زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 112
خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے
کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
احمد فراز

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 111
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے
اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے
کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے
عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے
سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
احمد فراز

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 110
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
احمد فراز

پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 109
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے
پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا
اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے
اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں
اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے
سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے
اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم
اب کے گئے تو کوئے ستم گرکے ہو گئے
روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فراز تم
دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے
احمد فراز

کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 108
جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے
کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے
کسے خبر کہ وہ محبت تھی یا رقابت تھی
بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے
جنہیں کوئی نہ ملا ہمسفر ہمارے ہوئے
کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا
سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے
بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو
اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے
وہ اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے
کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے
احمد فراز

وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 107
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے
یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے
ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بار ہا دیکھا نہ جائے
غلط ہے جو سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے
یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے
یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے
احمد فراز

پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 106
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے
ہمیں بھی عرضِ تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے
کچھ اپنے دوست بھی ترکش بدوش پھرتے ہیں
کچھ اپنا دل بھی کشادہ ہے کیا کیا جائے
وہ مہرباں ہے مگر دل کی حرص بھی کم ہو
طلب، کرم سے زیادہ ہے کیا کیا جائے
نہ اس سے ترکِ تعلق کی بات کر پائیں
نہ ہمدمی کا ارادہ ہے کیا کیا جائے
سلوکِ یار سے دل ڈوبنے لگا ہے فراز
مگر یہ محفلِ اعداء ہے کیا کیا جائے
احمد فراز

یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 105
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
مصحف رخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے
وہ مروت سے ملا ہے تو جھکادوں گردن
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
بے نوا شہر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جائے
احمد فراز

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 104
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چُپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سُنانے آئے
عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم
کون یہ بوجھ اُٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فراز
نیند کس وقت نجانے آئے
احمد فراز

کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 103
دیوانگی خرابیِ بسیار ہی سہی
کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی
رشتہ کوئی تو اس سے تعلق کا چاہیے
جلوہ نہیں تو حسرتِ دیدار ہی سہی
اہلِ وفا کے باب میں اتنی ہوس نہ رکھ
اس قحط زارِ عشق میں دو چار ہی سہی
خوش ہوں کہ ذکرِ یار میں گزرا تمام وقت
ناصح سے بحث ہی سہی تکرار ہی سہی
شامِ اسیری و شبِ غربت تو ہو چکی
اک جاں کی بات ہے تو لبِ دار ہی سہی
ہوتی ہے اب بھی گاہے بگاہے کوئی غزل
ہم زندگی سے بر سرِ پیکار ہی سہی
اک چارہ گر ہے اور ٹھکانے کا ہے فراز
دنیا ہمارے در پۓ آزار ہی سہی
احمد فراز

تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 102
سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی
دل نے ذرا سے غم کو قیامت بنا دیا
ورنہ وہ آنکھ اتنی زیادہ خفا نہ تھی
یوں دل لرز اٹھا ہے کسی کو پکار کر
میری صدا بھی جیسے کہ میری صدا نہ تھی
برگ خزاں جو شاخ سے ٹوٹا وہ خاک تھا
اس جاں سپردگی کے تو قابل ہوا نہ تھی
جگنو کی روشنی سے بھی کیا کیا بھڑک اٹھی
اس شہر کی فضا کہ چراغ آشنا نہ تھی
احمد فراز

اس میں آسودگی زیادہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 101
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی
نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی
نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی
جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی
لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی
حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی
زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی
کچھ تو پیکر میں‌ تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی
اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی
جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار، اتنی سادہ تھی
اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی
یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں‌ہم سے وفا زیادہ تھی
وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی
احمد فراز

کہ ماورائے غمِ جاں بھی ایک دنیا تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 100
ہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھی
کہ ماورائے غمِ جاں بھی ایک دنیا تھی
وفا پہ سخت گراں ہے ترا وصالِ دوام
کہ تجھ سے مل کے بچھڑنا مری تمنا تھی
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد اب معلوم
کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی
خوشا وہ دل جو سلامت رہے بزعمِ وفا
نگاہِ اہلِ جہاں ورنہ سنگِ خارا تھی
دیارِ اہلِ سخن پر سکوت ہے کہ جو تھا
فراز میری غزل بھی صدا بصحرا تھی
احمد فراز

اب تو ہم لوگ گئے دیدۂ بے خواب سے بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 99
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
اب تو ہم لوگ گئے دیدۂ بے خواب سے بھی
رو پڑا ہوں تو کوئی بات ہی ایسی ہو گی
میں کہ واقف تھا ترے ہجر کے آداب سے بھی
کچھ تو اُس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہو جانا
اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی
اے سمندر کی ہوا تیر اکرم بھی معلوم
پیاس ساحل کی تو بجھتی نہیں سیلاب سے بھی
کچھ تو اُس حُسن کو جانے ہے زمانہ سارا
اور کچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی
احمد فراز

بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 98
عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی
بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی
کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے
یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی
ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اس کو بھول چکے
مگر گمان تھا یہ بھی، قیاس تھا وہ بھی
کہاں ہے اب غم دنیا، کہاں ہے اب غم جاں
وہ دن بھی تھے کہ ہمیں یہ بھی راس تھا وہ بھی
فراز تیرے گریباں پہ کل جو ہنستا تھا
اسے ملے تو دریدہ لباس تھا وہ بھی
احمد فراز

بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 97
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی
بجا کہ چشمِ طلب بھی ہوئی تہی کیسہ
مگر ہے رونقِ بازار اب کہاں تو بھی
ہمیں بھی کارِ جہاں لے گیا ہے دور بہت
رہا ہے در پۓ آزار اب کہاں تو بھی
ہزار صورتیں آنکھوں میں پھرتی رہتی ہیں
مری نگاہ میں ہر بار اب کہاں تو بھی
اُسی کو وعدہ فراموش کیوں کہیں اے دل
رہا ہے صاحبِ کردار اب کہاں تو بھی
مری غزل میں کوئی اور کیسے در آۓ
ستم تو یہ ہے کہ اے یار، اب کہاں تو بھی
جو تجھ سے پیار کرے تیری لغزشوں کے سبب
فراز ایسا گنہگار اب کہاں تو بھی
احمد فراز

سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 96
چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی
لباسِ غم میں تو وہ اور بن گیا قاتل
سجی ہے کیسی، کسی پر قبا اداسی کی
غزل کہوں تو خیالوں کی دھند میں مجھ سے
کرے کلام کوئی اپسرا اداسی کی
خیالِ یار کا بادل اگر کھلا بھی کبھی
تو دھوپ پھیل گئی جا بجا اداسی کی
بہت دنوں سے تیری یاد کیوں نہیں آئی
وہ میری دوست میری ہمنوا اداسی کی
فراز نے تجھے دیکھا تو کس قدر خوش تھا
پھر اُس کے بعد چلی وہ ہوا اداسی کی
احمد فراز

وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 95
کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی
ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے
سو ہم نے دوستی یاری تو کی، وفا نہیں کی
شکستگی میں بھی پندارِ دل سلامت ہے
کہ اس کے در پہ تو پہنچے مگر صدا نہیں کی
شکایت اس کی نہیں ہے کہ اس نے ظلم کیا
گلہ تو یہ ہے کہ ظالم نے انتہا نہیں کی
وہ نا دہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی
عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز
کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی
احمد فراز

دل نے چاہا بھی اگر، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 94
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی
اہلِ محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پُرسش نہیں کی
جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی
اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی
ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی
اے مرے ابرِ کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتلِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی
وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فراز
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی
احمد فراز

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 93
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز

صحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 92
کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
صحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پی
اپنوں نے تج دیا ہے تو غیروں میں جا کے بیٹھ
اے خانماں خراب! نہ تنہا شراب پی
تو ہم سفر نہیں ہے تو کیا سیرِ گلستاں
تو ہم سبو نہیں ہے تو پھر کیا شراب پی
اے دل گرفتۂ غم جاناں سبو اٹھا
اے کشتۂ جفائے زمانہ شراب پی
دو صورتیں ہیں دوستو دردِ فراق کی
یا اس کے غم میں ٹوٹ کے رو،۔۔ یا شراب پی
اک مہرباں بزرگ نے یہ مشورہ دیا
دکھ کا کوئی علاج نہیں، جا شراب پی
بادل گرج رہا تھا ادھر محتسب ادھر
پھر جب تلک یہ عقدہ نہ سلجھا شراب پی
اے تو کہ تیرے در پہ ہیں رندوں کے جمگھٹے
اک روز اس فقیر کے گھر آ، شراب پی
دو جام ان کے نام بھی اے پیر میکدہ
جن رفتگاں کے ساتھ ہمیشہ شراب پی
کل ہم سے اپنا یار خفا ہو گیا فراز
شاید کہ ہم نے حد سے زیادہ شراب پی
احمد فراز

فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 91
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کے پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی
ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی
یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی
کبھی فراز نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رقابتیں کرنی
احمد فراز

لوگ مر جائیں بلا سے تیری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 90
تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
لوگ مر جائیں بلا سے تیری
کوئی نسبت کبھی اے جان سخن
کسی محروم نوا سے تیری
اے مرے ابر گریزاں کب تک
راہ تکتے ہی رہیں پیاسے تیری
تیرے مقتل بھی ہمیں سے آباد
ہم بھی زندہ ہیں دعا سے تیری
تو بھی نادم ہے زمانے سے فراز
وہ بھی نا خوش ہیں وفا سے تیری
احمد فراز

اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 89
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری
میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری
جو طعنہ زن تھا مری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری
میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں، یہی سزا تھی مری
شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری
کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی مری؟
جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی مری
ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی مری
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری
احمد فراز

بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 88
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکاں پر لگی ہوئی
بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی
غافل نہ جان اُسے کہ تغافل کے باوجود
اُس کی نظر ہے سب پہ برابر لگی ہوئی
خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی
برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئی
غیروں سے کیا گِلا ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ مرے گھر لگی ہوئی
لازم ہے مرغِ بادنما بھی اذان دے
کلغی تو آپ کے بھی ہے سر پر لگی ہوئی
میرے ہی قتل نامے پہ میرے ہی دستخط
میری ہی مُہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فراز
ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی
احمد فراز

کیا ماتمِ گل تھا کہ صبا تک نہیں آئی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 87
کل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئی
کیا ماتمِ گل تھا کہ صبا تک نہیں آئی
آدابِ خرابات کا کیا ذکر یہاں تو
رندوں کو بہکنے کی ادا تک نہیں آئی
تجھ ایسے مسیحا سے تغافل کا گلہ کیا
ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی
جلتے رہے بے صرفہ چراغوں کی طرح ہم
تو کیا، ترے کوچے کی ہوا تک نہیں آئی
کس جادہ سے گزرا ہے مگر قافلۂ عمر
آوازِ سگاں، بانگِ درا تک نہیں آئی
اس در پہ یہ عالم ہوا دل کا کہ لبوں پر
کیا حرفِ تمنا کہ دعا تک نہیں آئی
دعوائے وفا پر بھی طلب دادِ وفا کی
اے کشتۂ غم تجھ کو حیا تک نہیں آئی
جو کچھ ہو فراز اپنے تئیں، یار کے آگے
اس سے تو کوئی بات بنا تک نہیں آئی
احمد فراز

