زمرہ جات کے محفوظات: غزل

صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو

دیوان اول غزل 386
اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو
صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو
بے سوز داغ دل پر گر جی جلے بجا ہے
اچھا لگے ہے اپنا گھر بے چراغ کس کو
صد چشم داغ وا ہیں دل پر مرے میں وہ ہوں
دکھلا رہا ہے لالہ تو اپنا داغ کس کو
گل چین عیش ہوتے ہم بھی چمن میں جاکر
آہ و فغاں سے اپنی لیکن فراغ کس کو
کر شکر چشم پر خوں اے مست درد الفت
دیتے ہیں سرخ مے سے بھر کر ایاغ کس کو
اس کی بلا سے جو ہم اے میر گم بھی ہوویں
ہم سے غریب کا ہو فکر سراغ کس کو
میر تقی میر

رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو

دیوان اول غزل 385
آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو
رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو
پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا
دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو
برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور
پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو
ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار
پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو
آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر
مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو
سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات
کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو
سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ
اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو
کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں
جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو
اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش
خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو
خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید
پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو
جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا
رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو
گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر
آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو
میر تقی میر

آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

دیوان اول غزل 384
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو اک نظر دیکھو
یوں عرق جلوہ گر ہے اس منھ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو
ہر خراش جبیں جراحت ہے
ناخن شوق کا ہنر دیکھو
تھی ہمیں آرزو لب خنداں
سو عوض اس کے چشم تر دیکھو
رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک شب اور یاں سحر دیکھو
دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو
پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو
لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میر
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو
میر تقی میر

کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو

دیوان اول غزل 383
اے چرخ مت حریف اندوہ بے کساں ہو
کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو
کب تک گرہ رہے گا سینے میں دل کے مانند
اے اشک شوق اک دم رخسار پر رواں ہو
ہم دور ماندگاں کی منزل رساں مگر اب
یا ہو صدا جرس کی یا گرد کارواں ہو
مسند نشین ہو گر عرصہ ہے تنگ اس پر
آسودہ وہ کسو کا جو خاک آستاں ہو
تاچند کوچہ گردی جیسے صبا زمیں پر
اے آہ صبح گاہی آشوب آسماں ہو
گر ذوق سیر ہے تو آوارہ اس چمن میں
مانند عندلیب گم کردہ آشیاں ہو
یہ جان تو کہ ہے اک آوارہ دست بردل
خاک چمن کے اوپر برگ خزاں جہاں ہو
کیا ہے حباب ساں یاں آ دیکھ اپنی آنکھوں
گر پیرہن میں میرے میرا تجھے گماں ہو
از خویش رفتہ ہر دم رہتے ہیں ہم جو اس بن
کہتے ہیں لوگ اکثر اس وقت تم کہاں ہو
پتھر سے توڑ ڈالوں آئینے کو ابھی میں
گر روے خوبصورت تیرا نہ درمیاں ہو
اس تیغ زن سے کہیو قاصد مری طرف سے
اب تک بھی نیم جاں ہوں گر قصد امتحاں ہو
کل بت کدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
کعبے میں آج زاہد گو ہم پہ سرگراں ہو
ہمسایہ اس چمن کے کتنے شکستہ پر ہیں
اتنے لیے کہ شاید اک بائو گل فشاں ہو
میر اس کو جان کر تو بے شبہ ملیو رہ پر
صحرا میں جو نمد مو بیٹھا کوئی جواں ہو
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

دیوان اول غزل 381
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم
اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن
اس قدر تو سواد ہے ہم کو
آہ کس ڈھب سے رویئے کم کم
شوق حد سے زیاد ہے ہم کو
شیخ و پیرمغاں کی خدمت میں
دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
سادگی دیکھ عشق میں اس کے
خواہش جان شاد ہے ہم کو
بدگمانی ہے جس سے تس سے آہ
قصد شورو فساد ہے ہم کو
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں
اور سب سے عناد ہے ہم کو
نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو
میر تقی میر

ہم تو ہوں بدگمان جو قاصد رسول ہو

دیوان اول غزل 380
خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو
ہم تو ہوں بدگمان جو قاصد رسول ہو
چاہوں تو بھرکے کولی اٹھا لوں ابھی تمھیں
کیسے ہی بھاری ہو مرے آگے تو پھول ہو
سرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کی
شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو
جاویں نثار ہونے کو ہم کس بساط پر
اک نیم جاں رکھیں ہیں سو وہ جب قبول ہو
ہم ان دنوں میں لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام
ورنہ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہو
دل لے کے لونڈے دلی کے کب کا پچا گئے
اب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو
ناکام اس لیے ہو کہ چاہو ہو سب کچھ آج
تم بھی تو میر صاحب و قبلہ عجول ہو
میر تقی میر

کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو

دیوان اول غزل 379
قد کھینچے ہے جس وقت تو ہے طرفہ بلا تو
کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو
گر اپنی روش راہ چلا یار تو اے کبک
رہ جائے گا دیوار گلستاں سے لگا تو
بے گل نہیں بلبل تجھے بھی چین پہ دیکھیں
مر رہتے ہیں ہم ایک طرف باغ میں یا تو
خوش رو ہے بہت اے گل تر تو بھی ولیکن
انصاف ہے منھ تیرے ہی ویسا ہے بھلا تو
کیا جانیے اے گوہر مقصد تو کہاں ہے
ہم خاک میں بھی مل گئے لیکن نہ ملا تو
اس جینے سے اب دل کو اٹھا بیٹھیں گے ہم بھی
ہے تجھ کو قسم ظلم سے مت ہاتھ اٹھا تو
منظر میں بدن کے بھی یہ اک طرفہ مکاں تھا
افسوس کہ ٹک دل میں ہمارے نہ رہا تو
تھے چاک گریبان گلستاں میں گلوں کے
نکلا ہے مگر کھولے ہوئے بند قبا تو
بے ہوشی سی آتی ہے تجھے اس کی گلی میں
گر ہوسکے اے میر تو اس راہ نہ جا تو
میر تقی میر

کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو

دیوان اول غزل 378
نسیم مصر کب آئی سواد شہر کنعاں کو
کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو
زبان نوحہ گر ہوں میں قضا نے کیا ملایا تھا
مری طینت میں یارب سودئہ دل ہاے نالاں کو
کوئی کانٹا سررہ کا ہماری خاک پر بس ہے
گل گلزار کیا درکار ہے گور غریباں کو
یہ کیا جانوں ہوا سینے میں کیا اس دل کو اب ناصح
سحر خوں بستہ تو دیکھا تھا میں نے اپنی مژگاں کو
گل و سنبل ہیں نیرنگ قضا مت سرسری گذرے
کہ بگڑے زلف و رخ کیا کیا بناتے اس گلستاں کو
صداے آہ جیسے تیرجی کے پار ہوتی ہے
کسو بیدرد نے کھینچا کسو کے دل سے پیکاں کو
کریں بال ملک فرش رہ اس ساعت کہ محشر میں
لہو ڈوبا کفن لاویں شہید ناز خوباں کو
کیا سیر اس خرابے کا بہت اب چل کے سو رہیے
کسو دیوار کے سائے میں منھ پر لے کے داماں کو
بہاے سہل پر دیتے ہیں کس محبوب کو کف سے
قلم اس جرم پر کرنا ہے دست گل فروشاں کو
تری ہی جستجو میں گم ہوا ہے کہہ کہاں کھویا
جگر خوں گشتہ دل آزردہ میر اس خانہ ویراں کو
میر تقی میر

نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو

دیوان اول غزل 377
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو
کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے
بنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مرجاتے پر اب تو سخت حسرت ہے
کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں
کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے
تماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے
نہیں پرواے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہواے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی
دم افسردہ کردے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوئوں کی گرم جوشی سے
اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک
سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نامسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جونے
ملا پائوں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے
کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر
نہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے ناواقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں
دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے
کیا ہے مضطرب ہر ذرئہ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسواے عالم ہو پہ جی میں رکھ
کہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر
ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے
چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سرسبزی نہ کی حاصل
ملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن
نہ دے برباد حسرت کشتۂ سردرگریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں
کہوں اے ہم نشیں تاچند غم ہاے فراواں کو
گل وسرو وسمن گر جائیں گے مت سیرگلشن کر
ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منھ پہ اے بجلی
نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگارچشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل
کہ بے فکرسخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
میر تقی میر

پر ساکنوں میں واں کے کوئی آدمی نہیں

دیوان اول غزل 371
فردوس سے کچھ اس کی گلی میں کمی نہیں
پر ساکنوں میں واں کے کوئی آدمی نہیں
میر تقی میر

اندھیری رات ہے برسات ہے جگنو چمکتے ہیں

دیوان اول غزل 370
تری زلف سیہ کی یاد میں آنسو جھمکتے ہیں
اندھیری رات ہے برسات ہے جگنو چمکتے ہیں
میر تقی میر

سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں

دیوان اول غزل 369
عشق کرنے کو جگر چاہیے آسان نہیں
سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں
غارت دیں میں نگہ خصمی ایماں میں ادا
تجھ کو کافر نہ کہے جو وہ مسلمان نہیں
سرسری ملیے بتوں سے جو نہ ہوتاب جفا
عشق کا ذائقہ کچھ داخل ایمان نہیں
ایک بے درد تجھے پاس نہیں عاشق کا
ورنہ عالم میں کسے خاطرمہمان نہیں
کیونکے غم سرزدہ ہر لحظہ نہ آوے دل میں
گھر ہے درویش کا یاں در نہیں دربان نہیں
ہم نشیں آہ نہ تکلیف شکیبائی کر
عشق میں صبر و تحمل ہو یہ امکان نہیں
کس طرح منزل مقصود پہ پہنچیں گے میر
سفر دور ہے اور ہم کنے سامان نہیں
میر تقی میر

ترے غم کو اکیلا چھوڑ کر پیارے کہاں جائوں

دیوان اول غزل 368
ہمیشہ دل میں کہتا ہوں یہاں جائوں وہاں جائوں
ترے غم کو اکیلا چھوڑ کر پیارے کہاں جائوں
لگی آتی ہے واں تک تیرے دامن کی ہوا اڑ کے
میں یہ مشت غبار اپنا چھپانے کو جہاں جائوں
ادھر صحراے بیتابی ادھر مشہد ہے اے قاتل
جو فرماوے تو واں جائوں جو فرماوے تو یاں جائوں
اگر جیتا رہا اے زلف تو میں میر ہوں سنیو
بلاے ناگہانی کے سر اوپر ناگہاں جائوں
میر تقی میر

پر وفا کا برا کیا تونیں

دیوان اول غزل 367
مجھ کو مارا بھلا کیا تونیں
پر وفا کا برا کیا تونیں
حسرتیں اس کی سر پٹکتی ہیں
مرگ فرہاد کیا کیا تونیں
اس کے جور و جفا کی کیا تقصیر
جو کیا سو وفا کیا تونیں
یہ چمن ہے قفس سے پر اے ضعف
مجھ کو بے دست و پا کیا تونیں
کل ہی پڑتی نہیں ہے تجھ بن آج
میر کو کیا بلا کیا تونیں
وہ جو کہتا تھا تو ہی کریو قتل
میر کا سو کہا کیا تونیں
میر تقی میر

پر تمامی عتاب ہیں دونوں

دیوان اول غزل 366
لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
پر تمامی عتاب ہیں دونوں
رونا آنکھوں کا رویئے کب تک
پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں
ہے تکلف نقاب وے رخسار
کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں
تن کے معمورے میں یہی دل و چشم
گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں
کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے
جگر و دل کباب ہیں دونوں
سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مست شراب ہیں دونوں
پائوں میں وہ نشہ طلب کا نہیں
اب تو سرمست خواب ہیں دونوں
ایک سب آگ ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے
اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں
آگے دریا تھے دیدۂ تر میر
اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں
میر تقی میر

ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

دیوان اول غزل 365
تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں
ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں
نہ کچھ کاغذ میں ہے تہ نے قلم کو درد نالوں کا
لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں
لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو
جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں
کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے
ہمارے دیدئہ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں
لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو
اگرچہ آب حیواں ہیں ولیکن سم ہیں یہ دونوں
نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ایدھر
ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں
کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو
چمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں
کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے
غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں
مکاں تو میر صاحب شہرئہ عالم ہیں یہ دونوں
میر تقی میر

گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں

دیوان اول غزل 364
نالۂ قید قفس سے چھوٹ اب اک دم نہیں
گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں
ہم پہ کھینچی تیغ تو غیروں کو ٹک لگنے نہ دے
وے اگر ہوویں گے اس کے درمیاں تو ہم نہیں
بت برہمن کوئی نامحرم نہیں اللہ کا
ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں
میر تقی میر

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

دیوان اول غزل 363
گذر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تو
وہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
ہوا مائل اس سرو کا دل مرا
بجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ
گئے گذرے بس اب خبر کچھ نہیں
تری ہوچکی خشک مژگاں کی سب
لہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم
مرا حال مدنظر کچھ نہیں
کروں کیونکے انکارعشق آہ میں
یہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میر
غرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
میر تقی میر

تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 362
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
دلک بے قرار رکھتے ہیں
غیر ہی مورد عنایت ہے
ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
نہ نگہ نے پیام نے وعدہ
نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو
لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور
بس یہی اعتبار رکھتے ہیں
پھر بھی کرتے ہیں میرصاحب عشق
ہیں جواں اختیار رکھتے ہیں
میر تقی میر

اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں

دیوان اول غزل 361
کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں
اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں
دیکھا کہاں وہ نسخہ اک روگ میں بساہا
جی بھر کبھو نہ پنپا بہتیری کیں دوائیں
اک رنگ گل نے رہنا یاں یوں نہیں کیا ہے
اس گلشن جہاں میں ہیں مختلف ہوائیں
ہے فرش عرش تک بھی قلب حزیں کا اپنے
اس تنگ گھر میں ہم نے دیکھی ہیں کیا فضائیں
چہرے کے زخم ناخن کے سے کہاں کہ گویا
گھر سے نکلتے ہی ہم تلواریں منھ پہ کھائیں
شب نالہ آسماں تک جی سخت کرکے پہنچا
تھیں نیم کشتۂ یاس اکثر مری دعائیں
روکش تو ہو ترا پر آئینے میں کہاں یہ
رعنائیاں ادائیں رنگینیاں صفائیں
ہے امر سہل چاہت لیکن نباہ مشکل
پتھر کرے جگر کو تب تو کرے وفائیں
ناز بتان سادہ ہے اللہ اللہ اے میر
ہم خط سے مٹ گئے پر ان کے نہیں ہے بھائیں
میر تقی میر

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

دیوان اول غزل 360
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ
ننگ ہستی ہوں مری جاے بجز نام نہیں
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا
عمر گذری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط
سو تو بیتابی دل بن مجھے آرام نہیں
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے
کچھ تو ہے میر کہ اک دم تجھے آرام نہیں
میر تقی میر

کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں

دیوان اول غزل 359
موئے سہتے سہتے جفاکاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
ہماری تو گذری اسی طور عمر
یہی نالہ کرنا یہی زاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
گیا جان سے اک جہاں لیک شوخ
نہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
کہاں تک یہ تکلیف مالا یطاق
ہوئیں مدتوں نازبرداریاں
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صدگرفتاریاں
کیا دردوغم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
تری آشنائی سے ہی حد ہوئی
بہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
کھنچیں میر تجھ سے ہی یہ خواریاں
میر تقی میر

دیتا ہے آگ رنگ ترا گلستاں کے تیں

دیوان اول غزل 358
تکلیف باغ کن نے کی تجھ خوش دہاں کے تیں
دیتا ہے آگ رنگ ترا گلستاں کے تیں
تنکا بھی اب رہا نہیں شرمندگی ہے جو
گر پڑ کے برق پاوے مرے آشیاں کے تیں
آئے عدم سے ہستی میں تس پر نہیں قرار
ہے ان مسافروں کا ارادہ کہاں کے تیں
سناہٹے سے باغ سے کچھ اٹھتے ہیں نسیم
مرغ چمن نے خوب متھا ہے فغاں کے تیں
بے رحم ٹک تو پائوں تو چھاتی پہ رکھے رہ
مارا بھی ہے کبھی تیں کسی خستہ جاں کے تیں
اک گردش اے فلک کہ ہو اثناے راہ سے
کنعاں کی اور راہ غلط کارواں کے تیں
تو اک زباں پہ چپکی نہیں رہتی عندلیب
رکھتا ہے منھ میں غنچۂ گل سو زباں کے تیں
دیکھے کہاں ہیں زلف تری مردمان شہر
سودا ہوا ہے کہنے لگے اس جواں کے تیں
ہم تو ہوئے تھے میر سے اس دن ہی ناامید
جس دن سنا کہ ان نے دیا دل بتاں کے تیں
میر تقی میر

نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن

دیوان اول غزل 357
یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن
نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن
یہی بستی عاشقوں کی کبھو سیر کرنے چل تو
کہ محلے کے محلے پڑے ہیں خراب تجھ بن
میں لہو پیوں ہوں غم میں عوض شراب ساقی
شب میغ ہو گئی ہے شب ماہتاب تجھ بن
گئی عمر میری ساری جیسے شمع بائو کے بیچ
یہی رونا جلنا گلنا یہی اضطراب تجھ بن
سبھی آتشیں ہیں نالے سبھی زمہریری آہیں
مری جان پر رہا ہے غرض اک عذاب تجھ بن
ترے غم کا شکر نعمت کروں کیا اے مغبچے میں
نہ ہوا کہ میں نہ کھایا جگر کباب تجھ بن
نہیں جیتے جی تو ممکن ہمیں تجھ بغیر سونا
مگر آنکہ مر کے کیجے تہ خاک خواب تجھ بن
برے حال ہوکے مرتا جو درنگ میر کرتا
یہ بھلا ہوا ستمگر کہ موا شتاب تجھ بن
میر تقی میر

زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں

دیوان اول غزل 356
نہ کیونکے شیخ توکل کو اختیار کریں
زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں
گیا وہ زمزمۂ صبح فصل گل بلبل
دعا نہ پہنچے چمن تک ہم اب ہزار کریں
تمام صید سر تیر جمع ہیں لیکن
نصیب اس کے کہ جس کو ترا شکار کریں
تسلی تو ہو دل بے قرار خوباں سے
یہ کاش ملنے نہ ملنے کا کچھ قرار کریں
ہمیں تو نزع میں شرمندہ آ کے ان نے کیا
رہا ہے ایک رمق جی سو کیا نثار کریں
رہی سہی بھی گئی عمر تیرے پیچھے یار
یہ کہہ کہ آہ ترا کب تک انتظار کریں
کریں ہیں حادثے ہر روز وار آخر تو
سنان آہ دل شب کے ہم بھی پار کریں
یہ قتل غیر ہے کیا کام ہم نشیناں آج
جو دشمنی نہ کرے وہ تو اس کو یار کریں
ہوا ہوں خاک رہ اس واسطے کہ خوباں میر
گذار گور پہ میری بھی ایک بار کریں
میر تقی میر

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

دیوان اول غزل 354
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہاے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انھیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میر
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں
میر تقی میر

روز برسات کی ہوا ہے یاں

دیوان اول غزل 353
آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
روز برسات کی ہوا ہے یاں
جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھ
کہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں
گو کدورت سے وہ نہ دیوے رو
آرسی کی طرح صفا ہے یاں
ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر
ایسا کہ تم نے آنکلا ہے یاں
رند مفلس جگر میں آہ نہیں
جان محزوں ہے اور کیا ہے یاں
کیسے کیسے مکان ہیں ستھرے
اک ازاں جملہ کربلا ہے یاں
اک سسکتا ہے ایک مرتا ہے
ہر طرف ظلم ہورہا ہے یاں
صد تمنا شہید ہیں یک جا
سینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں
دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخ
روز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں
خانۂ عاشقاں ہے جاے خوب
جاے رونے کی جا بہ جا ہے یاں
کوہ و صحرا بھی کر نہ جاے باش
آج تک کوئی بھی رہا ہے یاں
ہے خبر شرط میر سنتا ہے
تجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں
موت مجنوں کو بھی یہیں آئی
کوہکن کل ہی مر گیا ہے یاں
میر تقی میر

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

دیوان اول غزل 352
کہے ہے کوہکن کر فکر میری خستہ حالی میں
الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد
یکایک آگیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے
سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ
تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگہ
پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خورد سالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا
نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا
ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے
بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس میناے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے
یہی تو میر اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
میر تقی میر

عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں

دیوان اول غزل 351
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا
پند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ
مے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب التعزیر ہوں
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے
ایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں
جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں
اس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں
جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد
یہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں
کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی
گرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں
یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گذرانیے
منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں
اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی
باز آئو ورنہ اپنے نام کو میں میر ہوں
میر تقی میر

فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں

دیوان اول غزل 350
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں
فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے
شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر
آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں
جب ہم گئے دوچار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں
یاں ہم نے انھیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیونکر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ
ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی
دم لیویں نہ دوچار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سرشوریدہ کا دینا
چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا
جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی
سوگز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا
میں کیا کروں جو میر جی جاتے ہیں سدھاریں
میر تقی میر

مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں

دیوان اول غزل 349
سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں
مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں
لاویں اسے بھی بعد مرے میری لاش پر
یہ کہہ رکھا ہے اپنے ہر اک مہرباں کو میں
گردش فلک کی کیا ہے جو دور قدح میں ہے
دیتا رہوں گا چرخ مدام آسماں کو میں
جی جاوے تو قبول ترا غم نہ جائیو
رکھتا نپٹ عزیز ہوں اس میہماں کو میں
عاشق ہے یا مریض ہے پوچھو تو میر سے
پاتا ہوں زرد روز بروز اس جواں کو میں
میر تقی میر

اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں

دیوان اول غزل 348
لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں
اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں
سینہ سپر کیا تھا جن کے لیے بلا کا
وے بات بات میں اب تلوار کھینچتے ہیں
مجلس میں تیری ہم کو کب غیر خوش لگے ہے
ہم بیچ اپنے اس کے دیوار کھینچتے ہیں
بے طاقتی نے ہم کو چاروں طرف سے کھویا
تصدیع گھر میں بیٹھے ناچار کھینچتے ہیں
منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی
حق جو کہے ہے اس کو یاں دار کھینچتے ہیں
شکوہ کروں تو کس سے کیا شیخ کیا برہمن
ناز اس بلاے جاں کے سب یار کھینچتے ہیں
ناوک سے میر اس کے دل بستگی تھی مجھ کو
پیکاں جگر سے میرے دشوار کھینچتے ہیں
میر تقی میر

اور مطلق اب دماغ اپنا وفا کرتا نہیں

دیوان اول غزل 347
آہ وہ عاشق ستم ترک جفا کرتا نہیں
اور مطلق اب دماغ اپنا وفا کرتا نہیں
بات میں غیروں کو چپ کردوں ولیکن کیا کروں
وہ سخن نشنو تنک میرا کہا کرتا نہیں
روز بدتر جیسے بیمار اجل ہے دل کا حال
یہ سمجھ کر ہم نشیں اب میں دوا کرتا نہیں
گوئیا باب اجابت ہجر میں تیغا ہوا
ورنہ کس شب آپ کو میں بددعا کرتا نہیں
بیکسان عشق اس کے آہ کس کے پاس جائیں
گور بن کوئی صلا میں لب کو وا کرتا نہیں
چھوٹنا ممکن نہیں اپنا قفس کی قید سے
مرغ سیر آہنگ کو کوئی رہا کرتا نہیں
چرخ کی بھی کج ادائی ہم ہی پر جاتی ہے پیش
ناز کو اس سے تو اک دم بھی جدا کرتا نہیں
دیکھ اسے بے دید ہو آنکھوں نے کیا دیکھا بھلا
دل بھی بد کرتا ہے مجھ سے تو بھلا کرتا نہیں
کیونکے دیکھی جائے یہ بیگانہ وضعی مجھ سے شوخ
تو تو ایدھر یک نگاہ آشنا کرتا نہیں
کیا کہوں پہنچا کہاں تک میر اپنا کارشوق
یاں سے کس دن اک نیا قاصد چلا کرتا نہیں
میر تقی میر

مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں

دیوان اول غزل 346
آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں
یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیں
یعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں
حاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میں
اٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں
مائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہے
تھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں
ہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکے
وقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں
اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال
آدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں
عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہے
ہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں
ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئی
رنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں
اعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میں
تیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں
میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمھیں
تم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں
دل مت لگا رخ عرق آلود یار سے
آئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں
شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میر
احوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں
میر تقی میر

ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں

دیوان اول غزل 345
ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں
ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں
شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم
مفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں
داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن
ضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں
کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ
یہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں
بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوے شیر
تھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں
کیا کہوں میر فراموش کیا ان نے تجھے
میں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں
میر تقی میر

ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں

دیوان اول غزل 344
تجھے بھی یار اپنا یوں تو ہم ہر بار کہتے ہیں
ولے کم ہیں بہت وے لوگ جن کو یار کہتے ہیں
جہاں کے مصطبے میں مست طافح ہی نظر آئے
نہ تھا اس دور میں آیا جسے ہشیار کہتے ہیں
سمجھ کر ذکر کر آسودگی کا مجھ سے اے ناصح
وہ میں ہی ہوں کہ جس کو عافیت بیزار کہتے ہیں
مسافر ہووے جی اس کا خراماں دیکھ کر تجھ کو
جسے میرے وطن میں کبک خوش رفتار کہتے ہیں
معاذ اللہ دخل کفر ہو اسلام میں کیوں ہی
غلط اور پوچ نامعقول بعضے یار کہتے ہیں
علم کو کب ہے وجہ تسمیہ لازم سمجھ دیکھو
سلیمانی میں کیا زنار ہے زنار کہتے ہیں
تری آنکھوں کو آئوں دیکھنے میں تو عجب مت کر
کہ بہتر ہے عیادت اور انھیں بیمار کہتے ہیں
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی میں اس فرقے کا عاشق ہوں
کہ بے دھڑکے بھری مجلس میں یہ اسرار کہتے ہیں
مزے ان کے اڑا لیکن نہ یہ سمجھیں تو بہتر ہے
کہ خوباں بھی بہت اپنے تئیں عیار کہتے ہیں
سگ کو میر میں اس شیر حق کا ہوں کہ جس کو سب
نبیؐ کا خویش و بھائی حیدر کرار کہتے ہیں
میر تقی میر

مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں

دیوان اول غزل 343
ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں
مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں
تیغ جفاے خوباں بے آب تھی کہ ہمدم
زخم بدن ہمارے تفسیدہ ماہیاں ہیں
مسجد سے میکدے پر کاش ابر روز برسے
واں رو سفیدیاں ہیں یاں روسیاہیاں ہیں
جس کی نظر پڑی ہیں ان نے مجھے بھی دیکھا
جب سے وہ شوخ آنکھیں میں نے سراہیاں ہیں
غالب تو یہ ہے زاہد رحمت سے دور ہووے
درکار واں گنہ ہیں یاں بے گناہیاں ہیں
یہ ناز و سرگرانی اللہ رے کہ ہر دم
نازک مزاجیاں ہیں یا کج کلاہیاں ہیں
شاہد لوں میر کس کو اہل محلہ سے میں
محضر پہ خوں کے میرے سب کی گواہیاں ہیں
میر تقی میر

