زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

جنم

اب کے،دیوالی !

اُس کے گھر بھی

میرے نام کا دیا جلا

جو اپنے دروازوں پر ، میری دستک کو

ہَوا کا شور سمجھتا تھا

مِلن کی رُت کو بِرہ کی بھور سمجھتا تھا

سپنے تک میں چھُو کر مُجھ کو

خود کو چور سمجھتا تھا

چور نے مور کا جنم لیا ہے

سچّی ہار کے سندر بن میں ناچ رہا ہے

پروین شاکر

جل پری

اس قدر دودھیا خوشنما ہنس کر

اپنی جانب لپکتے ہُوئے دیکھ کر مُسکرائی

مگر اس کی یہ مسکراہٹ ہنسی بننے سے قبل ہی چیخ میں ڈھل گئی

اُس کا انکار بے سُود

وحشت ، سراسیمگی ، اجنبی پھڑپھڑاہٹ میں گُم ہو گئی

آہ وزاری کے باوصف

مضبوط پَر اُس کا سارا بدن ڈھک چکے تھے!

اُجلی گردن میں وحشت زدہ چونچ اُتری چلی جا رہی تھی

اُس کے آنسو

سمندر میں شبنم کی مانند حل ہو گئے!

سِسکیاں

تُند موجوں کی آواز میں بے صدا ہو گئیں !

ہنس اپنے لُہو کی دہکتی ہُوئی وحشتیں

نیم بے ہوش خوشبو کے رس سے بجھاتا رہا

اورپھر اپنے پیاسے بدن کے مساموں پہ

بھیگی ہُوئی لذّتوں کی تھکن اوڑھ کر اُڑگیا!

جل پری

گہرے نیلے سمندر کی بیٹی

اپنی مفتوح و نا منتظر کوکھ میں

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں رہنے والو ں کا

بے شجرہ و بے نسب ورثے کا بوجھ تھامے ہُوئے

آج تک رو رہی ہے!

پروین شاکر

جان پہچان

شور مچاتی موجِ آب

ساحل سے ٹکرا کے جب واپس لوٹی تو

پاؤں کے نیچے جمی ہُوئی چمکیلی سنہری ریت

اچانک سرک گئی!

کچھ کچھ گہرے پانی میں

کھڑی ہُوئی لڑکی نے سوچا

یہ لمحہ کتنا جانا پہچانا لگتا ہے

پروین شاکر

توقع

جب ہوا

دھیمے لہجوں میں کُچھ گنگناتی ہُوئی

خواب آسا، سماعت کو چُھو جائے ، تو

کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!

بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا!

تم موج موج مثل صبا گُھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تُم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ

میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا

ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض

سیپی میں بن نہ پائے گُہر،تم کو اس سے کیا!

لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا!

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا!

پروین شاکر

تنقید اور تخلیق

’’آپ کی شاعری صرف خوشبو ہے

دل میں اُترتی ہُوئی

رُوح پر شبنمی ہاتھ رکھتی ہُوئی

یہ مگر۔۔۔۔ذہن کو ہلکے سے چُھو کر گُزر جائے گی

آپ اِسے رنگ کا پیرہن دیجئے

کوئی آدرش اُونچا ،انوکھا عقیدہ،کوئی گنجلک فلسفہ

سخت ناقابلِ فہم الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کریں

آپ کی سوچ میں کچھ تو گہرائی ہو__!‘‘

آپ سچ کہہ رہے ہیں

مگر ۔۔دیکھیے نا۔۔۔ابھی میرا فن کچی عمروں میں ہے

(آپ اسے خواب ہی دیکھنے دیجئے

اتنی گھمبیر دانشوری میں نہ اُلجھائیے)

میں نہیں چاہتی۔۔کہ میرا فن

جواں ہونے سے قبل ہی بوڑھا ہو جائے

اور فلسفے کا عصا لے کے چلنے لگے

پروین شاکر

تُمھارا رویہ

تُمھارا رویہ

مرے ساتھ ایسا رہا ہے

کہ جو

ایک کہنہ سیاسی مُدبر کا

کمسن صحافی کے ہمراہ ہوتا ہے ا۔

ہر حرف اپنے عواقب سے ہشیار

ہر نقط تولا ہوا

(مسئلہ فقرے بازی میں الجھا ہوا )

کوئی بات ایسی نہ ہوپائے ، جوبعد میں

اُس کے حق میں

خود اُس کی زباں سے چلایا ہُوا تیر بن جائے

(اور وہ پشیمان ہو)

پروین شاکر

تعبیر

سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں

چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں

کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر

مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں

پروین شاکر

تشکر

دشتِ غُربت میں جس پیڑ نے

میرے تنہا مُسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے

اُس کی شادابیوں کے لیے

میری سب اُنگلیاں

ہَوا میں دُعا لِکھ رہی ہیں !