پھر بھی اپنے عہد پر قائم ہیں ہم اپنی جگہ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 86
تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
پھر بھی اپنے عہد پر قائم ہیں ہم اپنی جگہ
کیا کریں یہ دل کسی کی ناصحا سنتا نہیں
آپ نے جو کچھ کہا اے محترم، اپنی جگہ
ہم موحد ہیں بتوں کے پوجنے والے نہیں
پر خدا لگتی کہیں تو وہ صنم اپنی جگہ
یارِ بے پروا! کبھی ہم نے کوئی شکوہ کیا
ہاں مگر ان ناسپاس آنکھوں کا نم اپنی جگہ
محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ مے خانہ فراز
جس جگہ جائیں بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ
احمد فراز

سو دوسروں کے لئے تجربے مثال کے رکھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 85
فقط ہنر ہی نہیں عیب بھی کمال کے رکھ
سو دوسروں کے لئے تجربے مثال کے رکھ
نہیں ہے تاب تو پھر عاشقی کی راہ نہ چل
یہ کارزار جنوں ہے جگر نکال کے رکھ
سبھی کے ہاتھ دلوں پر نگاہ تجھ پر ہے
قدح بدست ہے ساقی قدم سنبھال کے رکھ
فراز بھول بھی جا سانحے محبت کے
ہتھیلیوں پہ نہ اِن آبلوں کو پال کے رکھ
احمد فراز

ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 84
صنم تراش پر آدابِ کافرانہ سمجھ
ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ
میں تجھ کو مانگ رہا ہوں قبول کر کہ نہ کر
یہ بات تیری مری ہے اسے دعا نہ سمجھ
پلٹ کے آئے گا وہ بھی گئی رتوں کی طرح
جو تجھ سے روٹھ گیا ہے اسے جدا نہ سمجھ
رہِ وفا میں کوئی آخری مقام نہیں
شکستِ دل کو محبت کی انتہا نہ سمجھ
ہر ایک صاحبِ منزل کو با مراد نہ جان
ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ
فراز آج کی دنیا مرے وجود میں ہے
مرے سخن کو فقط میرا تذکرہ نہ سمجھ
احمد فراز

اب تو ہم بات بھی کرتے ہیں غم خوار کے ساتھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 83
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے ہیں غم خوار کے ساتھ
ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ
اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سُنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجیے گا
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ
ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ
جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فراز
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
احمد فراز

دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 82
دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اے خدا درد دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اس گلی میں‌فراز
آنا جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
احمد فراز

مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 81
فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں
مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں
لب و دہن بھی ملا گفتگو کا فن بھی ملا
مگر جو دل پہ گزرتی ہے کہہ سکوں بھی نہیں
مری زبان کی لکنت سے بدگمان نہ ہو
جو تو کہے تو تجھے عمر بھر ملوں بھی نہیں
فراز جیسے دیا تربتِ ہوا چاہے
تو پاس آۓ تو ممکن ہے میں رہوں بھی نہیں
احمد فراز

کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 80
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں
آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں
خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں
کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں
احمد فراز

دوستی تو اداس کرتی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 79
کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
دوستی تو اداس کرتی نہیں
ہم ہمیشہ کے سیر چشم سہی
تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں
شبِ ہجراں بھی روزِ بد کی طرح
کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں
شعر بھی آیتوں سے کیا کم ہیں
ہم پہ مانا وحی اترتی نہیں
اس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہمیں سے حساب کرتی نہیں
یہ محبت ہے، سن! زمانے سن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں
جس طرح تم گزارتے ہو فراز
زندگی اس طرح گزرتی نہیں
احمد فراز

جانے کیا دور ہے، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 78
زخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
جانے کیا دور ہے، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ جن کے لئے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پا کہتے ہیں
کوئی بتلاؤ کہ اک عمر کا بِچھڑا محبوب
اتفاقا کہیں‌مل جائے تو کیا کہتے ہیں
یہ بھی اندازِ سخن ہے کہ جفا کو تیری
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا کہتے ہیں
جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں
کیا تعجب ہے کہ ہم اہل تمنا کو فراز
وہ جو محرومِ تمنا ہیں‌ برا کہتے ہیں
احمد فراز

کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 77
چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ اس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں
ہم اپنے بت کو، زلیخا لیے ہے یوسف کو
ہے کون رونق بازار چل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دیر و حرم میں تو وہ نہیں‌ملتا
سو اب کے اس کو سرِ دار چل کے دیکھتے ہیں
اس ایک شخص کو دیکھو تو آنکھ بھرتی نہیں
اس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں
وہ میرے گھر کا کرے قصد جب تو سائے سے
کئی قدم در و دیوار چل کے دیکھتے ہیں
فراز اسیر ہے اس کا کہ وہ فراز کا ہے
ہے کون کس کا گرفتار؟ چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 76
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں
یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں
یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر
چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 75
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌‌
احمد فراز

کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 74
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
احمد فراز

عجب سفر ہے کہ بس ہمسفر کو دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 73
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہمسفر کو دیکھتے ہیں
نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے
تو کس ملال سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں
تیرے جمال سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے
یہ سیر چشم مگر کب ادھر کو دیکھتے ہیں
عجب فسونِ خریدار کا اثر ہے کہ ہم
اسی کی آنکھ سے اپنے ہنر کو دیکھتے ہیں
کوئی مکاں کوئی زنداں سمجھ کے رہتا ہے
طلسم خانۂ دیوار و در کو دیکھتے ہیں
فراز در خورِ سجدہ ہر آستانہ نہیں
ہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں
وہ بے خبر میری آنکھوں کا صبر بھی دیکھیں
جو طنز سے میرے دامانِ تر کو دیکھتے ہیں
یہ جاں کنی کی گھڑی کیا ٹھہر گئی ہے کہ ہم
کبھی قضا کو کبھی چارہ گر کو دیکھتے ہیں
ہماری دربدری کا یہ ماجرا ہے کہ ہم
مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
فراز ہم سے سخن دوست، فال کے لئے بھی
کلامِ غالب آشفتہ سر کو دیکھتے ہیں
احمد فراز

