زمرہ جات کے محفوظات: غزل

تب آنکھوں تلے میری اترتا ہے لہو سا

دیوان سوم غزل 1086
جب گل کہے ہے اپنے تئیں یار کے رو سا
تب آنکھوں تلے میری اترتا ہے لہو سا
تحقیق کروں کس سے حقیقت کے نشے کو
خضر آب اسے کہتا ہے آتش کہے موسیٰ
کیا دور ہے شربت پہ اگر قند کے تھوکے
ٹک جن نے ترے شربتی ان ہونٹوں کو چوسا
دم لا بہ کریں شیخ رکھیں شملے تو کیا ہے
ہونا مگر آسان ہے اس کے سگ کو سا
تعبیر جسے کرتے ہیں ہنگامۂ محشر
وہ یار کے کوچے کا ہے کچھ شور غلو سا
آرائش درویشی بھی اپنی نہیں بے لطف
ہے بوریے کا نقش مرے تن پہ اتو سا
کب کی ہے حدیث اس سے سخن کرنے کی میں نے
کیا میر سے بولے کوئی ہے بیہدہ گو سا
میر تقی میر

کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا

دیوان سوم غزل 1085
مجھ زار نے کیا گرمی بازار سے پایا
کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا
بیتاب تہ تیغ ستم دیر رہا میں
جب تک نہ گئی جان مجھے صبر نہ آیا
جانا فلک دوں نے کہ سرسبز ہوا میں
گر خاک سے سبزہ کوئی پژمردہ اگایا
اس رخ نے بہت صورتیں لوگوں کی بگاڑیں
اس قد نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
مت راہ سخن دے کہ پھر آپھی تو کہے گا
کیوں میں نے محبت کے عبث منھ کو کھلایا
ہر چند کہ تھی ریجھنے کی جاے ترے لب
پر گالیاں دیں اتنی انھوں سے کہ رجھایا
گردش میں رہا کرتے ہیں ہم دید میں ان کی
آنکھوں نے تری خوب سماں ہم کو دکھایا
کس روز یہ اندوہ جگر سوز تھا آگے
کب شب لب و یارب تھی مری یوں ہی خدایا
دن جی کے الجھنے کے ہی جھگڑے میں کٹے ہے
رات اس کے خیالات سے رہتے ہیں قضایا
کیا کہیے دماغ اس کا کہ گل گشت میں کل میر
گل شاخوں سے جھک آئے تھے پر منھ نہ لگایا
میر تقی میر

پیش جاتے کچھ نہ دیکھی چشم تر کر رہ گیا

دیوان سوم غزل 1084
میر کل صحبت میں اس کی حرف سرکر رہ گیا
پیش جاتے کچھ نہ دیکھی چشم تر کر رہ گیا
خوبی اپنے طالع بد کی کہ شب وہ رشک ماہ
گھر مرے آنے کو تھا سو منھ ادھر کر رہ گیا
طنز و تعریض بتان بے وفا کے در جواب
میں بھی کچھ کہتا خدا سے اپنے ڈر کر رہ گیا
سرگذشت اپنی سبب ہے حیرت احباب کی
جس سے دل خالی کیا وہ آہ بھر کر رہ گیا
میر کو کتنے دنوں سے رہتی تھی بے طاقتی
رات دل تڑپا بہت شاید کہ مر کر رہ گیا
میر تقی میر

ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا

دیوان سوم غزل 1083
کبھو وہ توجہ ادھر کر رہے گا
ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا
ہمارا ہے احوال حیرت کی جاگہ
جو دیکھے گا وہ بھی نظر کر رہے گا
نہیں اس طرف میر جانے سے رہتا
رہے گا تو اودھر ہی مر کر رہے گا
میر تقی میر

آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا

دیوان سوم غزل 1082
گل بھی ہے معشوق لیکن کب ہے اس محبوب سا
آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا
اس کے وعدے کی وفا تک وہ کوئی ہووے گا جو
ہو معمر نوحؑ سا صابر ہو پھر ایوبؑ سا
عشق سے کن نے مرے آگہ کیا اس شوخ کو
اب مرے آنے سے ہوجاتا ہے وہ محجوب سا
بعد مردن یہ غزل مطرب سے جن نے گوش کی
گور کے میری گلے جا لگ کے رویا خوب سا
عاقلانہ حرف زن ہو میر تو کریے بیاں
زیر لب کیا جانیے کہتا ہے کیا مجذوب سا
میر تقی میر

چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا

دیوان سوم غزل 1081
جنوں میں ساتھ تھا کل لڑکوں کا لشکر جہاں میں تھا
چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا
تجلی جلوہ اس رشک قمر کا قرب تھا مجھ کو
جلے جاتے تھے واں جائے ملک کے پر جہاں میں تھا
گلی میں اس کی میری رات کیا آرام سے گذری
یہی تھا سنگ بالیں خاک تھی بستر جہاں میں تھا
غضب کچھ شور تھا سر میں بلا بے طاقتی جی میں
قیامت لحظہ لحظہ تھی مرے دل پر جہاں میں تھا
چبھیں تھیں جی میں وے پلکیں لگیں تھیں دل کو وے بھوویں
یہی شمشیر چلتی تھی یہی خنجر جہاں میں تھا
خیال چشم و روے یار کا بھی طرفہ عالم ہے
نظر آیا ہے واں اک عالم دیگر جہاں میں تھا
عجب دن میر تھے دیوانگی میں دشت گردی کے
سر اوپر سایہ گستر ہوتے تھے کیکر جہاں میں تھا
میر تقی میر

کبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا

دیوان سوم غزل 1080
وفا تھی مہر تھی اخلاص تھا تلطف تھا
کبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا
جو خوب دیکھو تو ساری وہی حقیقت ہے
چھپانا چہرے کا عشاق سے تکلف تھا
اسیر عشق نہیں بازخواہ خوں رکھتے
ہمارے قتل میں اس کو عبث توقف تھا
نہ پوچھو خوب ہے بدعہدیوں کی مشق اس کو
ہزاروں عہد کیے پر وہی تخلف تھا
جہاں میں میر سے کاہے کو ہوتے ہیں پیدا
سنا یہ واقعہ جن نے اسے تاسف تھا
میر تقی میر

بلبل نے بھی نہ طور گلوں کا بیاں کیا

دیوان سوم غزل 1079
میں گلستاں میں آ کے عبث آشیاں کیا
بلبل نے بھی نہ طور گلوں کا بیاں کیا
پھر اس کے ابرواں کا خم و تاب ہے وہی
تلوار کے تلے بھی مرا امتحاں کیا
دوں کس کو دوش دشمن جانی تھی دوستی
اس سودے میں صریح میں نقصان جاں کیا
گالی ہے حرف یار قلم نے قضا کے ہائے
صورت نکالی خوب ولے بدزباں کیا
اس جنس خوش کے پیچھے کھپا میں چوائو کیا
میں نے کسو کا کیا کیا اپنا زیاں کیا
لڑکے جہان آباد کے یک شہر کرتے ناز
آجاتے ہیں بغل میں اشارہ جہاں کیا
میں منتظر جواب کا نامے کے مر گیا
ناچار میر جان کو اودھر رواں کیا
میر تقی میر

رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا

دیوان سوم غزل 1078
یاد خط میں اس کے جی بھر آ کے گھبراتا رہا
رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا
کیا قیامت ہوتی بے پردہ ہوئے کیا جانیے
مصلحت ہی ہو گی ہم سے وہ جو شرماتا رہا
قدموزوں یار کا خاطر سے جاتا ہی نہیں
میں اسی مصرع کو ساری عمر ڈولاتا رہا
کل مکل بیتاب دل سے آج کل کی کچھ نہیں
میں تو اس غم کش کو بے کل ہی سدا پاتا رہا
آگ کھا جاتی ہے خشک و تر جو اس کے منھ پڑے
میں تو جیسے شمع اپنے ہی تئیں کھاتا رہا
میری تیری چاہ منھ دیکھے کی ہے جوں آرسی
آنکھ پھیری جس گھڑی پھر کاہے کا ناتا رہا
ہو گئے ہم محتسب کی بے شعوری سے اسیر
شیخ میں کچھ ہوش تھا میخانے سے جاتا رہا
لوگ ہی اس کارواں کے حرف نشنو تھے تمام
راہ چلتے تو جرس ہر گام چلاتا رہا
میر دیوانہ ہے اچھا بات کیا سمجھے مری
یوں تو مجھ سے جب ملا میں اس کو سمجھاتا رہا
میر تقی میر

ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا

دیوان سوم غزل 1077
ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا
ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا
واں تعلل ہی تجھے کرتے گئے شام و سحر
یاں ترے مشتاق کا مرنا بہانہ ہو گیا
شیب میں بھی ہے لباس جسم کا ظاہر قماش
پر اسے اب چھوڑیے جامہ پرانا ہو گیا
کہنے تو کہہ بیٹھے مہ بہتر ہے روے یار سے
شہر میں پھر ہم کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
صد سخن آئے تھے لب تک پر نہ کہنے پائے ایک
ناگہاں اس کی گلی سے اپنا جانا ہو گیا
رہنے کے قابل تو ہرگز تھی نہ یہ عبرت سرائے
اتفاقاً اس طرف اپنا بھی آنا ہو گیا
سینکڑوں افسوں دنوں کو پڑھتے تھے تس پر بھی میر
بیٹھنا راتوں کو باہم اب فسانہ ہو گیا
میر تقی میر

دل کے جانے کا بڑا ماتم ہوا

دیوان سوم غزل 1076
سینہ کوبی ہے طپش سے غم ہوا
دل کے جانے کا بڑا ماتم ہوا
آنکھیں دوڑیں خلق جا اودھر گری
اٹھ گیا پردہ کہاں اودھم ہوا
کیا لکھوں رویا جو لکھتے جوں قلم
سب مرے نامے کا کاغذ نم ہوا
ہم جو اس بن خوار ہیں حد سے زیاد
یار یاں تک آن کر کیا کم ہوا
آگیا یوں ہی خراماں وہ تو پھر
حشر کا ہنگامہ ہی برہم ہوا
درہمی سے برہمی سے دیکھیو
دونوں عالم کا عجب عالم ہوا
جسم خاکی کا جہاں پردہ اٹھا
ہم ہوئے وہ میر سب وہ ہم ہوا
میر تقی میر

سو بھی رہتا ہوں یہ کہتا ہائے دل نے کیا کیا

دیوان سوم غزل 1075
ضبط کرتے کرتے اب جو لب کو میں نے وا کیا
سو بھی رہتا ہوں یہ کہتا ہائے دل نے کیا کیا
آنکھ پڑتی تھی تمھارے منھ پہ جب تک چین تھا
کیا کیا تم نے کہ مجھ بیتاب سے پردہ کیا
گور ہی اس کو جھنکائی عشق جس کے ہاں گیا
اس طبیب بدشگوں نے کس کے تیں اچھا کیا
دیکھ خبطی مجھ کو رستے بند ہوجاتے ہیں اب
عشق نے کیا کوچہ و بازار میں رسوا کیا
لوگ دل دیتے سنے تھے میر دے گذرا ہے جی
لیک اپنے طور پر ان نے بھی اک سودا کیا
میر تقی میر

یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا

دیوان سوم غزل 1074
رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا
یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا
وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگا
خون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا
لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیات
اب تو کوئی کوئی ان ہونٹوں پہ مر جانے لگا
حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کو
یوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا
حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کے
یہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا
گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہو
چاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا
عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہے
یعنی وہ محشر خرام اب پائوں پھیلانے لگا
چشمک اس مہ کی سی دلکش دید میں آئی نہیں
گو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا
کیونکر اس آئینہ رو سے میر ملیے بے حجاب
وہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا
میر تقی میر

وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا

دیوان سوم غزل 1073
اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا
وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا
ٹھہرا گیا ہو ٹک بھی تو تم سے بیاں کروں
آتے ہی اس کے رفتن صبر و سکوں ہوا
تھا شوق طوف تربت مجنوں مجھے بہت
اک گردباد دشت مرا رہنموں ہوا
سیلاب آگے آیا چلا جاتے دشت میں
بے اختیار رونے کا میرے شگوں ہوا
جان اس کی تیغ تیز سے رکھ کر دریغ میر
صید حرم ندان شکار زبوں ہوا
میر تقی میر

جد برسوں ہم نے سورئہ یوسفؑ کو دم کیا

دیوان سوم غزل 1072
تد اس بہشتی رو سے یہ خلطہ بہم کیا
جد برسوں ہم نے سورئہ یوسفؑ کو دم کیا
چہرے کو نوچ نوچ لیا چھاتی کوٹ لی
جانے کا دل کے ہم نے بہت غم الم کیا
مربوط اور لوگوں سے شاید کہ وے ہوئے
وہ ربط و رابطہ جو بہت ہم سے کم کیا
کیا کیا سخن زباں پہ مری آئے ہوکے قتل
مانند خامہ گوکہ مرا سر قلم کیا
کی ہم نے تب درونے کی سوزش سے عاقبت
سب تن بدن اس آگ نے اپنا بھسم کیا
یاں اپنے جسم زار پہ تلوار سی لگی
ان نے جو بے دماغی سے ابرو کو خم کیا
اس زندگی سے مارے ہی جانا بھلا تھا میر
رحم ان نے میرے حق میں کیا کیا ستم کیا
میر تقی میر

ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا

دیوان سوم غزل 1071
سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا
ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا
کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی
منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا
لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی
اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا
کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں
اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا
مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم
برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا
کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے
کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے
خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا
ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا
جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا
کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم
میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا
میر تقی میر

اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا

دیوان سوم غزل 1070
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا
پامالی عزیزوں کی رکھنی تھی نظر میں ٹک
اتنا بھی تمھیں آ کر یاں سر نہ اٹھانا تھا
اک محوتماشا ہیں اک گرم ہیں قصے کے
یاں آج جو کچھ دیکھا سو کل وہ فسانہ تھا
کیونکر گلی سے اس کی میں اٹھ کے چلا جاتا
یاں خاک میں ملنا تھا لوہو میں نہانا تھا
جو تیر چلا اس کا سو میری طرف آیا
اس عشق کے میداں میں میں ہی تو نشانہ تھا
جب تونے نظر پھیری تب جان گئی اس کی
مرنا ترے عاشق کا مرنا کہ بہانہ تھا
کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ
کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا
کب اور غزل کہتا میں اس زمیں میں لیکن
پردے میں مجھے اپنا احوال سنانا تھا
میر تقی میر

آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا

دیوان سوم غزل 1069
جس خشم سے وہ شوخ چلا آج شب آیا
آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا
اس نرگس مستانہ کو کر یاد کڑھوں ہوں
کیا گریۂ سرشار مجھے بے سبب آیا
راہ اس سے ہوئی خلق کو کس طور سے یارب
ہم کو کبھی ملنے کا تو اس کے نہ ڈھب آیا
کیا پوچھتے ہو دب کے سخن منھ سے نہ نکلا
کچھ دیکھتے اس کو مجھے ایسا ادب آیا
کہتے تو ہیں میلان طبیعت ہے اسے بھی
یہ باتیں ہیں ایدھر کو مزاج اس کا کب آیا
خوں ہوتی رہی دل ہی میں آزردگی میری
کس روز گلہ اس کا مرے تابہ لب آیا
جی آنکھوں میں آیا ہے جگر منھ تئیں میرے
کیا فائدہ یاں چل کر اگر یار اب آیا
آتے ہوئے اس کے تو ہوئی بے خودی طاری
وہ یاں سے گیا اٹھ کے مجھے ہوش جب آیا
جاتا تھا چلا راہ عجب چال سے کل میر
دیکھا اسے جس شخص نے اس کو عجب آیا
میر تقی میر

مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا

دیوان سوم غزل 1068
ہوں نشاں کیوں نہ تیر خوباں کا
مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا
ہاتھ زنجیر ہو جنوں میں رہا
اپنے زنجیرئہ گریباں کا
چپکے دیکھو جھمکتے وے لب سرخ
ذکر یاں کیا ہے لعل و مرجاں کا
ایک رہزن ہے اس کی کافر زلف
غم ہی رہتا ہے دین و ایماں کا
عمر آوارگی میں سب گذری
کچھ ٹھکانا نہیں دل و جاں کا
کافرستاں ہے خال و خط و زلف
وقر کیا ہے دل مسلماں کا
مر گیا میر نالہ کش بیکس
نَے نے ماتم میں اس کے منھ ڈھانکا
میر تقی میر

کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا

دیوان سوم غزل 1067
اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا
کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا
رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا
کیا دیجیے جواب اجل کے پیام کا
کچھ سدھ سنبھالتے ہی رکھی ان نے پگڑی پھیر
ممنون میں نہیں ہوں جواب سلام کا
منھ دیکھو بدر کا کہ تری روکشی کرے
تو یوں ہی نام لے ہے کسو ناتمام کا
نوبت ہے اپنی جب سے یہی کوچ کاہے شور
بجنا سنا نہیں ہے کبھو یاں مقام کا
کنج لب اس کا دیکھ کے خاموش رہ گئے
یعنی کہ تھا مقام یہ ختم کلام کا
اس رو و مو کے محو کو کیا روزگار سے
جلوہ ہی کچھ جدا ہے مرے صبح و شام کا
صاحب ہو مار ڈالو مجھے تم وگرنہ کچھ
جز عاشقی گناہ نہیں ہے غلام کا
کب اقتدا ہو مجھ سے کسو کی سواے میر
بندہ ہوں دل سے میں اسی سید امام کا
میر تقی میر

کوئی دل کا بخار نکلے گا

دیوان سوم غزل 1066
چشم سے خوں ہزار نکلے گا
کوئی دل کا بخار نکلے گا
اس کی نخچیرگہ سے روح الامیں
ہو کے آخر شکار نکلے گا
آندھیوں سے سیاہ ہو گا چرخ
دل کا تب کچھ غبار نکلے گا
ہوئے رے لاگ تیر مژگاں کی
کس کے سینے کے پار نکلے گا
ناز خورشید کب تلک کھینچیں
گھر سے کب اپنے یار نکلے گا
خون ہی آئے گا تو آنکھوں سے
ایک سیل بہار نکلے گا
عزلت میر عشق میں کب تک
ہو کے بے اختیار نکلے گا
میر تقی میر

ہمیشہ رہے نام اللہ کا

دیوان سوم غزل 1065
گیا حسن خوبان بد راہ کا
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
پشیماں ہوا دوستی کر کے میں
بہت مجھ کو ارمان تھا چاہ کا
جگر کی سپر پھوٹ جانے لگی
بلا توڑ ہے ناوک آہ کا
اسیری کا دیتا ہے مژدہ مجھے
مرا زمزمہ گاہ و بیگاہ کا
رہوں جا کے مر حضرت یار میں
یہی قصد ہے بندہ درگاہ کا
کہا ہو دم قتل کچھ تو کہے
جواب اس کو کیا میرے خونخواہ کا
عدم کو نہیں مل کے جاتے ہیں لوگ
غم اس راہ میں کیا ہے ہمراہ کا
نظر خواب میں اس کے منھ پر پڑی
بہت خوب ہے دیکھنا ماہ کا
لگونہی اگر آنکھ تیری ہو میر
تماشا کر اس کی نظرگاہ کا
میر تقی میر

مہر بت دگر سے طوفان کر کے مارا

دیوان سوم غزل 1064
کیا رویئے ہمیں کو یوں آن کر کے مارا
مہر بت دگر سے طوفان کر کے مارا
تربت کا میری لوحہ آئینے سے کرے ہے
یعنی کہ ان نے مجھ کو حیران کر کے مارا
بیگانہ جان ان نے کیا چوٹ رات کو کی
منھ دیکھ دیکھ میرا پہچان کر کے مارا
پہلے گلے لگایا پھر دست جور اٹھایا
مارا تو ان نے لیکن احسان کر کے مارا
اس سست عہد نے کیا کی تھی قسم مجھی سے
بہتوں کو ان نے عہد و پیمان کر کے مارا
حاضر یراق ہونا کاہے کو چاہیے تھا
مجھ بے نوا کو کیا کیا سامان کر کے مارا
کہنے لگا کہ شب کو میرے تئیں نشہ تھا
مستانہ میر کو میں کیا جان کر کے مارا
میر تقی میر

پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا

دیوان سوم غزل 1063
وہ جو گلشن میں جلوہ ناک ہوا
پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا
اس کے دامن تلک نہ پہنچا ہاتھ
تھا سر دست جیب چاک ہوا
کس قدر تھا خبیث شیخ شہر
اس کے مرنے سے شہر پاک ہوا
ڈریے اس رشک خور کی گرمی سے
کچھ تو ہے ہم سے جو تپاک ہوا
میر ہلکان ہو گیا تھا بہت
سو طلب ہی میں پھر ہلاک ہوا
میر تقی میر

یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا

دیوان سوم غزل 1062
وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا
یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا
اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ
کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا
کھینچا جو میں وہ ساعد سیمیں تو کہہ اٹھا
بس بس کہیں ہمیں ابھی صاحب غش آئے گا
ریجھے تو اس کے طور پہ مجلس میں شیخ جی
پھر بھی ملا تو خوب سا ان کو رجھائے گا
جلوے سے اس کے جل کے ہوئے خاک سنگ و خشت
بیتاب دل بہت ہے یہ کیا تاب لائے گا
ہم رہ چکے جو ایسے ہی غم میں کھپا کیے
معلوم جی کی چال سے ہوتا ہے جائے گا
اڑ کر لگے ہے پائوں میں زلف اس کی پیچ دار
بازی نہیں یہ سانپ جو کوئی کھلائے گا
اڑتی رہے گی خاک جنوں کرتی دشت دشت
کچھ دست اگر یہ بے سر و ساماں بھی پائے گا
درپے ہے اب وہ سادہ قراول پسر بہت
دیکھیں تو میر کے تئیں کوئی بچائے گا
میر تقی میر

دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا

دیوان سوم غزل 1061
چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا
دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا
اس کو منظور نہ تھی ہم سے مروت کرنی
ایک چشمک بھی نہ کی ایک اشارہ نہ کیا
بعد دشنام تھی بوسے کی توقع بھی ولے
تلخ سننے کے تئیں ہم نے گوارا نہ کیا
مرکے بے حوصلہ لوگوں میں کہا یافرہاد
چندے پتھر ہی سے سر اور بھی مارا نہ کیا
جی رہے ڈوبتے دریاے غم عشق میں لیک
بوالہوس کی سی طرح ہم نے کنارہ نہ کیا
نیم جاں صدقے کی اس پر نہ زیاں دیکھا نہ سود
ہم تو کچھ دوستی میں وارے کا سارا نہ کیا
لے گیا مٹی بھی دروازے کی ان کے میں میر
پر اطبا نے مرے درد کا چارہ نہ کیا
میر تقی میر

کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا

دیوان سوم غزل 1060
ان دلبروں سے رابطہ کرنا ہے کام کیا
کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا
حیرت ہے کھولیں چشم تماشا کہاں کہاں
حسن و جمال ویسا ہے اس کا خرام کیا
کی اک نگاہ گرم جہاں ان سے مل گئے
عاشق کو دلبروں سے سلام و پیام کیا
شکر خدا کہ سر نہ فرو لائے ہم کہیں
کیا جانیں سجدہ کہتے ہیں کس کو سلام کیا
اس کنج لب پہ چپکے ہوئے منھ کو رکھ کے ہم
دلچسپ اس مقام میں حرف و کلام کیا
جس جاے اس کے چہرے سے کرتے ہیں گفتگو
مرآت و ماہ و گل کا ہے اس جا مقام کیا
کہتا ہے کون بدر میں نقصان کچھ رہا
پر منھ کھلے پہ اس کے ہے ماہ تمام کیا
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اس رو ومو سے لاگ
کیا جانوں پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
تسبیح تک تو میر نے رکھا کلال کے
وقت نماز اب بھی ہوئے تھے امام کیا
میر تقی میر

ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا

دیوان سوم غزل 1059
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا
ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا
جاننا باطل کسو کو یہ قصور فہم ہے
حق اگر سمجھے تو سب کچھ حق ہے یاں باطل ہے کیا
یاں کوئی دن رات وقفہ کرکے قصد آگے کا کر
کارواں گاہ جہان رفتنی منزل ہے کیا
تک رہے ہیں اس کو سو ہم تک رہے ہیں ایک سے
دیدئہ حیراں ہمارا دیدئہ بسمل ہے کیا
وہ حقیقت ایک ہی ساری نہیں ہے سب میں تو
آب سا ہر رنگ میں یہ اور کچھ شامل ہے کیا
چوٹ میرے دل میں ایسی ہے کہ ہوں میں دم بخود
وہ کشندہ یوں ہی کہتا ہے کہ تو گھائل ہے کیا
کہتے ہیں ظاہر ہے اک ہی لیلی ہفت اقلیم میں
اس عبارت کا نہیں معلوم کچھ محمل ہے کیا
ہم تو سو سو بار مر رہتے ہیں ایک ایک آن میں
عشق میں اس کے گذرنا جان سے مشکل ہے کیا
شاخ پر گل یا نہال اودھر جھکے جاتے ہیں سب
قامت دلکش کا اس کی سرو ہی مائل ہے کیا
مرثیہ میرے بھی دل کا رقت آور ہے بلا
محتشمؔ کو میر میں کیا جانوں اور مقبلؔ ہے کیا
میر تقی میر

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر

مجنوں کے دماغ میں خلل تھا

دیوان سوم غزل 1057
میرا ہی مقلد عمل تھا
مجنوں کے دماغ میں خلل تھا
دل ٹوٹ گیا تو خوں نہ نکلا
شیشہ یہ بہت ہی کم بغل تھا
تھیں سب کی نظر میں اس کی بھوویں
افسوس یہ شعر مبتذل تھا
کیا قدر ہے ریختے کی گو میں
اس فن میں نظیرؔی کا بدل تھا
تھا نزع میں دست میر دل پر
شاید غم کا یہی محل تھا
میر تقی میر

یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا

دیوان سوم غزل 1056
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا
خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے
جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا
سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی
گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب
اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا
ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا
یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا
یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے
لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میر

خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا

دیوان سوم غزل 1055
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا
اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق دریغ
تو نے کس خانۂ مطبوع کو ویران کیا
ضبط تھا جب تئیں چاہت نہ ہوئی تھی ظاہر
اشک نے بہ کے مرے چہرے پہ طوفان کیا
انتہا شوق کی دل کے جو صبا سے پوچھی
اک کف خاک کو لے ان نے پریشان کیا
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر تقی میر

پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے

دیوان دوم غزل 1054
عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے
ہیں دل گداز جن کے کچھ چیز مال وے ہیں
ہوتے ہیں ملتفت تو پھر خاک زر بنے ہے
شب جوش غم سے جس دم لگتا ہے دل تڑپنے
ہر زخم سینہ اس دم یک چشم تر بنے ہے
یاں ہر گھڑی ہماری صورت بگڑتی ہے گی
چہرہ ہی واں انھوں کا دو دو پہر بنے ہے
ٹک رک کے صاف طینت نکلے ہے اور کچھ ہو
پانی گرہ جو ہووے تو پھر گہر بنے ہے
ہے شعبدے کے فن میں کیا دست مے کشوں کو
زاہد انھوں میں جاکر آدم سے خر بنے ہے
نکلے ہے صبح بھی یاں صندل ملے جبیں کو
عالم میں کام کس کا بے درد سر بنے ہے
سارے دکھوں کی اے دل ہوجائے گی تلافی
صحبت ہماری اس کی ٹک بھی اگر بنے ہے
ہر اک سے ڈھب جدا ہے سارے زمانے کا بھی
بنتی ہے جس کسو کی یک طور پر بنے ہے
برسوں لگی رہے ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب صاحب نظر بنے ہے
یاران دیر و کعبہ دونوں بلا رہے ہیں
اب دیکھیں میر اپنا جانا کدھر بنے ہے
میر تقی میر

جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے

دیوان دوم غزل 1053
جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے
جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے
لخت دل قطرئہ خوں ٹکڑے جگر ہو ہوکر
کیا کہوں میں کہ مری آنکھوں سے کیا نکلے ہے
میں جو ہر سو لگوں ہوں دیکھنے ہو کر مضطر
آنسو ہر میری نگہ ساتھ گتھا نکلے ہے
پارسائی دھری رہ جائے گی مسجد میں شیخ
جو وہ اس راہ کبھو مستی میں آ نکلے ہے
گوکہ پردہ کرے جوں ماہ شب ابر وہ شوخ
کب چھپا رہتا ہے ہرچند چھپا نکلے ہے
بھیڑیں ٹل جاتی ہیں آگے سے اس ابرو کے ہلے
سینکڑوں میں سے وہ تلوار چلا نکلے ہے
بنتی ہے سامنے اس کے کیے سجدہ ہی ولے
جی سمجھتا ہے جو اس بت میں ادا نکلے ہے
بد کہیں نالہ کشاں ہم ہیں کہ ہم سے ہر روز
شور و ہنگامے کا اک طور نیا نکلے ہے
اجر سے خالی نہیں عشق میں مارے جانا
دے ہے جو سر کوئی کچھ یاں سے بھی پا نکلے ہے
لگ چلی ہے مگر اس گیسوے عنبربو سے
ناز کرتی ہوئی اس راہ صبا نکلے ہے
کیا ہے اقبال کہ اس دشمن جاں کے آتے
منھ سے ہر ایک کے سو بار دعا نکلے ہے
سوز سینے کا بھی دلچسپ بلا ہے اپنا
داغ جو نکلے ہے چھاتی سے لگا نکلے ہے
سارے دیکھے ہوئے ہیں دلی کے عطار و طبیب
دل کی بیماری کی کس پاس دوا نکلے ہے
کیا فریبندہ ہے رفتار ہے کینے کی جدا
اور گفتار سے کچھ پیار جدا نکلے ہے
ویسا بے جا نہیں دل میر کا جو رہ نہ سکے
چلتا پھرتا کبھو اس پاس بھی جا نکلے ہے
میر تقی میر

کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

دیوان دوم غزل 1052
کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پرشور اس غلام سے ہے
بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے
کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا
ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے
خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو
اقتدا اولیں امام سے ہے
شعر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ
اس کی پیدائش احتلام سے ہے
سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو
کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
میر تقی میر

کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے

دیوان دوم غزل 1051
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے
کس کو کہتے ہیں نہیں میں جانتا اسلام و کفر
دیر ہو یا کعبہ مطلب مجھ کو تیرے در سے ہے
کیوں نہ اے سید پسر دل کھینچے یہ موے دراز
اصل زلفوں کی تری گیسوے پیغمبرؐ سے ہے
کاغذ ابری پہ درد دل اسے لکھ بھیجیے
وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے
کیا کہیں دل کچھ کھنچے جاتے ہیں اودھر ہر گھڑی
کام ہم بے طاقتوں کو عشق زورآور سے ہے
رحم بھی دینا تھا تھوڑا ہائے اس خوبی کے ساتھ
تجھ سے کیا کل گفتگو یہ داورمحشر سے ہے
کیا کروں گا اب کے میں بے پر ہوس گلزار کی
لطف گل گشت اے نسیم صبح بال و پر سے ہے
مرنے کے اسباب پڑتے ہیں بہت عالم میں لیک
رشک اس پر ہے کہ جس کی موت اس خنجر سے ہے
ناز و خشم و بے دماغی اس طرف سے سب ہیں یہ
کچھ کسو بھی طور کی رنجش بھلا ایدھر سے ہے
دیکھ گل کو ٹک کہ ہر یک سر چڑھا لیتا ہے یاں
اس سے پیدا ہے کہ عزت اس چمن میں زر سے ہے
کانپتا ہوں میں تو تیرے ابروئوں کے خم ہوئے
قشعریرہ کیا مجھے تلوار کے کچھ ڈر سے ہے
اشک پے درپے چلے آتے تھے چشم زار سے
ہر نگہ کا تار مانا رشتۂ گوہر سے ہے
بادیے ہی میں پڑا پاتے ہیں جب تب تجھ کو میر
کیا خفا اے خانماں آباد کچھ تو گھر سے ہے
میر تقی میر

گاہے بکا کرے ہے گاہے دعا کرے ہے

دیوان دوم غزل 1050
کیا پوچھتے ہو عاشق راتوں کو کیا کرے ہے
گاہے بکا کرے ہے گاہے دعا کرے ہے
دانستہ اپنے جی پر کیوں تو جفا کرے ہے
اتنا بھی میرے پیارے کوئی کڑھا کرے ہے
فتنہ سپہر کیا کیا برپا کیا کرے ہے
سو خواب میں کبھو تو مجھ سے ملا کرے ہے
کس ایسے سادہ رو کا حیران حسن ہے یہ
مرآت گاہ بیگہ بھیچک رہا کرے ہے
ہم طور عشق سے تو واقف نہیں ہیں لیکن
سینے میں جیسے کوئی دل کو ملا کرے ہے
کیا کہیے داغ دل ہے ٹکڑے جگر ہے سارا
جانے وہی جو کوئی ظالم وفا کرے ہے
اس بت کی کیا شکایت راہ و روش کی کریے
پردے میں بدسلوکی ہم سے خدا کرے ہے
گرم آکر ایک دن وہ سینے سے لگ گیا تھا
تب سے ہماری چھاتی ہر شب جلا کرے ہے
کیا چال یہ نکالی ہوکر جوان تم نے
اب جب چلو ہو دل کو ٹھوکر لگا کرے ہے
دشمن ہو یار جیسا درپے ہے خوں کے میرے
ہے دوستی جہاں واں یوں ہی ہوا کرے ہے
سمجھا ہے یہ کہ مجھ کو خواہش ہے زندگی کی
کس ناز سے معالج میری دوا کرے ہے
حالت میں غش کی کس کو خط لکھنے کی ہے فرصت
اب جب نہ تب ادھر کو جی ہی چلا کرے ہے
سرکا ہے جب وہ برقع تب آپ سے گئے ہیں
منھ کھولنے سے اس کے اب جی چھپا کرے ہے
بیٹھے ہے یار آکر جس جا پہ ایک ساعت
ہنگامۂ قیامت واں سے اٹھا کرے ہے
سوراخ سینہ میرے رکھ ہاتھ بند مت کر
ان روزنوں سے دل ٹک کسب ہوا کرے ہے
کیا جانے کیا تمنا رکھتے ہیں یار سے ہم
اندوہ ایک جی کو اکثر رہا کرے ہے
گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے
ایک آدھ دن جو موسم اب کے وفا کرے ہے
گہ سرگذشت ان نے فرہاد کی نکالی
مجنوں کا گاہے قصہ بیٹھا کہا کرے ہے
ایک آفت زماں ہے یہ میر عشق پیشہ
پردے میں سارے مطلب اپنے ادا کرے ہے
میر تقی میر

