زمرہ جات کے محفوظات: غزل

وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے

دیوان سوم غزل 1286
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے
وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے
دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو
جب تلک دوری سے کوئی خو کرے
دم میں ہو آئینۂ عالم سیاہ
ایک اگر عاشق قلندر ہو کرے
کس سے تیری چاہیے داد ستم
کاش انصاف اپنے دل میں تو کرے
غنچہ پیشانی چمن میں میں رہا
بے دماغ عشق گل کیا بو کرے
لوہو پانی ایک کر دیتا ہے عشق
پانی کردے چشم دل لوہو کرے
اب جنوں میں میر سوے دشت جائے
کار وحشت کے تئیں یک سو کرے
میر تقی میر

اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی

دیوان سوم غزل 1285
خوش طرح مکاں دل کے ڈھانے میں شتابی کی
اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی
سسکے ہے دل ایدھرکو بہتا ہے جگر اودھر
چھاتی ہوئی ہے میری دکان کبابی کی
وہ نرگس مستانہ باتیں کرے ہے درہم
تم دیکھو نہ کچھ بولو کیا بات شرابی کی
بے سدھ ہوئے ہم آئی اک بو جو گلستاں سے
پرزور تھی مے کتنی غنچوں کی گلابی کی
رونے سے دل شب کے تر میر کے کپڑے ہیں
پر قدر نہیں اس کو اس جامۂ آبی کی
میر تقی میر

جوں ہم جلا کریں ہیں بھلا جلتے کب ہیں یے

دیوان سوم غزل 1284
برق و شرار و شعلہ و پروانہ سب ہیں یے
جوں ہم جلا کریں ہیں بھلا جلتے کب ہیں یے
لے موے سر سے ناخن پا تک بھری ہے آگ
جلتے ہیں دردمند پہ جلتے کڈھب ہیں یے
ہوتا ہے دل کا حال عجب غم سے اس گھڑی
کہتا ہے جب وہ طنز سے ہم کو عجب ہیں یے
آتی ہے گرم باد صبا اس کی اور سے
اپنے جگر کے جلنے کے بارے سبب ہیں یے
غربت پہ مہرباں ہوئے میری سو یہ کہا
ان کو غریب کوئی نہ سمجھے غضب ہیں یے
فرہاد و قیس کے گئے کہتے ہیں اب یہ لوگ
رکھے خدا سلامت انھوں کو کہ اب ہیں یے
سید ہیں میر صاحب و درویش و دردمند
سر رکھیے ان کے پائوں پہ جاے ادب ہیں یے
میر تقی میر

افسوس ہے کہ آکر یوں مینھ ٹک نہ برسے

دیوان سوم غزل 1283
کل جوش غم میں آنسو ٹپکے نہ چشم تر سے
افسوس ہے کہ آکر یوں مینھ ٹک نہ برسے
کیا ہے نمود مردم جو کہیے دیکھیو تم
مژگاں بہم زدن میں جاتی رہی نظر سے
ہم سا شکستہ خاطر اس بستی میں نہ ہو گا
برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے
معلوم اگلی سی تو جرأت الم کشی میں
کیا کام نکلے گا اب ٹکڑے ہوئے جگر سے
آئینہ دار اسی کے پاتے ہیں شش جہت کو
دیکھیں تو منھ دکھاوے وہ کام جاں کدھر سے
مت رنج کھینچ مل کر ہشیار مردماں سے
اس کی خبر ملے گی اک آدھ بے خبر سے
جب گوش زد ہو اس کے تب بے دماغ ہو وہ
بس ہوچکی توقع اب نالۂ سحر سے
اے رشک مہ کبھو تو آ چاند سا نکل کر
منھ دیکھنے کو تیرا تا چند کوئی ترسے
چاہت بری بلا ہے کل میر نالہ کش بھی
ہمراہ نے سواراں دوڑے پھرے نفر سے
میر تقی میر

پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے

دیوان سوم غزل 1282
صدگونہ عاشقی میں ہم نے جفا سہی ہے
پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے
کرتی پھری ہے رسوا سارے چمن میں مجھ کو
گر کوئی بات دل کی بلبل سے میں کہی ہے
ہے صبح کا سا عرصہ پیری کا اس میں کیا ہو
باقی ہے وقت کتنا فرصت کہاں رہی ہے
درویش جب ہوئے ہم تب ہے ہمیں برابر
کشکول بازگوں ہے یا افسرشہی ہے
جیتے رہے بہت ہم جو یہ ستم اٹھائے
عمر دراز کی سب تقصیر و کوتہی ہے
رونے میں متصل ہے ہونٹوں پہ آہ میری
جاتا نہیں ہے سمجھا یہ بائو کیا بہی ہے
آزار عاشقی میں کاہے کی پھر توقع
ہوجائے یاس جس سے سو رنج یہ وہی ہے
روتا ہمیں نظر کر رہنا کیے کنارہ
چڑھنا ہمارے منھ پہ دریا کی بے تہی ہے
چلاہٹ اس طرح کی جز میر کس سے ہووے
باور نہ ہو تو دیکھو یہ ہو نہ ہو وہی ہے
میر تقی میر

لے زمیں سے تا فلک فریاد و زاری کیجیے

دیوان سوم غزل 1281
شب اگر دل خواہ اپنے بے قراری کیجیے
لے زمیں سے تا فلک فریاد و زاری کیجیے
ایک دن ہو تو کریں احوال گیری دل کی آہ
مر گئے ہم کب تلک تیمارداری کیجیے
نوچیے ناخن سے منھ یا چاک کریے سب جگر
جی میں ہے آگے ترے کچھ دستکاری کیجیے
جایئے اس شہر ہی سے اب گریباں پھاڑ کر
کیجیے کیا غم سے یوں ماتم گذاری کیجیے
یوں بنے کب تک کہ بے لعل لب اس کے ہر گھڑی
چشمہ چشمہ خون دل آنکھوں سے جاری کیجیے
کنج لب اس شوخ کا بھی ریجھنے کی جاے ہے
صرف کیجے عمر تو اس جاے ساری کیجیے
کوہ غم سر پر اٹھا لیجے نہ کہیے منھ سے کچھ
عشق میں جوں کوہکن کچھ بردباری کیجیے
گرچہ جی کب چاہتا ہے آپ کا آنے کو یاں
پر کبھو تو آئیے خاطر ہماری کیجیے
آشنا ہو اس سے ہم مر مر گئے آئندہ میر
جیتے رہیے تو کسو سے اب نہ یاری کیجیے
میر تقی میر

کیا قیامت کا قیامت شور ہے

دیوان سوم غزل 1280
گوش ہر یک کا اسی کی اور ہے
کیا قیامت کا قیامت شور ہے
پوچھنا اس ناتواں کا خوب تھا
پر نہ پوچھا ان نے وہ بھی زور ہے
صندل درد سر مہر و وفا
عاقبت دیکھا تو خاک گور ہے
رشتۂ الفت تو نازک ہے بہت
کیا سمجھ کر خلق اس پر ڈور ہے
ناکسی سے میر اس کوچے کے بیچ
اس طرح نکلے ہے جیسے چور ہے
میر تقی میر

عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے

دیوان سوم غزل 1279
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے
عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے
بلا ہے اسے شوق تیر و کماں
یہیں سے ہے پیدا ستم کیش ہے
دلا اس کے ظاہر پہ مت جائیو
وہ خوش رو تو ہے پر بد اندیش ہے
بہت خوب ہے لعل نوشین یار
ولیکن خط پشت لب نیش ہے
ہمیں کیا جو ہے میر بیہوش سا
خدا جانے یہ کیا ہی درویش ہے
میر تقی میر

اک ایک کو نہیں پھر غیرت سے دیکھ سکتے

دیوان سوم غزل 1278
دو دیدئہ تر اپنے جو یار کو ہیں تکتے
اک ایک کو نہیں پھر غیرت سے دیکھ سکتے
حرکت دلوں کی اپنے مذبوحی سی رہے ہے
اب وہ نہیں کہ دھڑ دھڑ رہتے ہیں دل دھڑکتے
پلکوں کی اس کی جنبش جاتی نہیں نظر سے
کانٹے سے اپنے دل میں رہتے ہیں کچھ کھٹکتے
ہوتا تھا گاہ گاہے محسوس درد آگے
اب دل جگر ہمارے پھوڑے سے ہیں لپکتے
پڑتی ہیں ایدھر اودھر وے سرخ آنکھیں ایسی
دو ترک مست جیسے ہوں راہ میں بہکتے
شعلوں کے ڈانک گویا لعلوں تلے دھرے ہیں
چہروں کے رنگ ہم نے دیکھے ہیں کیا جھمکتے
یاں بات راہ کی تو سنتا نہیں ہے کوئی
جاتے ہیں ہم جرس سے اس قافلے میں بکتے
جاگہ سے لے گئے ہیں نازاں جب آگئے ہیں
نوباوگان خوبی جوں شاخ گل لچکتے
اس حسن سے کہاں ہے غلطانی موتیوں کی
جس خوبصورتی سے میر اشک ہیں ڈھلکتے
میر تقی میر

سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے

دیوان سوم غزل 1277
اے نوخط ایک دن ہے جھگڑا ہمارے تیرے
سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے
حیران حال عاشق ہو گی اجل پہنچ کر
کیا حال یاں رہا ہے ظلموں کے مارے تیرے
ہر بار دیکھے ہے تو ایدھر ہی آہ شب نے
کچھ تو اثر کیا ہے جی میں بھی بارے تیرے
باغ و بہار و نکہت گل پھول سب ہی تو ہے
یاروں کی ہیں نظر میں یہ رنگ سارے تیرے
الماس میر تجھ کو کیا عشق نے دیا ہے
لخت جگر گرے ہیں جوں لعل پارے تیرے
میر تقی میر

تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے

دیوان سوم غزل 1276
یوں جنوں کرتے جو ہم یاں سے گئے
تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے
مر گئے دم کب تلک رکتے رہیں
بارے جی کے ساتھ سب سانسے گئے
کیا بدن دیکھا چسی چولی سے ہائے
مارے حسرت کے ہی ہم جاں سے گئے
جانب مسجد تھی وہ کافر نگاہ
شیخ صاحب دین و ایماں سے گئے
پیچ میں آئے کسو کی زلف کے
میر اس رستے پریشاں سے گئے
میر تقی میر

رات دن ہم امیدوار رہے

دیوان سوم غزل 1275
برسوں تک جی کو مار مار رہے
رات دن ہم امیدوار رہے
موسم گل تلک رہے گا کون
چبھتے ہی دل کو خار خار رہے
وصل یا ہجر کچھ ٹھہر جاوے
دل کو اپنے اگر قرار رہے
خوش نوا کیسے کیسے طائر قدس
اس جفا پیشہ کے شکار رہے
اس کی آنکھوں کی مستی سے عاشق
چاہیے یوں کہ ہوشیار رہے
دل لگے پر رہا نہیں جاتا
رہیے اپنا جو اختیار رہے
کم ہے کیا لذت ہم آغوشی
سب مزے میر درکنار رہے
میر تقی میر

مرا دامن بنے تو باندھ دو گل کے گریباں سے

دیوان سوم غزل 1274
بہار آئی نکالو مت مجھے اب کے گلستاں سے
مرا دامن بنے تو باندھ دو گل کے گریباں سے
نہ ٹک واشد ہوئی دل کو نہ جی کی لاگ کچھ پائی
رہے دس دن جو اپنی عمر کے یاں ہم سو مہماں سے
غم ہجراں نے شاید آگ دی اس ماہ بن دل کو
شرارے تب تو نکلے ہیں ہماری چشم گریاں سے
سبب آشفتہ طبعی کا ہماری رہتے ہیں دونوں
نہ دل جمعی ہے اس کے خط سے نے زلف پریشاں سے
ادھر زنجیر کے غل ہیں ادھر ہنگامے لڑکوں کے
جنوں اس دشت میں ہم نے کیا ہے کیسے ساماں سے
محبت میں کسو کی رنج و محنت سے گئے دونوں
رہی شرمندگی ہی عمر بھر مجھ کو دل و جاں سے
خدا جانے کہ دل کس خانہ آباداں کو دے بیٹھے
کھڑے تھے میر صاحب گھر کے دروازے پہ حیراں سے
میر تقی میر

منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے

دیوان سوم غزل 1273
ہوں خاک پا جو اس کی ہر کوئی سر چڑھاوے
منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے
ان دو ہی صورتوں میں شکل اب نباہ کی ہے
یا صبر ہم کو آوے یا رحم اس کو آوے
اس مہ بغیر عالم آنکھوں میں سب سیہ ہے
دیکھیں تو عشق کیا کیا ہم کو سمیں دکھاوے
کچھ زخم کھل چلے ہیں کچھ داغ کھل رہے ہیں
اب کے بہار دیکھیں کیا کیا شگوفے لاوے
جوں لیلیٰ اور مجنوں تا نقش کچھ رہے یاں
اس کی مری بھی صورت یک جا کوئی بناوے
یہ طرح دار لڑکے دیں بیٹھنے تب اس کو
جب جی سے اپنے کوئی ہر طرح دل اٹھاوے
ہم جس زمیں پہ آئے واں آسماں یہی تھا
یارب جو کوئی جاوے تو کس طرف کو جاوے
شب سنتے حال میرا لیتا ہے موند آنکھیں
مچلے سے میں کہوں کیا سوتا ہو تو جگاوے
طاعت کا محو تب ہے جب ڈھب نہیں بتوں سے
چھوڑے نماز واجب گر میر وقت پاوے
میر تقی میر

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

عاشق کہاں ہوئے کہ گنہگار ہم ہوئے

دیوان سوم غزل 1271
شائستۂ غم و ستم یار ہم ہوئے
عاشق کہاں ہوئے کہ گنہگار ہم ہوئے
کی عرض جو متاع امانت ازل کے بیچ
سب اور لے سکے نہ خریدار ہم ہوئے
جی کھنچ گیا اسیرقفس کی فغاں کی اور
تھی چوٹ اپنے دل کو گرفتار ہم ہوئے
پامال یوں کیا کہ برابر ہیں خاک کے
کیا ظلم ہو گیا جو طلبگار ہم ہوئے
ہوتا نہیں ہے بے خبری کا مآل خوب
افسوس ہے کہ دیر خبردار ہم ہوئے
وصل اس طبیب زادے کا جی چاہتا رہا
آخر اس آرزو ہی میں بیمار ہم ہوئے
پھل ہے یہ میر عشق کا اس نوبہار کے
آخر جو کشت و خوں کے سزاوار ہم ہوئے
میر تقی میر

ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے

دیوان سوم غزل 1270
تیر جوڑے وہ ماہ آتا ہے
ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے
گل کو سر پر رکھیں سبھی لیکن
اب دماغ اپنا کب اٹھاتا ہے
اپنا اپنا ہے ذائقہ ہم کو
بوسۂ کنج لب ہی بھاتا ہے
آتش عشق جس کے دل کو لگے
شمع ساں آپ ہی کو کھاتا ہے
دیکھنا ہے تو ہے بہم پر وہ
ہم سے آنکھوں کو کب ملاتا ہے
میری تو ہے پلک سے چھوٹی نگاہ
اور وہ اس پہ منھ چھپاتا ہے
میر صناع ہے ملو اس سے
دیکھو تو باتیں کیا بناتا ہے
میر تقی میر

خبر ہوتے ہی ہوتے دل جگر دونوں جلا دیوے

دیوان سوم غزل 1269
کہیں آگ آہ سوزندہ نہ چھاتی میں لگا دیوے
خبر ہوتے ہی ہوتے دل جگر دونوں جلا دیوے
بہت روئے ہمارے دیدئہ تر اب نہیں کھلتے
متاع آب دیدہ ہے کوئی اس کو ہوا دیوے
تمھارے پائوں گھر جانے کو عاشق کے نہیں اٹھتے
تم آئو تو تمھیں آنکھوں پہ سر پر اپنے جا دیوے
دلیل گم رہی ہے خضر جو ملتا ہے جنگل میں
پھرے ہے آپھی بھولا کیا ہمیں رستہ بتا دیوے
گئے ہی جی کے فیصل ہو نیاز و ناز کا جھگڑا
کہیں وہ تیغ کھینچے بھی کہ بندہ سر جھکا دیوے
لڑائی ہی رہی روزوں میں باہم بے دماغی سے
گلے سے اس کے ہم کو عید اب شاید ملا دیوے
ہوا میں میر جو اس بت سے سائل بوسۂ لب کا
لگا کہنے ظرافت سے کہ شہ صاحب خدا دیوے
میر تقی میر

ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی

دیوان سوم غزل 1268
جی کے لگنے کی میر کچھ کہہ بھی
ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی
حسن اے رشک مہ نہیں رہتا
چار دن کی ہے چاندنی یہ بھی
شور شیریں تو ہے جہاں میں ولے
ہے حلاوت زمانے کی وہ بھی
اس کے پنجے سے دل نکل نہ سکا
زور بیٹھی ہی یار کی گہ بھی
اس زمیں گرد میرے مہ سا نہیں
آسماں پر اگرچہ ہے مہ بھی
کیا کہوں اس کی زلف بن رو رو
میں پراگندہ دل گیا بہ بھی
مضطرب ہو جو ہمرہی کی میر
پھر کے بولا کہ بس کہیں رہ بھی
میر تقی میر

ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے

دیوان سوم غزل 1267
سب شرم جبین یار سے پانی ہے
ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے
سمجھے نہ کہ بازیچۂ اطفال ہوئے
لڑکوں سے ملاقات ہی نادانی ہے
جوں آئینہ سامنے کھڑا ہوں یعنی
خوبی سے ترے چہرے کی حیرانی ہے
خط لکھتے جو خوں فشاں تھے ہم ان نے کہا
کاغذ جو لکھے ہے اب سو افشانی ہے
دوزخ میں ہوں جلتی جو رہے ہے چھاتی
دل سوختگی عذاب روحانی ہے
منت کی بہت تو ان نے دو حرف کہے
سو برسوں میں اک بات مری مانی ہے
کل سیل سا جوشاں جو ادھر آیا میر
سب بولے کہ یہ فقیر سیلانی ہے
میر تقی میر

اچھے ہوتے نہیں جگر خستے

دیوان سوم غزل 1266
ہم پہ رہتے ہو کیا کمر کستے
اچھے ہوتے نہیں جگر خستے
ہنستے کھینچا نہ کیجیے تلوار
ہم نہ مر جائیں ہنستے ہی ہنستے
شوق لکھنے قلم جو ہاتھ آئی
لکھے کاغذ کے دستے کے دستے
سیر قابل ہیں تنگ پوش اب کے
کہنیاں پھٹتے چولیاں چستے
رنگ لیتی ہے سب ہوا اس کا
اس سے باغ و بہار ہیں رستے
اک نگہ کر کے ان نے مول لیا
بک گئے آہ ہم بھی کیا سستے
میر جنگل پڑے ہیں آج جہاں
لوگ کیا کیا نہیں تھے کل بستے
میر تقی میر

کر نہیں بنتی کسو سے جو بنے

دیوان سوم غزل 1265
میر کیوں رہتے ہیں اکثر ان منے
کر نہیں بنتی کسو سے جو بنے
خون ہو کر بہ گیا مدت ہوئی
دل جو ڈھونڈو ہو سو کیسا کس کنے
ہے تو کل جب سے ہم درویش ہیں
کر ہی چکتے ہیں جو کچھ دل میں ٹھنے
عالم خاکی بھی بسمل گاہ ہے
ہو رہے ہیں ڈھیر یاں سو سو جنے
اس شکارافگن کے ہم بھی صید ہیں
خاک و خوں میں لوٹتے چھاتی چھنے
میر تقی میر

آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے

دیوان سوم غزل 1264
آنکھوں سے راہ عشق کی ہم جوں نگہ گئے
آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے
اس عرصے سے گیا ہو کہیں کوئی تو کہیں
چل پھر کے لوگ یاں کے یہیں سارے رہ گئے
کیا کیا ہوئے ہیں اہل زماں ڈھیر خاک کے
کیا کیا مکان دیکھتے ناگاہ ڈھہ گئے
ان دلبروں سے کیا کہیں مظلوم عشق ہم
ناچار ظلم و جور و ستم ان کے سہ گئے
تسبیحیں ٹوٹیں خرقے مصلے پھٹے جلے
کیا جانے خانقاہ میں کیا میر کہہ گئے
میر تقی میر

طوفان سا شہروں میں ہے اک شور دریا پر بھی ہے

دیوان سوم غزل 1263
آشوب چشم چشمہ زا اب کوہ و صحرا پر بھی ہے
طوفان سا شہروں میں ہے اک شور دریا پر بھی ہے
گو چشم بندی شیخ کی ہو آخرت کے واسطے
لیکن نظر اعمیٰ نمط پردے میں دنیا پر بھی ہے
نے دست مزد بندگی نے قدر سرافگندگی
جو مکرمت ہم پر ہوئی اب جلف و ادنیٰ پر بھی ہے
تنگ آن کر گم ہو گئے مقصود جو مقصود تھا
ہم خرج رہ کیونکر نہ ہوں پیدا ہی پیدا پر بھی ہے
ہیں خوبیاں ہی خوبیاں وحشی طبیعت میر میں
پر انس کم ہم سے دلیل اب کے یہ سودا پر بھی ہے
میر تقی میر

دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے

دیوان سوم غزل 1262
دیکھیے کیا ہو سانجھ تلک احوال ہمارا ابتر ہے
دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے
خاطر اپنی اتنی پریشاں آنکھیں پھریں ہیں اس بن حیراں
تم نے کہا دل چاہے تو بیٹھو دل کیا جانے کیدھر ہے
تاب و تواں کا حال وہی ہے آج تنک ہم چیتے ہیں
تم پوچھو تو اور کہیں کیا نسبت کل کی بہتر ہے
اس بے مہر صنم کی خاطر سختی سی سختی کھینچی ہم
جی پگھلے کیا اس کا ہم پر رحم کہاں وہ پتھر ہے
سر نہ بڑے کے چڑھیے اس میں ہرگز زیاں ہے سر ہی کا
سمجھے نہ سمجھے کوئی اسے یہ پہاڑ کی آخر ٹکر ہے
جب سے ملا اس آئینہ رو سے خوش کی ان نے نمد پوشی
پانی بھی دے ہے پھینک شبوں کو میر فقیر قلندر ہے
میر تقی میر

نکہت گل سے آشنا نہ ہوئے

دیوان سوم غزل 1261
ہم چمن میں گئے تھے وا نہ ہوئے
نکہت گل سے آشنا نہ ہوئے
سر کسو سے فرو نہیں آتا
حیف بندے ہوئے خدا نہ ہوئے
خوار و زار و ذلیل و بے رویت
عاشق اس کے ہوئے سو کیا نہ ہوئے
کیسا کیسا قفس سے سر مارا
موسم گل میں ہم رہا نہ ہوئے
میں نہ گردن کٹائی جب تک میر
عشق کے مجھ سے حق ادا نہ ہوئے
میر تقی میر

ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے

دیوان سوم غزل 1260
سوز دروں نے آخر جی ہی کھپا دیا ہے
ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے
اب نیند کیونکے آوے گرمی نے عاشقی کی
دل ہے جدھر وہ پہلو سارا جلا دیا ہے
حرف غلط تھے کیا ہم صفحے پہ زندگی کے
جو صاف یوں قضا نے ہم کو مٹا دیا ہے
کڑھتے ہمیشہ رہنا ہم کو بغیر اس کے
کیا روگ دوستی نے جی کو لگا دیا ہے
اچرج ہے یہ کہ ہے وہ میرا چراغ تربت
کتنوں کا ورنہ خوں کر ان نے دبا دیا ہے
آنکھوں کی کچھ حیا تھی سو موند لیں ادھر سے
پردہ جو رہ گیا تھا وہ بھی اٹھا دیا ہے
ہم دل زدہ رہے ہیں انواع تلخ سنتے
ان شکریں لبوں نے ہم کو رجھا دیا ہے
جب طول میں دیا ہے نامے کو شوق کے تب
جوں کاغذ ہوائی ان نے اڑا دیا ہے
مرنے ہی کا مہیا اپنے رہا کیا ہوں
واں تیغ اٹھائی ان نے یاں سر جھکا دیا ہے
کیا بے نمک ہوا ہے پروانہ راکھ جل کر
رہ رہ کے ہم جلے تو ہم کو مزہ دیا ہے
تھے جوں چراغ مفلس مضطر نہ ترک تھا جب
بارے فقیری نے تو آرام سا دیا ہے
شہروں کے تنگ کوچے کاہے کو گوں ہیں اپنی
ہم وحشیوں کے قابل رہنے کے بادیہ ہے
نادردمند بلبل نالاں ہے بے تہی سے
دل ہم کو بھی خدا نے دردآشنا دیا ہے
کیا نامہ بر ہمارا ہے صاف بے مروت
خط نانوشتہ ہم کو اودھر سے لا دیا ہے
عالم شکار ہے وہ اس سن میں میر اس کو
ڈھب جان مارنے کا کن نے بتا دیا ہے
میر تقی میر

سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے

دیوان سوم غزل 1259
اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے
سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے
کیا دھیر بندھے اس کی جو عشق کا رسوا ہو
نکلے تو کہیں لڑکے دھیری ہے بے دھیری ہے
خوں عشق کی گرمی سے سوکھا جگر و دل میں
اک بوند تھی لوہو کی اب چھاتی جو چیری ہے
ہم طائر نوپر ہیں وے جن کو بہاراں میں
گل گشت گلستاں کا ہے شوق و اسیری ہے
اس دلبر بدظن سے خوش گذرے ہے عاشق کی
نے رحم ہے خاطر میں نے عذر پذیری ہے
ہم مرثیہ دل ہی کا اکثر کہا کرتے ہیں
اب کریے تخلص تو شائستہ ضمیریؔ ہے
کیا اہل دول سے ہے اے میر مجھے نسبت
یاں عجز و فقیری ہے واں ناز امیری ہے
میر تقی میر

دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے

دیوان سوم غزل 1258
برسوں گذرے ہیں ملے کب تئیں یوں پیار رہے
دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے
وہ مودت کہ جو قلبی ہو اسے سو معلوم
چار دن کہنے کو اس شوخ سے ہم یار رہے
مرگ کے حال جدائی میں جئیں یوں کب تک
جان بیتاب رہے دل کو اک آزار رہے
وجہ یہ تھی کہ ترے ساتھ لڑی آنکھ اس کی
ہم جو صورت سے تھے آئینے کی بیزار رہے
دین و دنیا کا زیاں کار کہو ہم کو میر
دو جہاں داونخستیں ہی میں ہم ہار رہے
میر تقی میر

تصویر چیں کی روبرو اس کے ذلیل ہے

دیوان سوم غزل 1257
ناز و ادا کے ساتھ وہ دلبر شکیل ہے
تصویر چیں کی روبرو اس کے ذلیل ہے
ہم خاک منھ کو مل کے نہ جوں آرسی پھرے
یاں پاس قرط آب اگر ہے سبیل ہے
جنگل میں خضرؑ و کعبہ کا ہونا مری طرح
دونوں کی نارسائی کے اوپر دلیل ہے
آگے جنوں سے چھائوں میں تھے سرو و گل کی ہم
سر پر ہمارے سایہ فگن اب کریل ہے
کچھ چیز و مال ہو تو خریدار ہو کوئی
دنیا کی قدر کیا کہ متاع قلیل ہے
کیا روئوں اشک آتے ہیں آنکھوں سے سیل سیل
پل مارنے میں پیش نظر ایک جھیل ہے
آتے نہیں نظر میں مری ہاتھی کے سوار
کانوں میں جو فسانۂ اصحاب فیل ہے
ہو صبر اس جو یوسف ثانی کے بے جمال
تو مصحف مجید میں صبر جمیل ہے
شکر و گلہ سے عشق کے لبریز ہے جہاں
کریے جہاں نگاہ یہی قال و قیل ہے
ہم دیر سے ہیں منتظر قدکشی یار
کچھ شامت عمل سے قیامت میں ڈھیل ہے
جب دیکھتے ہیں میر تمھیں بے دماغ ہو
کاہے کو ناز عشق میں صاحب دخیل ہے
میر تقی میر

نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے

دیوان سوم غزل 1256
کیسے ناز و تبختر سے ہم اپنے یار کو دیکھا ہے
نوگل جیسے جلوہ کرے اس رشک بہار کو دیکھا ہے
چال زمانے کی ہے نظر میں شام و سحر کس کو ہے قیام
نووارد ہم یاں کے ہیں پر لیل و نہار کو دیکھا ہے
ایک نہ آیا دید میں اپنی دلکش دلچسپ اس کے رنگ
ان آنکھوں سے اس گلشن میں یوں تو ہزار کو دیکھا ہے
قدرکفر اسلام سے زائد جانی سبحہ فروشی سے
بکتے کہیں بازار میں تونے گہ زنار کو دیکھا ہے
قلب و دماغ و جگر کے گئے پر ضعف ہے جی کی غارت میں
کیا جانے یہ قلقچی ان نے کس سردار کو دیکھا ہے
بائو سے بھی گر پتا کھڑکے چوٹ چلے ہے ظالم کی
ہم نے دام گہوں میں اس کے ذوق شکار کو دیکھا ہے
جمع کرو دل میر سے تم بھی بیتابی تھی دل کو بہت
اچھے کچھ آثار نہ تھے میں اس بیمار کو دیکھا ہے
میر تقی میر

دھوم رہی ہے سر پر میرے رنج و عتاب و کلفت کی

دیوان سوم غزل 1255
کیسے نحس دنوں میں یارب میں نے اس سے محبت کی
دھوم رہی ہے سر پر میرے رنج و عتاب و کلفت کی
میں تو سرو و شاخ گل کی قطع ہی کا دیوانہ تھا
یار نے قد قامت دکھلاکر سر پر میرے قیامت کی
قسمت میں جو کچھ کہ بدا ہو دیتے ہیں وہ ہی انساں کو
غم غصہ ہی ہم کو ملا ہے خوبی اپنی قسمت کی
خلوت یار ہے عالم عالم ایک نہیں ہے ہم کو بار
در پر جاکر پھر آتے ہیں خوب ہماری عزت کی
اک گردن سے سو حق باندھے کیا کیا کریے ہوں جو ادا
مدت اس پر ایک نفس جوں صبح ہماری فرصت کی
شیوہ اس کا قہر و غضب ہے ناز و خشم و ستم وے سب
کوئی نگاہ لطف اگر کی ان نے ہم سے مروت کی
بے پروائی درویشی کی تھوڑی تھوڑی تب آئی
جب کہ فقیری کے اوپر میں خرچ بڑی سی دولت کی
ناز و خشم کا رتبہ کیسا ہٹ کس اعلیٰ درجے میں
بات ہماری ایک نہ مانی برسوں ہم نے منت کی
دکھن پورب پچھم سے لوگ آکر مجھ کو دیکھیں ہیں
حیف کہ پروا تم کو نہیں ہے مطلق میری صحبت کی
دوستی یاری الفت باہم عہد میں اس کے رسم نہیں
یہ جانے ہیں مہر و وفا اک بات ہے گویا مدت کی
آب حسرت آنکھوں میں اس کی نومیدانہ پھرتا تھا
میر نے شاید خواہش دل کی آج کوئی پھر رخصت کی
میر تقی میر

طاقت دل کی تمام ہوئی ہے جی کی چال کڈھب سی ہے

دیوان سوم غزل 1254
سوزدروں سے آگ لگی ہے سارے بدن میں تب سی ہے
طاقت دل کی تمام ہوئی ہے جی کی چال کڈھب سی ہے
سینے کے زخم نمایاں رہتے چاک کیے سو پردئہ در
مدت سے یہ رخنے پڑے تھے چھاتی پھٹی میں اب سی ہے
پرسش حال کبھو کرتے ہیں ناز و چشم اشارت سے
ان کی عنایت حال پہ میرے کیا پوچھو ہو غضب سی ہے
گود میں میری رکھ دیتا ہے پائوں حنائی دبنے کو
یوں پامال جو میں ہوتا ہوں مجھ کو بھی تو دب سی ہے
لطف کہاں وہ بات کیے پر پھول سے جھڑنے لگ جاویں
سرخ کلی بھی گل کی اگرچہ یار کے لعل لب سی ہے
خانہ خراب ہو خواہش دل کا آہ نہایت اس کو نہیں
جان لبوں پر آئی ہے پر تو بھی گرم طلب سی ہے
تم کہتے ہو بوسہ طلب تھے شاید شوخی کرتے ہوں
میر تو چپ تصویر سے تھے یہ بات انھوں سے عجب سی ہے
میر تقی میر

آہ و فغاں کے طور سے میرے لوگ مجھے پہچان گئے

دیوان سوم غزل 1253
شور کیا جو اس کی گلی میں رات کو ہیں سب جان گئے
آہ و فغاں کے طور سے میرے لوگ مجھے پہچان گئے
عہد میں اس کی یاری کے خوں دل میں ہوئے ہیں کیا کیا چائو
خاک میں آخر ساتھ ہی میرے سب میرے ارمان گئے
موت جو آئے سر پر انساں دست و پا گم کرتا ہے
دیکھتے ہی شمشیر بکف کچھ آج اسے اوسان گئے
مہلت عمر دوروزہ کتنی کریے فضولی کاہے پر
آئے جو ہیں دنیا میں ہم تو جیسے کہیں مہمان گئے
ہاتھ لگا وہ گوہر مقصد جیسا ہے معلوم ہمیں
محو طلب ہو اہل طلب سب خاک بھی یاں کی چھان گئے
کہیے سلوک انھوں کے کیا کیا چھیڑ تجاہل کی ہے نئی
نکلے تھے اس رستے سو وے جان کے بھی انجان گئے
میر نظر کی دل کی طرف کی عرش کی جانب فکر بہت
تھی جو طلب مطلوب کی ہم کو کیدھر کیدھر دھیان گئے
میر تقی میر

جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی

دیوان سوم غزل 1252
تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی
جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی
خواہش ہو جسے دل کی دل دوں اسے اور سر بھی
میں نے تو اسی دل سے تصدیع بہت پائی
بے پردہ نہ ہونا تھا اسرار محبت کو
عاشق کشی ہے جب سے ہے عشق کی رسوائی
گھر دل کا بہت چھوٹا پر جاے تعجب ہے
عالم کو تمام اس میں کس طرح ہے گنجائی
گھر بار لٹایا جب تب وہ سہی قد آیا
مفلوک ہوئے اب ہم کر خرچ یہ بالائی
خوبی سے ندان اس کی سب صورتیں یاں بگڑیں
وہ زلف بنی دیکھی سب بن گئے سودائی
کیا عہدہ برآئی ہو اس گل کی دورنگی سے
ہر لحظہ ہے خودرائی ہر آن ہے رعنائی
عاشق کی جسے ہووے کچھ قدر نہیں پیدا
جیتا نہ رہا اب تک مجنوں ہی کو موت آئی
آزار بہت کھینچے اب میر توکل ہے
کھینچی نہ گئی ہم سے ہر ایک کی مرزائی
میر تقی میر

اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ

دیوان سوم غزل 1251
کیا کریں نیچی نظر کرنے سے غصہ کھائے وہ
اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ
کس طرح تڑپے ہے کیا کیا جی گھٹا جاتا ہے ہائے
ساتھ اس کے دل لگا ہو جس کسو کا وائے وہ
کیا سلوک اس بے وفا کے نقل کریے ہم نشیں
منتیں کریے تو یاں تک گھر سے چل کر آئے وہ
لطف سے لبریز ہے اس کام جاں کا سب بدن
مختلط ہوجائے ہم سے جو کبھو تو ہائے وہ
بے خودی ہے جی چلا جاتا ہے ہوں صاحب فراش
بے خبر اے کاش بالیں پر مری آجائے وہ
ہم نہیں ملتے وگرنہ یار ہے تا قتل ساتھ
لوہو پی جاوے ہمارا ہم کو اب جو پائے وہ
میر کو واشد نہیں ہے مقصد اس کا اور ہے
عشق سے لڑکوں کے دل کو کب تلک بہلائے وہ
میر تقی میر

