

اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے

چھت کی طرف

آج بھی ہیں پڑی شیلف پر

جو کتابیں خریدی تھیں

میں نے بہت پیار سے

آج بھی ہیں جڑے

کاغذوں کے حسیں آئینوں میں

مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے

کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے

میں تو حیران ہوں …

مجھ سے منسوب ہر ایک شے

جوں کی توں ہے تو کیا ایک میں ہی تھا جو

ایک میں ہی تھا پانی کے سینے پہ رکھا ہوا نقش جو

پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا …

گلناز کوثر

ڈھلمل قطرہ

بارش کب سے تھمی ہوئی ہے

سرد ہوا سے ٹھٹھری بیلیں

سن سن کرتی دیواروں سے چپک رہی ہیں

پیپل کا یہ پیڑ پرانا

پیڑ کے چوڑے چوڑے پتے

تیز ہوا سے تھراتے ہیں

اور پھر پچھلی جانب جھک کر

لہراتے ہیں

اور اِدھر اِک ننھا پتا

حیراں حیراں ، ساکت، گم صم

تیز ہوا کے آگے کیسی خاموشی سے

ڈٹا کھڑا ہے

جھومتے اور لہراتے چوڑے پتو

تم جو غور کر و تو

اِس کی چونچ پہ

بارش کا اک ڈھلمل قطرہ

رُکا ہوا ہے …

گلناز کوثر

سنبل

سنبل اُجلے شانوں والی کومل تتلی

پیڑوں کی شاخوں سے ہاتھ چھڑا کے یوں نکلی ہے جیسے

برف کے گالے

رات کی خوابیدہ پلکوں پر

بے آواز اُتر آتے ہیں

جھونکوں کے رتھ پر سے دنیا

کیسی سندر دِکھتی ہے

کھیتوں کے یہ ہرے سمندر

شیتل جھرنے

کھَن کھَن کرتے پیتل کی چمکیلی

گاگر جیسی دھرتی

پر دیکھو یہ جگمگ سونے جیسی دھرتی

مٹی کے بے صورت لَوندوں

خاک کے بے مایہ تودوں سے

اٹی پڑی ہے

سنبل

اُجلے شانوں والی کومل تتلی

کل تک جو آوارہ جھونکوں کی باہوں میں

ڈول رہی تھی

اب اس سڑک کنارے خاک سے اٹی پڑی ہے

سنبل ریشم کی شہزادی

میرے دل میں

دو کومل لچکیلے ہاتھوں

کا اِک لمس جگا جاتی ہے

پر یہ گدلے ، بے مایہ، بے صورت لَوندے

پر یہ میرے تن کی خاک اُڑاتی دھرتی …

گلناز کوثر

رقص گریہ

ابھی ابھی تو کھُلا تھا اِک بھید آئینوں پر

لرزتی شبنم کے پاؤں ٹھہرے ہی تھے گلوں پر

ابھی کہیں گہری شام کا اِک حسین جھونکا

سجل سی خوشبو کو رمز نغمہ سکھا رہا تھا

ابھی تو خوابوں کادر بھی دل پر نہیں کھلا تھا

ابھی تو ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا بکس

یونہی دھرا ہوا تھا

ستم گروں نے یہ کیا کیا ہے

کہ آرزو کی سجیلی موجوں کو

رقص گریہ سکھا دیا ہے

وہ دل وفا کا دیا تھا جس کو

چراغ محفل بنا دیا ہے …

گلناز کوثر

یاد رُکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں

ٹوٹتی ہے بجھی آنکھ سے

قطرۂ آب بن کر پھسلتی ہے

رخسار کی نرم ڈھلوان پر

سسکیوں کی صدا سے

اُلجھتی ہے

گاتی ہے

دل کے حسیں تار کو

چھیڑتی ہے

مچلتے ، سلگتے ہوئے

گرم جذبوں کو چھوتی ہے دھیرے سے

لیکن کبھی یاد رُکتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے

چھو لو مجھے ، تھام لو ،

میں کہیں گُم زمانوں کے اندھے تسلسل

سے لپٹی ہوئی

ایک زنجیر ہوں

اور میں حیرت سے تکتی ہوں

کیسے مرے سرد پہلو میں

ہر پل دھڑکتی ہے

بہتی ہے سانسوں کے دھارے میں

رہتی ہے جیون سفر میں مرے ساتھ

میں جو کبھی رُک بھی جاؤں مگر

یاد رُکتی نہیں

سرسراتی ہے پتوں کے پیچھے

حسیں چاند کی اوٹ سے

جھانکتی ہے ، جھلکتی ہے

شبنم کی شفاف بوندوں میں

جھونکوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتی ہوئی

ڈولتی ہے ، مچلتی ہے

چھو لے گی جیسے

کسی ان کہی کو

مچلتے ہوئے درد کے

ایک سیلاب میں

بہتی جاتی ہے ان دیکھے

برفیلے رستوں پہ

پلکوں کے پیچھے

کہیں جھلملاتی ہے

بجھتی ہوئی راکھ سے

اِک دھواں بن کے اٹھتی ہے

اور تیرتی ہے کہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھ کے پانیوں میں

