زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

جابر جابر اپنا عِجز دکھاتا رہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نیکوں کی فہرست میں نام لکھاتا رہ
جابر جابر اپنا عِجز دکھاتا رہ
ہے تیرا مقدور، سرِ دربار یہی
چانٹے کھا اور گالوں کو سہلاتا رہ
پھیر سیاہی محرومی کے اُکروں پر
درس یہی، ہر آتی پل دُہراتا رہ
بندہ ہے تو اور بھلا کیا کام ترا
ہاتھ خداؤں کے آگے پھیلاتا رہ
ختم نہ ہونے دے اپنی یہ نادانی
بھینس کے آگے ماجدؔ بین بجاتا رہ
ماجد صدیقی

بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا
جنم بھی روک دیا، آنے والی نسلوں کا
ستم نے اپنا تحفّظ تھا، بے حساب کیا
وُہ اپنے آپ کو، کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا
فنا کا راستہ، خود اُس نے انتخاب کیا
بہت دنوں میں، کنارا پھٹا ہے جوہڑ کا
زمیں نے خود ہی، تعفّن کا احتساب کیا
یہ ہم کہ خیر ہی، پانی کا گُن سمجھتے تھے
ہمیں بھنور نے، بالآخر ہے لاجواب کیا
نہ ہمکنارِ سکوں، ہو سکا کبھی ماجدؔ
یہ دل کہ ہم نے جِسے، وقفِ اضطراب کیا
ماجد صدیقی

اور بچّوں کے ہاتھ میں پتّھر کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھے
اور بچّوں کے ہاتھ میں پتّھر کیا کیا تھے
چھو ڈالیں تو پھول کہیں تحلیل نہ ہو
پہلے پہل کے عشق کے بھی ڈر کیا کیا تھے
پیروں میں جب کوئی بھی زنجیر نہ تھی
ان وقتوں میں ہم بھی خودسر کیا کیا تھے
دُور نشیمن سے برسے جو مسافت میں
ژالے تن پر سہنے دُوبھر کیا کیا تھے
حرص کی بین پہ کھنچ کر نکلے تو یہ کھُلا
دیش پٹاری میں بھی اژدر کیا کیا تھے
جھانکا اور پھر لوٹ نہ پائے ہم جس سے
اُس آنگن کے بام تھے کیا در کیا کیا تھے
طاق تھے ماجدؔ تاج محل بنوانے میں
اپنے ہاں بھی دیکھ! اکابر کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
نہ آنے دے یہ موسم بے دلی کا
کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا
عبادت اور کی، قبلہ کہیں اور
عجب انداز نکلا بندگی کا
قد و قامت پہ نازاں ہے جو شعلہ
لگے چربہ اُسی سرو سہی کا
جہاں کُھل کھیلنے آئے تھے ژالے
وہیں تھا اِک گھروندا بھی کسی کا
گراں مایہ ہے ربطِ بے غرض بھی
یہ چنبیلی نشاں ہے آشتی کا
نہ جانے کب چلن اپنا بدل لے
بھروسہ کیا ہے ماجد آدمی کا
ماجد صدیقی

نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھا
نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا
لبوں پہ جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستم گروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گُرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
یہ ہم کہ پست ہیں، گُن تھے بھی گر تو پاس اپنے
یہاں کے، اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وُہ جنس تھی، جِس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

خُدا سمجھتے رہے تھے جِسے صنم نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
نہیں کُچھ ایسا تغافل میں وُہ بھی کم نکلا
خُدا سمجھتے رہے تھے جِسے صنم نکلا
یہاں کے لوگ اذیّت پسند ہیں کیا کیا
مِلے جِسے بھی وُہ گرویدۂ ستم نکلا
وُہی جو قلقلِ خوں میں تھا رقصِ بِسمل کے
کُچھ اپنی لے میں بھی ایسا ہی زیر و بم نکلا
یقیں نہیں ہے پہ حسبِ روایتِ غیراں
جنم ہمارا بھی ہے ناطلب جنم نکلا
سنور گئے ہیں یہاں قصر کیا سے کیا ماجدؔ
مِرے مکان کی دیوار کا نہ خم نکلا
ماجد صدیقی

مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا
یہی سوچنا کہ شکست میں مری اپنی کم نظری تھی کیا
وُہ کہ محھ سے ہے جو چلی گئی وُہی ایک چال نہ دیکھنا
مرے ہونٹ سی کے جواب میں وُہی کچھ کہو کہ جو دل میں ہے
مری آنکھ میں جو رُکا ہوا ہے وُہی سوال نہ دیکھنا
جو رہیں تو زیبِ لب و زباں مرے جرم، میرے عیوب ہی
وُہ کہ خاص ہے مری ذات سے کوئی اک کمال نہ دیکھنا
یہی فرض کر کے مگن رہو کہ مری ہی سرخیٔ خوں ہے یہ
یہ جو ضرب ضرب لہو ہوئے کبھی میرے گال نہ دیکھنا
کوئی حرف آئے توکس لئے کسی رُت پہ ماجدِؔ خوش گماں
یہ تنی ہے جو سرِ ہر شجر کبھی خشک چھال نہ دیکھنا
ماجد صدیقی

آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
مہکے ہمارا باغ بھی شاید، بہار میں
آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں
دل کا اُبال کرتے رہے ہیں سپردِ چشم
ہم نے کیا وُہی کہ جو تھا، اختیار میں
چاہے وُہ جائے دفن بھی سب سے الگ تھلک
نخوت ہے اس طرح کی، دلِ تاجدار میں
یہ اور بات آگ بھی، گلزار بن گئی
نمرود نے تو حق کو اُتارا تھا، نار میں
آکاش تک میں چھوڑ گیا، نسبتوں کا نُور
ماجد جو اشک، ٹوٹ گِرا یادِ یار میں
ماجد صدیقی

جھیل میں اُس کو میں نے عریاں دیکھ لیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
مجھ سے تھا، جو چاند گریزاں دیکھ لیا ہے
جھیل میں اُس کو میں نے عریاں دیکھ لیا ہے
دیکھ لیا ہے، تنکے کو، پانی پر بہتے
دل نے ہو کر، عدل کا خواہاں دیکھ لیا ہے
راحت کا عرفان بھلا کیا اور مجھے ہو
برگ پہ قطرہ اوس کا رقصاں دیکھ لیا ہے
آخر کو ہونٹوں پر لا کر، حرف دُعا کا
ایک بگولا سا، پرافشاں دیکھ لیا ہے
آز میں خواہش کی تکمیل کے، پڑ کر ماجدؔ
جبر کا کیا کیا بار، سرِ جاں دیکھ لیا ہے
ماجد صدیقی

مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
مجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگا
مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا
صیدِ تخریب ہوا میں، تو ہُوا عدل یہی
پُرسشِ شاہ کا اعزاز، مِرے نام لگا
دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو
مَیں کہ پختہ تھا عقیدے کا، بہت خام لگا
جب بھی دیکھا ہے تمنّاؤں کا یکجا ہونا
شام کے پیڑ پہ چڑیوں کا وُہ کہرام لگا
اُن کی جانب سے، کہ کھلیان ہیں جن کے ماجدؔ
مُجھ پہ خوشوں کے چرانے ہی کا، الزام لگا
ماجد صدیقی

آنکھوں میں آنسوؤں کے گُہر، لے کے آ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
مَیں اُس سے چاہتوں کا ثمر، لے کے آ گیا
آنکھوں میں آنسوؤں کے گُہر، لے کے آ گیا
دیکھو تو کیسے چاند کی اُنگلی، پکڑ کے مَیں
اُس شوخ سے ملن کی سحر، لے کے آ گیا
کس زعم میں نجانے، منانے گیا اُسے
تہمت سی ایک، اپنے ہی سر، لے کے آ گیا
قصّہ ہی جس سے کشتِ تمّنا کا، ہو تمام
خرمن کے واسطے وُہ شرر، لے کے آ گیا
اَب سوچتا ہوں اُس سے، طلب میں نے کیا کیا
ماجدؔ یہ مَیں کہ زخمِ نظر لے کے آ گیا
ماجد صدیقی

کہ جیسے چاندنی چھاجوں برستی نار کے بعد

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ملا وُہ خطّۂ جاں دشتِ انتظار کے بعد
کہ جیسے چاندنی چھاجوں برستی نار کے بعد
بہم وُہ لُطف ہُوا قربِ یار سے اَب کے
درونِ ملک سکوں، جیسے انتشار کے بعد
سروں نے کھنچ کے بدن سے کہا، بنامِ وطن
کوئی فراز نہیں ہے فرازِ دار کے بعد
نِکل کے کوچۂ جاناں سے ہم بھی دیکھ آئے
سبک سری جو ملے دورِ اقتدار کے بعد
پچھڑ کے موسمِ گُل سے یہی ہُوا ماجدؔ
کھِلا ہے غنچۂ دل ہر گئی بہار کے بعد
ماجد صدیقی