حوصلے انتہا کے رکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 72
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں
حوصلے انتہا کے رکھتے ہیں
ہم کبھی بد دعا نہیں دیتے
ہم سلیقے دعا کے رکھتے ہیں
ہم نہیں ہیں شکست کے قائل
ہم سفینے جلا کے رکھتے ہیں
ان کے دامن بھی جلتے دیکھے ہیں
وہ جو دامن بچا کے رکھتے ہیں
احمد فراز

کہ دوستوں میں، کبھی دشمنوں میں ہوتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 71
جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
کہ دوستوں میں، کبھی دشمنوں میں ہوتے ہیں
ہوا کے رخ پہ کبھی بادباں نہیں رکھتے
بلا کے حوصلے دریا دلوں میں ہوتے ہیں
پلٹ کے دیکھ ذرا اپنے رہ نوردوں کو
جو منزلوں پہ نہ ہوں راستوں میں ہوتے ہیں
پیمبروں کا نسب شاعروں سے ملتا ہے
فراز ہم بھی انہیں سلسلوں میں ہوتے ہیں
احمد فراز

مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 70
منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں
مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں
کوئی مقصد ہو کہ ناصح، کوئی عاشق کہ عدو
سب کی اُس شوخ سے وابستگیاں ایک سی ہیں
دشتِ مجنوں میں نہ سہی تیشۂ فرہاد سہی
سفرِ عشق میں واماندگیاں ایک سی ہیں
یہ الگ بات کہ احساس جُدا ہوں ورنہ
راحتیں ایک سی، افسردگیاں ایک سی ہیں
صوفی و رند کے مسلک میں سہی لاکھ تضاد
مستیاں ایک سی، وارفتگیاں ایک سی ہیں
وصل ہو، ہجر ہو، قربت ہو کہ دُوری ہو فراز
ساری کیفیتیں، سب تشنگیاں ایک سی ہیں
احمد فراز

کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 69
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں
آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں
اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں
یہ برق نشیمن پہ گری تھی کہ قفس پر
مرغان گرفتار بڑی دیر سے چپ ہیں
اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں
بازار کے بازار بڑی دیر سے چپ ہیں
پھر نعرۂ مستانہ فراز آؤ لگائیں
اہل رسن و دار بڑی دیر سے چپ ہیں
احمد فراز

جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 68
اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں
احتیاط اہل محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پایہ رسن جاتے ہیں
جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں
ساقیا ! تو نے تو میخانے کا یہ حال کیا
بادہ کش محتسب شہر کے گن گاتے ہیں
طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں
ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں
احمد فراز

وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 67
سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں
حضور آپ شب آرائیاں کریں لیکن
فقط نمودِ سحر تک چراغ جلتے ہیں
اگر فضا ہے مخالف تو زلف لہراؤ
کہ بادبان ہواؤں کا رُخ بدلتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ دینا ابھی درست نہیں
کہ واقعات ابھی کروٹیں بدلتے ہیں
یہ پاسِ پیر مغاں ہے کہ ضعفِ تشنہ لبی
نشہ نہیں ہے مگر لڑکھڑا کے چلتے ہیں
خدا کا نام جہاں بیچتے ہیں لوگ فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں
احمد فراز

ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 66
دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں
چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہے ہم
نہ تو بجھ پائیں نہ بھڑکیں نہ دہکتے جاویں
تیری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشاں ہمیں تکتے جاویں
کیا کرے چارہ کوئی جب تیرے اندوہ نصیب
منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور سسکتے جاویں
کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تیری محفل میں سبھی لوگ بہکتے جاویں
مژدۂ وصل سے کچھ ہم ہی زخود رفتہ نہیں
اس کی آنکھوں میں بھی جگنو سے چمکتے جاویں
کبھی اس یارِ سمن بر کے سخن بھی سنیو
ایسا لگتا ہے کہ غنچے سے چٹکتے جاویں
ہم نوا سنجِ محبت ہیں ہر اک رُت میں فراز
وہ قفس ہو کہ گلستاں ہو، چہکتے جاویں
احمد فراز

میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 65
کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں
تھا کون جو گرہ پہ گرہ ڈالتا رہا
اب یہ بتا کہ عقدہ کشا تُو ہوا کہ میں
جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا کہ میں
جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں
جب فصلِ گل میں فکرِ رفو اہلِ دل کو تھی
اس رُت میں بھی دریدہ جگر تُو رہا کہ میں
کل جب رُکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
اے اہلِ شہر تم تھے شہیدِ وفا کہ میں
کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا
تم تھے عُدو کی صف میں سرِ کربلا کہ میں
احمد فراز

تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟

احمد فراز ۔ غزل نمبر 64
شہرِ محبت، ہجر کا موسم، عہد وفا اور میں
تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟
تو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہے
آپس میں کیا باتیں کرتے رات، دیا اور میں
سیرِ چمن عادت تھی پہلے اب مجبوری ہے
تیری تلاش میں‌چل پڑتے ہیں‌ بادِ صبا اور میں
جس کو دیکھو تیری خو میں پاگل پھرتا ہے
ورنہ ہم مشرب تو نہیں‌تھے خلقِ خدا اور میں
ایک تو وہ ہمراز مرا ہے، پھر تیرا مداح
بس تیرا ہی ذکر کیا کرتے ہیں‌ضیا اور میں
ایک زمانے بعد فراز یہ شعر کہے میں‌نے
اک مدت سے ملے نہیں‌ہیں‌یار مرا اور میں
احمد فراز

