زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
مجھے بیدار طالع قبر میں سونے کہاں دے گا
تجھے میں آنکھ کے دربند کر کے دیکھوں گا
سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا
ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا
بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا
قریہ ء جاں میں اچانک ایک آہٹ سے ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا
پھول اترا شاخ پراور مجھ پہ غم نازل ہوا
وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا
اس پرلکھا تھا نام بھی چرچل کا کیا ہوا
اک پہلوان رِنگ سے باہر پڑا ہوا
ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا
ہوتا تھا آسماں کا کوئی در بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا
یہ کون ہیں کہ رکا ہے طواف ہوتا ہوا
گماں یقین کی ساعت سے سرفراز ہوا
یہ مرا دیس مصیبت زدہ کاشانہ ہوا
وہی فانوس مری صبح کی قندیل ہوا
سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا
برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا
دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا
میں سنگ صفت تو نہیں رویا اسے کہنا
جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا
یہی زندگی ہے اپنی، یونہی آنسوئوں میں رہنا
قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا
میں آؤں گا پلٹ کر، میرایقین رکھنا
تم نے میری طرف نہیں ہونا
عکس میں متصف نہیں ہونا
مگر کچھ اس کے مسائل کا بھی پتہ کرنا
ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا
پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا
ورنہ ہر زخم نصیبِ سر مژگاں نکلا
ایک جیسا کر دے مولا
مجھے سوال کا کیسا حسیں جواب ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا
عمر بھرپھڑپھڑاتے بدن کے قفس میں تڑپنا ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا
میں نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا
اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا
قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا
ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا
اک نئی کائنات سے گزرا
روح کے اختلاط سے گزرا
خواب میں بھی ہراس سے گزرا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا
میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا
مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا
میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا
اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ
چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ
آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے
اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں
چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں
سن رہا ہوں شب کی تیرہ ساعتوں کی سسکیاں
ہے علم مجھے میں کون
کیا جانے کس اور گئے ہیں خوابوں کے مہمان
چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال
احتیاط و احتیاط
اے حادثاتِ وقت کے خالق گزار خیر
آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار
پانیوں پر گر رہا تھا گھنٹیوں کا آبشار
دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار
پانیوں کے جسم پر تھا یخ ہوا کا نرم ہات
میں خدا اور کائنات
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا
شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا
دُھوپ اور دُھند
جیسے میں کوئی ساز ہوں جس کے تاروں کو
آتے لمحے اپنی اپنی
آسودہ یا ناآسودہ کیفیت میں
چھیڑیں اور گزر جائیں
یوں لگتا ہے
جیسے میں اپنے اِس گھور اکیلے پن میں
پیاس ہی پیاس کی بے آواز صدا سے لے کر
شوخ سُروں کے ہولی کھیلتے رنگوں تک
ایک رواں میلے کی اُڑتی دھول میں چلتا رہتا ہوں
(٢)
پی اور پی کر
یادجگا اُن نانوشیدہ گھونٹوں کی
جن کی چھوڑی ریت پہ تو محرومی کی فرماوش پر
آنسو اور لہو کے نم سے
شعر اُگاتا رہتا ہے
(٣)
کیا خواری اور کیا خودداری
دانے کی پستی سے لے کر اوجِ پرِ شہبازاں تک
طائر کو اڑتے رہنا ہے حدِ سفر کے امکاں تک
میں بی کیا ہوں،
جینا چاہوں تو جینے کے بدلے میں
سوچوں، رسموں اور وسیلوں پر فائز
مختاروں کی
سب شرطیں تسلیم کروں
(٤)
دیکھو جاناں!
دُور بگولا اڑتا ہے پیلی سہ پہر کے آنگن میں
گُم کردہ رونق کا ہلکا سایہ سا
جاتا لمحہ ڈالے آتے لمحے پرآؤ نا گلگشت پہ جائیں اِس مہلت کے رستے پر
جس میں سپنا پڑتا ہے
نیم فراموشی کی میچی آنکھوں سے
دیکھیں اور نہ دیکھیں دھوپ کے گالوں پر
چھینٹے سے مسکانوں کے
دیکھیں اور نہ دیکھیں، گہرے سبزے سے
چُنے ہیں جو طائر نے سوکھے خاروحس کاشانوں کے
(٥)
غیب کا کوئی چشمہ جیسے
جسم کے اندر بہتا ہے
جس کے گھٹنے بڑھنے میں من کی دھرتی کا
رنگ بدلتا رہتا ہے
جوہڑ سے ساگر تک کتنے روپوں میں
جو گن دھوپ تماشے کی
اِس بستی میں گیتوں کی مالائیں پہنے
زُلفیں کھولے، بڑی بڑی سی آنکھوں سے
ذرّے کے گھمبیر خلا میں جانے کیا کیا تکتی ہے
چشمے سے سیراب زمیں کو شاید پیاسا تکتی ہے
(٦)
ناسنجیدہ
بے احساس زمانے کے
جور سے بچنے کی خآطر
ااک فرار ضروری تھا
سو اُس نے آنکھیں پلٹا کر
اندر کے گلشن کی لمبی سیریں کیں
باہر کے نیلے رقبے میں چوبِ دشتِ تصّور سے
بے در، بے دیوار مکاں تعمیر کئے
اُس آوارہ گرد نے یوں تو
چاہا تھا تریاق ملے
جسم کے اندر پھیلے زہرِ اذّیت کا
قسمت دیکھیں، اس کو غم کے بدلے میں آفاق ملے
(٧)
سرما کے ننگے نگے پہناوے میں
جھُنڈ کھرے ہیں پیڑوں کے
جن کے پیچھے امبر کا بن نیلے پن میں پھیلا ہے
جانے یہ آہٹ سی کیا ہے
وقت میں وقت سے باہر کی
گہری چپ کے ٹھہراؤ میں
گونج کے اندر گونج کا محشر اٹھتا ہے
جیسے کوئی ناقہ سوارِ دشتِ سُوس بپا کر دے
امڈی دھوپ کے صحرا میں
شور اکیلے سائے کا
جیسے کوئی سانس بچائے بیٹھا ہو
بوڑھ کے نیچے ساکت سا
اندھیارے کی دھوھل اڑاتی
روشنیوں کی آندھی میں
(٨)
کیسے کھوئے کھوئے سے تم رہتے ہو
ناموجود کی دنیا میں
دیکھو! اِن آتی جاتی باراتوں کو
جن کے آگے آگے ست رنگے سہرے میں
آج کا دولہا چلتا ہے
جس پر وقت نچھاور کرتا جاتا ہے
چھن چھن گرتی نذریں رنج و راحت کی
اور جنہیں بچے موجود کی نگری کے
لُوٹ رہے ہیں روز کی افراتفری میں
(٩)
ہم تو مست ملنگ ہیں اپنے ساویں کے
جو کوئی بھی ہرا تکونا جھنڈالے کر
اِسے رستے سے گزرے گا
پیچھے پیچھے ہو لیں گے
اور اُڑا کر سر میں دھول دھمالوں کی
اپنی راہ ٹٹولیں گے
دل دربار کی چوکھٹ تک
(١٠)
ناں سائیں!
یہ مجھ سے نہ دیکھا جائے
منظر
خاک پہ گتے اور تڑپتے دست بریدہ کا
منظر
سنگ زنی سے پارہ پارہ ہوتے ننگے جسموں کا
میں کہ ارادے کو بے رشتہ کر نہ سکوں
اپنے عصر کے جذبوں سے
میرے حق میں دعا کرنا
میری لوحِ مقدر پر تو لکھی ہے
بخشش آدھے سجدے کی
اور بدلہ آدھی دوزخ کا
(١١)
میں اپنے اندر کے سچ کو
کند بنا کر اس کی دھار پہ دھیمی انگلی رکھتا ہوں
میں اپنی سچائی کو
قند بنا کر چکھتا ہوں
اُس کے سچے چہرے کو جھٹلا دیتا ہوں
پردے کی تہہ داری سے
میری جان کی روشنیوں میں زور ہی شاید اتنا ہے
دھندلی یا دھندلائی آنکھیں
میری یہ آبائی آنکھیں
نسلوں سے مامور ہیں مجھ کو پیہم زندہ رکھنے پر
(١٢)
جب سہ پہریں۔۔۔۔ پل پل اُڑتی کچی دھوپ کے پیراہن میں
رونق سے خالی جگہوں پر
جُھک کر اپنے میلے ہاتھوں سے
ردی کاغذ کے ٹکڑے اور سوکھے پتے چن چن کر
شانوں سے لٹکے جھولوں میں بھرتی ہیں
جب سڑکوں پر دھوپ کے چھوٹے چھوٹے گرم بگولوں میں
آنکھیں تنکا تنکا سی ہو جاتی ہے
اور منڈیروں سے آہستہ آہستہ
ایک اداسی شام کے کاسنی رنگوں میں
آہٹ آہٹ نیچے آنے لگتی ہے
جانے کیوں اس وقت گنواوے دن کے اوجھل ہونے کگا
جان کی گہری تہہ میں شور سا اٹھتا ہے
جیسے کوئی دھم سے گر کر پانی میں
ریزہ ریزہ کر دے اپنے سائے کو
(١٣)
میں نے اپنے گردوپیش میں۔۔۔۔
جو کچھ ہوتے دیکھا وہ مصنوعی تھا
اس سے سمجھوتہ کر لینا ایسے تھا جیسے کوئی
دنیا کے بازار میں جا کر
صدیوں کے دکھ کی میراث کو بیچ آئے
سودا کافی مہنگاتھا
سو میں نے جلوت میں رہنا چھوڑ دیا
اب میری اس خلوت میں
مجھ کو یاروں کے بھیجے گلدستے ملتے رہتے ہیں
جن سے اک متناسب خوشبو
سچ اور دنیاداری کی
اُڑ کر مجھ کو
گاہے اِترانے پر، گاہے خود سے رحم جتانے پر
اُکساتی ہے
(١٤)
دن کے زینے سے میں شب کی چھت پر روز اُترتا ہوں
جس کے لیپ میں تنکا تنکا
بکھراؤ سا چھوڑ گئی ہے چاندنی گزے برسوں کی
جس پر سیل جدائی کا
انت منڈیروں پر سے لے کر محرابِ افق تک
ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے
میں بے غفلت غافل سا رہنے والا
اپنی بینائی سے آگے کچھ بھی دیکھ نہیں سکتا
کیسے اِن میرے اوسان پہ ظاہر ہو
کیا ہوتا ہے
روز و شب کے آٹھ پہر سے باہر کے
سناٹے میں
گُمان کا رومان
نہیں! تم اپنے آنسو کو چھپا رکھو
اِسی سے چھِن کے سارے فاصلے،
سب روشنی، پوری ہوا شفاف ہوتی ہے
تناظر ہے ابد آباد کا جس میں
اُجالے کے مصور نے صلیب و دار و نہرِ خشک کا منظر بنایا ہے
زپاتا، چی گویرا اور ماؤ
ہار کر ہارے نہیں ہیں،
یہ پون چکتی پےہ دھاوا بولنے والے
سدا آتے رہیں گے
کیا کیا جائے یہ مشکیزہ پرانا جب سیا جائے
تو بخیوں سے ٹپکتا ہے
خرابی کارِ سوزن کی ہے
یا پھر چرخ پر کاتی ہوئی کرنوں کے دھاگے کی!
کہا جاتا ہے نابینا مغنی کو بشارت ہے
کلا کی روشنی مل جائے گی لیکن
زدِ مضراب سے اُس کو
ہزاروں تار سارنگی کے پہلے توڑنے ہوں گے
الوداع، اے داشتہ!
نکسیر، نیل، چاک گریبان و آستین
کچھ اور (کٹ)
بھنور سابنے رخ پہ کرب کا
لب بستہ چیخ اور ذرا (کٹ) بلند ہو
دہشت سے جیسے آئینہ (کٹ) ٹوٹ کر گرے
اندر کے فرش پر
رشتوں کے مسخ عکس (بہت خوب اس طرح)
تعمیلِ حکم جبر ہو اور ٹھیکرا سی آنکھ
اس سے کہے کہ کون ہو تم، میں تمہیں پہچانتا نہیں
انکار تین بار
بازارِ دشمنان کی شئۓ زر خرید سے
کیا واسطہ مرا
(اقرار پھڑ پھڑائے، پھٹے حرف و لب کے ساتھ)
اور یہ زنِ غلیظ!
عورت مری! نہیں نہیں، تھی داشتہ مری
فوکس۔۔۔۔ کچھ اور، اور صداقت کا ا یک رُخ
کیسا مہیب ہے
دے اے خدا پناہ خدایانِ خاک سے
زندگی جیسی ایک لڑکی
نظر کے بدلتے ہوئے پینترے سے
فنا کر کے
دیتی ہے خیرات بھی پھر سے جینے کی
آدھی شکن کے تبسم سے اک جرعہءِوہم پینے کی
میں اک ستارہ اشارے کے رُخ
اور محراب وعدے کی قبلہ نمائی میں
اس کی طرف منہ کئے
بے نیازی کے معبود کے روبرو ہوں
تمنا کے سو بار ٹوٹے ہوئے تار میں
حرف حرف آیتوں کو پروتے ہوئے
سجدہ جُو ہوں
کہانی ایک پیڑ کی
دیکھ یہ البم ذرا
بیس برس پیشتر، باغ کے اُس پیڑ پر
آئے تھے تجھ کو کبھی اتنے پرندے نظر!
رامشِ صد رنگ کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے
اور تجھے یاد ہے!
کتنے مہ و سال تک
جو نہ فروزاں ہوئے ایسے بُجھے چہچہے
روز کفِ شاخ سے
آ کے اُڑاتی رہی بادِ گماں دُور کی
وہ تھے یہاں حکم کی فرمانروائی کے دن
گنتی رہیں تتلیاں گُل سے جدائی کے دن
نغمہِ بے ساختہ گاتی رہیں ہجرتیں
دینا گواہی ذرا
کتنے برس پیڑ نے دیکھے پرندوں کے خواب
دینا گواہی ذرا
قوس نما آنکھ میں کیسے معلق رہی
ایک جھپٹ خوف کی
اور لبِ برگ سے اُڑتی رہی چار سو
لفظِ مکرّر کی بُو
ہوتی رہی شاخ پر تیرے میرے رُوبرو
ایک ہی سرتال میں جھینگروں کی گفتگو
مرگِ یک خواب
وہ بڑا شہر، اتنا بڑا شہر کیوں دیکھتے دیکھتے
منہدم ہو گیا ہے
اور ٹکڑوں میں بے ضرب ہی منقسم ہو گیا
ایک اتنا بڑا خواب آدرش کے عرش سے
گر گیا، اب چنو کرچیاں فرش سے
سائیکی! غالباً ترکِ معمول کے تجربے
ناپ، پیمائشیں، ضابطے اور پابندیاں
تجھ کو بھاتی نہیں
دیکھ! تیرے سخی نام پر
نائیکہ خوش ہے خواجہ سراشاہ کا
قاف کی اس پری کو بٹھا کر لموزین میں لے گیا
اور وہ کس قدر شاد ہے چڑمڑائی ہوئی سی
شکن در شکن
شب کے باسی گلابوں کے بستر سے اٹھتے ہوئے
حسن زرخیز ایسا ہوا
گونگ لی کے تبسم کی لاکھوں میں بولی لگی
سائیکی! تو یہ چاہے ہمیشہ سے جو ہو رہاہے
اسی طور ہوتا رہے
نفس کے آستانوں پہ بیٹھی ہوئی عادتیں، غفلتیں
اور خوش فہمیاں
دھوپ کی اونگھ سے اُون بنتی رہیں
سائیکی! اِس طلب اور رسد، اِس اناؤں کی
نیلام گاہوں کے بازار میں
تو سدا سے رواں، نیم عریاں خراماں خراماں رواں
تجھ سے راجا بھی خوش اور پرجا بھی خوش
اپنی اپنی دکانوں مکانوں میں آنند سے
صبر کی تنکا تنکا چٹائی پہ بیٹھی ہوئی مفلسی
مطمئن ہے کہ شاید کسی شب
ستاروں کی لپٹی ہوئی پرچیوں سے نکل آئے
نادار کے اِسم بے اِسم کی لاٹری
تجھ کو اچھا لگے دیکھنا
اِن ذرا سی اناؤں کی امواج سے
جھاگ اڑتی ہوئی (بیوقوفانہ سی روز کی نرگسےت کی آویزشیں)
اور ہر موج غصے میں ساحل سے مُڑتی ہوئی
تجھ کو اچھا لگے
اپنی آوارگی کے پرانے سبو سے
ذرا ہوش میں آنے والوں میں، بے راہ کرتی ہوئی
مستیاں باٹنا
سرحدیں کھینچنا، بستیاں بانٹنا
سائکی! عام گلیوں کے کچے اندھیرے سے اٹھتے ہوئے
اور پھٹتے ہوئے بلبلے، تو نے دیکھے تو ہیں
کوئی ہم جنس کسبی میاماریا
گندگی کے بڑے ڈھیر سے کوئی ردی اُٹھاتا ہوا اور گاتا ہوا واسکو
کوئی پنجر سے چپکے ہوئے چلبلے ہاتھ سے
پرس، جیبیں، دکانوں کی اشیا اُڑاتا ہوا ویریا
کوئی خود سے خفا راڈ ریگے لہو کی دبی چیخ پر شاد ہوتا ہوا
اور ہر شب بگوٹا کے جاروب کش
پھینک آتے ہیں اِن فالتو اور فاضل تہی ماچسوں کو
غلاظت میں بدلی ہوئی شرم کے ڈھیر پر
کرگس و زاغ کے ڈائننگ ہال میں
اور وہاں پر
سراےےگو، صومالیہ اور فلسطین اپنے لہو میں نہائے ہوئے
مذہب و نسل و تاریخ و جغرافیہ کی کرامات پر دنگ ہیں
بے زمیں اور بے آسماں
صیدِ سوداگراں
یہ رعایا جسے نسل در نسل شاہوں کی تحویل میں
چابکوں، منتروں اور دانائیوں کے خریدہ وسےلے سے
ہانکا گیا
وقت انصاف کرتا تو دیتا اِسے مہلتیں
قصر و اہرام وہیکل اٹھا کر سدا چلتے رہنے کی
بے جرم پاداش سے
وقت انصاف کرتا تو اپنے سخی ہاتھ سے
رسّیوں کی طرح اِن بٹے بازوؤں کی گرہیں کھول کر
اِن سے کہتا کہ لے جاؤ ساری زمیں
ہے تمہاری زمیں
اور اگلے زوالوں کے پنڈال میں
کر رہا ہے مداری تماشا گری
سائیکی! تیرے البم میں آئیں نظربستیاں
ناف تک زرد لاوے میں ڈوبی ہوئی
جنس و زر کی وبا۔۔۔۔
ماس کے دُور اندر جنینوں میں اُتری ہوئی موت کی سونڈیاں
سائیکی! پر تجھے کیا
کہ یہ رقصِ بسمل بھری بستیوں میں ہمیشہ سے تُو
دیکھتی ہی چلی آرہی ہے
پابند شہر کی تین آوارہ لڑکیاں
چلو ہو جائیں کچھ باتیں
اسائیڈ’ تخلیے یا خود کلامی میں
زلیخا’ نائے لویاؤ’ میا میرا
تمہارے ہونٹ کیسے ارغوانی ہیں
مگر سانسوں سے کیسی باس آئے بے خیالی کی
بہت نامطمئن ہو کیا؟
کمانوں پر انا کی تانت ڈھیلی پڑ گئی ہے
انگلیوں میں انگلیاں باندھے
میں اپنے جسم کی گٹھڑی کے میلے پاپ کو گرنے نہیں دیتی
مجھے یہ فاختائی رنگ کا انڈرو یر اچھا نہیں لگتا
مجھے تو نیم عرےانی کی باتیں
گالیاں اور چُست پہناوے
مساموں میں ذرا سی گدگدی کرتے ہوئے’ کولون کی خوشبو
لبوں کی قرمزی رنگت
بدن کے صرف ہو جانے کی راتوں کا تصور اچھا لگتا ہے
مگر یہ حکم کے دربار والے بھی قیامت ہیں
ہوا سے کیا خبر کس روز استعفیٰ طلب کر لیں
گلوں میں رنگ بھرنے کا
زلیخا! تو نے جیسے میرے دل کی بات کہ دی ہے
یہ خبریں’ روز کی خبریں مجھے تو زہر لگتی ہیں
مجھے کےا ان غباروں سے
جو شام ہوتے ہی
گھٹتی پھونک ، بڑھتے ضعف سے لمبوترے ہو جائےں
نامردی کی حالت میں
یہ سارے رہس دھاری ہیں ڈرامے کی مثلث کے
ہماری مائیں کہتی ہیں
وہاں پورب کے امبر سے کوئی اوتار اُترا تھا
چٹانیں بن گئیں تھیں
دودھ دیتی گائیں جس کے لمس کرنے سے
اسی کے شبد کی تاثیر نے
مجھ کو بنا ڈالا ہے گائے بھی گوالن بھی
یہ کیسا روگ ہے ہنسنے میں رونے کا
میں دھرتی ہوں
میں سب بھوکیں بھگت لیتی ہوں
لیکن سانولے ساون کی باہوں میں سمٹ کر پھیلنے کی پیاس
کیسے فرش کے نیچے
مرے آئے ہوئے اعضا مٹائیں گے
کروں کیا حکم کی سرکار
میرے جسم کی مٹی سے ترکاری اُگاتی ہے
میں کیسے چُڑ مڑا کر بھربھری سی ہو گئی ہوں
گرم خانوں میں
اری او نائے لو یاؤ!
ذرا یہ دیکھ! کیسے چوڑیوں جیسے یہ حلقے
نقرئی وِینس کے حلقے ثبت ہیں میری کلائی پر
میں نمفومینیک ہوں
اور لعنت، باہ ہم بگ بھیجتی ہوں
جسم کے کنجوس لوگوں پر
میں گٹھڑی سی بنی ڈرتی ہی رہتی ہوں
یہاں کی سنگساری سے
کسی دن آئے گا اسپِ ہوا پر
شاہزادہ اور بھگا کر ساتھ لے جائے گا مجھ کو
عشرتوں کی راج دھانی میں
ختن کی مشک اور لعلِ یمن کی آبداری سے
تمنا کے شبستان میں
دمشق و قاہرہ، یونان و روما کے پری زادوں کی
سب راتیں
میری غارت گری کی ایک شب میں منعکس ہوں گی
مجھے تم دیکھنا میری ہی آنکھوں سے
میں جب فانوس آویزوں میں، اونچی ہیل پہنے
اپنے ابریشم کے سارے چاک کھولے، کاسنی ساعت میں
نکلوں گی
تو آنکھیں شوق سے باہر نکل آئیں گی آنکھوں سے
کسی دن آب پر چلتے ہوئے تم دیکھنا مجھ کو
ہوائی کے جزیرے میں
میں بے پروائیوں کے سیل میں بہتی ہوئی
صندل کی لعبت ہوں
کبھی گدلاہٹیں پانی کی چکھتی ہوں
کبھی خطِ افق پر شیڈ کی مانند رکھے آسماں کے
لیمپ میں ایام کی تحریر پڑھتی ہوں
کہ اِس وسعت سے میرا واسطہ کیا ہے
زنِ بے حد ہوں
اُمراؤ، بواری اور ہیلن کے قبیلے کی
والیریا کے ساتھ آدھی شام
سینٹ پیٹرز برگ کی اے سرو قد لڑکی!
تیرے انگور ہونٹوں پر
کئی جاگی ہوئی گیلی شبوں کے ڈھیر سے اُٹھتے دھوئیں کی
دُھول ہے
قاف سے اُترے ہوئے پہلے اُجالے کی سنہری کاکلوں کی
چھاؤں میں نیلاب آنکھیں
اور اِن آنکھوں میں سپنے کی خزاں کا آسماں
اُترا ہوا
تیرے ہاتھوں میں ہے می شی ما کی نظموں کی کتاب
تیرے بازو میں کلامی بند’ تیرے پرس میں ویزا’
زرِ وافرکی خواہش جیب میں
کتنے سستے دام میں بیچا گیا ہے
اجنبی ہاتھوں میں اپنی نسلِ رفتہ کے سنہرے خواب کو
ہاں مگر ٹوٹی ہوئی اِن سرحدوں کی دھار سے گرتا لہو
تیرے تعاقب میں رہے گا دیر تک
یوں نہیں’ ایسے نہیں
جانتے ہو! خوف ایسا نجِس ہے’ لگ جائے تو
تبدیل ہو جاتا ہے باطن کھاد میں
اور پھر پورا زمستاں کاٹنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں
ادنِیس دوبارہ جنم لیتا ہے اپنی راکھ سے
سب سے پہلے ہم نے پگھلی دھوپ سے
دھو کر نکالا سایہءِابلیس جو بستی پہ تھا
اور بدلا نام اپنے شہر کا
ماں مری اوّل معلم تھی کسی اسکول میں
اپنی راسخ عادتیں ہم کو سکھاتی تھی’
سزا ملتی تھی بائیں ہاتھ سے لکھنے پہ’ ایسی ہی سزاؤں کی فضا میں
مجھ کو اپنی ماں سے نفرت ہو گئی
کس طرح تم دوسری مرضی کے جوئے میں انائیں جوت کر سر سبز رکھ سکتے ہو کشتِ حکم کو
اور کب تک کوئی سن سکتا ہے مریل خواہشوں کی سسکیاں
کیا ہوا گر خاکۂِ تعمیر ہے بدلا ہوا
یہ مگس نر آدمی
شہد کو امرت بنانے میں زیاں کرتا چلا آیا ہے
قصرِ عالیہ کے سود کا
اور بے شک ایک سا، دو مشت کا چھّتہ نہیں ہے زندگی
تا افق پھیلی ہوئی شب میں یہ آتش بازیاں
اور صبحوں کی ہتھیلی پر ذرا سی راکھ کے دھبّے۔۔۔۔
یہی ہے زندگی
اور اسکیٹنگ میں اک پل کے اُچٹتے دھیان میں
پھسلی ہوئی مایر’ گُل صد خواب جیسے برف کی چادر پہ
بکھرا ہو’ یہی ہے زندگی
میں کہ فرحت میں الم بھی ڈھونڈتی ہوں
میں کلیسائی ہوں’ کیا جانوں پرانے قرض کی میعاد
گھٹ سکتی ہے پیسے سے کہ پچھتاوے سے
لیکن اے خدا! لاریب پیسے میں بڑی تسکین ہے
میں کلیسائی ہوں’ آزادی کا حق رکھتی ہوں
باطن اشتمالِ ارض سے باہر کی شے ہے
ارض تو دہلیز ہے
جی کیا تو پاؤں سے جوتے اُتارے اور سیرِ آسماں کو چل دئیے
اور وہ کوئے معیشت بند تھا
بلڈنگیں بے روح تھیں
فیکٹری کے آہنی پھاٹک سے گھر کے آہنی پھاٹک پہ جا کر
ختم ہو جاتی تھیں سڑکیں شہر کی
جن پہ راشن’ وردیاں
انسان شکلوں میں چھپی آنکھوں’ ہدایت کے نوشتوں’
حاجتِ اصلاح کے کتبوں کے بیچوں بیچ
رہتے تھے رواں
مصلحت کے شعبدے کرتے ہوئے
گورکی!
کون تھا یہ گورکی!
ٹالسٹائی تو کتابِ غم کی صرف و نحو کا ماہر تھا’ اب متروک ہے
میرے باطن کی ثقافت میں بلیک اور بودلر
کشفِ علامت سے ملائیں نفس کو آفاق سے
لفظ و معنی اور تمثال و اشارہ بال و پر کھولے ہوئے
اور نیچے آبنائے زندگی پھیلی ہوئی
کون جانے لفظ کے ایجاد گر کا
اس سے آگے بھی کوئی آدرش ہو
اور سچ پوچھو تو سب آدرش مر جاتے ہیں
شاید ٹوٹنا پہچان ہے پہچان
سچے خواب کی
اور سچ پوچھو تو میں اُلجھی’ بہت اُلجھی ہوئی ہوں۔۔۔۔
بنچ پر بیٹھے ہوئے
نرودا اور میں بیٹھے ہوئے ہیں
پانچ دریاؤں کے سنگم پر
ہمارے سامنے اپنے بدن کو توڑ کر
باہر نکلتے رقص میں سپنے کی لڑکی ہے
مہکتی شام جس پر مُٹھیاں بھر بھر کے
شانوں سے پھسلتی چاندنی میں، جگنوؤں کا زر لُٹاتی ہے
بڑی خوشبو، نہایت لمس سے بھیگی حِسوں کی بھیڑ ہے
بستی کے میلے میں
جہاں پر
موم سی رنگت کے اُٹھتے شور کے ریشم پہ
انگشتِ شہادت کے قلم سے گیت لکھا جا رہا ہے
رنگ کے بے رنگ ہونے کا
حناؤں کی معطّر تال پر دف کی طرح بجتی ہوئی
ہر کنپٹی میں ایک ہی آواز لرزاں ہے
کہ ہم اہلِ زمیں۔۔۔۔ زنجیر کی مانند پھیلی سرحدوں کو
نسخ کرتے ہیں
معافی چاہتا ہوں
کیا کروں، عادت جو سپنے دیکھنے کی ہے
نظم باز
تو کیسا ہرجائی ہے
شب بھر نظم کی فرقت جیسی قربت میں
روشنیوں، خوشبوؤں، لفظوں
اور ادھورے پن کی چھوڑی جگہوں کو
وصل مکمل کرنے کی تیاری میں
کچھ جمع کچھ منہا کرتا رہتا ہے
جیتا مرتا رہتا ہے
اور نئے دن کی سڑکوں پر
ایک نویلی محبوبہ کے ساتھ فلرٹنگ کرتے دیکھا جاتا ہے
دیکھو نا!
