زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 133
نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں
ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں
تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے غم دیئے یہاں
تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں
نہ گلے رہے نہ گماں ہے نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
وہ نشاط وعدہ ءِ وصل کیا ہمیں اعتبار بھی اب نہیں
رہے نام رشتہ رفتگاں نہ شکایتیں ہیں نہ شوخیاں
کوئی عذر خواہ تو اب کہاں کوئی عذردار بھی اب نہیں
کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خم
کسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں
وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
ترے آستانے کی خیرہو، سر رہ غبار بھی اب نہیں
وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں
کسی جاں نثار کا ذکر کیا کوئی سوگوار بھی اب نہیں
نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھا
وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سرکوئے یار بھی اب نہیں
جون ایلیا

دل میری جان تیرے بس کا نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 132
کون سے شوق کِس ہوس کا نہیں
دل میری جان تیرے بس کا نہیں
راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمہء جرس کا نہیں
ہاں میرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یارانِ نکتہ رَس کا نہیں
ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں
ہو گئی اس گِلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خاروخس کا نہیں
مُجھ کو خود سے جُدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں
کیا لڑائی بَھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں
جون ایلیا

دل کی حالت بہت خراب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 131
کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں
دل کی حالت بہت خراب نہیں
بُود پَل پَل کی بے حسابی ہے
کہ محاسب نہیں حساب نہیں
خوب گاؤ بجاؤ اور پیو
ان دنوں شہر میں جناب نہیں
سب بھٹکتے ہیں اپنی گلیوں میں
تا بہ خود کوئی باریاب نہیں
تُو ہی میرا سوال ازل سے ہے
اور ساجن تیرا جواب نہیں
حفظ ہے شمسِ بازغہ مجھ کو
پر میسر وہ ماہتاب نہیں
تجھ کو دل درد کا نہیں احساس
سو میری پنڈلیوں کو داب نہیں
نہیں جُڑتا خیال کو بھی خیال
خواب میں بھی تو کوئی خواب نہیں
جون ایلیا

نام کو بھی اب اِضطراب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 130
سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ الم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی صدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
جون ایلیا

میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 129
اب کسی سے میرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ میرا خون ہے ، شراب نہیں
میں شرابی ہوں میری آس نا چھین
تو میری آس ہے شراب نہیں
نوچ پھینکے میں نے لبوں سے سوال
طاقتِ شوخیِ جواب نہیں
اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اب خود جیسا آب دو آب نہیں
غم آباد کا نہیں ہے آن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں
جون ایلیا

تم سر بسر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 128
شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
تم سر بسر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں
میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیں
غم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں
ہے جو ہمارا ایک حساب اُس حساب سے
آتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں
تم کو جہانِ شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں
اب اپنے طور ہی میں نہیں سو کاش کہ
خود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں
اس شہرِ حیلہ جُو میں جو محرم ملے مجھے
فریادِ جانِ جاں وہی محرم ملے تمہیں
دیتا ہوں تم کو خشکیِ مژ گاں کی میں دعا
مطلب یہ ہے کہ دامنِ پرنم ملے تمہیں
میں اُن میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں ! جو میرے شوق کے عالم ملے تمہیں
تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اُس میں بہت خم ملے تمہیں
یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے
ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں
جون ایلیا

مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 127
جنوں کریں ہوسِ ننگ و نام کے نہ رہیں
مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں
زیاں ہے اس کی رفاقت کہ اس کے دوش بدوش
چلیں تو منظرِ حسنِ خرام کے نہ رہیں
کہاں ہے وصل سے بڑھ کر کوئی عطا لیکن
یہ خوب ہے کہ پیام و سلام کے نہ رہیں
نصیب ہو کوئی دم وہ معاش۔ حال کے ہم
حسابِ سلسلہ صبح و شام کے نہ رہیں
یہ بات بھی ہے کہ لمحوں کے لوگ جائیں کہاں
اگر فریبِ بقا سے دوام کے نہ رہیں
خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ
غضب خدا کا ہم اپنے امام کے نہ رہیں
جون ایلیا

کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 126
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں
یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں
یہ مت بُھولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں
تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں
تمہیں چاہیں گے جب چِھن جاؤ گی تو
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں
کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں
وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں
دلیلوں سےاسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں
تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں
یہ جزبہ عشق ہے یا جزبہء رحم
ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں
عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو
ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں
وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں
جون ایلیا

آج کے بعد ہم ہوا کے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 125
رہن سرشارئ فضا کے ہیں
آج کے بعد ہم ہوا کے ہیں
ہم کو ہر گز نہیں خدا منظور
یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں
ہم کہ ہیں جون حاصلِ ایجاد
کیا ستم ہے کہ ہم فنا کے ہیں
کائناتِ سکوت بس خاموش
ہم تو شوقِ سخن سرا کے ہیں
جتنے بھی اہلِ فن ہیں دنیا کے
ملتمس بابِ التجا کے ہیں
باز آ جایئے کہ سب فتنے
آپ کی کیوں کے اور کیا کے ہیں
اب کوئی گفتگو نہیں ہو گی
ہم فنا کے تھے ہم فنا کے ہیں
جون ایلیا

لَبِ دریا سراب بیچے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 124
سرِ صحرا حباب بیچے ہیں
لَبِ دریا سراب بیچے ہیں
اور تو کیا تھا بیچنے کے لیے
اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں
خود سوال ان لبوں سے کرکے میاں
خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں
زُلف کوچوں میں شانہ کش نے ترے
کتنے ہی پیچ و تاپ بیچے ہیں
شہر میں خراب حالوں نے
حال اپنے خراب بیچے ہیں
جانِ مَن تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں
میری فریاد نے سکوت کے ساتھ
اپنے لب کے عذاب بیچے ہیں
جون ایلیا

شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 123
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں
شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہم
اس کے وعدوں کو بھلانے کے لیے نکلے ہیں
ہم سے جو روٹھ گیا ہے وہ بہت معصوم ہے
ہم تو اوروں کو منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں شورہے، وہ یوں کہ گماں کے سفری
اپنے ہی آپ میں آنے کے لیے نکلے ہیں
وہ جو تھے شہر تحیر ترے پر فن معمار
وہی پُر فن تجھے ڈھانے کے لیے نکلے ہیں
راہگزر میں تری قالین بچھانے والے
خون کا فرش بچھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں کرنا ہے خداوند کی امداد سو ہم
دیر و کعبہ کو لڑانے کے لیے نکلے ہیں
سر شب اک نئی تمثیل بپا ہونی ہے
اور ہم پردہ اٹھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہم
خون میں اپنے نہانے کے لیے نکلے ہیں
ہم کہیں کے بھی نہیں پر یہ ہے روداد اپنی
ہم کہیں سے بھی نہ جانے کے لیے نکلے ہیں
جون ایلیا

تم بھی چلو کہ سارے آشفتہ سر چلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 122
وہ زلف ہے پریشاں، ہم سب ادھر چلے ہیں
تم بھی چلو کہ سارے آشفتہ سر چلے ہیں
تم بھی چلو غزالاں، کوئے غزال چشماں
درشن کا آج دن ہے سب خوش نظر چلے ہیں
رنگ اس گلی خزاں کے موسم میں کھیلنے کو
خونیں دلاں گئے ہیں خونیں جگر چلے ہیں
اب دیر مت لگا چل، اے یار بس چلا چل
دیکھیں یہ خوش نشینیاں آخر کدھر چلے ہیں
بس اب پہنچ چکے ہیں ہم یاراں سوئے بیاباں
ساتھ اپنے ہم کو لے کر دیوار و در چلے ہیں
دنیا تباہ کر کے ہوش آگیا ہے دل کو
اب تو ہماری سن اب ہم سدھر چلے ہیں
ہے سلسلے عجب کچھ اس خلوتی سے اپنا
سب اس کے گھر چلے ہیں ہم اپنے گھر چلے ہیں
جون ایلیا

ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 121
گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں
ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں
ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا
دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں
دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا
سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں
یعنی کیا کچھ بُھلا دیا ہم نے
اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں
ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے
ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں
ہے عجب اس کا حالِ ہجر کہ ہم
گاہے گاہے سنورتے رہتے ہیں
دل کے سب زخم پیشہ ور ہیں میاں
آن ہا آن بھرتے رہتے ہیں
جون ایلیا

ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 120
ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں
ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں
غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہ
نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
تمنا ہے اب ہم کو بے حرمتی کی
سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
چلو بے کمند و کماں آج چل کر
غزالوں کا اندازِ رم دیکھتے ہیں
یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
خدایا ترے حسنِ تقویم میں ہم
تضادِ وجود و عدم دیکھتے ہیں
نہ روٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
ذرا اپنا زورِ قلم دیکھتے ہیں
کھڑے ہو کہ ہم وقت کے حاششیے پر
فساداتِ دیر وحرم دیکھتے ہیں
جون ایلیا

جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 119
کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں
جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں
اب تم شہرکے آداب سمجھ لو جانی
جو مِلا ہی نہیں کرتے وہ مِلا کرتے ہیں
جہلا علم کی تعظیم میں برباد گئے
جہل کا عیش جو ہے وہ علما کرتے ہیں
لمحے لمحے میں جیو جان اگر جینا ہے
یعنی ہم حرصِ بقا کو بھی فنا کرتے ہیں
جانے اس کوچہء حالت کا ہے کیا حال کہ ہم
اپنے حجرے سے بہ مشکل ہی اُٹھا کرتے ہیں
میں جو کچھ بھی نہیں کرتا ہوں یہ ہے میرا سوال
اور سب لوگ جو کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں
اب یہ ہے حالتِ احوال کہ اک یاد سے ہم
شام ہوتی ہے تو بس رُوٹھ لیا کرتے ہیں
جس کو برباد کیا اس کے فداکاروں نے
ہم اب اس شہر کی رُوداد سنا کرتے ہیں
شام ہو یا کہ سحر اب خس و خاشاک کو ہم
نزرِ پُرمایگئ جیبِ صبا کرتے ہیں
جن کو مُفتی سے کدورت ہو نہ ساقی سے گِلہ
وہی خوش وقت مری جان رہا کرتے ہیں
ایک پہنائے عبث ہے جسے عالم کہیے
ہو کوئی اس کا خدا ہم تو دعا کرتے ہیں
جون ایلیا

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 118
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوہء نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
باوفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں جون
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
جون ایلیا

جب حرف شوخ سے لب گفتار سرخ ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 117
کہنا ہی کیا کہ شوخ کے رخسار سرخ ہیں
جب حرف شوخ سے لب گفتار سرخ ہیں
ناداری نگاہ ہے اور زرد منظری
حسرت یہ رنگ کی ہے جو نادار سرخ ہیں
اب اس متاع رنگ کا اندازہ کیجیے
شوق طلب سے جس کے خریدار سرخ ہیں
ہے بندوبست لطف مغاں، رنگ کھیلیے
میخانہ سرخ ہے مے و میخوار سرخ ہیں
جا بھی فقیہ سبز قدم ، اب یہاں سے جا
میں تیری بات پی گیا پر یار سرخ ہیں
طغیان رنگ دیکھیے اس لالہ رنگ کا
پیش از ورود ، کوچہ و بازار سرخ ہیں
بسمل ہیں جوش مستی حالت میں سینہ کوب
وہ رقص میں ہے اور در و دیوار سرخ ہیں
جون ایلیا

شکریہ مشورت کا چلتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 116
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
کیا تکلف کریں ‌یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
ہے اسے دور کا سفر درپیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
تم بنو رنگ، تم بنو خوش بو
ہم تو اپنے سخن میں ‌ ڈھلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
جون ایلیا

آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 115
والے فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
روح کل سےسب روحوں پر وصل کی حسرت طاری ہے
اک سر حکمت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بے احوالی کی حالت ہے شاید یا شاید کہ نہں
پر احوالیت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
مختاری کے لب سلوانا جبر عجب تر ٹھہرا ہے
ہیجان غیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
بابا الف ارشاد کناں ہیں پیش عدم کے بارے میں
حیرت بے حیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
معنی ہیں لفظوں سے برہم قہر خموشی عالم ہے
ایک عجب حجت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
موجودی سے انکاری ہے اپنی ضد میں ناز وجود
حالت سی حالت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں
جون ایلیا

جانے یہ کون آ رہا مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 114
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
جانے یہ کون آ رہا مجھ میں
جون مجھ کو جلا وطن کر کے
وہ مرے بن بھلا رہا مجھ میں
مجھ سے اس کو رہی تلاشِ امید
سو بہت دن چھپا رہا مجھ میں
تھا قیامت، سکوت کا آشوب
حشر سا اک بپا رہا مجھ میں
پسِ پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی
ایک پردہ کھنچا رہا مجھ میں
مجھ میں آ کر گرا تھا اک زخمی
جانے کب تک پڑا رہا مجھ میں
اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 112
اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں
کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں
سن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں
کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا
جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں
اب ہے اپنا سامنا درپیش
ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں
وہی ناز و ادا، وہی غمزے
سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں
جون ایلیا

ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 111
ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا حال دیکھ کر
اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب
اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آ گہی
تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام
پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسنِ بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا

دُور ہا دُور آ چُکا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 110
تم سے بھی اب تو جا چُکا ہوں میں
دُور ہا دُور آ چُکا ہوں میں
یہ بہت غم کی بات ہو شاید
اب تو غم بھی گنوا چُکا ہوں میں
اس گمانِ گماں کے عالم میں
آخرش کیا بُھلا چُکا ہوں میں
اب ببر شیر اشتہا ہے میری
شاعروں کو تو کھا چُکا ہوں میں
میں ہوں معمار پر یہ بتلا دوں
شہر کے شہر ڈھا چُکا ہوں میں
حال ہے اک عجب فراغت کا
اپنا ہر غم منا چُکا ہوں میں
لوگ کہتے ہیں میں نے جوگ لیا
اور دھونی رَما چُکا ہوں میں
نہیں اِملا دُرست غالب کا
شیفتہ کو بتا چُکا ہوں میں
جون ایلیا

اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 109
غم ہائے روز گار میں الجھا ہوا ہوں میں
اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں
ہاں اُس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا
کیا اُس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں
کرب غم شعور کا درماں نہیں شراب
یہ زہر ہےاثر ہے اسے پی چکا ہوں میں
اے زندگی بتا کہ سرِ جادہ ءِ شتاب
یہ کون کھو گیا ہے کسے ڈھونڈتا ہوں میں
اے وحشتو! مجھے اسی وادی میں لے چلو
یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں آ گیا ہوں میں
شعر و شعور اور یہ شہرِ شمار شور
بس ایک قرض ہے جو ادا کر رہا ہوں میں
یہ تلخیاں یہ زخم، یہ ناکامیاں یہ غم
یہ کیا ستم کہ اب بھی ترا مدعا ہوں میں
میں نے غم حیات میں تجھ کو بھلا دیا
حسن وفا شعار، بہت بے وفا ہوں میں
عشق ایک سچ تھا تجھ سے جو بولا نہیں کبھی
عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں
معصوم کس قدر تھا میں آغازِ عشق میں
اکثر تو اس کے سامنے شرما گیا ہوں میں
دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے
اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں
وہ اہلِ شہر کون تھے وہ شہر تھا کہاں
ان اہلِ شہر میں سے ہوں اس شہر کا ہوں میں
جون ایلیا

جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 108
سود ہے میرا زیاں ، افسوس میں
جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں
رائگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے مری عمرِ رواں ، افسوس میں
اے جہانِ بے گمان و صد گماں
میں ہوں اوروں کا گماں ، افسوس میں
نا بہ ہنگامی ہے میری زندگی
میں ہوں ہر دم نا گہاں ، افسوس میں
زندگی ہے داستاں افسوس کی
میں ہوں میرِ داستاں ، افسوس میں
اپنے برزن اپنے ہی بازار میں
اپنے حق میں ہوں گراں ، افسوس میں
گم ہوا اور بے نہائت گم ہوا
مجھ میں ہے میرا سماں ، افسوس میں
میرے سینے میں چراغِ زندگی
میری انکھوں میں دھواں ، افسوس میں
مجھ کو جز پرواز کوئی چارہ نہیں
ہوں میں اپنا آشیاں ، افسوس میں
ہے وہ مجھ میں بے اماں ، افسوس وہ
ہوں میں اس میں بے اماں ، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں ، افسوس میں
ایک ہی تو باغِ حسرت ہے میرا
ہوں میں اس کی ہی خزاں ، افسوس میں
اے زمین و آسماں ،، افسوس تم
اے زمین و آسماں ، افسوس میں
جون ایلیا

کیا کہوں میں بس میاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 107
ہوں میں یکسر رایگاں ، افسوس میں
کیا کہوں میں بس میاں ، افسوس میں
اب عبث کا کارواں ہے گرم سیر
میں ہوں میرِ کارواں ، افسوس میں
کیسے پہنچوں آخر اپنے آپ تک
میں ہوں اپنے درمیاں ، افسوس میں
شعلہء یاقوت فامِ زخمِ دل
میں ہوں کتنا تیرہ جاں ، افسوس میں
یاد اُس لب کی عطش انگیز ہے
ہوں میں دوزخ درمیاں ، ، افسوس میں
بازوانِ مرمرینِ ۔۔ آرزو
وائے ہجرِ جاداں ، افسوس میں
سبزہ زارِ خوابِ لالہ فام میں
کس قدر ہوں میں تپاں ، افسوس میں
پرتوِ سمیینِ مہتابِ گماں
گم ہوئی شمعِ ، افسوس میں
مجھ کو ہے درپیش اپنے سے فراق
میں کہاں اور میں کہاں ، افسوس میں
دل میں نالہ توڑنا ہے جس کا فن
میں ہوں وہ آوازہ خواں ، افسوس میں
میں ہوں گوشہ گیرِ گردِ صد ملال
اے غبارِ کارواں ، افسوس میں
میرے ہی دل پر لگا ہے جس کا تیر
ہے وہ میری ہی کماں افسوس میں
جون ایلیا

پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 106
دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں
وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا
تھی عجب راحتِ آزادئ ایجاد اس میں
ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا
مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں
ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاشِ خدوخال
رنگ فصیلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں
باغِ جاں سے تُو کبھی رات گئے گزرا ہے
کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اس میں
دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو
صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں
جون ایلیا

اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 105
رو بہ زوال ہو گئی مستی حال شہر میں
اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں
یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
شہر وفا میں ہر طرف سود و زیاں کی ہے شمار
لائیں گے اب کہاں سے ہم کوئی مثال شہر میں
حالت گفتگو نہیں عشرت آرزو نہیں
کتنی اداس آئی ہے شام وصال شہر میں
خاک نشیں ترے تمام خانہ نشین ہو گئے
چار طرف ہے اڑ رہی گرد ملال شہر میں
جون ایلیا

اپنا گماں ہوں میں یا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 104
جانے یہاں ہوں میں یا میں
اپنا گماں ہوں میں یا میں
میری دوئی ہے میرا زیاں
اپنا زیاں ہوں میں یا میں
جانے کون تھا وہ یارو
جانے کہاں ہوں میں یا میں
ہر دم اپنی زد پر ہوں
جا سے اماں ہوں میں یا میں
میں جو ہوں اک حیرت کا سماں
کیا وہ سماں ہوں میں یا میں
کون ہے مجھ میں شعلہ بجاں
شعلہ بجاں ہوں میں یا میں
آگ، مرے ہونے کی آگ
تیرا دھواں ہوں میں یا میں
جون ایلیا

تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 103
تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
تیرے حضور، تجھ سے دور، جلتی رہے گی زندگی
شعلہ بجاں رہا ہوں میں، شعلہ بجاں رہوں گا میں
تجھ کو تباہ کر گئے، تیری وفا کے ولولے
یہ مرا غم ہے میرا غم، اس میں تپاں رہوں گا میں
حیف نہیں ہے دیکھ بھال میری نصیب میں ترے
یعنی متاعِ بردہ ءِ کم نظراں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
ہم ہیں جدا جدا مگر، فن کی بساطِ رنگ پر
رقص کناں رہے گی تو، زمزمہ خواں رہوں گا میں
جون ایلیا

سو ہیں اب کہاں؟ مگر اب کہاں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 102
ہیں عجیب رنگ کی داستاں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
سو ہیں اب کہاں؟ مگر اب کہاں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
نہ یقیں ہیں اب نہ گماں ہیں اب، سو کہاں تھے جب سو کہاں ہیں اب
وہ یقیں یقیں، وہ گماں گماں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
مری جاں وہ پل جو گئی نکل، کوئی پل تھی وہ کہ ازل، ازل
سو گزشتگی میں ہیں بیکراں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
وہی کارواں ہے کہ ہے رواں وہی وصل و فصل ہیں درمیاں
ہیں غبارِ رفتہ ءِ کارواں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
تو مرے بدن سے جھلک بھی لے، میں ترے بدن سے مہک بھی لوں
ہمہ نارسائی ہیں جانِ جاں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
گلہ ءِ فراق تو کیوں بھلا طلبِ وصال تو کیا بھلا
کسی آگ کا تھے بس اک دھواں، گئی پل کا تو، گئی پل کا میں
جون ایلیا

نیند آنے لگی ہے فرقت میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 101
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کا جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عسرت میں
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگا گئی آگ اس عمارت میں
اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں
خون تھوکا گیا شرارت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں
زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
حاصلِ ’’کُن‘‘ ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
پھر بنایا خدا نے آدم کو
اپنی صورت پہ، ایسی صورت میں
اور پھر آدمی نے غور کیا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں
اے خدا (جو کہیں نہیں موجود)
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں؟
جون ایلیا

اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 100
تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں
اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں
دل سے ستم کی بے سروکاری ہوا کو ہے
وہ گرد اڑ رہی ہے کہ خود کو گنواؤں میں
وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیں
وہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں
کیونکہ ہو اپنے خواب کی آنکھوں میں واپسی
کس طور اپنے دل کے زمانوں میں جاؤں میں
اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیر
مرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں
شکوہ سا اک دریچہ ہو نشہ سا اک سکوت
ہو شام اک شراب سی اور لڑکھڑاؤں میں
پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیا

آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 99
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں
اپنی گلیاں اپنے رمنے اپنے جنگل اپنی ہوا
چلتے چلتے وجد میں آئیں راہوں میں بے راہ چلیں
جانے بستی میں جنگل ہو یا جنگل میں بستی ہو
ہے کیسی کچھ نا آگاہی آؤ چلو ناگاہ چلیں
کوچ اپنا اس شہر طرف ہے نامی ہم جس شہر کے ہیں
کپڑے پھاڑیں خاک بہ سر ہوں اور بہ عزّو جاہ چلیں
راہ میں اس کی چلنا ہے تو عیش کرا دیں قدموں کو
چلتے جائیں ، چلتے جائیں یعنی خاطر خواہ چلیں
جون ایلیا

خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 98
آ کہ جہانِ بے خبراں میں بے خبرانہ رقص کریں
خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں
فن تو حسابِ تنہائی شرط بَھلا کِس شے کی ہے
یعنی اُٹھیں اور بے خلخال و طبل و ترانہ رقص کریں
داد سے جب مطلب ہی نہیں تو عزر بَھلا کس بات کا ہے
ہم بھی بزمِ بے بصراں میں بے بصرانہ رقص کریں
ہم پہ ہنر کے قدر شناساں نازکناں ہیں یعنی ہم
سازِ شکستِ دل کی صدا پر عشوہ گرانہ رقص کریں
تختہء گُل ہو عزر انگیز آبلہ پائی اپنے لیے
ہاں سرِ نشتر ہا ز کرانہ تا بہ کرانہ رقص کریں
مرضئ مولا از ہمہ اولیٰ شوق ہمارا مولا ہے
ہم وہ نہیں جو بزم طرب میں پیشہ ورانہ رقص کریں
بر سر شور و بر سرِ سورش بر سرِ شبخوں بر سرِ خوں
چل کہ حصارِ فتنہ گراں میں فتنہ گرانہ رقص کریں
کوئی نہیں جو آ ٹکرائے سب چوراہے خالی ہیں
چل کہ سرِ بازارِ تباہی بے خطرانہ رقص کریں
بعدِ ہنرآموزی ہم کو تھا پندِ استاد کہ ہم
باہنرانہ رقص میں آئیں بے ہنرانہ رقص کریں
اپنے بدن پر اپنے خوں میں غیر کا خوں بھی شامل ہو
بارگہِ پرویز میں چل کر تیشہ ورانہ رقص کریں
جون ایلیا

اس کو اپنے ساتھ لیں آرائش دنیا کریں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 97
ہے تمنا ہم نئے شام و سحر پیدا کریں
اس کو اپنے ساتھ لیں آرائش دنیا کریں
ہم کریں قائم خود اپنا اک دبستان نظر
اور اسرار رموز زندگی افشا کریں
دفتر حکمت کے شک پرور مباحث چھیڑ کر
شہر دانش کے نئے ذہنوں کو بہکایا کریں
اپنے فکر تازہ پرور سے بہ انداز نویں
حکمت یونان و مصر و روم کا احیا کریں
ہو خلل انداز کوئی بھی نہ استغراق میں
ہم یونہی تا دیر آں سوئے افق دیکھا کریں
رات دن ہوں کائناتی مسٗلے پیشِ نظر
اور جب تھک جائیں تو اس شوخ کو چھیڑا کریں
جون ایلیا

عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 96
یہاں معنی کا بے صورت صلا نئیں
عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں
ہیں سب اک دوسرے کی جستجو میں
مگر کوئی کسی کو بھی ملا نئیں
ہمارا ایک ہی تو مدعا تھا
ہمارا اور کوئی مدعا نئیں
کبھی خود سے مکر جانے میں کیا ہے
میں دستاویز پر لکھا ہوا نئیں
یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا
چلے جانے پہ اس کے جانے کا نئیں
بچھڑ کے جان تیرے آستاں سے
لگا جی بہت پر جی لگا نئیں
جدائی اپنی بے روداد سی تھی
کہ میں رویا نہ تھا اور پھر ہنسا نئیں
وہ ہجر و وصل تھا سب خواب در خواب
وہ سارا ماجرا جو تھا، وہ تھا نئیں
بڑا بے آسرا پن ہے سو چپ رہ
نہیں ہے یہ کوئی مژدہ خدا نئیں
جون ایلیا

تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 95
مرا یہ مشورہ ہے، التجا نئیں
تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں
کوئی دم چین پڑ جاتا مجھے بھی
مگر میں خود سے دم بھر کو جدا نئیں
میں خود سے کچھ بھی کیوں منوا رہا ہوں
میں یاں اپنی طرف بھیجا ہوا نئیں
پتا ہے جانے کس کا نام میرا
مرا کوئی پتا میرا پتا نئیں
سفر درپیش ہے اک بے مسافت
مسافت ہو تو کوئی فاصلہ نئیں
ذرا بھی مجھ سے تم غافل نہ رہیو
میں بے ہوشی میں بھی بے ماجرا نئیں
دکھ اس کے ہجر کا اب کیا بتاؤں
کہ جس کا وصل بھی تو بے گلہ نئیں
ہیں اس قامت سوا بھی کتنے قامت
پر اک حالت ہے جو اس کے سوا نئیں
محبت کچھ نہ تھی جز بد حواسی
کہ وہ بندِ قبا ہم سے کھلا نئیں
وہ خوشبو مجھ سے بچھڑی تھی یہ کہہ کر
منانا سب کو پر اب روٹھنا نئیں
جون ایلیا

تجھ زبانی تری خبر چاہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 94
خود سے ہر دم ترا سفر چاہوں
تجھ زبانی تری خبر چاہوں
میں تجھے اور تو ہے کیا کیا کچھ
ہوں اکیلا پہ رات بھر چاہوں
مجھ سے میرا سراغ کیوں کہ یہ کام
میں ترے نقشِ پا کہ سر چاہوں
خونِ گرم اپنا پارچے اپنے
میں خود اپنی ہی میز پر چاہوں
ہیں بیاباں مری درازوں میں
کیوں بگولے برہنہ سر چاہوں
مجھ کو گہرائی میں اترنا ہے
پر میں گہرائی سطح پر چاہوں
اک نظر ڈالنی ہے منظر پر
کہکشائیں کمر کمر چاہوں
ضد ہے زخموں میں بیر جذبوں میں
میں کئی دل کئی جگر چاہوں
اب تو اس سوچ میں ہوں سرگرداں
کیا میں چاہوں بھلا اگر چاہوں
جون ایلیا

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 93
خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں
اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں
اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں
میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں
اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں
جون ایلیا

پہلو کا عذاب پی رہا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 92
میں دل کی شراب پی رہا ہوں
پہلو کا عذاب پی رہا ہوں
میں اپنے خرابہء عبث میں
بے طرح خراب پی رہا ہوں
ہے میرا حساب بے حسابی
دریا میں سراب پی رہا ہوں
ہیں سوختہ میرے چشم و مژگاں
میں شعلہء خواب پی رہا ہوں
دانتوں میں ہے میرے شہہ رگ جاں
میں خونِ شباب پی رہا ہوں
میں اپنے جگر کا خون کر کے
اے یار شتاب پی رہا ہوں
میں شعلہء لب سے کر کے سیّال
طاؤس و رباب پی رہا ہوں
وہ لب ہیں بَلا کے زہر آگئیں
میں جن کا لعاب پی رہا ہوں
جون ایلیا

اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 91
خود مست ہوں خود سے آملا ہوں
اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں
میں ہمسفروں کی گرد کے بیچ
اک خود سفری کا قافلہ ہوں
خوشبو کے بدن میں تیرا ملبوس
دم لے کہ ابھی نہیں سِلا ہوں
میں نشہء ذات میں نہتا
احباب سے اپنے آ مِلا ہوں
میں صر صرِ لفظ میں ہوں معنی
پس اپنی جگہ سے کب ہِلا ہوں
جون ایلیا

خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 90
اے صبح، میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں
کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں
میں جرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں
میں اور فقط اسی کی تلاش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں
رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں
اے شخص، میں تیری جستجو میں
بے زار نہیں ہوں ، تھک گیا ہوں
جون ایلیا