شامل ہو جائیں اَب گنگوں بہروں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
لو یُوں بھی بن باس رچائیں شہروں میں
شامل ہو جائیں اَب گنگوں بہروں میں
کشتی اِک ملاّح کے رحم و کرم پر ہو
یہ بھی ہے اِک، قہر خُدا کے قہروں میں
اُن ہی میں اَب شور قیامت جیسا ہے
دھیمے نغمے بہتے تھے جن نہروں میں
اُن کا سورج اَب بھی سروں پہ ساکن ہے
گھر سے نکلے تھے جن زرد دوپہروں میں
درد میں ہے ماجدؔ بس اتنی تبدیلی
بڑھتا ہے تو بٹ جاتا ہے لہروں میں
ماجد صدیقی

ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
لب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاں
ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں
ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ، ہلائے سرِ آب
ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وُہ تائید کہاں
شہر میں عام ہے جو خون خرابے کی فضا
دیکھیئے لے کے ہمیں جائے یہ تمہید کہاں
وُہ جو قزّاق ہے کیا رحم کی خواہش اُس سے
راہ پر لائے گی اُس کو کوئی تاکید کہاں
ہاتھ بچّے کے ہو جیسے کوئی ناؤ ماجدؔ
نام ایسی بھی ہمارے ہے کوئی عید کہاں
ماجد صدیقی

یہ کجکلاہی میں آپ کی ہور رہا ہے کیا کچھ حضور دیکھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
گلی گلی ہے فساد و فتنہ نگر نگر ہے فتور دیکھیں
یہ کجکلاہی میں آپ کی ہور رہا ہے کیا کچھ حضور دیکھیں
یہ ضد ہے شاہوں کو بھی، کہ معنی نہ کوئی ڈھونڈے سُخن میں اُن کے
نظر میں ہو حُسن قافیوں کا، رواں ہیں کیا کیا بُحور دیکھیں
وُہ بادباں جن کے ہاتھ میں ہیں، ڈبوئیں کشتی جہاں کہیں بھی
ہَوا کو الزام دیں ہمیشہ کبھی نہ اپنا قصور دیکھیں
وُہ جن کی تصویر سے منوّر ہے آشتی کا ہر ایک پرچم
وُہی پرندہ لٹک رہا ہے شجر پہ زخموں سے چُور دیکھیں
وُہ جن کا بس ہے رُتوں پہ ماجدؔ ہمیشہ اُن سے یہی سُنا ہے
سرِاُفق ابر کا گماں ہے، چمک سی ہے اِک وُہ دَور دیکھیں
ماجد صدیقی

سارے ارکانِ سکوں، نادار ہیں اَب کے برس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
گل پریشاں ہیں تو جھونکے، نار ہیں اَب کے برس
سارے ارکانِ سکوں، نادار ہیں اَب کے برس
کھیت سے لے کر، کناروں تک کا عالم ایک ہے
خِستِ دریا سے سب، بیزار ہیں اَب کے برس
جال سے نکلے تو، تیروں کی چتا ہے سامنے
دل کو لاحق اور ہی آزار ہیں اَب کے برس
درمیاں میں جان لیوا، پیاس کا آسیب ہے
سارے پنگھٹ دشت کے اُس پار ہیں، اب کے برس
بے دلی ماجد اگر کُچھ ہے، تو وُہ چڑیوں میں ہے
جتنے شاہیں ہیں، بہت سرشار ہیں اب کے برس
ماجد صدیقی

لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
کانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیا
لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا
تھے جس قدر شہاب، گرائے نشیب میں
ذرّوں کو وقت نے، مہ و اختر بنا دیا
جیسے، کنارِ آب کا پودا ہو سخت جاں
صدمات نے، ہمیں بھی ہے پتّھر بنا دیا
تاحشر نفرتوں کا نشانہ رہے، جہاں
ایسی جگہ، مزارِ ستم گر بنا دیا
اِک بات بھی پتے کی، نہ تم نے کہی کبھی
ماجدؔ تمہیں، یہ کس نے سخنور بنا دیا
ماجد صدیقی

ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
کسی پر ہیں زیادہ اور کہیں احساں ہیں کم تیرے
ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے
ہمیں ہی کیا؟ سرِ آفاق اک نیچا دکھانا تھا
ہمارے حق میں، کیا لکّھا کئے، لوح و قلم تیرے
نجانے کیوں کریں تضحیک، اِک اِک بانجھ خطّے کی
زمیں پر جس قدر بھی کھیت ہیں، شاداب و نم تیرے
گدا کے ہاتھ میں کشکول ہی تیرا نہیں ورنہ
چھلکتے جام ہیں جتنے یہاں، تیرے ہیں، جم تیرے
کسی نے اِس کی نسبت آج تک تجھ سے نہیں مانی
قصیدے لکھ رہا ہے گرچہ ماجدؔ دمبدم تیرے
ماجد صدیقی

نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
کہا تو دل میں رہی ہیبتِ شہاں کیا کیا
نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا
یہ اُن حروف سے پوُچھو، ہوئے جو خاک بہ سر
اُڑی ہیں عہدِ مُروّت کی دھجّیاں کیا کیا
زمیں کی بات اُٹھائی تھی، اِک ذرا اس سے
نجانے ٹوٹ پڑا ہم پہ، آسماں کیا کیا
وُہ جس کے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لُٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گُماں کیا کیا
ہم ایسے اُڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
ہُنر دکھائے ابھی حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

پیہم نگر اُمید کا، تاراج مِلا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کل تھا جو مِلا، کرب وُہی آج ملا ہے
پیہم نگر اُمید کا، تاراج مِلا ہے
اِک چیخ سی اور بعد میں کُچھ خون کی بُوندیں
شاہین کو چڑیوں سے، یہی باج مِلا ہے
دستک سے، سرِ شہر پڑاؤ کو، جو دی تھی
ایسے بھی ہیں کُچھ، جن کو یہاں راج مِلا ہے
کانوں میں کوئی گرم سخن، آنے نہ پائے
سر ڈھانپ کے رکھتے ہیں جنہیں تاج مِلا ہے
پھُوٹے تو بنائیں، نیا اک اور گھروندا
ماجدؔ ہمیں کرنے کو، یہی کاج ملِا ہے
ماجد صدیقی

اتنا میٹھا ہے کہ کڑوا لاگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا کہیں کیسا وُہ اچّھا لاگے
اتنا میٹھا ہے کہ کڑوا لاگے
جُھوٹ اُس نہج کو پہنچا ہے کہ اَب
حق سرائی بھی تماشا لاگے
ہاتھ شہ رگ پہ بھی رکھتا ہے مدام
وُہ کہ ظاہر میں مسیحا لاگے
دردمیں اَب کے وُہ شدّت اُتری
آنچ بھی جس کا مداوا لاگے
جیسے اپنا ہی چلن ہو ماجدؔ
مکر اس طور سے دیکھا لاگے
ماجد صدیقی

اے آسماں! اُتار رذالت کُچھ اور بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کر دے ہمارے نام، خجالت کُچھ اور بھی
اے آسماں! اُتار رذالت کُچھ اور بھی
ہاں کِلکِ خاص بھی ہے تری، لوحِ خاص بھی
کر لے بنامِ خویش، بسالت کُچھ اور بھی
آئے نہیں ہیں بس میں ابھی، ضابطے تمام
سانچے میں اپنے ڈھال، عدالت کُچھ اور بھی
کافی نہیں ہے، تُندیٔ موسم کی تاب ہی
دیکھیں گے پیڑ، زورِ علالت کُچھ اور بھی
کہتی ہے رات مجھ کو نہ کاجل کہو فقط
ماجدؔ وُہ چاہتی ہے، وکالت کُچھ اور بھی
ماجد صدیقی

انت نجانے کیا ٹھہرے اِس ناٹک، اِس افسانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کیا کیا کچھ زوروں پہ نہیں ہے، کام ہمیں بہلانے کا
انت نجانے کیا ٹھہرے اِس ناٹک، اِس افسانے کا
کب سے پھُونکیں مار رہا ہے، لا کے گرفت میں جگنو کو
بندر نے فن سیکھ لیاہے اپنا گھر گرمانے کا
اِک جیسے انداز ہیں جس کے، سب تیور اِک جیسے ہیں
جانے کب اعلان کرے، وُہ موسم باغ سے جانے کا
اِک جانب پُچکار لبوں پر، ہاتھ میں دُرّہ اُس جانب
تانگے والا جان چکا، گُر گُھوڑا تیز چلانے کا
چھوڑ نہیں دیتے کیوں ماجدؔ یہ بیگار کی مزدوری
کس نے تمہیں آزار دیا یہ لکھنے اور لکھانے کا
ماجد صدیقی

فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی بارات
فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات
اپنی خشک تنی کے نوحے، کر کے لبوں سے محو
پانی ہی کے گُن گاتے ہیں، پیڑ سے جھڑتے پات
ہم ایسے پچھڑے لوگوں کے، دل کا حال نہ پوچھ
جنگلی گھاس کی صورت چمٹیں، قدم قدم صدمات
جیون ہے سائے کی مسافت، پل میں اور سے اور
شکلیں بدلے اور تیاگے اپنوں تک کا سات
کس نے چُلوّ پانی سے مُجھ پیڑ کی چاہی خیر
کس نے قبر پہ حاتم کی ماری ہے، ماجدؔ لات
ماجد صدیقی

