زمرہ جات کے محفوظات: غزل

مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں

دیوان پنجم غزل 1686
رساتے ہو آتے ہو اہل ہوس میں
مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں
درا میں کہاں شور ایسا دھرا تھا
کسو کا مگر دل رکھا تھا جرس میں
ہمیں عشق میں بیکسی بے بسی ہے
نہ دشمن بھی ہو دوستی کے تو بس میں
نہ رہ مطمئن تسمہ باز فلک سے
دغا سے یہ بہتوں کے کھینچے ہے تسمیں
بہت روئے پردے میں جب دیدئہ تر
ہوئی اچھی برسات تب اس برس میں
تن زرد و لاغر میں ظاہر رگیں ہیں
بھرا ہے مگر عشق اک ایک نس میں
محبت وفا مہر کرتے تھے باہم
اٹھا دی ہیں وے تم نے اب ساری رسمیں
تمھیں ربط لوگوں سے ہر قسم کے ہے
نہ کھایا کرو جھوٹی جھوٹی تو قسمیں
ہوا ہی کو دیکھیں ہیں اے میر اسیراں
لگادیں مگر آنکھیں چاک قفس میں
میر تقی میر

اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں

دیوان پنجم غزل 1685
تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں
اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں
پیری ہے اب تو کہیے سو کیا کہیے ہم نشیں
کس رنج و غم میں گذریں ہیں اپنی جوانیاں
ظلم و ستم سے خون کیا پھر ڈبا دیا
برباد کیا گئیں ہیں مری جاں فشانیاں
میں آپ چھیڑچھیڑ کے کھاتا ہوں گالیاں
خوش آگئیں ہیں اس کی مجھے بد زبانیاں
سنتا نہیں ہے شعر بھی وہ حرف ناشنو
دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
باتیں کڈھب رقیب کی ساری ہوئیں قبول
مجھ کو جو ان سے عشق تھا میری نہ مانیاں
مجلس میں تو خفیف ہوئے اس کے واسطے
پھر اور ہم سے اٹھتیں نہیں سرگرانیاں
عالم کے ساتھ جائیں چلے کس طرح نہ ہم
عالم تو کاروان ہے ہم کاروانیاں
سررفتہ سن نہ میر کا گر قصد خواب ہے
نیندیں اچٹتیاں ہیں سنے یہ کہانیاں
میر تقی میر

ترحم کہ مت کر ستم پر ستم

دیوان پنجم غزل 1684
تظلم کہ کھینچے الم پر الم
ترحم کہ مت کر ستم پر ستم
علم بازی آہ جانکاہ ہے
رہے ٹوٹتے ہی علم پر علم
جو سو سر کے ہو آئو مانوں نہ میں
عبث کھاتے ہو تم قسم پر قسم
کئی بار آنا ادھر لطف سے
عطا پر عطا ہے کرم پر کرم
خطرناک تھی وادی عشق میر
گئے اس پہ بھی ہم قدم پر قدم
میر تقی میر

جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم

دیوان پنجم غزل 1683
ہم نہ کہا کرتے تھے تم سے دل نہ کسو سے لگائو تم
جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم
سو نہ سنی تم نے تو ہماری آنکھیں لگو ہیں لگ پڑیاں
رو رو کر سر دھنتے ہو اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
صبر کہاں جو تسکیں ہووے بیتابی سے چین کہاں
ایک گھڑی میں سو سو باری اودھر ایدھر جائو تم
خواہش دل ہے چاہ کسو کی یہی سبب ہے کاہش کا
ناحق ناحق کیوں کہتے ہو حق کی طرف دل لائو تم
ہر کوچے میں کھڑے رہ رہ کر ایدھر اودھر دیکھو ہو
ہائے خیال یہ کیا ہے تم کو جانے بھی دو اب آئو تم
فاش نہ کریے راز محبت جانیں اس میں جاتی ہیں
درد دل آنکھوں سے ہر یک کے تا مقدور چھپائو تم
قدر و قیمت اس سے زیادہ میر تمھاری کیا ہو گی
جس کے خواہاں دونوں جہاں ہیں اس کے ہاتھ بکائو تم
میر تقی میر

پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم

دیوان پنجم غزل 1682
اس کی گلی میں غش جو کیا آسکے نہ ہم
پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم
سوئے تو غنچہ ہو کسو گلخن کے آس پاس
اس تنگنا میں پائوں بھی پھیلا سکے نہ ہم
حالانکہ ظاہر اس کے نشاں شش جہت تھے میر
خود گم رہے جو پھرتے بہت پا سکے نہ ہم
میر تقی میر

نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم

دیوان پنجم غزل 1681
کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم
نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم
شکیبائی کہاں جو اب رہے جاتی ہوئی عزت
کدھر وہ ناز جس سے سرفرو ہرگز نہ لاتے تم
یہ حسن خلق تم میں عشق سے پیدا ہوا ورنہ
گھڑی کے روٹھے کو دو دو پہر تک کب مناتے تم
نظر دزدیدہ کرتے ہو جھکی رکھتے ہو پلکوں کو
لگی ہوتیں نہ آنکھیں تو نہ آنکھوں کو چھپاتے تم
یہ ساری خوبیاں دل لگنے کی ہیں مت برا مانو
کسو کا بار منت بے علاقہ کب اٹھاتے تم
پھرا کرتے تھے جب مغرور اپنے حسن پر آگے
کسو سے دل لگا جو پوچھتے ہو آتے جاتے تم
جو ہوتے میر سو سر کے نہ کرتے اک سخن ان سے
بہت تو پان کھاتے ہونٹ غصے سے چباتے تم
میر تقی میر

کیوں کر اڑ کر پہنچیں اس تک طائر بے پر ہیں ہم

دیوان پنجم غزل 1680
کیا کریں بیکس ہیں ہم بے بس ہیں ہم بے گھر ہیں ہم
کیوں کر اڑ کر پہنچیں اس تک طائر بے پر ہیں ہم
سر نہ بالیں سے اٹھاویں کاشکے بیمار عشق
ہو گا یک ہنگامہ برپا فتنہ زیر سر ہیں ہم
سو طرف لے جاتی ہے ہم کو پریشاں خاطری
یاں کسے ڈھونڈو ہو تم کیا جانیے کیدھر ہیں ہم
گر نہ روئیں کیا کریں ہر چار سو ہے بیکسی
بیدل و بے طاقت و بے دین و بے دلبر ہیں ہم
وہ جو رشک مہ کبھی اس راہ سے نکلا نہ میر
ہم نہ رکھتے تھے ستارہ یعنی بداختر ہیں ہم
میر تقی میر

کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم

دیوان پنجم غزل 1679
ہم تو یہی کہتے تھے ہمیشہ دل کو کہیں نہ لگائو تم
کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
جھوٹ کہا کیا ہم نے اس میں طور جو اس سے ظاہر ہے
ہاتھ چلے تو عاشق زار کو خاک و خوں میں لٹائو تم
صبر کرو بیتاب رہو خاموش پھرو یا شور کرو
کس کو یاں پروا ہے کسو کی ٹھہرو آئو جائو تم
ناز غرور تبختر سارا پھولوں پر ہے چمن کا سو
کیا مرزائی لالہ و گل کی کچھ خاطر میں نہ لائو تم
وائے کہ اس ہجراں کشتے نے باغ سے جاتے ٹک نہ سنا
گل نے کہا جو خوبی سے اپنی کچھ تو ہمیں فرمائو تم
دست و پا بہتیرے مارے سر بھی پھوڑے حیرت ہے
کیا کریے جو بے دست و پا ہم سوں کے ہاتھ آئو تم
غم میں تمھاری صورت خوش کے سینکڑوں شکلیں گوبگڑیں
بیٹھے ناز و غرور سے بکھرے بال اپنے نہ بنائو تم
در پہ حرم کے کشود نہیں تو دیر میں جاکر کافر ہو
قشقہ کھینچو پوتھی پڑھو زنار گلے سے بندھائو تم
بود نبود ثبات رکھے تو یہ بھی اک بابت ہے میر
اس صفحے میں حرف غلط ہیں کاشکے ہم کو مٹائو تم
میر تقی میر

کاش اجل بے وقت ہی پہنچے ایک طرف مرجاویں ہم

دیوان پنجم غزل 1678
چاہ چھپی بے پردہ ہوئی اب یارب کیدھر جاویں ہم
کاش اجل بے وقت ہی پہنچے ایک طرف مرجاویں ہم
اس کی نگہ کی اچپلیوں سے غش کرتے ہیں جگرداراں
کیا ٹھہرے گا دل اپنا جو بجلی سے ڈر جاویں ہم
صبر و قرار جو ٹک ہووے تو بہتر ہیں بے طاقت بھی
ہاتھ رکھے دل ہی پر کب تک اودھر اکثر جاویں ہم
خاک برابر عاشق ہیں اس کوچے میں ناچاری سے
گھر ہوں خانہ خرابوں کے تو اپنے بھی گھر جاویں ہم
میر اپنی سب عمر گئی ہے سب کی برائی ہی کرتے
سر پر آیا جانے کا موسم اب تو بھلا کر جاویں ہم
میر تقی میر

آنا یک سو کب دیکھو ہو ایدھر آتے جاتے تم

دیوان پنجم غزل 1677
ڈول لگائے بہتیرے پر ڈھب پہ کبھو نہیں آتے تم
آنا یک سو کب دیکھو ہو ایدھر آتے جاتے تم
ہر صورت کو دیکھ رہو ہو ہر کوچے کو جھانکو ہو
آگے عشق کیا ہوتا تو پھرتے جی نہ کھپاتے تم
چاہت آفت الفت کلفت مہر و وفا و رنج وبلا
عشق ہی کے سب نام ہیں یہ دل کاش کہیں نہ لگاتے تم
شائق ہو مرغان قفس کے آئے گھر صیادوں کے
پھول اک دو تسکین کو ان کی کاش چمن سے لاتے تم
دونوں طرف سے کشش رہتی تھی نیا نیا تھا عشق اپنا
دھوپ میں آتے داغ ہوئے تو گرمی سے گل کھاتے تم
کیدھر اب وہ یک رنگی جو دیکھ نہ سکتے دل تنگی
رکتے پاتے ٹک جو ہمیں تو دیر تلک گھبراتے تم
کیا کیا شکلیں محبوبوں کی پردئہ غیب سے نکلی ہیں
منصف ہو ٹک اے نقاشاں ایسے چہرے بناتے تم
شاید شب مستی میں تمھاری گرم ہوئی تھیں آنکھیں کہیں
پیش از صبح جو آئے ہو تو آئے راتے ماتے تم
کب تک یہ دزدیدہ نگاہیں عمداً آنکھیں جھکا لینا
دلبر ہوتے فی الواقع تو آنکھیں یوں نہ چھپاتے تم
بعد نماز دعائیں کیں سو میر فقیر ہوئے تم تو
ایسی مناجاتوں سے آگے کاشکے ہاتھ اٹھاتے تم
میر تقی میر

