زمرہ جات کے محفوظات: غزل

کہو اے مکینو کہاں ہو یہ کیسا مکاں ہے

زمیں چل رہی ہے کہ صبحِ زوالِ زماں ہے
کہو اے مکینو کہاں ہو یہ کیسا مکاں ہے
پریشان چیزوں کی ہستی کو تنہا نہ سمجھو
یہاں سنگ ریزہ بھی اپنی جگہ اِک جہاں ہے
کبھی تیری آنکھوں کے تل میں جو دیکھا تھا میں نے
وُہی ایک پل محملِ شوق کا سارباں ہے
کہیں تو مرے عشق سے بدگماں ہو نہ جائے
کئی دِن سے ہونٹوں پہ تیرے نہیں ہے نہ ہاں ہے
خدا جانے ہم کس خرابے میں آ کر بسے ہیں
جہاں عرضِ اہلِ ہنر نکہتِ رائیگاں ہے
جہانوں کے مالک زمانوں سے پردہ اُٹھا دے
کہ دل اِن دِنوں بے نیازِ بہار و خزاں ہے
ترے فیصلے وقت کی بارگاہوں میں دائم
ترے اِسم ہر چار سو ہیں مگر تو کہاں ہے
خمارِ غریبی میں بے غم گزرتی ہے ناصر
درختوں سے بڑھ کر مجھے دھوپ کا سائباں ہے
ناصر کاظمی

تو ایک بار تو مل، سب گلے مٹا دُوں گا

جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنا دُوں گا
تو ایک بار تو مل، سب گلے مٹا دُوں گا
مجال ہے کوئی مجھ سے تجھے جدا کر دے
جہاں بھی جائے گا تو میں تجھے صدا دُوں گا
تری گلی میں بہت دیر سے کھڑا ہوں مگر
کسی نے پوچھ لیا تو جواب کیا دُوں گا
مری خموش نگاہوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
میں رو پڑا تو دلوں کے طبق ہلا دُوں گا
یونہی اداس رہا میں تو دیکھنا اِک دِن
تمام شہر میں تنہائیاں بچھا دُوں گا
بہ پاسِ صحبتِ دیرینہ کوئی بات ہی کر
نظر ملا تو سہی میں تجھے دُعا دُوں گا
بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھے
تری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دُوں گا
وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاعِ حیات
مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلا دُوں گا
ابھی تو رات ہے کچھ دیر سو ہی لے ناصر
کوئی بلائے گا تو میں تجھے جگا دُوں گا
ناصر کاظمی

جانے کیا اضطراب میں دیکھا

شعلہ سا پیچ و تاب میں دیکھا
جانے کیا اضطراب میں دیکھا
گل کدوں کے طلسم بھول گئے
وہ تماشا نقاب میں دیکھا
آج ہم نے تمام حسنِ بہار
ایک برگِ گلاب میں دیکھا
سر کھلے، پا برہنہ، کوٹھے پر
رات اُسے ماہتاب میں دیکھا
فرصتِ موسمِ نشاط نہ پوچھ
جیسے اِک خواب، خواب میں دیکھا
ناصر کاظمی

زِندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیے

دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیے
زِندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیے
میری نوائیں الگ، میری دُعائیں الگ
میرے لیے آشیاں سب سے جدا چاہیے
نرم ہے برگِ سمن، گرم ہے میرا سخن
میری غزل کے لیے ظرف نیا چاہیے
سر نہ کھپا اے جرس، مجھ کو مرا دل ہے بس
فرصتِ یک دو نفس مثلِ صبا چاہیے
باغ ترا باغباں ، تو ہے عبث بدگماں
مجھ کو تو اے مہرباں ، تھوڑی سی جا چاہیے
خوب ہیں گل پھول بھی تیرے چمن میں مگر
صِحنِ چمن میں کوئی نغمہ سرا چاہیے
ہے یہی عینِ وفا دل نہ کسی کا دُکھا
اپنے بھلے کے لیے سب کا بھلا چاہیے
بیٹھے ہو کیوں ہار کے سائے میں دیوار کے
شاعرِو، صورت گرو کچھ تو کیا چاہیے
مانو مری کاظمی تم ہو بھلے آدمی
پھر وُہی آوارگی کچھ تو حیا چاہیے
ناصر کاظمی

بھیس جدائی نے بدلا ہے

تو ہے یا تیرا سایا ہے
بھیس جدائی نے بدلا ہے
دل کی حویلی پر مدت سے
خاموشی کا قفل پڑا ہے
چیخ رہے ہیں خالی کمرے
شام سے کتنی تیز ہوا ہے
دروازے سر پھوڑ رہے ہیں
کون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے
تنہائی کو کیسے چھوڑوں
برسوں میں اِک یار ملا ہے
رات اندھیری ناؤ نہ ساتھی
رستے میں دریا پڑتا ہے
ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر
آج کسی نے یاد کیا ہے
ناصر کاظمی

کہنے کو سب کچھ اپنا ہے

اِس دُنیا میں اپنا کیا ہے
کہنے کو سب کچھ اپنا ہے
یوں تو شبنم بھی ہے دریا
یوں تو دریا بھی پیاسا ہے
یوں تو ہیرا بھی ہے کنکر
یوں تو مٹی بھی سونا ہے
منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب
کس نے کس کو یاد کیا ہے
تیرے ساتھ گئی وہ رونق
اب اِس شہر میں کیا رکھا ہے
بات نہ کر صورت تو دِکھا دے
تیرا اس میں کیا جاتا ہے
دھیان کے آتشدان میں ناصر
بجھے دِنوں کا ڈھیر پڑا ہے
ناصر کاظمی

اِک دبستانِ ہنر کھولیں گے

اہلِ دل آنکھ جدھر کھولیں گے
اِک دبستانِ ہنر کھولیں گے
وہیں رُک جائیں گے تاروں کے قدم
ہم جہاں رختِ سفر کھولیں گے
بحرِ ایجاد خطرناک سہی
ہم ہی اب اس کا بھنور کھولیں گے
کنج میں بیٹھے ہیں چپ چاپ طیور
برف پگھلے گی تو پر کھولیں گے
آج کی رات نہ سونا یارو
آج ہم ساتواں در کھولیں گے
ناصر کاظمی

سونے پر ہے بھاری مٹی

پیارے دیس کی پیاری مٹی
سونے پر ہے بھاری مٹی
کیسے کیسے بوٹے نکلے
لال ہوئی جب ساری مٹی
دُکھ کے آنسو سکھ کی یادیں
کھارا پانی کھاری مٹی
تیرے وعدے میرے دعوے
ہو گئے باری باری مٹی
گلیوں میں اُڑتی پھرتی ہے
تیرے ساتھ ہماری مٹی
ناصر کاظمی

نقشے کبھی اس اُجڑے ہوئے گھر کے تو دیکھو

دل بھی عجب عالم ہے نظر بھر کے تو دیکھو
نقشے کبھی اس اُجڑے ہوئے گھر کے تو دیکھو
اے دیدہ ور و دیدئہ پرنم کی طرف بھی
مشتاق ہو لعل و زر و گوہر کے تو دیکھو
بے زادِ سفر جیب تہی شہر نوردی
یوں میری طرح عمر کے دِن بھر کے تو دیکھو
کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصر
یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو
ناصر کاظمی

نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی

کب تلک مدعا کہے کوئی
نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی
غیرتِ عشق کو قبول نہیں
کہ تجھے بے وفا کہے کوئی
منّتِ ناخدا نہیں منظور
چاہے اس کو خدا کہے کوئی
ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف
کس کو درد آشنا کہے کوئی
کون اچھا ہے اِس زمانے میں
کیوں کسی کو برا کہے کوئی
کوئی تو حق شناس ہو یارب
ظلم کو ناروا کہے کوئی
وہ نہ سمجھیں گے اِن کنایوں کو
جو کہے برملا کہے کوئی
آرزُو ہے کہ میرا قصّہِ شوق
آج میرے سوا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
ناصر کاظمی

جو زخم دل کو ملے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں

تری نگاہ کے جادُو بکھرتے جاتے ہیں
جو زخم دل کو ملے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں
ترے بغیر وہ دِن بھی گزر گئے آخر
ترے بغیر یہ دِن بھی گزرتے جاتے ہیں
لیے چلو مجھے دریائے شوق کی موجو
کہ ہمسفر تو مرے پار اُترتے جاتے ہیں
تمام عمر جہاں ہنستے کھیلتے گزری
اب اُس گلی میں بھی ہم ڈرتے ڈرتے جاتے ہیں
میں خواہشوں کے گھروندے بنائے جاتا ہوں
وہ محنتیں مری برباد کرتے جاتے ہیں
ناصر کاظمی

کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے
آج تو جیسے ساری دُنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
تو ہے اور بے خواب دریچے
میں ہوں اور سنسان گلی ہے
خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے
اب تو آنکھ لگا لے ناصر
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے
ناصر کاظمی

اس چمن کی ہے آبرو ہم سے

جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
اس چمن کی ہے آبرو ہم سے
درس لیتے ہیں خوش خرامی کا
موجِ دریا و آبِ جو ہم سے
ہر سحر بارگاہِ شبنم میں
پھول ملتے ہیں باوضو ہم سے
ہم سے روشن ہے کارگاہِ سخن
نفسِ گل ہے مشک بؤ ہم سے
شب کی تنہائیوں میں پچھلے پہر
چاند کرتا ہے گفتگو ہم سے
شہر میں اب ہمارے چرچے ہیں
جگمگاتے ہیں کاخ و کو ہم سے
ناصر کاظمی

ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے

کسی کا درد ہو دل بیقرار اپنا ہے
ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے
ہو کوئی فصل مگر زخم کھل ہی جاتے ہیں
سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے
بلا سے ہم نہ پیئیں میکدہ تو گرم ہوا
بقدرِ تشنگی رنجِ خمار اپنا ہے
جو شاد پھرتے تھے کل آج چھپ کے روتے ہیں
ہزار شکر غمِ پائیدار اپنا ہے
اسی لیے یہاں کچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں
کہ جی جلانے میں کیوں اختیار اپنا ہے
نہ تنگ کر دلِ محزوں کو اے غمِ دُنیا
خدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے
کہیں ملا تو کسی دن منا ہی لیں گے اُسے
وہ زُود رنج سہی پھر بھی یار اپنا ہے
وہ کوئی اپنے سوا ہو تو اس کا شکوہ کروں
جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے
نہ ڈھونڈ ناصرِ آشفۃ حال کو گھر میں
وہ بوئے گل کی طرح بے قرار اپنا ہے
ناصر کاظمی

دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے
عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے
سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے
وہ کوئی دوست تھا اچھے دِنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے
کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصر
چلو اب گھر چلیں دِن جا رہا ہے
ناصر کاظمی

جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
جبر سے ایک ہوا ذائقہِ ہجر و وصال
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے
ہمسفر تھی جہاں فرہاد کے تیشے کی صدا
وہ مقامات بھی کچھ سیرِ جبل میں آئے
یہ بھی آرائشِ ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم
حلقہِ فکر سے میدانِ عمل میں آئے
ہر قدم دست و گریباں ہے یہاں خیر سے شر
ہم بھی کس معرکہِ جنگ و جدل میں آئے
زِندگی جن کے تصوّر سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے
ناصر کاظمی

کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی

کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی
صبح دم دیکھا تو سارا باغ تھا گل کی طرف
شمع کے تابوت پر رویا نہ پروانہ کوئی
خلوتوں میں روئے گی چھپ چھپ کے لیلائے غزل
اس بیاباں میں نہ اب آئے گا دِیوانہ کوئی
ہمنشیں خاموش، دیواریں بھی سنتی ہیں یہاں
رات ڈھل جائے تو پھر چھیڑیں گے افسانہ کوئی
ناصر کاظمی

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
تو جہاں چند روز ٹھہرا تھا
یاد کرتا ہے تجھ کو آج وہ گھر
ہم جہاں روز سیر کرتے تھے
آج سنسان ہے وہ راہگزر
تو جو ناگاہ سامنے آیا
رکھ لیے میں نے ہاتھ آنکھوں پر
ناصر کاظمی

بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق

چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق
کدھر چلے گئے وہ ہم نوائے شامِ فراق
کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شامِ فراق
پلک اُٹھاتے ہی چنگاریاں برستی ہیں
بچھی ہے آگ سی کیا زیرِپائے شامِ فراق
یہ رینگتی چلی آتی ہیں کیا لکیریں سی
یہ ڈھونڈتی ہے کسے سائے سائے شامِ فراق
کبھی یہ فکر کہ دن کو بھی منہ دِکھانا ہے
کبھی یہ غم کہ پھر آئے نہ آئے شامِ فراق
وہ اشکِ خوں ہی سہی دل کا کوئی رنگ تو ہو
اب آ گئی ہے تو خالی نہ جائے شامِ فراق
بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر
کہاں چلی ہے یہ کاسہ اُٹھائے شامِ فراق
ناصر کاظمی

بیِتے لمحوں کی جھانجھن

ساری رات جگاتی ہے
بیِتے لمحوں کی جھانجھن
لال کھجوروں نے پہنے
زرد بگولوں کے کنگن
چلتا دریا، ڈھلتی رات
سن سن کرتی تیز پون
ہونٹوں پر برسوں کی پیاس
آنکھوں میں کوسوں کی تھکن
پہلی بارش، میں اور تو
زرد پہاڑوں کا دامن
پیاسی جھیل اور دو چہرے
دو چہرے اور اِک درپن
تیری یاد سے لڑتا ہوں
دیکھ تو میرا پاگل پن
ناصر کاظمی

اب اُس پیڑ کے پتے جھڑتے جاتے ہیں

ہم جس پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھا کرتے تھے
اب اُس پیڑ کے پتے جھڑتے جاتے ہیں
ایک انوکھی بستی دھیان میں بستی ہے
اُس بستی کے باسی مجھے بلاتے ہیں
میں تو آنکھیں بند کیے بیٹھا ہوں مگر
دل کے دروازے کیوں کھلتے جاتے ہیں
تو آنکھوں سے اوجھل ہوتا جاتا ہے
دُور کھڑے ہم خالی ہاتھ ہلاتے ہیں
جب بھی نئے سفر پر جاتا ہوں ناصر
پچھلے سفر کے ساتھی دھیان میں آتے ہیں
ناصر کاظمی

کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں

تم آگئے ہو تو کیوں انتظارِ شام کریں
کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں
خلوص و مہر و وفا لوگ کر چکے ہیں بہت
مرے خیال میں اب اور کوئی کام کریں
یہ خاص و عام کی بیکار گفتگو کب تک
قبول کیجیے جو فیصلہ عوام کریں
ہر آدمی نہیں شائستہِ رموزِ سخن
وہ کم سخن ہو مخاطب تو ہم کلام کریں
جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زِندگی حرام کریں
خدا اگر کبھی کچھ اختیار دے ہم کو
تو پہلے خاک نشینوں کا انتظام کریں
رہِ طلب میں جو گمنام مر گئے ناصر
متاعِ درد اُنہی ساتھیوں کے نام کریں
ناصر کاظمی

تونے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ

موسمِ گلزارِ ہستی اِن دنوں کیا ہے نہ پوچھ
تونے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ
ہاتھ زخمی ہیں تو پلکوں سے گلِ منظر اُٹھا
پھول تیرے ہیں نہ میرے باغ کس کا ہے نہ پوچھ
رات اندھیری ہے تو اپنے دھیان کی مشعل جلا
قافلے والوں میں کس کو کس کی پروا ہے نہ پوچھ
جو ترا محرم ملا اس کو نہ تھی اپنی خبر
شہر میں تیرا پتا کس کس سے پوچھا ہے نہ پوچھ
ناصر کاظمی

کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں

بدلی نہ اس کی رُوح کسی اِنقلاب میں
کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں
لفظوں میں بولتا ہے رگِ عصر کا لہو
لکھتا ہے دستِ غیب کوئی اس کتاب میں
تو ڈھونڈتی ہے اب کسے اے شامِ زندگی
وہ دِن تو خرچ ہو گئے غم کے حساب میں
خوش وقتیوں میں تم جنہیں بھولے ہوئے ہو آج
وہ یاد آئیں گے تمھیں حالِ خراب میں
یارانِ زُود نشہ کا عالم یہ ہے تو آج
یہ رات ڈوب جائے گی جامِ شراب میں
نیندیں بھٹکتی پھرتی ہیں گلیوں میں ساری رات
یہ شہر چھپ کے رات کو سوتا ہے آب میں
یہ آج راہ بھول کے آئے کدھر سے آپ
یہ خواب میں نے رات ہی دیکھا تھا خواب میں
ناصر کاظمی

سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی

زِندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی
سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی
دل نے ہر داغ کو رکھا محفوظ
یہ زمیں خوشنما ہمیں سے ہوئی
ہم سے پہلے زمینِ شہرِ وفا
خاک تھی کیمیا ہمیں سے ہوئی
کتنی مردم شناس ہے دُنیا
منحرف بے حیا ہمیں سے ہوئی
کون اُٹھاتا شبِ فراق کے ناز
یہ بلا آشنا ہمیں سے ہوئی
بے غرض کون دل گنواتا ہے
تیری قیمت ادا ہمیں سے ہوئی
ستمِ ناروا تجھی سے ہوا
تیرے حق میں دُعا ہمیں سے ہوئی
سعیِٔ تجدیدِ دوستی ناصر
آج کیا بارہا ہمیں سے ہوئی
ناصر کاظمی

ابر گرجا گلِ باراں چمکے

پھر نئی فصل کے عنواں چمکے
ابر گرجا گلِ باراں چمکے
آنکھ جھپکوں تو شرارے برسیں
سانس کھینچوں تو رگِ جاں چمکے
کیا بگڑ جائے گا اے صبحِ جمال
آج اگر شامِ غریباں چمکے
اے فلک بھیج کوئی برقِ خیال
کچھ تو شامِ شبِ ہجراں چمکے
پھر کوئی دل کو دُکھائے ناصر
کاش یہ گھر کسی عنواں چمکے
ناصر کاظمی

