پامال

سورج نکلا، رنگ رچے

کرنوں کے قدموں کے تلے

سوکھی گھاس پہ کھلتے ہوئے

پیلے پیلے پھول ہنسے!

کرنوں کے چرنوں پر جب

اس مٹی نے رکھ دیے لب

مسلی گھاس پہ بچھ گئی، سب

ہنستی زندگیوں کی چھب!

اس مٹی کے ذرّے ہم

کیا کہیں اپنا قصۂ غم!

کیا کہیں ہم پر کیا بیتی

اندھے کھوٹے قدموں کی

ٹھوکر اپنی قسمت تھی

ٹھوکر کھائی، آنکھ کھلی

آنکھ کھلی تو بھید کھلا

وہ سب جن کے قدموں کا

ریلا ہم کو روند گیا

ان میں سورج کوئی نہ تھا

میری طرح اور تیری طرح

سب مٹی کے ذرّے تھے

مجید امجد

تبصرہ کریں