راہ گریز پائی ہے صر صر ہے گم یہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 89
پہنائی کا مکان ہے اور در ہے گم یہاں
راہ گریز پائی ہے صر صر ہے گم یہاں
وسعت کہاں کہ سمت وجہت پرورش کریں
بالیں کہاں سے لائیں کہ بستر ہے گم یہاں
ہے ذات کا زخم کہ جس کا شگافِ رنگ
سینے سے دل تلک ہے پہ خنجر ہے گم یہاں
بس طور کچھ نہ پوچھ میری بود و باش کا
دیوار و در ہیں جیب میں اور گھر ہے گم یہاں
بیرون ذات کیسے ہے صد ماجرا فروش
وہ اندرونِ ذات جو اندر ہے گم یہاں
کس شاہراہ پر ہوں رواں میں بہ صد شتاب
اندازِ پا درست ہے اور سر ہے گم یہاں
ہیں صفحۂ وجود پہ سطریں کھنچی ہوئی
دیوار پڑھ رہا ہوں مگر در ہے گم یہاں
جون ایلیا

اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 88
خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں
اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں
غم نہ ہوتا جو کھل کے مرجھاتے
غم تو یہ ہے کہ ہم کھلے بھی کہاں
خوش ہو سینے کی ان خراشوں پر
پھر تنفس کے یہ صلے بھی کہاں
آگہی نے کیا ہو چاک جسے
وہ گریباں بھلا سلے بھی کہاں
اب تامل نہ کر دلِ خود کام
روٹھ لے ، پھر یہ سلسلے بھی کہاں
آو، آپس میں کچھ گلے کر لیں
ورنہ یوں ہے کہ پھر گلے بھی کہاں
جون ایلیا

بیقراری قرار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 87
جبر پُر اختیار ہے اماں ہاں
بیقراری قرار ہے اماں ہاں
ایزدِ ایزداں ہے تیرا انداز
اہرمن دل فگار ہے اماں ہاں
میرے آغوش میں جو ہے اُس کا
دَم بہ دَم انتظار ہے اماں ہاں
ہے رقیب اُس کا دوسرا عاشق
وہی اِک اپنا یار ہے اماں ہاں
یار زردی ہے رنگ پر اپنے
سو خزاں تو بہار ہے اماں ہاں
لب و پستان و ناف اس کے نہ پوچھ
ایک آشوبِ کار ہے اماں ہاں
سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے اماں ہاں
اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 86
ایک ہی بار بار ہے اماں ہاں
اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں
ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی
نظم ایک انتشار ہے اماں ہاں
ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس
جو بھے خود شکار ہے اماں ہاں
وہ جو ہے جو کہیں نہیں اس کا
سب کے سینوں پہ بار ہے اماں ہاں
اپنی بے روزگارئ جاوید
اک عجب روزگار ہے اماں ہاں
شب خرابات میں تھا حشر بپا
کہ سخن ہرزہ کار ہے اماں ہاں
کیا کہوں فاصلے کے بارے میں
رہگزر ، رہگزر ہے اماں ہاں
بُھولے بُھولے سے ہیں وہ عارض و لب
یاد اب یادگار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

تھے تمہاری زلف کے خم رائگاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 85
دل تھا درہم اور برہم رائگاں
تھے تمہاری زلف کے خم رائگاں
اپنی ساری آرزوئیں تھیں فریب
اپنے خوابوں کا تھا عالم رائگاں
زندگی بس رائگانی ہی تو ہے
میں بہت خوش ہوں کہ تھے ہم رائگاں
جون شاید کچھ نہیں کچھ بھی نہیں
ہے دوام اک وہم اور دم رائگاں
جون ایلیا

ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 84
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں جاناں
میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں ترا نشاں جاناں
علام و بیکرانِ رنگ ہے تو
تجھ میں ٹھہروں کہاں کہاں جاناں
میں ہواؤں سے کیسے پیش آؤں
یہی موسم ہے کیا وہاں جاناں؟
روشنی بھر گئی نگاہوں میں
ہو گئے خواب بے اماں جاناں
درد مندانِ کوئے دلداری
گئے غارت جہاں تہاں جاناں
اب بھی جھیلوں میں عکس پڑتے ہیں
اب بھی نیلا ہے آسماں جاناں
ہے پرخوں تمہارا عکس خیال
زخم آئے کہاں کہاں جاناں
جون ایلیا

زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 83
زرد ہوائیں ، زرد آوازیں، زرد سرائے شام خزاں
زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں
شیشے کی دیوار و در ہیں اور پاس آداب کی شام
میں ہوں میری بیزاری ہے اور صحرائے شام خزاں
سورج پیڑوں پار جھکا ہے شاخوں میں لالی پھوٹی
مہکے ہیں پھر اک گم گشتہ رنگ کے سائے شام خزاں
پیلے پتوں کی سمتوں میں ناچ اٹھے ہیں سبز ملال
اب تک بے احوال نہیں ہے موج ہوائے شام خزاں
تنہائی کا اک جنگل ہے سناٹا ہے اور ہوا
پیڑوں کے پیلے پتے ہیں نغمہ سرائے شام خزاں
جون ایلیا

بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 82
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں
ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں
اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
دُھول کے پیش و پس لکھے جاؤں
مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں
ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں
جون ایلیا

رہے آخر تری کمی کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 81
میں سہوں کربِ زندگی کب تک
رہے آخر تری کمی کب تک
کیا میں آنگن میں چھوڑ دوں سونا
جی جلائے گی چاندنی کب تک
اب فقط یاد رہ گئی ہے تری
اب فقط تری یاد بھی کب تک
میں بھلا اپنے ہوش میں کب تھا
مجھ کو دنیا پُکارتی کب تک
خیمہ گاہِ شمال میں۔۔۔آخر
اس کی خوشبو رچی بسی کب تک
اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی
یاد آئیں گے آپ ہی کب تک
مرنے والو ذرا بتاؤ تو
رہے گی یہ چلا چلی کب تک
جس کی ٹوٹی تھی سانس آخرِ شب
دفن وہ آرزو ہوئی کب تک
دوزخِ ذات باوجود ترے
شبِ فرقت نہیں جلی کب تک
اپنے چھوڑے ہوئے محلوں پر
رہا دورانِ جاں کنی کب تک
نہیں معلوم میرے آنے پر
اسکے کوچے میں لُو چلی کب تک
جون ایلیا

یاد آئے گی اب تری کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 80
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا
شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رُلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بَھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشتِ وجود تھی کب تک
وہ صبا اس کے بِن جو آئی تھی
وہ اُسے پوچھتی رہی کب تک
میر جونی! ذرا بتائیں تو
خود میں ٹھیریں گے آپ ہی کب تک
حالِ صحنِ وجود ٹھیرے گا
تیرا ہنگامِ رُخصتی کب تک
جون ایلیا

تو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 79
کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو
تو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو
سفر ہے آخر دو پلک بیچ
سفر لمبا ہے بستر نہ رہیو
ہر ایک حالت کے بیری میں یہ لمحے
کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو
سہولت سے گزر جاؤ مری جاں
کہیں جینے کی خاطر مر نہ رہیو
ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھہرا
سو میرے ساتھ تو دن بھر نہ رہیو
بہت دشوار ہو جائے گا جینا
یہاں تو ذات کے اندر نہ رہیو
سویرے ہی سے گر آ جائیو آج
ہے روزِ واقعہ باہر نہ رہیو
کہیں چھپ جاؤ تہہ خانوں میں جا کر
شبِ فتنہ ہے اپنے گھر نہ رہیو
نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو
جون ایلیا