اے دل قفسِ جاں میں ذرا اور پھڑک لے

جب تک نہ لہو دیدئہ انجم سے ٹپک لے
اے دل قفسِ جاں میں ذرا اور پھڑک لے
ذرّے ہیں ہوس کے بھی زرِ نابِ وفا میں
ہاں جنسِ وفا کو بھی ذرا چھان پھٹک لے
پھر دیکھنا اُس کے لبِ لعلیں کی ادائیں
یہ آتشِ خاموش ذرا اور دہک لے
گونگا ہے تو لب بستوں سے آدابِ سخن سیکھ
اندھا ہے تو ہم ظلم رسیدوں سے چمک لے
ناصر سے کہے کون کہ اللہ کے بندے
باقی ہے ابھی رات ذرا آنکھ چھپک لے
ناصر کاظمی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

آج تو بے سبب اُداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی میری
وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
چھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی
ایک دم اُس کے ہونٹ چوم لیے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
ایک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا
جانے کیا بات درمیاں آئی
تو جو اِتنا اُداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
ناصر کاظمی

ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں

تو اسیرِ بزم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہِ نے نہیں
ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں
ترا ہر کمال ہے ظاہری ترا ہر خیال ہے سرسری
کوئی دل کی بات کروں تو کیا ترے دل میں آگ تو ہے نہیں
جسے سن کے رُوح مہک اُٹھے جسے پی کے درد چہک اُٹھے
ترے ساز میں وہ صدا نہیں ترے میکدے میں وہ مے نہیں
کہاں اب وہ موسمِ رنگ و بو کہ رگوں میں بول اُٹھے لہو
یونہی ناگوار چبھن سی ہے کہ جو شاملِ رگ وپے نہیں
ترا دل ہو درد سے آشنا تو یہ نالہ غور سے سن ذرا
بڑا جاں گسل ہے یہ واقعہ یہ فسانہِ جم و کے نہیں
میں ہوں ایک شاعرِ بے نوا مجھے کون چاہے مرے سوا
میں امیرِ شام و عجم نہیں میں کبیرِ کوفہ و رَے نہیں
یہی شعر ہیں مری سلطنت اِسی فن میں ہے مجھے عافیت
مرے کاسہِ شب و روز میں ترے کام کی کوئی شے نہیں
ناصر کاظمی

چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے

دُھوپ نکلی دِن سہانے ہو گئے
چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے
کیا تماشا ہے کہ بے ایامِ گل
ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے
اِس قدر رویا ہوں تیری یاد میں
آئنے آنکھوں کے دُھندلے ہو گئے
ہم بھلا چپ رہنے والے تھے کہیں
ہاں مگر حالات ایسے ہو گئے
اب تو خوش ہو جائیں اربابِ ہوس
جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہو گئے
حسن اب ہنگامہ آرا ہو تو ہو
عشق کے دعوے تو جھوٹے ہو گئے
اے سکوتِ شامِ غم یہ کیا ہوا
کیا وہ سب بیمار اچھے ہو گئے
دل کو تیرے غم نے پھر آواز دی
کب کے بچھڑے پھر اِکٹھے ہو گئے
آؤ ناصر ہم بھی اپنے گھر چلیں
بند اس گھر کے دریچے ہو گئے
ناصر کاظمی

دل کی آواز سنا دی ہم نے

سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
دل کی آواز سنا دی ہم نے
پہلے اِک روزنِ در توڑا تھا
اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے
پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیڑا
دِن کی قندیل بجھا دی ہم نے
آتشِ غم کے شرارے چن کر
آگ زِنداں میں لگا دی ہم نے
رہ گئے دستِ صبا کملا کر
پھول کو آگ پلا دی ہم نے
آتشِ گل ہو کہ ہو شعلہِ ساز
جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے
کتنے اَدوار کی گم گشتہ نوا
سینہِ نے میں چھپا دی ہم نے
دمِ مہتاب فشاں سے ناصر
آج تو رات جگا دی ہم نے
ناصر کاظمی

اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی

دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی
آج کھلنے ہی کو تھا دردِ محبت کا بھرم
وہ تو کہیے کہ اچانک ہی تری یاد آئی
نشہِ تلخیٔ ایام اُترتا ہی نہیں
تیری نظروں نے گلابی بہت چھلکائی
یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دُنیا میں
پھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائی
یوں تو ملنے کو وہ ہر روز ہی ملتا ہے مگر
دیکھ کر آج اُسے آنکھ بہت للچائی
ڈوبتے چاند پہ روئی ہیں ہزاروں آنکھیں
میں تو رویا بھی نہیں ، تم کو ہنسی کیوں آئی
رات بھر جاگتے رہتے ہو بھلا کیوں ناصر
تم نے یہ دَولتِ بیدار کہاں سے پائی
ناصر کاظمی

یارو یہ کیسی ہوا ہے اب کے

پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
یارو یہ کیسی ہوا ہے اب کے
دوست بچھڑے ہیں کئی بار مگر
یہ نیا داغ کھلا ہے اب کے
پتیاں روتی ہیں سر پیٹتی ہیں
قتلِ گل عام ہوا ہے اب کے
شفقی ہو گئی دیوارِ خیال
کس قدر خون بہا ہے اب کے
منظرِ زخمِ وفا کس کو دِکھائیں
شہر میں قحطِ وفا ہے اب کے
وہ تو پھر غیر تھے لیکن یارو
کام اپنوں سے پڑا ہے اب کے
کیا سنیں شورِ بہاراں ناصر
ہم نے کچھ اور سنا ہے اب کے
ناصر کاظمی

میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی
کن بے دِلوں میں پھینک دیا حادثات نے
آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی
بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
اگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی
میٹھے تھے جِن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گر گئی
بازار بند راستے سنسان بے چراغ
وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی
گلیوں میں اب تو شام سے پھرتے ہیں پہرہ دار
ہے کوئی کوئی شمع سو وہ بھی بجھی بجھی
اے روشنیٔ دِیدہ و دل اب نظر بھی آ
دُنیا ترے فراق میں اندھیر ہو گئی
القصہ جیب چاک ہی کرنی پڑی ہمیں
گو اِبتدائے غم میں بڑی احتیاط کی
اب جی میں ہے کہ سر کسی پتھر سے پھوڑیے
ممکن ہے قلبِ سنگ سے نکلے کوئی پری
بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کوئی دِن
تصویر کھینچیے کسی موجِ خیال کی
ناصر بہت سی خواہشیں دل میں ہیں بے قرار
لیکن کہاں سے لاؤں وہ بے فکر زندگی
ناصر کاظمی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

دل میں اِک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہِ دل میں
کوئی دِیوار سی گری ہے ابھی
بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریکِ سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زِندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اُس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اُٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
ناصر کاظمی

خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں

شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اِتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں
اُن اُجالوں کی دُھن میں پھرتا ہوں
چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں
رَین اندھیری ہے اور کنارہ دُور
چاند نکلے تو پار اُتر جائیں
ناصر کاظمی

کیسی سنسان فضا ہوتی ہے

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
کیسی سنسان فضا ہوتی ہے
ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی
جب ہر اِک سانس صدا ہوتی ہے
دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد
جیسے وِیران سرا ہوتی ہے
رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن
اس میں توہینِ وفا ہوتی ہے
منہ اندھیرے کبھی اُٹھ کر دیکھو
کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے
اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ
کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے
غم کی بے نور گزرگاہوں میں
اِک کرن ذوق فزا ہوتی ہے
غمگسارِ سفرِ راہِ وفا
مژئہ آبلہ پا ہوتی ہے
گلشنِ فکر کی منہ بند کلی
شبِ مہتاب میں وا ہوتی ہے
جب نکلتی ہے نگار شبِ گل
منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے
حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے
بوئے گل، گل سے جدا ہوتی ہے
اِک نیا دَور جنم لیتا ہے
ایک تہذیب فنا ہوتی ہے
جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر
بے کلی دل کی سوا ہوتی ہے
ناصر کاظمی

مجھ سے اِتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دُور نکل

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
مجھ سے اِتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دُور نکل
ایک سمے ترا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر
ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دُکھ کے کانٹوں کا جنگل
یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
میں تو ایک نئی دُنیا کی دُھن میں بھٹکتا پھرتا ہوں
میری تجھ سے کیسے نبھے گی ایک ہیں تیرے فکر و عمل
میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے، دیکھ اس کالی رات کو دیکھ
میں وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مرے چلنا ہو تو چل
ناصر کاظمی

میں بھی تیرے جیسا ہوں

اپنی دُھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
او پچھلی رُت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دُکھ کے کنکر چنتا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں
میرا دِیا جلائے کون
مَیں ترا خالی کمرہ ہوں
تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں
تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں
آتی رُت مجھے روئے گی
جاتی رُت کا جھونکا ہوں
اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں
ناصر کاظمی

کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے

اِن سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے
یہ ٹھٹھری ہوئی لمبی راتیں کچھ پوچھتی ہیں
یہ خامشیٔ آواز نما کچھ کہتی ہے
سب اپنے گھروں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
اَور دُور کہیں کوئل کی صدا کچھ کہتی ہے
جب صبح کو چڑیاں باری باری بولتی ہیں
کوئی نامانوس اُداس نوا کچھ کہتی ہے
جب رات کو تارے باری باری جاگتے ہیں
کئی ڈوبے ہوئے تاروں کی ندا کچھ کہتی ہے
کبھی بھور بھئے کبھی شام پڑے کبھی رات گئے
ہر آن بدلتی رُت کی ہوا کچھ کہتی ہے
مہمان ہیں ہم مہمان سرا ہے یہ نگری
مہمانوں کو مہمان سرا کچھ کہتی ہے
بیدار رہو بیدار رہو بیدار رہو
اے ہم سفرو آوازِ درا کچھ کہتی ہے
ناصر آشوبِ زمانہ سے غافل نہ رہو
کچھ ہوتا ہے جب خلقِ خدا کچھ کہتی ہے
ناصر کاظمی

کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں
کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں
فرصتِ شوق بن گئی دِیوار
اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں
ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے
جتنی پیتا ہوں اُتنا نشہ نہیں
دل کی گہرائیوں میں ڈُوب کے دیکھ
کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں
غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر
سننے والوں کو تابِ نالہ نہیں
مجھ سے کہتی ہے مَوجِ صبحِ نشاط
پھول خیمہ ہے پیش خیمہ نہیں
ابھی وہ رنگ دل میں پیچاں ہیں
جنھیں آواز سے علاقہ نہیں
ابھی وہ دشت منتظر ہیں مرے
جن پہ تحریر پائے ناقہ نہیں
یہ اندھیرے سلگ بھی سکتے ہیں
تیرے دل میں مگر وہ شعلہ نہیں
راکھ کا ڈھیر ہے وہ دل ناصر
جس کی دھڑکن صدائے تیشہ نہیں
ناصر کاظمی

یاد نے کنکر پھینکا ہو گا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہو گا
یاد نے کنکر پھینکا ہو گا
آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اِس وقت اکیلا ہو گا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اَوروں کو خط لکھتا ہو گا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہو گا
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہو گا
شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اُترا ہو گا
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہو گا
یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا مکھڑا دھویا ہو گا
موتی جیسی شکل بنا کر
آئنے کو تکتا ہو گا
شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہو گا
نیلی دُھندلی خاموشی میں
تاروں کی دُھن سنتا ہو گا
میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہو گا
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہو گا
پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دُکھ تو سنایا ہو گا
میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہو گا
ناصر تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہو گا
ناصر کاظمی

کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر

رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر
بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر
آ رہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر
تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
کوئی دِن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر
تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دِلوں کے ختن
پاشکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر
شہر اُجڑے تو کیا، ہے کشادہ زمینِ خدا
اِک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر
یہ محلاتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر
گرنے والے ہیں اِن کے علم صبر کر صبر کر
دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف
خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر
لہلہائیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں
کھل کے برسے گا ابرِ کرم صبر کر صبر کر
کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے
دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر
پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
کوئی دم اے صریرِ قلم صبر کر صبر کر
درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے
ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر
دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں
بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر
ناصر کاظمی

مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی

سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی
یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
سنا ہے میں نے لوگوں کی زبانی
یہاں اِک شہر تھا شہرِ نگاراں
نہ چھوڑی وقت نے اُس کی نشانی
میں وہ دل ہوں دبستانِ اَلم کا
جسے روئے گی صدیوں شادمانی
تصوّر نے اُسے دیکھا ہے اکثر
خرد کہتی ہے جس کو لامکانی
خیالوں ہی میں اکثر بیٹھے بیٹھے
بسا لیتا ہوں اِک دنیا سہانی
ہجومِ نشہِ فکرِ سخن میں
بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی
بتا اے ظلمتِ صحرائے اِمکاں
کہاں ہو گا مرے خوابوں کا ثانی
اندھیری شام کے پردوں میں چھپ کر
کسے روتی ہے چشموں کی روانی
کرن پریاں اُترتی ہیں کہاں سے
کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی
پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی
اُڑے جاتے ہیں اوراقِ خزانی
نئی دُنیا کے ہنگاموں میں ناصر
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی
ناصر کاظمی

دِیوانہ ہے دِیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دِیوانہ ہے دِیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا
رُوکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے
کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو
نامِ خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے
کیا جانے کیا رُت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں
اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے
کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہوکس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے
ناصر کاظمی

مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے
میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہے
چلے دل سے اُمیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے
نہ سمجھو تم اِسے شورِ بہاراں
خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اُداسی بال کھولے سو رہی ہے
ناصر کاظمی

پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

پھر ساون رُت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں
رُت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے
پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں
پھر اَمرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے
پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا
بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے
دِن بھر تو میں دُنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
جب دِیواروں سے دُھوپ ڈھلی تم یاد آئے
ناصر کاظمی

گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے چھِین لے

ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے چھِین لے
گر احترامِ رسمِ وفا ہے تو اے خدا
یہ احترامِ رسمِ کہن مجھ سے چھین لے
منظر دل و نگاہ کے جب ہو گئے اُداس
یہ بے فضا علاقہِ تن مجھ سے چھین لے
گل ریز میری نالہ کشی سے ہے شاخ شاخ
گُل چیں کا بس چلے تو یہ فن مجھ سے چھین لے
سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں
کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے
ناصر کاظمی

تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اُداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اُتر نہ جائے کہیں
ناصر کاظمی

وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو

آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو
یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی اُمید
اِس رنجِ بے خمار کی اب انتہا بھی ہو
یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو
ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو
دِیوانگیٔ شوق کو یہ دُھن ہے اِن دِنوں
گھر بھی ہو اور بے در و دیوار سا بھی ہو
جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو
ہر ذرّہ ایک محملِ عبرت ہے دشت کا
لیکن کسے دِکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو
ہر شے پکارتی ہے پسِ پردئہ سکوت
لیکن کسے سناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو
فرصت میں سن شگفتگیٔ غنچہ کی صدا
یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو
بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے
کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو
بزمِ سخن بھی ہو سخنِ کَرم کے لیے
طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو
ناصر کاظمی

کہاں پڑے ہو اسیرو! بہار کے دن ہیں

چمن میں پھر رسن و طوق و دار کے دن ہیں
کہاں پڑے ہو اسیرو! بہار کے دن ہیں
یہ شور روزنِ زنداں سے صاف سنتا ہوں
کوئی کہے نہ کہے یہ بہار کے دن ہیں
ناصر کاظمی

ہزار بار ملو پھر بھی آشنا نہ لگے

وہ اِس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
ہزار بار ملو پھر بھی آشنا نہ لگے
کبھی وہ خاص عنایت کہ سو گماں گزریں
کبھی وہ طرزِ تغافل کہ محرمانہ لگے
وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بجلیاں برسیں
وہ دلبرانہ مروّت کہ عاشقانہ لگے
دکھاؤں داغِ محبت جو ناگوار نہ ہو
سناؤں قصۂ فرقت اگر برا نہ لگے
بہت ہی سادہ ہے تو اور زمانہ ہے عیار
خدا کرے کہ تجھے شہر کی ہوا نہ لگے
بجھا نہ دیں یہ مسلسل اداسیاں دل کو
وہ بات کر کہ طبیعت کو تازیانہ لگے
جو گھر اُجڑ گئے اُن کا نہ رنج کر پیارے
وہ چارہ کر کہ یہ گلشن اُجاڑ سا نہ لگے
عتابِ اہلِ جہاں سب بھلا دیے لیکن
وہ زخم یاد ہیں اب تک جو غائبانہ لگے
وہ رنگ دل کو دیے ہیں لہو کی گردش نے
نظر اُٹھاؤں تو دنیا نگارخانہ لگے
عجیب خواب دکھاتے ہیں ناخدا ہم کو
غرض یہ ہے کہ سفینہ کنارے جا نہ لگے
لیے ہی جاتی ہے ہر دم کوئی صدا ناصر
یہ اور بات سراغِ نشانِ پا نہ لگے
ناصر کاظمی

دھیان کی شمع جلا کر دیکھو

حسن کو دل میں چھپا کر دیکھو
دھیان کی شمع جلا کر دیکھو
کیا خبر کوئی دفینہ مل جائے
کوئی دیوار گرا کر دیکھو
فاختہ چپ ہے بڑی دیر سے کیوں
سرو کی شاخ ہلا کر دیکھو
کیوں چمن چھوڑ دیا خوشبو نے
پھول کے پاس تو جا کر دیکھو
نہر کیوں سو گئی چلتے چلتے
کوئی پتھر ہی گرا کر دیکھو
دل میں بیتاب ہیں کیا کیا منظر
کبھی اِس شہر میں آ کر دیکھو
ان اندھیروں میں کرن ہے کوئی
شب زدو آنکھ اُٹھا کر دیکھو
ناصر کاظمی

اب دُور دُور ہی سے کوئی بات ہو تو ہو

بیگانہ وار اُن سے ملاقات ہو تو ہو
اب دُور دُور ہی سے کوئی بات ہو تو ہو
مشکل ہے پھر ملیں کبھی یارانِ رفتگاں
تقدیر ہی سے اب یہ کرامات ہو تو ہو
اُن کو تو یاد آئے ہوے مدتیں ہوئیں
جینے کی وجہ اور کوئی بات ہو تو ہو
کیا جانوں کیوں اُلجھتے ہیں وہ بات بات پر
مقصد کچھ اس سے ترکِ ملاقات ہو تو ہو
ناصر کاظمی