نام ہمارے،کیا کیا کُچھ تاوان ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
فصلیں اُجڑیں اور قُرقی کھلیان ہوئے
نام ہمارے،کیا کیا کُچھ تاوان ہوئے
اُگتی فصلوں کو چاٹا، آسیبوں نے
موسم بھر بھی، چاہ اگر، ویران ہوئے
رہبروں کی قامت، بالا کرنے کو
ہم کیا کیا، تعمیر کا ہیں سامان ہوئے
اپنے ناپ سے ناپیں، اُس کی رحمت کو
اِس جگ میں ایسے بھی کُچھ انسان ہوئے
ماجدؔ کاش، کبھی چھم سے، وُہ آ جائے
عمر ہوئی ہے ہم پر، یہ احسان ہوئے
ماجد صدیقی

چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
غیر جب سے وُہ اپنا یار لگا
چاند بھی دل پہ اپنے، بار لگا
کھو گیا آنکھ سے دھنک جیسا
جو بھی ماحول، سازگار لگا
بڑھتی دیکھی جو رحمتِ یزداں
ابر بھی مجھ کو، آبشار لگا
کر کے وا چشمِ اِنبساط مری
آشنا، پھر نہ وُہ نگار لگا
آنکھ جب سے کھُلی،دل و جاں پر
شش جہت جبر کا حصار لگا
تھا جو ماجدؔ پسِ نگاہ تری
بھید سب پر وُہ، آشکار لگا
ماجد صدیقی

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھی
نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی
زمین خود بھی تمازت سے تھی توے جیسی
فلک پہ چاند نہیں تھا دہکتی تھالی تھی
جو ابر بانجھ ہے اُس سے کہو کہ ٹل جائے
تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی
جمالِ فکر نے بَکنے نہ کُچھ دیا ورنہ
ہماری دھج بھی بظاہر بڑی جلالی تھی
دھُلی نہ گریۂ پس ماندگاں سے بھی ماجدؔ
کنارِ دیدۂ قاتل عجیب لالی تھی
ماجد صدیقی

وُہ زلفیں وُہ چنچل چہرہ بھوُل گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
شام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئے
وُہ زلفیں وُہ چنچل چہرہ بھوُل گئے
دشت میں دیکھی وُہ اُفتاد غزالوں نے
بچ نِکلے تو گھر کا رستہ بھُول گئے
آن گئے پر، جان گنوانا مشکل تھا
ہم تم بھی تو مسجدِ اقصیٰ بھول گئے
لاش دبانے میں تو رہے محتاط بہت
رہزن آلۂ قتل اُٹھانا بھُول گئے
مکڑا دھاگے کیوں ماجدؔ ہر آن بُنے
ہم اتنی سی بات سمجھنا بھول گئے
ماجد صدیقی

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

کُھلے نہیں تھے نظر پر ابھی، عتاب اس کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
سرِ خیال تھے وجہِ نشاط ، خواب اس کے
کُھلے نہیں تھے نظر پر ابھی، عتاب اس کے
جو لا سکے تو فقط، خنکیٔ ہوا لائے
اِدھر جو آئے بھی، برسے ہُوئے سحاب اُس کے
اِدھر طلب میں تمّوج، اُدھر کم آمیزی
وُہی سوال ہمارے، وُہی جواب اُسب کے
غرض ہماری، ستمگر نے جان لی جب سے
چلن کُچھ اور بھی، ہونے لگے خراب اس کے
ہمیں تھے اُس سے جو پیہم، کشیدہ رُو بھی رہے
ہوئے اسیر بھی ماجدؔ، ہمیں شتاب اُس کے
ماجد صدیقی

مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے
مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے
وحشت ملے نہ اُس کی کبھی دیکھنے کو بھی
آنکھیں بھی اُس سے چار کوئی دوسرا کرے
ہر شخص چاہتا ہے اُسے ہو سزائے جرم
پر اُس کو سنگسار کوئی دوسرا کرے
ہاتھوں میں ہو کمان مگر تیر انتقام
اُس کے جِگر کے پار کوئی دوسرا کرے
ہو اُس کا جور ختم، سبھی چاہتے ہیں پر
یہ راہ اختیار کوئی دوسرا کرے
اعداد سب کے پاس ہیں لیکن مُصر ہیں سب
اُس کے ستم شمار کوئی دوسرا کرے
موزوں نہیں ہیں مدحِ ستم کو کچھ ایسے ہم
ماجدؔ یہ کاروبار کوئی دوسرا کرے
ماجد صدیقی

ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
زرِ گل تھے بھی گر تو زر نہ جانا
ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا
جبیں جس پر جھکائی عرش جیسی
ہمارا مرتبہ وُہ در نہ جانا
گھُلی چیخیں بھی ہیں لقموں میں اُس کے
یہ باریکی کوئی اژدر نہ جانا
سزا کے سارے تیور تھے اُسی میں
ہوا کو ہم نے نامہ بر نہ جانا
ذرا مّکے گیا تو جانے ہم نے
خرِ عیسٰی کو کیونکر خر نہ جانا
نہیں اتنا بھی سادہ لوح ماجدؔ
اُسے جانا ہے تم نے پر نہ جانا
ماجد صدیقی

سبھی اچھوت ہیں ہم آپ رشتوں ناتوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
زباں سے ایک ہیں دل سے بٹے ہیں ذاتوں میں
سبھی اچھوت ہیں ہم آپ رشتوں ناتوں میں
انہی دنوں کہ تمہیں دیکھ کر خُدا دیکھا
مزا کُچھ اور تھا بچپن کی تیز گھاتوں میں
کمالِ لمس سے زر سے اُسی کا ناتا ہے
وُہ ایک دھات جو ارزاں ہے ساری دھاتوں میں
تلاش جن میں تمّنا کے جگنوؤں کی رہی
بڑا سرور تھا اُن دلنشین راتوں میں
یہ کس قبیل کے شیریں دہن ہو تم ماجدؔ
کہ ہے مٹھاس بھی کڑوی، تمہاری باتوں میں
ماجد صدیقی

کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
راہوں میں کب جال بچھا تھا یاد نہیں ہے
کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے
آناً فاناً ہی اِک حشر نظر میں اُٹھا
کاشانہ کس آن جلا تھا یاد نہیں ہے
چپّو چّپو کب گرداب بنے تھے پہلے
طوفاں نے کب گھیر لیا تھا یاد نہیں ہے
یاد ہے آنکھوں کے آگے اِک دُھند کا منظر
کس پل مجھ سے وُہ بچھڑا تھا یاد نہیں ہے
اپنوں ہی میں شاید کُچھ بیگانے بھی تھے
کس جانب سے تیر چلا تھا یاد نہیں ہے
طولِ شبِ ہجراں میں دل کے بانجھ اُفق پر
آس کا چندا کب ڈوبا تھا یاد نہیں ہے
تلخ ہوئی کب اُس کے لہجے کی شیرینی
سانسوں میں کب زہر گھُلا تھا یاد نہیں ہے
تنُد ہوا کو تیغوں جیسا تنتے ویکھا
پیڑ سے رشتہ کب ٹوٹا تھا یاد نہیں ہے
اُس سے اپنا ناتا جُڑتے تو دیکھا تھا
یہ دھاگا کیونکر اُلجھا تھا یاد نہیں ہے
جس پر اُس چنچل کے حکم کی چھاپ لگی تھی
مَیں نے وہ پھل کیوں چکّھا تھا یاد نہیں ہے
گھر گھر فریادی بانہوں کی فصل اُگی تھی
شہر کا موسم کیوں ایسا تھا یاد نہیں ہے
سجتی دیکھ کے سرمے سی شب آنکھوں آنکھوں
میں جانے کیوں چیخ پڑا تھا یاد نہیں ہے
نیل گگن کے نیچے ننھی آشاؤں کا
خیمہ کیسے خاک ہوا تھا یاد نہیں ہے
جگنو جگنو روشنیوں پر لُوٹ مچاتے
اُس کا ماتھا کب چمکا تھا یاد نہیں ہے
طیش میں آ کر جب وہ برسا تو آگے سے
ماجدؔ نے کیا اُس سے کہا تھا یاد نہیں ہے
ماجد صدیقی

کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا
قصر محفوظ تھے، بے اماں جھونپڑے، راکھ کیونکر ہوئے
حق میں غفلت کے، تھی جو شہِ وقت کی، فیصلہ لکھ دیا
تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا
حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا
جور کے جبر کے، جس قدر سلسلے تھے، وہ بڑھتے گئے
آنے پائی نہ جب، اُن میں کچھ بھی کمی، فیصلہ لکھ دیا
ہاتھ فریاد کے، اُٹھنے پائے نہ تھے اور لب سِل گئے
دیکھ کر ہم نے ماجدؔ، یہی بے بسی، فیصلہ لکھ دیا
ماجد صدیقی

میرے انگناں بھی آسماں اُترا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دل میں وُہ رشکِ گلستاں اُترا
میرے انگناں بھی آسماں اُترا
زعم ذہنوں سے، عدل خواہی کا
خاک اور خوں کے درمیاں اُترا
پستیوں نے جو، بعدِ اَوج دیا
تاپ خفت کا وہ، کہاں اُترا
رَن میں جیسے مجاہدِ اوّل
حرفِ حق، یُوں سرِ زباں اُترا
نُچ کے آندھی میں، پیڑ سے ماجدؔ
پھر ندی میں ہے، آشیاں اُترا
ماجد صدیقی

