زمرہ جات کے محفوظات: نظم

ننھے بچو!

ننھے بچو، مجھ کو اب تک یاد ہے، جب میں تمہاری عمر میں تھا

تب، وہ لوگ جو مجھ سے بڑے تھے، کتنے اچھے لوگ تھے

سچے اور بھلے!

ننھے بچو!

کل جب تم اس عمر میں ہو گے، میں جس عمر میں ہوں

تب وہ لوگ جو تم سے بڑے تھے

کبھی کے مٹی اوڑھ کے سارے سو بھی چکے ہوں گے

جانےتم اس وقت ہمارے بارے میں کیا سوچو گے!

شاید وہ دن بڑے کٹھن ہوں، پھر بھی اتنا کچھ تو یاد رکھو گے نا

کیسے لوگ تھے، خود تو اپنے لہو میں ڈوب گئے

لیکن اس مٹی پر آنچ نہ آنے دی

جس پر آج تمھاری آرزوؤں کے باغ مہکتے ہیں ۔۔۔

مجید امجد

مسیحا

سدا لکھیں

انگلیاں یہ

لکھتی رہیں

انگلیاں یہ

کاغذ پر

رکی ہوئیں

آنکھیں یہ

کاغذ پر

جمی ہوئیں!

گہری سوچ

جذبِ عمق

آنکھوں سے

روح تلک

پھیلی اِک

دھیان دھنک

آنکھیں سرخ

چپ خودسوز

ڈورے سرخ

لرزاں، محو!

سامنے اک

پارۂ جاں

درد ہی درد

ٹیس، کراہ

بو، تلچھٹ

جرثومے

کوئی سبیل؟

کچھ بھی نہیں

کوئی افق؟

کچھ بھی نہیں

آنکھیں فکر

آنکھیں صدق

آنکھیں کشف

ایک رمق

اک یہ طریق

اک وہ اصول

یہ مشروب

وہ محلول

کچھ کیپسول

سطرِ شفا

حرفِ بقا

آنکھیں یہ

سدا جلیں

سدا جئیں

سکھ بانٹیں

انگلیاں یہ

سدا لکھیں

لکھتی رہیں

سطرِ شفا

حرفِ بقا

لکھتی رہیں

لکھتی رہیں

مجید امجد

افریشیا

دریا کے پانیوں سے بھری جھیل کے کنارے

آئے ہیں دور دور سے افریشیا کے پنچھی!

اجلے پروں کا بھاگ ہیں یہ رزق جو اڑانیں!

اتنے سفر کے بعد یہ تٹ، یہ ذرا سا کھاجا

جوہڑ میں اک سڑی ہوئی پتی ۔۔۔ چُہوں کا چوگا

اک گھونٹ زرد کیچ کا ۔۔۔ مرغابیوں کا راتب

اور اس کے ساتھ گھات میں زد کارتوس کی بھی

چنگاریوں کے تیز تڑختے ہوئے تریڑے

اور پانیوں پہ بہتی ہوئی سنسناہٹوں میں

لہراتے پنکھ، ابھرتے کماندار، زندہ چوکس

آزاد آبناؤں میں جیتے ہیں جینے والے

ٹھنڈی ہوا کی باس میں، بارود کے دھوئیں میں

مجید امجد

ہوس

کبھی تو وہ دِن بھی تھے۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

نہ جانے کیوں دل سیاہ لہروں میں بہہ گیا ہے

کبھی تو وہ دن بھی تھے ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

زمین محورمیں، آسماں چوکھٹے میں، ہر چیز اپنی اپنی حدوں میں محدود، اپنی اپنی بقا میں باقی

شعاعوں میں کروٹیں وہی تابشِ گہر کی

ہواؤں میں دھاریاں وہی موجِ رنگِ زر کی!

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن ۔۔۔ وہ دن جب

بدن پہ بے رنگ چیتھڑے تھے

جہت جہت میں الجھ گئی تھی

زمین اک بے وجود نقطہ

جہان اک رائیگاں صداقت

حیات اک بے وفا حقیقت

عجیب دن تھے، ہر ایک ذرّے کے دل میں داغِ فنا کا سورج ابھر رہا تھا

وہ دن، وہ احساسِ بےثباتی

وہ دولتِ بےزری، وہ اپنی نمودِ بےسود میں غمِ لازوال کو ڈھونڈنے کی خوشیاں

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن، کہ اب تو

ہوا کے ٹھنڈے غرور میں ہیں ہوس کے تیشے

ہوس کے تیشے، جو طنز ہیں میری خودفراموشیوں، مری بےلباسیوں پر

مرے بدن کو بھی اَب تو درکار ہیں وہ ساماں

جو رزقِ سم ہیں، جو مرگِ دل ہیں

مجید امجد

چہرۂ مسعود

مالک، تیری اس دنیا میں، آج ہماری زندگیوں کو کیسے کیسے دکھوں کا مان ملا ہے!

ایسے دکھ جو ٹیس بھی ہیں اور دھیر بھی ہیں اور ڈھارس بھی ہیں!

مالک، آج اس دیس میں، اس بستی میں، کوئی اگر دیکھے تو ۔۔۔ ہر سو

بھری بہاروں، فصلوں، کھلیانوں پر پھیلی دھوپ کی تہہ کے تلے

اک خون کے چھینٹوں والی چھینٹ کی میلی اور مٹیالی چادر بچھی ہوئی ہے

موت کی میلی اور مٹیالی موج میں رنگ لہو کے، نقش لہو کے

ایک ایک چمکتی سطح کے نیچے، راکھ لہو کی، ساکھ لہو کی

کوئی اگر دیکھے تو آج اس دیس میں، بانس کی باڑی میں، دھان کے کھیت میں ٹھنڈی ریت میں

جگہ جگہ پر ۔۔۔ بکھری ہوئی نورانی قبریں، آنگن آنگن روشن قدریں

مائیں، جن کے لال مقدس مٹی

بہنیں، جن کے ویر منور یادیں

بالک، جن کی مایا بےسُدھ آنسو

مرنے والے کیسے لوگ تھے، ان کا سنجوگ بھی اک سنجوگ ہے، ان کا دکھ بھی ایک عبادت

کیسے لوگ تھے، موت کی لہر پہ آگ کی پینگ میں جھولے، تجھ کو نہ بھولے، ہم کو نہ بھولے!

مالک، ان کے صدہا چہرے اک چہرہ ہیں — پکی اینٹ کی رنگت والا چہرہ

روحوں کی دیوار میں ایک ہی چہرہ، قبروں کی الواح میں ایک ہی چہرہ

مالک، ہمیں بھی اس چہرے کی ساری خوشیاں، سارے کرب عطا کر

مالک، اس چہرے کا سجرا سورج ہماری زندگیوں میں ڈوب کر ابھرے!

مجید امجد

یہ قصہ حاصلِ جاں ہے

یہ قصہ حاصلِ جاں ہے، اسی میں رنگ بھریں

لہو کی لہر کے لہجے میں اپنی بات کہیں

دھوئیں میں آگ کے تیشے ہیں، زخم ہیں، اب ہم

انھی کڑکتے دھماکوں سے اپنے گیت چنیں

ہمارے جیتے گھروندے، ہمارے جلتے جتن

یہ مورچے، یہ جیالے سپاہیوں کی صفیں

جلی زمین، سیہ دھول، صدقِ خوں کی مہک

قدم قدم پہ یہاں مہر و مہ کی سجدہ گہیں

یہ دن بھی کتنے مقدس ہیں، بے بہا ہیں کہ آج

ہمارا حصہ بھی ہے طالعِ شہیداں میں

اسی تڑختی ہوئی باڑھ میں ہمیں کو ملیں

سنورتی، سجتی، نکھرتی دلوں کی اقلیمیں

یہ جینے والوں نے دیکھا کہ اس گروہ میں تھے

وہ جان ہار کہ جو موت کو بھی فتح کریں

میں ان کو طاقِ ابد سے اتار لایا ہوں

یہ شمعیں جن کی لویں میرے آنسوؤں میں جلیں

مجید امجد

سپاہی

تم اس وقت کیا تھے

تمہارے محلکوں، تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا

آسائشیں بھی، وسیلے بھی

اس کبریائی کی ہر تمکنت بھی!

سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا ۔۔۔ زندگی کا ہر اک آسرا بھی

کڑے بام و در بھی

خزانے بھی، زر بھی

چمن بھی، ثمر بھی

مگر تم خود اس وقت کیا تھے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

جب اڑتی ہلاکت کے شہپر تمہارے سروں پر سے گزرے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

اگر اس مقدس زمیں پر مرا خوں نہ بہتا

اگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے

مری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیں

تو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے

تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمت

اسی سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے

مجید امجد

خطۂ پاک

خطۂ پاک، ترے نامِ دل آرا کی قسم

کتنے سچے ہیں، سجیلے ہیں، جیالے ہیں وہ دل

جاگتی جیتی، زرہ پوش چٹانوں کے وہ دل

جن کے موّاج لہو کا سیلاب

تیری سرحد کی طرف بڑھتی ہوئی آگ سے ٹکرایا ہے

دیکھتے دیکھتے بارود کی دیوار گری

ہٹ گئے دشمن کے قدم

خندقیں اٹ گئیں شعلوں سے ۔۔۔ مگر ہائے وہ دل

زندہ ۔۔۔ ناقابلِ تسخیر ۔۔۔ عظیم!

ہائے دلوں کی وہ فصیل

جاوداں اور جلیل

جس کے زینوں پہ ظفرمند ارادوں کی سپاہ

جس کے برجوں میں ملائک کے جیوش

جس کا پیکر ہے کہ اک سطرِ جلی

لوحِ ابد پر تاباں

آیۂ عمرِ شہیداں کی طرح!

مجید امجد

صدائے رفتگاں

یہ واقعے کسی تقویم میں نہ تھے مذکور

یہ لہریں جو ابھی ان ساحلوں سے گزری ہیں

یہ سانحے تو ہمارے دلوں سے ابھرے تھے

ہماری خاک سے یہ قصہ سن سکو تو سنو!

بروزِ جنگ، صفِ دشمنان میں سب کچھ تھا

ہمارے پاس تو کچھ بھی نہ تھا، نہ مکر، نہ حرص

بس ایک سادہ سی دلدادگی تھی اپنی متاع

ابد کا چہرہ اسی اک سپر کی اوٹ میں تھا

تمہارے پاس تو سب کچھ ہے، وہ زمانہ بھی ہے

ہمارے صدق نے اک عکس جس کا دیکھا تھا

تمہارے حصے میں مٹی کی وہ مرادیں بھی ہیں

ہمارے دل نے کبھی جن کی آرزو بھی نہ کی

یہ سیلِ خاک، یہ دنیا، کسے خبر کہ یہاں

ہماری خاک بھی اب زیرِ خاک ہے کہ نہیں

سنو، سنو، یہ صدا کس کی ہے، کبھی تو سنو

ہمیں تو ہیں جو شبوں کو تمہاری بستی میں

دلوں کے بند کواڑوں کو کھٹکھٹاتے ہیں

’’یقینِ مرگ کی نیندوں سے کھیلتی روحو

ہماری زیست کا اک دن کبھی بسر تو کرو! ‘‘

مجید امجد

یہ سرسبز پیڑوں کے سائے

سیہ سنگ، تپتی سڑک پر یہ سرسبز پیڑوں کے سائے

ہوا اس جگہ کتنی ٹھنڈی ہے، جھونکوں پہ سایوں کے دھبے بھی ہیں کتنے ٹھنڈے

درختوں کے اس جھنڈ سے جب میں گزرا

خنک چھاؤں کی ٹکڑیاں سی مرے جسم پر تھرتھرائیں

مرے جسم سے گر کے ٹوٹیں

عجب اک اچھوتی سی ٹھنڈک مری روح میں سرسرائی

سہانے دنوں کی انوکھی سی ٹھنڈک

وہ دن کتنے اچھے تھے جب ایک بھیگی ہوئی سانس کی ریشمیں رو

مرے دِل کی چنگاریوں کے پسینے سے مس تھی

وہ مبہم سی خوشیاں جو چھپ چھپ کے ہر موڑ پر، نت نئے بھیس میں

آ کے روحوں سے ملتی ہیں، مل کر بچھڑتی ہیں، جیسے

ہواؤں پہ سایوں کے چھدرے سے دھبے

فضاؤں میں صدہا سفید و سیہ آفتابوں کے بکھرے سے ریزے

سرِ خاک بے ربط، بے سطر، خاکے

یہ سب کچھ بس اک دو قدم تک۔۔۔

پھر آگے وہی دھوپ، شاداب دردوں کی جانب ہمکتی ہوئی

سنگریزوں پہ بہتی ہوئی دھوپ

حدِ عدم تک!

مجید امجد

درونِ شہر

مجھ سے پوچھو، یہیں کہیں اس پھلواڑی میں کیسے کیسے پھول کھلے تھے

آج انھی پھولوں کی مقدس پنکھڑیوں پر ہیں کیچ کے دھبے

ان روحوں اور ان راہوں سے اڑتی ہوئی اس کیچ کے دھبے

مجھ سے پوچھو

یہیں کہیں ہے، اسی سنہرے شہر کے اندر

اینٹوں کی تہذیب کے سینے میں اک دلدل

گدلے، مگھم، میلے کچیلے دلوں کی دلدل

کڑوے زہرمیں لت پت رسمیں

میں نے جن سے وفا کی ریت نبھائی

میں نے جن کی خاطر

چرکے اپنے ضمیر پہ جھیلے

سکے اپنے دل پر داغے

پہیوں کے دندانوں میں دن کاٹے

سلوں کی دھج کو تج کے، دھجیاں اوڑھ کے

کال کی دھوپ میں کنکر رولے

کس سے پوچھوں، میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

پیتل کے جبڑوں میں کھنکنے والی، کانچ کی آنکھوں میں مسکانے والی

یہی کسیلی پیلی نفرت ۔۔۔ میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

مجید امجد

ایک فلم دیکھ کر

دھیرے دھیرے ساز بجے

اس کے انگ انگ نے اک انگڑائی لی

ابھری رقص کی لے

لچکی اس کے بدن کی ڈھال

اک اک تیز نرت کے ساتھ

ناچتے جسم سے اک اک بندھن اترا، اک اک تکمہ ٹوٹا، پلّو ڈھلک ڈھلک کر رکے، گرے

اور پھر ۔۔۔ سامنے، اک

جگ مگ جسم

گرتی مڑتی، ٹوٹ ٹوٹ کے جڑتی ۔۔۔ مرمر کی ڈھلوان

قاشیں، رگیں، خلیے، ماس، مسام

سب کچھ، ایک تھرکتے بہتے عکس کا جزو

سب کچھ، جسم کی باغی سلطنتوں کی ایک عجب دنیا

گول سڈول کُرے، انمول زمینیں، ساحل، جھرنے، دھوپ

چاندنی، محمل، پھول

سب کچھ، رقص کے روپ میں ڈھلتا، ٹک ٹک چلتا، اک متحرک عکس

سب کچھ، پاس بلاتے، پیاس بڑھاتے ارمانوں کے سراب!

آج اک دوست نے پاس بلا کر چائے پلا کر مجھ سے مری اک بوسیدہ سی نظم سنی

اور پھر اس کے بعد یہ فلم!

باہر نکلا تو سنسان سڑک تھی، شبِ خزاں تھی

ٹھنڈی تیز ہوا میں ننگی شاخیں ناچ رہی تھیں

میں بھی، میری نظم بھی، دونوں تھرتھر کانپ رہے تھے، اتنے لبادوں میں

مجید امجد

ایک شبیہ

کچھ دنوں سے قریب دِل ہے وہ دن

جب، اچانک، اسی جگہ، اک شکل

میری آنکھوں میں مسکرائی تھی

اک پل کے لیے تو ایک وہ شکل

جانے کیا کچھ تھی، جھوٹ بھی، سچ بھی

شاید اک بھول، شاید اک پہچان

کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے اب

یہ سمجھنے لگا ہوں، میں ہی تو ہوں

جس کی خاطر یہ عکس ابھرا تھا

کچھ دنوں سے تو اب میں دانستہ

اس گماں کا فریب کھاتا ہوں

روز، اک شکل اس دوراہے پر

اب مرا انتظار کرتی ہے

ایک دیوار سے لگی، ہر صبح

ٹکٹکی باندھے، نیم رخ، یک سو

اب مرا انتظار کرتی ہے

میں گزرتا ہوں، مجھ کو دیکھتی ہے

میں نہیں دیکھتا، وہ دیکھتی ہے

اس کے چہرے کی ساخت ۔۔۔ ساعتِ دید

زرد ہونٹوں کی پتریاں ۔۔۔ پیتل

سرخ آنکھوں کی ٹکڑیاں ۔۔۔ قرمز

روغنی دھوپ میں دھنسے ہوئے پاؤں

منتظر منتظر، اداس اداس

کبھی پل بھر کو ایک یہ چہرہ

جانے کیا کچھ تھا، لیکن اب تو مجھے

اپنی یہ بھول بھولتی ہی نہیں

ایک دِن یہ شبیہ دیکھی تھی

کچھ دنوں سے قریب دِل ہے وہ دن

کچھ دنوں سے تو بیتتے ہوئے دن

اسی اک دن میں ڈھلتے جاتے ہیں

دن گزرتے ہیں اَب تو یوں جیسے

عمر اسی دن کا ایک حصہ ہے

عمر گزری ۔۔۔ یہ دن نہیں گزرا

جس طرف جاؤں، جس طرف دیکھوں

مجھ سے اوجھل بھی، میرے سامنے بھی

شکل اک ٹین کے ورق پہ وہی

شکل اک دل کے چوکھٹے میں وہی

مجید امجد

بے نشاں

میں اب آیا ہوں ۔۔۔ اتنے برسوں کے بعد

آندھیاں آئیں ۔۔۔ بدلیاں برسیں

دب گئیں خاک کی تہیں، تہہِ خاک

بہتی مٹی میں بہہ گئی مٹی

میرے نادیدہ پیشرو! تری قبر

کس جگہ تھی، یہ اب کسے معلوم

یوں ہی، اپنے قیاس سے میں نے

ریت کی اک شکن کو پہچانا

مٹتی سطحوں پہ ایک ڈوبتی سطر

اک خطِ خاک جس پہ کچھ کنکر

میں نے پہلے تو چن کے رکھ بھی دیے

پھر خیال آیا ۔۔۔ اب یہ کون کہے

قبرتیری یہیں کہیں تھی ۔۔۔ مگر

تھی کہاں؟۔۔۔ شاید اس جگہ تو نہ تھی

کچھ جو سوچا ۔۔۔ نہ جانے کیا سوچا

ذہن میں لاکھ الجھ گئے خاکے

میں نے کنکر وہ سب بکھیر دیے!