سر پر دیکھا یہی فلک ہے جاویں کیدھر چل کر ہم

دیوان پنجم غزل 1676
عشق ہمارے درپئے جاں ہے آئے گھر سے نکل کر ہم
سر پر دیکھا یہی فلک ہے جاویں کیدھر چل کر ہم
بل کھائے ان بالوں سے کب عہدہ برآ ہوتے ہیں ہزار
تکلے کا سا بل نکلا ہے ٹک جو جلے تھے بل کر ہم
مت پوچھو کچھ پچھتاتے ہیں کیا کہیے گھبراتے ہیں
جی تو لیا ہے پاس بغل میں دل بیٹھے ہیں ڈل کر ہم
بے تگ و دو کیا سیری ہو دیدار کے ہم سے تشنوں کو
پانی بھی پی سکتے نہیں ٹک اپنی جگہ سے ہل کر ہم
عشق جو ہوتا واقع میں تو سیدھے جاتے تیغ تلے
راہ ہوس کی پھرلی ہم نے یعنی چلے ہیں ٹل کر ہم
ہائے جوانی شورکناں پا بوس کو اس کے پھرتے تھے
اب چپ بیٹھ رہے ہیں یکسو ہاتھ بہت سے مل کر ہم
آگے تو کچھ اس سے آہیں گرم شعلہ فشانی تھیں
اب تو ہوئے ہیں میر اک ڈھیری خاکستر کی جل کر ہم
میر تقی میر

آزردہ دل ستم زدہ و بے قرار دل

دیوان پنجم غزل 1675
مدت سے اب وہی ہے مرا ہم کنار دل
آزردہ دل ستم زدہ و بے قرار دل
جو کہیے ہے فسردہ و مردہ ضعیف و زار
ناچار دیر ہم رہے ہیں مار مار دل
دو چار دل سے راضی نہیں ہوتے دلبراں
شاید تسلی ان کی ہو جو لیں ہزار دل
خود گم ہے ناشکیب و مکدر ہے مضطرب
کب تک رکھوں گا ہاتھ تلے پر غبار دل
ہے میر عشق حسن کے بھی جاذبے کے تیں
کھنچتا ہے سوے یار ہی بے اختیار دل
میر تقی میر

جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل

دیوان پنجم غزل 1674
رکھتا نہیں ہے مطلق تاب عتاب اب دل
جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل
درد فراق دلبر دے ہے فشار بے ڈھب
ہوجائے جملگی خوں شاید شتاب اب دل
بے پردہ اس کی آنکھیں شوخی جو کرتیاں ہیں
کرتا ہے یہ بھی ترک شرم و حجاب اب دل
آتش جو عشق کی سب چھائی ہے تن بدن پر
پہلو میں رہ گیا ہے ہوکر کباب اب دل
غم سے گداز پاکر اس بن جو بہ نہ نکلا
شرمندگی سے ہو گا اے میر آب اب دل
میر تقی میر

آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل

دیوان پنجم غزل 1673
ہر لحظہ ہے کدورت خاطر سے بار دل
آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل
تربندی خشک بندی نمک بندی ہوچکی
بے ڈول پھیلتا سا چلا ہے فگار دل
جوں رنگ لائے سیب ذقن باغ حسن میں
ووں ہیں ریاض عشق میں صد چاک انار دل
باہر ہیں حد و حصر سے کھینچے جو غم الم
کیا ہوسکے حساب غم بے شمار دل
لاکھوں جتن کیے نہ نبھی دل سے یار کے
اس کا جفا شعار وفا ہے شعار دل
اس کی گلی میں صبح دلوں کا شکار تھا
نکلا ہزار ناز سے بہر شکار دل
کیا میر پھر ثبات سے رو سوے دل کریں
ایسے نہیں گئے ہیں سکون و قرار دل
میر تقی میر

ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل

دیوان پنجم غزل 1672
رنگارنگ چمن میں اب کے موسم گل میں آئے گل
ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل
ہار گلے کے ہوکر جیسے یاد رکھا تب عرصے میں
طرفہ تو یہ ہے اب منت سے گور پہ میری لائے گل
آئے شب گل میر ہمیں کیا صبح بہار سے کیا حاصل
داغ جنوں ہے سر پہ ہمارے شمع کے رنگوں چھائے گل
میر تقی میر

ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل

دیوان پنجم غزل 1671
صد ہزار افسوس آکر خالی پائی جاے گل
ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل
بے نصیبی سے ہوئے ہم موسم گل میں اسیر
تھے نہ پیشانی میں اپنے سجدہ ہاے پاے گل
دعوی حسن سراپا تھا پہ نازاں تجھ کو دیکھ
شاخیں پر گل جھک گئیں یعنی بہت شرمائے گل
کیا گل مہتاب و شبو کیا سمن کیا نسترن
اس حدیقے میں نہ نقش پا سے اس کے پائے گل
جیتے جی تو داغ ہی رکھا موئے پر کیا حصول
گور پر دلسوزی سے جوں شمع سر رکھ لائے گل
بے دلی بلبل نہ کر تاثیر میں گو تو ہے داغ
خوش زبان عشق کی جب ہم نے بھر کے کھائے گل
اس چمن میں جلوہ گر جس حسن سے خوباں ہیں میر
موسم گل میں کہیں اس خوبی سے کب آئے گل
میر تقی میر

دل جو کھلا فسردہ تو جوں بے بہار گل

دیوان پنجم غزل 1670
آئی بہار نکلے چمن میں ہزار گل
دل جو کھلا فسردہ تو جوں بے بہار گل
بستر سے اس کے پھول تر و تازہ رکھ کے دور
سوکھے ہے دیر رہ کے تو ہوتا ہے خار گل
دیکھا کبھو نہ ہم نے سنا ہے فگندہ میر
داغ جنوں ہے سر پہ ہمیشہ بہار گل
میر تقی میر

چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل

دیوان پنجم غزل 1669
دل دل لوگ کہا کرتے ہیں تم نے جانا کیا ہے دل
چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل
اوج و موج کا آشوب اس کے لے کے زمیں سے فلک تک ہے
صورت میں تو قطرئہ خوں ہے معنی میں دریا ہے دل
جیسے صحرا کو کشادہ دامن ہم تم سنتے آتے ہیں
بند کر آنکھیں ٹک دیکھو تو ویسا ہی صحرا ہے دل
کوہکن و مجنوں وامق تم جس سے پوچھو بتا دیوے
عشق و جنوں کے شہروں میں ہر چار طرف رسوا ہے دل
ہائے غیوری دل کی اپنے داغ کیا ہے خود سر نے
جی ہی جس کے لیے جاتا ہے اس سے بے پروا ہے دل
مت پوچھو کیوں زیست کرو ہو مردے سے افسردہ تم
ہجر میں اس کے ہم لوگوں نے برسوں تک مارا ہے دل
میر پریشاں دل کے غم میں کیا کیا خاطرداری کی
خاک میں ملتے کیوں نہ پھریں اب خون ہو بہ بھی گیا ہے دل
میر تقی میر

یعنی ضائع اپنے تئیں کرتے ہیں اس بن کیا کیا لوگ

دیوان پنجم غزل 1668
وہ نہیں ملتا ایک کسو سے مرتے ہیں اودھر جاجا لوگ
یعنی ضائع اپنے تئیں کرتے ہیں اس بن کیا کیا لوگ
جیسے غم ہجراں میں اس کے عاشق جی کھو بیٹھے ہیں
برسوں مارے چرخ فلک تو ایسے ہوویں پیدا لوگ
زلف و خال و خط سے اس کے جہاں تہاں اب مبحث ہے
عقل ہوئی ہے گم خلقت کی یا کہتے ہیں سودا لوگ
چار قدم چلنے میں اس کے دیکھتے جاتے ہیں جو کفک
فتنے سر کھینچا ہی کریں ہیں ایک قیامت برپا لوگ
دنیا جاے نہیں رہنے کی میر غرور نہیں اچھا
جو جاگہ سے جاتے ہیں اپنی وے کرتے ہیں بے جا لوگ
میر تقی میر

کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ

دیوان پنجم غزل 1667
رہتے ہیں اس سے لاگ پہ ہم بے قرار الگ
کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ
تھا گرد بوے گل سے بھی دامن ہوا کا پاک
کیا اب کے اس چمن سے گئی ہے بہار الگ
پاس اس کا بعد مرگ ہے آداب عشق سے
بیٹھا ہے میری خاک سے اٹھ کر غبار الگ
ناگاہ اس نگاہ سے میں بھی ہوا نہاں
جاتا ہے جوں نکل کے کسو کا شکار الگ
خونباری سے نہیں پڑی لوہو کی چھینٹ بھی
اب تک تو بارے اپنے ہیں جیب و کنار الگ
تا جانیں لوگ کشتۂ ہجراں ہیں یہ غریب
کریو تمام گوروں سے میری مزار الگ
بچتے نہیں ہیں بوزدگی سے گلوں کی میر
گو طائران خستہ جگر ہوں ہزار الگ
میر تقی میر

سرگرم بے راہ روی ہیں خود گم بے رہبر ہیں لوگ

دیوان پنجم غزل 1666
راہ کی بات کہیں ہم کس سے بے تہ یاں اکثر ہیں لوگ
سرگرم بے راہ روی ہیں خود گم بے رہبر ہیں لوگ
بدتر آپ سے پائوں کسو کو تو میں اس کا عیب کہوں
خوب تامل کرتا ہوں تو سب مجھ سے بہتر ہیں لوگ
دیوانے ہیں شہر وفا کی راہ و رسم کے ہم تو میر
دل کے کہے جی دینے والے قاطبۃً گھر گھر ہیں لوگ
میر تقی میر

کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک

دیوان پنجم غزل 1665
اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک
کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک
میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب ہوا
اس نیم جاں کے بدلے ہوا یک جہاں ہلاک
مقصود گم ہے پھرتا جو رہتا ہے رات دن
ہلکان ہو کے ہو گا کبھو آسماں ہلاک
اس ظلم کیش کی ہے طرب گاہ ہر کہیں
عاشق خدا ہی جانے ہوا ہے کہاں ہلاک
جی میر نے دیا نہ ہوا لیک وصل یار
افسوس ہے کہ مفت ہوا یہ جواں ہلاک
میر تقی میر

