admin کی تمام پوسٹیں

لے گئی ہے اِک سڑک کی تیز رفتاری اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 547
تھی کہاں اپنے میانوالی سے بیزاری اسے
لے گئی ہے اِک سڑک کی تیز رفتاری اسے
نہر کے پل پر ٹھہر جا اور تھوڑی دیر، رات
روک سکتی ہے کہاں اِک چار دیواری اسے
کوئی پہلے بھی یہاں پر لاش ہے لٹکی ہوئی
کہہ رہی ہے دل کے تہہ خانے کی الماری اسے
پوچھتی پھرتی ہے قیمت رات سے مہتاب کی
تازہ تازہ ہے ابھی شوقِ خریداری اسے
جو طلسم حرف میں اترا ہے اسمِ نعت سے
قریہء شعر و سخن کی بخش سرداری اسے
منصور آفاق

دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 546
نیم عریاں کر گئی ہے رقص کی مستی اسے
دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے
جیسے حرکت کا بہاؤ، جیسے پانی کا مزاج
کھینچتی ہے اپنی جانب اس طرح پستی اسے
ایک ہی بیڈ روم میں رہتے ہوئے اتنا فراق
چوم لینا چاہیے اب تو زبردستی اسے
کھینچ لایا میرے پہلو کی سنہری دھوپ میں
شامِ شالا مار کا باغیچہء وسطی اسے
اس سیہ پاتال میں ہیں سورجوں کی بستیاں
زینہ در زینہ کہے، بجھتی ہوئی ہستی اسے
منصور آفاق

کون سی شے میرے کمرے کی طرف لائی اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 545
جاگتے دل کی تڑپ یا شب کی تنہائی اسے
کون سی شے میرے کمرے کی طرف لائی اسے
اس قدر آنکھوں کو رکھنا کھول کر اچھا نہیں
لے گئی تاریکیوں میں اس کی بینائی اسے
ڈوبنا اس کے مقدر میں لکھا ہے کیا کروں
اچھی لگتی ہے مری آنکھوں کی گہرائی اسے
بجھ گیا تھا چاند گہرے پانیوں میں پچھلی رات
ڈھانپتی اب پھر رہی ہے دور تک کائی اسے
جو برہنہ کر گیا ہے ساری بستی میں مجھے
میں نے اپنے ہاتھ سے پوشاک پہنائی اسے
منصور آفاق

ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 544
یہ گہرے سبز سے کہسار مجھ سے
ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے
زمانہ ہے سحر آثار مجھ سے
ملو آ کے افق کے پار مجھ سے
اسے ہر بار ایسے دیکھتا ہوں
ملا ہے جیسے پہلی بار مجھ سے
طلب کی آخری حد آ گئی ہے
وہ آئے اور سنے انکار مجھ سے
مری تقدیر میں بربادیاں ہیں
کہے ٹوٹا ہوا اوتار مجھ سے
سمجھ کر دھوپ مجھ کو زندگی کی
گریزاں سایہء دیوار مجھ سے
درختوں پر میں بارش کی طرح ہوں
ہوا میں خاک کی مہکار مجھ سے
مسلسل لفظ ہیں کرب و بلا میں
سرِ نوکِ سناں اظہار مجھ سے
منائیں لوگ جشن فتح مندی
فقط نسبت ہے تیری ہار مجھ سے
پڑا کوئے ملامت میں کہیں ہوں
تعلق کیا رکھے دستار مجھ سے
میں شب بھر چاند کو منصور دیکھوں
یہ چاہے دیدئہ بیدار مجھ سے
منصور آفاق

رسولِ صبح تبسم فروغ کن تم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 543
محیطِ کون مکاں تم فروغِ کن تم سے
رسولِ صبح تبسم فروغ کن تم سے
تمہی کتاب زماں ہو تمہیِ کتابِ مکاں
تمہی خدا کا تکلم فروغ کن تم سے
تمہی ہوصبحِ ازل سے ابد تلک روشن
جہانِ نور کے قلزم فروغ کن تم سے
تمہی ہوا کا چلن ہو تمہی خدا کا ہاتھ
تمہی ندی کاترنم فروغ کن تم سے
تمہاری چشمِ کرم سے نکلتا ہے سورج
تمہی سحر کا تلاطم فروغ کن تم سے
جہاں سے گنبدِ خضرا دکھائی دیتا ہے
ہے کائنات وہاں گم فروغ کن تم سے
تمہارے ہونے سے میخانہِجہاں موجود
تمہی ہو ساقی تمہی خم فروغ کُن تم سے
تمہارارحم و کرم کہ تمہارا ہے منصور
تمہی شعور کاترحم فروغ کن تم سے
منصور آفاق

ہوتی ہے روشنی بھری بارش چراغ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 542
نکلا ہے اپنا حسنِنگارش چراغ سے
ہوتی ہے روشنی بھری بارش چراغ سے
بجھنا نہیں ہے تجھ کو اندھیروں کے راج میں
کرتا ہوں صرف اتنی گزارش چراغ سے
روشن پلیز! رکھنامری رات کا خرام
وہ چاند کر رہا ہے سفارش چراغ سے
ابلیس کے لئے ہیں اندھیرے پناہ گاہ
ہے خار خاررات کو خارش چراغ سے
منصورہر جگہ یہ فروزاں ہوں مہتاب
ہوتی ہے تیرگی کی فرارش چراغ سے
منصور آفاق

دیکھتی تھی مجھے ٹیرس پہ کھڑی حیرت سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 541
لوٹ آئی ہوئی اک گزری گھڑی حیرت سے
دیکھتی تھی مجھے ٹیرس پہ کھڑی حیرت سے
کوئی آیا کسی کمرے میں کرامت کی طرح
اور تصویر کوئی بول پڑی حیرت سے
اک بگولے کی طرح اڑتے ہوئے دیکھتی تھی
درد کی دھول کو ساون کی جھڑی حیرت سے
تک رہی تھی کسی بنتے ہوئے ہیکل کے کلس
ایک دیمک زدہ لکڑی کی چھڑی حیرت سے
عشق اسرارِ لب و رخ سے کیا ہجر کی رات
رات بھر اپنی تو بس آنکھ لڑی حیرت سے
جلد میں اتنی بھی ہوتی ہے سفیدی منصور
چھو کے دیکھا تھا اسے میں نے بڑی حیرت سے
منصور آفاق

بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 540
یہ سچ کی آگ پرے رکھ مرے خیالوں سے
بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے
مکانِ ذات کے دیمک زدہ کواڑ کھلے
بھری ہوئی ہیں چھتیں مکڑیوں کے جالوں سے
مجھے پسند ہے عورت، نماز اور خوشبو
انہی کو چھینا گیا ہے مرے حوالوں سے
عمل کے اسم سے بابِ طلسم کھلنا ہے
اتار رینگتی صدیوں کا زنگ تالوں سے
بھٹک رہا ہے سرابوں کی شکل میں پانی
قضا ہوا کوئی چشمہ کہیں غزالوں سے
نہ مانگ وقت کی باریش چھاؤں سے دانش
لٹکتے کب ہیں ثمر برگدوں کے بالوں سے
منصور آفاق

میں آشنا نہیں ہوں بدن کے علوم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 539
باہر نکل لباس سے کچھ اور دھوم سے
میں آشنا نہیں ہوں بدن کے علوم سے
لگتا ہے تو بھی پارک میں موجود ہے کہیں
مہکی ہوئی ہے شام ترے پرفیوم سے
میں چاہتا ہوں تیرے ستارے پہ ایک شام
ای میل اور بھیج نہ شہرِ نجوم سے
کس نے بنایا وقت کا پہلا کلوز شارٹ
آنکھوں کے کیمرے کے فسوں کار زوم سے
نکلا ہی تھا دماغ سے اک شخص کا خیال
منصور بھر گئیں مری آنکھیں ہجوم سے
منصور آفاق

ڈرے ہوئے ہیں ستارے خود اپنی چالوں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 538
بدل رہی ہے کچھ ایسے گلوب کی گردش
ڈرے ہوئے ہیں ستارے خود اپنی چالوں سے
مکاں بھی اپنے مکینوں سے اب گریزاں ہیں
گلی بھی خود کو چھپاتی ہے چلنے والوں سے
وہ تیرگی کہ لرزتے ہیں بام و در شب کے
وہ روشنی ہے کہ سورج ڈرے اجالوں سے
یہ روز و شب ہیں تسلسل سے منحرف منصور
یہ ساعتیں کہ الگ ہو گئی ہیں سالوں سے
منصور آفاق

کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 537
بھر گئی تھی بیسمنٹ نیکیوں کے شور سے
کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے
نیم گرم دودھ کے ٹب میں میرے جسم کا
روشنی مساج کر اپنی پور پور سے
زاویہ وصال کا رہ نہ جائے ایک بھی
شاد کام جسم ہو لمس کے سکور سے
فاختہ کے خون سے ہونٹ اپنے سرخ رکھ
فائروں کے گیت سن اپنی بارہ بور سے
بام بام روشنی پول پول لائٹیں
رابطے رہے نہیں چاند کے چکور سے
وحشتِ گناہ سے نوچ لے لباس کو
نیکیوں کی پوٹلی کھول زور زور سے
واعظوں کی ناف پر کسبیوں کے ہاتھ ہیں
کوتوالِ شہر کی دوستی ہے چور سے
شیر کے شکار پر جانے والی توپ کی
رات بھر بڑی رہی بات چیت مور سے
خوابِ گاہِ یاد کی ایک الف داستاں
سُن پرانی رات میں اُس نئی نکور سے
منصور آفاق

انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 536
وہ دیکھنے کے نہیں آنکھ کے خرابہ سے
انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے
تھا چاروں آنکھوں میں حدِ نگاہ تک پانی
نکل کے آیا ہوں ڈوبے ہوئے دوآبہ سے
فرشتو! جاؤ کہ حکمِ طواف آیا ہے
اٹھا لے آؤ وہ کمرہ مقامِ کعبہ سے
وہ جس کا اسم ہے یاھو ، جو میرا باھو ہے
اسی نے مجھ کو ملایا ندیم بھابھہ سے
وہ اور ہیں جنہیں سورج ملا وراثت میں
مجھے تو ورثے میں راتیں ملی ہیں آبا سے
یہ کیسے روح ہوئی ہے ہری بھری منصور
یہ کس نے جا کے کہا ہے دعا کا بابا سے
منصور آفاق

مل گئے اندھیروں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 535
لوگ کچھ سویروں سے
مل گئے اندھیروں سے
چمنیاں چمکتی ہیں
راکھ کے پھریروں سے
دوستی کی خواہشمند
مچھلیاں مچھیروں سے
دھوپ مانگتے کیا ہو
برف کے بسیروں سے
خالی ہوتی جاتی ہیں
بستیاں سپیروں سے
آئے شہر میں بارود
دین دارڈیروں سے
خوف کھائیں کیا منصور
ہم پرند شیروں سے
منصور آفاق

نکال لایا ہے حرص و ہواکی صحبت سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 534
فقیر اپنا ستارہ خدا کی رحمت سے
نکال لایا ہے حرص و ہواکی صحبت سے
ثباتِذات کا اثبات کرلیا لیکن
گریزپا ہوں نفی سے فنا کی چاہت سے
مری گلی سے سویرے گزارنے والو
میں زخم زخم ہوں بادِ صبا کی نکہت سے
دکھائی دیتا ہے طوفان کوئی آیا ہوا
کواڑ ٹوٹ نہ جائیں ہوا کی وحشت سے
خدا نہیں ہے کہ اس کا شریک کوئی نہ ہو
اسے بھی چاہوں تمہیں بھی بلا کی شدت سے
کچھ اور ہوتے روشن ستم کی راہوں میں
دئیے،مصیبتِ بے انتہا کی ظلمت سے
بڑے وقار سے ٹکرا رہے ہیں پھرمنصور
ضمیر وقت کے، فرماروا کی قوت سے
منصور آفاق

ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 533
برما بہارِ جاں کو بدن کے بریم سے
ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے
کچھ دیر ہی رکھی ترے نعلین پر نگاہ
باہر نکل نکل پڑیں صدیاں فریم سے
پھر چل پڑے ٹھٹھرتی ہوئی روشنی کے ساتھ
کچھ پہلے گفتگو کی دریائے ٹیم سے
آباد صادقین کی رنگوں بھری زمیں
فرہنگِ تھور سے کہیں آہنگِ سیم سے
بٹوارہ ہو رہا تھا ہواؤں کا پارک میں
یہ اور بات پھول ہی باہر تھے گیم سے
ٹوٹے ہوئے مکان میں کھلتا ہوا گلاب
اک جھوپڑی کی جیسے ملاقات میم سے
اِک خامشی نگار کو روکے کہاں تلک
یہ شور،جائیدادِ سخن کے کلیم سے
منصورہم فقیرہیں ،کرتے نہیں کلام
عورت سے،مال و زر سے،حکومت سے فیم سے
منصور آفاق

اُس س کہہ دو کہ مرے ہجر کو رسوا نہ کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 532
دشت کو ابر نہ دے ، دھوپ پہ سایہ نہ کرے
اُس س کہہ دو کہ مرے ہجر کو رسوا نہ کرے
ایک امید کی کھڑکی سی کھلی رہتی ہے
اپنے کمرے کا کوئی، بلب بجھایا نہ کرے
میں مسافر ہوں کسی روز تو جانا ہے مجھے
کوئی سمجھائے اسے میری تمنا نہ کرے
روز ای میل کرے سرخ اِمج ہونٹوں کے
میں کسی اور ستارے پہ ہوں ، سوچا نہ کرے
حافظہ ایک امانت ہی سہی اس کی مگر
وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے
شب کبھی وصل کی دے وہ تو گھڑی بھر کی ہو
رات ہجراں کی جو آئے تو سویرا نہ کرے
بال بکھرائے ہوئے درد کے خالی گھر میں
یاد کی سرد ہوا شام کو رویا نہ کرے
چھو کے بھی دیکھنا چاہتی ہیں یہ پوریں اس کو
آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے
چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور
میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے
منصور آفاق

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق

مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 530
مجھے شوخ و شنگ لباس میں کوئی دلربا نہ ملا کرے
مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے
بڑی سر پھری سی ہوا چلے کہیں شامِ دشت خیال میں
مرے راکھ راکھ سے جسم کو کوئی ریت پر نہ لکھا کرے
تری کائنات میں قید ہوں بڑے مختصر سے قفس میں ہوں
بڑی سنگ زاد گھٹن سی ہے مجھے کوئی اس سے رہا کرے
مرے ہر گناہ و ثواب کو یہ چھپا لے اپنے لباس میں
بڑی لاج پال ہے تیرگی، کوئی رات کا نہ گلہ کرے
مرا ذکر و فکر ہوا کرے تری بارگاہِ خیال میں
مرے داغِ سجدہ کو چومنے تری جا نماز بچھا کرے
اسے پوچھنا کہ وصال کا کوئی واقعہ بھی عدم میں ہے
وہ جو خامشی کے دیار میں کسی ان سنی کو سنا کرے
ترا وصل آبِ حیات ہے ترے جانتے ہیں محب مگر
ہے طلب درازیِ عمر کی کوئی موت کی نہ دعا کرے
مرے جسم و جاں سے پرے کہیں بڑی دور خانہء لمس سے
کوئی خانقاہی کبوتری کہیں گنبدوں میں رہا کرے
کوئی قم بہ اذنی کہے نہیں کوئی چارہ گر نہ نصیب ہو
مرا اور کوئی خدا نہ ہو ترے بعد جگ میں خدا کرے
منصور آفاق

چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 529
پھر دسترس سے دور ثریا دکھائی دے
چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے
ہیٹر تو بالکونی کا بھی آن ہے مگر
کیوں اتنا سرد گھر کا رویہ دکھائی دے
سرکار نے فقیرکی خیرات لوٹ لی
گرتی کرنسیوں میں روپیہ دکھائی دے
کتنے دنوں سے خواب میں ملاح کے بغیر
دریا میں تیرتی ہوئی نیا دکھائی دے
منبر پہ بوجہل کی ہے اولاد جلوہ گر
منصب پہ خاندانِ امیہ دکھائی دے
دل نے ترے وصال کی ٹھائی ہوئی ہے دوست
جی میں ترے ملن کاتہیہ دکھائی دے
منصور ایک موت کاکوئی نہیں علاج
ہر چیز اس زمیں پہ مہیا دکھائی دے
منصور آفاق

جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 528
حرکت ہر ایک شے کی معطل دکھائی دے
جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے
آتے ہوئے منٹ کی طوالت کا کیا کہوں
گزری ہوئی صدی تو مجھے پل دکھائی دے
پلکوں کے ساتھ ساتھ فلک پر کہیں کہیں
مجھ کو کوئی ستارہ مسلسل دکھائی دے
برسات کی پھوار برہنہ کرے تجھے
تیرے بدن پہ ڈھاکہ کی ململ دکھائی دے
پیچھے زمین ٹوٹ کے کھائی میں گر پڑی
آگے تمام راستہ دلدل دکھائی دے
ہجراں کی رات نرم ملائم کچھ اتنی ہے
مجھ کو ترا خیال بھی بوجھل دکھائی دے
برفاب موسموں میں مرے جسم پر تری
بھیڑوں کی گرم اون کاکمبل دکھائی دے
اُس چشم کے اندھیرے میں سورج کی خیر ہو
دیکھوں جہاں تلک مجھے کاجل دکھائی دے
دیکھا ہے رکھ کے اپنی ہتھیلی پہ کتنی بار
وہ پھول ہر طرف سے مکمل دکھائی دے
نقشِ قدم سے پاک جزیرہ کہیں ملے
منصور ان چھوا کوئی جنگل دکھائی دے
منصور آفاق

کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 527
چیزوں سے گرد جھاڑتے، لان کی باڑ کاٹتے
کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے
پچھلی گلی کی نیند سے آتے طبیب خواب کے
ہجر کی فصد کھولتے، درد کی ناڑ کاٹتے
چلتیں گھڑی کی سوئیاں ، اپنے بدلتے روز و شب
دن کا ملال ٹوٹتا، شب کا بگاڑ کاٹتے
قیدی نظام زر کے ہیں دست بریدہ لوگ ہم
دانتوں سے کیسے لوہے کے بھاری کواڑ کاٹتے
قوسِ قزح بچھا کے ہم کنجِ صبا میں بیٹھ کر
دیدئہ صادقین سے تھور کا جھاڑ کاٹتے
یاد کے راٹ وائلر، ہوتے اگر نہ آس پاس
بھیڑے دشتِ درد کے جسم کو پھاڑ کاٹتے
حسنِ طلب کے شہر میں گنتے بدن کے لوتھڑے
تیغِ سکوتِ مرگ سے من کا کراڑ کاٹتے
بیج نئے وصال کے بوتے کہ ہم سیہ نصیب
کشتِ خرابِ عمر سے پچھلا کباڑ کاٹتے
لاتے کہیں سے ہم کوئی ابرِ حیات کھنچ کر
شاخِ خزاں تراشتے، دکھ کا اجاڑ کاٹتے
آتی تری ہوا اگر اپنی گلی کے موڑ تک
چیت کے صحنِ سبز میں عمر کا ہاڑ کاٹتے؟
اچھے دنوں کو سوچتے دونوں کہیں پہ بیٹھ کر
ہاتھوں کو تھام تھام کے لمبی دیہاڑ کاٹتے
منصور آفاق

کہ مرنا تو ہے محبت میں مر گئے ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 526
کہا جو ہوتا تو جاں سے گزر گئے ہوتے
کہ مرنا تو ہے محبت میں مر گئے ہوتے
کسی شراب کدے نکل کے پچھلی رات
یہ چاہئے تھا ہمیں اپنے گھر گئے ہوتے
اکیلگی نے ہمیں اپنی جوڑ رکھا ہے
سمیٹ لیتا کوئی تو بکھر گئے ہوتے
تُو ایک بار برس پڑتا میری روہی پر
تو سارے پیاس کے تالاب بھر گئے ہوتے
ہمیں زمین نے رکھا گرفت میں منصور
جو پاؤں اٹھتے تو افلاک پر گئے ہوتے
منصور آفاق

جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 525
زیادہ بے لباسی کے سخن اچھے نہیں ہوتے
جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے
کئی اجڑے ورق خوشبو پسِ ملبوس رکھتے ہیں
کئی اچھی کتابوں کے بدن اچھے نہیں ہوتے
کبھی ناموں کے پڑتے ہیں غلط اثرات قسمت پر
کبھی لوگوں کی پیدائش کے سن اچھے نہیں ہوتے
غزالوں کے لیے اپنی زمینیں ٹھیک رہتی ہیں
جو گلیوں میں نکل آئیں ہرن اچھے نہیں ہوتے
محبت کے سفر میں چھوڑ دے تقسیم خوابوں کی
کسی بھی اک بدن کے دو وطن اچھے نہیں ہوتے
بڑی خوش چہرہ خوشبو سے مراسم ٹھیک ہیں لیکن
گلابوں کے بسا اوقات من اچھے نہیں ہوتے
منصور آفاق

جو غلامِ نجف نہیں ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 524
وہ کسی کا ہدف نہیں ہوتے
جو غلامِ نجف نہیں ہوتے
خاک کچھ اور لوگ ہوتے ہیں
میرے جیسے تلف نہیں ہوتے
بس یونہی اعتبار ہوتا ہے
دوستی میں حلف نہیں ہوتے
ان فقیروں کا احترام کرو
جو کسی کی طرف نہیں ہوتے
یہ قطاریں ہیں کیسی مژگاں پر
تارے تو صف بہ صف نہیں ہوتے
اک سمندر ہے قطرۂ جاں میں
ہم صدف در صدف نہیں ہوتے
بات آخر پہنچتی ہے منصور
ایسے جملے حزف نہیں ہوتے
منصور آفاق

لفظ کے در پر جب آئے ہم سادھو چلتے چلتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 523
رک گئے پیر فرید اور وارث باہو چلتے چلتے
لفظ کے در پر جب آئے ہم سادھو چلتے چلتے
یاد تھکن ہے ایک سڑک کی، یاد ہے دکھ کا رستہ
بیٹھ گیا تھا میرے کاندھوں پر تُو چلتے چلتے
تیرا میرا نام بھی شاید لافانی کر جائے
برگد کے مضبوط تنے پر چاقو چلتے چلتے
وار قیامت خیز ہوئے دو دھاری تلواروں کے
رخساروں کو چیر گئے ہیں آنسو چلتے چلتے
ایک محل کے بند کواڑوں سے منصور نکل کر
میرے صحن تلک آئی ہے خوشبو چلتے چلتے
منصور آفاق

دید کو بے وضو نہیں کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 522
زخمِ گریہ رفو نہیں کرتے
دید کو بے وضو نہیں کرتے
کام کرتے ہیں جتنا ہوتا ہے
بے سبب گفتگو نہیں کرتے
ہم روایت شکن عقیدوں کے
طوق زیبِ گلو نہیں کرتے
جنگ کرتے ہیں موت سے لیکن
خودکشی جنگجو نہیں کرتے
اس قدر شہر میں ہے سناٹا
خوف بھی گفتگو نہیں کرتے
اپنے ہوتے ہوئے کبھی منصور
اور کی آرزو نہیں کرتے
منصور آفاق

بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 521
فراق بیچتے کیسے، پلان کیا کرتے
بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے
ہمیں خبر ہی نہ تھی رات کے اترنے کی
سو اپنے کمرے کا ہم بلب آن کیا کرتے
نکل رہی تھی قیامت کی دھوپ ایٹم سے
یہ کنکریٹ بھرے سائبان کیا کرتے
تھلوں کی ریت پہ ٹھہرے ہوئے سفینے پر
ہوا تو تھی ہی نہیں بادبان کیا کرتے
بدن کا روح سے تھا اختلاف لیکن ہم
خیال و واقعہ کے درمیان کیا کرتے
فلک نژاد تھے اور لوٹ کے بھی جانا تھا
زمیں کے کس طرح ہوتے، مکان کیا کرتے
نمازاوڑھ کے رکھتے تھے، حج پہنتے تھے
ترے ملنگ تھے ہم ،دو جہان کیا کرتے
دکانِ دین فروشی پہ بِک رہا تھا تُو
تجھے خریدتے کیسے ، گمان کیا کرتے
نہ ہوتی صبحِ محمدثبوتِ حق کیلئے
تو یہ چراغوں بھرے آسمان کیا کرتے
پھر اس کے بعد بلندی سے کیا ہمیں منصور
مقامِ عرش سے کوئی اڑان کیا کرتے
منصور آفاق

ادھورے گیت سے حاصل دوام کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 520
زمیں سے عرش پہ نازل کلام کیا کرتے
ادھورے گیت سے حاصل دوام کیا کرتے
اُدھر بلاوا تھا اُس کا کہ میں اکیلی ہوں
اِدھر ادھورے تھے دفتر کے کام کیا کرتے
ہر آسماں سے نیا آسماں دکھائی دے
جہاز عرش کا رستہ تمام کیا کرتے
ازل تھا میز پہ جن کی، ابد تھا جیب کے بیچ
حیات و موت کا وہ احترام کیا کرتے
ہوا نے رنگ بکھیرے نہ پھول نے خوشبو
ترے بغیر ادھوری تھی شام کیا کرتے
زمین ہوتی توہم بھی کہیں قدم رکھتے
مقام ہی نہ تھا کوئی، قیام کیا کرتے
ہم اپنی ذات کی سڑکوں کے گم شدہ منصور
وصال و فاصلہ کا اہتمام کیا کرتے
منصور آفاق

رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 519
پانیوں کو منجمد ہوناتھا آخر ہو گئے
رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے
ہر طرف گہری سفیدی بچھ گئی ہے آنکھ میں
ایک جیسے شہر کے سارے مناظر ہو گئے
پھیر دی چونے کی کوچی زندگی کے ہاتھ نے
جو مکاں ہوتے تھے لوگوں کے مقابر ہو گئے
کھڑکیاں جیسے مزاروں پر دئیے جلتے ہوئے
چمنیاں جیسے کئی آسیب ظاہر ہو گئے
بین کرتی عورتوں کی گائیکی لپٹی ہمیں
روح کے ماتم کدے کے ہم مجاور ہو گئے
برف کی رُت سے ہماری سائیکی لپٹی رہی
اک کفن کے تھان میں سپنے بھی شاعر ہو گئے
بے پنہ افسردگی کی ایک ٹھنڈی رات میں
کم ہوئیں منصور آنکھیں خواب وافر ہو گئے
منصور آفاق

زندہ ہوئے کچھ اور اجالے مرنا ورنا بھول گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 518
صبحِ وطن کی کرنوں والے شام سے ڈرنا بھول گئے
زندہ ہوئے کچھ اور اجالے مرنا ورنا بھول گئے
سری نگر کے رستے پر تو موت ابھی تک راج کرے
جہلم کے ماتھے سے دن کے نور ابھرنا بھول گئے
ابھی تو کیرن سے آگے ہر پھول لہو کی خوشبو دے
آب رواں میں قوسِ قزح کے رنگ اترنا بھول گئے
سیبوں جیسے چہروں پر کہساروں کی برفاہٹ ہے
پیر چناسی پر اخروٹ کے پیڑ نکھرنا بھول گئے
اس کی یادیں سوچوں کو بکھرانے والامحشر تھیں
رات ہوئی تودیپ جلا کر طاق میں دھرنا بھول گئے
آنکھ اٹھا کر دیکھنے والی آنکھیں سجدہ ریز ہوئیں
اس کے آگے ہم سے سخنور بات بھی کرنا بھول گئے
موت زدہ کشمیر کا چہرہ پھولوں سا منصور کہاں
ایسی وحشت ناک فضا میں لوگ سنورنا بھول گئے
منصور آفاق

مبارک ہو دو عالم کے امیں تشریف لے آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 517
زمیں پر رحمتہ العالمیں تشریف لے آئے
مبارک ہو دو عالم کے امیں تشریف لے آئے
منائے عیدِ میلاد النبی ہرشے کہ دنیا میں
امامِ اولیں و آخریں تشریف لے آئے
مبارک باد وہ آئے جو حسنِ غیر فانی ہیں
وہی سب سے حسین و دلنشیں تشریف لے آئے
کروڑوں سال پہلے جو چمکتے تھے ستارے میں
وہی نورِ مجسم اے زمیں تشریف لے آئے
درود پاک جس پر بھیجتا ہے خود خدائے پاک
وہی محبوبِ رب المسلمیں تشریف لے آئے
نویدیں جن کی دیتے آئے سارے انبیا ء منصور
وہ آخر کار ختم المرسلیں تشریف لے آئے
منصور آفاق

کچھ بدن پر کپاس اگ آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 516
ننگ کا بھی لباس اگ آئے
کچھ بدن پر کپاس اگ آئے
ہم نفس کیا ہوا سوئمنگ پول
پانیوں میں حواس اگ آئے
آتے جاتے رہو کہ رستے میں
یوں نہ ہو پھر سے گھاس اگ آئے
سوچ کر کیا شجر قطاروں میں
پارک کے آس پاس اگ آئے
گاؤں بوئے نہیں اگر آنسو
شہر میں بھوک پیاس اگ آئے
کوئی ایسی بہار ہو منصور
استخوانوں پہ ماس اگ آئے
منصور آفاق

فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 515
حصارِ جبہ و دستار سے نکل آئے
فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے
دکھائی کیا دیا اک خطِ مستقیم مجھے
کہ دائرے مری پرکار سے نکل آئے
خبر ہو نغمہء گل کو، سکوت کیا شے ہے
کبھی جو رنگ کے بازار سے نکل آئے
پہن لے چھاؤں جو میرے بدن کی تنہائی
تو دھوپ سایہء دیوار سے نکل آئے
اُدھر سے نیم برہنہ بدن کے آتے ہی
امامِ وقت، اِدھر، کار سے نکل آئے
ذرا ہوئی تھی مری دوستی اندھیروں سے
چراغ کتنے ہی اس پار سے نکل آئے
کبھی ہوا بھی نہیں اور ہو بھی ہو سکتا ہے
اچانک آدمی آزار سے نکل آئے
یہ چاہتی ہے حکومت ہزار صدیوں سے
عوام درہم و دینار سے نکل آئے
دبی تھی کوئی خیالوں میں سلطنت منصور
زمین چٹخی تو آثار سے نکل آئے
منصور آفاق

آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 514
ذہن اللہ کا ادراک پہن کر آئے
آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے
لوگ تو ننگ لباسوں میں چھپا کر نکلے
ہم گریباں کے فقط چاک پہن کر آئے
فصلِ گل ہاتھ پہ رکھ کر کوئی تھل سے نکلا
ہم چمن سے خس و خاشاک پہن کر آئے
نور و سایہ کی کثافت سے منزہ تھے مگر
میری دنیا کی طرف خاک پہن کر آئے
ہم عمامہ و قبا روند کے باہر نکلے
شیخ دستاروں کے پیچاک پہن کر آئے
کیا ڈبوئے گی اسے موجۂ وحشت منصور
چشمِ گرداب جو پیراک پہن کر آئے
منصور آفاق

یہ اور بات فوج ہے گھیرا لیے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 513
وہ چوک میں کھڑا ہے پھریرا لیے ہوئے
یہ اور بات فوج ہے گھیرا لیے ہوئے
آنکھیں کہ رتجگوں کے سفر پر نکل پڑیں
اک دلنواز خواب سا تیرا لیے ہوئے
اللہ کے سپرد ہے خانہ بدوش دوست
وہ اونٹ جا رہے ہیں "بسیرا ” لیے ہوئے
اندر کا حبس دیکھ کے سوچا ہے بار بار
مدت ہوئی ہے شہر کا پھیرا لیے ہوئے
چلتے رہے ہیں ظلم کی راتوں کے ساتھ ساتھ
آنکھوں میں مصلحت کا اندھیرا لیے ہوئے
رہنا نہیں ہے ٹھیک کناروں کے آس پاس
پھرتا ہے اپنا جال مچھیرا لیے ہوئے
گردن تک آ گئے ہیں ترے انتظار کے
لمبے سے ہاتھ، جسم چھریرا لیے ہوئے
لوگوں نے ڈھانپ ڈھانپ لیا درز درز کو
منصور پھر رہا تھا سویرا لیے ہوئے
منصور آفاق

اور ہم مغرور مجنوں اپنے گھر بوڑھے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 512
دستکوں کی آس پر لکڑی کے در بوڑھے ہوئے
اور ہم مغرور مجنوں اپنے گھر بوڑھے ہوئے
یہ الگ ہے گھٹ گئی فصلِ ثمر باری مگر
بڑھ گئی کچھ اور چھاؤں جب شجر بوڑھے ہوئے
جس کی تزئین کے لیے اپنی جوانی صرف کی
دوست ہم اس شہر کے فٹ پاتھ پر بوڑھے ہوئے
صبح کی تجسیم کرنا غیر ممکن ہو گیا
رات کو جو کاٹتے تھے کاریگر بوڑھے ہوئے
مصلحت سازوں کی بستی برگزیدہ ہو گئی
گردنوں پر رکھے رکھے مردہ سر بوڑھے ہوئے
رو پڑی منصور دریا کے گلے لگ کر ہوا
جب کسی ساحل پہ مرغابی کے پر بوڑھے ہوئے
منصور آفاق

رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 511
جا نہیں سکتے کہیں ظلمات کے مارے ہوئے
رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے
رات کے پچھلی گلی میں ایک میں اور ایک چاند
جاگتے پھرے ہیں دو حالات کے مارے ہوئے
دیدۂ شب میں پہن کر بارشوں کے پیرہن
پھر رہے ہیں موسمِ برسات کے مارے ہوئے
لوگ تھے اور فیض جاری تھی کسی درگاہ پر
لوٹ آئے ہم شعورِ ذات کے مارے ہوئے
ہم بھارت اور پاکستان کے منصور لوگ
دونوں کشمیری علاقہ جات کے مارے ہوئے
منصور آفاق

کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 510
یہ بے ضمیر قوم و وطن بیچتے ہوئے
کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے
کچھ دیکھتے کہاں ہیں یہ سوداگرانِ خاک
دریا، پرند، برگ و سمن بیچتے ہوئے
گنتے ہیں غیر ملکی کرنسی کے صرف نوٹ
حکام بیٹیوں کے بدن بیچتے ہوئے
خوش ہیں امیر شہر محلات میں بہت
ابلیس کو دیارِ عدن بیچتے ہوئے
اس عہدِ زر پرست کی آواز بن گئے
اپنے قلم کو اہلِ سخن بیچتے ہوئے
ہیں اہتمامِ رقصِ طوائف میں منہمک
منصور باغبان چمن بیچتے ہوئے
منصور آفاق

ملا تھا خود سے میں بادِ صبا پہ چلتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 509
کنارِ چشمۂ حمد و ثنا پہ چلتے ہوئے
ملا تھا خود سے میں بادِ صبا پہ چلتے ہوئے
عدالتِ لب و رخ کا ملا طلب نامہ
کہ لڑکھڑا گیا نقشِ وفا پہ چلتے ہوئے
کوئی ستارہ بھی تیری خبر نہیں دیتا
میں تھک گیا ہوں فصیلِ سما پہ چلتے ہوئے
تمام راستے مسدود تھے رسائی کے
کوئی پہنچ گیا دستِ دعا پہ چلتے ہوئے
مری نگاہ میں قطبین ہی سہی لیکن
گرائی برف خطِ استوا پہ چلتے ہوئے
گرا ہوا بھی چمکتا تھا جھیل میں منصور
میں ماہتاب تھا راہ فنا پہ چلتے ہوئے
منصور آفاق