بے نشاں خاک میرے سامنے اب

ان جہانوں کا ایک حصہ ہے

جن کے بھیدوں کی تھاہ میں تو ہے

جن کے سایوں کی قبر میں میں ہوں!

مجید امجد

جلوسِ جہاں

میں پیدل تھا، میرے قریب آ کے اس نے، بہ پاسِ ادب، اپنے تانگے کو روکا

اچانک جو بجریلی پٹڑی پہ سُم کھڑکھڑائے، سڑک پر سے پہیوں کی آہٹ پھسل کر جو ٹھہری

تو میں نے سنا، ایک خاکستری نرم لہجے میں مجھ سے کوئی کہہ رہا تھا:

’’چلیں گے کہیں آپ؟ بازار، منڈی، سٹیشن، کچہری؟‘‘

پلٹ کر جو دیکھا تو تانگے میں کوئی سواری نہیں تھی، فقط اک فرشتہ، پھٹے کپڑے پہنے

عنانِ دو عالم کو تھامے ہوئے تھا

میں پیدل تھا، اتنے میں کڑکا کوئی تازیانہ، بہا فرشِ آہن پہ ٹاپوں کا سرپٹ تریڑا

کوئی تند لہجے میں گرجا: ’’ہٹو، سامنے سے ہٹو!‘‘ اور پرشور پہیے گھناگھن مری سمت جھپٹے

بہ مشکل سنبھل کر جو دیکھا، کھچاکھچ بھرے تیز تانگے کی مسند پہ، اِک صورتِ سگ

لجامِ فرس پر جھکی تھی!

یہ لطفِ کریمانۂ خوشدلاں بھی، یہ پُرغیظ خوئے سگاں بھی

مرے ساتھ رو میں ہیں لوگوں کے جتنے رویّے، یہ سب کچھ، یہ سارے قضیّے

غرض مندیاں ہی غرض مندیاں ہیں، یہی کچھ ہے اس رہگزر پر متاعِ سواراں

میں پیدل ہوں، مجھ کو جلوسِ جہاں سے انھی ٹھوکروں کی روایت ملی ہے

مجید امجد

پچاسویں پت جھڑ

اتنا بھرپور سماں تھا ۔۔۔ مگر اب کے تو ہر اک گرتے ہوئے پتے کے ساتھ

اور اک مٹی کی تہہ میرے لہو میں تیری

اور اک ریت کی سلوٹ مرے دل میں ابھری

اور اک زنگ کی پپڑی مری سانسوں پہ جمی

اتنا بھرپور سماں تھا، مگر اب کے تو مجھے جس نے بھی دیکھا، یہ کہا:

’’جانے کیا بات ہوئی، کچھ تو بتا۔۔۔

تیرے ہونٹوں سے تو اَب ایک وہ مرجھائی ہوئی موجِ تبسم بھی گئی‘‘

میں یہ اب کس کو بتاؤں کہ مرے پیکر میں

اک تپش ایسی بھی ہے جس کے سبب

روح کی راکھ پہ شعلوں کی شکن پڑتی ہے

سانس کے بل میں پنپنے کی سکت بٹتی ہے

ٹوٹتی کڑیوں میں جینے کے جتن جڑتے ہیں

میں یہ اب کس کو بتاؤں کہ مرے جسم کے ریشوں کے اس الجھاؤ میں ہے

ایک وہ گرتی سنبھلتی ہوئی نازک سی دھڑکتی ہوئی لہر

جو ہر اک دکھ کی دوا ڈھالتی ہے

جو گزرتے ہوئے لمحوں کے قدم روکتی ہے

مجھ سے کہتی ہے کہ ’’دیکھ، ایک برس اور بجھا

دیکھ اب کے تری بتیسی پہ دھبا سا پڑا، دانت گرا

گھاؤ یہ اب نہ بھرے گا، یہی بہتر ہے کہ ہونٹوں پہ لگا لے کسی جھوٹی سی کڑی سوچ کی مہر

اب کے تو ایک مجھی کو یہ خبر ہے کہ میں کیوں مہر بلب پھرتا ہوں

ورنہ سب لوگ یہی کہتے ہیں: ’’اس شخص کو دیکھو، اب تو

اس کے ہونٹوں سے وہ مرجھائی ہوئی موجِ تبسم بھی گئی‘‘

مجید امجد

میرے خدا، مرے دل!

مرے ضمیر کے بھیدوں کو جاننے والے

تجھے تو اس کی خبرہے، مرے خدا، مرے دل

کہ میں ان آندھیوں میں عمر بھر جدھر بھی بہا

کوئی بھی دھن تھی، میں اس لہر کی گرفت میں تھا

جو تیری سوچ کی سچائیوں میں کھولتی ہے

ہے جس کی رو میں تری ضو، مرے خدا، مرے دل

مرے لہو میں تری لو ہے دھڑکنوں کا الاؤ

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ اس طلسمِ زیاں کے کسی جھمیلے میں

ذرا کبھی جو قدم میرے ڈگمگا بھی گئے

تو اک خیال، ابد موج سلسلوں کا خیال

مرے وجود میں چنگاریاں بکھیر گیا

سنبھل کے دیکھا تو دنیا میں اور کچھ بھی نہ تھا

نہ دکھتی سانس کے ارماں، نہ جیتی مٹی کے لوبھ

نہ کوئی روگ، نہ چنتا، نہ میں، نہ مرے جتن

جو مجھ میں تھا بھی کوئی گُن، ترے ہی گیان سے تھا

کچھ اور ڈوب کے گہرائیوں میں جب دیکھا

تو ہر سلگتی ہوئی قدر کے مقدر میں

نہاں تھے تیرے تقاضے، مرے خدا، مرے دل

ہیں تیری کرنوں میں کڑیاں چمکتے قرنوں کی

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ اس کرے پہ ہے جو کچھ بھی، اس کے پہلو میں ہیں

وہ شعلے جن پہ شکن ہے تری ہی کروٹ کی

ترے ہی دائرے کا جزو ہیں وہ دور کہ جب

چٹانیں پگھلیں، ستارے جلے، زمانے ڈھلے

وہ گردشیں جنھیں اپنا کے ان گنت سورج

ترے سفر میں بجھے تو انھی اندھیروں سے

دوامِ درد کی اک صبح ابھری، پھول کھلے

مہک اٹھی تری دنیا، مرے خدا مرے دل

گھلا ہوا مری سانسوں میں ہے سفر تیرا

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ گو یہی میرا پیکر ضمیرِ خاک سے ہے

مگر اسی مرے تپتے بدن کی بھٹی سے

کشید ہوتی ہوئی ایک ایک ساعتِ زیست

وہ گھونٹ زہر کا ہے جو مجھی کو پینا پڑا

یہ زہرکون پیے؟ کون اپنے سینے میں

یہ آگ انڈیل کے ان ساحلوں سے بھید چنے

جہاں پہ بکھرے ہیں صدہا صداقتوں کے صدف

یہ زہر کون پیے؟ کون بجھتی آنکھوں سے

غروبِ وقت کی خندق کے پار دیکھ سکے

جہاں ازل کے بیاباں میں عمر پیما ہے

حقیقتوں کا وہ دھارا کہ جس کی لہروں میں آج

گلوں کا رس بھی ہے، فولاد کا پسینہ بھی

مرا شعور انھی گھاٹیوں میں بھٹکا ہے

قدم قدم پر مری ٹھوکروں کی زد میں رہیں

کرخت ٹھیکریاں ان کٹھور ماتھوں کی

جو زندگی میں ترے آستاں پہ جھک نہ سکے

قدم قدم پہ سیہ فاصلوں کے سنگم پر

بس اک مجھی کو اس اَن مِٹ تڑپ سے حصہ ملا

تری جرس کی صدا میں ہیں رت جگے جس کے

یہی تڑپ تری کایا، یہی تڑپ مرا انت

جو انت بھی ہو سو ہو، میں تو مٹتی مٹی ہوں

دھڑکتی ریت کے بےانت جھکڑوں میں سدا

رواں رہیں ترے محمل! مرے خدا، مرے دل

تری ہی آگ کی میٹھی سی آنچ ہیں مرے دکھ

یہ راز تو ہی بتا اب، مرے خدا، مرے دل

یہ بات کیا کہ ترے بےخزاں خزانوں سے

جو کچھ ملا بھی ہے تو مجھ کو اک یہ ریزۂ درد

ہیں جس کی جھولی میں کھلیان تیرے شعلوں کے

اور اب کہ سامنے جلتی حدوں کی سرحد ہے

ہر ایک سمت مری گھات میں ہیں وہ روحیں

جو اپنے آپ میں اک راکھ کا سمندر ہیں

یہ روحیں، بِس بھرے، ذی جسم، آہنیں سائے

انھی کے گھیرے میں ہیں اب یہ بستیاں، یہ دیار

کہیں یہ سائے جو پتھرائی آرزوؤں کو

سرابِ زر کی کشش بن کے گدگداتے ہیں

مری لگن کو نہ ڈسنے لگیں، میں ڈرتا ہوں

کہیں یہ سائے، یہ کیچڑ کی مورتیں، جن کے

بدن کے دھبوں پہ رختِ حریر کی ہے پھبن

مری کرن کی نہ چھب نوچ لیں، میں ڈرتا ہوں

کہیں یہ آگ نہ بجھ جائے جس کے انگ میں ہیں

ترے دوام کی انگڑائیاں، میں سوچتا ہوں

نہیں، یہ ہو نہ سکے گا! جو یوں ہوا بھی تو پھر؟

نہیں! ابھی تو یہ اک سانس! ابھی تو ہے کیا کچھ!

ابھی تو جلتی حدوں کی حدیں ہیں لامحدود

ابھی تو اس مرے سینے کے ایک گوشے میں

کہیں، لہو کے تریڑوں میں، برگِ مرگ پہ اک

کوئی لرزتا جزیرہ سا تیرتا ہے جہاں

ہر اک طلب تری دھڑکن میں ڈوب جاتی ہے

ہر اک صدا ہے کوئی دور کی صدا، مرے دل

مرے خدا، مرے دل

مجید امجد

ریزۂ جاں

ہماری زندگیوں کے سمندروں میں چھپے

کہیں دلوں کی تہوں میں عجیب اندیشے

کبھی کبھی انہی لہروں کی گونج میں ہم نے

اک آنے والے تموّج کی سیٹیاں بھی سنیں

مگر یہ کس کو خبر، کیا ہے اک وہ ربطِ عمیق

وہ گھور اندھیروں کا ترکہ ہمارے ذہنوں میں

وہ ایک بِس بھری حس جو ہوا میں بہتے ہوئے

سیاہ لمحوں کی آہٹ کو بھانپ لیتی ہے

کسے خبر ہے کہ اس جان و تن کی گتھی میں

لہو کی پگھلی سلاخوں کے اس جھمیلے میں

کڑی وہ کون سی ہے، الجھے سلسلوں کی کڑی

کہ جس کے دل میں یہ مدھم سی اک جھنک، پھر آج

مرے لیے کوئی مگھم سی بات لائی ہے

میں ڈر گیا ہوں ۔۔۔ پُراسرار واسطوں کے نظام

یہ خوف بھی تو ہے اک وہ حصارِ بے دیوار

جو میرے دل کو تری بستیوں نے بخشا ہے

تری ہی دین، سیہ سانحوں کو سونگھتی حس

ترا ہی خوف، اس ان بوجھے رابطے کا ثمر

میں ایک ریزۂ جاں ان عجب قرینوں میں

ترے ہی خوف کی زد میں، تری گرفت میں ہوں

ترے ہی ربط کی حد میں ۔۔۔ تری پناہ میں ہوں

مجید امجد

سانحات

کوئی بھی واقعہ کبھی تنہا نہیں ہوا

ہر سانحہ اک الجھی ہوئی واردات ہے

آندھی چلے تو گرتی ہوئی پتیوں کے ساتھ

لاکھوں صداقتوں کے ہیں ڈانڈے ملے ہوئے

دیکھے کوئی تو دیکھتی آنکھوں کے سامنے

کیا کچھ نہیں کہ دیکھنا جس کا محال ہے

اک جام اٹھا کے میں نے زمیں پر پٹخ دیا

سوچو، اس ایک لمحے میں کیا کچھ نہیں ہوا

ہر سمت ڈھیر صد صدفِ سانحات کے

قوسِ کنارِ قلزمِ دوراں پہ لگ گئے

پرکھو تو رنگ رنگ کی ان سیپیوں پہ ہے

لہروں کے تازیانوں کی تحریر الگ الگ

چاہو تو واقعات کے ان خرمنوں سے تم

اک ریزہ چن کے فکر کے دریا میں پھینک دو

پانی پہ اک تڑپتی شکن دیکھ کر ہنسو

چاہو تو واقعات کی ان آندھیوں میں بھی

تم یوں کھڑے رہو کہ تمہیں علم تک نہ ہو

طوفاں میں گھر گئے ہو کہ طوفاں کا جزو ہو

مجید امجد

ایکٹریس کا کنٹریکٹ

مرا وجود مری زندگی کا بھید ہے، دیکھ

یہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگِ گل سے خراش

یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز

یہ ایک روح، بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر

ذرا قریب تو آ، دیکھ، تیرے سامنے ہیں

یہ سرخ، رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیے

کبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھے

جو تو کہے تو یہی ہونٹ، سرخ، رس بھرے ہونٹ

ترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں

قریب آ، یہ بدن، میری زندگی کا طلسم

تری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہے

جو تو کہے تو یہی نرم، لہریا آنچل

یہی نقاب، مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئی

یہی ردا، مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئی

یہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہے

بس ایک شرط ۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویز

ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہی

اکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے

ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے

مجید امجد

پہاڑوں کے بیٹے

مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے، جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں، صدیوں سے تنہا

جہاں صرف بےمہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما!

پہاڑوں کے بیٹے

چنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں، سنگِ خارا کے ریزے

سجل، دودھیا، نرم جسم ۔۔۔ اور کڑے کھردرے سانولے دل

شعاعوں، ہواؤں کے زخمی

چٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیں

وطن، گرم پانی کے تسلے میں ڈھیر اَن منجھے برتنوں کا

جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں دربدر ڈھونڈتی ہیں

وطن، وہ مسافر اندھیرا

جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندّیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کر

کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے

ندی بھی زرافشاں، دھواں بھی زرافشاں

مگر پانیوں اور پسینوں کے انمول دھارے میں جس درد کی موج ہے عمر پیما

ضمیروں کے قاتل اگر اس کو پرکھیں

تو سینوں میں کالی چٹانیں پگھل جائیں

مجید امجد

ایک شام

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی باہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں!

یہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں

یہ پگھلے ہوئے زرد تابنے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیں؟

بس اک شورِ طوفاں!

کنارا نہ ساحل!

نگاہوں کی حد تک

سلاسل ! سلاسل!

کہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیں

کہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے — اور اک وہ گاؤں:

وہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں!

مجید امجد

ہوٹل میں

بادل گرجا ۔۔۔ گرے سنہری پردے دلوں، دریچوں پر۔۔۔

بند ہوئے دو گول پپوٹے، چونچ میں دب گئی گرم زبان

چھری چلی حلقوم پہ، تڑپا تپتے توے پہ تڑختا ماس

سج گئے میز پہ مے کے پیالے، بٹ گیا طشتوں میں پکوان

چھت پر بارش، نیچے اجلے کالر، گدلی انتڑیاں

ہنستے مکھ، ڈکراتی قدریں، بھوکی مایا کے سب مان

باہر ۔۔۔ ٹھنڈی رات کا گہرا کیچڑ ۔۔۔ درد بھرے آدرش

چلو یہاں سے ۔۔۔ ہمیں پکارے ننگی سوچوں کا رتھ بان

مجید امجد

دل پتھر کا۔۔۔

اس پتھر پر، اک اک پل کی گھایل آنچ بھی گھاؤ

اس پنکھڑی کو بہا نہ سکا طوفانوں کا بھی بہاؤ

دل پتھر کا

پتھر پنکھڑی پھول کی۔۔۔

دل کیا جانے کہاں ہے وہ بے انت سمے کا پڑاؤ

جہاں پہ جل کر راکھ ہوئے ہیں زندگیوں کے الاؤ

دل جو سنے تو جکڑے ہوئے سناٹوں کی یہ کراہ

اک سندیس ہے، جینے والو! ہم کو یاد نہ آؤ

دل کو یاد کرو وہ سمے، دل بھول چکا وہ سبھاؤ

رات کی میلی کروٹ، آخری سانسوں کا ٹھہراؤ

کسی امر ارمان کی ہچکی، کسی صدا کے شبد

کہیں سے ڈھونڈو ان شبدوں کو

اے بے مہر ہواؤ!

کبھی کھلے پتھر پر پنکھڑی پھول کی

مجید امجد

مشاہیر

کیا لوگ تھے جن کی گردن پر

تلوار چلی ۔۔۔ اک سرد تڑپ

۔۔۔ اک خون میں لتھڑی ہوئی کروٹ

اور وقت کے سیمیں دھارے پر

اک سطر لہو کی چھوڑ گئے!

اچھے تھے وہ جن کو سولی کی

رسی سے لٹک کر نیند آئی

اک تیز کھٹک! اک سرد تڑپ

اور وقت کی دُکھتی چیخوں میں

اک شبد کی شکتی چھوڑ گئے

مٹی بھی اب ان ساونتوں کی

ان کھوئے ہوئے کھنڈروں میں نہیں

اک سطر لہو کی کانپتی ہے

اک شبد کی شکتی ڈولتی ہے

تاریخ کی گلتی پُستک پر

اک نام کا دھبا باقی ہے

کیا کچھ نہ ملا ان جیالوں کو

شعلوں پہ قدم رکھنے میں سکوں

جینے کے لیے مرنے کی لگن

اے وائے وہ جلتی روحیں جنھیں

ہر درد ملا، منزل نہ ملی!

کل ان کی زرہ پوش آرزوئیں

جس آگ کی رو میں بہتی ہوئی

نیزوں کی انی پر ناچ گئیں

وہ آگ تمہاری دنیا ہے

وہ آگ تمہارے پاؤں تلے

جتنوں کی لہکتی جنت ہے

اس اگنی سے، اس جیتے جگوں

کی کھلتی ہوئی پھلواڑی سے

وہ چار دہکتے پھول چنو

اتنا ہی سہی، اتنا تو کرو

تاریخ کی گلتی پُستک پر

اک نام کا دھبا ہو کہ نہ ہو

مجید امجد

کارِ خیر

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

جڑے تڑے پنجر پر ڈال کے سرد سفید کفن

قبر میں جھونک دیے لوگوں نے اک دکھیا کے پران

اچھی تھی وہ اپاہج بڑھیا جس نے جیتے جی

بچے کچھے ٹکڑوں کے بدلے جنت کی جاگیر

امرت پیتی زندگیوں کے چرنوں پر رکھ دی

کیسے بھاگ اس ابھاگن کے تھے جس نے مر کر بھی

ایک سفید کفن کے بدلے رنگیں چہروں پر

کوثر کی اک اجلی موج کی چاندی برسا دی

اس کا جینا، اس کا مرنا، اس کے سارے روگ

صرف اس کارن تھے کہ کبھی کبھی ان شعلوں کی اوٹ

اپنی خوشیوں کو سنولا لیں کچھ دھن والے لوگ

میری روح کو ڈھانپ گیا اک زہر بھرا طوفان

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

مجید امجد

حربے

زندگی کے اسلحہ خانے سے اس روحِ زبوں کو کیا ملا

صرف دو ترچھے سے ابرو، صرف دو پتلے سے ہونٹ

کتنے مہلک ہیں یہ حربے، کیا کہوں ۔۔۔

جب بھی کوئی شبھ گھڑی

اس کے دل پرکھینچ دیتی ہے سنہری زائچے

جب بھی میٹھے مکر کی جھوٹی ہنسی

اس کے چہرے پر بچھا دیتی ہے زریں زاویے

اس کی ترچھی کانپتی جھکتی بھنویں

۔۔۔ دو کٹاریں، جن کے اکھڑے اکھڑے قبضے، انکھڑیاں

اس کے پتلے مسکراتے ٹیڑھے ہونٹ

… آریاں، جن کی دنتیلی دھار، دانت۔۔۔

ٹوٹ پڑتی ہیں دلوں پر اس طرح

بے سپر سچائیوں پر اس طرح کرتی ہیں وار

جیسے باقی جتنی جوہردار قدریں زندگی کے اسلحہ خانے میں ہیں سب ہیچ ہیں

جانے کتنی ایسی روحیں ان کمیں گاہوں میں ہیں

کون ہو ان کا حریف

کاش خود ان کا ضمیرِ بے نیام

ان کی آہن پوش تقدیروں کو گھائل کر سکے

کاش اس خنداں ہزیمت کا تصور، ایک دن

ہو سکے خود ان کے دِل پر حملہ آور، فتح یاب!

مجید امجد

لاہور

کوئی کچھ بھی کہے کہے، مجھے کیا

بات جو میرے دِل میں ہے، میں اگر

آج اپنی زباں پہ لا نہ سکا

کل، مرے بعد، تیری منڈلی پہ جب

آگ برسے گی ۔۔۔ کون بولے گا!

بات یہ ہے، عظیم شہر، تجھے۔۔۔

شاید اس بات کا گماں بھی نہ ہو

ایک دِن آئے گا ۔۔۔ خدا نہ کرے

کبھی وہ دن بھی آئے ۔۔۔ جب ترے برج

قَدَر انداز دشمنوں سے بھرے

آگ انڈیلیں گے تیری گلیوں پر

تیری گلیاں کہ جن میں بستے ہیں آج

لوگ، نیندوں میں تیرتے پیکر

لوگ ڈھلتی مسرتوں سے نڈھال

زنگ کے پھول، شاخِ آہن پر

کوئی دیکھے اگر تو شہرِ شہیر

جن سجیلی سلوں پہ کھینچی تھی

تو نے گلکار سلسلوں کی لکیر

ان کی جھڑتی تہوں میں دفن ہیں آج

پھول برساتی بجلیوں کے ضمیر!

دیکھتے دیکھتے بکھر بھی گئی

مٹتے کھنڈروں کو جیتے آنگنوں سے

جوڑنے والی آنسوؤں کی لڑی

میں نے اکثر سنی ہے تیری کراہ

کھوکھلے قہقہوں کی بھیڑ میں بھی!

یوں گری وقت کی کمان کی زہ

سب کٹیلے طلسم ٹوٹ گئے

رہ گئے ہم، سو اپنا حال ہے یہ

اتنی نازک ہیں الجھنیں اپنی

جیسے پنکھڑی میں دھاریوں کی گرہ

یاد بھی ہے کہ مٹنے والوں نے

تیری مٹی کو رکھ کے پلکوں پر

یہ قسم کھائی تھی کہ تیرے لیے

اسی دھرتی سے ہم، دھڑکتی ہوئی

زندگی کا خراج مانگیں گے!

اسی دھرتی پہ، آج شہرِ جمیل!

کتنی اونچی ہے، کتنی کڑیل ہے

تیری بے سنگ سرحدوں کی فصیل

جس کے گھیرے میں گھاٹیوں کی گھٹا

جس کی خندق سمندروں کی سبیل!

یہی بل کھاتی، جاگتی دیوار

جو دِلوں کی سلوں سے ڈھالی گئی

آج، جب اس کے کنگروں کی قطار

صفِ سوزاں ہے، ہم نہیں چونکے

کل جب اس کے سلگتے زخنوں کے پار

خون چھلکے گا، ہم نہیں ہوں گے

ہم نہیں ہوں گے، لیکن اے مرے دیس

ایک دن آئے گا، خدا نہ کرے

کھی وہ دِن بھی آئے، جب ترے برج

قدر انداز دشمنوں سے بھرے

تری گلیوں پہ آگ انڈیلیں گے

تری گلیاں کہ جن کے سایوں میں کل

لڑکھڑاتے مقدروں کے پرے

ٹوٹتی سیڑھیوں سے اتریں گے

وقت کی موج سے ابھرتی ہوئی

قوم کی وردیاں پہن لیں گے!

ہم بھی اے کاش دیکھ سکتے انہیں

کون ہوں گے وہ لوگ جن کے بدن

خود ہمارے لہو کی دیواریں

جن کے سینوں میں سنسناتے الاؤ

خود انھی کے شعور کی لپٹیں!

یوں تو کس کو خبر ہے کل کیا ہو

پھر بھی، اے شہرِ خوش قبا، تیرے

دوش پر ہے جس آفتاب کی ڈھال

جب یہ سورج بدست فردا ہو

جب قدم ظلمتوں کا پسپا ہو

یاد رکھنا کہ یہ رُتیں، فصلیں

یہ بہاریں جو آگ کی رو سے

زندگی کے گلاب کا رس لیں

رو گئی ہیں انہیں، کسے معلوم

کتنی بے عزم، زرد رو نسلیں

کتنے بے عزم، زرد رو پیکر

چند خوشیوں کا سوگ جن کے جتن

چند خوابوں کی گرد جن کے نگر

یہی ہم، جن کی ہر تڑپ سے ہے آج

سو شکن دشمنوں کے ماتھوں پر

فتح اس آتشیں شکن کی شکست

جو ترے دشمنوں کے ماتھوں پہ ہے

کتنی ان مٹ ہیں، کون جانتا ہے

یہ جو ریکھائیں ترے ہاتھوں پہ ہیں

مجید امجد

وقت

وقت ہے اک حریمِ بےدیوار

جس کے دوار آنگنوں میں سدا

رقص کرتے ہوئے گزرتے ہیں

دائروں میں ہزارہا ادوار

بیتتی بات اور آنے والی آن

امرِ امروز اور فرِ فردا

سب زمانے، تمام عرصۂ دہر

وقت کی ایک تیز لہر کی عمر!

کل وہ سب کچھ تھا جو کچھ آج بھی ہے

آج جو کچھ ہے، اس زمانے میں تھا

جب وہ سب کچھ کہ جس نے ہونا ہے

ہو چکا تھا، یہ کھیل ہونی کے!

لاکھ قرنوں کے ان قرینوں میں

نہ کوئی دن نہ سِن، نہ یوم نہ عصر

صرف اک پل، بسیط، بے مدت

اپنے بھیدوں کی حد میں لامحدود

اس کی یک رنگیوں میں یکساں ہیں

ہنستے سنجوگ بھی، بجھے دل بھی

سلسلے سجتی سجتی سیجوں کے بھی

مسئلے مسلے مسلے پھولوں کے بھی

وقت بہتا ہوا وہ دھارا ہے

جس کی رو خنجروں کی دھار نہیں

وقت جیتی حقیقتوں کا جتن

مرنے والے کبھی مرے ہی نہیں

اتنے پہلو ہیں اس پہیلی کے

اور اک ہم، کہ جن کے علم کی لِمِ

ہے فقط انگلیوں کا لمس اور بس

ہائے اندھی روایتوں کے طلسم

Richard Aldington کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

بارکش

چیختے پہیے، پتھ پتھریلا، چلتے بجتے سُم

تپتے لہو کی رو سے بندھی ہوئی اک لوہے کی چٹان

بوجھ کھینچتے، چابک کھاتے جنور! ترا یہ جتن

کالی کھال کے نیچے گرم گٹھیلے ماس کا مان

لیکن تیری ابلتی آنکھیں، آگ بھری، پُرآب

سارا بوجھ اور سارا کشٹ ان آنکھوں کی تقدیر

لاکھوں گیانی، من میں ڈوب کے ڈھونڈیں جگ کے بھید

کوئی تری آنکھوں سے بھی دیکھے دنیا کی تصویر!

مجید امجد

دو دلوں کے درمیاں

شام کی بجھتی ہوئی لو، ایک ان بوجھی کسک

پانیوں، پگڈنڈیوں، پیڑوں پہ سونے کی ڈلک

جامنوں کے بور کی بھینی مہک میں دور تک

جسم اندر جسم سائے، لب بہ لب پرچھائیاں

انگ انگ انگڑائیاں

ہائے یہ مدھم سے شعلے اُس مقدس آگ کے

جس کی لپٹوں میں سدا سمٹے رہے، پھیلے رہے

تیرے ہونٹوں اور مرے ہونٹوں کے جلتے فاصلے

ساتھ چلتی سنگتوں کے سنگ بہتی دوریاں

دو دلوں کے درمیاں

مجید امجد

صاحب کا فروٹ فارم

یہ دھوپ جس کا مہین آنچل

ہوا سے مس ہے ۔۔۔

رُتوں کا رس ہے!

تمام چاندی جو نرم مٹی نے پھوٹتے بور کی چٹکتی چنبیلیوں میں انڈیل دی ہے

تمام سونا جو پانیوں ٹہنیوں شگوفوں میں بہہ کے ان زرد سنگتروں سے ابل پڑا ہے

تمام دھرتی کا دھن جو بھیدوں کے بھیس میں دور دور تک سرد ڈالیوں پر بکھر گیا ہے

رُتوں کا رس ہے

رُتوں کے رس کو گداز کر لو

سبو میں بھر لو

یہ پتیوں پر جمے ہوئے زرد زرد شعلے، یہ شاخساروں پہ پیلے پیلے پھلوں کے گچھے

جو سبز صبحوں کی ضو میں پل کر، کڑی دوپہروں کی لو میں ڈھل کر

خنک شعاعوں کی اوس پی کر

رُتوں کے امرت سے اپنے نازک وجود کے آبگینے بھر کر

حدِ نظر تک بساطِ زر پر لہک رہے ہیں

شراب ان کی کشید کر لو

سبو میں بھر لو

سبو میں بھر لو یہ مدھ، یہ مدرا، کہ اس کی ہر بوند سال بھر سو صراحیوں میں دیے جلائے

یہی قرینہ ہے زندگی کا، اسی طرح سے، لہکتے قرنوں کے اس چمن میں، نہ جانے کب سے

ہزارہا پتتے سورج لنڈھا رہے ہیں وہ پگھلا تانبا، وہ دھوپ جس کا مہین آنچل

دِلوں سے مس ہے، وہ زہر جس میں دکھوں کا رس ہے

جو ہو سکے تو اس آگ سے بھر لو من کی چھاگل

کبھی کبھی ایک بوند اس کی کسی نوا میں دیا جلائے

تو وقت کی پینگ جھول جائے

مجید امجد

ایرپورٹ تے

میدان ہوائی جہازوں دے اساں وچ قطاراں ڈٹّھی

سو سو بتی بلدی، کائی رتّی تے کائی چٹّی

اُوڈے آون تے اُوڈے جاون کونجاں وانگ کھٹولے

جنھاں ڈٹھی ست اسماناں دی ہر گھجل تھاں ان ڈٹھی

لکھاں رنگ برنگے بھیساں وچ پئے پھردے ہسدے ٹولے

جنھاں ہسدیاں ہسدیاں تروڑ لئی ساڈے دل دی کھِڑدی سٹّی

تری رہ وچ پندھ پہاڑاں دے، ترے کھمبا ہیٹھ سمندر

اُڈدیے کونجے، لے چل ساڈی درد فراق دی چٹھی

جا آکھیں دور دے دیساں دے وسنیکاں نوں جا آکھیں

تسیں بدلاں دے وچ وسدے، اسیں مٹی دے وچ مٹی

مجید امجد

معاشرہ

ہر طرف رات کے اندھیروں کے

سرسراتے وجود سایوں کی طرح

دبے پاؤں رواں ہیں، کیا کیجے

جب ذرا بھی سسکتی روحوں کی

کوئی ناداں، نچنت انگڑائی

اپنا بوجھل لباس اتارتی ہے

سائے رکتے ہیں، سائے ہنستے ہیں

رات، خاموشیاں، دھڑکتے دل

صحن میں چارپائیوں کے گرد

ہمہ تن گوش، جاگتی دیوار۔۔۔

جھانکتا سر ۔۔۔ منڈیر پر گملا

دیکھتی آنکھ ۔۔۔ نیم وا روزن

جب ذرا بھی برہنہ سپنوں کی

کوئی رو پیرہن سنبھالتی ہے

ایک دھیمی سی چاپ، نیند کی نند

دو قدم بڑھ کے لوٹ جاتی ہے!

رات کے فرش پر قدم رکھتی

ساعتیں اپنے ساتھ لائی ہیں

کتنے ارمان، کتنی زنجیریں!

جب بھی جھونکوں کی گدگدی سے کسی

آرزو کی قبا مسکتی ہے

جب بھی پگھلے دلوں کے جوشن کا

بند کوئی ذرا چٹختا ہے

سایوں کے دیو، اپنے کالے مکٹ

ابروؤں کی شکن پہ سرکا کر

جاگتی کروٹوں کو گھورتے ہیں

مجید امجد

پامال

سورج نکلا، رنگ رچے

کرنوں کے قدموں کے تلے

سوکھی گھاس پہ کھلتے ہوئے

پیلے پیلے پھول ہنسے!

کرنوں کے چرنوں پر جب

اس مٹی نے رکھ دیے لب

مسلی گھاس پہ بچھ گئی، سب

ہنستی زندگیوں کی چھب!

اس مٹی کے ذرّے ہم

کیا کہیں اپنا قصۂ غم!

کیا کہیں ہم پر کیا بیتی

اندھے کھوٹے قدموں کی

ٹھوکر اپنی قسمت تھی

ٹھوکر کھائی، آنکھ کھلی

آنکھ کھلی تو بھید کھلا

وہ سب جن کے قدموں کا

ریلا ہم کو روند گیا

ان میں سورج کوئی نہ تھا

میری طرح اور تیری طرح

سب مٹی کے ذرّے تھے

مجید امجد

بھادوں

گدلی گدلی جھیل ہوا کی جس کے خنک پاتال میں ہم

سانس روک کے ڈھونڈ رہے ہیں جیون کے انمول خزانے، گھائل خوشیاں، چنچل غم

سب کچھ ایک اداس تھکن کے بندھن، کیا ماضی کیا حال

ایک اتھاہ لگن کی کڑیاں، سبز درخت اور کالے کھمبے، ٹھنڈے کنج اور جلتے جال

سامنے دیکھیں تو لوہے کی باڑ کے پار افق سے پرے

سوکھے، سرد، سیاہ بنوں کی چھدری چھدری چھاؤں میں جھلکیں دھبے آتی صبحوں کے

بھورے بادل کی سلوٹ میں پیلے پیتل کی ڈوری

دکھتی جیوٹ رکتی جولاں دل کی کل میں ایک کمانی وقت کے چلتے پہیے کی

کیا کرے کوئی یہی بہت ہے جاگتی ٹیس اک درد بھری

مدھم بھونکے کا اکتارا، کھلتے گھونگھٹ آرزوؤں کے، بھیگی پلکیں سوچوں کی

سدا رہے یہ سماں سہانا، رت یہ سلگتی سانسوں کی

پھیلتی اگنی میں بل کھاتی گیلی دھرتی، دھندلا امبر، کھلتی کونپل بھادوں کی

مجید امجد

بول انمول

اب یہ مسافت کیسے طے ہو، اے دل، تو ہی بتا

کٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے، پھر بھی وہی صحرا

چیت آیا، چیتاؤنی بھیجی، اپنا وچن نبھا،

پت جھڑ آئی، پتر لکھے ۔۔۔ آ، جیون بیت چلا

خوشیوں کا مکھ چوم کے دیکھا، دنیا مان بھری

دکھ وہ سجن کٹھور کہ جس کو روح کرے سجدا

اپنا پیکر، اپنا سایہ، کالے کوس کٹھن

دوری کی جب سنگت ٹوٹی، کوئی قریب نہ تھا

شیشے کی دیوار زمانہ، آمنے سامنے ہم

نظروں سے نظروں کا بندھن، جسم سے جسم جدا

اپنے گرد اب اپنے آپ میں گھلتی سوچ بھلی

کس کے دوست اور کیسے دشمن! سب کو دیکھ لیا

راہیں دھڑکیں، شاخیں کڑکیں، اک اک ٹیس اٹل

کتنی تیز چلی ہے اب کے دھول بھری دکھنا

دکھڑے کہتے لاکھوں مکھڑے، کس کس کی سنیے

بولی تو اک اک کی ویسی، بانی سب کی جدا

مجید امجد

دوام

کڑکتے زلزلے امڈے، فلک کی چھت گری، جلتے نگر ڈولے

قیامت آ گئی سورج کی کالی ڈھال سے ٹکرا گئی دنیا

کہیں بجھتے ستاروں، راکھ ہوتی کائناتوں کے

رکے انبوہ میں کروٹ، دو سایوں کی

کہیں اس کھولتے لاوے میں بل کھاتے جہانوں کے

سیہ پشتے کے اوجھل، ادھ کھلی کھڑکی

کوئی دم توڑتی صدیوں کے گرتے چوکھٹے سے جھانکتا چہرہ

زمینوں آسمانوں کی دہکتی گرد میں لتھڑے خنک ہونٹوں سے یوں پیوست ہے اَب بھی

ابھی جیسے سحر بستی پہ جیتی دھوپ کی مایا انڈیلے گی

گلی جاگے گی، آنگن ہمہمائیں گے

کوئی نیندوں لدی پلکوں کے سنگ اٹھ کر

کہے گا ۔۔۔’’رات کتنی تیز تھی آندھی! ‘‘

مجید امجد

صبح کے اجالے میں

تو نے، ہم سفر، دیکھا

صبح کے اجالے میں

راہ کا سہاناپن!

دائیں بائیں، دورویہ

شادماں درختوں کی

جھومتی قطاریں ہیں

ہر قدم کے وقفے پر

دھوپ کی خلیجیں ہیں

چھاؤں کے جزیرے ہیں

جس طرف کو سورج ہے

اس طرف درختوں کی

شبنمیں جبینوں پر

تیرگی کا پرتو ہے!

تیرگی کے پرتو کا

رخ ہماری جانب ہے

جس طرف کو سورج ہے

اس کی دوسری جانب

سربلند پیڑوں کی

شبنمیں جبینوں پر

روشنی کے پرتو کا

رخ ہماری جانب ہے

تو نے، ہم سفر، دیکھا

دھوپ ہے کہ سایا ہے

رہرووں کی مایا ہے

دور دور تک — رستا

دور دور تک — دنیا

دور دور تک — سب کچھ

اک عجب سہاناپن —

صبح کے اجالے میں

مجید امجد

بہار

ہر بار، اسی طرح سے دنیا

سونے کی ڈلی سے ڈھالتی ہے

سرسوں کی کلی کی زرد مورت

تھاما ہے جسے خمِ ہوا نے

ہر بار، اسی طرح سے شاخیں

کھلتی ہوئی کونپلیں اٹھائے

رستوں کے سلاخچوں سے لگ کر

کیا سوچتی ہیں؟ یہ کون جانے

ہر بار، اسی طرح سے بوندیں

رنگوں بھری بدلیوں سے چھن کر

آتی ہیں مسافتوں پہ پھیلے

تانبے کے ورق کو ٹھنٹھنانے

ہر سال، اسی طرح کا موسم

ہر بار، یہی مہکتی دوری

ہر صبح، یہی کٹھور آنسو

رونے کے کب آئیں گے زمانے

مجید امجد

متروکہ مکان

یہ محلّے، یہ گھروندے، یہ جھروکے، یہ مکاں

ہم سے پہلے بھی یہاں

بس رہے تھے سکھ بھرے آنگن، سنہری بستیاں

جانے والے گھر کی چاہت سے تہی پہلو نہ تھے

اتنے بےقابو نہ تھے

روکتا کون؟ اس جھکی محراب کے بازو نہ تھے

اک اٹل ہونی کی زنجیروں میں جکڑے قافلے

ساتھ لے جاتے اسے

بات صرف اتنی کہ اس دیوار کے پاؤں نہ تھے

اب وہ روحیں گونجتے جھکڑ میں گھلتی سسکیاں

ان کے مسکن یہ مکاں

منہدم ادوارکے ملبے پہ جلتی ارتھیاں

راکھ ہوتی ہڈیوں کے گرم گارے میں گندھی

گرتے اشکوں میں ڈھلی

اب یہی اینٹیں ہماری عظمتِ افتادگی

پڑ گئے اینٹوں کے مڑتے زاویوں کے بس میں ہم

بھول کے سب اپنے غم اس دامِ خشت و خس میں ہم

بھڑ گئے آپس میں ہم

یہ محلّے، یہ منڈیریں، یہ محل، یہ منڈلیاں

کون دیکھے اَب یہاں

کھنچ گئی ہیں کتنی دیواریں دلوں کے درمیاں

بھر لیے ہم نے ان ایوانوں میں تھے جتنے شگاف

کون دیکھے آسماں کی چھت میں ہیں کتنے شگاف

مجید امجد

ہیولیٰ

برگ و بر پر، بام و در پر، برف— برف —

ایک نگری، برف — برف —

زرد سورج، سیم گوں میداں، رُپہلی سیڑھیاں

سیڑھیوں کی موج اندرموج ڈھلوانوں پہ چہرے — چتر — چتر —

سیڑھیوں پر سو قمر قوس آئینوں کی اوٹ — اوٹ —

منتظر نظروں کی دنیا عکس — عکس —

کتنے رنگوں سے جو زیبِ دامنِ احساس تھے

بھر گئے تھے گل بداماں راستے

جانے کس کے واسطے—

ساز جاگے، پھول برسے، اِک نوا

اک صدا، جیسے سلگتی چاہتوں کے دیس سے آتی صدا

اک صدا، جیسے زمانوں کے اندھیروں میں صدا دیتی وفاؤں کی صدا

(اک صدا، جیسے مرے دل کی صدا!)

لے تھمی اور نغمہ گر کا پیکرِ بےجاں گرا

سیڑھیوں سے آسماں کی ٹوٹتی محراب تک

بکھرے پھولوں کی چٹختی پنکھڑیوں پر تیز قدموں کی دھمک

آہٹوں کے اس بھنور میں اک جھجکتی چاپ کی دھیمی جھنک

(میرے دِل کی دھڑکنوں کو روندنے والی کسک)

رات، بجھتی شمع، نیندوں کا غبار

برف کی زنجیر میں جکڑے ہوئے جھونکوں کی بزم

میں کہاں تھا کچھ بتا، اے دل کی لو پر ناچتی ناگفتہ نظم!

مجید امجد

سنگت

شیشم کی اک شاخ پر

کھیلے سکھ کے کھیل

کھلتی، بڑھتی، رینگتی

چمپا کی اک بیل

جس کی نازک ڈور سے

جھم جھم لہرائیں

لچّھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچّھے پھولوں کے!

اک شاداب درخت پر

یہ شاداب کمند!

جسموں کی سنجوگتا

روحوں کا سمبند

میرے من میں تیر گئیں

جیون کی پرچھائیں

لچھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچھے پھولوں کے

مورکھ کیا ہے زندگی؟

سنگت کا سنگیت

دکھ کی چڑھتی پینگ میں

ہنستے دلوں کی ریت!

گھنی گھنیری ڈال پر

سندر روپ لتائیں

لچھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچھے پھولوں کے!

مجید امجد

صدا بھی مرگِ صدا

نہ کوئی سقفِ منقّش، نہ کوئی چترِ حریر

نہ کوئی چادرِ گل اور نہ کوئی سایۂ تاک

بس ایک تودۂ خاک

بس ایک ٹھیکریوں سے ڈھکی ہوئی ڈھلوان

بس ایک اندھے گڑھے میں ہجومِ کرمکِ کور

بس ایک قبۂ گور

نہ کوئی لوحِ مسطر، نہ کوئی خشتِ نشاں

یہی پہ دفن ہے وہ صاحبِ سخن کہ جسے

نظامِ دنیا نے

ہزار مرتبہ عرضِ نوا کی دعوت دی

مگر وہ اپنی فصیلِ خیال میں محصور

رہِ زمانہ سے دور

خروشِ برقِ سرِ نیستاں سے بےپروا

سکوتِ سینۂ یک چوبِ نَے میں ڈوب گیا

صدا بھی مرگِ صدا!

یہیں پہ دفن ہے وہ روح جس کی دھیمی آگ

کبھی جو ڈھل بھی سکی تو ڈھلی بہ قالبِ حرف

پہن کے جامۂ برف

ضمیرِ ارض پہ کھینچی گئی لہو کی لکیر

اور اس کا ایک بھی چھینٹا نہیں سرِ قرطاس

بہ مصحفِ احساس!

ستم کی تیغ چلی، گردنوں کی فصل کٹی

اور اس تمام فسانے کی اک بھی سطرِ حزیں

زبورِ غم میں نہیں!

پکارتی رہیں پیہم کراہتی صدیاں

اور ایک گونج بھی ان کی نہیں صدا انداز

بہ گنبدِ الفاظ

پہاڑ لرزے، ستاروں کی بستیاں ڈولیں

اُلٹ سکی نہ مگر رخ سے پردۂ افسوں

روایتِ مضموں!

یہیں پہ دفن ہے وہ جسم، وہ روایتِ خاک

وہ دل کہ جس کے دھڑکتے ہوئے بیانِ الم

کو چھو سکا نہ قلم!

یہیں پہ گلتی ہوئی ہڈیوں کے ڈھیر میں اب

دبے پڑے ہیں وہ لمحے جو رزقِ سم نہ بنے

نوائے غم نہ بنے!

یہیں پہ ریزۂ سل بن کے جم گئے ہیں وہ ہات

جو اشکبار زمانوں کی موجِ رقصاں سے

شرار چن نہ سکے!

کرید کر کوئی اس راکھ کو اگر دیکھے

تو آج ایک رگِ سنگ ہے وہ نبضِ تپاں

وہ جوئے خونِ رواں

وہ زندگی کے تلاطم میں ڈوبتی ہوئی آگ

صریرِ خامہ کی تقدیس بیچتا ہوا فن

تمام گردِ کفن!

یہ کِرم خوردہ اساطیر کا بلند الوند

یہ سب درست، مگر پھر بھی اک سوال ہے آج

جواب کا محتاج

کوئی بتائے کہ اس وقت کیا کرے انساں

جب آسمان کی آنکھوں سے روشنی چھینیں

ستم کی سنگینیں

یہی سوال اب اس قبر کے اندھیروں میں

ہزار رینگتے کیڑوں کی سرسراہٹ ہے

اجل کی آہٹ ہے

یہ قبر طنز ہے ان لازوال ارادوں پر

نگل گئے جنھیں ظلمت کے خشمگیں عفریت

مقدروں پہ محیط!

مقدروں کے دھوئیں سے ابھرتے رہگیرو

نشان اس کا مٹاتے چلو زدِ پا سے!

جبینِ دنیا سے!

مجید امجد

نظم

دکھ کا ہر بہروپ انوکھا

ہر الجھن کا روپ انوکھا

غم کو جب اس دھرتی پر پرکھا

اک پل دھوپ اور اک پل برکھا

دردوں کے بندھن میں تڑپیں

لاکھوں جسم اور لاکھوں روحیں

میں جس آگ سے کلیاں چھانوں

میرا قصہ ہے، میں جانوں

شام ہوئی ہے، سوچ رہا ہوں

تو سورج ہے، میں دنیا ہوں

لوٹ کے آنا تیرے بس میں

تجھ کو پانا تیرے بس میں

سایوں کی اک اک کروٹ پر

زنجیروں میں ڈوب گیا ہوں

دل میں چند شرارے لے کر

اپنی راکھ سے کھیل رہا ہوں

مجید امجد

سفرِ درد

سطحِ سحر، سفینۂ غم، جوئے لالہ گوں

کنجاہ کی گلی کا سکوتِ اجل سکوں

قاتل کا وار، سینۂ صدلخت، موجِ خوں

اک صاحبِ قلم پہ جو گزری، میں کیا کہوں

نوک اس کے دل کو چیر گئی جس کٹار کی

اس پر گرفت تھی ستمِ روزگار کی

اک ہاتھ بڑھ کے شانۂ دیوار پر رکھا

وہ زد، وہ چند ڈولتے قدموں کا فاصلہ

اک گام، اور جادۂ دوراں سمٹ گیا

اک سانس، اور سب سفرِ درد طے ہوا

اک آخری تڑپ جسدِ لرزہ گیر کی

مٹی پہ ایک قوس لہو کی لکیر کی

اک زندگی کراہتے لمحوں میں ڈھل گئی

اک شمع موجِ اشک پہ بجھ بجھ کے جل گئی

اک بےگنہ پہ ظلم کی شمشیر چل گئی

خونی اَنی پہ ایک جوانی مچل گئی

ہے بھی یہاں غریب کی ہستی کا کوئی مول؟

میں پوچھتا ہوں، مدعیِ عدل، کچھ تو بول

مجید امجد

عیدالاضحیٰ

ہزار جشنِ مسرت ترے گلستاں میں

ہزار رنگِ طرب تیرے روئے خنداں پر

جھکی ہے شوکتِ کونین تیرے قدموں میں

پڑا ہے سایہ ترا اوجِ سربلنداں پر

تری حیات کا مسلک، ترے عمل کا طریق

اساس اس کی ہے کیشِ وفا پسنداں پر

تجھے عزیز تو ہے سنتِ براہیمی

تری چھری تو ہے حلقومِ گوسفنداں پر

مگر کبھی تجھے اس بات کا خیال آیا؟

تری نگاہ نہیں دردِ دردمنداں پر

مجید امجد

توسیعِ شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرےدار

گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار

بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم

قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم

گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار

کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار

سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ، لہکتی ڈال

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک، اے آدم کی آل

مجید امجد

سایوں کا سندیس

بھیگی بھیگی، نتھری نتھری روشنیوں کا دن

رستے رستے پر بےبرگ درختوں کے سائے

دھوپ کے پیلے آنچل پر مٹیالے گل بوٹے

دنیا ان کو روند گئی، یہ خاکے مٹ نہ سکے!

میٹھی میٹھی ٹھنڈک، نکھرا نکھرا دن اور میں

بھیگے رستوں سے یہ سائے چننے آیا ہوں

میرے من میں ہیں جو جھمیلے، ان سے کیوں الجھوں

اپنی جھولی آج ان مسلے پھولوں سے بھر لوں

شیتل شیتل دھوپ میں بہتے سایوں کا یہ کھیل

اِک ڈالی کی ڈولتی چھایا، لاکھ اَمِٹ ارمان

تھرتھر کانپیں سوکھے پتے، جھم جھم جھمکیں دھیان

یہی بہت ہے پت جھڑ کی اس سہمی رُت کا دان

مجید امجد

کیلنڈر کی تصویر

اچانک جو ہوٹل کی دیوار کے

اک اونچے دریچے میں لٹکی ہوئی

شبیہِ حسیں پر نظر جا رکی

پیالی مرے ہاتھ سے گر پڑی

کہا دل سے میں نے

کہ اے خوش خرو!

نگاریں ہے جس سے ترے غم کا ظرف

وہ خطِ جبیں

وہ خالِ مبیں

نہیں — یہ نہیں

زباں پر نہ لا نامِ شیریں کے حرف

کہاں تیرے شعلے، کہاں شہرِ برف!

میں اس سوچ میں تھا کہ دیوارِ دل

پر اک عکس ابھرا مرے روبرو

وہی وضعِ رُو

وہی قطعِ مو

خراباتِ ایام میں چار سو

کھنکنے لگے طاقچوں پر سبو

مجید امجد

نگاہِ بازگشت

آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعتِ دید

آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو

میری ان تشنہ نگاہوں کی صدا

کوئی بھی سن نہ سکا

صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا

جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی

صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا

مجھے تو نے، تجھے میں نے دیکھا

آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ساعتِ دید!

کیا خبر، پھر تو پلٹ کر مری جانب کبھی دیکھے کہ نہ دیکھے، لیکن

ایک عمر اب میں یونہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے

مجید امجد

دنیا سب کچھ تیرا۔۔۔

سب کچھ تیرا، اے دنیا

دریا دریا بجتے ساز

نگری نگری موہن مُکھ

بام بام پر چاند

کرن کرن گلنار!

آسمانوں اور زمینوں کے سب روپ

سب کچھ تیرا — اے دنیا!