دشت دشت اب کے ہے گل تریاک

دیوان پنجم غزل 1664
شاد افیونیوں کا دل غمناک
دشت دشت اب کے ہے گل تریاک
تین دن گور میں بھی بھاری ہیں
یعنی آسودگی نہیں تہ خاک
ہاتھ پہنچا نہ اس کے دامن تک
میں گریباں کروں نہ کیوں کر چاک
تیز جاتا ہوں میں تو جوں سیلاب
میرے مانع ہو کیا خس و خاشاک
عشق سے ہاتھ کیا ملاوے کوئی
یاں زبردستوں کی ہے کشتی پاک
بندگی کیشوں پر ستم مت کر
ڈر خدا سے تو اے بت بیباک
عشق مرد آزما نے آخرکار
کیے فرہاد و قیس میر ہلاک
میر تقی میر

پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک

دیوان پنجم غزل 1663
کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک
پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک
تھے نوخطوں کی خاک سے اجزا جو برابر
ہو سبزہ نکلتے ہیں تہ خاک سے اب تک
تا مدنظر چھا رہے ہیں لالۂ صد برگ
جنگل بھرے ہیں سب گل تریاک سے اب تک
دشمن ہوئی ہے جس کے لیے ساری خدائی
مربوط ہیں ہم اس بت بیباک سے اب تک
ہر چند کہ دامن تئیں ہے چاک گریباں
ہم ہیں متوقع کف چالاک سے اب تک
گو خاک سی اڑتی ہے مرے منھ پہ جنوں میں
ٹپکے ہے لہو دیدئہ نمناک سے اب تک
وے کپڑے تو بدلے ہوئے میر اس کو کئی دن
تن پر ہے شکن تنگی پوشاک سے اب تک
میر تقی میر

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک

دیوان پنجم غزل 1661
اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک
پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک
آواز کے ہماری تم حزن پر نہ جائو
یہ نالۂ حزیں تو جاتے ہیں آسماں تک
رونا جہاں جہاں تو عین آرزو ہے لیکن
روتا ہوں رویا جاوے میرے کنے جہاں تک
اکثر صداع مجھ کو رہتا ہے عاشقی میں
تصدیع درد و غم سے کھینچے کوئی کہاں تک
آوارہ ہی ہوئے ہم سر مار مار یعنی
نوپر نکل گئے ہیں اپنے سب آشیاں تک
اے وائے بے نصیبی سر سے بھی گذرے لیکن
پیشانی ٹک نہ پہنچی اس خاک آستاں تک
نفع کثیر اٹھایا کر عشق کی تجارت
راضی ہیں میر اب تو ہم جان کے زیاں تک
میر تقی میر

کیا جاکے دو چار اس سے ہو ناچار ہے عاشق

دیوان پنجم غزل 1660
بیتاب ہے دل غم سے نپٹ زار ہے عاشق
کیا جاکے دو چار اس سے ہو ناچار ہے عاشق
وہ دیکھنے کو جاوے تو بہتر ہے وگرنہ
بدحال و ستم دیدہ و بیمار ہے عاشق
رہتا ہے کھڑا دھوپ میں دو دو پہر آ کے
بے جرم سدا اس کا گنہگار ہے عاشق
اٹھتا نہیں تلوار کے سائے کے تلے سے
یعنی ہمہ دم مرنے کو تیار ہے عاشق
چسپاں ہوئے ہیں میر خریدار سے تنہا
کیا جنس ہے معشوق کہ بازار ہے عاشق
میر تقی میر

ہم ہیں جناب عشق کے بندے نزدیک اپنے خدا ہے عشق

دیوان پنجم غزل 1659
ارض و سما میں عشق ہے ساری چاروں اور بھرا ہے عشق
ہم ہیں جناب عشق کے بندے نزدیک اپنے خدا ہے عشق
ظاہر و باطن اول و آخر پائیں بالا عشق ہے سب
نور و ظلمت معنی و صورت سب کچھ آپھی ہوا ہے عشق
ایک طرف جبریل آتا ہے ایک طرف لاتا ہے کتاب
ایک طرف پنہاں ہے دلوں میں ایک طرف پیدا ہے عشق
خاک و باد و آب و آتش سب ہے موافق اپنے تئیں
جو کچھ ہے سو عشق بتاں ہے کیا کہیے اب کیا ہے عشق
میر کہیں ہنگامہ آرا میں تو نہیں ہوں چاہت کا
صبر نہ مجھ سے کیا جاوے تو معاف رکھو کہ نیا ہے عشق
میر تقی میر

عشق اللہ صیاد انھیں کہیو جن لوگوں نے کیا ہے عشق

دیوان پنجم غزل 1658
مہر قیامت چاہت آفت فتنہ فساد بلا ہے عشق
عشق اللہ صیاد انھیں کہیو جن لوگوں نے کیا ہے عشق
عشق سے نظم کل ہے یعنی عشق کوئی ناظم ہے خوب
ہر شے یاں پیدا جو ہوئی ہے موزوں کر لایا ہے عشق
عشق ہے باطن اس ظاہر کا ظاہر باطن عشق ہے سب
اودھر عشق ہے عالم بالا ایدھر کو دنیا ہے عشق
دائر سائر ہے یہ جہاں میں جہاں تہاں متصرف ہے
عشق کہیں ہے دل میں پنہاں اور کہیں پیدا ہے عشق
موج زنی ہے میر فلک تک ہر لجہ ہے طوفاں زا
سرتا سر ہے تلاطم جس کا وہ اعظم دریا ہے عشق
میر تقی میر

بھرے ہیں پھولوں سے جیب و کنار لیکن حیف

دیوان پنجم غزل 1656
بہار و باغ و گل و لالہ دلربا بن حیف
بھرے ہیں پھولوں سے جیب و کنار لیکن حیف
میر تقی میر

کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف

دیوان پنجم غزل 1654
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف
نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی
جو دیکھو مری گفتگو کی طرف
اگر آرسی میں صفائی ہے لیک
نہیں کرتی منھ اس کے رو کی طرف
چڑھے نہ کہیں کود یہ مغز میں
نہ کر شانہ تو گل کی بو کی طرف
اسے ڈھونڈتے میر کھوئے گئے
کوئی دیکھے اس جستجو کی طرف
میر تقی میر

دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف

دیوان پنجم غزل 1653
کیا نیچی آنکھوں دیکھو ہو تلوار کی طرف
دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف
آوارگی کے محو ہیں ہم خانماں خراب
مطلق نہیں نظر ہمیں گھر بار کی طرف
مانا ہے قبلہ کعبہ خدا فرط شوق سے
جاتے ہیں سر رگڑتے ہوئے یار کی طرف
شاید متاع حسن کھلی ہے کسو کی آج
ہنگامہ حشر کا سا ہے بازار کی طرف
عاشق کی اور نازکناں جاوے ہے کبھو
جیسے طبیب جاوے ہے بیمار کی طرف
ہرگز طرف نہ ہوسکے رخسار یار کے
پھیکی ہے اس کے سامنے گلزار کی طرف
کچھ گل صبا کا لاگو نہیں اس چمن میں میر
کرتے ہیں سب ہی اپنے طرفدار کی طرف
میر تقی میر

ورنہ سبھی دیکھا کرتے ہیں اپنے سود و زیاں کی طرف

دیوان پنجم غزل 1652
عشق سے ہم کو نگاہ نہیں کچھ ہائے زیان جاں کی طرف
ورنہ سبھی دیکھا کرتے ہیں اپنے سود و زیاں کی طرف
ازبس مکروہات سے یاں کا مزبلہ زار لبالب ہے
یاں سے گئے پر پھیر کے منھ دیکھا نہ کنھوں نے جہاں کی طرف
صورت کی شیرینی ایسی تلخی زباں کی ایسی کچھ
منھ دیکھے اس کا جو کوئی پھر دیکھے ہے زباں کی طرف
وہ محبوب تو راہ گیا ہے اپنی لیکن دیر تلک
آنکھیں اہل نظر کی رہیں گی اس کے قدم کے نشاں کی طرف
کس سے کہوں جو میر طرف کر اس سے داد دلا دیوے
چھوٹے بڑے ہر ایک نے لی ہے اس اوباش جواں کی طرف
میر تقی میر

کوئی نظر کر عبرت آگیں اس کے نازو ادا کی طرف

دیوان پنجم غزل 1651
دیکھ نہ ہر دم اے عاشق قاتل کی تیغ جفا کی طرف
کوئی نظر کر عبرت آگیں اس کے نازو ادا کی طرف
چار طرف سے نزول حوادث جاؤں کدھر تنگ آیا ہوں
غالب ہے کیا عہد میں میرے اے دل رنج و عنا کی طرف
آوے زمانہ جب ایسا تو ترک عشق بتاں کا کر
چاہیے بندہ قصد کرے جانے کا اپنے خدا کی طرف
قحط مروت اب جو ہوا ہے کس کو دماغ بادہ کشی
ابر آیا سبزہ بھی ہوا کرتا نہیں کوئی ہوا کی طرف
ظلم و ستم سے جور و جفا سے کیا کیا عاشق مارے گئے
شہر حسن کے لوگوں میں کرتا نہیں کوئی وفا کی طرف
شام و سحر ہے عکس سے اپنے حرف و سخن اس گلرو کو
پشت پا سے نگاہ اٹھالی چھوڑی ان نے حیا کی طرف
ہاتھ کسی کا دیکھتے رہیے گاہے ہم سے ہو نہ سکا
اپنی نظر اے میر رہی ہے اکثر دست دعا کی طرف
میر تقی میر

ہاتھ گلوں سے گلدستے ہیں شمع نمط ہے سر پر داغ

دیوان پنجم غزل 1650
کیا کہیے میاں اب کے جنوں میں سینہ اپنا یکسر داغ
ہاتھ گلوں سے گلدستے ہیں شمع نمط ہے سر پر داغ
داغ جلائے فلک نے بدن پر سرو چراغاں ہم کو کیا
کہاں کہاں اب مرہم رکھیں جسم ہوا ہے سراسر داغ
صحبت درگیر آگے اس کے پہر گھڑی ساعت نہ ہوئی
جب آئے ہیں گھر سے اس کے تب آئے ہیں اکثر داغ
غیر کو دیکھ کے اس مجلس میں غیرت عشق سے آگ لگی
اچھلے کودے سپند نمط ہم ہو گئے آخر جل کر داغ
جلتی چھاتی پہ سنگ زنی کی سختی ایام سے میر
گرمی سے میری آتش دل کی سارے ہوئے وے پتھر داغ
میر تقی میر