کبھو قدرداں عشق پیدا کرے ہے

دیوان دوم غزل 1049
کہاں یاد قیس اب جو دنیا کرے ہے
کبھو قدرداں عشق پیدا کرے ہے
یہ طفلان بازار جی کے ہیں گاہک
وہی جانتا ہے جو سودا کرے ہے
چھپائیں ہوں آنکھیں ہی ان نے تو کہیے
وہ ہر بات کا ہم سے پردہ کرے ہے
جو رونا ہے راتوں کو اپنا یہی تو
کنارہ کوئی دن میں دریا کرے ہے
ٹھسک اس کے چلنے کی دیکھو تو جانو
قیامت ہی ہر گام برپا کرے ہے
مریں شوق پروازگلشن میں کیوں نہ
اسیروں کی یاں کون پروا کرے ہے
بنی صورتیں کیسی کیسی بگاڑیں
سمجھتے نہیں ہم فلک کیا کرے ہے
خط افشاں کیا خون دل سے تو بولا
بہت اب تو رنگین انشا کرے ہے
ہلاک آپ کو میر مت کر دوانے
کوئی ذی شعور آہ ایسا کرے ہے
میر تقی میر

شرم انکھڑیوں میں جس کی عیاری ہو گئی ہے

دیوان دوم غزل 1048
اس شوخ سے ہمیں بھی اب یاری ہو گئی ہے
شرم انکھڑیوں میں جس کی عیاری ہو گئی ہے
روتا پھرا ہوں برسوں لوہو چمن چمن میں
کوچے میں اس کے یکسر گل کاری ہو گئی ہے
یک جا اٹک کے رہنا ہے ناتمامی ورنہ
سب میں وہی حقیقت یاں ساری ہو گئی ہے
جب خاک کے برابر ہم کو کیا فلک نے
طبع خشن میں تب کچھ ہمواری ہو گئی ہے
مطلق اثر نہ دیکھا مدت کی آہ و زاری
اب نالہ و فغاں سے بیزاری ہو گئی ہے
اس سے دوچار ہونا آتا نہیں میسر
مرنے میں اس سے ہم کو ناچاری ہو گئی ہے
ہر بار ذکر محشر کیا یار کے در اوپر
ایسی تو یاں قیامت سو باری ہو گئی ہے
انداز شوخی اس کے آتے نہیں سمجھ میں
کچھ اپنی بھی طبیعت یاں عاری ہو گئی ہے
شاہی سے کم نہیں ہے درویشی اپنے ہاں تو
اب عیب کچھ جہاں میں ناداری ہو گئی ہے
ہم کو تو درد دل ہے تم زرد کیوں ہو ایسے
کیا میر جی تمھیں کچھ بیماری ہو گئی ہے
میر تقی میر

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر

سدھ اپنی نہیں ہم کو کچھ تم کو خبر بھی ہے

دیوان دوم غزل 1046
آنکھیں نہیں یاں کھلتیں ایدھر کو نظر بھی ہے
سدھ اپنی نہیں ہم کو کچھ تم کو خبر بھی ہے
گو شکل ہوائی کی سر چرخ تئیں کھینچا
اے آہ شرر افشاں کچھ تجھ میں اثر بھی ہے
اس منزل دلکش کو منزل نہ سمجھیے گا
خاطر میں رہے یاں سے درپیش سفر بھی ہے
مجھ حال شکستہ کی تاچند یہ بے وقری
کچھ کسر میں اب میری اے شوخ کسر بھی ہے
یہ کیا ہے کہ منھ نوچے نے چاک کرے سینہ
کر عرض جو کچھ تجھ میں اے میر ہنر بھی ہے
میر تقی میر

ہر شاخ گل چمن میں بھیچک ہوئی کھڑی ہے

دیوان دوم غزل 1045
کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے
ہر شاخ گل چمن میں بھیچک ہوئی کھڑی ہے
واشد ہوئی نہ بلبل اپنی بہار میں بھی
کیا جانیے کہ جی میں یہ کیسی گل جھڑی ہے
نادیدنی دکھاوے کیونکر نہ عشق ہم کو
کس فتنۂ زماں سے آنکھ اپنی جا لڑی ہے
وے دن گئے کہ پہروں کرتے نہ ذکر اس کا
اب نام یار اپنے لب پر گھڑی گھڑی ہے
آتش سی پھک رہی ہے سارے بدن میں میرے
دل میں عجب طرح کی چنگاری آ پڑی ہے
کیا کچھ ہمیں کو اس کی تلوار کھا گئی ہے
ایسی ہی اک جڑی ہے اس نے جہاں جڑی ہے
کیا میر سر جھکاویں ہر کم بغل کے آگے
نام خدا انھوں کی عزت بہت بڑی ہے
میر تقی میر

وہ طبع تو نازک ہے کہانی یہ بڑی ہے

دیوان دوم غزل 1044
کیا حال بیاں کریے عجب طرح پڑی ہے
وہ طبع تو نازک ہے کہانی یہ بڑی ہے
کیا فکر کروں میں کہ ٹلے آگے سے گردوں
یہ گاڑی مری راہ میں بے ڈول اڑی ہے
ہے چشمک انجم طرف اس مہ کے اشارہ
دیکھو تو مری آنکھ کہاں جاکے لڑی ہے
کیا اپنی شررریزی کہیں پلکوں کی صف کی
ہم جانتے ہیں ہم پہ جو یہ باڑھ جھڑی ہے
وے دن گئے جو پہروں لگی رہتی تھیں آنکھیں
اب یاں ہمیں مہلت کوئی پل کوئی گھڑی ہے
ایسا نہ ہوا ہو گا کوئی واقعہ آگے
اک خواہش دل ساتھ مرے جیتی گڑی ہے
کیا نقش میں مجنوں ہی کے تھی رفتگی عشق
لیلیٰ کی بھی تصویر تو حیران کھڑی ہے
جاتے ہیں چلے متصل آنسو جو ہمارے
ہر تار نگہ آنکھوں میں موتی کی لڑی ہے
کھنچتا ہی نہیں ہم سے قدخم شدہ ہرگز
یہ سست کماں ہاتھ پر اب کتنی کڑی ہے
گل کھائے ہیں افراط سے میں عشق میں اس کے
اب ہاتھ مرا دیکھو تو پھولوں کی چھڑی ہے
وہ زلف نہیں منعکس دیدئہ تر میر
اس بحر میں تہ داری سے زنجیر پڑی ہے
میر تقی میر

سپاس ایزد کے کرجن نے کہ یہ ڈالی نوادی ہے

دیوان دوم غزل 1043
نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے
سپاس ایزد کے کرجن نے کہ یہ ڈالی نوادی ہے
نہیں ٹک بیٹھنے دیتے تم اپنی بزم میں ہم کو
مروت رسم تھی مدت کی سو تم نے اٹھا دی ہے
رہائی چنگل باز فلک سے مجھ کو مشکل تھی
مری یہ بند چڑیا کی سی مولا نے چھڑا دی ہے
گلی میں اپنی قدغن کر رکھو آنے نہ پائوں میں
کہیں کیا اور بھی دل کے لگانے کی منادی ہے
طپش سے رنگ اڑا جاوے قلق سے جان گھبراوے
دیا ہے دل الٰہی ہم کو یا کوئی بلا دی ہے
درگلزار پیش از صبح وا اے باغباں مت کر
اڑا لیتی ہے مٹی بھی صبا اک چور بادی ہے
کوئی صورت نہیں اس گھر سے اب تیرے نکلنے کی
قیامت کی ہے جن نے آرسی تجھ کو دکھا دی ہے
مجھے منظور کیا ہے زلف و خال و خط خوباں سے
خدا نے دیکھنے کی لت سی آنکھوں کو لگا دی ہے
کجی ذہن اس وادی میں گمراہی کی ہے باعث
سلیم الطبع کو تو پائوں کا ہر نقش ہادی ہے
لگا رہتا ہے سینے ہی سے بیٹھا ہوں کہ سوتا ہوں
غرض چھاتی مری داغ جدائی نے جلا دی ہے
نہ چھوٹا دل میں کچھ اس کے گئے پر غارت غم سے
ہزار افسوس کیا بستی محبت نے لٹا دی ہے
نہ کٹتی ٹک نہ ہوتی گر فقیری ساتھ الفت کے
ہمیں جب ان نے گالی دی ہے تب ہم نے دعا دی ہے
ہوئی ہے دل کی محویت سے یکساں یاں غم و فرحت
نہ ماتم مرنے کا ہے میر نے جینے کی شادی ہے
میر تقی میر

کہ شکل صبح مری سب کو بھول جاتی ہے

دیوان دوم غزل 1042
یہ رات ہجر کی یاں تک تو دکھ دکھاتی ہے
کہ شکل صبح مری سب کو بھول جاتی ہے
طپش کے دم ہی تئیں مجھ سے ہے یہ خوں گرمی
وگرنہ تیغ تری کب گلے لگاتی ہے
ہنسے ہے چاک قفس کھلکھلا کے مجھ اوپر
چمن کی یاد میں جب بے کلی رلاتی ہے
ہوا ہے میر سے روشن کہ کل جبھی ہے شمع
زباں ہلانے میں پروانے کو جلاتی ہے
میر تقی میر

کیا بدن کا رنگ ہے تہ جس کی پیراہن پہ ہے

دیوان دوم غزل 1041
کیا تن نازک ہے جاں کو بھی حسد جس تن پہ ہے
کیا بدن کا رنگ ہے تہ جس کی پیراہن پہ ہے
گرد جب اٹھتی ہے اک حسرت سے رہ جاتے ہیں دیکھ
وحشیان دشت کی آنکھ اس شکار افگن پہ ہے
کثرت پیکاں سے تیرے ہو گئی ہیئت ہی اور
اب شرف دل کو ہمارے پارئہ آہن پہ ہے
کون یوں اے ترک رعنا زینت فتراک تھا
خوں سے گل کاری عجب اک زین کے دامن پہ ہے
سر اٹھانے کی نہیں ہے ہم کو فرصت عشق میں
ہر دم اک تیغ جفاے تازہ یاں گردن پہ ہے
نوحہ گر کر مجھ کو دکھلایا غم دل نے ندان
شیون اب موقوف یاروں کا مرے شیون پہ ہے
ہوچکا رہنا مرا بستی میں آخر کب تلک
نالۂ شب سے قیامت روز مرد و زن پہ ہے
خرمن گل سے لگیں ہیں دور سے کوڑوں کے ڈھیر
لوہو رونے سے ہمارے رنگ اک گلخن پہ ہے
وے پھری پلکیں الٹ دیتی ہیں صف اک آن میں
اب لڑائی ہند میں سب اس سیہ پلٹن پہ ہے
تو تو کہتا ہے کہ میں نے اس طرف دیکھا نہیں
خون ناحق میر کا یہ کس کی پھر چتون پہ ہے
میر تقی میر

ہشیاری کے برابر کوئی نشہ نہیں ہے

دیوان دوم غزل 1040
ہم مست ہو بھی دیکھا آخر مزہ نہیں ہے
ہشیاری کے برابر کوئی نشہ نہیں ہے
شوق وصال ہی میں جی کھپ گیا ہمارا
باآنکہ ایک دم وہ ہم سے جدا نہیں ہے
ہر صبح اٹھ کے تجھ سے مانگوں ہوں میں تجھی کو
تیرے سوائے میرا کچھ مدعا نہیں ہے
زیر فلک رکا ہے اب جی بہت ہمارا
اس بے فضا قفس میں مطلق ہوا نہیں ہے
آنکھیں ہماری دیکھیں لوگوں نے اشک افشاں
اب چاہ کا کسو کی پردہ رہا نہیں ہے
منھ جن نے میرا دیکھا ایک آہ دل سے کھینچی
اس درد عاشقی کی آیا دوا نہیں ہے
تھیں پیش از آشنائی کیا آشنا نگاہیں
اب آشنا ہوئے پر آنکھ آشنا نہیں ہے
کریے جو ابتدا تو تا حشر حال کہیے
عاشق کی گفتگو کو کچھ انتہا نہیں ہے
پردہ ہی ہم نے دیکھا چہرے پہ گاہ و بے گہ
اتنا بھی منھ چھپانا کچھ خوش نما نہیں ہے
میں روئوں تم ہنسو ہو کیا جانو میر صاحب
دل آپ کا کسو سے شاید لگا نہیں ہے
میر تقی میر

اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے

دیوان دوم غزل 1039
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے
اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب
یہ شاخچہ بندی چمن ہے
وابستگی مجھ سے شیشہ جاں کی
اس سنگ سے ہے کہ دل شکن ہے
کیا سہل گذرتی ہے جنوں سے
تحفہ ہم لوگوں کا چلن ہے
لطف اس کے بدن کا کچھ نہ پوچھو
کیا جانیے جان ہے کہ تن ہے
وے بند قبا کھلے تھے شاید
صد چاک گلوں کا پیرہن ہے
گہ دیر میں ہیں گہے حرم میں
اپنا تو یہی دوانہ پن ہے
ہم کشتۂ عشق ہیں ہمارا
میدان کی خاک ہی کفن ہے
کر میر کے حال پر ترحم
وہ شہر غریب و بے وطن ہے
میر تقی میر

بے خود ہیں اس کی آنکھیں ان کو خبر کہاں ہے

دیوان دوم غزل 1038
مستی میں جا و بے جا مدنظر کہاں ہے
بے خود ہیں اس کی آنکھیں ان کو خبر کہاں ہے
شب چند روز سے میں دیکھا نہیں وہ چہرہ
کچھ سوچ کر منجم بارے قمر کہاں ہے
سیمیں تنوں کا ملنا چاہے ہے کچھ تمول
شاہدپرستیوں کا ہم پاس زر کہاں ہے
جوں آرسی کرے ہے منھ دیکھنے کی باتیں
دل کی توجہ اس کی ہمدم ادھر کہاں ہے
پانی ہو بہ گئے سب اجزا بدن کے لیکن
یوں بھی کہا نہ ان نے وہ چشم تر کہاں ہے
خضر و مسیح سب کو جیتے ہی موت آئی
اور اس مرض کا کوئی اب چارہ گر کہاں ہے
لے اس سرے سے یارو اجڑی ہے اس سرے تک
اقلیم عاشقی میں آباد گھر کہاں ہے
اٹھنے کی اک ہوس ہے ہم کو قفس سے ورنہ
شائستۂ پریدن بازو میں پر کہاں ہے
پیرانہ سر چلے ہیں اٹھ کر گلی سے اس کی
کیا پیش آوے دیکھیں وقت سفر کہاں ہے
جاتا نہیں اگر وہ مسجد سے میکدے کو
پھر میر جمعہ کی شب دو دو پہر کہاں ہے
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

یاں تلف ہوتا ہے عالم واں سو عالم اور ہے

دیوان دوم غزل 1036
زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے
یاں تلف ہوتا ہے عالم واں سو عالم اور ہے
پیٹ لینا سر لیے دل کے شروع عشق تھا
سینہ کوبی متصل ہے اب یہ ماتم اور ہے
جوں کف دریا کو دریا سے ہے نسبت دور کی
ابر بھی ووں اور کچھ ہے دیدئہ نم اور ہے
رہتے رہتے منتظر آنکھوں میں جی آیا ندان
دم غنیمت جان اب مہلت کوئی دم اور ہے
جی تو جانے کا ہمیں اندوہ ہی ہے لیک میر
حشر کو اٹھنا پڑے گا پھر یہ اک غم اور ہے
میر تقی میر

جوانی دوانی ہے مشہور ہے

دیوان دوم غزل 1035
جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
جوانی دوانی ہے مشہور ہے
کہو چشم خوں بار کو چشم تم
خدا جانے کب کا یہ ناسور ہے
فلک پر جو مہ ہے تو روشن ہے یہ
کہ منھ سے ترے نسبت دور ہے
گدا شاہ دونوں ہیں دل باختہ
عجب عشق بازی کا دستور ہے
قیامت ہے ہو گا جو رفع حجاب
نہ بے مصلحت یار مستور ہے
ہم اب ناتوانوں کو مرنا ہے صرف
نہیں وہ کہ جینا بھی منظور ہے
ستم میں ہماری قسم ہے تمھیں
کرو صرف جتنا کہ مقدور ہے
نیاز اپنا جس مرتبے میں ہے یاں
اسی مرتبے میں وہ مغرور ہے
ہوا حال بندے کا گو کچھ خراب
خدائی ابھی اس کی معمور ہے
گیا شاید اس شمع رو کا خیال
کہ اب میر کے منھ پہ کچھ نور ہے
میر تقی میر

پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے

دیوان دوم غزل 1034
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے
ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے
مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے
بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب
آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے
سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے
اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے
مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف
گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے
پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک
یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے
کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے
میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے
اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا
دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے
مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو
بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے
کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے
بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے
میر تقی میر

آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے

دیوان دوم غزل 1033
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے
مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں مناسبت
میں شہر بند ہوں وہ بیاباں نورد ہے
کیا جانیے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ
چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے
واصل بحق ہوئے نہ جو ہم جان سے گئے
غیرت ہو کچھ مزاج میں جس کے وہ مرد ہے
ممکن نہیں کہ وصف علیؓ کوئی کر سکے
تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے
ٹھہرے نہ چرخ نیلی پہ انجم کی چشم شوخ
اس قصر میں لگا جو ہے کیا لاجورد ہے
کس سے جدا ہوئے ہیں کہ ایسے ہیں دردمند
منھ میر جی کا آج نہایت ہی زرد ہے
میر تقی میر

رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے

دیوان دوم غزل 1032
دل مرا مضطرب نہایت ہے
رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے
منھ ادھر کر کبھو نہ وہ سویا
کیا دعا شب کی بے سرایت ہے
اب وہ مہ اور ایک مہ سے ملا
چند در چند یہ حکایت ہے
ہر طرف بحث تجھ سے ہے اے عشق
شکر تیرا تری شکایت ہے
ایسے رنج و عنا میں اودھر سے
پرسش حال بھی عنایت ہے
دہر کا ہو گلہ کہ شکوئہ چرخ
اس ستمگر ہی سے کنایت ہے
مت مراعات غیر رکھ منظور
میرے حق میں یہی رعایت ہے
عاشق اب بڑھ گئے ہمیں چھانٹو
اس میں سرکار کی کفایت ہے
کب ملے میر ملک داروں سے
وہ گداے شہ ولایت ہے
میر تقی میر

دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے

دیوان دوم غزل 1031
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے
جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی
کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے
پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے
کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے
آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم
کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے
پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے
آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے
وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے
سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے
سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے
طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے
میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے
پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی
پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے
گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو
کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے
میر تقی میر

دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے

دیوان دوم غزل 1030
کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے
ان چار دن سے ہوں میں افسردہ کچھ وگرنہ
پھوڑا سا دل بغل میں برسوں جلا کیا ہے
اس گل کی اور اپنا تب منھ کیا ہے میں نے
جب آشنا لبوں سے صلِّ علیٰ کیا ہے
دل داغ کب نہ دیکھا جی بار کب نہ پایا
کیا کیا نہال خواہش پھولا پھلا کیا ہے
تڑپا ہے ایسا ایسا جو غش رہا ہے مجھ کو
دل اک بغل میں جی کا دشمن پلا کیا ہے
کیا خاک میں ہمیں کو ان نے نیا ملایا
ٹیڑھی ہی چال گردوں اکثر چلا کیا ہے
چلتا نہیں ہے دل پر کچھ اس کے بس وگرنہ
عرش آہ عاجزاں سے اکثر ہلا کیا ہے
ہم گو نہ ہوں جہاں میں آخر جہاں تو ہو گا
تونے بدی تو کی ہے ظالم بھلا کیا ہے
ہے منھ پہ میر کے کیا گرد ملال تازہ
یہ خاک میں ہمیشہ یوں ہی رلا کیا ہے
میر تقی میر

تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1029
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے
ڈر کیوں نہ محلے میں رہے رونے سے میرے
سیلاب نے اس کوچے میں گھر مول لیا ہے
افسوس ہے نشمردہ قدم تم جو رکھو یاں
اس راہ میں سر یاروں نے ہر گام دیا ہے
کاہش ہے عبث تم کو مرے جینے کی خاطر
بیمار بھلا ایسا کوئی آگے جیا ہے
پلکوں سے رفو ان نے کیا چاک دل میر
کس زخم کو کس نازکی کے ساتھ سیا ہے
میر تقی میر

دخل عقل اس مقام میں کیا ہے

دیوان دوم غزل 1028
شور میرے جنوں کا جس جا ہے
دخل عقل اس مقام میں کیا ہے
دل میں پھرتے ہیں خال و خط و زلف
مجھ کو یک سر ہزار سودا ہے
شور بازار میں ہے یوسفؑ کا
وہ بھی آ نکلے تو تماشا ہے
برچھیوں میں کہیں نہ بٹ جاوے
دل صفوف مژہ میں تنہا ہے
نظر آئے تھے وے حنائی پا
آج تک فتنہ ایک برپا ہے
دل کھنچے جاتے ہیں اسی کی اور
سارے عالم کی وہ تمنا ہے
برسوں رکھا ہے دیدئہ تر پر
پاٹ دامن کا اپنے دریا ہے
ٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھ
دل بھی دامن وسیع صحرا ہے
دلکشی اس کے قد کی سی معلوم
سرو بھی اک جوان رعنا ہے
دست و پا گم کیے ہیں تو نے میر
پیری بے طاقتی سے پیدا ہے
میر تقی میر

جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

دیوان دوم غزل 1027
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا تو
خدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس
ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب
اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے
ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر
فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا
یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر
اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغ سینہ
یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں
قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندے
ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم
کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں
بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم
اگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر
پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے
میر تقی میر

اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1026
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے
میں اور تو ہیں دونوں مجبورطور اپنے
پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے
روے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یارب
سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے
کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں
دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے
حسن ان بھی معنیوں کا تھا آپھی صورتوں میں
اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے
شادی سے غم جہاں میں دہ چند ہم نے پایا
ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے
ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن
ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے
ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ
ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے
نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں
جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہ سے آشنا ہے
مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر
جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے
تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر
جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے
ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن
جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے
پھرتے ہو میر صاحب سب سے جدے جدے تم
شاید کہیں تمھارا دل ان دنوں لگا ہے
میر تقی میر

نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے

دیوان دوم غزل 1025
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے
حنا سے یار کا پنجہ نہیں ہے گل کے رنگ
ہمارے ان نے کلیجوں میں ہاتھ ڈالا ہے
گیا ہے پیش لے اعجاز عشق سے فرہاد
وگرنہ خس نے کہیں بھی پہاڑ ٹالا ہے
سنا ہے گریۂ خونیں پہ یہ نہیں دیکھا
لہو کا ہر گھڑی آنکھوں کے آگے نالا ہے
رہے خیال نہ کیوں ایسے ماہ طلعت کا
اندھیرے گھر کا ہمارے وہی اجالا ہے
دلوں کو کہتے ہیں ہوتی ہے راہ آپس میں
طریق عشق بھی عالم سے کچھ نرالا ہے
ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے
میر تقی میر

یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے

دیوان دوم غزل 1024
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے
آیا ہے زیر زلف جو رخسار کا وہ سطح
یاں سانجھ کے تئیں بھی سحر کا سماں سا ہے
ہے جی کی لاگ اور کچھ اے فاختہ ولے
دیکھے نہ کوئی سرو چمن اس جواں سا ہے
کیا جانیے کہ چھاتی جلے ہے کہ داغ دل
اک آگ سی لگی ہے کہیں کچھ دھواں سا ہے
اس کی گلی کی اور تو ہم تیر سے گئے
گو قامت خمیدہ ہمارا کماں سا ہے
جو ہے سو اپنی فکر خروبار میں ہے یاں
سارا جہان راہ میں اک کارواں سا ہے
کعبے کی یہ بزرگی شرف سب بجا ہے لیک
دلکش جو پوچھیے تو کب اس آستاں سا ہے
عاشق کی گور پر بھی کبھو تو چلا کرو
کیا خاک واں رہا ہے یہی کچھ نشاں سا ہے
زور طبیعت اس کا سنیں اشتیاق تھا
آیا نظر جو میر تو کچھ ناتواں سا ہے
میر تقی میر

ایک سنّاہٹا گذر جا ہے

دیوان دوم غزل 1023
جب نسیم سحر ادھر جا ہے
ایک سنّاہٹا گذر جا ہے
کیا اس آئینہ رو سے کہیے ہائے
وہ زباں کر کے پھر مکر جا ہے
جب سے سمجھا کہ ہم چلائو ہیں
حال پرسی ٹک آ کے کر جا ہے
وہ کھلے بال سووے ہے شاید
رات کو جی مرا بکھر جا ہے
دور اگرچہ گیا ہوں میں جی سے
کب وطن میرے یہ خبر جا ہے
وہ اگر چت چڑھا رہا ایسا
آج کل جی سے مہ اتر جا ہے
جی نہیں میر میں نہ بولو تند
بات کہتے ابھی وہ مر جا ہے
میر تقی میر

کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے

دیوان دوم غزل 1022
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے
ہوا خانہ خراب آنکھوں کا اشکوں سے تو برجا ہے
رہ سیلاب میں کوئی بھی گھر بنیاد کرتا ہے
ملایا خاک کر دامن سے اشکوں میں ڈبایا پھر
مرے ہاتھوں کی تردستی گریباں یاد کرتا ہے
ابھر اے نقش شیریں بے ستوں اوپر تماشا کر
کہ کارستانیاں تیرے لیے فرہاد کرتا ہے
میر تقی میر

خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1021
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے
خرابی دل کی کیا انبوہ درد و غم سے پوچھو ہو
وہی حالت ہے جیسے شہر لشکر لوٹ جاتا ہے
شکست اس رنگ آئی بے خودی عشق میں دل پر
نشے میں مست سے جیسے کہ شیشہ پھوٹ جاتا ہے
نہ یوں ہووے کہ اٹھ جائوں کہ ہے افسوس کی جاگہ
جب ایسا طائر خوش لہجہ پھنس کر چھوٹ جاتا ہے
نہیں کچھ عقل میں آتا کہ دیوانہ سا میر ایدھر
کبھو آتا جو ہے کیدھر کو مارے زوٹ جاتا ہے
میر تقی میر

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1020
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
جان کو کوئی کھائے جاتا ہے
ہر کوئی اس مقام میں دس روز
اپنی نوبت بجائے جاتا ہے
کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر
تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے
یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے
رویئے کیا دل و جگر کے تئیں
جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے
کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے
خاک ہی میں ملائے جاتا ہے
تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام
عرق شرم آئے جاتا ہے
جاے عبرت ہے خاکدان جہاں
تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے
دیکھ سیلاب اس بیاباں کا
کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے
وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم
اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے
میر تقی میر

بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے

دیوان دوم غزل 1019
ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے
بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے
حالانکہ خصم جان ہیں پر دیکھیے جو خوب
ہیں آرزو دلوں کی بھی یہ مدعا ہیں یے
اب حوصلہ کرے ہے ہمارا بھی تنگیاں
جانے بھی دو بتوں کے تئیں کیا خدا ہیں یے
گل پھول اس چمن کے چلو صبح دیکھ لیں
شبنم کے رنگ پھر کوئی دم میں ہوا ہیں یے
کس دل میں خوبرویوں کی خالی نہیں جگہ
مغرور اپنی خوبی کے اوپر بجا ہیں یے
ہرچند ان سے برسوں چھپا ہم ملا کیے
ظاہر ولے نہ ہم پہ ہوا یہ کہ کیا ہیں یے
کیا جانو میر صاحب و قبلہ کے ڈھب کو تم
خوبی مسلم ان کی ولے بدبلا ہیں یے
میر تقی میر

زندگانی حیف ہے مر جایئے

دیوان دوم غزل 1018
پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
زندگانی حیف ہے مر جایئے
کچھ نہیں تو شعر ہی کی فکر کر
آئے ہیں جو یاں تو کچھ کر جایئے
قصد ہے کعبے کا لیکن سوچ ہے
کیا ہے منھ جو اس کے در پر جایئے
خانماں آباد جو ہے سو خراب
کس کے اٹھ کر شہر میں گھر جایئے
بیم مردن اس قدر یہ کیا ہے میر
عشق کریے اور پھر ڈر جایئے
میر تقی میر

پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے

دیوان دوم غزل 1017
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے
ساکن دیر و حرم دونوں تلاشی ہیں ترے
تو خدا جانے کہاں ہے کیونکے تجھ کو پایئے
دور ہی سے ہوش کھو دیتی ہے اس کی بوے خوش
آپ میں رہیے تو اس کے پاس بھی ٹک جایئے
ان دنوں رنگ اور کچھ ہے اس دل پرخون کا
حق میں میرے آپ ہی کچھ سوچ کر فرمایئے
جی ہی کھپ جاتا ہے طنز آمیز ایسے لطف سے
ہنس کے جب کہتا ہے سب میں آیئے جی آئیے
دل کے ویراں کرنے میں بیداد کی ہے تونے ہائے
خوش عمارت ایسے گھر کو اس طرح سے ڈھایئے
رات دن رخسار اس کے چت چڑھے رہتے ہیں میر
آفتاب و ماہ سے دل کب تلک بہلایئے
میر تقی میر

دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

دیوان دوم غزل 1016
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے
سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے
سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے
آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے
کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے
ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے
تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے
میر تقی میر

سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے

دیوان دوم غزل 1015
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے
گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے
منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے
اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور
اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے
آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ
دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے
اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں
رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے
دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار
شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے
مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا
عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے
برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور
کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے
دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں
یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے
میر تقی میر

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے

دیوان دوم غزل 1013
ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے
کیا بخود رہنا ہمارا کچھ رکھے ہے اعتبار
آپ میں آئے کبھو اب ہم تو مہماں سے گئے
جب تلک رہنا بنا دل تنگ غنچے سے رہے
دیکھیے کیا گل کھلے گا اب گلستاں سے گئے
کیا غزالوں ہی کو ہم بن وحشت بسیار ہے
کوہ بھی نالاں رہے جب ہم بیاباں سے گئے
لائی آفت خانقاہ و مسجد اوپر وہ نگاہ
صوفیاں دیں سے گئے سب شیخ ایماں سے گئے
دور کر خط کو کیا چہرہ کتابی ان نے صاف
اب قیامت ہے کہ سارے حرف قرآں سے گئے
جی تو اس کی زلف میں دل کا کل پیچاں میں میر
جا بھی نکلے اس کنے تو ہم پریشاں سے گئے
میر تقی میر

کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے

دیوان دوم غزل 1012
گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے
ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر
دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے
گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول
کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے
کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی
لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے
جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں
نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے
شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا
کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے
گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید
پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے
کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم
اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے
سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی
سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے
مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ
آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے
ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر
مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے
میر تقی میر

کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے

دیوان دوم غزل 1011
جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے
کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی
ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا
بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر

ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے

دیوان دوم غزل 1010
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے
کیا روتے ہیں یاران گذشتہ کے لیے ہم
جب راہ میں کچھ نقش قدم دیکھتے ہیں ہائے
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا
ان آنکھوں سے انواع ستم دیکھتے ہیں ہائے
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے
میر تقی میر

گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے

دیوان دوم غزل 1009
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے
اس قدر جی میں ہے دغا اس کے
کہ دعا کریے تو دغا سمجھے
کچھ سمجھتے نہیں ہمارا حال
تم سے بھی اے بتاں خدا سمجھے
غلط اپنا کہ اس جفاجو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
نکتہ داں بھی خدا نے تم کو کیا
پر ہمارا نہ مدعا سمجھے
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
میر صاحب کا ہر سخن ہے رمز
بے حقیقت ہے شیخ کیا سمجھے
میر تقی میر

جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے

دیوان دوم غزل 1008
ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے
جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے
جی ڈوب گئے اپنے اندوہ کے دریا میں
وے جوش کہاں اب ہم مدت ہوئی وہ بیٹھے
کیا رنگ میں شوخی ہے اس کے تن نازک کی
پیراہن اگر پہنے تو اس پہ بھی تہ بیٹھے
سر گل نے اٹھایا تھا اس باغ میں سو دیکھا
کیا ناز سے یاں کوئی کج کرکے کلہ بیٹھے
مرتے ہوئے پر چاہت ظاہر نہ کی اگلوں نے
بے حوصلہ تھے ہم جو اس راز کو کہہ بیٹھے
کیا جانے کہ ایدھر کا کب قصد کرے گا وہ
پامال ہوئے ہم تو اس سے سررہ بیٹھے
جو ہاتھ چڑھا اس کے دل خوں ہی کیا اس کا
اس پنجۂ رنگیں کی اے میر نہ گہ بیٹھے
میر تقی میر

اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے

دیوان دوم غزل 1007
اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے
مرتے ہوئے بھی ہم کو صورت نہ آ دکھائی
وقت اخیر اچھا منھ کو چھپا کے بیٹھے
عزلت نشیں ہوئے جب دل داغ ہو گیا تب
یعنی کہ عاشقی میں ہم گھر جلا کے بیٹھے
جو کفر جانتے تھے عشق بتاں کو وہ ہی
مسجد کے آگے آخر قشقہ لگا کے بیٹھے
شور متاع خوبی اس شوخ کا بلا تھا
بازاری سب دکانیں اپنی بڑھا کے بیٹھے
کیا اپنی اور اس کی اب نقل کریے صحبت
مجلس سے اٹھ گیا وہ ٹک ہم جو آ کے بیٹھے
کیا جانے تیغ اس کی کب ہو بلند عاشق
یوں چاہیے کہ سر کو ہر دم جھکا کے بیٹھے
پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے
مسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھے
کیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئی
خار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے
وادی قیس سے پھر آئے نہ میر صاحب
مرشد کے ڈھیر پر وے شاید کہ جا کے بیٹھے
میر تقی میر

یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے

دیوان دوم غزل 1006
مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے
یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے
شمس و قمر کے دیکھے جی اس میں جا رہے ہے
اس دل فروز کے بھی رخسار ایسے ہی تھے
دامن کے پاٹ سارے تختے ہوئے چمن کے
بس اے سرشک خونیں درکار ایسے ہی تھے
لوہو نہ کیوں رلائے ان کا گداز ہونا
یہ دل جگر ہمارے غم خوار ایسے ہی تھے
ہر دم جراحت آسا کب رہتے تھے ٹپکتے
یہ دیدئہ نمیں کیا خوں بار ایسے ہی تھے
آزاردہ دلوں کا جیسا کہ تو ہے ظالم
اگلے زمانے میں بھی کیا یار ایسے ہی تھے
ہو جائے کیوں نہ دوزخ باغ زمانہ ہم پر
ہم بے حقیقتوں کے کردار ایسے ہی تھے
دیوار سے پٹک سر میں جو موا تو بولا
کچھ اس ستم زدہ کے آثار ایسے ہی تھے
اک حرف کا بھی ان کو دفتر ہے کر دکھانا
کیا کہیے میر جی کے بستار ایسے ہی تھے
میر تقی میر

اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے

دیوان دوم غزل 1005
ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے
آگے خط سے دماغ تمھارا عرش پہ تھا ہو وے ہی تم
پائوں زمیں پر رکھتے تھے تو خدا پر منت رکھتے تھے
اب تو ہم ہو چکتے ہیں ٹک تیرے ابرو خم ہوتے
کیا کیا رنج اٹھاتے تھے جب جی میں طاقت رکھتے تھے
چاہ کے سارے دیوانے پر آپ سے اکثر بیگانے
عاشق اس کے سیر کیے ہم سب سے جدی مت رکھتے تھے
ہم تو سزاے تیغ ہی تھے پر ظلم بے حد کیا معنی
اور بھی تجھ سے آگے ظالم اچھی صورت رکھتے تھے
آج غزال اک رہبر ہوکر لایا تربت مجنوں پر
قصد زیارت رکھتے تھے ہم جب سے وحشت رکھتے تھے
کس دن ہم نے سر نہ چڑھاکر ساغر مے کو نوش کیا
دور میں اپنے دختر رز کی ہم اک حرمت رکھتے تھے
کوہکن و مجنون و وامق کس کس کے لیں نام غرض
جی ہی سے جاتے آگے سنے وے لوگ جو الفت رکھتے تھے
چشم جہاں تک جاتی تھی گل دیکھتے تھے ہم سرخ و زرد
پھول چمن کے کس کے منھ سے ایسی خجلت رکھتے تھے
کام کرے کیا سعی و کوشش مطلب یاں ناپیدا تھا
دست و پا بہتیرے مارے جب تک قدرت رکھتے تھے
چتون کے کب ڈھب تھے ایسے چشمک کے تھے کب یہ ڈول
ہائے رے وے دن جن روزوں تم کچھ بھی مروت رکھتے تھے
لعل سے جب دل تھے یہ ہمارے مرجاں سے تھے اشک چشم
کیا کیا کچھ پاس اپنے ہم بھی عشق کی دولت رکھتے تھے
کل کہتے ہیں اس بستی میں میر جی مشتاقانہ موئے
تجھ سے کیا ہی جان کے دشمن وے بھی محبت رکھتے تھے
میر تقی میر

سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے

دیوان دوم غزل 1004
یاں ہم براے بیت جو بے خانماں رہے
سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے
تھا ملک جن کے زیرنگیں صاف مٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
آنسو چلے ہی آنے لگے منھ پہ متصل
کیا کیجے اب کہ راز محبت نہاں رہے
ہم جب نظر پڑیں تو وہ ابرو کو خم کرے
تیغ اپنے اس کے کب تئیں یوں درمیاں رہے
کوئی بھی اپنے سر کو کٹاتا ہے یوں ولے
جوں شمع کیا کروں جو نہ میری زباں رہے
یہ دونوں چشمے خون سے بھر دوں تو خوب ہے
سیلاب میری آنکھوں سے کب تک رواں رہے
دیکھیں تو مصر حسن میں کیا خواریاں کھنچیں
اب تک تو ہم عزیز رہے ہیں جہاں رہے
مقصود گم کیا ہے تب ایسا ہے اضطراب
چکر میں ورنہ کاہے کو یوں آسماں رہے
کیا اپنی ان کی تم سے بیاں کیجیے معاش
کیں مدتوں رکھا جو تنک مہرباں رہے
گہ شام اس کے مو سے ہے گہ رو سے اس کے صبح
تم چاہو ہو کہ ایک سا ہی یاں سماں رہے
کیا نذر تیغ عشق سرِتیر میں کیا
اس معرکے میں کھیت بہت خستہ جاں رہے
اس تنگناے دہر میں تنگی نفس نے کی
جوں صبح ایک دم ہی رہے ہم جو یاں رہے
اک قافلے سے گرد ہماری نہ ٹک اٹھی
حیرت ہے میر اپنے تئیں ہم کہاں رہے
میر تقی میر

آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے

دیوان دوم غزل 1003
یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے
آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے
ہم نے بھی نذر کی ہے پھریں گے چمن کے گرد
آنے تئیں بہار کے گر بال و پر رہے
کیا کہیے تیرے واسطے اے مایۂ حیات
کیا کیا عزیز اپنے تئیں مار مر رہے
مرتے بھی اپنے ہائے وہ حاضر نہ ہوسکا
ہم اشتیاق کش تو بہت محتضر رہے
مرغان باغ رہتے ہیں اب گھیرے یوں مجھے
ماتم زدوں کے حلقے میں جوں نوحہ گر رہے
آغوش اس سے خالی رہی شب تو تا سحر
جیب و کنار گریۂ خونیں سے بھر رہے
نقش قدم کے طور ترے ہم ہیں پائمال
غالب ہے یہ کہ دیر ہمارا اثر رہے
اب صبر و ہوش و عقل کی میرے یہ ہے معاش
جوں قافلہ لٹا کہیں آکر اتر رہے
لاکھوں ہمارے دیکھتے گھر بار سے گئے
کس خانماں خراب کے وے جا کے گھر رہے
آتا کبھو تو ناز سے دکھلائی دے بھی جا
دروازے ہی کی اور کہاں تک نظر رہے
رکھنا تمھارے پائوں کا کھوتا ہے سر سے ہوش
یہ چال ہے تو اپنی کسے پھر خبر رہے
کیا بدبلا ہے لاگ بھی دل کی کہ میر جی
دامن سوار لڑکوں کے ہو کر نفر رہے
میر تقی میر

جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے

دیوان دوم غزل 1002
دوری میں اس کی گور کنارے ہم آرہے
جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے
اس آفتاب حسن کے ہم داغ شرم ہیں
ایسے ظہور پر بھی وہ منھ کو چھپا رہے
اب جس کے حسن خلق پہ بھولے پھریں ہیں لوگ
اس بے وفا سے ہم بھی بہت آشنا رہے
مجروح ہم ہوئے تو نمک پاشیاں رہیں
ایسی معاش ہووے جہاں کیا مزہ رہے
مرغان باغ سے نہ ہوئی میری دم کشی
نالے کو سن کے وقت سحر دم ہی کھا رہے
چھاتی رکی رہے ہے جو کرتے نہیں ہیں آہ
یاں لطف تب تلک ہی ہے جب تک ہوا رہے
کشتے ہیں ہم تو ذوق شہیدان عشق کے
تیغ ستم کو دیر گلے سے لگا رہے
گاہے کراہتا ہے گہے چپ ہے گاہ سست
ممکن نہیں مریض محبت بھلا رہے
آتے کبھو جو واں سے تو یاں رہتے تھے اداس
آخر کو میر اس کی گلی ہی میں جا رہے
میر تقی میر

جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے

دیوان دوم غزل 1001
اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے
جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے
کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے
کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے
سو رنگ کی جب خوبی پاتے ہو اسی گل میں
پھر اس سے کوئی اس بن کچھ چاہے تو کیا چاہے
ہم عجز سے پہنچے ہیں مقصود کی منزل کو
گہ خاک میں مل جاوے جو اس سے ملا چاہے
ہوسکتی ہیں سد رہ پلکیں کہیں رونے کی
تنکوں سے رکے ہے کب دریا جو بہا چاہے
جب تونے زباں چھوڑی تب کاہے کا صرفہ ہے
بے صرفہ کہے کیوں نہ جو کچھ کہ کہا چاہے
دل جاوے ہے جوں رو کے شبنم نے کہا گل سے
اب ہم تو چلے یاں سے رہ تو جو رہا چاہے
خط رسم زمانہ تھی ہم نے بھی لکھا اس کو
تہ دل کی لکھے کیونکر عاشق جو لکھا چاہے
رنگ گل و بوے گل ہوتے ہیں ہوا دونوں
کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے
ہم میر ترا مرنا کیا چاہتے تھے لیکن
رہتا ہے ہوئے بن کب جو کچھ کہ ہوا چاہے
میر تقی میر

مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے

دیوان دوم غزل 1000
درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے
مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے
کہاں تک یوں پڑے بستر پہ رہیے دور جاناں سے
کوئی کاش اس گلی میں ہم کو اک تکیہ بنا دیوے
ہوئے برسوں کہ وہ ظالم رہے ہے مجھ پہ کچھ ٹیڑھا
کوئی اس تیغ برکف کو گلے میرے ملا دیوے
وفا کی مزد میں ہم پر جفا و جور کیا کہیے
کسو سے دل لگے اس کا تو وہ اس کی جزا دیوے
کہیں کچھ تو برا مانو بھلا انصاف تو کریے
بدی کو بھی نہایت ہے تمھیں نیکی خدا دیوے
صنوبر آدمی ہو تو سراپا بار دل لاوے
کہاں سے کوئی تازہ دل اسے ہر روز لا دیوے
بہت گمراہ ہے وہ شوخ لگتا ہے کہے کس کے
کوئی کیا راہ کی بات اس جفاجو کو بتا دیوے
جگر سب جل گیا لیکن زباں ہلتی نہیں اپنی
مباد اس آتشیں خو کو مخالف کچھ لگا دیوے
کوئی بھی میر سے دل ریش سے یوں دور پھرتا ہے
ٹک اس درویش سے مل چل کہ تجھ کو کچھ دعا دیوے
میر تقی میر

یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے

دیوان دوم غزل 999
یا بادئہ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے
یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے
شورش کدئہ عالم کہنے ہی کی جاگہ تھی
دل کیا کرے جو ایسے ہنگامے میں پھنس جاوے
دل ہے تو عبث نالاں یاران گذشتہ بن
ممکن نہیں اب ان تک آواز جرس جاوے
اس زلف سے لگ چلنا اک سانپ کھلانا ہے
یہ مارسیہ یارو ناگاہ نہ ڈس جاوے
میخانے میں آوے تو معلوم ہو کیفیت
یوں آگے ہو مسجد کے ہر روز عسس جاوے
چولی جہاں سے مسکی پھر آنکھیں وہیں چپکیں
جب پیرہن گل بھی اس خوبی سے چس جاوے
ہے میر عجب کوئی درویش برشتہ دل
بات اس کی سنو تم تو چھاتی بھی بھلس جاوے
میر تقی میر

جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے

دیوان دوم غزل 998
ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے
جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے
کیا رفتگی سے میری تم گفتگو کرو ہو
کھویا گیا نہیں میں ایسا جو کوئی پاوے
چھاتی کے داغ یکسر آنکھوں سے کھل رہے ہیں
دیکھیں ابھی محبت کیا کیا ہمیں دکھاوے
ہیں پائوں اس کے نازک گل برگ سے بجا ہے
عاشق جو رہگذر میں آنکھوں کے تیں بچھاوے
یوں خاک منھ پہ مل کر کب تک پھرا کروں میں
یارب زمیں پھٹے تو یہ روسیہ سماوے
اے کاش قصہ میرا ہر فرد کو سنا دیں
تا دل کسو سے اپنا کوئی نہ یاں لگاوے
ترک بتاں کا مجھ سے لیتے ہیں قول یوں ہی
کیا ان سے ہاتھ اٹھائوں گو اس میں جان جاوے
عاشق کو مر گئے ہی بنتی ہے عاشقی میں
کیا جان جس کی خاطر شرمندگی اٹھاوے
جی میں بگڑ رہا ہے تب میر چپ ہے بیٹھا
چھیڑو ابھی تو کیا کیا باتیں بنا کے لاوے
میر تقی میر

ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے

دیوان دوم غزل 997
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پائوں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میر سمجھا ہے یاں کم کسو نے
میر تقی میر

الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے

دیوان دوم غزل 996
بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے
الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے
دل دھڑکے ہے جاتے کچھ بت خانے سے کعبے کو
اس راہ میں پیش آوے کیا ہم کو خدا جانے
ہے محو رخ اپنا تو آئینے میں ہر ساعت
صورت ہے جو کچھ دل کی سو تیری بلا جانے
کچھ اس کی بندھی مٹھی اس باغ میں گذرے ہے
جو زخم جگر اپنے جوں غنچہ چھپا جانے
کیا سینے کے جلنے کو ہنس ہنس کے اڑاتا ہوں
جب آگ کوئی گھر کو اس طور لگا جانے
میں مٹی بھی لے جائوں دروازے کی اس کے تو
اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے
اپنے تئیں بھی کھانا خالی نہیں لذت سے
کیا جانے ہوس پیشہ چکھے تو مزہ جانے
یوں شہر میں بہتیرے آزاردہندے ہیں
تب جانیے جب کوئی اس ڈھب سے ستا جانے
کیا جانوں رکھو روزے یا دارو پیو شب کو
کردار وہی اچھا تو جس کو بھلا جانے
آگاہ نہیں انساں اے میر نوشتے سے
کیا چاہیے ہے پھر جو طالع کا لکھا جانے
میر تقی میر

عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے

دیوان دوم غزل 995
جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے
دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش نہیں
یہ ادھر سجدہ کریں ابرو جدھر اس کی ہلے
یہ نہیں میں جانتا نسبت ہے کیا آپس میں لیک
آنکھیں ہوجاتی ہیں ٹھنڈی اس کے تلووں سے ملے
ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا
خوش رہو اے ساکنان باغ اب تو ہم چلے
مردمان شہر خوبی پر کریں کیا دل کو عرض
ایسی جنس ناروا کو مفت کوئی واں نہ لے
کل جو ہم کو یاد آیا باغ میں قد یار کا
خوب روئے ہر نہال سبز کے سائے تلے
جمع کر خاطر مرے جینے سے مجھ کو خوب ہے
جی بچا تب جانیے جب سر سے یہ کلول ٹلے
گرچہ سب ہیں گے مہیاے طریق نیستی
طے بہت دشوار کی یہ رہگذر ہم نے ولے
ہر قدم پر جی سے جانا ہر دم اوپر بے دمی
لمحہ لمحہ آگے تھے کیا کیا قیامت مرحلے
جلنے کو جلتے ہیں سب کے اندرونے لیک میر
جب کسو کی اس وتیرے سے کہیں چھاتی جلے
میر تقی میر

یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے

دیوان دوم غزل 994
یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے
کیونکر نہ چپکے چپکے یوں جان سے گذریے
کہیے بتھا جو اس سے باتوں کی راہ نکلے
زردی رنگ و رونا دونوں دلیل کشتن
خوش طالعی سے میری کیا کیا گواہ نکلے
اے کام جاں ہے تو بھی کیا ریجھ کا پچائو
مر جایئے تو منھ سے تیرے نہ واہ نکلے
خوبی و دلکشی میں صدچند ہے تو اس سے
تیرے مقابلے کو کس منھ سے ماہ نکلے
یاں مہر تھی وفا تھی واں جور تھے ستم تھے
پھر نکلے بھی تو میرے یہ ہی گناہ نکلے
غیروں سے تو کہے ہے اچھی بری سب اپنی
اے یار کب کے تیرے یہ خیر خواہ نکلے
رکھتے تو ہو مکدر پر اس گھڑی سے ڈریو
جب خاک منھ پہ مل کر یہ روسیاہ نکلے
اک خلق میر کے اب ہوتی ہے آستاں پر
درویش نکلے ہے یوں جوں بادشاہ نکلے
میر تقی میر

چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے

دیوان دوم غزل 993
سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے
مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ
چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے
کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے
جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے
اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا
راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے
میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو
لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے
چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک
گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے
صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا
کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے
پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں
ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے
لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے
میر تقی میر

عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے

دیوان دوم غزل 992
کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے
عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے
ناتوانی سے اگر مجھ میں نہیں ہے جی تو کیا
عشق جو چاہے تو مردے سے بھی اپنا کام لے
پہلوے عاشق نہ بستر سے لگے تو ہے بجا
دل سی آفت ہو بغل میں جس کے کیا آرام لے
اب دل نالاں پھر اس زلف سیہ میں جاچکا
آج یہ بیمار دیکھیں کس طرح سے شام لے
شاخ گل تیری طرف جھکتی جو ہے اے مست ناز
چاہتی ہے تو بھی میرے ہاتھ سے اک جام لے
دل کی آسائش نہیں امکان زلف یار میں
یہ شکار مضطرب ہے دم نہ زیر دام لے
عزت اے پیر مغاں کچھ حاجیوں کی ہے ضرور
آئے ہیں تیرے کنے ہم جامۂ احرام لے
کیا بلا مفتی کا لونڈا سر چڑھا ہے ان دنوں
آوے ہے گویا کہ مجھ پر قاضی کا اعلام لے
ہم نشیں کہہ مت بتوں کی میر کو تسبیح ہے
کام کیا اس ذکر سے ان کو خدا کا نام لے
میر تقی میر

اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے

دیوان دوم غزل 991
غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے
اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے
آنکھ ہر ایک کی دوڑے ہے کفک پر تیرے
پائوں سے لگ کے ترے مہندی کو کچھ بھاگ لگے
ہو نہ دیوانہ جو اس گوہر خوش آب کا تو
لب دریا کے تئیں کیوں رہیں یوں جھاگ لگے
اب تو ان گیسوئوں کی یاد میں میں محو ہوا
گو قیامت کو مرے منھ سے ہوں دو ناگ لگے
لڑکے دلی کے ترے ہاتھ میں کب آئے میر
پیچھے ایک ایک کے سو سو پھریں ہیں ڈاگ لگے
میر تقی میر

کیا کیا نہال دیکھتے یاں پائوں آ لگے

دیوان دوم غزل 990
اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے
کیا کیا نہال دیکھتے یاں پائوں آ لگے
حرص و ہوس سے باز رہے دل تو خوب ہے
ہے قہر اس کلی کے تئیں گر ہوا لگے
تلخ اب تو اپنے جی کو بھی لگتی ہے اس نمط
جیسے کسو کے زخم پہ تیر اک دو آ لگے
کس کو خبر ہے کشتی تباہوں کے حال کی
تختہ مگر کنارے کوئی بہ کے جا لگے
ایسے لگے پھرے ہیں بہت سائے کی روش
جانے دے ایسی حور پری سے بلا لگے
وہ بھی چمن فروز تو بلبل ہے سامنے
گل ایسے منھ کے آگے بھلا کیا بھلا لگے
پس جائیں یار آنکھ تری سرمگیں پڑے
دل خوں ہو تیرے پائوں میں بھر کر حنا لگے
بن ہڈیوں ہماری ہما کچھ نہ کھائے گا
ٹک چاشنی عشق کا اس کو مزہ لگے
خط مت رکھو کہ اس میں بہت ہیں قباحتیں
رکھیے تمھارے منھ پہ تو تم کو برا لگے
مقصود کے خیال میں بہتوں نے چھانی خاک
عالم تمام وہم ہے یاں ہاتھ کیا لگے
سب چاہتے ہیں دیر رہے میر دل زدہ
یارب کسو تو دوست کی اس کو دعا لگے
میر تقی میر

دل جو یہ ہے تو ہم آرام نہیں پانے کے

دیوان دوم غزل 989
کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے
دل جو یہ ہے تو ہم آرام نہیں پانے کے
ہائے کس خوبی سے آوارہ رہا ہے مجنوں
ہم بھی دیوانے ہیں اس طور کے دیوانے کے
عزم ہے جزم کہ اب کے حرکت شہر سے کر
ہوجے دل کھول کے ساکن کسو ویرانے کے
آہ کیا سہل گذر جاتے ہیں جی سے عاشق
ڈھب کوئی سیکھ لے ان لوگوں سے مرجانے کے
جمع کرتے ہو جو گیسوے پریشاں کو مگر
ہو تردد میں کوئی تازہ بلا لانے کے
کاہے کو آنکھ چھپاتے ہو یہی ہے گر چال
ایک دو دن میں نہیں ہم بھی نظر آنے کے
ہاتھ چڑھ جائیو اے شیخ کسو کے نہ کبھو
لونڈے سب تیرے خریدار ہیں میخانے کے
خاک سے چرخ تلک اب تو رکا جاتا ہے
ڈول اچھے نہیں کچھ جان کے گھبرانے کے
لے بھی اے غیرت خورشید کہیں منھ پہ نقاب
مقتضی دن نہیں اب منھ کے یہ دکھلانے کے
لالہ و گل ہی کے مصروف رہو ہو شب و روز
تم مگر میر جی سید ہو گلستانے کے
میر تقی میر

دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے

دیوان دوم غزل 988
دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے
دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
آثار اب تلک ہیں یاروں کی چشم تر کے
رہنے کی اپنے جا تو نے دیر ہے نہ کعبہ
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کدھر کے
اس شعر و شاعری پر اچھی بندھی نہ ہم سے
محوخیال شاعر یوں ہی ہیں اس کمر کے
دنیا میں ہے بسیرا یارو سرائے کا سا
یہ رہروان ہستی عازم ہیں سب سفر کے
وے یہ ہی چھاتیاں ہیں زخموں سے جو بھری ہیں
کیا ہے جو بوالہوس نے دوچار کھائے چرکے
تہ بے خودی کی اپنی کیا کچھ ورے دھری ہے
ہم بے خبر ہوئے ہیں پہنچے کسو خبر کے
اس آستاں کی دوری اس دل کی ناصبوری
کیا کہیے آہ غم سے گھر کے ہوئے نہ در کے
خاک ایسی عاشقی میں ٹھکرائے بھی گئے کل
پائوں کنے سے اس کے پر میر جی نہ سرکے
میر تقی میر

اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے

دیوان دوم غزل 987
خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے
اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے
ایک ایک بات اوپر ہیں پیچ و تاب سو سو
رہتے نہیں ہیں سیدھے یہ لونڈے ٹیڑھے بانکے
سر کو اس آستاں پر رکھے رہیں تو بہتر
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کہاں کے
گردش سے روسیہ کی کیا کیا بلائیں آئیں
جانے ہی کے ہیں لچھن سارے اس آسماں کے
مشتاق ہم جو ایسے سو ہم ہی سے ہے پردہ
جب اس طرف سے نکلے تب منھ کو اپنے ڈھانکے
ہے پرغبار عالم جانا ہی یاں سے اچھا
اس خاکداں میں رہ کر کیا کوئی خاک پھانکے
کل باغ میں گئے تھے روئے چمن چمن ہم
کچھ سرو میں جو پائے انداز اس جواں کے
جاناں کی رہ سے آنکھیں جس تس کی لگ رہی ہیں
رفتہ ہیں لوگ سارے ان پائوں کے نشاں کے
خمیازہ کش رہے ہے اے میر شوق سے تو
سینے کے زخم کے کہہ کیونکر رہیں گے ٹانکے
میر تقی میر