تمام شہر لئے چھتریاں تھا رستے میں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 63
خبر تھی گھر سے وہ نکلا ہے مینہ برستے میں
تمام شہر لئے چھتریاں تھا رستے میں
بہار آئی تو اک شخص یاد آیا بہت
کہ جس کے ہونٹوں سے جھڑتے تھے پھول ہنستے میں
کہاں کے مکتب و مُلّا، کہا ں کے درس و نصاب
بس اک کتابِ محبت رہی ہے بستے میں
ملا تھا ایک ہی گاہک تو ہم بھی کیا کرتے
سو خود کو بیچ دیا بے حساب سستے میں
یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں
ہر ایک در خورِ رنگ و نمو نہیں ورنہ
گل و گیاہ سبھی تھے صبا کے رستے میں
ہے زہرِ عشق، خمارِ شراب آگے ہے
نشہ بڑھاتا گیا ہے یہ سانپ ڈستے میں
جو سب سے پہلے ہی رزمِ وفا میں کام آئے
فراز ہم تھے انہیں عاشقوں کے دستے میں
احمد فراز

اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 62
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
چاک دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
احمد فراز

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 61
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
احمد فراز

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 60
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستہ ہو جائیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
احمد فراز

مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 59
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں
آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں
ہر حسن سادہ لوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
احمد فراز

وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 58
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں
ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں
ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں
آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں
بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں
جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں
احمد فراز

یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 57
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
اوّل اوّل کی محبت کے نشے یاد تو کر
بِن پیۓ ہی ترا چہرہ تھا گُلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم تھا کہ اب یاد نہیں
رگِ مِینا سُلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کِس قدر جلد بدل جاتے ہیں اِنساں جاناں
دل سمجھتا تھا کہ شاید ہو فسُردہ تُو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
مدّتوں سے یہی عالم ۔۔ نہ توقع، نہ اُمید
دل پُکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسی بھی گزاری ترا احساں جاناں
احمد فراز

سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 56
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
احمد فراز

اب بھی میں چپ ہوں تو مجھ پر مرے اشعار پہ خاک

احمد فراز ۔ غزل نمبر 55
‮‮باغباں ڈال رہا ہے گُل و گلزار پہ خاک
اب بھی میں چپ ہوں تو مجھ پر مرے اشعار پہ خاک
کیسے بے آبلہ پا بادیہ پیما ہیں کہ ہے
قطرۂ خوں کے بجائے سر ہر خار پہ خاک
سرِ دربار ستادہ ہیں پئے منصب و جاہ
تُف بر اہلِ سخن و خلعت و دستار پہ خاک
آ کے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے
سبزہ و گل کی جگہ ہے در و دیوار پہ خاک
تا کسی پر نہ کھُلے اپنے جگر کا احوال
مَل کے آ جاتے ہیں ہم دیدۂ خونبار پہ خاک
بسکہ اک نانِ جویں رزقِ مشقت تھا فراز
آ گیا ڈال کے میں درہم و دینار پہ خاک
احمد فراز

وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 54
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے، چال جو بھی ہو
فراز اس نے وفا کی یا بے وفائی کی
جوابدہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو
احمد فراز

کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 53
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
احمد فراز

اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 52
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ تم ہو
اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو
دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو
ہر بزم میں‌ موضوعِ سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو
اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو
احمد فراز

جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 51
اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو
کوئی کہو کہ ہاتھ قلم کس طرح ہوئے
کیوں رک گئی قلم کی روانی کوئی لکھو
کیوں اہلِ شوق سر بگریباں ہیں دوستو
کیوں خوں بہ دل ہے عہدِ جوانی کوئی لکھو
کیوں سرمہ در گلو ہے ہر اک طائرِ سخن
کیوں گلستاں قفس کا ہے ثانی، کوئی لکھو
ہاں تازہ سانحوں کا کرے کون انتظار
ہاں دل کی واردات پرانی کوئی لکھو
احمد فراز

جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 50
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو
حاکم کی تلوار مقدس ہوتی ہے
حاکم کی تلوار کے بارے مت لکھو
کہتے ہیں یہ دار و رسن کا موسم ہے
جو بھی جس کی گردن مارے، مت لکھو
لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پر وجدان اتارے مت لکھو
وہ لکھو بس جو بھی امیرِ شہر کہے
جو کہتے ہیں درد کے مارے مت لکھو
خود منصف پا بستہ ہیں لب بستہ ہیں
کون کہاں اب عرض گزارے مت لکھو
کچھ اعزاز رسیدہ ہم سے کہتے ہیں
اپنی بیاض میں نام ہمارے مت لکھو
دل کہتا ہے کھل کر سچی بات کہو
اور لفظوں کے بیچ ستارے مت لکھو
احمد فراز

شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 49
اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو
احمد فراز

بہت بڑا ہے سفر، تھوڑی دور ساتھ چلو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 48
کٹھن ہے راہ گزر، تھوڑی دور ساتھ چلو
بہت بڑا ہے سفر، تھوڑی دور ساتھ چلو
تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے
میں جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو
نشے میں چور ہوں میں بھی، تمہیں بھی ہوش نہیں
بڑا مزا ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو
یہ ایک شب کی ملاقات بھی غنیمت ہے
کسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو
ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے
ابھی ہے دور سحر، تھوڑی دور ساتھ چلو
طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے
فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو
احمد فراز

