زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

بانگِ بقا

ساری نسل پہ گزرا ہے یہ قیامت کا اک دن

ایک ہی دن میں کٹ گئے کیسے کیسے رعنا، مست جوان

اب تو سب پر لازم ہے

حفظِ وجود

سعیِ بقا

جیسے بھی ہو، آج سے اک اک فرد کرے

زائد کام

بڑھ کر، چڑھ کر، گھُٹ کر، گھِس کر، پہلے سے بھی زیادہ کام

اب تو جٹ جائیں، اس کام میں سب کامی

رچ مچ کے اور مل جل کے

اک یہی کام

پس پس کے اور ہل ہل کے

دَم دَم، دُم دُم یہی جتن

کندے تول کے، پنجے جوڑ کے، پیہم اک یہی کام

ہم اس نسل کی رعنائی کے محافظ ہیں

نسلِ بیضا، فخرِ جن و انس و وحش و طیور

اب تو پیہم یہی جتن

جانے پھر کب چوبی تختے بچھ جائیں

اور ہمارے ویروں کے سر کٹنے لگیں

بڑی بڑی توندوں والے عفریتوں کی خاطر

جن کے پاک معطر جسم ہماری ہی روحوں کے فضلے ہیں!

مجید امجد

یہ بھی کوئی بات ہے۔۔۔

یہ بھی کوئی بات ہے کہنے کی

لیکن لو، ہم کہے ہی دیتے ہیں

دوہا، بول، کبت، کیا رکھا ہے ان میں ۔۔۔

زخم بھلا کب سلے ہیں شبدوں سے ۔۔۔

جلتی سطروں سے کب ڈھلی ہیں تقدیریں

بس، یہی، لے دے کے، کچھ عرصے کو

دھیمی دھیمی سی وہ جلن دب جاتی ہے

جو اس وقت ابھرتی ہے

جب دل میں گھن لگتا ہے

آخر ذرا سی اس تسکین کی خاطر کون

سارے جگ کا بیر سہے

کون کہے؟ کیا حاصل ہے اس بات کے کہنے سے؟

بات بھی یہ کہ زمانے میں:

زینہ بہ زینہ بندے پر تو بندے کی تلوار معلق ہے

چھوڑیں بھی اس بات کو، چلو یہی سوچیں

شاید اِک دن کوئی سچ اس سچ کو جھٹلا دے

(اپنا دل تو اگرچہ مشکل سے یہ مانے گا۔۔۔!)

مجید امجد

لوگ یہ۔۔۔

لوگ گہری نپی تلی تدبیروں والے

جانے ان لوگوں کو کیا ہے ۔۔۔

کبھی کبھی یوں دیکھتے ہیں وہ مجھ کو، جیسے وہ کہتے ہوں:

’’آ اور پڑھ لے انھی ہماری آنکھوں میں تقدیریں اپنی‘‘

اور پھر کبھی کبھی تو ان کی نظریں یوں کہتی ہیں:

’’تو کیا چھپے گا ہم سے؟ ہم نے تو پڑھ لیں تیری آنکھوں میں سب تقدیریں تیری‘‘

جانے ان لوگوں کو کیا ہے؟

جانے ان لوگوں کے لہو میں چکنی سی یہ سیاہی کہاں سے آئی ہے جو

مجھ کو دیکھ کے ان کے چہروں کو فولادی رنگ کا کر دیتی ہے

میری قسمت کے یہ دام چکانے والے

میں تو ان کے دلوں کو پڑھ لیتا ہوں

میں تو ان کی روحوں پر چیچک کے داغوں کو بھی گن لیتا ہوں جب وہ

تازہ لہو سے بھر جاتے ہیں

میرے سامنے تو ہے ان کا وجود بس ایک تماشا ۔۔۔

تیرے ارادوں کی نگری میں ان لوگوں کا تماشا

لوگ جو اپنی تدبیروں پر بھولے ہوئے ہیں

مجید امجد

ایک نظمینہ

ٹیڑھے منہ اور کالی باتیں

کانٹے بھرے ہوئے آنکھوں میں

یہ دنیا، یہ دنیا والے

تو مت جا اس اور — باگیں موڑ بھی لے

دلوں کی اس دلدل کے کنارے

روپ گھمنڈ کے پتلے سارے

اک پر دوسرا کیچ اچھالے

اس تٹ پر مت ڈول — باگیں موڑ بھی لے

آگے بِس کی لہر ہے جل تھل

کس کی بابت ماتھے پر بل

اے رے دُکھے ہوئے دل والے

یوں مت، یوں مت سوچ — باگیں موڑ بھی لے

مجید امجد

پھولوں کی پلٹن

آج تم ان گلیوں کے اکھڑے اکھڑے فرشوں پر چلتے ہو

بچو! آؤ تمہیں سنائیں گزرے ہوئے برسوں کی سہانی جنوریوں کی

کہانی

تب یہ فرش نئے تھے ۔۔۔

صبح کو لمبے لمبے اوورکوٹ پہن کر لوگ گلی میں ٹہلنے آتے

ان کے پراٹھوں جیسے چہرے ہماری جانب جھکتے

لیکن ہم تو باتیں کرتے رہتے اور چلتے رہتے

پھر وہ ٹہلتے ٹہلتے ہمارے پاس آ جاتے

بڑے تصنع سے ہنستے اور کہتے:

’’ننھو! سردی تمہیں نہیں لگتی کیا؟‘‘

ہم سب بھرے بھرے جزدان سنبھالے

لوحیں ہاتھوں میں لٹکائے

بنا بٹن کے گریبانوں کے پلو ادھڑے کاجوں میں اٹکائے

تیز ہواؤں کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں میں بھر کر

چلتے چلتے، تن کے کہتے:

’’نہیں تو، کیسی سردی

ہم کو تو نہیں لگتی…!‘‘

بچو! ہم ان اینٹوں کے ہم عمرہیں جن پر تم چلتے ہو

صبح کی ٹھنڈی دھوپ میں بہتی آج تمہاری اک اک صف کی وردی

ایک نئی تقدیرکا پہناوا ہے

اجلے اجلے پھولوں کی پلٹن میں چلنے والو

تمہیں خبر ہے، اس فٹ پاتھ سے تم کو دیکھنے والے

اَب وہ لوگ ہیں

جن کا بچپن ان خوابوں میں گزرا تھا جو آج تمہاری زندگیاں ہیں

مجید امجد

دن تو جیسے بھی ہوں۔۔۔

دن تو جیسے بھی ہوں۔۔۔ آخر اک دن

دنوں کی اک اک سچائی کو جھوٹ کے تیشے مقرض کر دیتے ہیں

دیکھو۔۔۔ سوچو۔۔۔

دل کی اس پیچاک میں ہیں جو شکنجے، وہ تو ویسے ہی تھے

اس پیچاک سے نچڑا ہوا وہ گیہوں، جو، زیتون کا رس تو ویسا ہی تھا

جسموں کی سب کارگہیں تو ویسی ہی تھیں

جب یہ سر فرعونوں کے آگے جھکتے تھے، تب بھی

جب اک گورا پلٹن اس سنگھاسن پر پہرا دیتی تھی، تب بھی

اور اب بھی جب ہم نے مستقبل کا سارا بوجھ اپنے شانوں پر بانٹ لیا ہے

گورا پلٹن کی سنگینوں کے سائے میں بھی بھوجن ملتا تھا

فرعونوں کی خدائی میں بھی بندے پتل بھات سے بھر لیتے تھے

اور اب اپنے گھروں میں ہم ہر ایک مثلج آسائش رکھتے ہیں

تو کیا صرف ہمیں سچے ہیں؟

کیا وہ سب جھوٹے تھے؟

یوں تو آج ہم ان پہ ترس کھاتے ہیں

جن کی پتھر ڈھوتی عاجزیاں فرعونوں کے چابک کھاتی تھیں

لیکن کیا اس بات کی ان کو خبرتھی ۔۔۔

کیا اس بات کی ہم کو خبر ہے ۔۔۔

اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، اس کا حاصل تو وہ سچائی ہے جس کو

آخر جھوٹ کے تیشے مقرض کر دیتے ہیں

پھر کیوں یہ سب دریا، چہروں، کھوپڑیوں کے دریا، ان گلیوں میں بہتے ہیں

شہرِ ازل کے اونچے پل کی کھڑی ڈھلان سے لے کر

ان گلیوں، ان دہلیزوں تک بہتے آتے دریا

دریا جن پہ شکن ہے ۔۔۔ چھاپ لہو کی

لہریں جن پہ بھنور ہیں ۔۔۔ لہو کی مہریں

آخر اس ریلے میں کون اچھا تھا ۔۔۔

آخر سچ کے تٹ پر کون اترا ہے۔۔۔؟

اپنی آنکھوں میں یوں کانٹے بھر کر میری جانب مت دیکھو۔۔۔

میں سچ کہتا ہوں، سوچو!

آخر سچ کے تٹ پر کون اترا ہے!

مجید امجد

وہ بھی اک کیا نام ہے ۔۔۔

وہ بھی اک کیا نام ہے جو ہر دم ہے

ہم ہیں اور نہیں ہیں

ہم اور باقی جو کچھ بھی ہے

اس کا ہونا اس کے نہ ہونے کی خاطر ہے

پھر اس اک اک ہونی کا ہے جدا جدا اک نام بھی اپنا

اپنے اپنے نام ہیں چیزوں کے اور آدمیوں کے

نام ان جسموں میں جیتے ہیں

نام ان جسموں میں بےجسم ہیں اور جیتے ہیں

آج تو میں نے دیکھا، میرے جسم میں میرا نام نہیں تھا

جیسے اک احساس کی زد سے

مجھ میں میرا باطن ڈوب چلا ہو

ایسے میں، اس میرے نام سے خالی ہونے والے خلا میں

جب اک نام نے جھانکا، جانے کس کے نام نے جھانکا

پھر سے میرے قدموں کے نیچے میرے باطن کی مٹی تھی

میرے باطن کی مٹی

میرے نام کی جس سے نمود ہے

کیسا نام ہے یہ بھی جو ہر دم ہے

ہم ہی نہیں اس نام سے نامی!

مجید امجد

مریض کی دعا

کل تک تو یہ دنیا

میرے لیے اک آئینہ تھی

جس میں میری نخوت

آنے والے کل کا یقینی چہرہ دیکھ کے اتراتی تھی

تو تو سب کچھ جاننے والا ہے: میں کتنا خویش غرض تھا

اب تک جب بھی تجھ کو یاد کیا ہے

اپنی نخوت کی اس بھول میں تجھ کو یاد کیا ہے

لیکن آج مجھے اس بات کا ڈر ہے:

کل — جب آنے والا کل آئے گا

میرے بےحس سرد مساموں کو وہ کھرچنے والی روشنیاں

اک ڈھیلے ٹاٹ کے جھول میں میرے جسم پہ شاید

جیتے دنوں کی آخری کرنیں ہوں گی

آج یہ میرا عہد ہے تجھ سے:

کل کو آنے والے کل کے بعد، اگر کچھ دن بھی میرے لیے ہیں

تو مرا اک اک دن اس دن کی اطاعت میں گزر جائے گا

تیرے خزانوں میں جو، میرے سمیت، سبھی کے لیے ہے

اور کسی کے لیے بھی نہیں ہے

تیرے غیب میں تو سب کچھ حاضر ہے

کل کے بعد بھی میرے ارادوں کو توفیق کے دن دے

اے وہ جس کے آج میں فرداؤں کے ابد ہیں

مجید امجد

بھائی کوسیجن، اتنی جلدی کیا تھی

بھائی، اتنی جلدی کیا تھی۔۔۔

دن ڈھلتے ہی ہم تو دور نِگر چشمے اپنی آنکھوں سے لگا کر بیٹھ گئے تھے، دیکھیں

کب سورج کے تھال پہ آ کر ٹھہرے تھوڑی دیر کو کالے چاند کا لرزاں دھبا

ہم یہ آس لگائے بیٹھے تھے، دیکھیں کب چاند کے گرد

اچانک چک چک چکراتا گزرے وہ چھوٹا سا اک رکشا

سورج کے چمکیلے گول کنارے کی پٹڑی پر چلتا، گھن سے اوجھل ہوتا، چکر کاٹ کے

سامنے آتا، دور سے دِکھتا رکشا

دل ہی دل میں ہم کہتے تھے، دیکھیں کیسا ہو یہ تماشا

وہ سورج کی آنکھ، اور اس میں چاند اک کالی پتلی، اور پھر اس پتلی کے گرد لڑھکتا

اک وہ سایہ

پھر یہ سب کچھ عکس بہ عکس ہماری آنکھ کی پتلی میں بھی

اک پل کے محور پر گھونے والے تین کرے…

اوہو اب تو آنکھیں بھی دُکھتی ہیں

اے لو، سورج پر سے ڈھل بھی گیا وہ سایہ ۔۔۔ لیکن تم نہیں آئے

سنا ہے تم تو اک دن پہلے کسی سدیمی دوری کے نزدیک خلا میں، وہیں کہیں تھے

اپنے چکراتے رکشا پر

جانے اک دن پہلے ہی تم کیوں لوٹ آئے، بھائی اتنی جلدی کیا تھی۔۔۔

دیکھیں گردشِ دوراں کے دوران تمہاری سواری پھرکب گزرے ان راہوں سے

ایسے میں جب ہوں اک سیدھ میں تین کُرے اور تین زمانے۔۔۔

اس دن ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے اور اس دن ہم تو لوگوں کا کہنا مانیں گے

مجید امجد

بےربط

اسی کرے کے جوف سے تم نے کشید کیا

انگاروں سے بھرا ہوا سیال غرور

لیکن کس کی تھی یہ مٹی؟ ہم سب کی

اس مٹی کی وریدوں سے یہ کھچا ہوا سیال غرور

سب میں بٹ جاتا

تو یہ دیس دلوں کے سجدوں سے بس بس جاتا

تم نے بجھتے بھڑکتے ان انگاروں کو

اپنی روحوں میں بویا

اور نفرت کاٹی!

ان انگاروں پہ تم نے اپنے چہرے ڈھالے ٹکسالوں میں

مقصد لوہے اور فولاد کا یہ جنگل تو نہیں تھا، ہونے کو تو، جس کی

اک اک دھڑکن میں تہذیبیں ہیں

کیسی تہذیبیں؟

جب اک لرزش گہری ہو کر اترے گی سنگین چٹانوں میں

اور دھوئیں میں تیریں گی بےجان مقرض قاشیں دنیا کی

تب بھی صرف اک شے باقی رہ جائے گی

تم محسوس کرو تو آج بھی اس کا بوجھ تمہارے دل پر ہے

مجید امجد

گوشت کی چادر

گوشت کی چادر لچکی، اس پر اک دو ترچھے شکن پڑے

اور بیل اَب نالے سے باہر تھا

اس کے لوہے کے بازو اور شانے

اور صاف، سفید سی کھال

اور وہ خم کھائے ہوئے سینگ

اور وہ جثّہ جیسے گوشت کی چادر

اور وہ اس کا وجود۔۔۔

بے پندار

بے پروا

ہل کا اہل

جیوٹ اور مگن

جانے کب سے، جب سے کالی دھرتی پر

جیتے گوشت کی یہ اک چادر لچکی ہے

انسانوں نے سکھ کی فصلیں کاٹی ہیں

مجید امجد

موانست

رات اچانک پھاٹک کا اک پہیہ رینگا

پگڈنڈی پر اک آہٹ نے ٹھوکر کھائی

کالے کالے پروں کو اوڑھ کے سونے والی وحشت

پاس کے پیڑ پہ کندے جھٹک کے چونکی، چیخی

جیسے کوئی اس کی طرف جھپٹا ہو

ڈرتے ڈرتے اس نے نیچے اندھیارے میں جھانکا:

’’اوہو یہ تو ایک وہی سایہ تھا

وہ جو روشنیوں کے پہلے پھیرے سے بھی پہلے

روز ادھر سے گزرتا ہے، اور پہلی کرن کی پینگ کے پڑنے سے بھی پہلے

چلتا چلتا اس باڑی میں کھو جاتا ہے

آج تو جانے کس لرزاں دھبے سے ٹکرایا، وہ پگلا

کویل نے یہ سوچا، پھر بےکھٹکے

پتوں کی اس سیج پہ تھوڑی دیر کو اونگھ گئی وہ

بوئے سحر کے مست بلاوے پر بےساختہ کوک اٹھنے سے پہلے!