ہم دل جلوں کی خاک جہاں میں کدھر نہیں

دیوان اول غزل 342
دامن پہ تیرے گرد کا کیونکر اثر نہیں
ہم دل جلوں کی خاک جہاں میں کدھر نہیں
اتنا رقیب خانہ برانداز سے سلوک
جب آنکلتے ہیں تو سنے ہیں کہ گھر نہیں
خون جگر تو کچھ نہ رہا تو ہی سب ہوا
بس اے سرشک آنکھیں تری کیا مگر نہیں
دامان و جیب و دیدہ و مژگان و آستیں
اب کون سا رہا ہے کہ ان میں سے تر نہیں
ہر نقش پا ہے شوخ ترا رشک یاسمن
کم گوشۂ چمن سے ترا رہگذر نہیں
کیوں الاماں کرے ہے دل شب گھڑی گھڑی
برچھی لگاتی آہ ہماری اگر نہیں
آتا ہی تیرے کوچے میں ہوتا جو میر یاں
کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں
میر تقی میر

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

دیوان اول غزل 341
بزم میں جو ترا ظہور نہیں
شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لائوں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر تقی میر

کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن

دیوان اول غزل 340
ایسے محروم گئے ہم تو گرفتار چمن
کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن
سینے پر داغ کا احوال میں پوچھوں ہوں نسیم
یہ بھی تختہ کبھو ہووے گا سزاوار چمن
باغباں باغ اجارے ہی اگر دینا تھا
تھے زر داغ سے ہم بھی تو خریدار چمن
وے گنہگار ہمیں ہیں کہ جنھیں کہتے ہیں
عاشق زار چمن مرغ گرفتار چمن
خون ٹپکے ہے پڑا نوک سے ہر یک کی ہنوز
کس ستم دیدہ کی مژگاں ہیں تہ خار چمن
باغباں ہم سے خشونت سے نہ پیش آیا کر
عاقبت نالہ کشاں بھی تو ہیں درکار چمن
کم نہیں ہے دل پر داغ بھی اے مرغ اسیر
گل میں کیا ہے جو ہوا ہے تو طلبگار چمن
گل پر ایسی تو پڑی اوس خزاں میں کہ نسیم
سرد ہی ہو گئی واں گرمی بازار چمن
کیا جزا ٹھہرتی ہے دیکھیے کل حشر کو میر
داغ ہر ایک مرے دل پہ ہے خوں دار چمن
میر تقی میر

نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں

دیوان اول غزل 339
جنوں میرے کی باتیں دشت اور گلشن میں جب چلیاں
نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں
گریباں شور محشر کا اڑایا دھجیاں کرکر
فغاں پر ناز کرتا ہوں کہ بل بے تیری ہتھ بلیاں
تفاوت کچھ نہیں شیرین و شکر اور یوسف میں
سبھی معشوق اگر پوچھے کوئی مصری کی ہیں ڈلیاں
ترے غمزے نے جو رو ظلم سے آنکھیں غزالوں کی
بیاباں میں دکھا مجنوں کو پائوں کے تلے ملیاں
چمن کو آج مارا ہے یہاں تک رشک گل رو نے
کہ بلبل سر پٹکتی ہے نہیں منھ کھولتیں کلیاں
مری آہ سحر کی برچھیاں سختی کی تڑپوں پر
نگاہیں کرکے گر پڑتی ہیں بجلی کی بھی اچپلیاں
صنم کی زلف میں کوچہ ہے سربستہ ہر اک مو پر
نہ دیکھی ہوں گی تونے خضر یہ ظلمات میں گلیاں
دوانہ ہو گیا تو میر آخر ریختے کہہ کہہ
نہ کہتا تھا میں اے ظالم کہ یہ باتیں نہیں بھلیاں
میر تقی میر

دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں

دیوان اول غزل 338
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس
دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں
بیگانہ خو رقیب سے وسواس کچھ نہ کر
فرماوے ٹک زباں سے تو پھر یار بہت ہیں
کوئی تو زمزمہ کرے میرا سا دل خراش
یوں تو قفس میں اور گرفتار بہت ہیں
میر تقی میر

یہ جرم ہے تو ایسے گنہگار بہت ہیں

دیوان اول غزل 337
تجھ عشق میں تو مرنے کو تیار بہت ہیں
یہ جرم ہے تو ایسے گنہگار بہت ہیں
اک زخم کو میں ریزئہ الماس سے چیرا
دل پر ابھی جراحت نوکار بہت ہیں
میر تقی میر

آرزوے جہان ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 336
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
آرزوے جہان ہوتے ہیں
گوش دیوار تک تو جا نالے
اس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن
گھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا
روضے سب گلستان ہوتے ہیں
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض
خوبرو بدزبان ہوتے ہیں
غمزئہ چشم خوش قدان زمیں
فتنۂ آسمان ہوتے ہیں
کیا رہا ہے مشاعرے میں اب
لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
میر و مرزا رفیع و خواجہ میر
کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
میر تقی میر

تم تو کرو ہو صاحبی بندے میں کچھ رہا نہیں

دیوان اول غزل 335
ملنے لگے ہو دیر دیر دیکھیے کیا ہے کیا نہیں
تم تو کرو ہو صاحبی بندے میں کچھ رہا نہیں
بوے گل اور رنگ گل دونوں ہیں دلکش اے نسیم
لیک بقدر یک نگاہ دیکھیے تو وفا نہیں
شکوہ کروں ہوں بخت کا اتنے غضب نہ ہو بتاں
مجھ کو خدا نخواستہ تم سے تو کچھ گلہ نہیں
نالے کیا نہ کر سنا نوحے مرے پہ عندلیب
بات میں بات عیب ہے میں نے تجھے کہا نہیں
خواب خوش سحر سے شوخ تجھ کو صبا جگا گئی
مجھ پہ عبث ہے بے دماغ میں نے تو کچھ کہا نہیں
چشم سفید و اشک سرخ آہ دل حزیں ہے یاں
شیشہ نہیں ہے مے نہیں ابر نہیں ہوا نہیں
ایک فقط ہے سادگی تس پہ بلاے جاں ہے تو
عشوہ کرشمہ کچھ نہیں آن نہیں ادا نہیں
آب و ہواے ملک عشق تجربہ کی ہے میں بہت
کرکے دواے درد دل کوئی بھی پھر جیا نہیں
ہووے زمانہ کچھ سے کچھ چھوٹے ہے دل لگا مرا
شوخ کسی ہی آن میں تجھ سے تو میں جدا نہیں
ناز بتاں اٹھا چکا دیر کو میر ترک کر
کعبے میں جاکے بیٹھ میاں تیرے مگر خدا نہیں
میر تقی میر

کہتا ہے بن سنے ہی میں خوب جانتا ہوں

دیوان اول غزل 334
جب درددل کا کہنا میں دل میں ٹھانتا ہوں
کہتا ہے بن سنے ہی میں خوب جانتا ہوں
شاید نکل بھی آوے دل گم جو ہو گیا ہے
اس کی گلی میں بیٹھا میں خاک چھانتا ہوں
اس دردسر کا لٹکا سر سے لگا ہے میرے
سو سرکا ہووے صندل میں میر مانتا ہوں
میر تقی میر

سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں

دیوان اول غزل 333
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
جوئیں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت
سائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں
رو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کر
یہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت
وے میر جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
میر تقی میر

کس کے ہوں کس سے کہیں کس کنے فریاد کریں

دیوان اول غزل 332
چاہتے ہیں یہ بتاں ہم پہ کہ بیداد کریں
کس کے ہوں کس سے کہیں کس کنے فریاد کریں
ایک دم پر ہے بنا تیری سو آیا کہ نہیں
وہ کچھ اس زندگی میں کر کہ تجھے یاد کریں
کعبہ ہوتا ہے دوانوں کا مری گور سے دشت
مجھ سے دو اور گڑیں یاں تو سب آباد کریں
ہم تو راہب نہیں ہیں واقف رسم سجدہ
ہیں کدھر شیخ حرم کچھ ہمیں ارشادکریں
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو
چاہیے اہل سخن میر کو استاد کریں
میر تقی میر

کنواں اندھا ہوا یوسفؑ کے غم میں

دیوان اول غزل 331
نہ اک یعقوبؑ رویا اس الم میں
کنواں اندھا ہوا یوسفؑ کے غم میں
کہوں کب تک دم آنکھوں میں ہے میری
نظر آوے ہی گا اب کوئی دم میں
دیا عاشق نے جی تو عیب کیا ہے
یہی میر اک ہنر ہوتا ہے ہم میں
میر تقی میر

