زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا
وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا
عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا
ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا
پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا
آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا
میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا
سیاہ رات سے سورج نکالنے والا
سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
سینہ کشادہ گردن کشیدہ
دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں
سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین
مارے گا قاتل چیخے گا مقتول
مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد
سوسن کا سپنا ۔ THE REVERIE OF POOR SUSAN by William Wordsworth
سوسن کا سپنا |
THE REVERIE OF POOR SUSAN |
| گلی کی نکڑ سے جھانکتا
صبح نو کا چہرہ اسی جگہ پر چہک رہا ہے قفس میں گاتا ہوا پرندہ بلند آہنگ میٹھی تانوں میں تین برسوں سے مست طائر غریب سوسن کے راستے میں حسین نغمے بچھا رہا ہے مہکتی اور نیم باز صبحوں کی خامشی میں پیام خنداں سنا رہا ہے پر آج سوسن کو کیا ہوا ہے کھلی نگاہوں میں کسمساتا دبیز منظر نویلے سپنے جگا رہا ہے اُدھر کہیں گوشۂ وطن میں بلند ہوتی ہوئی پہاڑی یہ پیڑ ، یہ بے لباس کہرے کی سرسراہٹ یہ وادیوں کے گداز سینوں میں بہتے دریا یہ سبز ٹکڑے اور ان کے قدموں میں ایک تنہا سی زرد کُٹیا کہ آشیاں ننھی فاختہ کا فقط یہی دلنواز کُٹیا اسے جہاں سے عزیز تر ہے وہ گُم ہے اپنے وطن کے جنت نظیر سپنے میں کھو چکی ہے مگر کہیں عکس ڈھل رہے ہیں یہ دھند ، دریا پگھل رہے ہیں پہاڑی کیا سر اُٹھا سکے گی ندی کو بہنے میں عار ہو گا کہ اس کی بے بس کھلی نگاہوں سے رنگ سارے پھسل رہے ہیں … |
At the corner of Wood Street, when daylight appears,
Hangs a Thrush that sings loud, it has sung for three years: Poor Susan has passed by the spot, and has heard In the silence of morning the song of the Bird۔ Tis a note of enchantment; what ails her? She sees A mountain ascending, a vision of trees; Bright volumes of vapour through Lothbury glide, And a river flows on through the vale of Cheapside۔ Green pastures she views in the midst of the dale, Down which she so often has tripped with her pail; And a single small cottage, a nest like a dove’s, The one only dwelling on earth that she loves۔ She looks, and her heart is in heaven: but they fade, The mist and the river, the hill and the shade: The stream will not flow, and the hill will not rise, And the colours have all passed away from her eyes! |
پُل پر سے … Composed upon Westminister Bridge by William Wordsworth
Earth has not anything to show more fair:
Dull would he be of soul who could pass by
A sight so touching in its majesty:
This City now doth، like a garment، wear
The beauty of the morning؛ silent، bare،
Ships، towers، domes، theatres، and temples lie
Open unto the fields، and to the sky؛
All bright and glittering in the smokeless air۔
Never did the sun more beautifully steep
In his first splendour، valley، rock، or hill؛
Ne’er saw I، never felt، a calm so deep!
The river glideth at his own sweet will:
Dear God! The very houses seem asleep؛
And all that mighty heart is lying still!
پُل پر سے …
اس سے سندر پَل دھرتی کے
جیون میں کب آیا ہو گا
بھور سمے کی اُجلی چادر
اوڑھ کے شہر تو چُپ بیٹھا ہے
کوئی اِس پل میں اُترے بِن
دھرتی سے اب کیسے گزرے
گم صُم اونچے مندر،
گول سے گنبد
اور چمکیلے منبر
سجی ہوئی تماشا گاہیں
ساگر کے سینے پر
ٹھہرے ہوئے سفینے
کرنوں کے جھرنے کے نیچے
آنکھیں موندے
گیان دھیان میں کھوئے ہوئے ہیں
ہولے ہولے ہوا کی کوری باہیں
جن کو سہلاتی ہیں
اور جھرنے کی شیتل بوندیں
کب یوں پربت ، ٹیلوں اور وادی کے تن پر
سَر سَر کرتی اتری ہوں گی
دل میرا کب اس سے پہلے
ایسے شانت سمے کو چھو کر
گزرا ہو گا
دریا من مانی موجوں کے
دھیمے سُروں میں
کھویا ہوا ہے
شہر کا گیانی من
اِک مدھم سناٹے میں
سویا ہوا ہے …
تتلی سے ۔ TO A BUTTERFLY by William Wordsworth
Stay near me – do not take thy flight
A little longer stay in sight!
Much converse do I find in thee،
Historian of my infancy!
Float near me: do not yet depart!
Dead times revive in thee:
Thou bring’st، gay creature as thou art!
A solemn image to my heart
My father’s family!
Oh! pleasant، pleasant were th days،
The time when in our childish plays،
My sister Emmeline and I
Together chased the butterfly!