بُھر بُھری مٹی میں ہوں، جیسے جڑیں اُتری ہوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دل بہ دل ہیں شہر میں، یُوں نفرتیں اُتری ہوئی
بُھر بُھری مٹی میں ہوں، جیسے جڑیں اُتری ہوئی
جا بہ جا چہروں پہ ہے وُہ کم نمائی، اُنس کی
موسمِ سرما میں جیسے، ندّیاں اُتری ہوئی
کیا یہ میرا ہی نگر ہے، اے ہوا! کچھ تو بتا
ساری دیواریں سلامت ہیں چھتیں اُتری ہوئی
تُو بھی اِن کے واسطے، دل میں کوئی گلُداں سجا
ہیں ترے آنگن میں بھی، کچھ تتلیاں اُتری ہوئی
کیا خبر کب دے چلیں ماجدؔ پتہ بارود سا
خامشی میں اب کے، ہیں جو شورشیں اُتری ہوئی
ماجد صدیقی

سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیا
سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا
دیکھو آنکھ جما کر، مکر کے مکڑے نے
ہر سُو پھیلائے ہیں تانے بانے کیا
بادل کی یلغار سے، نام پہ رحمت کے
تنکا تنکا، ٹوٹ گرے کاشانے کیا
سوچو بھی، جلتی بگھیا کی آنچ لئے
جھونکے ہم کو آئے ہیں، بہلانے کیا
چڑیاں نگلیں گے، چوزوں پر جھپٹیں گے
شہ زوروں کے ماجدؔ اور نشانے کیا
ماجد صدیقی

انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کے
انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے
اُٹھے تھے جو حدّت سے فصلوں کے بچانے کو
سایہ نہ بنے کیونکر وُہ ہاتھ دُعاؤں کے
کیا جانئیے بڑھ جائے، کب خرچ رہائش کا
اور گھر میں نظر آئیں، سب نقش سراؤں کے
ٹھہرے ہیں جگر گوشے لو، کھیپ دساور کی
بڑھ جانے لگے دیکھو، کیا حوصلے ماؤں کے
رودادِ سفر جب بھی، چھِڑ جانے لگی ماجدؔ
لفظوں میں اُترا آئے، چھالے تھے جو پاؤں کے
ماجد صدیقی

حساب ظالم و مظلوم کا برابر ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دہن میں نیولے کے دیکھئے گا اژدر ہے
حساب ظالم و مظلوم کا برابر ہے
ندی میں برگ پہ چیونٹی ہے اور اِدھر ہم ہیں
کہ جن کے سامنے آلام کا سمندر ہے
سفر میں صبر کی ناؤ ہمیں جو دی اُس نے
ہمارے واسطے سرخاب کا یہی پَر ہے
چلا نہیں گل و مہتاب کو پتہ اتنا
ہمارے گھر بھی کوئی بام ہے کوئی در ہے
ابد تلک کو جو زیبِ سناں ہوا ماجدؔ
نہیں حسینؑ کا شمر و یزید کا سر ہے
ماجد صدیقی

ہمارے حق میں ہوئیں، گل فشانیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
دلوں پہ کی ہیں سخن نے، گرانیاں کیا کیا
ہمارے حق میں ہوئیں، گل فشانیاں کیا کیا
نظر سے دُور ہیں، سرما کی چاندنی جیسی
دبک دبک کے مچلتی جوانیاں کیا کیا
کمان جب سے تناؤ میں طاق ٹھہری ہے
ہر ایک تِیر نے، پائیں روانیاں کیا کیا
لب و زبان پہ چھالوں، جبیں پہ سجدوں کی
غلامیوں نے ہمیں دیں، نشانیاں کیا کیا
چمن میں ایک سے نغموں کی اوٹ میں ماجدؔ
ہمیں بھی آنے لگیں، مدح خوانیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

پُتلیوں میں سر بہ سر بیداریاں ایسی نہ تھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
خوف سے آنکھوں میں خُوں کی دھاریاں ایسی نہ تھیں
پُتلیوں میں سر بہ سر بیداریاں ایسی نہ تھیں
شر سلیقے سے سجا، ایسا نہ رحلِ خیر پر
جیسی اب ہیں، ظلم کی دلداریاں ایسی نہ تھیں
جھوُٹ کا عفریت، یُوں سچ پر کبھی غالب نہ تھا
جابجا خلقت کی، دلآزاریاں ایسی نہ تھیں
ہاں ذرا سا زرد ہو جاتا تھا سورج، شام کو
اُس کو لاحق ہیں جو اب بیماریاں، ایسی نہ تھیں
اَب کے اپنانے لگے ماجدؔ قلم، جس طور کی
حق میں پیاروں کے کبھی، غّداریاں ایسی نہ تھیں
ماجد صدیقی

لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
خاموشیوں میں ڈوب گیا ہے، گگن تمام
لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام
وہ خوف ہے، کہ شدّتِ طوفاں کے بعد بھی
دبکے ہوئے ہیں باغ میں، سرو و سمن تمام
وُہ فرطِ قحطِ نم ہے کہ ہر شاخ ہے سلاخ
پنجرے کو مات کرنے لگا ہے، چمن تمام
کس تُندیٔ پیام سے بادِ صبا نے بھی
فرعون ہی کے، سیکھ لئے ہیں چلن تمام
ماجد یہ کس قبیل کے مہتاب ہم ہوئے
لکّھے ہیں، اپنے نام ہی جیسے گہن تمام
ماجد صدیقی

اس سے پہلے شہر پر، ایسا ستم دیکھا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
خلق کو آتش نفس، آنکھوں کو نم دیکھا نہ تھا
اس سے پہلے شہر پر، ایسا ستم دیکھا نہ تھا
جھونپڑوں میں کب تھا ایسا، جاکنی کا سا خمار
چشمِ شاہاں میں ہے جو، وُہ کیف و کم دیکھا نہ تھا
جس طرح روندا گیا ہے، اَب کے شہر آرزو
اِس طرح ہوتے نگر کوئی بھسم دیکھا نہ تھا
تھی سکوں کی جنس اتنی بھی کبھی، ناپید کب
کُو بہ کُو اب کے ہے جیسا، حبسِ دم دیکھا نہ تھا
ریوڑوں نے کی نہ تھی، یُوں پاسبانی گُرگ کی
ظُلم کو ماجدؔ تحفّظ یُوں بہم، دیکھا نہ تھا
ماجد صدیقی

ہم نے مزدور کے ماتھے کا پسینہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
خاک ہے جس کا مقّدر وُہ نگینہ دیکھا
ہم نے مزدور کے ماتھے کا پسینہ دیکھا
بادباں جس کے کھوّیا نہیں کُھلنے دیتے
ہم نے دریا میں اک ایسا بھی سفینہ دیکھا
مکر آتا ہے جنہیں نام پہ اُن بونوں کے
جب بھی دیکھا کوئی خودکار ہی زینہ دیکھا
دشتِ خواہش بھی عجب دشت ہے ماجدؔ جس میں
سانپ دیکھا ہے جہاں کوئی خزینہ دیکھا
ماجد صدیقی

خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہے
خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے
وسعتیں بھی، قامت کی سربلندیوں جیسی
کاش اُس نے دی ہوتیں، بس یہ ایک ارماں ہے
عمر بھر کو دے دی ہے کوہکن سی مزدوری
ہم پہ کیا کہیں کیسی، یہ عطائے یزداں ہے
جنس جنس کے ہم نے، نرخ جانچ کر دیکھے
ہے اگر تو دانائی، شہر بھر میں ارزاں ہے
صحن میں تمّنا کے، ہے یہی قلم ماجدؔ
جس کی تابناکی سے، شب بہ شب، چراغاں ہے
ماجد صدیقی

دیکھتا گُلشن میں ایسی بھی رُتیں، اے کاش! مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
چند لمحوں کو سہی، ہوتا کبھی بشّاش مَیں
دیکھتا گُلشن میں ایسی بھی رُتیں، اے کاش! مَیں
ہاتھ لگ جائے ستارہ کام کا، شاید کوئی
اپنی آنکھوں میں، لئے پھرتا رہا آکاش میں
گھونسلے اُوپر تلے، کوّوں کے اور چیلوں کے ہیں
باغ میں ایسی ہی کچھ، رکھتا ہُوں بُود و باش میں
حد سے میرے نام جب، بڑھنے لگی تبلیغِ خیر
ہوتے ہوتے جانے کیوں ہونے لگا اوباش مَیں
مُوقلم ماجدؔ مرا، کیوں مدحِ شاہیں میں چلے
فاختاؤں اور چڑیوں کا ہوں جب، نقّاش میں
ماجد صدیقی

بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولے
بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے
نہ دیکھ اب، یہ باراں کن آنکھوں سے برسی
ملا ہے جو پانی تو سب داغ دھولے
کہیں وُہ، تقاضا یہی ہے وفا کا
بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے
سمجھ لے وہی راہبر و رہنما ہے
کسی چلنے والے کے بھی ساتھ ہولے
ترے نام کی نم ہے ماجدؔ بس اتنی
بڑھے پیاس تو اپنی پلکیں بھگولے
ماجد صدیقی

لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جب سے وُہ بدن، اپنے قریں ہونے لگا ہے
لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے
وُہ پاس ہے جس دم سے، منوّر ہے نظر اور
آنگن ہے کہ خود، ماہِ مبیں ہونے لگا ہے
پھر دیکھ پرندوں کی اُڑانوں میں، ٹھٹھک ہے
کُچھ سانحہ، پھر زیرِ زمیں، ہونے لگا ہے
قشقہ ہے غلامی کا یہی، نام ہمارے
ظلمت کا عَلم، زیبِ جبیں ہونے لگا ہے
ماجدؔ ہو طلب، گرگ سے کیا، لُطف و کرم کی
سوچو تو بھلا، ایسا کہیں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جس سے لرزاں تھی وُہ ڈر، یاد آیا
شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا
حبس سانسوں میں، جہاں بھی اُترا
مُجھ کو ہجرت کا، سفر یاد آیا
چاند تھا جن کا، چراغاں مَیں تھا
پھر نہ وُہ بام، نہ در یاد آیا
زخم سا محو، جو دل سے ٹھہرا
کیوں اچانک، وُہ نگر یاد آیا
کیسی سازش یہ صبا نے، کی ہے
کیوں قفس میں، گلِ ترا یاد آیا
بُوند جب، ابر سے بچھڑی ماجدؔ
مُجھ کو چھوڑا ہُوا گھر، یاد آیا
ماجد صدیقی

غارت گر ہی شاید سب سے اچّھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
جیسا بھی چاہے حصہ لے لیتا ہے
غارت گر ہی شاید سب سے اچّھا ہے
دُھوپ میں کون، کسی کو لے کر ساتھ چلے
چھاتا جس کے ہاتھ ہے سایہ اُس کا ہے
ہاتھ میں لانے، پھر اپنی ہریالی کو
پتّا پیڑ سے، بہتی نہر میں اُترا ہے
شہر میں اُڑتی گرد سے ہو کر آنے پر
چہرہ تو کیا دل بھی مَیلا لگتا ہے
اوٹ میں شب کی ماجدؔ، کچھ کچھ اور لگے
چور بھی ظاہر میں تو شخص ہمیں سا ہے
ماجد صدیقی

مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
جن کے لائے ہوئے سندیس، بھُلائے نہ گئے
مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے
ہم نے کشتی کے اُلٹنے کی، خبر تو دے دی
اِس سے آگے تھے جو احوال، سُنائے نہ گئے
جس میں خود پھول بنے رہتے تھے، اہلِ خانہ
اَب کے اُس کُنج میں، گلدان سجائے نہ گئے
جانے بارش، نہ پرندوں کی برستی کیا کیا
تِیر ترکش میں جو باقی تھے، چلائے نہ گئے
کب منانے اُنہیں آئے گا، بچھڑنے والا
وُہ جنہیں، ضبط کے آداب سکھائے نہ گئے
آنکھ میں کرب اُتر آیا، شراروں جیسا
اشک روکے تھے مگر، زخم چھپائے نہ گئے
وُہ کہ تھا بادِ صبا، دے گیا جاتے جاتے
وُہ بگولے، کہ تصّور میں بھی لائے نہ گئے
اُس کے جانے سے، چھتیں گھر کی اُڑی ہوں جیسے
سر سلامت تھے جو، ژالوں سے بچائے نہ گئے
دل میں گر ہیں تو ارادے ہیں، بقا کے ماجدؔ
یہ وُہ خیمے ہیں، جو دشمن سے جلائے نہ گئے
ماجد صدیقی

سازشوں کا وُہی نشانہ رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
جس شجر پر بھی آشیانہ رہا
سازشوں کا وُہی نشانہ رہا
آنکھ اُٹھی نہیں اِدھر سے اُدھر
سر پہ اپنے وُہ تازیانہ رہا
اُس جنوں کو سلام جس کے طفیل
ہم سے مانوس اِک زمانہ رہا
ہم سے مالی کا مثل بچّوں کے
پھل نہ پکنے کا ہی بہانہ رہا
ہم کہاں کے ہیں محترم ماجدؔ
کیا ہے اپنا بھرم رہا نہ رہا
ماجد صدیقی

تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دے
تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے
ہم گمرہی میں، غیر مگر راستی میں فرد
دیتا ہے وُہ، جسے بھی، جو اوجِ کمال دے
سجنے لگے شرر جو سرِ شاخِ آرزو
ایسا ثمر تو باغ میں کوئی نہ ڈال دے
اتنا تو بخش دے ہمیں اخفائے دردِ دل
حدّت وُہ دے جو اشک کو آہوں میں ڈھال دے
ایسا کوئی نہیں کہ جو یُوسف کہے تجھے
چاہے سخن کو جتنا بھی ماجدؔ جمال دے
ماجد صدیقی

ڈھونڈھتے، روز کا رزق ہم تھک گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
جمع کرتے بدن کی یہ نم، تھک گئے
ڈھونڈھتے، روز کا رزق ہم تھک گئے
یوں لگے، ڈھیل توبہ کی دیتے ہوئے
ہم پہ ہوتے رہے جو، کرم تھک گئے
ایک انساں، نہ سجدوں سے باز آ سکا
پُوجے جانے سے، کیا کیا صنم تھک گئے
آرزو جستجو اور محرومیاں
اس مسلسل سفر سے، قدم تھک گئے
ہیں کُچھ ایسی ہی ماجدؔ حکایاتِ غم
لکھتے لکھتے جنہیں، سب قلم تھک گئے
ماجد صدیقی

پّتے نے یوں بھی، پریت نبھائی ہوا کے ساتھ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
ٹہنی سے جھڑ کے رقص میں آیا، ادا کے ساتھ
پّتے نے یوں بھی، پریت نبھائی ہوا کے ساتھ
وُہ بھی بزعمِ خویش ہے، کیا کُشتۂ وفا
چل دی ہے مغویہ جو، کسی آشنا کے ساتھ
خم ہے جو سر تو، کاسۂ دستِ دُعا بلند
کیا کچھ ہے لین دین ہمارا، خُدا کے ساتھ
جن کے سروں کوڈھانپ کے، ہم تم ہیں سرخرو
درکار جھونپڑے بھی اُنہیں ہیں، رِدا کے ساتھ
ژالوں نے جب سے، کھِلتے شگوفے دئیے بکھیر
ماجدؔ نجانے کد ہے مجھے کیوں، صبا کے ساتھ
ماجد صدیقی

مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناں
مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں
ہماری آن جائے، ربطِ باہم میں کہ جاں جائے
نہیں ہٹ کر اب اس سے، کوئی رستہ دوسرا جاناں
جہاں بھی تم نے دیکھا والہانہ، ہم یہی سمجھے
کماں سے تیر نکلا، اور نشیمن کو چلا جاناں
اَب اُس تنکے کو بھی، مُٹھی میں دریا نے کیا اپنی
ازل سے ڈوبنے والوں کا تھا جو، آسرا جاناں
مہک کا اور صبا کا تھا ملن، گاہے ملاپ اپنا
دلانے یاد آتی ہے ہمیں، کیا کچھ صبا جاناں
اُسی کی بُھربُھری بنیاد سے چمٹا ہے اب تک یہ
وُہی جو قول ماجدؔ کو، کبھی تم نے دیا جاناں
ماجد صدیقی

کنارِ شام پرندے، شجر پہ اُترے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
تھکن سے چُور ارادے، جگر پہ اُترے ہیں
کنارِ شام پرندے، شجر پہ اُترے ہیں
بِھنک ملی ہے کہاں سے اِنہیں، ضیافت کی
عجیب زاغ ہیں جو، بام و در پہ اُترے ہیں
کوئی بھی کنکری کم از شرر، نہیں جس کی
قدم ہمارے، یہ کس رہگزر پہ، اُترے ہیں
وُہ چاہتوں کے کبوتر، جو ہم نے بھیجے تھے
بھٹک کے جانے کہاں، کس نگر پہ اُترے ہیں
وہ دیکھ فکر کو ماجد، نئی جلا دینے
فضا سے اور بگولے، نظر پہ اُترے ہیں
ماجد صدیقی

سمجھتی ہے یہ نکتہ ساری دُنیا، ہم نہیں کہتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
تمہارے خُلق میں فتنے ہیں کیا کیا، ہم نہیں کہتے
سمجھتی ہے یہ نکتہ ساری دُنیا، ہم نہیں کہتے
ہوئے ہیں زرد پتے لفظ کیا کیا کچھ، نہ وعدوں کے
تمہاری شاخِ لب کا ہے یہ خاصا، ہم نہیں کہتے
نہیں زیبا بڑوں کو کاٹنا ڈوریں پتنگوں کی
چھتوں پر ہے، مگر ایسا ہی نقشہ، ہم نہیں کہتے
نظر آتا ہے، چھّتا خیر کا لپٹا ہوا شر میں
کہو کیسا ہے یہ طُرفہ تماشا، ہم نہیں کہتے
کسی غنچے کو بھی، مہلت ملے ہرگز نہ کھلنے کی
وطیرہ ہے یہ ماجدؔ، حبسِ شب کا، ہم نہیں کہتے
ماجد صدیقی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیا
یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا
رسیاں اُن کے لئے جیسے فلک بھیجے گا
ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا
کب کوئی سانپ دبا لے، کوئی شاہیں آلے
چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا
جانے والے، ہیں بس اتنے سا پتہ چھوڑ گئے
دیکھ لے بند کواڑوں پہ ہیں جالے کیا کیا
چاہتیں وقفِ غرض، نیّتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
کب سے شہباز ہیں جو، محو اسی فکر میں ہیں
چیونٹیوں نے بھی یہاں، پَر ہیں نکالے کیا کیا
سَر اُٹھانے کی ہوئی جب بھی جسارت ہم سے
ہم پہ ماجدؔ نہ تنے طیش کے بھالے کیا کیا
ماجد صدیقی