رہا نہیں میں ، تجھے اختیار کرتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 508
یہ اپنا آپ مسلسل نثار کرتے ہوئے
رہا نہیں میں ، تجھے اختیار کرتے ہوئے
ازل نژاد نظر اور اب کہاں جائے
ابد گزار دیا انتظار کرتے ہوئے
وہ جانتا ہے مقابل ہے آئینہ اس کے
ہزار بار وہ سوچے گا وار کرتے ہوئے
چراغ بھول گئی بام پر وہ آنکھوں کے
شبِ فراق! تجھے بے کنار کرتے ہوئے
گزر گیا مرے کوچے سے وہ مثالِ صبح
اک ایک آئینہ تمثال دار کرتے ہوئے
میں کانپ جاتا ہوں اس پر یقین اتنا تھا
کسی بھی شخص پہ اب اعتبار کرتے ہوئے
لبِ فرات پہ ہار آئی آلِ ابراہیم
فلک ولک پہ زمیں انحصار کرتے ہوئے
ہر ایک بار ترے بارے سوچتا ہوں میں
تعلقات کہیں استوار کرتے ہوئے
بیاض اپنی اسے دے دی میں نے تحفے میں
یہی کلام کیا اختصار کرتے ہوئے
یہ شہرِ دل کا لٹیرا بھی لٹ گیا منصور
شکار ہو گیا آخر شکار کرتے ہوئے
منصور آفاق

موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 507
کشف کے قہر میں ہم برہنہ ہوئے
موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے
رنگ گرتے رہے رقصِ مجذوب پر
نور کی نہر میں ہم برہنہ ہوئے
دیکھنے والا کوئی دکھائی نہ دے
اس لئے شہر میں ہم برہنہ ہوئے
واعظِ سگ بیاں سے نکلتی ہوئی
جھاگ کے زہر میں ہم برہنہ ہوئے
اک ابھی خاک سے شخص ڈھانپا گیا
اور پھر دہر میں ہم برہنہ ہوئے
اسم اللہ کا بس تصور کیا
پھر اُسی سحر میں ہم برہنہ ہوئے
ایک چہرہ اچانک گریزاں ہوا
غم کی دوپہر میں ہم برہنہ ہوئے
اور کیا کہتے منصور طوفان سے
شورشِ بحر میں ہم برہنہ ہوئے
منصور آفاق

دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 506
صدیوں کے آسیب زدہ دیوار ودر آباد ہوئے
دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے
دریا تیرے ساحل تو جاگیر ہیں تیری گاؤں کا کیا
گاؤں ادھر برباد ہوئے تو گاؤں ادھر آباد ہوئے
خواب سنانے والوں کا اب دیس میں رہنا جرم ہوا
سات سمندر پار کہیں جا شہر بدر آباد ہوئے
شام کی بھیگی نرم ہوا نے لہروں سے سرگوشی کی
اور پرندوں کے کچھ جوڑے ساحل پر آباد ہوئے
جب بھی اپنے گاؤں گئے ہم ، بند مکاں کا دروازہ
پوری تیس برس تک دیکھا آخر گھر آباد ہوئے
عمر گزاری جا سکتی تھی خاک نگر منصور مگر
عرش پہ ہونگے ہم آوارہ گرد اگر آباد ہوئے
منصور آفاق

کچھ تو کہیے آپ کے ہم کیا ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 505
محرم دل، غیر محرم کیا ہوئے
کچھ تو کہیے آپ کے ہم کیا ہوئے
کیا ہوئے وہ بانسری کے نرم سُر
وہ کنارِ آب شیشم کیا ہوئے
کس گلی میں رک گیا سچ کا جلوس
سرپھروں کے اونچے پرچم کیا ہوئے
رک گیا دل ، تھم گئی نبضِ حیات
وقت کے سنگیت مدہم کیا ہوئے
گاؤں کے چھتنار پیڑوں کے تلے
وہ جوتھے سوچوں کے سنگم کیا ہوئے
خوبرو تھی جو محبت کیا ہوئی
وہ ہمارے دلرباغم کیا ہوئے
کیا ہوا آہنگ بہتی نظم کا
لفظ جو ہوتے تھے محکم کیا ہوئے
سنگ باری کی رتیں کیوں آگئیں
قربتوں کے سرخ ریشم کیا ہوئے
کیا ہوئی منصوررنگوں کی بہار
شوخ دوپٹوں کے موسم کیا ہوئے
منصور آفاق

عرصہ گزر گیا ہے کسی سے ملے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 504
شاخِ بدن پہ کوئی تعلق کھلے ہوئے
عرصہ گزر گیا ہے کسی سے ملے ہوئے
میں کیا کروں کہ مجلسِ دل میں تمام رات
تیری شکایتیں ہوئیں تیرے گلے ہوئے
میں نے مقامِ طور پہ دیکھا خود اپنا نور
صبحِ شعورِ ذات کے کچھ سلسلے ہوئے
پہلے ہی کم تھیں قیس پہ صحرا کی وسعتیں
ہجراں کے مدرسے میں نئے داخلے ہوئے
منصور دو دلوں کی قرابت کے باوجود
اپنے گھروں کے بیچ بڑے فاصلے ہوئے
منصور آفاق

صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 503
شب گزار آئے گلیوں میں روتے ہوئے
صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے
ہم نے دریا کا پانی بھی کالا کیا
دکھ کے کپڑے کناروں پہ دھوتے ہوئے
چاپ مانوس سی،صحنِ دل میں اٹھی
غم نکل آئے کمروں میں سوتے ہوئے
ہم نے ہر ایک کانٹے کا دکھ سن لیا
پاؤں کے آبلوں میں چبھوتے ہوئے
ہم نے دیکھا تھا کتنی جگہ ہے ابھی
تیراغم اپنے دل میں سموتے ہوئے
اب یہ دنیا بچوں کے حوالے کریں
بیج سچ کے دماغوں میں بوتے ہوئے
رفتہ رفتہ کیا راکھ بینائی کو
اپنی پلکوں میں سورج پروتے ہوئے
اپنی شادی شدہ زندگی کی قسم
جیسے کولہو میں دو بیل جوتے ہوئے
خالی فائر گیا اُس نظر کا مگر
جو اڑے میرے ہاتھوں کے طوتے ہوئے
ہم نے منصور مانگا ہے اذنِ کلام
آسماں کو دعا سے بھگوتے ہوئے
منصور آفاق

اس شہر یک مثال میں کچھ مختلف ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 502
داتا ترے کمال کے ہم معترف ہوئے
اس شہر یک مثال میں کچھ مختلف ہوئے
آنکھوں کا چار سو ہے تماشا لگا ہوا
کیا مجھ میں آئینے کے سخن متصف ہوئے
تسخیرِکائنات کی تکمیل کیلئے
ہم لوگ اپنی ذہن میں خود معتکف ہوئے
آخر بس ایک ذات کو تسلیم کرلیا
پہلے ہر ایک شے مگر منحرف ہوئے
منصور لاشعور کی سر بند بوتلیں
پھر کھل گئیں کہ خود پہ ہمی منکشف ہوئے
منصور آفاق

ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 501
دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے
ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے
سارے نکل پڑے تھے اسی کے حساب میں
بچوں کی طرح رو پڑی دکھ تولتے ہوئے
میں کیا کروں کہ آنکھیں اسے بھولتی نہیں
دل تو سنبھل گیا ہے مرا ڈولتے ہوئے
کہنے لگی ہے آنکھ میں پھر مجھ کو شب بخیر
پانی میں شام اپنی شفق گھولتے ہوئے
کنکر سمیٹ لائے ہمیشہ مرا نصیب
منصور موتیوں کو یونہی رولتے ہوئے
منصور آفاق

میں تھک گیا ہوں تجھ کو خدا مانتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 500
یہ کائناتِ روح و بدن چھانتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں تجھ کو خدا مانتے ہوئے
اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھے
صدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے
پھرتا ہوں لے کے آنکھ میں ذرے کی وسعتیں
صحرا سمٹ گئے ہیں مجھے چھانتے ہوئے
برکھا کے شامیانے سے باہر ندی کے پاس
اچھا لگا ہے دھوپ مجھے تانتے ہوئے
یہ بھول ہی گیا کوئی میرا بھی نام تھا
ہر وقت نام یار کا گردانتے ہوئے
اس کے کمالِ ضبط کی منصور خیر ہو
صرفِ نظر کیا مجھے پہچانتے ہوئے
منصور آفاق

جان دی خالی شکم کی سربلندی کیلئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 499
زخم دل کی ،چشم نم کی سر بلندی کیلئے
جان دی خالی شکم کی سربلندی کیلئے
جاں ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں تیرے سرفروش
دہر میں تیرے علم کی سر بلندی کیلئے
ہم چلے شہرِ شہادت کی طرف ہنستے ہوئے
روشنی کے ہر قدم کی سربلندی کیلئے
لکھ رہے ہیں روشنی لوحِ افق پر خون سے
ہم ترے علم و قلم کی سربلندی کیلئے
نیل سے اقبال اب بھی تابخاکِ کاشغر
جمع ہیں مسلم ،حرم کی سر بلندی کیلئے
عمر بھر منصور ٹکراتے رہے ہیں کفر سے
تیرے اسمِ محترم کی سر بلندی کیلئے
منصور آفاق

وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 498
ہر لمحہ تازہ قتل کا امکان کس لئے
وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے
میں سوچتا ہوں دیکھ کے اڑتے ہوئے پرند
لایا ہوں ہفتہ بھر کا یہ سامان کس لئے
شاخیں لدی ہوئی ہیں گلابوں سے غیر کی
خالی ہے میری ذات کا گلدان کس لئے
جنت نما ہیں اہل ستم کی ریاستیں
اپنے دیارِ زندگی ویران، کس لئے
رائج جہاں میں کیوں ہوئی جنگل کی شہریت
کچھ بھیڑیاصفت ہوئے سلطان کس لئے
کیا جانوں کس نے پیٹھ لگائی تھی اس کے ساتھ
پھیلا ہوا پیڑ میں سرطان کس لئے
آخر کہاں گئی ہیں وہ کرنیں وہ گرم دھوپ
ویراں پڑا ہوا ہے یہ دالان کس لئے
آسیب پھر رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ
ہونے لگا ہے روزہی نقصان کس لئے
جاتے نہیں ہیں لوٹ کے اپنے ستاروں پر
منصور کائنات کے مہمان کس لئے
منصور آفاق

کسی پٹرول اسٹیشن کو جیسے آگ لگ جائے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 497
کسی کے صرف چھولینے سے ا یسے آگ لگ جائے
کسی پٹرول اسٹیشن کو جیسے آگ لگ جائے
کسی بیلے میں اشکوں کے دئیے تک بھی نہ روشن ہوں
کہیں پر بانسری کی صرف لے سے آگ لگ جائے
ہواؤں کے بدن میں سرخ موسم کے سلگنے سے
گلابو ں کے لبوں کی تازہ مے سے آگ لگ جائے
کبھی جلتے ہوئے چولہے میں جم جائے بدن کی برف
کبھی بہتے ہوئے پانی میں ویسے آگ لگ جائے
کسی کے بھیگنے سے کس طرح جلتی ہیں برساتیں
کسی کے چلنے سے رستے میں کیسے آگ لگ جائے
منصور آفاق

جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 496
یہ کیا کہ ہجر کا موسم کرے دراز وہی
جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی
جسے فراق کی راتیں گزار لیتی ہیں
وصالِ صبح سے ہوتا ہے سرفراز وہی
میں چھوڑآیاتھا جس کوکسی کے چہرے میں
دکھارہا ہے کوئی چشمِ بدلحاظ وہی
میں جانتا ہوں اب ہارنا ضروری ہے
میں مانتا ہوں کہ ہے جنگ کا محاذوہی
جسے پسندنہیں تھی اداس رت کی غزل
سرھانے رکھتی اب کیوں مری بیاض وہی
وہی خیال کی مسجد وہی حریمِ حرم
مرا وضو وہی ، سجدہ وہی ، نماز وہی
جسے ملی تیرے رخسار و لب کی گیرائی
ہوا خدائی سے منصور بے نیاز وہی
منصور آفاق

اچھی لگتی ہے ندی دیدہ ء پرنم کی یونہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 495
بانسری بانس کے جنگل سے سنوں غم کی یونہی
اچھی لگتی ہے ندی دیدہ ء پرنم کی یونہی
کوئی امکان بظاہر تو بچھڑنے کا نہیں
یاد آئی ہے مجھے ہجر کے موسم کی یونہی
دشت کی دھوپ کوئی چیز نہیں میرے غزال
گفتگو تجھ سے ہوئی سایہ ء شیشم کی یونہی
میں نے جانا نہیں برفاب تہوں میں اس کی
بات سنتا ہوں میں بہتے ہوئے جہلم کی یونہی
برف گرتی ہے تو آتی ہے نظر خوابوں میں
اک پری زاد مجھے وادی ء نیلم کی یونہی
صبر کرتا رہا قربان حسین ابن علی
ظلم کہتا رہا حرمت ہے محرم کی یونہی
مجھ کو معلوم نہیں کون کہاں روتا ہے
بات کی سبزہ پہ بکھری ہوئی شبنم کی یونہی
اک موبائل سے بنا لینے دو تصویر مجھے
پہنے رکھو ذرا پوشاک یہ ریشم کی یونہی
ذکر ہوتا رہے لیلائے وطن کا منصور
آگ جلتی رہے بس نوحۂ ماتم کی یونہی
منصور آفاق

اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 494
ہر قدم پر کوچہ ء جاناں میں گو مشکل رہی
اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی
ایک اک گنتا رہا ضربِ مسلسل ایک اک
دل کی دھڑکن کپکپاتی یاد میں شامل رہی
اک طرف کتنے مسافر راستے میں رہ گئے
اک طرف پائے طلب کی منتظر منزل رہی
آخری الہام کی پہلی کرن سے پیشتر
چارہ گر آتے رہے بیچارگی بسمل رہی
یہ بنامِ امن جنگیں یہ ہلاکت خیز خیر
زندگی تہذیب کی دہلیز پر گھائل رہی
خشک پتے کی طرح اڑنا مجھے اچھا لگا
سچ یہی ہے عمر کا آوارگی حاصل رہی
ڈوبنے سے جو بچالیتی ہے اپنی زندگی
بس وہی کشتی سمندر کا سدا ساحل رہی
تنگ کرتی جا رہی ہے بس یہی الجھن مجھے
کوئی شے تھی پاس میرے جونہیں اب مل رہی
پھر کوئی منصور خوشبو ملنے والی ہے مجھے
ان دنوں باغیچے میں پھرہے چنبلی کھل رہی
منصور آفاق

میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 493
عشق میں مبتلا ہوں ویسے ہی
میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی
آج میرا بہت برا دن تھا
یار سے لڑ پڑا ہوں ویسے ہی
اس لیے آنکھ میں تھکاوٹ ہے
ہر طرف دیکھتا ہوں ویسے ہی
بارشِ سنگ ہوتی رہتی ہے
آسماں لیپتا ہوں ویسے ہی
مجھ کو لا حاصلی میں رہنا ہے
میں تجھے سوچتا ہوں ویسے ہی
ایک رہرو سے پوچھتے کیا ہو
اک ذرا رک گیا ہوں ویسے ہی
پھول یوں ہی یہ پاس ہیں میرے
راستے میں کھڑا ہوں ویسے ہی
تُو بہت خوبرو سہی لیکن
میں تجھے مل رہا ہوں ویسے ہی
وہ کبھی پوچھنے نہیں آیا
آسماں سے جڑا ہوں ویسے ہی
مجھ کو جانا نہیں کہیں منصور
تار پر چل رہا ہوں ویسے ہی
منصور آفاق

کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 492
چراغ ہو گیا بدنام کچھ زیادہ ہی
کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی
ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے
کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی
میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے
مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی
ملال گن لئے ہیں ، درد کر لئے ہیں شمار
فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی
تمام عمر کی آوارگی بجا لیکن
لگا ہے عشق کا الزام کچھ زیادہ ہی
بس ایک رات سے کیسے تھکن اترتی ہے
بدن کو چاہیے آرام کچھ زیادہ ہی
سنبھال اپنی بہکتی ہوئی زباں منصور
تُو لے رہا ہے کوئی نام کچھ زیادہ ہی
منصور آفاق

یعنی ہمیں تلاش تمہاری گلی کی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 491
پائے طلب کو جستجو آسودگی کی تھی
یعنی ہمیں تلاش تمہاری گلی کی تھی
یہ سرفرازیوں کی کہانی عجیب ہے
جو اپنے پاؤں میں ہے یہ منزل کسی کی تھی
برسی گھٹائے فیض رساں جیسے آج ہے
ویسی امید آپ سے دریا دلی کی تھی
بے رحم باسیوں نے ٹھہرنے نہیں دیا
اُس شہر سے تمنا کہاں واپسی کی تھی
کوئی خبر لا آتے دنوں کی غیاب سے
یہ ساری داستان تو گزری ہوئی کی تھی
ابھری جبینِ شیخ پہ کیوں غیظ کی شکن
منصور کے لبوں پہ صدا یانبی کی تھی
منصور آفاق

میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 490
ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی
میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی
سایہ ء ابرِ رواں ساتھ کہاں تک چلتا
میں مسافر تھا مسافت تو کڑی ہونی تھی
موت کی سالگرہ آج منانی تھی مجھے
آج تو دس تھی محرم کی جھڑی ہونی تھی
صبحِ تقریب! ذرا دیر ہوئی ہے ورنہ
یہ گھڑی اپنے تعارف کی گھڑی ہونی تھی
بورڈ پر سرخ سا اک پن بھی لگا ہونا تھا
اور اس میں کوئی تتلی بھی گڑی ہونی تھی
اور کیا ہونا تھا دروازے سے باہر منصور
دن رکھا ہونا تھا یا رات پڑی ہونی تھی
منصور آفاق

نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 489
قیامت خیز طوفانوں سے لڑ جانے کی جلدی تھی
نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو ہم ملے ہی تھے ابھی تو گل کھلے ہی تھے
تجھے کیا اس قدر جاناں بچھڑ جانے کی جلدی تھی
نئی رُت سے بہت پہلے فقظ تُو ہی نہیں بدلی
یہاں پر تو درختوں کو بھی جھڑ جانے کی جلدی تھی
مجھے تو ہجر میں رہنے کی عادت تھی مگر جاناں
تجھے بھی ایسا لگتا ہے اجڑ جانے کی جلدی تھی
بجا ہے ہاتھ کو میرے تمنا تیری تھی لیکن
ترے دامن کو بھی شاید ادھڑ جانے کی جلدی تھی
فقط دوچار لمحوں میں سمت آئی ہتھیلی پر
زمیں کے وسعتوں کو بھی سکڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو اس نے بدلا تھا لباسِ جسم ہی منصور
مری قسمت کو بھی کتنی بگڑ جانے کی جلدی تھی
منصور آفاق

جانے کیوں میری بے گناہی کی پھر بھی بستی گواہی دیتی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 488
ساری پوشاک خون سے تر تھی، دور سے بھی دکھائی دیتی تھی
جانے کیوں میری بے گناہی کی پھر بھی بستی گواہی دیتی تھی
دن نکلتے ہی بجنے لگتا تھا ایک ڈھولک کا کیروا مجھ میں
رات بھر وائلن کے ہونٹوں سے بھیرویں سی سنائی دیتی تھی
ایک ہوتی تھی تجھ سی شہزادی ا لف لیلیٰ کی داستانوں میں
جو گرفتاریوں کے موسم میں قیدیوں کو رہائی دیتی تھی
ایک امید مجھ میں ہوتی تھی، خواب بوتی تھی پھول کھلتے تھے
تیلیاں توڑتی قفس کی تھی آسماں تک رسائی دیتی تھی
کیا کہوں کھو گئی کہاں مجھ سے شام ہوتے ہی جو بڑے دل سے
موتیے کے سفید گجروں کو اپنی نازک کلائی دیتی تھی
ایک کیفیتِ عدم جس میں جنتِ خواب کے خزانے تھے
روح کل کی شراب سے بھر کر وہ بدن کی صراحی دیتی تھی
ایک ٹوٹے ہوئے کوارٹر میں وہ تمنا بھی مر گئی آخر
وہ جو منصور کے تخیل کو شوقِ عالم پناہی دیتی تھی
منصور آفاق

آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 487
سونی سونی پورٹ کی جھلمل چھوڑ گئی تھی
آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی
فلم کا ہیرو دیکھ کے بھولی بھالی لڑکی
سینما ہال کی کرسی پر دل چھوڑ گئی تھی
شاید ملک سے باہر ننگ زیادہ تھا کچھ
مزدوروں کو کپڑے کی مل چھوڑ گئی تھی
اس نے میرے ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ
جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی
میں نے اپنے جسم سے پردہ کھنچ لیا تھا
اور مجھے پھر ساری محفل چھوڑ گئی تھی
منصور آفاق

میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 486
خون سے اتنی سنورتی تو نہ تھی
میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی
چاند کھڑکی سے نکل آتا تھا
رات سیڑھی سے اترتی تو نہ تھی
موج ٹکراتی تھی ساحل سے مگر
ایسے سینے سے ابھرتی تو نہ تھی
یہ درِ یار پہ کیسا تھاہجوم
نئے عشاق کی بھرتی تو نہ تھی
لوگ کہتے ہیں محبت پہلے
اتنی آسانی سے مرتی تو نہ تھی
منصور آفاق

کمرے میں اندھیرا تھا روشنی سڑک پر تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 485
کھڑکیوں کے شیشوں سے دیکھتی سڑک پر تھی
کمرے میں اندھیرا تھا روشنی سڑک پر تھی
قمقموں کی آنکھیں تھیں جھلملاتی کاروں میں
قہقہے تھے پیڑوں پر اک ہنسی سڑک پر تھی
سائرن بجاتی تھیں گاڑیاں قطاروں میں
فائروں کی گونجیں تھیں سنسنی سڑک پر تھی
آتے جاتے لوگوں پر موسمِ بہارا ں تھا
منتظر پرندوں کی ،ٹاہلی سڑک پر تھی
روڈ پر سپاہی بھی پھینکتے تھے آنسو گیس
احتجاجی ریلی بھی ناچتی سڑک پر تھی
سرخ سے اشارے پر چیختے سلنسر تھے
اور دھواں کے پہلو میں دھول بھی سڑک پر تھی
ہیرہ منڈی جانا تھا کچھ عرب سفیروں نے
کس قدر ٹریفک اُس اک رکی سڑک پر تھی
جمع ایک دنیا تھی دیکھتی تھی کیا منصور
ایک چھوٹی سی بچی گر پڑی سڑک پر تھی
منصور آفاق