مجید امجد

کبھی کبھی وہ لوگ۔۔۔

کبھی کبھی وہ لوگ بھی جن کا ناؤں لکھا ہے

کتنے موضعوں کے پٹواریوں کی کھیوٹ میں

میرے دل کے اندر بیٹھ کے میری باتوں کو سنتے ہیں

پیار سے مجھ کو دیکھتے ہیں یوں جیسے اس گودام میں کاغذ چاٹنے والا اک کیڑا ہوں

مجھے خبر ہے، دشمن اکثرغرانے سے پہلے ممیاتا ہے

لیکن میرا جی نہیں ڈرتا

مجھ پہ جھپٹ کر مجھ سے آخر وہ چھینیں گے بھی کیا

اپنے پاس کوئی رجواڑا لالچ کا نہیں ہے

اک دو حرف ہیں جن کی گرمی میرے لہو میں لہراتی ہے

ان لوگوں کی ریڑھ کی نلکی میں ہے گودا بھی سونے کا

کوئی کیسا ریلا آئے

ان کا پشتیبان وہ پشتہ بہہ نہیں سکتا، جس کے ذرّے آبِ زر سے جڑے ہیں

اے وہ، اپنے دوام کو جس نے حرف کے پیرائے میں دیکھا

تیرے سپرد ہیں میرے ٹوٹے پھوٹے مٹی کے یہ شبد کہ جن میں میری مٹی کی روزی ہے

مجید امجد

فرد

اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے

میں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوں

میز پر اپنی ساری دنیا

کاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیں

ساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیں

دل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیں

ان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہے

مجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہے

مجھ کو اس راحت میں صادق پا کر

سارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیں

ایک اگر میں سچا ہوتا

میری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیں

ان کی جگہ بےترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتے

میرے جسم کے ٹکڑے، کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے!

اتنے بڑے نظام سے میری اک نیکی ٹکرا سکتی تھی

اگر اک میں ہی سچا ہوتا

مجید امجد

پھر جب دوستیوں ۔۔۔

۔۔۔ پھر جب دوستیوں کے سمندر میں دم سادھ کے اترے

اور اک لمبے، گہرے، بے سدھ غوطے کے بعد ابھرے

اپنے دل کا خزف بھی اپنے پاس نہ تھا

باہر دیکھا ۔۔۔ باہر کوئی اور ہی دیس تھا

باہر ۔۔۔ کیسا بازو دار، لہکتا جنگل تھا

جنگل دوستیوں کا۔۔۔

مشفق اجنبیوں کی طرح ہماری جانب دیکھنے والے چہرے دوستیوں کے

جی نے چاہا، اَب تو باقی عمر اسی جنگل میں پھول چنیں گے

جانے کتنے دن یوں جاگ سکیں گے، اس سے پہلے کہ اپنا دل کا سوکھا

پتا ٹوٹ گرے

مجید امجد

’’تینوں رب دیاں رکھاں‘‘

تاروں بھرے دریاؤں جیسی لمبی تانوں والا یہ نغمہ

دور پہاڑوں میں چکراتی ہواؤں جیسی ۔۔۔ پیچاں سی یہ لے

اب بھی جس کی گونج میں ایک مقدس دکھ کا بلاوا ہے

میں جب بھی یہ گانا سنتا ہوں

مجھ کو یاد آ جاتے ہیں وہ لوگ

جن کے لیے اس دن، آگ کی آندھی میں، یہ بول ہماری یادیں لے کر آئے تھے

مجھ کو یاد آجاتے ہیں وہ لوگ، جنھوں نے اس دن، اتنے دھماکوں میں

ان شبدوں کو سنا

اور ہمارے بارے میں سوچا

جو کچھ سوچا ۔۔۔ کر گزرے

ان کی انھی سوچوں کی دین ہیں یہ سب دن، ہم جن میں جیتے ہیں

جن میں جییں گے آنے والے جینے والے بھی

انہی دنوں کا سرگم میرے دل کی سپتک پر چھڑ جاتا ہے

جب بھی میں یہ گانا سنتا ہوں ۔۔۔

مجید امجد

آواز کا امرت

اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک

اک دیوار ہے رمزِ دروں کی

اس دیوار کے اندر کی جانب جتنا کچھ بھی ہوتا ہے

جس کے پاس خزانہ، اک دردانہ، یا اک تال مکھانہ

نقدِ باطن یا کم از کم ۔۔۔ آب و دانہ

جتنا کچھ بھی پاس ہو اتنی ہی دیوار یہ موٹی ہوتی ہے اور اس دوری کے باعث

اتنی ہی اس روح کی بات ذرا گھمبیر اور گہری ہو جاتی ہے

اپنے بوجھ سے بوجھل ہو جاتی ہے

دیر سے سننے میں آتی ہے

اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، روح نہ اس کا کوئی دھندا

اپنے پاس توصرف اک یہ آواز ہے جس کے آگے کوئی بھی دیوار نہیں ہے

سن سے تمہارے پاس پہنچ جاتی ہے

اس آواز میں رمزِ دروں کے سارے غیرمقطّر زہر ہیں، اس کا برا نہ مانو

کبھی کبھی جی میں آئے تو، سن لو

چن لو

رکھ لو

چکھ لو

مجید امجد

اک دن ماں نے کہا

اب وہ لوگ جنھوں نے میرے بیٹوں کا ۔۔۔ خون پیا۔۔۔

(میرے بیٹے تو سب ان کے بھائی تھے)۔۔۔

اپنے وہ لوگ جنھوں نے میرے حصے کے روزینے کو ۔۔۔ اپنے جبڑوں میں ۔۔۔ بانٹ لیا

(میرا حصہ تو تھا صرف اک شیریں نام کا ذکر)۔۔۔

اب وہ اپنے دل میں سمجھتے ہیں ۔۔۔ دنیا ان کی ہے۔۔۔

لیکن کبھی اگر وہ دیکھیں تو ۔۔۔ میری بانہیں نہیں تھکیں ۔۔۔

کبھی اگر وہ دیکھیں تو ۔۔۔ ان کے انھی قدموں کے تلے۔۔۔

میرے الگ الگ دو ہاتھوں کی اک جڑی ہوئی مضبوط ہتھیلی ہے۔۔۔

اسی ہتھیلی پر ہے ان کا سب تن و توش۔۔۔

وہ اپنے قدموں کی طرف اک مرتبہ دیکھیں تو ۔۔۔ انھیں وہ سنگھٹ بھی نظر آئے جو۔۔۔

ان ہاتھوں کے قطع کے درپے ہے۔۔۔

لیکن وہ

دیکھتے ہیں بس اوپر اوپر، اس آکاش کی سمت۔۔۔

وہ آکاش جو ان کی کھوپڑیوں کے نیچے، ان کے بھیجوں پر

نیلے رنگ کی چربی ہے۔۔۔

کس سے کہوں میں

میرے یہ بیٹے بھی کیسے ہیں؟

مجید امجد

یہ سب دن۔۔۔

یہ سب دن

تنہا، نا یکسو

یہ سب الجھاوے

کالی خوشیاں، کالے غم

اے رے دل

رہا ہے تو اب تک

کن بھگتانوں میں

اور اب بھی تو آگے ہے

ایک وہی گذران دنوں کی، جس کی رو

جذبوں اور خیالوں میں چکراتی ہے

ہم جیتے ہیں، ان روحوں کو بھلانے میں

سدا جو ہم کو یاد کریں

سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں

جیسے، پورب کی دیوار پہ، انگوروں کی بیلوں میں

بڑھتے، رکتے، ننھے ننھے، چمکیلے نقطے

کرنوں کے ریزے

جو ہر صبح

ہر جھونکے کے ساتھ

ان پتوں کی درزوں میں

اے رے دل

تیری خاطر جلتے بجھتے ہیں

کس کی خاطر یہ اک صبح؟

کس کی خاطر آج کا یہ اک دن؟

کیسا دن؟

یہاں تو ہے بس ایک وہی اندھیر دنوں کا جس کی رو

روحوں میں اور جسموں میں چکراتی ہے!

مجید امجد

تب میرا دل…

تب میرا دل بجھ جاتا ہے

میں ہوں جگ جیون کے جوہر ڈھونڈنے والے جوہریوں کا جویا

میرا دل بچھ بچھ جاتا ہے

اس پتلے گیلے گیلے آبی کاغذ پر

جو یوں دور تک اس پانی پر چسپیدہ ہے

جس دن باری کا پانی لگتا ہے

اور سڑک کے ساتھ اک گھنے ذخیرے والی کیاری

تھمے ہوئے اور جمے ہوئے پارے سے بھر جاتی ہے

جب ان سطحوں پر کرنوں کی دھول بکھر جاتی ہے

اور ہوا کا ہلکے سے ہلکا جھونکا بھی ان کو چھونے سے ڈرتا ہے

تب تو ادھر ادھر ہی میرا دل کھنچتا ہے

مجھ کو بھا جاتی ہے

اچھے اچھے خیالوں کی چتریلی چادر اوڑھ کے ان چھتناروں میں یہ

بھٹکنے والی ٹھنڈک

سب کچھ تج کے، میں جب اس ٹھہرے پانی پر

سایوں اور شعاعوں کی جھلمل میں کھو جاتا ہوں

سارا آسمان اسی اجلے پانی پہ اتر کر مجھ کو دیکھ رہا ہوتا ہے

میں ہوں جگ جیون کے جوہر ڈھونڈنے والے جوہریوں کا جویا

مجید امجد

نیلے تالاب

سب اس گھاٹ پہ اک جیسے ہیں

جب سے نیل گگن کی ٹینکی سے پانی برسا ہے

جب سے سات سمندر، سات بھرے ہوئے ٹب پانی کے

اس آنگن میں رکھے ہیں

پہلے بھی سب لوگ اس گھاٹ پہ اک جیسے تھے

اور ۔۔۔ اب بھی، اس کالے نل میں جب سے

کھٹ سے کھچ کر آنے والا پانی

چھک سے گرنے لگا ہے

چکنی اینٹوں والے گھاٹ پہ سارے خدا اور سارے فرشتے اور سب روحیں

اپنے غرور کی اس پھسلن میں اک جیسی ہیں

اے رے شہرِ ابد کے واٹر ورکس کے رکھیا

دِلوں کی صد رخ نلکی میں اپنی سطحیں ہموار نہ رکھ سکنے والے سب پانی

سارے مقدس پانی

کس طرح تیرے نیلے تالابوں میں آ کر یک سو ہو جاتے ہیں

مجید امجد

کمائی

بندے، جب مٹی کے اندر بھر جاتا ہے

لہو کا دھارا …

پھر جب آنکھیں روح کی ٹھنڈی سطح کو چھو کر دیکھتی ہیں دنیا کو

پھر جب یوں لگتا ہے جیسے

اس پنڈے میں کھلی ہے سارے دیس کی سرسوں

پھر جب بانہیں ٹیڑھی ہو کر جھولتی ہیں چلنے میں

پھرجب نفرت ایک ادھورے پیارے دیکھ کے، ہنستی ہے ان پر، وہ جن

کی سچی سوچیں چلہ کش رہتی ہیں

پھر جب دل کہتا ہے: ’’اے رے کرجوے! آج ہمارے لیے تم

کتنے کرمنڈل بھیجو گے امرت جل کے؟‘‘

تب ایسے میں، کون یہ جانے، بندے

کون اس بھید کو پائے بندے!

کون دیکھے لہو کی لہر کا سب روغن تو

اس بھوجن کا رس ہے

وہ بھوجن جو کوڑا کرکٹ ہے اور جس کو کتے بھی نہیں کھاتے

مجید امجد

ڈر کاہے کا

ڈر کاہے کا

جتنا زور تمہارے خیال کی رو سے تمہارے بدن میں ہے وہ سارا زور لگا کر

(اور تمہاری صحت بھی تو خیر سے امڈی پڑتی ہے نا)

اپنے سارے بدن کا زور لگا کر

چھینو۔۔۔

اس سے، حصہ اس کے روزینے کا

اس سے، ہرعکس اس کے آئینے کا

سب سے، حق جینے کا

ڈر کاہے کا

گرجو! اور کالے رسوں کی گرہیں کھل جائیں گی

بپھرو! اور جابر ہاتھوں کی ریکھائیں گھل گھل جائیں گی

جھپٹو! اور سب قدریں اک میزان میں تل جائیں گی

یوں بھی نہ مقصد حاصل ہو تو پھر کیا

دیکھو، تمہارے گٹھیلے جثّے میں ہے ذہن کی جتنی طاقت، اس کو کام میں لاؤ

اس اک حرف کو دیکھو، شکل ہے جس کی اک زنجیر کی صورت

بھرے کٹہرے میں تم میز پہ مکہ مار کے کہہ دو

’’یہ اک حرف تو اس پستک میں نہیں کہیں بھی۔۔۔

پستک جس کے سب حرف اور سب سطریں سیدھی سیدھی ہیں‘‘

تم دیکھو گے، ترازو کا وہ پلڑا جس میں تم ہو، تمہاری جانب جھک جائے گا

رہ گئی اِک یہ مقدس مٹی ۔۔۔ ہمیں تو ہیں اس کے ریزہ چیں

ہم اس کی خاطر جی لیں گے، ہم اس کی خاطر مر لیں گے

مجید امجد

کوہِ بلند

تو ہے لاکھوں کنکریوں کے بہم پیوست دلوں کا طلسم

تیرے لیے ہیں ٹھنڈی ہوائیں ان بےداغ دیاروں کی

جن پر پیلے، سرخ، سنہری دنوں کی حکومت ہے

ایک یہی رفعت

ترے وجود کی قدر بھی ہے اور قوت بھی

تیرا وجود جو اس پاتال سے لے کر اوپر کی ان نیلی حدوں تک ہے

تو اس اونچی مسند پر سے جھک کر دیکھ نہیں سکتا

لیکن اس پاتال کے پاس جہاں میں ہوں

بڑا ہی گدلا اور کٹیلا ۔۔۔ کالی مٹی والا پانی ہے

زہرکدوں سے آنے والی ندیوں کا پانی

جس کی دھار تری پتھریلی دیواروں سے جب ٹکراتی ہے

تو میرے سینے میں دِل کی ٹوٹی کنکری ڈوبنے لگتی ہے

اے رے اونچی مسند والے پہاڑ!

کبھی تو اپنی خاطر میری سمت بھی جھک کر دیکھ

مجید امجد

ایکسیڈنٹ

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے

سرخ لہو کا تھا اک چھینٹا، چکنا، گیلا، چمکیلا چمکیلا

مٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پپڑی اس پر سے اتری، اور پھر سیندھوری سا اک خاکہ ابھرا

جو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبا ہے، پسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ۔۔۔ ان مٹ!