نہ تیر روے ترکش یوں چلا بیٹھ

دیوان سوم غزل 1250
ادھر مت کر نگاہ تیز جا بیٹھ
نہ تیر روے ترکش یوں چلا بیٹھ
اثر ہوتا تو کب کا ہو بھی چکتا
دعاے صبح سے اب ہاتھ اٹھا بیٹھ
پھرے گا ہم سے کب تک دور ظالم
کبھو تو گھر سے اٹھ کر پاس آ بیٹھ
نہ کر دیوار کا مجلس میں تکیہ
ہمارے مونڈھے سے مونڈھا لگا بیٹھ
بہت پھرتے ہیں ٹیڑھے ٹیڑھے دشمن
انھیں دو سیدھیاں تو بھی سنا بیٹھ
تلاش اپنی نہ کم تھی جو وہ ملتا
بہت میں دیکھ کر آخر رہا بیٹھ
مخالف سے نہ مل بیٹھا کر اتنا
کہیں لے میر صاحب کو جدا بیٹھ
میر تقی میر

ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ

دیوان سوم غزل 1249
کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ
ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ
اس حور سے شبوں کا ملنا گیا سو چپ ہوں
جاتا نہیں کہا کچھ جوں گنگ خواب دیدہ
راز محبت اپنا رسوا نہ اس قدر ہو
گر ہو نہ اشک افشاں خانہ خراب دیدہ
جب دیکھو لگ رہا ہے در کی طرف اسی کے
ہے جیسے کہیے ویسے ذلت کا باب دیدہ
دوزخ میں میر ہوں میں یار بہشت رو بن
جاں ہے ستم رسیدہ دل ہے عذاب دیدہ
میر تقی میر

مری زیست ہے مہربانی کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1248
نہ باتیں کرو سرگرانی کے ساتھ
مری زیست ہے مہربانی کے ساتھ
نہ اٹھ کر در یار سے جاسکے
یہ کم لطف ہے ناتوانی کے ساتھ
فرو درد آنسو پیے کچھ ہوا
دوا جیسے پیتے ہیں پانی کے ساتھ
کہے میں نے اشعار ہر بحر میں
ولیکن قیامت روانی کے ساتھ
شتابی گئی اس روش فصل گل
کہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھ
بکھیرے ہے جوں لخت دل آہ صبح
ہوا کب ہے اس گل فشانی کے ساتھ
جلا جی بہت قصۂ میر سن
بلا سوز تھا اس کہانی کے ساتھ
میر تقی میر

لطف سے حرف و سخن تھے نگہ اک پیار کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1247
وے دن اب سالتے ہیں جن میں پھرے یار کے ساتھ
لطف سے حرف و سخن تھے نگہ اک پیار کے ساتھ
رو بہ پس یار کے کوچے سے جو خورشید گیا
عشق تھا اس کے مگر سایۂ دیوار کے ساتھ
دستے نرگس کے رکھیں گور پہ میری وارث
تا یہ جانیں کہ گیا میں غم دیدار کے ساتھ
واں کھنچی میان سے یاں سر کو جھکایا میں نے
گردن اپنی ہے بندھی یار کی تلوار کے ساتھ
عشق کے زار سے بولا نہ خشونت سے کرو
لطف سے بات کوئی کرتے ہیں بیمار کے ساتھ
تہمت عشق سے آبادی بھی وادی ہے ہمیں
کون صحبت رکھے ہے خوں کے سزاوار کے ساتھ
اب خوشامد انھیں کی آٹھ پہر کرتے ہیں
گفتگو میر کو جن لوگوں سے تھی عار کے ساتھ
میر تقی میر

بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ

دیوان سوم غزل 1246
آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
واقف ہو شان بندگی سے قیدقبلہ کیا
سر ہر کہیں جھکا کہ ہے مسجود ہر جگہ
مو تن پہ ہم نہ سوختہ جانوں کے ہیں نمود
ہے سوزش دروں سے بروں دود ہر جگہ
دلی کے لکھنؤ کے خوش اندام خوب لیک
راہ وفا و مہر ہے مسدود ہر جگہ
پھرتی ہے اپنے ساتھ لگی متصل فنا
آب رواں سے ہم ہوئے نابود ہر جگہ
شہرہ رکھے ہے تیری خریت جہاں میں شیخ
مجلس ہو یا کہ دشت اچھل کود ہر جگہ
سوداے عاشقی میں تو جی کا زیان ہے
پھرتے ہیں میر ڈھونڈتے ہی سود ہر جگہ
میر تقی میر

حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ

دیوان سوم غزل 1245
جانے دے مت اس قدر اب زلف و خط و خال دیکھ
حال کچھ بھی تجھ میں ہے اے میر اپنا حال دیکھ
کیا مری طول پریشانی کی حیرت ہم نفس
آنکھیں تو دی ہیں خدا نے اس کے لپٹے بال دیکھ
دامن صحرا میں کیا وسعت ہے جو دل میں نہیں
موند کر آنکھیں گریباں میں بھی ٹک سر ڈال دیکھ
چشم و دل کا اس سے لگ جانا تو تھا جس تس طرح
جی بھی ان بالوں میں الجھا اور یہ جنجال دیکھ
گرچہ اس مہ کی جدائی میں مجھے برسوں ہوئے
لیکن اے اخترشناس اب کا ہے کیسا سال دیکھ
کب نظر میری پڑے گی اس کے روے خوب پر
ہم نشیں ٹک تو بھی مصحف کھول کر تو فال دیکھ
ٹھوکریں دل کو لگے ہیں جب چلے ہے راہ تو
یہ خرام ناز ہے ظالم ٹک اپنی چال دیکھ
میر تقی میر

جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ

دیوان سوم غزل 1244
ہے تمناے وصال اس کی مری جان کے ساتھ
جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ
کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی گیا تیر اس کا
لے گیا صاف مرے دل کو بھی پیکان کے ساتھ
دین و دل ہی کے رہا میرے وہ کافر درپے
خصمی قاطبہ اس کو ہے مسلمان کے ساتھ
بحر پر نہر پہ برسے ہے برابر ہی ابر
پیش ہر اک سے کریم آتے ہیں احسان کے ساتھ
سطرزلف آئی ہے اس روے مخطط پہ نظر
یہ عبارت نئی لاحق ہوئی قرآن کے ساتھ
تیر اس کا جو گذر دل سے چلا جی بھی چلا
رسم تعظیم سے ہو لیتے ہیں مہمان کے ساتھ
میں تو لڑکا نہیں جو بالے بتائو مجھ کو
یہ فریبندگی کریے کسو نادان کے ساتھ
خون مسلم کو تو واجب یہ بتاں جانے ہیں
ہوجے کافر کہ اماں یاں نہیں ایمان کے ساتھ
آدمیت سے تمھیں میر ہو کیونکر بہرہ
تم نے صحبت نہیں رکھی کسو انسان کے ساتھ
میر تقی میر

یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ

دیوان سوم غزل 1243
رستے سے چاک دل کے ہو آگاہ
یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ
رہتی ہے خلق آہ شب سے تنگ
وے نہیں سنتے میری بات اللہ
آنکھ اس منھ پہ کس طرح کھولوں
جوں پلک جل رہی ہے میری نگاہ
خط مرا دیکھ دیکھ کہنے لگا
ہائے کیا کیا لکھے ہے نامہ سیاہ
ہیں مسلمان ان بتوں سے ہمیں
عشق ہے لا الٰہ الا اللہ
پلکیں اس طور روتے روتے گئیں
سبزہ ہوتا ہے جس طرح لب چاہ
میر کعبے سے قصد دیر کیا
جائو پیارے بھلا خدا ہمراہ
میر تقی میر

پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ

دیوان سوم غزل 1242
کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ
پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ
اخلاص و ربط اس سے ہوتا تو شور اٹھاتے
لب تشنہ اپنے تب ہیں دلبر سے جب نہیں کچھ
یاں اعتبار کریے جو کچھ وہی ہے ظاہر
یہ کائنات اپنی آنکھوں میں سب نہیں کچھ
رکھ منھ کو گل کے منھ پر کیا غنچہ ہو کے سوئے
ہے شوخ چشم شبنم اس کو ادب نہیں کچھ
دل خوں نہ ہووے کیونکر یکسروراے الفت
یا سابقے بہت تھے یا اس سے اب نہیں کچھ
یہ حال بے سبب تو ہوتا نہیں ہے لیکن
رونے کا لمحہ لمحہ ظاہر سبب نہیں کچھ
کر عشق میر اس کا مارے کہیں نہ جاویں
جلدی مزاج میں ہے اس سے عجب نہیں کچھ
میر تقی میر

کچھ تو الم ہے دل کی جگہ اور غم ہے کچھ

دیوان سوم غزل 1241
میں کیا کہوں جگر میں لہو میرے کم ہے کچھ
کچھ تو الم ہے دل کی جگہ اور غم ہے کچھ
پوشیدہ تو نہیں ہے کہ ہم ناتواں نہیں
کپڑوں میں یوں ہی تم کو ہمارا بھرم ہے کچھ
کیا اپنے دل دھڑکنے سے ہوں میں ہی دم بخود
جو دیکھتا ہے میرے تئیں سو دہم ہے کچھ
جب سے کھلی ہے نرگس مست اس کی ظلم ہے
کیا آج کل سے یار کو میل ستم ہے کچھ
بلبل میں گل میں کیا خفگی آگئی ہے میر
آمدشد نسیم سحر دم بہ دم ہے کچھ
میر تقی میر

دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو

دیوان سوم غزل 1240
آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو
دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو
ڈھیری رہے اک خاک کی تو کیا ایسے خاک برابر کی
مجھ کو زمیں میں گاڑوگے تو نشان تربت مت کریو
ایسی جان کہاں ہے ہم میں رنج نہ دینا ہاتھوں کو
ایک ہی وار میں ہو چکیے گا دوسری ضربت مت کریو
ہم کو تو مارا عشق نے آخر پر یہ وصیت یاد رہے
دیر جہاں میں تم جو ہو تو کسو سے الفت مت کریو
میری طرف کی یارو اس سے بات کوئی کہتے ہو کہو
مانے نہ مانے وہ جانے پھر تم بھی منت مت کریو
کہیے سو کیا اب چپکے دیکھو گو میں اس میں مر جائوں
تم کو قسم ہے حرف و سخن کی مجھ سے مروت مت کریو
ہوش نہیں اپنا تو ہمیں ٹک میر آئے ہیں پرسش کو
جانے سے آگے ان کو ہمارے پیارے رخصت مت کریو
میر تقی میر

آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو

دیوان سوم غزل 1239
دل کہے میں ہوں تو کاہے کو کوئی بیتاب ہو
آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو
وہ نہیں چھڑکائو سا میں اشک ریزی سے کروں
اب جو رونے بیٹھ جائوں جھیل ہو تالاب ہو
جلد کھینچے تیغ بیتابی کریں جو ہم تو پھر
مارنا مشکل ہمارا تم کو جوں سیماب ہو
شہر میں زیر درختاں کیا رہوں میں برگ بند
ہو نہ صحرا نے مری گنجائش اسباب ہو
بے تصرف عشق کے ہوتا ہے ایسا حال کب
دل ہمارا خون ہو سب چشم یکسر آب ہو
لطف سے اے ابر رحمت ایک دو بارش ادھر
کشت زرد ناامیداں بھی تو ٹک سیراب ہو
بخت خفتہ سوویں پر ٹک چونکتے سوویں کہ میر
ایک شب ہم دل زدوں سے وہ پری ہم خواب ہو
میر تقی میر

کہتے ہیں اپنی ٹوپی سے بھی مشورت کرو

دیوان سوم غزل 1238
گر قصدترک سر ہے کہو شرم مت کرو
کہتے ہیں اپنی ٹوپی سے بھی مشورت کرو
اچھی ہے اس کی تیغ تو باندھو گلے سے میر
مرتا ہوں میں تو آگے مرے مت صفت کرو
میر تقی میر

ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگائو

دیوان سوم غزل 1237
سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو
ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگائو
آنکھوں کا جھڑ برسنے سے ہتھیا کے کم نہیں
پل مارتے ہے پیش نظر ہاتھی کا ڈبائو
کشتی چشم ڈوبی رہی بحر اشک میں
آئی نہ پار ہوتی نظر عاشقوں کی نائو
سینے کے اپنے زخم سے خاطر ہو جمع کیا
دل ہی کی اور پاتے ہیں سب لوہو کا بہائو
بیتابی دل افعی خامہ نے کیا لکھی
کاغذ کو شکل مار سراسر ہے پیچ تائو
ہرچند جانیں جاتی ہیں پر تیغ جور سے
تم کو ہمارے سر کی سوں تم ہاتھ مت اٹھائو
سر نیچے ہو تو پاؤں ترا دابیں ہم کبھی
دبتا وہی ہے جس کے تئیں کچھ بھی ہو دبائو
چاک قفس سے آنکھیں لگیں کب تلک رہیں
اک برگ گل نسیم ہماری طرف بھی لائو
غیرت کا عشق کی ہے طریقہ ہی کچھ جدا
اس کی گلی کی خضرؑ کو بھی راہ مت بتائو
ظاہر ہیں دیکھنے سے گنہ کیونکہ تیرے سب
چھپتے ہیں میر کوئی دلوں کے کہیں لگائو
میر تقی میر