a very hunter did I rush
Upon the prey؛ — with leaps and springs
I followed on from brake to bush؛
But she، God lover her! feared to brush
the dust from off its wing
تتلی سے
ذرا رُکو میری خالی آنکھوں
کے آئینوں میں
تمہی سے روشن ہوئے ہیں
گزرے حسیں دنوں کے چراغ
ٹھہرو، ابھی نہ جاؤ
تمہی وہ خوش رُو ہو
جس سے ماضی کی
مُردہ شاخیں ہری ہوئی ہیں
ہمارے گاتے ، لُبھاتے بچپن
کا شوخ منظر
انہی ہواؤں میں ڈولتا ہے
یہ تم سے بڑھ کر
کسے پتہ ہے
کہ کیسے رنگوں کے لہریوں پر
ہم اپنی حیراں نظر جمائے
تمہارے پیچھے نکل پڑے تھے
میں ایک معصوم دل شکاری
جو اپنی ننھی بہن کی خاطر
یوں جھاڑیوں سے الجھتا کیسے
ہزار جتنوں سے پہنچا تم تک
خداکی اُلفت میں
ننھی کیسی گداز دل تھی
یہ ریشمی رنگ جھڑ نہ جائیں
تمہیں وہ چھونے سے ڈر رہی تھی
لہو سے بھری اس سڑک پر
خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر
مرا دل مری پہلی پہچان کو ڈھونڈتا ہے
لہو سے بھری اس سڑک پر
خدایا لہو سے بھری اس سڑک پر
تڑپتی، بلکتی ہوئی میری فریاد
کٹتے ، سسکتے ہوئے دل سے اُٹھتی صدائیں
مری زخمی چیخیں
کوئی آج سنتا نہیں ہے
مرے ساتھ دم توڑتی میری معصوم خواہش کی
بجھتی نگاہوں میں خوابوں کی، رنگوں کی آواز
سنتا نہیں ہے کوئی آج لیکن
کہیں وقت کے اگلے اندھے پڑاؤ پہ
اِس جلتی دھرتی کی راکھ
ان فضاؤں میں اُڑنے لگے گی
کسی تُند ریلے کے
سرکش بہاؤ میں سب
ٹوٹ کر بہتا ہو گا
تو لہروں ، ہواؤں میں میری
صدا بھی ملے گی …
یہ وہ دھرتی نہیں ہے
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے جہاں میرا بچپن
مرا تتلیوں ، پھولوں ، رنگوں سے لبریز بچپن
کسی شاہزادی کی رنگیں کہانی کی حیرت میں گم تھا
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
جہاں میری آنکھوں …
بہت خواب بُنتی ہوئی میری شفاف آنکھوں
میں اوّل جوانی کا احساس ہلکورے لینے لگا تھا
وہ گوشہ جہاں بیٹھ کر میں نے پہروں
کتابیں پڑھی تھیں
درختوں پہ، پھولوں پہ، چڑیوں پہ
نظمیں کہی تھیں
نہیں یہ وہ دھرتی نہیں ہے
جہاں میرے دل پر
مرے کورے ، معصوم دل پر
کسی شرمگیں اُجلی ساعت نے
اِسم محبت لکھا تھا
جہاں زندگی کو برس در برس
میں نے کھل کر جیا تھا
سانحہ کراچی کی وڈیو فوٹیج دیکھ کر
خدایا …
مری زندگی میں
یہ خونخوار لمحہ
اذیت بھری لہر
کٹتی رگیں
جیسے میرا لہو
اس کے بہتے لہو میں
دھڑکنے لگا ہو
وہ دلدوز چیخیں
کہیں میرے
سوکھے گلے میں
اٹکنے لگی ہیں
مری ٹوٹتی سانس نے
آخری بار
بے رحم سی اس سڑک کو
چھوا ہے
مری زرد ، بجھتی نگاہوں
میں بس ڈولتی ایک حیرت
خدایا …
نہیں …
دِیا وہ بجھ گیا ہے
ہواؤ … !!!
کس دِیے کی لَو پہ تم نے
ہاتھ رکھا ہے
سسکتے ، ڈولتے ، تاریک منظر کو
ہماری نم گزیدہ آنکھ نے مشکل سنبھالا ہے
یہ کیا کہ ننھے جھونکے نے
شبستاں پھونک ڈالا ہے
دِیا وہ جس کے در سے
روشنی جب دان میں ملتی
تو حرفوں کے سیہ اندھیر رستوں سے
اُجالے پھوٹ پڑتے تھے
دِیا وہ بجھ گیا ہے
دِیا وہ بجھ گیا ہے اور دھواں
اِک سیدھی ، سوکھی شاخ کے جیسے
چٹختا ہے
ذرا سوچو
دھویں کی شاخ سے
بل کھا کے ٹوٹے
ننھے مرغولے کا جیون
کتنا ہوتا ہے
تو ہم بھی روشنی کے سارے چہرے
کاغذوں کے خالی خاکوں میں
سجا کر بھول جائیں گے
مگر پھر یوں کسی تاریک شب میں
جب کوئی روشن ستارہ
ٹوٹ جائے گا
ہمیں یہ دھند میں رکھا
دِیا بھی
یاد آئے گا …
کیا رکھا ہے
چھوڑو کیا رکھا ہے … اب یہ چھوٹی چھوٹی
چبھنے والی … نوکیلی سی باتیں
تم کیا ڈھونڈ رہے ہو
نہیں یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے
سچ کہتے ہو درد بڑا تھا
لیکن اب تو کچھ بھی نہیں ہے
آخری منظر کیا دیکھا تھا
اندھی رُت اور گہرے سائے
ارے ذرا نرمی سے
نازک پھول سا لمحہ
کیا ہے جو اَب شاخ سے ٹوٹ کے گرنے لگا ہے
پھول تو پھول ہے … لیکن دل کچھ بھول رہا ہے
پلکوں کے پردوں کے پیچھے … کیا ہے … کیا ہے
آہ … یہاں اب کچھ بھی نہیں ہے
تم جو کل آتے تو … لیکن
سچ کہتے ہو
خاک اُڑاتے کمرے میں رکھا بھی کیا ہے
یونہی خالی بیٹھے بیٹھے دیر ہوئی ہے
دیکھو سورج ڈھلنے لگا ہے
کہاں چلو گے
شہر میں چاروں جانب سورج ڈھلنے لگا ہے
لیکن تم کیا دیکھ رہے ہو
دیر ہوئی ہے
میرے پتھر قدموں کے نیچے یہ دھرتی
رُکی ہوئی ہے
ہاں پر تم کہہ کر تو دیکھو