مجھ سے روز یہی کہتا ہے، پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کا

’’میں نے تو پہلی بار اس دن

اپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھے

یونہی ذرا اک جست بھری تھی

ابھی تو میرا روغن بھی کچا تھا

اس مٹی پر مجھ کو انڈیل دیا یوں کس نے

اوں اوں ۔۔۔ میں نہیں مٹتا، میں تو ہوں، اَب بھی ہوں‘‘

میں یہ سن کر ڈر جاتا ہوں

کالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گا؟

ممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میں

قانون آنکھیں میچے ہوئے ہے

قاتل پہیے بےپہرا ہیں

مجید امجد

اپنی آنکھ پہ۔۔۔

اپنی آنکھ پہ پٹی باندھ کے دیکھو

اپنی اوٹ سے اپنے آپ کو دیکھو

اندھیارے میں سوچو

کس کے ٹھنڈے، مشفق، حکمت والے ہاتھ تھے جن میں

ٹھنڈی، تیز، کٹیلی دھار تھی دکھ کی

چرتی جلد سے گرتی انگارہ سی بوندیں

یہ اک سانس تو شاید۔۔۔

اس اک رکتی رستی سانس کے بعد تو شاید

میلی گیلی کافوری مٹی کا بچھونا۔۔۔

اس بچھونے سے میں اٹّھا

سدا جئیں وہ ٹھنڈے ہاتھ جنھوں نے پٹی باندھی

اب آنکھوں پر پٹی باندھ کے دیکھا، یہ دنیا کتنی اچھی ہے!

تنہا بیٹھ کے سوچا

اس اک اتنی اچھی دنیا میں بھی

کون ادھر کو میری جانب دیکھے گا

جب تک میری آنکھوں پر پٹی ہے!

مجید امجد

دنیا مرے لیے تھی۔۔۔

دنیا مرے لیے تھی اک بےمصرف مصروفیت

جیسے تھا ہی نہیں میں اس دنیا میں

جیسے موت مرے جی میں جینے آئی ہو

پھر جب ان کے کرم سے ان کا نام مرے ہونٹوں پر آیا

سارا زمانہ، سب تقدیریں، دنیائیں اور چاند ستارے

سب کچھ تھا بس ایک تموّج

لہریں میں جن میں بہتا تھا

لہریں جو میرے جی میں بہتی تھیں

میں تو اس قابل بھی نہیں تھا۔۔۔

یہ سب ان کا کرم تھا

وہ مجھ کو یاد آئے تھے

میں نے ان کو یاد کیا تھا

مجید امجد

اس دن اس برفیلی تیز ہوا۔۔۔

اس دِن اس برفیلی تیز ہوا کے سامنے میں کچھ پہلے سے بھی زیادہ بوڑھا بوڑھا سا لگتا تھا

شاید واقعی اتنے ترس کے قابل ہی تھا

اس دن تم نے مجھ سے کہا تھا

اک دن میرے لیے تم اس دنیا کو بدل دو گی، یہ تم نے کہا تھا

اس دن بھری سڑک پر تم نے پیڈل روک کے۔۔۔

اپنے بائیسکل کو میرے بائیسکل کے ساتھ ساتھ چلا کر، مجھ سے کہا تھا:

’’آپ ایسے لوگوں کو بھی روز یہاں پتھر ڈھونے پڑتے ہیں، روٹی کے ٹکڑے کی خاطر‘‘

تھوڑی دور تک بھری سڑک پر، دو پہیوں کے ساتھ وہ دو پہیے ڈولے تھے

دندانوں میں ٹک ٹک کتے بولے تھے، سب دنیا نے دیکھا تھا

اور اس دن میں نے اپنے دل میں سوچا تھا

’’کیسا شہر ہے یہ بھی، ایسی ایسی باغی روحیں بھی اس میں بستی ہیں۔۔۔‘‘

میں تو اسی تمھارے شہر میں اب بھی روز اک میز پہ پتھر ڈھونے جاتا ہوں

کاغذ کے پتھر

لیکن جانے تم اب کہاں ہو، اے ری گول مٹول، سیانی گڑیا

بیٹی! شاید تو تو کہیں کسی دہلیز پہ دو منقوط گلابی گال آنکھوں سے لگا کر

نئی سفید جرابوں والے کسی کے ننھے سے پیروں میں گرگابی کے تسمے کسنے بیٹھ گئیں

اور یہاں، ادھر اب، ساتھ ساتھ جڑے ہوئے میزوں کی ایک لمبی پٹڑی بچھ بھی چکی ہے

حدِ زمیں تک

ظلم کے ٹھیلے روز اس پٹڑی پر بےبس زندگیوں کو دور افق کے گڑھے میں ڈھونے

آتے ہیں!

اور میں، اب بھی تمھارے کہے پر، اس پٹڑی کے اک تختے پر

عمروں کی گنتی کے چھٹے دہے پر

اس دنیا کا رستہ دیکھ رہا ہوں جس میں تمھارے نازک دل کی

مقدس سچائی کا حوالہ بھی تھا

جانے پھر تم کب گزرو گی ادھر سے … اس دنیا کو ساتھ لیے…

مجید امجد

مسلَخ

روز اس مسلخ میں کٹتا ہے ڈھیروں گوشت

دھرتی کے اس تھال میں، ڈھیروں گوشت

اور پھر یہ سب ماس

چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں

بستی بستی گلیوں اور بازاروں میں

لمبی لمبی قطاروں میں

جدا جدا تقدیروں میں

بٹتا جاتا ہے۔۔۔

ہر ٹکڑے کی اپنی آنکھیں، اپنا جسم اور اپنی روح

کہنے کو تو ہر ٹکڑے کا اپنا اپنا نام بھی ہے اور اپنا اپنا دیس بھی ہے

اپنی اپنی امنگیں بھی

… لیکن کچھ بھی ہو

آخر یہ سب کچھ کیا ہے

ڈھیروں گوشت

کھالیں، بھیجے، انتڑیاں

یہ سب خودآگاہ، جیالے لوگ

میں نے آج جنھیں اس برسوں پہلے کی تصویر میں دیکھا ہے

یہ سب جسم

جیتے ریشوں کے کس بل میں سنبھلتے ہوئے یہ دھڑ

آج کہاں ہیں یہ سب لوگ؟

اب تو ان کی بو تک بھی

شہرِ ابد کے تہہ خانوں سے نہیں آتی

باقی کیا ہے ۔۔۔ صرف

سورج کی اک چنگاری۔۔۔

اَور اس چنگاری کے دل میں دھڑکنے والی کلی

جس کی ہر پتی کا ماس

فرد!۔۔۔

عصر۔۔۔!

حیات۔۔۔!

مجید امجد

فردا

1968 میں مجید امجد’فعلن فعلن’کے آہنگ سے مکمل طور پر مسحور ہو گئے تھے۔اس سے پہلے یہ واردات میر تقی میر پر بھی گزری تھی، جنہوں نے اس بحر میں دو تین سو غزلیں لکھ ڈالی تھیں۔میر کے بعد یہ بحر امجد کے مزاج کو راس آئی۔چنانچہ وہ چھ سات سال تک تمام نظمیں اسی بحر میں لکھتے چلے گئے۔ان نظموں کے بارے میں عام قاری کی رائے ہے کہ یہ ان کی کمزور نظمیں ہیں جبکہ بعض سنجیدہ قارئین اور وسیع المطالعہ ناقدین کے خیال میں یہ ان کی بہترین تخلیقاتت ہیں۔بہرحال یہ مستقبل کی نظمیں ہیں اور ان کی حیثیت کا تعین آنے والا زمانہ کرے گا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

نوحہ

جو شمعِ بزمِ جہاں تھے

کہاں گئے وہ لوگ؟

جو راحتِ دل و جاں تھے

کہاں گئے وہ لوگ؟

جو روحِ عمرِ رواں تھے

کہاں گئے وہ لوگ؟

ابھی ابھی تو یہاں تھے

کہاں گئے وہ لوگ؟

مجید امجد

یادوں کا دیس

کیسے جاؤں، کیسے پہنچوں یادوں کے اس دیس

جہاں کبھی اک آنگن کی دیوار پہ چپکے سے

دودھ کا ایک کٹورا رکھ جاتے تھے میرے لیے

غیبی ہاتھ ۔۔۔ جنھیں مٹی کی تہوں نے ڈھانپ لیا

جہاں کبھی اک قبے دار مکاں میں شام ڈھلے

نیلے پیلے شیشوں والے صندوقوں کے پاس

میرے لیے آٹے کے کھلونے توے پہ تلتے تھے

اچھے ہاتھ ۔۔۔ جو مٹی کے کنگن میں گئے پتھرا

شاید ان دو قبروں کے اَب مٹ بھی چکے ہوں نشان

لیکن اس بجریلے پتھر پر اب بھی ہیں میرے ساتھ

وہ دو محافظ روحیں جن کے چار مقدس ہاتھ

ڈھال گئے ہیں انگاروں میں انگ انگ مرا

مجید امجد

اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 86
روئے عالم تھا جس کی جولاں گہ
اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا
دھیان میں روز چھم چھماتا ہے
قہقہوں سے لدا ہوا تانگا
دو طرف بنگلے، ریشمی نیندیں
اور سڑک پر فقیر اک نانگا
اب کے تو بک گیا سرِ مسجد
ان سیہ آڑھتوں میں اک بانگا
سبز پتوں کی اک فصیل ابھری
جب بھی گنجان باڑ کو جھانگا
وقت کے گھاٹ پر کسی کو تو ہو
اپنے دل میں اترنے کا ہانگا
پھونک کر بانسری میں آگ اک بار
گانے والے سرودِ باراں گا
مجید امجد

حضرت زینب

وہ قتل گاہ، وہ لاشے، وہ بے کسوں کے خیام

وہ شب، وہ سینۂ کونین میں غموں کے خیام

وہ رات جب تری آنکھوں کے سامنے لرزے

مرے ہوؤں کی صفوں میں ڈرے ہوؤں کے خیام

یہ کون جان سکے، تیرے دل پہ کیا گزری

لٹے جب آگ کی آندھی میں غمزدوں کے خیام

ستم کی رات کی کالی قنات کے پیچھے

بڑے ہی خیمۂ دل میں تھے عشرتوں کے خیام

تری ہی برقِ صدا کی کڑک سے کانپ گئے

بہ زیرِ چتر مطلا شہنشہوں کے خیام

جہاں پہ سایہ کناں ہے ترے شرف کی ردا

اکھڑ چکے ہیں ترے خیمہ افگنوں کے خیام

مجید امجد

کون دیکھے گا؟

جو دن کبھی نہیں بیتا ۔۔۔ وہ دن کب آئے گا؟

انھی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا!

اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاں

انھی دنوں کی تہوں میں ہے، کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دن

انھی دنوں میں نمویاب کون دیکھے گا

یہ ایک سانس، جھمیلوں بھری، جگوں میں رچی

اس اپنی سانس میں کون اپنا انت دیکھے گا

اس اپنی مٹی میں، جو کچھ امٹ ہے، مٹی ہے

جو دن ان آنکھوں نے دیکھا ہے، کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا

دورویہ ساحلِ دیوار، اور پس دیوار

اک آئینوں کا سمندر ہے، کون دیکھے گا

ہزار چہرے خودآرا ہیں، کون جھانکے گا

مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

تڑخ کے گرد کی تہہ سے اگر کہیں کچھ پھول

کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا ۔۔۔ کون دیکھے گا

مجید امجد

جہاں نورد

سفر کی موج میں تھے، وقت کے غبار میں تھے

وہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے

وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیال

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رس

میں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے

مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کل

میں اس طرف سے جو گزرا، وہ انتظار میں تھے

میں کچھ سمجھ نہ سکا، مری زندگی کے وہ خواب

ان انکھڑیوں میں جو تیرے تھے، کس شمار میں تھے

میں دیکھتا تھا، وہ آئے بھی اور چلے بھی گئے

ابھی یہیں تھے، ابھی گردِ روزگار میں تھے

میں دیکھتا تھا، اچانک، یہ آسماں، یہ کُرے

بس ایک پل کو رکے اور پھر مدار میں تھے

ہزار بھیس میں، سیار موسموں کے سفیر

تمام عمر مری روح کے دیار میں تھے

مجید امجد

ننھے بچو!

ننھے بچو، مجھ کو اب تک یاد ہے، جب میں تمہاری عمر میں تھا

تب، وہ لوگ جو مجھ سے بڑے تھے، کتنے اچھے لوگ تھے

سچے اور بھلے!

ننھے بچو!

کل جب تم اس عمر میں ہو گے، میں جس عمر میں ہوں

تب وہ لوگ جو تم سے بڑے تھے

کبھی کے مٹی اوڑھ کے سارے سو بھی چکے ہوں گے

جانےتم اس وقت ہمارے بارے میں کیا سوچو گے!

شاید وہ دن بڑے کٹھن ہوں، پھر بھی اتنا کچھ تو یاد رکھو گے نا

کیسے لوگ تھے، خود تو اپنے لہو میں ڈوب گئے

لیکن اس مٹی پر آنچ نہ آنے دی

جس پر آج تمھاری آرزوؤں کے باغ مہکتے ہیں ۔۔۔

مجید امجد

مسیحا

سدا لکھیں

انگلیاں یہ

لکھتی رہیں

انگلیاں یہ

کاغذ پر

رکی ہوئیں

آنکھیں یہ

کاغذ پر

جمی ہوئیں!

گہری سوچ

جذبِ عمق

آنکھوں سے

روح تلک

پھیلی اِک

دھیان دھنک

آنکھیں سرخ

چپ خودسوز

ڈورے سرخ

لرزاں، محو!

سامنے اک

پارۂ جاں

درد ہی درد

ٹیس، کراہ

بو، تلچھٹ

جرثومے

کوئی سبیل؟

کچھ بھی نہیں

کوئی افق؟

کچھ بھی نہیں

آنکھیں فکر

آنکھیں صدق

آنکھیں کشف

ایک رمق

اک یہ طریق

اک وہ اصول

یہ مشروب

وہ محلول

کچھ کیپسول

سطرِ شفا

حرفِ بقا

آنکھیں یہ

سدا جلیں

سدا جئیں

سکھ بانٹیں

انگلیاں یہ

سدا لکھیں

لکھتی رہیں

سطرِ شفا

حرفِ بقا

لکھتی رہیں

لکھتی رہیں

مجید امجد

افریشیا

دریا کے پانیوں سے بھری جھیل کے کنارے

آئے ہیں دور دور سے افریشیا کے پنچھی!

اجلے پروں کا بھاگ ہیں یہ رزق جو اڑانیں!