"جالب ہن گل مک گئی اے "، ہن جان نوں ہی خیرات کرو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 47
کب تک درد کے تحفے بانٹو خون جگر سوغات کرو
"جالب ہن گل مک گئی اے "، ہن جان نوں ہی خیرات کرو
کیسے کیسے دشمن جاں اب پرسش حال کو آئے ہیں
ان کے بڑے احسان ہیں تم پر اٹھو تسلیمات کرو
تم تو ازل کے دیوانے اور دیوانوں کا شیوہ ہے
اپنے گھر کو آگ لگا کر روشن شہر کی رات کرو
اے بے زور پیادے تم سے کس نے کہا کہ یہ جنگ لڑو
شاہوں کو شہ دیتے دیتے اپنی بازی مات کرو
اپنے گریباں کے پرچم میں لوگ تمہیں کفنائیں گے
چاہے تم منصور بنو یا پیروی سادات کرو
فیض گیا اب تم بھی چلے تو کون رہے گا مقتل میں
ایک فراز ہے باقی ساتھی، اس کو بھی اپنے ساتھ کرو
احمد فراز

میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 46
شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو
جو زہر پی چکا ہوں تمہی نے مجھے دیا
اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو
یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی
اے خسروان شہر، قبائیں مجھے نہ دو
ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں
ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو
کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فراز
کب میں نے یہ کہا تھا سزائیں مجھے نہ دو
احمد فراز

اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں‌ دوستو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 45
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں‌ دوستو
کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کریں
آنکھیں‌تو دُشمنوں‌کی بھی پرنم ہیں دوستو
اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے
اپنی تلاش میں تو ہمی ہم ہیں دوستو
کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا
کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو
اس شہرِ آرزو سے بھی باہر نکل چلو
اب دل کی رونقیں بھی کوئی دم ہیں دوستو
سب کچھ سہی فراز پر اتنا ضرور ہے
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں دوستو
احمد فراز

کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 44
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے، میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو
احمد فراز

زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

احمد فراز ۔ غزل نمبر 43
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون
دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون
زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون
وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون
ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا
رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون
ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز
شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون
احمد فراز

چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 42
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز

یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 41
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم
اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شبِ فراق
آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم
وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز
ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
احمد فراز

جیسا بھی حال ہو نگہِ یار پر نہ کھول

احمد فراز ۔ غزل نمبر 40
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
جیسا بھی حال ہو نگہِ یار پر نہ کھول
جب شہر لُٹ گیا ہے تو کیا گھر کو دیکھنا
کل آنکھ نم نہیں تھی تو اب چشمِ تر نہ کھول
چاروں طرف ہیں دامِ شنیدن بچھے ہوئے
غفلت میں طائرانِ معانی کے پر نہ کھول
کچھ تو کڑی کٹھور مسافت کا دھیان کر
کوسوں سفر پڑا ہے ابھی سے کمر نہ کھول
عیسیٰ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول
امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے در نہ کھول
میری یہی بساط کہ فریاد ہی کروں
تو چاہتا نہیں ہے تو بابِ اثر نہ کھول
تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول
احمد فراز

نہ تھے اتنے بھی دل آزار قاتل

احمد فراز ۔ غزل نمبر 39
ہوئے جاتے ہیں کیوں غم خوار قاتل
نہ تھے اتنے بھی دل آزار قاتل
مسیحاؤں کو جب آواز دی ہے
پلٹ کر آ گئے ہر بار قاتل
ہمیشہ سے ہلاک اک دوسرے کے
مرا سر اور تری تلوار قاتل
تری آنکھوں کو جاناں کیا ہوا ہے
کبھی دیکھے نہ تھے بیمار قاتل
وہاں کیا داد خواہی کیا گواہی
جہاں ہوں منصفوں کے یار قاتل
فراز اس دشمن جاں سے گلہ کیا
ہمیشہ سے رہے دلدار قاتل
احمد فراز

‮پھِر بھی لادے تو کوئی دوست ہمارے کی مثال

احمد فراز ۔ غزل نمبر 38
ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے کی مثال
‮پھِر بھی لادے تو کوئی دوست ہمارے کی مثال
مجھ سے کیا ڈوبنے والوں کا پتہ پوچھتے ہو
میں سمندر کا حوالہ نہ کنارے کی مثال
زندگی اوڑھ کے بیٹھی تھی ردائے شب غم
تیرا غم ٹانک دیا ہم نے ستارے کی مثال
عاشقی کو بھی ہوس پیشہ تجارت جانیں
وصل ہے نفع تو ہجراں ہے خسارے کی مثال
ہم کبھی ٹوٹ کے روئے نہ کبھی کھل کے ہنسے
رات شبنم کی طرح صبح ستارے کی مثال
نا سپاسی کی بھی حد ہے جو یہ کہتے ہو فراز
زندگی ہم نے گزاری ہے گزارے کی مثال
احمد فراز

گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس

احمد فراز ۔ غزل نمبر 37
چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس
گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس
گھر تو کیا گھر کی شباہت بھی نہیں ہے باقی
ایسے ویران ہوئے ہیں در و دیوار کہ بس
زندگی تھی کہ قیامت تھی کہ فرقت تیری
ایک اک سانس نے وہ وہ دیئے آزار کہ بس
اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا یہی
ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اس بار کہ بس
اب وہ پہلے سے بلا نوش و سیہ مست کہاں
اب تو ساقی سے یہ کہتے ہیں قدح خوار کہ بس
لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فراز
ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس
احمد فراز

جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

احمد فراز ۔ غزل نمبر 36
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں‌ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر
وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر
شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر
نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں‌ فراز
اب جو زندہ ہیں‌تو کچھ سانس ادھارے لے کر
احمد فراز

دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

احمد فراز ۔ غزل نمبر 35
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
احمد فراز

وگرنہ ترک تعلق کی صورتیں تھیں بہت

احمد فراز ۔ غزل نمبر 34
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
وگرنہ ترک تعلق کی صورتیں تھیں بہت
ملے تو ٹوٹ کے روئے، نہ کھل کے باتیں کیں
کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت
بھلا دیے ہیں ترے غم نے دکھ زمانے کے
خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت
دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا
امیر شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت
فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہا
وگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت
احمد فراز