پروین شاکر

ترانہ

میرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

مگر عظیم تر

یہ میری ارض پاک ہو گئی

اسی لہو سے

سرخرو

وطن کی خاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

بجھا جو اک دیا یہاں

تو روشنی کے کارواں

رواں دواں رواں دواں

یہاں تلک کے ظلم کی

فصیل چاک ہو گئی

عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

غنیم کس گماں میں تھا

کہ اس نے وار کر دیا

اسے خبر نہ تھی ذرا

کہ جب بھی ہم بڑھے

تو پھر رکے نہیں

یہ سر اٹھے تو کٹ مرے

مگر جھکے نہیں

اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے

وہی تو میری آبرو ہے آن ہے

جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

پروین شاکر

پیشہ ور قاتلو

میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے

اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں

اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں

سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں

آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے

کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے

طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے

سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے

جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں

تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں

حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے

وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے

رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے

آج سرحد سے پنجاب و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو

اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے

کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو

آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔

آج تم آئینہ ہو میرے سامنے

پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں

(نامکمل)

پروین شاکر

پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

سُورج ڈوباشام ہو گئی

تن میں چنبیلی پُھولی،

من میں آگ لگانے والے

میں کب تجھ کو بُھولی

کب تک آنکھ چراؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا

ڈھونڈتی جائے داسی

بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو

تن درشن کی پیاسی

جیون بھر ترساؤگے

پردیسی کب آؤ گے؟

بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا

وادی سُر___گندھار

سموا دی کو نکھادرنگ دے

شدھ مدھم سنگھار

تم کب تلک لگاؤ گے؟

پردیسی ،کب آؤ گے؟

ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا

مانگ کا سُرخ سیندور

سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے

ساجن جب تک دُور

روپ نہ میرا سجاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی

ہر دستک پر آنکھ

چاند نہ میرے آنگن اترا

سپنے ہو گئے راکھ

ساری عمر جلاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

پروین شاکر

پہلے پہل

شِکن چُپ ہے

بدن خاموش ہے

گالوں پہ ویسی تمتماہٹ بھی نہیں ،لیکن،

میں گھر سے کیسے نکلوں گی،

ہَوا ،چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے

دیکھتے ہی مُسکرائے گی!

مجھے چُھوکر تری ہر بات پالے گی

تجھے مجھ سے چُرالے گی

زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مِل کے آئی ہوں !

ہَوا کی شوخیاں یہ

اور میرا بچپنا ایسا

کہ اپنے آپ سے بھی میں

تری خوشبو چُھپاتی پھر رہی ہوں

پروین شاکر

پہرے

پسِ شہرِ گُل

سُرخ پتّھر کی دیوار پر

آ کے موجِ صبا

عُمر بھر دستکیں دے تو کیا

صرف یہ ہے کہ ہاتھ اُس کے تھک جائیں گے

پروین شاکر

پکنک

سکھیاں میری

کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں

اور میں سب سے دُور،الگ ساحل پر بیٹھی

آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں

یا پھر

گِیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں

پروین شاکر

پروردہ

لوگ کہتے ہیں ان دنوں چپ ہے

میرا قاتل_______

کہ اُس کے خنجر کو

دھونے والی کنیز

چُھپ چُھپ کر

اب لُہو کو زباں سے چاٹتی ہے!

پروین شاکر

پرزم

پانی کے اِک قطرے میں

جب سُورج اُترے

رنگوں کی تصویر بنے

دھنک کی ساتوں قوسیں

اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں

قطرے کے ننھے سے بدن میں

رنگوں کی دُنیا کِھنچ آئے!

میرا بھی اِک سورج ہے

جو میرا تَن چُھوکر مُجھ میں

قوسِ قزح کے پُھول اُگائے

ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا

اور مَیں ہو گئی

پانی کا اِک سادہ قطرہ

بے منظر،بے رنگ

پروین شاکر

بے نسب ورثے کا بوجھ

گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری

اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا

موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر

ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!

ناگہاں

نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے

زمیں پر جو دیکھا

تو پرواز ہی بُھول بیٹھا

نظر جیسے شل ہو گئی

اُڑنا چاہا____مگر

خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی

مگر وصل کیسے ہو ممکن

کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!

جل پری کا تعلّق زمیں سے

سو خواہش کے عفریت نے

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا

بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا

پروین شاکر

بے بسی

بارش نے زمین پر پاؤں دھرا

خوشبو کھنکی ، گھنگھرو چھنکا

لہرائی ہَوا ، بہکی برکھا

کیا جانیے کیا مٹّی سے کہا

در آئی شریر میں اِک ندیا

کس اور چلی ، دیّا دیّا!

کس گھاٹ لگوں رے پرویّا

سارا جگ جل اور میں نیّا

پروین شاکر

بنفشے کا پُھول

وہ پتھر پہ کِھلتے ہُوئے خُوبصورت بنفشے کا ننھا سا ایک پُھول بھی

جس کی سانسوں میں جنگل کی وحشی ہوائیں سمائی ہُوئی تھیں

اُس کے بے ساختہ حُسن کو دیکھ کر

اک مُسافر بڑے پیار سے توڑ کر،اپنے گھر لے گیا

اور پھر

اپنے دیوان خانے میں رکھے ہُوئے کانچ کے خُوبصورت سے گُل دان میں

اُس کو ایسے سجایا

کہ ہر آنے والے کی پہلی نظر اُس پہ پڑنے لگی

دادوتحسین کی بارش میں وہ بھیگتا ہی گیا

کوئی اُس سے کہے

گولڈ لیف اور شنبیل کی نرم شہری مہک سے

بنفشے کے ننھے شگوفے کا دَم گُھٹ رہا ہے

وہ جنگل کی تازہ ہَوا کو ترسنے لگاہے

پروین شاکر

بسنت بہار کی نرم ہنسی

بسنت بہار کی نرم ہنسی

آنگن میں چھلکی

بھیگ گئی مری ساری

پھر___پروا کی شوخی!

