زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
یعنی بڑے جتن سے ہم، خود سے جدا کیے گئے
ہم آج خلوتِ جاں میں بھی بے دلی سے گئے
تیری یادوں کے جھونکے گزرتے رہے، تھپتھپاتے رہے، اور ہم سو گئے
آوارگانِ شہر کہاں جا کے مر گئے
بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی
میں سر تا پا گماں ہوں آئنہ ہوتے ہوئے بھی
عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی
تُو جو موجود نہ ہوتا، تو کہاں تھے ہم بھی
تری خواہش نہیں دل میں زیادہ دیر رہنے کی
کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی
تا ابد دھوم مچ گئی میری
میں کہ ٹھہرا گدائے دیارِ سخن مجھ کو یہ ذمّہ داری کہاں سونپ دی
تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی
جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی
کہیں ہو نہ جاؤں میں رائگاں، مری آدھی عمر گزر گئی
مجھے جس کا ڈر تھا وہی ہُوا، مری ساری عمر گزر گئی
جانا ہے کب خبر نہیں، تیّار ہو کے رہ
سو اب کسی کے نہ ہونے سے کچھ کمی بھی نہیں
یہ منتہائے علم ہے جناب، عاجزی نہیں
کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں
وہ کام کر رہا ہوں جو دشوار تک نہیں
نہ کر ملال کہ کوئی یہاں کسی کا نہیں
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ہم کیا کررہے ہیں
چند کو چھوڑ کے سب اہلِ قلم جھوٹے ہیں
کئی کروڑ سروں میں دماغ کتنے ہیں
محرومی کے بوجھ تلے بے چارے رہتے ہیں
ہم کسی شے کو بھی موجود کہاں چاہتے ہیں
پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں
ہم اہلِ حرف لگاتار خواب دیکھتے ہیں
عجیب شہر ہے، سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں
کس مشکل سے نیند ٓتی ہے، پھر ہم خواب میں مر جاتے ہیں
یعنی وہ سب جو ترا ہجر گزارے ہوئے ہیں
چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں
آج فضا کے بوجھل پن سے لہجے بھی سنجیدہ ہیں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں
ہر چند آئنہ ہوں، منور نہیں ہوں میں
مجھ کو کہاں خبر تھی کہ اتنا برا ہوں میں
سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں
بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں
اک مصرعۂ تازہ بھی مگر کہہ نہ سکا میں
آ گیا خود میں بتدریج سمٹتا ہوا میں
یہ کہاں آگیا ہستی سے سرکتا ہُوا میں
چلو اب مان بھی جاؤ، خدا نئیں
کوئی کہیں بھی قتل ہو، مرتا تو میں بھی ہوں
یہ سب سُن کے مجھ کو بھی لگنے لگا ہے کہ میں واقعی اک بُرا آدمی ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں
میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں
تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں
میں اپنا خواب کسی کو دکھانا چاہتا ہوں
عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں
وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو
وہ آئینہ ہوں جسے روشنی ہی راس نہ ہو
جیسے دکھائی دے کوئی صورت، مگر نہ ہو
اب نہ رہیں گے ہم یہاں، پھر بھی یہاں کی خیر ہو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
موت جہاں بھی ناچ رہی ہے، ناچنے دو
کہ ماں کا حرفِ دعا بھی نہیں رہا اب تو
کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل
دھیان جا نکلا مگر اک روئے تاباں کی طرف
عذاب ایسا کسی روح پر نہیں، کوئی اور
تیرے پہلو میں رہا میں اور رہا بھی دم بخود
تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا
میں جو اک شعلہ نژاد تھا ہوسِ قرار میں بجھ گیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
فقط لگن سے نہیں، والہانہ پن سے کیا
یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا
کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا
اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا
خود پر مجھے کسی کا بھی دھوکا نہیں رہا
اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا
ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا
میں تنہا تھا، تجھ کو آنا چاہیئے تھا
جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا
مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا
تم کہانی کے کس باب پر، اُس کے انجام سے کتنی دُوری پہ ہو اِس سے قطعِ نظر، دفعتاً یہ تمہارا بیاں ختم ہو جائے گا
مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاؤں گا
درد ہے، درد بھی قیامت کا
اعلان کر دیا گیا میری شکست کا
کچھ اور بات کرو ہم سے شاعری کے سوا
یعنی زمینِ میر کو ہموار دیکھنا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
تو میں بتاوں گا خود کو کہ کیا بنا میرا
بھلا کیا ہے سبھی کا، یہ ہے قصور مرا
کیا حال کہہ سکے گی، یہ چشمِ تر ہمارا
یا کسی دن مری فرصت کو میسّر ہو جا
کچھ بھی نہیں بگڑا ابھی، عزت سے نکل جا
فردیات
تدفینِ شان الحق حقّی صاحب
جو گل کہ نازِ چمن تھا وہ دے دیا تجھ کو
تجھے اے کنجِ لحد! ہم نے یوں سنوارا ہے
گرفتہ دل تھی بہت خاک اپنی پستی پر
زمیں میں ہم نے ابھی آسماں اُتارا ہے
بیادِفرازؔ
شاہوں میں تھا فرازؔ، فرازوں میں شاہ تھا
دل تھا گدائے حُسن، قَلَم کج کلاہ تھا
کچھ سوچ کس کو چھوڑ کے تُو چل دیا فرازؔ!
تجھ پر غزل کو ناز تھا، اور بے پناہ تھا
﴿﴾
اِک دردِ مسلسل ہے، کہ گھٹتا ہی نہیں
اِک رنج کا بادل ہے، کہ چھٹتا ہی نہیں
ہنستا ہُوا چہرہ ترا، اے دوست، فرازؔ!
یُوں ذہن پہ چھایا ہے کہ ہٹتا ہی نہیں
بیادِ عزمؔ بہزاد
آفتابِ روایت و اقدار
تھک گیا تھا سو گھر گیا شاید
رو رہی ہے غزل، خبر لینا!
عزمؔ بہزاد مر گیا شاید
بیادِ سیّد ضمیر جعفری
﴿﴾
اے اجل! نابغۂ عصر کو مارا کیسے؟
یہ ستم تو نے کیا ہو گا، گوارا کیسے؟
جس کو احباب نے کاندھوں پہ اُٹھایا تھا سدا
اُس کو مٹّی میں ملانے کو، اُتارا کیسے؟
﴿﴾
دلوں کو مہر و محبت سے تابناک کیا
ضمیرِ اہلِ وطن، نفرتوں سے پاک کیا
وہ ایسا شخص تھا، جو اسم با مسمّیٰ تھا
خبر ہے دوستو! کس کو سپردِ خاک کیا
﴿﴾
ہر انجمن سے دُکھے دلوں کے غم و الم سب بھلا کے اُٹھّا
وہ چشمِ بیخواب کو ہمیشہ ، سکون د ےکر، سُلا کر اُٹھّا
بھلا میں اب کیا کہو نگا ضاؔ من! صفیؔ یہ پہلے ہی کہہ گئے ہیں
"ستم ظریفی تو کوئی دیکھے، ہنسانے والا رُولا کے اُٹھّا”
بیادِ جون ایلیا
اے رونقِ اقلیمِ سخن! یاد رہے گا
وہ علم، وہ احساس، وہ فن یاد رہے گا
ہے ندرتِ فکر اپنی جگہ اس کے علاوہ
جون ایلیا! بیساختہ پن یاد رہے گا