لیکن چھوڑو … کیا رکھا ہے
بس تم ہنستی کھیلتی ، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہو گے
سورج ڈھلتے ڈھلتے آخر ڈھل جائے گا
اور پرے دو پیڑ ہیولے بن جائیں گے …
رات کے بعد …
وقت کی سرمئی نگاہوں میں
گُھل رہی ہیں بڑی خموشی سے
رات کی ڈوبتی ہوئی سانسیں
اُلجھے اُلجھے ہوئے مرے دل سے
دُھل رہی ہیں نشاط کی گھڑیاں
کھڑکیوں سے پرے لرزتی ہے
چاپ اِک ملگجے اُجالے کی
گرم کمرے سے رات کی مہماں
دل رُبا ساعتیں پلٹتی ہیں
سازِ جاں تھک کے سو گیا ہے کہیں
تھم چکی کب سے آرزوئے حیات
دیر سے چُپ، اُداس ، رنجیدہ
پھر کسی سوچ سے گریزاں ہوں
ڈوبتا چاند اِک تسلسل سے
ذہن کے آہنی دریچوں پر
سہمے سہمے خیال دھرتا ہے
اور بکھرا ہوا یہ شب خانہ
مجھ سے ڈھیروں سوال کرتا ہے …
شام اترتی رہی
چپ کھڑی سامنے والی دِیوار پر
سانولے سرد ہاتھوں سے
رخنوں میں دبکی حرارت کھرچتی،
سبک ، سرمئی پیرہن کو لیے
کیاریوں کے شفق رنگ منظر نگلتی
کھُلے آنگنوں اور ستونوں ، درختوں
دریچوں پہ
گہرے سیہ رنگ خوابوں کی دستک لیے
جھانکتی ، تاکتی بند دروازوں ،درزوں سے ہوتی ہوئی
میز پر چائے کے خالی مگ سے اُلجھتی ، سرکتی
کسی گم شدہ سوچ کے زرد مرغولوں کو
تھپتھپاتی ہوئی
شام اُترتی رہی
ایک بے جان چہرے پہ
خالی نگاہوں کے خاکوں کو چھوتی، لرزتی
کسی خوف کی ان چھوئی ساعتوں سے
ذرا کانپتی ، کپکپاتی
بہت دیر سے بند دھڑکن پہ بے سُود
آہٹ کو دھرتی ہوئی
شام اترتی رہی
سالگرہ
تن کی مٹی
اور بھی کومل
اُلجھے سلجھے
ریشم میں
چاندی کے ڈورے
اور نمایاں
اور بھی گہری
سوچ کی سلوٹ
نینوں میں
سپنوں کا سایہ
ہلکا ، مدھم
اندر پھیلا
درد کا بادل
اور بھی میلا
اور بھی گہرا
چلتے چلتے
دُور کہیں اِک
منظر پگھلا
تارا نکلا
وقت کے ہاتھ سے
دھیرے دھیرے
ایک برس کا
سکہ پھسلا
شام اترتی رہی
بم دھماکہ
سرما کی بے رحم فضا میں
سرخ لہو نے بہتے بہتے
حیرانی سے
تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا
ابھی تو میں ان نیلی، گرم رگوں میں
کیسے دوڑ رہا تھا
بجھتی ہوئی اِک سانس کی لَو نے
اپنے ننھے جیون کی
اس آخری تیز، کٹیلی ہچکی کو جھٹکا
دوخالی نظریں
دُور دھویں کے پار
کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں
ابھی ابھی تو نیلا امبر
باہیں کھولے تنا کھڑا تھا
مُندی مُندی سی دھوپ
یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی
پھر کس نے اس جیتے جاگتے
منظر میں یہ آگ بھری ہے
کالی فضا میں اُڑتے ریشے
آدھی اُدھڑی بے بس لاشیں
سرخ لہو نے حیرانی سے
جلے ہوئے منظر کو دیکھا
آخری تیز، کٹیلی ہچکی
ٹوٹ رہی تھی …
خاک زادوں کے بس میں کہاں
اِس سے پہلے تو ہر سُو جھلستی ہوئی زندگی
ظلمتوں کے بدن میں دھڑکتی تھی اور دُور گرتی تھیں
سہمے ہوئے وقت کے تھال پر سسکیاں
اُٹھ رہا تھا کہیں ضبط گر آنکھ کی پُتلیوں سے دھواں
کانپتی تھی زمیں، زرد تھا آسماں
اور فضاؤں پہ چھایا ہوا خوف کا سائباں
اس سے پہلے کہیں گُل مہکتے نہ تھے، دل چہکتے نہ تھے
اور بھٹکتے تھے صحرا نوردوں کے بے سمت و در کارواں، الاماں، الاماں
پھر مگر اِس تپکتے ہوئے آسماں کے تلے ایک جھونکا چلا
ایک جھونکا چلا تو بدلنے لگا ہے سماں
چھٹ گئیں ظلمتیں، مٹ گیا گدلی ، بے رنگ آنکھوں سے سہمے ہوئے
خوف کا ہر نشاں …
خاک زادوں کے بس میں کہاں
چھو سکیں رفعت بندگی
کہہ سکیں حرف بھی ذات ارفع کے شایان شاں، لڑکھڑاتی زباں
ہم خطاکار، بے دست، بھٹکے ہوئے
خاک زادوں کے بس میں کہاں
ریگ زاروں پہ کُھل کے برستی ہوئی … رحمتوں کا بیاں
خاک زادوں کے بس میں کہاں
رات ہر بار لیے
رات ہر بار لیے
خوف کے خالی پیکر
خوں مرا مانگنے
بے خوف چلی آتی ہے
اور جلتی ہوئی آنکھوں کے
تحیر کے تلے
ایک سناٹا
بہت شور کیا کرتا ہے
کچھ تو کٹتا ہے،
تڑپتا ہے
بہاتا ہے لہو
اور کھل جاتے ہیں
ریشوں کے پرانے بخیے
رات ہر بار مری
جاگتی پلکیں چُن کر
اندھے ، گمنام دریچوں پہ
سجا جاتی ہے
اور دھندلائے ہوئے
گرد زدہ رستوں میں
ایک آہٹ کا سرا ہے
کہ نہیں ملتا ہے
آسماں گیلی چٹانوں پہ
ٹکا ئے چہرہ
سسکیاں لیتا ہے
سہمے ہوئے بچے کی طرح
اور دریچوں پہ دھری
کانپتی پلکیں میری
گل زمینوں کے نئے
خواب بُنا کرتی ہیں
شام
سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے
دھیرے دھیرے
دور اُفق پر
سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے
نارنجی بل کھاتی لہریں
کب سے ساکت پیڑوں پر
دم توڑ چکی ہیں
پنچھی کب کے لوٹ گئے ہیں
گہرے نیلے مرغولوں نے
سرد فضا کو گھیر لیا ہے
تنہائی کا گم صم سایا
سناٹے میں گونج رہا ہے
سینے میں اِک پیاس کا صحرا
جاگ اُٹھا ہے
دیر سے پچھلی یاد کے جھونکے
دل کی خالی دِیواروں کو
چھید رہے ہیں
سانس کا ریشم الجھ گیا ہے
اور کسی بے چین گھڑی نے
رات کا رستہ روک لیا ہے
بنجر آنکھ میں شام کا منظر
ٹھہر گیا ہے …
عافیت
اسی میں عافیت ہے ہم
صبح سے شام تک پتلے ورق
ان پتلیوں میں گاڑتے جائیں
اُچٹتی کوری تحریریں
ادق حرفوں کو دہرائیں
سویرے سے ہی اپنے خالی چہرے پر
کسی بھی تمتماتے جوش کو کس کے چڑھائیں
اور لکڑی سے بنے تختے کے نیچے ٹانگیں جوڑیں
سر جھکائیں
اجنبی بے صوت سی دنیا میں کھو جائیں
اسی میں عافیت ہے جو وہ کہتے ہیں
ہم اپنے آپ کی جانب
کبھی بھی لوٹ نہ پائیں …
قوس
قوس پھوٹی ہے یوں
شاعر وقت کے دست تخلیق سے
جیسے تپتے ، جھلستے تھپیڑوں کے
آنچل سے لپٹی ہوئی
دھیمے احساس کی نرم کونپل کہ جو
سر اُٹھاتے ہی موسم کا رُخ پھیر دے
جذب کے ایک مدھم بہاؤ پہ احساس کی ڈولتی ناؤ
اور وقت کی تال پر رقص کرتی ہوئی
اپسرا کے بدن سے اُمڈتی ہوئی کوئی انمٹ ادا
قوس پھوٹی ہے یوں
جیسے سانسوں کی تازہ حرارت تلے
پھر سے سہمے ہوئے دل دھڑکنے لگیں
خواب پلکوں کے گیلے کناروں پہ
چپکے سے آ کے بسیرا کریں
تو نگاہوں میں پھر سے وہی
زندگی کی چمک جاگ اُٹھے
کھو گئی جو زمانے کے اس پھیر میں
قوس تیرے مرے جذب کی ترجماں
خواہشوں کا بیاں
آرزو کی زباں
دوستو ہم تو لمحوں کی دیوار پر
شام سرما کی ڈھلتی ہوئی دھوپ ہیں
جانے کل ہوں نہ ہوں
پر ہماری سبک چاہتوں کے نشاں
قوس کے زندہ حرفوں میں سمٹے ہوئے
دُور تک جائیں گے
آنے والے زمانوں کے احساس کا
رنگ کہلائیں گے!!!
کیوں آئے ہو
کیوں آئے ہو
بجھتے ہوئے تاروں کی
چھاؤں میں دھیرے دھیرے
گیت سناتے
خواب جگاتے
لفظوں سے تصویر بناتے
ابھی پرانے درد کا ماتم بپا ہے
دِل میں
شور بہت ہے
جان بھی الجھی ہے
کچھ منظر پگھلانے میں
جیون کا بوسیدہ ریشم
سلجھانے میں
پچھلی یاد بھلانے میں
کیوں آئے ہو
نینوں میں تاروں کو سجائے
پھول اُٹھائے
من دہکائے
وقت کہاں باقی ہے
چاند کے بجھنے میں،
ڈھل جانے میں
خواب ڈھونڈنے جانا پڑے گا
ذہن کے مردہ خانے میں …
تِیتری تُو نے کیا بات کی
تِیتری …
تُو نے کیا بات کی
اَدھ کِھلی پنکھڑی کا نویلا بدن
یک بیک چونک کر کپکپانے لگا
رات سے پھول کے
نرم بستر پہ مدہوش
شبنم کے قطرے
جواں سال پتوں کی ڈھلوان پر سے
لُڑھکنے لگے …
غُل مچاتے پرندے
ٹھٹک کر
بڑی دیر تک
گول ، حیران آنکھیں گھماتے رہے
اُجلے جھونکے
لچکتے ، لپکتے ہوئے
اجنبی پیڑ کے
سبز آنچل میں
چہرہ چھپانے لگے
تِیتری …
تُو نے ایسی بھی کیا بات کی
اِک عجب سنسنی سی
ہواؤں کے ہونٹوں پہ
ٹھہری رہی
اور چمن کا چمن
خوف کے کالے، خاموش
پنجوں میں جکڑا رہا
پر اِدھر
ایک معصوم ، سہما ہوا
زرد غنچہ
بڑی دیر تک
مسکراتا رہا …
لوٹ آؤ
رُکو دوست … کہاں چلے
سرما کی نرم دھوپ کو پیڑوں پر کھیلتا نہ دیکھو گے
رنگ بدلتے پیڑ ، دھوپ ، بارش اور کہرے سے کبھی خالی نہ ہوں گے
تمہارا پسندیدہ گیت تمہارے لیپ ٹاپ پر بجتا رہے گا
تمہارے سر پھرے دوست نفاست سے سجے تمہارے کمرے کو
بکھیرنے کے لیے ہر دم تیار رہیں گے
قہقہے گونجتے رہیں گے
چائے کے کپ بجتے رہیں گے
سب کچھ ویسا ہی رہے گا
جیسا کہ تم چاہتے رہے ہو
بس تم ان سب کو ایک آخری موقع دو
اپنی خوابوں ، کتابوں سے بھری دنیا میں
لوٹ آؤ …
کلاس فیلو
بڑی مدتوں میں ملے ہیں تو
مجھے یوں لگا تجھے دیکھ کر
کہیں ڈھلتی شام کی اوٹ سے
ابھی جھانکتی ہے کرن کوئی
ابھی خیمہ زن ہیں
مرے وجود میں راحتیں
مہ و سال کے
کسی پھیر میں
جو گنوائیں میں نے
وہ لذتیں
مجھے یوں لگا
وہی ذائقے
مرے دل میں پھر سے مہک اُٹھے
کسی تمتماتے خیال سے
مرے سرد جمتے لہو میں
نغمے لہک اُٹھے
مرے جسم کے
سبھی برف زار دہک اُٹھے
مجھے یوں لگا
ابھی دوڑ کر
تُو کہے گی آؤ
گداز لمحوں سے
پیڑ کی
کسی شاخ پر
کوئی خواب لکھیں
بہار کا یونہی گنگنائیں
حسین سا کوئی گیت
فصل خزاں کے آنے میں
دیر ہے
ابھی دیر ہے …
بہ جانب دل حزیں
یہ سن رسیدہ مکڑیوں
کے کُلبلاتے قافلے