اور وفا کیا ہوتی ہے
پورا کرتا رہتا ہوں
ایک مکمل مرد کا وعدہ ایک مکمل عورت سے
دل دائم امڈا رہتا ہے کہنے پر
ایک مسلسل نظم کے لکھتے رہنے پر
ایک آنسو، ایک تبسم
مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ
یہ تو وہ ہیں جن کے آگے میں ہمیشہ
نیم سجدے میں رہا
میرے سپنوں کو بنفشی شال کی مانند جو بنُتی رہیں
جس کے لمسِ گرم کو کندھوں سے لپٹائے ہوئے
کاٹ لی ہے میں نے یہ سرما کی لمبی رات جیسی زندگی
جن کی آنکھوں کی تپش اور روشنی سے عمر بھر
میرے صحراؤں میں ہریالی رہی
مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ
یہ تو وہ ہیں
جو جنم کی قیدِ بے میعاد میں جی رہی ہیں بھید اندر بھید خود اپنے لہو کی بے وفائی کی سزا
سہتے ہوئے
برتر و بالا ہو جو چاہو کہو
میں تو رو دوں فاحشہ کو فاحشہ کہتے ہوئے
یک شہرِ زرد رُو
زوال کا معرکہ بپا ہے
یہیں کہیں تسمہِ گلو سے لٹکتے سورج کے
خود و بکتر گرے ہیں
تم دیکھتے نہیں ہو! تمہاری آنکھوں کے صحن میں
مُور خوردہ کرنیں
جگہ جگہ چُور چُور بکھری ہوئی پڑی ہیں
سیاہ چیونٹوں کے لشکری
چاندنی کے ریزے لئے ہوئے جا رہے ہیں اپنے بلوں کی جانب
سنا نہیں! چاک کر رہی ہیں؟
وجود کی نیلگوں تہوں کو
کثافتیں بے ضمیریوں کی
میں اپنے پاؤں کے نیچے اُدھڑی ہوئی زمیں میں
جڑوں کے پنجر سے پوچھتا ہوں
یہ کیا کہ جوہڑ سے اُس نے اب کے نہیں پکارا
سمندروں کو
یہ میرا دست بریدہ کس کے خفیف ڈھانچے کو چُھو رہا ہے
یہ کیسی تحریر چلنے والوں کی گردنوں میں لٹک رہی ہے
یہ نرخ نامہ ہے
اوہ، مکتب میں یہ زباں کیوں مجھے پڑھائی
نہیں گئی تھی!
میں کس سے بولوں
کہ سیلِ بازار لے گیا ہے سماعتوں کو
اب ایسے انبوہِ لاتعلق سے رابطے کا بھی فائدہ کیا!
ہے شیلف خالی
نہ جنتری ہے نہ خواب نامہ
بتاؤ نا! فال کیا نکالوں
کہ سارے لفظوں نے اپنے معنی بدل لئے ہیں
میں کوئی ہاتف نہیں کہ فردا کا بھید کھولوں
مجھے یہ احساس ہے کہ یوں بھی
مرا سخن معتبر نہیں ہے
میں اپنے سچ کو کہاں پہ تولوں
کہ ساری بستی میں رہ گئی ہے
بس ایک میزان زرگروں کی
بس ایک پہچان۔۔۔۔ مومیائے ہوئے سروں کی
بُود نابُود
کون شیا ما تھی جو گھر کے ساتھ جڑے
سنسان احاطے میں اگتے چنبے کی جھاڑ میں رہتی تھی
کون مُڑے پیروں والی
دھوپ کی سیدھی قامت میں چلتی تھی اُجڑی گلیوں میں
مٹی کے پردے سے کس کی سرخ سنہری جھلکی پر
پہلی بھِڑ کا پہلا ڈنک بند کے اندر کھٹکا تھا
جُھلسی خوشبوؤں میں مِل کر باس گھڑے کے پانی کی
پیلے تنکوں سے لیپی سہ پہروں میں
بان کی پھیکی ٹھنڈک کا احساس بدن کو دیتی تھی
اور وہ شامیں کیسی تھیں
جن کے گیلے آنگن میں اُگتی کائی کے سبزے میں
لیمپ جلا کر پڑھنے والا
لفظوں اور پتنگوں کی گڈمڈ میں بنتی
شکلوں کی اِملا آنکھوں کی تختی پر
سرکنڈے کی بے قط نوک سے لکھتا تھا
اور ابد کے دریا میں بہتے امبر کا بیڑا جواُس وقت وہاں سے، اُس بستی سے گزرا تھا
کیا جانے اب کس ظلمت کے پار
کس بے اِسم سمندر کے ساحل پر اترا ہو
آؤ استفسار کریں
شاید یہ ازلوں کا دریا واقف ہو
اُلٹی سمت میں بہتی لہر کی منزل سے
ساحل کے ناساحل سے
آ۔۔۔۔ پان کھانے چلیں
جب بگولے کے کژدم کی کاٹی ہوئی رُت نے
تریاق مانگا تو اُس نے کہا
میں مسیحا نہیں
دیکھتے ہو وہ بوڑھا جو سورج کی دستار باندھے ہوئے
ظلمتوں میں رواں ہے اُسے
زید داؤد، نیلامبر اور وہ کتنے وقتوں میں
کتنے مقاموں پہ ملتے رہے
اور شاید کہ اُس کا بتایا ہوا برگِ نایاب
چڑھتی اُترتی خزاں کے گڈریے کی لمبی عصا کے
خمِ تیز کی دسترس میں نہیں
دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ فردا کے آئے ہوئے
چاہِ ماضی کی دیوار پر کیسے پیوند ہیں
پِن سے ٹانکی ہوئی تتلیوں کی طرح
دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ نی اون سائن سے