اتنے سفر کے بعد یہ تٹ، یہ ذرا سا کھاجا

جوہڑ میں اک سڑی ہوئی پتی ۔۔۔ چُہوں کا چوگا

اک گھونٹ زرد کیچ کا ۔۔۔ مرغابیوں کا راتب

اور اس کے ساتھ گھات میں زد کارتوس کی بھی

چنگاریوں کے تیز تڑختے ہوئے تریڑے

اور پانیوں پہ بہتی ہوئی سنسناہٹوں میں

لہراتے پنکھ، ابھرتے کماندار، زندہ چوکس

آزاد آبناؤں میں جیتے ہیں جینے والے

ٹھنڈی ہوا کی باس میں، بارود کے دھوئیں میں

مجید امجد

روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو

مجید امجد ۔ غزل نمبر 79
عمروں کے اس معمورے میں ہے کوئی ایسا دن بھی جو
روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو
اتنے کام ہیں، ان موّاج صفوں میں خوش خوش پھرتا ہوں
لیکن آج اگر کچھ اپنے بارے میں بھی سوچا تو
ایک سفر ہے صرفِ مسافت، ایک سفر ہے جزوِ سفر
جینے والے یوں بھی جیے ہیں، اک عمر اور زمانے دو
یہ انجانا شہر، پرائے لوگ، اے دل! تم یہاں کہاں
آج اس بھیڑ میں اتنے دنوں کے بعد ملے ہو، کیسے ہو
دنیا جڑی تڑی سچائی، سب سچے، کوئی تو کبھی
اس اندھیر سے نکلے اپنے جھوٹے روپ کے درشن کو
آخر اپنے ساتھ کبھی تو اک بےمہر مروت بھی
اپنے سارے نام بھلا کر، کبھی خود اپنے گن تو گنو
کچی نیند اور جسم نے دھوپ چکھی اور دل میں پھول کھلے
گھاس کی سیج پہ میں ہوں، تمہارے دھیان ہیں، آنے والے دنو!
مجید امجد

ہوس

کبھی تو وہ دِن بھی تھے۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

نہ جانے کیوں دل سیاہ لہروں میں بہہ گیا ہے

کبھی تو وہ دن بھی تھے ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

زمین محورمیں، آسماں چوکھٹے میں، ہر چیز اپنی اپنی حدوں میں محدود، اپنی اپنی بقا میں باقی

شعاعوں میں کروٹیں وہی تابشِ گہر کی

ہواؤں میں دھاریاں وہی موجِ رنگِ زر کی!

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن ۔۔۔ وہ دن جب

بدن پہ بے رنگ چیتھڑے تھے

جہت جہت میں الجھ گئی تھی

زمین اک بے وجود نقطہ

جہان اک رائیگاں صداقت

حیات اک بے وفا حقیقت

عجیب دن تھے، ہر ایک ذرّے کے دل میں داغِ فنا کا سورج ابھر رہا تھا

وہ دن، وہ احساسِ بےثباتی

وہ دولتِ بےزری، وہ اپنی نمودِ بےسود میں غمِ لازوال کو ڈھونڈنے کی خوشیاں

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن، کہ اب تو

ہوا کے ٹھنڈے غرور میں ہیں ہوس کے تیشے

ہوس کے تیشے، جو طنز ہیں میری خودفراموشیوں، مری بےلباسیوں پر

مرے بدن کو بھی اَب تو درکار ہیں وہ ساماں

جو رزقِ سم ہیں، جو مرگِ دل ہیں

مجید امجد

چہرۂ مسعود

مالک، تیری اس دنیا میں، آج ہماری زندگیوں کو کیسے کیسے دکھوں کا مان ملا ہے!

ایسے دکھ جو ٹیس بھی ہیں اور دھیر بھی ہیں اور ڈھارس بھی ہیں!

مالک، آج اس دیس میں، اس بستی میں، کوئی اگر دیکھے تو ۔۔۔ ہر سو

بھری بہاروں، فصلوں، کھلیانوں پر پھیلی دھوپ کی تہہ کے تلے

اک خون کے چھینٹوں والی چھینٹ کی میلی اور مٹیالی چادر بچھی ہوئی ہے

موت کی میلی اور مٹیالی موج میں رنگ لہو کے، نقش لہو کے

ایک ایک چمکتی سطح کے نیچے، راکھ لہو کی، ساکھ لہو کی

کوئی اگر دیکھے تو آج اس دیس میں، بانس کی باڑی میں، دھان کے کھیت میں ٹھنڈی ریت میں

جگہ جگہ پر ۔۔۔ بکھری ہوئی نورانی قبریں، آنگن آنگن روشن قدریں

مائیں، جن کے لال مقدس مٹی

بہنیں، جن کے ویر منور یادیں

بالک، جن کی مایا بےسُدھ آنسو

مرنے والے کیسے لوگ تھے، ان کا سنجوگ بھی اک سنجوگ ہے، ان کا دکھ بھی ایک عبادت

کیسے لوگ تھے، موت کی لہر پہ آگ کی پینگ میں جھولے، تجھ کو نہ بھولے، ہم کو نہ بھولے!

مالک، ان کے صدہا چہرے اک چہرہ ہیں — پکی اینٹ کی رنگت والا چہرہ

روحوں کی دیوار میں ایک ہی چہرہ، قبروں کی الواح میں ایک ہی چہرہ

مالک، ہمیں بھی اس چہرے کی ساری خوشیاں، سارے کرب عطا کر

مالک، اس چہرے کا سجرا سورج ہماری زندگیوں میں ڈوب کر ابھرے!

مجید امجد

یہ قصہ حاصلِ جاں ہے

یہ قصہ حاصلِ جاں ہے، اسی میں رنگ بھریں

لہو کی لہر کے لہجے میں اپنی بات کہیں

دھوئیں میں آگ کے تیشے ہیں، زخم ہیں، اب ہم

انھی کڑکتے دھماکوں سے اپنے گیت چنیں

ہمارے جیتے گھروندے، ہمارے جلتے جتن

یہ مورچے، یہ جیالے سپاہیوں کی صفیں

جلی زمین، سیہ دھول، صدقِ خوں کی مہک

قدم قدم پہ یہاں مہر و مہ کی سجدہ گہیں

یہ دن بھی کتنے مقدس ہیں، بے بہا ہیں کہ آج

ہمارا حصہ بھی ہے طالعِ شہیداں میں

اسی تڑختی ہوئی باڑھ میں ہمیں کو ملیں

سنورتی، سجتی، نکھرتی دلوں کی اقلیمیں

یہ جینے والوں نے دیکھا کہ اس گروہ میں تھے

وہ جان ہار کہ جو موت کو بھی فتح کریں

میں ان کو طاقِ ابد سے اتار لایا ہوں

یہ شمعیں جن کی لویں میرے آنسوؤں میں جلیں

مجید امجد

سپاہی

تم اس وقت کیا تھے

تمہارے محلکوں، تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا

آسائشیں بھی، وسیلے بھی

اس کبریائی کی ہر تمکنت بھی!

سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا ۔۔۔ زندگی کا ہر اک آسرا بھی

کڑے بام و در بھی

خزانے بھی، زر بھی

چمن بھی، ثمر بھی

مگر تم خود اس وقت کیا تھے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

جب اڑتی ہلاکت کے شہپر تمہارے سروں پر سے گزرے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

اگر اس مقدس زمیں پر مرا خوں نہ بہتا

اگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے

مری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیں

تو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے

تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمت

اسی سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے

مجید امجد

خطۂ پاک

خطۂ پاک، ترے نامِ دل آرا کی قسم

کتنے سچے ہیں، سجیلے ہیں، جیالے ہیں وہ دل

جاگتی جیتی، زرہ پوش چٹانوں کے وہ دل

جن کے موّاج لہو کا سیلاب

تیری سرحد کی طرف بڑھتی ہوئی آگ سے ٹکرایا ہے

دیکھتے دیکھتے بارود کی دیوار گری

ہٹ گئے دشمن کے قدم

خندقیں اٹ گئیں شعلوں سے ۔۔۔ مگر ہائے وہ دل

زندہ ۔۔۔ ناقابلِ تسخیر ۔۔۔ عظیم!

ہائے دلوں کی وہ فصیل

جاوداں اور جلیل

جس کے زینوں پہ ظفرمند ارادوں کی سپاہ

جس کے برجوں میں ملائک کے جیوش

جس کا پیکر ہے کہ اک سطرِ جلی

لوحِ ابد پر تاباں

آیۂ عمرِ شہیداں کی طرح!

مجید امجد

صدائے رفتگاں

یہ واقعے کسی تقویم میں نہ تھے مذکور

یہ لہریں جو ابھی ان ساحلوں سے گزری ہیں

یہ سانحے تو ہمارے دلوں سے ابھرے تھے

ہماری خاک سے یہ قصہ سن سکو تو سنو!

بروزِ جنگ، صفِ دشمنان میں سب کچھ تھا

ہمارے پاس تو کچھ بھی نہ تھا، نہ مکر، نہ حرص

بس ایک سادہ سی دلدادگی تھی اپنی متاع

ابد کا چہرہ اسی اک سپر کی اوٹ میں تھا

تمہارے پاس تو سب کچھ ہے، وہ زمانہ بھی ہے

ہمارے صدق نے اک عکس جس کا دیکھا تھا

تمہارے حصے میں مٹی کی وہ مرادیں بھی ہیں

ہمارے دل نے کبھی جن کی آرزو بھی نہ کی

یہ سیلِ خاک، یہ دنیا، کسے خبر کہ یہاں

ہماری خاک بھی اب زیرِ خاک ہے کہ نہیں

سنو، سنو، یہ صدا کس کی ہے، کبھی تو سنو

ہمیں تو ہیں جو شبوں کو تمہاری بستی میں

دلوں کے بند کواڑوں کو کھٹکھٹاتے ہیں

’’یقینِ مرگ کی نیندوں سے کھیلتی روحو

ہماری زیست کا اک دن کبھی بسر تو کرو! ‘‘

مجید امجد

یہ سرسبز پیڑوں کے سائے

سیہ سنگ، تپتی سڑک پر یہ سرسبز پیڑوں کے سائے

ہوا اس جگہ کتنی ٹھنڈی ہے، جھونکوں پہ سایوں کے دھبے بھی ہیں کتنے ٹھنڈے

درختوں کے اس جھنڈ سے جب میں گزرا

خنک چھاؤں کی ٹکڑیاں سی مرے جسم پر تھرتھرائیں

مرے جسم سے گر کے ٹوٹیں

عجب اک اچھوتی سی ٹھنڈک مری روح میں سرسرائی

سہانے دنوں کی انوکھی سی ٹھنڈک

وہ دن کتنے اچھے تھے جب ایک بھیگی ہوئی سانس کی ریشمیں رو

مرے دِل کی چنگاریوں کے پسینے سے مس تھی

وہ مبہم سی خوشیاں جو چھپ چھپ کے ہر موڑ پر، نت نئے بھیس میں

آ کے روحوں سے ملتی ہیں، مل کر بچھڑتی ہیں، جیسے

ہواؤں پہ سایوں کے چھدرے سے دھبے

فضاؤں میں صدہا سفید و سیہ آفتابوں کے بکھرے سے ریزے

سرِ خاک بے ربط، بے سطر، خاکے

یہ سب کچھ بس اک دو قدم تک۔۔۔

پھر آگے وہی دھوپ، شاداب دردوں کی جانب ہمکتی ہوئی

سنگریزوں پہ بہتی ہوئی دھوپ

حدِ عدم تک!

مجید امجد

درونِ شہر

مجھ سے پوچھو، یہیں کہیں اس پھلواڑی میں کیسے کیسے پھول کھلے تھے

آج انھی پھولوں کی مقدس پنکھڑیوں پر ہیں کیچ کے دھبے

ان روحوں اور ان راہوں سے اڑتی ہوئی اس کیچ کے دھبے

مجھ سے پوچھو

یہیں کہیں ہے، اسی سنہرے شہر کے اندر

اینٹوں کی تہذیب کے سینے میں اک دلدل

گدلے، مگھم، میلے کچیلے دلوں کی دلدل

کڑوے زہرمیں لت پت رسمیں

میں نے جن سے وفا کی ریت نبھائی

میں نے جن کی خاطر

چرکے اپنے ضمیر پہ جھیلے

سکے اپنے دل پر داغے

پہیوں کے دندانوں میں دن کاٹے

سلوں کی دھج کو تج کے، دھجیاں اوڑھ کے

کال کی دھوپ میں کنکر رولے

کس سے پوچھوں، میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

پیتل کے جبڑوں میں کھنکنے والی، کانچ کی آنکھوں میں مسکانے والی

یہی کسیلی پیلی نفرت ۔۔۔ میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

مجید امجد

ایک فلم دیکھ کر

دھیرے دھیرے ساز بجے

اس کے انگ انگ نے اک انگڑائی لی

ابھری رقص کی لے

لچکی اس کے بدن کی ڈھال

اک اک تیز نرت کے ساتھ

ناچتے جسم سے اک اک بندھن اترا، اک اک تکمہ ٹوٹا، پلّو ڈھلک ڈھلک کر رکے، گرے

اور پھر ۔۔۔ سامنے، اک

جگ مگ جسم

گرتی مڑتی، ٹوٹ ٹوٹ کے جڑتی ۔۔۔ مرمر کی ڈھلوان

قاشیں، رگیں، خلیے، ماس، مسام

سب کچھ، ایک تھرکتے بہتے عکس کا جزو

سب کچھ، جسم کی باغی سلطنتوں کی ایک عجب دنیا

گول سڈول کُرے، انمول زمینیں، ساحل، جھرنے، دھوپ

چاندنی، محمل، پھول

سب کچھ، رقص کے روپ میں ڈھلتا، ٹک ٹک چلتا، اک متحرک عکس

سب کچھ، پاس بلاتے، پیاس بڑھاتے ارمانوں کے سراب!

آج اک دوست نے پاس بلا کر چائے پلا کر مجھ سے مری اک بوسیدہ سی نظم سنی

اور پھر اس کے بعد یہ فلم!

باہر نکلا تو سنسان سڑک تھی، شبِ خزاں تھی

ٹھنڈی تیز ہوا میں ننگی شاخیں ناچ رہی تھیں

میں بھی، میری نظم بھی، دونوں تھرتھر کانپ رہے تھے، اتنے لبادوں میں

مجید امجد

ایک شبیہ

کچھ دنوں سے قریب دِل ہے وہ دن

جب، اچانک، اسی جگہ، اک شکل

میری آنکھوں میں مسکرائی تھی

اک پل کے لیے تو ایک وہ شکل

جانے کیا کچھ تھی، جھوٹ بھی، سچ بھی

شاید اک بھول، شاید اک پہچان

کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے اب

یہ سمجھنے لگا ہوں، میں ہی تو ہوں

جس کی خاطر یہ عکس ابھرا تھا

کچھ دنوں سے تو اب میں دانستہ

اس گماں کا فریب کھاتا ہوں

روز، اک شکل اس دوراہے پر

اب مرا انتظار کرتی ہے

ایک دیوار سے لگی، ہر صبح

ٹکٹکی باندھے، نیم رخ، یک سو

اب مرا انتظار کرتی ہے

میں گزرتا ہوں، مجھ کو دیکھتی ہے

میں نہیں دیکھتا، وہ دیکھتی ہے

اس کے چہرے کی ساخت ۔۔۔ ساعتِ دید

زرد ہونٹوں کی پتریاں ۔۔۔ پیتل

سرخ آنکھوں کی ٹکڑیاں ۔۔۔ قرمز

روغنی دھوپ میں دھنسے ہوئے پاؤں

منتظر منتظر، اداس اداس

کبھی پل بھر کو ایک یہ چہرہ

جانے کیا کچھ تھا، لیکن اب تو مجھے

اپنی یہ بھول بھولتی ہی نہیں

ایک دِن یہ شبیہ دیکھی تھی

کچھ دنوں سے قریب دِل ہے وہ دن

کچھ دنوں سے تو بیتتے ہوئے دن

اسی اک دن میں ڈھلتے جاتے ہیں

دن گزرتے ہیں اَب تو یوں جیسے

عمر اسی دن کا ایک حصہ ہے

عمر گزری ۔۔۔ یہ دن نہیں گزرا

جس طرف جاؤں، جس طرف دیکھوں

مجھ سے اوجھل بھی، میرے سامنے بھی

شکل اک ٹین کے ورق پہ وہی

شکل اک دل کے چوکھٹے میں وہی

مجید امجد

وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 68
کبھی تو سوچ، ترے سامنے نہیں گزرے
وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے
یہ اور بات کہ ہوں ان کے درمیاں میں بھی
یہ واقعے کسی تقریب سے نہیں گزرے
ان آئینوں میں جلے ہیں ہزارعکسِ عدم
دوامِ درد، ترے رتجگے نہیں گزرے
سپردگی میں بھی اک رمزِ خود نگہ داری
وہ میرے دِل سے مرے واسطے نہیں گزرے
بکھرتی لہروں کے ساتھ ان دنوں کے تنکے بھی تھے
جو دل میں بہتے ہوئے رک گئے، نہیں گزرے
انھیں حقیقتِ دریا کی کیا خبر امجد
جو اپنی روح کی منجدھار سے نہیں گزرے
مجید امجد

بے نشاں

میں اب آیا ہوں ۔۔۔ اتنے برسوں کے بعد

آندھیاں آئیں ۔۔۔ بدلیاں برسیں

دب گئیں خاک کی تہیں، تہہِ خاک

بہتی مٹی میں بہہ گئی مٹی

میرے نادیدہ پیشرو! تری قبر

کس جگہ تھی، یہ اب کسے معلوم

یوں ہی، اپنے قیاس سے میں نے

ریت کی اک شکن کو پہچانا

مٹتی سطحوں پہ ایک ڈوبتی سطر

اک خطِ خاک جس پہ کچھ کنکر

میں نے پہلے تو چن کے رکھ بھی دیے

پھر خیال آیا ۔۔۔ اب یہ کون کہے

قبرتیری یہیں کہیں تھی ۔۔۔ مگر

تھی کہاں؟۔۔۔ شاید اس جگہ تو نہ تھی

کچھ جو سوچا ۔۔۔ نہ جانے کیا سوچا

ذہن میں لاکھ الجھ گئے خاکے

میں نے کنکر وہ سب بکھیر دیے!