لچکتے ، رینگتے ، لپکتے
آ رہے ہیں دُور سے
کراری سبز پُتلیاں
اِک آنچ سے تپی ہوئی
لبوں میں تیز دھار کے
مہین بے قرار تار
بڑھے ہیں کیسے شوق سے
بُنیں گے آج واہموں کے
دل نشیں حسین جال
سو گرد بے حساب سے
اُٹھے گی آج پھر صدا
وہ اپنی خلدِ بے رخی میں
تا بہ سر گڑا ہوا
تُو آگ میں گھرا ہوا
توُخاک پر پڑا ہوا
اسے کوئی سُنے گا کیا؟
تمہاری آنکھوں کے لیے ایک نظم
کھوئی کھوئی سبک تتلیاں
دھیرے دھیرے بہت کپکپاتے ہوئے
اور لرزتے ہوئے
اُجلے حیراں کٹوروں کے نمناک گوشوں کو
چھُوتی ہیں … ڈرتی ہیں … ڈر کے پلٹتی ہیں
بے تاب … دھڑ دھڑ دھڑکتی ہوئی
جھالروں کے تلے
لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی … بدلیاں
کھوجتی ہیں نئے آسماں … تتلیاں
کھوئی کھوئی، پریشان، گُم صُ، بھٹکتی ہوئی
قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کرچیاں
وقت کی راکھ سے
ادھ بُنے خواب چُنتی ہیں
چپکے سے لکھتی ہیں … سہمی ہوئی … درد کی داستاں
اُلجھی اُلجھی ہوئی بے زباں تتلیاں
سوچتی ہیں بہت
کچھ بھی کہتی نہیں
ڈوبتی ہیں، اُبھرتی ہیں
برفاب ساحل پہ ٹوٹی ہوئی … کشتیاں
تیز سرکش ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی
پر شکستہ، بہت ہولے ہولے سنبھلتی ہوئی … تتلیاں
چوری چوری اُترتی ہیں گمنام رستوں پہ
کب سے بھڑکتے ہوئے اِک الاؤ کو چھوتی ہیں
جلتے ہوئے سرد، بے چین دل پر مرے
ہاتھ رکھتی ہیں پر
کچھ بھی کہتی نہیں
دھیرے دھیرے … بہت کپکپاتے ہوئے
اور لرزتے ہوئے
کھوئی کھوئی سبک تتلیاں
سوکھا پتا
ہریالی کی قید میں اکثر
یوں لگتا ہے
میں بھی سوکھا پتا ہوتا
ہوا کی ہلکی سی تھپکی پر
زنداں کا دروازہ کھلتا
دھوپ کے اُجلے منظر
میرا تن سہلاتے
رنگ مہکتی ، کچی مٹی کا میری بھی
روح میں گُھلتا
ہوا کی مدھم لہروں پر
ہلکورے لیتا بہتا جاتا
سوکھی چٹخی آنکھیں کوئی
خواب نہ بُنتیں
مُرجھانے کا، جھڑ جانے کا
دل میں کوئی خوف نہ ہوتا
ننھی ننھی جگمگ آنکھیں،
مڑی مڑی سی پلکیں
چھوٹے چھوٹے پاؤں
حیرانی سے بڑھتے میری جانب
اور میں بہتا جاتا
آتے جاتے قدموں کی
آوازیں سنتا
قدموں کی آوازیں
جیسے دَھڑ دَھڑ کوئی
دھرتی کُوٹے
اور پھر وہ آوازیں
جن میں سُر گاتے ہوں
یا کچھ جھجکی ، گرتی پڑتی ،
مدھم چاپیں
دن بھر جاگتی گلیوں میں
یوں خاک اُڑاتا
رات گئے پھر سُونی، ویراں
سڑکوں پر آوارہ پھرتا
اور پیڑوں کی اوٹ میں
ملنے والوں کی سرگوشی سنتا
ہریالی کی قید میں اکثر
یوں لگتا ہے
آزادی کا اِک دن
ساری عمر کی قید سے
اچھا ہوتا
میں بھی سوکھا پتا ہوتا …
ابھی کچھ دن
اداسی آج بھی …
بے صَوت حرفوں کے
گھنے جنگل سے
خاموشی کی بس اِک
کنکری چُن کر
ہمارے دِل کے
ساکت ساحلوں پر
پھینک جائے گی
دُبکتی چاندنی
آنکھیں نہ کھولے گی
سُلگتی موج سے اب بھی
تلاطم کی کوئی صورت
نہ نکلے گی
ابھی کچھ دن اُجالے دھند کے
صحرا سے گزریں گے
پرندے اپنے دم سادھے رہیں گے
گھونسلوں کے در نہ کھولیں گے
ابھی کچھ دن …
ابھی کچھ اور دن ہم بھی
کسی سے کچھ نہ بولیں گے …
پاگل عورت کے لیے ایک نظم ؎
انجانی بے درد مسافر
بارہ برسوں سے سڑکوں پہ بھٹک رہی ہے
جیسے ہوش کے آخری لمحے
اُس نے سفر کی ٹھانی ہو
پھر اِک اندھی بہری منزل
اُس کی آنکھ سے چپک گئی ہو
پھر اِک گم صم گونگا رستہ
اُس کے پیڑ سے لپٹ گیا ہو
پھر اِک پتھر جیسا وعدہ
اُس کی رُوح پہ آن دھرا ہو
اور وعدے کی سل پر جیسے
بارہ برس کی گرد کے نیچے
سہما سا اِک خواب پڑا ہو
روکھے سوکھے بالوں میں اب
وقت کی چاندی پھیل رہی ہے
بوسیدہ کپڑوں کی درزیں
روزن بنتی جاتی ہیں
لیکن دھول بھری آنکھوں سے
آس کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں
لیکن میل بھرے ہاتھوں نے
زادِ سفر کو تھام رکھا ہے
اور خالی دل سوچ رہا ہے
آج تو اُس کو آنا ہو گا …
(بارہ طویل برسوں تک لاہور کی سڑکوں پر مال روڈ، جی پی او اور سکرٹریٹ کے بس سٹاپس پر اکثر ایک پاگل عورت کاندھے پر بیگ لٹکائے انتظار میں کھڑی نظر آیا کرتی تھی … سنا ہے شاید کالج کے زمانے میں اسے کسی ایسے لڑکے سے محبت ہوئی جس سے شادی ممکن نہ تھی … نتیجتاً دونوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا … کسی بس سٹاپ پر ملنا طے تھا مگر لڑکا نہیں آیا … اور وہ بھی لوٹ کر گھر نہیں گئی … بارہ برسوں نے اس عورت کے ظاہری حلیے کو کافی حد تک بدل دیا لیکن آنکھوں میں ٹھہرا انتظار ویسے کا ویسا ہی رہا ۔)