ڈھانپے ہوئے کوڑھ کے زخم میں کلبلاتی ہوئی آگ ہے
اورتقسیم کی آنکھ ماتھے پہ رکھے ہوئے
وہ سمجھتا ہے اُس کا بنایا ہوا دھات کا آدمی
معجزہ کر دکھائے گا اِس آگ میں کود کر
بس اِسی وہم میں، آس کی آس پر سب زمانے چلیں
آچلیں، پان کھانے چلیں
تمّنا کے مُخبر کی سرگوشی
اگر وہ خونخوار اپنے سرسے نکال سکتا
سڑاند مُردار حافظے کی
اگر وہ اپنی ہوس کی اس عارضی کمائی میں
دیکھ پاتا
زیاں۔۔۔۔ جو ناپاک کرتا رہتا ہے حوض کے تازہ پانیوں کو
اگر وہ جسموں کی اِس کھدائی میں دل کے معدن کا
وہ زرِ خام ڈھونڈ لیتا
جو خلیہ خلیہ بنا ہے پیمائشوں سے باہر کے وقت میں
اور جس پہ ظلمات کے ستارہ جبیں شناور کے
عکس کی جھلملاہٹیں ہیں
تو پھر یہ ابنائے جہل صیہون و سربیا کے
سری نگر پہ جھپٹنے والے سپوت بے چشم کورؤں کے
جنوبِ دنیا کی بستیوں میں
کرائے پر قتل کرنے والے
کبھی نہ ہم جنس روشنی کو ہلاک کرتے
کبھی نہ لاوقت کی کشیدوں سے بننے والے لہو کو
یوں رزقِ خاک کرتے
میلہ
تھئیٹر کی کھڑکی پہ بیٹھا ہوا کمپنی کا ملازم
ٹکٹ بیچتا ہے
بھرے ہال میں دن، مہینے، برس بے بدل حالتوں کے
لڑائی کے منظر کی سرشاریوں میں
ولین اور ہیرو کوآپس میں جگہیں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں
قناتوں سے باہر
بڑی رونقیں ہیں
پرانے پھّٹے چیتھڑوں میں بسی بے نیازی سے چمٹا بجاتے ہوئے گا رہا ہے
اُسی قول کے بول جس کو
کئی بار بستی کی چو سر پہ ہارا گیا ہے
قناتوں کے اندر
تماشے کا پنڈال وعدے کے رنگیں غباروں
بیانات کی جھلملاتی ہوئی کترنوں سے
سنوارا گیا ہے
جہاں آتے جاتے تماشائیوں اور خبروں کی مڈبھیڑ میں
ہوش سے ہوش بچھڑا ہوا ہے
بڑی رونقیں ہیں
گلابی ہے شیشہ نشاط آفریں ماڈلوں کی دمک سے
کہیں پر
ظرافت کو سنجیدگی لکھنے والے کی ارزاں نویسی کی
دھومیں مچی ہیں
کہیں پر
سدھائے ہوئے شیرکی ٹیپ کردہ صدا دھاڑتی ہے
کہیں پر
قدامت کے پنجرے میں پالا ہوا طائر سبز
لحنِ مکرر میں نغمہ سرا ہے
انہی رونقوں میں
وہ ہارا ہوا شخص رومان کا سرخ رومال
ماتھے پہ باندھے ہوئے،
کان میں ناشنیدہ سخن کی پھریری رکھے،
بے عصا چل رہا ہے
وہی جس نے سپنوں کے ساون میں آنکھیں گنوا دیں
ہرا ہی ہرا دیکھتا ہے
سپنے کا برگد
فصیلِ برف سے حصارِ آب تک
زمیں۔۔۔۔
ازل کی کوکھ سے جنی ہوئی
تکون سی بنی ہوئی
نشیب در نشیب،
سو ہزار سال کے رُکے ہوئے سمے کو اوڑھ کر
دراز ہے
گزرتے آسماں نے روز ایک مہرِ بے کفن
کیا ہے دفن اِس کی سرد خاکمیں
مگر یہ کیا کہ ممکنات کے افق پہ وہ
طلوعِ واقعہ ہوا نہیں
جو اس کی چشمِ تنگ بیں کو کھول دے
جو اس کو ضربِ روشنی سے دھن کے اور کات کر
نئے سرے سے پھر بُنے
اور انتظار ہے کہ ایک دن مدارِ وقت پر
طلوعِ بے غروب میں
وہ شاہ مرد آئے گا
جو اس ادھیڑ عمر، ثقل یافتہ، شکن زدہ زمین میں
نئے خیال و فعل کے عمود و قوس ڈال کر
پتنگ کی طرح اِسے
سبک بدن، فراز جُو بنائے گا
بلندیوں کے بام سے
بسنت کی سہاگنوں کے درمیاں کھڑے ہوئے
اِسے ورائے آسماں اڑائے گا
١٣ مارچ ۔ (حبیب جالب)
بہت رویا تھا، دھاڑیں مار کر رویا تھا
کل شب آسماں
اور آج بستی کی منڈیروں پر
صفیں باندھے کھڑی ہے دھوپ،
کہتے ہیں کہ وہ شوریدہ سر
پھولوں کی بُکل مار کر گزرے گا اِن چپ چاپ
سڑکوں سے
وہی جو سونت کر شمشیر آوازِ برہنہ کی
اندھیرے سے لڑا چالیس برسوں تک
وہی سچ کا صدا بردار جس نے زندگی کی لہر پر سینہ سپر ہو کر
گواہی دی
ربودِ آب پر مامور پہرے کے مقابل میں
وہی شوریدہ سر
اِس آج کی تاریخ، وسطِ موسمِ گل میں
ہری چادر بدن پر اوڑھ کر
گزرے گا، کہتے ہیں
کہ قبرِ شام پر انبوہ کے انبوہ لوگوں کے
دعا مانگیں گے
اُس کے لوٹ کر دوبارہ آنے کی
پرانے تماشائی کی شہادت
وہ مشتبہ ہے!مسیحا ہے! یا تغیّر کے
اصولِ امر و نہی کانقیب ہے شاید!
کریں گی فیصلہ اگلی عدالتیں آکر
وہ جو بھی ہے
اُسے اک سلطنت گرانے کو
بدن سے نکلی ہوئی روح کو اشارا ملا
ذرا نہ دیر لگی
بس انحراف کے دو حرف۔۔۔۔ اور اس کے بعد
زنِ ستارہ جبیں سے نکاح فسخ ہوا
ستون و سقف گرے بے نہاد قلعے کے
ہمارے ساتھ تماشائیوں میں شامل تھا
اِس انہدام کا سب سے قدیم ناظر بھی
زمیں کی آب و وہا کے نمو کا پروردہ
درختِ پا بستہ
جل بھومیا
باپ کی نافرمانی کرنا آدم زاد کا شیوہ ہے
پہلے چرواہے سے لے کر
دورِ زر کے آخری ناپیغمبر تک
ہر پیغام کے سبز و سرخ نوشتے سے
اُس نے روگردانی کی
جیسے وہ مخلوق ہو گدلے پا نی کی
جو گاہے گاہے ظلمت کے حبس زدہ مسکن سے باہر
آتش و باد کے ساحل پر
سانس سکھانے آتی ہے
چندھیائی آنکھوں کو دے کر
دھوکہ نیل بلندی کو چھولینے کا
جل بھومی کے مادر زاد بلاوے پر
اپنے آپ میں پھر ہجرت کر جاتی ہے
زمیں زاد
رہ گزر نشیب کی اور سفر فراز کا
دونوں پہ ایک وقت میں
چلنے کا اِذن ہے اُسے
عمروں کا روپ اوڑھ کر
کرتا رہے مسافتیں وادیئ ماہ و سال میں
دُور کے اوجِ کوہ سے
آتی رہے نظر اُسے چادرِ آبِ نیلگوں
سپنے کے آسمان کی،
گرتی ہوئی زمین پر
شوق کی وسعتوں میں وہ بال و پرِ وجود پر
اُڑتا رہے صعود پر
پنجہءِباد گرد سے جانے ہے کیا بندھا ہوا
دیکھیں ذرا قریب سے
دیکھیں کسی حسین کا، کوئی پیام ہی نہ ہو
پھینکا ہوا زمین کا حلقہءِدام ہی نہ ہو
اِمکان کے دوراہے پر
ترجمے سچ کے اتنے ہوئے
میری شرحوں نے مجھ کو مرے سامنے
غیر ثابت شدہ کر دیا
ناکشیدہ، گماں آفریدہ لکیروں کے نقشے میں
شاید کہیں
کوئی بستی ہے جس کے کسی گھر میں رہتا ہوں میں
سو جگہ سے کٹا اور بانٹا ہوا
میں زمینِ تغیر سے دیکھوں ”ٍہیں” اور ”ہے” کے
تماشے میں ہجرت زدہ وقت کو
جو اگر ایک لمحہ ٹھہر جائے تو
آئینہ بے انا ہو کے دیکھے، دِکھائے مجھے
وہ مری سمت جو مجھ میں
نایافتہ ہے ابھی
اور یہ لحظہ بہ لحظہ بدلتی زمیں
کس قدر سخت ہے
نوکِ ناخن سے کیسے کریدوں اسے
اور دیکھوں کہ میرے بنانے کی ترکیب میں
کس سفیدی میں کتنی سیاہی ملائی گئی
چوب کی اصلیت چوب ہے
اپنے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی
آب کی اصلیت آب ہے
جس کی تاثیر یا ذائقہ اتنی صدیوں میں بدلا نہیں
اور میں تہ بہ تہ
مختلف بھی ہوں یکساں بھی ہوں
منکشف بھی ہوں پنہاں بھی ہوں
اور کیا ایسے ہونے کا امکاں بھی ہے؟
لفظ کے لمس سے
جامہءِہست کے رنگ و نارنگ کو چھو سکوں
٭٭٭
بے عقیدہ ہو تم
شک سے باہر کی آبادیاں
آدمی کی ولایت میں ہیں
ظلمتوں کے ذخیروں میں اُگتی ہوئی روشنی
وقت کا واقعہ
جنگلوں سے بھری رات میں
ایک چیتا جھپٹتا ہوا نور کے غول پر
اک گلہری ہری ٹہنیوں کو کترتی ہوئی
ایک آفاق بے انت کا
جس کے محراب پر ڈوبتے اور اُبھرتے ہوئے واقعے
انت کے
یہ جزیرے سفینہ نما
بے کراں کے سمندر کی قوسوں پہ بہتے ہوئے
اور پیہم بدلتے ہوئے منظروں کی شفق زادیاں
ساحلِ ریگ پر ڈھیر سیپوں سے
آنکھوں کے گوہر چنیں
اور اِن گوہروں میں پلیں
راز۔۔۔۔ حلقہ بہ حلقہ کسی ایک نقطے کی جانب
اُترتے ہوئے
ایک نقطے کے دل سے ابُھرتے ہوئے
خواب ناوقت کا
جس میں موجود و نابود آپس میں آمیختہ
کارِ تخلیق کرتے رہیں
یہ تمہارے گماں، یہ ہمارے بقیں
فکر و وجداں کی جہتیں ہیں جو
آج اور کل کی رائج شدہ منطقوں سے
سدا
پیش رفتہ رہیں
رُوداد۔۔۔۔ ایک جلسے کی
نامولود زمانے کا
ہال بھرا تھا غیب کے سننے والوں سے
شام کو ہونے والی اس تقریبِ دُور نمائی میں
ہم نے بھی مضمون پڑھا
اُن صدیوں پر
جو ندی کے گھاٹ پہ بیٹھے
بہتی ریت سے ذرّہ ذرّہ
سونا چنتی رہتی ہیں
ویسے تو
ہم نے اِس مضمون کے اندر
معنی کے معنی دھونڈے تھے
لیکن دُور سے آنے والے
بے ساحل دریا کے راز شناسوں نے
ہر فقرے پر
بنچ بجا کر ہوٹنگ کی
خریف
شہر ظلمت میں ہے
جس کے ہر راستے میں برہنہ ملے
نیم خفتہ گلی، کنکروں کے بچھونے پہ لیٹے ہوئے
ستر پر میلے پانی کی بد رو لپیٹے ہوئے
ڈیوڑھیاں، تنگ دلان، آلودہءِدود بُودار
باورچی خانوں میں صدیوں سے رہتی ہوئی بیبیاں
مرد سورج کی آنکھوں سے جن کو بچائے رکھے
سقف کا سائباں
شہر ظلمت میں ہے
دل کی سجدہ گہ لامکاں
بے اماں
لحنِ یکساں، مضامینِ تکرار کی گونج سے
خاک نائے مقدس کا منبر نشیں
اپنی دانست میں لفظ کے غیب سے آشنا
اس طرح شرح معنی کرے
چار خانوں میں تقسیم ہوں نیم خفتہ گلی کے مکیں
ایک جیسے جو ہیں ایک جیسے نہیں
نام کا پیرہن
جس کے نزدیک پہچان ہے ابنِ انسان کے اصل کی
پوچھتا ہوں میں خود سے کہ میں
ہوں خزاں کشتِ تاریخ کی کون سی فصل کی