کیسے اپنا آپ سنبھالوں

آنچل سے تن ڈھانپوںِ__تو

زُلفیں کُھل جائیں

زُلف سمیٹوں

تن چھلکے گا

پروین شاکر

بس اِتنا یاد ہے

دُعاتو جانے کون سی تھی

ذہن میں نہیں

بس اِتنا یاد ہے

کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں

جن میں ایک میری تھی

اور اِک تمھاری!

پروین شاکر

بائیسویں صلیب

صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے

اب سے بائیس برس قبل اُدھر

عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں

کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی

مری آواز نے اُس کو شاید

اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا

دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر

اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو

میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے

آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!

ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر

دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری

اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے

نذر کرتی رہی

کیا کیا تحفے!

کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا

کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا

کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم

کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھاقاف کا رہنے والا

کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم

تو کبھی

جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !

(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں

چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)

وقت نے مجھ سے کئی دان لیے

اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں

مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں

حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں

رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی

سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی

کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی

ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب

میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی

قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی

اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر

اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر

دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___

اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !

ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی

اورخوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی

رنگ نے کھیل رچانے کوکہا بھی،لیکن

میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی

رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی

ہر نئی سالگرہ کی شمعیں

میرے ہونٹوں کی بجائے

شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں

اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند

تنِ تنہا وتہی دست کھڑی

اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو

خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !

آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے

اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں

آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !

ماں کی خاموش نگاہیں

مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں

اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں

خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں

میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوںِ_مگر

ایسی برسات کہاں سے لاؤں

جو مری رُوح کو بپتسمہ دے

پروین شاکر

بارش میں

زمین ہے

یا کہ کچّے رنگوں کی ساری پہنے

گھنے درختوں کے نیچے کوئی شریر لڑکی

شریر تر پانیوں سے اپنا بدن چُرائے___چُرا نہ پائے

پروین شاکر

ایکسٹیسی

سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک

سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن

سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا

گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا

نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس

ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات

دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا

کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا

پروین شاکر

ایک ننّھی سی اُمیّد

اب تو شہر میں لَوٹ آئے ہو

اب تو سب لمحے اپنے ہیں

کیا اب بھی کم فرصت ہو؟

ہاںِ_لمحوں کی تیز روی نے مجھ کو بھی سمجھایا ہے

دن کے شور میں اپنی صدا گم رہتی ہے

لیکن شام کا لہجہ تو سرگوشی ہے

جِم خانے کی گہر ی رات کی انگوری بانہوں میں آنے سے پہلے

جب وہسکی آنکھوں میں ستارے بھر دے

اورسرشاری

بُھولے بھٹکے رستوں کے وہ سارے چراغ جلا دے

جو تم ہوا سے لڑ کر روشن رکھّا کرتے تھے

کیا کوئی کرن__ننھّی سی کرن___میری ہو گی؟

پروین شاکر

ایک مشکل سوال

ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے

ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا

وہ چہرہ

بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا

اور آنکھیں

پہلی محبت کی طرح شفاف!

لیکن اس کے ہاتھ میں

ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں

اور اُن لکیروں میں

برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی

اُس کے ہاتھ

اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!

پروین شاکر

ایک دوست کے نام

لڑکی!

یہ لمحے بادل ہیں

گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے

ان کے لمس کو پیتی جا

قطرہ قطرہ بھیگتی جا

بھیگتی جا تُو جب تک اِن میں نم ہے

اور تیرے اندر کی مٹی پیاسی ہے

مُجھ سے پوچھ

کہ بارش کوواپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہُوا

بال سُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں

پروین شاکر

ایک بُری عورت

ایک بُری عورت

وہ اگرچہ مطربہ ہے

لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ

شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے

وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم

جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے

رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!

ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک

کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح

تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!

گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ

باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے

یاںِ__سزائے باز دید آگ ہے!

یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں

دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جُھکے

تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط

خدائے تن سے،

شب عذار ہونے کی دُعا کریں

جواں لُہو کا ذکر کیا

یہ آتشہ تو

پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے

شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے

کیا عجیب حُسن ہے،

کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،

کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں

کنواریاں تو کیا

کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں

بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے

کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو

وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !

کوئی برس نہیں گیا

کہ اس کے قرب کی سزا میں

شہر کے سبہی قدر داں

نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے

وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے

اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا

تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں

اگر بکارِ خسروی

کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو

تو سب کلاہ دار،

اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،

کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں

زنانِ مصر کی طرح سے

اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں

یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے

کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی

مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی

میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی

اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا

جگنوؤں سے اُمید باندھتی

مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی

جیسے میرے روئیں روئیں میں

کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو

زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!

کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی

میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے

تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی

ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے

روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے

کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آ رہی تھی

ایک جست۔۔۔

اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا

مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی

کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں

لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے

وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں

لبوں پہ ورم ، گال پر خراش

سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب

اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دُھول کی ملی جلی ہنسی لیے

وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ

تڑپ کے آئی___اور__

میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی

پروین شاکر

ایک اداس نظم

یہ حسین شام اپنی

ابھی جس میں گھل رہی ہے

ترے پیرہن کی خوشبو

ابھی جس میں کھل رہے ہیں

میرے خواب کے شگوفے

ذرا دیر کا ہے منظر!

ذرا دیر میں افق پہ

کھلے گا کوئی ستارہ

تری سمت دیکھ کر وہ

کرے گا کوئی اشارہ

ترے دل کو آئیگا پھر

کسی یاد کا بلاوا

کوئی قصۂ جدائی

کوئی کار نا مکمل

کوئی خواب نا شگفتہ

کوئی بات کہنے والی

کسی اور آدمی سے !

ہمیں چاہیے تھا ملنا

کسی عہد مہرباں میں

کسی خواب کے یقیں میں

کسی اور آسماں میں

کسی اور سر زمیں میں !

پروین شاکر

ایسا نہیں ہونے دینا

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا

پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں

نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح

جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے

پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع

صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم

نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی

میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو

کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے

خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو

نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

پروین شاکر

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیِ الفت تھی

یا کوہ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خونابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

پروین شاکر

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیئے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئ!

ان جگنوؤں کے نور سے

چمکی ہے کب وہ زندگی

جس کے مقدر میں رہی

صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو

اے بے خبر! ناداں نہ بن

تیری فسردہ روح کو

چاہت کے کانٹوں کی طلب

اور اس کے دامن میں ‌فقط

ہمدردیوں کے پھول ہیں

پروین شاکر

اوتھیلو

اپنے فون پہ اپنا نمبر

بار بار ڈائل کرتی ہوں

سوچ رہی ہوں

کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا

دل کُڑھتا ہے

اِتنی اِتنی دیر تلک

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

پروین شاکر

آنے والی کل کا دُکھ

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے

وہ ایک لمحہ

کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے

گئے دنوں کا خیال کر کے

تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید

نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے

تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی

’’میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟

یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟

تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ

تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے

کہو گے اُس سے

میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا

عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!‘‘

تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی

تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے

کہو گے اُس سے

’’ارے وہ لڑکی

وہ میرے جذبات کی حماقت

وہ اس قدر بے وقوف لڑکی

مرے لیے کب کی مر چکی ہے!

پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم

کہو گے اُس سے

چلو، نئے آنے والی کل میں

ہم اپنے ماضی کو دفن کریں

پروین شاکر

اندیشہ ہائے دُور دراز

اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے

ہَوا بھی،دھیمے سُروں میں ،کوئی اُداس گیت

مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے

مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے

میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں

مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے

نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ

نہ تیرا ذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ

ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں ورق

مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق

اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ

میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں

میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں

کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے

تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر

جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند

نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آ جائے!

پروین شاکر

آنچل اور بادبان

ساحل پر اِک تنہا لڑکی

سرد ہَوا کے بازو تھامے

گیلی ریت پر گُھوم رہی ہے

جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے

بِن کاجل، بیکل آنکھوں سے

کھلے سمندر کے سینے پر

فراٹے بھرتی کشتی کے بادبان کے لہرانے کو

کس حیرت سے دیکھ رہی ہے!

کس حسرت سے اپنا آنچل مَسل رہی ہے!

پروین شاکر

امَر

ہم میں بھی نہیں وہ روشنی اب

اور تم بھی تمام جل بُجھے ہو

دونوں سے بچھڑ گئی ہیں کرنیں

ویران ہیں شہرِ دل کی راتیں

اب خواب ہیں چاندنی کی باتیں

جنگل میں ٹھہر گئی ہیں شامیں

پروین شاکر

الوداعیہ

وہ جا چکا ہے

مگر جدائی سے قبل کا

ایک نرم لمحہ

ٹھہر گیا ہے

مِری ہتھیلی کی پشت پر

زِندگی میں

پہلی کا چاند بن کر !

پروین شاکر

اُلجھن

رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے

اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے

سوچ رہی ہوں

ان کو تھاموں

زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں

یا اپنے کمرے میں ٹھہروں

چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے

پروین شاکر

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی

ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے

میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں

تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !

پروین شاکر

آشیر باد

پھر مسیحائی دستگیر ہُوئی

چُن رہی ہے تمھارے اشکوں کو

کِس محبت سے یہ نئی لڑکی

میرے ہاتھوں کی کم سخن نرمی

دُکھ تمھارے نہ بانٹ پائی مگر

اس کے ہاتھوں کی مہربانی کو

میری کم ساز آرزو کی دُعا

اور یہ بھی کہ اس کی چارہ گری

عمر بھر ایسے سر اُٹھا کے چلے

میری صُورت کبھی نہ کہلائے

زخم پر ایک وقت کی پٹّی

پروین شاکر

اِسم

بہت پیار سے

بعد مّدت کے

جب سے کسی شخص نے چاند کہ کر بُلایا

تب سے

اندھیروں کی خُوگر نِگاہوں کو

ہر روشنی اچھی لگنے لگی !