بال چاندی ہو گئے سونا ہوے رخسار بھی

رنگ دکھلاتی ہے کیا کیا عمر کی رفتار بھی
بال چاندی ہو گئے سونا ہوے رخسار بھی
درد کے جھونکوں نے اب کے دل ہی ٹھنڈا کر دیا
آگ برساتا تھا آگے دیدۂ خونبار بھی
بیٹھے بیٹھے جانے کیوں بیتاب ہو جاتا ہے دل
پوچھتے کیا ہو میاں اچھا بھی ہوں بیمار بھی
شوقِ آزادی لیے جاتا ہے عالم سے پرے
روکتی ہے ہر قدم آوازِ پائے یار بھی
سادگی سے تم نہ سمجھے ترکِ دنیا کا سبب
ورنہ وہ درویش تھے پردے میں دنیادار بھی
کس طرح گزرے گا ناصر فرصتِ ہستی کا دن
جم گیا دیوار بن کر سایۂ دیوار بھی
ناصر کاظمی

آنکھ کھلتے ہی چاند سا دیکھا

خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا
آنکھ کھلتے ہی چاند سا دیکھا
کیاریاں دُھول سے اَٹی پائیں
آشیانہ جلا ہوا دیکھا
فاختہ سرنگوں ببولوں میں
پھول کو پھول سے جدا دیکھا
اُس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
عمر بھر جس کا راستا دیکھا
ہم نے موتی سمجھ کے چوم لیا
سنگ ریزہ جہاں پڑا دیکھا
کم نما ہم بھی ہیں مگر پیارے
کوئی تجھ سا نہ خود نما دیکھا
ناصر کاظمی

گل کیا غبارِ بوئے سمن کو ترس گئے

مدت ہوئی کہ سیرِ چمن کو ترس گئے
گل کیا غبارِ بوئے سمن کو ترس گئے
ہاں اے سکوتِ تشنگیٔ درد کچھ تو بول
کانٹے زباں کے آبِ سخن کو ترس گئے
دل میں کوئی صدا ہے نہ آنکھوں میں کوئی رنگ
تن کے رفیق صحبتِ تن کو ترس گئے
اِس عہدِ نو میں قدرِ متاعِ وفا نہیں
اس رسم و راہِ عہدِ کہن کو ترس گئے
منزل کی ٹھنڈکوں نے لہو سرد کر دیا
جی سُست ہے کہ پاؤں چبھن کو ترس گئے
اندھیر ہے کہ جلوۂ جاناں کے باوجود
کوچے نظر کے ایک کرن کو ترس گئے
ناصر کاظمی

کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا
کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا
اب تو دنیا بھی وہ دنیا نہ رہی
اب ترا دھیان بھی اُتنا نہ رہا
قصۂ شوق سناؤں کس کو
راز داری کا زمانا نہ رہا
زندگی جس کی تمنا میں کٹی
وہ مرے حال سے بیگانہ رہا
ڈیرے ڈالے ہیں خزاں نے چوندیس
گل تو گل باغ میں کانٹا نہ رہا
دن دہاڑے یہ لہو کی ہولی
خلق کو خوف خدا کا نہ رہا
اب تو سو جاؤ ستم کے مارو
آسماں پر کوئی تارا نہ رہا
ناصر کاظمی

ہمیں ہر حال میں غزل کہنا

نت نئی سوچ میں لگے رہنا
ہمیں ہر حال میں غزل کہنا
صحنِ مکتب میں ہمسِنوں کے ساتھ
سنگریزوں کو ڈھونڈتے رہنا
گھر کے آنگن میں آدھی آدھی رات
مل کے باہم کہانیاں کہنا
دن چڑھے چھاؤں میں ببولوں کی
رَمِ آہو کو دیکھتے رہنا
ابر پاروں کو، سبزہ زاروں کو
دیکھتے رہنا سوچتے رہنا
شہر والوں سے چھپ کے پچھلی رات
چاند میں بیٹھ کر غزل کہنا
ریت کے پھول، آگ کے تارے
یہ ہے فصلِ مراد کا گہنا
سوچتا ہوں کہ سنگِ منزل نے
چاندنی کا لباس کیوں پہنا
کیا خبر کب کوئی کرن پھوٹے
جاگنے والو جاگتے رہنا
ناصر کاظمی

آج تو شام بھی سحر سی ہے

کس کے جلووں کی دھوپ برسی ہے
آج تو شام بھی سحر سی ہے
اہلِ غم ہیں کہ صبح کی تصویر
دل بجھا سا ہے آنکھ ترسی ہے
کیوں نہ کھینچے دلوں کو ویرانہ
اُس کی صورت بھی اپنے گھر سی ہے
بے ثمر ہی رہی ہے شاخِ مراد
برف پگھلی تو آگ برسی ہے
دل میں اب کیا رہا ہے تیرے بعد
ایک سنسان رہگزر سی ہے
صبح تک ہم نہ سو سکے ناصر
رات بھر کتنی اوس برسی ہے
ناصر کاظمی

فکرِ واماندگاں کرے کوئی

کیوں غمِ رفتگاں کرے کوئی
فکرِ واماندگاں کرے کوئی
تیرے آوارگانِ غربت کو
شاملِ کارواں کرے کوئی
زندگی کے عذاب کیا کم ہیں
کیوں غمِ لامکاں کرے کوئی
دل ٹپکنے لگا ہے آنکھوں سے
اب کسے رازداں کرے کوئی
اس چمن میں برنگِ نکہتِ گل
عمر کیوں رائگاں کرے کوئی
شہر میں شور، گھر میں تنہائی
دل کی باتیں کہاں کرے کوئی
یہ خرابے ضرور چمکیں گے
اعتبارِ خزاں کرے کوئی
ناصر کاظمی

بجھتی آنکھوں میں ضیا پھر آئی

آئینہ لے کے صبا پھر آئی
بجھتی آنکھوں میں ضیا پھر آئی
تازہ رس لمحوں کی خوشبو لے کر
گل زمینوں کی ہوا پھر آئی
سرمئی دیس کے سپنے لے کر
شبنمِ زمزمہ پا پھر آئی
پھر چمکنے لگیں سونی راہیں
ساربانوں کی صدا پھر آئی
پھر کوئی قافلہ گزرا ناصر
وہی آوازِ درا پھر آئی
ناصر کاظمی

دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے

کچھ توں احساسِ زیاں تھا پہلے
دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے
اب تو جھونکے سے لرز اُٹھتا ہوں
نشۂ خوابِ گراں تھا پہلے
اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر
ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے
سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ
وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے
یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب
اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے
یوں نہ گھبرائے ہوے پھرتے تھے
دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے
اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن
اس قدر دور کہاں تھا پہلے
ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں
اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے
اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ
کیا خبر کون کہاں تھا پہلے
ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے
میں بھی آباد مکاں تھا پہلے
اُڑ گئے شاخ سے یہ کہہ کے طیور
سرو اک شوخ جواں تھا پہلے
کیا سے کیا ہو گئی دنیا پیارے
تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے
ہم نے آباد کیا ملکِ سخن
کیسا سنسان سماں تھا پہلے
ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں
درد مجبورِ فغاں تھا پہلے
ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق
شعلہ پتھر میں نہاں تھا پہلے
ہم نے روشن کیا معمورۂ غم
ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے
ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار
عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے
غم نے پھر دل کو جگایا ناصر
خانہ برباد کہاں تھا پہلے
ناصر کاظمی

حسن خود محوِ تماشا ہو گا

عشق جب زمزمہ پیرا ہو گا
حسن خود محوِ تماشا ہو گا
سن کے آوازۂ زنجیرِ صبا
قفسِ غنچہ کا در وا ہو گا
جرسِ شوق اگر ساتھ رہی
ہر نفس شہپرِ عنقا ہو گا
دائم آباد رہے گی دُنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
کون دیکھے گا طلوعِ خورشید
ذرّہ جب دیدۂ بینا ہو گا
ہم تجھے بھول کے خوش بیٹھے ہیں
ہم سا بیدرد کوئی کیا ہو گا
پھر سلگنے لگا صحرائے خیال
ابر گھر کر کہیں برسا ہو گا
پھر کسی دھیان کے صد راہے پر
دلِ حیرت زدہ تنہا ہو گا
پھر کسی صبحِ طرب کا جادو
پردۂ شب سے ہویدا ہو گا
گل زمینوں کے خنک رَمنوں میں
جشنِ رامش گری برپا ہو گا
پھر نئی رُت کا اشارہ پا کر
وہ سمن بو چمن آرا ہو گا
گلِ شب تاب کی خوشبو لے کر
ابلقِ صبح روانہ ہو گا
پھر سرِ شاخِ شعاعِ خورشید
نکہتِ گل کا بسیرا ہو گا
اک صدا سنگ میں تڑپی ہو گی
اک شرر پھول میں لرزا ہو گا
تجھ کو ہر پھول میں عریاں سوتے
چاندنی رات نے دیکھا ہو گا
دیکھ کر آئینۂ آبِ رواں
پتہ پتہ لبِ گویا ہو گا
شام سے سوچ رہا ہوں ناصر
چاند کس شہر میں اُترا ہو گا
ناصر کاظمی