ستارہ
ستارہ سر شام پھر بند کھڑکی کے پیچھے
پرانے درختوں کی ناکارہ شاخوں پہ سجنے لگا تھا
بہت ننھے روزن سے کرنوں کا ہالہ
کسی ویراں ، آسیب تن سے
اُلجھنے لگا تھا
ستارہ رُوپہلے شبستاں کے منظر سے
آنکھیں چرائے
لُٹے گھر کے تنہا و تاریک کمرے کی
بوسیدہ کھڑکی پہ
کرنیں بچھائے
بہت خشک وحشت بھری
اُس کی بے بس نگاہوں کو چھونے لگا تھا
وہ روزن سے پھوٹی ہوئی
تیز کرنوں سے بچتا بچاتا
اسی اُونچی دِیوار کے ایک کونے میں
بیٹھا رہا تھا
وہ بیٹھا رہا تھا
وہ اپنے بہت میلے ہاتھوں کی
ادھڑی رگوں کو چھپائے
پریشاں نگاہوں سے
کرنوں کے ہالے کو
تکتا رہا تھا
ستارہ کہیں بند کھڑکی کے پیچھے
بہت منتظر تھا
ڈر لگتا ہے
تم کیسے سمجھو گے
لیکن
ہم نے تو
دیکھا ہے
جیون بھر کا حاصل
ایک یہی لمحہ ہے
پل ہے
تارے جیسا
جھلمل جھلمل،
شیتل،کومل
ورنہ اس بے کار
سفر میں رکھا کیا ہے
وقت کے سینے پر
بے مقصد بہتے جاؤ
ہچکولے اور تنہا کشتی
ہاں تو …
ایک یہی پل ہے جو
لیکن …
جیسے …
ہاں پر تم
کیا جان سکو گے؟
کیسی کیسی گانٹھیں
دھول، نکیلے پتھر
ہچکولے اور تنہا کشتی
کومل پل بھی
جھوٹ نہیں ہے
اس سے پہلے
لمحے کے
چھونے سے پہلے
تم تو نہیں سمجھو گے لیکن
آؤ کہیں چھپ جائیں
کتنا ڈر لگتا ہے …
میں نہیں ہوں مگر
میں نہیں ہوں مگر
اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف
پھول بل کھائی، اُلجھی ہوئی بیل پر
زندگی کے اہم فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے
میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن
جمی ہے یہاں آج تک
ننھے دھبے میں اِک بے کلی میرے احساس کی
اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی
چائے کا اِک پرانا نشاں
اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے
چھت کی طرف
آج بھی ہیں پڑی شیلف پر
جو کتابیں خریدی تھیں
میں نے بہت پیار سے
آج بھی ہیں جڑے
کاغذوں کے حسیں آئینوں میں
مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے
کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے
میں تو حیران ہوں …
مجھ سے منسوب ہر ایک شے
جوں کی توں ہے تو کیا ایک میں ہی تھا جو
ایک میں ہی تھا پانی کے سینے پہ رکھا ہوا نقش جو
پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا …
ڈھلمل قطرہ
بارش کب سے تھمی ہوئی ہے
سرد ہوا سے ٹھٹھری بیلیں
سن سن کرتی دیواروں سے چپک رہی ہیں
پیپل کا یہ پیڑ پرانا
پیڑ کے چوڑے چوڑے پتے
تیز ہوا سے تھراتے ہیں
اور پھر پچھلی جانب جھک کر
لہراتے ہیں
اور اِدھر اِک ننھا پتا
حیراں حیراں ، ساکت، گم صم
تیز ہوا کے آگے کیسی خاموشی سے
ڈٹا کھڑا ہے
جھومتے اور لہراتے چوڑے پتو
تم جو غور کر و تو
اِس کی چونچ پہ
بارش کا اک ڈھلمل قطرہ
رُکا ہوا ہے …
سنبل
سنبل اُجلے شانوں والی کومل تتلی
پیڑوں کی شاخوں سے ہاتھ چھڑا کے یوں نکلی ہے جیسے
برف کے گالے
رات کی خوابیدہ پلکوں پر
بے آواز اُتر آتے ہیں
جھونکوں کے رتھ پر سے دنیا
کیسی سندر دِکھتی ہے
کھیتوں کے یہ ہرے سمندر
شیتل جھرنے
کھَن کھَن کرتے پیتل کی چمکیلی
گاگر جیسی دھرتی
پر دیکھو یہ جگمگ سونے جیسی دھرتی
مٹی کے بے صورت لَوندوں
خاک کے بے مایہ تودوں سے
اٹی پڑی ہے
سنبل
اُجلے شانوں والی کومل تتلی
کل تک جو آوارہ جھونکوں کی باہوں میں
ڈول رہی تھی
اب اس سڑک کنارے خاک سے اٹی پڑی ہے
سنبل ریشم کی شہزادی
میرے دل میں
دو کومل لچکیلے ہاتھوں
کا اِک لمس جگا جاتی ہے
پر یہ گدلے ، بے مایہ، بے صورت لَوندے
پر یہ میرے تن کی خاک اُڑاتی دھرتی …
رقص گریہ
ابھی ابھی تو کھُلا تھا اِک بھید آئینوں پر
لرزتی شبنم کے پاؤں ٹھہرے ہی تھے گلوں پر
ابھی کہیں گہری شام کا اِک حسین جھونکا
سجل سی خوشبو کو رمز نغمہ سکھا رہا تھا
ابھی تو خوابوں کادر بھی دل پر نہیں کھلا تھا
ابھی تو ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا بکس
یونہی دھرا ہوا تھا
ستم گروں نے یہ کیا کیا ہے
کہ آرزو کی سجیلی موجوں کو
رقص گریہ سکھا دیا ہے
وہ دل وفا کا دیا تھا جس کو
چراغ محفل بنا دیا ہے …
یاد رُکتی نہیں
یاد رُکتی نہیں
ٹوٹتی ہے بجھی آنکھ سے
قطرۂ آب بن کر پھسلتی ہے
رخسار کی نرم ڈھلوان پر