تو مری پہلی محبت تھی مرے آخری دوست

احمد فراز ۔ غزل نمبر 33
تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست
تو مری پہلی محبت تھی مرے آخری دوست
لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں
یہ تو دنیا ہے مری جاں کئی دشمن کئی دوست
تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امربیل کوئی
میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست
یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے
کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست
اب بھی آئے ہو تو احسان تمہارا لیکن
وہ قیامت جو گزرتی تھی گزر بھی گئی دوست
تیرے لہجے کی تھکن میں ترا دل شامل ہے
ایسا لگتا ہے جدائی کی گھڑی آ گئی دوست
بارش سنگ کا موسم ہے مرے شہر میں تو
تو یہ شیشے سا بدن لے کے کہاں آ گئی دوست
میں اسے عہد شکن کیسے سمجھ لوں جس نے
آخری خط میں لکھا تھا کہ فقط "آپ کی دوست”
احمد فراز

جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 32
سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا
کیسے نامانوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اس کو کتنی مشکلوں سے ترجمہ میں نے کیا
وہ مری پہلی محبت وہ مری پہلی شکست
پھر تو پیمان وفا سو مرتبہ میں نے کیا
ہوں سزاوار سزا کیوں جب مقدر میں مرے
جو بھی اس جانِ جہاں نے لکھ دیا میں نے کیا
احمد فراز

کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 31
غزل سُن کر پریشاں ہو گئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا
یہ بیگانہ روی پہلی نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا
نہ پرسش کو نہ سمجھانے کو آئے
ہمارے یار ہم کو رو گئے کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا
کسی تازہ رفاقت کی جھلک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا
پلٹ کر چارہ گر کیوں آ گئے ہیں
شبِ فرقت کے مارے سو گئے کیا
فراز اتنا نہ اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا
احمد فراز

مسافر گھر کو واپس آ گئے کیا ؟

احمد فراز ۔ غزل نمبر 30
جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا
مسافر گھر کو واپس آ گئے کیا ؟
نہ تھی اتنی کڑی تازہ مسافت
پرانے ہم سفر یاد آ گئے کیا ؟
یہاں‌کچھ آشنا سی بستیاں تھیں
جزیروں کو سمندر کھا گئے کیا؟
مری گردن میں باہیں ڈال دی ہیں
تم اپنے آپ سے اکتا گئے کیا ؟
نہیں آیا مرا جانِ بہاراں
درختوں پر شگوفے آ گئے کیا
جہاں میلہ لگا ہے قاتلوں کا
فراز اس شہر میں تنہا گئے کیا؟
احمد فراز

کہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 29
وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیا
کہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیا
خوشا وہ لوگ کہ محروم التفات رہے
ترے کرم کو بہ انداز سادگی نہ لیا
تمہارے بعد کئی ہاتھ دل کی سمت بڑھے
ہزار شکر گریباں کو ہم نے سی نہ لیا
فراز ظلم ہے اتنی خود اعتمادی بھی
کہ رات بھی تھی اندھیری، چراغ بھی نہ لیا
احمد فراز

ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 28
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں‌نے بھی جام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمد فراز

میں میزبان تھا مجھے مہمان کر دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 27
اُس کی نوازشوں نے تو حیران کر دیا
میں میزبان تھا مجھے مہمان کر دیا
اک نو بہار ناز کے ہلکے سے لمس نے
میرے تو سارے جسم کو گلدان کر دیا
کل اک نگار شہر سبا نے بہ لطف خاص
مجھ سے فقیر کو بھی سلیمان کر دیا
جینے سے اس قدر بھی لگاؤ نہ تھا مجھے
تو نے تو زندگی کو، میری جان کر دیا
نا آشنائے لُطف تصادم کو کیا خبر
میں نے ہوا کی زد پہ رکھا جان کر دیا
اتنے سکوں کے دن کبھی دیکھے نہ تھے فراز
آسودگی نے مجھ کو پریشان کر دیا
احمد فراز

کہیں‌زخم بیچ میں‌ آ گئے کہیں‌شعر کوئی سنا دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 26
وہی عشق جو تھا کبھی جنوں اسے روزگار بنا دیا
کہیں‌زخم بیچ میں‌ آ گئے کہیں‌شعر کوئی سنا دیا
وہی ہم کہ جن کو عزیز تھی درِ آبرو کی چمک دمک
یہی ہم کہ روزِ سیاہ میں‌ زرِ داغِ دل بھی لٹا دیا
کبھی یوں‌بھی تھا کہ ہزار تیر جگر میں‌تھے تو دکھی نہ تھے
مگر اب یہ ہے کسی مہرباں کے تپاک نے بھی رلا دیا
کبھی خود کو ٹوٹتے پھوٹتے بھی جو دیکھتے تو حزیں‌نہ تھے
مگر آج خود پہ نظر پڑی تو شکستِ جاں نے بلا دیا
کوئی نامہ دلبرِ شہر کا کہ غزل گری کا بہانہ ہو
وہی حرف دل جسے مدتوں سے ہم اہلِ دل نے بھلا دیا
احمد فراز

آج کیا جانیے کیا یاد آیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 25
جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
آج کیا جانیے کیا یاد آیا
پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جیسے
پھر ترا عہد وفا یاد آیا
جس طرح دھند میں‌لپٹے ہوئے پھول
ایک اک نقش ترا یاد آیا
ایسی مجبوری کے عالم میں‌ کوئی
یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا
اے رفیقو سر منزل جا کر
کیا کوئی آبلہ پا یاد آیا
یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں‌ یاد کہ کیا یاد آیا
جب کوئی زخم بھرا داغ بنا
جب کوئی بھول گیا یاد آیا
یہ محبت بھی ہے کیا روگ فراز
جس کو بھولے وہ سدا یاد آیا
احمد فراز

اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں کہا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 24
کوئی سخن برائے قوافی نہیں ‌کہا
اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں کہا
ہم اہلِ صدق جرم پہ نادم نہیں رہے
مر مِٹ گئے پہ حرفِ معافی نہیں کہا
آشوبِ‌ زندگی تھا کہ اندوہ عاشقی
اک غم کو دوسرے کی تلافی نہیں کہا
ہم نے خیالِ یار میں کیا کیا غزل کہی
پھر بھی یہی گُماں ہے کہ کافی نہیں کہا
بس یہ کہا تھا دل کی دوا ہے مغاں کے پاس
ہم نے کبھی شراب کو شافی نہیں کہا
پہلے تو دل کی بات نہ لائے زبان پر
پھر کوئی حرف دل کے منافی نہیں کہا
اُس بے وفا سے ہم نے شکایت نہ کی فراز
عادت کو اُس کی وعدہ خلافی نہیں کہا
احمد فراز

جیسے اک فتنہ بیدار، رواں خواب میں تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 23
جانے نشّے میں کہ وہ آفت جاں خواب میں تھا
جیسے اک فتنہ بیدار، رواں خواب میں تھا
وہ سرِ شام، سمندر کا کنارا، ترا ساتھ
اب تو لگتا ہے کہ جیسے یہ سماں خواب میں تھا
جیسے یادوں کا دریچہ کوئی وا رہ جائے
اک ستارہ مری جانب نگراں خواب میں تھا
جب کھلی آنکھ تو میں تھا مری تنہائی تھی
وہ جو تھا قافلۂ ہمسفراں خواب میں تھا
ایسے قاتل کو کوئی ہاتھ لگاتا ہے فراز
شکر کر شکر کہ وہ دشمنِ جاں خواب میں تھا
احمد فراز

مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 22
گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا
مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا
وہ شہر یار جب اقلیم حرف میں آیا
تو میرا دست نگر تخت و تاج اس کا تھا
میں کیا بتاؤں کہ کیوں اس نے بے وفائی کی
مگر یہی کہ کچھ ایسا مزاج اس کا تھا
لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان
جھکی تھی جانبِ قاتل کہ راج اس کا تھا
تجھے گلہ ہے کہ دنیا نے پھیر لیں‌ آنکھیں
فراز یہ تو سدا سے رواج اس کا تھا
احمد فراز

وہ میرے جھوٹ سے خوش تھا نہ سچ پہ راضی تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 21
شعار اپنا ہی جس کا بہانہ سازی تھا
وہ میرے جھوٹ سے خوش تھا نہ سچ پہ راضی تھا
تمام عمر اسی کے رہے یہ کیا کم ہے
بلا سے عشق حقیقی نہ تھا مجازی تھا
یہ دو دلوں کی قرابت بڑی گواہی ہے
سو کیا ہوا کوئی شاہد نہ تھا نہ قاضی تھا
نہ طنز کر کے کئی بار کہہ چکا تجھ سے
وہ میری پہلی محبت تو میرا ماضی تھا
نہ دوست یار، نہ ناصح، نہ نامہ بر، نہ رقیب
بلا کشانِ محبت سے کون راضی تھا
یہ گل شدہ سی جو شمعیں دکھائی دیتی ہیں
ہنر ان آنکھوں کا آگے ستارہ سازی تھا
عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا
احمد فراز

مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 20
گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا
کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا
ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا
اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا
میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا
احمد فراز

وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے گزر جائے گا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 19
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے
اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں، کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روۓ گا تو مر جائے گا
احمد فراز

جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 18
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا
وہ اپنے زعم میں تھا، بے خبر رہا مجھ سے
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا
وہ برق رو تھا مگر رہ گیا کہاں جانے
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا
چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا
سفینہ اس کا، خدا اس کا، ناخدا اس کا
یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہمنوا اس کا
ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فراز
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا
احمد فراز

بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 17
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر، تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
رات کیا سویا کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا
کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا
عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا
جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
احمد فراز

کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 16
جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا
مجھ کو مٹی کیا تو نے تو یہ احسان بھی کر
کہ مری خاک کو اب کوزہ گروں تک پہنچا
تو مہ و مہر لئے ہے مگر اے دستِ کریم
کوئی جگنو بھی نہ تاریک گھروں تک پہنچا
دل بڑی چیز تھا بازارِ محبت میں کبھی
اب یہ سودا بھی مری جان، سروں تک پہنچا
اتنے ناصح ملے رستے میں کہ توبہ توبہ
بڑی مشکل سے میں شوریدہ سروں تک پہنچا
اہلِ دنیا نے تجھی کو نہیں لوٹا ہے فراز
جو بھی تھا صاحبِ دل، مفت بروں تک پہنچا
احمد فراز

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 15
اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا
ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا
احمد فراز

یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 14
جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا
میں برف برف رُتوں میں چلا تو اس نے کہا
پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا
بھلی لگی ہمیں خوش قامتی کسی کی مگر
نصیب میں کہاں اس سرو کا ثمر لانا
پیام کیسا مگر ہو سکے تو اے قاصد
کبھی کوئی خبر یارِ بے خبر لانا
فراز اب کے جب آؤ دیارِ جاناں میں
بجائے تحفۂ دل ارمغانِ سر لانا
احمد فراز

مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 13
جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا
یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا ترے پیرہن کا جل جانا
تمہیں کرو کوئی درماں، یہ وقت آ پہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا
ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا
سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں
مورّخوں نے مقابر کو بھی محل جانا
یہ کیا کہ تو بھی اسی ساعتِ زوال میں ہے
کہ جس طرح ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا
ہر ایک عشق کے بعد اور اس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا
احمد فراز