تیرے طاق پہ میں اک دیپ

تو صدیوں کے گارے میں اک گندھی ہوئی دیوار

میں اک پل کی راکھ

اک دھڑکن کی ہُوک

جل گئی عود کی شمع

گر گئی بےبس راکھ

رات کے پربت سے ٹکرا گئی خوشبو کی اک لہر

پھر وہی رنگ اور پھر وہی روپ

نگری نگری موہن مکھ

کرن کرن گلنار

مجید امجد

ایک فوٹو

لے کر نیلم جڑے تھال میں، نیل کمل کے پھول

کس شردّھا سے کھڑا ہے تیرے چرنوں کے نزدیک

ٹھہری ٹھہری، گہری جھیل کا شیتل شیتل جل

پتلی، پیچاں بیلڑیوں کے جھرمٹ کے اوجھل

جھیل کنارے تو بیٹھی ہے، اپنے آپ میں گم

تیرے پاؤں تلے، پانی پر، نیلوفر کے پھول

جن پہ چھڑکنے آئی ہے البیلی رُتوں کے روپ

تیتریوں کے پروں کی پیلی چادر اوڑھ کے دھوپ

نیلی جھیل، سجیلے پھول، البیلی رُت اور تو

ایک تری یہ بھیجی ہوئی رنگیں تصویر اور میں

روشن کمرہ، جگمگ یادیں، نیر بہاتی چاہ

باہر کالی رات کی ساکت جھیل، سیاہ، اتھاہ

ایک کنارے جیون کی رتنار رُتوں کے سنگ

تیرا سہانا دیس، برستی برف، کھنکتے ساز

ایک کنارے امرت پیتے، جیتے جگوں کی اوٹ

میری آخری سانس کی دھیمی بےآواز آواز

مجید امجد

وہ ایک دن بھی عجیب دن تھا

وہ ایک دن بھی عجیب دن تھا

تم آئے، بادل امنڈ کے آئے

ہزارہا رنگتوں کے سائے

فضائے دوراں پہ تھرتھرائے

تم آئے — اور برگِ صد شجر سے

الجھنے والی شعاعِ زر سے

تمہاری زلفوں پہ پھول برسے

عجیب دن تھا، ہر ایک پتی سنور رہی تھی

ہر ایک موجِ ہوا تڑپ کر گزر رہی تھی

جدھر بھی دیکھا، ہر ایک شے رقص کر رہی تھی

پہاڑ صدیوں سے جن کے سنگین پاؤں پاتال میں گڑے تھے

دھڑام سے، دفعتاً، ابلتے ہوئے سمندر میں گر پڑے تھے

پھر ایک لمحے کے بعد، اٹھ کر، اسی طرح چپ، اٹل کھڑے تھے

ندی کا پانی جو اک زمانے سے بہہ رہا تھا

اچانک اک پل کو چلتے چلتے ٹھٹک گیا تھا

بس ایک لمحے کو تھم کے پھر بہنے لگ پڑا تھا

ہمارے قدموں تلے زمیں اک عجیب اندازِ مطمئن میں

سرکتی بڑھتی رواں تھی ان بےنشاں دیاروں کی سمت جن میں

ہزار شام و سحر کے کھلیان جل اٹھے تھے اس ایک دن میں

Philip Murrey کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

شناور

تیرتا ہے جب تیراک مرگ رقص دھارے پر

موج سے ابھرتا ہے موج کے سہارے پر

موج پر مسلط بھی، موج کے حوالے بھی

سینۂ شناور بھی درمیانِ دریا ہے

لاکھ لاکھ طوفاں ہیں ایک ایک قطرے میں

تیرنے کی شکتی ہے ڈوبنے کے خطرے میں

جو بہ جو تھپیڑے ہیں آتشیں خیالوں کے

تیرتے ہیں دل جن میں پیار کرنے والوں کے

پریمیوں کی بانہوں میں چاہتوں کا دریا ہے

تیرنے کی قدغن ہے، ڈوبنے کا کھٹکا ہے

لہر لہر کی دھڑکن، درد کا قرینہ بھی

لہر لہر کی کروٹ، زندگی کا زینہ بھی

کتنے دل جو موجوں کی چوٹ چوٹ سہتے ہیں

اس بھنور کے گھیرے میں پھول بن کے بہتے ہیں

Robert Francis کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

ہڑپّے کا ایک کتبہ

بہتی راوی! ترے تٹ پر — کھیت اور پھول اور پھل

تین ہزار برس بوڑھی تہذیبوں کی چھل بل

دو بیلوں کی جیوٹ جوڑی، اک ہالی، اک ہل

سینۂ سنگ میں بسنے والے خداؤں کے فرمان

مٹی کاٹے، مٹی چاٹے، ہل کی اَنی کا مان

آگ میں جلتا پنجر ہالی، کاہے کو انسان

کون مٹائے اس کے ماتھے سے یہ دکھوں کی ریکھ

ہل کو کھینچنے والے جنوروں جیسے اس کے لیکھ

تپتی دھوپ میں تین بیل ہیں، تین بیل ہیں، دیکھ

مجید امجد

ماڈرن لڑکیاں

سنہری دُپہروں رُپہلی رُتوں

میں، سورج مکھی کے شگوفوں کے پاس

چناروں سے قد اور ستاروں سے نین

زرافشاں بدن، زغفرانی لباس

حسیں گوریاں گنگناتی پھریں

مٹکتی پھریں، ڈگمگاتی پھریں

کڑی دھوپ میں قاشِ زر سے تراشی ہوئی پنڈلیاں

لہکتی پھریں، تھرتھراتی پھریں

سجل راستوں سے گزر جائیں یہ

نگینوں بھرے آبشاروں کی طرح

زمانوں کے د ل میں اتر جائیں یہ

لجیلی کٹیلی کٹاروں کی طرح

سنہری دوپہروں کو ٹھنڈک عطا کرنے والے خیالوں کے جادو جگاتی پھریں

مٹکتی پھریں، ڈگمگاتی پھریں

Philip Booth کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

ریلوے سٹیشن پر

آہنی، سبز رنگ، جنگلے کے پاس

باتوں باتوں میں ایک برگِ عقیق

تو نے جب توڑ کر مسل ڈالا

مجھے احساس بھی نہ تھا کہ یہی

جاوداں لمحہ، شاخِ دوراں سے

جھڑکے، اک عمر، میری دنیا پر

اپنی کملاہٹیں بکھیرے گا

اسی برگِ دریدہ جاں کی طرح

آج بھی اس دہکتی پٹڑی پر

گھومتے گھنگھناتے پہیوں کو

سیٹیوں کی دھواں اگلتی صدا

جب پیامِ رحیل دیتی ہے

روز سو سنگتیں اجڑتی ہیں

لاکھ سنجوگ مسکراتے ہیں

آج بھی ریلوے سٹیشن پر

آہنی، سبز رنگ جنگلے کے پاس

قدِ آدم، عقیق کے پودے

تھام کر سرخ دھاریوں والے

زرد پھولوں کے موہنے گجرے

بھری دنیا کے جمگھٹوں میں کھڑے

گوشت اور پوست کے وہ پیکر ہیں

اک زمانے سے جن کی زندگیاں

لوٹ کر پھر نہ آنے والوں کی

منتظر منتظر چراغ بکف

وقت کے جھکڑوں سے کھیلتی ہیں

اسی برگِ دریدہ جاں کی طرح

مجید امجد

افسانے

پھر کلی بن کے کوئی ناچتی آہٹ نہ کھلی

پھر کوئی بنسی نہ بجی

ریگ زاروں کے تپکتے سے، چمکتے سے نشیب

منزلِ لیلیٰ کے فریب

قصرِ پرویز کی دہلیز پہ روندی ہوئی سل

دل، کسی فرہاد کا دل

اک بھنور، ایک گھڑا، ایک خیالِ محبوب

سو دکھی روحوں کا غروب

برف انبار دیاروں کے کسی پھول کا دھیان

پر جلی تتلی کی اڑان!

ہاں یہ سب جھلسی روایات ہیں اگنی بھرے خواب

دشتِ حقیقت کے سراب

ہاں یہ سب کچھ فقط آرائشِ افسانہ سہی

صورتِ دنیا نہ سہی

پھر بھی سچ پوچھو تو یہ آندھیاں چلتی بھی رہیں

مشعلیں جلتی بھی رہیں

کاش میں بھی ترے سوچوں بھرے نینوں میں جلوں

اک فسانے میں ڈھلوں

مجید امجد

جیون دیس

مجھے یقیں تھا

میں جانتا تھا

کہ اس اندھیرے گھنیرے جنگل میں جس کے شانوں

پہ تیرتے بادلوں کے سائے — سیاہ گیسو

بکھر گئے ہیں، ضرور کرنوں لدے جہانوں

کا کوئی پرتو، دُھلی دُھلی دھوپ کا تبسم

کہیں درختوں کے مخملیں سبز سائبانوں

سے چھن کے اس نغمۂ روندی پر جھلک اٹھے گا

جو آنکھ اوجھل مسرتوں کے حسیں ٹھکانوں

کی اوٹ سے پھوٹتے اجالوں میں بہہ رہی ہے

مرے خیالوں میں بہہ رہی ہے!

یہ کون جانے

یہ کون سمجھے

کہ جب بھی اس گھومتی زمیں پر کسی سہانے

سمے کی دھن میں، اٹھی ہیں ترسی ہوئی نگاہیں

تو ذرّے ذرّے میں زندگی کے نگارخانے

کی جگمگاتی ہوئی سُگندھیں سما گئی ہیں

اَبد کی خامشیوں میں ڈوبے ہوئے ترانے

ندی کے سینے سے موج بن کر گزر گئے ہیں

مرے خیالوں میں بھر گئے ہیں

مجید امجد

میونخ

آج کرسمس ہے

شہر میونخ میں آج کرسمس ہے

رودبارِ عسار کے پُل پر

جس جگہ برف کی سلوں کی سڑک

فان کاچے کی سمت مڑتی ہے

قافلے قہقہوں کے اترے ہیں

آج اس قریۂ شرا ب کے لوگ

— جن کے رخ پر ہزیمتوں کا عرق

جن کے دل میں جراحتوں کی خراش

ایک عزمِ نشاط جو کے ساتھ

امڈ آئے ہیں مست راہوں پر

بانہیں بانہوں میں، ہونٹ ہونٹوں پر!

برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں

کوئے میریں کے اک گھروندے میں

ایک بوڑھی، اداس ماں کے لیے

پھول اک طاقچے پہ ہنستے ہیں

گرم انگیٹھی کے عکسِ لرزاں سے

آگ اک آئینے میں جلتی ہے

ایک دستک ہے! کون آیا ہے؟

زرد کمرے کے گوشے گوشے میں

جورِ ماضی کا سایۂ مصلوب

آخری سانس لینے لگتا ہے

ماں کے چہرے کی ہر عمیق شکن

ایک حیران مسکراہٹ کے

دلنشیں زاویوں میں ڈھلتی ہے

’’میری شالاط، اے مری شالاط

اے میں قرباں، تم آ گئیں، بیٹی!‘‘

اور وہ دختِ ارضِ الماں جب

سر سے گٹھڑی اتار کر جھک کر

اپنی امی کے پاؤں پڑتی ہے

اس کی پلکوں پہ ملک ملک کی گرد

ایک آنسو میں ڈوب جاتی ہے

ایک مفتوح قوم کی بیٹی

پارۂ ناں کے واسطے، تنہا

روئے عالم کی خاک چھان آئی

دس برس کے طویل عرصے کے بعد

آج وہ اپنے ساتھ کیا لائی؟

روح میں، دیس دیس کے موسم!

بزمِ دوراں سے کیا ملا اس کو؟

سیپ کی چوڑیاں ملایا سے

کینچلی چین کے اک اژدر کی

ٹھیکری اِک مہنجودارو کی

ایک نازک بیاض پر، مرا نام

کون سمجھے گا اس پہیلی کو؟

فاصلوں کی کمند سے آزاد

میرا دل ہے کہ شہرِ میونخ ہے

چار سو، جس طرف کوئی دیکھے

برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں

مجید امجد

کوئٹے تک

صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم

اِک لمحہ آ کے ہنس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا

ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ

ہر سو شرر برس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا

راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں

دن دلدلوں میں دھنس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا

راہیں دھوئیں سے بھر گئیں، میں منتظر رہا

قرنوں کے رخ جھلس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا

تم پھر نہ آ سکو گے، بتانا تو تھا مجھے

تم دور جا کے بس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا

برس گیا بہ خراباتِ آرزو، ترا غم

قدح قدح تری یادیں، سبو سبو ترا غم

ترے خیال کے پہلو سے اٹھ کے جب دیکھا

مہک رہا تھا زمانے میں سو بہ سو ترا غم

غبارِ رنگ میں رس ڈھونڈتی کرن، تری دھن!

گرفتِ سنگ میں بل کھاتی آبجو، ترا غم

ندی پہ چاند کا پرتو، ترا نشانِ قدم

خطِ سحر پہ اندھیروں کا رقص، تو، ترا غم

ہیں جس کی رو میں شگوفے، وہ فصلِ سم، ترا دھیان

ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک، وہ گرم لو ترا غم

نخیلِ زیست کی چھاؤں میں نَے بلب تری یاد

فصیلِ دل کے کلس پر ستارہ جو ترا غم

طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہیِ شب

تری طلب، تجھے پانے کی آرزو، ترا غم

نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپ

پلک جھکی تو مرے دل کے روبرو ترا غم

مجید امجد

دو چیزیں

آنسو کیا ہے؟ قطرۂ آب — ذی جسم اور سیال

غم کیا شے ہے؟ دل کی آگ — جلتا جلتا کوئی خیال

کاہے کو ہم کریں تمہارا دل مجروح

مان لی ہم نے بات تمہاری

ایک چیز ہے جسم

ایک چیز ہے روح

جھانکو اپنی روح کے اندر — ہے کوئی ایسا تٹ

جہاں خلا کے خول میں ڈولیں جسموں کے جمگھٹ

ڈھونڈو اپنے جسم کے اندر — ہے کوئی ایسی نخ

جہاں دھوئیں کی دھند میں کھولیں — روحوں کے دوزخ

یہ سب سچ ہے، لیکن رکھیو — ایک اس بات کا دھیان

کس طرح من کی ہر کروٹ کو — شکتی دیتے ہیں پران

سوچو کس طرح دل سے اٹھ کر — ایک خیال کی لہر

دیکھتے دیکھتے بن جاتی ہے — صد ہنگامۂ دہر!

سچ پوچھو تو جیون اپنا — ایک عجیب طلسم

گُتھ مِتھ، رس بس، گھُل مِل جائیں ۔۔۔ جس میں روح اور جسم

Donald Babcock کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

شاخِ چنار

یہ کیا دیکھتا ہوں

کھڑا سوچتا ہوں

اس اک لمحے کے چوکھٹے میں یہ منظر

اتارا ہے کس نے؟

چنارِ شرر برگ کی ایک ٹہنی

کس جابرِ برف پیکر کے پھیلے ہوئے منجمد بازوؤں سے

نکل کر۔۔۔ پھسل کر۔۔۔

فرازِ فضا میں، بڑی خود فروزی سے، لہرا رہی ہے

نجانے اسے ماگھ رُت کے سہانے سمے میں سموئے ہوئے نیلگوں آسماں سے

پکارا ہے کس نے؟

Richard Aldrige کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

پکار

کالی چونچ اور نیلے پیلے پنکھوں والی

چوں چوں، چچر چچر، چچلائی ’’لالی‘‘

بیٹھے بیٹھے اڑ کر

اڑ تے اڑتے مڑ کر

بجلی کے اک تار پہ آ کر بیٹھ گئی ہے

موت کا جھولا جھول رہی ہے

میرے دل سے چیخ اک ابھری، میں للکارا

(جیسے کوئی بجے نقارہ)

میری صدا پر بامِ اجل سے کندے تول کے اڑ گئی ’’لالی‘‘

نیلے پیلے پنکھوں والی

اور اک تم ہو

انگاروں پر بیٹھے ہو اور پھولوں کے سپنوں میں گم ہو

میرے دل کی اک اک چیخ تمہیں بےسود پکارے

مجید امجد

امروز

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کا کنول تیرتا ہے

کسی اَن سنی دائمی راگنی کی کوئی تان، آزردہ، آوارہ، برباد

جو دم بھر کو آ کر مری الجھی الجھی سی سانسوں کے سنگیت میں ڈھل گئی ہے

زمانے کی پھیلی ہوئی بےکراں وسعتوں میں یہ دو چار لمحوں کی میعاد

طلوع وغروبِ مہ و مہر کے جاودانی تسلسل کی دو چار کڑیاں

یہ کچھ تھرتھراتے اجالوں کا روماں، یہ کچھ سنسناتے اندھیروں کا قصہ

یہ جو کچھ کہ میرے زمانے میں ہے اور یہ جو کچھ کہ اس کے زمانے میں میں ہوں

یہی میرا حصہ ازل سے ابد کے خزانوں سے ہے، بس یہی میرا حصہ

مجھے کیا خبر، وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیوں تلے پِس چکے ہیں

مقدر کے کتنے کھلونے، زمانوں کے ہنگامے، صدیوں کے صدہا ہیولے

مجھے کیا تعلق ۔۔۔ میری آخری سانس کے بعد بھی دوشِ گیتی پہ مچلے

مہ و سال کے لازوال آبشارِ رواں کا وہ آنچل جو تاروں کو چھو لے

مگر آہ یہ لمحۂ مختصر جو مری زندگی، میرا زادِ سفر ہے

مرے ساتھ ہے، میرے بس میں ہے، میری ہتھیلی پہ ہے یہ لبالب پیالہ

یہی کچھ ہے لے دے کے میرے لیے اس خراباتِ شام و سحر میں یہی کچھ

یہ اک مہلتِ کاوشِ دردِ ہستی! یہ اک فرصتِ کوششِ آہ و نالہ

یہ صہبائے امروز جو صبح کی شاہزادی کی مست انکھڑیوں سے ٹپک کر

بدورِ حیات آ گئی ہے، یہ ننھی سی چڑیاں جو چھت میں چہکنے لگی ہیں

ہوا کا یہ جھونکا جو میرے دریچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا گیا ہے

پڑوسن کے آنگن میں، پانی کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں

یہ دنیائے امروز میری ہے، میرے دلِ زار کی دھڑکنوں کی امیں ہے

یہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحیں، یہ آہوں سے معمور دو چار شامیں

انہی چلمنوں سے مجھے دیکھنا ہے وہ جو کچھ کہ نظروں کی زد میں نہیں ہے

مجید امجد

آورد

دھیان کا جب بھی کوئی پٹ کھولا

’’میری بات نہ کہہ۔۔۔‘‘ دل بولا

دل کی بات کہی بھی نہ جائے

ضبط کی ٹیس سہی بھی نہ جائے

نظم میں کس کا ذکر کروں اب

فکر میں ہوں، کیا فکر کروں اب

ایک عجب الجھن میں گھرا ہوں

کیا سوچوں، یہ سوچ رہا ہوں

مجید امجد

دیکھ اے دل!

دیکھ اے دل، کیا سماں ہے، کیا بہاریں شام ہے

وقت کی جھولی میں جتنے پھول ہیں، انمول ہیں

نہر کی پٹڑی کے دورویہ، مسلسل دور تک

برگدوں پر پنچھیوں کے غل مچاتے غول ہیں

دیکھ اے دل، کتنے ارمانوں کا رس برسا گئیں

بدلیاں، جب ان پہ چھینٹے نور کے چھن کر پڑے

کتنی کومل کامناؤں کی کہانی کہہ گئے

پیپلوں کے پیلے پیلے پات پتھ پتھ پر پڑے

دیکھ اے دل، اس رسیلی رُت کے کتنے روپ ہیں

جھومتے جھونکے ہیں، جھکتی جھاڑیوں کے جھنڈ ہیں

ہائے ان پھیلی ہوئی پھلواڑیوں کے درمیاں

یہ تری تپتی ہوئی تنہائیاں اور ایک میں

مجید امجد

کہانی ایک ملک کی

راج محل کے دروازے پر

آ کے رکی اک کار

پہلے نکلا بھدا، بےڈھب، بودا

میل کچیل کا تودا

حقہ تھامے اک میراسی

عمر اس کی کوئی اسی بیاسی

پیچھے اس کا نائب، تمباکو بردار

باہر رینگے اس کے بعد قطار قطار

عنبربار

نمبردار

ساتھ سب ان کے دم چھلّے

ایم ایل اے

راج محل کے اندر اک اک رتناسن پر

کوڑھی جسم اور نوری جامے

روگی ذہن اور گردوں پیچ عمامے

جہل بھرے علّامے

ماجھے گامے

بیٹھے ہیں اپنی مٹھی میں تھامے

ہم مظلوموں کی تقدیروں کے ہنگامے

جیبھ پہ شہد — اور جیب میں چاقو

نسل ہلاکو!

راج محل کے باہر، سوچ میں ڈوبے شہر اور گاؤں

ہل کی انی، فولاد کے پنجے

گھومتے پہیے، کڑیل باہیں

کتنے لوگ کہ جن کی روحوں کو سندیسے بھیجیں

سکھ کی سیجیں

لیکن جو ہر راحت کو ٹھکرائیں

آگ پییں اور پھول کھلائیں

(41957)

مجید امجد

موجودگی

پھر آج دل میں کوئی موجِ غم مچلتی ہے

شبِ خیال میں قندیلِ عود جلتی ہے

پھر اک ادائے حجاب

رسومِ دہر کی زنجیر اتار آئی ہے

بہار آئی ہے

رسومِ دہر کی اس آتشیں فصیل کے پار

گداز سینوں کی مخمور دھڑکنوں کے دیار

محبتوں کے سراب

کہ جن کو تیر کے آتی ہے پائلوں کی جھنک

مرے دکھے دل تک!

ہر اک طرف ہوسِ دید کے نیستاں میں

کسی حسین سی موجودگی کی خوشبوئیں

خمارِ قرب کے خواب

ہزار غم کہ جنھیں کیفِ شوق کی نیندیں

پیامِ تسکیں دیں

مجید امجد

بھکارن

تیز قدموں کی آہٹوں سے بھری

رہگزر کے دورویہ سبزہ و کشت

چار سو ہنستی رنگتوں کے بہشت

صد خیابانِ گل، کہ جن کی طرف

دیکھتا ہی نہیں کوئی راہی!