یہ حرکت تو ہم نہ کریں گے خانہ سیاہ دروغ دروغ

دیوان پنجم غزل 1649
ہم کو شہر سے اس مہ کے ہے عزم راہ دروغ دروغ
یہ حرکت تو ہم نہ کریں گے خانہ سیاہ دروغ دروغ
الفت کلفت کون کہے ہے چاہ گناہ لکھا کن نے
بے دردی سے وے رکھتے ہیں یہی گناہ دروغ دروغ
شیخ کو وہ تو جھوٹ کہے ہے جھوٹ کو کیوں کر جھوٹ گنیں
اہل درد جو کوئی ہو تو کہیے آہ دروغ دروغ
عشق کے مارے غمزدگاں سے انس کرے بہتان و کذب
اس بے مہر کی ہم لوگوں سے الفت چاہ دروغ دروغ
کس دلبر کو شوق سے دیکھا میر غلط ہے تہمت ہے
منھ پہ کسو کے پڑی نہیں ہے گاہ نگاہ دروغ دروغ
میر تقی میر

ہم ہوئے خستہ جاں دریغ دریغ

دیوان پنجم غزل 1648
غم کھنچا رائیگاں دریغ دریغ
ہم ہوئے خستہ جاں دریغ دریغ
عشق میں جی بھی ہم گنوا بیٹھے
ہو گیا کیا زیاں دریغ دریغ
سب سے کی دشمنی جنھوں کے لیے
وے ہیں نامہرباں دریغ دریغ
قطع امید ہے قریب اس سے
تیغ ہے درمیاں دریغ دریغ
دل گئے پر نہ ورد نے تسبیح
کہتے ہیں ہر زماں دریغ دریغ
اٹھنے دیتا نہیں شکستہ دل
ڈھہ گیا کیا مکاں دریغ دریغ
تب کھلی آنکھ میر اپنی جب
جاچکا کارواں دریغ دریغ
میر تقی میر

وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع

دیوان پنجم غزل 1647
آتی ہے مجلس میں تو فانوس میں آتی ہے شمع
وہ سراپا دیکھ کر پردے میں جل جاتی ہے شمع
میر تقی میر

وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع

دیوان پنجم غزل 1646
کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع
وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع
وہ بیٹھا ہے جیسے نکلے چودھویں رات کا چاند کہیں
روشن ہے کیا ہو گی طرف اس طرح رخ پر نور سے شمع
آگے اس کے فروغ نہ تھا جلتی تھی بجھی سی مجلس میں
تب تو لوگ اٹھا لیتے تھے شتابی اس کے حضور سے شمع
جلنے کو آتی ہیں جو ستیاں میر سنبھل کر جلتی ہیں
کیا بے صرفہ رات جلی بے بہرہ اپنے شعور سے شمع
میر تقی میر

سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع

دیوان پنجم غزل 1645
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع
سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع
پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی
اگر موم کی بھی بنائی تھی شمع
نہ اس مہ سے روشن تھی شب بزم میں
نکالا تھا اس کو چھپائی تھی شمع
وہی ساتھ تھا میرے شب گیر میں
کہ تاب اس کے رخ کی نہ لائی تھی شمع
پتنگ اور وہ کیوں نہ باہم جلیں
کہیں سے مگر اک لگ آئی تھی شمع
فروغ اس کے چہرے کا تھا پردہ در
ہوا کیا جو ہم نے بجھائی تھی شمع
تف دل سے میر اک کف خاک ہے
مری خاک پر کیوں جلائی تھی شمع
میر تقی میر

کیونکے جئیں یارب حیرت ہے بے مزہ ایسے نامحظوظ

دیوان پنجم غزل 1644
لطف جوانی کے ساتھ گئے پیری نے کیا ہے کیا محظوظ
کیونکے جئیں یارب حیرت ہے بے مزہ ایسے نامحظوظ
رونے کڑھنے کو عیش کہو ہو ہم تو تمھارے دعاگو ہیں
یوں ہی ہمیشہ عشق میں اس کے رکھے ایسا خدا محظوظ
زردی منھ کی اشک کی سرخی دونوں اب تو رنگ پہ ہیں
شاید میر بہت رہتے ہو اس سے ہو کے جدا محظوظ
میر تقی میر

ہر لمحہ لحظہ آن و زماں ہر دم اختلاط

دیوان پنجم غزل 1643
رکھتا ہے میرے دل سے تمھارا غم اختلاط
ہر لمحہ لحظہ آن و زماں ہر دم اختلاط
ہم وے ملے ہی رہتے ہیں مردم کی شکل کیا
ان صورتوں میں ہوتا نہیں باہم اختلاط
شیریں لباں جہاں کے نہیں چھوٹ جانتے
ہوں گو کہ میر صاحب و قبلہ کم اختلاط
میر تقی میر

زردی رنگ و چشم تر ہے شرط

دیوان پنجم غزل 1642
عشق کو جرأت و جگر ہے شرط
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط
بے خبر حال سے نہ رہ میرے
میں کہے رکھتا ہوں خبر ہے شرط
حج کو جاوے تو شیخ کو لے جا
کعبے جانے کو یہ بھی خر ہے شرط
پیسوں پر ریجھتے ہیں یہ لڑکے
عشق سیمیں تناں کو زر ہے شرط
خام رہتا ہے آدمی گھر میں
پختہ کاری کے تیں سفر ہے شرط
خبث یاروں کا کر فسانوں میں
عیب کرنے کو بھی ہنر ہے شرط
لعل پارے ہیں میر لخت جگر
دیکھ کر خون رو نظر ہے شرط
میر تقی میر

اس کو خدا ہی ہووے تو ہو کچھ خدا سے ربط

دیوان پنجم غزل 1641
جس کو ہوا ہے اس صنم بے وفا سے ربط
اس کو خدا ہی ہووے تو ہو کچھ خدا سے ربط
گل ہو کے برگ برگ ہوئے پھر ہوا ہوئے
رکھتے ہیں اس چمن کے جو غنچے صبا سے ربط
زنہار پشت پا سے نہیں اٹھتی اس کی آنکھ
اس چشم شرمگیں کو بہت ہے حیا سے ربط
شاید اسی کے ہاتھ میں دامن ہو یار کا
ہو جس ستم رسیدہ کو دست دعا سے ربط
کرتی ہے آدمی کو دنی صحبت فقیر
اچھا نہیں ہے میر سے بے تہ گدا سے ربط
میر تقی میر

ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض

دیوان پنجم غزل 1640
عالم علم سے اس عالم میں ہر لحظہ طاری ہے فیض
ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض
سنگ و شجر ہیں پانی پون ہیں غنچہ و گل ہیں بارو بر
عالم ہژدہ ہزار جو ہیں یہ سب میں وہ ساری ہے فیض
میر تقی میر

دین و مذہب مرا ہے پیار اخلاص

دیوان پنجم غزل 1639
شاعری شیوہ ہے شعار اخلاص
دین و مذہب مرا ہے پیار اخلاص
اب کہاں وہ مؤدت قلبی
ہووے ظاہر میں یوں ہزار اخلاص
سورۃ اخلاص کی پڑھی برسوں
میر رکھتا نہیں ہے یار اخلاص
میر تقی میر

تلوار کا سا گھاؤ ہے جبہے کا ہر خراش

دیوان پنجم غزل 1638
غصے میں ناخنوں نے مرے کی ہے کیا تلاش
تلوار کا سا گھاؤ ہے جبہے کا ہر خراش
صحبت میں اس کی کیونکے رہے مرد آدمی
وہ شوخ و شنگ و بے تہ و اوباش و بدمعاش
بے رحم تجھ کو ایک نظر کرنی تھی ادھر
کشتے کے تیرے ٹکڑے ہوئے لے گئے بھی لاش
آباد اجڑا لکھنؤ چغدوں سے اب ہوا
مشکل ہے اس خرابے میں آدم کی بودو باش
عمرعزیز یاس ہی میں جاتی ہے چلی
امیدوار اس کے نہ ہم ہوتے میر کاش
میر تقی میر

اس کا ہو جاتا دل شکار اے کاش

دیوان پنجم غزل 1637
ادھر آتا بھی وہ سوار اے کاش
اس کا ہو جاتا دل شکار اے کاش
زیر دیوار خانہ باغ اس کے
ہم کو جا ملتی خانہ وار اے کاش
کب تلک بے قرار رہیے گا
کچھ تو ملنے کا ہو قرار اے کاش
راہ تکتے تو پھٹ گئیں آنکھیں
اس کا کرتے نہ انتظار اے کاش
اس کی پامالی سرفرازی ہے
راہ میں ہو مری مزار اے کاش
پھول گل کچھ نہ تھے کھلی جب چشم
اور بھی رہتی اک بہار اے کاش
اب وہی میر جی کھپانا ہے
ہم کو ہوتا نہ اس سے پیار اے کاش
میر تقی میر

بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش

دیوان پنجم غزل 1636
کرکریں ہیں لجّوں لطموں کے دڑیڑے سب کے گوش
بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش
صومعے کو اس ہواے ابر میں دیتے ہیں آگ
میکدے سے باہر آتے ہی نہیں ذی عقل و ہوش
تنگ چولی سوجگہ سے کسمساتے ہی چلی
تنگ درزی سے کبھی ملتا نہیں وہ تنگ پوش
وائے رے پروانہ کیسا چپکے جل کر رہ گیا
گرمی پہنچے کیا اچھلتا ہے سپند ہرزہ کوش
کیسا خود گم سر بکھیرے میر ہے بازار میں
ایسا اب پیدا نہیں ہنگامہ آرا دل فروش
میر تقی میر

راہ رفتن ہے اب مگر درپیش

دیوان پنجم غزل 1635
رنج و غم آئے بیشتر درپیش
راہ رفتن ہے اب مگر درپیش
مرگ فرہاد سے ہوا بدنام
ہے خجالت سے تیشہ سردرپیش
یار آنکھوں تلے ہی پھرتا ہے
میری مدت سے ہے نظر درپیش
خانہ روشن پتنگوں نے نہ کیا
ہے چراغوں کو بھی سحر درپیش
غم سے نزدیک مرنے کے پہنچے
دور کا میر ہے سفر درپیش
میر تقی میر

اس آرزو نے مارا یہ بھی خدا کی خواہش

دیوان پنجم غزل 1634
رکھتے رہے بتوں سے مہر و وفا کی خواہش
اس آرزو نے مارا یہ بھی خدا کی خواہش
بیماری دلی پر میں صبر کر رہا ہوں
جی کو نہیں ہے میرے مطلق دوا کی خواہش
شب وصل کی میسر آئی نہ ایک دن بھی
دل کو یہی ہمارے اکثر رہا کی خواہش
چاہت بہت کسو کی اے ہمنشیں بری ہے
سو جان کی ہے کاہش اک اس ادا کی خواہش
مشتاق عاشقی کا عاقل کوئی نہ ہو گا
ابلہ کسو کو ہو گی اس بدبلا کی خواہش
عجز و انابت اپنی یوں ہی تھی صبح گہ کی
درویشوں سے کریں گے اب ہم دعا کی خواہش
حیران کار الفت اے میر چپ ہوں میں تو
پوچھا کرو ہو ہردم کیا بے نوا کی خواہش
میر تقی میر

کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس

دیوان پنجم غزل 1633
کیا کیا تم نے ہم سے کہا تھا کچھ نہ کیا افسوس افسوس
کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس
نور چراغ جان میں تھا کچھ یوں ہی نہ آیا لیکن وہ
گل ہو ہی گیا آخر کو یہ بجھتا سا دیا افسوس افسوس
رخصت میں پابوس کی سب کے جی جاتا تھا سوان نے
ہاتھ میں عاشق وارفتہ کا دل نہ لیا افسوس افسوس
میر کی آنکھیں مندنے پر وہ دیکھنے آیا تھا ظالم
اور بھی یہ بیمار محبت ٹک نہ جیا افسوس افسوس
میر تقی میر

گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس

دیوان پنجم غزل 1632
آنکھ کھلتے گئی بہار افسوس
گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس
جس کی خاطر ہوئے کنارہ گزیں
نہ ہوئے اس سے ہم کنار افسوس
نہ معرف نہ آشنا کوئی
ہم ہیں بے یار و بے دیار افسوس
بے قراری نے یوں ہی جی مارا
اس سے نے عہد نے قرار افسوس
خوں ہوئی دل ہی میں امید وصال
مر رہے جی کو مار مار افسوس
چارۂ اشتیاق کچھ نہ ہوا
وہ نہ ہم سے ہوا دوچار افسوس
اک ہی گردش میں اس کی آنکھوں کی
پھر گیا ہم سے روزگار افسوس
گور اپنی رہی گذرگہ میں
نہ ہوا یار کا گذار افسوس
منتظر ہی ہم اس کے میر گئے
یاں تک آیا کبھو نہ یار افسوس
میر تقی میر

سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس

دیوان پنجم غزل 1631
صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس
سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس
دنیا طلبی نفس نہ کر شومی سے جوں سنگ
تھک کر کہیں ٹک بیٹھ رہ اے ہرزہ مرس بس
خنداں نہ مرے قتل میں رکھ تیغ کو پھر سان
جوں گل یہ ہنسی کیا ہے اسیروں پہ نہ ہنس بس
اس زار نے ہاتھ ان کا جو کھینچا لگے کہنے
غش کرنے نہ لگ جاؤں کہیں چھوڑیے بس بس
کیا میر اسیروں کو در باغ جو وا ہو
ہے رنگ ہوا دیکھنے کو چاک قفس بس
میر تقی میر

ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس

دیوان پنجم غزل 1630
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس
ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس
بوے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی آتی ہے کچھ
نکلی ہے ہوکر صبا شاید کسو گھائل کے پاس
شور و ہنگامہ بہت دعویٰ ضروری ہے بہت
کاشکے مجھ کو بلاویں حشر میں قاتل کے پاس
گرد سے ہے ناقۂ سلمیٰ کو مشکل رہروی
خاک کس کی ہے کہ مشتاق آتی ہے محمل کے پاس
تل سے تیرے منھ کے دل تھا داغ اے برناے چرب
خال یہ اک اور نکلا ظالم اگلے تل کے پاس
دل گداز عشق سے سب آب ہوکر بہ گیا
مرگئے پر گور میری کریے تو بے دل کے پاس
ملیے کیونکر نہ کف افسوس جی جاتا ہے میر
ڈوبتی ہے کشتی ورطے سے نکل ساحل کے پاس
میر تقی میر

نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس

دیوان پنجم غزل 1629
یار ہم سے جدا ہوا افسوس
نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس
جب تلک آن کر رہے مجھ پاس
مجھ میں تب تک نہ کچھ رہا افسوس
دل میں حسرت گرہ ہے رخصت کی
چلتے ان نے نہ کچھ کہا افسوس
کیا تدارک ہے عشق میں دل کا
میں بلا میں ہوں مبتلا افسوس
سب سے بیگانگی کی جس کے لیے
وہ نہیں ہم سے آشنا افسوس
رات دن ہاتھ ملتے رہتے ہیں
دل کے جانے کا ہے بڑا افسوس
باچھیں پھٹ پھٹ گئیں ہیں گھگھیاتے
بے اثر ہو گئی دعا افسوس
مجھ کو کرنا تھا احتراز اس سے
ہائے افسوس کیا کیا افسوس
نوش دارو ہے نیش دارو میر
متاثر نہیں دوا افسوس
میر تقی میر

آتش کا ایسا لائحہ کب ہے زباں دراز

دیوان پنجم غزل 1628
سرکش ہے تندخو ہے عجب ہے زباں دراز
آتش کا ایسا لائحہ کب ہے زباں دراز
پروانہ تیری چرب لساں سے ہوا ہلاک
ہے شمع تو تو کوئی غضب ہے زباں دراز
میر تقی میر

دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز

دیوان پنجم غزل 1627
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز
دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز
وہ مہ چاردہ اس شہر سے کب کا نکلا
ہر گلی جھانکتے پھرتے ہیں طلبگار ہنوز
بالا بالا ہی بہت عشق میں مارے گئے یار
وہ تہ دل سے کسو کا نہ ہوا یار ہنوز
سال میں ابر بہاری کہیں آ کر برسا
لوہو برسا رہے ہیں دیدۂ خونبار ہنوز
اب کے بالیدن گلہا تھا بہت دیکھو نہ میر
ہمسر لالہ ہے خار سر دیوار ہنوز
میر تقی میر

آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز

دیوان پنجم غزل 1626
کب سے آنے کہتے ہیں تشریف نہیں لاتے ہیں ہنوز
آنکھیں مندیں اب جاچکے ہم وے دیکھو تو آتے ہیں ہنوز
کہتا ہے برسوں سے ہمیں تم دور ہو یاں سے دفع بھی ہو
شوق و سماجت سیر کرو ہم پاس اس کے جاتے ہیں ہنوز
راتوں پاس گلے لگ سوئے ننگے ہوکر ہے یہ عجب
دن کو بے پردہ نہیں ملتے ہم سے شرماتے ہیں ہنوز
ساتھ کے پڑھنے والے فارغ تحصیل علمی سے ہوئے
جہل سے مکتب کے لڑکوں میں ہم دل بہلاتے ہیں ہنوز
گل صد رنگ چمن میں آئے بادخزاں سے بکھر بھی گئے
عشق و جنوں کی بہار کے عاشق میر جی گل کھاتے ہیں ہنوز
میر تقی میر

راہی بھی کچھ سنا نہیں جاتے خبر ہنوز

دیوان پنجم غزل 1625
کب سے گیا ہے آیا نہیں نامہ بر ہنوز
راہی بھی کچھ سنا نہیں جاتے خبر ہنوز
خون جگر کو سوکھے ہوئے برسوں ہو گئے
رہتی ہیں میری آنکھیں شب و روز تر ہنوز
ہرچند آسماں پہ ہماری دعا گئی
اس مہ کے دل میں کرتی نہیں کچھ اثر ہنوز
مدت سے لگ رہی ہیں مری آنکھیں اس کی اور
وہ دیکھتا نہیں ہے غلط کر ادھر ہنوز
برسوں سے لکھنؤ میں اقامت ہے مجھ کو لیک
یاں کے چلن سے رکھتا ہوں عزم سفر ہنوز
تیشے سے کوہکن کے دل کوہ جل گیا
نکلے ہے سنگ سنگ سے اکثر شرر ہنوز
جل جل کے ہو گیا ہے کبد تو کباب میر
جول غنچہ ناشگفتہ ہے داغ جگر ہنوز
میر تقی میر

اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز

دیوان پنجم غزل 1624
اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز
اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز
اس زلف و کاکل کو گوندھے دیر ہوئی مشاطہ کو
سانپ سے لہراتے ہیں بال اس کے بل کھائے ہنوز
آنکھ لگے اک مدت گذری پاے عشق جو بیچ میں ہے
ملتے ہیں معشوق اگر تو ملتے ہیں شرمائے ہنوز
تہ داری کیا کہیے اپنی سختی سے اس کی جیتے موئے
حرف و سخن کچھ لیکن ہرگز منھ پہ نہیں ہم لائے ہنوز
ایسی معیشت کر لوگوں سے جیسی غم کش میر نے کی
برسوں ہوئے ہیں اٹھ گئے ان کو روتے ہیں ہمسائے ہنوز
میر تقی میر

آفریں کر اے جنوں میرے کف چالاک پر

دیوان پنجم غزل 1623
سعی سے اس کی ہوا مائل گریباں چاک پر
آفریں کر اے جنوں میرے کف چالاک پر
کیوں نہ ہوں طرفہ گلیں خوش طرح بعضی اے کلال
خاک کن کن صورتوں کی صرف کی ہے خاک پر
گِل ہوئی کوچے میں اس کے آنے سے بھی اب رہا
ابر تو کاہے کو رویا تھا ہماری خاک پر
ہم کو مٹی کر دیا پامالی گردوں نے میر
وہ نہ آیا ناز کرتا ٹک ہماری خاک پر
میر تقی میر

بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر

دیوان پنجم غزل 1622
ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر
بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر
رنگ ہوا سے ٹپکنے لگا ہے سبزے میں کوئی پھول کھلا
یعنی چشمک گل کرتا ہے فصل بہار کے آنے پر
شور جنوں ہے جوانوں کے سر میں پاؤں میں زنجیریں ہیں
سنگ زناں لڑ کے پھرتے ہیں ہر ہر سو دیوانے پر
بیتابانہ شمع پر آیا گرد پھرا پھر جل ہی گیا
اپنا جی بھی حد سے زیادہ رات جلا پروانے پر
قدرجان جو کچھ ہووے تو صرفہ بھی ہمؔ میر کریں
منھ موڑیں کیا آنے سے اس کے اپنی جان کے جانے پر
میر تقی میر

کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر

دیوان پنجم غزل 1621
آیا نہ پھر ادھر وہ مست شراب ہوکر
کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر
صید زبوں میں میرے یک قطرہ خوں نہ نکلا
خنجر تلے بہا میں خجلت سے آب ہوکر
وعدہ وصال کا ہے کہتے ہیں حشر کے دن
جانا ہوا ولیکن واں سے شتاب ہوکر
دارو پیے نہ ساتھ آ غیروں کے بیشتر یاں
غیرت سے رہ گئے ہیں عاشق کباب ہوکر
یک قطرہ آب اس بن میں نے اگر پیا ہے
نکلا ہے میر پانی وہ خون ناب ہوکر
میر تقی میر

میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر

دیوان پنجم غزل 1620
شوریدہ سر رکھا ہے جب سے اس آستاں پر
میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر
گھائل گرا رہا ہے فتراک سے بندھا ہے
کیا کیا ستم ہوئے ہیں اس صید ناتواں پر
لطف بدن کو اس کے ہرگز پہنچ سکے نہ
جا پڑتی تھی ہمیشہ اپنی نگاہ جاں پر
خاشاک و خار و خس کو کر ایک جا جلایا
کیا چشم شور برق خاطف تھی آشیاں پر
وہ باغباں پسر کچھ گل گل شگفتہ ہے اب
یہ اور گل کھلا ہے اک پھولوں کی دکاں پر
پرکالے آگ کے تھے کیا نالہ ہاے بلبل
شبنم سے آبلے ہیں گل برگ سی زباں پر
دل کیا مکاں پھر اس کا کیا صحن میر لیکن
غالب ہے سعی میں تو میدان لامکاں پر
میر تقی میر

ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر

دیوان پنجم غزل 1619
خندہ بجاے گریہ و اندوہ و آہ کر
ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر
کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج کو شوخ
آنکھوں میں جان آئی ہے ایدھر نگاہ کر
رحمت اگر یقینی ہے تو کیا ہے زہد شیخ
اے بیوقوف جاے عبادت گناہ کر
چھوڑ اب طریق جور کو اے بے وفا سمجھ
نبھتی نہیں یہ چال کسو دل میں راہ کر
چسپیدگی داغ سے مت منھ کو اپنے موڑ
اے زخم کہنہ دل سے ہمارے نباہ کر
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے طپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خوامخواہ کر
اس وقت ہے دعا و اجابت کا وصل میر
یک نعرہ تو بھی پیش کش صبح گاہ کر
میر تقی میر

وہ گھر سے نہیں اپنے نکلتا دم بھر بھی تلوار بغیر

دیوان پنجم غزل 1618
عشق ہمارا خون کرے ہے جی نہیں رہتا یار بغیر
وہ گھر سے نہیں اپنے نکلتا دم بھر بھی تلوار بغیر
جان عزیز کی جاں بھی گئے پر آنکھیں کھلی رہ جائیں گی
یعنی کشتۂ حیرت تھا میں آئینہ سا دیدار بغیر
گوندھے گئے سو تازہ رہے جو سبد میں تھے سوملالت سے
سوکھ کے کانٹا پھول ہوئے وے اس کے گلے کے ہار بغیر
پھولوں کا موسم کا شکے ہو پردے سے ہوا کے چشمک زن
گل کھائے ہیں ہزار خزاں میں مرغ چمن نے بہار بغیر
وحشی وطیر سے دشت بھرے تھے صیادی تھی یار کی جب
خالی پڑے ہیں دام کہیں میر اس کے ذوق شکار بغیر
میر تقی میر

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

قیامت غم سے ہر ساعت رہی الفت کے ماروں پر

دیوان پنجم غزل 1616
سنا تم نے جو گذرا سانحہ ہجراں میں یاروں پر
قیامت غم سے ہر ساعت رہی الفت کے ماروں پر
کیا ہے عشق عالم کش نے کیا ستھراؤ لوگوں کا
نکل چل شہر سے باہر نظر کر ٹک مزاروں پر
تڑپ کر گرم ٹک جوں برق ٹھنڈے ہوتے جاتے ہیں
بسان ابر رحمت رو بہت ہم بے قراروں پر
بڑی دولت ہے درویشی جو ہمرہ ہو قناعت کے
کہ عرصہ تنگ ہے حرص و ہوا سے تاجداروں پر
سیاحت خوب مجھ کو یاد ہے پر کی بھی وحشت کی
پر اپنا پاؤں پھیلے دشت کے سر تیز خاروں پر
گئے فرہاد و مجنوں ہو کوئی تو بات بھی پوچھیں
یکایک کیا بلا آئی ہمارے غم گساروں پر
گئی اس ناتوان عشق کے آگے سے پیری ٹل
سبک روحی مری اے میر بھاری ہے ہزاروں پر
میر تقی میر

ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1615
لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر
ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر
ہے شعر و شاعری گو کب سے شعار اپنا
حرف و سخن سے کریے اب اجتناب کیونکر
جوں ابر اگر نہ روویں وادی و کوہ پر ہم
تو شہروں شہروں آوے نہروں میں آب کیونکر
اب بھی نہیں ہے ہم کو اے عشق ناامیدی
دیکھیں خراب ہووے حال خراب کیونکر
اڑ اڑ کے جا لگے ہے وہ تیر مار کاکل
کھاتا رہے نہ افعی پھر پیچ تاب کیونکر
چشمے محیط سے جو ہووے نہ چشم تر کے
تو سیر ہو ہوا پر پھیلے سحاب کیونکر
اب تو طپش نے دل کی اودھم مچا رکھا ہے
تسکین پاوے دیکھوں یہ اضطراب کیونکر
رو چاہیے ہے اس کے در پر بھی بیٹھنے کو
ہم تو ذلیل اس کے ہوں میر باب کیونکر
میر تقی میر

خوں بستہ ہیں گی آنکھیں آوے گی خواب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1614
تڑپے ہے غم زدہ دل لاوے گا تاب کیونکر
خوں بستہ ہیں گی آنکھیں آوے گی خواب کیونکر
پر ناتواں ہوں مجھ پر بھاری ہے جی ہی اپنا
مجھ سے اٹھیں گے اس کے ناز و عتاب کیونکر
اس بحر میں ہے مٹنا شکل حباب ہر دم
ابھرا رہے ہمیشہ نقش پرآب کیونکر
پانی کے دھوکے پیاسے کیا کیا عزیز مارے
سر پر نہ خاک ڈالے اپنے سراب کیونکر
آب رواں نہ تھا کچھ وہ لطف زندگانی
جاتی رہی جوانی اپنی شتاب کیونکر
سینے میں میرے کب سے اک سینک ہی رہے ہے
قلب و کبد نہ ہوویں دونوں کباب کیونکر
شلّاق خواری کی تھی خجلت جو کچھ نہ بولا
منھ کیا ہے نامہ بر کا نکلے جواب کیونکر
سوز دل و جگر سے جلتا ہے تن بدن سب
میں کیا کوئی ہو کھینچے ایسے عذاب کیونکر
چہرہ کتابی اس کا مجموعہ میر کا ہے
اک حرف اس دہن کا ہوتا کتاب کیونکر
میر تقی میر

گذرے گا اتقا میں عہد شباب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1613
روزوں میں رہ سکیں گے ہم بے شراب کیونکر
گذرے گا اتقا میں عہد شباب کیونکر
تھوڑے سے پانی میں بھی چل نکلے ہے اپھرتا
بے تہ ہے سر نہ کھینچے اک دم حباب کیونکر
چشمے بحیرے اب تک ہیں یادگار اس کے
وہ سوکھ سب گئی ہے چشم پرآب کیونکر
دل کی طرف کا پہلو سب متصل جلے ہے
مخمل ہو فرش کیوں نہ آوے گی خواب کیونکر
اول سحور کھانا آخر صبوحی کرنا
آوے نہ اس عمل سے شرم و حجاب کیونکر
اجڑے نگر کو دل کے دیکھوں ہوں جب کہوں ہوں
اب پھر بسے گی ایسی بستی خراب کیونکر
جرم و ذنوب تو ہیں بے حد و حصر یارب
روزحساب لیں گے مجھ سے حساب کیونکر
پیش از سحر اٹھے ہے آج اس کے منھ کا پردہ
نکلے گا اس طرف سے اب آفتاب کیونکر
خط میر آوے جاوے جو نکلے راہ ادھر کی
نبھتا نہیں ہے قاصد لاوے جواب کیونکر
میر تقی میر

ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر

دیوان پنجم غزل 1612
ٹیڑھی نگاہیں کیا کرتے ہو دم بھر کے یاں آنے پر
ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر
زور ہوا ہے چل صوفی ٹک تو بھی رباط کہنہ سے
ابر قبلہ بڑھتا بڑھتا آیا ہے میخانے پر
گل کھائے بے تہ بلبل نے شور قیامت کا سا کیا
دیکھ چمن میں اس بن میرے چپکے جی بہلانے پر
سر نیچے کر لیتا تھا تلوار چلاتے ہم پر وے
ریجھ گئے خوں ریزی میں اپنی اس کے پھر شرمانے پر
گالی مار کے غم پر میں نے صبر کیا خاموش رہا
رحم نہ آیا ٹک ظالم کو اس میرے غم کھانے پر
نادیدہ ہیں نام خدا کے ایسے جیسے قحط زدہ
دوڑتی ہیں کیا آنکھیں اپنی سبحے کے دانے دانے پر
حال پریشاں سن مجنوں کا کیا جلتا ہے جی اپنا
عاشق ہم بھی میر رہے ہیں اس ڈھب کے دیوانے پر
میر تقی میر

ایسے گونگے بیٹھو ہو تم تو بیٹھیے اپنے گھر جاکر

دیوان پنجم غزل 1611
بات کہو کیا چپکے چپکے بیٹھ رہو ہو یاں آکر
ایسے گونگے بیٹھو ہو تم تو بیٹھیے اپنے گھر جاکر
دل کا راز کیا میں ظاہر بلبل سے گلزار میں لیک
اس بے تہ نے صحن چمن میں جان دی چلا چلا کر
جیسا پیچ و تاب پر اپنے بالیدہ تھا ویسا ہی
مارسیہ کو رشک سے مارا ان بالوں نے بل کھاکر
ڈھونڈتے تا اطفال پھریں نہ ان کے جنوں کی ضیافت میں
بھر رکھی ہیں شہر کی گلیاں پتھر ہم نے لالاکر
ہاہا ہی ہی نے شوخ کی میرے تنگ کیا خوش رویاں کو
سرخ و زرد ہوئے خجلت سے چھوٹے ہاہاہاہا کر
چاہ کا جو اظہار کیا تو فرط شرم سے جان گئی
عشق شہرت دوست نے آخر مارا مجھ کو رسوا کر
میر یہ کیا روتا ہے جس سے آنکھوں پر رومال رکھا
دامن کے ہر پاٹ کو اپنے گریۂ زار سے دریا کر
میر تقی میر

کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در

دیوان پنجم غزل 1610
عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر
کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در
حج سے جو کوئی آدمی ہو تو سارا عالم حج ہی کرے
مکے سے آئے شیخ جی لیکن وے تو وہی ہیں خر کے خر
رنج و تعب میں مرتے دیکھے ہم نے ممسک دولت مند
جی کے جی بھی عبث جاتے ہیں ان لوگوں کے زر کے زر
مسلم و کافر کے جھگڑے میں جنگ و جدل سے رہائی نہیں
لوتھوں پہ لوتھیں گرتی رہیں گی کٹتے رہیں گے سر کے سر
سخت مصیبت عشق میں یہ ہے جانیں چلی جاتی ہیں لیک
ہاتھ سروں پر ماریں گے تو بند رہیں گے گھر کے گھر
کب سے گرمی عشق نے میرے چشمۂ چشم کو خشک کیا
کپڑے گلے سب تن کے لیکن وے ہیں اب تک ترکے تر
نکلے اب کے قفس میں شاید کوئی کلی تو نکلے میر
سارے طیر شگفتہ چمن کے ٹوٹے گئے وے پر کے پر
میر تقی میر

سو پر وا ہوئے نہ قفس کے بھی در پر

دیوان پنجم غزل 1609
بھروسا اسیری میں تھا بال و پر پر
سو پر وا ہوئے نہ قفس کے بھی در پر
سواران شائستہ کشتے ہیں تیرے
نہ تیغ ستم کر علم ہر نفر پر
کھلا پیش دنداں نہ اس کا گرہچہ
کنھوں نے بھی تھوکا نہ سلک گہر پر
جلے کیوں نہ چھاتی کہ اپنی نظر ہے
کسو شوخ پرکار رعنا پسر پر
نہ محشر میں چونکا مرا خون خفتہ
وہی تھا یہ خوابیدہ اس شور و شر پر
کئی زخم کھا کر تڑپتا رہا دل
تسلی تھی موقوف زخم دگر پر
سنا تھا اسے پاس لیکن نہ پایا
چلے دور تک ہم گئے اس خبر پر
سرشب کہے تھا بہانہ طلب وہ
گھڑی ایک رات آئی ہو گی پہر پر
کوئی پاس بیٹھا رہے کب تلک یوں
کہو ہو گی رخصت گئے اب سحر پر
جہاں میں نہ کی میر اقامت کی نیت
کہ مشعر تھا آنا مرا یاں سفر پر
میر تقی میر

کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر

دیوان پنجم غزل 1608
کئی داغ ایسے جلائے جگر پر
کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر
گیا میری وادی سے سیلاب بچ کر
نظر یاں جو کی عشق کے شیرنر پر
سر رہ سے اس کے موئے ہی اٹھیں گے
یہ جی جا رہا ہے اسی رہگذر پر
سر اس آستاں پر رگڑتے گئے ہیں
ہوئے خون یاروں کے اس خاک در پر
ہم آتا اسے سن کے جیتوں میں آئے
بنا زندگانی کی ہے اب خبر پر
اسے لطف اس کا ہی لاوے تو لاوے
نہیں وصل موقوف کچھ زور و زر پر
سرکتے نہیں شوق کشتوں کے سر بن
قیامت سا ہنگامہ ہے اس کے در پر
اتر جو گیا دل سے روکش ہو اس کا
چڑھا پھر نہ خورشید میری نظر پر
بھری تھی مگر آگ دل میں دروں میں
ہوئے اشک سوزش سے اس کی شرر پر
گیا پی جو ان آنسوئوں کے تئیں میں
سراسر ہیں اب داغ سطح جگر پر
سرعجز ہر شام تھا خاک پر ہی
تہ دل تھی کیسی ہی آہ سحر پر
پلک اٹھے آثار اچھے نہ دیکھے
پڑی آنکھ ہرگز نہ روے اثر پر
طرف شاخ گل کی لچک کے نہ دیکھا
نظر میر کی تھی کسو کی کمر پر
غزل در غزل صاحبو یہ بھی دیکھو
نہیں عیب کرنا نظر اک ہنر پر
میر تقی میر

کیا کیا سینہ زنی رہتی ہے درد و غم کے فسانوں پر

دیوان پنجم غزل 1607
اپنے موئے بھی رنج و بلا ہے ہمسایوں کی جانوں پر
کیا کیا سینہ زنی رہتی ہے درد و غم کے فسانوں پر
میں تو کیا کیا حرف وسخن تھے میرے جہاں سے جاتے رہے
باتیں دردآگیں ہیں اب تک کیسی کیسی زبانوں پر
تو بھی رباط کہن سے صوفی سیر کو چل ٹک سبزے کی
ابرسیہ قبلے سے آ کر جھوم پڑا میخانوں پر
آمد و رفت نسیم سے ظاہر رنجش بلبل ہے لیکن
بائو بھی اب تک بہی نہیں گلہاے چمن کے کانوں پر
جیغہ جیغہ اس کی سی ابرو دلکش نکلی نہ کوئی یاں
زور کیے لوگوں نے اگرچہ نقش و نگار کمانوں پر
جان تو یاں ہے گرم رفتن لیت و لعل واں ویسی ہے
کیا کیا مجھ کو جنوں آتا ہے اس لڑکے کے بہانوں پر
بعد مرے سبحے کو میرے ہاتھوں ہاتھ ملک لیں گے
سو سو بار لیا ہے میں نے نام اس کا ان دانوں پر
دل کی حقیقت عرش کی عظمت سب کچھ ہے معلوم ہمیں
سیر رہی ہے اکثر اپنی ان پاکیزہ مکانوں پر
راہ چلو تم اپنی اپنی میرے طریق سے کیا تم کو
آنکھوں سے پردہ میں نے کیا ہے واں پائوں کے نشانوں پر
عشق عجائب زورآور ہے کشتی سب کی پاک ہوئی
ذکر میر ہے کیا پیری میں حرف و سخن ہے جوانوں پر
میر تقی میر

خاک اڑاتے کہاں تک پھریے چہرہ سب ہے گردآلود

دیوان پنجم غزل 1606
کچھ تدبیر بتائو ہم کو دل اپنا ہے دردآلود
خاک اڑاتے کہاں تک پھریے چہرہ سب ہے گردآلود
میر تقی میر

بے یار و دیار اب تو ہیں اس بستی میں وارد

دیوان پنجم غزل 1605
کیا کہیے ہوئے مملکت ہستی میں وارد
بے یار و دیار اب تو ہیں اس بستی میں وارد
کچھ ہوش نہ تھا منبر و محراب کا ہم کو
صد شکر کہ مسجد میں ہوئے مستی میں وارد
میر تقی میر

ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد

دیوان پنجم غزل 1604
ہے عشق کا فسانہ میرا نہ یاں زباں زد
ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد
حسرت سے حسن گل کی چپکا ہوا ہوں ورنہ
طیران باغ میں ہوں میں خوش زباں زباں زد
مذکور عاشقی کا ہر چار سو ہے باہم
یعنی نہیں کہانی میری کہاں زباں زد
فرہاد و قیس و وامق ہر یک سے پوچھ لو تم
شہروں میں عشق کے ہوں میں ناتواں زباں زد
کیا جانے میر کس کے غم سے ہے چپ وگرنہ
حرف و سخن میں کیا ہی ہے یہ جواں زباں زد
میر تقی میر

ہر پارہ اس کا پاتے ہیں آوارہ دردمند

دیوان پنجم غزل 1603
رکھتا ہے دل کنار میں صدپارہ دردمند
ہر پارہ اس کا پاتے ہیں آوارہ دردمند
تسکین اپنے دل کی جو پاتا نہیں کہیں
جز صبر اور کیا کرے بے چارہ دردمند
اسلامی کفری کوئی ہو ہے شرط درد عشق
دونوں طریق میں نہیں ناکارہ دردمند
قابل ہوئی ہیں سیر کے چشمان خوں فشاں
دیکھیں ہیں آنکھوں لوہو کا فوارہ دردمند
کیا کام اس کو یاں کے نشیب و فراز سے
رکھتا ہے پاؤں دیکھ کے ہموارہ دردمند
اس کارواں سراے کے ہیں لوگ رفتنی
حسرت سے ان کا کرتے ہیں نظارہ دردمند
سو بار حوصلے سے اگر رنج کش ہو میر
پھر فرط غم سے مر رہے یک بارہ دردمند
میر تقی میر

متروک رسم جور و ظلم و جفا ہے شاید

دیوان پنجم غزل 1602
کہتے ہو تم کہ یکسر مجھ میں وفا ہے شاید
متروک رسم جور و ظلم و جفا ہے شاید
کم ناز سے ہے کس کے بندے کی بے نیازی
قالب میں خاک کے یاں پنہاں خدا ہے شاید
یاں کچھ نہیں ہے باقی اس کے حساب لیکن
مجھ میں شمار دم سے اب کچھ رہا ہے شاید
قید فراق سے تو چھوٹیں جو مر رہیں ہم
اس درد بے دوا کی مرنا دوا ہے شاید
یہ عشق ہے یقینی حال ایسا کم سنا ہے
اے میر دل کسو سے تیرا لگا ہے شاید
میر تقی میر

ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد

دیوان پنجم غزل 1601
اس سے نہ الفت ہو مجھ کو تو ہووے نہ میرا چہرہ زرد
ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد
ملنے میں خنکی ہی کرتا وہ کاشکے پہلے چاہ کے دن
گرمی نہ ہوتی آپس میں تو کھنچتی نہ ہر دم آہ سرد
برسوں میں اقلیم جنوں سے دو دیوانے نکلے تھے
میر آوارئہ شہر ہوا ہے قیس ہوا ہے بیاباں گرد
میر تقی میر

کیا تازہ کوئی ان کی نکلی بہار میں شاخ

دیوان پنجم غزل 1600
گلبن چمن کے اس کو جو دیکھتے ہیں گستاخ
کیا تازہ کوئی ان کی نکلی بہار میں شاخ
میر تقی میر

برنگ برق سراپا وہ خودنما ہے شوخ

دیوان پنجم غزل 1599
جھمک سے اس کے بدن میں ہر ایک جا ہے شوخ
برنگ برق سراپا وہ خودنما ہے شوخ
پڑے ہے سینکڑوں جا راہ چلنے میں اس کی
کسو کی آنکھ تو دیکھے کوئی بلا ہے شوخ
نظر پڑی نہیں کیا اس کی شوخ چشمی میر
حضور یار کے چشم غزال کیا ہے شوخ
میر تقی میر