سسکیوں کی صدا سے
اُلجھتی ہے
گاتی ہے
دل کے حسیں تار کو
چھیڑتی ہے
مچلتے ، سلگتے ہوئے
گرم جذبوں کو چھوتی ہے دھیرے سے
لیکن کبھی یاد رُکتی نہیں
مجھ سے کہتی ہے
چھو لو مجھے ، تھام لو ،
میں کہیں گُم زمانوں کے اندھے تسلسل
سے لپٹی ہوئی
ایک زنجیر ہوں
اور میں حیرت سے تکتی ہوں
کیسے مرے سرد پہلو میں
ہر پل دھڑکتی ہے
بہتی ہے سانسوں کے دھارے میں
رہتی ہے جیون سفر میں مرے ساتھ
میں جو کبھی رُک بھی جاؤں مگر
یاد رُکتی نہیں
سرسراتی ہے پتوں کے پیچھے
حسیں چاند کی اوٹ سے
جھانکتی ہے ، جھلکتی ہے
شبنم کی شفاف بوندوں میں
جھونکوں کی باہوں میں
ہلکورے لیتی ہوئی
ڈولتی ہے ، مچلتی ہے
چھو لے گی جیسے
کسی ان کہی کو
مچلتے ہوئے درد کے
ایک سیلاب میں
بہتی جاتی ہے ان دیکھے
برفیلے رستوں پہ
پلکوں کے پیچھے
کہیں جھلملاتی ہے
بجھتی ہوئی راکھ سے
اِک دھواں بن کے اٹھتی ہے
اور تیرتی ہے کہیں
ڈبڈبائی ہوئی آنکھ کے پانیوں میں
سلگتی ہوئی پتلیوں کے تلے
ڈگمگاتی ہے
دُکھ کی کوئی موج
اندھا تلاطم ہو
طوفاں ہو، جھکتی نہیں
یاد رُکتی نہیں …
بارش
یہ بوندیں ہتھیلی پر
رہ رہ کے لرزتی ہیں
تھم تھم کے مچلتی ہیں
اور آہنی ریکھائیں
گم نام حرارت سے
جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں
چپ چاپ پگھلتی ہیں
نمناک فضاؤں کے
حیران دریچوں سے
کرنیں سی جھلکتی ہیں
کچھ کہہ کے دبے قدموں
یکبار پلٹتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
کچھ کانچ بھری کلیاں
کچھ سر بفلک شاخیں
کھڑکی کے بدن تک بھی
مشکل سے پہنچتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
خاموشی کی بیلیں جو
اِک دل سے نکلتی ہیں
اِک دل میں اترتی ہیں
رات کے دو …پہر
لڑکھڑائی ہوئی رات کے دو …پہر
جیسے بیکار لمحوں کی
اُجلی گزرگاہ سے
آج گزرے نہیں
جھینگروں کی سَنن سَن کے آگے
کسی یاد کا قافلہ
جیسے ٹھہرا نہیں
چاند بس دو فریبی سی
شاخوں کی باہوں میں
ہلکورے لیتا رہا
اور تارے کسی
غیر ممکن تصور کو تکتے رہے
دھیمی سرگوشیوں سے بھرے
سبز پتے یوں جیسے ہلے ہی نہیں
لمبی ویران سڑکوں پہ
جھونکوں کی آہٹ کا کچھ
شائبہ تک نہ تھا
اور کھوئی ہوئی
سوچ کے کارواں
دل کی خالی فصیلوں پہ
اُترے نہیں
رات کے دو … پہر
زندگی کی کسی رہ سے
گزرے نہیں …
اِقرار
کہو جب ایک ڈولتی پکار نے
دبیز آسمان کی
خموش، خشک سلوٹوں کو چُھو لیا
گھنیری سبز شاخ سرد رات کی منڈیر پر
جو جُھک گئی
تو کائنات رُک گئی
کبھی کسی اُداس دل کی
دھڑکنیں مچل گئیں
تو کیسی اندھے فیصلوں کی ساعتیں
بھی آہنی گرفت سے پھسل گئیں
کہو سمے کی آنکھ میں رُکے ہوئے
لہو نے سرسراتے سوکھے بادلوں سے کیا کہا
کہ حبس رات میں کہیں سے جھوم کر گھٹا چلی
گھٹا چلی تو دیر سے
تپکتے گرد راستے مہک اُٹھے
وہ حرف تھے کہ تتلیوں کے قافلے
رُکے کسی اجاڑ زرد پیڑ پر
سسکتے سرد راستوں سے
اِک کرن گزر گئی
تو رنگ پھیلتے رہے
تو رنگ پھیلتے رہے تھے دیر تک
ہواؤں میں ، فضاؤں میں
کوئی صدا رُکی رہی
کہو وہ کوئی
گنگناتے ساز تھے
کہ روشنی کے سلسلے
کہ پتھروں سے پھوٹنے لگی تھی
کوئی آبجُو
وہ رنگ تھے کہ پھول تھے
کہ چاندنی کی نرم لَو
کہو کہو …
اسے میں بھول جاؤں گی
کسی کی یاد کا چہرہ
مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑ کی سے
جو مجھ کو بلاتا ہے
سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا
جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے
اُسے میں بھول جاؤں گی
ملائم کاسنی لمحہ
کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے
کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے
بہت دن سے کسی امید کا سایہ
کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں
جو اِک نام باقی ہے
کسی منظر کی خوشبو میں رچی
جو راحتِ گمنام باقی ہے
ادھورے نقش کی تکمیل کا
جتنا بھی ، جو بھی کام باقی ہے
یہ جتنے دید کے لمحے
یہ جتنی شام باقی ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
کسی کی یاد کا چہرہ
اسے میں بھول جاؤں گی
اسے میں بھول جاؤں گی
میں اکثر سوچتی تو ہوں
مگر وہ یاد کا چہرہ
مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی
کوئی نہیں ہے
ادھر آج کوئی نہیں ہے
تھکا ہارا منظر
یونہی بے خیالی سے
بہتے ہوئے وقت کو
