زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

یہی وہ دن ہے

یہی وہ دن ہے

کہ آسماں، چاند اور ستارا لئے ہوئے

خود زمیں پہ اترا تھا

شب گزاروں کو پیش کرنے ثمر مقّدر کی روشنی کا

یہی وہ دن ہے

کہ لعل و یاقوت جرأتوں کے

درونِ دل کی تپش سے سّیال ہو کے ٹپکے تھے

اور اِس صفحہ زمیں پر

ہرے ہرے لفظ بن گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ دشت و میدان و کوہ و وادی

رُکی ہوئی سانس کھل کے لینے لگے تھے

دریاؤں اور جھیلوں میں عکس سرسبز ہو گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ ہم نے جزدانِ فیصلہ میں

رکھا تھا لکھ کر وفا کا پیمان اِس زمیں سے

چلو کہ اس دن کے فیصلے نے

ہمیں جو نورِ شعور بخشا

ہمیں جو نقدِ ضمیر سونپا

اُسے ہم اپنی وفا کا شاہد بنا کے دیکھیں

کہ ہم امینوں سے یہ زمیں کتنی مطمئن ہے

یہی وہ دن ہے

آفتاب اقبال شمیم

زیطہ ۔(نجیب محفوظ کا ایک کردار)

ہنر مند زیطہ

اکیلی گلی کی خدائی میں چُھپ کر

بناتا ہے سّیارو سالم، توانا و بے عیب جسموں کو کسبِ زیاں سے

اپاہج

یہیں اُس کی مشاق ترشی ہوئی انگلیاں خام کی خامیوں سے

کمالات کے چاک پر وہ نوادر بنائیں

جو حےران کر دیں

یہ پہلو میں لٹکے ہوئے بازوؤں کا تماشا

یہ آنکھوں سے پِھسلی ہوئی روشنی کی نمائش

یہ بہروپ کے اُبٹنوں سے سنوارے ہوئے مسخ و مسکین چہرے

یہ کتنی ہی قسموں کے بے آسرا بے سہارابھکاری

جو اپنی فغاں سے

گزرتے ہوئے نیک دل راہ گیروں کو تسخیر کر لیں

کرشمہ ہیں اُس کی ہنرکاریوں اور پیشہ وری کا

ہنرمند زیطہ

جراحت کے آلات، حکمت کے نسخوں سے اہلِ جہاں کو

شفا بخشتا ہے

مفادِ زر و زور و دانش کی خاطر

بدلتا ہے کتنے ہی حیلوں وسےلوں سے اصلیتیں خلقتوں کی

زمانے کے آئےن میں اُس کے خفیہ مصنف نے لکھا یہی ہے

سفر پر چلو تو

سزا و جزا، پندو تلقین، رسم و روایت کا زادِ سفر ساتھ رکھو

گلوں میں لٹکتا رہے روزمرہ کا طوقِ ضرورت

زمیں کا خلیفہ

جبلّت، انا اور طبعِ مخالف کی تہذیب کر کے

مسافر کو دیتا ہے پروانہءِراہداری

بدن مہرِ حاکم سے داغے ہوئے اور تلووں

میں ٹھونکی ہوئی استقامت کی نعلیں

بندھے قاعدے، نظریے اور تجرید۔۔۔۔ آنکھوں

کو یک سمت رکھنے کی اندھیاریاں جو

حدوں میں رکھیں گور تک آدمی کو

عجب ہیں خداوندِ دنیا کی محتاجیوں کے نمونے۔۔۔۔ گداگر

ہنرمند زیطہ

کروں، لامکانوں، زمانوں کا آقا

مجھے جس نے مٹی سے بہرِ تماشا اُٹھایا

مجھے میرے مثبت کو منفی سے، سیدھے سے اُلٹے

کو پیوست کر کے بنایا

کہ میں اپنے ہاتھوں خجل اپنی ضِد، اپنی حد، اپنی مجبوریوں

کے پلستر میں مفلوج باہوں کو باندھے ہوئے روز کے اس اندھیرے

اُجالے میں اُس سے

زمانے کے ہاتھوں میں پہلے سے گروی شدہ عمر کی بھیک مانگوں

مری خاک کے اندروں نیند میں چلنے والی

تمنا کی آنکھیں

ادھورے میں پورے کا سپنا جگائے

مجھے ایک بے صرفہ جہدِ مسلسل پہ مامور رکھیں

وہ میرے تماشے کا میلہ لگائے

سدا مجھ کو بے چارگی میں مجھے ہی دکھائے

آفتاب اقبال شمیم

ادھورے میل کی نظم

آدھی شام ہوئی ہے آؤ!

دھیمی سانس کی ناؤ سے نیچے اتریں اِن روشنیوں

ناروشنیوں کے ساحل پر

ماہی پُشت، پری چہرہ سے تھوڑا تھوڑا جسم ملا کر

رقص کریں

اگلے لمحے جب ہاتھوں میں رہ جائے

نیم نمااحساس پھسلتی کائی کا

اور گلے کو کچاپن سا کھاری کر دے

جائیں اور خلا سے مانگیں

ایک صراحی آبِ شراب وضو کرنے کو

جس کے بعد ستاروں کی تسبیح پہ شب بھر

بے معنی کا اسم پڑھیں

آفتاب اقبال شمیم

بعید کے بعد

کافی بار کا دروازہ مغرب کی جانب کھلتا ہے

گوری اپنے سائے میں

ناچ رہی ہے ڈِسکو کی ہچکولے کھاتی لہروں پر

کھِلتی چمپا

پنکھڑیوں کی اوٹ سے رنگ دکھاتی ہے

آنکھیں، گُل چیں آنکھیں نیم شرابی سی

چھلک رہی ہیں مِس مِس کرتی خواہش سے

تیز سروں میں اُکساہٹ سے جھاگ اڑاتی بوتل کی

صبح اُٹھانے آئے گی

اڑے ہوئے رنگوں کے دھبے

گزری رات کے درپن سے

اور یہی وہ جائے منظرِ رفتہ ہے

جس میں کوئی آٹھ برس پہلے ہم نے

جھُرمٹ جھُرمٹ رقص میں پر کھولے،

گاؤں کی پریوں کو

مشرق میں چڑھتے سورج کی جانب اُڑتے دیکھا تھا

آفتاب اقبال شمیم

فیصلہ

اِتنی بِھیڑ میں، اتنے گم کردہ سفروں میں

اتنے پھیلاؤ میں، اتنی ظلمت میں

تو کیا معنی ڈھونڈے ہے

پیشانی پر ایک چراغِ چشم دھرے

ارے، ارے!

اندر کے گنجلک عکسوں کو

ڈھلتے وقت کی مدھم کرتی پرچھائیں میں دیکھ ذرا

اور بتا

ہستی کا مفہوم ہے کیا؟

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

جو معلوم کی نامعلوم سے دوری ہے

اُس کے بیچ بھٹکتے رہنا دانش کی مجبوری ہے

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

ہم تو بس اتنا جانیں

”ہونا” ایک حضوری ہے

جینا شرط ہے جینے کی

عمریں چاہے چھوٹی ہوں یا لمبی ہوں

طے کرنی ہی پڑتی ہیں

اور ہمارے اندر کوئی ہم سے کہتا رہتا ہے

فرق بڑا ہے

سچ کے جینے اور ضرورت کے جینے میں

اک ارادہ۔۔۔۔ اپنے آپ کو بامعنی کر لینے کا

ایک حمایت ۔۔۔۔ دُکھ سہنے والوں کی،

اپنے جیسوں کی

آفتاب اقبال شمیم

اُن سے کہنا!

کون ہو؟

قصر خداوند سے آئے ہو بُلاوا لے کر

اُن سے کہنا

کہ غمِ شعر سے فرصت پا کر

میں ضرور آؤں گا

اور یہ ایسی فراغت ہے کہ ملتی ہی نہیں

میرا گھر اتنا بڑا ہے کہ مرے آنگن میں

اُن کے افلاک سما جاتے ہیں

میرا دل کشورِ اسرارِ تمنا ہے جہاں

چُپ کی گلیوں میں ہیں آباد ہجوموں کے ہجوم

ان کہی باتوں کے

میرا غم ایسا گلستاں ہے جہاں کھِلتا ہے

رنگِ نایاب

جو دامنِ قزح میں بھی نہیں

جس میں رہتی ہے وہ خوشبو

جو مشاموں میں اُجالے کی طرح بہتی ہے

اور اِس دنیا میں

بے زمانہ ہیں زمینیں جن پر

یاد آباد ہے جو جب بھی اشارہ کر دے

کوئے امروز میں ماضی کے مکیں آجائیں

اُن سے کہنا کہ وہ چاہیں تو یہیں آجائیں

آفتاب اقبال شمیم

دیوار چاٹنے والے

میں زرِ غم کا لئیم

کسیہءِضبط میں رکھتا ہوں بڑا مال جسے

رات جب آئے تو گِننے بیٹھوں

لب پہ افسوس کی چُپ سادھے ہوئے

لمس کو شانت کروں

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اشکوں کے اُچکّے آکر

میرا کچھ سیم اُٹھا کر لے جائیں

پھر کسی یاد کے پچھواڑے سے

چاندنی ساتھ لئے

چپکے سے در آئے نقب زن کوئی

ایک آسودہ سی بے چارگی کے عالم میں

اپنے دیناروں کی

دُور ہوتی ہوئی جھنکار سنوں

اور آواز کا سہم

بھاگتے شعر کے پیچھے بھاگے

لے گیا کتنے ہی برسوں کی کمائی میری

کوئی روکے اس کو

اور کچھ دیر کے بعد

پہرہءِدنیا سے

خواب اغوا کئے لے آئے اُسے

جس کی اک دید بخیلوں کو سخی کر ڈالے

ضبط کی تاب کہاں

وار دُوں اس پہ زرِ غم سارا

خود سے سرگوشی کروں

میری دولت ہے تہی جیب مری

اور جب اگلی سحر خوابِ مقدر سے اُٹھوں

کیسہءِضبط بھرا ہو غم سے

آستیں بھیگی ہوئی ہو نم سے

آفتاب اقبال شمیم

مٹی کا بلاوا

میں اُس غم سے مفرور ہو کر

کسی دُور کی کنجِ مستور میں جا بسا تھا

جہاں سیم تن لعبتیں لمس کی قربتوں کے

چھلکتے ہوئے جام ترغیب کی عشرتیں بانٹتی تھیں

جہاں دن کے آنگن میں پھیلی ہوئی جھنڈ کی

جھُنڈ دُھوپیں

بڑی دور تک اُونگھ میں جسم و جاں کو

شرابور رکھتی تھیں بے نام سے شربتی بوجھ

کے ذائقے سے

جہاں انگلیوں پر

گلابی چٹکتی تھی، شیشے کی کنجِ معطر میں عکسوں

کے جھرمٹ

اُترے تھے آنکھوں کے رستے

جہاں ٹمٹماتے ہوئے قمقموں میں

گھری شام کی جھیل پر پھڑ پھڑاتی ہوا، وقفہ وقفہ

صدا۔۔۔۔ گیت بن کر

ہویدا سے مستور تک، دُور تک آتے جاتے

ہوئے موسموں سے

پرے تیسرے رُت میں آوارگی کی کسک، دل

کے پنجرے سے چھوڑے ہوئے طائروں سے

بھرے آسماں کو

بناتی تھی رنگیں

گماں کو

گماں جو۔۔۔۔ ہمیشہ سے عمروں کے دیکھے ہوئے سارے خوابوں سے بھی بے کراں ہو

مگر ایک بے مہر لمحے کے کھائے ہوئے عام سے ایک غم نے

مجھے ایسے بے بس کیا، میری مٹی کے پاؤں سے باندھا

ہُوا بوجھ برتی ہوئی زندگی کا

ہوا سا لگا اور میں اس غنودہ فصا، اُس رہائی

کی جنت کے پردیس سے لوٹ کر آگیا

آفتاب اقبال شمیم

دو گواہیاں

وقت کی کہانی میں عام داستانوں کی

منطقیں نہیں ہوتیں

کس طرح یہ فردا سا آگیا تھا ماضی میں

وہ جو روشنی دن کی، رات کی ولایت میں

آکے جھلملائی تھی

وہ جو تختِ زرداراں بے زروں نے اُلٹا تھا

خواب تو نہیں تھا وہ

آرزو کے کہنے پر، لاشعورِ ماضی سے

دفعتاً جو اُبھرا ہو مطلعِ بصارت پر

نیند ہے یا بیداری

ایک جُنڈ سپنوں کی نقرئی سفیدی کا

آنکھ نے بلندی پر پھڑ پھڑاتے دیکھا ہے

دُور کی فضاؤں میں

برگ و شاخ و طائر کے صبح خیز منظر کی

سرخیاں سی ابھری ہیں

اور میرے پاؤں سے اٹھ رہی ہیں جھنکاریں

بیڑیوں کے بجنے کی

آفتاب اقبال شمیم

نئے پرانے کے سنگم

باہر شام کے جنگل کا سناٹا ہے

روپ بدل کر

لمحوں کا چرواہا اپنے

پتلے پھرتیلے پنجوں پر

خون کی بچھڑی بُو کی ٹوہ میں آتا ہے

سوکھے پتوں پر چلنے کی چاپ سنائی دیتی ہے

باڑیں، دیواریں، دروازے

جوں کے توں رہ جائیں گے

کوئی اندر سے جھپٹے گا

اور اچانک خود کو چھو کر دیکھو گے

تو اپنے آپ کو جھاگ لگو گے

جس کے اندر سے جھانکے گی

ایک سفیدی خون کے عادی دانتوں کی

آفتاب اقبال شمیم

ایک ہارا ہوا دِن(اپنے پیشرو کے نام)

مجھے مایوس کر دو نا!

یہ کارِ لفظ دوزی۔۔۔۔ جس سے جذبوں اور خیالوں کو

منقش کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔

اِسے بے کار سمجھوں

اور برسوں کی بچت کے قطرہ قطرہ وقت سے

لکھی ہوئی نظموں کی اس ساری کمائی کو

جلا ڈالوں

مجھے مایوس کر دو نا!

تمہاری ہی طرح میں بھی کسی بے نام بے آشوب

گوشے میں

شکستہ کرکے آئینے حوالوں اور مثالوں کے

مٹا کر وہم، زورِ لفظ سے کچھ کر گزرنے کا

لگالوں اپنے گردا گرد باڑیں روزمرہ کی،

دُھواں پیتے ہوئے

کھاتا رہوں معمول کی خوراک میں

محدود سی مقدار رنج و شادمانی کی

چڑھے جب دن تو میں

تپتی ہوئی شب کی سرائے سے نکل کر دھوپ کے نخلِ سکون افشاں کی

چھاؤں میں ذرا بیٹھوں

اکیلا کھیلتے دیکھوں اُجالے کے لڑکپن کو

گزرتے پہر کے ٹیلے پہ چرھ کر جو گیا ہوتے سنہرے میں

رہوں

تازہ شجر کی ڈال پر سورج کے پکنے تک

پرندوں کے بسیرے سے اُترتے شور کی گت پر

نئے دن کے خبرنامے کی سنگت میں

برابر ہیں سبھی اچھی بُری خبریں

مجھے کیا تیسری دنیا کا باشندہ ہوں

اپنا قہر سہہ لینے کی عادت پال رکھی ہے

ابھی امرود اور جامن کے پیڑوں سے ہوا اُترے گی

اپنے کاسنی ملبوس پیلی اوڑھنی میں

اور لے جائے گی چڑھتی سانس کے اُونچے بہت اُونچے

ہلارے میں مجھے پیچھے بہت پیچھے

جہاں پہلے سفر میں دفعتاً حملہ ہوا تھا

جان کے خیمہ پڑاؤ پر

کسی دلدار چہرے کی بڑی آنکھوں نے

دل کے شہریوں میں ایک بھگدڑ سی مچا دی تھی

بدن کے باغ میں

سورج مکھی سے شہد کا تاوان لیتے ڈنگ میں

کہرام برپاہو گیا تھا نارسائی کا

جہاں پہلی گلی والے

سویرے ہی سویرے چند لقموں کے عوض آراکشی کرنے

دیوداروں کو اپنی پشت پر لادے ہوئے جاتے تھے

شب کو لوٹ کر سستانے آتے تھے

ذرا آواز تو دوں دھوپ کو۔۔۔۔ شاید کہ رُک جائے

پڑا ہوں دیر سے

ٹیکے ہوئے کہنی ملائم اور اُجلائی ہوئی راحت کے تکیے پر

ذرا قامت کشیدہ دھوپ سے ہٹ کر

دراز ہو جاؤں اپنے آپ پر جھکتی ہوئی

آنکھوں کے سائے میں

پسینہ، اُونگھ کچی ٹوٹتی بنتی ہوئی شکلیں،

پرانی تہمدیں، کھیتوں پہ ٹھہری باس گنے اور

گوبر کی، تھرکتے نقرئی پاؤں کسی لاطینی لڑکی کے،

لبوں پر تھرتھری سی چھوڑ کر اُڑتی ہوئی مہکار

نغمے کی، قبا کے چاک سے چھلکی ہوئی جھلکی کے اندر

کوند اوجھل کی، پرانی آنچ میں بھیگی ہوئی آنکھیں

بچائے کوئی اِن آ نکھوں کو قدِ ریگ میں چلتے ہوئے

سائے کے سائے سے

یہی نسیاں، یہی یادیں۔۔۔۔

رواں آئینے ناموجود کی آئینہ داری کے

زمانوں کے بہاؤ میں

کہاں سے دیکھتا ہے کون اِس لمحے کے جگنو کو

ذرا سی رات کا منظر بنا کر بند مٹھی میں

ابھی بے انت کے رستے میں اُس آئی ہوئی

سہ پہر کے زینے سے اتُروں گا

پرانی دوستی کے آشنا چہروں کی بیٹھک میں

تو رنگا رنگ موضوعات کے پتوں کو پھینٹا جائے گا

چلتی رہے گی دیر تک تفریح چائے اور چالوں کی

مزا آتا ہے کم کم چُسکیوں میں ٹال کر

موضوع کی گرمی کو اپنے سامنے موجود رکھنے میں

یہ میٹھے گھونٹ کیسے ایک لمحے میں

پھڑکتی کنپٹی میں ایک دو کڑوی کسیلی گولیوں کی

راحتیں سی گھول دیتے ہیں

نہیں تو جسم کو خنکی کا اک احساس سا بے چین رکھتا ہے

چلوں آگے

کہ میرے اِس سفر کی نہج پہلے سے معین ہے

مجھے چلتی زمیں کے ساتھ چلنا ہے

اور اب دو رویہ نیندوں میں گھِرے دن کی

سڑک سے شام کی بستی میں آ اُترا ہوں

میرا سارباں آواز دیتا ہے

کہ بس کی لائٹیں ٹوٹی ہوئی ہیں

تم یہیں سپنے کی چادر تان کر سو لو

یہ وقفہ جاگنے کا ہے کہ سونے کا؟

میں خود سے پوچھتا ہوں

اور کمرے میں گھڑی کی نبض دھیمی پڑنے لگتی ہے

یہ دائم جاگنے والا مجھے سونے نہیں دے گا

کوئی تدبیر۔۔۔۔ اِس اندر کی تنہائی سے بچنے کی

جو آنکھوں میں سلائی پھیرتی ہے

اور سیسہ سا پلا دیتی ہے کانوں میں

مگر سوچوں تو یہ ہونا نہ ہونا بھی غنیمت ہے

مجھے کیا مفت میں زندہ ہوں ورنہ

میں بہت پہلے

کرائے پر کسی پردیس میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہوتا

جنم کا حادثہ کہئے

کہ میں اُس نسل میں شامل نہیں تھا

جس نے سورج کے جزیرے میں

ہمکتے شہر سے اُٹھتے ہوئے خیمہ نما شعلے کا

رقصِ مرگ دیکھا تھا

مرے اِمکان میں تھا

کوئی یالو کے کنارے یا گھنے بانسوں کے جنگل میں

بدن میں چھید کر کے اوک بھر مجھ کو بہاد یتا

مجھے کیا، مفت میں زندہ ہوں ورنہ

یہ بھی ممکن تھا

کہ صحرا میں پلٹتے قافلے پر آگ کی بارش میں

مَیں بھی بھیگ جاتا

اور زندہ ہوں

کہ میں نے بے حمیّت ، مصلحت آمیز خاموشی میں

جینے کی سزا تسلیم کر لی ہے

مجھے کیا، ٹھاٹھ سے دستور کے مسکن میں رہتا ہوں

گزر اوقات ہو جاتی ہے رزقِ خواب پر

نانِ قناعت پر

بس اتنا ہے

کہ ساری عمر اس اپنی ہی بستی میں

زمانے اور زمیں کی علتوں کے آستانے پر

جبیں رکھ کر جیا ہوں

ور میرا نام بھی مذکور ہے گم نام صدیوں سے رواں

انبوہ کی لوحِ مقدّر پر

یہ کیسی ذلتیں ہیں جن سے بچنے کی

مری تہذیب داری نے مجھے مہلت نہیں دی

اور یہ تہذیب داری۔۔۔۔ زندگی کی اِس فضائے اجنبیت میں

بہر انداز جینے کے قرینے کا سبق دے کر

مجھے تم نے سکھائی تھی

مجھے اب حوصلہ دو

میں تمہاری ہی طرح

اپنے لہو کی روشنائی سے لکھی نظموں کی اِس ساری

کمائی کو جلا ڈالوں

مجھے مایوس کر دو نا!

آفتاب اقبال شمیم

خُوبصورت عورت کا خواب

گڑی ہے چوبِ درختِ مُردہ

سبھی زمانوں کے راستے میں

شکست و نصرت کا اِستعارہ

غلام و آقا کے رابطے کی ہمیشگی کا

جسے ہرا پھر سے کر دیا ہے

تمہارے وارے ہوئے لہو نے

بلندیوں پر

تمہارے مصلُوب بازوؤں کے کشودہ پرچم کی پھڑ پھڑاہٹ

تمہارے سُوکھے لبوں کی قوسیں،

فضا میں زندہ پروں کی بست و کشود کے دلنواز

مژدے بکھیرتی ہیں

خموشیاں بولنے لگی ہیں

ابھی وہ دلبر۔۔۔۔ قدیم وعدے کی پالکی میں

تمہیں تمہاری وفا کا انعام دینے آئے گی

اور گھونگھٹ اُٹھا کے

آنکھوں کے آسماں پر ابھرتے تارے

کی روشنی میں

تمہارے دوبارہ لوٹنے کی نوید دے گی

کہ اس نے ہارے ہوئے لہو سے

کشید کر کے

بنا لیا ہے نیا ہیولیٰ

زمیں کی قسمت کا تازہ وارث

جسے وہ اپنے وجود میں پلنے والی

خواہشِ کے دودھ پر پالتی رہے گی

آفتاب اقبال شمیم

میں مایوس نہیں

یہ فنا کے گھاٹ اُتارتے ہوئے

تجربے

یہ الم سلائی کی نوک سے جو لکھے گئے

میری آنکھ پر

یہ ہمیشہ سے

کسی شے پرست کی دسترس

کسی خواب پُھونکتی آرزو کے طلسم پر

یہ دل و دماغ کی بے نتیجہ سی کاوشیں

فن و فلسفہ کی مشاورت

جو نہ ظلمتوں کو گھٹا سکی’ جو نہ روشنی کو بڑھا سکی

یہ ضرورتوں کے معاہدے

جو سدھائے فہم کی فرض کردہ صداقتوں سے’

بنے بنائے مجّرردات سے

ناپتے ہیں مرے وجود کے بھید کو

یہ رجا و بیم کے جھپٹنے کی مسافتیں

یہ ہجوم

ایک ہی دائرے میں گھسیٹتے ہوئے چل رہے ہیں

حدوں کی بیڑیاں پاؤں میں

ہے گمان کیا؟ ہے یقین کیا؟ مجھے کیا خبر

رکھیں اپنی اپنی گرفت میں میرے ذہن کو

یہ وسیلے ہندسہ و حرف کے

یہ دلیلیں’ منطقیں اور زاویے سوچ کے

جنہیں مثل سِکہءِرائجہ کیا معتبر

زر و زور نے’

یہ نفاق نیّت و فعل ، معنی و لفظ میں،

یہ سدا سے بہری عدالتوں میں

سدا کی گونگی گواہیوں کی سماعتیں’

کئی اور ایسے ہی یاس خیز تلازمے۔۔۔۔

مجھے کیا برا تھا کہ اِیسے جینے کے کرب سے

میں فرار ڈھونڈتا موت میں

مگر ایک رابطہ قُرب کا

مری چاہتوں میں کسک سی ایک

جدائی کی

مری شاخِ دل کو بھری خزاں میں ہرا رکھے

نہیں بھولتا

وہ لڑکپنے کی زباں پہ ذائقہ پان کا

سرِ راہ

بھیگے ہوئے سمے کی چنبیلیوں پہ

سماں عجیب سا جگنوؤں کی اُڑان کا

وہ جو شفقتیں

میرے بچپنے میں ملیں مجھے

میں اُسی سخاوتِ جاریہ سے نہال ہوں

وہ عجیب و سادہ سی چاہ جو

مری دھڑکنوں میں خلل سا ڈال دے

دفعتاً

رخِ دل نواز کو دیکھ کر

وہ چٹکتے نشے کی باس دیتے ہوئے

لبوں کی گلابیاں

وہ فسوں سا چشمِ سیاہ کا

غمِ روزگار سے مہلتوں کی گھڑی گھڑی

میں رچا ہوا

وہ دنوں کی بھیڑ سے بچ کے

کُنج گریز میں مرا بیٹھنا

بڑی دیر تک

میری اپنے آپ سے گفتگو

کسی آشنائی کے درد کی ہو شفق سی

جیسے کھلی ہوئی

میرے گرد و پیش کے کاسنی سے سکوت میں

یہی گرمیوں کا وہ موڑ ہے

جہاں سبز جھاڑ سے جھانکتے ہوئے موتیے کی

شگفت سی

میری صبح و شام کی راہ میں، مجھے ایک ثانیہ روک کر

کرے عطرِ بیز سواگتیں

وہ وفورِ شکر کہ آنکھ میں اُمڈ آئے

اشک سپاس کا

وہ کھِلے کنول کا سکون رات کی جھیل میں

وہ تھکن کے لمبے سفر سے واپسی

صفر وقت کی سمت پر

سرِبام کوچہ شرر فشاں

وہ سلگتا گیت جسے جنوب کی بے مثال مغنّےہ نے

عطا کیا

مجھے اپنے مخزنِ سوز سے

دلِ در کشادہ کی بیٹھکوں میں وہ صحبتیں،

وہ نیاز یار فرید کے

وہی آستانہءِیاد روز کی شام کا

مرا تخت ہے

جہاں دوستوں سے نشست ہوتی ہے چائے پر

یہ سپردگی کا خمیر میری سرشت میں

یہ محبتوں کی روایتیں

جو وراثتوں میں ملیں مجھے

جو مرے لہو میں تھکے بغیر سبک سبک سی

رواں رہیں

مرے حوصلے کی امین ہیں

میں ذرا سا پیکرِ خاک ہوں

مگر عندیہ کوئی غیب کا میرے سلسلے میں

ضرور ہے

کہ ہزیمتوں پہ ہزیمتیں

مجھے بار بار ہرا کے بھی نہ ہرا سکیں

یہ حصار ویسے تو دیکھنے میں ہے پست

قدِ غنیم سے

اِسے کُل جہان کے حُزن و یاس کی یورشیں نہ گرا سکیں

آفتاب اقبال شمیم

سنگِ مارگلہ

یہ پتھر مارگلہ کی پہاڑی کا

جسے نسبت ہے تاروں کے پرانے خانوادے سے

جسے نِروان میں رکھا

نہ جانے کتنی صدیوں کی تپسیا میں

سماع و وجد مےں مصروف پانی کے گےانی نے

گھٹا کی حبشنیں

اپنی برہنہ چھاتیوں کے دودھ کی برکھا میں نہلاتی رہیں

جس کو

ہوا کی بوسہ بوسہ لذتوں کی رات میں

اپنے بدن خود سے چراتی ناگنوں کے لمس سے

طاری رہی مدہوشیوں کی سنسنی

جس پر

سدا آتے ہوئے جاتے ہوئے موسم نے کی تحریر

جس کی لوح پر تاریخ وقتوں کی

یہ سنگِ مارگلہ جس کی رگ رگ میں

گلِ آتش کا زیرہ بہتا رہتا ہے

اسی خورشید زادے کو

چنا ہے حادثے کے راج معماروں نے

میرے شہر کے ایوانِ اول میں

جہاں یہ بے بس و ناچار

قندِ مرتبہ پر رال ٹپکاتے ہوئے

درباریوں کی

لاڈلی سی بھنبھناہٹ سُنتا رہتا ہے

کسی آتے ہوئے سائے کی آہٹ سُنتا رہتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

اندیشہ دار

چیخ کے کہتا ہوں نیزہ برداروں سے

شہر پناہ کے سب سے اونچے بام پہ جو استادہ ہیں

سنو’ سنو

اکڑی گردن کو خَم دے کر تم دیکھو تو

کتنا پانی ڈوب چکا ہے چوری چوری

بستی کی بنیادوں میں

کتنی دھنسی ہوئی مٹی نے

شہر پناہ کی ستر کو ننگا کر ڈالا ہے

ایک دھڑام

جو آج کے دن کو بے فردا کر جائے گی

کون سنے گا

بجلی گرنے کی آواز تو کافی دیر کے بعد

آتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

مَیں

تمہیں معلوم ہی کیا’ کون ہوں میں

کون سے ملتے بچھڑتے پل کے سنگم پر

کسی اسرار نے اپنی سنہری دھڑکنوں کی تال پر

مٹی سے بالیدہ کیا مجھ کو

تمہیں معلوم ہی کیا

اُس جہانوں کے جہاں والے نے

کس خوش بخت کو شہزادگی بخشی

چٹکتے کیسری لمحے کی بے سایہ زمینوں کی

تمہیں تو چاہئے تھا وقت سے لمحہ چرا کر

مجھ سے ملتے اُس ابد آباد جہلم کے محلے میں

جہاں کی تنگنائی سے افق کی وسعتوں تک

سرحدیں تھیں میری کشور کی

کہاں مہلت ملی تم کو

کہ آ کر دیکھتے آوارگی کے تخت پر اُڑتے سلیماں کو

کبھی تم دیکھتے آ کر

صبا کے ساتھ قصرِ خواب کی پھلواریوں میں گُھومتی

اُس موج پِیچاں کو

تمہیں معلوم ہی کیا، کون ہوں میں

ایک چوتھائی صدی سے عمر کی لمبی گلی میں

روز ہی جاتا ہوں دریوزہ گری کرنے

زمیں زادہ خداوندانِ نعمت کے دروں پر نوکری کرنے

آفتاب اقبال شمیم

دوسرے منظر کی بازگشت

بہت گہرائیوں میں جا کے مت پوچھو

تمہیں میں کیا بتاؤں گا۔۔۔۔ہنسی آ جائے گی مجھ کو

کہ اُن تاریکیوں کے شہر بے حد میں

چراغِ چشم لے کر میں نے دیکھا

چراغِ چشم ایسا تھا کہ جس کے عقب میں بھی

ٹمٹماتی تھیں لویں سی نا شناسائی کے نادیدہ

چراغوں کی

مری تحقیق نا کافی سہی لیکن

وہی جو روشنی تھی دستیاب اُس سے

یہی دیکھا کہ

سچے خواب بھی سچے نہیں ہوتے

اُمیدیں داشتائیں ہیں۔۔۔۔رعایا کی

جو دادِ عیش ناداری پہ پلتی ہیں

جسے عادت ہے خود پہ رحم کھا کھا کر گزر اوقات کرنے کی

تغیر ایک ڈھارس ہے بدلنے کی

یہی دس بیس برسوں کے اُجالے میں

اور اس کے بعد اگلے آمروں کا دور آتا ہے

نشیبوں پر ذرا سے نخل کی مانند ہے دنیا

جو گہرے جبر کی وسعت میں پلتا ہے

وہی رفتہ کا رفتہ

اور آئندہ کا آئندہ

ہمیشہ گھوم پھر کے مطلعِ منظر پہ چڑھتا اور ڈھلتا ہے

وہ عامل۔۔۔۔

اور میں معمول گزرے چار عشروں کے تماشے کا

وہی بولوں گا جو بتلائے گا مجھ کو

کہ میں پس ماندگی میں رہ گیا ہوں وقت سے پیچھے

کہ میں۔۔۔۔

شگفت

ایک خیالِ خواب افروز کی کرنوں نے

اپنے نور سے درزیں بھر دیں بستی کے دروازوں کی

چُپ کی خاک سے تانیں پھوٹیں ہری ہری آوازوں کی

ایک نگاہِ فردا زاد بلندی سے

کیسی کیسی رمزیں لے کر آئی اپنے دامن میں

پھیلی جن سے خوابوں کی خوشحالی آنگن آنگن میں

ایک صدائے دُرونما نے اپنے قول کی برکت سے

صدیوں کی نادار زمیں کو تحفہ کیا نایاب دیا

مٹی کو اک سمت عطا کی’ آنکھوں کو اک خواب دیا

آفتاب اقبال شمیم

آدھی نظم

مشقِ جنوں کرتا رہتا ہوں

جانے کب وہ مرد صفت لمحہ آ پہنچے

جو معمول کی اِس شائستہ نظم کا دامن چاک کرے

دید برہنہ سچائی کی’ لفظوں کو بے باک کرے

آنسو’ توڑ کے ساحل خالی آنکھوں کا

اِس ظلمت کی مٹی کو نمناک کرے

کوئی مداو؟۔۔۔۔اوسطیوں کی نسل مجھے

اپنی عمروں کے ترکے سے عاق کرے

دل کہتا ہے

آ خطرے کی سب سے اُنچی چوٹی پر

جان کو عریاں کرنے کا وہ رقص کریں

جس کو دیکھ کے ساری دنیا پاگل ہو

خون کے اندر صدیوں کی خفتہ آنکھوں میں ہلچل ہو

اور شرر بھر وقفے میں یہ آدھی نظم مکمل ہو

آفتاب اقبال شمیم

نخلِ رواں

میں وہ نخل رواں ہوں

جو نمود و نیستی کی گردشوں میں گھومتا رہتا ہے

بستی کے ذخیرے میں

جہاں پر آب رو دنیا کی بہتی ہے

بقائے روزمرہ کی ضمانت میں

جہاں پر وقت

دن بھر گرم کرنیں گوندھنا رہتا ہے

میری سرد مٹی کی قدامت میں

وہ کرنیں’ جو سماع و رقص میں انبوہِ خورشیداں

کے آوارہ خراباتی

لٹاتے پھر رہے ہیں لامکانوں کے اندھیرے میں

یہ سیم و زر ذکاوت اور جذبوں کے

رضائے وقت نے شاید نکالے ہیں

اِنہی کرنوں’ اِسی مٹی، اِسی پانی کے معدن سے

یہ سیم و زر۔۔۔۔یہ میرے بھید کے اثمار جو

لگتے ہیں اوجِ شاخِ ہستی پر

انہیں میں دیکھتا ہوں نیم بینندہ نگاہوں سے

انہیں میں دُور سے چھوتا ہوں

اپنے لمس کی کوتاہ دستی سے

سمجھتا ہوں کہ اِن کو جانچنا شاید مرے پیمانۂِ  لفظ و عدد میں ہو

یہ لامحدود میری جستجو’ میری تمناؤں کی حد میں ہو

آفتاب اقبال شمیم

وارداتیا

ہوا یوں تھا

کہ وہ دانستہ’ نادانستہ اُس دن

کارگاہِ مصلحت کے ساختہ’ آنکھوں کے عدسے

اپنے گھر پر بھول آیا تھا

وہ وسطِ شہر سے گزرا تو شاید

راج گھر میں اُس سمے اجلاس جاری تھا

اُسے ایسے نظر آیا کہ جیسے کوئی منظر ہو

ڈرامے کا

ہنسا وہ مسخرہ پن دیکھ کر سنجیدہ چہروں پر

محبت کی کہانی میں

اُسے گرما دیا تکرار کی تکرار کرتے عشق بازوں نے

تصادم خیز تھا ماحول برجستہ کلامی کا

فضا میں سنسنی ٹلتے ہوئے سسپنس کی سی تھی

دھوئیں اور دھول کے سیناریو میں

یہ اُبھرواں اور اُجلایا ہوا منظر

اُسے ایسے پسند آیا

کہ بے قابو سا ہو کر داد دی دل کھول کے

اُس نے ڈرامے کے مصنف کو

اسی پاداش میں جیسے کہ ہوتا ہے ہمیشہ سے

اسے اس عامیانہ پن پہ ٹھہرایا گیا

مجرم’ متین و برگزیدہ کی اہانت کا

آفتاب اقبال شمیم

دو چہرے۔۔۔۔ایک چہرہ

دن کے دورانئے میں

ایک بے لیکھ جواری کی طرح

ہار دیتے ہو کمایا ہوا دھن خوابوں کا

پاؤں کے گرد تھکن بن کے لپٹتے ہوئے اِس رستے پر

نیم فہمیدہ مقاصد کی تگ و دو میں رواں رہتے ہو

ایک موہوم سے وعدے کے تعاقب میں سدا

کیوں نہ اک تجربہ کر کے دیکھیں

چل کے اس رات کے میخانے میں

آج ہم اتنا پیئں’ اتنا پیئں

کہ اندھیرا بھی نشے میں آ کر

ہچکیاں لینے لگے

اور جب اپنے ادھورے پن کو

سیل تسلیم کی موجوں میں ڈبو کر نکلیں

ہاتھ رکھے ہوئے اک دوسرے کے کاندھے پر

کیا عجب دن کے دکھاوے کی نظر بندیوں سے

آنکھ آزاد ملے

اور اِن روشنیوں کے خوانچے میں

رکھ کے شیرینیاں جو بیچتا ہے

اس کی آواز پہ بچوں کی طرح

ہم نہ للچائیں کہ یہ زہر لہو میں جا کر

قطرہ قطرہ سیاہی میں بدل جاتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

شہر کے لئے دعا

اے خدا عمریں دے

ایسے پیوند لگے پیڑوں کو

جن کی کم وقت نہادوں سے ابھی پھوٹی نہیں

وہ اکائی کی تراوت جو نئی ٹہنی کو

جورِ موسم سے نمٹنے کی سکت دیتی ہے

اے محبت کے خدا!

اپنے ایوانِ تغافل سے ذرا نیچے آ

اور اس شہر کو جو آئنہ داری کے تمدن سے ابھی عاری ہے

جس میں زر خوردہ ثقافت کی عمل داری ہے

اپنی تخریب کے حملے سے بچا

ورنہ یہ رعشہءِخوف

یہ فشارِ ہوس و حرص کا روگ

جس سے اعضائے بدن اپنے توازن میں نہیں

بڑھ گیا اور تو پھر اس کے لئے

نا امیدی کے سوا

نسخہءِچارہ گری کر نہ سکے گی تجویز

تیری بخشش’ تیری فطرت کی مسیحائی بھی

فیصلِ وقت کی بینائی بھی

آفتاب اقبال شمیم

حوصلے والے

آ چرائی ہوئی آنکھ سے دیکھ کر

بے نیازانہ برتیں اُسے جو ملا ہے ہمیں

اور چپ چاپ بیزاریاں کاٹنے کی سزائیں سہیں

جیسے فردوس کے راندگاں

آگ کی کیچڑوں میں فراغت سے لیٹے ہوئے

اپنے معمول کی نا امیدی میں جلتے رہیں

اور جیسے زنانِ مہ و سال خوردہ

بجھی جنس کی اور بڑھتی ہوئی عمر کی راکھ کو

دستِ افسوس کی سلوٹوں میں سمیٹے ہوئے

روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوں

اور جیسے کوئی ہر دفعہ

مکتبِ شوق سے لوٹ آئے درِ بند کو دیکھ کر

جس پہ آویزاں نوٹس ہو

تعطیل کے بعد تعطیل کا

آفتاب اقبال شمیم

پڑاؤ۔۔۔۔بے سفر مسافروں کا

یہ جوہڑ عضوِ بریدہ ہے اُس دریا کا

جس کے شفاف بہاؤ میں ہر ٹھہرا منظر بہتا تھا

جو گزرا کل کی بستی سے

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے پرچھائیں اپنے گھاؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

کچھ خار و خس’ کچھ ٹوٹے پر’ طائر ایامِگذشتہ کا

ٹہنی کے خمیدہ شانے پر

اس خالی سرد بسیرے میں

اور چھوڑ گیا’ اپنے پیچھے مٹھی میں بند عفونت سی ٹھراؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

مسند پہ کلاہ خود داری کی’ وہ شاہ سوار جو گزرا تھا

اِس رستے سے

جو فرش یہ اوندھی رکھ دی ہے

ان آج کے عزت داروں نے

اب کاسہءِدستِ گدایاں ہے

اور اپنے آپ پہ حیراں ہے

آفتاب اقبال شمیم

روشنی نا روشنی

سارے رنگ ادھورے ہیں

سب خوشبوئیں

میرے مشامِ ذوق کو ترسایا ترسایا رکھتی ہیں

آنکھوں کی اِس ناآسودہ بستی میں

روشنیوں نا روشنیوں کی آپس میں یک جہتی ہے

دھوپ ہمیشہ سائے سے سمجھوتہ کر کے رہتی ہے

ہریالی سے پیلے پن

اور پیلے پن سے ہریالی کے

گردش کرتے موسم میں ایک تماشا برپا رہتا ہے محدود تغیر کا ایک بخل کے عالم میں

عمر کے اس پیمانہءِکم کیفیت کو

رنگیں کر لیتا ہوں اپنے خوابوں کی آمیزش سے

اگلے دن کی دھوپ میں جو اُڑ جاتے ہیں

اِن رنگوں کی بخشش سے

آفتاب اقبال شمیم

مارکوپولو برج

شہر سے کچھ پرے

پُل کے نیچے اُنہیں

خشک ندی کی بہتی ہوئی ریت پر

باڑماری گئی

سینہءِشب میں ہلکی سی لرزش ہوئی

چند صحنوں میں قد کے برابر بلندی سے

چیخیں گریں

بے بسی کے اندھیرے کنوئیں میں دھمک سی ہوئی

اور اوپر کہیں لوحِ تقدیر پر

حاکم نیک اندیش کی عمر میں اور توسیع

کر دی گئی

آفتاب اقبال شمیم

ساحلِ سمندر پر (ماؤ کی نظم پئے تاخہ کے پس منظر میں)

یہیں کبوتر کے اِس بسیرے کے دیدباں سے

روانہ ہو کر

اِسی سمندر کے پار اُتریں

اُفق کے ساحل پہ اُس کی آنکھیں

یہیں پہ دیکھا نئے زمانے کا خواب اُس نے

یہ پاک دربار پانیوں کا

وہی ہے جس میں

ملی اسے خلوتِ بصیرت’ عنان برداریئ تغیر

یہیں پرانی حویلیوں کے کھنڈر سے اُس نے

نئی سحر کا طلوع دیکھا

یہیں سحر کا طلوع دیکھا

یہیں مصور کی آنکھ میں نقش خواب اُبھرا

وہ خواب۔۔۔۔تعبیر بن کے جس کی

ہزاروں برسوں کی جبر خوردہ زمیں سے

یوم حساب اُبھرا

آفتاب اقبال شمیم

ٹھہرا ہوا منظر

دل کے اک متروک گوشے میں وفا کی

خوبصورت راہبہ بیٹھی ہوئی

اپنے گردا گرد

بے برکت دعا کا نور پھیلائے ہوئے

مدتوں سے۔۔۔۔جانے کس کی منتظر

اور باہر

شہر کی دہلیز پر

رات کے نوزائیدہ بچے کے جشنِ تہنیت میں

رقص کرتے ہیجڑے

درد کی فرہنگ کے سارے ورق بکھرے ہوئے

لفظِ نابینا کے آگے درج معنی کا خلا

عشرتِ یک شب کے دلدادہ تماشابیں

بہک کر

جمگھٹوں میں بامِ ثروت کی طرف جاتے ہوئے

نغمہ بے سوز سننے کے لئے

اور کم میعاد کی مانگی ہوئی خوشحالیوں کے پیرہن سے

شوخ’ کچا رنگ۔۔۔۔ ناپختہ چمک اڑتی ہوئی

ایک گوشے میں اکیلا

معرکہ زارِ شکست پے بہ پے میں ایستادہ نوجواں

بے بس و مجبور’ بے دست و کماں

آفتاب اقبال شمیم

مراجعت

شامِ فنا کی جھیل پر

کیا بے بسی تھی، جو اُسے اُس سے چھڑا کر لے گئی

باہر محیطِ چشم سے

اک اجنبی سا شخص تھا’ جو دھوپ کے پردیس سے

نکلا بدن پر اوڑھنے

سایہ درختِ آب سے مانگا ہو

اندر بپا کہرام تھا

ہارے ہوئے برسوں کا بنجر منطقے کی ریت پر

ننگی ہوا کی سیٹیوں کے بین میں

چلتے ہوئے۔۔۔۔کیا جانئے’ کیوں رک گیا

شاید اُسے آیا نظر

اِن شدتوں کی اوٹ میں اک عکس سا

کھوئی ہوئی پہچان کا

آئی اُسے شاید زمینِ سبز کی

مانوس مٹی کی مہک

شاید لپک کر آئی ہوں۔۔۔۔سرگوشیاں

دکھ کے پرانے سرمئی خیموں سے اُس کی سمت

پہچانے ہوئے انفاس کی

وہ اجنبی۔۔۔۔کیا جانئے کیوں رک گیا

ممکن ہے خود پر منکشف

ہوتے ہوئے اس نے سنا ہو پاس کی

اُس کنج میں

شاخِ ہوا پر خوشبوؤں کا چہچہا

اُس ڈال پر

جُھولا جُھلاتی یاد کی بانہوں میں

رنگیں چوڑیوں کا نغمہءِخواب آفریں

کچھ دوستوں کا ذکر موجِ ساز پر

احساس کے سنگیت کا چھیڑا ہوا

کوئی پراناواقعہ۔۔۔۔

وہ رک گیا

اور لوٹ کر’ کچھ مختلف انداز میں

دُکھ کے پرانے قافلے سے آ ملا

آفتاب اقبال شمیم

پیاسوں کے لئے ایک نظم

ہم وارث تختِ تمنا کے

ٹھہرے منظرکے سائے سے کب نکلیں گے

دُکھ کی دیروز سرائے سے کب نکلیں گے

ہم آب سراب کے دریا کو

دریا، کیسے تسلیم کریں

اے دل والو!

کچھ چھینٹے شوقِ تغیر کے ہم پر ڈالو

دھڑ پتھر کے متحرک ہوں

ہم وارث تختِ تمنا کے

سانسوں کی حبس حویلی میں، جینا اپنا معمول کریں

آتہمتِ کفر قبول کریں

آبرسیں ٹوٹ کے آنکھوں سے

مرجھائے وقت کی ظلمت کو، سیراب کریں

پھر نشوونما کا شجر اُگے

اِمکان کے فردا زاروں میں

پھر موسم کے میخانے کا در کھل جائے

میخواروں پر، دروازہءِمنظر کھل جائے

پھر عرش، زمیں کی باہوں میں

باہیں ڈالے

اس بستی کی، دہلیز پہ آکر رقص کرے

ہر لمحے کی پھلواری میں

طاؤسِ تغیّر رقص کرے

آفتاب اقبال شمیم

دھوپ ندی کا مانجھی

دھوپ کی مغویہ اور وہ

شعر کی کنجِ روشن میں سرگوشیاں کر رہے تھے

کہ پکڑے گئے

ظلمتوں کے کماں دار مقتل کی جانب

لئے جا رہے ہیں انہیں

ایک ہُو کی صدا آبنوسوں سے اٹھتی ہوئی

سُن ذرا دستکیں بستیوں میں

جہاں گیر پیغام کی

دیکھ! اس دار پر

چند چھینوں کی شہ سرخیاں

اور خبریں کنشت و کلیسا کی دیوار پر

کوہِ زندہ سے گرتے ہوئے پیڑ کی

دیکھ!

برگِ خزاں بر د ٹہنی پہ پھر سے نمودار ہوتا ہوا

ہر دریچے میں

آنکھوں کی کلیاں سلاخوں پہ چٹکی ہوئی

عکس سے عکس بنتے ہوئے

جیسے جشنِ چراغاں سرِ آب جُو۔۔۔۔

بارشِ اشک سے خشک جنگل میں ہریالیوں کی نمو

آفتاب اقبال شمیم

پیاس ادھورے لمحے کی

عمر۔۔۔۔ ادھورا لمحہ وقت کی کایا کا

پیاسی سہ پہروں سے آگے

رات کی رُت میں

سپنے کی بہتی ندی کی مدھم سی آواز سنائی دیتی ہے

اور میں سرگوشی میں اس سے کہتا ہوں

جانِ من!

یہ جنموں کی وہ بستی ہے

جس کے سبز علاقے میں ہم دونوں کا سنجوگ ہوا

اور جہاں رنگوں، خوشبوؤں کے اُس گزرے موسم میں

یادوں کا اک آنگن ہے۔۔۔۔

جس کے پیچھے کے کمرے میں

نقب لگا کر

مجھ کو خود معلوم نہیں کیا چیز چُرانے جاتا ہوں

برسوں کے روزن سے آتے

نم آلود اجالے میں

چیزوں کی بدلی بوسیدہ شکلوں کو

اُلٹ پلٹ کر تکتا ہوں

اور اندھیری گونج کی لمبی راہداری سے

ہاتھ کا خالی کاسہ تھامے

لوٹ آتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اُس سے دو ملاقاتیں

جان کے امبر پہ ساون خواہشیں اُمڈی ہوئی

اور آنکھوں کی خیاباں میں

مہکتی روشنی

پوششِ گل میں کسی ندی پہ تکتا ہوں تجھے

اک لپکتا عکس۔۔۔۔ آئینے کے اندر مضطرب

ایک منظر کا سنہراپن۔۔۔۔ ہرے جنگل میں آوازِ سحر کے شور سے

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تُو دہکتی سانس کی سچائیوں سے

مجھ کو مجھ سے آشنا کرتی ہوئی

جنگلوں کی راج دھانی میں سوئمبر جان کی پہچان کا

اور اب۔۔۔۔

دیکھتا ہوں شہر کی اونچی فصیلوں کی اُترتی دھوپ میں

رسم کے ملبوس میں لپٹا ہوا تیرا بدن

مجھ سے میری دوریوں کے کرب سے ناآشنا

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تیرا پیکر

سرمئی سی شام کے اسرار سے رنگِ شفق کی دلبری

چھِنتی ہوئی

اور تو اس جھٹپٹے کی شاہزادی

خوبصورت۔۔۔۔ نیم دیدہ خواب کی مانند

لگتی ہے مجھے

آفتاب اقبال شمیم

منکر کا خوف

پرانا پاسباں ظِلّ الٰہی کا

جسے چاہے، کرے نصب عطا عالم پناہی کا

اُسے ترکیب آتی ہے

کسی مضمونِ کہنہ کو نیا عنوان دینے کی

وہ دیدہ ور ہمیشہ سے معین ہے

ہمارے راستے کے پست و بالا پر

وہ دانا اپنے منصوبے بناتا ہے

ہماری فطرتوں کی خاکِ ظلمت سے

ہماری خواہشِ تکرار کی دیرینہ عادت سے

وہ معبد ساز، بت گر اپنی ہستی کے تقدس میں

سدا محفوظ رکھتا ہے

ہمارے گھر کو تحقیق و تجسّس کی بلاؤں سے

کہیں اوہام کی عمدہ شبہیوں میں

ثقافت کے نگارستاں سجاتا ہے۔۔۔۔

کہیں خوش فہمیوں کے استعارے سے

ہرے لفظوں کے باغیچے کھلاتا ہے

کہیں نوکِ سناں کے اسم و افسوں سے

لہو کی بند میں تسلیم کی کرنیں جگاتا ہے

قلوب اہلِ زمیں کے اس کی مٹھی میں دھڑکتے ہیں

شعور اس کا سدا مامور رہتا ہے

ہمیں، اچھے بُرے کے فلسفے کی آڑ میں

ہم سے چھپانے پر

مگر اس کا مداوا کیا

کہ وہ پروردگارِ زور و حکمت اپنی نیندوں میں

ہمیشہ سے

وجودِ فرد میں اک مضطرب سی شے سے ڈرتا ہے

وہ شے۔۔۔۔ جس کی حقیقت

وقت کا اِبلیس اُس پر فاش کرتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

گلی

یہاں پر روشنی

ہر روز مقدارِ مقرر میں اترتی ہے

یہاں پر زندگی کو نالیوں کے فحش پانی کی نمی

سیراب کرتی ہے

دھوئیں کے شامیانے میں

یہاں لڑکے غروبِ شام سے ہی کرنے لگتے ہیں

تھکن کی دھول میں تیاریاں سپنوں کے میلوں کی۔۔۔۔

ابھی چلتے ہوئے ہو گا

اُسے احساس سانسوں کے ذرا سے گرم ہونے کا

کسی در پر لٹکتے ٹاٹ کے اُدھڑے کنارے پر

گلابی انگلیوں کا پھول مہکے گا

سکینہ مسکرائے گی

فضائے دل میں جینے کی تمنا گنگنائے گی۔۔۔۔

ابھی دہلیز تک آکر

اُسے ماں اپنی ناداری

کے عالم میں دعا دے گی

وہ گھر سے رِزق کے کھلیان کی جانب

ہوا میں تیرتا۔۔۔۔ ہرےالیاں چُننے نکل جائے گا

ڈھلتی دھوپ کے آنگن میں آکر

مژدہءِفردا سنائے گا

سنو ماں! سبز خوشحالی کا موسم آنے والا ہے۔۔۔

یہاں خشتِ شکستہ کی کسی دہلیز پر بیٹھے

وہ ہم عمروں کی سنگت میں

سناتا اور سنتا ہے

کہانا اُس دلاور شاہزادے کی

جو دیوِ جبر کو تسخیر کرتا ہے

یہاں وہ بچپنے سے نیم عمری تک

ہزیمت کے سفر میں

رفتہ رفتہ یہ گلی اپنے بدن کی خاک میں تعمیر کرتا ہے

اچانک خواب سے اٹھ کر

وہ اپنے خوں میں پلتی زرد بیزاری میں کہتا ہے

میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

آفتاب اقبال شمیم

اے وطن!

اے وطن!

کوئی کیوں مجھ پہ تیری ثنا،

تیری توصیف کی شرط عائد کرے

جبکہ میری محبت کی خاموشیاں

لفظ کے شور سے معتبر

میرے سینے کے معبدمیں تیرے تقدس کی گلنار

شمعیں جلائے رکھیں

عطر سا کنجِ دل میں اڑائے رکھیں

میں کہ پیکر ہوں تیری ہی مٹی کی تخلیق کا

تیری مہکار کو ہر مسامِ بدن میں چھپائے ہوئے

فخر کرتا ہوں خود پر کہ میں

زندگی کی سفارت میں تیرا نمائندہ ہوں

اور تیری ہی تائید سے زندہ ہوں

تیری ”تو” میری ”میں” ۔۔۔۔۔۔ ایک باطن کے دو روپ ہیں

اے وطن!

میں تری خاک کی سرفرازی کے اِقرار میں

سر اٹھائے رکھوں

اور میرا یہ انداز ہی ہے قصیدہ ترا

اے وطن!

گونجتا ہے مرے خواب میں نغمہءِناشنیدہ ترا

میری ناداریوں پر

ترا منظرِخلد کھلتا نہیں

گنجِ بخشش پہ بیٹھے ہوئے اژدہوں کی شررر بار پھنکار سے

ترے فرزند جھلسے ہوئے

تیری اولاد صدیوں سے اجڑی ہوئی

استقامت سے امید کے رزق پر جی رہی ہے

کہ تو۔۔۔۔ ایک دن

پست و بالا کی تفریق سے ماورا

ایک سی روشنی۔۔۔۔ مثلِ خورشید۔۔۔۔ تقسیم کرتا نظر آئے گا

سارے پیڑوں پہ ہریالیوں کا ثمر آئے گا

اے وطن! اے وطن!

آفتاب اقبال شمیم

بنتِ براہیم (صعنا کی نذر)

تجھے جاناں!

معطر آنسوؤں کی اوٹ سے آنکھوں نے دیکھا

تُو۔۔۔۔ عروسِ آسماں

اپنے جواں جذبے کے سادہ سے بلاوے پر

شفق کی قِرمزی پوشاک پہنے

گیسوےں میں شام کی چنبیلیاں گوندھے ہوئے

اِقرار کے معبد سے نکلی تھی

قبولِ عشق کا سجدہ ادا کر کے

عجب منظر تھا رونق کا

زمیں نے ان گنت طائر اُڑائے روشنی کے

تیرے رستے میں

چھنا چھن۔۔۔۔ منتشر ہوتی ہوئی خوشبو نے ہر ہر سُو

لُٹائی نقرئی خیرات سپنوں کی

نمو کا شوق جاگا سرمئی مٹی کے سینے میں

کیا طے زندگی سے زندگی تک کا سفر اک جست میں

بخشش کے لمحے نے

شگفت ایسی ہوئی تاریکیوں میں دُور تک اُڑتے شرارے کی

دِل شب میں

اندھیرے کے چٹخنے کی صدا آئی

دھڑکتے بولتے رنگوں نے ہر خیمے میں جا جا کر

منادی کی

اُسے دیکھو!

اشاروں میں بلاتی ہے تمہیں بامِ بلندی سے

تمہیں جو عشق کے میلے میں آئے ہو!

اُسے دیکھو!

ذرا سی خاک

کیسے خوبصورت منظروں کے گلستاں تخلیق کرتی ہے

فنا ہو کر

بقا کی داستاں تخلیق کرتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

آس پیاس

آخر تم نے

میرے لیکھ میں میرے بھید کا مجھ پر ایسے

کم کم کھلنا کیوں لکھا تھا!

کیسے دن تھے

خواب میں اپنی تخت نشینی کا منظر جب دیکھا تھا

دودھ کا امرت، پیار کا بوسہ

خوشبو کے کیسے جھونکے تھے، جن کے لمس سے لمس ملا کر

دھوپ میں شعلے کی کیفیت جاگی تھی

اور مجھے چاروں جانب کے آئینوں کی دنیا میں

تنہائی کا، کثرت کا دلچسپ تماشا

خود ہی منظر خود ہی ناظر بن کر اپنے راج نگر میں

تکنا تھا

اپنے آپ کو میں نے دیکھا سپنے کے سنگھاسن سے

دن کی ہولی کے میلے میں

تصویروں پر تصویروں کے رنگ گرانے والوں میں

اور اِسی میلے میں پھر ڈھلتی دوپہر کے رستے پر

میں نے اپنے آپ کو دیکھا

بھِیڑ کے اندر تنہائی کی راکھ اُڑانے والوں میں

کیسے دن ہیں۔۔۔۔ اونچائی سے

میرے نام پہ میری آس کا ساون دھارا

اوک میں چھینٹے چھوڑ گیا ہے

اور میں خود سے سرگوشی میں کہتا ہوں

پیارے یہ دن دوبارہ بھی آئے گا

تو نے یہ منظر آنے سے پہلے بھی تو دیکھاتھا

آفتاب اقبال شمیم

ہم (٢)

یہ زمیں، یہ سمندر، یہ کہسار، یہ آسماں

اور ہم ایک ہیں

برگ و گل، شاخ و طائر، زمان و مکاں

اور لوح و قلم ایک ہیں

اے اندھیرے میں سوئے ہوئے فاتحو!

شرمساری سے ہم سرجھکائے کھڑے ہیں، ہمیں

آ کے لوٹاؤ

اتلاف کی تیغ سے ساری لُوٹی ہوئی بستیاں

سارے مارے ہوئے نوجواں

اورجن شاعروں نے تمہارے قصیدے لکھے

ان سے آ کر کہو

اپنی توقیر کی خلعتیں پھینک دیں

دل کی پس ماندگی کے نوشتوں پہ اپنی ملامت کریں

کون کس سے بڑا ہے۔۔۔۔ کہو!

برتری کی روایت یہاں کمتروں نے رکھی

وہ جو فطرت کی آواز سے منحرف ہو گئے

ساعدِ خاک کو بے حنا کر کے

بدصورتی سے بیاہے گئے۔۔۔۔

زندگی آسمانوں کی جانب لپکتی ہوئی

روشنی کے سفر میں

ستارے، مہ و مہر، سیرِ زمیں پہ ہمیشہ سے نکلے ہوئے

ایک قرطاس پر ایک تصویر پھیلی ہوئی

اور تم۔۔۔۔ فرق و تفریق کے پیشواؤں کی تقلید میں

تنگیوں کی کمندوں سے پھیلی ہوئی وسعتیں

صید کرنے پہ مامور ہو

دن کو شب اور پھر شب کو دن میں بدلتے ہوئے وقت سے

ایک لمحے کی عریانیاں مانگ کر

خود کو دیکھو کبھی

’’ہست‘‘ کے سارے رشتے تمہارے حوالے سے ہیں

اپنی طے کردہ سچائیوں کی نظربندیاں توڑ کر

رقص کرتے ستاروں کے نغمے سنو!

مہر کے زر سے کیسے تونگر ہوئی ہے زمیں

کس طرح مٹیوں کے بدن میں کرن ڈوب کر

آسماں کی نیازیں

کبھی رنگ و خوشبو، کبھی نخل و انساں، کبھی ناچ کے، گیت کے

روپ میں۔۔۔۔ بانٹتی ہے

کہو! کون کس سے بڑا ہے

کہو!

آفتاب اقبال شمیم

وہ اور میں

اُس کے دھیان میں ارمانوں کی جوت جگائے بیٹھا ہوں

وہ گوری تو ایسی ہے

جیسے دھوپ کے گلشن میں بہتی ندی کا نغمہ ہو

روشنیوں کی رِم جھم میں

اُس کا بھیگا بھیگا مکھڑا جب دیکھوں

اَن دیکھا ہی رہ جائے

بے تسخیر ہے جادو اس کی آنکھوں کا۔۔۔۔

وہ تو وہ ہے

اور مرے آدرش کے جیون مندر میں

دیکھوں تو مجھ جیسی ہے

میں اپنی پہچان کے بھیدی لمحے میں

اس سے پوچھوں

گوری! تم کیوں اپنے رنگ دکھا کر مجھ سے

اپنا انگ چراتی ہو؟

وہ مجھ کو سمجھائے لیکھ اشارے میں

تم مٹی کی کایا ہو

روپ سے روپ بدلتا، ڈھلتا سایا ہو

میں تو میں ہوں

کل کے آج میں، آج کے کل میں رہتی ہوں

جنم جنم سے اک اک پل میں رہتی ہوں

آفتاب اقبال شمیم

دُوری کے ا فق

آپ ملاپ کا سپنا تم نے دیکھا تھا؟

ہاں سائیں!

وہ میری انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا تھا اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کو دُور افق میں

تکتے تکتے کہتا تھا

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے

موج کا ظرف بڑھے تو دریا ہو جائے

تم چاہو تو

سانس کا جھونکا تیز ہوا کا جنگل بھی بن سکتا ہے

دیکھو! تم سپنے کی جوت جگائے رکھنا اپنے دل کے مندر میں

سر سے سر کو اونچا کر کے اُس دانا سے

جو مانگو گے پاؤ گے۔۔۔۔

آپ ملاپ کی آشا کے اس عمروں لمبے رستے پر

آج میں خود سے پوچھ رہا ہوں

وہ جو بیچ شراروں کے

میں نے جذبوں کے موسم میں بوئے تھے

اُن سے راکھ کی فصلیں کیوں اُگ آئی ہیں؟

(ہاں سائیں!

روز کے سمجھوتوں کے بدلے

اتنا ہی تاوان ادا کرنا پڑتا ہے)

اور زیاں کے اِس حاصل سے

میں نے یاس کا جو آکاش بنایا ہے

اس کے نیچے، شام کے میلے میں دنیا کے سوداگر

مجھ سے آنکھ بچا کر کیسے

رنگ برنگے منظر اُس کی آنکھوں میں بھر جاتے ہیں

وہ۔۔۔۔ جس کی انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا ہوں اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کی جانب تک کر کہتا ہوں

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے! ۔۔۔۔ خاکستر ہے!

آفتاب اقبال شمیم

خواب کی خالی مچان

چار دیواری میں گر گر کر شفق بجھتی ہوئی

دید بانوں سے لگی آنکھوں میں

ننگے خنجروں کے عکس تھرائے ہوئے

اور بے بازو جواں کے سامنے رکھی ہوئی

خالی کماں

مسکنِ تقدیر ۔ ۔ ۔ ۔ ایوانِ سفید

بھیجتا ہے زر نوشتہ حکم روہیلے کے نام

بے بسی کے قصر میں

نوجواں شہزادیوں کے جسم

خوفِ مرگ سے ڈھلکے ہوئے

اورآ نکھوں میں سلائی پھیرتا لمحہ

زوالِ روشنی لکھتا ہوا

سب نے اپنے دوش پر

رکھا ہوا ہے کپکپاتا ہاتھ کل کی آس کا

دےکھ! منظر یا س کا

کس طرح یہ بے ارادہ جرأتیں

طے کریں اک جست میں پس ماندگی کا فاصلہ!

آفتاب اقبال شمیم

مرحبا!

کشفِ منظر کا پیمبر

توڑتا ہے یاس کے آزر کے بُت

آنکھ بے وہم و گماں

دیکھتی ہے جابہ جا اِس وسعتِ شب میں

اُچکتی روشنی کے واقعے ہوتے ہوئے

ذائقے کی آبجو میں خواہشوں کی لہر اٹھتی ہے کہیں

اور اِس باغِ سماعت کی خزاں کے عہد میں

کوئی طائر گیت کے رنگیں پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سے

مہکتی آس کا پیغام دیتا ہے ہمیں

برتری کے تخت پر بیٹھے ہوئے زور آوروں کے سامنے

کوئی سرکش آتشِ بارود سے کر کے کشید

پھونک دیتا ہے سُروں میں اپنے جسم و جان کی سچائیاں

دیکھتی ہے ماریا مغرب کی ظلمت میں

طلوعِ خواب کی رعنائیاں

اور صنعا اپنے بالوں میں سجا کر

پُھول اُجلی دھوپ کے

تنگ گلیوں سے کھلے میدان کی جانب رواں

ڈالتی جاتی ہے مایوسی کے خالی دامنوں میں

مُٹھیاں بھر بھر کے جذبوں کی نیاز

اور ہم خوش ہیں کہ دو جنگوں کے جابر فاتحوں کے سامنے

سینہ سپر ہے زیر دستوں کی انّا

مرحبا!

آفتاب اقبال شمیم

منحنی کی ثنا

بہت سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ اِس پر مُسکرا لینا

شفا دیتا ہے زخموں کو

چلو کہہ لیں کہ سطحیں منحنی ہیں

نارسائی کی

ہمارے علم کی پیمائشوں میں بھید کے رقبے نہیں آتے

چلو کہہ لیں

کہ پیچیدہ مسائل پر بہت سنجیدہ ہو جانا

جنم لیتا ہے ظرفِ کم کشادہ سے

کسی دشوار ناہموار کے خوفِ زیادہ سے

ہمارا قہرِ بے بخشش، ہماری مہرِ بے پایاں

ہمیشہ آنسوؤں کے المیے تخلیق کرتے ہیں

مگر پھر معتدل ہونا بھی راس آتا نہیں

ذوقِ طبیعت کو

ارادہ زوردارِ غیب کے آگے نہیں چلتا

کبھی چیزیں بگڑتی ہیں بنانے سے

کبھی آلام بڑھتے ہیں گھٹانے سے

یہاں نزدیکیوں میں دوریاں ہیں

اور ہم الفاظ مضمونوں میں ملتا ہے نہایت فرق

معنی کا

سبھی چہرے مشابہ ہیں

مگر ان پر

جدا آنکھوں کے پرچم پھڑ پھڑاتے ہیں

پرانی دانشیں۔۔۔۔

گرتا ہوا پختہ ثمر مٹی کی جھولی میں

مسائل بھی نئے حل بھی نیا ہمراہ لاتے ہیں نئے انداز

جینے کے

یہاں اس کچھ سے کچھ ہوتی ہوئی دنیا کے فردا میں

جو ہو گا وہ نہیں ہو گا۔۔۔۔

کہ منطق ہے یہی ہونے نہ ہونے کی

تو پھر سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ کوئی کیا کرے

ہر چیز کو تسلیم نا تسلیم کرنے کے سوا

چارہ نہیں کوئی

آفتاب اقبال شمیم

دریا درویش!

وہ دریا درویش

کسی پربت کی پتھریلی کٹیا میں رہتا ہے

چاندیوں سے دُھلی ہوئی

وادی کی صبحیں

کافیاں گاتے پانی کی

شفاف روانی میں عکسوں کے گجرے پہنے

اُس بے پروا آواز کے دھیمے بھاری لہجے کی

محبوبی میں’

سدا سہاگن رہتی ہیں

میں اُس کو برسوں سے پیاس پرندے کے

پاؤں میں باندھ کے سندیسہ

بھجواتا ہوں

آ ! اِس ہجر کے موسم میں

لہروں کے چمکیلے چمٹے پر بھیگی مٹی کی

اُڑتی خوشبو کے نعمے سے

آس کنارے پر رہنے والوں کی دنیا کو

مہکاتا جا

آ!  تیرا آنا مژدہ ہے تیرے دائم آنے کا

تجھ کو لوٹ کے جاتے کس نے دیکھا ہے

آ! اِن اشکوں کی مقدار بہت کم ہے

اِن کے نم سے کیسے ہم

سورج مکھیوں کے مرجھائے کھیتوں کو سیراب کریں

آفتاب اقبال شمیم

جہلم کے کنارے اک شام

اے ملاحو!

اِن لہروں کی کتنی چاندی ساتھ سمیٹے

اپنی رات کی کٹیا میں لے جاتے ہو

اور تمہارے روز کنارے کی بدبوئیں سلوٹ سلوٹ کپڑوں میں

سپنوں کی البیلیاں کیسے دھوتی ہیں

گیلی تو پڑ جاتی ہو گی موتیے جیسی رنگت

ان کے ہاتھوں کی

زخمی ہو تو ہو جاتے ہوں گے سبک سنہرے پاؤں اُن کے

جیون دکھ کے گھاٹوں پر

سایہ سا

دیوار سے اپنی پشت لگائے

ہولے ہولے کھینچ رہا ہے دھوپ کا کانٹا

اپنے ننگے پاؤں سے

ہونٹوں پر اُجڑی خاموشی شور کے گزرے لمحے کی

ڈھلتی شام کی پیشانی پر

زرد چنبیلی کا گھاؤ

پھیکی پڑتی کرنوں کی پیلاہٹ کو پھیلاتا ہے

ایک ستارہ

نم آلودہ پلکوں پر’ گھمبیر اندھیرے کے چُپ کی ویرانی میں

تھرّاتا ہے

اے ملاحو!

آنکھ بھنور سے کتنی دُوری پر تم ناؤ کھیتے ہو

غفلت کی عمروں کے لمبے رستے پر

مٹی اور کنارے کے ٹھہراؤ جیسی

یاد بھی ہے کچھ

کتنی چاندنیاں اور دُھوپیں

زرد اُداسی کی فصلوں کے کھیت بنیںِ

کتنے پتھر ریت بنے

اِس پانی کی

اپنے بانسوں سے تم نے کتنی گہرائی ناپی ہے

دریا بھید ہے اس سے کیسے دکھ کا انت ملے

ایک کھنڈر

بے آہٹ گزری صدیوں کا

شام سویرے کے رستے میں پھیلا ہے

اند باہر کی دنیائیں

جیسے ہوں خالی پرچھائیاں آپس کی

اور کنارا بھی دھارا ہو اُلٹا بہتے دریا کا

لوک کہانی والے جس میں

مٹی کے پیکر لمحوں کے بہتے رہنے کا نظاّرا

اپنی آنکھ کے ناٹک گھر سے

تکتے ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اے غیر فانی اجنبی!

اے غیر فانی اجنبی!

یہ زندگی، یہ خاکِ یکساں کی زمیں

تیرے لئے موزوں نہیں

تو نے فرازِ خواب سے دیکھا جسے

وہ یوں نہیں

کیا ہے تری میراث میں

کچھ چادرِ ایام کی بوسیدگی، کچھ بستیوں کی بیوگی

کچھ منظروں کی اوٹ میں اڑتی ہوئی

خوشبو گلِ نایاب کی

برجوں میں بجھتی روشنی

محرومیاں۔۔۔۔

ڈوبے ہوئے دن کا سماں۔۔۔۔

اُجڑا ہوا خیمہ جسے چھوڑ آئے پیچھے کارواں

اے غیر فانی اجنبی!

وہ زیرِ نخلاں درس گاہ دوستی

وہ غار جس میں روشنی

شاخِ بشارت پر کھلی

وہ چوب جس پر سُرخیاں اُبھریں نئے امکان کی

نغمہ نما آواز میں روئیدگی نروان کی

وہ زیر دستوں کے لئے منشور

اس روئے زمیں پر خلد کی تعمیر کا

لیکن یہ عادت خاک کی

ایجاد کر لینا بدل زنجیر کا

اے غیر فانی اجنبی!

کل بھی یہاں تو آئے گا

یہ خاکِ یکساں کی زمیں’ نیم آفریں

جلوہ تجھے دکھلائے گی بے انت کا

اس انت میں

کیسی شگفت اُس نام کی

پیغام کی

لکھے جسے دستِ زماں

مایا کے اڑتے رنگ میں

اے ہجر زادِ زندگی!

تیری تمنا کے افق ہیں بے زمیں’ بے آسماں

تیرے ہنر کی انگلیاں

جو لانی ء محدود سے شاید کبھی

پرچھائیوں کو باندھ لیں

لیکن نہیں

یہ خاکِ یکساں کی زمیں

تیری بقاء کی رازداں

اپنی انا تیری انا کے درمیاں

اک فاصلہ قائم رکھے

شاید تجھے یوں مضطرب دائم رکھے

آفتاب اقبال شمیم

ادھوری گونج گیتوں کی

اُداسی وسعتوں میں گا رہی ہے

اور میں خیمے میں بیٹھا ہوں

کسی بیتی ہوئی بستی کے دریا پر اترتی چاندنی کی

نیلمیں دھندلاہٹوں میں دیکھتا ہوں

اس کے چہرے کا کنول

اور سنتا ہوں

گئی رُت کے سنہرے پاؤں میں بجتی ہوئی

جھانجر کا، ہر لحظہ بدلتے سُر کا گیت

اور میرے پاس ہی سایہ مرا

گھٹنوں پہ سر رکھے ہوئے چپ چاپ،

چاکِ چشم سے لے کر تصّور کے افق تک

اس کی، ہلکے سرمئی رنگوں میں

تصویریں بناتا ہے

ادھوری گونج کے اس پیش منظر میں

زمینیں نارسائی کی

جہاں پر ساتھ چلتے چاند کو

آوارہ رکھتی ہیں نگاہیں آخرِ شب تک

جہاں پرانگلیاں لکھتی ہیں پھیلی ریت پر

اک حرف، نامعلوم سا

معدوم سا۔۔۔۔ آتی ہوا سے مہلتیں لے کر

محبت! اے محبت تو کہاں ہے

وقفہءِدائم ہمارے درمیاں ہے

اور میں افسوس کے قرطاس پر

لکھے ہوئے ضائع شدہ حرفوں کو اپنی

نوکِ ناخن سے کترتا ہوں

پھر اس گھاؤ میں

چشمِ آبدیدہ سے گزرتی روشنی کے رنگ بھرتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اے ہمیشہ کے زندانیو!

اک جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

راز کے سب حصاروں کو تسخیر کرتے ہوئے

اپنے دل میں اترتے ہوئے

پنجہءِدست سے نوچ لوں

وہ جڑیں جن سے اگتا ہے میری حدوں کا شجر

۔۔۔۔ منظرِکرب میں

آ ذرا دیکھ زنداں کی زنجیر کو حالتِ ضرب میں

سرمگیں آنکھ سے

غصہءِبے بسی کے شرارے نچڑتے ہوئے

اور آہن کے ہونٹوں پہ محشر بپا

جھنجھلائی ہوئی چیخ کا

اور پھر پوچھ خود سے کہ

پاؤں کی جولانیوں کی حدیں ہیں کہاں

۔۔۔۔۔۔ ان سلاخوں سے باہر ہرے پیڑ پر

کٹ کے گرتی پتنگوں کی چھوڑی ہوئی ڈور سے

ایک طائر کسی سایہءِشے کی مانند

لٹکا ہوا

۔۔۔۔ اور اس سے پرے

یہ شعاعِ نظر، آنکھ کی راہبر

سارے رنگوں کو مُٹھی میں بھینچے ہوئے

جانے کیا دیکھتی ہے دکھاتی ہے کیا

رُت کی پھلواریوں میں کہیں

خاک سے تادمِ گل، تمنا کے زندانیوں کا نفس

تارِ خوشبو کی مانند چلتا ہوا

۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے افق اور آگے افق

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

چار دیواریاں

وسعتوں کے مدور علاقے کی

چوکور شکلیں ہیں کیا؟

یہ چھتیں آسمانوں کی نقلیں ہیں کیا؟

یہ نگاہ و تصوّر کی پرواز، آزادیوں کی ہوس

خاک کی خوش خیالی ہے کیا؟

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

ضبط و تسلیم کی عادتیں ڈالنے کی دعا دو مجھے

کیا عجب اس طرح

اپنی شدت کو میں معتدل کر سکوں

یا

کسی دن جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

خود کو ہر دل کے اسرار میں

منتقل کر سکوں

آفتاب اقبال شمیم

ایک پرانے ورق پر نئی تحریر

بہت دھوپ ہے

میرے آنگن کی مٹی۔۔۔۔ ہنسی اور شرارت کے چھونے سے

جیسے سنہری سی ہونے لگی ہے

مرے پاس رنگین ملبوس میں اک خوشی

جھلملاتی کرن کے بنائے ہوئے نقش

برگِ گلابی کے نزدیک ٹھہری ہوئی نرم خوشبو کی مانند

بیٹھی ہوئی ہے

اور گہرے مساموں میں گھلتا ہوا لمس

بے نام سی سنسی کا

ہرے نم سے آلودہ سانسوں میں جیسے

اُجالے کے چھلکے ہوئے جام کی جھاگ سی مل رہی ہو

کہیں کوئی آنسو پس چشم ٹھہرا ہوا

جس سے تقطیر ہو کر نظر

ایک قوسِ قزح سی رگِ جاں کے اندر بناتی ہوئی

پانیوں میں کنول سے کھلاتی ہوئی

اور میں اس سے کہتا ہوں

اے مہر لمحے کے مندر میں چھیڑی ہوئی راگنی!

اے گلابوں کے رستے سے آئی ہوئی روشنی!

اِس گھڑی کے جزیرے کے چاروں طرف

تجھ سے آگے بھی تو، تجھ سے پیچھے بھی تو

اور میں تیرے موجود کے عکس کا عکس دل میں لئے

روز کے رنگ میلے میں بھٹکا ہوا

دور سے دیکھتا ہوں تجھے

اور اب دیکھتے دیکھتے گلشنِ شام میں آگیا ہوں

جہاں ایک آوارہ لڑکے کی مٹھی سے اُڑتے ہوئے

شوخ جگنو کے پیچھے

نظر حیرتوں کے دھندلکے میں کھوئی ہوئی ہے

آفتاب اقبال شمیم

المیے کے فالتو کردار

اور وہ کیا المیے کے فالتو کردار تھے؟

شہر کی چوکوں میں

جن کا شوقِ وارفتہ لہو اور آگ کی تحریر میں

اپنی گواہی دے گیا

اور وہ۔۔۔۔۔۔

ٹکٹکی پر جن کے چمکیلے بدن داغے گئے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

جو گیارہ پہر لمبی رات کی راہداریوں میں پابجولاں

اپنی گھٹتی عمر کی بڑھتی مسافت میں رہے

جن کے دل کی دھڑکنیں

ایام کی تسبیح پر وردِ وفا کرتی رہیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

دہشتِ زندان و مقتل کا سگِ مخبر جنہیں

سُونگھتا پھرتا رہا بستی کی ہر دہلیز پر

تھیں مقرر جن کے سر کی قیمتیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

اپنے پیاروں سے بچھڑ کر جو عجب افسوس کی

ہجرت سرائے میں رہے

شاہ گر کا ذہنِ حکمت ساز کہتا ہے یہی

یہ ہجومِ عاشقاں اب بے افادہ ہو چکا

قصر و قُوت تحفۂ تقدیر میں

بخت زادی سے کہا جائے

کہ وہ یکتائیوں کے شہ نشیں پر جلوہ افروزی کرے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

شاہ گر۔۔۔۔ چہرہ بدلنے کے پرانے پیشہ ور

اپنے سحرِ حکمت و الفاظ سے

بخت زادی کے لئے ایسی کرشمہ سازیاں کرتے رہیں

اُس کے سر سے ہر بلا ٹلتی رہے

مملکت چلتی رہے

آفتاب اقبال شمیم

بے نام ہونے کی آرزو

کسی شجرے کی ٹہنی پر ہوئی ہے

لمحہءِحاضر کی ہریالی

ہوا نسیاں زدہ پچھلی خزاں کے رفتگاں کی

خاک پر رقصاں

خمیدہ ہو کے مُجرا پیش کرتی ہے

حضورِ برگِ تازہ میں

یہ عشوہ ساز واقف ہے پرانے باسیوں کی رسم و عاد ت سے

یہ بستی کیسی بستی ہے!

جہاں پر لوگ اچھے نام کی شیشم سے

دروازے، دریچے او دہلیزیں بناتے ہیں

یہی دو چار عشروں میں

جنہیں لمحوں کی دیمک چاٹ جاتی ہے

عجائب گاہ میں یہ اسمِ نامعلوم کس کا ہے!

جسے اسلوب کا ماہر

دعائے جستجو سے زندہ کرتا ہے

کسی قدرِ مروج کے حوالے سے یہی دو چار عشروں کے لئے

اس سے زیادہ کون جیتا ہے

تو پھر بہتر یہی ہو گا کہ دروازے کی مستک سے

ہم اپنے نام کی تختی اتروا دیں

آفتاب اقبال شمیم

ہجر زاد

میرے دکھ کا عہد طویل ہے

میرا نام لوحِ فراق پر ہے لکھا ہوا

میں جنم جنم سے کسی میں عکسِ مشابہت کی تلاش میں

پھرا اپنے خواب سراب ساتھ لئے ہوئے

گیا شہر شہر، نگر نگر

تھیں عجیب بستیاں راہ میں، میری جیت، میری شکست کی

کسی دوسرے کی صداقتیں۔۔۔۔ مری راہبر، مری رہزن

لئے ساتھ ساتھ، قدم قدم

کبھی پیشِ خلوتِ آئینہ،

کبھی صبح و شام کی خلقتوں کے جلوس میں،

کئی ظاہروں، کئی باطنوں کے بدلتے روپ میں منقسم مجھے کر گئیں

میں دھواں سا آتشِ اصل کا

اُڑا اور خود سے بچھڑ گیا

مجھے ہر قدم پہ لگا کہ میں

سفرا آزما ہوں۔۔۔۔ مگر مجھے مری سمت کی بھی خبر نہیں

میں حلیف اپنے غنیم کا

ہوں جہاں بھی راہِ زیاں میں ہوں

میں خیال پرورِ شوق، شہرِ مثال کا

مجھے ہر مقام پہ یوں لگا

کہ حقیقتوں کے سگانِ کوچہ نورد مجھ پہ جھپٹ پڑیں گے یہیں کہیں

مجھے دنیا دار پچھاڑ دیں گے مفاہمت کی زمیں پر

میرے ہاتھ بھیگے ہوئے صداؤں کے خوف سے

میری سانس لرزی ہوئی ہوا کی مچان پر

یہ فرار تھا۔۔۔۔

کہ انا کا سایہ و سائبان

لیا جس نے اپنے بچاؤ میں

میں رواں رہا کسی بے نمود سی روشنی کے بہاؤ میں

میرا پائے شوقِ سزا کہیں پہ رکا نہیں

یہ نشیبِ شام ہے اور میں ہوں رواں دواں

یہ نہیں کہ مجھ کو اماں ملے گی شبِ ابد کے پڑاؤ میں

ذرا انتظار۔۔۔۔ کہ جب وجود کا کوزہ گر مجھے پھر سے خاک بنا چکے

تو یہ دیکھنا

کہ شبیہہ شخصِ دگر میں لوٹ کے آؤں گا۔۔۔۔

اسی شہر میں

میرا نام لوحِ فراق پر ہے لکھا ہوا

میرے دکھ کا عہد طویل ہے

آفتاب اقبال شمیم

بناہل کا ایک منظر

۔۔۔۔ اور پرانے پربت پر

آتے جاتے سورج رُک کر تکتا ہے

اپنے اپنے خون میں تر دو بیلوں میں

بے انجام لڑائی یکساں ماتوں کی

طبلِ زمیں پر تھاپ۔۔۔۔ مسلسل تھاپ پڑے

غیب کے بھاری ہاتھوں کی

آنکھیں۔۔۔۔ ہر سو خفیہ آنکھیں

محوِ جشنِ تماشا ہیں

دم دم بولتے سنانے میں ہول کڑی دوپہروں کا

ہر پتے پر طاری ہے

اور ہمیشہ کی، ناوقت اڑانوں پر

دھوپ کے زرد بسیرے سے

اِس پربت کے

پیچھے بہتے دریا کی آواز کا پنچھی آتا ہے،

بکھراتا ہے

سبز نمی کا نعمہ ٹھہری وادی پر

لیکن مٹی کے اعصاب میں، شریانوں میں

بے انجام لڑائی پیہم جاری ہے

آفتاب اقبال شمیم

راج ہنس

پرندہ

دھوپ کے دو چار تنکے

نیم وا منقار میں تھامے ہوئے اترا ہے

خواہش کی بلندی سے

بدن میں کپکپاتے بادلوں کا سرمئی ہیجان پھیلا ہے

وہ اترا ہے

کسی بے نام ساحل پر

ہوا کی چند خود رو جھاڑیوں کے درمیاں اپنے نشیمن میں

(جہاں اُس کی اڑانیں ختم ہوتی ہیں)

سمندر سامنے ہے

اور آنکھوں کے سفینے میں پڑا ہے بادباں لپٹا ہوا

فردا کے سائے میں

وہی ٹھہری ہوئی تصویر کچھ بے صرفہ خوابوں کی

وہی اُس کی پرانی جستجو۔۔۔۔

تخلیق کے اوجِ مقدس سے

اُتر کر حسنِ خوابیدہ کے پہلو میں سحر تک ریت کے بستر پہ سونے کی

تمنا کے صدف میں روشنی کی پرورش کرتی ہوئی لہریں

اُسے ویرانیوں کے چاند کی دف پر

وصال و ہجر کے نغمے سناتی ہیں

سمندر سامنے ہے

اور اس اسرار کی تاریک وسعت میں

اسے کل اور پرسوں بھی

سفر کی قوس پر ایک دودھیا سے نقش کی مانند اُڑنا ہے

وہ کیا ہے؟

کیا خبر بے معنویت کے سفر کا استعارہ ہو

زمیں کی رات میں بھٹکا ہوا

کوئی ستارہ ہو

آفتاب اقبال شمیم

آشنا نا آشنا

دِن کے مکان میں

لائے کرن سفارتیں سورج کے شہر کی

در آئے تنگیوں میں دریچے کی آنکھ سے

وُسعت سپہر کی

نیرنگِ واقعات سے ہر سو بنی ہوئی

تصویر دہر کی

ہر گُل کی چشم وا

تکتی ہے ایک منظر ہم زاد چار سو

اڑتی ہے اوجِ شاخ سے ہریالیوں کی بو

لمحوں کے چنگ سے

پھوٹیں شرار نغمہ سرائے بہار کے

رُت کے چڑھاؤ میں

موہوم، بے نشان اشارے اتار کے

نادید کا نمو

حلقے میں گھومتی ہوئی گونجوں کی آب جو

آوازِ ہفت زاویہ موسم کے اسم کی

جیسے ہو یہ زمیں کوئی وادی طلسم کی

آنکھوں کے آس پاس

عیشِ رواں میں بہتی ہوئی ناؤ جسم کی

دلدادہءِحواس

تکتا ہے اپنی چشمِ تمنا کے روبرو

دلدارِ خوبرو

جس کے بدن میں اطلسِ دنیا کا لمس ہے

بیٹھا ہے جونمود کی اونچی نشست پر

جلوے کی شست پر

رنگوں کی دھوپ میں

پھیلی ہیں خوشبوئیں گلِ ثروت کے عطر کی

ایسی کشش میں خود کو سبک کر سکے تو کر

جینے کالطف لے

کس نے تجھے کہا ہے کہ محرومیوں پہ مر

اے ہفت آشنا!