کہ رُوٹھے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 78
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
کہ رُوٹھے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو
گِلہ تو یہ ہے تم آتے نہیں کبھی لیکن
جب آتے بھی ہو تو فورًا ہی جانے لگتے ہو
یہ بات جون تمہاری مزاق ہے کہ نہیں
کہ جو پھی ہو اسے تم آزمانے لگتے ہو
تمہاری شاعری کیا ہے بھلا، بھلا کیا ہے
تم اپنے دل کی اُداسی کو گانے لگتے ہو
سرودِ آتشِ زرّینِ صحنِ خاموشی
وہ داغ ہے جسے ہر شب جلانے لگتے ہو
سنا ہے کا ہکشاہوں میں روزوشب ہی نہیں
تو پھر تم اپنی زباں کیوں جلانے لگتے ہو
جون ایلیا

ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 77
میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
مجھ کو بقائے عیشِ توہم نہیں قبول
میں تو فنا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، عجب ہے مرا عذاب
ہر لمحہ یا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں غبار جادہ بود و نبود کا
یعنی ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
تم بھی تو آج مجھ سے کرو کچھ سخن کہ میں
نفیِ انا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
موسم مرا کوئی بھی نہیں اس زمین میں
آب و ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
جون ایلیا

جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 76
خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو
جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو
اے یار کسی شام مرے یار کسی شام
بے رونقی ءِ محفلِ یاراں پہ نظر ہو
رنگ ایک ہے وامت کئی اس کے ہیں سو اے دل
ساری ہی صفِ شوخ نگاراں پہ نظر ہو
جو تجھ سے بھی ہیں بےسروکار اب تری خاطر
آخر کبھی ان بےسروکاراں پہ نظر ہو
جو نام شماراں ہیں ترے اہلِ وفا کے
جانں! کبھی ان نام شماراں پہ نظر ہو
جون ایلیا

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 75
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

اک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 74
عزابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
اک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا حسن۔۔تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چُھپا لوں اگر اجازت ہو
تمہیں سے ہے مری ہر خوابِ شوق کا رشتہ
اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمہارے قراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گِرا لوں اگر اجازت ہو
برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 73
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ھی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ھی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
جون ایلیا

حالتِ حال یک صدا مانگو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 72
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو
حالتِ حال یک صدا مانگو
ہر نفس تم یقینِ منعم سے
رزق اپنے گمان کا مانگو
ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک
اس سے دُوری کا سلسلہ مانگو
درِ مطلب ہے کیا طلب انگیز
کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو
گوشہ گیرِ غبارِ ذات ہوں میں
مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو
مُنکرانِ خدائے بخشزہ
اس سے تو اور اک خدا مانگو
اُس شکمِ رقص گر کے سائل ہو
ناف پیالے کی تم عطا مانگو
لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں
کچھ نہ مانگو فقط دُعا مانگو
جون ایلیا

ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 71
تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو
فکرِ ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ
اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو
نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہمراہ ہے تو
جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے
تو نہ ہو گا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو
جون ایلیا

اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 70
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو
جو بھی ہے اس کو گنوا بیٹھا ہے
میں بھلا کیسے گنوا دوں اس کو
تجھ گماں پر جو عمارت کی تھی
سوچتا ہوں کہ میں ڈھا دوں اس کو
جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو
ہجر کی نظر تو دینی ہے اسے
سوچتا ہوں کہ بُھلا دوں اس کو
جو نہیں ہے مرے دل کی دنیا
کیوں نہ میں جون مِٹا دوں اس کو
جون ایلیا

میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 69
حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو
میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو
میری سُنو زمان و مکاں میں رہتے ہوئے
بہ صد سلیقہ زمان و مکاں سے چل نکلو
یہ تیرے لوگ نہیں ہیں یہ تیرا شہر نہیں
یہ مشورہ ہے مرا تو یہاں سے چل نکلو
یہ جو بھی کچھ ہے نہیں کچھ بھی جُز فریبائی
یقیں کو چھوڑ دو یعنی گماں سے چل نکلو
شبِ گزشتہ خراباتیوں میں تھا یہ سوال
کہاں کا رُخ کرو آخر کہاں سے چل نکلو
نفس نفس ہے وجود و عدم میں اک پیکار
ہے مشورہ یہ میرا درمیاں سے چل نکلو
جون ایلیا

شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 68
شکل بھی اک رنگ کی ہو، رنگ کی شب، ہم نفسو
شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو
جب وہ دل و جانِ ادا ہو گا یہاں نشہ فزا
میری ادائیں بھی ذرا دیکھیو تب، ہم نفسو
تم سے ہو وہ عذر کناں، مجھ سے ہو وہ شکوہ کناں
اور میں خود مست رہوں، بات ہے جب، ہم نفسو
شعلہ بسی سے ہے سخن، معنیِ بالائے سخن
اور سخن سوز بھی ہے شعلہ لب، ہم نفسو
آج ہے سوچو تو ذرا، کس کی یہاں منتظری
رقصِ طرف ہم نفسو، شورِ طرف ہم نفسو
اس کی مری دید کا اک طور کہو، کچھ بھی کہو
کیا کہوں میں، کیسے کہوں، ہے وہ عجب، ہم نفسو
نیم شبی کی ہے فضا، ہم بھی ابھی ہوش میں ہیں
اس کو جو آنا ہے تو پھر آئے بھی، ہم نفسو
اپنے سے ہر پل ہیں پرے، ہم ہیں کہاں اپنے در پے
کیسی تمنا نفسی، کس کی طلب ہم نفسو
جون ایلیا

ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 67
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
جون ایلیا

باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 66
مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو
اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں
سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو
تم کو حریمِ دیدہ و دل ہے اگر عزیز
شہروں کے ساتھ آؤ، دیاروں کا ساتھ دو
آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس
اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو
زخموں سے جن کے پھوٹ رہی ہے شعاعِ رنگ
ان حسن پروروں کی قطاروں کا ساتھ دو
روشن گروں نے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں
ان مشعلوں کے سرخ اشاروں کا ساتھ دو
بیدار رہ کے آخرِ شب کے حصار میں
خورشید کے جریدہ نگاروں کا ساتھ دو
یاروں کا اک ہجوم چلا ہے کفن بدوش
ہے آج روزِ واقعہ، یاروں کا ساتھ دو
جون ایلیا

جان ہم کو وہاں بلا بھیجو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 65
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بلا بھیجو
کیا ہمارا نہیں رہا ساون
زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو
نئی کلیاں جو اب کھلی ہیں وہاں
ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو
ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو
دھول اڑتی ہے جو اس آنگن میں
اس کو بھیجو ، صبا صبا بھیجو
اے فقیرو! گلی کے اس گل کی
تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو
شفقِ شام ہجر کے ہاتھوں
اپنی اتری ہوئی قبا بھیجو
کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو
کچھ نہیں، کوئی بد دعا بھیجو
جون ایلیا

یاد تھے یادگار تھے ہم تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 64
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
اُڑتے جاتے ہیں دُھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
تم نے کیسے بُلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیا

گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 63
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو
شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا
کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو
چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب
شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو
ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ
گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو
میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی
میرے اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو
یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا
کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو
یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے
وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو
وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا
یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
جون ایلیا

تُو کون ہے اور ہے بھی کیا تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 62
دل سے ہے بہت گریز پا تو
تُو کون ہے اور ہے بھی کیا تو
کیوں مجھ میں گنوا رہا ہے خود کو
مجھ ایسے یہاں ہزار ہا تو
ہے تیری جدائی اور میں ہوں
ملتے ہی کہیں بچھڑ گیا تو
پوچھے جو تجھے کوئی ذرا بھی
جب میں نہ رہوں تو دیکھنا تو
اک سانس ہی بس لیا ہے میں نے
تو سانس نہ تھا سو کیا ہوا تو
ہے کون جو تیرا دھیان رکھے
باہر مرے بس کہیں نہ جا تو
جون ایلیا