سرخ پھولوں سے اک لدی ٹہنی

آن کر بچھ گئی ہے رستے پر

کنکروں پر جبیں رگڑتی ہے

راہگیروں کے پاؤں پڑتی ہے

’’میں کہاں روز روز آتی ہوں

ہے مرے کوچ کی گھڑی نزدیک

جانے والو، بس اک نگاہ کی بھیک‘‘

مجید امجد

نرگس

میں نے حسرت بھری نظروں سے تجھے دیکھا ہے

جب تو روز، اک نئے بہروپ میں، روز اک نئے انداز کے ساتھ

اپنی ان گاتی ہوئی انکھڑیوں کی چشمکِ طنّاز کے سات

روز اک تازہ صنم خانۂ آہنگ میں در آئی ہے!

ایکٹریس! روپ کی رانی! تجھے معلوم نہیں

کس طرح تیرے خیالوں کے بھنور میں جی کر

کن تمناؤں کا تلخابۂ نوشیں پی کر

میں نے اک عمر ترے ناچتے سایوں کی پرستش کی ہے

تو نے اک عظمتِ صد رنگ سے جس جذبے کو

آج تک اپنے لیے مُزدِ ہزار اشک سمجھ رکھا ہے

وہ محبت مرے سینے میں تڑپتی ہوئی اک دنیا ہے

جو ترے قدموں کی ہر چاپ پہ چونک اٹھتی ہے

کاش میں بھی وہی اک عکسِ درخشاں ہوتا

دلِ انساں سے ابھرتی ہوئی موہوم تمناؤں کا عکس

ایک مانگی ہوئی اچکن میں سمایا ہوا مامورِ فغاں شخص

جس کے پہلو میں تری روح دھڑک سکتی ہے

مجید امجد

نغمۂ کواکب

دائموس:

ناچ ناچ جھوم جھوم

گھوم گھوم گھوم گھوم

دیکھنا اِدھر ضرور اک نظر

ناچتا ہے نزد و دور بےخبر

دامنِ نگارِ نور تھام کر

کہکشاں کے موڑ پر فاصلوں کا اک ہجوم

ناچ ناچ گھوم گھوم

وسعتِ ابد پناہ اک ترنگ

عالمِ شبِ سیاہ اک امنگ

منزلیں، نشانِ راہ سحرِ رنگ

شعلہ شعلہ انگ انگ آگ آگ روم روم

گھوم گھوم گھوم گھوم

فیبوس:

دیے جلتے رہے، دیے جلتے رہے

گھُم گھُم امڈے دھوئیں کے دَل

جُگ جُگ پھیل گئے کاجل

دم دم، دھم دھم، گرے محل

مٹتی ہوئی صدیوں میں پَل

ڈھلتے رہے

دیے جلتے رہے!

کتنے زمانے، کتنے سپن

توڑ گئے اپنے درپن

نیر بہاتے رہے نینن

وقت کے جھکڑ گگن گگن

جلتے رہے

دیے جلتے رہے!

اندھیاروں کے زہر پیے

آنکھوں کو گل رنگ کیے

اَمر اجالے لو میں لیے

جیون کی منڈلی میں دیے

جلتے رہے

دیے جلتے رہے!

اُرناؤس:

بھنور بھنورمری نوکا

کوئی ساحل ہے نہ کنارا

اک پھیلتا بڑھتا دھارا

بہے نگر نگر مری نوکا، بھنور بھنور

ہر آن رُتوں کا میلہ

ہر سمت سمے کا ریلا

چلے گھمر گھمر مری نوکا، بھنور بھنور

بوجھ اتنے ہیں کڑیل جن کے

یہ دکھ سکھ، بہتے تنکے

گریں ابھر ابھر مری نوکا، بھنور بھنور

کہتی ہوئی من کی بانی

تقدیرِ جہاں کی رانی

پھرے سنور سنور مری نوکا، بھنور بھنور

پلوطو:

کتنی اندھیری رات ہے چمکو

چمکو

شام و سحر کی اوٹ سے ہر دم

پیہم

گھور رہے ہیں طوفاں ہم کو

چمکو!

دیکھو، تیرگیوں کے فتنے

کتنے

روند چلے عالم عالم کو

چمکو!

سُکھ میں سمو لو اک اک پل کو

جھلکو!

من میں بجھا لو شعلۂ غم کو

چمکو!

آتے ہوئے قرنوں کا تبسم

ہم تم

جگمگ دمکو، جھم جھم جھمکو

چمکو

کتنی اندھیری رات ہے چمکو

چمکو

کرۂ ارض:

نہ عکسِ خاک کہیں اور نہ رقصِ نور کہیں

نہ کوئی وادیِ ایمن نہ شمعِ طور کہیں

بچھی ہے راکھ میں غلطاں مئے طہور کہیں

پڑا ہے شیشۂ افلاک چور چور کہیں

پَلوں کے جھنڈ میں لرزے ابد کی پینگ کوئی

نظر کے سامنے، حدِ نظر سے دور کہیں

مقدروں کے جہاں در جہاں اندھیروں میں

بھٹک نہ جائے مرا شوقِ ناصبور کہیں

یہ اضطرابِ مسلسل کی خوں چکاں گھڑیاں

ہے ان سے بڑھ کے کوئی دولتِ سرور کہیں

اگر ہمیں بھری دنیا میں مسکرا نہ سکے

تو ڈول جائیں گے یہ سلسلے ضرور کہیں

شہرِ در شہر منادی ہے کہ ’’اے خندہ فروشانِ حیات!

ہر بجھی روح کے آنگن میں کھلا ہے چمنِ امکانات

نہ کوئی سلطنتِ غم ہے نہ اقلیمِ طرب

زندگی ہی فقط آئینِ جہاں بانی ہے!

جانے کس تیرہ افق سے یہ گھٹاؤں کے تھرکتے سائے

ماہتابوں کے چمکتے ہوئے سینوں سے نتھر کر آئے

ساتھ لے کر وہ خنک موج، خماریں جھونکے

جن کی زد میں مری تپتی ہوئی پیشانی ہے

اپنے سینے میں جگا کر انہی دردوں، انہی یادوں کے فسوں

پھر تمناؤں کے تصویر کدے میں نگراں بیٹھا ہوں

سامنے صفحۂ صد رنگِ رموزِ کونین

کانپتی انگلیوں میں موقلمِ مانی ہے!

مجید امجد

نہ کوئی سلطنتِ غم ہے نہ اقلیمِ طرب

کیا کہوں، کتنے غموں، کتنے غموں کی شکن آلود بساط

وقت کے گھومتے زینوں پہ مرے رکتے ہوئے قدموں کے سات

کس طرح بچھتی لپٹتی ہی چلی آئی ہے

کیا بتاؤں یہ کہانی بڑی طولانی ہے

یہ مرا قصۂ غم کون سنے؟ کس کو سناؤں — کس کو

اپنے احساس کا وہ جلتا ہوا زہر پلاؤں جس کو

پیتے پیتے مری اک عمر کٹی ہے، اک عمر

دیکھتے ہو وہ جو اک جادۂ نورانی ہے

وہ جو اک موڑ ہے اور وہ جو جھروکا ہے سرِ بامِ بلند

کبھی پہنچی نہیں جس تک سحر و شام کے سایوں کی کمند

وہ جو جھکتی ہوئی، مڑتی ہوئی دیواریں ہیں

جن کا منصب انھی گلیوں کی نگہبانی ہے

وہ جو ہر شام انھی گلیوں میں کوئی مست سی لے

بند ہوتے ہوئے دروازوں کے آہنگ میں گھل جاتی ہے

وہ خموشی، سفرِ شب کے تسلسل کی نقیب

جس کی میّت پہ اندھیروں نے ردا تانی ہے

میں نے اک عمر اسی معمورۂ ظلمات میں رقصاں، جولاں

ہر قدم اپنے ہی قدموں کی صداؤں سے گریزاں، لرزاں

جگرِ جام سے چھینے ہوئے نشّوں میں مگن

خاک ان راہوں کی یوں خاک بہ سر چھانی ہے

جس طرح ایک سہارے کی تمنا میں کسی ٹوٹتے تارے کی حیات

مہ و انجم کے سفینوں کی طرف اپنے بڑھائے ہوئے ہاتھ

خمِ افلاک سے ٹکرا کے بھسم ہو جائے

(ان خلاؤں میں کسے تابِ پرافشانی ہے!)

میں بھی پلکوں پہ امنگوں کے دیے لے کے گرجتے ہوئے طوفانوں میں

منتظر تھا کہ اچانک کہیں باغوں میں، بیابانوں میں

آ کے بس جائے کسی نغمۂ شیریں کی بہار!

یہ مرے گرد جو پھیلی ہوئی ویرانی ہے

کب یہاں ریزۂ صد ساغرِ بشکستہ سے کلیاں پھوٹیں

میں نہیں کہتا کہ کلیاں نہیں مہکیں مرے گلزاروں میں

مجھ کو یہ غم ہے وہ اک لمحۂ نایاب کہ جو

حاصلِ سلطنتِ عالمِ امکانی ہے

جب مری زیست سے ٹکرا کے بھسم ہو بھی گیا تب مجھے معلوم ہوا

تب میں سمجھا کہ یہ راہیں، یہ گھروندے، یہ پھبکتی دنیا

اب یہ سب کچھ غمِ جاوید کی اک دھڑکن ہے

اب یہی زخم ہیں اور شغلِ مگس رانی ہے

آج بھی جب کہیں رستے میں، کسی موڑ، کسی منزل پر

کسی دیوار سے کنکر بھی پھسل جاتا ہے

کوئی دامن کہ جسے نازِ گل افشانی ہے

دھوپ میں سوکھتی خرما کی چنگیروں سے بھرے کوٹھوں سے

ایک پل کے لیے اڑتا ہے، سمٹتا ہے تو دھیرے دھیرے

کوئی لے سی مرے احساس میں بھر جاتی ہے

تارِ بربط کی کوئی لرزشِ پہنانی ہے

جو شب و روز کے ایواں میں فغاں بن کے بکھر جاتی ہے

آسمانوں سے، زمینوں سے کسی دل کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے

کوئی چپکے سے مرے کان میں کہہ جاتا ہے

سنتے ہو، کس کی یہ آواز ہے، پہچانی ہے؟

’’یوں کب تک صبح و شام جلیں

بےسود جلیں، ناکام جلیں

جب دنیا والے سو جائیں

میٹھے سپنوں میں کھو جائیں ۔۔۔

جب چلتے دریا تھم جائیں

تاروں کی نگاہیں جم جائیں

جب آگ بجھے چوپالوں کی

جب آنکھ لگے رکھوالوں کی

دیوار و در سے چمٹتے ہوئے

دو بھک منگوں کے بھیس میں ہم

جا نکلیں اک اور دیس میں ہم

کچھ دور، افق کے پار، اُدھر

ہے ایک نیا سنسار اُدھر

خوشیوں کی، سنگاروں کی دنیا

پھولوں کی، بہاروں کی دنیا‘‘

آج اس فرصتِ یک گام کو روتا ہوں جب اک لغزشِ پا

چھین کر لے گئی مجھ سے وہ امنگوں سے چھلکتی دنیا

آہ وہ دنیا جسے کھو کے میں پھر پا نہ سکا

یوں تو آفاق میں دنیاؤں کی ارزانی ہے

ان خلاؤں میں ستارے بھی ہیں، خورشید بھی ہے، ماہ بھی ہے

کون جانے کہ زمانے کے سمندر کی کوئی تھاہ بھی ہے

لیکن اک دنیا جسے کھو کے میں پھر پا نہ سکا

جس کے ماتم میں مری چاک گریبانی ہے

میری سم خوردہ تمناؤں کی نظروں سے گریزاں ہی رہی

لاکھ ڈھونڈا، مگر افسوس کہ اک رنجِ پشیماں نگہی

بوجھ بن کر مری تقدیر کی پلکوں پہ رہا

اب مرا دل ہے کہ اِک عالمِ حیرانی ہے

اب یہ دنیا، یہ صداکوش نصیبوں سے بھرے شہر و دیار

غموں خوشیوں کے جھمیلوں میں نہاتی ہوئی روحوں کا نکھار

مجھ سے پوچھو تو مرے سامنے اب یہ دنیا

ورقِ مصحفِ اندوہِ گراں جانی ہے

سوچتا ہوں یہی دو گھونٹ جو میں نے خُمِ دوراں سے پیے

یہی دو سانس، شبستانِ ابد میں یہی دو بجھتے دیے —

دوش و فردا کی فصیلوں میں یہی دو رخنے

یہی جو سلسلۂ زندگیِ فانی ہے

کیا اسی ساعتِ محرومیِ غم تاب کی خاطر میں نے

وسعتِ وادیِ ایام میں کانٹوں کے قدم چومے تھے؟

لاکھوں دنیاؤں کے لٹتے ہوئے کھلیانوں سے

میرا حصہ یہی میری تہی دامانی ہے؟

کیا اسی واسطے ماضی کے یخستانوں سے اک موجِ حیات

اپنے ہمراہ لیے ناچتی گاتی ہوئی صدیوں کی برات

آ کے اس ساحلِ گل پوش سے ٹکرائی ہے؟

کیا یہی مقصدِ صد عالمِ امکانی ہے

کہ جب اس سطحِ خروشندہ پہ ڈھونڈوں میں کوئی رختِ طرب

کوئی مکھ، کوئی نگہ، کوئی تبسم، کوئی جینے کا سبب

آسمانوں سے صدا آئے’’تو کیا ڈھونڈتا ہے

تیرا ساماں تو یہی بے سر و سامانی ہے‘‘

عقل حیراں ہے، یہ طرفہ حجاباتِ حریمِ اسرار

عقدۂ راحت و غم، رازِ جہانِ گل و خار

پا بہ زنجیر ارادوں کا خروشِ پیہم

یہی مستقبلِ معمورۂ انسانی ہے؟

کس کی فتراک میں ہیں عرشِ بریں، فرشِ زمیں؟ کون کہے

پسِ صد پردۂ افلاک کوئی ہے کہ نہیں؟ کون کہے —

جانے کن گہرے دھندلکوں سے ضیا پاتی ہے

درحقیقت یہ حقیقت کی جو تابانی ہے

اتنے زخموں سے سجا کر دلِ بےتاب کی پژمردہ جبیں—

کس نے بھیجا ہمیں اس جلتے ہوئے دیس میں؟ معلوم نہیں!

یوں نہ اپنے دمِ امید کو بہلائے کوئی

کون کہتا ہے گلستان میں بہار آنی ہے

جی میں آئی ہے کہ اک بارغمِ زیست پہ احساں دھر کر

دیگِ گردوں میں ابلتے ہوئے زہراب سے اک خُم بھر کر

(دیگِ گردوں کہ اَبد زنگ شکم میں جس کے

کھولتے دردوں کا ہنگامۂ لافانی ہے)

اسی زہراب سے خُم بھر کے پٹخ دوں افقِ دوراں پر

آگ ہی آگ برسنے لگے اس پھولوں بھرے بستاں پر

اب یہی دھن ہے کہ اس ظلمتِ بےپایاں کو

جو مری روح کے ایوان کی زندانی ہے

اٹھ کے پھیلا دوں انہی اونچے درختوں سے ڈھکی راہوں پر

انھی گدرائی ہوئی دھوپ میں لہراتی چراگاہوں پر

اب ارادہ ہے کہ ان بِس بھرے ارمانوں کو

جن کے سایوں میں مری زیست کی ویرانی ہے

گھول دوں جھومتے جھونکوں کے چھلکتے ہوئے پیمانوں میں

سینۂ دشت پہ بجتی ہوئی شہنائیوں کی تانوں میں

چاہتا ہوں کہ یہ زیتون کے جنگل کا سکوت

جس کی وسعت ہے کہ اک عالمِ حیرانی ہے

میری کھوئی ہوئی دنیاؤں کے کہرام سے تھرّا اٹّھے—

اب یہ ٹھانی ہے کہ جمتی ہوئی بوندوں کے یہ بیکل چھینٹے

تیز جھالوں کے یہ چابک سے کہ جن کی زد پر

کبڑے رستوں کی تھکی پیٹھ کی عریانی ہے

یہ دھواں دھوپ ترائی، یہ دھواں دھار پہاڑوں کی فصیل

دور تک چوٹیوں اور بدلیوں کے دیس کی سرحدِ جمیل

برف سی بدلیاں، جن کے لبِ تر سے پیوست

برف کی چوٹیوں کی دودھیا پیشانی ہے

ہاں یہ سب سلسلۂ رنگ، یہ گہوارۂ حسن و افسوں—

میں اسے اپنی دکھی روح کی ان راگنیوں سے بھر دوں

جن کی لہریں کبھی آنسو ہیں، کبھی آہیں ہیں

جن کی تقدیر کبھی آگ، کبھی پانی ہے

کوئی غایت، کوئی منزل، کوئی حاصل سفرِ ہستی کا—

کوئی مقصود بلندی کا کہ مفہوم کوئی پستی کا؟—

کوئی مشعل بھی نہیں، کوئی کرن بھی تو نہیں

شب اندھیری ہے، گھٹا ٹوپ ہے، طوفانی ہے

بولو اے نغمہ سرایانِ تحیر کدۂ کاہکشاں

میں کہاں جاؤں، کہاں جاؤں، کہاں جاؤں، کہاں؟

مجید امجد

جیون دیس

مجھے یقیں تھا

میں جانتا تھا

کہ اس اندھیرے گھنیرے جنگل میں جس کے شانوں

پہ تیرتے بادلوں کے سائے — سیاہ گیسو

بکھر گئے ہیں، ضرور کرنوں لدے جہانوں

کا کوئی پرتو، دُھلی دُھلی دھوپ کا تبسم

کہیں درختوں کے مخملیں سبز سائبانوں

سے چھن کے اس نغمۂ روندی پر جھلک اٹھے گا

جو آنکھ اوجھل مسرتوں کے حسیں ٹھکانوں

کی اوٹ سے پھوٹتے اجالوں میں بہہ رہی ہے

مرے خیالوں میں بہہ رہی ہے!