دیکھتا ہے
کبھی کوئی لمحہ
بہاؤ میں اٹکے ہوئے
خشک پتے کو چھو کر
ذرا دیر تھمتا ہے تو
جاگتی ہے کہیں کوئی دھڑکن
مگر وہم ہے یہ
ادھر آج کوئی نہیں ہے
دسمبر کی ساکت فضا میں
فقط سرسراتا ہے بے سمت، الجھا ہوا
اِک بہاؤیا پھر ایک جانب دھرا
یہ تھکا ہارا منظر
کون رُکے گا
دیکھو دُور ہرے بھرے
اُن پیڑوں کے چمکیلے پتے
ہولے ہولے ،
لچک لچک کر
اُچک اُچک کر
کوری اُجلی کرنوں کو
تکتے ہیں
کیسے حیرانی سے
چاہو تو چھو لو
ان نازک پتوں کی
آغوش میں
ایسا پھول کھلا ہے
دیکھو تو یہ سارا منظر
کتنا بھلا ہے
تمہیں پتہ ہے؟
منظر کے پیچھے
اِک منظر
چھپا ہوا ہے
جیسے نیچے بہنے والی
گدلی نہر میں
گھومتی لہریں
جنگلی گھاس کی نوکیں
چھدرے پیڑوں میں
اِک حبس بھری خاموشی
مریل کرنیں
اُونچی گھاس کے اندر
سڑتے ہوئے پانی میں
کچھ بے صورت پودے
ہمیں پتہ ہے
کون اُن اُجلے پیڑوں کو
دیکھے گا
اور پھر کون جھکے گا
گھاس کی تیز نکیلی دھار کے پیچھے
اِن بے صورت پودوں
کو تکنے کی خاطر
آخر کون رُکے گا؟
درد
سرسراہٹ ہے
نہ آہٹ ہے
نہ ہلچل ،
نہ چبھن
درد چپ چاپ
کسی دھیمی ندی کے جیسے
سانس لیتی ہوئی
گانٹھوں میں
اُتر آیا ہے
کتنے برسوں کی
ریاضت سے
ہنر مندی سے
ایسے بکھرے ہوئے
ریشوں کو سمیٹا ہے مگر
اور ہر بار
ہر اِک بار
بہت جتنوں سے
جسم کو جان سے
جوڑا ہے مگر
گانٹھ در گانٹھ
کہیں سانس کی کٹتی ڈوری
کب سے تھامے ہوئے
بیٹھے ہیں مگر
آج نہیں …
یا کہیں درد تھمے
اور سکوں مل جائے
یا کوئی گانٹھ کھلے
اور قرار آ جائے …
سن رائیگاں
وہی رنجشیں، وہی رغبتیں
وہی سلسلہ کسی یاد کا
وہی راستے ، وہی فاصلے
وہی رفتگان گریز پا
کبھی جذب و شوق کے درمیاں
کبھی رنج و درد کے امتحاں
وہی رنگ و رقص حیات و جاں
وہی ابتلا، وہی مبتلا
کسی رات چاند کو پا لیا
تو اُداس گھر کو سجا لیا
کسی شام دردِ فراق نے
یونہی دل سے ہاتھ اُٹھا لیا
پس حرف اب بھی رُکی رہی
مرے دل کی سہمی ہوئی ندا
وہی التفات کی التجا
وہی بے نوا ، وہی بے صدا
اُسی التماس کے ماسوا
سن رائیگاں سے ملا ہے کیا …
قیدی چڑیاں
سائیکل کے پیچھے
اِک پنجرے میں چکراتی
نازک چڑیو
صبح کے گم صم سناٹے میں
کیسا شور اُٹھاتی ہو
اُونگھتے اور ٹھٹھرتے
رہ گیروں کے دل میں
چیخ چیخ کر
برسوں سے سوئے ، سمٹے
اِک درد کا تار ہلاتی ہو
چڑیو! ایسے ہُمک ہُمک کر
غُل کرتی تو ہو پر دیکھو
ان کانوں میں
لوؤں تلک سیسہ بہتا ہے
اور پلکوں کے پیچھے پتھر
اور قدموں کے نیچے تختے
ہر دم ڈولتے رہتے ہیں
تم تو پنجرے میں بھی اپنے
پر پھیلائے رکھتی ہو
تم اچھی ہو
کم سے کم
اِک ہوک اُٹھائے رکھتی ہو …
ایندھن
ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر
کہرے کی وادی سے چل کر
شہر کے برفیلے چہرے پر …
آن رُکا ہے
سرد ہوائیں
پیڑوں کی گیلی باہوں سے
پھوٹ رہی ہیں
ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی
ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے
قدموں میں تنکوں کی ڈھیری
ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے
اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے
پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ
پل دو پل میں تھم جائے گا
قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا
ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر
شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں
میرے اپنے کمرے میں بھی
صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا
جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری
برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے
سوچ رہی ہوں
جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی
تو بھی کیا ہے
یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر
کم سن لڑکی کو دے ڈالوں
کیا لگتا ہے
دیکھو کیا لگتا ہے
جیسے کبھی کبھی
ان ہری بھری آنکھوں کے پیچھے
جالا بننے لگتا ہے
کچھ کڑوے منظر
پتھر کی پتلی پر یونہی
پھدک پھدک کر
رہ جاتے ہیں
کیا لگتا ہے
آخر کسی بھی شے سے
میری کیا نسبت ہے
جیسے دو ٹانگوں پر چلنے والے پُتلے
جن کا چہرہ
میرے اپنے چہرے سے
ملتا جُلتا ہے
اس سے علاوہ کیا ہے
جو اِک دھیرے دھیرے
بننے والے
جالے کے اس پار سے
دل کو چھونے لگا ہے …