پروین شاکر

اُس وقت

جب آنکھ میں شام اُترے

پلکوں پہ شفق پُھولے

کاجل کی طرح ،میری

آنکھوں کو دھنک چُھولے

اُس وقت کوئی اس کو

آنکھوں سے مری دیکھے

پلکوں سے مری چُومے!

پروین شاکر

اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم

اجنبی!

کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو

اور درد حد سے گزر جائے

آنکھیں تری

با ت بے بات رو پڑیں

تب کوئی اجنبی

تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے

تیری قامت کا سایہ بنے

تیرے زخموں کا سایہ بنے

تیری پلکوں سے شبنم چُنے

تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!

پروین شاکر

آزمائش

ڈیڑھ برس کے بعد

اچانک

وقت نے اپنا آئینہ پن دِکھلایا

بچھڑے ہوؤں کو مدِّ مقابل لے آیا

بہتی ہَوا کے عکس بنانے والا ساحر

گونگی تصویروں کو اب آواز بھی دے!

پروین شاکر

احساس

گہرے نیلم پانی میں

پُھول بدن لہریں لیتے تھے

ہَوا کے شبنم ہاتھ انھیں چُھو جاتے تو

پور پور میں خنکی تیرنے لگتی تھی

شوخ سی کوئی موج شرارت کرتی تو

نازک جسموں ،نازک احساسات کے مالک لوگ

شاخِ گلاب کی صُورت کانپ اُٹھتے تھے!

اُوپر وسط اپریل کا سُورج

انگارے برساتا تھا

ایسی تمازت!

آنکھیں پگھلی جاتی تھی!

لیکن دِل کا پُھول کِھلا تھا

جسم کے اندر رات کی رانی مہک رہی تھی

رُوح محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی

گیلی ریت اگرچہ دُھوپ کی حدت پاکر

جسموں کو جھلسانے لگی تھی

پھر بھی چہروں پہ لکھا تھا

ریت کے ہر ذرے کی چُبھن میں

فصلِ بہار کے پہلے گُلابوں کی ٹھنڈک ہے

پروین شاکر

احتیاط

سوتے میں بھی

چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں

ڈر لگتا ہے

پلکوں کی ہلکی سی لرزش

ہونٹوں کی موہوم سی جنبش

گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک

لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے

نیند میں آئی ہُوئی مُسکان

کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے

پروین شاکر

اِحتساب

ہواِ_جو گندم کی پہلی خوشبو کے لمس سے لے کے

کڑوے بارُود کی مہک تک

زمیں کے ہمراہ رقص میں تھی

گماں یہ ہوتا ہے

اس رفاقت سے تھک چکی ہے

اور اپنی پازیب اُتار کر

اجنبی زمینوں کی سرد بانہوں میں سورہی ہے

فضا میں سنّاٹا دم بخود ہے

ہوا کی خفگی ہی بے سبب ہے

کہ ابِن آدم نے اپنے نیپام سے بھی بڑھ کر

کوئی نیا بم بنا لیا ہے؟

پروین شاکر

اجنبی

کھوئی کھوئی آنکھیں

بکھرے بال

شکن آلود قبا

لُٹا لُٹا انسان !

سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن

کِسی جگہ مل جائے تو

گبھرا کر مُڑ جاتا ہے

اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے

کون ہے یہ

پروین شاکر

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا

عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا

میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!

آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے

ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگِ اُمید کِھلے گا کہ بکھر جائے گا!

وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا!

پروین شاکر

اتنے اچھے موسم میں

اتنے اچھے موسم میں

روٹھنا نہیں اچھا

ہار جیت کی باتیں

کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

آج دوستی کر لیں !!!

پروین شاکر

اِتنا معلوم ہے!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

اِتنا دھیان رکھنا

اُجلے آج کی سّچائی کو

مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں

کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟

خیر___تمھاری مرضی

لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا

سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے

پروین شاکر

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں

گئی رات کے سناٹے میں

اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں

گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں

خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر

کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب

کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب

کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم

کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم

خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے

ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے

تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !

وہ خزاں زاد تھا

اور بنتِ بہار

اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات

اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے

وہ اماوس کی گھنی راتوں میں

رت جگا کرتا رہا

اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا

جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے

چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے

سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں

شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے

خوشبو آزاد ہے

جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے

نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر

یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے

جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے

پروین شاکر

اب کس کا جشن مناتے ہو

اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

پروین شاکر

ایک نغمہ ۔ پنجابی میں

"وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار”