سلگتی ہوئی پتلیوں کے تلے

ڈگمگاتی ہے

دُکھ کی کوئی موج

اندھا تلاطم ہو

طوفاں ہو، جھکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں …

گلناز کوثر

بارش

یہ بوندیں ہتھیلی پر

رہ رہ کے لرزتی ہیں

تھم تھم کے مچلتی ہیں

اور آہنی ریکھائیں

گم نام حرارت سے

جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں

چپ چاپ پگھلتی ہیں

نمناک فضاؤں کے

حیران دریچوں سے

کرنیں سی جھلکتی ہیں

کچھ کہہ کے دبے قدموں

یکبار پلٹتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

کچھ کانچ بھری کلیاں

کچھ سر بفلک شاخیں

کھڑکی کے بدن تک بھی

مشکل سے پہنچتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

خاموشی کی بیلیں جو

اِک دل سے نکلتی ہیں

اِک دل میں اترتی ہیں

گلناز کوثر

رات کے دو …پہر

لڑکھڑائی ہوئی رات کے دو …پہر

جیسے بیکار لمحوں کی

اُجلی گزرگاہ سے

آج گزرے نہیں

جھینگروں کی سَنن سَن کے آگے

کسی یاد کا قافلہ

جیسے ٹھہرا نہیں

چاند بس دو فریبی سی

شاخوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتا رہا

اور تارے کسی

غیر ممکن تصور کو تکتے رہے

دھیمی سرگوشیوں سے بھرے

سبز پتے یوں جیسے ہلے ہی نہیں

لمبی ویران سڑکوں پہ

جھونکوں کی آہٹ کا کچھ

شائبہ تک نہ تھا

اور کھوئی ہوئی

سوچ کے کارواں

دل کی خالی فصیلوں پہ

اُترے نہیں

رات کے دو … پہر

زندگی کی کسی رہ سے

گزرے نہیں …

گلناز کوثر

اِقرار

کہو جب ایک ڈولتی پکار نے

دبیز آسمان کی

خموش، خشک سلوٹوں کو چُھو لیا

گھنیری سبز شاخ سرد رات کی منڈیر پر

جو جُھک گئی

تو کائنات رُک گئی

کبھی کسی اُداس دل کی

دھڑکنیں مچل گئیں

تو کیسی اندھے فیصلوں کی ساعتیں

بھی آہنی گرفت سے پھسل گئیں

کہو سمے کی آنکھ میں رُکے ہوئے

لہو نے سرسراتے سوکھے بادلوں سے کیا کہا

کہ حبس رات میں کہیں سے جھوم کر گھٹا چلی

گھٹا چلی تو دیر سے

تپکتے گرد راستے مہک اُٹھے

وہ حرف تھے کہ تتلیوں کے قافلے

رُکے کسی اجاڑ زرد پیڑ پر

سسکتے سرد راستوں سے

اِک کرن گزر گئی

تو رنگ پھیلتے رہے

تو رنگ پھیلتے رہے تھے دیر تک

ہواؤں میں ، فضاؤں میں

کوئی صدا رُکی رہی

کہو وہ کوئی

گنگناتے ساز تھے

کہ روشنی کے سلسلے

کہ پتھروں سے پھوٹنے لگی تھی

کوئی آبجُو

وہ رنگ تھے کہ پھول تھے

کہ چاندنی کی نرم لَو

کہو کہو …

گلناز کوثر

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑ کی سے

جو مجھ کو بلاتا ہے

سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا

جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے

اُسے میں بھول جاؤں گی

ملائم کاسنی لمحہ

کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے

کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے

بہت دن سے کسی امید کا سایہ

کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں

جو اِک نام باقی ہے

کسی منظر کی خوشبو میں رچی

جو راحتِ گمنام باقی ہے

ادھورے نقش کی تکمیل کا

جتنا بھی ، جو بھی کام باقی ہے

یہ جتنے دید کے لمحے

یہ جتنی شام باقی ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

اسے میں بھول جاؤں گی

اسے میں بھول جاؤں گی

میں اکثر سوچتی تو ہوں

مگر وہ یاد کا چہرہ

مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی

گلناز کوثر

کوئی نہیں ہے

ادھر آج کوئی نہیں ہے

تھکا ہارا منظر

یونہی بے خیالی سے

بہتے ہوئے وقت کو

دیکھتا ہے

کبھی کوئی لمحہ

بہاؤ میں اٹکے ہوئے

خشک پتے کو چھو کر

ذرا دیر تھمتا ہے تو

جاگتی ہے کہیں کوئی دھڑکن

مگر وہم ہے یہ

ادھر آج کوئی نہیں ہے

دسمبر کی ساکت فضا میں

فقط سرسراتا ہے بے سمت، الجھا ہوا

اِک بہاؤیا پھر ایک جانب دھرا

یہ تھکا ہارا منظر

گلناز کوثر

کون رُکے گا

دیکھو دُور ہرے بھرے

اُن پیڑوں کے چمکیلے پتے

ہولے ہولے ،

لچک لچک کر

اُچک اُچک کر