بے نشاں خاک میرے سامنے اب

ان جہانوں کا ایک حصہ ہے

جن کے بھیدوں کی تھاہ میں تو ہے

جن کے سایوں کی قبر میں میں ہوں!

مجید امجد

جلوسِ جہاں

میں پیدل تھا، میرے قریب آ کے اس نے، بہ پاسِ ادب، اپنے تانگے کو روکا

اچانک جو بجریلی پٹڑی پہ سُم کھڑکھڑائے، سڑک پر سے پہیوں کی آہٹ پھسل کر جو ٹھہری

تو میں نے سنا، ایک خاکستری نرم لہجے میں مجھ سے کوئی کہہ رہا تھا:

’’چلیں گے کہیں آپ؟ بازار، منڈی، سٹیشن، کچہری؟‘‘

پلٹ کر جو دیکھا تو تانگے میں کوئی سواری نہیں تھی، فقط اک فرشتہ، پھٹے کپڑے پہنے

عنانِ دو عالم کو تھامے ہوئے تھا

میں پیدل تھا، اتنے میں کڑکا کوئی تازیانہ، بہا فرشِ آہن پہ ٹاپوں کا سرپٹ تریڑا

کوئی تند لہجے میں گرجا: ’’ہٹو، سامنے سے ہٹو!‘‘ اور پرشور پہیے گھناگھن مری سمت جھپٹے

بہ مشکل سنبھل کر جو دیکھا، کھچاکھچ بھرے تیز تانگے کی مسند پہ، اِک صورتِ سگ

لجامِ فرس پر جھکی تھی!

یہ لطفِ کریمانۂ خوشدلاں بھی، یہ پُرغیظ خوئے سگاں بھی

مرے ساتھ رو میں ہیں لوگوں کے جتنے رویّے، یہ سب کچھ، یہ سارے قضیّے

غرض مندیاں ہی غرض مندیاں ہیں، یہی کچھ ہے اس رہگزر پر متاعِ سواراں

میں پیدل ہوں، مجھ کو جلوسِ جہاں سے انھی ٹھوکروں کی روایت ملی ہے

مجید امجد

پچاسویں پت جھڑ

اتنا بھرپور سماں تھا ۔۔۔ مگر اب کے تو ہر اک گرتے ہوئے پتے کے ساتھ

اور اک مٹی کی تہہ میرے لہو میں تیری

اور اک ریت کی سلوٹ مرے دل میں ابھری

اور اک زنگ کی پپڑی مری سانسوں پہ جمی

اتنا بھرپور سماں تھا، مگر اب کے تو مجھے جس نے بھی دیکھا، یہ کہا:

’’جانے کیا بات ہوئی، کچھ تو بتا۔۔۔

تیرے ہونٹوں سے تو اَب ایک وہ مرجھائی ہوئی موجِ تبسم بھی گئی‘‘

میں یہ اب کس کو بتاؤں کہ مرے پیکر میں

اک تپش ایسی بھی ہے جس کے سبب

روح کی راکھ پہ شعلوں کی شکن پڑتی ہے

سانس کے بل میں پنپنے کی سکت بٹتی ہے

ٹوٹتی کڑیوں میں جینے کے جتن جڑتے ہیں

میں یہ اب کس کو بتاؤں کہ مرے جسم کے ریشوں کے اس الجھاؤ میں ہے

ایک وہ گرتی سنبھلتی ہوئی نازک سی دھڑکتی ہوئی لہر

جو ہر اک دکھ کی دوا ڈھالتی ہے

جو گزرتے ہوئے لمحوں کے قدم روکتی ہے

مجھ سے کہتی ہے کہ ’’دیکھ، ایک برس اور بجھا

دیکھ اب کے تری بتیسی پہ دھبا سا پڑا، دانت گرا

گھاؤ یہ اب نہ بھرے گا، یہی بہتر ہے کہ ہونٹوں پہ لگا لے کسی جھوٹی سی کڑی سوچ کی مہر

اب کے تو ایک مجھی کو یہ خبر ہے کہ میں کیوں مہر بلب پھرتا ہوں

ورنہ سب لوگ یہی کہتے ہیں: ’’اس شخص کو دیکھو، اب تو

اس کے ہونٹوں سے وہ مرجھائی ہوئی موجِ تبسم بھی گئی‘‘

مجید امجد

میرے خدا، مرے دل!

مرے ضمیر کے بھیدوں کو جاننے والے

تجھے تو اس کی خبرہے، مرے خدا، مرے دل

کہ میں ان آندھیوں میں عمر بھر جدھر بھی بہا

کوئی بھی دھن تھی، میں اس لہر کی گرفت میں تھا

جو تیری سوچ کی سچائیوں میں کھولتی ہے

ہے جس کی رو میں تری ضو، مرے خدا، مرے دل

مرے لہو میں تری لو ہے دھڑکنوں کا الاؤ

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ اس طلسمِ زیاں کے کسی جھمیلے میں

ذرا کبھی جو قدم میرے ڈگمگا بھی گئے

تو اک خیال، ابد موج سلسلوں کا خیال

مرے وجود میں چنگاریاں بکھیر گیا

سنبھل کے دیکھا تو دنیا میں اور کچھ بھی نہ تھا

نہ دکھتی سانس کے ارماں، نہ جیتی مٹی کے لوبھ

نہ کوئی روگ، نہ چنتا، نہ میں، نہ مرے جتن

جو مجھ میں تھا بھی کوئی گُن، ترے ہی گیان سے تھا

کچھ اور ڈوب کے گہرائیوں میں جب دیکھا

تو ہر سلگتی ہوئی قدر کے مقدر میں

نہاں تھے تیرے تقاضے، مرے خدا، مرے دل

ہیں تیری کرنوں میں کڑیاں چمکتے قرنوں کی

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ اس کرے پہ ہے جو کچھ بھی، اس کے پہلو میں ہیں

وہ شعلے جن پہ شکن ہے تری ہی کروٹ کی

ترے ہی دائرے کا جزو ہیں وہ دور کہ جب

چٹانیں پگھلیں، ستارے جلے، زمانے ڈھلے

وہ گردشیں جنھیں اپنا کے ان گنت سورج

ترے سفر میں بجھے تو انھی اندھیروں سے

دوامِ درد کی اک صبح ابھری، پھول کھلے

مہک اٹھی تری دنیا، مرے خدا مرے دل

گھلا ہوا مری سانسوں میں ہے سفر تیرا

تجھے تو اس کی خبر ہے، مرے خدا، مرے دل

کہ گو یہی میرا پیکر ضمیرِ خاک سے ہے

مگر اسی مرے تپتے بدن کی بھٹی سے

کشید ہوتی ہوئی ایک ایک ساعتِ زیست

وہ گھونٹ زہر کا ہے جو مجھی کو پینا پڑا

یہ زہرکون پیے؟ کون اپنے سینے میں

یہ آگ انڈیل کے ان ساحلوں سے بھید چنے

جہاں پہ بکھرے ہیں صدہا صداقتوں کے صدف

یہ زہر کون پیے؟ کون بجھتی آنکھوں سے

غروبِ وقت کی خندق کے پار دیکھ سکے

جہاں ازل کے بیاباں میں عمر پیما ہے

حقیقتوں کا وہ دھارا کہ جس کی لہروں میں آج

گلوں کا رس بھی ہے، فولاد کا پسینہ بھی

مرا شعور انھی گھاٹیوں میں بھٹکا ہے

قدم قدم پر مری ٹھوکروں کی زد میں رہیں

کرخت ٹھیکریاں ان کٹھور ماتھوں کی

جو زندگی میں ترے آستاں پہ جھک نہ سکے

قدم قدم پہ سیہ فاصلوں کے سنگم پر

بس اک مجھی کو اس اَن مِٹ تڑپ سے حصہ ملا

تری جرس کی صدا میں ہیں رت جگے جس کے

یہی تڑپ تری کایا، یہی تڑپ مرا انت

جو انت بھی ہو سو ہو، میں تو مٹتی مٹی ہوں

دھڑکتی ریت کے بےانت جھکڑوں میں سدا

رواں رہیں ترے محمل! مرے خدا، مرے دل

تری ہی آگ کی میٹھی سی آنچ ہیں مرے دکھ

یہ راز تو ہی بتا اب، مرے خدا، مرے دل

یہ بات کیا کہ ترے بےخزاں خزانوں سے

جو کچھ ملا بھی ہے تو مجھ کو اک یہ ریزۂ درد

ہیں جس کی جھولی میں کھلیان تیرے شعلوں کے

اور اب کہ سامنے جلتی حدوں کی سرحد ہے

ہر ایک سمت مری گھات میں ہیں وہ روحیں

جو اپنے آپ میں اک راکھ کا سمندر ہیں

یہ روحیں، بِس بھرے، ذی جسم، آہنیں سائے

انھی کے گھیرے میں ہیں اب یہ بستیاں، یہ دیار

کہیں یہ سائے جو پتھرائی آرزوؤں کو

سرابِ زر کی کشش بن کے گدگداتے ہیں

مری لگن کو نہ ڈسنے لگیں، میں ڈرتا ہوں

کہیں یہ سائے، یہ کیچڑ کی مورتیں، جن کے

بدن کے دھبوں پہ رختِ حریر کی ہے پھبن

مری کرن کی نہ چھب نوچ لیں، میں ڈرتا ہوں

کہیں یہ آگ نہ بجھ جائے جس کے انگ میں ہیں

ترے دوام کی انگڑائیاں، میں سوچتا ہوں

نہیں، یہ ہو نہ سکے گا! جو یوں ہوا بھی تو پھر؟

نہیں! ابھی تو یہ اک سانس! ابھی تو ہے کیا کچھ!

ابھی تو جلتی حدوں کی حدیں ہیں لامحدود

ابھی تو اس مرے سینے کے ایک گوشے میں

کہیں، لہو کے تریڑوں میں، برگِ مرگ پہ اک

کوئی لرزتا جزیرہ سا تیرتا ہے جہاں

ہر اک طلب تری دھڑکن میں ڈوب جاتی ہے

ہر اک صدا ہے کوئی دور کی صدا، مرے دل

مرے خدا، مرے دل

مجید امجد

ریزۂ جاں

ہماری زندگیوں کے سمندروں میں چھپے

کہیں دلوں کی تہوں میں عجیب اندیشے

کبھی کبھی انہی لہروں کی گونج میں ہم نے

اک آنے والے تموّج کی سیٹیاں بھی سنیں

مگر یہ کس کو خبر، کیا ہے اک وہ ربطِ عمیق

وہ گھور اندھیروں کا ترکہ ہمارے ذہنوں میں

وہ ایک بِس بھری حس جو ہوا میں بہتے ہوئے

سیاہ لمحوں کی آہٹ کو بھانپ لیتی ہے

کسے خبر ہے کہ اس جان و تن کی گتھی میں

لہو کی پگھلی سلاخوں کے اس جھمیلے میں

کڑی وہ کون سی ہے، الجھے سلسلوں کی کڑی

کہ جس کے دل میں یہ مدھم سی اک جھنک، پھر آج

مرے لیے کوئی مگھم سی بات لائی ہے

میں ڈر گیا ہوں ۔۔۔ پُراسرار واسطوں کے نظام

یہ خوف بھی تو ہے اک وہ حصارِ بے دیوار

جو میرے دل کو تری بستیوں نے بخشا ہے

تری ہی دین، سیہ سانحوں کو سونگھتی حس

ترا ہی خوف، اس ان بوجھے رابطے کا ثمر

میں ایک ریزۂ جاں ان عجب قرینوں میں

ترے ہی خوف کی زد میں، تری گرفت میں ہوں

ترے ہی ربط کی حد میں ۔۔۔ تری پناہ میں ہوں

مجید امجد

سانحات

کوئی بھی واقعہ کبھی تنہا نہیں ہوا

ہر سانحہ اک الجھی ہوئی واردات ہے

آندھی چلے تو گرتی ہوئی پتیوں کے ساتھ

لاکھوں صداقتوں کے ہیں ڈانڈے ملے ہوئے

دیکھے کوئی تو دیکھتی آنکھوں کے سامنے

کیا کچھ نہیں کہ دیکھنا جس کا محال ہے

اک جام اٹھا کے میں نے زمیں پر پٹخ دیا

سوچو، اس ایک لمحے میں کیا کچھ نہیں ہوا

ہر سمت ڈھیر صد صدفِ سانحات کے

قوسِ کنارِ قلزمِ دوراں پہ لگ گئے

پرکھو تو رنگ رنگ کی ان سیپیوں پہ ہے

لہروں کے تازیانوں کی تحریر الگ الگ

چاہو تو واقعات کے ان خرمنوں سے تم

اک ریزہ چن کے فکر کے دریا میں پھینک دو

پانی پہ اک تڑپتی شکن دیکھ کر ہنسو

چاہو تو واقعات کی ان آندھیوں میں بھی

تم یوں کھڑے رہو کہ تمہیں علم تک نہ ہو

طوفاں میں گھر گئے ہو کہ طوفاں کا جزو ہو

مجید امجد

ایکٹریس کا کنٹریکٹ

مرا وجود مری زندگی کا بھید ہے، دیکھ

یہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگِ گل سے خراش

یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز

یہ ایک روح، بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر

ذرا قریب تو آ، دیکھ، تیرے سامنے ہیں

یہ سرخ، رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیے

کبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھے

جو تو کہے تو یہی ہونٹ، سرخ، رس بھرے ہونٹ

ترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں

قریب آ، یہ بدن، میری زندگی کا طلسم

تری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہے

جو تو کہے تو یہی نرم، لہریا آنچل

یہی نقاب، مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئی

یہی ردا، مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئی

یہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہے

بس ایک شرط ۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویز

ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہی

اکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے

ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے

مجید امجد

اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل
اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل
اپنے دل کی راکھ چن کر، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں
میں بھی اک سیّال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل
میں نہ سمجھا، ورنہ ہنگاموں بھری دنیا میں، اک آہٹ کے سنگ
کوئی تو تھا، آج جس کا قہقہہ دل میں ہے دامن گیرِ دل
رُت بدلتے ہی چمن جُو ہم صفیر اب کے بھی کوسوں دور سے
آ کے جب اس شاخ پر چہکے، مرے دِل میں بجی زنجیرِ دل
کیا سفر تھا، بےصدا صدیوں کے پل کے اس طرف، اس موڑ تک
پے بہ پے ابھرا سنہری گرد سے اک نالۂ دلگیرِ دل
وار دنیا نے کیے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
کس طرح، جی ہار کر، رکھ دی نیامِ حرف میں شمشیرِ دل
مجید امجد

ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 59
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھی
وہ بےکلی جو ہے موجِ زماں کا حصہ بھی
یہ آنکھیں، ہنستی وفائیں، یہ پلکیں، جھکتے خلوص
کچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی
یہ رسم، حاصلِ دنیا ہے اک یہ رسمِ سلوک
ہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی
دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھی
سیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی
مجھے ڈھکی چھپی اَن بوجھی الجھنوں سے ملا
جچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی
کبھی کبھی انھی الھڑ ہواؤں میں امجد
سنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی
مجید امجد

پہاڑوں کے بیٹے

مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے، جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں، صدیوں سے تنہا

جہاں صرف بےمہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما!