حسن قبول کیا ہو مناجات کے تئیں

دیوان اول غزل 330
تا پھونکیے نہ خرقۂ طامات کے تئیں
حسن قبول کیا ہو مناجات کے تئیں
کیفیتیں اٹھے ہیں یہ کب خانقاہ میں
بدنام کر رکھا ہے خرابات کے تئیں
ڈریے خرام ناز سے خوباں کے ہمنشیں
ٹھوکر سے یہ اٹھاتے ہیں آفات کے تئیں
ہم جانتے ہیں یا کہ دل آشنا زدہ
کہیے سو کس سے عشق کے حالات کے تئیں
خوبی کو اس کے ساعد سیمیں کی دیکھ کر
صورت گروں نے کھینچ رکھا ہات کے تئیں
اتنی بھی حرف ناشنوی غیر کے لیے
رکھ کان ٹک سنا بھی کرو بات کے تئیں
سید ہو یا چمار ہو اس جا وفا ہے شرط
کب عاشقی میں پوچھتے ہیں ذات کے تئیں
آخر کے یہ سلوک ہم اب تیرے دیکھ کر
کرتے ہیں یاد پہلی ملاقات کے تئیں
آنکھوں نے میر صاحب و قبلہ ورم کیا
حضرت بکا کیا نہ کرو رات کے تئیں
میر تقی میر

تم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں

دیوان اول غزل 329
کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں
تم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں
کیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشی
اس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں
صحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سے
دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
ہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیں
بے لطفیاں یہی یہی نامہربانیاں
تلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساط
مر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں
گالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرو
اچھی لگے ہیں مجھ کو تری بدزبانیاں
غیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھے
اس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں
یہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاں
جاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں
مارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میر
کیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں
میر تقی میر

تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں

دیوان اول غزل 328
مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں
سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دم
لہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں
اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیک
برنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک
میں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کر
پھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں
ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میں
وگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں
بلا ہوئی ہے مری گوکہ طبع روشن میر
ہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں
میر تقی میر

قیامت کو مگر عرصے میں آویں

دیوان اول غزل 327
مرے آگے نہ شاعر نام پاویں
قیامت کو مگر عرصے میں آویں
پری سمجھے تجھے وہم و گماں سے
کہاں تک اور ہم اب دل چلاویں
ترے عاشق ترے رسوا کہائے
ترے ہوکر کہہ اب کس کے کہاویں
مزاج اپنا غیور ازبس پڑا ہے
ترے غم میں کسے خاطر میں لاویں
پھرے ہے شیخ مجلس ہی میں رقصاں
ادھر آنکلے تو ہم بھی نچاویں
نظر اے ابر اب مت آ مبادا
کہیں میری بھی آنکھیں ڈبڈباویں
قدم بوسی تلک مختار ہیں غیر
زیادہ لگ چلیں تو سر میں کھاویں
نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی
بغیر اس کے ملے دنیا سے جاویں
چلی ہے تو تو اے جان الم ناک
ٹک اک رہ جا کہ ہم رخصت ہو آویں
چلا مقدور سے غم میر آگے
زمیں پھٹ جائے یارب ہم سماویں
میر تقی میر

پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں

دیوان اول غزل 326
آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں
پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں
پروانہ پھر نہ شمع کی خاطر جلا کرے
گر بزم میں یہ اپنا ترا ماجرا کہوں
مت کر خرام سر پہ اٹھالے گا خلق کو
بیٹھا اگر گلی میں ترا نقش پا کہوں
دل اور دیدہ باعث ایذا و نور عین
کس کے تئیں برا کہوں کس کو بھلا کہوں
آوے سموم جاے صبا باغ سے سدا
گرشمہ اپنے سوز جگر کا میں جا کہوں
جاتا ہوں میر دشت جنوں کو میں اب یہ کہہ
مجنوں کہیں ملے تو تری بھی دعا کہوں
میر تقی میر

گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں

دیوان اول غزل 325
ہم تو مطرب پسرکے جاتے ہیں
گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں
خاک میں لوٹتے تھے کل تجھ بن
آج لوہو میں ہم نہاتے ہیں
اے عدم ہونے والو تم تو چلو
ہم بھی اب کوئی دم میں آتے ہیں
ایک کہتا ہوں میں تو منھ پہ رقیب
تیری پشتی سے سو سناتے ہیں
دیدہ و دل کا کیا کیا تھا میں
روز آفت جو مجھ پہ لاتے ہیں
کوئی رووے ہے کوئی تڑپے ہے
کیا کروں میرے گھر سے آتے ہیں
ورنہ میں میر ہوں مرے آگے
دشت غم بھی نہ ٹکنے پاتے ہیں
کھود گاڑوں زمیں میں دونوں کو
گرچہ یہ آسماں پہ جاتے ہیں
دیدہ و دل شتاب گم ہوں میر
سر پہ آفت ہمیشہ لاتے ہیں
میر تقی میر

محتسب کو کباب کرتا ہوں

دیوان اول غزل 324
عام حکم شراب کرتا ہوں
محتسب کو کباب کرتا ہوں
ٹک تو رہ اے بناے ہستی تو
تجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں
بحث کرتا ہوں ہو کے ابجدخواں
کس قدر بے حساب کرتا ہوں
کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبث
تشنگی پر عتاب کرتا ہوں
سر تلک آب تیغ میں ہوں غرق
اب تئیں آب آب کرتا ہوں
جی میں پھرتا ہے میر وہ میرے
جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں
میر تقی میر

وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں

دیوان اول غزل 323
بہت ہی اپنے تئیں ہم تو خوار پاتے ہیں
وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں
تری گلی میں میں رویا تھا دل جلا یک شب
ہنوز واں سے دل داغدار پاتے ہیں
نہ ہوویں شیفتہ کیوں اضطراب پر عاشق
کہ جی کو کھوکے دل بے قرار پاتے ہیں
گلہ عبث ہے تری آستانہ بوسی کا
مسیح و خضر بھی واں کم ہی بار پاتے ہیں
تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے
غزال دشت نشان مزار پاتے ہیں
وگرنہ خاک ہوئے کتنے ہی محبت میں
کسی کا بھی کہیں مشت غبار پاتے ہیں
شتابی آوے اجل میر جاوے یہ رونا
کہ میرے شور سے تصدیع یار پاتے ہیں
میر تقی میر

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

دیوان اول غزل 322
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد
ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
گہے داغ رہتا ہے دل گہ جگر خوں
ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم
ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو
گہے کاغذ و گہ قلم دیکھتے ہیں
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ
اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
کہاں تک بھلا روئوگے میر صاحب
اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
میر تقی میر

اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں

دیوان اول غزل 321
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پر
صد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبح
میں شانہ صفت سایہ رو زلف بتاں ہوں
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کی
میں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے
اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں
درپے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
اک وہم نہیں بیش مری ہستی موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میر
اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
میر تقی میر

اب ہم نے بھی کسو سے آنکھیں لڑائیاں ہیں

دیوان اول غزل 320
دیکھیں تو تیری کب تک یہ کج ادائیاں ہیں
اب ہم نے بھی کسو سے آنکھیں لڑائیاں ہیں
ٹک سن کہ سو برس کی ناموس خامشی کھو
دو چار دل کی باتیں اب منھ پرآئیاں ہیں
ہم وے ہیں خوں گرفتہ ظالم جنھوں نے تیری
ابرو کی جنبش اوپر تلواریں کھائیاں ہیں
آئینہ ہو کہ صورت معنی سے ہے لبالب
راز نہان حق میں کیا خود نمائیاں ہیں
کیا چہرہ تجھ سے ہو گا اے آفتاب طلعت
منھ چاند کا جو ہم نے دیکھا تو جھائیاں ہیں
کعبے میں میر ہم پر یا سرگراں ہے زاہد
یا بتکدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
میر تقی میر

طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں

دیوان اول غزل 319
بارہا وعدوں کی راتیں آئیاں
طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں
عشق میں ایذائیں سب سے پائیاں
رہ گئے آنسو تو آنکھیں آئیاں
ظل حق ہم کو بھی ووہیں چاہیے
جوں ہماری ہوتی ہیں پرچھائیاں
اس مژہ برہم زدہ نے بارہا
عاشقوں میں برچھیاں چلوائیاں
نونہال آگے ترے ہیں جیسی ہوں
ڈالیاں ٹوٹی ہوئیں مرجھائیاں
ایک بھی چشمک نہ اس مہ کی سی کی
آنکھیں تاروں نے بہت جھمکائیاں
ایک نے صورت نہ پکڑی پیش یار
دل میں شکلیں سینکڑوں ٹھہرائیاں
رویت اپنی اس گلی میں کم نہیں
ہر جگہ ہر بار ماریں کھائیاں
بوسہ لینے کا کیا جس دم سوال
ان نے باتیں ہی ہمیں بتلائیاں
روکشی کو اس کی منھ بھی چاہیے
ماہ کے چہرے پہ ہیں سب جھائیاں
مضطرب ہوکر کیا سب میں سبک
دل نے آخر خفتیں دلوائیاں
چل چمن میں یہ بھی ہے کوئی روش
ناز تاکے چند بے پروائیاں
شوق قامت میں ترے اے نونہال
گل کی شاخیں لیتی ہیں انگڑائیاں
پاس مجھ کو بھی نہیں ہے میر اب
دور پہنچی ہیں مری رسوائیاں
میر تقی میر