اے آسماں نورد!

آوارہءِہوا، تری بلقیس کا محل

تقدیس کا محل

سچ کی بلندیوں کا کہیں خواب ہی نہ ہو

ایسے میں فیصلے کا کوئی اہتمام کر

آ خود کو عام کر

گہرے بدن کا عطر کیوں ملبوس میں رہے

رقصِ تمام کر

کیوں داغ رنگ کا پرِ طاؤس میں رہے

آفتاب اقبال شمیم

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

ہم کریں پینے میں کیوں پھر احتیاط

کوچ کی حالیؔ کرو تیاریاں

ہے قویٰ میں دمبدم اب انحطاط

الطاف حسین حالی

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا

ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ

مگر اب مری جان ہونا پڑے گا

الطاف حسین حالی

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا

گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا

بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم

کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا

جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی

کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا

عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں

ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا

تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو

جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا

نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود

جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے

کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالی

اے بہار زندگانی الوداع

اے شباب شاد مانی الوداع

آ لگا حالیؔ کنارے پر جہاز

الوداع اے زندگانی الوداع

الطاف حسین حالی

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 49
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے
تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے
یہاں تو میری جان پر بن رہی ہے
تمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے
جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤ
وہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے
یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے
جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولے
تمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے
امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے
امیر مینائی

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 48
وصل ہو جائے یہیں حشر ، حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے
کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے
میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے
اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیں
آپ تو سوتے ہیں، فتنوں کو جگا رکھا ہے
آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں ،لیکن امیر
یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے
امیر مینائی

ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی

قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 46
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے
طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں، اور دن ہے آخر، دور منزل ہے
مرے سینے پہ رکھ کر ہاتھ کہتا ہے وہ شوخی سے
یہی دل ہے جو زخمی ہے، یہی دل ہے جو بسمل ہے
نقاب اُٹھی تو کیا حاصل؟ حیا اُٹھے تو آنکھ اُٹھے
بڑا گہرا تو یہ پردہ ہمارے اُنکے حائل ہے
الہٰی بھیج دے تربت میں کوئی حور جنت سے
کہ پہلی رات ہے، پہلا سفر ہے، پہلی منزل ہے
جدھر دیکھو اُدھر سوتا ہے کوئی پاؤں پھیلائے
زمانے سے الگ گورِ غریباں کی بھی محفل ہے
عجب کیا گر اُٹھا کر سختیِ فرقت ہوا ٹکڑے
کوئ لوہا نہیں، پتھر نہیں، انسان کا دل ہے
سخی کا دل ہے ٹھنڈا گرمیِ روزِ قیامت میں
کہ سر پر چھَترِ رحمت سایۂ دامانِ سائل ہے
امیرِ خستہ جاں کی مشکلیں آساں ہوں یارب
تجھے ہر بات آساں ہے اُسے ہر بات مشکل ہے
امیر مینائی

کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 45
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کے
ہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے
خمارِ نشّہ سے نگاہیں ان کی کہتی ہیں
یہاں کیا کام تیرا، یہ تو متوالوں کی بستی ہے
جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کا
صراحی ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ مستی ہے
ہمارے گھر میں جس دن ہوتی ہے اس حور کی آمد
چھپر کھٹ کو پری آ کر پری خانے سے کستی ہے
چلے نالے ہمارے یہ زبان حال سے کہہ کر
ٹھہر جانا پہنچ کر عرش پر، ہمّت کی پستی ہے
امیر اس راستے سے جو گزرتے ہیں وہ لٹتے ہیں
محلہ ہے حسینوں کا، کہ قزاقوں کی بستی ہے؟
امیر مینائی

کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 44
عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے
کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے
لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے
بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے
نکالا چاہتے ہیں زر گرہ غنچوں نے کھولی ہے
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رختِ عریانی
گریباں ہے، نہ پردہ ہے، نہ دامن ہے، نہ چولی ہے
صراحی دور میں آتی ہے، زاہد ہوں جو محفل میں
جھُکا لیں اپنی آنکھیں، دخترِ رز کی یہ ڈولی ہے
امیر ، اس بے وفا دنیا کی صورت پر نہ تم جاؤ
بڑی عیّار ہے، مکّار ہے، ظاہر میں بھولی ہے
امیر مینائی

غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 43
کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟
غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
اُس کو سمجھاتے نہیں جا کے کسی دن ناصح
روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے
تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟
حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے
آئے میخانے میں، تھے پیرِ خرابات امیر
اب چلے مسجدِ جامع کی امامت کرنے
امیر مینائی

کام اپنا، نام اُس کا کر چلے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 42
مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے
کام اپنا، نام اُس کا کر چلے
حشر میں اجلاس کس کا ہے کہ آج
لے کے سب اعمال کا دفتر چلے
خُونِ ناحق کر کے اِک بے جُرم کا
ہاتھ ناحق خُون میں تم بھر چلے
یہ ملی کس جُرم پر دم کو سزا؟
حُکم ہے دن بھر چلے شب بھر چلے
شیخ نے میخانے میں پی یا نہ پی
دخترِ رز کو تو رُسوا کر چلے
رہنے کیا دنیا میں آئے تھے امیر
سیر کر لی اور اپنے گھر چلے
امیر مینائی

کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 41
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا ٹھہرے
تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سے
تڑپنے کو کہا تڑپے ، ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے
زہے قسمت حسینوں کی بُرائی بھی بھلائی ہے
کریں یہ چشم پوشی بھی تو نظروں میں حیا ٹھہرے
یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میں
دھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے
حقیقت کھول دی آئینہ وحدت نے دونوں کی
نہ تم ہم سے جدا ٹھہرے ، نہ ہم تم سے جدا ٹھہرے
دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھے
ذرا بہکے ذرا سنبھلے ذرا تڑپے ذرا ٹھہرے
شب وصلت قریب آنے نہ پائے کوئی خلوت میں
ادب ہم سے جدا ٹھہرے حیا تم سے جدا ٹھہرے
اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو
کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے
ابھی جی بھر کے وصل یار کی لذت نہیں اٹھی
کوئی دم اور آغوش اجابت میں دعا ٹھہرے
خیال یار آنکلا مرے دل میں تو یوں بولا
یہ دیوانوں کی بستی ہے یہاں میری بلا ٹھہرے
امیر آیا جو وقت بد تو سب نے راہ لی اپنی
ہزاروں سیکڑوں میں درد و غم دو آشنا ٹھہرے
امیر مینائی

درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 40
دل نے جب پوچھا مجھے کیا چاہئے؟
درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے
حرص دنیا کا بہت قصہ ہے طول
آدمی کو صبر تھوڑا چاہئے
ترک لذت بھی نہیں لذت سے کم
کچھ مزا اس کا بھی چکھا چاہئے
ہے مزاج اس کا بہت نازک امیر!
ضبطِ اظہارِ تمنا چاہئے
امیر مینائی

ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 39
تند مے اور ایسے کمسِن کے لئے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے
جب سے بلبل تُو نے دو تن کے لئے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے
ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لئے
ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لئے
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے
باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لئے
کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لئے
سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے
صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لئے
امیر مینائی

رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 38
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
امیر مینائی

خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 37
چاند سا چہرہ، نور سی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
گُل رُخِ نازک، زلف ہے سنبل، آنکھ ہے نرگس، سیب زنخداں
حُسن سے تم ہو غیرتِ گلشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں
آنکھیں ہیں ساغر، شیشہ ہے گردن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ، آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور، پیار کی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
غمزہ اچکّا، عشوہ ہے ڈاکو، قہر ادائیں، سحر ہیں باتیں
چور نگاہیں، ناز ہے رہزن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
نور کا تن ہے، نور کے کپڑے، اس پر کیا زیور کی چمک ہے
چھلے، کنگن، اِکّے، جوشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
جمع کیا ضدّین کو تم نے، سختی ایسی، نرمی ایسی
موم بدن ہے، دل ہے آہن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
واہ امیرؔ، ایسا ہو کہنا، شعر ہیں یا معشوق کا گہنا
صاف ہے بندش، مضموں روشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
امیر مینائی

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 36
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی

غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 34
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ کو دھو رہے ہیں
زانو پہ امیر سر کو رکھے
پھر دن گزرے کہ رو رہے ہیں
امیر مینائی

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 33
ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
امیر مینائی

اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 32
دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں
اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں
مجلسِ وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم مے کش
دخترِ رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں
دھیان میں لا کے ترا سلسلۂ زلف دراز
ہم شبِ ہجر کو کچھ اور بڑھا لیتے ہیں؟
ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب
جی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں؟
اپنی محفل سے اُٹھاتے ہیں عبث ہم کو حضور
چُپ کے بیٹھے ہیں الگ، آپ کا کیا لیتے ہیں؟
امیر مینائی

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 30
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
مرا خط پھینک کر قاتل کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں
ابھی اے جاں تو نے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں
قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں
جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آ کے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں
چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں
قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
حباب آ سا ٹھہرتے ہیں تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں
امیر مینائی

ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 29
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزاروں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھِس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھُلا مجھ پہ کیا ہوں میں
رسوا ہوئے جو آپ تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ دل نے کیا، بے خطا ہوں میں
مقتل ہے میری جاں کو وہ جلوہ گاہِ ناز
دل سے ادا یہ کہتی ہے تیری قضا ہوں میں
مانندِ سبزہ اُس چمنِ دہر میں امیر
بیگانہ وار ایک کنارے پڑا ہوں میں
امیر مینائی

ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 28
قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں
ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں
جا پائی خط نے اس کے رخِ بے نقاب میں
سورج گہن پڑا شرفِ آفتاب میں
دامن بھرا ہوا تھا جو اپنا شراب میں
محشر کے دن بٹہائے گئے آفتاب میں
رکھا یہ تم نے پائے حنائی رکاب میں
یا پھول بھر دئیے طبقِ آفتاب میں
تیرِ دعا نشانے پہ کیونکر نہ بیٹھتا
کچھ زور تھا کماں سے سوا اضطراب میں
وہ ناتواں ہوں قلعۂ آہن ہو وہ مجھے
کر دے جو کوئی بند مکانِ حباب میں
حاجت نہیں تو دولتِ دنیا سے کام کیا
پھنستا ہے تشنہ دام فریبِ سراب میں
مثلِ نفس نہ آمد و شد سے ملا فراغ
جب تک رہی حیات، رہے اضطراب میں
سرکش کا ہے جہاں میں دورانِ سر مآل
کیونکر نہ گرد باد رہے پیچ و تاب میں
چاہے جو حفظِ جان تو نہ کر اقربا سے قطع
کب سوکھتے ہیں برگِ شجر آفتاب میں
دل کو جلا تصور حسنِ ملیح سے
ہوتی ہے بے نمک کوئی لذت، کباب میں
ڈالی ہیں نفسِ شوم نے کیا کیا خرابیاں
موذی کو پال کر میں پڑا کس عذاب میں
اللہ رے تیز دستیِ مژگانِ رخنہ گر
بے کار بند ہو گئے ان کی نقاب میں
چلتا نہیں ہے ظلم تو عادل کے سامنے
شیطاں ہے پردہ در کہ ہیں مہدی حجاب میں
کچھ ربط حسن و عشق سے جائے عجب نہیں
بلبل بنے جو بلبلہ اٹھّے گلاب میں
چومے جو اس کا مصحفِ رخ زلف میں پھنسے
مارِ عذاب بھی ہے طریقِ ثواب میں
ساقی کچھ آج کل سے نہیں بادہ کش ہیں بند
اس خاک کا خمیر ہوا ہے شراب میں
جب نامہ بر کیا ہے کبوتر کو اے امیر
اس نے کباب بھیجے ہیں خط کے جواب میں
امیر مینائی

کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 27
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
دو کی جگہ دئیے مجھے بوسے بہک کے چار
تھے نیند میں، پڑا اُنہیں دھوکا حساب میں
سمجھا ہے تو جو غیبتِ پیر مغاں حلال،
واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟
دامن میں اُن کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر
بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
امیر مینائی

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 26
یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں
تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں میں ہوں
ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گ کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں
ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر
کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں
دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے
میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزا داروں میں ہوں
وقت آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسین
اب وہ آزادی کہاں ہے میں بھی گرفتاروں میں ہوں
آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی
درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں
پھول میں پھولوں میں ہوں، کانٹا ہوں کانٹوں میں امیر
یار میں یاروں میں ہوں، عیار ، عیاروں میں ہوں
امیر مینائی

ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 25
اس کی حسرت ہے ، جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں
وصل میں چھیڑ نہ اتنا اسے اے شوق وصال
کہ وہ روئے تو کسی طرح منا بھی نہ سکوں
ڈال کر خاک مرے خوں پہ، قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
کوئی پوچھے تو محبت سے یہ کیا ہے انصاف
وہ مجھے دل سے بہلا دے میں بہلا بھی نہ سکوں
ہائے کیا سحر ہے یہ حسن کی مانگیں جو حسیں
دل بچا بھی نہ سکوں جان چھڑا بھی نہ سکوں
ایک نالے میں جہاں کو تہہ و بال کر دوں
کچھ تیرا دل یہ نہیں ہے کہ ہلا بھی نہ سکوں
امیر مینائی

کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 24
وہ تو سنتا ہی نہیں میں داد خواہی کیا کروں؟
کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
مجھ گدا کو دے نہ تکلیف حکومت اے ہوس!
چار دن کی زندگی میں بادشاہی کیا کروں؟
مجھ کو ساحل تک خدا پہنچائے گا اے ناخدا!
اپنی کشتی کی بیاں تجھ سے تباہی کیا کروں؟
وہ مرے اعمال روز و شب سے واقف ہے امیر
پیش خالق ادعائے بے گناہی کیا کروں؟
امیر مینائی

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 22
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ
امیر مینائی

سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 21
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زار
اب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ
نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحر
اور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ
دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ
چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئی
تھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہو
دل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ
طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ ناز
سب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ
چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیا
ابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ
دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیں
حق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ
عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مست
واں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ
تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنم
زاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ
سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمود
خضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ
گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سے
کیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ
ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میں
چشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ
حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیر
ہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ
امیر مینائی

دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 20
اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب
دو چار سو برس تو الہٰی سحر نہ ہو
اک پھول ہے گلاب کا آج اُن کے ہاتھ میں
دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو
ڈھونڈھے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا
دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اُس کی کمر نہ ہو
فرقت میں یاں سیاہ زمانہ ہے مجھ کو کیا
گردوں پہ آفتاب نہ ہو یا قمر نہ ہو
دیکھی جو صورتِ ملک الموت نزع میں
میں خوش ہوا کہ یار کا یہ نامہ بر نہ ہو
آنکھیں ملیں ہیں اشک بہا نے کے واسطے
بیکار ہے صدف جو صدف میں گُہر نہ ہو
الفت کی کیا اُمید وہ ایسا ہے بے وفا
صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو
طول شب وصال ہو، مثل شب فراق
نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو
منہ پھیر کر کہا جو کہا میں نے حالِدل
چُپ بھی رہو امیر مجھے درد سر نہ ہو
امیر مینائی

پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 19
لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پُہنچ گیا، سزا کو
اے حضرتِ دل بتوں کو سجدہ
اتنا تو نہ بھولئیے خدا کو
اتنا بکئے کہ کچھ کہے وہ
یوں کھولیئے قفل مدعا کو
کہتی ہے امیر اُس سے شوخی
اب مُنہ نہ دکھائیے حیا کو
امیر مینائی

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 18
تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہم
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم
دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم
نالے کرتے نہیں یہ الفت میں
باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم
اب لب یار کیا ترے ہوتے
لب ساغر کو منہ لگائیں ہم
دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم
کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم
آب شمشیر یار اگر مل جائے
اپنے دل کی لگی بجھائیں ہم
اب جو منہ موڑیں بندگی سے تری
اے بت اپنے خدا سے پائیں ہم
زندگی میں ہے موت کا کھٹکا
قصر کیا مقبرہ بنائیں ہم
توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیں
زاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم
دل میں ہے مثل ہیزم و آتش
جو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم
زار سے زار ہیں جہاں میں امیر
دل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم
امیر مینائی

تب ہم نہ رہے وفا کے قابل

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 17
جب یار ہوا جفا کے قابل
تب ہم نہ رہے وفا کے قابل
ہے خوف سے سارے تن میں رعشہ
اب ہاتھ کہاں دعا کے قابل
آئے مجھے دیکھنے اطبّا
جب میں نہ رہا دوا کے قابل
بولے مرے دل پہ پیس کر دانت
یہ دانہ ہے آسیا کے قابل
کلفت سے امیر صاف کر دل
یہ آئینہ ہے جلا کے قابل
امیر مینائی

ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 16
جادۂ راہِ عدم ہے رہِ کاشانۂ عشق
ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
مرکزِ خاک ہے دُردِ تہِ پیمانۂ عشق
آسماں ظرف بر آوردۂ میخانۂ عشق
کم بلندی میں نہیں عرش سے کاشانۂ عشق
دونوں عالم ہیں دو مصراع درِ خانۂ عشق
ہے جو واللیل سرا پردۂ کاشانۂ عشق
سورۂ شمس ہے قندیل درِ خانۂ عشق
دل مرا شیشہ ہے آنکھیں مری پیمانۂ عشق
جسم با جوشِ محبت سے ہے میخانۂ عشق
ہم تھے اور پیشِ نظر جلوۂ مستانۂ عشق
جس زمانے میں نہ محرم تھا نہ بیگانہ عشق
ہم وہ فرہاد تھے کاٹا نئی صورت سے پہاڑ
حسن کا گنج لیا کھود کے ویرانۂ عشق
کچھ گرہ میں نہیں گرمی کے سوا مثلِ سپند
برگ و بر دود و شرر ہوں جو اُگے دانۂ عشق
عین مستی میں ملے ہیں مجھے گوشِ شنوا
سن رہا ہوں میں صدائے لبِ پیمانۂ عشق
آ رہے باغِ جناں سے جو زمیں پر آدم
فی الحقیقت تھی وہ اِک لغزشِ مستانۂ عشق
معتقد کون نہیں کون نہیں اس کا مرید
پیر ہفتاد و دو ملت کا ہے دیوانۂ عشق
دل نے تسبیح بنا کر وہ کئے زیبِ گُلو
ہاتھ آئے جو کوئی گوہرِ یک دانۂ عشق
زلفِ معشوق نہ گھٹ جائے ادب کا ہے مقام
بڑھ چلیں اتنے نہ موئے سرِ دیوانۂ عشق
سننے والوں کے یہ ڈر ہے نہ جلیں پردۂ گوش
کیا سناؤں کہ بہت گر ہے افسانۂ عشق
خاکِ درکار ہے وہ لوثِ خطا سے جو ہو پاک
ورنہ ہر خاک سے اگتا ہے کوئی دانۂ عشق
کہتے ہیں مرگِ جوانی جسے سب اہلِ جہاں
اپنے نزدیک ہے وہ بازیِ طفلانۂ عشق
آہ! عاشق سے ہوئی غفلتِ معشوق نہ کم
خواب تھا حسنِ فسوں ساز کو افسانۂ عشق
بختِ برگشتہ ہوں تب بھی نہیں جاتا یہ مزہ
نہ گرے بادہ جو واژوں بھی ہو پیمانۂ عشق
طور پر کہتی ہے یہ شمع تجلّی کی زباں
سرمۂ حسن ہے خاکسترِ پروانۂ عشق
طالبِ درد ہے اس درجہ مرا طائرِ دل
ٹوٹ پڑتا ہے یہ جس دام میں ہو دانۂ عشق
ہوں وہ دیوانہ کہ قدموں سے لگا ہے مرے حسن
ہے مرے پانوں میں زنجیر پری خانۂ عشق
مر کے دے روح کو میری یہ الٰہی قدرت
ہنس بن بن کے چُگے گوہرِ یک دانۂ عشق
کیا فلاطوں کو ہے نسبت ترے دیوانے سے
آشنا ہے یہ محبت کا وہ بے گانۂ عشق
ہم تھے اور چہرۂ محبوب کا نظّارہ امیر
شعلۂ حسن تھا جس روز نہ پروانۂ عشق
امیر مینائی

جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 15
یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس
جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
بولا وہ بُت سرہانے مرے آ کے وقتِ نزع
فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟
توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا
حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس
رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے گلرخانِ دہر
یارب ہے کس بلا کا فسوں اس حنا کے پاس
پیچھے پڑا ہے افعیِ گیسو کے دل ، امیر
جاتا ہے دوڑ دوڑ کے یہ خود قضا کے پاس
امیر مینائی

دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 14
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہو جائے دنیا اُدھر کو
زمانے کو بدلو نہ آنکھیں بدل کر
وہ کرتے ہیں باتیں عجب چکنی چکنی
یہ مطلب کہ چوپٹ ہو کوئی پھسل کر
وہ مضطر ہوں، میں کیا مرے ساتھ گھڑیوں
تڑپتا ہے سایہ بھی کروٹ بدل کر
یہ کہتی ہے وہ زلف عمر خضر سے
کہ مجھ سے کہاں جائے گی تو نکل کر
گلستاں نہیں ہے یہ بزم سخن ہے
کہو شاعروں سے کہ پھولیں نہ پھل کر
غضب اوج پر ہے مری بے قراری
زمین آسماں بن گئی ہے اُچھل کر
پڑا تیر دل پر جو منہ تو نے پھیرا
نشانہ اُڑایا ہے کیا رخ بدل کر
نہ آئیں گے وہ آج کی شب بھی شاید
کہ تارے چھپے پھر فلک پر نکل کر
چلو وحشیو بزم گلزار مہکے
گل آئے ہیں پوشاک میں عطر مل کر
چھپا کب ، بہت خاک ظالم نے ڈالی
شفق بن گیا خون میرا اُچھل کر
کمر بال سی ہے ، نہ لچکے یہ ڈر ہے
جوانی پر اے ترک اتنا نہ بل کر
حضور اس کی باتیں جو کیں ڈرتے ڈرتے
کھڑا ہو رہا دور مطلب نکل کر
چھپے حرف گیری سے سب عیب میرے
ہوئی پردہ ہر بات میں تہ نکل کر
وہ ہوں لالہ ساں سوختہ بخت میکش
کہ مے ہو گئی داغ ساغر میں جل کر
کہے شعر امیر اُس کمر کے ہزاروں
مگر رہ گئے کتنے پہلو نکل کر
امیر مینائی

گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 13
ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت
چشمِ عشاق سے پنہاں ہو نظر کی صورت
وصل سے جان چراتے ہو کمر کی صورت
ہوں وہ بلبل کہ جو صیاد نے کاٹے مرے پر
گر گئے پھول ہر اک شاخ سے پر کی صورت
تیرے چہرے کی ملاحت جو فلک نے دیکھی
پھٹ گیا مہر سے دل شیرِ سحر کی صورت
جھانک کر روزنِ دیوار سے وہ تو بھاگے
رہ گیا کھول کے آغوش میں در کی صورت
تیغ گردن پہ کہ ہے سنگ پر آہیں دمِ ذبح
خون کے قطرے نکلتے ہیں شرر کی صورت
کون کہتا ہے ملے خاک میں آنسو میرے
چھپ رہی گرد یتیمی میں گہر کی صورت
نہیں آتا ہے نظر، المدد اے خضر اجل
جادۂ راہِ عدم موئے کمر کی صورت
پڑ گئیں کچھ جو مرے گرم لہو کی چھینٹیں
اڑ گئی جوہرِ شمشیر شرر کی صورت
قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
آفت آغازِ جوانی ہی میں آئی مجھ پر
بجھ گیا شام سے دل شمعِ سحر کی صورت
جلوہ گر بام پہ وہ مہرِ لقا ہے شاید
آج خورشید سے ملتی ہے قمر کی کی صورت
دہنِ یار کی توصیف کڑی منزل ہے
چست مضمون کی بندش ہو کمر کی صورت
نو بہارِ چمنِ غم ہے عجب روز افزوں
بڑھتی جاتی ہے گرہ دل کی ثمر کی صورت
ہوں بگولے کی طرح سے میں سراپا گردش
رات دن پاؤں بھی چکر میں ہیں سر کی صورت
امیر مینائی

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 12
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 11
ایک دل ہم دم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے ، جوانی کیا گئی
وہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا
آنے والا جانے والا، بے کسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم غریب، آتا رہا جاتا رہا
مرگیا میں جب ، تو ظالم نے کہا کہ افسوس آج
ہائے ظالم ہائے ظالم کا مزہ جاتا رہا
شربت دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی
دیکھ لینے سے دوا کے ، درد کیا جاتا رہا
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا ، چھیڑ کر کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو، کیا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ دل تھا شکووں سے بھرا
جب گلے سے مل گئے، سارا گلہ جاتا رہا
ہائے وہ صبحِ شبِ وصل، ان کا کہنا شرم سے
اب تو میری بے وفائی کا گلہ جاتا رہا
دل وہی آنکھیں وہی، لیکن جوانی وہ کہاں
ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا
گھورتے دیکھا جو ہم چشموں کو جھنجھلا کر کہا
کیا لحاظ آنکھوں کا بھی او بے حیا جاتا رہا
کیا بری شے ہے جوانی رات دن ہے تاک جھانک
ڈر توں کا ایک طرف ، خوف خدا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 10
وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھا
یہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا
لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہو سکا دمِ قتل
سنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا
اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے ضرور ہے جرم
کہ کوئی یہ نہ کہے قابلِ عذاب نہ تھا
شکایت اُن سے کوئی گالیوں کی کیا کرتا
کسی کا نام کسی کی طرف خطاب نہ تھا
نہ پوچھ عیش جوانی کا ہم سے پیری میں
ملی تھی خواب میں وہ سلطنت شباب نہ تھا
دماغ بحث تھا کس کو وگر نہ اے ناصح
دہن نہ تھا کہ دہن میں مرے جواب نہ تھا
وہ کہتے ہیں شبِ وعدہ میں کس کے پاس آنا
تجھے تو ہوش ہی اے خانماں خراب نہ تھا
ہزار بار گلا رکھ دیا تہِ شمشیر
میں کیا کروں تری قسمت ہی میں ثواب نہ تھا
فلک نے افسرِ خورشید سر پہ کیوں رکھا
سبوئے بادہ نہ تھا ساغرِ شراب نہ تھا
غرض یہ ہے کہ ہو عیش تمام باعث مرگ
وگرنہ میں کبھی قابلِ خطاب نہ تھا
سوال وصل کیا یا سوال قتل کیا
وہاں نہیں کے سوا دوسرا جواب نہ تھا
ذرا سے صدمے کی تاب اب نہیں وہی ہم میں
کہ ٹکڑے ٹکڑے تھا دل اور اضطراب نہ تھا
کلیم شکر کرو حشر تک نہ ہوش آتا
ہوئی یہ خیر کہ وہ شوق بے نقاب نہ تھا
یہ بار بار جو کرتا تھا ذکر مے واعظ
پئے ہوئے تو کہیں خانماں خراب نہ تھا
امیر اب ہیں یہ باتیں جب اُٹھ گیا وہ شوخ
حضور یار کے منہ میں ترے جواب نہ تھا
امیر مینائی