گلِ عارض کی جھلک یاد آئی

شبنم آلود پلک یاد آئی
گلِ عارض کی جھلک یاد آئی
پھر سلگنے لگے یادوں کے کھنڈر
پھر کوئی تاکِ خنک یاد آئی
کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا
کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی
پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے
کوئی آوارہ مہک یاد آئی
پھر کوئی نغمہ گلو گیر ہوا
کوئی بے نام کسک یاد آئی
ذرّے پھر مائلِ رَم ہیں ناصرؔ
پھر اُنھیں سیرِ فلک یاد آئی
ناصر کاظمی

جسم ہے یا چاندنی کا شہر ہے

ہر ادا آبِ رواں کی لہر ہے
جسم ہے یا چاندنی کا شہر ہے
پھر کسی ڈوبے ہوے دن کا خیال
پھر وہی عبرت سرائے دہر ہے
اُڑ گئے شاخوں سے یہ کہہ کر طیور
اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے
ناصر کاظمی

خامشی طرزِ ادا چاہتی ہے

آہ پھر نغمہ بنا چاہتی ہے
خامشی طرزِ ادا چاہتی ہے
آج پھر وُسعتِ صحرائے جنوں
پرسشِ آبلہ پا چاہتی ہے
دیکھ کیفیتِ طوفانِ بہار
بوئے گل رنگ ہوا چاہتی ہے
موت آرائشِ ہستی کے لیے
خندۂ زخمِ وفا چاہتی ہے
دل میں اب خارِ تمنا بھی نہیں
زندگی برگ و نوا چاہتی ہے
سوچ اے دشمنِ اربابِ وفا
کیوں تجھے خلقِ خدا چاہتی ہے
اک ہمیں بارِ چمن ہیں ورنہ
غنچے غنچے کو صبا چاہتی ہے
ناصر کاظمی

ہر اک سانس کو ہم صبا جانتے ہیں

قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں
ہر اک سانس کو ہم صبا جانتے ہیں
لہو رو کے سینچا ہے ہم نے چمن کو
ہر اک پھول کا ماجرا جانتے ہیں
جسے نغمۂ نے سمجھتی ہے دنیا
اُسے بھی ہم اپنی صدا جانتے ہیں
اشارہ کرے جو نئی زندگی کا
ہم اُس خودکشی کو روا جانتے ہیں
تری دُھن میں کوسوں سفر کرنے والے
تجھے سنگِ منزل نما جانتے ہیں
ناصر کاظمی

رونے کے پھر آ گئے زمانے

آنکھوں میں ہیں دُکھ بھرے فسانے
رونے کے پھر آ گئے زمانے
پھر درد نے آگ راگ چھیڑا
لوٹ آئے وہی سمے پرانے
پھر چاند کو لے گئیں ہوائیں
پھر بانسری چھیڑ دی صبا نے
رستوں میں اُداس خوشبوئوں کے
پھولوں نے لٹا دیے خزانے
ناصر کاظمی

دل کا شعلہ زباں نے چھین لیا

لبِ معجز بیاں نے چھین لیا
دل کا شعلہ زباں نے چھین لیا
دل مرا شب چراغ تھا جس کو
مژۂ خوں فشاں نے چھین لیا
عمر بھر کی مسرتوں کا خمار
خلشِ ناگہاں نے چھین لیا
تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا
تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا
آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی
سب مزہ رفتگاں نے چھین لیا
ہر گھڑی آسماں کو تکتا ہوں
جیسے کچھ آسماں نے چھین لیا
باغ سنسان ہو گیا ناصر
آج وہ گل خزاں نے چھین لیا
ناصر کاظمی

جس کو دیکھا اُسی کو چوم لیا

چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں
جس کو دیکھا اُسی کو چوم لیا
رس کے معنی جسے نہیں معلوم
ہم نے اُس رس بھری کو چوم لیا
پھول سے ناچتے ہیں ہونٹوں پر
جیسے سچ مچ کسی کو چوم لیا
ناصر کاظمی

دیکھ دنیائے جسم و جاں سے دور

دُور اِس تیرہ خاکداں سے دُور
دیکھ دنیائے جسم و جاں سے دور
آنے والی بہار کے افسوں
دیکھ ویرانۂ خزاں سے دُور
پھول جلتے ہیں شاخچوں سے جدا
شمع روتی ہے شمعداں سے دُور
شہر خلقِ خدا سے بیگانہ
کارواں میرِ کارواں سے دُور
تیرے زندانیوں کی کون سنے
برق چمکی ہے آشیاں سے دُور
چیختی ہیں ڈراؤنی راتیں
چاند نکلا ہے آسماں سے دُور
سو گیا پچھلی رات کا جادو
کوئی اب لے چلے یہاں سے دُور
دل عجب گوشۂ فراغت ہے
کیوں بھٹکتے ہو اس مکاں سے دُور
کوئی سنتا نہیں یہاں ناصر
بات دل کی رہی زباں سے دور
ناصر کاظمی

دیکھیے شامِ غم کہاں لے جائے

تارے گنوائے یا سحر دکھلائے
دیکھیے شامِ غم کہاں لے جائے
صبحِ نورس کا راگ سنتے ہی
شبِ گل کے چراغ مرجھائے
صبح نکلے تھے فکرِ دنیا میں
خانہ برباد دن ڈھلے آئے
کیوں نہ اُس کم نما کو چاند کہوں
چاند کو دیکھ کر جو یاد آئے
ناصر کاظمی

پھر زور سے قہقہہ لگاؤ

دَم گھٹنے لگا ہے وضعِ غم سے
پھر زور سے قہقہہ لگاؤ
پھر دل کی بساط اُلٹ نہ جائے
اُمید کی چال میں نہ آؤ
میں درد کے دن گزار لوں گا
تم جشنِ شبِ طرب مناؤ
کچھ سہل نہیں ہمارا ملنا
تابِ غمِ ہجر ہے تو آؤ
ناصر کاظمی

کم سخن محفلِ سخن میں آ

بے حجابانہ انجمن میں آ
کم سخن محفلِ سخن میں آ
اے مرے آہوے رمیدہ کبھی
دل کے اُجڑے ہوے ختن میں آ
دل کہ تیرا تھا اب بھی تیرا ہے
پھر اسی منزلِ کہن میں آ
اے گلستانِ شب کے چشم و چراغ
کبھی اُجڑے دلوں کے بن میں آ
کبھی فرصت ملے تو پچھلے پہر
شب گزیدوں کی انجمن میں آ
صبحِ نورس کی آنکھ کے تارے
چاند مرجھا گیا گہن میں، آ
رنگ بھر دے اندھیری راتوں میں
جانِ صبحِ وطن! وطن میں آ
پھول جھڑنے کی شام آ پہنچی
نو بہارِ چمن! چمن میں آ
ناصر کاظمی

وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں

چمن در چمن وہ رمق اب کہاں
وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں
کراں تا کراں ظلمتیں چھا گئیں
وہ جلوے طبق در طبق اب کہاں
بجھی آتشِ گل اندھیرا ہوا
وہ اُجلے سنہرے ورق اب کہاں
برابر ہے ملنا نہ ملنا ترا
بچھڑنے کا تجھ سے قلق اب کہاں
ناصر کاظمی

دل یونہی انتظار کرتا ہے

کون اس راہ سے گزرتا ہے
دل یونہی انتظار کرتا ہے
دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے
دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے
شہرِ گل میں کٹی ہے ساری رات
دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے
دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
ناصر کاظمی

ایک عالم رہا ہے آنکھوں میں

جب تلک دم رہا ہے آنکھوں میں
ایک عالم رہا ہے آنکھوں میں
گریہ پیہم رہا ہے آنکھوں میں
رات بھر نم رہا ہے آنکھوں میں
اُس گلِ تر کی یاد میں تا صبح
رقصِ شبنم رہا ہے آنکھوں میں
صبحِ رخصت ابھی نہیں بھولی
وہ سماں رم رہا ہے آنکھوں میں
دل میں اک عمر جس نے شور کیا
وہ بہت کم رہا ہے آنکھوں میں
کبھی دیکھی تھی اُس کی ایک جھلک
رنگ سا جم رہا ہے آنکھوں میں
ناصر کاظمی

میں نے دیکھا ہی نہیں رات کا چاند

جب سے دیکھا ہے ترے ہات کا چاند
میں نے دیکھا ہی نہیں رات کا چاند
زلفِ شب رنگ کے صد راہوں میں
میں نے دیکھا ہے طلسمات کا چاند
رَس کہیں، رُوپ کہیں، رنگ کہیں
ایک جادو ہے خیالات کا چاند
ناصر کاظمی