رگ ابر تھا تارتارگریباں

دیوان اول غزل 318
کیا میں نے رو کر فشارگریباں
رگ ابر تھا تارتارگریباں
کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگے
کہ سینہ ہے قرب و جوارگریباں
نشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیں
خزاں ہوچلی ہے بہار گریباں
جنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تونے
نہ رکھا مرے سر پہ بارگریباں
زیارت کروں دل سے خستہ جگر کی
کہاں ہو گی یارب مزارگریباں
کہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدی
کہ آخر ہوا روزگارگریباں
پھروں میر عریاں نہ دامن کا غم ہو
نہ باقی رہے خارخارگریباں
میر تقی میر

اس میں حیراں ہوں بہت کس کس کا میں ماتم کروں

دیوان اول غزل 317
صبر و طاقت کو کڑھوں یا خوش دلی کا غم کروں
اس میں حیراں ہوں بہت کس کس کا میں ماتم کروں
موسم حیرت ہے دل بھر کر تو رونا مل چکا
اتنے بھی آنسو بہم پہنچیں کہ مژگاں نم کروں
ہوں سیہ مست سر زلف صنم معذور رکھ
شیخ اگر کعبے سے آوے گفتگو درہم کروں
ریزئہ الماس یا مشت نمک ہے کیا برا
جو میں اپنے ایسے زخم سینہ کو مرہم کروں
گرچہ کس گنتی میں ہوں پر ایک دم مجھ تک تو آ
یا ادھر ہوں یا ادھر کب تک شمار دم کروں
بس بہت رسوا ہوا میں اب نہیں مقدور کچھ
وہ طرح ڈھونڈوں ہوں جس میں ربط تجھ سے کم کروں
گودھواں اٹھنے لگا دل سے مرے پر پیچ و تاب
میر اس پر قطع ربط زلف خم در خم کروں
میر تقی میر

سارے تیرا خیال رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 316
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
سارے تیرا خیال رکھتے ہیں
شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں
مدتوں یاد سال رکھتے ہیں
ان لبوں کا جواب دہ ہے لعل
ہم تجھی سے سوال رکھتے ہیں
گل ترے روزگار خوبی میں
منھ طمانچوں سے لال رکھتے ہیں
دہن تنگ کے ترے مشتاق
آرزوے محال رکھتے ہیں
خاک آدم ہی ہے تمام زمیں
پائوں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
یہ جو سر کھینچے تو قیامت ہے
دل کو ہم پائمال رکھتے ہیں
اہل دل چشم سب تری جانب
آئینے کی مثال رکھتے ہیں
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میرجی بھی کمال رکھتے ہیں
میر تقی میر

سرو و قمری شکار ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 315
خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں
سرو و قمری شکار ہوتے ہیں
تیرے بالوں کے وصف میں میرے
شعر سب پیچ دار ہوتے ہیں
آئو یاد بتاں پہ بھول نہ جائو
یہ تغافل شعار ہوتے ہیں
دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس
صحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں
صدقے ہولیویں ایک دم تیرے
پھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں
تو کرے ہے قرار ملنے کا
ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں
دلی سے بھی دیار ہوتے ہیں
رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر
فتنۂ روزگار ہوتے ہیں
اس کے نزدیک کچھ نہیں عزت
میرجی یوں ہی خوار ہوتے ہیں
میر تقی میر

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

دیوان اول غزل 314
جفائیں دیکھ لیاں بیوفائیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں
تری گلی سے سدا اے کشندئہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
گیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش باز
ہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں
ترے وصال کے ہم شوق میں ہو آوارہ
عزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں
ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا
جو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
انھیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
بنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میر
لڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں
میر تقی میر

کہا کہ ایسے تو میں مفت مار لایا ہوں

دیوان اول غزل 313
کیا جو عرض کہ دل سا شکار لایا ہوں
کہا کہ ایسے تو میں مفت مار لایا ہوں
کہے تو نخل صنوبر ہوں اس چمن میں میں
کہ سر سے پائوں تلک دل ہی بار لایا ہوں
جہاں میں گریہ نہ پہنچا بہم مجھے دلخواہ
پہ نوحؑ کے سے تو طوفاں ہزار لایا ہوں
نہ تنگ کر اسے اے فکر روزگار کہ میں
دل اس سے دم کے لیے مستعار لایا ہوں
کسی سے مانگا ہے میں آج تک کہ جی لیوے
یہ احتیاج تجھی تک اے یار لایا ہوں
پھر اختیار ہے آگے ترا یہ ہے مجبور
کہ دل کو تجھ تئیں بے اختیار لایا ہوں
یہ جی جو میرے گلے کا ہے ہار تو ہی لے
ترے گلے کے لیے میں یہ ہار لایا ہوں
چلا نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر تو میر
ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا ہوں
میر تقی میر

پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں

دیوان اول غزل 312
سب خوبیاں ہیں شیخ مشیخت پناہ میں
پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں
مانند شمع ہم نے حضور اپنے یار کے
کار وفا تمام کیا ایک آہ میں
میں صید جو ہوا تو ندامت اسے ہوئی
یک قطرہ خون بھی نہ گرا صیدگاہ میں
پہنچے نہیں کہیں کہ نہیں واں سے اٹھ چلے
القصہ ایک عمر سے ہم ہیں گے راہ میں
نکلا تھا آستین سے کل مغبچے کا ہاتھ
بہتوں کے خرقے چاک ہوئے خانقاہ میں
بخت سیہ تو دیکھ کہ ہم خاک میں ملے
سرمے کی جاے ہو تری چشم سیاہ میں
بیٹھے تھے میر یار کے دیدار کو سو ہم
اپنا یہ حال کرکے اٹھے یک نگاہ میں
میر تقی میر

ہر دم جگروں میں کچھ کانٹے سے کھٹکتے ہیں

دیوان اول غزل 311
پلکوں سے ترے شائق ہم سر جو پٹکتے ہیں
ہر دم جگروں میں کچھ کانٹے سے کھٹکتے ہیں
میں پھاڑ گریباں کو درویش ہوا آخر
وے ہاتھ سے دامن کو اب تک بھی جھٹکتے ہیں
یاد آوے ہے جب شب کو وہ چہرئہ مہتابی
آنسو مری پلکوں سے تارے سے چھٹکتے ہیں
کی راہبری میری صحراے محبت میں
یاں حضرت خضر آپھی مدت سے بھٹکتے ہیں
جاتے نہ کوئی دیکھا اس تیغ کے منھ اوپر
واں میان سے وہ لے ہے یاں یار سٹکتے ہیں
کیا تم کو اچنبھا ہے سختی کا محبت میں
دشوار ہی ہوتا ہے دل جن کے اٹکتے ہیں
تو طرئہ جاناں سے چاہے ہے ابھی مقصد
برسوں سے پڑے ہم تو اے میر لٹکتے ہیں
میر تقی میر

یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں

دیوان اول غزل 310
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں
یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں
اس بزم کے چراغ بجھے تھے جو یار میر
ان کے فروغ باغ میں گل ہیں کہیں کہیں
میر تقی میر

مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں

دیوان اول غزل 309
سن گوش دل سے اب تو سمجھ بے خبر کہیں
مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں
اب فائدہ سراغ سے بلبل کے باغباں
اطراف باغ ہوں گے پڑے مشت پر کہیں
خطرے سے ہونٹ سوکھ ہی جاتے تھے دیکھ کر
آتا نظر ہمیں جو کوئی چشم تر کہیں
عاشق ترے ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
مرنا پڑا ہے ہم کو خدا سے تو ڈر کہیں
کچھ کچھ کہوں گا روز یہ کہتا تھا دل میں میں
آشفتہ طبع میر کو پایا اگر کہیں
سو کل ملا مجھے وہ بیاباں کی سمت کو
جاتا تھا اضطراب زدہ سا ادھر کہیں
لگ چل کے میں برنگ صبا یہ اسے کہا
کاے خانماں خراب ترا بھی ہے گھر کہیں
آشفتہ جا بہ جا جو پھرے ہے تو دشت میں
جاگہ نہیں ہے شہر میں تجھ کو مگر کہیں
خوں بستہ اپنی کھول مژہ پوچھتا بھی گر
رکھ ٹک تو اپنے حال کو مدنظر کہیں
آسودگی سی جنس کو کرتا ہے کون سوخت
جانے ہے نفع کوئی بھی جی کا ضرر کہیں
موتی سے تیرے اشک ہیں غلطاں کسو طرف
یاقوت کے سے ٹکڑے ہیں لخت جگر کہیں
تاکے یہ دشت گردی و کب تک یہ خستگی
اس زندگی سے کچھ تجھے حاصل بھی مر کہیں
کہنے لگا وہ ہو کے پرآشفتہ یک بیک
مسکن کرے ہے دہر میں مجھ سا بشر کہیں
آوارگوں کا ننگ ہے سننا نصیحتیں
مت کہیو ایسی بات تو بار دگر کہیں
تعیئن جا کو بھول گیا ہوں پہ یہ ہے یاد
کہتا تھا ایک روز یہ اہل نظر کہیں
بیٹھے اگرچہ نقش ترا تو بھی دل اٹھا
کرتا ہے جاے باش کوئی رہگذر کہیں
کتنے ہی آئے لے کے سر پر خیال پر
ایسے گئے کہ کچھ نہیں ان کا اثر کہیں
میر تقی میر

دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں

دیوان اول غزل 308
تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیں
دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں
جب لے نقاب منھ پر تب دید کر کہ کیا کیا
در پردہ شوخیاں ہیں پھر بے حجابیاں ہیں
چاہے ہے آج ہوں میں ہفت آسماں کے اوپر
دل کے مزاج میں بھی کتنی شتابیاں ہیں
جی بکھرے دل ڈھہے ہے سر بھی گرا پڑے ہے
خانہ خراب تجھ بن کیا کیا خرابیاں ہیں
مہمان میر مت ہو خوان فلک پہ ہرگز
خالی یہ مہر و مہ کی دونوں رکابیاں ہیں
میر تقی میر

اپنے سواے کس کو موجود جانتے ہیں

دیوان اول غزل 307
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سواے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا
اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے معنی
اہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے
ناچیز جانتے ہیں نابود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے
اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یارب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا
راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں
بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا
مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میر مفت ہے وہ
جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
میر تقی میر

ہو گر شریف مکہ مسلمان ہی نہیں

دیوان اول غزل 306
جو حیدری نہیں اسے ایمان ہی نہیں
ہو گر شریف مکہ مسلمان ہی نہیں
وہ ترک صید پیشہ مرا قصد کیا کرے
دبلے پنے سے تن میں مرے جان ہی نہیں
خال و خط ایسے فتنے نگاہیں یہ آفتیں
کچھ اک بلا وہ زلف پریشان ہی نہیں
ہیں جزو خاک ہم تو غبار ضعیف سے
سر کھینچنے کا ہم کنے سامان ہی نہیں
دیکھی ہو جس نے صورت دلکش وہ ایک آن
پھر صبر اس سے ہو سکے امکان ہی نہیں
خورشید و ماہ و گل سبھی اودھر رہے ہیں دیکھ
اس چہرے کا اک آئینہ حیران ہی نہیں
یکساں ہے تیرے آگے جو دل اور آرسی
کیا خوب و زشت کی تجھے پہچان ہی نہیں
سجدہ اس آستاں کا نہ جس کے ہوا نصیب
وہ اپنے اعتقاد میں انسان ہی نہیں
کیا تجھ کو بھی جنوں تھا کہ جامے میں تیرے میر
سب کچھ بجا ہے ایک گریبان ہی نہیں
میر تقی میر

اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں

دیوان اول غزل 305
دعوے کو یار آگے معیوب کرچکے ہیں
اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں
مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو
اس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کرچکے ہیں
حسن کلام کھینچے کیونکر نہ دامن دل
اس کام کو ہم آخر محبوب کرچکے ہیں
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہو گا
ہم اس طرح کے کتنے آشوب کرچکے ہیں
رنگ پریدہ قاصد بادسحر کبوتر
کس کس کے ہم حوالے مکتوب کرچکے ہیں
تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریے
آگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کرچکے ہیں
ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کا
غالب کہ طبع دل کو مغلوب کرچکے ہیں
کیا جانیے کہ کیا ہے اے میر وجہ ضد کی
سو بار ہم تو اس کو محجوب کرچکے ہیں
میر تقی میر

اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں

دیوان اول غزل 304
کوئی نہیں جہاں میں جو اندوہگیں نہیں
اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں
کرتا ہے ابر دعوی دریادلی عبث
دامن نہیں مرا تو مری آستیں نہیں
آگے تو لعل نو خط خوباں کے دم نہ مار
ہر چند اے مسیح وے باتیں رہیں نہیں
یہ درد اس کے کیونکے کروں دل نشیں کہ آہ
کہتا ہوں جس طرح سے کہے ہے نہیں نہیں
ماتھا کیا ہے صرف سجود در بتاں
مانند ماہ نو کے مری اب جبیں نہیں
کہتا ہوں حال دل تو کہے ہے کہ مت بکے
کیوں نئیں تری تو بات مرے دل نشیں نہیں
گھر گھر ہے ملک عشق میں دوزخ کی تاب و تب
بھڑکا نہ ہم کو شیخ یہ آتش یوہیں نہیں
ضائع کیا میں اپنے تئیں تونے کی خوشی
بے مہر کیونکے جانیے تجھ میں کہ کیں نہیں
فکربلند سے میں کیا آسماں اسے
ہر یک سے میر خوب ہو یہ وہ زمیں نہیں
میر تقی میر

کہ گڑے ہوئے پھر اکھڑیں دل چاک دردمنداں

دیوان اول غزل 303
تو گلی میں اس کی جا آ ولے اے صبا نہ چنداں
کہ گڑے ہوئے پھر اکھڑیں دل چاک دردمنداں
ترے تیر ناز کے جو یہ ہدف ہوئے ہیں ظالم
مگر آہنی توے ہیں جگر نیازمنداں
کبھو زلف سے بتاں کی نہ ہوا رہا میں ہرگز
یہی ہیں شکار خستہ یہی عنبریں کمنداں
تبھی کوند کوند اتنا تو زمیں سے جائے مل مل
نہیں دیکھے برق تونے دم خندہ اس کے دنداں
میں صفا کیا دل اتنا کہ دکھائی دیوے منھ بھی
ولے مفت اس آئینے کو نہیں لیتے خود پسنداں
کھلیں آنکھیں میں جو دیکھا سو غم اور چشم گریاں
کسے کہتے ہیں نہ جانا دل شاد و روے خنداں
تو زبوں شکار تو تھا ولے میر قتل گہ میں
ترے خوں سے ہیں حنائی کف پاے صیدبنداں
میر تقی میر

اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

دیوان اول غزل 302
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے
دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے
یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش
اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منھ سے بھی خشن ہوکر
وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے
برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میر بھی عاشق ہیں
جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
میر تقی میر

بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں

دیوان اول غزل 301
زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں
نہ کھول اے یار میرا گور میں منھ
کہ حسرت ہے مری جاگہ کفن میں
رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتے
نہیں رہتا چراغ ایسی پون میں
جلے دل کی مصیبت اپنے سن کر
لگی ہے آگ سارے تن بدن میں
نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقی
مسافر ہی رہے اکثر وطن میں
خردمندی ہوئی زنجیر ورنہ
گذرتی خوب تھی دیوانہ پن میں
کہاں کے شمع و پروانے گئے مر
بہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوں
ہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں
گداز عشق میں بہ بھی گیا میر
یہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں
میر تقی میر

یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں

دیوان اول غزل 300
نکلے ہے جنس حسن کسی کاروان میں
یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں
جاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھ
ہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں
یارب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہے
یک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں
ہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکے
تھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں
غم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیے
سویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں
غافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہے
ہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں
وے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاں
سوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں
دل نذر و دیدہ پیش کش اے باعث حیات
سچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں
کھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہم
ظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں
پھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میر
کیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں
میر تقی میر

رنگ رو جس کے کبھو منھ نہ چڑھا میں ہی ہوں

دیوان اول غزل 299
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
رنگ رو جس کے کبھو منھ نہ چڑھا میں ہی ہوں
جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوں
پھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں
بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی
کیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں
اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر رات
وہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں
خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایا
اس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا
اتنا عالم ہے بھرا جائو نہ کیا میں ہی ہوں
رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا
تن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں
اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرو
وہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں
میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہ
یک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں
جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگا
کیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں
سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھا
جن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں
میر آوارئہ عالم جو سنا ہے تونے
خاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں
کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرے
میر وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں
میر تقی میر

ان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں

دیوان اول غزل 298
گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں
ان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں
رکھتا ہے سوز عشق سے دوزخ میں روز و شب
لے جائے گا یہ سوختہ دل کیا بہشت میں
آسودہ کیونکے ہوں میں کہ مانند گردباد
آوارگی تمام ہے میری سرشت میں
کب تک خراب سعی طواف حرم رہوں
دل کو اٹھا کے بیٹھ رہوں گا کنشت میں
ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا عجب
ہوتا ہے نیل چرخ کی اس سبز کشت میں
سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی
کب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں
رندوں کے تیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو
آجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بھشت میں
نامے کو چاک کرکے کرے نامہ بر کو قتل
کیا یہ لکھا تھا میر مری سرنوشت میں
میر تقی میر

جاتی ہیں لامکاں کو دل شب کی زاریاں

دیوان اول غزل 297
مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں
جاتی ہیں لامکاں کو دل شب کی زاریاں
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراش
اب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں
سو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچ
بھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں
کشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پر
خالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں
تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبار
جی سے گئے ولے نہ گئیں رازداریاں
اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو رویئے
تھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
کیا جانتے تھے ایسے دن آجائیں گے شتاب
روتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں
گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولے
دل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں
جائوگے بھول عہد کو فرہاد و قیس کے
گر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں
بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میر
کاٹیں تھیں کوہکن نے بہت راتیں بھاریاں
میر تقی میر

اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں

دیوان اول غزل 296
راضی ہوں گوکہ بعد از صد سال و ماہ دیکھوں
اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں
جی انتظار کش ہے آنکھوں میں رہگذر پر
آجا نظر کہ کب تک میں تیری راہ دیکھوں
آنکھیں جو کھل رہی ہیں مرنے کے بعد میری
حسرت یہ تھی کہ اس کو میں اک نگاہ دیکھوں
یہ دل وہ جا ہے جس میں دیکھا تھا تجھ کو بستے
کن آنکھوں سے اب اجڑا اس گھر کو آہ دیکھوں
دیکھوں تو چاند اب کا گذرے ہے مجھ کو کیسا
دل ہے کہ تیرے منھ پر بے مہر ماہ دیکھوں
بخت سیہ تو اپنے رہتے ہیں خواب ہی میں
اے رشک یوسف مصر پھر کس کو چاہ دیکھوں
چشم و دل و جگر یہ سارے ہوئے پریشاں
کس کس کی تیرے غم میں حالت تباہ دیکھوں
آنکھیں تو تونے دی ہیں اے جرم بخش عالم
کیا تیری رحمت آگے اپنے گناہ دیکھوں
تاریک ہوچلا ہے آنکھوں میں میری عالم
ہوتا ہے کیونکے دل بن میرا تباہ دیکھوں
مرنا ہے یا تماشا ہر اک کی ہے زباں پر
اس مجہلے کو چل کر میں خوانخواہ دیکھوں
دیکھوں ہوں آنکھ اٹھاکر جس کو تو یہ کہے ہے
ہوتا ہے قتل کیونکر یہ بے گناہ دیکھوں
ہوں میں نگاہ بسمل گو اک مژہ تھی فرصت
تا میر روے قاتل تا قتل گاہ دیکھوں
میر تقی میر

تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں

دیوان اول غزل 295
یہ ترک ہوکے خشن کج اگر کلاہ کریں
تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
تمھیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کا
ہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ
سیاہ کردیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیف
ہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
ہواے میکدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلم
نماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کا
گذار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو تو
جو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہم
جو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میر
ادھر کو یار تامل سے گر نگاہ کریں
میر تقی میر

وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں

دیوان اول غزل 294
جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں
اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکن
خمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں
ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنی
جیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں
سہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میری
جو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں
وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے
بے ڈول میر صاحب اب کچھ کراہتے ہیں
میر تقی میر

ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں

دیوان اول غزل 293
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں
ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشق
رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں
اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں
ہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں
ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک
از بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں
آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہو گی
آزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گر
ہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں
دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں
میں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں
گو طاقت و آرام و خورو خواب گئے سب
بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں
اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیز
معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں
بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراں
مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں
تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر
جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں
سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاک
ہے وقت دعا میر کہ اب دل کو لگا ہوں
میر تقی میر

جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں

دیوان اول غزل 292
کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں
جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں
عشق آتش بھی جو دیوے تو نہ دم ماریں ہم
شمع تصویر ہیں خاموش جلا کرتے ہیں
جائے ہی نہ مرض دل تو نہیں اس کا علاج
اپنے مقدور تلک ہم تو دوا کرتے ہیں
اس کے کوچے میں نہ کر شور قیامت کا ذکر
شیخ یاں ایسے تو ہنگامے ہوا کرتے ہیں
بے بسی سے تو تری بزم میں ہم بہرے بنے
نیک و بد کوئی کہے بیٹھے سنا کرتے ہیں
رخصت جنبش لب عشق کی حیرت سے نہیں
مدتیں گذریں کہ ہم چپ ہی رہا کرتے ہیں
تو پری شیشے سے نازک ہے نہ کر دعوی مہر
دل ہیں پتھر کے انھوں کے جو وفا کرتے ہیں
تجھ سے لگ جاکے یہ یوں جاتے رہیں مجھ سے حیف
دیدہ و دل نے نہ جانا کہ دغا کرتے ہیں
فرصت خواب نہیں ذکر بتاں میں ہم کو
رات دن رام کہانی سی کہا کرتے ہیں
مجلس حال میں موزوں حرکت شیخ کی دیکھ
حیز شرعی بھی دم رقص مزہ کرتے ہیں
یہ زمانہ نہیں ایسا کہ کوئی زیست کرے
چاہتے ہیں جو برا اپنا بھلا کرتے ہیں
محض ناکارہ بھی مت جان ہمیں تو کہ کہیں
ایسے ناکام بھی بیکار پھرا کرتے ہیں
تجھ بن اس جان مصیبت زدہ غم دیدہ پہ ہم
کچھ نہیں کرتے تو افسوس کیا کرتے ہیں
کیا کہیں میر جی ہم تم سے معاش اپنی غرض
غم کو کھایا کریں ہیں لوہو پیا کرتے ہیں
میر تقی میر

تا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں

دیوان اول غزل 291
اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں
تا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں
متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دل
ایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں
وقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تو
در و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں
جائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیا
اب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں
ایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پر
پوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں
غیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہم
آ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں
عرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنی
اپنی وادی پہ کبھو یار بھی آجاتے ہیں
میر صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیک
جیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں
میر تقی میر

نہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں

دیوان اول غزل 290
نہ گیا خیال زلف سیہ جفاشعاراں
نہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں
نہ کہا تھا اے رفوگر ترے ٹانکے ہوں گے ڈھیلے
نہ سیا گیا یہ آخر دل چاک بے قراراں
ہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے
نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں
خطر عظیم میں ہیں مری آہ و اشک سے سب
کہ جہان رہ چکا پھر جو یہی ہے باد و باراں
کہیں خاک کو کو اس کی تو صبا نہ دیجو جنبش
کہ بھرے ہیں اس زمیں میں جگرجگر فگاراں
رکھے تاج زر کو سر پر چمن زمانہ میں گل
نہ شگفتہ ہو تو اتنا کہ خزاں ہے یہ بہاراں
نہیں تجھ کو چشم عبرت یہ نمود میں ہے ورنہ
کہ گئے ہیں خاک میں مل کئی تجھ سے تاجداراں
تو جہاں سے دل اٹھا یاں نہیں رسم دردمندی
کسی نے بھی یوں نہ پوچھا ہوئے خاک یاں ہزاراں
یہ اجل سے جی چھپانا مرا آشکار ہے گا
کہ خراب ہو گا مجھ بن غم عشق گل عذاراں
یہ سنا تھا میر ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہے
تری سرگذشت سن کر گئے اور خواب یاراں
میر تقی میر

دامن ہے منھ پہ ابر نمط صبح و شام یاں

دیوان اول غزل 289
بے روے و زلف یار ہے رونے سے کام یاں
دامن ہے منھ پہ ابر نمط صبح و شام یاں
آوازہ ہی جہاں میں ہمارا سنا کرو
عنقا کے طور زیست ہے اپنی بنام یاں
وصف دہن سے اس کے نہ آگے قلم چلے
یعنی کیا ہے خامے نے ختم کلام یاں
غالب یہ ہے کہ موسم خط واں قریب ہے
آنے لگا ہے متصل اس کا پیام یاں
مت کھا فریب عجز عزیزان حال کا
پنہاں کیے ہیں خاک میں یاروں نے دام یاں
کوئی ہوا نہ دست بسر شہر حسن میں
شاید نہیں ہے رسم جواب سلام یاں
ناکام رہنے ہی کا تمھیں غم ہے آج میر
بہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں
میر تقی میر

جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں

دیوان اول غزل 288
آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں
جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں
دوزخ کیا ہے سینہ مرا سوز عشق سے
اس دل جلے ہوئے کے سبب ہوں عذاب میں
مت کر نگاہ خشم یہی موت ہے مری
ساقی نہ زہر دے تو مجھے تو شراب میں
بیدار شور حشر نے سب کو کیا ولے
ہیں خون خفتہ اس کے شہیدوں کے خواب میں
دل لے کے رو بھی ٹک نہیں دیتے کہیں گے کیا
خوبان بد معاملہ یوم الحساب میں
جاکر در طبیب پہ بھی میں گرا ولے
جز آہ ان نے کچھ نہ کیا میرے باب میں
عیش و خوشی ہے شیب میں ہو گوپہ وہ کہاں
لذت جو ہے جوانی کے رنج و عتاب میں
دیں عمر خضر موسم پیری میں تو نہ لے
مرنا ہی اس سے خوب ہے عہد شباب میں
آنکلے تھے جو حضرت میر اس طرف کہیں
میں نے کیا سوال یہ ان کی جناب میں
حضرت سنو تو میں بھی تعلق کروں کہیں
فرمانے لاگے روکے یہ اس کے جواب میں
تو جان لیک تجھ سے بھی آئے جو کل تھے یاں
ہیں آج صرف خاک جہان خراب میں
میر تقی میر

داغ جیسے چراغ جلتے ہیں

دیوان اول غزل 287
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
داغ جیسے چراغ جلتے ہیں
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم
بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں
جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا
صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں
تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں
ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں
فتنہ درسر بتان حشر خرام
ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں
سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں
اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ
سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں
تھے جو اغیار سنگ سینے کے
اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں
شمع رو موم کے بنے ہیں مگر
گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں
میر صاحب کو دیکھیے جو بنے
اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
میر تقی میر