کوئی قاتل برسرِ کارآئے تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 61
سر پر اک سچ مچ کی تلوار آئے تو
کوئی قاتل برسرِ کارآئے تو
سر خرو ہو جاؤں میں تو یار ابھی
دل سلیقے سے سرِدار آئے تو
وقت سے اب اور کیا رشتہ کریں
جانِ جاناں ہم تجھے ہار آئے تو
سب ہیں حامی آسماں کے اے زمیں
کوئی تیرا بھی طرفدار آئے تو
اے عزادارو! کرو مجلس بپا
آدمی۔۔انسان کو مار آئے تو
جون ایلیا

شام سے ہے بہت اداس مشین

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 60
ہار آئی ہے کوئی آس مشین
شام سے ہے بہت اداس مشین
دل وہی کس مشین سے چاہے
ہے مشینوں سے بدحواس مشین
یہی رشتوں کا کارخانہ ہے
اک مشیں اور اس کے پاس مشین
کام سے تجھ کو مَس نہیں شاید
چاہتی ہے ذرا مساس مشین
یہ سمجھ لو کہ جو بھی جنگلی ہے
نہیں آئے گی اس کو راس مشین
شہر اپنے، بسائیں گے جنگل
تجھ میں اگنے کو اب ہے گھاس مشین
ہے خفا سارے کارخانے سے
ایک اسباب ناشناس مشین
ایک پرزا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا
اب رکھا کیا ہے تیرے پاس مشین
جون ایلیا

مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 59
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن
اب نہ کوئی دن مرے گھر جائے گا
جانے کس کے گھر گئے مرے دن
اب نہیں ہیں مرے کوئی دن رات
کہ مجھ ہی کو بسر گئے مرے دن
ساری راتیں گئیں مری بے حال
مرے دن ! بے اثر گئے مرے دن
خوشا اب انتظار ہے نہ امید
یار یاراں ! سدھر گئے مرے دن
اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن
جون ایلیا

سراپا آرزو ہوں آرزو بن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 58
بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن
سراپا آرزو ہوں آرزو بن
کوئی اس شہر کو تاراج کر دے
ہوئی ہے میری وحشت ہائے و ہو بن
یہ سب معجز نمائی کی ہوس ہے
رفو گر آئے ہیں تار رفو بن
معاش بے دلاں پوچھو نہ یارو
نمو پاتے رہے رزق نمو بن
گزارے شوق اب خلوت کی راتیں
گزارش بن گلہ بن گفتگو بن
جون ایلیا

ہاں میاں داستانیاں تھے ہم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 57
دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم
ہاں میاں داستانیاں تھے ہم
ہم سُنے اور سُنائے جاتے تھے
رات بھرکی کہانیاں تھے ہم
جانے ہم کِس کی بُود کا تھے ثبوت
جانے کِس کی نشانیاں تھے ہم
چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی
آخرش آسمانیاں تھے ہم
ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی
اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم
ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر
جاوداں، جاودانیاں تھے ہم
روز اِک رَن تھا تیروترکش بِن
تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم
ارغوانی تھا وہ پیالہء ناف
ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم
نار پستان تھی وہ قتّالہ
اور ہوس درمیانیاں تھے ہم
ناگہاں تھی اک آنِ آن کہ تھی
ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم
جون ایلیا

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 56
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی، مروّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
جون ایلیا

سارا نشہ اُتر گیا جانم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 55
دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم
اک پلک بیچ رشتہء جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم
تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھرگیا جانم
جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم
اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم
تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم
اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم
نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم
زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم
جون ایلیا

تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 54
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداع
تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع
میں تیرے ساتھ بُجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع! میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع
میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع
اِک رودِ ناشناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع
خود اپنی اک متاعِ زبوں رہ گیا ہوں میں
سو الوداع، اے مرے سامان الوداع
سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع
اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع
کِس کِس کو ہے علاقہ یہاں اپنے غیر سے
انسان ہوں میں ، تُو بھی ہے انسان الوداع
نسبت کسی بھی شہہ سے کسی شے کو یاں نہیں
ہے دل کا ذرہ ذرہ پریشان الوداع
رشتہ مرا کوئی بھی الف ، بے سے اب نہیں
امروہا الوداع سو اے بان الوداع
اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے کفر ، اے مرے ایمان الوداع
جون ایلیا

اور چاروں طرف ہے گھر درپیش

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 53
دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش
اور چاروں طرف ہے گھر درپیش
ہے یہ عالم عجیب اور یہاں
ماجرا ہے عجیب تر درپیش
دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش
اب میں کوئے عبث شتاب چلوں
کئی اک کام ہیں ادھر درپیش
اس کے دیدار کی امید کہاں
جبکہ ہے دید کو نظر درپیش
اب مری جاں بچ گئی یعنی
ایک قاتل کی ہے سپر درپیش
کس طرح کوچ پر کمر باندھوں
ایک رہزن کی ہے کمر درپیش
خلوتِ ناز اور آئینہ
خود نگر کو ہے ،خود نگر درپیش
جون ایلیا

کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 52
شہر بہ شہر کر سفر زادِ سفر لیے بغیر
کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر
کوہ و کمر میں ہم صفیر کچھ نہیں اب بجز ہوا
دیکھیو پلٹیو نہ آج شہر سے پَر لیے بغیر
وقت کے معرکے میں تھیں مجھ کو رعایتیں ہوس
میں سرِ معرکہ گیا اپنی سِپر لیے بغیر
کچھ بھی ہو قتل گاہ میں حُسنِ بدن کا ہے ضرر
ہم نہ کہیں سے آئیں گے دو پر سر لیے بغیر
قریہء گریہ میں مرا گریہ ہنرورانہ ہے
یاں سے کہیں ٹلوں گا میں دادِ ہنر لیے بغیر
اُسکے بھی کچھ گِلے ہیں دل۔۔ان کا حساب تم رکھو
دید نے اس میں کی بسر اس کی خبر لیے بغیر
اُس کا سخن بھی جا سے ہے اور وہ یہ کہ جون تم
شہرہء شہر ہو تو کیا شہر میں گھر لیے بغیر
جون ایلیا

صحن ہوا دھواں دھواں ! شام بخیر شب بخیر ۔۔۔

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 51
جاؤ قرار بے دلاں ! شام بخیر شب بخیر
صحن ہوا دھواں دھواں ! شام بخیر شب بخیر ۔۔۔
شام وصال ہے قریب ، صبح کمال ہے قریب
پھر نہ رہیں گے سر گراں ، شام بخیر شب بخیر
وجد کرے گی زندگی جسم بہ جسم جاں بہ جاں
جسم بہ جسم جاں بہ جاں، شام بخیر شب بخیر
اے مرے شوق کی امنگ میرے شباب کی ترنگ
تجھ پہ شفق کا سائباں، شام بخیر شب بخیر
تو مری شاعری میں ہے رنگِ طراز و گل فشاں
تیری بہار بے خزاں، شام بخیر شب بخیر
تیرا خیال خواب خواب خلوتِ جاں کی آب و تاب
جسم جمیل و نوجواں، شام بخیر شب بخیر
ہے مرا نام ارجمند تیرا حصارِ سر بلند
بانو شہر جسم و جاں، شام بخیر شب بخیر
درد سے جان دید تک دل سے رخِ امید تک
کوئی نہیں ہے درمیاں، شام بخیر شب بخیر
ہو گئی دیر جاؤ تم مجھ کو گلے لگاؤ تم
تو مری جاں ہے مری جاں، شام بخیر شب بخیر
شام بخیر شب بخیر، موجِ شمیمِ پیرہن
تیری مہک رہے گی یاں، شام بخیر شب بخیر
زاہدہ حنا کے نام
جون ایلیا