پہاڑوں کے بیٹے

چنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں، سنگِ خارا کے ریزے

سجل، دودھیا، نرم جسم ۔۔۔ اور کڑے کھردرے سانولے دل

شعاعوں، ہواؤں کے زخمی

چٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیں

وطن، گرم پانی کے تسلے میں ڈھیر اَن منجھے برتنوں کا

جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں دربدر ڈھونڈتی ہیں

وطن، وہ مسافر اندھیرا

جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندّیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کر

کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے

ندی بھی زرافشاں، دھواں بھی زرافشاں

مگر پانیوں اور پسینوں کے انمول دھارے میں جس درد کی موج ہے عمر پیما

ضمیروں کے قاتل اگر اس کو پرکھیں

تو سینوں میں کالی چٹانیں پگھل جائیں

مجید امجد

ایک شام

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی باہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں!

یہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں

یہ پگھلے ہوئے زرد تابنے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیں؟

بس اک شورِ طوفاں!

کنارا نہ ساحل!

نگاہوں کی حد تک

سلاسل ! سلاسل!

کہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیں

کہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے — اور اک وہ گاؤں:

وہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں!

مجید امجد

ہوٹل میں

بادل گرجا ۔۔۔ گرے سنہری پردے دلوں، دریچوں پر۔۔۔

بند ہوئے دو گول پپوٹے، چونچ میں دب گئی گرم زبان

چھری چلی حلقوم پہ، تڑپا تپتے توے پہ تڑختا ماس

سج گئے میز پہ مے کے پیالے، بٹ گیا طشتوں میں پکوان

چھت پر بارش، نیچے اجلے کالر، گدلی انتڑیاں

ہنستے مکھ، ڈکراتی قدریں، بھوکی مایا کے سب مان

باہر ۔۔۔ ٹھنڈی رات کا گہرا کیچڑ ۔۔۔ درد بھرے آدرش

چلو یہاں سے ۔۔۔ ہمیں پکارے ننگی سوچوں کا رتھ بان

مجید امجد

دل پتھر کا۔۔۔

اس پتھر پر، اک اک پل کی گھایل آنچ بھی گھاؤ

اس پنکھڑی کو بہا نہ سکا طوفانوں کا بھی بہاؤ

دل پتھر کا

پتھر پنکھڑی پھول کی۔۔۔

دل کیا جانے کہاں ہے وہ بے انت سمے کا پڑاؤ

جہاں پہ جل کر راکھ ہوئے ہیں زندگیوں کے الاؤ

دل جو سنے تو جکڑے ہوئے سناٹوں کی یہ کراہ

اک سندیس ہے، جینے والو! ہم کو یاد نہ آؤ

دل کو یاد کرو وہ سمے، دل بھول چکا وہ سبھاؤ

رات کی میلی کروٹ، آخری سانسوں کا ٹھہراؤ

کسی امر ارمان کی ہچکی، کسی صدا کے شبد

کہیں سے ڈھونڈو ان شبدوں کو

اے بے مہر ہواؤ!

کبھی کھلے پتھر پر پنکھڑی پھول کی

مجید امجد

اک آنسو کی بوند میں دیکھو، دنیا دنیا، عالم عالم جل تھل ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 54
اپنے دل کی چٹان سے پوچھو، ریزہ اک پنکھڑی کا کتنا بوجھل ہے
اک آنسو کی بوند میں دیکھو، دنیا دنیا، عالم عالم جل تھل ہے
جس کو دیکھو اپنے سفر کی دنیا بھی ہے، اپنے سفر میں تنہا بھی
قدم قدم پر اپنے آپ کے سامنے ہے اور اپنے آپ سے اوجھل ہے
روح سے روح کا نازک بندھن، پھولوں کی زنجیر میں جکڑی زندگیاں
کتنے دکھ ہیں، کتنا چین ہے، کیسی دھوپ ہے، کتنا گہرا بادل ہے
آنکھ کی پتلی، سانس کی ڈوری، دِل کی تھاپ، اک پل کی نرت کا تماشا ہے
گلتی کھوپڑیوں سے چنی دیواروں پر اک جلتی جوت کی جھل جھل ہے
ایک زمانے سے یہی رستہ زیرِ قدم ہے، اک اک جھونکا محرم ہے
آج جو من کی اوٹ سے دیکھا، ہر سو اک ان دیکھی رت کی چھل بل ہے
بہتی روشنیاں، بے کار شعاعیں، بکھری ٹھیکریاں، بے حرف سلیں
اک دِن انت یہی ہے مگر وہ ایک کرن جو دل کے ورق پر جدول ہے
مجید امجد

مشاہیر

کیا لوگ تھے جن کی گردن پر

تلوار چلی ۔۔۔ اک سرد تڑپ

۔۔۔ اک خون میں لتھڑی ہوئی کروٹ

اور وقت کے سیمیں دھارے پر

اک سطر لہو کی چھوڑ گئے!

اچھے تھے وہ جن کو سولی کی

رسی سے لٹک کر نیند آئی

اک تیز کھٹک! اک سرد تڑپ

اور وقت کی دُکھتی چیخوں میں

اک شبد کی شکتی چھوڑ گئے

مٹی بھی اب ان ساونتوں کی

ان کھوئے ہوئے کھنڈروں میں نہیں

اک سطر لہو کی کانپتی ہے

اک شبد کی شکتی ڈولتی ہے

تاریخ کی گلتی پُستک پر

اک نام کا دھبا باقی ہے

کیا کچھ نہ ملا ان جیالوں کو

شعلوں پہ قدم رکھنے میں سکوں

جینے کے لیے مرنے کی لگن

اے وائے وہ جلتی روحیں جنھیں

ہر درد ملا، منزل نہ ملی!

کل ان کی زرہ پوش آرزوئیں

جس آگ کی رو میں بہتی ہوئی

نیزوں کی انی پر ناچ گئیں

وہ آگ تمہاری دنیا ہے

وہ آگ تمہارے پاؤں تلے

جتنوں کی لہکتی جنت ہے

اس اگنی سے، اس جیتے جگوں

کی کھلتی ہوئی پھلواڑی سے

وہ چار دہکتے پھول چنو

اتنا ہی سہی، اتنا تو کرو

تاریخ کی گلتی پُستک پر

اک نام کا دھبا ہو کہ نہ ہو

مجید امجد

یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 52
جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی
سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی
نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی
کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی
نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی
غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی
مجید امجد

وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 51
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی
ابد کی راہ پہ بےخواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جُگوں میں چھوڑ گئی
یہ زندگی کی لگن ہے کہ رتجگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انھی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی
وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دِل کا ساتھ چھوڑ گئی
رکا رکا ترے لب پرعجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے ناتمام چھوڑ گئی
فرازِ دل سے اترتی ہوئی ندی، امجد
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ، گئی
مجید امجد

کارِ خیر

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

جڑے تڑے پنجر پر ڈال کے سرد سفید کفن

قبر میں جھونک دیے لوگوں نے اک دکھیا کے پران

اچھی تھی وہ اپاہج بڑھیا جس نے جیتے جی

بچے کچھے ٹکڑوں کے بدلے جنت کی جاگیر

امرت پیتی زندگیوں کے چرنوں پر رکھ دی

کیسے بھاگ اس ابھاگن کے تھے جس نے مر کر بھی

ایک سفید کفن کے بدلے رنگیں چہروں پر

کوثر کی اک اجلی موج کی چاندی برسا دی

اس کا جینا، اس کا مرنا، اس کے سارے روگ

صرف اس کارن تھے کہ کبھی کبھی ان شعلوں کی اوٹ

اپنی خوشیوں کو سنولا لیں کچھ دھن والے لوگ

میری روح کو ڈھانپ گیا اک زہر بھرا طوفان

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

مجید امجد

حربے

زندگی کے اسلحہ خانے سے اس روحِ زبوں کو کیا ملا

صرف دو ترچھے سے ابرو، صرف دو پتلے سے ہونٹ

کتنے مہلک ہیں یہ حربے، کیا کہوں ۔۔۔

جب بھی کوئی شبھ گھڑی

اس کے دل پرکھینچ دیتی ہے سنہری زائچے

جب بھی میٹھے مکر کی جھوٹی ہنسی

اس کے چہرے پر بچھا دیتی ہے زریں زاویے

اس کی ترچھی کانپتی جھکتی بھنویں

۔۔۔ دو کٹاریں، جن کے اکھڑے اکھڑے قبضے، انکھڑیاں

اس کے پتلے مسکراتے ٹیڑھے ہونٹ

… آریاں، جن کی دنتیلی دھار، دانت۔۔۔

ٹوٹ پڑتی ہیں دلوں پر اس طرح

بے سپر سچائیوں پر اس طرح کرتی ہیں وار

جیسے باقی جتنی جوہردار قدریں زندگی کے اسلحہ خانے میں ہیں سب ہیچ ہیں

جانے کتنی ایسی روحیں ان کمیں گاہوں میں ہیں

کون ہو ان کا حریف

کاش خود ان کا ضمیرِ بے نیام

ان کی آہن پوش تقدیروں کو گھائل کر سکے

کاش اس خنداں ہزیمت کا تصور، ایک دن

ہو سکے خود ان کے دِل پر حملہ آور، فتح یاب!

مجید امجد

لاہور

کوئی کچھ بھی کہے کہے، مجھے کیا

بات جو میرے دِل میں ہے، میں اگر

آج اپنی زباں پہ لا نہ سکا

کل، مرے بعد، تیری منڈلی پہ جب

آگ برسے گی ۔۔۔ کون بولے گا!

بات یہ ہے، عظیم شہر، تجھے۔۔۔

شاید اس بات کا گماں بھی نہ ہو

ایک دِن آئے گا ۔۔۔ خدا نہ کرے

کبھی وہ دن بھی آئے ۔۔۔ جب ترے برج

قَدَر انداز دشمنوں سے بھرے

آگ انڈیلیں گے تیری گلیوں پر

تیری گلیاں کہ جن میں بستے ہیں آج

لوگ، نیندوں میں تیرتے پیکر

لوگ ڈھلتی مسرتوں سے نڈھال

زنگ کے پھول، شاخِ آہن پر

کوئی دیکھے اگر تو شہرِ شہیر

جن سجیلی سلوں پہ کھینچی تھی

تو نے گلکار سلسلوں کی لکیر

ان کی جھڑتی تہوں میں دفن ہیں آج

پھول برساتی بجلیوں کے ضمیر!

دیکھتے دیکھتے بکھر بھی گئی

مٹتے کھنڈروں کو جیتے آنگنوں سے

جوڑنے والی آنسوؤں کی لڑی

میں نے اکثر سنی ہے تیری کراہ

کھوکھلے قہقہوں کی بھیڑ میں بھی!

یوں گری وقت کی کمان کی زہ

سب کٹیلے طلسم ٹوٹ گئے

رہ گئے ہم، سو اپنا حال ہے یہ

اتنی نازک ہیں الجھنیں اپنی

جیسے پنکھڑی میں دھاریوں کی گرہ

یاد بھی ہے کہ مٹنے والوں نے

تیری مٹی کو رکھ کے پلکوں پر

یہ قسم کھائی تھی کہ تیرے لیے

اسی دھرتی سے ہم، دھڑکتی ہوئی

زندگی کا خراج مانگیں گے!

اسی دھرتی پہ، آج شہرِ جمیل!

کتنی اونچی ہے، کتنی کڑیل ہے

تیری بے سنگ سرحدوں کی فصیل

جس کے گھیرے میں گھاٹیوں کی گھٹا

جس کی خندق سمندروں کی سبیل!

یہی بل کھاتی، جاگتی دیوار

جو دِلوں کی سلوں سے ڈھالی گئی

آج، جب اس کے کنگروں کی قطار

صفِ سوزاں ہے، ہم نہیں چونکے

کل جب اس کے سلگتے زخنوں کے پار

خون چھلکے گا، ہم نہیں ہوں گے

ہم نہیں ہوں گے، لیکن اے مرے دیس

ایک دن آئے گا، خدا نہ کرے

کھی وہ دِن بھی آئے، جب ترے برج

قدر انداز دشمنوں سے بھرے

تری گلیوں پہ آگ انڈیلیں گے

تری گلیاں کہ جن کے سایوں میں کل

لڑکھڑاتے مقدروں کے پرے

ٹوٹتی سیڑھیوں سے اتریں گے

وقت کی موج سے ابھرتی ہوئی

قوم کی وردیاں پہن لیں گے!

ہم بھی اے کاش دیکھ سکتے انہیں

کون ہوں گے وہ لوگ جن کے بدن

خود ہمارے لہو کی دیواریں

جن کے سینوں میں سنسناتے الاؤ

خود انھی کے شعور کی لپٹیں!

یوں تو کس کو خبر ہے کل کیا ہو

پھر بھی، اے شہرِ خوش قبا، تیرے

دوش پر ہے جس آفتاب کی ڈھال

جب یہ سورج بدست فردا ہو

جب قدم ظلمتوں کا پسپا ہو

یاد رکھنا کہ یہ رُتیں، فصلیں

یہ بہاریں جو آگ کی رو سے

زندگی کے گلاب کا رس لیں

رو گئی ہیں انہیں، کسے معلوم

کتنی بے عزم، زرد رو نسلیں

کتنے بے عزم، زرد رو پیکر

چند خوشیوں کا سوگ جن کے جتن

چند خوابوں کی گرد جن کے نگر

یہی ہم، جن کی ہر تڑپ سے ہے آج

سو شکن دشمنوں کے ماتھوں پر

فتح اس آتشیں شکن کی شکست

جو ترے دشمنوں کے ماتھوں پہ ہے

کتنی ان مٹ ہیں، کون جانتا ہے

یہ جو ریکھائیں ترے ہاتھوں پہ ہیں

مجید امجد

وقت

وقت ہے اک حریمِ بےدیوار

جس کے دوار آنگنوں میں سدا

رقص کرتے ہوئے گزرتے ہیں

دائروں میں ہزارہا ادوار

بیتتی بات اور آنے والی آن

امرِ امروز اور فرِ فردا

سب زمانے، تمام عرصۂ دہر

وقت کی ایک تیز لہر کی عمر!