پھر صبا لائی ہے پیمانۂ گل

وا ہوا پھر درِ میخانۂ گل
پھر صبا لائی ہے پیمانۂ گل
زمزمہ ریز ہوے اہلِ چمن
پھر چراغاں ہوا کاشانۂ گل
رقص کرتی ہُوئی شبنم کی پری
لے کے پھر آئی ہے نذرانۂ گل
پھول برسائے یہ کہہ کر اُس نے
میرا دیوانہ ہے دیوانۂ گل
پھر کسی گل کا اشارہ پا کر
چاند نکلا سرِ میخانۂ گل
پھر سرِ شام کوئی شعلہ نوا
سو گیا چھیڑ کے افسانۂ گل
آج غربت میں بہت یاد آیا
اے وطن تیرا صنم خانۂ گل
آج ہم خاک بسر پھرتے ہیں
ہم سے تھی رونقِ کاشانۂ گل
ہم پہ گزرے ہیں خزاں کے صدمے
ہم سے پوچھے کوئی افسانۂ گل
کل ترا دَور تھا اے بادِ صبا
ہم ہیں اب سرخیٔ افسانۂ گل
ہم ہی گلشن کے امیں ہیں ناصر
ہم سا کوئی نہیں بیگانۂ گل
ناصر کاظمی

آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے

قہر سے دیکھ نہ ہر آن مجھے
آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے
یک بیک آ کے دکھا دو جھمکی
کیوں پھراتے ہو پریشان مجھے
ایک سے ایک نئی منزل میں
لیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے
سن کے آوازۂ گل کچھ نہ سنا
بس اُسی دن سے ہوے کان مجھے
جی ٹھکانے نہیں جب سے ناصر
شہر لگتا ہے بیابان مجھے
ناصر کاظمی

منظور ہمیں تباہ رہنا

بے منّت خضرِ راہ رہنا
منظور ہمیں تباہ رہنا
یاروں کو نصیب سرفرازی
مجھ کو تری گردِ راہ رہنا
دل ایک عجیب گھر ہے پیارے
اس گھر میں بھی گاہ گاہ رہنا
گر یونہی رہی دلوں کی رنجش
مشکل ہے بہم نباہ رہنا
بھر آئے گی آنکھ بھی کسی دن
خالی نہیں صرفِ آہ رہنا
میں ہاتھ نہیں اُسے لگایا
اے بیگنہی گواہ رہنا
ناصرؔ یہ وفا نہیں جنوں ہے
اپنا بھی نہ خیرخواہ رہنا!
ناصر کاظمی

کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن

سازِ ہستی کی صدا غور سے سن
کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن
دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان
شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن
چڑھتے سورج کی ادا کو پہچان
ڈوبتے دن کی ندا غور سے سن
کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سرِ شام
روح کے تار ہلا غور سے سن
یاس کی چھاؤں میں سونے والے
جاگ اور شورِ درا غور سے سن
ہر نفس دامِ گرفتاری ہے
نو گرفتارِ بلا غور سے سن
دل تڑپ اُٹھتا ہے کیوں آخرِ شب
دو گھڑی کان لگا غور سے سن
اِسی منزل میں ہیں سب ہجر و وصال
رہروِ آبلہ پا غور سے سن!
اِسی گوشے میں ہیں سب دیر و حرم
دل صنم ہے کہ خدا غور سے سن
کعبہ سنسان ہے کیوں اے واعظ
ہاتھ کانوں سے اُٹھا غور سے سن
موت اور زیست کے اَسرار و رموز
آ مری بزم میں آ غور سے سن
کیا گزرتی ہے کسی کے دل پر
تو بھی اے جانِ وفا غور سے سن
کبھی فرصت ہو تو اے صبحِ جمال
شب گزیدوں کی دعا غور سے سن
ہے یہی ساعتِ ایجاب و قبول
صبح کی لے کو ذرا غور سے سن
کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں
کیا سناتی ہے صبا غور سے سن
برگِ آوارہ بھی اک مطرِب ہے
طائرِ نغمہ سرا غور سے سن
رنگ منّت کشِ آواز نہیں
گُل بھی ہے ایک نوا غور سے سُن
خامشی حاصلِ موسیقی ہے
نغمہ ہے نغمہ نما غور سے سن
آئنہ دیکھ کے حیران نہ ہو
نغمۂ آبِ صفا غور سے سن
عشق کو حسن سے خالی نہ سمجھ
نالۂ اہلِ وفا غور سے سن
دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے
میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن
ہر قدم راہِ طلب میں ناصر
جرسِ دل کی صدا غور سے سن
ناصر کاظمی

گزر گئی جرسِ گل اُداس کر کے مجھے

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے
گزر گئی جرسِ گل اُداس کر کے مجھے
میں سو رہا تھا کسی یاد کے شبستان میں
جگا کے چھوڑ گئے قافلے سحر کے مجھے
میں رو رہا تھا مقدر کی سخت راہوں میں
اُڑا کے لے گئے جادو تری نظر کے مجھے
میں تیرے درد کی طغیانیوں میں ڈوب گیا
پکارتے رہے تارے اُبھر اُبھر کے مجھے
ترے فراق کی راتیں کبھی نہ بھولیں گی
مزے ملے انھیں راتوں میں عمر بھر کے مجھے
ذرا سی دیر ٹھہرنے دے اے غمِ دنیا
بلا رہا ہے کوئی بام سے اُتر کے مجھے
پھر آج آئی تھی اک موجۂ ہوائے طرب
سنا گئی ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے
ناصر کاظمی

جیسے سپنا کوئی اُداس اُداس

رنگ صبحوں کے راگ شاموں کے
جیسے سپنا کوئی اُداس اُداس
کیسا سنسان ہے سحر کا سماں
پتیاں محوِ یاس، گھاس اُداس
خیر ہو شہرِ شبنم و گل کی
کوئی پھرتا ہے آس پاس اُداس
بیٹھے بیٹھے برس پڑیں آنکھیں
کر گئی پھر کسی کی آس اُداس
کوئی رہ رہ کے یاد آتا ہے
لیے پھرتی ہے کوئی باس اُداس
مل ہی جائے گا رفتگاں کا سراغ
اور کچھ دن پھرو اُداس اُداس
صبح ہونے کو ہے اُٹھو ناصر
گھر میں بیٹھے ہو کیوں نراس اُداس
ناصر کاظمی

خوفِ بے مہریٔ خزاں بھی ہے

فکرِ تعمیرِ آشیاں بھی ہے
خوفِ بے مہریٔ خزاں بھی ہے
خاک بھی اُڑ رہی ہے رستوں میں
آمدِ صبح کا سماں بھی ہے
رنگ بھی اُڑ رہا ہے پھُولوں کا
غنچہ غنچہ شررفشاں بھی ہے
اوس بھی ہے کہیں کہیں لرزاں
بزمِ انجم دھواں دھواں بھی ہے
کچھ تو موسم بھی ہے خیال انگیز
کچھ طبیعت مری رواں بھی ہے
کچھ ترا حسن بھی ہے ہوش رُبا
کچھ مری شوخیٔ بیاں بھی ہے
ہر نفس شوق بھی ہے منزل کا
ہر قدم یادِ رفتگاں بھی ہے
وجہِ تسکیں بھی ہے خیال اُس کا
حد سے بڑھ جائے تو گراں بھی ہے
زندگی جس کے دم سے ہے ناصر
یاد اُس کی عذابِ جاں بھی ہے
ناصر کاظمی

وہ آئیں نہ آئیں مگر اُمید نہ ہارو

یہ رات تمھاری ہے چمکتے رہو تارو
وہ آئیں نہ آئیں مگر اُمید نہ ہارو
شاید کسی منزل سے کوئی قافلہ آئے
آشفتہ سرو صبح تلک یونہی پکارو
دن بھر تو چلے اب ذرا دم لے کے چلیں گے
اے ہمسفرو آج یہیں رات گزارو
یہ عالمِ وحشت ہے تو کچھ ہو ہی رہے گا
منزل نہ سہی سر کسی دیوار سے مارو
اوجھل ہوے جاتے ہیں نگاہوں سے دو عالم
تم آج کہاں ہو غمِ فرقت کے سہارو
کھویا ہے اُسے جس کا بدل کوئی نہیں ہے
یہ بات مگر کون سنے، لاکھ پکارو!
ناصر کاظمی

اُداسیوں کا مُداوا نہ کر سکے تو بھی

خیالِ ترکِ تمنا نہ کر سکے تو بھی
اُداسیوں کا مُداوا نہ کر سکے تو بھی
کبھی وہ وقت بھی آئے کہ کوئی لمحۂ عیش
مرے بغیر گوارا نہ کر سکے تو بھی
خدا وہ دن نہ دکھائے تجھے کہ میری طرح
مری وفا پہ بھروسا نہ کر سکے تو بھی
میں اپنا عقدۂ دل تجھ کو سونپ دیتا ہوں
بڑا مزا ہو اگر وا نہ کر سکے تو بھی
تجھے یہ غم کہ مری زندگی کا کیا ہو گا
مجھے یہ ضد کہ مداوا نہ کر سکے تو بھی
نہ کر خیالِ تلافی کہ میرا زخمِ وفا
وہ زخم ہے جسے اچھا نہ کر سکے تو بھی
ناصر کاظمی

آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی
آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی
گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا
اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی
لیے جاتی ہیں کسی دھیان کی لہریں ناصر
دُور تک سلسلۂ تاکِ طرب ہے کوئی
ناصر کاظمی

یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا

یہ کہہ رہا ہے دیارِ طرب کا نظارا
یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا
خیالِ حسن میں کتنا بہار پرور ہے
شبِ خزاں کی خنک چاندنی کا نظارا
چلے تو ہیں جرسِ گل کا آسرا لے کر
نہ جانے اب کہاں نکلے گا صبح کا تارا
چلو کہ برف پگھلنے کی صبح آ پہنچی
خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارا
چلے چلو اِنھی گمنام برف زاروں میں
عجب نہیں یہیں مل جائے درد کا چارا
کسے مجال کہ رُک جائے سانس لینے کو
رواں دواں لیے جاتا ہے وقت کا دھارا
بگولے یوں اُڑے پھرتے ہیں خشک جنگل میں
تلاشِ آب میں جیسے غزالِ آوارہ
ہمیں وہ برگِ خزاں دیدہ ہیں جنھیں ناصر
چمن میں ڈھونڈتی پھرتی ہے بوئے آوارہ
ناصر کاظمی

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا
حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
ناصر کاظمی

بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز

بسا ہوا ہے خیالوں میں کوئی پیکرِ ناز
بلا رہی ہے ابھی تک وہ دلنشیں آواز
وہی دنوں میں تپش ہے وہی شبوں میں گداز
مگر یہ کیا کہ مری زندگی میں سوز نہ ساز
نہ چھیڑ اے خلشِ درد بار بار نہ چھیڑ
چھپائے بیٹھا ہوں سینے میں ایک عمر کے راز
بس اب تو ایک ہی دُھن ہے کہ نیند آ جائے
وہ دن کہاں کہ اُٹھائیں شبِ فراق کے ناز
گزر ہی جائے گی اے دوست تیرے ہجر کی رات
کہ تجھ سے بڑھ کے ترا درد ہے مرا دمساز
یہ اور بات کہ دنیا نہ سن سکی ورنہ
سکوتِ اہلِ نظر ہے بجائے خود آواز
یہ بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے
اُٹھا رہا ہے کوئی پردہ ہائے راز و نیاز
ترا خیال بھی تیری طرح مکمل ہے
وہی شباب، وہی دلکشی، وہی انداز
شراب و شعر کی دنیا بدل گئی لیکن
وہ آنکھ ڈھونڈ ہی لیتی ہے بیخودی کا جواز
عروج پر ہے مرا درد ان دنوں ناصر
مری غزل میں دھڑکتی ہے وقت کی آواز
ناصر کاظمی

بہار ایک خلش سی دلوں میں چھوڑ گئی

اُداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی
بہار ایک خلش سی دلوں میں چھوڑ گئی
بچھڑ کے تجھ سے ہزاروں طرف خیال گیا
تری نظر مجھے کن منزلوں میں چھوڑ گئی
کہاں سے لایئے اب اُس نگاہ کو ناصرؔ
جو ناتمام امنگیں دلوں میں چھوڑ گئی
ناصر کاظمی

شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

ترے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنھیں بھی دیکھ جنھیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
تمام رات ترے پہلوئوں سے آنچ آئی
جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہرِ رعنائی
وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
اُنھی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی
پھر اُس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
ناصر کاظمی

کبھی ہماری بات بھی سن

تنہا عیش کے خواب نہ بن
کبھی ہماری بات بھی سن
تھوڑا غم بھی اُٹھا پیارے
پھول چنے ہیں خار بھی چن
سکھ کی نیندیں سونے والے
محرومی کے راگ بھی سن
تنہائی میں تیری یاد
جیسے ایک سریلی دُھن
جیسے چاند کی ٹھنڈی لو
جیسے کرنوں کی کن من
جیسے جل پریوں کا ناچ
جیسے پائل کی جھن جھن
ناصر کاظمی

منزلوں چھا گئی خامشی سو رہو سو رہو

دن ڈھلا رات پھر آ گئی سو رہو سو رہو
منزلوں چھا گئی خامشی سو رہو سو رہو
سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو
گرم سنسان قریوں کی دھرتی مہکنے لگی
خاک رشکِ ارم بن گئی سو رہو سو رہو
رزم گاہِ جہاں بن گئی جائے امن و اماں
ہے یہی وقت کی راگنی سو رہو سو رہو
کیسے سنسان ہیں آسماں چپ کھڑے ہیں مکاں
ہے فضا اجنبی اجنبی سو رہو سو رہو
تھک گئے ناقہ و سارباں تھم گئے کارواں
گھنٹیوں کی صدا سو گئی سو رہو سو رہو
چاندنی اور دھوئیں کے سوا دور تک کچھ نہیں
سو گئی شہر کی ہر گلی سو رہو سو رہو
گردشِ وقت کی لوریاں رات کی رات میں
پھر کہاں یہ ہوا یہ نمی سو رہو سو رہو
ساری بستی کے لوگ اس مدھر لے میں کھوئے گئے
دُور بجنے لگی بانسری سو رہو سو رہو
دُور شاخوں کے جھرمٹ میں جگنو بھی گم ہو گئے
چاند میں سو گئی چاندنی سو رہو سو رہو
گھر کے دیوار و دَر راہ تک تک کے شل ہو گئے
اب نہ آئے گا شاید کوئی سو رہو سو رہو
سُست رفتار تارے بھی آنکھیں جھپکنے لگے
غم کے مارو گھڑی دو گھڑی سو رہو سو رہو
منہ اندھیرے ہی ناصر کسے ڈھونڈنے چل دیے
دُور ہے صبحِ روشن ابھی سو رہو سو رہو
ناصر کاظمی

زخم دل کے ہوے ہرے کچھ تو

رنگ برسات نے بھرے کچھ تو
زخم دل کے ہوے ہرے کچھ تو
فرصتِ بے خودی غنیمت ہے
گردشیں ہو گئیں پرے کچھ تو
کتنے شوریدہ سر تھے پروانے
شام ہوتے ہی جل مرے کچھ تو
ایسا مشکل نہیں ترا ملنا
دل مگر جستجو کرے کچھ تو
آؤ ناصر کوئی غزل چھیڑیں
جی بہل جائے گا ارے کچھ تو
ناصر کاظمی

کہ تجھ سے مل کے بھی ترا خیال آ کے رہ گیا

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا
کہ تجھ سے مل کے بھی ترا خیال آ کے رہ گیا
جدائیوں کے مرحلے بھی حسن سے تہی نہ تھے
کبھی کبھی تو شوق آئنے دکھا کے رہ گیا
کسے خبر کہ عشق پر قیامتیں گزر گئیں
زمانہ اُس نگاہ کا فریب کھا کے رہ گیا
یہ کیا مقامِ شوق ہے نہ آس ہے نہ یاس ہے
یہ کیا ہوا کہ لب پہ تیرا نام آ کے رہ گیا
کوئی بھی ہم سفر نہ تھا شریکِ منزلِ جنوں
بہت ہوا تو رفتگاں کا دھیان آ کے رہ گیا
چراغِ شامِ آرزو بھی جھلملا کے رہ گئے
ترا خیال راستے سجھا سجھا کے رہ گیا
چمک چمک کے رہ گئیں نجوم و گل کی منزلیں
میں درد کی کہانیاں سنا سنا کے رہ گیا
ترے وصال کی اُمید اشک بن کے بہہ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا کے رہ گیا
وہی اُداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
ترے وصال کا زمانہ یاد آ کے رہ گیا
ناصر کاظمی

یاد آئی تری انگشتِ حنائی مجھ کو

اوّلیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو
یاد آئی تری انگشتِ حنائی مجھ کو
سرِ ایوانِ طرب نغمہ سرا تھا کوئی
رات بھر اُس نے تری یاد دلائی مجھ کو
دیکھتے دیکھتے تاروں کا سفر ختم ہوا
سو گیا چاند مگر نیند نہ آئی مجھ کو
اِنھی آنکھوں نے دکھائے کئی بھرپور جمال
اِنھی آنکھوں نے شبِ ہجر دکھائی مجھ کو
سائے کی طرح مرے ساتھ رہے رنج و اَلم
گردشِ وقت کہیں راس نہ آئی مجھ کو
دھوپ اُدھر ڈھلتی تھی دل ڈوبتا جاتا تھا اِدھر
آج تک یاد ہے وہ شامِ جدائی مجھ کو
شہرِ لاہور تری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
ناصر کاظمی

بھرپور رہی بہار کچھ دیر

ٹھہرا تھا وہ گلعذار کچھ دیر
بھرپور رہی بہار کچھ دیر
اک دُھوم رہی گلی گلی میں
آباد رہے دیار کچھ دیر
پھر جھوم کے بستیوں پہ برسا
ابرِ سرِ کوہسار کچھ دیر
پھر لالہ و گل کے میکدوں میں
چھلکی مئے مشکبار کچھ دیر
پھر نغمہ و مے کی صحبتوں کا
آنکھوں میں رہا خمار کچھ دیر
پھر شامِ وصالِ یار آئی
بہلا غمِ روزگار کچھ دیر
پھر جاگ اُٹھے خوشی کے آنسو
پھر دل کو ملا قرار کچھ دیر
پھر ایک نشاطِ بے خودی میں
آنکھیں رہیں اشکبار کچھ دیر
پھر ایک طویل ہجر کے بعد
صحبت رہی خوشگوار کچھ دیر
پھر ایک نگاہ کے سہارے
دنیا رہی سازگار کچھ دیر
ناصر کاظمی