ساون در و دیوار کو نم کرنے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
پھر وقت ہمیں اشک بہم کرنے لگا ہے
ساون در و دیوار کو نم کرنے لگا ہے
تعمیر کا شیدا ہے پیمبر بھی فنا کا
انسان یہ کیا طُرفہ ستم کرنے لگا ہے
اے کاش کہ وہ نوعیتِ بخشش بھی سمجھ لے
ہم پر جو سخی لُطف و کرم کرنے لگا ہے
دریا نے بھی لو کام جلانے کا سنبھالا
بپھرا ہے تو کھلیان بھسم کرنے لگا ہے
چھیڑا نہ کبھی مانی و بہزاد نے جس کو
وُہ کاج بھی ماجدؔ کا قلم کرنے لگا ہے
ماجد صدیقی

نگہت و نُور کے سانچوں میں، نِت ڈھلتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
پھولوں سا کھلتا ہوں دیپ سا جلتا ہوں
نگہت و نُور کے سانچوں میں، نِت ڈھلتا ہوں
پت جھڑ سے پِٹ جانے والی بیلوں کے
دیواروں پر نقش بناتا رہتا ہوں
کھیل کھیل میں، ناؤ بنا کر کاغذ کی
پانی کی فطرت پہچانا کرتا ہوں
تنہائی سے اپنا بَیر چُکانے کو
چڑیا جیسا، آئینے سے لڑتا ہوں
ہاتھ میں نادانوں کے، ڈور سے بندھ کر مَیں
کیا کیا اُڑتا، کیا کیا نوچا جاتا ہوں
ماجد صدیقی

سُنا جائے نہ ہم سے شور پتّوں کی دُہائی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
پھِرا ہے جب سے موسم ٹہنیوں کی بے ردائی کا
سُنا جائے نہ ہم سے شور پتّوں کی دُہائی کا
ہم اُن آبادیوں میں، منتظر ہیں سر چھپانے کے
نمٹنے میں نہ آئے کام ہی جن کی چُنائی کا
لگاتے کچھ تو جنّت بھی ہمارے ہاتھ آ جاتی
مگر حصہ خدا کے نام کرتے، کس کمائی کا
ہمارے نام تھا منسوب جانے جرم کس کس کا
نہ تھا آساں کچھ ایسا، مرحلہ اپنی صفائی کا
مجھے اک عمر، جس شاطر نے پابندِ قفس رکھا
وُہی اَب منتظم بھی ہے مرے جشن رہائی کا
کہے پیراہنِ بے داغ، بگلے کا یہی ماجد
وہی ہے پارسا دعویٰ جسے ہے پارسائی کا
ماجد صدیقی

جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے
پھر اِذن دیا اُس نے، اظہارِ غم دل کا
پھر شاخِ لب و جاں پر، کھِلنے کو گلاب آئے
مائل ہوں جو شفقت پر اور جانیں، برسنا بھی
کھیتوں پہ لئے بوندیں ایسی، نہ سحاب آئے
ایوان نشینوں سے کیا آس، مُرادوں کی
کٹیاؤں کو پہلے بھی کب ایسے جواب آئے
جب بادِ صبا تک نے، لی ذات بدل اپنی
پودوں کے قد و رُخ پر، کیا رنگِ شباب آئے
جس طور لپکتی ہیں لینے کو، ہمیں موجیں
اُس پار کا ساحل بھی، اے کاش! شتاب آئے
ماجد صدیقی

بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
بن پڑے گر تو یہ ہار بھی مان لیں
بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں
ہاں نمونے کی مخلوق ہیں اِک ہمیں
ہر کسی کا جو، سر اپنے بُہتان لیں
ہم کہ تشنہ تھل ایسے ہیں، بہرِ سکوں
اوس تک کا بھی کیونکر نہ احساں لیں
اے جفا جُو! ہم انساں ہیں پُتلے نہیں
کیا پتہ، کس گھڑی؟ دل میں کیا ٹھان لیں
عیش پر جو لگا اُن کے، ضِد ہے اُنہیں
اپنے ذمّے ہمِیں وُہ بھی تاوان لیں
ناز ماجدؔ ہمیں کیا ہو پرواز پر
وُہ جو شاہین ہیں جانے کب آن لیں
ماجد صدیقی

خُشکیاں اپنے یہاں کی اور ہیں، نم اور ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
بانجھ ہے برکھا پون،آنکھوں کا موسم اور ہے
خُشکیاں اپنے یہاں کی اور ہیں، نم اور ہے
خون میں اُترے فقط، گمراہی افکار سے
دی نہ جائے اور جاں لیوا ہو جو، سَم اور ہے
ناتوانوں کے کوائف، جام میں کر لے کشید
ہم ہوئے جس عہد میں، اِس عہد کا جم اور ہے
چیت کی رُت میں، غزالوں کے بدن کی شاعری
اور ہے، اور خوف میں اُلجھا ہوا رم، اور ہے
میں بھی دے بیٹھا ہوں دل ماجدؔ، مگر یہ جان کر
ابروؤں کا اور ہے، دیوار کا خم اور ہے
ماجد صدیقی

گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
بس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہے
گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے
غبارہ پھٹ کے رہ جانے کا قّصہ
ہماری داستاں ہونے لگا ہے
وُہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے
لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے
رُکا تھا لفظ جو ہونٹوں پہ آ کر
وُہ اَب زخمِ زباں ہونے لگا ہے
نظر میں جو بھی منظر ہے سکوں کا
بکھرتا آشیاں ہونے لگا ہے
جو تھا منسوب کل تک گیدڑوں سے
اَب اندازِ شہاں ہونے لگا ہے
نظر میں تھا جو چنگاری سا ماجدؔ
وُہ گل اَب گلستاں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
بجا کہ اُس میں جو تھیں کج ادائیاں، نہ گئیں
ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں
کہا تھا اُس نے، بالآخر وُہ آئے گا، لیکن
ہمیں سے ہجر کی رَتیاں، بِتائیاں نہ گئیں
جوان جن سے، دُعاؤں کے طشت میں نکلے
اُن آنگنوں میں، اُن ہی کی، کمائیاں نہ گئیں
کئے ہزار طلب، آسماں سے ابر اِس نے
زمیں کے سر سے مگر، بے ردائیاں نہ گئیں
کلی سے گُل بھی ہوئے ہم، مگر چٹخنے سی
لب و زبان سے ماجد، دُہائیاں نہ گئیں
ماجد صدیقی

جان بدن میں ٹوٹ چلی ہے ہر جانب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
بچوں کی سی حیرانی ہے ہر جانب
جان بدن میں ٹوٹ چلی ہے ہر جانب
جھپٹے گی جانے کن غافل چوزوں پر
چیل ریا کی گھوم رہی ہے ہر جانب
ساون رُت کے جھاڑوں جھنکاروں جیسی
خاموشی کی فصل اُگی ہے ہر جانب
کون ہے جو دیکھے، الہڑ آشاؤں کی
مانگ میں کیا کیا راکھ بھری ہے ہر جانب
زوروں پر ہے فصل نئے آسیبوں کی
ڈائن ڈائن گود ہری ہے ہر جانب
ماجدؔ خوف سے کیا کیا چہرے زرد ہوئے
دیکھ عجب سرسوں پھولی ہے ہر جانب
ماجد صدیقی

مل بیٹھے ہیں جھیل کنارے چندا، رات اور مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
اپنی اپنی دھن میں نکلے چندا، رات اور مَیں
مل بیٹھے ہیں جھیل کنارے چندا، رات اور مَیں
اپنے ہاتھوں سورج کھو کر، سو گئے کیونکر لوگ
اتنی ساری بات نہ سمجھے چندا، رات اور مَیں
ایک ذرا سی پَو پھٹنے پر، باہم غیر ہوئے
ہم آپس کے دیکھے بھالے چندا، رات اور مَیں
اک دوجے سے پُختہ کرنے، کچھ لمحوں کا ساتھ
زینہ زینہ خاک پہ اُترے چندا، رات اور مَیں
تاب نظر کی، آنکھ کا کاجل اور سخن کا نُور
ماجدؔ چہروں چہروں لائے چندا، رات اور مَیں
ماجد صدیقی

یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
اِن کی خاطر ہی ملا دیدۂ نمناک مجھے
یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے
ٹوٹنا چاہوں اُفق سے نہ ستاروں جیسا
اِتنی عجلت سے بُلائے نہ ابھی خاک مجھے
جب کبھی اِن سے اُجالوں کی ضمانت چاہی
کر گئے اور سیہ روز یہ افلاک مجھے
مَیں کہ سادہ تھا ابھی کورے ورق جیسا ہوں
ہاتھ آئی نہ کہیں صُحبتِ چالاک مجھے
مجھ پہ کھُل پائی نہ جوہڑ کی سیاست ماجدؔ
گرچہ تھا رفعتِ ہر کوہ کا ادراک مجھے
ماجد صدیقی

ورنہ، اور گماں تھا سب کا، بھیس بدلنے والوں پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ایک ہمیں نے شور مچایا گِرگٹ جیسی چالوں پر
ورنہ، اور گماں تھا سب کا، بھیس بدلنے والوں پر
پنگھٹ پنگھٹ پانی جیسے جال بچھے اَن دیکھے سے
کون کہے پڑ جانے کو ہے کیا اُفتاد غزالوں پر
کام میں لا کر عمریں بھی اب کون سمیٹے گا اُس کو
پھیل چکی ہے جو بے سمتی نصف صدی کے سالوں پر
کب تک وقت کے ننگے سچ کو ڈھانپو گے نادانی سے
کب تک لیپ چڑھاؤ گے تم چاندی جیسے بالوں پر
پہلے جو اعصاب میں تھا، اُترا وُہ زور زبانوں میں
راہزنوں کے چرچے ہی باقی ہیں اَب چوپالوں پر
عزم نہ ہو تو لوہا بھی کب کاٹے ماجدؔ لوہے کو
ہاتھ نہیں اُٹھ پاتے اپنے اور الزام ہے ڈھالوں پر
ماجد صدیقی

اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ایک ذرا سی رُت بدلی تو سب کی سب اُس پار چلیں
اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں
لے جائے کس اور نجانے عمر یہ بھُول بھلّیوں کی
کہنے کو کچھ دوشیزائیں مل کر ہیں بازار چلیں
ظاہر میں میدان سکوں کا جو اِس دل کے ہاتھ رہا
ٹِک ٹِک شور مچاتی گھڑیاں وُہ میدان بھی مار چلیں
ہر حیلہ ناکام رہا بیمار کی جان بچانے کو
چلنے کو تو رُک رُک جاتی سانسیں سو سو بار چلیں
جی داری کے فیض سے زندہ ہیں ورنہ ہر آنگن سے
طعن کی کیا کیا کنکریاں ہم پر بھی ماجدؔ یار چلیں
ماجد صدیقی

انسانوں نے چکّھا ماس انسانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ایسا تو اِتلاف، نہ دیکھا جانوں کا
انسانوں نے چکّھا ماس انسانوں کا
حد سے بڑھ کر شائستہ بھی ٹھیک نہیں
انساں، رُوپ بھرے گا یُوں حیوانوں کا
ترکش بھی، کَس بل بھی جس کے پاس ہے وُہ
زور نہ جتلائے کیوں، تیر کمانوں کا
ضعف نہ جائے گا جب تک، جانے کا نہیں
ماجدؔ کھٹکا ہے جو ہمیں تاوانوں کا
ماجد صدیقی

اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر
ظلمتوں میں مجھ ایسے ذرّوں کے
جگمگانے کا انتظار نہ کر
مَیں کہ ہوں راندۂ ازل، مجھ پر
کر مگر اتنا اعتبار نہ کر
تو خُدا ہے، تو اپنے بندوں سا
لینے دینے کا کاروبار نہ کر
تُو کہ ابرِ کرم ہے، ربط کرم
چوٹیوں ہی سے استوار نہ کر
لے حقیقت کی کچھ خبر ماجدؔ
واہمے، ذہن پر سوار نہ کر
ماجد صدیقی

تن گیا آسماں کماں جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
ابروئے چشم دشمناں جیسا
تن گیا آسماں کماں جیسا
جبر کے موسموں سے زنگ آلود
جو بھی تھا برگ، تھا زباں جیسا
بھُولنے پر بھی دھیان جابر کا
پاس رہتا ہے پاسباں جیسا
جو بھی ہوتا ہے دن طلوع یہاں
سر پہ آتا ہے امتحاں جیسا
ہے نظر میں جو خواب سا ماجدؔ
ہے کوئی سروِ گلستاں جیسا
ماجد صدیقی

آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے
دیکھا ہمیں قفس میں، تو پوچھی نہ خیر بھی
جھونکے مہک کے آئے اور آ کر، پلٹ گئے
مُٹھی میں بند جیسے، مہاجن کی سیم و زر
کھیتوں کے حق میں ابر، کچھ ایسے سمٹ گئے
سیلاب نے جب اپنے قدم، تیز کر لئے
بادل بھی آسمان سے، اِتنے میں چھٹ گئے
جتنے ہرے شجر تھے، لرزنے لگے تمام
خاشاک تھے کہ سامنے دریا کے ڈٹ گئے
جانے نہ دیں گے، رزق کے بن باس پر کبھی
بچّے کچھ ایسے باپ سے ماجدؔ، چمٹ گئے
ماجد صدیقی

کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ
کس مغوی طیّارے میں محصور ہوئے ہم آپ
آتے وقت کا آئینہ ہی شاید کچھ بتلائے
مکر و ریا کے کن زخموں سے چُور ہوئے ہم آپ
عیاروں کے جذبۂ خیر و فلاح کی سازش سے
کون کہے مقصد سے کتنی دُور ہوئے ہم آپ
صَید ہوئے جس خیر میں لپٹی، شر کا اَب کے برس
ایسے تو ماجدؔ نہ کبھی مقہور ہوئے ہم آپ
ماجد صدیقی

پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا
چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا
جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا
روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بخشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا
راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا
سنگ ہو جاؤ گے حق بات ہے جس میں ماجدؔ
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا
ماجد صدیقی

ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا
کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا
کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی
جھنڈا جن کی کاروں پر، اے دیس! ترا لہرائے گا
اپنے جیسے ہی لگتے ہیں چَوک پہ بیٹھے راج مجھے
مول گجر دم سیٹھ کوئی جن کا آ کر ٹھہرائے گا
اِترائے گا جب بھی کبھی بیٹھے گا اپنے جیسوں میں
کون ستم گر ہے جو اپنی کرنی پر پچھتائے گا
شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت
کرنے کو اچّھا بھی کرے تو، کیا اچّھا کر پائے گا
چھید ہوئے جاتے ہیں جِس کشتی میں، اُس کے کھینے کو
دُور فرازِ عرش سے جانے، کون فرشتہ آئے گا
زورِ ہوا سے ٹہنیاں ٹوٹیں، پات جھڑے جن پیڑوں کے
کون سخی ایسا، جو اِن کے یہ زیور لوٹائے گا
خوشیوں پر رنجیدہ، اِک دُوجے کے رنج پہ جو خو ش ہیں
تو کیا اُن سِفلوں کو ماجدؔ دل کا حال سُنائے گا
ماجد صدیقی

پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یہ انتظار ہی عنواں ہے اَب تو جینے کا
پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا
بدک کے ثقلِ سماعت سے اہلِ مکّہ کی
جو اہلِ حق ہے مسافر ہے اَب مدینے کا
یقیں اُنہیں بھی خُدا پر ہے بہرِ رزق جنہیں
ہے آسرا کسی پتّھر، کسی نگینے کا
بہ دَورِ نو کسی تنخواہ دار کے گھر کا
حیات، ہفتۂ آخر لگے مہینے کا
ہَوا نے دی سرِ ساحل یہی خبر آ کر
کھُلا نہیں تھا ابھی بادباں سفینے کا
تُو خاک زاد ہے اور جان لے کہ اے ماجدؔ
گُہر نہیں کوئی قطرہ ترے پسینے کا
ماجد صدیقی

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہُوا ہے درپئے جاں اَب تو ہر سفر جیسے
قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے
سُجھا رہی ہیں یہی نامرادیاں اپنی
رہیں گے آنکھ میں کنکر یہ عمر بھر جیسے
سفر میں ہُوں پہ وُہ خدشات ہیں کہ لگتا ہے
جھُلس رہا ہو سرِ راہ ہر نگر جیسے
کہیں تو بات بھلا دل کی جا کے کس سے کہیں
بچھڑ کے رہ گئے سارے ہی ہم نظر جیسے
لپک رہا ہوں مسلسل مگر نہ ہاتھ آئے
کٹی پتنگ ہو اُمید کی سحر جیسے
دہن دہن سے زباں جھڑ گئی ہے یُوں ماجدؔ
خزاں کے دور میں بے برگ ہوں شجر جیسے
ماجد صدیقی

وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہمارے زیرِ قدم آسمان کیا کیا تھے
وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے
چمن کو راس فضا جن دنوں تھی موسم کی
شجر شجر پہ تنے سائبان کیا کیا تھے
کھُلا زمین کے قدموں تلے سے کھنچنے سے
کہ اوجِ فرق کے سُود و زیان کیا کیا تھے
یہ بھید وسعتِ صحرا میں ہم پہ جا کے کھُلا
کہ شہرِ درد میں ہم بے زبان کیا کیا تھے
ہمیں ہی مل نہ سکا، وُہ بہر قدم ورنہ
مہ و گلاب سے اُس کے نشان کیا کیا تھے
نہ سرخرو کبھی جن سے ہوئے تھے ہم ماجدؔ
دل و نگاہ کے وُہ امتحان کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہو چلی ہے ہر آشا یُوں گریز پا جیسے
دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے
کھِل نہیں سکی اُس کے سامنے کلی دل کی
دب گیا ہے ہونٹوں میں حرفِ مدّعا جیسے
چشم و لب کے آنگن میں ہو غرض کا موسم تو
بن کے بیٹھ رہتا ہے ہر کوئی خُدا جیسے
حال ہے کچھ ایسا ہی آج کے مؤرخ کا
داستاں لکھے اپنی کوئی بیسوا جیسے
رو پڑا ہے کیوں، دیکھو، ہاتھ میں سے بچّے کے
گِر گیا ہے، لگتا ہے، پھر سے جھنجھنا جیسے
اِس زمیں کا ہر خطّہ حرص کے حوالوں سے
یُوں لگے کہ ہونا ہو دشتِ کربلا جیسے
دل کی بات بھی ماجدؔ کھوکھلی ہوئی ایسی
زیرِ آب سے اُٹھے موجۂ صدا جیسے
ماجد صدیقی

جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہم بہاروں کے طالب تھے لیکن رُتوں کی رضا اور تھی
جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی
وُہ کہ جس کو تقاضا رہا ہم سے اظہارِ آزار کا
دل کو لائے زباں پر تو اُس انجمن کی فضا اور تھی
ہم تو ہر بات کو اُس کی، اخلاص کا رنگ دیتے رہے
ہم کو احساس ہی کب یہ تھا نیّتِ آشنااور تھی
اِس عجوبے کو ہم کیا کہیں جب چمن ہی قفس بن گیا
ساتھ لاتی تھی اپنے جو نزہت کبھی وہ صبا اور تھی
ساتھ لیکر جو چلتے تھے اوروں کو وہ رہنما اور تھے
کان میں گھولتی تھی جو رس ہمسری کا، صدااور تھی
سنگ دل تھے جو، اِس کو وُہی راکھ کا ڈھیر سمجھا کئے
دل کی ماجدؔ وگرنہ بہ ایں بے بسی بھی بہا اور تھی
ماجد صدیقی

تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہُوا ہے سچ مچ یہی کہ مَیں نے یہ خواب دیکھا
تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا
خُدا سے بھی ہے سلوک میرا معاوضے کا
کِیا ہے میں نے وُہی جو کارِ ثواب دیکھا
بھرا ہے کیا کیا نجانے چھالوں میں اپنے پانی
بہ دشتِ اُمید جانے کیا کیا سراب دیکھا
چھڑا جو قّصہ کبھی غلاموں کی منفعت کا
سخن میں آقاؤں کے نہ کیا اجتناب دیکھا
کسی عمارت پہ لوحِ کم مائیگاں نہ لٹکے
بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا
پہنچ میں آیا جو بچّۂ میش بھیڑئیے کی
ندی کنارے اُسی کا ہے احتساب دیکھا
نہ بچ سکا تو بھی خود فریبی کی دلکشی سے
ترے بھی بالوں میں اب کے ماجدؔ خضاب دیکھا
ماجد صدیقی

حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہم نے اُتارا جس دم مرکب دریا میں
حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں
جب سے کنارے اُس کے تُجھ سے ملن ٹھہرا
اُترے آس کے کیا کیا کوکب دریا میں
ہر تنکے ہر پیڑ کو جو جتلاتا تھا
زور نہیں وہ پہلا سا اب دریا میں
ہاتھ میں چپّو تان لئے تو ڈرنا کیا
عمر کٹے یا کٹ جائے شب دریا میں
رنج نظر کا آخر آنکھ میں تیرے گا
لاش دبی رہتی ہے بھلا کب دریا میں
چاہت نے اسباب نہ دیکھے تھے ماجدؔ
کھُرتی خاک لئے اُتری جب دریا میں
ماجد صدیقی

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی

ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ رُوئے روشن، وُہ حسن کا انتخاب آئے
ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے
سوال جو بھی کرو گے اس گنبدِ فلک میں
تمہارا اپنا کہا ہی بن کر جواب آئے
وُہ گل بہ شاخِ نظر ہو یا آس کا ثمر ہو
جِسے بھی آنا ہے پاس اپنے شتاب آئے
کھِنچا کھنچا سا لگے وُہ سانسوں میں بسنے والا
برس ہوئے ہیں ہمِیں پہ اِک یہ عتاب آئے
جھُلانے آئیں نہ رات کی رانیوں سی نیندیں
نہ لوریوں کو کہیں کوئی ماہتاب آئے
فلک سے اُتری ہے برق کب بُوند بُوند ماجدؔ
زدستِ انساں ہی خاک پر ہر عذاب آئے
ماجد صدیقی

ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
وہاں فلک پہ ستاروں نے کیا ابُھرنا ہے
ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے
نجانے کتنے درندوں کی ہیں کمیں گاہیں
وُہ گھاٹیاں کہ جنہیں ہم نے پار کرنا ہے
کسی نگاہ میں آئے کب اُس کی پامالی
وُہ حسن عید کے دن ہی جِسے نکھرنا ہے
یہ دور وُہ ہے کہ ہر شب کسی خبر نے ہمیں
ہوا کے دوش پہ آ کر اداس کرنا ہے
سکھا دئیے ہیں جو کرتب کسی مداری نے
اَب اُن سے بڑھ کے بھی بندر نے کیا سُدھرنا ہے
ہمیں ہے اُس سے تقاضائے لُطفِ جاں ماجدؔ
وُہ جس کی خُوہی ہر اک بات سے مُکرنا ہے
ماجد صدیقی

کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
وُہ مرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکھ کر
کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر
حرفِ حق پر ہے گماں کُچھ اور ہی
ہاتھ میں بچّوں کے پتھر دیکھ کر
کیا کہوں کھٹکا تھا کس اِنکار کا
کیوں پلٹ آیا ہُوں وُہ در دیکھ کر
آنکھ میں رقصاں ہے کیا سیندھور سا
آ رہا ہوں کس کا پیکر دیکھ کر
بال آنے پر جُڑے شیشہ کہاں
کہہ رہا ہے آئنہ گر، دیکھ کر
یاد آتا ہے وُہ کم آمیز کیوں
جیب میں مزدور کی زر دیکھ کر
دیکھنا ماجدؔ، دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
ماجد صدیقی

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

تنِ عریاں پہ قبا لاگے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
مہرباں جب وُہ ذرا لاگے ہے
تنِ عریاں پہ قبا لاگے ہے
ساتھ لے آئے قفس تک خوشبُو
سنگدل کیا یہ ہوا لاگے ہے
عجز نے دن وُہ دکھائے کہ ہمیں
اَب تو انساں بھی خدا لاگے ہے
آنکھ کھلتے سرِ اخبار سحر
حرف در حرف چِتا لاگے ہے
جو بھی لاتا ہوں زباں پر اکثر
کیوں وُہ پہلے سے کہا لاگے ہے
جُز کسی سادہ منش کے ماجدؔ
کون پابندِ وفا لاگے ہے
ماجد صدیقی

کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
محتاج کو جب سے ٹال آئے
کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے
کیا یہ بھی اثر ہے بددُعا کا
سُورج کو جو نت زوال آئے
ہے نام کا بھی جو شیرِ بیشہ
گیدڑ کی اُسے نہ چال آئے
ہے جس کے قلم میں عدلِ دوراں
کیونکر نہ اُسے جلال آئے
اُس شخص سے خیر کی طلب کیا
ماجدؔ، جِسے دیکھ بھال آئے
ماجد صدیقی

اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
منصور حقیقت کا سرِ دار نہ دیکھا
اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا
ہر فرد کو اِس عہد میں آزارِ بقا ہے
ہے کون جِسے مرگ سے دوچار نہ دیکھا
اِس دورِ منّور میں سرِ ارض ہے جیسا
انسان کو ایسا کبھی خونخوار نہ دیکھا
خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے
اُس شہر کا اِک شخص بھی بیدار نہ دیکھا
ہوتا ہے ہر اِک پھُول مہک بانٹ کے جیسا
انسان کو ایسا کبھی سرشار نہ دیکھا
اک بار جو لاحق ہو دل و جان کو ماجدؔ
جاتا ہوا وُہ روگ، وُہ آزار نہ دیکھا
ماجد صدیقی

کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
بدستِ انساں عَلَم جہاں امن کا گڑا ہے
لٹک رہا ہے وہیں پرندہ بھی آشتی کا
کُھلی فضاؤں کی راہ جو بھی کوئی سجھائے
اُسی پہ آنے لگا ہے الزام گمُرہی کا
پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
دلوں کے اندر ہی پائے جاتے ہیں نقش ایسے
نشان ماتھوں پہ کب ملا ہے درندگی کا
نہ تا ابد غرقِ نیل ہو کر بھی باز آئے
ہُوا ہے لپکا جسے خدا سے برابری کا
نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا
ہمیں لگا ہے جو روگ ماجدؔ سخنوری کا
ماجد صدیقی