یہ کون جانے

یہ کون سمجھے

کہ جب بھی اس گھومتی زمیں پر کسی سہانے

سمے کی دھن میں، اٹھی ہیں ترسی ہوئی نگاہیں

تو ذرّے ذرّے میں زندگی کے نگارخانے

کی جگمگاتی ہوئی سُگندھیں سما گئی ہیں

اَبد کی خامشیوں میں ڈوبے ہوئے ترانے

ندی کے سینے سے موج بن کر گزر گئے ہیں

مرے خیالوں میں بھر گئے ہیں

مجید امجد

ایک خیال

تمہارے ہونٹ وہ گھلتے سے ریزہ ہائے نبات

مرے لبوں سے ملے، جھکتی جھکتی پلکوں کے سات

تو جھونکے جھونکے میں لہرا گئی شمیمِ حیات

کسے خبر، کہ پھسلتا ہوا وہ جسمِ حسیں

مری بھنچی ہوئی باہوں کی دولتِ رنگیں

اب اس کی خاک بھی خاکِ لحد میں ہے کہ نہیں

تمہاری گردِ کفن اور ہجومِ کرمکِ گور

مصاحبانِ اجل، گنگ و پابریدہ و کور

بس ایک میری نوا میں تمہاری روح کا شور

میں زندہ ہوں تو مری زندگی تمہاری حیات

وگرنہ یوں تو ہے کس کو دوام، کس کو ثبات

نفس نفس، سرِ ظلمات، پرتوِ ظلمات

مجید امجد

اکھیاں کیوں مسکائیں

کون بتائے روپ نگر کی سکھیاں اکھیاں کیوں مسکائیں

دل کے راگ محل کی تانیں

سندیسوں کے دیس سے ہو کے

پائل کی جھنکار کو روکے

جب ہونٹوں کے دروازوں پر، چھپ چھپ آئیں، رک رک جائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

پھاند کے سناٹوں کے جزیرے

مہربلب سانسوں کے بیاباں

آن بسیں جب رقصاں رقصاں

اک لمحے کے رین بسیرے میں ارمانوں کی پرچھائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

گھونگھٹ کھولے، نہ منہ سے بولے

من کی بانی، چنچل رانی

جب یہ کہانی، دور انجانی

دنیاؤں سے گزرے بن کر دھیمی بانسریوں کی صدائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

مجید امجد

دھوپ چھاؤں

ناچتی ندیاں

جھومتے جھامتے پیڑ

اُجیالی دھوپ

ان سے بھی آگے، دور کہیں وہ دنیا

جس کا روپ

آنے والے مست دنوں کے ہونٹوں پر مسکان!

سمے سمے کا دھیان!

پھیکی پھیکی چاندنیاں

اور کجلی کجلی دھوپ

جن کی اڑتی راکھ میں جھلکے بیتے دنوں کا روپ

سناٹوں کی گھمرگھمر میں ڈوبتا ڈوبتا گیت

سمے سمے کی ریت

من کی یہ چنچل لہریں، ان کا کوئی نہ ٹھور مقام

دن گزرے تو صبح سویرا، رات کٹے تو شام

ساون ساون جلتے جھونکے

پلک پلک برسات

سمے سمے کی بات

مجید امجد

منزل

اس ایک بات سے انکار ہو نہیں سکتا

کہ ہم نے اپنے لہو سے، بساطِ عالم پر

لکیر کھینچی ہے جس سلطنت کی، اس کا وجود

ہے ایشیا کے شبستاں میں صبحِ نو کی نمود!

یہ سب بجا ہے کہ ہم جن جگر کے ٹکڑوں کو

بہ شہر و قریہ، بہ دشت و چمن، بہ کوچہ و بام

بھڑکتی آگ میں بہتے لہو میں چھوڑ آئے

وہ روحیں جن کے سیہ پوش، ماتمی سائے

ہمارے ہنستے ہوئے پیکروں سے لپٹے ہیں

وہ قافلے کہ جنھیں مہلتِ سفر نہ ملی

انہی کے سڑتے ہوئے لوتھڑوں کی ہونکتی بو

انہی کی ڈوبتی فریادیں، چیختے آنسو

ہمارے محلوں کے نغمے، ہمارے باغوں کے پھول!

مگر یہ پھول، یہ نغمے، یہ نکہتوں کے ہجوم

سحر سحر کو اگر مشکبار کر نہ سکے

نفَس نفَس کو امینِ بہار کر نہ سکے

وہ جن کے واسطے یہ گلستاں سجایا گیا

گر اس طرح تہی داماں، تہی سَبَد ہی رہے

تو سوچ لو کہ یہ نازک، لطیف پرتوِ نور

یہ لڑکھڑاتی ہواؤں میں ٹھہرا ٹھہرا غرور

ہزار ساعتِ بےبرگ کے بیاباں میں

یہ اک امنگوں بھری سانس!

اس کا مستقبل؟

ہماری زندگیوں سے اک اک تڑپ لے کر

پروئے ہیں جو فلک نے، بہ سلکِ شام و سحر

گلوئے غم کے لیے، چہرۂ طرب کے لیے

سدا بہار ارادوں کے ہار

ان کا مآل؟

یہی سوال ہے رازِ غمِ زمان و زمیں!

حضور! ان کا جبیں پر شکن جواب نہیں

مجید امجد

ایک شام

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی باہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں!

یہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں

یہ پگھلے ہوئے زرد تابنے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیں؟

بس اک شورِ طوفاں!

کنارا نہ ساحل!

نگاہوں کی حد تک

سلاسل ! سلاسل!

کہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیں

کہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے — اور اک وہ گاؤں:

وہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں!

مجید امجد

مشرق و مغرب

نہ خوابِ مشرق

نہ سحرِ مغرب

بس اک پھبکتی گداز مٹی

کی چادرِ سبز، جس کے دامن

میں کل تھے انبانِ گندم و جو

اور آج انبارِ سیم و آہن

یہ کون سمجھے

یہ کون جانے

کہ اس تڑپتے ہوئے زمانے

کے سائے میں ڈولتی سی شمعوں

کی روشنی، جو پیالۂ گل

صراحیِ سنگ، کوزۂ مس

کو پھاند کر، شہر و دشت و ساحل

سے اٹھتے گرز و سنان و خنجر

پہ جم گئی تھی — وہ کانپتی لو

جو آج بھی طاقِ زندگی پر

سلگ رہی ہے، اسی کا پرتو

جہانِ نو کے فروغِ منزل

میں ڈھل گیا ہے

عجیب قصہ ہے ضربِ خارا

سے ذہنِ فولاد جل اٹھا ہے

نہ کوئی مشرق

نہ کوئی مغرب

مگر وہ اک زینۂ مراتب

جو اَن گنت، بےزباں غلاموں

کی ٹوٹتی پسلیوں پہ کل بھی

ہزار کف در دہاں خداؤں

کے بوجھ سے کچکچا رہا تھا

اور آج بھی اک وہی ترازو

کہ جس میں زنجیر پوش روحوں

کے شعلہ اندام دست و بازو

بہ مُزدِ یک اشک تُل رہے ہیں

اگر یہی تھا نصیبِ دوراں

یہ نالۂ غم، یہ اک مسلسل

خروشِ انبوہِ پابجولاں

ازل کی سرحد سے نسلِ آدم

کی یہ کراہیں، جو روز و شب کے

عمیق سناہٹے سے پیہم

ابھر رہی ہیں، یہ چشم و لب کے

فسانہ ہائے سرشک و شیون

اگر مقدر یہی تھا اپنا

تو یہ مقدر یقین جانو اٹل نہیں تھا

یہی ہے مشرق

یہی ہے مغرب

وہ پارہ ہائے سفال و خارا

وہ عقلِ حیراں کی کارگاہیں

وہ جنسِ نایاب، کل ہمارے

جہانِ صد ریزۂ خزف میں

ہماری دولت تھے، ہم خدا تھے

اور آج بھی یہ شرار پیکر

حقیقتوں کے طلسمِ سوزاں

یہ وسعتِ بحر و بر میں غلطاں

ضمیرِ آہن کی جلتی سانسیں

یہ ذرّے ذرّے کے قلبِ پیچاں

میں کھولتی قوّتوں کے طوفاں

زمانہ ہے جن کی رو میں تنکا

جو آج بھی ہو وجود اِن کا

ہماری مٹھی میں، ہم خدا ہیں

سیاہیوں کے چھلکتے خم سے

ابھرتی کرنوں کا حوصلہ ہیں

مجید امجد

ایک دعا

خلّاقِ دوجہاں! مری آنکھوں کو نور دے

چھینی ہوئی یہ دولتِ کیف و سرور دے

پھر قوتِ نظارۂ دشت و دیار بخش!

پھر طاقتِ مشاہدۂ نزد و دور دے

مجھ پر نگاہِ مہر سمیع و بصیر کر

مجھ کو نویدِ لطف خدائے غفور دے

اللہ! مجھ کو دیدۂ بینندہ کر عطا

مولا! تو ہی دوائے دلِ ناصبور دے

پھو سونپ میری آنکھوں کو آنکھوں کی روشنی

یہ میری چیز پھر مجھے دے اور ضرور دے

مجید امجد

قبلا ئے خاں

ظانادو میں قبلا خاں کے رنگ محل کے سائے

لرزیں اس دیوانی ندی پر جس کی مقدس موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

دوردور تک سونا اگلتی دھرتی کا پھیلاؤ

جس کے چاروں اور فصیلیں، گنبد اور منارے

باغ — جو ہنستی آب جوؤں کی چنچلتا سے چمکیں

بوجھل بوجھل خوشبوؤں سے لدے پھندے اشجار

بوڑھے جنگل — جیسے پرانے پہاڑوں کے ہمزاد

کہیں کہیں جن کی وسعت میں

دھوپ میں لپٹے سبزہ زار

اوہ! وہ دیکھو

گھنے گھنیرے پیڑوں کے اس پار

سبز چٹانوں کے سینوں میں گہرے بھیانک غار

ہیبت ناک مقام

رسی بسی پاکیزگیوں کا ایک فسونِ دوام

جیسے ڈھلتے چاند کی پیلی چھایا میں گھل جائیں

برہا کی اگنی میں جل مٹنے والی اک دیواداسی کی پرچھائیں

یہی وہ غار، یہی وہ گھاؤ

جس کی تھاہ سے اچھلے کھولے

ایک ابلتے چشمے کی اَن تھک آوازوں کا وہ الاؤ

جو دھرتی کی ہانپتی چھاتی میں بےکل سانسوں کی مانند

تڑپے اور تڑپتا جائے

جس سے جھم جھم برسیں

جلتی چٹانوں کے سیال انگارے

جیسے تپتے توے پر بھجتے دانوں کی کلپاہٹ

انھی اچھلتی چٹانوں کے جھرمٹ سے ابھر کر ڈوبے

وہی مقدس دریا جس کی موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

یہی ہے وہ ہنگامۂ صوتِ سنگ و فرشِ دریا

جس کے روپ میں قبلا خاں کے کانوں سے ٹکرائیں

گزرے بلوانوں کی صدائیں

جنگ کے نقارے کی دھم دھم

مجید امجد

لاہور میں

ڈاک خانے کے ٹکٹ گھر پر خریداروں کی بھیڑ!

ایک چوبی طاقچے پر کچھ دواتیں — اک قلم

یہ قلم میں نے اٹھایا اور خط لکھنے لگا:۔

’’پیارے ماموں جی!

’’دعا کیجیے — خدا— رکھ لے — بھرم

’’آج انٹرویو ہے! کل تک فیصلہ ہو جائے گا

’’دیکھیں کیا ہو؟ مجھ کو ڈر ہے ‘‘…

اتنے میں تم آ گئیں!

’’اک ذرا تکلیف فرما کر پتہ لکھ دیجیے‘‘

میں نے تم سے وہ لفافہ لے لیا، جھجکا نہیں

’’بے دھڑک‘‘ لکھ ڈالا میں نے ’’کانپتے ہاتھوں‘‘ کے ساتھ

مختصر، رنگیں پتہ:’’گلگت میں، گوہرخاں کے نام‘‘

’’شکریہ‘‘، ’’جی کیسا؟‘‘ اک ہنستی نگہ زیرِ نقاب

ڈاک میں خط — تانگہ ٹمپل روڈ کو — قصہ تمام!

مجید امجد

ریڈنگ روم

میز پر اخبار کے پھیلے ورق

بکھرے بکھرے، تیرہ تیرہ، چاک چاک

ڈھل گئی ہے قالبِ الفاظ میں

سینۂ ہستی کی آہِ دردناک

پاس ہی دیوار کو ٹیکے ہوئے

ریڈیو گرمِ سخن، محوِ بیاں

چیختی ہیں جامۂ آواز میں

خون کے چھینٹے، لہو کی بوندیاں

شام ریڈنگ روم کی مغموم شام

چند کان اعلانچی کی بات پر

چند آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئیں

مرتکز اخبار کے صفحات پر

ایک کمرے میں سمٹ کر آ گئے

کتنے دکھڑوں کے صدا پیکر حروف

کتنے دردوں کے مسطّر زمزے

کتنے اندھے گیانی، بہرے فیلسوف!

پھر بھی کچھ ادراک میں آتا نہیں

کیا ہے رقصِ گردشِ ایام، کیا!

اک شکستہ ناؤ، اک خونی بھنور

کیا ہے اس افسانے کا انجام، کیا؟

یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں!

چھت کے نیچے، روزنوں کے درمیان

گول گول آنکھوں کے اندر محوِ دید

کالے پارے کی مرقص پتلیاں

کاش یہ حیراں کبوتر جانتے

خفتہ ہے ان کاغذوں کی سطح پر

کتنے پھنکتے آشیانوں کا دھواں

کتنے نخچیروں کی آہوں کے شرر

ہیں ان آوازوں کے اندر پرکُشا

کتنے کرگس، جن کو مرداروں کی بو

کھینچ لائی ہے سرِ دیوارِ باغ!

چھت کے نیچے، مضطرب، نظارہ خو

فکرمند آنکھوں میں حیراں پتلیاں

یہ کبوتر، دیکھتے تھکتے نہیں

دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، کیا کریں

یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں!

مجید امجد

زندانی

دردوں کے مارے دو قیدی!

زنجیروں کی جھنکاروں میں

اک غمگیں سا، اک حیراں سی

کالی کالی کوٹھڑیوں میں

دونوں کی نظروں پر پہرے

ہونٹوں پر مہریں چسپاں سی

لاکھوں آرزوئیں، امیدیں

دوزخ کے ناگوں کی صورت

سینوں میں غلطاں غلطاں سی

سہمے سہمے سے قدموں کی

آہٹ کان میں آ جاتی ہے

آہٹ! مدھم سی، بےجاں سی

تو اک چرخے کی گھوں گھوں میں

گم سی ہو کر رہ جاتی ہے

خوف زدہ، پُرمعنی کھانسی

پھر وہی جلادوں کی نگاہیں

پھر وہی سنگینوں کی نوکیں

پھر وہی خنجر، پھر وہی پھانسی

مجید امجد

نعتیہ مثنوی

شہرِ مکہ بتوں کی بستی ہے

چارسو تیرگی برستی ہے

لو وہ اک نور کی کرن پھوٹی

بزمِ آفاق جگمگا اٹّھی

دیکھنا اک یتیمِ بےساماں

بےنوا، کم سخن، تہی داماں

جس نے یوں سال و سن گزارے ہیں

بھوک میں اپنے دن گزارے ہیں

پیرہن تن پہ تار تار اس کا

کوئی محرم نہ دوستدار اس کا

تپتی ریتوں پہ محوِ خواب کہیں

تیز کانٹوں سے زخم یاب کہیں

چلتی تیغوں کے درمیان کبھی

کنکروں سے لہولہان کبھی

ذرّہ ذرّہ عدوئے جاں اس کا

تشنۂ خوں ہے اک جہاں اس کا

ہاں مگر لب جب اس کے ہلتے ہیں

دل کے مرجھائے پھول کھلتے ہیں

جب وہ پیغامِ حق سناتا ہے

وجد میں دو جہاں کو لاتا ہے

جب وہ اونچی صدا سے کہتا ہے

ہادیانہ ادا سے کہتا ہے

گمرہو! تم یہ کیا سمجھتے ہو

پتھروں کو خدا سمجھتے ہو

دل دہلتے ہیں قہرمانوں کے

دیے بجھتے ہیں کفر خانوں کے

بات یہ کیا زبان سے نکلی

لاکھ تلوار میان سے نکلی

ظالموں کی اذیّتیں اک سمت

اور خدا کی مشیّتیں اِک سمت

دیکھنا تیز دھوپ کی لو میں

آندھیوں کی شرارہ گوں رو میں

مکے سے دور اور مدینے کے پاس

جا رہا ہے کوئی بہشت انفاس

جا رہا ہے وہ کوئی راہ نورد

دو جہاں اس کی پاک پلکوں کی گرد

سانڈنی پر سوار جاتا ہے

درمیانِ غبار جاتا ہے

ساتھ اک صدقِ جاں روانہ ہے

عشق کا کارواں روانہ ہے

سرِ مکہ کچھ اور منظر ہے

مرتضیٰ ہے، نبی کا بستر ہے

شب ہے، اندھیرا گہرا گہرا ہے

چار سو قاتلوں کا پہرا ہے

وہ پیمبر کی چارپائی پر

ہنستا ہے بےسمجھ خدائی پر

سوئے یثرب نبی کی باگ اٹّھی

کُفر کے خرمنوں سے آگ اٹّھی

روئے صحرا کے ٹیلے ٹیلے پر

آج قدغن ہے ہر قبیلے پر

اس طرف سے رسول اگر گزرے

تو وہ کٹوا کے اپنا سر گزرے

آہ وہ راستہ بیاباں کا

خطِ نوری جبینِ ایماں کا

اس کی پاکیزہ خاک، کیا کہنا!

خاک اور تابناک، کیا کہنا!