شاخ گل سا جائے ہے لہکا ان نے نئی یہ ڈالی طرح

دیوان پنجم غزل 1598
وہ نوباوئہ گلشن خوبی سب سے رکھے ہے نرالی طرح
شاخ گل سا جائے ہے لہکا ان نے نئی یہ ڈالی طرح
مونڈھے چلے ہیں چولی چسی ہے مہری پھنسی ہے بند کسے
اس اوباش نے پہناوے کی اپنے تازہ نکالی طرح
جبہہ نوچا منھ نوچا سب سینہ نوچا ناخن سے
میر نے کی ہے غم غصے میں اپنی یہ بدحالی طرح
میر تقی میر

اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح

دیوان پنجم غزل 1597
گھر سے لیے نکلتا ہے تلوار بے طرح
اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح
جی بچنے کی طرح نظر آتی نہیں کوئی
کرتا ہے میرے خون پہ اصرار بے طرح
چہرہ تو ان نے اپنا بنایا ہے خوب لیک
بگڑا پھرے ہے اب وہ طرحدار بے طرح
کس طرح جائے پکڑی زباں اس کی خشم میں
کہتا ہے بیٹھا متصل اب یار بے طرح
لوہو میں ڈوبے دیکھیو دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

زخمی پڑے ہیں مرغ ہزاروں چمن کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1596
اے بوے گل سمجھ کے مہکیو پون کے بیچ
زخمی پڑے ہیں مرغ ہزاروں چمن کے بیچ
بہ بھی گیا میں اندر ہی اندر گداز ہو
دھوکا ہے جوں حباب مرے پیرہن کے بیچ
میر تقی میر

شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1595
اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ
شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ
رحم کرے وہ ذرا ذرا تو دیکھنے آوے دم بھر یاں
اب تو دم بھی باقی نہیں ہے اس کے کسو بیمار کے بیچ
چین نہ دے گا خاک کے نیچے ہرگز عشق کے ماروں کو
دل تو ساتھ اے کاش نہ گاڑیں ان لوگوں کے مزار کے بیچ
چشم شوخ سے اس کی یارو کیا نسبت ہے غزالوں کو
دیکھتے ہیں ہم بڑا تفاوت شہری اور گنوار کے بیچ
کون شکار رم خوردہ سے جاکے کہے ٹک پھر کر دیکھ
کوئی سوار ہے تیرے پیچھے گرد و خاک و غبار کے بیچ
رونے سے جو رود بہا تو اس کا کیا ہے یارو عجب
جذب ہوئے ہیں کیا کیا دریا اپنے جیب و کنار کے بیچ
چشمک غمزہ عشوہ کرشمہ آن انداز و ناز و ادا
حسن سواے حسن ظاہر میر بہت ہیں یار کے بیچ
میر تقی میر

اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1594
فصل گل میں اسیر ہوئے تھے من ہی کی رہی من کے بیچ
اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ
یہ الجھائو سلجھتا ہم کو دے ہے دکھائی مشکل سا
یعنی دل اٹکا ہے جاکر ان بالوں کے شکن کے بیچ
وہ کرتا ہے جب زباں درازی حیرت سے ہم چپکے ہیں
کچھ بولا نہیں جاتا یعنی اس کے حرف و سخن کے بیچ
دشت بلا میں جاکر مریے اپنے نصیب جو سیدھے ہوں
واں کی خاک عنبر کی جاگہ رکھ دیں لوگ کفن کے بیچ
کبک کی جان مسافر ہووے دیکھے خرام ناز اس کا
نام نہیں لیتا ہے کوئی اس کا میرے وطن کے بیچ
کیا شیریں ہے حرف و حکایت حسرت ہم کو آتی ہے
ہائے زبان اپنی بھی ہووے یک دم اس کے دہن کے بیچ
غم و اندوہ عشقی سے ہر لحظہ نکلتی رہتی ہے
جان غلط کر میر آئی ہے گویا تیرے بدن کے بیچ
میر تقی میر

کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1593
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ
پایہ اس کی شہادت کا ہے عرش عظیم سے بالاتر
جو مظلوم عشق موا ہے بڑھ کر ٹک میدان کے بیچ
یوں ہی نظر چڑھ رہتی نہیں کچھ حسرت میں تو چشم سفید
دیکھی ہے ہیرے کی دمک میں اس چشم حیران کے بیچ
وہ پرکالہ آتش کا ہے صبح تلک بھڑکا بھی نہ تھا
کیا جانوں کیا پھونک دیا لوگوں نے اس کے کان کے بیچ
وعدے کرو ہو برسوں کے تم دم کا بھروسا ہم کو نہیں
کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے یاں اک پل میں اک آن کے بیچ
تبعیّت سے جو فارسی کی میں نے ہندی شعر کہے
سارے ترک بچے ظالم اب پڑھتے ہیں ایران کے بیچ
بندے خداے پاک کے ہم جو میر نہیں تو زیر فلک
پھر یہ تقدس آیا کہاں سے مشت خاک انسان کے بیچ
میر تقی میر

جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1592
کہوں سو کیا کہوں نے صبر نے قرار ہے آج
جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج
سر اپنا عشق میں ہم نے بھی یوں تو پھوڑا تھا
پر اس کو کیا کریں اوروں کا اعتبار ہے آج
گیا ہے جانب وادی سوار ہوکر یار
غبار گرد پھرے ہے بہت شکار ہے آج
جہاں کے لوگوں میں جس کی تھی کل تئیں عزت
اسی عزیز کو دیکھا ذلیل و خوار ہے آج
سحر سواد میں چل زور پھولی ہے سرسوں
ہوا ہے عشق سے کل زرد کیا بہار ہے آج
سواری اس کی ہے سرگرم گشت دشت مگر
کہ خیرہ تیرہ نمودار یک غبار ہے آج
سپہر چھڑیوں میں کل تک پھرے تھا ساتھ اپنے
عجب ہے سب کا اسی سفلے پر مدار ہے آج
بخار دل کا نکالا تھا درد دل کہہ کر
سو درد سر ہے بدن گرم ہے بخار ہے آج
کسو کے آنے سے کیا اب کہ غش ہے کل دن سے
ہمیں تو اپنا ہی اے میر انتظار ہے آج
میر تقی میر

لوہو ٹپکتا ہے گریباں سے آج

دیوان پنجم غزل 1591
رنگ یہ ہے دیدئہ گریاں سے آج
لوہو ٹپکتا ہے گریباں سے آج
سربہ فلک ہونے کو ہے کس کی خاک
گرد یک اٹھتی ہے بیاباں سے آج
میر تقی میر

دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1590
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
برافروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں
پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحرحسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے
شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر
رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آئو بیٹھو لطف کرو
کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے
کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
مت چوکو اس جنس گراں کو دل کی وہیں لے جائو تم
ہندستان میں ہندوبچوں کی بہت بڑی سرکار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا
ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محوجلوئہ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا
یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں
شاید میر جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
میر تقی میر

زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج

دیوان پنجم غزل 1589
کس تازہ مقتل پہ کشندے تیرا ہوا ہے گذارا آج
زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج
کل تک ہم نے تم کو رکھا تھا سو پردے میں کلی کے رنگ
صبح شگفتہ گل جو ہوئے تم سب نے کیا نظارہ آج
کوئی نہیں شاہان سلف میں خالی پڑے ہیں دونوں عراق
یعنی خود گم اسکندر ہے ناپیدا ہے دارا آج
چشم مشتاق اس لب و رخ سے لمحہ لمحہ اٹھی نہیں
کیا ہی لگے ہے اچھا اس کا مکھڑا پیارا پیارا آج
اب جو نسیم معطر آئی شاید بال کھلے اس کے
شہر کی ساری گلیاں ہو گئیں گویا عنبر سارا آج
کل ہی جوش و خروش ہمارے دریا کے سے تلاطم تھے
دیکھ ترے آشوب زماں کے کر بیٹھے ہیں کنارہ آج
چشم چرائی دور سے کر وا مجھ کو لگا یہ کہہ کے گیا
صید کریں گے کل ہم آکر ڈال چلے ہیں چارا آج
کل ہی زیان جیوں کے کیے ہیں عشق میں کیا کیا لوگوں نے
سادگی میری چاہ میں دیکھو میں ڈھونڈوں ہوں چارہ آج
میر ہوئے ہو بے خود کب کے آپ میں بھی تو ٹک آئو
ہے دروازے پر انبوہ اک رفتۂ شوق تمھارا آج
میر تقی میر

مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث

دیوان پنجم غزل 1588
دل کو اس بے مہر سے ہم نے لگایا ہے عبث
مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث
دیکھ کر اس کو کھڑے سوجی سے ہم عاشق ہوئے
بیٹھے بیٹھے ناگہاں یہ رنج اٹھایا ہے عبث
اپنی تو بگڑی ہی کوئی کام کی صورت نہیں
ان نے بے لطفی سے منھ اچھا بنایا ہے عبث
جی کے جاتے وہ جو نو خط آتا تو بابت بھی تھی
لطف کر مردے پہ عاشق کے اب آیا ہے عبث
تب تو خانہ باغ سے اپنے نہ پوچھی بات بھی
کیا جو تربت پر مری اب پھول لایا ہے عبث
رات دن سنتا ہے نالے یوں نہیں کہتا کبھو
میر دل آزردہ کو کن نے ستایا ہے عبث
میر تقی میر

ہوئے جس کے لگے کارآمدہ بیکار یا قسمت

دیوان پنجم غزل 1587
اچٹتی سی لگی اپنے تو وہ تلوار یا قسمت
ہوئے جس کے لگے کارآمدہ بیکار یا قسمت
ہوئے جب سو جواں یک جا توقع سی ہوئی ہم کو
نگہ تیز ان نے سو ایدھر نہ کی دو بار یا قسمت
پڑا سایہ نہ اس کی تیغ خوں آلودہ کا سر پر
کیے ہیں یوں تو قسمت ان نے کیا کیا وار یا قسمت
رہا تھا زیر دیوار اس کی میں برسات میں جاکر
گری اس مینھ میں سر پر وہی دیوار یا قسمت
موئے ہم تشنہ لب دیدار کے حالانکہ گریاں تھے
نصیب اپنے کہ سوکھی چشم دریابار یا قسمت
در مسجد پہ ہوکر بے نوا بیٹھے ہیں یا ہادی
ہمیں تھے ورنہ میخانے میں تکیہ دار یا قسمت
نصیبوں میں ہے جن کے عیش وہ بھی میر جیتے ہیں
جیے ہیں ہم بھی جو مرنے کو تھے تیار یا قسمت
میر تقی میر