روزی دیوے گا سائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار

ہیر نوں چھَڈ ٹر گیوں رنجھیٹے

کھیڑیاں دے گھر پاے گئے ہاسے

کانگ اڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

پِنڈ وچ کڈی ٹوہر شریکاں

یاراں دے ڈھے پئے منڈاسے

ویراں دیاں ٹُٹ گئیاں بائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

روزی دیوے گا سائیں

کانگ اُڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

خیر مناون سنگی ساتھی

چرخے اولے روون مٹیاراں

ہاڑاں دردیاں سُنجیاں رائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں

چھڈ غیراں دے محل چو محلے

اپنے ویہڑے دی رِیس نہ کائی

اپنی جھوک دیاں ستّے خیراں

بیبا تُس نے قدر نہ پائی

موڑ مہاراں

تے آ گھر باراں

مُڑ آ کے مول نہ جائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

فیض احمد فیض

ایک ترانہ ۔ پنجابی میں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

بھولیا! تُوں جگ دا ان داتا

تیری باندی دھرتی ماتا

توں جگ دا پالن ہار

تے مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

جرنل، کرنل، صوبیدار

ڈپٹی، ڈی سی، تھانیدار

سارے تیرا دتّا کھاون

توں جے نہ بیجیں، توں جے نہ گاہویں

بھُکھّے، بھانے سب مر جاون

ایہہ چاکر توں سرکار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

وچ کچہری، چونکی تھانے

کیہہ اَن بھول تے کیہہ سیانے

کیہہ اشراف تے کیہہ نمانے

سارے کھجّل خوار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

ایکا کر لئو، ہو جاؤ کٹھّے

بھُل جاؤ رانگڑ، چیمے چٹھے

سبھے دا اِک پریوار

مردا کیوں جائیں

جے چڑھ آون فوجاں والے

توں وی چھَویاں لمب کرا لے

تیرا حق، تری تلوار

تے مردا کیوں جائیں

دے اللہ ہُو دی مار

تے مردا کیوں جائیں

فیض احمد فیض

گیت

جلنے لگیں یادوں کی چتائیں

آؤ کوئی بَیت بنائیں

جن کی رہ تکتے تکے جُگ بیتے

چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں

آنکھیں موند کے نِت پل دیکھیں

آنکھوں میں اُن کی پرچھائیں

اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر

بے دردوں کے سامنے جائیں

جب رونا آوے مسکائیں

جب دل ٹوٹے دیپ جلائیں

پریم کتھا کا انت نہ کوئی

کتنی بار اسے دھرائیں

پریت کی ریت انوکھی ساجن

کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں

فیض اُن سے کیا بات چھپی ہے

ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں

فیض احمد فیض

ہم تہی دامنوں سے کیا لینا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
اپنے انعامِ حسن کے بدلے
ہم تہی دامنوں سے کیا لینا
آج فرقت زدوں پہ لطف کرو
پھر کبھی صبر آزما لینا
قطعہ
فیض احمد فیض

صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا
ہر اک شب، ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے
مگر ہر صبح ہو روزِ جزا ایسے نہیں ہوتا
رواں ہے نبضِ دوراں، گردشوں میں آسماں سارے
جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا
فیض احمد فیض

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے
وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا
جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی
سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا
فیض احمد فیض

جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
غم بہ دل، شکر بہ لب، مست و غزل خواں چلیے
جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے
رحمتِ حق سے جو اس سَمت کبھی راہ ملے
سوئے جنّت بھی براہِ رہِ جاناں چلیے
نذر مانگے جو گلستاں سے خداوندِ جہاں
ساغرِ مے میں لیے خونِ بہاراں چلیے
جب ستانے لگے بے رنگیِ دیوارِ جہاں
نقش کرنے کوئی تصویرِ حسیناں چلیے
کچھ بھی ہو آئینۂ دل کو مصفّا رکھیے
جو بھی گزرے، مثلِ خسروِ دوراں چلیے
امتحاں جب بھی ہو منظور جگر داروں کا
محفلِ یار میں ہمراہِ رقیباں چلیے
فیض احمد فیض

جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے؎۱
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
؎۱ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن ۔۔۔۔ کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
فیض احمد فیض

گاؤں کی سڑک

یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا

یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا

کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی

یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن

یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن

جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی

نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ

مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا

کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے

سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

(بیروت)

فیض احمد فیض

میرے ملنے والے

وہ در کھلا میرے غمکدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں

فرشِ افسردگی بچھانے

وہ آگئی رات چاند تاروں کو

اپنی آزردگی سنانے

وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے

یاد کے زخم کو منانے

وہ دوپہر آئی آستیں میں

چھپائے شعلوں کے تازیانے

یہ آئے سب میرے ملنے والے

کہ جن سے دن رات واسطا ہے

پہ کون کب آیا، کب گیا ہے

نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے

خیال سوئے وطن رواں ہے

سمندروں کی ایال تھامے

ہزار وہم وگماں سنبھالے

کئی طرح کے سوال تھامے

(بیروت)

فیض احمد فیض

لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ
حالِ چمن پر تلخ نوائی
مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ
دل شکنی بھی، دلداری بھی
یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ
شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
نذرِ حافظ ۔۔۔ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق ۔۔۔ بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
بیروت
فیض احمد فیض