جیسے مصاحب ابر کی ہوتی ہے کوئی بائو

دیوان سوم غزل 1236
رہتا ہے پیش دیدئہ تر آہ کا سبھائو
جیسے مصاحب ابر کی ہوتی ہے کوئی بائو
برسے گی برف عرصۂ محشر میں دشت دشت
گر میری سرد آہوں کا واں ہو گیا جمائو
حاصل کوئی امید ہوئی ہو تو میں کہوں
خوں ہی ہوا کیے ہیں مرے دل میں سارے چائو
آنکھوں کے آگے رونے سے میرے محیط ہے
ابروں سے جا کہے کوئی پانی پیو تو آئو
رہتی تھی اشک خونیں میں ڈوبی سب آستیں
اس چشم بحرخوں کے کبھو دیکھے ہیں چڑھائو
اظہار درد اگرچہ بہت بے نمک ہے پر
ٹک بیٹھو تو دکھاویں تمھیں چھاتیوں کے گھائو
آ عاشقوں کی آنکھوں میں ٹک اے بہ دل قریب
ان منظروں سے بھی ہے بہت دور تک دکھائو
صحبت جو اس سے رہتی ہے کیا نقل کریے ہائے
جب آگئے ہیں ہم تو کہا ان نے یاں سے جائو
صد چاک اپنے دل سے تو بگڑا ہی کی وہ زلف
افسوں کیا ہے شانے نے جو اس سے ہے بنائو
اس ہی زمیں میں میر غزل اور ایک کہہ
گو خوش نہ آوے سامعوں کو بات کا بڑھائو
میر تقی میر

کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو

دیوان سوم غزل 1235
رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو
کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو
اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو
الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو
جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں
نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو
نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو
تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو
کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت
نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو
دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے
بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو
یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں
تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو
نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے
کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو
کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے
مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو
میر تقی میر

ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو

دیوان سوم غزل 1234
کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو
ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو
پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب
نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو
کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا
ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو
سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے
کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو
مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا
ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو
کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی
وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو
اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات
چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو
گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید
دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو
جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر
کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو
میر تقی میر

جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو

دیوان سوم غزل 1233
سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو
جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو
تاب مہ کی تاب کب ہے نازکی سے یار کو
چاندنی میں آفتابی کا مگر سایہ کرو
گرچہ شان کفر ارفع ہے ولے اے راہباں
ایک دو ہم سوں کو بھی زنار بندھوایا کرو
شوق سے دیدار کے بھی آنکھوں میں کھنچ آیا جی
اس سمیں میں دیکھنے ہم کو بہت آیا کرو
کوہکن کی ہے قدم گاہ آخر اے اہل وفاق
طوف کرنے بے ستوں کا بھی کبھی جایا کرو
فرق یار و غیر میں بھی اے بتاں کچھ چاہیے
اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا انصاف فرمایا کرو
کب میسر اس کے منھ کا دیکھنا آتا ہے میر
پھول گل سے اپنے دل کو تم بھی بہلایا کرو
میر تقی میر

دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو

دیوان سوم غزل 1232
زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو
دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو
کیا آنکھ بند کرکے مراقب ہوئے ہو تم
جاتے ہیں کیسے کیسے سمیں چشم وا کرو
موقوف ہرزہ گردی نہیں کچھ قلندری
زنجیر سر اتار کے زنجیر پا کرو
ہر چند اس متاع کی اب قدر کچھ نہیں
پر جس کسو کے ساتھ رہو تم وفا کرو
تدبیر کو مزاج محبت میں دخل کیا
جانکاہ اس مرض کی نہ کوئی دوا کرو
طفلی سے تم نے لطف و غضب مختلط کیے
ٹک مہر کو جدا کرو غصہ جدا کرو
بیٹھے ہو میر ہو کے درکعبہ پر فقیر
اس روسیہ کے باب میں بھی کچھ دعا کرو
میر تقی میر

یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو

دیوان سوم غزل 1231
زلفوں کو میں چھوا سو غصے ہوئے کھڑے ہو
یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو
منھ پھیر پھیر لو ہو ہر بات میں ادھر سے
یاں کس ستم زدہ سے آزردہ ہو لڑے ہو
نرمی مخالفوں سے سختی موافقوں سے
واں موم سے بنے ہو یاں لوہے سے کڑے ہو
مل جائو مغبچوں سے تو داڑھی ہو تبرک
ہر چند شیخ صاحب تم بوڑھے ہو بڑے ہو
ہوتے ہیں خاک رہ بھی لیکن نہ میر ایسے
رستے میں آدھے دھڑ تک مٹی میں تم گڑے ہو
میر تقی میر

ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

دیوان سوم غزل 1230
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے
لطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے
دشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے
داد بے داد رہو شب کو کہ فریاد رہو
میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
میر تقی میر

ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو

دیوان سوم غزل 1229
غریب شہر خوباں ہوں مرا کچھ حال مت پوچھو
ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو
دل صد پارہ کو پیوند کرتا ہوں جدائی میں
کرے ہے کہنہ نسخہ وصل جوں وصّال مت پوچھو
جگر جل کر ہوا ہے کوئلہ بیتاب تو بھی ہوں
طپش سے دل کی میرے سر پہ ہے دھمال مت پوچھو
تعجب ہے کہ دل اس گنج سرگشتہ میں رہتا ہے
خرابے جس سے یہ پاتے ہیں مالامال مت پوچھو
لگا جی اس کی زلفوں سے بہت ہم میر پچھتائے
ہوا ہے مدعی ایک ایک اپنا بال مت پوچھو
میر تقی میر

وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو

دیوان سوم غزل 1228
بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو
وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو
کہتے ہیں آوے گا ایدھر وہ قیامت رفتار
چلتے پھرتے رہیں گے تب تئیں ہم کاہے کو
یہ بھی اک ڈھب ہے نہ ایذا نہ کسو کو راحت
رحم موقوف کیا ہے تو ستم کاہے کو
نرگس ان آنکھوں کو جو لکھ گئے نابینا تھے
اپنے نزدیک ہیں وے دست قلم کاہے کو
اس کی تلوار سے گر جان کو رکھتے نہ عزیز
مرتے اس خواری سے تو صید حرم کاہے کو
چشم پوشی کا مری جان تمھیں لپکا ہے
کھاتے ہو دیدہ درائی سے قسم کاہے کو
میری آنکھوں پہ رکھو پائوں جو آئو لیکن
رکھتے ہو ایسی جگہ تم تو قدم کاہے کو
دل کو کہتے ہیں کہ اس گنج رواں کا گھر ہے
اس خرابے میں کرے ہے وہ کرم کاہے کو
شور نے نام خدا ان کے بلا سر کھینچا
میر سا ہے کوئی عالم میں علم کاہے کو
میر تقی میر

تب کسی ناآشناے مہر سے الفت کرو

دیوان سوم غزل 1227
کھینچنا رنج و تعب کا دوستاں عادت کرو
تب کسی ناآشناے مہر سے الفت کرو
روٹھ کر منتا نہیں وہ شوخ یوں کیوں نہ کوئی
عذر چاہو دیر تک مدت تلک منت کرو
کب تک اے صورت گراں حیراں پھروں بے روے یار
نقش اس کا کھینچ رکھنے کی کوئی صورت کرو
انس اگر ان نوخطان شہر سے منظور ہے
اپنی پرچھائیں سے بھی جوں خامہ تم وحشت کرو
کچھ نہ پوچھو صحبت دیروزہ کی کم فرصتی
جوں ہی جا بیٹھے لگا کہنے انھیں رخصت کرو
عشق میں کیا دخل ہے نازک مزاجی کے تئیں
کوہکن کے طور سے جی توڑ کر محنت کرو
پہلے دیوانے ہوئے پھر میر آخر ہو گئے
ہم نہ کہتے تھے کہ صاحب عاشقی تم مت کرو
میر تقی میر

کب ہے ویسی مواجہہ کرلو

دیوان سوم غزل 1226
آرسی اس کے سامنے دھرلو
کب ہے ویسی مواجہہ کرلو
اس کی تیغ ستم بلند ہوئی
جی ہے مرنے کو تو چلو مرلو
درپئے خوں ہیں میرے خورد و کلاں
یہ وبال اپنے کوئی سر پر لو
کچھ طرح ہو کہ بے طرح ہو حال
عمر کے دن کسو طرح بھرلو
کیا بلاخیز جا ہے کوچۂ عشق
تم بھی یاں میر مول اک گھر لو
میر تقی میر

پامال ہے سب خلق جہاں ناز تو دیکھو

دیوان سوم غزل 1225
سر کاٹ کے ڈلوا دیے انداز تو دیکھو
پامال ہے سب خلق جہاں ناز تو دیکھو
کچھ سوجھ نہیں پڑتی تمھیں بے خبری سے
ٹک ہوش کی آنکھوں کو کرو باز تو دیکھو
اس بت سے نہیں جب تئیں صحبت تو نہیں ہے
یہ ڈول جو ہوتا ہے خدا ساز تو دیکھو
شب آنکھ مری لگنے نہیں دیتی ہے بلبل
اس مرغ کی بیتابی آواز تو دیکھو
دل ایک تڑپنے میں پرے عرش کے پایا
اس طائر بے بال کی پرواز تو دیکھو
کی زلف و خط و خال نے ایک اور قیامت
تصویر سے چہرے پہ یہ پرداز تو دیکھو
سب میر کو دیتے ہیں جگہ آنکھوں پر اپنی
اس خاک رہ عشق کا اعزاز تو دیکھو
میر تقی میر

بے وقر جانتے ہیں دل بے گداز کو

دیوان سوم غزل 1224
کرنا شعار خوب ہے عجز و نیاز کو
بے وقر جانتے ہیں دل بے گداز کو
ہجراں کی سرگذشت مری گفتنی نہیں
کیا کہیے تم سے قصۂ دور و دراز کو
جوں شمع سر کٹے ہے بیاں حال کا کیے
لانا زباں پہ خوب نہیں دل کے راز کو
حیران ہو رہو گے جو ہم ہو چکے کبھی
دیکھا نہیں ہے مرتے کسو عشق باز کو
جانکاہ و دل خراش ہیں سارے ترے سلوک
دل ہم تو دیتے کاش کسو دل نواز کو
صوفی کی پارسائی کی ہے خانقہ میں دھوم
لے چلیے گا کبھو ادھر اس مست ناز کو
ہے دور ادب سے تم کھڑے میں پاکشیدہ ہوں
مت آئیو جنازے کی میرے نماز کو
میر تقی میر

ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو

دیوان سوم غزل 1223
یہ سرا سونے کی جاگہ نہیں بیدار رہو
ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو
آپ تو ایسے بنے اب کہ جلے جی سب کا
ہم کو کہتے ہیں کہ تم جی کے تئیں مار رہو
لاگ اگر دل کو نہیں لطف نہیں جینے کا
الجھے سلجھے کسو کاکل کے گرفتار رہو
گرچہ وہ گوہرتر ہاتھ نہیں لگتا لیک
دم میں دم جب تئیں ہے اس کے طلبگار رہو
سارے بازار جہاں کا ہے یہی مول اے میر
جان کو بیچ کے بھی دل کے خریدار رہو
میر تقی میر

یہ کیا روش ہے آئو چلے ٹک ادھر کبھو

دیوان سوم غزل 1222
تم بن چمن کے گل نہیں چڑھتے نظر کبھو
یہ کیا روش ہے آئو چلے ٹک ادھر کبھو
دریا سی آنکھیں بہتی ہی رہتی تھیں سو کہاں
ہوتی ہے کوئی کوئی پلک اب تو تر کبھو
جی جانے ہے جو اپنے پہ ہوتی ہے مار مار
جاتے ہیں اس گلی میں کہاں ہم مگر کبھو
آنکھیں سفید ہو چلی ہیں راہ دیکھتے
یارب انھوں کا ہو گا ادھر بھی گذر کبھو
مدت ہوئی ہے نامہ کبوتر کو لے گئے
آجاتی ہے کچھ اڑتی سی ہم تک خبر کبھو
ہم جستجو میں ان کی کیے دست و پا بھی گم
افسوس ہے کہ آئے نہ وہ راہ پر کبھو
غم کو تمھارے دل کے نہایت نہیں ہے میر
اس قصے کو کروگے بھی تم مختصر کبھو
میر تقی میر

خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو

دیوان سوم غزل 1221
دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو
خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو
جز عزیز از جاں نہیں یوسف کو لکھتا یہ کبھو
کیا غرور میرزائی ہے ہمارے یار کو
جب کبھو ایدھر سے نکلے ہے تو اک حسرت کے ساتھ
دیکھے ہے خورشید اس کے سایۂ دیوار کو
بوجھ تو اچھا تھا پر آخر گرو رکھتے ہوئے
وجہ جام مے نہ پایا خرقہ و دستار کو
خوں چکاں شکوے ہیں دل سے تا زباں میری ولے
سی لیا ہے تو کہے میں نے لب اظہار کو
تصفیے سے دل میں میرے منھ نظر آتا ہے لیک
کیا کروں آئینہ ساں میں حسرت دیدار کو
عاشقی وہ روگ ہے جس میں کہ ہوجاتی ہے یاس
اچھے ہوتے کم سنا ہے میر اس آزار کو
میر تقی میر

دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو

دیوان سوم غزل 1220
گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو
دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو
خوب نہیں اے شمع کی غیرت ساتھ رہیں بیگانے دو
کب فرمان پہ تیرے ہوئے یہ بازو کے پروانے دو
ایسے بہانہ طلب سے ہم بھی روز گذاری کرتے ہیں
کب وعدے کی شب آئی جو ان نے کیے نہ بہانے دو
تیرستم اس دشمن جاں کا تا دو کماں پر ہو نہ کہیں
دل سے اور جگر سے اپنے ہم نے رکھیں ہیں نشانے دو
کس کو دماغ رہا ہے یاں اب ضدیں اس کی اٹھانے کا
چار پہر جب منت کریے تب وہ باتیں مانے دو
غم کھاویں یا غصہ کھاویں یوں اوقات گذرتی ہے
قسمت میں کیا خستہ دلوں کی یہ ہی لکھے تھے کھانے دو
خال سیاہ و خط سیاہ ایمان و دل کے رہزن تھے
اک مدت میں ہم نے بارے چوٹٹے یہ پہچانے دو
عشق کی صنعت مت پوچھو جوں نیچے بھوئوں کے چشم بتاں
دیکھیں جہاں محرابیں ان نے طرح کیے میخانے دو
رونے سے تو پھوٹیں آنکھیں دل کو غموں نے خراب کیا
دیکھنے قابل اس کے ہوئے ہیں اب تو یہ ویرانے دو
دشت و کوہ میں میر پھرو تم لیکن ایک ادب کے ساتھ
کوہکن و مجنوں بھی تھے اس ناحیے میں دیوانے دو
میر تقی میر

جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آئو جانے دو

دیوان سوم غزل 1219
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو
جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آئو جانے دو
جان سلامت لے کر جاوے کعبہ میں تو سلام کریں
ایک جراحت ان ہاتھوں کا صید حرم کو کھانے دو
اس کی گلی کی خاک سبھوں کے دامن دل کو کھینچے ہے
ایک اگر جی لے بھی گیا تو آتے ہیں مر جانے دو
کرتے ہو تم نیچی نظریں یہ بھی کوئی مروت ہے
برسوں سے پھرتے ہیں جدا ہم آنکھ سے آنکھ ملانے دو
کیا کیا اپنے لوہو پئیں گے دم میں مریں گے دم میں جئیں گے
دل جو بغل میں رہ نہیں سکتا اس کو کسو سے بکانے دو
اب کے بہت ہے شور بہاراں ہم کو مت زنجیر کرو
دل کی ہوس ٹک ہم بھی نکالیں دھومیں ہم کو مچانے دو
عرصہ کتنا سارے جہاں کا وحشت پر جو آجاویں
پائوں تو ہم پھیلاویں گے پر فرصت ہم کو پانے دو
کیا جاتا ہے اس میں ہمارا چپکے ہم تو بیٹھے ہیں
دل جو سمجھنا تھا سو سمجھا ناصح کو سمجھانے دو
ضعف بہت ہے میر تمھیں کچھ اس کی گلی میں مت جائو
صبر کرو کچھ اور بھی صاحب طاقت جی میں آنے دو
بات بنانا مشکل سا ہے شعر سبھی یاں کہتے ہیں
فکر بلند سے یاروں کو ایک ایسی غزل کہہ لانے دو
میر تقی میر

درویش کتنے ماتم باہم کیا کریں ہیں

دیوان سوم غزل 1218
تکیے میں اپنے دل کا ہم غم کیا کریں ہیں
درویش کتنے ماتم باہم کیا کریں ہیں
جب نام دل کا کوئی لے بیٹھتا ہے ناگہ
منھ دیکھ ہم دگر کا ماتم کیا کریں ہیں
مستوں کی بات کیا ہے جو کوئی اس پہ جاوے
ہم گفتگو نشے میں درہم کیا کریں ہیں
حکم فسانہ سازی پیدا کریں ہیں شب کو
افسوں ہم اس کے اوپر جو دم کیا کریں ہیں
کچھ چال میر جی کی آتی نہیں سمجھ میں
ہم بھی سلوک ان سے اب کم کیا کریں ہیں
میر تقی میر

اب جی میں ہے کہ شہر سے اس کے سفر کریں

دیوان سوم غزل 1217
تاچند وہ ستم کرے ہم درگذر کریں
اب جی میں ہے کہ شہر سے اس کے سفر کریں
بے رو سے ایسی بات کے کرنے کا لطف کیا
وہ منھ کو پھیر پھیر لے ہم حرف سر کریں
کب تک ہم انتظار میں ہر لحظہ بے قرار
گھر سے نکل نکل کے گلی میں نظر کریں
فرہاد و قیس کوہکن و دشت گرد تھے
منھ نوچیں چھاتی کوٹیں یہی ہم ہنر کریں
سختی مسلم اس سے جدا رہنے میں ولے
سر سنگ سے نہ ماریں تو کیوں کر بسر کریں
وہ تو نہیں کہ دیکھیں اس آئینہ رو کو صبح
ہم کس امید پر شب غم کو سحر کریں
لاویں کہاں سے خون دل اتنا کہ میر ہم
جس وقت بات کرنے لگیں چشم تر کریں
میر تقی میر

کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں

دیوان سوم غزل 1216
مصرع کوئی کوئی کبھو موزوں کروں ہوں میں
کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں
بات اپنے ڈھب کی کوئی کرے وہ تو کچھ کہوں
بیٹھا خموش سامنے ہوں ہوں کروں ہوں میں
اس بن نظر زمین سے سی دی ہے تو کہے
کاہے کو چشم جانب گردوں کروں ہوں میں
اٹھتا ہے بے دماغ ہی ہرچند رات کو
افسانہ کہتے سینکڑوں افسوں کروں ہوں میں
کب بے دماغی شہر سے دیتی ہے اٹھنے میر
یوں تو خیال وادی مجنوں کروں ہوں میں
میر تقی میر

جاتی رہے گی جان اسی رہگذر سے یاں

دیوان سوم غزل 1215
مدت ہوئی کہ کوئی نہ آیا ادھر سے یاں
جاتی رہے گی جان اسی رہگذر سے یاں
وہ آپ چل کے آوے تو شاید کہ جی رہے
ہوتی نہیں تسلی دل اب خبر سے یاں
پوچھے کوئی تو سینہ خراشی دکھایئے
سو تو نہیں ہے حرف و حکایت ہنر سے یاں
آگے تو اشک پانی سے آجاتے تھے کبھو
اب آگ ہی نکلنے لگی ہے جگر سے یاں
ٹپکا کریں ہیں پلکوں سے بے فاصلہ سرشک
برسات کی ہوا ہے سدا چشم تر سے یاں
اے بت گرسنہ چشم ہیں مردم نہ ان سے مل
دیکھیں ہیں ہم نے پھوٹتے پتھر نظر سے یاں
راہ و روش کا ہووے ٹھکانہ تو کچھ کہیں
کیا جانے میر آگئے تھے کل کدھر سے یاں
میر تقی میر

لگ گیا ڈھب تو اسی شوخ سے ڈھب کرتے ہیں

دیوان سوم غزل 1214
ہجر تاچند ہم اب وصل طلب کرتے ہیں
لگ گیا ڈھب تو اسی شوخ سے ڈھب کرتے ہیں
روز اک ظلم نیا کرتے ہیں یہ دلبر اور
روز کہتے ہیں ستم ترک ہم اب کرتے ہیں
لاگ ہے جی کے تئیں اپنے اسی یار سے ایک
اور سب یاروں کا ہم لوگ تو سب کرتے ہیں
تم کبھو میر کو چاہو سو کہ چاہیں ہیں تمھیں
اور ہم لوگ تو سب ان کا ادب کرتے ہیں
ہوں جو بے حال اس اعجوبۂ عالم کے لیے
حال سن سن کے مرا لوگ عجب کرتے ہیں
میر سے بحث یہ تھی کچھ جو نہ تھے حرف شناس
اب سخن کرتے ہیں کوئی تو غضب کرتے ہیں
میر تقی میر

میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں

دیوان سوم غزل 1213
مجھ کو دماغ وصف گل و یاسمن نہیں
میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں
کہنے لگا کہ لب سے ترے لعل خوب ہے
اس رنگ ڈھنگ سے تو ہمارا سخن نہیں
پہنچا نہ ہو گا منزل مقصود کے تئیں
خاک رہ اس کی جس کا عبیر کفن نہیں
ہم کو خرام ناز سے مت خاک میں ملا
دل سے ہے جن کو راہ یہ ان کا چلن نہیں
گل کام آوے ہے ترے منھ کے نثار کے
صحبت رکھے جو تجھ سے یہ اس کا دہن نہیں
کل جا کے ہم نے میر کے ہاں یہ سنا جواب
مدت ہوئی کہ یاں تو وہ غربت وطن نہیں
میر تقی میر

ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں

دیوان سوم غزل 1212
افیوں ہی کے تو دل شدہ ہم رو سیاہ ہیں
ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں
یاں جیسے شمع بزم اقامت نہ کر خیال
ہم دل کباب پردے میں سرگرم راہ ہیں
کہنا نہ کچھ کبھو کھڑے حسرت سے دیکھنا
ہم کشتنی ہیں واقعی گر بے گناہ ہیں
گہ مہرباں ہوں دور سے گہ آنکھیں پھیر لیں
معشوق آفتاب ہیں عشاق ماہ ہیں
آنکھیں ہماری پائوں تلے کیوں نہ وہ ملے
ہم بھی تو میر کشتۂ طرز نگاہ ہیں
میر تقی میر

سوراخ پڑ گئے جگر عندلیب میں

دیوان سوم غزل 1211
میں نالہ کش تھا صبح کو یادحبیب میں
سوراخ پڑ گئے جگر عندلیب میں
سر مارتے ہیں سنگ سے فرہاد کے سے رنگ
دیکھیں تو ہم بھی کیا ہے ہمارے نصیب میں
جانے کو سوے دوست مسافر ہوئے ہیں ہم
ڈر ہر قدم ہے عشق کی راہ غریب میں
کیا رفتگاں کے ہاتھ سے ہو کتنے ان کے پائوں
اکثر جنھوں کا ہاتھ ہے دست طبیب میں
دل خستہ چشم بستہ و رو زرد تس پہ گرد
حیرت ہے ہم کو میر کے حال عجیب میں
میر تقی میر