کوری اُجلی کرنوں کو

تکتے ہیں

کیسے حیرانی سے

چاہو تو چھو لو

ان نازک پتوں کی

آغوش میں

ایسا پھول کھلا ہے

دیکھو تو یہ سارا منظر

کتنا بھلا ہے

تمہیں پتہ ہے؟

منظر کے پیچھے

اِک منظر

چھپا ہوا ہے

جیسے نیچے بہنے والی

گدلی نہر میں

گھومتی لہریں

جنگلی گھاس کی نوکیں

چھدرے پیڑوں میں

اِک حبس بھری خاموشی

مریل کرنیں

اُونچی گھاس کے اندر

سڑتے ہوئے پانی میں

کچھ بے صورت پودے

ہمیں پتہ ہے

کون اُن اُجلے پیڑوں کو

دیکھے گا

اور پھر کون جھکے گا

گھاس کی تیز نکیلی دھار کے پیچھے

اِن بے صورت پودوں

کو تکنے کی خاطر

آخر کون رُکے گا؟

گلناز کوثر

درد

سرسراہٹ ہے

نہ آہٹ ہے

نہ ہلچل ،

نہ چبھن

درد چپ چاپ

کسی دھیمی ندی کے جیسے

سانس لیتی ہوئی

گانٹھوں میں

اُتر آیا ہے

کتنے برسوں کی

ریاضت سے

ہنر مندی سے

ایسے بکھرے ہوئے

ریشوں کو سمیٹا ہے مگر

اور ہر بار

ہر اِک بار

بہت جتنوں سے

جسم کو جان سے

جوڑا ہے مگر

گانٹھ در گانٹھ

کہیں سانس کی کٹتی ڈوری

کب سے تھامے ہوئے

بیٹھے ہیں مگر

آج نہیں …

یا کہیں درد تھمے

اور سکوں مل جائے

یا کوئی گانٹھ کھلے

اور قرار آ جائے …

گلناز کوثر

سن رائیگاں

وہی رنجشیں، وہی رغبتیں

وہی سلسلہ کسی یاد کا

وہی راستے ، وہی فاصلے

وہی رفتگان گریز پا

کبھی جذب و شوق کے درمیاں

کبھی رنج و درد کے امتحاں

وہی رنگ و رقص حیات و جاں

وہی ابتلا، وہی مبتلا

کسی رات چاند کو پا لیا

تو اُداس گھر کو سجا لیا

کسی شام دردِ فراق نے

یونہی دل سے ہاتھ اُٹھا لیا

پس حرف اب بھی رُکی رہی

مرے دل کی سہمی ہوئی ندا

وہی التفات کی التجا

وہی بے نوا ، وہی بے صدا

اُسی التماس کے ماسوا

سن رائیگاں سے ملا ہے کیا …

گلناز کوثر

قیدی چڑیاں

سائیکل کے پیچھے

اِک پنجرے میں چکراتی

نازک چڑیو

صبح کے گم صم سناٹے میں

کیسا شور اُٹھاتی ہو

اُونگھتے اور ٹھٹھرتے

رہ گیروں کے دل میں

چیخ چیخ کر

برسوں سے سوئے ، سمٹے

اِک درد کا تار ہلاتی ہو

چڑیو! ایسے ہُمک ہُمک کر

غُل کرتی تو ہو پر دیکھو

ان کانوں میں

لوؤں تلک سیسہ بہتا ہے

اور پلکوں کے پیچھے پتھر

اور قدموں کے نیچے تختے

ہر دم ڈولتے رہتے ہیں

تم تو پنجرے میں بھی اپنے

پر پھیلائے رکھتی ہو

تم اچھی ہو

کم سے کم

اِک ہوک اُٹھائے رکھتی ہو …

گلناز کوثر

ایندھن

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

کہرے کی وادی سے چل کر

شہر کے برفیلے چہرے پر …

آن رُکا ہے

سرد ہوائیں

پیڑوں کی گیلی باہوں سے

پھوٹ رہی ہیں

ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی

ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے

قدموں میں تنکوں کی ڈھیری

ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے

اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے

پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ

پل دو پل میں تھم جائے گا

قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

میرے اپنے کمرے میں بھی

صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا

جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری

برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے

سوچ رہی ہوں

جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی

تو بھی کیا ہے

یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر

کم سن لڑکی کو دے ڈالوں

گلناز کوثر

کیا لگتا ہے

دیکھو کیا لگتا ہے

جیسے کبھی کبھی

ان ہری بھری آنکھوں کے پیچھے

جالا بننے لگتا ہے

کچھ کڑوے منظر

پتھر کی پتلی پر یونہی

پھدک پھدک کر

رہ جاتے ہیں

کیا لگتا ہے

آخر کسی بھی شے سے

میری کیا نسبت ہے

جیسے دو ٹانگوں پر چلنے والے پُتلے

جن کا چہرہ

میرے اپنے چہرے سے

ملتا جُلتا ہے

اس سے علاوہ کیا ہے

جو اِک دھیرے دھیرے

بننے والے

جالے کے اس پار سے

دل کو چھونے لگا ہے …

گلناز کوثر