دو نظمیں فلسطین کے لئے

۔ ۱ ۔

میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن

تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے

تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے

تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی

تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی

سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا

کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا

دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں

اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں

جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم

لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم

تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد

میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

بیروت ۸۰ ء

۔ ۲ ۔

فلسطینی بچے کیلیے لوری

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی، ابا، باجی، بھائی

چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب

اور بھی تجھ کو رلوائیں گے

تو مسکائے گا تو شاید

سارے اک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

کیا کریں

مری تری نگاہ میں

جو لاکھ انتظار ہیں

جو میرے تیرے تن بدن میں

لاکھ دل فگار ہیں

جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے

سب قلم نزار ہیں

جو میرے تیرے شہر کی

ہر اک گلی میں

میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں

جو میری تیری رات کے

ستارے زخم زخم ہیں

جو میری تیری صبح کے

گلاب چاک چاک ہیں

یہ زخم سارے بے دوا

یہ چاک سارے بے رفو

کسی پہ راکھ چاند کی

کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں، بتا

یہ ہے، کہ محض جال ہے

مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا

جو ہے تو اس کا کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں

بتا ، بتا ،

بتا ، بتا

(بیروت)

فیض احمد فیض

پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 14
مقتل میں نہ مسجد میں نہ خرابات میں کوئی
ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں
شاید کوئی ان میں سے کفن پھاڑ کے نکلے
اب جائیں شہیدوں کے مزاروں پہ اذاں دیں
قطعہ
فیض احمد فیض

کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا، سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کیے، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
کوئی لمحہ صبحِ وصال کا، کئی شامِ ہجر کی مدّتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا، تو رہے گا دامنِ دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں، نہ کسی صنم کی مروّتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم، جو بچا ہے مقتلِ شہر میں
یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں، یہ ہیں اہلِ صدق کی تربتیں
مری جان آج کا غم نہ کر، کہ نہ جانے کاتبِ وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر، کہیں لکھ رکھی ہوں مسرّتیں
بیروت
فیض احمد فیض

ہم تو مجبورِ وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن

جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا

کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی

خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے

’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر

لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘؎۱

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں

اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم

ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے

(؎۱ یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں۔)

فیض احمد فیض

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

ٹھہر گئی آسماں کی ندیا

وہ جا لگی افق کنارے

اداس رنگوں کی چاندنیّا

اتر گئے ساحلِ زمیں پر

سبھی کھویّا

تمام تارے

اکھڑ گئی سانس پتیوں کی

چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں

گجر بچا حکمِ خامشی کا

تو چپ میں گم ہو گئی صدائیں

سحر کی گوری کی چھاتیوں سے

ڈھلک گئی تیرگی کی چادر

اور اس بجائے

بکھر گئے اس کے تن بدن پر

نراس تنہائیوں کے سائے

اور اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کہ دن ڈھلے شہر سے نکل کر

کدھر کو جانے کا رخ کیا تھا

نہ کوئی جادہ، نہ کوئی منزل

کسی مسافر کو اب دماغِ سفر نہیں ہے

یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی

کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

یہ وقت آئے تو بے ارادہ

کبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوں

اتار کر ذات کا لبادہ

کہیں سیاہی ملامتوں کی

کہیں پہ گل بوٹے الفتوں کے

کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی

کہیں پہ خونِ جگر کے دھبّے

یہ چاک ہے پنجۂ عدو کا

یہ مہر ہے یارِ مہرباں کی

یہ لعل لب ہائے مہوشاں کے

یہ مرحمت شیخِ بد زباں کی

یہ جامۂ روز و شب گزیدہ

مجھے یہ پیراہن دریدہ

عزیز بھی، ناپسند بھی ہے

کبھی یہ فرمانِ جوشِ وحشت

کہ نوچ کر اس کو پھینک ڈالو

کبھی یہ حرفِ اصرارِ الفت

کہ چوم کر پھر گلے لگا لو

(تاشقند)

فیض احمد فیض

تین آوازیں

ظالم

جشن ہے ماتمِ امّید کا آؤ لوگو

مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو

عدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے

تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نے

جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو

بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو

ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے میں نے

سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے

اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا

فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لیے

اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا

ابر آئے گا خس و خار کے انبار لیے

میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی

میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی

اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے

سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے

فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا

عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا

مظلوم

رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے

صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے

دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا

دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا

یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر

یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر

کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے

ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے

وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟

ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

ندائے غیب

ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو

کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے

اُٹھے گا جب جَمِّ سرفروشاں

پڑیں گے دارو رَسن کے لالے

کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی

یہیں عذاب و ثواب ہو گا

یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر

یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

فیض احمد فیض

ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
سہل یوں راہِ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رُخی کی ہے
زہر سے دھو لیے ہیں ہونٹ اپنے
لطفِ ساقی نے جب کمی کی ہے
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
بس وہی سرخرو ہوا جس نے
بحرِ خوں میں شناوری کی ہے
"جو گزرتے تھے داغ پر صدمے”
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
لندن
فیض احمد فیض

لاؤ تو قتل نامہ مرا

سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی

تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی

ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو

کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام

بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی

’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں

کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘

فیض احمد فیض

دو نظمیں

۔ ۱ ۔

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن

جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم

منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

۔ ۲ ۔

شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے

چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں

دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں

پانی میں نہائے ہیں بوٹے

گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے

جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے

خوں کا ہر داغ دمکتا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے

ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے

عالم میں اُن کا شہرہ ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں

وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں

اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

غم نے سانچے میں ڈھالا ہے

اِک باپ کے پتھر چہرے کو

مردہ بیٹے کے ماتھے کو

اِک ماں نے رو کر چوما ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی

اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے

پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن

اب بادل ہے نہ برکھا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)