جس کے ذروں کو رشکِ ماہِ تمام

کر گیا ناقۂ نبی کا خرام

نقشِ پا دے کے جس کے سینے کو

میرا آقا گیا مدینے کو

کاش وہ خاک مجھ کو مل جائے

سرمۂ پاک مجھ کو مل جائے

میں اسے رکھ کر آنکھ کے تل میں

آنکھ کے تل میں، دیدۂ دل میں

جگمگاتا پھروں زمانے میں

زندگی کے سیاہ خانے میں

جو نبی کے قریب ہیں وہ لوگ

کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ

اس کے قدموں کے ساتھ رہتے ہیں

اس کی موجوں کے ساتھ بہتے ہیں

اس کے ابرو کے ہر اشارے پر

تیرتے ہیں لہو کے دھارے پر

اس کی عزت پہ سر کٹاتے ہیں

آخری وقت مسکراتے ہیں

ان کے قدموں میں دولتِ کونین

ان کا ایک ایک سانس بدر و حنین

ہاں وہ دیکھو بلال کی حالت

چور زخموں سے خون میں لَت پت

گرم ریتی پہ تلملاتا ہے

تازیانوں کی چوٹ کھاتا ہے

موت کا خوف ہے نہ زیست کی فکر

اس کے ہونٹوں پہ لا الٰہ کا ذکر

دیکھنا جنگ اُحد کی جاری ہے

وقت اسلامیوں پہ بھاری ہے

چار سو کافروں کا ریلا ہے

ابن سکّن زیاد اکیلا ہے

اس نے دیکھا کہ چند پیکرِ شر

وار کرنے کو ہیں محمد پر

دوڑ کر آ کے درمیانِ نبی

جان دے کر بچائی جانِ نبی

لاش اس کی اٹھا کے لاتے ہیں

سامنے مصطفیٰ کے لاتے ہیں

ابھی کچھ اس میں ہوش باقی ہے

اک نفس کا خروش باقی ہے

دمِ آخر کے وقتِ مشکل میں

ابھی کچھ آرزو سی ہے دل میں

اپنے سینے کے بل گھسٹتا ہے

پائے محبوب سے چمٹتا ہے

ان کے قدموں کو چوم لیتا ہے

مسکراتا ہے، جان دیتا ہے

آہ یہ رتبۂ فدائے نبی

آخری سانس اور بہ پائے نبی

آہ یہ شمعِ حق کے پروانے

دُرج انسانیت کے دُردانے

کیا محبت ہے، کیا ارادت ہے

موت ان کے لیے عبادت ہے

جنگِ موتہ کا اِ ک سماں دیکھو

زید کے ہاتھ میں نشاں دیکھو

زید وہ اک غلامِ پاک نہاد

جس کو اسلام نے کیا آزاد

جب نبی کی اسے غلامی ملی

دونوں عالم میں شادکامی ملی

ہر گھڑی، راحتوں میں، صدموں میں

ہے وہ شاہِ عرب کے قدموں میں

یہ ہے رنگِ اخوتِ اسلام

آج سردارِ فوج ہے وہ غلام

وہ جری تیس سو سپاہ کے ساتھ

لڑتا ہے فوجِ بےپناہ کے ساتھ

ہو محبت رسول سے جس کو

لائے خاطر میں وہ بھلا کس کو

اس کی ہمت کو کون ٹوک سکے

اس کے طوفاں کو کون روک سکے

ہیں رواں زندگی کے ہنگامے

تسمہ اس کی رکاب کا تھامے

جو کچھ اس محفلِ حیات میں ہے

اس کی باگ اس کے پاک ہات میں ہے

موت اس کے لیے ہے شیریں جام

آخری گھونٹ اورعمرِ دوام

آ رہی ہے وہ فتحیاب سپاہ

لاشِ زیدِ شہید کے ہمراہ

میرِ لشکر نہیں ہے لشکر میں

صفِ ماتم بچھی ہے گھر گھر میں

وہ گہر اب نہیں خزینے میں

ایک کہرام ہے مدینے میں

آب گوں دیدۂ پیمبر ہے

مرنے والے کا کیا مقدر ہے

اس کے زخموں کا خون، چہرے کی دھول

پا رہی ہے نبی کی آنکھ سے پھول

وہ عدم کی طرف روانہ ہے

ساتھ یہ بےبہا خزانہ ہے

اس کی بچی کو دیکھ کر رنجور

اس کے اشکوں کو چومتے ہیں حضور

باپ کا صدمہ کیا پڑا اس پر

جھک پڑی رحمتِ خدا اس پر

رحمتِ دو جہاں کے سائے میں

فرق کیا اپنے اور پرائے میں

جس کے سر پر نبی کا سایہ ہے

اس کی دنیا ہے، اس کی مایا ہے

اس کا جینا ہے، اس کا مرنا ہے

ڈوب کر بھی اسے ابھرنا ہے

ایک منزل ہے اس کے ایماں کی

سربلندی مقامِ انساں کی

لو لگا کر خدا کی ہستی سے

آدمی کو اٹھانا پستی سے

روح میں شورشیں زمانوں کی

سانس میں کروٹیں جہانوں کی

دل میں سامان سو اجالے کا

ہاتھ میں پلّو کملی والے کا

مجید امجد

ہزاروں راستے ہیں

ہزاروں راستے ہیں، منزلیں ہیں

سمندر اور صحرا بھی ہیں حائل

مگر رہبر ستارے کی شعاعیں

ہیں ہر رہرو کے سینے کی متاعیں

ہر اک کشتی سمجھتی ہے کہ تارا

رواں ہے ساتھ اس کے بن کے رہبر

تمہاری رہ مری منزل الگ ہے

تمہارے دل سے میرا دل الگ ہے

سمندر اور صحرا ان میں حائل

کسے معلوم ہے یہ دو مسافر

کبھی اک دوسرے سے مل سکیں گے

کبھی شاید یہ غنچے کھل سکیں گے!

مگر دونوں کا رہبر ہے وہ تارا

جو اک دن میرے حرفِ آرزو پر

تمہاری انکھڑیوں سے گر پڑا تھا

جبینِ وقت پر تاباں ہوا تھا

شب و روز آئے اس کے بعد لاکھوں

ابھی تک اس کی کرنوں کے اشارے

صدا بھٹکے ہوؤں کو دے رہے ہیں

ہماری کشتیوں کو کھے رہے ہیں

ہمارے راستے کتنے الگ ہوں

ہماری منزلیں کتنی جدا ہوں

مگر رہبر ستارا تو وہی ہے

امیدوں کا کنارا تو وہی ہے

مجید امجد

حسین

وہ شام صبحِ دوعالم تھی جب بہ سرحدِ شام

رکا تھا آ کے ترا قافلہ، ترے خیام!

متاعِ کون و مکاں، تجھ شہید کا سجدہ

زمینِ کرب و بلا کے نمازیوں کے امام

یہ نکتہ تو نے بتایا جہان والوں کو!

کہ ہے فرات کے ساحل سے سلسبیل اک گام

سوارِ مرکبِ دوشِ رسول — پورِ بتول

چراغِ محفلِ ایماں ترا مقدس نام!

مجید امجد

ارتھی

تو نے کیا دیکھا؟ تو نے کیا سمجھا؟

جب تری زندگی نواز آنکھیں

گوشۂ بام کی بلندی سے

فرطِ حیرت سے، دردمندی سے

جھک پڑیں اس ہجومِگریاں پر

جو گزرتا تھا تیرے کوچے سے

ایک ارتھی اٹھائے شانوں پر

چند سہمے سے پھول اور اک چادر

زندگی کی بہار کا انجام؟

بحرِ ہستی کی آخری منجدھار؟

تیرے حسن اور مرے جنوں کا مآل؟

اپنا احساس تھا کہ میرا خیال؟

میں نے دیکھا تو سوگوار سی تھی

تو نے کیا سوچا؟ تو نے کیا سمجھا؟

مجید امجد

صبح و شام

تجھ کو خبر ہے کتنی صبحیں

کتنی صبحیں بن گئیں شامیں

آرزوؤں سے مہکی صبحیں

بن کے پرانی پیامی شامیں

ڈوب رہی ہیں، ڈوب چکی ہیں

وقت کے طوفانی دریا میں

کتنی صبحیں، کتنی شاہیں

اب بھی رواں ہے ناؤ میری

اب بھی رواں ہے دھیرے دھیرے

دور ہے امیدوں کا کنارا

دور ہیں ارمانوں کے جزیرے

دور، افق سے دور، وہ دنیا

جس کی فضا میں جھومیں جھامیں

نوریں صبحیں، رنگیں شامیں

ان صبحوں کو، ان شاموں کو

کون مری دنیا میں لائے

ہائے میری دکھیا دنیا

جس کے اجالے بھی ہیں سائے

وہ سائے جن کی ظلمت کو

سونپ چکی ہیں اپنی لگامیں

میری صبحیں، میری شامیں

مجید امجد

راجا پرجا

راجے کا کل آج!

سارا جہاں محتاج

سُکھ، دھن، باج، خراج

گدی، مسند، تاج

تیس برس کا راج

اور پھر اس کے بعد

اک روضہ ویراں

پرجا کا آج نہ کل

شاخ نہ پھول، نہ پھل

بھٹکے دَل کا دَل

بھوکا، پیاسا، شل

لاکھ برس کا پل

اور پھر اس کے بعد

مٹتے گورستاں

راجا پرجا کہاں؟

اک بہتا طوفاں

کوہِ عظیم و گراں

کاہِ سبک ساماں

جھونپڑیاں، ایواں

نغمہ اور فغاں

ہر شے اس میں رواں

ہر شے اس میں نہاں

اور پھر اس کے بعد

ایک وہی طوفاں

مجید امجد

ملاقات

تم کو شہروں نے پکارا، سبزہ زاروں نے مجھے

تم کو پھولوں نے صدا دی اور خاروں نے مجھے

میں انھی پگڈندیوں پر بانسری چھیڑا کیا

بے ارادہ، جانے کس کا راستہ دیکھا کیا

جب ندی پر ترمراتا شام کی مہندی کا رنگ

میرے دل میں کانپ اٹھتی کوئی اَن بوجھی امنگ

جب کھلنڈری ہرنیوں کی ڈار بن میں ناچتی

کوئی بےنام آرزو سی میرے من میں ناچتی

ریت کے ٹیلے پہ سرکنڈوں کی لہراتی قطار

نیم شب، میں اور میری بانسری اور انتظار

آہ یہ سرسبز میداں، دم بخود، لامنتہی

جن کی وسعت میں جوانی میری آوارہ رہی

بعد مدت کے تمہارا آج اِدھر آنا ہوا

وہ زمانہ بچپنے کا، آہ، افسانہ ہوا

کتنے سلجھے بال، کیسی نرم و نازک آستیں

ہنس رہے ہو؟ اک تمہاراقہقہہ بدلا نہیں

مجھ کو دیکھو، میں ابھی وابستۂ آغاز ہوں

ان حسیں ویرانیوں میں گوش بر آواز ہوں

دوڑتی جاتی ہے دنیا وقت کے محمل کے سات

میرے حصے میں وہی بےتاب دن، بےخواب رات

ڈھونڈتا ہوں، گم ہوئی ہے میری دنیائے حسیں

ہاں، انھی پھیلے بیابانوں کے پچّھم میں کہیں!

ایک دن جب میرے مرنے کی خبر پائے گی وہ

میری تربت پر تو آئے گی، ضرور آئے گی وہ

مجید امجد

چچی

آگ لینے آئی جب کوئی پڑوسن شام کو

یوں چچی نے وا کیا اپنے لبِ دشنام کو

’’اس موئی پاپن نے تو مجھ کو جلا ڈالا بہن!

کوئی ہو اس بےحیا سے پوچھنے والا، بہن

یہ نگوڑی کیوں گلی کے موڑ پر کل پچھلی رات

کر رہی تھی جانے کیا سرگوشیاں اور اس کے سات‘‘

وہ بچاری آلوؤں کو چھیلتی بےاختیار

ہاتھ میں اپنے چبھو بیٹھی چھری کی تیز دھار

صبح کو گونجی فضا میں جب کسی بنسی کی لے

اس کے سینے میں تڑپ اٹھی کوئی بیتاب شے

ہاتھ سے چلتی ہوئی چکی کا دستہ چھٹ گیا

اک جہاں اس کے تصور میں بسا اور لٹ گیا

اتنے میں ظالم چچی کی غیظ ناک آواز پر

جھک گئی پھر سے وہ سنگِ آسیا کے ساز پر

کیوں نہ ہواس دکھ کی ماری کے لیے جینا وبال

اک چچی کے ہاتھ میں ہو جس کے گھر کی دیکھ بھال

باپ جس کا کارخانے میں کہیں مزدور ہو

اپنی اکلوتی جواں بیٹی سے کوسوں دور ہو

جس کی ماں پھر لوٹ کر فردوس سے آئی نہ ہو

وہ ابھاگن! جس بچاری کا کوئی بھائی نہ ہو

مجید امجد

سفرِ حیات

ہر اک نقشِ پا کی زباں پر فسانے

ہر اک دُوب میں مضطرب سو ترانے

ہر اک موڑ پہ اس کے لاکھوں زمانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

کسی بوستانِ حسیں کے کنارے؟

کسی وادیِ شبنمیں کے دوارے؟

کسی خارزارِ حزیں کے ٹھکانے؟

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

امیدوں پہ حسرت سی برسا رہے ہیں

پس و پیش سے کان میں آ رہے ہیں

بھٹکتے ہوئے قافلوں کے ترانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

ہر اک گام کی زد میں خاموش لاشیں

جبینوں کے ٹکڑے تو سینوں کی قاشیں

یہ گزرے ہوئے رہرووں کے ’’فسانے‘‘

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

مسافر رواں ہیں ادھر آنکھ میچے

ادھر تنکے تنکے کی چلمن کے نیچے

بچھا رکھا ہے دام اپنا قضا نے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

نگاہوں کے آگے اجل کی سیاہی

کرے کیا بچارا تھکا ہارا راہی

چلا تو ہے تقدیر کو آزمانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

مجید امجد

سازِ فقیرانہ

گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا

نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا

فقیر ہیں دو، فقیرانہ ساز رکھتے ہیں

ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا

ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام!

زمانے بھر سے ہے کم دل کا ایک کونا کیا

نظامِ دہر کو تیورا کے کس لیے دیکھیں

جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا

بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر

یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا

نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد

جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا

مجید امجد

مسافر

گزر گاہِ جہاں پر — ہم مسافر!

شکستہ دل، شکستہ دم، مسافر

عجب کچھ زندگانی کا سفر ہے

مسافر کا نہیں محرم مسافر

گلے ملتی ہے رو رو کر گلوں سے

کہ اس گلشن میں ہے شبنم مسافر

کٹھن ہے عشق کی منزل کٹھن ہے

چلے ہیں اس روش پر کم مسافر

ابد اک موڑ تیرے راستے کا

تو سیلِ شوق ہے، مت تھم مسافر!

گلہ کیوں شومیِ قسمت کا امجد؟

کرے کیوں فکرِ بیش و کم مسافر

مجید امجد

عقدۂ ہستی

خشک ندّی کے کنارے، ریل کی پٹڑی کے پاس

کھل رہا ہے دشت میں اک لالۂ آتش لباس

اس طرف کمھلائی دوب اور اس طرف سوکھا ببول

پل رہا ہے جن کی بےاحساس گودی میں یہ پھول

کھیلتا ہے گرچہ انگاروں سے اس کا ہر نفس

مٹ رہا ہے خار و خس میں ہم نشینِ خار و خس

درد کی فطرت کا دم اس طرح گھٹتا دیکھ کر

دیکھ کر اس سوز کی دولت کو لٹتا دیکھ کر

مجھ کو نظمِ زیست کی بربادیاں یاد آ گئیں

میری آنکھوں میں برستی بدلیاں لہرا گئیں

اس پر اک ساتھی نے حیرت سے کہا: ’’کیوں کیا ہوا؟

او مسافر بھائی، تو کیوں رو پڑا؟ کیوں، کیا ہوا؟‘‘

ایسے لمحے میں حقیقت کو چھپانے کے لیے

دور کیوں جائے بھلا انساں بہانے کے لیے

مسکرا کر میں نے جھٹ اس سے کہا: ’’کچھ بھی نہیں

یونہی بیٹھے بیٹھے آنکھیں میری دھندلا سی گئیں ‘‘

عقدۂ ہستی کو سلجھایا ہے کس نے اور کب؟

آہ اس دنیا میں دل روتے ہیں اور ہنستے ہیں لب!

مجید امجد

کہاں؟

موت کی گفتگو نہ کر اے دوست

آہ یہ آرزو نہ کر اے دوست

جب تلک سانس کی روانی ہے

تیرے جیون کی رُت سہانی ہے

جب تلک دل کے داغ روشن ہیں

شش جہت میں چراغ روشن ہیں

دوست! جب تک ترا حریمِ نگاہ

دے رہا ہے تجلیوں کو پناہ

زندگی جام ہے محبت کا

زندگی نام ہے محبت کا

ہم نشیں، کس قدر قریب ہیں ہم

زندگی ہے تو خوش نصیب ہیں ہم

دل سے دل کی طرب نوازی ہے

روح سے روح محوِ بازی ہے

آنکھیں آنکھوں میں مے انڈیلتی ہیں

انگلیاں گیسوؤں سے کھیلتی ہیں

شانے سے شانہ بھڑ رہا ہے یہاں

نغمے سے نغمہ چھڑ رہا ہے یہاں

جو بھی ارماں دلِ حیات میں ہے

آج تو دامِ ممکنات میں ہے

کل نہ معلوم کیا سے کیا ہو جائے

کل کا مفہوم کیا سے کیا ہو جائے

الجھے الجھے اجل کے دھارے سے

جا کے ٹکرائیں کس کنارے سے

کس نشیمن میں، کس ٹھکانے، کہاں

اپنی منزل ہو پھر نہ جانے کہاں

(15-19-1940)

مجید امجد

بیاہی ہوئی سہیلی کا خط

کیا یہ سچ ہے مری سہیلی کہ تم

جلد ہی اب بیاہی جاؤ گی

اِک نئی زندگی میں اترو گی

اِک نئی قیدگہ بساؤ گی

آج تک جن سے تم بچھڑ نہ سکیں

ان کو اس طرح چھوڑ جاؤ گی

ایک گھونگھٹ کی اوٹ میں چھپ کر

زیست کی قید کاٹ جاؤ گی

نقرئی بندھنوں میں جکڑی ہوئی

راہِ ہستی پہ ڈگمگاؤ گی

پھر بھی آئیں گی چاندنی راتیں

تم مگر یوں نہ گنگناؤ گی

آنکھ میں ہوں گے سرمہ آلود اشک

آہ! تم پھر بھی مسکراؤ گی

آندھیوں کی زدوں میں آئی ہوئی

شمع کی طرح بجھتی جاؤ گی

آہ! یہ دکھ بھرا نظامِ حیات

جس کے پنجے میں تلملاؤ گی

آہ! یہ طوقِ رسم و راہِ جہاں

جس کو زیبِ گلو بناؤ گی

جس میں جلتا ہے دل سہاگن کا

اس جہنم میں ہنستی جاؤ گی

مان لوں کیا یہ میں کہ آج کی رات

آخری گیت اپنا گاؤ گی

پانی بھرنے کے اک بہانے سے

اپنی گاگر اٹھا کے آؤ گی

آ کے ندّی کنارے لہروں کو

دیر سے منتظر سا پاؤ گی

ایک لمحے کے بعد کیا ہو گا

ان کی گودی میں تھرتھراؤ گی

زندگانی کے قیدخانے کی

ساری زنجیریں کاٹ جاؤ گی

کاش پہنچے یہی نوید مجھے

ملے اس خط کی یوں رسید مجھے

مجید امجد