ندی کو کچھ پرانے کوہساروں سے شکایت تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 484
خموشی سے گلہ تھا اور قراروں سے شکایت تھی
ندی کو کچھ پرانے کوہساروں سے شکایت تھی
کہاں بادِ خزاں کی بادشاہی جانے والی ہے
یونہی گلزاروں کو آتی بہاروں سے شکایت تھی
لہو برسا دیا ہے مسجدِ اقصیٰ کے سجدوں پر
جنہیں آزاد جیون کی پکاروں سے شکایت تھی
کوئی قاتل بلایاہے شبِ غم کے مغنی نے
اسے تیور سروں کی بجتی تاروں سے شکایت تھی
ہمیں توکربلا کے ریگ زاروں سے شکایت ہے
ہمیں توکربلا کے ریگ زاروں سے شکایت تھی
ابھی تک اشہبِ دوراں کی خالی پیٹھ ہے منصور
گذشتہ کو بھی مشرق کے سواروں سے شکایت تھی
منصور آفاق

مجھ سے موسیٰ کو ملاقات کی خواہش کیا تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 483
ایک ٹوٹی ہوئی مسجد میں رہائش کیا تھی
مجھ سے موسیٰ کو ملاقات کی خواہش کیا تھی
شامیانوں سے نگر ڈھانپ رہی تھی دنیا
حاکمِ شہر کی جادو بھری بارش کیا تھی
اپنے خالق کی بھی تفہیم وہ رکھ سکتا تھا
مجھ سے مت پوچھ کہ روبوٹ کی دانش کیا تھی
ناچتی پھرتی تھی اک نیم برہنہ ماڈل
خالی بوتیک تھا کپڑوں کی نمائش کیا تھی
جل گئی تھی مری آغوش گلوں سے منصور
رات وہ بوسۂ سرگرم کی سازش کیا تھی
منصور آفاق

ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 482
اک شخص نے ہونٹوں سے کوئی نظم کہی تھی
ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی
میں انگلیاں بالوں میں یونہی پھیر رہا تھا
وہ کمرے کی کھڑکی سے مجھے دیکھ رہی تھی
اس شخص کے گھر وہی حالت تھی مگر اب
بِڈ روم کی دیوار پہ تصور نئی تھی
آئی ہے پلٹ کر کئی صدیوں کے سفر سے
اس گیٹ کے اندر جو ابھی کار گئی تھی
موسم کے تغیر نے لکھا مرثیہ اس کا
منصور ندی مل کے جو دریا سے بہی تھی
منصور آفاق

شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 481
روشنی سائے میں کھڑی ہے ابھی
شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی
دیکھنا ہے اسے مگر اپنی
آنکھ دیوار میں گڑی ہے ابھی
آسماں بھی مرا مخالف ہے
ایک مشکل بہت بڑی ہے ابھی
ایک بجھتے ہوئے تعلق میں
شام کی آخری گھڑی ہے ابھی
ہم سے مایوس آسماں کیا ہو
موتیوں سے زمیں جڑی ہے ابھی
ایک ٹوٹے ہوئے ستارے کی
میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے ابھی
موسمِ گل ہے میرے گلشن میں
شاخ پر ایک پنکھڑی ہے ابھی
وہ کھلی ہے گلاب کی کونپل
میری قسمت کہاں سڑی ہے ابھی
سایہء زلف کی تمازت ہے
رات کی دوپہر کڑی ہے ابھی
اس میں بچپن سے رہ رہا ہوں میں
آنکھ جس خواب سے لڑی ہے ابھی
میں کھڑا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں
ایک دیمک زدہ چھڑی ہے ابھی
آگ دہکا نصیب میں منصور
برف خاصی گری پڑی ہے ابھی
منصور آفاق

بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 480
پہنچنے والی ہے انگریز کی گرانٹ ابھی
بچا جو دیس میں تھوڑا بہت ہے بانٹ ابھی
میں تیری فونڈری بیچوں گا وقت آنے پر
تُو میرے بیج دے اسٹیل کے پلانٹ ابھی
تجھے کلاس کے کچھ چور مل بھی سکتے ہیں
فریب کار بہت ہیں کچھ اور چھانٹ ابھی
او بادشاہِ ٹھگاں ! میں ترا مخالف ہوں
اکھیڑ نی ہے جومیری اکھیڑ جھانٹ ابھی
امیرِ شہر نے امپوٹ کھالیں کردی ہیں
غریبِ شہروہی اپنے جوتے گانٹھ ابھی
نئے چراغ جلا صبح کیلئے منصور
ہے تیرے ملک پہ قابض وہی خرانٹ ابھی
منصور آفاق

تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 479
ابھی پرکھ اسے کچھ دن، ہوا کو جانچ ابھی
تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی
او دل کو توڑنے والی ذرا خیال سے چل
چٹخ رہا ہے مری کرچیوں کا کانچ ابھی
جنہیں وسیلہ بناتا ہوں میں یقین کے ساتھ
ہیں مہربان مری ذات پر وہ پانچ ابھی
وہاں سے دور مرے زاویے کی اونچائی
جہاں نصیب کی جاری ہے کھینچ کھانچ ابھی
سجا کے ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے افسانے
اٹھائے پھرتی ہے تہذیب اپنا خوانچ ابھی
خراب سمت نما نے کنارے چھین لیے
بھٹک رہی ہے سمندر میں اپنی لانچ ابھی
مرے غزال یہ منظر سمیٹ لینے دے
نہ بھر زقند ابھی تُو، نہ بھر قلانچ ابھی
بڑے سکون سے بستی میں لوگ رہتے تھے
کھلی نہیں تھی کسی بنک کی برانچ ابھی
نئی غزل کا زمانہ ابھی نہیں آیا
ڈھا رہے ہیں پرانی غزل کا ڈھانچ ابھی
کسی کا وصل مکمل نہ کر سکا منصور
ادھوری ہے مرے جلتے بدن کی سانچ ابھی
منصور آفاق

کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 478
مری طرح سے کیا ہے فراڈ اُس نے بھی
کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی ضد ہے مسیحا کے دل میں رہنے کی
تہی رکھا ہے مریضوں سے واڈ اُس نے بھی
پہن لی جسم پہ میں نے بھی کھال چیتے کی
سیاہ فام رکھا باڈی گاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی شوق ہے نخروں کا چانج کرنے کا
ہزار دیکھے ہیں بچپن میں لاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی بیچنا آزادی کا مجسمہ ہے
فروخت کرنا ہے لینن گراڈ اُس نے بھی
نکل گیا تھا بڑھا کے سپیڈ میں جس پر
خرید لی وہی ہنڈا اکاڈ اُس نے بھی
گھری تھی غنڈوں میں رضیہ وہاں مگر منصور
بس اندھا دھند گھمائی تھی راڈ اُس نے بھی
منصور آفاق

مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 477
قریب ہونے کے رستے تلاشے اُس نے بھی
مری طرح سے اٹھائے بتاشے اُس نے بھی
مجھے بھی اپنی وجاہت کے زعم نے روکا
تمام رات بہانے تراشے اُس نے بھی
مری بھی پیٹھ پہ رکھی ہے حسرتوں کی صلیب
اٹھائے اپنی تمنا کے لاشے اُس نے بھی
سناہے میری طرح رات رات دیکھے ہیں
شکست و ریخت کے وحشی تماشے اُس نے بھی
اگرچہ عشق ہے مجرم مگر بنائے ہیں
دیارِ ہجرکے اجڑے مہاشے اُس نے بھی
حساب درد کا جس رات کر رہا تھا میں
شماراپنے کئے تولے ماشے اُس نے بھی
نکل سکی نہ اداسی مزاج سے میرے
اگرچہ خواب ہشاشے بشاشے اُس نے بھی
پلٹ کے دشت سے آئی نہ میری تنہائی
نگاہِ ناز کے ریشم فراشے اُس نے بھی
میں خوش دماغوں کی بستی کو ساتھ لایا تھا
بلا رکھے تھے کئی خوش معاشے اُس نے بھی
مجھے بھی چیخ سنائی دی لمس کی منصور
خیال میں مرے شانے خراشے اُس نے بھی
منصور آفاق

میں وہاں سو رہا تھا ویسے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 476
میں نے کیا دیکھنا تھا ویسے بھی
میں وہاں سو رہا تھا ویسے بھی
اس کی آنکھیں بدلنے والی تھیں
اور میں بے وفا تھا ویسے بھی
اس نے مجھ کو پڑھانا چھوڑ دیا
میں بڑا ہو گیا تھا ویسے بھی
کچھ مزاج آشنا نہ تھی دنیا
کچھ تعلق نیا تھا ویسے بھی
کچھ ضروری نہیں تھے درد و الم
میں اسے پوجتا تھا ویسے بھی
چاند شامل ہوا صفِ شب میں
دن اکیلا کھڑا تھا ویسے بھی
ذکر چل نکلا خوبروئی کا
یاد وہ آ رہا تھا ویسے بھی
میں اکیلا کبھی نہیں سویا
میں نے اس کو کہا تھا ویسے بھی
اس نے چاہا نہیں مجھے منصور
میں کسی اور کا تھا ویسے بھی
منصور آفاق

اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 475
کسی کے ساتھ چلا آیا اختتام پہ بھی
اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی
اثر پذیری کے قصے میں کتنی باتیں ہیں
کلام پہ بھی ہے موقوف ہم کلام پہ بھی
دورد آیتِ الہام پہ کروڑوں ہوں
سلامتی ہو مرے مصرعِ دوام پہ بھی
مرے وجود میں مدغم وجود کیا کرتا
وہ میرے ساتھ جھگڑتا رہا ہے نام پہ بھی
رواں ہے اشہبِ دوراں خدا کی مرضی سے
ہیں پا رکاب میں اور ہاتھ ہیں لگام پہ بھی
ہے جنگ فلسفۂ فکر کے پہاڑوں پر
تصادم ایک نئے عالمی نظام پہ بھی
بپا ہے وادئ تاریخ میں بھی آویزش
لڑائی محنت و سرمایہ کے مقام پہ بھی
وطن بھی میرے ملالوں کی داستاں منصور
اداسیوں کی حکومت خرامِ شام پہ بھی
منصور آفاق

ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 474
حجاب پہ بھی ہے اور چادرِ مہین پہ بھی
ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی
جدال ایک نظامِ معاش پر بھی ہے
جہاد قضیۂ ملکیتِ زمین پہ بھی
ہے پیداوار کے سرچشموں پہ بھی ٹکراؤ
ہے ایک غزوہ جہاں میں فروغِ دین پہ بھی
وہ کور چشم مرے عہد کے خدا جن کو
دکھائی داغ دئیے صبحِ بہترین پہ بھی
مرے لئے تو وہ پیشانیاں سیہ منصور
شکن شکن ہوئیں جو لہجۂ متین پہ بھی
منصور آفاق

قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 473
مقیم صبح مری چاند کے شرف میں بھی
قیام روشنی کرتی رہی صدف میں بھی
میں تیرا ساتھ صداقت کو چھوڑ کر دونگا
کہا نہیں ہے یہ میں نے کسی حلف میں بھی
لڑائی ایک صلیب و ہلال میں بھی ہے
ہے اس طرف میں بھی پیکار اس طرف میں بھی
ہے گولہ باری مسلسل غزہ کی پٹی میں
بپا ہے معرکۂ خیر و شر نجف میں بھی
تمام عمر کی خود پہ ہی فائرنگ منصور
قیام میرا رہا ہے مرے ہدف میں بھی
منصور آفاق

پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 472
اسے بدلتے ہوئے دیکھتے رہے ہم بھی
پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی
اکیلے رہنے کی عادت نہ تھی سو عرصے تک
بغیر اس کے پریشاں بہت رہے ہم بھی
سمیٹ رکھے تھے بارش کے اشک پتوں نے
کچھ ایسا پارک کا موسم تھا رو پڑے ہم بھی
لپیٹ رکھی ہے پت چھڑ کی شال برسوں سے
کبھی بہارمیں ہوتے ہرے بھرے ہم بھی
قریب ہوتے گئے ایک خالی رستے پر
ملول وہ بھی بہت تھی اداس تھے ہم بھی
اسے بھی نیند سے شاید کوئی عداوت تھی
پرانے جاگنے والے تھے رات کے ہم بھی
وہ آتے جاتے ہمیں دیکھنے لگی منصور
پھر اس کے بارے میں کچھ سوچنے لگے ہم بھی
منصور آفاق

اچھی مجھے اداسی شروعات میں لگی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 471
معصوم ،دلرباسی شروعات میں لگی
اچھی مجھے اداسی شروعات میں لگی
چاروں طرف سیاہ سمندر تھا بعد میں
بھیگی ہوئی ہوا سی شروعات میں لگی
پھر ڈر گیا چڑیل کی بدروح دیکھ کر
اچھی وہ خوش لباسی شروعات میں لگی
پھر جھرجھری سی آگئی سایوں کے خوف سے
تنہائی کچھ خداسی شروعات میں لگی
پھر ہو گئی سموتھ سمندر سی کیفیت
جذبوں کو بدحواسی شروعات میں لگی
پھر اپنی تشنگی کا مجھے آ گیا خیال
صحرا کی ریت پیاسی شروعات میں لگی
کچھ دیر میں میڈونا کی تصویر بن گئی
وہ ناصرہ عباسی شروعات میں لگی
پھر یوں ہوا کہ مجھ کو پجاری بنا دیا
وہ مجھ کو دیو داسی شروعات میں لگی
خانہ بدوش تھی کوئی منصور زندگی
وہ بستیوں کی باسی شروعات میں لگی
منصور آفاق

یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 470
گزری تمام ماہِ محرم میں زندگی
یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی
کیسا عجب تھا اس کی اچٹتی نظر کا فیض
ساری بدل گئی ہے مری دم میں زندگی
صحرا کی دو پہر سے مسلسل میں ہم کلام
پھرتی ہے دشت دشت شبِ غم میں زندگی
کچھ کچھ سرکتی ہے کوئی ٹوٹی ہوئی چٹان
چلتی نہیں فراق کے موسم میں زندگی
ہرشام ایک مرثیہ ہر صبح ایک بین
اک چیخ ہے شعور کے عالم میں زندگی
منصور دوگھروں میں ہے آباد ایک جسم
تقسیم آدھی آدھی ہوئی ہم میں زندگی
منصور آفاق

پھر وہی قوسِ قزح جیسی مصیبت ہو گی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 469
دستکیں کہتی ہیں پھر وہی قیامت ہو گی
پھر وہی قوسِ قزح جیسی مصیبت ہو گی
اگلا پھر بے بسی کا ہو گا وزیرِ اعظم
اگلی پھر بے کسی کی کوئی حکومت ہو گی
پھر غلط بول پڑے اپنے ذرائع ابلاغ
میڈیا والوں کی پھر ایک ضیافت ہو گی
پھر ہمیں فول بنائیں گے ہمارے ہیرو
پھر نیا قصہ ء غم پھرنئی آفت ہو گی
ریٹ ڈالر کا بڑھا دیں گے فرشتے منصور
پھر کسی کوٹھی پہ اللہ کی رحمت ہو گی
منصور آفاق

یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 468
عمر دھویں سے پیلی ہو گی
یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی
موت مرا معمول رہے گا
کوئی کہاں تبدیلی ہو گی
پھیل رہا ہے سرد رویہ
رات بڑی برفیلی ہو گی
ہجر کا اپنا ایک نشہ ہے
غم کی شام نشیلی ہو گی
میں نے سگریٹ سلگانا ہے
ماچس میں اک تیلی ہو گی
غالب کے قہوہ خانے میں
بات ذرا تفصیلی ہو گی
اچھی طرح سے بال سکھا لے
تیز ہوا سردیلی ہو گی
ہفتوں بعد ہے نکلا سورج
دھوپ بہت نوکیلی ہو گی
کال آئی ہے امریکہ سے
موسم میں تبدیلی ہو گی
گرم دسمبر کے پہلو میں
جسم کی آگ لجیلی ہو گی
نوٹ پیانو کے سُن سُن کر
رم جھم اور سریلی ہو گی
دن بھی ہو گا آگ بگولا
رات بھی کالی نیلی ہو گی
اک اتوار ملے گی مجھ سے
اور بڑی شرمیلی ہو گی
شعر بنانا چھوڑ دے لیکن
یہ منصور بخیلی ہو گی
منصور آفاق

یہ رات چاند رات ہے کم آن سائیکی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 467
پہلو میں آ کہ اپنا ہو عرفان سائیکی
یہ رات چاند رات ہے کم آن سائیکی
میرے سگار میں رہے جلتے تمام عمر
احساس، خواب، آگہی، وجدان، سائیکی
اٹکا ہوا ہے خوف کے دھڑ میں مرا دماغ
وحشت زدہ خیال، پریشان سائیکی
باہر مرے حریمِ حرم سے نکل کے آ
اپنے چراغِ طور کو پہچان سائیکی
رستہ نجات کا ترے لاکٹ میں بند ہے
باہر کہیں نہیں کوئی نروان سائیکی
لاکھوں بلیک ہول ہیں مجھ میں چھپے ہوئے
میری خلاؤں سے بھی ہے سنسان سائیکی
کیا تُو برہنہ پھرتی ہے میری رگوں کے بیچ
میرے بدن میں کیسا ہے ہیجان سائیکی
خالی ہے دیکھ یاد کی کرسی پڑی ہوئی
سونا پڑا ہے شام کا دالان سائیکی
دریا نکل بھی سکتا ہے صحرائے چشم سے
تجھ میں دھڑکتا ہے کوئی طوفان سائیکی
یہ گیت یہ بہار یہ دستک یہ آہٹیں
یہ کیا کسی کا رہ گیا سامان سائیکی
یہ حسرتیں یہ روگ یہ ارماں یہ درد و غم
کرتی ہو جمع میر کا دیوان، سائیکی
شاخوں سے بر گ و بارکی امید کیا کروں
پہنچا ہوا جڑوں میں ہے سرطان سائیکی
ممکن ہے تجھ سے اپنی ملاقات ہوکبھی
موجود ہیں بڑے ابھی امکان سائیکی
گرداب کھینچ سکتے ہیں پاتال کی طرف
کوئی جہاز کا نہیں کپتان سائیکی
پھر ڈھونڈتا ہے تیرے خدو خال روح میں
منصور کا ہے پھر نیا رومان سائیکی
منصور آفاق

یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 466
ہے توقع درِ انکار کے کھل جانے کی
یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی
چلنا ہے بادِ محبت کی بلاخیزی میں
ہم کو پروانہیں دستار کے کھل جانے کی
ہم معاشرتی شبِ جبر میں کیا لکھیں گے
بات ہے دستِ گرفتار کے کھل جانے کی
شعلہ ء گل کا ابھی رقص دکھاتی ہوں تجھے
اک ذرادیر ہے بازار کے کھل جانے کی
لوگ منصور پلٹ جاتے ہیں دروازوں سے
ہم کو امید ہے دیوار کے کھل جانے کی
منصور آفاق

پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 465
اک ایک سایہ ء ہجراں کے ساتھ پوری کی
پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی
میں ایک کُن کی صدا تھا سو عمر بھر میں نے
ادھوری جو تھی پڑی کائنات پوری کی
عجیب عالمِ وحشت، عجیب دانائی
کبھی بکھیرا، کبھی اپنی ذات پوری کی
تھلوں کی ریت میں بو بو کے پیاس کے کربل
پھر آبِ سندھ نے رسمِ فرات پوری کی
پلک پلک پہ ستارے رکھے سہاگ کی رات
نہ پوچھ چاند کی کیسے برات پوری کی
کئی برس سے ادھوری پڑی تھی، سو میں نے
یہ مانگ تانگ کے سانسیں ، حیات پوری کی
یہ اور بات کہ دل میں اتر گیا پھر بھی
کسی سے ملتے ہوئے احتیاط پوری کی
یہ اور بات کہ آنسو ورق ورق پہ رکھے
کتابِ فلسفہء انبساط پوری کی
یہ اور بات کہ کام آ گئی کوئی نیکی
اُس اجنبی نے مگر واردات پوری کی
ہزار کہہ کے بھی میں کچھ نہ کہہ سکا منصور
کہا نہ کچھ بھی مگر اس نے بات پوری کی
منصور آفاق

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق

کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 463
گرا کے پھول اٹھائے کوئی کڑی تھل کی
کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی
ابھی تو پاؤں میں باقی ہے ہجر کا ہفتہ
پڑی ہے راہ ابھی ایک اور منگل کی
حنائی ہاتھ پہ شاید پلیٹ رکھی تھی
ہوا کے جسم سے خوشبو اٹھی تھی چاول کی
بچھی ہوئی ہیں سحر خیزیوں تلک آنکھیں
ملی ہوئی ہے شبوں سے لکیر کاجل کی
لیا ہے شام کا شاور ابھی ابھی کس نے
گلی میں آئی ہے خوشبو کہاں سے جل تھل کی
شفق کے لان میں صدیوں سے شام کی لڑکی
بجا رہی ہے مسلسل پرات پیتل کی
نکھر نکھر گیا کمرے میں رنگ کا موسم
ذرا جو شال بدن کے گلاب سے ڈھلکی
کسی کو فتح کیا میں نے پیاس کی رت میں
اڑے جو کارک تو شمپین جسم پر چھلکی
چھتوں پہ لوگ اٹھائے ہوئے تھے بندوقیں
تمام شہر پہ اتری تھی رات جنگل کی
جھلس گیا تھا دسمبر کی رات میں منصور
وہ سرسراتی ہوئی آگ تیرے کمبل کی
منصور آفاق

وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق

تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 461
تحقیق کہ دنیا میں بس وسعتیں اتنی ہیں ادراک کے دامن کی
تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی
میں شکل بناتا ہوں تعمیری رویوں کی کیوں اسکی وساطت سے
صحرائی بگولوں میں جو گھومتی رہتی ہے اک آنکھ توازن کی
سفاک پہاڑوں پراگتی ہوئی بھیڑوں سے جو اون نکلتی ہے
تقویم کے چرخے پرمیں اس سے بناتا ہوں اک شال تمدن کی
پھر ہاتھ میں دل لے کرٹکراتا ہو ں ممکن سے موجود کے کمرے میں
تقدیر کے فرغل سے بس موت دکھائی دے تصویر میں جیون کی
تہذیبِ محمدﷺکی کرتا ہوں نگہبانی اقراء کی علامت سے
منصور جہاں بھی ہے یہ حرف کا سرمایہ میراث ہے مومن کی
منصور آفاق

چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 460
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی
چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی
لیکن میں روک سکتانہیں رات کی گھڑی
دیوار پر لگادی ہے اوقات کی گھڑی
باہر سے لوٹ جائے وہ مہتاب کی کرن
اب ختم ہوچکی ہے ملاقات کی گھڑی
اچھی ہیں یار کی متلون مزاجیاں
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی
بہتا ہے میرے سینے میں اک چشمۂ دعا
ٹھہری ہوئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی
یہ اور بات دیکھ کے پہچانتے نہیں
آتی ہے روز، روزِ مکافات کی گھڑی
دیکھو ازل نژاد ہے چلتی ہوئی ہوا
سمجھو ابد خرام ہے آیات کی گھڑی
اب ختم ہورہی ہے مشقت نصیب کی
چلنے پہ آگئی ہے حوالات کی گھڑی
گھڑیال مسجدوں کے بتاتے ہیں اور وقت
کچھ اور کہہ رہی ہے سماوات کی گھڑی
اعمال دیکھ کر مرے آقائے لوح نے
امت سے چھین لی ہے فتوحات کی گھڑی
منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
چلتی سدا ہے زخم میں حالات کی گھڑی
منصور آفاق

پھر زندگی کی شہر میں تحریک چل پڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 459
جب اُس جمالِ صبح کی بوتیک چل پڑی
پھر زندگی کی شہر میں تحریک چل پڑی
اُس دلنواز شخص کی آمد کے ساتھ ساتھ
میرے مکان سے شبِ تاریک چل پڑی
نکلا بس ایک اسم افق کی کتاب سے
تاویلیں سب سمیٹ کے تشکیک چل پڑی
جس کیلئے سڑک پہ لڑا تھا میں وقت سے
بس بھیج کے وہ ہدیہ ء تبریک چل پڑی
منصور بس اتر کے گیا تھا وہ کج نہاد
گاڑی پھر اس کے بعد مری ٹھیک چل پڑی
منصور آفاق

یہ عجب تم نے نکالی ہے شریعت اپنی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 458
ذبح خانے سی بنالی ہے شریعت اپنی
یہ عجب تم نے نکالی ہے شریعت اپنی
قتل منسون ،دھماکے جائز، تاوان حلال
ان دنوں دیکھنے والی ہے شریعت اپنی
کعبۂ دل کی ہے بس فرض مسلسل صلوات
عشق میں کیسی مثالی ہے شریعت اپنی
ہم غلامانِ محمدﷺ ہیں ، علی کے بھی غلام
بس طریقت میں بلالی ہے شریعت اپنی
کون مسجد میں در آیا ہے ہماری منصور
کس نے منبر سے چرالی ہے شریعت اپنی
منصور آفاق

یعنی کہ میں اکیلا ہوں درویش آدمی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 457
اس عہدِ بے شرف میں شرف کیش آدمی
یعنی کہ میں اکیلا ہوں درویش آدمی
مانا ہیں آسماں سے مراسم رکھے ہوئے
میرا قبیلہ خاک ، مرا خویش آدمی
جو کاٹتا رہا ہے مجھے سانپ کی طرح
لگتا تھا آنکھ سے تو کم و بیش آدمی
اس کو خبر نہیں ہے حیات و ممات کی
جو کائنات کے نہیں درپیش آدمی
کچھ بول اس شعور کی اندھی گپھا میں
منصور کوئی دیتا ہے اپدیش آدمی
منصور آفاق

پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 456
اک حبس کے مریض کو تازہ ہوا ملی
پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی
کل رات باغ میں مجھے پتوں کے دکھ ملے
لیکن وہاں سے نکلا توبادِ صبا ملی
کیسے کروں وسیلے کی عظمت سے انحراف
مجھ کو خدا کی ذات بھی بل واسطہ ملی
اک دن ملا بہار میں ہنستا ہوا مجھے
اک شام غم کا کرتی ہوئی تجربہ ملی
بولیں گے جبرائیل بھی میرے وجود میں
مجھ کو کسی فقیر سے جس دن دعا ملی
شہرِ ابد نژاد ابھی کتنا دور ہے
پوچھوں گا کائنات کی جو ابتدا ملی
منصور میں نے بانٹ دی خستہ حروف میں
مجھ کو جو آسماں سے شرابِ بقا ملی
منصور آفاق

اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 455
اک تعلق کی شروعات تھی ہونے والی
اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی
لوح پر دیکھ لیا مشرق و مغرب کا نصیب
بس کہیں صبح ، کہیں رات تھی ہونے والی
دیکھنے والا تھا، پھر مڑکے، کوئی ایک نظر
کیا ہوا ، دید کی خیرات تھی ہونے والی
اپنے قہوے کا سماوار ابھی ٹھنڈا تھا
اور مسجد میں مناجات تھی ہونے والی
لینے آئے ہوئے تھے رومی و اقبال ہمیں
اپنی باہو سے ملاقات تھی ہونے والی
کیا ہوا ، وقت بدلنے کی خبر آئی تھی
وا کہیں چشمِ سماوات تھی ہونے والی
تم نہ ملتے تو یہاں سے بھی ہمیں جانا تھا
ایسی کچھ صورتِ حالات تھی ہونے والی
اب جہاں دھوپ نکل آئی ہے کنجِ لب سے
کچھ ہی پہلے یہاں برسات تھی ہونے والی
اس کے کہنے پہ بدل آئے ہیں رستہ اپنا
جب محبت میں اسے مات تھی ہونے والی
ہم چلے آئے ہیں اُس حسن کے دستر خواں سے
جب ہماری بھی مدارات تھی ہونے والی
قتل نامہ تھا کہ جلاد نے ڈھاڑیں ماریں
کیسی اک مرگِ مفاجات تھی ہونے والی
ارتقاء آخری منزل پہ تھا میرا اُس وقت
خلق جب جنسِجمادات تھی ہونے والی
میں پلٹ آیا ہوں منصور ’’مقامِ ہو‘‘ سے
اک عجب بات مرے ساتھ تھی ہونے والی
منصور آفاق

ہر ایک لمس پہ اتریں مصیبتیں کیسی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 454
پڑاؤ کیسے بدن کے مسافتیں کیسی
ہر ایک لمس پہ اتریں مصیبتیں کیسی
مخالفین میں لختِ جگر بھی شامل ہیں
مرے نصیب میں آئیں رقابتیں کیسی
کسی کو بیٹھنے اٹھنے کا کیا سلیقہ ہے
یہ گفتگو میں کسی کی نزاکتیں کیسی
نگار خانہ جاں کے فراق سے پہلے
میں کہہ رہا تھا کسی سے محبتیں کیسی
بس اک فریب سے بہلا رہا ہوں چشم ولب
ترے بغیر جہاں بھر کی راحتیں کیسی
اگر ہے جرم، تجھے چھو کے دیکھ لینا بھی
تو ساتھ رہنے کی مجھ کو اجازتیں کیسی
جلو میں گھومتی پھرتی ہے نازنینوں کے
مری غزل کی پری چہرہ صحبتیں کیسی
کسی مقام پہ رکتا نہیں کوئی منصور
تعلقات ہیں کیسے رفاقتیں کیسی
منصور آفاق

محبت ہے تو ہو کنفرم تھوڑی سی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 453
اتاریں اب بدن کی شرم تھوڑی سی
محبت ہے تو ہو کنفرم تھوڑی سی
ضروری ہے لہو میں آگ بھی لیکن
سبک اندام تھوڑی، نرم تھوڑی سی
چل اپنے سادہ و معصوم سے دل پر
چڑھا لے بھیڑے کی چرم تھوڑی سی
اب اپنا قتل کرنا چاہتا ہوں میں
اجازت دے مجھے اے دھرم تھوڑی سی
’بیا جاناں بصد سامانِ رسوائی ‘
خموشی ہے، خبر ہو گرم تھوڑی سی
کسی کے نرم و نازک جسم سے مل کر
ہوئی ہے آتما بھی پرم تھوڑی سی
سکوتِ شام جیسی ایک دوشیزہ
محبت میں ہوئی سرگرم تھوڑی سی
منصور آفاق

اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 452
آب رواں میں پھر نئی شامت دکھائی دی
اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی
اس کے خیال بھی تھے پرانے ، بہت قدیم
اس کے لباس میں بھی قدامت دکھائی دی
تقریبِ گل میں سرو کئی آئے تھے مگر
ہر سمت تیری رونقء قامت دکھائی دی
پہلے بدن کا معجزہ دیکھا نگاہ نے
پھر گفتگو میں ایک کرامت دکھائی دی
میں نے بھلا دیں ساری گذشتہ کی تلخیاں
تھوڑی سی اُس نظر میں ندامت دکھائی دی
جاری ہے ٹوٹ پھوٹ وجود و شہود میں
کوئی کہیں بھی شے نہ سلامت دکھائی دی
منصور چپ کھڑی تھی کہیں شام کی کرن
چھیڑا توزندگی کی علامت دکھائی دی
منصور آفاق

جاں لباس مجاز میں رکھ دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 451
بس کسی اعتراض میں رکھ دی
جاں لباس مجاز میں رکھ دی
رات کھولے تھے کچھ پرانے خط
پھر محبت دراز میں رکھ دی
یادِ یاراں نے پھر وہ چنگاری
ایک مردہ محاذ میں رکھ دی
یوں تو سب کچھ کہا مگر اس نے
راز کی بات راز میں رکھ دی
تان لی تھی رقیب پر بندوق
ربطِ جاں کے لحاظ میں رکھ دی
کس نے تیرے خیال کی دھڑکن
دست طبلہ نواز میں رکھ دی
شرٹ ہینگر پہ ٹانک دی میں نے
اور لڑکی بیاض میں رکھ دی
اس نے پستی گناہ کی لیکن
ساعتِ سرفراز میں رکھ دی
مرنے والا نشے میں لگتا تھا
کیسی مستی نماز میں رکھ دی
رات آتش فشاں پہاڑوں کی
اپنے سوز و گداز میں رکھ دی
کس نے سورج مثال تنہائی
میری چشم نیاز میں رکھ دی
داستاں اور اک نئی اس نے
میرے غم کے جواز میں رکھ دی
مسجدوں میں دھمال پڑتی ہے
کیفیت ایسی ساز میں رکھ دی
پھر ترے شاعرِ عجم نے کوئی
نظم صحنِ عکاظ میں رکھ دی
کس نے پہچان حسن کی منصور
دیدۂ عشق باز میں رکھ دی
منصور آفاق

بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 450
آثارِ قدیمہ ، مری تہذیب مٹا دی
بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی
وہ بھی تو درِ کعبہ پہ سجاآتے تھے نظمیں
میں نے بھی اباسین میں اک نظم بہادی
جو علم کے معروف سمندر ہیں انہوں نے
اک آگ کتب خانۂ دجلہ میں لگادی
اطلاع کی کوئی بیل نہ بجی خانۂ دل میں
اخبار بھی کرتے رہے تصویری منادی
یہ ڈیڑھ ارب بھوک زدہ آدمی کیوں ہیں
کچھ بول چناروں بھری کشمیر کی وادی
پھر رات کی چادر پہ ابھر آئے ستارے
پھر روشنی منصور اندھیرے میں ملادی
منصور آفاق

چاندکی شمع آخر بجھائی گئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 449
ایک امید کھڑکی سے آئی ، گئی
چاندکی شمع آخر بجھائی گئی
اپنے اندر ہی روتے سمندر رہے
کب کہانی کسی کو سنائی گئی
اس کے جانے پہ احساس کچھ یوں ہوا
اپنے پہلو سے اٹھ کر خدائی گئی
اپنے مژگاں میں آنسو پروتا رہا
یوں غزل بزم میں رات گائی گئی
تم یہود و نصاریٰ کی زرگاہ میں
بک گئے جب بھی بولی لگائی گئی
تم کرائے کے قاتل ہو حاکم نہیں
تم سے اپنوں پہ گولی چلائی گئی
آگ تھی غم کی منصور کافر نژاد
اس سے مسلم کی میت جلائی گئی
منصور آفاق

سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 448
کلی لبادۂ تزئین سے نکل آئی
سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی
دکھائی فلم کسی نے وصال کی پہلے
پھر اس کے بعد وہی سین سے نکل آئی
مرے خدا کی بھی قربان گاہ مٹی تھی
بہار پھول کی تدفین سے نکل آئی
اسے خرید لیا مولوی کفایت نے
جو نیکی سیٹھ کرم دین سے نکل آئی
چراغ لے کے میں بیٹھا ہی تھا کہ صبحِ ازل
خرامِ آبِ اباسین سے نکل آئی
مریدِ خاص ہوئی تخلیے کی آخرکار
خرد نصیحت و تلقین سے نکل آئی
حروف وردِ انا الحق پہ کرتے تھے مجبور
سو میری آنکھ طواسین سے نکل آئی
مجھے جگایا کسی نے یوں حسنِ قرات سے
کہ صبح سورۃ یاسین سے نکل آئی
گریزاں یار بھی تکرار سے ہوا کچھ کچھ
طبعیت اپنی بھی توہین سے نکل آئی
گزر ہوا ہے جہاں سے بھی فوج کا منصور
زمین گھاس کے قالین سے نکل آئی
منصور آفاق