کل وہ سب کچھ تھا جو کچھ آج بھی ہے

آج جو کچھ ہے، اس زمانے میں تھا

جب وہ سب کچھ کہ جس نے ہونا ہے

ہو چکا تھا، یہ کھیل ہونی کے!

لاکھ قرنوں کے ان قرینوں میں

نہ کوئی دن نہ سِن، نہ یوم نہ عصر

صرف اک پل، بسیط، بے مدت

اپنے بھیدوں کی حد میں لامحدود

اس کی یک رنگیوں میں یکساں ہیں

ہنستے سنجوگ بھی، بجھے دل بھی

سلسلے سجتی سجتی سیجوں کے بھی

مسئلے مسلے مسلے پھولوں کے بھی

وقت بہتا ہوا وہ دھارا ہے

جس کی رو خنجروں کی دھار نہیں

وقت جیتی حقیقتوں کا جتن

مرنے والے کبھی مرے ہی نہیں

اتنے پہلو ہیں اس پہیلی کے

اور اک ہم، کہ جن کے علم کی لِمِ

ہے فقط انگلیوں کا لمس اور بس

ہائے اندھی روایتوں کے طلسم

Richard Aldington کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

بارکش

چیختے پہیے، پتھ پتھریلا، چلتے بجتے سُم

تپتے لہو کی رو سے بندھی ہوئی اک لوہے کی چٹان

بوجھ کھینچتے، چابک کھاتے جنور! ترا یہ جتن

کالی کھال کے نیچے گرم گٹھیلے ماس کا مان

لیکن تیری ابلتی آنکھیں، آگ بھری، پُرآب

سارا بوجھ اور سارا کشٹ ان آنکھوں کی تقدیر

لاکھوں گیانی، من میں ڈوب کے ڈھونڈیں جگ کے بھید

کوئی تری آنکھوں سے بھی دیکھے دنیا کی تصویر!

مجید امجد

دو دلوں کے درمیاں

شام کی بجھتی ہوئی لو، ایک ان بوجھی کسک

پانیوں، پگڈنڈیوں، پیڑوں پہ سونے کی ڈلک

جامنوں کے بور کی بھینی مہک میں دور تک

جسم اندر جسم سائے، لب بہ لب پرچھائیاں

انگ انگ انگڑائیاں

ہائے یہ مدھم سے شعلے اُس مقدس آگ کے

جس کی لپٹوں میں سدا سمٹے رہے، پھیلے رہے

تیرے ہونٹوں اور مرے ہونٹوں کے جلتے فاصلے

ساتھ چلتی سنگتوں کے سنگ بہتی دوریاں

دو دلوں کے درمیاں

مجید امجد

یہ صراحی میں پھول نرگس کا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 44
میری مانند خودنگر، تنہا
یہ صراحی میں پھول نرگس کا
اتنی شمعیں تھیں تیری یادوں کی
اپنا سایہ بھی اپنا سایہ نہ تھا
میرے نزدیک تیری دوری تھی
کوئی منزل تھی، کوئی عالم تھا
ہائے وہ زندگی فریب آنکھیں
اس نے کیا سوچا، میں نے کیا سمجھا
صبح کی دھوپ ہے کہ رستوں پر
منجمد بجلیوں کا اک دریا
گھنگھروؤں کی جھنک منک میں بسی
تیری آہٹ، میں کس خیال میں تھا
کون یاد آ گیا تھا، یاد نہیں
دل بھی اک ضرب بھول بھول گیا
سارے بندھن کڑے سہی، لیکن
تجھ سے یہ ربط، دھندلا اور گہرا
پھر کہیں دل کے برج پر کوئی عکس
فاصلوں کی فصیل سے ابھرا
پھول مرجھا نہ جائیں بجروں میں
مانجھیو! کوئی گیت ساحل کا
وقت کی سرحدیں سمٹ جاتیں
تیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا
عمر جلتی ہے، بخت جلووں کے
زیست مٹتی ہے، بھاگ مٹی کا
رہیں دردوں کی چوکیاں چوکس
پھول لوہے کی باڑ پر بھی کھلا
جو خود ان کے دلوں میں تھا تہہِ سنگ
وہ خزانہ کسی کسی کو ملا
لاکھ قدریں تھیں زندگانی کی
یہ محیط اک عجیب زاویہ تھا
سانس کی رو میں رونما طوفاں
تیغ کی دھار پر بہے دھارا
ہے جو یہ سر پہ گیان کی گٹھڑی
کھول کر بھی اسے کبھی دیکھا؟
روز جھکتا ہے کوئے دِل کی طرف
کاخِ صد بام کا کوئی زینہ
امجد، ان آنسوؤں کو آگ لگے
کتنا نرم اور گراں ہے یہ دریا
مجید امجد

صاحب کا فروٹ فارم

یہ دھوپ جس کا مہین آنچل

ہوا سے مس ہے ۔۔۔

رُتوں کا رس ہے!

تمام چاندی جو نرم مٹی نے پھوٹتے بور کی چٹکتی چنبیلیوں میں انڈیل دی ہے

تمام سونا جو پانیوں ٹہنیوں شگوفوں میں بہہ کے ان زرد سنگتروں سے ابل پڑا ہے

تمام دھرتی کا دھن جو بھیدوں کے بھیس میں دور دور تک سرد ڈالیوں پر بکھر گیا ہے

رُتوں کا رس ہے

رُتوں کے رس کو گداز کر لو

سبو میں بھر لو

یہ پتیوں پر جمے ہوئے زرد زرد شعلے، یہ شاخساروں پہ پیلے پیلے پھلوں کے گچھے

جو سبز صبحوں کی ضو میں پل کر، کڑی دوپہروں کی لو میں ڈھل کر

خنک شعاعوں کی اوس پی کر

رُتوں کے امرت سے اپنے نازک وجود کے آبگینے بھر کر

حدِ نظر تک بساطِ زر پر لہک رہے ہیں

شراب ان کی کشید کر لو

سبو میں بھر لو

سبو میں بھر لو یہ مدھ، یہ مدرا، کہ اس کی ہر بوند سال بھر سو صراحیوں میں دیے جلائے

یہی قرینہ ہے زندگی کا، اسی طرح سے، لہکتے قرنوں کے اس چمن میں، نہ جانے کب سے

ہزارہا پتتے سورج لنڈھا رہے ہیں وہ پگھلا تانبا، وہ دھوپ جس کا مہین آنچل

دِلوں سے مس ہے، وہ زہر جس میں دکھوں کا رس ہے

جو ہو سکے تو اس آگ سے بھر لو من کی چھاگل

کبھی کبھی ایک بوند اس کی کسی نوا میں دیا جلائے

تو وقت کی پینگ جھول جائے

مجید امجد

ایرپورٹ تے

میدان ہوائی جہازوں دے اساں وچ قطاراں ڈٹّھی

سو سو بتی بلدی، کائی رتّی تے کائی چٹّی

اُوڈے آون تے اُوڈے جاون کونجاں وانگ کھٹولے

جنھاں ڈٹھی ست اسماناں دی ہر گھجل تھاں ان ڈٹھی

لکھاں رنگ برنگے بھیساں وچ پئے پھردے ہسدے ٹولے

جنھاں ہسدیاں ہسدیاں تروڑ لئی ساڈے دل دی کھِڑدی سٹّی

تری رہ وچ پندھ پہاڑاں دے، ترے کھمبا ہیٹھ سمندر

اُڈدیے کونجے، لے چل ساڈی درد فراق دی چٹھی

جا آکھیں دور دے دیساں دے وسنیکاں نوں جا آکھیں

تسیں بدلاں دے وچ وسدے، اسیں مٹی دے وچ مٹی

مجید امجد

معاشرہ

ہر طرف رات کے اندھیروں کے

سرسراتے وجود سایوں کی طرح

دبے پاؤں رواں ہیں، کیا کیجے

جب ذرا بھی سسکتی روحوں کی

کوئی ناداں، نچنت انگڑائی

اپنا بوجھل لباس اتارتی ہے

سائے رکتے ہیں، سائے ہنستے ہیں

رات، خاموشیاں، دھڑکتے دل

صحن میں چارپائیوں کے گرد

ہمہ تن گوش، جاگتی دیوار۔۔۔

جھانکتا سر ۔۔۔ منڈیر پر گملا

دیکھتی آنکھ ۔۔۔ نیم وا روزن

جب ذرا بھی برہنہ سپنوں کی

کوئی رو پیرہن سنبھالتی ہے

ایک دھیمی سی چاپ، نیند کی نند

دو قدم بڑھ کے لوٹ جاتی ہے!

رات کے فرش پر قدم رکھتی

ساعتیں اپنے ساتھ لائی ہیں

کتنے ارمان، کتنی زنجیریں!

جب بھی جھونکوں کی گدگدی سے کسی

آرزو کی قبا مسکتی ہے

جب بھی پگھلے دلوں کے جوشن کا

بند کوئی ذرا چٹختا ہے

سایوں کے دیو، اپنے کالے مکٹ

ابروؤں کی شکن پہ سرکا کر

جاگتی کروٹوں کو گھورتے ہیں

مجید امجد

پامال

سورج نکلا، رنگ رچے

کرنوں کے قدموں کے تلے

سوکھی گھاس پہ کھلتے ہوئے

پیلے پیلے پھول ہنسے!

کرنوں کے چرنوں پر جب

اس مٹی نے رکھ دیے لب

مسلی گھاس پہ بچھ گئی، سب

ہنستی زندگیوں کی چھب!

اس مٹی کے ذرّے ہم

کیا کہیں اپنا قصۂ غم!

کیا کہیں ہم پر کیا بیتی

اندھے کھوٹے قدموں کی

ٹھوکر اپنی قسمت تھی

ٹھوکر کھائی، آنکھ کھلی

آنکھ کھلی تو بھید کھلا

وہ سب جن کے قدموں کا

ریلا ہم کو روند گیا

ان میں سورج کوئی نہ تھا

میری طرح اور تیری طرح

سب مٹی کے ذرّے تھے

مجید امجد

بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 39
اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا؟
رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
تم تھے کہ اک ستار بجاتا ستارا تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
دنیا کے اس بھنورسے جب ابھرے دکھوں کے بھید
اک اک اتھاہ بھید خود اپنا کنارا تھا
پھر لوٹ کر نہ آیا، زمانے گزر گئے
وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا
مجید امجد

بھادوں

گدلی گدلی جھیل ہوا کی جس کے خنک پاتال میں ہم

سانس روک کے ڈھونڈ رہے ہیں جیون کے انمول خزانے، گھائل خوشیاں، چنچل غم

سب کچھ ایک اداس تھکن کے بندھن، کیا ماضی کیا حال

ایک اتھاہ لگن کی کڑیاں، سبز درخت اور کالے کھمبے، ٹھنڈے کنج اور جلتے جال

سامنے دیکھیں تو لوہے کی باڑ کے پار افق سے پرے

سوکھے، سرد، سیاہ بنوں کی چھدری چھدری چھاؤں میں جھلکیں دھبے آتی صبحوں کے

بھورے بادل کی سلوٹ میں پیلے پیتل کی ڈوری

دکھتی جیوٹ رکتی جولاں دل کی کل میں ایک کمانی وقت کے چلتے پہیے کی

کیا کرے کوئی یہی بہت ہے جاگتی ٹیس اک درد بھری

مدھم بھونکے کا اکتارا، کھلتے گھونگھٹ آرزوؤں کے، بھیگی پلکیں سوچوں کی

سدا رہے یہ سماں سہانا، رت یہ سلگتی سانسوں کی

پھیلتی اگنی میں بل کھاتی گیلی دھرتی، دھندلا امبر، کھلتی کونپل بھادوں کی

مجید امجد

بول انمول

اب یہ مسافت کیسے طے ہو، اے دل، تو ہی بتا

کٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے، پھر بھی وہی صحرا

چیت آیا، چیتاؤنی بھیجی، اپنا وچن نبھا،

پت جھڑ آئی، پتر لکھے ۔۔۔ آ، جیون بیت چلا

خوشیوں کا مکھ چوم کے دیکھا، دنیا مان بھری

دکھ وہ سجن کٹھور کہ جس کو روح کرے سجدا

اپنا پیکر، اپنا سایہ، کالے کوس کٹھن

دوری کی جب سنگت ٹوٹی، کوئی قریب نہ تھا

شیشے کی دیوار زمانہ، آمنے سامنے ہم

نظروں سے نظروں کا بندھن، جسم سے جسم جدا

اپنے گرد اب اپنے آپ میں گھلتی سوچ بھلی

کس کے دوست اور کیسے دشمن! سب کو دیکھ لیا

راہیں دھڑکیں، شاخیں کڑکیں، اک اک ٹیس اٹل

کتنی تیز چلی ہے اب کے دھول بھری دکھنا

دکھڑے کہتے لاکھوں مکھڑے، کس کس کی سنیے

بولی تو اک اک کی ویسی، بانی سب کی جدا

مجید امجد

دوام

کڑکتے زلزلے امڈے، فلک کی چھت گری، جلتے نگر ڈولے

قیامت آ گئی سورج کی کالی ڈھال سے ٹکرا گئی دنیا

کہیں بجھتے ستاروں، راکھ ہوتی کائناتوں کے

رکے انبوہ میں کروٹ، دو سایوں کی

کہیں اس کھولتے لاوے میں بل کھاتے جہانوں کے

سیہ پشتے کے اوجھل، ادھ کھلی کھڑکی

کوئی دم توڑتی صدیوں کے گرتے چوکھٹے سے جھانکتا چہرہ

زمینوں آسمانوں کی دہکتی گرد میں لتھڑے خنک ہونٹوں سے یوں پیوست ہے اَب بھی

ابھی جیسے سحر بستی پہ جیتی دھوپ کی مایا انڈیلے گی

گلی جاگے گی، آنگن ہمہمائیں گے

کوئی نیندوں لدی پلکوں کے سنگ اٹھ کر

کہے گا ۔۔۔’’رات کتنی تیز تھی آندھی! ‘‘

مجید امجد

کیا دن تھے، جب خیالِ تمنا لباس تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 35
چہرہ اداس اداس تھا، میلا لباس تھا
کیا دن تھے، جب خیالِ تمنا لباس تھا
عریاں، زمانہ گیر، شررگوں جبلتیں
کچھ تھا تو ایک برگ دِل ان کا لباس تھا
اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے، کون تھا؟
سنبھلی ہوئی نگاہ تھی، سادہ لباس تھا
یادوں کے دھندلے دیس! کھلی چاندنی میں رات
تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا؟
ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح
بےپیرہن تھی، جسم سراپا لباس تھا
صدیوں کے گھاٹ پر، بھرے میلوں کی بھیڑ میں
اے دردِ شادماں، ترا کیا کیا لباس تھا
دیکھا تو دل کے سامنے، سایوں کے جشن میں
ہر عکسِ آرزو کا انوکھا لباس تھا
امجد، قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا
ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا
مجید امجد

صبح کے اجالے میں

تو نے، ہم سفر، دیکھا

صبح کے اجالے میں

راہ کا سہاناپن!

دائیں بائیں، دورویہ

شادماں درختوں کی

جھومتی قطاریں ہیں

ہر قدم کے وقفے پر

دھوپ کی خلیجیں ہیں

چھاؤں کے جزیرے ہیں

جس طرف کو سورج ہے

اس طرف درختوں کی

شبنمیں جبینوں پر

تیرگی کا پرتو ہے!