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

یاد کے گھر نہیں رہے آباد

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 49
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد
کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد
ہم کہ اے دل سخن تھے سرتاپا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد
شہر دل میں عجب محلے تھے
ان میں اکثر نہیں رہے آباد
جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد
جون ایلیا

دل کو تھا اس سے اتحاد بہت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 48
سخن آتے ہیں اس کے یاد بہت
دل کو تھا اس سے اتحاد بہت
جب بھی چلتی ہے اس طرف سے ہوا
شور کرتے ہیں نامراد بہت
حُسن پر اس کے نکتہ چیں ہی رہے
تھا طبیعت میں اجتہاد بہت
درمیانِ ہجومِ مشّاقاں
اُس گلی میں رہے فساد بہت
اس کا روزِ سفر اور آج کی شام
درمیاں میں ہے امتداد بہت
مجھ سے اک بادیہ نشیں نے کہا
شہر والے ہیں بدنہاد بہت
زخمِ دل کو بناؤ زخمہ ءِ ساز
بستیوں سے ملے گی داد بہت
جونؔ اسلامیوں سے بحث نہ کر
تُند ہیں یہ ثمود و عاد بہت
جون ایلیا

دل خون کروں تو پوچھیو مت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 47
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا

شام کو میری سر خوشی ہے شراب

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 46
شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سر خوشی ہے شراب
جہل واعظ کا اُس کو راس آئے
صاحبو! میری آ گہی ہے شراب
رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب
ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل ، میری دلبری ہے شراب
ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب
حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفیتو! میری بےحسی ہے شراب
جون ایلیا

میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 45
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی، اجنبی کو بھول گیا
صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا
عہدِ وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی، اسی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں، ہر کسی کو بھول گیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی، آدمی کو بھول گیا
قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غمِ زندگی کو بھول گیا
خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا
کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا
سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا
سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا
ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپین کم فرصتی کو بھول گیا
بستیو! اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا
اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا
یعنی تم وہ ہو، واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن، بت گری کو بھول گیا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا
اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا
جون ایلیا

خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 44
دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
جون ایلیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 43
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
خود کو جانا جدا زمانے سے
آگیا تھا مرے گمان میں کیا
شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا
اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
جون ایلیا

آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 42
خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا
دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا
وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جون ایلیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 41
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا
ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا؟
میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا؟
دل میں اب سوزِ انتظار نہیں
شمعِ امید بجھ گئی ہو کیا؟
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان، تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
جون ایلیا

اور پھر بند ہی یہ باب کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 40
شکوہ اول تو بے حساب کیا
اور پھر بند ہی یہ باب کیا
جانتے تھے بدی عوام جسے
ہم نے اس سے بھی اجتناب کیا
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا
اک طرف میں ہوں ، اک طرف تم ہو
جانے کس نے کسے خراب کیا
آخر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا، اس نے لاجواب کیا
یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا
جون ایلیا

تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 39
نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا
ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں
سبھی تھے جان کی کی جاں اور سبھی کو چھوڑ دیا
شعور ایک شعورِ فریب ہے سو تو ہے
غرض کہ آگہی، ناآگہی کو چھوڑ دیا
خیال و خواب کی اندیشگی کے سُکھ جھیلے
خیال و خواب کی اندیشگی کو چھوڑ دیا
جون ایلیا

صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 38
ہم تھے نیاز مندِ شوق، شوق نے ہم کو کیا دیا
صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا
دن میں عذابِ ذات کے، تُو مرا ساتھ بھی تو دے
نیند تھی میری زندگی، تُو نے مجھے جگا دیا
واعظ و زاہد و فقیہہ، تم کو بتائے بھی تو کون
وہ بھی عجیب شخص تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
تُو نے بھی اپنے خدّ و خال، جانے کہاں گنوا دیئے
میں نے بھی اپنے خواب کو، جانے کہاں گنوا دیا
جانے وہ کاروانِ جاں، کیوں نہ گزر سکا جسے
تُو نے بھی راستہ دیا، میں نے بھی راستہ دیا
تُو مرا حوصلہ تو دیکھ، میں ہی کب اپنے ساتھ ہوں
تُو مرا کربِ جاں تو دیکھ، میں نے تجھے بھلا دیا
ہم جو گلہ گزار ہیں، کیوں نہ گلہ گزار ہوں
میں نے بھی اس کو کیا دیا، اس نے بھی مجھ کو کیا دیا
قید کے کھل رہے تھے در، وقت تھا دل نواز تر
رنگ کی موج آئی تھی، ہم نے اسے گنوا دیا
ہم بھی خدا سے کم نہیں، جو اسے ماننے لگے
وہ بھی خدا سے کم نہ تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
جون ایلیا

سارا گھر احمریں نظر آیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 37
جب وہ ناز آفریں نظر آیا
سارا گھر احمریں نظر آیا
میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے
اپنا گل شبنمیں نظر آیا
حسبِ خواہش میں اس سے ملتے وقت
سخت اندوہ گیں نظر آیا
گرم گفتار ہے وہ کم گفتار
کیا اسے میں نہیں نظر آیا
وقتِ تخصت، دمِ سکوت اور صحن
آج چرخِ بریں نظر آیا
شہر ہا شہر گھومنے والو
تم کو وہ بھی کہیں نظر آیا
اُس کو گم کر کے اپنا ہر دُرِ اشک
ننگِ ہر آستیں نظر آیا
کون آیا ہے دیکھ تیرہ نگاہ!
نظر آیا؟ نہیں نظر آیا
تُو مجھے اے مرے فروغِ نگاہ
اب دمِ واپسیں نظر آیا
جون ایلیا

پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 36
دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا
ہو نہ سکا کبھی ہمیں اپنا خیال تک نصیب
نقش کسی خیال کا ، لوِح خیال پر رہا
نقش گروں سے چاہیے ، نقش و نگار کا حساب
رنگ کی بات مت کرو، رنگ بہت بکھر رہا
جانے گماں کی وہ گلی، ایسی جگہ ہے کون سی
دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کے مر رہا
دل مرے دل مجھے بھی تم اپنے خواص میں رکھو
یاراں تمہارے باب میں، میں ہی نہ معتبر رہا
شہرِ فراقِ یار سے آئی ہے اک خبر مجھے
کوچہ ءِ یادِ یار سے ، کوئی نہیں اُبھر رہا
جون ایلیا

خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 35
تشنگی نے سراب ہی لکھا
خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا
ہم نے لکھا نصابِ تیرہ شبی
اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا
مُنشیانِ شہود نے تا حال
ذکرِ غیب و حجاب ہی لکھا
نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا
دوستو۔۔ہم نے اپنا حال اُسے
جب بھی لکھا خراب ہی لکھا
نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب
پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا
ہم نے اس شہرِ دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا
جون ایلیا

اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 34
اُس نے ہم کو گمان میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا
کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اُس کی اٹھان میں رکھا
جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوپ، ایک چٹان میں رکھا
لمحے لمحے کی اپنی تھی اک شان
تو نہ ہی ایک شان میں رکھا
ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اُس کو ایک امتحان میں رکھا
تم تو اُس یاد کی امان میں ہو
اُس کو کس کی امان میں رکھا
اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا
جون ایلیا