————————-

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
کچھ پہلے اِن آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پو چھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئے
جب موسمِ گُل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا
تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے
جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا
اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے، لیکن اب سے پہلے تو
آنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالمَ سارا گزرے تھا
ایک دکؐنی غزل
فیض احمد فیض

دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھُلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اُٹھا آخر شب
وہ جو اِک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخر شب
کون کرتا ہے وفا، عہدِ وفا آخر شب
لمسِ جانانہ لیے، مستیِ پیمانہ لیے
حمدِ باری کو اٹھے دستِ دعا آخر شب
گھر جو ویراں تھا سرِ شام وہ کیسے کیسے
فرقتِ یاد نے آباد کیا آخر شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اوؐلِ شب
اسی انداز سے چل بادِ صبا آخر شب
مخدوم کی یاد میں
ماسکو
فیض احمد فیض

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
"آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
مخدوم کی یاد میں
ماسکو
فیض احمد فیض

کوئ عاشق کسی محبوبہ سے!

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا

پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ

ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہو گا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم

کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہو گا

گردِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں

تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو

(لندن)

فیض احمد فیض

پھول مرجھا گئے سارے

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو

شمعیں بے نور ہو گئی ہیں

آئینے چور ہو گئے ہیں

ساز سب بج کے کھو گئے ہیں

پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں

اور اُن بادلوں کے پیچھے

دور اِس رات کا دلارا

درد کا ستارا

ٹمٹما رہا ہے

جھنجھنا رہا ہے

مسکرا رہا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

دلِ من مسافرِ من

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رُخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یارِ نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سرِ کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بُری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا

(لندن)

فیض احمد فیض

نعت

اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو

آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو

خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال

بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو

آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر

اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو

آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ

از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو

باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند

روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو​

فیض احمد فیض

شامِ غربت

دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے

غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے

نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے

شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے

بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے

درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے

ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے

آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے

درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے

دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​

فیض احمد فیض

متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
بہت مِلا نہ مِلا، زندگی سے غم کیا ہے
متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں، ستم کیا ہے
کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف
کرے نہ شہر میں جل تھل تو چشمِ نم کیا ہے
لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے
وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے
اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو
’’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے‘‘
فیض احمد فیض

اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے
فیض احمد فیض

رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
پھول مسلے گئے فرشِ گلزار پر
رنگ چھڑکا گیا تختۂ دار پر
بزم برپا کرے جس کو منظور ہو
دعوتِ رقص، تلوار کی دھار پر
دعوتِ بیعتِ شہ پہ ملزم بنا
کوئی اقرار پر، کوئی انکار پر
ناتمام
فیض احمد فیض

پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے
پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے
صحرا پہ لگے پہرے اور قفل پڑے بن پر
اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے
خاکِ رہِ جاناں پر کچھ خوں تھا گِرو اپنا
اس فصل میں ممکن ہے یہ قرض اتر جائے
دیکھ آئیں چلو ہم بھی جس بزم میں سنتے ہیں
جو خندہ بلب آئے وہ خاک بسر جائے
یا خوف سے در گزریں یا جاں سے گزر جائیں
مرنا ہے کہ جینا ہے اِک بات ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر

قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے

جو عزم و ہمت کے مدعی تھے

اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی

آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے

جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے

جو اہلِ دستار محترم تھے

ہوس کے پرپیچ راستوں میں

کلہ کسی نے گرو رکھ دی

کسی نے دستار بیچ دی ہے

اُدھر بھی دیکھو

جو اپنے رخشاں لہو کےدینار

مفت بازار میں لٹا کر

نظر سے اوجھل ہوئے

اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،

اُدھر بھی دیکھو

جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر

جہاں سے رخصت ہوئے

اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد

چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​

فیض احمد فیض

ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار

۔ ۱ ۔

جینے کے لیے مرنا

یہ کیسی سعادت ہے

مرنے کے لیے جینا

یہ کیسی حماقت ہے

۔ ۲ ۔

اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح

اور مل کر جیو

ایک بَن کی طرح

۔ ۳ ۔

ہم نے امّید کے سہارے پر

ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے

جس طرح تم سے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض

پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
باقی ہے کوئی ساتھ تو بس ایک اُسی کا
پہلو میں لیے پھرتے ہیں جو درد کسی کا
اِک عمر سے اِس دھُن میں کہ ابھرے کوئی خورشید
بیٹھے ہیں سہارا لیے شمعِ سحری کا
قطعہ
فیض احمد فیض

دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
شام دھندلانے لگی اور مری تنہائی
دل میں پتھر کی طرح بیٹھ گئی
چاند ابھرنے لگا یک بار تری یاد کے ساتھ
زندگی مونس و غم خوار نظر آنے لگی​
قطعہ
فیض احمد فیض

آج شب کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی

خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی

اور مکیں کوئی نہیں ہے،

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

"کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت”

کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت

کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں

کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم

ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم

اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے​

فیض احمد فیض