تیرگی کے پرتو کا

رخ ہماری جانب ہے

جس طرف کو سورج ہے

اس کی دوسری جانب

سربلند پیڑوں کی

شبنمیں جبینوں پر

روشنی کے پرتو کا

رخ ہماری جانب ہے

تو نے، ہم سفر، دیکھا

دھوپ ہے کہ سایا ہے

رہرووں کی مایا ہے

دور دور تک — رستا

دور دور تک — دنیا

دور دور تک — سب کچھ

اک عجب سہاناپن —

صبح کے اجالے میں

مجید امجد

بہار

ہر بار، اسی طرح سے دنیا

سونے کی ڈلی سے ڈھالتی ہے

سرسوں کی کلی کی زرد مورت

تھاما ہے جسے خمِ ہوا نے

ہر بار، اسی طرح سے شاخیں

کھلتی ہوئی کونپلیں اٹھائے

رستوں کے سلاخچوں سے لگ کر

کیا سوچتی ہیں؟ یہ کون جانے

ہر بار، اسی طرح سے بوندیں

رنگوں بھری بدلیوں سے چھن کر

آتی ہیں مسافتوں پہ پھیلے

تانبے کے ورق کو ٹھنٹھنانے

ہر سال، اسی طرح کا موسم

ہر بار، یہی مہکتی دوری

ہر صبح، یہی کٹھور آنسو

رونے کے کب آئیں گے زمانے

مجید امجد

متروکہ مکان

یہ محلّے، یہ گھروندے، یہ جھروکے، یہ مکاں

ہم سے پہلے بھی یہاں

بس رہے تھے سکھ بھرے آنگن، سنہری بستیاں

جانے والے گھر کی چاہت سے تہی پہلو نہ تھے

اتنے بےقابو نہ تھے

روکتا کون؟ اس جھکی محراب کے بازو نہ تھے

اک اٹل ہونی کی زنجیروں میں جکڑے قافلے

ساتھ لے جاتے اسے

بات صرف اتنی کہ اس دیوار کے پاؤں نہ تھے

اب وہ روحیں گونجتے جھکڑ میں گھلتی سسکیاں

ان کے مسکن یہ مکاں

منہدم ادوارکے ملبے پہ جلتی ارتھیاں

راکھ ہوتی ہڈیوں کے گرم گارے میں گندھی

گرتے اشکوں میں ڈھلی

اب یہی اینٹیں ہماری عظمتِ افتادگی

پڑ گئے اینٹوں کے مڑتے زاویوں کے بس میں ہم

بھول کے سب اپنے غم اس دامِ خشت و خس میں ہم

بھڑ گئے آپس میں ہم

یہ محلّے، یہ منڈیریں، یہ محل، یہ منڈلیاں

کون دیکھے اَب یہاں

کھنچ گئی ہیں کتنی دیواریں دلوں کے درمیاں

بھر لیے ہم نے ان ایوانوں میں تھے جتنے شگاف

کون دیکھے آسماں کی چھت میں ہیں کتنے شگاف

مجید امجد

ہیولیٰ

برگ و بر پر، بام و در پر، برف— برف —

ایک نگری، برف — برف —

زرد سورج، سیم گوں میداں، رُپہلی سیڑھیاں

سیڑھیوں کی موج اندرموج ڈھلوانوں پہ چہرے — چتر — چتر —

سیڑھیوں پر سو قمر قوس آئینوں کی اوٹ — اوٹ —

منتظر نظروں کی دنیا عکس — عکس —

کتنے رنگوں سے جو زیبِ دامنِ احساس تھے

بھر گئے تھے گل بداماں راستے

جانے کس کے واسطے—

ساز جاگے، پھول برسے، اِک نوا

اک صدا، جیسے سلگتی چاہتوں کے دیس سے آتی صدا

اک صدا، جیسے زمانوں کے اندھیروں میں صدا دیتی وفاؤں کی صدا

(اک صدا، جیسے مرے دل کی صدا!)

لے تھمی اور نغمہ گر کا پیکرِ بےجاں گرا

سیڑھیوں سے آسماں کی ٹوٹتی محراب تک

بکھرے پھولوں کی چٹختی پنکھڑیوں پر تیز قدموں کی دھمک

آہٹوں کے اس بھنور میں اک جھجکتی چاپ کی دھیمی جھنک

(میرے دِل کی دھڑکنوں کو روندنے والی کسک)

رات، بجھتی شمع، نیندوں کا غبار

برف کی زنجیر میں جکڑے ہوئے جھونکوں کی بزم

میں کہاں تھا کچھ بتا، اے دل کی لو پر ناچتی ناگفتہ نظم!

مجید امجد

تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 30
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی
روحوں میں جلتی آگ، خیالوں میں کھلتے پھول
ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی
جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دوچار
منہ پھیر کر تبسمِ دل پر نگاہ کی
باگیں کھنچیں، مسافتیں کڑکیں، فرس رکے
ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی
دونوں کا ربط ہے تری موجِ خرام سے
لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی
مجید امجد

سنگت

شیشم کی اک شاخ پر

کھیلے سکھ کے کھیل

کھلتی، بڑھتی، رینگتی

چمپا کی اک بیل

جس کی نازک ڈور سے

جھم جھم لہرائیں

لچّھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچّھے پھولوں کے!

اک شاداب درخت پر

یہ شاداب کمند!

جسموں کی سنجوگتا

روحوں کا سمبند

میرے من میں تیر گئیں

جیون کی پرچھائیں

لچھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچھے پھولوں کے

مورکھ کیا ہے زندگی؟

سنگت کا سنگیت

دکھ کی چڑھتی پینگ میں

ہنستے دلوں کی ریت!

گھنی گھنیری ڈال پر

سندر روپ لتائیں

لچھے پھولوں کے!

اچھے اچھے پھولوں کے

لچھے پھولوں کے!

مجید امجد

صدا بھی مرگِ صدا

نہ کوئی سقفِ منقّش، نہ کوئی چترِ حریر

نہ کوئی چادرِ گل اور نہ کوئی سایۂ تاک

بس ایک تودۂ خاک

بس ایک ٹھیکریوں سے ڈھکی ہوئی ڈھلوان

بس ایک اندھے گڑھے میں ہجومِ کرمکِ کور

بس ایک قبۂ گور

نہ کوئی لوحِ مسطر، نہ کوئی خشتِ نشاں

یہی پہ دفن ہے وہ صاحبِ سخن کہ جسے

نظامِ دنیا نے

ہزار مرتبہ عرضِ نوا کی دعوت دی

مگر وہ اپنی فصیلِ خیال میں محصور

رہِ زمانہ سے دور

خروشِ برقِ سرِ نیستاں سے بےپروا

سکوتِ سینۂ یک چوبِ نَے میں ڈوب گیا

صدا بھی مرگِ صدا!

یہیں پہ دفن ہے وہ روح جس کی دھیمی آگ

کبھی جو ڈھل بھی سکی تو ڈھلی بہ قالبِ حرف

پہن کے جامۂ برف

ضمیرِ ارض پہ کھینچی گئی لہو کی لکیر

اور اس کا ایک بھی چھینٹا نہیں سرِ قرطاس

بہ مصحفِ احساس!

ستم کی تیغ چلی، گردنوں کی فصل کٹی

اور اس تمام فسانے کی اک بھی سطرِ حزیں

زبورِ غم میں نہیں!

پکارتی رہیں پیہم کراہتی صدیاں

اور ایک گونج بھی ان کی نہیں صدا انداز

بہ گنبدِ الفاظ

پہاڑ لرزے، ستاروں کی بستیاں ڈولیں

اُلٹ سکی نہ مگر رخ سے پردۂ افسوں

روایتِ مضموں!

یہیں پہ دفن ہے وہ جسم، وہ روایتِ خاک

وہ دل کہ جس کے دھڑکتے ہوئے بیانِ الم

کو چھو سکا نہ قلم!

یہیں پہ گلتی ہوئی ہڈیوں کے ڈھیر میں اب

دبے پڑے ہیں وہ لمحے جو رزقِ سم نہ بنے

نوائے غم نہ بنے!

یہیں پہ ریزۂ سل بن کے جم گئے ہیں وہ ہات

جو اشکبار زمانوں کی موجِ رقصاں سے

شرار چن نہ سکے!

کرید کر کوئی اس راکھ کو اگر دیکھے

تو آج ایک رگِ سنگ ہے وہ نبضِ تپاں

وہ جوئے خونِ رواں

وہ زندگی کے تلاطم میں ڈوبتی ہوئی آگ

صریرِ خامہ کی تقدیس بیچتا ہوا فن

تمام گردِ کفن!

یہ کِرم خوردہ اساطیر کا بلند الوند

یہ سب درست، مگر پھر بھی اک سوال ہے آج

جواب کا محتاج

کوئی بتائے کہ اس وقت کیا کرے انساں

جب آسمان کی آنکھوں سے روشنی چھینیں

ستم کی سنگینیں

یہی سوال اب اس قبر کے اندھیروں میں

ہزار رینگتے کیڑوں کی سرسراہٹ ہے

اجل کی آہٹ ہے

یہ قبر طنز ہے ان لازوال ارادوں پر

نگل گئے جنھیں ظلمت کے خشمگیں عفریت

مقدروں پہ محیط!

مقدروں کے دھوئیں سے ابھرتے رہگیرو

نشان اس کا مٹاتے چلو زدِ پا سے!

جبینِ دنیا سے!

مجید امجد

نظم

دکھ کا ہر بہروپ انوکھا

ہر الجھن کا روپ انوکھا

غم کو جب اس دھرتی پر پرکھا

اک پل دھوپ اور اک پل برکھا

دردوں کے بندھن میں تڑپیں

لاکھوں جسم اور لاکھوں روحیں

میں جس آگ سے کلیاں چھانوں

میرا قصہ ہے، میں جانوں

شام ہوئی ہے، سوچ رہا ہوں

تو سورج ہے، میں دنیا ہوں

لوٹ کے آنا تیرے بس میں

تجھ کو پانا تیرے بس میں

سایوں کی اک اک کروٹ پر

زنجیروں میں ڈوب گیا ہوں

دل میں چند شرارے لے کر

اپنی راکھ سے کھیل رہا ہوں

مجید امجد

سفرِ درد

سطحِ سحر، سفینۂ غم، جوئے لالہ گوں

کنجاہ کی گلی کا سکوتِ اجل سکوں

قاتل کا وار، سینۂ صدلخت، موجِ خوں

اک صاحبِ قلم پہ جو گزری، میں کیا کہوں

نوک اس کے دل کو چیر گئی جس کٹار کی

اس پر گرفت تھی ستمِ روزگار کی

اک ہاتھ بڑھ کے شانۂ دیوار پر رکھا

وہ زد، وہ چند ڈولتے قدموں کا فاصلہ

اک گام، اور جادۂ دوراں سمٹ گیا

اک سانس، اور سب سفرِ درد طے ہوا

اک آخری تڑپ جسدِ لرزہ گیر کی

مٹی پہ ایک قوس لہو کی لکیر کی

اک زندگی کراہتے لمحوں میں ڈھل گئی

اک شمع موجِ اشک پہ بجھ بجھ کے جل گئی

اک بےگنہ پہ ظلم کی شمشیر چل گئی

خونی اَنی پہ ایک جوانی مچل گئی

ہے بھی یہاں غریب کی ہستی کا کوئی مول؟

میں پوچھتا ہوں، مدعیِ عدل، کچھ تو بول

مجید امجد

سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر

مجید امجد ۔ غزل نمبر 25
گہرے سُروں میں عرضِ نوائے حیات کر
سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر
یہ دوریوں کا سیلِ رواں، برگِ نامہ بھیج
یہ فاصلوں کے بندِ گراں، کوئی بات کر
تیرا دیار، رات، مری بانسری کی لے
اس خوابِ دل نشیں کو مری کائنات کر
میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دے
ان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر
آ، ایک دن، میرے دلِ ویراں میں بیٹھ کر
اس دشت کے سکوتِ سخن جُو سے بات کر
امجد نشاطِ زیست اسی کشمکش میں ہے
مرنے کا قصد، جینے کا عزم، ایک سات کر!
مجید امجد

عیدالاضحیٰ

ہزار جشنِ مسرت ترے گلستاں میں

ہزار رنگِ طرب تیرے روئے خنداں پر

جھکی ہے شوکتِ کونین تیرے قدموں میں

پڑا ہے سایہ ترا اوجِ سربلنداں پر

تری حیات کا مسلک، ترے عمل کا طریق

اساس اس کی ہے کیشِ وفا پسنداں پر

تجھے عزیز تو ہے سنتِ براہیمی

تری چھری تو ہے حلقومِ گوسفنداں پر

مگر کبھی تجھے اس بات کا خیال آیا؟

تری نگاہ نہیں دردِ دردمنداں پر

مجید امجد

توسیعِ شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرےدار

گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار

بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم

قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم

گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار

کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار

سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ، لہکتی ڈال

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک، اے آدم کی آل

مجید امجد

سایوں کا سندیس

بھیگی بھیگی، نتھری نتھری روشنیوں کا دن

رستے رستے پر بےبرگ درختوں کے سائے

دھوپ کے پیلے آنچل پر مٹیالے گل بوٹے

دنیا ان کو روند گئی، یہ خاکے مٹ نہ سکے!

میٹھی میٹھی ٹھنڈک، نکھرا نکھرا دن اور میں

بھیگے رستوں سے یہ سائے چننے آیا ہوں

میرے من میں ہیں جو جھمیلے، ان سے کیوں الجھوں

اپنی جھولی آج ان مسلے پھولوں سے بھر لوں

شیتل شیتل دھوپ میں بہتے سایوں کا یہ کھیل

اِک ڈالی کی ڈولتی چھایا، لاکھ اَمِٹ ارمان

تھرتھر کانپیں سوکھے پتے، جھم جھم جھمکیں دھیان

یہی بہت ہے پت جھڑ کی اس سہمی رُت کا دان

مجید امجد

آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 21
اپنے د ل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پہ ڈھو گئے کیا کیا لوگ
سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ
بج گئی کیا کیا بانسری، رو گئے کیا کیا لوگ
میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار
صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ
گٹھڑی کالی رین کی سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ
میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول
سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ
مجید امجد

کیلنڈر کی تصویر

اچانک جو ہوٹل کی دیوار کے

اک اونچے دریچے میں لٹکی ہوئی

شبیہِ حسیں پر نظر جا رکی

پیالی مرے ہاتھ سے گر پڑی

کہا دل سے میں نے

کہ اے خوش خرو!

نگاریں ہے جس سے ترے غم کا ظرف

وہ خطِ جبیں

وہ خالِ مبیں

نہیں — یہ نہیں

زباں پر نہ لا نامِ شیریں کے حرف

کہاں تیرے شعلے، کہاں شہرِ برف!

میں اس سوچ میں تھا کہ دیوارِ دل

پر اک عکس ابھرا مرے روبرو

وہی وضعِ رُو

وہی قطعِ مو

خراباتِ ایام میں چار سو

کھنکنے لگے طاقچوں پر سبو

مجید امجد

نگاہِ بازگشت

آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعتِ دید

آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو

میری ان تشنہ نگاہوں کی صدا

کوئی بھی سن نہ سکا

صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا

جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی

صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا

مجھے تو نے، تجھے میں نے دیکھا

آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ساعتِ دید!

کیا خبر، پھر تو پلٹ کر مری جانب کبھی دیکھے کہ نہ دیکھے، لیکن

ایک عمر اب میں یونہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے

مجید امجد