زمرہ جات کے محفوظات: غزل

چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 44
ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں
چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں
دھڑک رہا ہے تو اک اِسم کی ہے یہ برَ کت
وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں
بتا نہ پائیں، تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم
بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں
ترا کمال، کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ
ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں
یہ مت سمجھ، کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں
ابھی ہم اہلِ جُنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں
بنامِ ذوقِ سخن خود نمائی آپ کریں
ہم اِس مرض میں ابھی مبتلا نہیں ہوئے ہیں
ہمی وہ، جن کا سفر ماورائے وقت و وجود
ہمی وہ، خود سے کبھی جو رہا نہیں ہوئے ہیں
خود آگہی بھی کھڑی مانگتی ہے اپنا حساب
جُنوں کے قرض بھی اب تک ادا نہیں ہوئے ہیں
کسی نے دل جو دکھایا کبھی، تو ہم عرفان
اُداس ہو گئے، لیکن خفا نہیں ہوئے ہیں
عرفان ستار

یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 43
بام پر جمع ہوا، ابر ، ستارے ہوئے ہیں
یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں
زندگی، ہم سے ہی روشن ہے یہ آئینہ ترا
ہم جو مشاطہءِ وحشت کے سنوارے ہوئے ہیں
حوصلہ دینے جو آتے ہیں، بتائیں انھیں کیا؟
ہم تو ہمت ہی نہیں، خواب بھی ہارے ہوئے ہیں
شوقِ واماندہ کو درکار تھی کوئی تو پناہ
سو تمہیں خلق کیا، اور تمہارے ہوئے ہیں
خود شناسی کے، محبت کے، کمالِ فن کے
سارے امکان اُسی رنج پہ وارے ہوئے ہیں
روزنِ چشم تک آپہنچا ہے اب شعلہ ءِ دل
اشک پلکوں سے چھلکتے ہی شرارے ہوئے ہیں
ڈر کے رہ جاتے ہیں کوتاہیءِ اظہار سے چُپ
ہم جو یک رنگی ءِ احساس کے مارے ہوئے ہیں
ہم کہاں ہیں، سرِ دیوارِ عدم، نقشِ وجود
اُن نگاہوں کی توجہ نے اُبھارے ہوئے ہیں
بڑھ کے آغوش میں بھر لے ہمیں اے رُوحِ وصال
آج ہم پیرہنِ خاک اُتارے ہوئے ہیں
عرفان ستار

آج فضا کے بوجھل پن سے لہجے بھی سنجیدہ ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 42
چاند بھی کھویا کھویا سا ہے تارے بھی خوابیدہ ہیں
آج فضا کے بوجھل پن سے لہجے بھی سنجیدہ ہیں
جانے کن کن لوگو سے اس درد کے کیا کیا رشتے تھے
ہجر کی اس آباد سرا میں سب چہرے نادیدہ ہیں
اتنے برسوں بعد بھی دونوں کیسے ٹوٹ کے ملتے ہیں
تُو ہے کتنا سادہ دل اور ہم کتنے پیچیدہ ہیں
سن جاناں ہم ترکِ تعلق اور کسی دن کر لیں گے
آج تجھے بھی عجلت سی ہے ہم بھی کچھ رنجیدہ ہیں
کانوں میں اک سرگوشی ہے بے معنی سی سرگوشی
آنکھوں میں کچھ خواب سجے ہیں خواب بھی صبح رسیدہیں
گھر کی وہ مخدوش عمارت گر کے پھر تعمیر ہوئی
اب آنگن میں پیڑ ہیں جتنے سارے شاخ بریدہ ہیں
اس بستی میں ایک سڑک ہے جس سے ہم کو نفرت ہے
اس کے نیچے پگڈنڈی ہے جس کے ہم گرویدہ ہیں
عرفان ستار

ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 41
کیا بتاوٗں کہ جو ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو کہیں اطراف میں پھیلی ہوئی ہے
صبح سے رقص کناں بادِ صبا ہے مجھ میں
تیری صورت میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی
غالباً تُو بھی مجھے ڈھونڈ رہا ہے مجھ میں
ایک ہی سمت ہر اک خواب چلا جاتا ہے
یاد ہے، یا کوئی نقشِ کفِ پا ہے مجھ میں؟
میری بے راہ روی اس لیے سرشار سی ہے
میرے حق میں کوئی مصروفِ دعا ہے مجھ میں
اپنی سانسوں کی کثافت سے گماں ہوتا ہے
کوئی امکان ابھی خاک ہُوا ہے مجھ میں
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
یا تو میں خود ہی رہائی کے لیے ہوں بے تاب
یا گرفتار کوئی میرے سِوا ہے مجھ میں
آئینہ اِس کی گواہی نہیں دیتا، تو نہ دے
وہ یہ کہتا ہے کوئی خاص ادا ہے مجھ میں
ہو گئی دل سے تری یاد بھی رخصت شاید
آہ و زاری کا ابھی شور اٹھا ہے مجھ میں
مجھ میں آباد ہیں اک ساتھ عدم اور وجود
ہست سے برسرِ پیکار فنا ہے مجھ میں
مجلسِ شامِ غریباں ہے بپا چار پہر
مستقل بس یہی ماحولِعزا ہے مجھ میں
ہو گئی شق تو بالآخر یہ انا کی دیوار
اپنی جانب کوئی دروازہ کھلا ہے مجھ میں
خوں بہاتا ہُوا، زنجیر زنی کرتا ہُوا
کوئی پاگل ہے جو بے حال ہُوا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو سے معطر ہے مرا سارا وجود
تیرے چھونے سے جو اک پھول کِھلا ہے مجھ میں
تیرے جانے سے یہاں کچھ نہیں بدلا، مثلاً
تیرا بخشا ہوا ہر زخم ہرا ہے مجھ میں
کیسے مل جاتی ہے آوازِ اذاں سے ہر صبح
رات بھر گونجنے والی جو صدا ہے مجھ میں
کتنی صدیوں سے اُسے ڈھونڈ رہے ہو بے سُود
آوٗ اب میری طرف آوٗ، خدا ہے مجھ میں
مجھ میں جنّت بھی مِری، اور جہنّم بھی مِرا
جاری و ساری جزا اور سزا ہے مجھ میں
روشنی ایسے دھڑکتے تو نہ دیکھی تھی کبھی
یہ جو رہ رہ کے چمکتا ہے، یہ کیا ہے مجھ میں؟
عرفان ستار

اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 40
سمجھوتہ کوئی وقت سے کرنے کا نہیں میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں
زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر
اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں
کل رات عجب دشتِ بلا پار کیا ہے
سو بادِ سحر سے تو سنورنے کا نہیں میں
کیوں مملکتِ عشق سے بے دخل کیا تھا
اب مسندِ غم سے تو اترنے کا نہیں میں
دم بھر کے لیے کوئی سماعت ہو میسّر
بے صوت و صدا جاں سے گزرنے کا نہیں میں
اب چشمِ تماشا کو جھپکنے نہیں دینا
اس بار جو ڈوبا تو ابھرنے کا نہیں میں
ہر شکل ہے مجھ میں مری صورت کے علاوہ
اب اس سے زیادہ تو نکھرنے کا نہیں میں
عرفان ستار

ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 39
جس دن سے اُس نگاہ کا منظر نہیں ہوں میں
ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں
بکھرا ہوا ہوں شہرِ طلب میں اِدھر اُدھر
اب تیری جستجو کو میسر نہیں ہوں میں
یہ عمر اک سراب ہے صحرائے ذات کا
موجود اس سراب میں دم بھر نہیں ہوں میں
گردش میں ہے زمین بھی، ہفت آسمان بھی
تُو مجھ پہ رکھ نظر کہ مکرر نہیں ہوں میں
ہوں اُس کی بزمِ ناز میں مانندِ ذکرِ غیر
وہ بھی کبھی کبھار ہوں، اکثر نہیں ہوں میں
تُو جب طلب کرے گا مجھے بہرِ التفات
اُس دن خبر ملے گی کہ در پر نہیں ہوں میں
ہے بامِ اوج پر یہ مری تمکنت مگر
تیرے تصرفات سے باہر نہیں ہوں میں
میں ہوں ترے تصورِ تخلیق کا جواز
اپنے کسی خیال کا پیکر نہیں ہوں میں
کر دے سلوکِ جاں سے معطر مشامِ جاں
چُھو لے مجھے کہ خواب کا منظر نہیں ہوں میں
عرفانؔ خوش عقیدگی اپنی جگہ مگر
غالبؔ کی خاکِ پا کے برابر نہیں ہوں میں
عرفان ستار

مجھ کو کہاں خبر تھی کہ اتنا برا ہوں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 38
احباب کا کرم ہے کہ خود پر کھلا ہوں میں
مجھ کو کہاں خبر تھی کہ اتنا برا ہوں میں
خود سے مجھے جو ہے وہ گلہ کس سے میں کروں
مجھ کو منائے کون کہ خود سے خفا ہوں میں
اٹھے جو اس طرف وہ نظر ہی کہیں نہیں
اک شہرِ کم نگاہ میں کھویا ہُوا ہوں میں
تجھ سے نہیں کہوں گا تو کس سے کہوں گا یار؟
پہلے سمجھ تو جاوٗں کہ کیا چاہتا ہوں میں؟
کیا اور چاہتے ہیں یہ دیدہ ورانِ عصر؟
عادی منافقت کا تو ہو ہی گیا ہوں میں
مل جائیں گے بہت سے تجھے مصلحت پسند
مجھ سے نہ سر کھپا کہ بہت سر پھرا ہوں میں
اب آئینہ بھی پوچھ رہا ہے، تو کیا کہوں
حسرت بھری نگاہ سے کیا دیکھتا ہوں میں
باہر ہے زندگی کی ضرورت میں زندگی
اندر سے ایک عمر ہوئی مر چکا ہوں میں
رہتا ہے اک ہجوم یہاں گوش بر غزل
سنتا ہے کون درد سے جب چیختا ہوں میں
ہیں حل طلب تو مسئلے کچھ اور بھی مگر
اپنے لیے تو سب سے بڑا مسئلہ ہوں میں
میں نے ہی تجھ جمال کو تجھ پر عیاں کیا
اے حسنِ خود پرست، ترا ائینہ ہوں میں
جب تک میں اپنے ساتھ رہا تھا، ترا نہ تھا
اب تیرے ساتھ یوں ہوں کہ خود سے جدا ہوں میں
پہلے میں بولتا تھا بہت، سوچتا تھا کم
اب سوچتا زیادہ ہوں، کم بولتا ہوں میں
عرفان کیا تجھے یہ خبر ہے کہ ان دنوں
ہر دم فنا کے باب میں کیوں سوچتا ہوں میں؟
عرفان ستار

بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 37
جاگتے ہیں تری یاد میں رات بھر، ایک سنسان گھر، چاندنی اور میں
بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں
اک اذیّت میں رہتے ہوئے مستقل، ایک لمحے کو غافل نہیں ذہن و دل
کچھ سوالات ہیں ان کے پیشِ نظر، انتہا کی خبر، آگہی اور میں
تیری نسبت سے اب یاد کچھ بھی نہیں، اُس تعلق کی روداد کچھ بھی نہیں
اب جو سوچوں تو بس یاد ہے اس قدر، ایک پہلی نظر، تشنگی اور میں
کس مسافت میں ہوں دیکھ میرے خدا، ایسی حالت میں تُو میری ہمت بندھا
یہ کڑی رہ گزر، رئگانی کا ڈر،مضمحل بال و پر، بے بسی اور میں
اُس کو پانے کی اب جستجو بھی نہیں، جستجو کیا کریں آرزو بھی نہیں
شوقِ آوارگی بول جائیں کدھر، ہو گئے در بہ در، زندگی اور میں
لمحہ لمحہ اجڑتا ہوا شہرِ جاں، لحظہ لحظہ ہوئے جا رہے ہیں دھواں
پھول پتّے شجر، منتظر چشمِ تر، رات کا یہ پہر، روشنی اور میں
گفتگو کا بہانہ بھی کم رہ گیا، رشتۂ لفظ و معنی بھی کم رہ گیا
ہے یقینا کسی کی دعا کا اثر، آج زندہ ہیں گر، شاعری اور میں
عرفان ستار

یہ کہاں آگیا ہستی سے سرکتا ہُوا میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 36
ایک تاریک خلا، اُس میں چمکتا ہُوا میں
یہ کہاں آگیا ہستی سے سرکتا ہُوا میں
شعلہِٗ جاں سے فنا ہوتا ہوں قطرہ قطرہ
اپنی آنکھوں سے لہو بن کے ٹپکتا ہُوا میں
آگہی نے مجھے بخشی ہے یہ نارِ خود سوز
اک جہنّم کی طرح خود میں بھڑکتا ہُوا میں
منتظر ہوں کہ کوئی آکے مکمل کردے
چاک پر گھومتا، بل کھاتا، درکتا ہُوا میں
مجمعِ اہلِ حرم نقش بدیوار اُدھر
اور اِدھر شور مچاتا ہُوا، بکتا ہُوا میں
میرے ہی دم سے ملی ساعتِ امکان اِسے
وقت کے جسم میں دل بن کے دھڑکتا ہُوا میں
بے نیازی سے مری آتے ہوئے تنگ یہ لوگ
اور لوگوں کی توجّہ سے بدکتا ہُوا میں
رات کی رات نکل جاتا ہوں خود سے باہر
اپنے خوابوں کے تعاقب میں ہمکتا ہُوا میں
ایسی یکجائی، کہ مٹ جائے تمیزِ من و تُو
مجھ میں کھِلتا ہُوا تُو، تجھ میں مہکتا ہُوا میں
اک تو وہ حسنِ جنوں خیز ہے عالم میں شہود
اور اک حسنِ جنوں خیز کو تکتا ہُوا میں
ایک آواز پڑی تھی کہ کوئی سائلِ ہجر؟
آن کی آن میں پہنچا تھا لپکتا ہُوا میں
ہے کشیدِ سخنِ خاص ودیعت مجھ کو
گھومتا پھرتا ہوں یہ عطر چھڑکتا ہُوا میں
رازِ حق فاش ہُوا مجھ پہ بھی ہوتے ہوتے
خود تک آہی گیا عرفان بھٹکتا ہُوا میں
عرفان ستار

سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 35
کاش اک ایسی شب آئے جب تُو ہو پہلو میں
سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں
یاد کی لَو سے آئینے کا چہرہ ہو پُرنور
نہا رہی ہو رات کی رانی خواب کی خوشبو میں
نیند مری لے کر چلتی ہے شام ڈھلے، اور پھر
رات الجھ کر رہ جاتی ہے اُس کے گیسو میں
رہے ہمارے ہونٹوں پر اک نام کا دن بھر ورد
شب بھر دل کی رحل پہ رکھا اک چہرہ چومیں
آپ اپنی ہی ضَو سے جگمگ کرنا ساری رات
دھڑک رہا ہو جیسے میرا دل اِس جگنو میں
بولتے رہنا ہنستے رہنا بے مقصد بے بات
جیسے دل آہی جائے گا میرے قابو میں
ویسے تو اکثر ہوتا تھا ہلکا، میٹھا درد
اب تو جیسے آگ بھری ہو یاد کے چاقو میں
ایک دعا تھی جس نے بخشی حرف کو یہ تاثیر
یہ تاثیر کہاں ہوتی ہے جادو وادو میں
جب مجھ کو بھی آجائے گا چلنا وقت کے ساتھ
آجائے گی کچھ تبدیلی میری بھی خُو میں
تم کیا سمجھو تم کیا جانو کون ہوں میں کیا ہوں
وہ اقلیم الگ ہے جس میں ہیں میری دھومیں
قحطِ سماعت کے عالم میں یہی ہے اک تدبیر
خود ہی شعر کہیں اور خود ہی پڑھ پڑھ کر جھومیں
لوگ ہمیں سمجھیں تو سمجھیں بے حرف و بے صوت
ہم شامل تو ہو نہیں سکتے ہیں اِس ہا ہُو میں
جن کے گھر ہوتے ہیں وہ گھر جاتے ہیں عرفان
آپ بھی شب بھر مت ایسے ان سڑکوں پر گھومیں
عرفان ستار

اک مصرعۂ تازہ بھی مگر کہہ نہ سکا میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 34
لفظوں کے برتنے میں بہت صرف ہوا میں
اک مصرعۂ تازہ بھی مگر کہہ نہ سکا میں
اک دستِ رفاقت کی طلب لے کے بڑھا میں
انبوہِ طرحدار میں اک شور اُٹھا میں!
آ تجھ کو تقابل میں الجھنے سے بچا لوں
سب کچھ ہے تری ذات میں، باقی جو بچا میں
میں اور کہاں خود نگری یاد ہے تجھ کو
جب تُو نے مرا نام لیا میں نے کہا میں؟
میں ایک بگولہ سا اٹھا دشتِ جنوں سے
روکا مجھے دنیا نے بہت پر نہ رُکا میں
یا مجھ سے گزاری نہ گئی عمرِ گریزاں
یا عمرِ گریزاں سے گزارا نہ گیا میں
معلوم ہوا مجھ میں کوئی رمز نہیں ہے
اک عمرِ ریاضت سے گزرنے پہ کھلا میں
جو رات بسر کی تھی مرے ہجر میں تُو نے
اُس رات بہت دیر ترے ساتھ رہا میں
عرفان ستار

چلو اب مان بھی جاو، خدا نئیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 33
گماں کی کھوج کا کوئ صلہ نئیں
چلو اب مان بھی جاو، خدا نئیں
وہ بن جانے سبھی کچھ کہہ گیا تھا
میں سب کچھ جانتا تھا، پر کہا نئیں
جدا ہونا ہی تھا، سو ہو رہے ہیں
ذرا سی بات یے اس کو بڑھا نئیں
مجھے صحرا سے مت تشبیہ دینا
مری وحشت کی کوئ انتہا نئیں
میں سب کچھ جانتا ہوں، دیکھتا ہوں
میں خوابیدہ سہی، سویا ہوا نئیں
نہ آتا تو نہ ہر گز ہم بلاتے
یہاں آہی گیا ہے اب، تو جا نئیں
محبت میں بدن شامل نہ ہوتا
یہ ہم بھی چاہتے تھے، پر ہوا نئیں
مجھے دیکھو، تو کیا میں واقعی ہوں
مجھے سمجھو، تو کیا میں جا بجا نئیں
ملے کیا کیا نہ چہرے دل گلی میں
میں جس کو ڈھونڈتا تھا، وہ ملا نئیں
ہمیں مت ڈھونڈ، پر خواہش کیا کر
ہمیں مت یاد کر، لیکن بھلا نئیں
ہماری خواہشوں میں کوئ خواہش
رہینِ بخششِ بندِ قبا نئیں
میں ایسا ہوں، مگر ایسا نہیں ہوں
میں ویسا تھا، مگر ویسا میں تھا نئیں
عظیم المرتبت شاعر بہت ہیں
مگر ہاں، جون سا شاعر ہوا نئیں
کہیں سبحان اللہ جون جس پر
وہی عرفان نے اب تک کہا نئیں
عرفان ستار

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار

یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 31
رفتگاں کی صدا نہیں، میں ہوں
یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں
تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں، میں ہوں
کیا ملا انتہا پسندی سے؟
کیا میں تیرے سوا نہیں، میں ہوں
ایک مدت میں جا کے مجھ پہ کھلا
چاند حسرت زدہ نہیں، میں ہوں
اس نے مجھ کو محال جان لیا
میں یہ کہتا رہا نہیں، میں ہوں
میں ہی عجلت میں آ گیا تھا ادھر
یہ زمانہ نیا نہیں، میں ہوں
میری وحشت سے ڈر گئے شاید
یار بادِ فنا نہیں، میں ہوں
میں ترے ساتھ رہ گیا ہوں کہیں
وقت ٹھہرا ہوا نہیں، میں ہوں
گاہے گاہے سخن ضروری ہے
سامنے آئنہ نہیں، میں ہوں
سرسری کیوں گزارتا ہے مجھے
یہ مرا ماجرا نہیں، میں ہوں
اس نے پوچھا کہاں گیا وہ شخص
کیا بتاتا کہ تھا نہیں، میں ہوں
یہ کسے دیکھتا ہے مجھ سے اُدھر
تیرے آگے خلا نہیں، میں ہوں
عرفان ستار

میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 30
آج بامِ حرف پر امکان بھر میں بھی تو ہوں
میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں
بے اماں سائے کا بھی رکھ بادِ وحشت کچھ خیال
دیکھ کر چل درمیانِ بام و در میں بھی تو ہوں
رات کے پچھلے پہر پُرشور سناٹوں کے بیچ
تُو اکیلی تو نہیں اے چشمِ تر میں بھی تو ہوں
تُو اگر میری طلب میں پھر رہا ہے در بہ در
اپنی خاطر ہی سہی پر در بہ در میں بھی تو ہوں
تیری اس تصویر میں منظر مکمل کیوں نہیں
میں کہاں ہوں یہ بتا اے نقش گر میں بھی تو ہوں
سن اسیرِ خوش ادائی منتشر تُو ہی نہیں
میں جو خوش اطوار ہوں، زیر و زبر میں بھی تو ہوں
خود پسندی میری فطرت کا بھی وصفِ خاص ہے
بے خبر تُو ہی نہیں ہے بے خبر میں بھی تو ہوں
دیکھتی ہے جوں ہی پسپائی پہ آمادہ مجھے
روح کہتی ہے بدن سے، بے ہنر میں بھی تو ہوں
دشتِ حیرت کے سفر میں کب تجھے تنہا کیا
اے جنوں میں بھی تو ہوں اے ہم سفر میں بھی تو ہوں
کوزہ گر بے صورتی سیراب ہونے کی نہیں
اب مجھے بھی شکل دے اس چاک پر میں بھی تو ہوں
یوں صدا دیتا ہے اکثر کوئی مجھ میں سے مجھے
تجھ کو خوش رکھے خدا یونہی مگر میں بھی تو ہوں
عرفان ستار

مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 29
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں
کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاں
خبر اڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں
مآلِ عشقِ اناگیر ہے یہ مختصراً
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں
کوئی گھڑی ہے کہ ہوتا ہوں آستین میں دفن
میں دل سے بہتا ہوا آنکھ تک تو آ گیا ہوں
مرا تھا مرکزی کردار اس کہانی میں
بڑے سلیقے سے بے ماجرا کیا گیا ہوں
وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے عجب تحیّر سے
نجانے جھونک میں کیا کچھ اُسے بتا گیا ہوں
مجھے بھلا نہ سکے گی یہ رہگزارِ جنوں
قدم جما نہ سکا، رنگ تو جما گیا ہوں
سب اہتمام سے پہنچے ہیں اُس کی بزم میں آج
میں اپنے حال میں سرمست و مبتلا گیا ہوں
مرے کہے سے مرے گرد و پیش کچھ بھی نہیں
سو جو دکھایا گیا ہے وہ دیکھتا گیا ہوں
اُسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہُوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں
غزل میں کھینچ کے رکھ دی ہے اپنی جاں عرفان
ہر ایک شعر میں دل کا لہو بہا گیا ہوں
عرفان ستار

تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 28
کس عجب ساعتِ نایاب میں آیا ہُوا ہوں
تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں
پھر وہی میں ہوں، وہی ہجر کا دریائے عمیق
کوئی دم عکسِ سرِ آب میں آیا ہُوا ہوں
کیسے آئینے کے مانند چمکتا ہُوا میں
عشق کے شہرِ ابدتاب میں آیا ہُوا ہوں
میری ہر تان ہے از روزِ ازل تا بہ ابد
ایک سُر کے لیے مضراب میں آیا ہُوا ہوں
کوئی پرچھائیں کبھی جسم سے کرتی ہے کلام؟
بے سبب سایہِٗ مہتاب میں آیا ہُوا ہوں
ہر گزرتے ہوئے لمحے میں تپکتا ہُوا میں
درد ہوں، وقت کے اعصاب میں آیا ہُوا ہوں
کیسی گہرائی سے نکلا ہوں عدم کی عرفان
کیسے پایاب سے تالاب میں آیا ہُوا ہوں
عرفان ستار

عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 27
نہیں ہے جو، وہی موجود و بے کراں ہے یہاں
عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں
نہ ہو اداس، زمیں شق نہیں ہوئی ہے ابھی
خوشی سے جھوم، ابھی سر پہ آسماں ہے یہاں
یہاں سخن جو فسانہ طراز ہو، وہ کرے
جو بات سچ ہے وہ ناقابلِ بیاں ہے یہاں
نہ رنج کر، کہ یہاں رفتنی ہیں سارے ملال
نہ کر ملال، کہ ہر رنج رائیگاں ہے یہاں
زمیں پلٹ تو نہیں دی گئی ہے محور پر؟
نمو پذیر فقط عہدِ رفتگاں ہے یہاں
یہ کارزارِ نفس ہے، یہاں دوام کسے
یہ زندگی ہے مری جاں، کسے اماں ہے یہاں
ہم اور وصل کی ساعت کا انتظار کریں؟
مگر وجود کی دیوار درمیاں ہے یہاں
چلے جو یوں ہی ابد تک، تو اِس میں حیرت کیا؟
ازل سے جب یہی بے ربط داستاں ہے یہاں
جو ہے وجود میں، اُس کو گماں کی نذر نہ کر
یہ مان لے کہ حقیقت ہی جسم و جاں ہے یہاں
کہا گیا ہے جو وہ مان لو، بلا تحقیق
کہ اشتباہ کی قیمت تو نقدِجاں ہے یہاں
عرفان ستار

ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 26
وفا کے باب میں اپنا مثالیہ ہو جاؤں
ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں
میں اپنے آپ کو تیرے سبب سے جانتا ہوں
ترے یقین سے ہٹ کر تو واہمہ ہو جاؤں
تعلقات کے برزخ میں عین ممکن ہے
ذرا سا دُکھ وہ مجھے دے تو میں ترا ہو جاؤں
ابھی میں خوش ہوں تو غافل نہ جان اپنے سے
نہ جانے کون سی لغزش پہ میں خفا ہو جاؤں
ابھی تو راہ میں حائل ہے آرزو کی فصیل
ذرا یہ عشق سوا ہو تو جا بہ جا ہو جاؤں
ابھی تو وقت تنفس کے ساتھ چلتا ہے
ذرا ٹھہر کہ میں اس جسم سے رہا ہو جاؤں
ابھی تو میں بھی تری جستجو میں شامل ہوں
قریب ہے کہ تجسس سے ماورا ہو جاؤں
خموشیاں ہیں، اندھیرا ہے، بے یقینی ہے
رہے نہ یاد بھی تیری تو میں خلا ہو جاؤں
کسی سے مل کے بچھڑنا بڑی اذیت ہے
تو کیا میں عہدِ تمنا کا فاصلہ ہو جاؤں
ترے خیال کی صورت گری کا شوق لیے
میں خواب ہو تو گیا ہوں اب اور کیا ہو جاؤں
یہ حرف و صوت کا رشتہ ہے زندگی کی دلیل
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ بے صدا ہو جاؤں
وہ جس نے مجھ کو ترے ہجر میں بحال رکھا
تُو آ گیا ہے تو کیا اُس سے بے وفا ہو جاؤں
عرفان ستار

وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 25
چھلک رہی ہے جو مجھ میں وہ تشنگی ہی نہ ہو
وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو
گزر رہا ہے تُو کس سے گریز کرتا ہوا
ٹھہر کے دیکھ لے اے دل کہیں خوشی ہی نہ ہو
ترے سکوت سے بڑھ کر نہیں ہے تیرا سخن
مرا سخن بھی کہیں میری خامشی ہی نہ ہو
میں شہرِ جاں سے اُسی کی طرف ہی لوٹوں گا
یہ اور بات کہ اب میری واپسی ہی نہ ہو
وہ آج مجھ سے کوئی بات کہنے والا ہے
میں ڈر رہا ہوں کہ یہ بات آخری ہی نہ ہو
نہ ہو وہ شخص مزاجاً ہی سرد مہر کہیں
میں بے رُخی جسے کہتا ہوں بے حسی ہی نہ ہو
یہ کیا سفر ہے کہ جس کی مسافتیں گُم ہیں
عجب نہیں کہ مری ابتدا ہوئی ہی نہ ہو
ہر اعتبار سے رہتا ہے با مراد وہ دل
امید جس نے کبھی اختیار کی ہی نہ ہو
عجیب ہے یہ مری لا تعلقی جیسے
جو کر رہا ہوں بسر میری زندگی ہی نہ ہو
یہ شعلگی تو صفت ہے الم نصیبوں کی
جو غم نہ ہو تو کسی دل میں روشنی ہی نہ ہو
کہیں غرور کا پردہ نہ ہو یہ کم سخنی
یہ عجز اصل میں احساسِ برتری ہی نہ ہو
مرے سپرد کیا اُس نے فیصلہ اپنا
یہ اختیار کہیں میری بے بسی ہی نہ ہو
عرفان ستار

جیسے دکھائی دے کوئی صورت، مگر نہ ہو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 24
اس طرح دیکھتا ہوں اُدھر وہ جدھر نہ ہو
جیسے دکھائی دے کوئی صورت، مگر نہ ہو
یہ شہرِ نا شناس ہے کیا اس کا اعتبار
اچھا رہے گا وہ جو یہاں معتبر نہ ہو
ایسے قدم قدم وہ سراپا غرور ہے
جیسے خرامِ ناز سے آگے سفر نہ ہو
میں آج ہوں سو مجھ کو سماعت بھی چاہیے
ممکن ہے یہ سخن کبھی بارِ دگر نہ ہو
ہونے دو آج شاخِ تمنا کو بارور
ممکن ہے کل صبا کا یہاں سے گزر نہ ہو
میں بھی دکھائوں شوق کی جولانیاں تجھے
یہ مشتِ خاک راہ میں حائل اگر نہ ہو
اک یہ فریب دیکھنا باقی ہے وقت کا
دل ڈوب جائے اور دوبارہ سحر نہ ہو
یہ کیا کہ ہم رکاب رہے خوفِ رہ گزر
کس کام کا جنوں جو قدم دشت بھر نہ ہو
عرفان ستار

ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 23
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا
نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو
سرِ کنجِ تمنا پھر خوشی سے گنگنائوں گا
اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو
نہ جانے رشک سے، غصے سے، غم سے یا رقابت سے
یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو
کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں
درِ اقلیمِ صد عالم ہے وہ بندِ قبا مجھ کو
گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری
نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو
کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں
کرم اُس کا کہ بخشا دل کے بدلے آئنہ مجھ کو
صبا میری قدم بوسی سے پہلے گُل نہ دیکھے گی
اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو
نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت
تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بہ جا مجھ کو
گزر گاہِ نفس میں ہوں مثالِ برگِ آوارہ
کوئی دم میں اڑا لے جائے گی بادِ فنا مجھ کو
وہ دل آویز آنکھیں، وہ لب و رخسار، وہ زلفیں
نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو
ازل سے تا ابد، دنیا سے لے کر آسمانوں تک
نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو
مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے
جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو
کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے
ارے تُو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
عرفان ستار

کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 22
کوئی نغمہ بُنو، چاندنی نے کہا، چاندنی کے لیے ایک تازہ غزل
کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل
زخمِ فرقت کو پلکوں سے سیتے ہوئے، سانس لینے کی عادت میں جیتے ہوئے
اب بھی زندہ ہو تم، زندگی نے کہا، زندگی کے لیے ایک تازہ غزل
اُس کی خواہش پہ تم کو بھروسہ بھی ہے، اُس کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا بھی ہے
لطف آیا تمہیں، گمرہی نے کہا، گمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں، تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں
رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل
منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں
دل کو روشن کرو، روشنی نے کہا، روشنی کے لیے ایک تازہ غزل
میں عبادت بھی ہوں، میں محبت بھی ہوں، زندگی کی، نمو کی علامت بھی ہوں
میری پلکوں پہ ٹھہری نمی نے کہا، اس نمی کے لیے ایک تازہ غزل
آرزوئوں کی مالا پرونے سے ہیں، یہ زمیں آسماں میرے ہونے سے ہیں
مجھ پہ بھی کچھ کہو، آدمی نے کہا، آدمی کے لیے ایک تازہ غزل
اپنی تنہائی میں رات میں تھا مگن، ایک آہٹ ہوئی دھیان میں دفعتاً
مجھ سے باتیں کرو، خامشی نے کہا، خامشی کے لیے ایک تازہ غزل
جب رفاقت کا ساماں بہم کر لیا، میں نے آخر اسے ہم قدم کر لیا
اب مرے دکھ سہو، ہمرہی نے کہا، ہمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
عرفان ستار

تیرے پہلو میں رہا میں اور رہا بھی دم بخود

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 21
دم بخود میری انا تیری ادا بھی دم بخود
تیرے پہلو میں رہا میں اور رہا بھی دم بخود
دیکھئے پہلے لہو ٹپکے کہ پھیلیں کرچیاں
دم بخود تیری نظر بھی آئنہ بھی دم بخود
اتنا سنّاٹا ہے کہ جیسے اوّلیں شامِ فراق
دم بخود ہے آسماں بھی اور ہَوا بھی دم بخود
یاد ہے تجھ کو وہ پہلے لمس کی حدّت کہ جب
رہ گئی تھی دفعتاً تیری حیا بھی دم بخود
ایک سے عالم میں دونوں مختلف اسباب سے
دم بخود تیرا کرم میری دعا بھی دم بخود
ایسا لگتا ہے کہ دونوں سے نہیں نسبت مجھے
دم بخود عمرِ رواں سیلِ فنا بھی دم بخود
رقص کرنے پر تُلی ہیں ہجر کی ویرانیاں
دم بخود سارے دیئے بھی غم کدہ بھی دم بخود
جب کھلے میری حقیقت تم وہ منظر دیکھنا
دم بخود نا آشنا بھی آشنا بھی دم بخود
عرفان ستار

تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 20
اب ترے لمس کو یاد کرنے کا اک سلسلہ اور دیوانہ پن رہ گیا
تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا
وہ سراپا ترا وہ ترے خال و خد میری یادوں میں سب منتشر ہو گئے
لفظ کی جستجو میں لرزتا ہوا نیم وا غنچہ سا اک دہن رہ گیا
حرف کے حرف سے کیا تضادات ہیں تُو نے بھی کچھ کہا میں نے بھی کچھ کہا
تیرے پہلو میں دنیا سمٹتی گئی میرے حصے میں حرفِ سخن رہ گیا
تیرے جانے سے مجھ پر یہ عقدہ کھلا رنگ و خوشبو تو بس تیری میراث تھے
ایک حسرت سجی رہ گئی گُل بہ گُل ایک ماتم چمن در چمن رہ گیا
ایک بے نام خواہش کی پاداش میں تیری پلکیں بھی باہم پرو دی گئیں
ایک وحشت کو سیراب کرتے ہوئے میں بھی آنکھوں میں لے کر تھکن رہ گیا
عرصۂ خواب سے وقتِ موجود کے راستے میں گنوا دی گئی گفتگو
ایک اصرار کی بے بسی رہ گئی ایک انکار کا بانکپن رہ گیا
تُو ستاروں کو اپنے جلو میں لیے جا رہا تھا تجھے کیا خبر کیا ہوا
اک تمنا دریچے میں بیٹھی رہی ایک بستر کہیں بے شکن رہ گیا
عرفان ستار

میں جو اک شعلہ نژاد تھا ہوسِ قرار میں بجھ گیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 19
وہ چراغِ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیا
میں جو اک شعلہ نژاد تھا ہوسِ قرار میں بجھ گیا
مجھے کیا خبر تھی تری جبیں کی وہ روشنی مرے دم سے تھی
میں عجیب سادہ مزاج تھا ترے اعتبار میں بجھ گیا
مجھے رنج ہے کہ میں موسموں کی توقعات سے کم رہا
مری لَو کو جس میں اماں ملی میں اُسی بہار میں بجھ گیا
وہ جو لمس میری طلب رہا وہ جھلس گیا مری کھوج میں
سو میں اُس کی تاب نہ لا سکا کفِ داغ دار میں بجھ گیا
جنہیں روشنی کا لحاظ تھا جنہیں اپنے خواب پہ ناز تھا
میں اُنہی کی صف میں جلا کِیا میں اُسی قطار میں بجھ گیا
عرفان ستار

اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 18
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا
حریمِ دل کو جلانے لگا تھا ایک خیال
سو گُل اُسے بھی بیک سرد آہ میں نے کیا
وہی یقین رہا ہے جوازِ ہم سفری
جو گاہ اُس نے کیا اور گاہ میں نے کیا
بس ایک دل ہی تو ہے واقفِ رموزِ حیات
سو شہرِ جاں کا اِسے سربراہ میں نے کیا
ہر ایک رنج اُسی باب میں کیا ہے رقم
ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا
یہ راہِ عشق بہت سہل ہو گئ جب سے
حصارِ ذات کو پیوندِ راہ میں نے کیا
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہُوا، نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
خرد نے دل سے کہا، تُو جنوں صفت ہی سہی
نہ پوچھ اُس کی کہ جس کو تباہ میں نے کیا
عرفان ستار

یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 17
اگر ہے شرط بچھڑنا تو رسم و راہ بھی کیا
یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا
نہ ہو جو ذوقِ تماشا یہاں تو کچھ بھی نہیں
نظر کی بزم بھی کیا دل کی خانقاہ بھی کیا
بہت سکون ہے بیداریوں کے نرغے میں
تو مجھ کو چھوڑ گئی خواب کی سپاہ بھی کیا
سب اپنے اپنے طریقے ہیں خود نمائی کے
قبائے عجز بھی کیا فخر کی کلاہ بھی کیا
یہ راہِ شوق ہے اس پر قدم یقین سے رکھ
گماں کے باب میں اس درجہ اشتباہ بھی کیا
نہیں ہے کوئی بھی صورت سپردگی کے سوا
ہوس کی قید بھی کیا عشق کی پناہ بھی کیا
مجھے تمہاری تمہیں میری ہم نشینی کی
بس ایک طرح کی عادت سی ہے، نباہ بھی کیا
کوئی ٹھہر کے نہ دیکھے میں وہ تماشا ہوں
بس اک نگاہ رُکی تھی، سو وہ نگاہ بھی کیا
عرفان ستار

کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 16
تیری یاد کی خوشبو نے بانہیں پھیلا کر رقص کیا
کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا
اپنی ویرانی کا سارا رنج بُھلا کر صحرا نے
میری دل جوئی کی خاطر خاک اڑا کر رقص کیا
پہلے میں نے خوابوں میں پھیلائی درد کی تاریکی
پھر اُس میں اک جھلمل روشن یاد سجا کر رقص کیا
دیواروں کے سائے آ کر میرے جلو میں ناچ اٹھے
میں نے اُس پُر ہول گلی میں جب بھی جا کر رقص کیا
اُس کی آنکھوں میں کل شب ایک تلاش مجسم تھی
میں نے بھی کیسے بازو لہرا لہرا کر رقص کیا
اُس کا عالم دیکھنے والا تھا جس دم اک ہُو گونجی
پہلے پہل تو اُس نے کچھ شرما شرما کر رقص کیا
رات گئے جب سناٹا سر گرم ہوا تنہائی میں
دل کی ویرانی نے دل سے باہر آ کر رقص کیا
دن بھر ضبط کا دامن تھامے رکھا خوش اسلوبی سے
رات کو تنہا ہوتے ہی کیا وجد میں آ کر رقص کیا
مجھ کو دیکھ کے ناچ اٹھی اک موج بھنور کے حلقے میں
نرم ہوا نے ساحل پر اک نقش بنا کر رقص کیا
بے خوابی کے سائے میں جب دو آنکھیں بے عکس ہوئیں
خاموشی نے وحشت کی تصویر اٹھا کر رقص کیا
کل عرفانؔ کا ذکر ہوا جب محفل میں تو دیکھو گے
یاروں نے ان مصرعوں کو دہرا دہرا کر رقص کیا
عرفان ستار

بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 15
شکستِ خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا
اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیں
اگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا
وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئی
وہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا
وہ سایہ جو بجھا تو کیا بدن بھی ساتھ بجھ گیا
نظر کو تیرگی کا اب ملال کیوں نہیں رہا
وہ دور جس میں آگہی کے در کھلے تھے کیا ہوا
زوال تھا تو عمر بھر زوال کیوں نہیں رہا
کہیں سے نقش بجھ گئے کہیں سے رنگ اڑ گئے
یہ دل ترے خیال کو سنبھال کیوں نہیں رہا
عرفان ستار

اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 14
دنیا سے دور ہو گیا، دیں کا نہیں رہا
اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا
رگ رگ میں موجزن ہے مرے خوں کے ساتھ ساتھ
اب رنج صرف قلبِ حزیں کا نہیں رہا
دیوار و در سے ایسے ٹپکتی ہے بے دلی
جیسے مکان اپنے مکیں کا نہیں رہا
تُو وہ مہک، جو اپنی فضا سے بچھڑ گئی
میں وہ شجر، جو اپنی زمیں کا نہیں رہا
سارا وجود محوِ عبادت ہے سر بہ سر
سجدہ مرا کبھی بھی جبیں کا نہیں رہا
پاسِ خرد میں چھوڑ دیا کوچہءِ جنوں
یعنی جہاں کا تھا میں، وہیں کا نہیں رہا
وہ گردبادِ وہم و گماں ہے کہ اب مجھے
خود اعتبار اپنے یقیں کا نہیں رہا
اب وہ جواز پوچھ رہا ہے گریز کا
گویا محل یہ صرف نہیں کا نہیں رہا
میرا خدا ازل سے ہے سینوں میں جاگزیں
وہ تو کبھی بھی عرشِ بریں کا نہیں رہا
ہر ذرۤہءِ زمیں کا دھڑکتا ہے اس میں غم
دل کو مرے ملال یہیں کا نہیں رہا
آخر کو یہ سنا تو بڑھا لی دکانِ دل
اب مول کوئی لعل و نگیں کا نہیں رہا
عرفان، اب تو گھر میں بھی باہر سا شور ہے
گوشہ کوئی بھی گوشہ نشیں کا نہیں رہا
عرفان ستار

اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 13
اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا
اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا
وہ ہو رہا ہے جو میں نہیں چاہتا کہ ہو
اور جو میں چاہتا ہوں وہی ہو نہیں رہا
نم دیدہ ہوں، کہ تیری خوشی پر ہوں خوش بہت
چل چھوڑ، تجھ سے کہہ جو دیا، رو نہیں رہا
یہ زخم جس کو وقت کا مرہم بھی کچھ نہیں
یہ داغ، سیلِ گریہ جسے دھو نہیں رہا
اب بھی ہے رنج، رنج بھی خاصا شدید ہے
وہ دل کو چیرتا ہوا غم گو نہیں رہا
آباد مجھ میں تیرے سِوا اور کون ہے؟
تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا
کیا بے حسی کا دور ہے لوگو۔ کہ اب خیال
اپنے سِوا کسی کا کسی کو نہیں رہا
عرفان ستار

کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 12
اب دردِ دل کا کوئی مداوا نہیں رہا
کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا
وہ دن بھی تھے کہ میں بھی بہت خوش لباس تھا
اب کیا کہ جب وہ دیکھنے والا نہیں رہا
میری دعا ہے تجھ سے یہ دنیا وفا کرے
میرا تو تجربہ کوئی اچھا نہیں رہا
ماحول میرے گھر کا بدلتا رہا، سو اب
میرے مزاج کا تو ذرا سا نہیں رہا
کہتے نہ تھے ہمیشہ رہے گا نہ اتنا رنج
گزرے ہیں چند سال ہی، دیکھا، نہیں رہا
کیا سانحہ ہوا ہے یہ آنکھوں کو کیا خبر
منظر نہیں رہا، کہ اجالا نہیں رہا
کیوں دل جلائیں کرکے کسی سے بھی اب سخن
جب گفتگو کا کوئی سلیقہ نہیں رہا
میں چاہتا ہوں دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے میں اسے بہلا نہیں رہا
دھندلا سا ایک نقش ہے، جیسے کہ کچھ نہ ہو
موہوم سا خیال ہے، گویا نہیں رہا
ویسے تو اب بھی خوبیاں اُس میں ہیں ان گنت
جیسا مجھے پسند تھا، ویسا نہیں رہا
عرفان، دن پھریں گے ترے، یوں نہ رنج کر
کیا، میری بات کا بھی بھروسہ نہیں رہا؟
عرفان ستار

ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 11
کبھی کسی سے نہ ہم نے کوئی گلہ رکھا
ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا
چراغ یوں تو سرِ طاقِ دل کئی تھے مگر
تمہاری لَو کو ہمیشہ ذرا جدا رکھا
خرد سے پوچھا، جنوں کا معاملہ کیا ہے؟
جنوں کے آگے خرد کا معاملہ رکھا
ہزار شکر ترا، اے مرے خدائے جنوں
کہ مجھ کو راہِ خرد سے گریزپا رکھا
خیال روح کے آرام سے ہٹایا نہیں
جو خاک تھا سو اُسے خاک میں ملا رکھا
چھپا ہُوا نہیں تجھ سے دلِ تباہ کا حال
یہ کم نہیں کہ ترے رنج کو بچا رکھا
وہ ایک زلف کہ لپٹی رہی رگِ جاں سے
وہ اک نظر کہ ہمیں جس نے مبتلا رکھا
بس ایک آن میں گزرا میں کس تغیّر سے
کسی نے سر پہ توجّہ سے ہاتھ کیا رکھا
سنائی اپنی کہانی بڑے قرینے سے
کہیں کہیں پہ فسانے میں واقعہ رکھا
سنا جو شور کہ وہ شیشہ گر کمال کا ہے
تو ہم لپک کے گئے اور قلب جا رکھا
میں جانتا تھا کہ دنیا جو ہے، وہ ہے ہی نہیں
سو خود کو خواہشِ دنیا سے ماورا رکھا
مرے جنوں نے کیے رد وجود اور عدم
الگ ہی طرح سے ہونے کا سلسلہ رکھا
خوشی سی کس نے ہمیشہ ملال میں رکھی؟
خوشی میں کس نے ہمیشہ ملال سا رکھا؟
یہ ٹھیک ہے کہ جو مجھ پاس تھا، وہ نذر کیا
مگر یہ دل کہ جو سینے میں رہ گیا رکھا؟
کبھی نہ ہونے دیا طاقِ غم کو بے رونق
چراغ ایک بجھا، اور دوسرا رکھا
نگاہ دار مرا تھا مرے سِوا نہ کوئی
سو اپنی ذات پہ پہرا بہت کڑا رکھا
تُو پاس تھا، تو رہے محو دیکھنے میں تجھے
وصال کو بھی ترے ہجر پر اٹھا رکھا
ترا جمال تو تجھ پر کبھی کھلے گا نہیں
ہمارے بعد بتا آئینے میں کیا رکھا؟
ہر ایک شب تھا یہی تیرے خوش گمان کا حال
دیا بجھایا نہیں اور در کھلا رکھا
ہمی پہ فاش کیے راز ہائے حرف و سخن
تو پھر ہمیں ہی تماشا سا کیوں بنا رکھا؟
ملا تھا ایک یہی دل ہمیں بھی آپ کو بھی
سو ہم نے عشق رکھا، آپ نے خدا رکھا
خزاں تھی، اور خزاں سی خزاں، خدا کی پناہ
ترا خیال تھا جس نے ہرا بھرا رکھا
جو ناگہاں کبھی اذنِ سفر ملا عرفان
تو فکر کیسی کہ سامان ہے بندھا رکھا
عرفان ستار

جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 10
خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا
جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا
یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا
خود بھی لہو لہان ہُوا دل، مجھے بھی زخم دیئے
میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا
لاکھ جتن کرنے پر بھی کم ہُوا نہ دل کا بوجھ
کیسا بھاری پتھر میں سرکانے بیٹھا تھا
تارے کرنوں کی رتھ پر لائے تھے اُس کی یاد
چاند بھی خوابوں کا چندن مہکانے بیٹھا تھا
نئے برس کی خوشیوں میں مشغول تھے سب، اور میں
گئے برس کی چوٹوں کو سہلانے بیٹھا تھا
وہ تو کل جھنکار سے پرکھ لیا اُس گیانی نے
میں تو پیتل کے سکۤے چمکانے بیٹھا تھا
دشمن جتنے آئے ان کے خطا ہوئے سب تیر
لیکن اپنوں کا ہر تیر نشانے بیٹھا تھا
قصوں کو سچ ماننے والے، دیکھ لیا انجام؟
پاگل جھوٹ کی طاقت سے ٹکرانے بیٹھا تھا
مت پوچھو کتنی شدت سے یاد آئی تھی ماں
آج میں جب چٹنی سے روٹی کھانے بیٹھا تھا
اپنا قصور سمجھ نہیں آیا جتنا غور کیا
میں تو سچے دل سے ہی پچھتانے بیٹھا تھا
عین اُسی دم ختم ہوئی تھی مہلت جب عرفان
خود کو توڑ چکا تھا اور بنانے بیٹھا تھا
عرفان ستار

مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 9
یہاں جو ہے کہاں اُس کا نشاں باقی رہے گا
مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا
سفر ہو گا سفر کی منزلیں معدوم ہوں گی
مکاں باقی نہ ہو گا لا مکاں باقی رہے گا
کبھی قریہ بہ قریہ اور کبھی عالم بہ عالم
غبارِ ہجرتِ بے خانماں باقی رہے گا
ہمارے ساتھ جب تک درد کی دھڑکن رہے گی
ترے پہلو میں ہونے کا گماں باقی رہے گا
بہت بے اعتباری سے گزر کر دل ملے ہیں
بہت دن تک تکلف درمیاں باقی رہے گا
رہے گا آسماں جب تک زمیں باقی رہے گی
زمیں قائم ہے جب تک آسماں باقی رہے گا
یہ دنیا حشر تک آباد رکھی جا سکے گی
یہاں ہم سا جو کوئی خوش بیاں باقی رہے گا
جنوں کو ایسی عمرِ جاوداں بخشی گئی ہے
قیامت تک گروہِ عاشقاں باقی رہے گا
تمدن کو بچا لینے کی مہلت اب کہاں ہے
سر گرداب کب تک بادباں باقی رہے گا
کنارہ تا کنارہ ہو کوئی یخ بستہ چادر
مگر تہہ میں کہیں آبِ رواں باقی رہے گا
ہمارا حوصلہ قائم ہے جب تک سائباں ہے
خدا جانے کہاں تک سائباں باقی رہے گا
تجھے معلوم ہے یا کچھ ہمیں اپنی خبر ہے
سو ہم مر جائیں گے تُو ہی یہاں باقی رہے گا
عرفان ستار

تم کہانی کے کس باب پر، اُس کے انجام سے کتنی دُوری پہ ہو اِس سے قطعِ نظر، دفعتاً یہ تمہارا بیاں ختم ہو جائے گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 8
زندگی کا سفر ایک دن، وقت کے شور سے، ایک پُرخواب ساعت کے بیدار ہوتے ہی بس یک بیک ناگہاں ختم ہو جائے گا
تم کہانی کے کس باب پر، اُس کے انجام سے کتنی دُوری پہ ہو اِس سے قطعِ نظر، دفعتاً یہ تمہارا بیاں ختم ہو جائے گا
بند ہوتے ہی آنکھوں کے سب، واہموں وسوسوں کے وجود و عدم کے کٹھن مسئلے، ہاتھ باندھے ہوئے، صف بہ صف روبرو آئیں گے
سارے پوشیدہ اسرار ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، سب وہم مر جائیں گے، بد گماں بے یقینی کا سارا دھواں ختم ہو جائے گا
بے دماغوں کے اِس اہلِ کذب و ریا سے بھرے شہر میں، ہم سوالوں سے پُر، اور جوابوں سے خالی کٹورا لیے بے طلب ہو گئے
چند ہی روز باقی ہیں بس، جمع و تفریق کے اِن اصولوں کے تبدیل ہوتے ہی جب، یہ ہمارا مسلسل زیاں ختم ہو جائے گا
بادشاہوں کے قصوں میں یا راہبوں کے فقیروں کے احوال میں دیکھ لو، وقت سا بے غرض کوئی تھا، اور نہ ہے، اور نہ ہو گا کبھی
تم کہاں کس تگ و دو میں ہو وقت کو اِس سے کیا، یہ تو وہ ہے جہاں حکم آیا کہ اب ختم ہونا ہے، یہ بس وہاں ختم ہو جائے گا
کوئی حد بھی تو ہو ظلم کی، تم سمجھتے ہو شاید تمہیں زندگی یہ زمیں اِس لیے دی گئی ہے، کہ تم جیسے چاہو برت لو اِسے
تم یہ شاید نہیں جانتے، اِس زمیں کو تو عادت ہے دکھ جھیلنے کی مگر جلد ہی، یہ زمیں ہو نہ ہو، آسماں ختم ہو جائے گا
عرفان ستار

مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 7
یوں ہی اک دن خاموشی سے ڈھہ جاوں گا
مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا
ایسی وحشت، ایسا غم، ایسی بے زاری
میں تو سمجھا تھا میں سب کچھ سہہ جاوں گا
اس امید پہ مرتا ہوں میں لمحہ لمحہ
شاید کوئی زندہ شعر ہی کہہ جاوں گا
یہ تکرار_ساعت کچھ دن کی ہے، پھر میں
وقت کنارے کے اس جانب بہہ جاوں گا
میں عرفان کی کھوج میں ہوں، ٹھہروں گا کب تک
تیرے پہلو میں کچھ دن تو رہ جاوں گا
عرفان ستار

اعلان کردیا گیا میری شکست کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 6
امکان دیکھنے کو رکا تھا میں جست کا
اعلان کردیا گیا میری شکست کا
سائے سے اپنے قد کا لگاتا ہے تُو حساب
اندازہ ہو گیا ہے ترے ذہنِ پست کا
تجھ کو بدن کی حد سے نکلنا کہاں نصیب
سمجھے گا کیسے روح کو آلودہ ہست کا
تُو ہے۔ کہ کل کی بات کا رکھتا نہیں ہے پاس
میں ہوں کہ پاسدار ہوں عہدِ الست کا
جس سے گروہِ بادہ فروشاں حسد کرے
طاری ہے مجھ پہ نشّہ اُسی چشمِ مست کا
جا شہرِ کم نگاہ میں شہرت سمیٹ لے
یہ کام ہے بھی تجھ سے ہی موقع پرست کا
شاہِ جنوں کا تخت بچھا ہے بہ اہتمام
پہلو میں انتظام ہے میری نشست کا
وسعت ملی ہے ضبط کو میرے بقدرِ درد
بولو کوئی جواب ہے اس بندوبست کا؟
عرفان تیری لاج بھی اللہ کے سپرد
ستّار ہے وہی تو ہر اک تنگ دست کا
عرفان ستار