بارے سب روزے تو گذرے مجھے میخانے میں

دیوان سوم غزل 1210
اب کے ماہ رمضاں دیکھا تھا پیمانے میں
بارے سب روزے تو گذرے مجھے میخانے میں
جیسے بجلی کے چمکنے سے کسو کی سدھ جائے
بے خودی آئی اچانک ترے آجانے میں
وہ تو بالیں تئیں آیا تھا ہماری لیکن
سدھ بھی کچھ ہم کو نہ تھی جانے کے گھبرانے میں
آج سنتے ہیں کہ فردا وہ قدآرا ہو گا
دیر کچھ اتنی قیامت کے نہیں آنے میں
حق جو چاہے تو بندھی مٹھی چلا جائوں میر
مصلحت دیکھی نہ میں ہاتھ کے پھیلانے میں
میر تقی میر

خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں

دیوان سوم غزل 1209
نچیں جبہے عاشق اگر دست پائیں
خدا نُہ نہ دے ان کو جو سر کھجائیں
جھمکنے لگا خوں تو جاے سرشک
ابھی دیکھیں آنکھیں ہمیں کیا دکھائیں
رہیں کس کو سانسے کہ اب ضعف سے
مرا جی ہی کرنے لگا سائیں سائیں
خدا ساز تھا آزر بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں
چلا یار کی اور جاتا ہے جی
جو ہو اختیاری تو اودھر نہ جائیں
جگر سوز ہیں اس کے لعل خموش
طلب کریے بوسہ تو باتیں بنائیں
ہمیں بے نیازی نے بٹھلا دیا
کہاں اتنی طاقت کہ منت اٹھائیں
کہیں دیکھے وہ بید مجنوں کہ ہم
فراموش کار اپنے کو تا دکھائیں
کہیں میر عشق مجازی ہے بد
حقیقت ہو معلوم گر دل لگائیں
میر تقی میر

لگ اٹھتی آگ سب جوِّ سما میں

دیوان سوم غزل 1208
اثر ہوتا ہماری گر دعا میں
لگ اٹھتی آگ سب جوِّ سما میں
نہ اٹکا ہائے ٹک یوسفؑ کا مالک
وگرنہ مصر سب ملتا بہا میں
قصور اپنے ہی طول عمر کا تھا
نہ کی تقصیر ان نے تو جفا میں
سخن مشتاق ہیں بندے کے سب لوگ
سر و دل کس کو ہے عشق خدا میں
کفن کیا عشق میں میں نے ہی پہنا
کھنچے لوہو میں بہتیروں کے جامیں
پیام اس گل کو اس کے ہاتھ دیتے
سبک پائی نہ ہوتی گر صبا میں
جیو خوش یا کوئی ناخوش ہمیں کیا
ہم اپنے محو ہیں ذوق فنا میں
ہمیں فرہاد و مجنوں جس سے چاہو
تم آکر پوچھ لو شہر وفا میں
سراپا ہی ادا و ناز ہے یار
قیامت آتی ہے اس کی ادا میں
بلا زلف سیاہ اس کی ہے پرپیچ
وطن دل نے کیا ہے کس بلا میں
ضعیف و زار تنگی سے ہیں ہرچند
ولیکن میر اڑتے ہیں ہوا میں
میر تقی میر

لگی ہے آگ اک میرے جگر میں

دیوان سوم غزل 1207
شرر سے اشک ہیں اب چشم تر میں
لگی ہے آگ اک میرے جگر میں
نگین عاشق و معشوق کے رنگ
جدا رہتے ہیں ہم وے ایک گھر میں
بلا ہنگامہ تھا کل اس کے در پر
قیامت گم ہوئی اس شور و شر میں
بگولے کی روش وحشت زدہ ہم
رہے برچیدہ دامن اس سفر میں
سماں یاں سانجھ کا سا ہو نہ جاتا
اثر ہوتا اگر آہ سحر میں
لچکنے ہی نے ہم کو مار رکھا
کٹاری تو نہ تھی اس کی کمر میں
رہا تھا دیکھ اودھر میر چلتے
عجب اک ناامیدی تھی نظر میں
میر تقی میر

ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں

دیوان سوم غزل 1206
روتے ہیں نالہ کش ہیں یا رات دن جلے ہیں
ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں
جوں دود عمر گذری سب پیچ و تاب ہی میں
اتنا ستا نہ ظالم ہم بھی جلے بلے ہیں
مرنا ہے خاک ہونا ہو خاک اڑتے پھرنا
اس راہ میں ابھی تو درپیش مرحلے ہیں
کس دن چمن میں یارب ہو گی صبا گل افشاں
کتنے شکستہ پر ہم دیوار کے تلے ہیں
جب یاد آگئے ہیں پاے حنائی اس کے
افسوس سے تب اپنے ہم ہاتھ ہی ملے ہیں
تھا جو مزاج اپنا سو تو کہاں رہا ہے
پر نسبت اگلی تو بھی ہم ان دنوں بھلے ہیں
کچھ وہ جو کھنچ رہا ہے ہم کانپتے ہیں ڈر سے
یاں جوں کمان گھر میں ہر وقت زلزلے ہیں
اک شور ہی رہا ہے دیوان پن میں اپنے
زنجیر سے ہلے ہیں گر کچھ بھی ہم ہلے ہیں
پست و بلند دیکھیں کیا میر پیش آئے
اس دشت سے ہم اب تو سیلاب سے چلے ہیں
میر تقی میر

مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں

دیوان سوم غزل 1205
کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں
مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں
ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں جو کہیے
روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں
گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے
جیسے اسیر تازہ بیتاب ہو قفس میں
جانکاہ ایسے نالے لوہے سے تو نہ ہوویں
بیتاب دل کسو کا رکھا ہے کیا جرس میں
اب لاغری سے دیں ہیں ساری رگیں دکھائی
پر عشق بھر رہا ہے ایک ایک میری نس میں
اے ابر ہم بھی برسوں روتے پھرا کیے ہیں
دریا بندھے پڑے ہیں وادی کے خار و خس میں
کیا میر بس کرے ہے اب زاری آہ شب کی
دل آگیا ہے اس کا ظالم کسو کے بس میں
میر تقی میر

دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں

دیوان سوم غزل 1204
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں
دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں
داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ فگار
گل پھول زور زور کھلے اس بہار میں
کیا اعتبار طائر دل کی تڑپ کا اب
مذبوحی سی ہے کچھ حرکت اس شکار میں
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی تم بگڑ گئے
بہتیری باتیں ہوتی ہیں اخلاص پیار میں
دل پھر کے ہم سے خانۂ زنجیر کے قریب
ٹک پہنچتا ہی ہے شکن زلف یار میں
اس بحرحسن پاس نہ خنجر تھا کل نہ تیغ
میں جان دی ہے حسرت بوس و کنار میں
چلتا ہے ٹک تو دیکھ کے چل پائوں ہر نفس
آنکھیں ہی بچھ گئی ہیں ترے رہگذار میں
کس کس ادا سے ریختے میں نے کہے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں
تڑپے ہے متصل وہ کہاں ایسے روز و شب
ہے فرق میر برق و دل بے قرار میں
میر تقی میر

دل کلیجا نکال لیتے ہیں

دیوان سوم غزل 1203
جس کا خوباں خیال لیتے ہیں
دل کلیجا نکال لیتے ہیں
کیا نظرگاہ ہے کہ شرم سے گل
سر گریباں میں ڈال لیتے ہیں
دیکھ اسے ہو ملک سے بھی لغزش
ہم تو دل کو سنبھال لیتے ہیں
کھول کر بال سادہ رو لڑکے
خلق کا کیوں وبال لیتے ہیں
تیغ کھینچے ہیں جب یہ خوش ظاہر
ماہ و خور منھ پہ ڈھال لیتے ہیں
دلبراں نقد دل کو عاشق کے
جان کر اپنا مال لیتے ہیں
ہیں گدا میر بھی ولے دوجہاں
کرکے اک ہی سوال لیتے ہیں
میر تقی میر

ایسی جنت گئی جہنم میں

دیوان سوم غزل 1202
جائے ہے جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں
نزع میں میرے ایک دم ٹھہرو
دم ابھی ہیں ہزار اک دم میں
نعل ہم چھاتیوں پہ جڑ کے پھرے
اپنے خوں گشتہ دل کے ماتم میں
ہے بہت جیب چاکی ہی جوں صبح
کیا کیا جائے فرصت کم میں
پرکے تھی بے کلی قفس میں بہت
دیکھیے اب کے گل کے موسم میں
آپ میں ہم نہیں تو کیا ہے عجب
دور اس سے رہا ہے کیا ہم میں
بے خودی پر نہ میر کی جائو
تم نے دیکھا ہے اور عالم میں
میر تقی میر

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

دیوان سوم غزل 1201
شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں
عالم آئینہ ہے جس کا وہ مصور بے مثل
ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں
قسمت اس بزم میں لائی کہ جہاں کا ساقی
دے ہے مے سب کو ہمیں زہر پلاتا ہے میاں
ہوکے عاشق ترے جان و دل و دیں کھو بیٹھے
جیسا کرتا ہے کوئی ویسا ہی پاتا ہے میاں
حسن یک چیز ہے ہم ہوویں کہ تو ہو ناصح
ایسی شے سے کوئی بھی ہاتھ اٹھاتا ہے میاں
جھکّڑ اس حادثے کا کوہ گراں سنگ کو بھی
جوں پر کاہ اڑائے لیے جاتا ہے میاں
کیا پری خواں ہے جو راتوں کو جگاوے ہے میر
شام سے دل جگر و جان جلاتا ہے میاں
میر تقی میر

جھلک سی مارتی ہے کچھ سیاہی داغ سودا میں

دیوان سوم غزل 1200
بہار آئی کھلے گل پھول شاید باغ و صحرا میں
جھلک سی مارتی ہے کچھ سیاہی داغ سودا میں
نفاق مردماں عاجز سے ہے زعم تکبر پر
کہوں کیا اتفاق ایسا بھی ہوجاتا ہے دنیا میں
نموداری ہماری بے کلی سے ایک چشمک ہے
ٹھہرنا برق سا اپنا ہے ہوچکنا اسی جا میں
سخن دس پانچ یاں ہیں جمع کس حسن لطافت سے
تفاوت ہے مرے مجموعہ و عقد ثریا میں
کنواں دیکھا نہ کوئی غار میں نے شوق کے مارے
بعینہ راہ اندھا سا چلا اس کی تمنا میں
بہت تھا شور وحشت سر میں میرے سوچ نے تیری
لکھی تصویر تو زنجیر پہلے کھینچ لی پا میں
جدائی کے تعب کھینچے نہیں ہیں میر راضی ہوں
جلاویں آگ میں یا مجھ کو پھینکیں قعر دریا میں
میر تقی میر

رونے سے تب تو میری کچھ آنکھیں جلتیاں ہیں

دیوان سوم غزل 1199
چنگاریاں گرے ہیں جب پلکیں ہلتیاں ہیں
رونے سے تب تو میری کچھ آنکھیں جلتیاں ہیں
آنکھیں ملا کے اس سے ٹک دیکھو حال دل کا
وے انکھڑیاں جیوں کو اپنے تو ملتیاں ہیں
ہم تو بھی فصل گل میں چل ٹک تو پاس بیٹھیں
سر جوڑ جوڑ کیسی کلیاں نکلتیاں ہیں
مذکور دخت رز کا کیا شیخ رہگذر میں
اس سے ابھی ہماری باتیں ہی چلتیاں ہیں
دیکھیں تو میر کیا ہو بے طاقتی سے حالت
اب دیر دیر جانیں اپنی سنبھلتیاں ہیں
میر تقی میر

خاک سی منھ پر مرے اس وقت اڑ جاتی ہے میاں

دیوان سوم غزل 1198
جوش غم اٹھنے سے اک آندھی چلی آتی ہے میاں
خاک سی منھ پر مرے اس وقت اڑ جاتی ہے میاں
پڑ گئے سوراخ دل کے غم میں سینے کوٹتے
سل تو پتھر کی نہیں آخر مری چھاتی ہے میاں
میں حیا والا ہوا رسواے عالم عشق میں
آنکھ میری اس سبب لوگوں سے شرماتی ہے میاں
رشک اس کے چہرئہ پرنور کا ہے جاں گداز
شمع مجلس میں کھڑی اپنے تئیں کھاتی ہے میاں
آگ غیرت سے قفس کو دوں ہوں چاروں اور سے
ایک دو گلبرگ جب بادسحر لاتی ہے میاں
ہے حزیں نالیدن اس کا نغمۂ طنبور سا
خوش نوا مرغ گلستاں رند باغاتی ہے میاں
کیا کہوں منھ تک جگر آتا ہے جب رکتا ہے دل
جان میری تن میں کیسی کیسی گھبراتی ہے میاں
اس کے ابروے کشیدہ خم ہی رہتے ہیں سدا
یہ کجی اس تیغ کی تو جوہر ذاتی ہے میاں
گات اس اوباش کی لیں کیونکے بر میں میر ہم
ایک جھرمٹ شال کا اک شال کی گاتی ہے میاں
میر تقی میر

کسو سے شہر میں کچھ اختلاط مجھ کو نہیں

دیوان سوم غزل 1197
گرفتہ دل ہوں سر ارتباط مجھ کو نہیں
کسو سے شہر میں کچھ اختلاط مجھ کو نہیں
جہاں ہو تیغ بکف کوئی سادہ جا لگنا
اب اپنی جان کا کچھ احتیاط مجھ کو نہیں
کرے گا کون قیامت کو ریسماں بازی
دل و دماغ گذار صراط مجھ کو نہیں
جسے ہو مرگ سا پیش استحالہ کیوں نہ کڑھے
اس اپنے جینے سے کچھ انبساط مجھ کو نہیں
ہوا ہوں فرط اذیت سے میں تو سن اے میر
تمیز رنج و خیال نشاط مجھ کو نہیں
میر تقی میر

جس سے دل آگ و چشم آب ہے میاں

دیوان سوم غزل 1196
عشق وہ خانماں خراب ہے میاں
جس سے دل آگ و چشم آب ہے میاں
تن میں جب تک ہے جاں تکلف ہے
ہم میں اس میں ابھی حجاب ہے میاں
گو نہیں میں کسو شمار میں یاں
عاقبت ایک دن حساب ہے میاں
کو دماغ و جگر کہاں وہ قلب
یاں عجب ایک انقلاب ہے میاں
زلف بل کھا رہی ہے گو اس کی
دل کو اپنے تو پیچ و تاب ہے میاں
لطف و مہر و وفا وہ کیا جانے
ناز ہے خشم ہے عتاب ہے میاں
لوہو اپنا پیوں ہوں چپکا ہوں
کس کو اس بن سر شراب ہے میاں
چشم وا یاں کی چشم بسمل ہے
جاگنا یہ نہیں ہے خواب ہے میاں
منھ سے کچھ بولتا نہیں قاصد
شاید اودھر سے اب جواب ہے میاں
دل ہی اپنا نہیں فقط بے چین
جی کو بھی زور اضطراب ہے میاں
چاہیے وہ کہے سو لکھ رکھیں
ہر سخن میر کا کتاب ہے میاں
میر تقی میر

بھروسا کیا ہے میرا میں چراغ زیر داماں ہوں

دیوان سوم غزل 1195
جلا از بس تمھارے طور سے اے جامہ زیباں ہوں
بھروسا کیا ہے میرا میں چراغ زیر داماں ہوں
سر حرف و سخن کس کو خیال زلف میں اس کے
تنک میں جو بکھر جاتا ہوں میں خاطر پریشاں ہوں
کہن سالی میں شاہد بازیاں کاہے کو زیبا تھیں
دیا لڑکوں کو دل میں نے قیامت میں بھی ناداں ہوں
کبھو خورشید و مہ کو دیکھ رہتا ہوں کبھو گل کو
مرے انداز سے ظاہر ہے میں اس رو کا حیراں ہوں
کسو کی یاد رو میں اشک آنکھوں سے نہیں تھمتے
برنگ ابر قبلہ آج میں شدت سے گریاں ہوں
بکا جب تک نہیں کرتا ہوں تب تک خیر ہے ورنہ
بلا ہوں فتنہ ہوں آشوب ہوں آفت ہوں طوفاں ہوں
بحال سگ پھرا کب تک کروں یوں اس کے کوچے میں
خجالت کھینچتا ہوں میر آخر میں بھی انساں ہوں
میر تقی میر

سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں

دیوان سوم غزل 1194
تھا شوق مجھے طالب دیدار ہوا میں
سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں
جب دور گیا قافلہ تب چشم ہوئی باز
کیا پوچھتے ہو دیر خبردار ہوا میں
اب پست و بلند ایک ہے جوں نقش قدم یاں
پامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میں
کب ناز سے شمشیر ستم ان نے نہ کھینچی
کب ذوق سے مرنے کو نہ تیار ہوا میں
بازار وفا میں سرسودا تھا سبھوں کو
پر بیچ کے جی ایک خریدار ہوا میں
ہشیار تھے سب دام میں آئے نہ ہم آواز
تھی رفتگی سی مجھ کو گرفتار ہوا میں
کیا چیتنے کا فائدہ جو شیب میں چیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
تم اپنی کہو عشق میں کیا پوچھو ہو میری
عزت گئی رسوائی ہوئی خوار ہوا میں
اس نرگس مستانہ کو دیکھے ہوئے برسوں
افراط سے اندوہ کی بیمار ہوا میں
رہتا ہوں سدا مرنے کے نزدیک ہی اب میر
اس جان کے دشمن سے بھلا یار ہوا میں
میر تقی میر

برسنا مینھ کا داخل ہے اس بن تیر باراں میں

دیوان سوم غزل 1193
چمکنا برق کا کرتا ہے کار تیغ ہجراں میں
برسنا مینھ کا داخل ہے اس بن تیر باراں میں
بھرے رہتے ہیں سارے پھول ہی جس کے گریباں میں
وہ کیا جانے کہ ٹکڑے ہیں جگر کے میرے داماں میں
کہیں شام و سحر رویا تھا مجنوں عشق لیلیٰ میں
ہنوز آشوب دونوں وقت رہتا ہے بیاباں میں
خیال یار میں آگے ہے یک مہ پارہ یاں ہر دم
اگر ہجراں میں زندانی ہوں پر ہوں یوسفستاں میں
رکھا عرصہ جنوں پر تنگ مشتاقوں کی دوری سے
کسے مارا ہے اس گھتیے نے سنمکھ ہوکے میداں میں
جہاں سے دیکھیے اک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
جو دیکھو تو نہیں یہ حال اپنا حسن سے خالی
دمک الماس کی سی ہے ہماری چشم حیراں میں
خرابی آگئی دینوں میں ملت گئی اسے دیکھے
ملے سے اس کے رخنے پڑ گئے لوگوں کے ایماں میں
نکل آتا ہے گھر سے ہر گھڑی ننگے بدن باہر
برا یہ آپڑا ہے عیب اس آسائش جاں میں
ستم کے تیر اس کے میرے سینے میں بہت ٹوٹے
کیا جاتا ہے مشکل فرق اب دل اور پیکاں میں
ہواے ابر میں کیا میر ہنستا باغ میں وہ تھا
گری پڑتی ہے بجلی آج کچھ صحن گلستاں میں
میر تقی میر

وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں

دیوان سوم غزل 1192
دل عجب جنس گراں قدر ہے بازار نہیں
وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں
کچھ تمھیں ملنے سے بیزار ہو میرے ورنہ
دوستی ننگ نہیں عیب نہیں عار نہیں
ایک دو بات کبھو ہم سے کہو یا نہ کہو
قدر کیا اپنی ہمیں اس لیے تکرار نہیں
ناز و انداز و ادا عشوہ و اغماض و حیا
آب و گل میں ترے سب کچھ ہے یہی پیار نہیں
صورت آئینے میں ٹک دیکھ تو کیا صورت ہے
بدزبانی تجھے اس منھ پہ سزاوار نہیں
دل کے الجھائو کو کیا تجھ سے کہوں اے ناصح
تو کسو زلف کے پھندے میں گرفتار نہیں
اس کے کاکل کی پہیلی کہو تم بوجھے میر
کیا ہے زنجیر نہیں دام نہیں مار نہیں
میر تقی میر

ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں

دیوان سوم غزل 1191
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں
ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں
اب ایک سی بیہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو
کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے
اب دیدئہ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں
ان پائوں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا
افسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں
کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے
ہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں
کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی
تب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں
گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک
جی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں
ہیں نرم صنم گونہ کہنے کے تئیں ورنہ
پتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں
اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے
جو رہ سکو رہ جائو اب میر بھی چلتے ہیں
میر تقی میر

ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں

دیوان سوم غزل 1190
کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں
ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں
گل تو مجھ حیران کی خاطر بہت کرتا ہے لیک
وا نہیں ہوتا برنگ غنچۂ تصویر میں
روبرو اس کے گئے خاموش ہوجاتا ہوں کچھ
کس سے اپنے چپکے رہنے کی کروں تقریر میں
تن بدن میں دل کی گرمی نے لگا رکھی ہے آگ
عشق کی تو ہے جوانی ہو گیا گو پیر میں
ہو اگر خونریز کا اپنے سبب تو کچھ کہو
وہ ستمگر ہے مقرر اور بے تقصیر میں
بے دماغی شور شب سے یار کو دونی ہوئی
دیکھی بس اس بے سرایت نالے کی تاثیر میں
کچھ نہیں پوچھا ہے مجھ سے جز حدیث روے یار
ہاتھ بلبل کے لگا ہوں باغ میں جب میر میں
میر تقی میر

نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں

دیوان سوم غزل 1189
نہ کر شوق کشتوں سے جانے کی باتیں
نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں
سماجت جو کی بوس لب پر تو بولا
نہیں خوب یہ مار کھانے کی باتیں
زبانیں بدلتے ہیں ہر آن خوباں
یہ سب کچھ ہیں بگڑے زمانے کی باتیں
نظر جب کرو زیر لب کچھ کہے ہے
کہو یار کے آستانے کی باتیں
سہی جائے گالی اگر دوستی ہو
بری بھی بھلی ہیں لگانے کی باتیں
ہمیں دیر و کعبے سے کیا گفتگو ہے
چلی جاتی ہیں یہ سیانے کی باتیں
بگڑ بھی چکے یار سے ہم تو یارو
کرو کچھ اب اس سے بنانے کی باتیں
کیا سیر کل میں نے دیوان مجنوں
خوش آئیں بہت اس دوانے کی باتیں
بہت ہرزہ گوئی کی یاں میر صاحب
کرو واں کے کچھ منھ دکھانے کی باتیں
میر تقی میر

یہ کانٹے کھٹکتے جگر میں بھی ہیں

دیوان سوم غزل 1188
تری پلکیں چبھتی نظر میں بھی ہیں
یہ کانٹے کھٹکتے جگر میں بھی ہیں
رہے پھرتے دریا میں گرداب سے
وطن میں بھی ہیں ہم سفر میں بھی ہیں
کہاں سے کہ مجنوں بھی ہم سا ہی تھا
غلط کے شوائب نظر میں بھی ہیں
نہ بھولو نزاکت لچک ہی نہیں
چھپے خنجر اس کی کمر میں بھی ہیں
جھمک سطح رخ کی سی اس کے کہاں
صفا و ضیا تو گہر میں بھی ہیں
دل و دلی دونوں اگر ہیں خراب
پہ کچھ لطف اس اجڑے گھر میں بھی ہیں
چلو میر کے تو تجسس کے بعد
کہ وے وحشی تو اپنے گھر میں بھی ہیں
میر تقی میر

عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں

دیوان سوم غزل 1187
تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں
عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں
گذرے گر دل میں ہوکر تو ایک نگاہ ضروری ہے
کچھ کچھ تیرے غم نے لکھا ہے آکر واں کی عمارت میں
سوکھ کے میں تو عشق کے غم میں خس کی مثال حقیر ہوا
وہ تقصیر نہیں کرتا ہے اب تک میری حقارت میں
ایک بگولا ساتھ مجھے بھی تربت قیس پہ لے آیا
کتنے غزال نظر واں آئے تھے مشغول زیارت میں
دل کو آگ اک دم میں دے دی اشک ہوئے چنگاری سے
کیا ہی شریر ہے شوخی برق ملائی ان نے شرارت میں
شیخ جو تھا دیدار بتاں کا منکر ایسا تھا معذور
دل کو بصیرت تھی نہ اس کے بے نوری تھی بصارت میں
خط و کتابت ایک طرف ہے دفتر لکھ لکھ بھیجے میر
کہیے کچھ جو صریر قلم کی کوتاہی ہو سفارت میں
میر تقی میر