درد ہے، درد بھی قیامت کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 5
پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟
درد ہے، درد بھی قیامت کا
یار، نشتر تو سب کے ہاتھ میں ہے
کوئی ماہر بھی ہے جراحت کا؟
اک نظر کیا اٹھی، کہ اس دل پر
آج تک بوجھ ہے مروّت کا
دل نے کیا سوچ کر کیا آخر
فیصلہ عقل کی حمایت کا
کوئی مجھ سے مکالمہ بھی کرے
میں بھی کردار ہوں حکایت کا
آپ سے نبھ نہیں رہی اِس کی؟
قتل کردیجیئے روایت کا
نہیں کُھلتا یہ رشتہِٗ باہم
گفتگو کا ہے یا وضاحت کا؟
تیری ہر بات مان لیتا ہوں
یہ بھی انداز ہے شکایت کا
دیر مت کیجیئے جناب، کہ وقت
اب زیادہ نہیں عیادت کا
بے سخن ساتھ کیا نباہتے ہم؟
شکریہ ہجر کی سہولت کا
کسرِ نفسی سے کام مت لیجے
بھائی یہ دور ہے رعونت کا
مسئلہ میری زندگی کا نہیں
مسئلہ ہے مری طبیعت کا
درد اشعار میں ڈھلا ہی نہیں
فائدہ کیا ہوا ریاضت کا؟
آپ مجھ کو معاف ہی رکھیئے
میں کھلاڑی نہیں سیاست کا
رات بھی دن کو سوچتے گزری
کیا بنا خواب کی رعایت کا؟
رشک جس پر سلیقہ مند کریں
دیکھ احوال میری وحشت کا
صبح سے شام تک دراز ہے اب
سلسلہ رنجِ بے نہایت کا
وہ نہیں قابلِ معافی، مگر
کیا کروں میں بھی اپنی عادت کا
اہلِ آسودگی کہاں جانیں
مرتبہ درد کی فضیلت کا
اُس کا دامن کہیں سے ہاتھ آئے
آنکھ پر بار ہے امانت کا
اک تماشا ہے دیکھنے والا
آئینے سے مری رقابت کا
دل میں ہر درد کی ہے گنجائش
میں بھی مالک ہوں کیسی دولت کا
ایک تو جبر اختیار کا ہے
اور اک جبر ہے مشیّت کا
پھیلتا جا رہا ہے ابرِ سیاہ
خود نمائی کی اِس نحوست کا
جز تری یاد کوئی کام نہیں
کام ویسے بھی تھا یہ فرصت کا
سانحہ زندگی کا سب سے شدید
واقعہ تھا بس ایک ساعت کا
ایک دھوکہ ہے زندگی عرفان
مت گماں اِس پہ کر حقیقت کا
عرفان ستار

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 4
سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

کیا حال کہہ سکے گی، یہ چشمِ تر ہمارا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 3
پیارے جدا ہوئے ہیں، چھوٹا ہے گھر ہمارا
کیا حال کہہ سکے گی، یہ چشمِ تر ہمارا
بس گاہ گاہ لے آ، خاکِ وطن کی خوشبو
اے بادِ صبح گاہی، یہ کام کر ہمارا
ہیں بزمِ عاشقاں میں، بے وقعتی کے موجب
سینے میں دم ہمارے، شانوں پہ سر ہمارا
ہم اور ہی جہاں کے، یعنی کہ لامکاں کے
ہے صرف اتفاقاً ، آنا اِدھر ہمارا
اتمامِ دل خراشی، اسلوبِ سینہ چاکی
اظہارِ کرب ناکی، بس یہ ہنر ہمارا
اک سعئِ بے مسافت، بے رنگ و بے لطافت
مت پوچھیئے کہ کیسے، گزرا سفر ہمارا
پہلے سے اور ابتر، گویا جنوں سراسر
بس یہ بتاوٗ پوچھے، کوئی اگر ہمارا
دم سادھنے سے پہلے، چپ سادھ لی گئی ہے
اظہار ہو چکا ہے، امکان بھر ہمارا
ایسے نہ آس توڑو، سب کچھ خدا پہ چھوڑو
اس مشورے سے پہلے، سمجھو تو ڈر ہمارا
عرفان ستار

یا کسی دن مری فرصت کو میسّر ہو جا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 2
یا ملاقات کے امکان سے باہر ہو جا
یا کسی دن مری فرصت کو میسّر ہو جا
تجھ کو معلوم نہیں ہے مری خواہش کیا ہے
مجھ پہ احسان نہ کر اور سبک سر ہو جا
ارتقا کیا تری قسمت میں نہیں لکھا ہے؟
اب تمنّا سے گزر میرا مقدّر ہو جا
بے حسی گر تری فطرت ہے تو ایسا کبھی کر
اپنے حق میں بھی کسی روز تُو پتھر ہو جا
اس سے پہلے تو غزل بھی تھی گریزاں مجھ سے
حالتِ دل تُو ذرا اور بھی ابتر ہو جا
میں جہاں پائوں رکھوں واں سے بگولا اُٹھّے
ریگِ صحرا مری وحشت کے برابر ہو جا
اے مرے حرفِ سخن تُو مجھے حیراں کر دے
تُو کسی دن مری امید سے بڑھ کر ہو جا
عرفان ستار

فرد فرد

تعلق کو نبھانے کے بہت دُکھ سہہ چکے ہم
سو باقی عمر اپنے ساتھ رہنا چاہتے ہیں
ایک ملال تو ہونے کا ہے، ایک نہ ہونے کا غم ہے
شہرِ وجود سے بابِ عدم تک، ایک سا ہُو کا عالم ہے
تحیر خیز موجیں ہیں نہ پُر ہیبت تلاطم
عجب اک بے تغیر بے کرانی رہ گئی ہے
تکمیل تو زوال کا پہلا پڑائو ہے
خود کو اسی سبب سے مکمل نہیں کیا
بے رنگ ترے در سے کب، خاک بسر اٹھے
یا پیراہنِ گُل میں، یا خون میں تر اٹھے
چلے آئے ہیں آنکھوں میں کسی کا عکس پا کر
یہ آنسو آج پھر کوئی تماشا چاہتے ہیں
جس دن سے روزگار کو سب کچھ سمجھ لیا
راتیں خراب ہو گئیں اور دن سنور گئے
کچھ آنکھ بھی ہے سطح سے آگے کی کھوج میں
کچھ دل بھی اک خیال میں ڈوبا ہوا سا ہے
بے رونقی سے کوچہ و بازار بھر گئے
آوارگانِ شہر کہاں جا کے مر گئے
ہمیں بھی سودا کہاں تھا ایسا کہ اپنے دل میں ملا ل رکھتے
اگر تُو اپنا خیال رکھتا تو ہم بھی اپنا خیال رکھتے
بہارِ جاں سے تجھے باریاب کر دیں گے
نظر اٹھائیں گے چہرہ گلاب کر دیں گے
خیالِ ترکِ تعلق جو ہو، تو مل لینا
کسی دعا کو ترا ہم رکاب کر دیں گے
اک عکس کھو گیا ہے مرے دن کے پیچ میں
اک خواب میری رات سے الجھا ہوا ساہے
قدم جما نہ سکا رہگزارِ وقت پہ میں
میں اک اُچٹتا سا لمحہ، مری کہانی کیا
زندگی ہم سے ہی روشن ہے یہ آئینہ ترا
ہم جو مشّاطۂ وحشت کے سنوارے ہوئے ہیں
بڑھ کے آغوش میں بھر لے ہمیں اے روحِ وصال
آج ہم پیرہنِ خاک اتارے ہوئے ہیں
متفرق اشعار
عرفان ستار

چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 126
عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے
چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے
کوئی گزرتی رات کے پچھلے پہر کہے
لمحوں کو قید کیجئے ، گیسو بکھیریے
دھیمے سُروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑیے
ٹھہری ہُوئی ہَواؤں میں جادُو بکھیریے
گہری حقیقتیں بھی اُترتی رہیں گی پھر
خوابوں کی چاندنی تو لبِ جُو بکھیریے
دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو
تارے نہیں نسصیب تو آنسو بکھیریے
دشتِ غزال سے کوئی خوبی تو مانگیے
شہرِ جمال میں رمِ آہو بکھیریے
پروین شاکر

چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 125
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شِہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا،اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر،کرتے رہے
آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جن کو تیرے زعم میں ، بے بال و پر کرتے رہے
پروین شاکر

قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 124
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے
بچھڑے تو حال نجانے کیا ہو
جو شخص ابھی ملا نہیں ہے
جینے کی تو آرزو ہی کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے
جو زیست کو معتبر بنا دے
ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے
خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کھلا نہیں ہے
سرشاری رہبری میں دیکھا
پیچھے میرا قافلہ نہیں ہے
اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چھونے میں تو آبلہ نہیں ہے !
پروین شاکر

تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 123
دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے
تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا
میں مطمئن ہوں ،مرا دل تری پناہ میں ہے
بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے
وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے
جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے
یہی وہ دن تھے جب اِ ک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!
پروین شاکر

میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 122
خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے
وہ میرا تن چُھوئے ، من میں شعر اُگائے
پیڑ کی ہریالی بارش کے لمس میں ہے
سوچ کا رشتہ سانس سے ٹوٹا جاتا ہے
لُو سے زیادہ جبر فضا کے حبس میں ہے
دن میں کیسی لگتی ہو گی ، سوچتی ہوں
ندی کا سارا حُسن تو چاند کے عکس میں ہے
میری اچھائی تو سب کو اچھّی لگی
اُس کے پیار کا مرکز میرے نقص میں ہے
ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے
جس کی نیند کا سَر چشمہ ہی چرس میں ہے!
پروین شاکر

اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 121
صیّاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادر منصب، ترا شوقِ گلِ تازہ
شاعر کا ترے دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہگیروں میں ٹہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
پروین شاکر

بارش میں گلاب جل رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 120
موسم کا عذاب چل رہا ہے
بارش میں گلاب جل رہا ہے
پھر دیدہ و دل کی خیر یارب!
پھر ذہن میں خواب پل رہا ہے
صحرا کے سفر میں کب ہوں
تنہا ہمراہ سراب چل رہا ہے
آندھی میں دُعا کو بھی نہ اُٹھا
یوں دستِ گُلاب شل رہا ہے
کب شہرِ جمال میں ہمیشہ
وحشت کا عتاب چل رہا ہے
زخموں پہ چھڑک رہا ہے خوشبو
آنکھوں پہ گلاب مَل رہا ہے
ماتھے پہ ہَوانے ہاتھ رکھے
جسموں کو سحاب جھل رہا ہے
موجوں نے وہ دُکھ دیے بدن کو
اب لمسِ حباب کَھل رہا ہے
قرطاسِ بدن پہ سلوٹیں ہیں
ملبوسِ کتاب ،گل رہا ہے
پروین شاکر

دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 119
سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے
برفیلی ہوا میں تن شجر کا
ہونے کا عذاب سہہ رہا ہے
باہر سے نئی سفیدیاں ہیں
اندر سے مکان ڈھہہ رہا ہے
حل ہو گیا خون میں کُچھ ایسے
رگ رگ میں وہ نام بہہ رہا ہے
جنگل سے ڈرا ہُوا پرندہ
شہروں کے قریب رہ رہا ہے
پروین شاکر

سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 118
کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے
رہی ہوں بے اماں موسم کی زد پر
ہتھیلی پر ہَوا کی ، سر رہا ہے
میں اِک نو زائیدہ چڑیا ہوں لیکن
پُرانا باز ، مُجھ سے ڈر رہا ہے
پذیرائی کو میری شھرِ گل میں
صبا کے ہاتھ میں پتّھر رہا ہے
ہَوائیں چُھو کے رستہ بُھول جائیں
مرے تن میں کوئی منتر رہا ہے
میں اپنے آپ کو ڈسنے لگی ہوں
مجھے اب زہر اچھا کر رہا ہے
کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
پروین شاکر

کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 117
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے
میں اُس کے خیال سے گُریزاں
وہ میری صدا جھٹک رہا ہے
تحریر اُسی کی ہے ، مگر دل
خط پڑھتے ہُوئے اٹک رہا ہے
ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے
صدیوں سے سفر میں ہے سمندر
ساحِل پہ تھکن پٹک رہا ہے
اک چاند صلیبِ شاخِ گُل پر
بالی کی طرح لٹک رہا ہے
پروین شاکر

دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 116
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے
کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی
دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے
راتوں کے سفر میں وہم ساتھا
یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے
ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں
اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے
سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں
اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے
ہم ہی بُرے ہو گئےِ_کہ تیرا
معیارِ وفا بدل رہا ہے
پہلی سی وہ روشنی نہیں اب
کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے
پروین شاکر

وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 115
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن، مور بن کر ناچتا ہے
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں ، مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچّا راستہ ہے
پروین شاکر

وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 114
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے
پروین شاکر

کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 113
گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے
زخمِ ہُنر کو سمجھے ہُوئے گُلِ ہنر
کس شہرِ ناسپاس میں پیدا کیا مجھے
جب حرف ناشناس یہاں لفظ فہم میں
کیوں ذوقِ شعر دے کے تماشا کیا مجھے
خوشبو ہے، چاندنی ہے،لبِ جُو ہے اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے
دی تشنگی خدانے تو چشمے بھی دے دیے
سینے میں دشت،آنکھوں میں دریا کیا مجھے
مَیں یوں سنبھل گئی کہ تری بے وفائی نے
بے اعتباریوں سے شناسا کیا مجھے
وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دُنیا کے ہر فریب سے مِلوا دیا مجھے
اوروں کے ساتھ میرا تعارف بھی جب ہُوا
ہاتھوں میں ہاتھ لے کر وہ سوچا کیا مجھے
بیتے دنوں کا عکس نہ آئندہ کا خیال
بس خالی خالی آنکھوں سے دیکھا کیا مجھے
پروین شاکر

لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 112
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِ الہٰی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
پروین شاکر

پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 111
کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے
برف کے ہاتھ ہی ، ہاتھ آئیں گے ، اے موجِ ہوا
حِدتیں مجھ میں ، نہ خوشبو کے بدن میں ، اب کے
دُھوپ کے ہاتھ میں جس طرح کُھلے خنجر ہوں
کُھردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے
دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے
خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے
جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو
لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے
پروین شاکر

نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 110
کِن لکیروں کی نظر سے ترا رستہ دیکھوں
نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے
تُو مسیحا ہے،بدن تک ہے تری چارہ گری
تیرے امکاں میں کہاں زخم کڑوی باتوں کے
قافلے نکہت وانوار کے بے سمت ہُوئے
جب سے دُولھا نہیں ہونے لگے باراتوں کے
پھر رہے ہیں مرے اطراف میں بے چہرہ وجود
اِن کا کیا نام ہے ،یہ لوگ ہیں کِن ذاتوں کے
آسمانوں میں وہ مصروف بہت ہے___یاپھر
بانجھ ہونے لگے الفاظ مناجاتوں کے
پروین شاکر

میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 109
ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے
اِک رات کِھلا تھا اُس کا وعدہ
آنگن میں ہجوم خوشبوؤں کے
شہروں سے ہَوا جو ہوکے آئی
رم چھننے لگے ہیں آہوؤں کے
کس بات پہ کائنات تج دیں
کھلتے نہیں بھید سادھوؤں کے
تنہا مری ذات دشتِ شب میں
اطراف میں خیمے بدوؤں کے!
یہ بول ہوا کے لب پہ ہیں یا
منتر ہیں قدیم جادوؤں کے!
پروین شاکر

سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 108
کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے
جیسے سب رنگ دھنک کے مجھے چھونے آئے
عکس لہراتے ہیں آنکھوں میں مری،ساتوں کے
بارشیں آئیں اور آنے لگے خوشرنگ عذاب
جیسے صندوقچے کُھلنے لگے سوغاتوں کے
چُھو کے گُزری تھی ذراجسم کو بارش کی ہَوا
آنچ دینے لگے ملبوس جواں راتوں کے
پہروں کی باتیں وہ ہری بیلوں کے سائے سائے
واقعے خوب ہُوئے ایسی ملاقاتوں کے
قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم
سوچ چمکاتی رہے رنگ گئی باتوں کے
پروین شاکر

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر

کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 106
دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے
خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں
شاخ در شاخ مرے ہات کٹے
موجہ ءِ گُل ہے کہ تلوار کوئی
درمیاں سے ہی مناجات کٹے
حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے
چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب
آج کی رات ترے سات کٹے
پُورے انسانوں میں گُھس آئے ہیں
سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے
پروین شاکر

کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کُھلے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 105
سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کُھلے
جب رنگ پا بہ گِل ہوں ، ہوائیں بھی قید ہوں
کیا اُس فضا میں پرچمِ زخمِ جگر کُھلے
خیمے سے دُور ، شام ڈھلے ، اجنبی جگہ
نکلی ہوں کس کی کھوج میں ، بے وقت ، سر کُھلے
شاید کہ چاند بُھول پڑے راستہ کبھی
رکھتے ہیں اِس اُمید پہ کچھ لوگ گھر کُھلے
وہ مُجھ سے دُور خوش ہے؟ خفا ہے؟ اُداس ہے؟
کس حال میں ہے؟ کُچھ تو مرا نامہ بر کُھلے
ہر رنگ میں وہ شخص نظر کو بھلا لگے
حد یہ__کہ رُوٹھ جانا بھی اُس شوخ پر کُھلے
کُھل جائے کن ہواؤں سے رسمِ بدن رہی
خلوت میں پُھول سے کبھی تتلی اگر کُھلے
راتیں تو قافلوں کی معیت میں کاٹ لیں
جب روشنی بٹی تو کئی راہبر کُھلے
پروین شاکر

رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 104
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے
ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے
رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے
عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے
دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے
شاخ پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے
پروین شاکر

آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 103
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے
رنگ پھیلا تھا لُہو میں نہ ستارہ چمکا
اب کے ہر لمس ترا جُھوٹ رہا ہو جیسے
پھر شفق ہُوئی کوچہ جاناں کی زمیں
آبلہ پاؤں کا پھر پُھوٹ رہا ہو جیسے
روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے
سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
پروین شاکر

اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 102
چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے
مُجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے بھی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے
میرے ماتھے پہ ترے پیار کا ہاتھ
رُوح پر دست صبا ہو جیسے
یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے
سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی رِدا ہو جیسے
پروین شاکر

دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 101
پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے
ہیں تیز بہت ہَوا کے ناخن،
خوشبو سے کہو کہ گھر ہی ٹھہرے
کوئی تو بنے خزاں کا ساتھی
پتّہ نہ سہی ، شجر ہی ٹھہرے
اس شہرِ سخن فروشگاں میں
ہم جیسے تو بے ہُنر ہی ٹھہرے
اَن چکھّی اڑان کی بھی قیمت
آخر مرے بال و پر ہی ٹھہرے
روغن سے چمک اُٹھے تو مجھ سے
اچھّے مرے بام و در ہی ٹھہرے
کچھ دیر کو آنکھ رنگ چُھو لے
تتلی پہ اگر نظر ہی ٹھہرے
وہ شہر میں ہے ، یہی بہت ہے
کس نے کہا ، میرے گھر ہی ٹھہرے
چاند اُس کے نگر میں کیا رُکا ہے
تارے بھی تمام اُدھر ہی ٹھہرے
ہم خود ہی تھے سوختہ مقدر
ہاں ! آپ ستارہ گر ہی ٹھہرے
میرے لیے منتظر ہو وہ بھی
چاہے سرِ رہگزر ہی ٹھہرے
پا زیب سے پیار تھا ، سو میرے
پاؤں میں سدا بھنور ہی ٹھہرے
پروین شاکر

وہ ماہتاب ہی اُترا،نہ اُس کے خواب اُترے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 100
دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
وہ ماہتاب ہی اُترا،نہ اُس کے خواب اُترے
کہاں وہ رُت کہ جبینوں پہ آفتاب اُترے
زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اُترے
میں اُس سے کُھل کے ملوں ،سوچ کا حجاب اُترے
وہ چاہتا ہے مری رُوح کا نقاب اُترے
اُداس شب میں ،کڑی دوپہر کے لمحوں میں
کوئی چراغ ، کوئی صُورتِ گلاب اُترے
کبھی کبھی ترے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک
سماعتوں کے دریچوں پہ خواب خواب اُترے
فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد بیلوں پر
تراجمال کبھی صُورت سحاب اُترے
تری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی
نوید ہو کہ بدن سے پُرانے خواب اُترے
سپردگی کا مجسم سوال بن کے کِھلوں
مثالِ قطرہ ءِ شبنم ترا جواب اُترے
تری طرح ، مری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں
سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اُترے
پروین شاکر

جینے کا ذرا تو حوصلہ دے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 99
چہرہ نہ دکھا،صدا سُنادے
جینے کا ذرا تو حوصلہ دے
دِکھلا کسی طور اپنی صُورت
آنکھوں مزید مت سزا دے
چُھو کر مری سوچ میرے تن میں
بیلیں ہرے رنگ کی اُگا دے
جاناں ! نہ خیالِ دوستی کر
دے زہر جو اَب تو تیز سادے
شدّت ہے مزاج میرے خُوں کا
نفرت کی بھی دے تو انتہا دے
ٹوٹی ہُوئی شام منتظرِ ہے
جُھک کر مجھے آئینہ دکھا دے
دل پھٹنے لگاہے ضبطِ غم سے
مالک ! کوئی درد آشنا دے
سوئی ہے ابھی تو جاکے شبنم
ایسا نہ ہو موجِ گل اُٹھا دے
چکھّوں ممنوعہ ذائقے بھی
دل!سانپ سے دوستی بڑھا دے
پروین شاکر

زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 98
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے
لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے
رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے
شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے
تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے
دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے
دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے
میں عشق کائنات میں زنجیر ہوسکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں ، رُوح مجھے کربلائی دے
پروین شاکر

کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 97
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے،نہ گئے
کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے
اب وہ نیندوں کا اُجڑتا تو نہیں دیکھیں گے
وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے
رات بھر میں نے کُھلی آنکھوں سے سپنا دیکھا
رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چرائے نہ گئے
بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی
عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے
پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آکر
ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے
تیز بارش ہو، گھنا پیڑ ہو، اِک لڑکی ہو
ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے
روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال
چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے
پروین شاکر

جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 96
دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے
ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب
ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے
شہرِ خوباں کا یہی دستورہے
مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے
بے وطن کہلائے اپنے دیس میں
اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے
سُکھ تری میراث تھے،تجھ کو ملے
دُکھ ہمارے تھے،مقدر ہو گئے
وہ سر اب اُترا رگ وپے میں کہ ہم
خود فریبی میں سمندر ہو گئے
تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر
آج ہم تیرے برابر ہو گئے
پروین شاکر

موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 95
بارش ہُوئی تو پُھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سُورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سُورج دما غ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زُلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریبِ شہر سے کُچھ گفتگو ہُوئی
لہجے ہَوائے شام کے نمناک ہو گئے
پروین شاکر

وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 94
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے
خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں
ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے
ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد
بادل جو آسمان پہ چھائے تھے،چھٹ گئے
کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل
آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے
شہرِ وفا میں دُھوپ کا ساتھی کوئی نہیں
سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں
جھونکے ہَوا کے،کیسے گلے سے لپٹ گئے
دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی
اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے
پروین شاکر

مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 93
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے
پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے
کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے
آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے
پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے
پروین شاکر

کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 92
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے
رُت وہ ہے جب کونپل کی خوشبو سُر مانگے
پُروا کے ہمراہ عُمریا بالی گائے
مورنی بن کر پرواسنگ ہیں جب بھی ناچوں
پُروا بھی بن میں ہوکر متوالی گائے
رات گئے میں بندیا کھوجنے جب بھی نِکلوں
کنگن کھنکے اور کانوں کی بالی گائے
رنگ منایا جائے ، خوشبو کھیلی جائے
پُھول ہنسیں ، پتّے ناچیں اور مالی گائے
میرے بدن کا رواں رواں رس میں بھیگے
رات نشے میں اور ہوا بھوپالی گائے
سجے ہُوئے ہیں پلکوں پر خوشرنگ دیئے سے
آنکھ ستاروں کی چھاؤں دیوالی گائے
ہَوا کے سنگ چلے رہ رہ کے لے بنسی کی
جیسے دریا پار کوئی بھٹیالی گائے
ساجن کا اصرار کہ ہم تو گیت سُنیں گے
گوری چُپ ہے لیکن مُکھ کی لالی گائے
منہ سے نہ بولے ، نین مگر مُسکاتے جائیں
اُجلی دھوپ نہ بولے ، رینا کالی گائے
دھانی بانکیں جب بھی سہاگن کو پہنائے
شوخ سُروں میں کیا کیا چوڑی والی گائے
محنت کی سُندرتا کھیتوں میں پھیلی ہے
نرم ہَوا کی دُھن پر دھان کی بالی گائے
پروین شاکر

جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 91
خوشبو ہے وہ تو چُھو کے بدن کو گزر نہ جائے
جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے
خود پُھول نے بھی ہونٹ کیے اپنے نیم وا
چوری تمام رنگ کی ، تتلی کے سر نہ جائے
ایسا نہ ہو کہ لمس بدن کی سزا بنے
جی پُھول کا ، ہَوا کی محبت سے بھر نہ جائے
اس خوف سے وہ ساتھ نبھانے کے حق میں ہے
کھو کر مجھے،یہ لڑکی کہیں دُکھ سے مر نہ جائے
شدّت کی نفرتوں میں سدا جس نے سانس لی
شدّت کا پیار پاکے خلا میں بکھر نہ جائے
اُس وقت تک کناروں سے ندّی چڑھی رہے
جب تک سمندر کے بدن میں اُتر نہ جائے
پلکوں کو اُس کی ، اپنے دوپٹے سے پونچھ دوں
کل کے سفر کی گردِ سفر نہ جائے
میں کس کے ہاتھ بھیجوں اُسے آج کی دُعا
قاصد، ہوا،ستارہ کوئی اُس کے گھر نہ جائے
پروین شاکر

وصل کا خواب مکمل ہو جائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 90
رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
وصل کا خواب مکمل ہو جائے
چاند کا چوما ہُوا سرخ گلاب
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے
میں اندھیروں کو اُجالُوں ایسے
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے
دوش پر بارشیں لے کے گُھومیں
مَیں ہوا اور وہ بادل ہو جائے
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے
عُمر بھر تھامے رہے خوشبو کو
پُھول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے
چڑیا پتّوں میں سمٹ کر سوئے
پیٹریُوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے
پروین شاکر

وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 89
قریہ ءِ جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے
وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے
میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
وہ مرے گھر کے دَر و بام سجانے آئے
اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے
اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے
اب نہ پُوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
وہ اگر آئے تو کُچھ بھی نہ بتانے آئے
ضبط کی شہر پناہوں کی،مرے مالک!خیر
غم کاسیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
پروین شاکر

ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 88
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی
یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی
وہ میرے پاؤں کو چُھونے جُھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی
شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی
کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی
پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی
بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی
ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی
کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
پروین شاکر

محور سے زمین ہٹ گئی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 87
کچھ دیر کو تجھ سے کٹ گئی تھی
محور سے زمین ہٹ گئی تھی
تجھ کو بھی نہ مل سکی مکمل
میں ‌اتنے دکھوں ‌میں بٹ گئی تھی
شاید کہ ہمیں سنوار دیتی
جو شب آ کر پلٹ گئی تھی
رستہ تھا وہی پہ بِن تمہارے
میں گرد میں کیسی اَٹ گئی تھی
پت جھڑ کی گھڑی تھی اور شجر تھے
اک بیل عجب لپٹ گئی تھی
پروین شاکر

اور اس کی زبان اجنبی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 86
اک گیت ہوا کے ہونٹ پر تھا
اور اس کی زبان اجنبی تھی
اس رات جبین ماہ پر بھی
تحریر کوئی قدیم سی تھی
یہ عشق نہیں تھا اس زمیں کا
اس میں کوئی بات سرمدی تھی
جوروشنی تھی میرے جہاں کی
وہ خیرہ آنکھوں کو کر رہی تھی
پروین شاکر

پر چاہنے والوں کو جدائی کی پڑی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 85
دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی
پر چاہنے والوں کو جدائی کی پڑی تھی
کس جان گلستاں سے یہ ملنے کی گھڑی تھی
خوشبو میں نہائی ہوئی اک شام کھڑی تھی
میں اس سے ملی تھی کہ خود اپنے سے ملی تھی
وہ جیسے مری ذات کی گم گشتہ کڑی تھی
یوں دیکھنا اُس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے
انعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھی
پروین شاکر

نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 84
جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی
موج در موج ستارے نکلے
جھیل میں چاند کرن اُتری تھی
پریاں آئی تھیں کہانی کہنے
چاندنی رات نے لوری دی تھی
بات خوشبو کی طرح پھیل گئی
پیرہن میرا ، شِکن تیری تھی
آنکھ کو یاد ہے وہ پَل اب بھی
نیند جب پہلے پہلے ٹوٹی تھی
عشق تو خیر تھا اندھا لڑکا
حسن کو کون سی مجبوری تھی
کیوں وہ بے سمت ہُوا جب میں نے
اُس کے بازو پہ دُعا باندھی تھی
پروین شاکر

ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 83
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی
ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی
اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی
شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی
بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا الاؤ کبھی
اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
پروین شاکر

ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 82
چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی
ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی
زمین زاد بھی بھُولا جو لفظِ رہداری
فصیلِ شہر سے باہر کھڑا رہا وہ بھی
میں اُس کے سارے رویوں پہ معترض ہوتی
مری طرح سے مگر تھا دُکھا ہوا وہ بھی
گلی کے موڑ پہ دیکھا اُسے تو کیسی خوشی
کسی کے واسطے ہو گا رُکا ہوا وہ بھی
میں اُس کی کھوج میں دیوانہ وار پھرتی رہی
اسی لگن سے کبھی مجھ کو ڈھونڈتا وہ بھی
پروین شاکر

سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 81
دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی
گھر کی دیواریں میرے جانے پر
اپنی تنہائیوں کو سوچیں گی
اُنگلیوں کو تراش دوں ، پھر بھی
عادتاً اُس کا نام لکھیں گی
رنگ و بُو سے کہیں پناہ نہیں
خواہشیں بھی کہاں اماں دیں گی
ایک خوشبو سے بچ بھی جاؤں اگر
دُوسری نکہتیں جکڑ لیں گی
خواب میں تتلیاں پکڑنے کو
نیندیں بچوں کی طرح دوڑیں گی
کھڑکیوں پر دبیز پردے ہوں
بارشیں پھر بھی دستکیں دیں گی
پروین شاکر

میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 80
کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی
اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
پروین شاکر

ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 79
اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی
ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی
اب آسماں سے چادرِ شب آئے بھی تو کیا
بے چاری زمین پہ الزام ہو چکی
اُجڑے ہُوئے دیارپہ پھر کیوں نگاہ ہے
اس کشت پر تو بارشِ اکرام ہو چکی
سُورج بھی اُس کو ڈھونڈ کے واپس چلا گیا
اب ہم بھی گھر کو لوٹ چلیں ، شام ہو چکی
شملے سنبھالتے ہی رہے مصلحت پسند
ہونا تھا جس کو پیار میں بدنام ہو چکی
کوہِ ندا سے بھی سخن اُترے اگر تو کیا
نا سامعوں میں حرمتِ الہام ہو چکی
پروین شاکر

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 78
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی
شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی
ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی
دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
رنگ جوئندہ وہ،آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری ،بہاریں اُس کی
خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی
نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی
دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
پروین شاکر

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 77
کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر

کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 76
میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی
کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی
ایک بازو بریدہ شکستہ بدن قوم کے باب میں
زندگی کا یقیں کس کو تھا ، بس یہ کہیے ، دوا لگ گئی
جُھوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا ، سنگ اُٹھائے ہُوئے
آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلقِ خُدا لگ گئی
جنگلوں کے سفر میں توآسیب سے بچ گئی تھی ، مگر
شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی
نیم تاریک تنہائی میں سُرخ پُھولوں کا بن کِھل اُٹھا
ہجر کی زرد دیوار پر تیری تصویر کیا لگ گئی
وہ جو پہلے گئے تھے ، ہمیں اُن کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی
جان ! کیا تجھ کو بھی شہرِ نا مہرباں کی ہوا لگ گئی
دو قدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی
میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی
میز سے جانے والوں کی تصویر کب ہٹ سکی تھی مگر ،
درد بھی جب تھما ، آنکھ بھی جب ذرا لگ گئی
پروین شاکر

رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 75
گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی
جاچکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل
یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی
میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہو گئی
وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی
کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
پروین شاکر

دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 74
خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی
آندھی کی زد میں آئے ہُوئے پُھولوں کی طرح
میں ٹکڑے ٹکڑے ہوکے فضا میں بکھر گئی
شاخوں نے پُھول پہنے تھے کچھ دیر قبل ہی
کیا ہو گیا،قبائے شجر کیوں اُتر گئی
اُن اُنگلیوں کا لمس تھا اور میری زُلف تھی
گیسو بکھر رہے تھے تو قسمت سنورگئی
اُترے نہ میرے گھر میں وہ مہتاب رنگ لوگ
میری دُعائے نیم شبی بے اثر گئی
پروین شاکر

مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 73
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی
وہ سرد رات کی برکھا سے یوں نہ پیار کروں
یہ رُت تو ہے میرے بچپن کے ساتھ کھیلی ہوئی
زمیں پہ پاؤں نہیں پڑ رہے تکّبر سے
نگارِ غم کوئی دلہن نئی نویلی ہوئی
وہ چاند بن کے میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
میں اس کے ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی
جو حرفِ سادہ کی صورت ہمیشہ لکھی گئی
وہ لڑکی کس طرح تیرے لئے پہیلی ہوئی
پروین شاکر

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 72
عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دِل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
پروین شاکر

حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 71
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر