زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

اک نئی آس کا پہلو نکلا

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا
اک نئی آس کا پہلو نکلا
لے اُڑی سبزۂ خود رو کی مہک
پھر تری یاد کا پہلو نکلا
میٹھی بولی میں پپیہے بولے
گنگناتا ہوا جب تو نکلا
آئیں ساون کی اندھیری راتیں
کہیں تارا کہیں جگنو نکلا
نئے مضمون سجھاتی ہے صبا
کیا ادھر سے وہ سمن بو نکلا
پاؤں چلنے لگی جلتی ہوئی ریت
دشت سے جب کوئی آہو نکلا
کئی دن رات سفر میں گزرے
آج تو چاند لبِ جو نکلا
طاقِ میخانہ میں چاہی تھی اماں
وہ بھی تیرا خمِ ابرو نکلا
اہلِ دل سیرِ چمن سے بھی گئے
عکسِ گل سایۂ گیسو نکلا
واقعہ یہ ہے کہ بدنام ہوئے
بات اتنی تھی کہ آنسو نکلا
ناصر کاظمی

ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
لبِ جو چھاؤں میں درختوں کی
وہ ملاقات تھی عجب کوئی
جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا
وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی
کچھ خبر لے کہ تیری محفل سے
دُور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی
نہ غمِ زندگی نہ دردِ فراق
دل میں یونہی سی ہے طلب کوئی
یاد آتی ہیں دُور کی باتیں
پیار سے دیکھتا ہے جب کوئی
چوٹ کھائی ہے بارہا لیکن
آج تو درد ہے عجب کوئی
جن کو مٹنا تھا مٹ چکے ناصرؔ
اُن کو رسوا کرے نہ اب کوئی
ناصر کاظمی

لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں

سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں
اوّلیں قرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا اُلجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہے سیرِ چراغاں ناصرؔ
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
ناصر کاظمی

کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو

دورِ فلک جب دُہراتا ہے موسمِ گل کی راتوں کو
کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو
ریگِ رواں کی نرم تہوں کو چھیڑتی ہے جب کوئی ہوا
سونے صحرا چیخ اُٹھتے ہیں آدھی آدھی راتوں کو
آتشِ غم کے سیلِ رواں میں نیندیں جل کر راکھ ہوئیں
پتھر بن کر دیکھ رہا ہوں آتی جاتی راتوں کو
میخانے کا افسردہ ماحول تو یونہی رہنا ہے
خشک لبوں کی خیر مناؤ کچھ نہ کہو برساتوں کو
ناصرؔ میرے منہ کی باتیں یوں تو سچے موتی ہیں
لیکن اُن کی باتیں سن کر بھول گئے سب باتوں کو
ناصر کاظمی

بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں

نصیبِ عشق دلِ بے قرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
تلافیٔ ستمِ روزگار کون کرے
تو ہم سخن بھی نہیں رازدار بھی تو نہیں
زمانہ پرسشِ غم بھی کرے تو کیا حاصل
کہ تیرا غم غمِ لیل و نہار بھی تو نہیں
تری نگاہِ تغافل کو کون سمجھائے
کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں
تو ہی بتا کہ تری خامشی کو کیا سمجھوں
تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں
وفا نہیں نہ سہی رسم و راہ کیا کم ہے
تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں
اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست
مگر چراغِ سرِ رہگزار بھی تو نہیں
بہت فسردہ ہے دل، کون اس کو بہلائے
اُداس بھی تو نہیں بے قرار بھی تو نہیں
تو ہی بتا ترے بے خانماں کدھر جائیں
کہ راہ میں شجرِ سایہ دار بھی تو نہیں
فلک نے پھینک دیا برگِ گل کی چھاؤں سے دُور
وہاں پڑے ہیں جہاں خار زار بھی تو نہیں
جو زندگی ہے تو بس تیرے دردمندوں کی
یہ جبر بھی تو نہیں اختیار بھی تو نہیں
وفا ذریعۂ اظہارِ غم سہی ناصر
یہ کاروبار کوئی کاروبار بھی تو نہیں
ناصر کاظمی

گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی

کم فرصتئی خوابِ طرب یاد رہے گی
گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی
ہرچند ترا عہدِ وفا بھول گئے ہم
وہ کشمکشِ صبر طلب یاد رہے گی
سینے میں امنگوں کا وہی شور ہے اب تک
وہ شوخیٔ یک جنبشِ لب یاد رہے گی
پھر جس کے تصوّر میں برسنے لگیں آنکھیں
وہ برہمیٔ صحبتِ شب یاد رہے گی
گو ہجر کے لمحات بہت تلخ تھے لیکن
ہر بات بعنوانِ طرب یاد رہے گی
ناصر کاظمی

تری آواز اب تک آ رہی ہے

خموشی اُنگلیاں چٹخا رہی ہے
تری آواز اب تک آ رہی ہے
دلِ وحشی لیے جاتا ہے لیکن
ہوا زنجیر سی پہنا رہی ہے
ترے شہرِ طرب کی رونقوں میں
طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے
کرم اے صرصرِ آلامِ دوراں
دلوں کی آگ بجھتی جا رہی ہے
کڑے کوسوں کے سناٹے ہیں لیکن
تری آواز اب تک آ رہی ہے
طنابِ خیمۂ گل تھام ناصرؔ
کوئی آندھی اُفق سے آ رہی ہے
ناصر کاظمی

دلّی اب کے ایسی اُجڑی گھر گھر پھیلا سوگ

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلّی اب کے ایسی اُجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اُٹھ اُٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ
جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان
دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ
ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اُداس
وہی پرانی باتیں اُس کی وہی پرانا روگ
ناصر کاظمی

نگاہِ شوق کس منزل سے گزری

صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری
نگاہِ شوق کس منزل سے گزری
کبھی روئے کبھی تجھ کو پکارا
شبِ فرقت بڑی مشکل سے گزری
ہوائے صبح نے چونکا دیا یوں
تری آواز جیسے دل سے گزری
مرا دل خوگرِ طوفاں ہے ورنہ
یہ کشتی بارہا ساحل سے گزری
ناصر کاظمی

وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جائے

کسے دیکھیں کہاں دیکھا نہ جائے
وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جائے
مری بربادیوں پر رونے والے
تجھے محوِ فغاں دیکھا نہ جائے
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگِ آسماں دیکھا نہ جائے
سفر ہے اور غربت کا سفر ہے
غمِ صد کارواں دیکھا نہ جائے
کہیں آگ اور کہیں لاشوں کے انبار
بس اے دورِ زماں دیکھا نہ جائے
در و دیوار ویراں شمع مدھم
شبِ غم کا سماں دیکھا نہ جائے
پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
بھری برسات خالی جا رہی ہے
سرِ ابرِ رواں دیکھا نہ جائے
کہیں تم اور کہیں ہم، کیا غضب ہے
فراقِ جسم و جاں دیکھا نہ جائے
وہی جو حاصلِ ہستی ہے ناصر
اُسی کو مہرباں دیکھا نہ جائے
ناصر کاظمی

حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا

نازِ بیگانگی میں کیا کچھ تھا
حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا
لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے
عہدِ آوارگی میں کیا کچھ تھا
آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے
عالمِ بے خودی میں کیا کچھ تھا
یاد ہیں مرحلے محبت کے
ہائے اُس بے کلی میں کیا کچھ تھا
کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی
آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا
کتنے مانوس لوگ یاد آئے
صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا
رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ
پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
ناصر کاظمی

لب پہ مشکل سے تری بات آئی

یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی
لب پہ مشکل سے تری بات آئی
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہائے کیا ہو گا اگر رات آئی
بستیاں چھوڑ کے برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئی
کوئی جب مل کے ہوا تھا رخصت
دلِ بے تاب وہی رات آئی
سایۂ زلفِ بتاں میں ناصرؔ
ایک سے ایک نئی رات آئی
ناصر کاظمی

تم اپنی سی کر گزرے

کوئی جیے یا کوئی مرے
تم اپنی سی کر گزرے
دل میں تیری یادوں نے
کیسے کیسے رنگ بھرے
اب وہ اُمنگیں ہیں نہ وہ دل
کون اب تجھ کو یاد کرے
پیار کی ریت نرالی ہے
کوئی کرے اور کوئی بھرے
پھول تو کیا کانٹے بھی نہیں
کیسے اُجڑے باغ ہرے
بادل گرجا پون چلی
پھلواری میں پھول ڈرے
پت جھڑ آنے والی ہے
رَس پی کر اُڑ جا بھونرے
ناصر کاظمی

بوئے گل ہے سراغ میں گل کے

دِن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے
بوئے گل ہے سراغ میں گل کے
دلِ ویراں میں دوستوں کی یاد
جیسے جگنو ہوں داغ میں گل کے
کیسی آئی بہار اب کے برس
بوئے خوں ہے ایاغ میں گل کے
اب تو رستوں میں خاک اُڑتی ہے
سب کرشمے تھے باغ میں گل کے
آنسوئوں کے دیے جلا ناصرؔ
دم نہیں اب چراغ میں گل کے
ناصر کاظمی

کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا
باقی ہیں تمام رنگ میرے
آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں
یادوں کے بجھے ہوے سویرے
دیتے ہیں سراغ فصلِ گل کا
شاخوں پہ جلے ہوے بسیرے
منزل نہ ملی تو قافلوں نے
رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے
جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے
رودادِ سفر نہ چھیڑ ناصر
پھر اشک نہ تھم سکیں گے میرے
ناصر کاظمی

مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
مرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے
اب اُن دنوں کا تصوّر بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اُداس نہیں
ناصر کاظمی

یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے

شہر در شہر گھر جلائے گئے
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
اک طرف جھوم کر بہار آئی
اک طرف آشیاں جلائے گئے
اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب
اک طرف جشنِ جم منائے گئے
کیا کہوں کس طرح سرِبازار
عصمتوں کے دیے بجھائے گئے
آہ وہ خلوتوں کے سرمائے
مجمعِ عام میں لٹائے گئے
وقت کے ساتھ ہم بھی اے ناصرؔ
خار و خس کی طرح بہائے گئے
ناصر کاظمی

بس غمِ دوراں ہارے ہم

پہنچے گور کنارے ہم
بس غمِ دوراں ہارے ہم
سب کچھ ہار کے رستے میں
بیٹھ گئے دکھیارے ہم
ہر منزل سے گزرے ہیں
تیرے غم کے سہارے ہم
دیکھ خیالِ خاطرِ دوست
بازی جیت کے ہارے ہم
آنکھ کا تارا آنکھ میں ہے
اب نہ گنیں گے تارے ہم
ناصر کاظمی

بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے

نہ آنکھیں ہی برسیں نہ تم ہی ملے
بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے
نہ جانے کہاں لے گئے قافلے
مسافر بڑی دور جا کر ملے
وہی وقت کی قید ہے درمیاں
وہی منزلیں اور وہی فاصلے
جہاں کوئی بستی نظر آ گئی
وہیں رُک گئے اجنبی قافلے
تمھیں دل گرفتہ نہیں دوستو
ہمیں بھی زمانے سے ہیں کچھ گلے
ہمیں بھی کریں یاد اہلِ چمن
چمن میں اگر کوئی غنچہ کھلے
ابھی اور کتنی ہے میعادِ غم
کہاں تک ملیں گے وفا کے صلے
ناصر کاظمی

تو مجھ سے میں تجھ سے دُور

دیکھ محبت کا دستور
تو مجھ سے میں تجھ سے دُور
تنہا تنہا پھرتے ہیں
دل ویراں آنکھیں بے نور
دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لیے جاتا ہے دُور
ہم اپنا غم بھول گئے
آج کسے دیکھا مجبور
دل کی دھڑکن کہتی ہے
آج کوئی آئے گا ضرور
کوشش لازم ہے پیارے
آگے جو اُس کو منظور
سورج ڈوب چلا ناصر
اور ابھی منزل ہے دُور
ناصر کاظمی

آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات

عشق میں جیت ہوئی یا مات
آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات
یوں آیا وہ جانِ بہار
جیسے جگ میں پھیلے بات
رنگ کھلے صحرا کی دھوپ
زلف گھنے جنگل کی رات
کچھ نہ سنا اور کچھ نہ کہا
دل میں رہ گئی دل کی بات
یار کی نگری کوسوں دُور
کیسے کٹے گی بھاری رات
بستی والوں سے چھپ کر
رو لیتے ہیں پچھلی رات
سناٹوں میں سنتے ہیں
سنی سنائی کوئی بات
پھر جاڑے کی رُت آئی
چھوٹے دن اور لمبی رات
ناصر کاظمی

خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال
بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے
ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے
بقدرِ تشنہ لبی پرشسِ وفا نہ ہوئی
چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے
خیال آ گیا مایوس رہگزاروں کا
پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے
کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
اُمیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے
ناصر کاظمی

قصہ تھا دراز کھو گئے ہم

کچھ کہہ کے خموش ہو گئے ہم
قصہ تھا دراز کھو گئے ہم
تو کون ہے تیرا نام کیا ہے
کیا سچ ہے کہ تیرے ہو گئے ہم
زلفوں کے دھیان میں لگی آنکھ
پرکیف ہوا میں سو گئے ہم
ناصر کاظمی

مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں
مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں
بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں
یہاں تک بڑھ گئے آلامِ ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہو گئے ہیں
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
نگاہِ یاس کو نیند آ رہی ہے
مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ہیں
اُنھیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں
جنھیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
ناصر کاظمی

میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی

حاصلِ عشق ترا حسن پشیماں ہی سہی
میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی
حسن بھی حسن ہے محتاجِ نظر ہے جب تک
شعلۂ عشق چراغِ تہِ داماں ہی سہی
کیا خبر خاک ہی سے کوئی کرن پھوٹ پڑے
ذوقِ آوارگیٔ دشت و بیاباں ہی سہی
پردۂ گل ہی سے شاید کوئی آواز آئے
فرصتِ سیر و تماشائے بہاراں ہی سہی
ناصر کاظمی

اپنی دنیا دیکھ ذرا

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا
اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سناٹا
جھونپڑی والوں کی تقدیر
بجھا بجھا سا ایک دیا
خاک اُڑاتے ہیں دن رات
میلوں پھیل گئے صحرا
زاغ و زغن کی چیخوں سے
سونا جنگل گونج اُٹھا
سورج سر پر آ پہنچا
گرمی ہے یا روزِ جزا
پیاسی دھرتی جلتی ہے
سوکھ گئے بہتے دریا
فصلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا
او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا
ناصر کاظمی

جاگ مسافر اب تو جاگ

ختم ہوا تاروں کا راگ
جاگ مسافر اب تو جاگ
دھوپ کی جلتی تانوں سے
دشتِ فلک میں لگ گئی آگ
دن کا سنہرا نغمہ سن کر
ابلقِ شب نے موڑی باگ
کلیاں جھلسی جاتی ہیں
سورج پھینک رہا ہے آگ
یہ نگری اندھیاری ہے
اس نگری سے جلدی بھاگ
ناصر کاظمی

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ
لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ
اب کی فصلِ بہار سے پہلے
رنگ تھے گلستاں میں کیا کیا کچھ
کیا کہوں اب تمھیں خزاں والو!
جل گیا آشیاں میں کیا کیا کچھ
دل ترے بعد سو گیا ورنہ
شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ
ناصر کاظمی

پھر آئے گا دورِ صبحگاہی

مایوس نہ ہو اُداس راہی
پھر آئے گا دورِ صبحگاہی
اے منتظرِ طلوعِ فردا
بدلے گا جہانِ مرغ و ماہی
پھر خاک نشیں اُٹھائیں گے سر
مٹنے کو ہے نازِ کجکلاہی
انصاف کا دن قریب تر ہے
پھر داد طلب ہے بے گناہی
پھر اہلِ وفا کا دور ہو گا
ٹوٹے گا طلسمِ کم نگاہی
آئینِ جہاں بدل رہا ہے
بدلیں گے اوامر و نواہی
ناصر کاظمی

اِک بار جو آئے پھر نہ آئے

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آئے تو سنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اُس کو کہاں سے ڈھونڈ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھرائے
مہکی ہوئی سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلائے
راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں
آنچل میں حیا سے منہ چھپائے
اُڑتی ہوئی زلف یوں پریشاں
جیسے کوئی راہ بھول جائے
کچھ پھول برس پڑے زمیں پر
کچھ گیت ہوا میں لہلہائے
ناصر کاظمی

تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی

محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئی تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اُداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرے دل کو قرار ہے
میں جیسے آشنائے بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
ناصر کاظمی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے اَلَمِ حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گذری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمھارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
ناصر کاظمی

اعتبارِ نغمہ ۔ دیباچہ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب شاعری فنکار کے لئے باعث ننگ نہیں تھی۔ گیت گانے والا گاؤں گاؤں، نگری نگری گھومتا پھرتا تھا اور باٹ باٹ پہ عشق و محبت، دلیری، شجاعت، سیر و تفریح اور انجانے دیسوں کے نغمے گاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی بہت ہی سیدھا سادہ اور رس بھرا ساز ہوتا تھا جس کی دھن پر اس کے سارے گیت ڈھلتے تھے اور گلے سے باہر نکلتے ہی دلوں میں اتر جاتے تھے۔ وہ جن لوگوں میں بیٹھ جاتا ان کے دلوں کا تار ملا لیتا۔ جانی پہچانی دھرتی کا ہر گوشہ اور دھڑکنوں کے سارے مسکن اس کی جاگیر تھے۔ پاس پڑوس کے سارے باسی اس کی آواز پر فریفتہ تھے۔ کہنے والا ایک تھا اور سننے والے ہزاروں۔ اور ان ہزاروں کے دل اس کی مٹھی میں تھے۔ جدھر اس کی آواز پھرتی تھی ادھر اس کا سامعہ کھنچ کر چلا جاتا تھا۔ شاعر اور اس کے سامعین میں اگر کوئی حد فاصل تھی تو یہی کہ وہ کہہ سکتا تھا اور یہ سن سکتے تھے۔ یہ دیوارِ چین بھی جذب و کیف کے مراحل میں ٹوٹتی پھوٹتی رہتی تھی۔ سننے والوں کی دھڑکنیں اس کی آواز میں شامل تھیں، ان کے ذہن کی ساری لرزشیں اس کے ساز میں جاگ اٹھتی تھیں۔ اس ‘من تو شدم تو من شدی’ کے مراحل میں کوئی فاصلے نہ تھے جو مٹ نہیں سکتے تھے اور کوئی روک نہیں تھی جو ان کو جدا کر سکتی تھی۔ اسے پہچاننے والے اسے بھاٹ کہتے تھے، موجد اور خالق کا نام دیتے تھے اور اس کے ذریعے دھرتی کا رابطہ آسمانوں سے جا ملتا تھا۔

مگر دھرتی پر حکومت کرنے والوں کو اس کی فرماں روائی پہ، اس کی گرفت اور اثر و نفوز پہ حسد ہوا۔ وہ بھی دلوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔ دونوں کا ملاپ ہوا مگر منافقت اور جلاپے کی بنیادوں پر۔ اس مقصدی مصالحت سے حکمرانوں نے اسے کہا کہ ہماری دلیری، ہمارے عشق، ہماری سیر و سیاحت اور تفریح کے ترانے گاؤ۔ بھاٹ اب بھٹئی کرنے پر اتر آیا۔ شاید اسے یہ غرور ہو گیا تھا کہ میں جب بھی اور جیسے بھی چاہوں سننے والوں کو رجھا سکتا ہوں، ان کا رخ پھیر سکتا ہوں۔ درباری سخن ساز نے فنِ سخن رانی ایجاد کیا، دلوں میں گھر کرنے کے اصول وضع کئے اور جو چیز کبھی اپنے آپ ہو جایا کرتی تھی اُسے اپنی مرضی سے پیدا کرنے کے لیے طریقے سلیقے ترتیب دئے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ ان ہتھ پھیریوں کا شکار ہو کے رہ گیا۔ شطرنج کی چالوں نے اسے ایسا الجھایا کہ وہ انہی میں پھنس کر رہ گیا اور سننے والے اس کی آواز سے دور ہوتے گئے۔ حتٰی کہ ایک دن اس کا نغمہ اپنی ہی گونج میں کھو کے رہ گیا۔ اس نے آس پاس دیکھا، سوا اس کے مربی اور ممدوح کے کوئی بھی نہ تھا جو اس کی فنی مہارت اور چابک دستی کی داد دے سکتا، کوئی بھی نہ تھا جو اس کی پروازِ خیال کے ساتھ ذرا بھی اڑان دکھا سکتا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی تعریفیں کتنی کھوکھلی، اس کے نغمہ کتنے بے روح اور اس کی آواز کتنی بے سوز ہو کے رہ گئی۔ آخر اس کی مدح سرائی کا طلسم بھی ٹوٹنے لگا اور وہ دربار سے بھاگ نکلا۔

اس نے پھر سننے والے تلاش کرنے شروع کئے۔ لوگ جمع کئے اور محفلیں جمائیں مگر اب کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ اور اس کے منبع و ماخذ سے آشنائی نہیں رکھتا تھا۔ لوگ واہ واہ کرتے تھے، سبحان اللہ کے ڈونگرے برساتے تھے مگر وہ لرزشیں اور وہ دھڑکنیں کہاں تھیں؟ آواز و سامعہ کے وہ پرانے عہد و پیماں کہاں تھے؟ چشم و گوش کی وہ آشتی کہاں تھی؟ اب تو لوگ اس کا وطن پوچھتے تھے، اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ آخر تحسینِ نا شناس نے اسے خود پسند و خود نگر بنا دیا۔ اب وہ لوگوں سے بھاگتا تھا، ان کی داد و تحسین پہ جھلّاتا تھا۔ لعل و گہر اگلنے کے بعد کچھ بلبلے بطور انعام ملیں تو ان کی کیا بساط ہے؟ اب تو ممدوح کی مربیانہ شفقت بھی اسے میسر نہیں تھی۔ وہ پرانی مصلحت کسی مقصد سے ہی سہی مگر خود اس کے لیے ایک حد تک آرام و سکون کا باعث تو بنتی تھی، روحانی کوفت کے باوجود پہلے جسمانی آسائش کے تو سارے سامان مہیا تھے۔ زمانے کی قدر نا شناسی، سننے والوں کی بے اعتنائی کو دیکھ کے اس نے بھی روپ بدلا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا تاکہ لوگ راغب ہوں۔ اس کی فریادوں میں بدلتی دنیا کا الم بھی شامل تھا اور اس کا اپنا المیہ بھی جا بہ جا نمایاں ہو رہا تھا۔
بدلتی ہوئی دنیا کا عکس اور شاعری میں شاعر کا فرار ایک بہانا تھا جو روحِ عصر اپنے اظہار کے لئے ڈھونڈ رہی تھی۔ "نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے!” وہ آسمان و زمین کے بگڑتے ہوئے رنگ روپ اپنی آواز میں سمو کے کہہ رہا تھا : دیکھو! اور سننے والے اپنی اپنی حدوں میں محبوس اس کی آواز کو سن سن ڈرے جا رہے تھے۔ شاعر نے اس باولے کا بھیس بنا رکھا تھا جو ہر گاؤں کے گردا گرد چکر کاٹتا ہے اور آنے والے حادثوں کی خبر دیتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ پگلا گاؤں سے کتنا پیار کرتا ہے اور گاؤں والوں کے دُکھ میں کس محبت سے اشک فشانی کرتا ہے۔ مگر اس کے با وجود اس پگلے کی پیغمبری ایک بڑا نا گوار اور دل دوز فریضہ ہے جس کو ادا کرنا کسی محفل پرست، دنیا دار اور مصلحت آشنا سخن ساز کے بس کی بات نہیں:
یونہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
شعر کی ماہیت پر سوچنے والے عموماً شاعر کو بھول جاتے ہیں۔ اس شاعر کو جو بھیس بدل بدل کر ہر زمانے میں اپنے جلوے اپنے ساتھ لے کر آتا رہا ہے۔ ہمارے زمانے کا شاعر کئی اعتبار سے اکیلا ہے۔ شعر پڑھنے والے ہیں تو شاعری کے بارے میں سوچنے والے اس کے ساتھ نہ چل سکتے ہیں نہ چلنا چاہتے ہیں۔ کہنے والے کی آزمائش اس سے بڑی کیا ہوگی کہ با وجود ان حد بندیوں اور فاصلوں کے اس کی فریادیں دیواریں چیر کے کانوں تک پہنچتی ہیں یا نہیں۔ اس دورِ ابتلا میں نالہ آفرینی محض ایک دیوانے کی پکار ہی نہیں، کئی دلوں کی دھڑکنیں اس کی ہم ساز و ہم نوا ہو سکتی ہیں اگر مصلحت آشنا ذہن ان دھڑکنوں کو ملفوف نہ کر دے۔ آج کا شاعر نگری نگری گھومنے والے شاعر اور درباری سخن ساز دونوں کے مختلف مزاجوں کو ملا کے ایک نئی آواز پیدا کرنا چاہتا ہے، جو اس کے اپنے گرد و پیش اور اس کے اپنے آسمان و زمین سے بھی علاقہ رکھتی ہو۔ طباعت کی مدد سے چشم و گوش تک پہنچنے والا پرانے نغمہ پیرا کی بے ساختگی کو سخن ساز کی مہارتِ فن سے اس طرح باہم پیوستہ کرنا چاہتا ہے کہ دونوں یک جان ہو جائیں ۔ اسی طرح اس کی آواز میں ایک ٹھہراؤ، گرفت اور قوت و تیزی کا اجتماع ہوگا۔ اگر وہ اس شک و شبہ میں ڈوب جائے کہ اس کی آواز کہیں خلاؤں میں کھو کے رہ جائے گی تو شاید اسے بلند کرنے کا ہی کوئی جواز نہ رہ جائے۔
نالہ آفرینی جبر و اختیار کا ایک انوکھا کرشمہ ہے۔ قاری کے دل میں جگہ پانا بھی محض اس کے بس کی بات نہیں۔ آواز قوی ہو تو دور دور پہنچ جاتی ہے، نحیف ہو تو حلق سے باہر ہی نہیں نکلنے پاتی، صرف پہنچنے کی بات نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ایک آواز ہزاروں کی آواز بھی بن سکتی ہے یا نہیں۔ محض ہزاروں کا ذکر کرنے یا ہزاروں کو مخاطب کرنے سے ان کی دھڑکنیں اور لرزشیں ساز کی ہم نوائی نہیں کر سکتیں۔
نالہ محفلیں برہم نہیں کرتا۔ نالہ آفریں پہ جو کچھ بھی گزری ہو، اس کی فریاد فن کے سانچے میں ڈھل کر نغمہ نہیں بن سکتی تو محض چیخ پکار ہے۔

(ناصر کاظمی)
لاہور
پہلا دن،

مانوس اجنبی کی دوسری آمد

میرے نثری ڈرامے بساط ۔۔ 1987 ۔۔کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض ۔۔ مرحوم ۔۔ کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف رامے صاحب نے کہا کہ’’یہ کتاب شاعری کی کتاب بھی ہے، کہانی بھی ہے، لیکن شاعری کرنے اور کہانی کہنے کا اسلوب ڈرامے کے قالب کو بنایاگیا ہے۔‘‘ ایک مذاکرے میں پروفیسر مسز شمیم خیال نے کہا کہ ’’یہ کتاب اس طرح پڑھی جائے گی جیسے آپ شاعری کی کسی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ جملے مصرعوں کی طرح سے مصنف پر وارد ہوئے ہیں ۔‘‘ تقریباَ دس برس پہلے ،میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ نثری نظم کو نظم کہنا کافی ہے۔ پڑھنے والاخود دیکھ لے گا کہ یہ وزن اور بحر سے آزاد ہے۔ اگر اس میں خیال اچھوتا اور الفاظ کی تنظیم متاثرکرنے والی ہے تو یہ اچھی بھی لگے گی اور یاد بھی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک گھِسے پٹے مضمون والا یا عیب دار شعر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ نظم کو منظم ضرور ہونا چاہیے، اس کا منظوم ہونا ضروری نہیں ۔ ’نثری غزل‘ بھی ’نثری نظم‘ ہی ہوتی ہے، اوزان اور بحور سے آزاد اگرچہ قافیہ ردیف لیے ہوئے۔ میرے دوسرے شعری مجموعے ، چمن کوئی بھی ہو ۔۔ 2008 ۔۔ میں دو نثری نظمیں بھی تھیں ۔ کوئی دو برس ہوئے ،جدید نثری نظم کے نمایاں شاعر جمیل الرحمن کو بساط اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے اس پر ایک خوبصورت نظم ’شطرنج‘ لکھی اور بساط کونئے قارئین تک پہنچانے کی باقاعدہ مہم چلائی۔ میرا بھی جی چاہا کہ اسے دوبارہ دیکھوں ، جیسے یہ کسی اور نے لکھا ہو۔مجھے احساس ہوا کہ مکالموں میں جابجا نثری نظمیں پوشیدہ ہیں ۔ اس کے بعد یہ نظمیں ابھر ابھر کر میرے سامنے آنے لگیں اور تقاضا کرنے لگیں کہ میں انہیں اپنے اگلے مجموعے میں جگہ دوں ۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح انہیں زیادہ قارئین مل سکتے تھے۔ مجھے بساط بہت عزیز ہے۔ میں اسے دائم آباد دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اسے پسند کرنے والوں کی بھی یہی خواہش ہے۔ سو میں اس کے مکالموں میں نہاں نظموں کی فرمائش کو ٹالتا رہا۔ آخر ایک دن انہوں نے ایک وفد کی صورت میں مجھے گھیر لیا اور اپنا مطالبہ دہرا یا۔

’’تم بساط ‘ میں خوش نہیں ہو کیا؟‘‘ میں نے گھبرا کے پوچھا۔

’’نہیں ، ہمارااصلی گھر تو وہی ہے۔‘‘ ان کے ایک نمائندے نے جواب دیا۔

’’پھر؟‘‘ میں نے کہا۔

’’جیسے مانوس اجنبی بیک وقت شطرنج کی کتاب اور بساط میں رہتا ہے اسی طرح ہم بھی بیک وقت بساط اورشاعری کی کتاب میں رہنا چاہتی ہیں ۔‘‘

’’اوہ۔ یہ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں ۔‘‘ میں نے سوچا۔ اورکچھ دیر بعد میرے دلائل واقعی کمزور پڑنے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچ کر انہیں ایک موقع دینے پر راضی ہو گیاکہ ڈرامہ اور شاعری ایسے پڑوسی ہیں جن کے بیچ سرحد نہیں کھینچی جا سکتی ۔’نظمیں ‘ خوش خوش ’اپنے گھر‘ چلی گئیں ۔

میں نے ان نظموں میں سے چند کا انتخاب کیا اور اپنے زیرِ ترتیب شعری مجموعے کے مسودے میں شامل کر لیا۔ یہ بات کسی طرح پوری بساط میں پھیل گئی۔ اب تو آئے دن کوئی نہ کوئی ’نظم‘ کسی مکالمے سے نکل آتی اور ’’سیر کے واسطے تھوڑی سی جگہ اور‘‘ مانگتی۔ میں کہ مساوی حقوق کا پرانا علمبردار تھا، اس کی بات مان لیتا۔ جب پچیس نظمیں ’بن‘ گئیں تو میرے اندر شطرنج کا کھلاڑی پھر سے جاگ اُٹھا۔مجھے پہلی بار تشویش کی بجائے خوشی ہوئی، یہ سوچ کر کہ اگران کی تعداد شطرنج کی بساط کے بتیس مہروں کے برابر ہو جائے تو خوب ہو۔ اب مجھے نئی نظموں کا انتظار رہنے لگا۔ لیکن گلشنِ ناآفریدہ کی نظموں کو جیسے میری خواہش کا علم ہو گیا، سو انہوں نے نخرے دکھانا شروع کر دیئے۔ اب بے تاب و بے صبر ہونے کی باری میری تھی۔ میں نے کچھ مکالموں سے کچھ نظموں کونکالنا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیااور کہا کہ وہ جہاں تھیں بس وہیں ٹھیک تھیں ۔ کمال ہو گیایہ تو۔ پھر میں نے بھی کہا کہ نہیں تو نا سہی، مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تو پچیس کے بھی حق میں نہیں تھا۔ لیجیے جناب، ادھر میں بے نیاز ہوا ادھر نظمیں پھر سے متحرک ہو گئیں ۔ کچھ عرصے بعد ایک ریلہ ٓایااور ان کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئی۔ اب مجھے باقاعدہ پریشانی لاحق ہوئی۔ میرے مسودے میں تو غزلیں اور نظمیں اتنی نہیں تھیں ۔ سارا توازن بگڑتا نظر آیا۔

’’چونسٹھ تک ٹھیک ہے ،شطرنج کی بساط کے چونسٹھ خانوں کے برابر ۔ ہر نظم کے لیے ایک گھر۔ تم جانتے ہوبساط کے خانوں کو گھر بھی کہتے ہیں ، گھوڑے کی چال ڈھائی گھر ہوتی ہے۔‘‘ شطرنج کا کھلاڑی بولے چلا جا رہا تھا۔

’’تمہیں تو شطرنج کی بات کرنے کا موقع چاہیے۔ میرا مسودہ خراب ہو رہا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’کونسا مسودہ؟‘‘ اس نے معصومیت سے پوچھا۔

’’کونسا مسودہ۔ بھولے مت بنو۔ بتیس چونسٹھ کے چکر سے نکل بھی آیا کرو کبھی۔‘‘ میں نے احتجاج کیا۔

’’میرا مطلب ہے تمہارا کونسا مسود ہ خراب ہو رہا ہے۔ اگر تمہاری مراد اپنی غزلوں اور نظموں سے ہے تو اُن کا اِن نظموں سے کیا لینا دینا؟‘‘

’’کمال ہے،انہیں کے ساتھ شامل ہونے کی تو بات کی تھی ان نظموں نے۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔

’’وہ تو بہت شروع کی بات تھی۔اُس وقت انہیں نہ تو اپنی نوعیت کاپتہ تھا نہ تعداد کا۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’یعنی؟‘‘

’’یعنی یہ کہ انہیں ایک کتاب چاہیے ،وہ انہیں دے دو۔ باقی اپنی غزلوں نظموں کا جو چاہو کرو۔‘‘

’’اچھا چلو، میری غزلیں نظمیں تو محفوظ رہیں لیکن میری بساط توخالی ہو جائے گی۔ ‘‘ میں نے تشویش کا اظہار کیا۔

’’تمہیں یہ وہم کیوں ہورہا ہے کہ یہ تمہاری بساط کے مکالمے ہیں ۔یہ اُن کے ہمزاد ہیں ۔ ذرا انہیں اُن کے ساتھ رکھ کے دیکھو، فرق نظر آجائے گا۔ اور ان میں استعمال کیے گئے الفاظ کی تعداد بساط کے الفاظ کے دس بارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ ڈرامہ کچھ ایسے مکالموں ،جملوں اور الفاظ کا متقاضی ہوتا ہے جو نظم کے لیے زائد ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ الفاظ جو نظم کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں ڈرامے میں بے محل لگیں گے۔ اب یہ بات تمہیں میں سمجھاؤں گا؟ شاعر تم ہو کہ میں ؟ بساط زندگی کی بساط ہے۔ اس میں مصوروں کو اپنی تصویریں ، مجسمہ سازوں کومجسمے، موسیقاروں کو نغمے، فلسفیوں کو فلسفے اور شاعروں کو نظمیں ملیں گی۔ زندگی چلتی رہے گی، بساط بچھی رہے گی۔ڈرامہ بساط کے مکالمے اپنی جگہ جم چکے ہیں ۔ انہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ ستائیس سال ہو گئے انہیں وجود میں آئے۔ ویسے کے ویسے ہیں اب بھی۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’ ستائیس سال۔۔۔‘‘ مجھے کچھ یاد سا آنے لگا۔ میں نے کھلاڑی کو غور سے دیکھا۔’’ارے۔۔۔ تم۔۔۔ ! ؟‘‘

’’ہاں ، میں ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آخر تم کب تک مجھے نہیں پہچانتے۔‘‘ مانوس اجنبی نے قہقہہ لگایا۔

’’تم کتنا بدل گئے ہو۔‘‘

’’میں نے تمہیں بتایاتھا کہ میں نے بہت طویل عمر پائی تھی۔ کوئی میری عمر کے جس حصے کے بارے میں سوچے گا، میں اُسے ویسا ہی نظر آؤں گا جیسے میں اُس وقت تھا۔‘‘

’’تم چلے کہاں گئے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’یہ سوال تم نے تب بھی کیا تھا اور میرا جواب تھا کہ میرا وجود زمان و مکان کی قید سے ماوراء ہے۔ کہاں جانا تھامیں نے۔میں یہیں تھا، تمہارے آس پاس۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’ کم از کم یہ تو بتا دیتے کبھی کہ تمہیں شطرنج کی کتاب سے آزاد کرانے کے بعد میں نے تمہارے لیے جو گھر ،بساط،بنایا تھا تم نے اُسے ویسا ہی پایا جیسا تم چاہتے تھے؟ تم اُس میں خوش ہو؟ آرام سے ہو؟اپنی مرضی سے آجا سکتے ہو؟ دوسرے تم سے ملنے آسکتے ہیں ؟‘‘

’’میں چاہتا تھا کہ تمہیں خود سے پتہ چلنا چاہیے۔ اِس گھر میں آنے جانے والے تمہیں بتائیں ۔ ‘‘

’’لیکن اس سے میری تسلی تو نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘

’’یہ تسلی نہ ہونے ہی میں تو لطف ہے۔‘‘

’’پھر آج یہ مہربانی کیسی؟‘‘

’’مجبوری۔ اُس وقت تمہیں اپنی کہانی کا یقین دلانا تھا، آج ان نظموں کے بارے میں تمہاری بدگمانی دور کرنا ہے۔‘‘مانوس اجنبی نے کہا۔ اُس کی باتیں آج بھی میری سمجھ میں آدھی آرہی تھیں آدھی نہیں ۔

جسٹس کارنیلیس نے کہا تھا کہ جیسے قاری کتاب کو ڈھونڈتا ہے اسی طرح کتاب بھی قاری کو ڈھونڈتی ہے۔ اِ س خیال سے کہ میں ان نظموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں میں انہیں شاعری کے قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ اگر آپ کو ان میں سے چند نظمیں بھی پسند آگئیں تو میں سمجھوں گا کہ ان کی جدوجہد رائگاں نہیں گئی۔میں نے ان کی ترتیب ویسے ہی رہنے دی تھی جس ترتیب سے ان کے ہمزاد بساط میں ہیں اور سب کو ایک مشترکہ عنوان دے دیا : چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں ۔ بعد ازاں ، جب ساجد علی نے موضوعات کی مناسبت سے ان کی ترتیب بدلی تو مجھے دل سے پسند آئی۔ شکریہ ساجد۔

باصِر سلطان کاظمی،نومبر2013ئ

باصر کاظمی

ویلینٹائن ۔ کیرل این ڈفی

ایک سرخ گلاب یا ساٹن کا بنا ہوا دل نہیں ۔

میں تمہیں ایک پیاز دیتی ہوں ۔

یہ خاکی کاغذ میں لپٹا ہوا چاند ہے۔

یہ روشنی دے گا

جیسے محبت کو احتیاط سے بے لباس کیا جائے۔

یہ لو۔

یہ تمہیں آنسوئوں سے اندھا کر دے گا

ایک عاشق جیسا۔

یہ تمہارے عکس کو

غم کی لرزتی ہوئی تصویر بنا دے گا۔

میں راست گو ہونے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

ایک خوبصورت کارڈ یا کِسوگرام

باصر کاظمی

سگریٹ (نظم سے اقتباس) ۔ جون ایش

سگریٹ ایک جذبے کی طرح ہے کہ یہ اندر تک اتارا جاتا ہے

اور جسم کی تمام خالی جگہوں کو معمور کرتا محسوس ہوتا ہے،

تاآنکہ،بے شک، یہ جل کے ختم ہو جائے، اور بجھا دیا جائے

پستے کے چھلکوں میں ، یا جو بھی کچرا

قریب ہو، اور ہو سکتاہے جذبہ آثار چھوڑ جائے

جو وقت کے ساتھ بڑھ کے شدیدہو جائیں : وہ جس نے لطف اٹھایاہے

ممکن ہے کئی برس بعد مر جائے، ایک گمنام

ہوٹل یا ہسپتال کے کمرے میں ، ایک سٹینڈ،

بُری تصویر یا خالی مرتبان کی خالی نظروں کے نیچے،

اُس لمحے کو یکسر بھولتے ہوئے، جس نے اعلان کیا تھا

اُس کی موت کے آغاز کا۔

باصر کاظمی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گبریل اوکارا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اے پسر،

وہ دل سے ہنستے تھے

اور اپنی آنکھوں سے ہنستے تھے:

لیکن اب وہ صرف اپنے دانتوں سے ہنستے ہیں ،

جبکہ ان کی برف سی سرد آنکھیں

میرے سائے کے پیچھے کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔

بے شک ایک وقت تھا

جب وہ دل سے ہاتھ ملاتے تھے:

مگر وہ وقت جا چکا، اے پسر،

اب وہ بے دلی سے ہاتھ ملاتے ہیں

جس اثنامیں ان کے بائیں ہاتھ تلاشی لیتے ہیں

میری خالی جیبوں کی ۔

’اپنا گھر سمجھو‘! ’پھر آنا‘:

وہ کہتے ہیں ، اور جب میں آتا ہوں

دوبارہ اور محسوس کرتا ہوں

اپنے گھر جیسا، ایک بار، دوبار،

تیسری بار نہیں آئے گی ۔۔

کیونکہ اس کے بعد میں دروازوں کو خود پر بند پاتا ہوں ۔

چنانچہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ، اے پسر،

میں نے بہت سے چہرے پہننا سیکھ لیے ہیں

ملبوسات کی طرح۔۔ گھر کا چہرہ،

دفتر کا چہرہ، گلی کا چہرہ، میزبانی کا چہرہ،

پارٹی کا چہرہ، اپنی تمام مناسبت رکھتی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ

ایک آویزاں تصویر کی مسکراہٹ کی طرح۔

اور میں نے بھی سیکھ لیا ہے

صرف اپنے دانتوں سے ہنسنا

اور بے دلی سے ہاتھ ملانا۔

میں نے ’الوداع‘ کہنا بھی سیکھ لیا ہے،

جب میرا مطلب ہوتا ہے ’جان چھوٹی‘:

یہ کہنا کہ’ آپ سے مل کے خوشی ہوئی‘،

خوش ہوئے بغیر؛ اور کہنا کہ

’آپ سے بات کرنا اچھا لگا‘، بیزار ہونے کے بعد۔

لیکن میرا یقین کر، فرزند۔

میں ہونا چاہتا ہوں جو میں کبھی تھا

جب میں تجھ ایسا تھا۔ میں چاہتا ہوں

ان تمام بے صدا کرنے والی باتوں کو بھلا دینا۔

سب سے بڑھ کے، میں دوبارہ سیکھنا چاہتا ہوں

کیسے ہنستے ہیں ، کیونکہ آئینے میں میرا قہقہہ

صرف میرے دانت دکھاتا ہے جیسے ایک سانپ کے عیاں زہری دانت!

پس مجھے دکھا، اے پسر،

کیسے ہنستے ہیں ؛ مجھے دکھا کیسے

میں ہنسا کرتا تھا اور مسکراتا تھا

کبھی جب میں تیرے جیسا تھا۔

باصر کاظمی

مہاجر کا اداس نغمہ۔ ڈبلیو ایچ اوڈن

فرض کرو اِس شہر میں ایک کروڑ لوگ ہیں ،

کچھ حویلیوں میں رہتے ہیں ، کچھ جھونپڑیوں میں :

تاہم، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، پیارے، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

کبھی ہمارا ایک ملک تھا اور ہمارا خیال تھا کہ وہ اچھا ہے،

نقشے میں دیکھواور وہ تمہیں وہاں مل جائے گا:

اب ہم وہاں نہیں جا سکتے، پیارے، اب ہم وہاں نہیں جا سکتے۔

گاؤں کے قبرستان میں ایک پرانا سدا بہار درخت لگا ہوا ہے،

ہر بہار میں اس پر نئے پھول آتے ہیں :

پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے، پیارے، پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے۔

قونصل نے میز پر ہاتھ مارا اور کہا،

’’اگر تمہارے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں ہے تم سرکاری طور پر مردہ ہو‘‘:

لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ، پیارے، لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ۔

میں کمیٹی کے پاس گیا؛ انہوں نے مجھے کرسی پیش کی؛

مجھے نرمی سے کہا کہ اگلے سال واپس چلے جاؤ:

لیکن ہم آج کہاں جائیں گے، پیارے، لیکن ہم آج کہاں جائیں گے؟

میں ایک عام جلسے میں گیا؛ مقرر کھڑا ہوا اور بولا:

’’اگر ہم انہیں آنے دیں ، وہ ہماری روزی روٹی چرا لیں گے‘‘:

وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا، پیارے، وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا۔

مجھے لگا کہ میں نے آسمان میں رعد کو گرجتے سنا؛

وہ ہٹلر تھا یورپ پر، کہہ رہا تھا، ’’انہیں مرنا ہے‘‘:

اُس کے ذہن میں ہم تھے، پیارے، اُس کے ذہن میں ہم تھے۔

ایک پوڈل کتے کو جیکٹ میں دیکھاجو پِن سے بند کی گئی تھی،

ایک دروازہ کھُلتے دیکھااور ایک بلی کو اندرآنے دیتے ہوئے:

لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے، پیارے، لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے۔

میں ایک بندرگاہ پہ گیا اور پشتے پہ کھڑا ہوا،

مچھلیوں کو تیرتے دیکھا گویا کہ وہ آزاد تھیں :

صرف دس فٹ دور، پیارے، صرف دس فٹ دور۔

ایک جنگل سے گزرا، درختوں پہ پرندوں کو دیکھا؛

اُن میں کوئی سیاستدان نہیں تھا اور وہ چین سے گا رہے تھے:

وہ انسانی نسل نہیں تھے، پیارے، وہ انسانی نسل نہیں تھے۔

میں نے خواب میں ایک ہزار منزلہ عمارت دیکھی،

ایک ہزار کھڑکیاں اور ایک ہزار دروازے:

ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا، پیارے، ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا۔

میں برف باری میں ایک بڑے میدان میں کھڑا تھا؛

دس ہزار سپاہی اِدھر اُدھر مارچ کر رہے تھے:

تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے، پیارے، تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے۔

باصر کاظمی

I Shall Return – Claude McKay

میں دوبارہ واپس آؤں گا۔ میں واپس آؤں گا

ہنسنے اور محبت دینے اور حیران آنکھوں سے دیکھنے

سنہری دوپہر میں جنگل کی بھٹیوں کوجلتے،

اپنا نیلا-سیاہ دھواں نیلمی آسمان کو بھیجتے۔

میں واپس آؤں گا ندیوں کے کنارے مٹرگشت کرنے

جو خمیدہ گھاس کی بھوری پتیوں کو بھگوتی ہیں ،

اور ایک بار پھر اپنے ہزاروں خوابوں کو پورا کرنے

جو میں نے پہاڑی دروں سے بہہ کر آنے والے پانیوں کے دیکھے تھے۔

میں واپس آؤں گا وائلن اور بانسری کو سننے

جن پر گاؤں میں رقص ہوتا ہے، محبوب شیریں دھنوں کو سننے

جو دیسی زندگی میں نہاں گہرائیوں کو متحرک کرتی ہیں ،

اور دھندلائی ہوئی دھنوں کے بھٹکے ہوئے نغمے سننے۔

میں واپس آؤں گا۔ میں دوبارہ واپس آؤں گا

اپنے ذہن کے سالہاسال کے دردکو مٹانے ۔

باصر کاظمی

ٹونی او ۔ گمنام

ویران اور بنجر برف میں

ایک آواز پکاری؛

’تم کہاں جا رہے ہو، ٹونی او!

تم آج صبح کہاں جا رہے ہو؟‘

’میں جا رہا ہوں جہاں شراب کے دریا ہیں ،

پہاڑی روٹی اور شہدہیں ؛

وہاں سب ملوک اور ملکائیں جانوروں کی نگرانی کرتے ہیں ،

اور ساری دولت غریبوں کے پاس ہے۔‘

باصر کاظمی

بات چیت ۔ ڈی ایچ لارنس

میری خواہش ہے، جب آپ لوگوں کے نزدیک بیٹھیں ،

وہ یہ ضروری نہ سمجھیں کہ بات کریں

اور لفظوں کی ہلکی اور سرد ہوا بھیجیں

جو آپ کی گردن پہ اور کانوں میں اُترے

اور آپ کے اندر خنکی پہنچائے۔

باصر کاظمی

متعدد حویلیاں ۔ ڈی ایچ لارنس

جب درخت پر اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک پرندہ اپنی دُم ہلاتا ہے

وہ کہیں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے، ڈھیروں دولت پانے کے مقابلے میں

یا اپنے لیے ایسا گھونسلا بنانے کی نسبت جس میں غسل خانہ ہو۔۔

لوگ کیوں اِس طرح خوش نہیں ہو سکتے؟

باصر کاظمی

فرصت ۔ ڈبلیو ایچ ڈیوس

یہ کیا زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے،

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ؟

وقت نہ ہو کہ درختوں کے نیچے کھڑے ہوں

اور دیکھیں دیر تک بھیڑوں اور گایوں کی طرح۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، جب ہم جنگل سے گزریں ،

جہاں گلہریاں گھاس میں اخروٹ چھپاتی ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، دن کی کھلی روشنی میں ،

ستاروں سے بھری ندیاں ، جیسے رات کو آسمان۔

وقت نہ ہو کہ پلٹیں حُسن کی نگاہ کی طرف،

اور اُس کے پاوئں دیکھیں ، وہ کیسے ناچ سکتے ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ انتظار کریں جب تک اُس کے ہونٹ

اُس مسکراہٹ کو نہال کرسکیں جو اُس کی آنکھوں نے شروع کی تھی۔

یہ ایک کنگال زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ۔

باصر کاظمی

’باغبان‘ سے چار نظمیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور

— 1 —

قاری، تم کون ہوجو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟

میں تمہیں بہار کی اِس دولت سے ایک بھی پھول، اُس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔

اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔

اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔

اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اُس زندہ خوشی کو محسوس کر سکوجو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پُر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔

— 2 —

میرے دل کو، جو طائر بیابان ہے، تمہاری آنکھوں میں اپنا آسمان مل گیا ہے۔

یہ صبح کا پنگوڑا ہیں ، ستاروں کی سلطنت ہیں ۔

میرے گیت ان کی گہرائیوں میں کھو گئے ہیں ۔

مجھے اِس آسمان میں تیرنے دو، اِ س کی غیر آباد وسعت میں ۔

مجھے اِس کے بادلوں میں راستہ بنانے دو، اور اِس کی دھوپ میں پر پھیلانے دو۔

— 3 —

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں ایک بھکاری بن کے نہیں آیا۔

میں تمہارے صحن کی بیرونی حد پر، باغ کی باڑھ سے باہر، کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں نے تمہارے باغ سے ایک بھی گلاب نہیں لیا، ایک پھل نہیں توڑا۔

میں نے راستے میں سائبان تلے عاجزی سے پناہ لی، جہاں ہراجنبی مسافر ٹھہر سکتا ہے۔

میں نے ایک بھی گلاب نہیں توڑا۔

ہاں ، میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے، اور بارش کی بوچھاڑ گر رہی تھی۔

ہوائیں بانس کی جھونکے کھاتی شاخوں میں چیخ اٹھیں ۔

بادل آسمان پہ دوڑ رہے تھے جیسے ہار کے بھاگ رہے ہوں ۔

میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے۔

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا یا تمہیں دروازے پر کس کا انتطار تھا۔

بجلی کے کوندے تمہاری آنکھوں کو چوندھیا رہے تھے۔

مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میں جہاں اندھیرے میں کھڑا تھا تمہیں نظر آسکتا تھا؟

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا۔

دن ختم ہو گیا ہے اور بارش ایک لمحے کے لئے رک چکی ہے۔

میں تمہارے باغکی بیرونی حد پر، درخت کا سایا چھوڑ رہا ہوں اور گھاس کی یہ نشست ۔

اندھیرا ہو چکا ہے؛ اپنا دروازہ بند کر لو؛ میں اپنی راہ لیتا ہوں ۔

دن ختم ہو چکاہے۔

— 4 —

چراغ کیوں بجھ گیا؟

میں نے اسے ہوا سے بچانے کے لیے اپنی چادر سے ڈھک دیا تھا، اِس لیے چراغ بجھ گیا۔

پھول کیوں مرجھا گیا؟

میں نے اسے بیقرار محبت سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا، اِس لیے پھول مرجھا گیا۔

ندی کیوں سوکھ گئی؟

میں نے اپنے استعمال کے لیے اس پر ایک ڈیم بنا دیا تھا، اِس لیے ندی سوکھ گئی۔

بربط کا تار کیوں ٹوٹ گیا؟

میں نے اس سے ایسا سُر نکالنے کی کوشش کی جو اس کے اختیار سے باہر تھا، اِس لیے بربط کا تار ٹوٹ گیا۔

باصر کاظمی

خوش آدمی ۔ جون ڈرائڈن

خوش ہے وہ آدمی، اورصرف وہی خوش ہے،

جو ’آج‘ کو اپنا کہہ سکتا ہے؛

وہ جو، ’ اندر سے محفوظ‘ ، کہہ سکتا ہے،

اے ’کَل‘، برے سے برا کرگزر، کیونکہ میں ’آج‘ جی چکا ہوں ۔

باصر کاظمی

شب بخیر ۔ فرانسس کوارلز

اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو، اور چین سے آرام کرو؛

تمہاری روح خاصی محفوظ ہے؛ تمہارا جسم قائم؛

وہ جو تم سے محبت کرتا ہے، جس نے تمہیں رکھا ہے

اور تمہاری پاسبانی کرتا ہے، کبھی نہیں سوتا، کبھی نہیں سوتا۔۔۔۔

باصر کاظمی

نظموں کے تراجم کے حوالے سے ایک ضروری نوٹ

میں نے درج ذیل نظموں میں سے بیشتر کے منظوم تراجم بھی کیے لیکن وہ قدرے مصنوعی اور بے تاثیر لگے۔ اِس کے علاوہ،وزن پورا کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ استعمال کرنا پڑ رہے تھے جو زائد تھے اور اصل متن سے بھی دور کر رہے تھے۔ بعض اوقات نثر کی موسیقی نظم کی غنائیت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ انجیل اور قرآن کے منظوم تراجم پڑھتے وقت مسلسل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انسان ہم سے مخاطب ہے جبکہ نثری تراجم کی خواندگی میں بہت سے مقامات پر غیبی آواز سنائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔

باصر کاظمی

بندۂ مزدور کے اوقات

جب جب نیند آتی ہے

جاگنا پڑتا ہے۔

کھانے کی مہلت نہیں ملتی

جب لگتی ہے بھوک۔

کھاتے ہیں تو بھوک نہیں ہوتی اُس وقت،

سونے لگتے ہیں تو نیند نہیں آتی۔

باصر کاظمی

دوہری شہریت

ایک وطن وہ ہوتا ہے

جس میں ہم رہتے ہیں ۔

ایک وطن وہ ہوتا ہے

جو ہم میں رہتا ہے،

جب تک ہم رہتے ہیں ۔

باصر کاظمی

دشت نوردی

رستے ’’ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

پڑ گئے چل چل پاؤں میں چھالے

ایسی بھول بھلیاں ہیں یہ

جیسے ہوں مکڑی کے جالے

باصر کاظمی

راہِ راست

نہیں لازم کہ بیابان میں وحشت کیجے

یا کسی کوہ کے دامن میں مشقت کیجے

آج اک حور شمائل نے کہا عاشق سے

مجھ کو پانا ہے تو گھر جا کے عبادت کیجے

باصر کاظمی

واپسی

چڑھائی کرتی چلی جا رہی ہے فوجِ عدو

نپولین کی طرح۔

وہ بے خبر ہے کہ بدلے گا جیسے ہی موسم

پڑے گی برف

چلے گی ہوا زمستانی،

نہیں ملے گا اُسے واپسی کا رستہ بھی۔

باصر کاظمی

ایک تو ہی تو رہ گیا تھا ساتھ

تو بھی ہو جائے گا جدا، اچھا

گر اِسے کہہ سکیں ہم اک نقصان

تو نے اک دوست کھو دیا اچھا

باصر کاظمی

’شاہی محل ‘کے ایک ملازم کی نجی گفتگو

اگرچہ شکوہ مناسب نہیں زباں کے لیے

تڑپ رہا ہے مرا نطق اِس بیاں کے لیے

جہاں سب اپنے ہوں موجود گر وہاں نہ کہوں

سنبھال رکھوں میں یہ بات پھر کہاں کے لیے

ملا ہمیں کہ رعایا بھی چاہیے تھی کچھ

’’بنا ہے ’ملک ‘تجمل حسین خاں کے لیے‘‘

باصر کاظمی

وادی الملوک کے ایک کارکن کی عرض داشت

مالک اگرچہ تُو ہے

رازق بھی تُو مِرا ہے

لیکن تِرا یہ بندہ

اکثر یہ سوچتا ہے

یہ کیا کہ رزق میرا

فرعون سے جڑا ہے

یا مقبرے بنا کے

یا مقبرے دکھا کے

(۔ مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل))

باصر کاظمی

تنبیہہ

خیر کی ان سے نہ رکھنا امید

ہیں یہ ابلیس کے دیرینہ مرید

ایک مخلص کی ہے تجھ کو تاکید

دیکھ غفلت نہ ہو اب تجھ سے مزید

اب تو حربے انہیں حاصل ہیں جدید

کچھ بھی کر سکتی ہیں افواجِ یزید

باصر کاظمی

ریفرنڈم

سردار کی نیت کو ٹٹولا نہیں کرتے

بس ہاتھ اٹھا دیتے ہیں بولا نہیں کرتے

’’جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘

باصر کاظمی

اتحاد

لُوٹنا ہو گا غریبوں کو جبھی ایک ہوئے

ورنہ یہ رہزن و قزاق کبھی ایک ہوئے؟

کامیابی نے تو ڈالی ہے ہمیشہ تفریق

جب کبھی مار پڑی اِن کو تبھی ایک ہوئے

باصر کاظمی

مساوات

خونی و خائن و راشی و شقی ایک ہوئے

اُس کے دربار میں پہنچے تو سبھی نیک ہوئے

خاص لوگوں کے لیے اگلی صفیں ہیں یارب

تیری سرکار میں بھی لوگ کہاں ایک ہوئے

باصر کاظمی

ایک ڈیم فول کو نصیحت

اک پیرِ خرد مندہوا مجھ سے مخاطب:

خوش ہو کہ طبیعت بڑی حساس ہے تیری

سب درد زمانے کے ترے درد بنے ہیں

قسمت سے ملی ہے تجھے یہ نعمتِ گریہ

ہر درد مگر لائقِ گریہ نہیں ہوتا

کر سکتے ہیں روشن بھی ترے کُلبے کو یہ اشک

اور غرق بھی ہو سکتا ہے سب کچھ ترا اِن میں

2010

باصر کاظمی

انکم ٹیکس

انہوں نے پوچھا کہ جو کمایا کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

کہا بتائیں گے کیسے آیا مگر نہ پوچھو جدھر گیا وہ

کمائی محنت کی راس آئی کبھی غریبی نہ پاس آئی

بغیر محنت کے جو بھی پایا جدھر سے آیا اُدھر گیا وہ

بہت سمجھتا تھا خود کو شاطِر تمہارا نادان دوست باصِرؔ

ذرا سے اک فائدے کی خاطر بڑا سا نقصان کر گیا وہ

باصر کاظمی

این۔ آر۔ او

ایسا ہی نام تھا کچھ

ہم نے کبھی پڑھا تھا

ہاں یاد آ گیا اب

اور کیسا یاد آیا

وہ بادشاہِ روما

نیرو تھا نام جس کا

تم بھی تو جانتے ہو

نیروجو کر رہا تھا

جب روم جل رہا تھا

دیکھو تو کیسے کیسے قانون ہیں ہمارے

جن کے بنانے والے قارون ہیں ہمارے

(این۔ آر۔ او(National Reconciliation Ordinance): اِس حکم نامے کے تحت حکومتِ پاکستان نے ’ملک اور قوم کے اعلی مفاد‘ میں متعدد خاص لوگوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات واپس لے لیے۔یہ مقدمات مختلف سنگین نوعیت کے الزامات،بالخصوص مالی بدعنوانیوں کے الزامات ،کے تحت قائم کیے گئے تھے۔)

باصر کاظمی

اہلِ سیاست

ڈھونڈتے ہیں خلوص ہم کِن میں

ہے غرض اپنی ہی بھری جِن میں

آ گیا کھُل کے سامنے آخر

تھا جو پوشیدہ ان کے باطِن میں

کچھ تو تھے غیر کچھ ہمارے نہیں

فرق اتنا ہے اُن میں اور اِن میں

باصر کاظمی

حفظِ ماتقدم

کہا اک بھیڑ نے کچھ میمنوں سے

مرے پیارو، ہمیشہ ساتھ ریوڑ کے رہو۔

تمہارے دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی ہو

جو ڈھال کی صورت محافظ ہو۔

چراگاہوں سے باہر

جگمگاتے راستے تم کو بلائیں گے،

چمکتی لہلہاتی خستہ ہریالی لُبھائے گی،

تمہارے دل کو کھینچے گی۔

تم اپنے پاؤں اپنے ہاتھ میں رکھنا۔

نہ ہونے کو نہ ہو کچھ بھی

مگر ہونے کو ہو سکتا ہے کچھ بھی۔

سنو، ایسے کسی انجان رستے پر،

کسی بے دھیان لمحے میں ،

اچانک بھیڑئے کر دیں اگرحملہ،

دلِ دہشت زدہ میں ایک دہلاتی ہوئی خواہش

بصد حسرت امڈتی ہے،

رگوں میں سنسناتی ہے،

یہ کہتی ہے کہ ہائے!

کاش اُن کتوں کی سُن لیتے

جو دن بھر بھونکتے تھے۔

باصر کاظمی

نجات

یہ صاف دکھائی دے رہا تھا

باندھا تھا کبھی جو عہد، اُس سے

دونوں ہی رہائی چاہتے تھے

بے وجہ لڑائی چاہتے تھے۔

اُس کو بھی بہانہ چاہیے تھا

موقعے کی تلاش میں تھے ہم بھی

دونوں ہی جدائی چاہتے تھے۔

باصر کاظمی

ایک دوست کی حق تلفی پر

گویا کہ جدا سب سے ترا ساز ہے پیارے

اعزاز نہ ملنا بھی تو اعزاز ہے پیارے

ہوتی ہے تری بات نمایاں سرِ محفل

ہر چند کہ دھیمی تری آواز ہے پیارے

ہم جانتے ہیں تیرے ارادوں کو بخوبی

پہچانتے ہیں جو ترا انداز ہے پیارے

تو دوست ہے چپکے سے بتا دیتے ہیں تجھ کو

جو حرف زمانے کے لیے راز ہے پیارے

ہوتے نظر آتے ہیں جہاں راستے مسدود

تیرے لیے اک باب نیا باز ہے پیارے

کچھ آج ہی اونچا نہیں سر فخر سے اپنا

تجھ پر تو ہمیشہ سے ہمیں ناز ہے پیارے

باصر کاظمی

ایک مکالمہ

شاعر: ان کی تنقید سدِ راہِ شوق

ان کی تعریف ایک زریں طوق

بیشتر میرے عہد کے نقاد

بددیانت، بخیل یا بدذوق

نقاد: طبعِ موزوں تو اک عنایت ہے

یہ بتا تیری کیا ریاضت ہے

صِرف تعریف چاہتا ہے تُو

تیرا مقصد حصولِ شہرت ہے

2011

باصر کاظمی

شجر ہونے تک

صبر کرنے کی جو تلقین کیا کرتے تھے

اب یہ لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہا کرتے تھے

رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک

بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک

1-3فروری 2009

باصر کاظمی

ہوائے طرب ۔ متفرق اشعار

دیکھتے رہنے پر ہوئے مامور

ہم کبھی اس قدر نہ تھے مجبور

اپنی شہرت بڑھانے کی خاطر

اُس نے ہم کو بھی کر دیا مشہور

دسمبر 2009


ہم دوا سے ٹھیک ہوں گے تیرے دیکھے سے نہیں

کام کرنے سے ہوا کرتے ہیں چاہے سے نہیں

دوستی میں دیکھتے ہیں وہ بس اپنا فائدہ

پھول پھل سے اُن کو دلچسپی ہے پودے سے نہیں

16 دسمبر2010


آج بھی ہم ہی سُرخرو ہوں گے

تیری تلوار ہے ہمارا سر

تجھ سے کرنی ہے اک ضروری بات

عام سی بات ہے، خدا سے ڈر

جنوری2011


جو کان میں رہ گیا سو پتھر

جو ہاتھ میں آگیا وہ ہیرا

26جولائی2011


ہے دوستی کی طرح دشمنی کا اپنا لطف

حریف بن کے ملے ہو تو یار یوں بھی سہی

29جولائی2011


جن مناظر نے خوش کیا تھا کبھی

خواب میں آکے تنگ کرتے ہیں

9اگست 2011


اگر آنسو رُکے تو ابر برسا

یہ بارش میرے پیچھے پڑ گئی ہے

22اگست 2011


آسائشِ دنیا کا سامان کچھ ایسا ہے

چھوڑا بھی نہیں جاتا ڈھویا بھی نہیں جاتا

مانندِ سراب آگے اک شے ہے عجب جس کو

پانا تو ہے ناممکن کھویا بھی نہیں جاتا

17جنوری2012


بِنا علاج بھی جیتے تھے اچھے خاصے ہم

مرض تو کچھ بھی نہ تھا مر گئے دوا سے ہم

6مئی 2012


فائدہ یہ ہے بچھڑنے کا کہ دل میں وہ مرے

ہے حسیں اتنا ہی جتنا کہ بچھڑتے ہوئے تھا

12مئی 2012


دھوپ ہنستی تھی ابھی آنگن میں

آگئے رونے رُلانے والے

31جولائی2012


پھول ہر ڈھنگ کا بہار میں تھا

برگ ہر رنگ کا خزاں میں ہے

12نومبر2012


یہ الگ بات کہ اصنام بھی لے آئے ساتھ

’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘‘

15فروری2013


یہ بے حسی نہیں اے دوست ضبطِ گریہ نے

ہماری آنکھوں میں اک رہگزار اتار دیا

سفر کیا ہے اک ایسی سواری پر جس نے

سوار ہونے دیا پر اتار اتار دیا 

27فروری2013


رات دن ساغرِ جم دیکھتے ہیں

کس نے دیکھا ہے جو ہم دیکھتے ہیں

کیوں ہے چہرہ ترا اُترا اُترا

آنکھ بھی تھوڑی سی نم دیکھتے ہیں

27جون2013


دوست وہ جو دوستوں کے ہوں فقط سب کے نہیں

وہ جو خوش کرتے ہوں سب کو میرے مطلب کے نہیں

31دسمبر2013 


باصِرؔ خلوصِ دل سے کیا تو ہے ایک عہد

اب یہ دعا کرو کہ نبھانا نصیب ہو


دوستوں کی مہربانی پوچھ لیتے ہیں ہمیں

ورنہ اِس شہرِ غرض میں کون کس کا آشنا


لڑتے کسی اور بات پر ہیں

غصہ کسی اور بات کا ہے


باصِرؔ دعائیں مانگیں تھیں عمرِ دراز کی

افسوس مت کرو کہ جوانی گزر گئی


مختلف ہیں اگرچہ ان کے نام

ملتے جلتے سے ہیں یہ سارے مقام


اُکھڑے اُکھڑے سے ہیں وہ کچھ دن سے

پھر کوئی بات ہو گئی ہو گی

اب انہیں فون کل کریں گے ہم

اب وہاں رات ہو گئی ہو گی

اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے

جی بھی کرتا ہے تجھ سے ملنے کو
اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے
لطفِ مے سے ہم آشنا ہیں مگر
یہ مضر ہی نہیں حرام بھی ہے
سر بلندی کی آرزو کے ساتھ
دل میں کچھ خوفِ انہدام بھی ہے
باصر کاظمی

جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی

جس کو دوائے دل کہتے ہیں یہ تو نہیں کہ نہیں ملتی
جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی
باور کر لو سچ کہتا ہوں تم سے ملتی ہے اک شکل
آئینہ دیکھو اور بتاؤ ملتی ہے کہ نہیں ملتی
کالے بادل حائل ہو جاتے ہیں ورنہ دھوپ مری
سورج سے تو آ جاتی ہے لیکن چھت پہ نہیں ملتی
عزت چاہتے ہو باصِرؔ تو یاد رکھو میری یہ بات
نیت جب تک ٹھیک نہ ہو جاں دے کر بھی یہ نہیں ملتی
باصر کاظمی

بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں

شعر لکھواتے ہیں جب خود کو تو ہم لکھتے ہیں
بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں
شور کرتا ہے رگ وپے میں سخن اک مدت
تب کہیں جا کے اٹھاتے ہیں قلم لکھتے ہیں
بولتے ہیں کہ عنایت ہے یہ تیری یارب
اور جب تک ہے ترا ہم پہ کرم لکھتے ہیں
باصر کاظمی

باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ

جب تک نہ اپنے ہاتھ میں لیں انتظام لوگ
باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ
کیا خاص لوگ ہوتے ہیں اور کیسے عام لوگ
اُن کی طرف سے بھاڑ میں جائیں تمام لوگ
یا تو گھٹا دیا اُسے یا پھر بڑھا دیا
کب دے سکے کسی کو بھی اُس کا مقام لوگ
باصر کاظمی

قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر

مزاج اپنا غلامی سے یہ بنا ہے کہ ہم
قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر
ہدف ہے گرچہ نشانے پہ ایک مدت سے
میں کیا کروں کہ مرا تیر ہے کماں میں اسیر
نہ کر سکا جو فراہم قفس مجھے صیاد
تو کر دیا مجھے میرے ہی آشیاں میں اسیر
رہا تو کر انہیں پھر دیکھ معجزے باصِرؔ
جو قوتیں ہیں تری خاکِ ناتواں میں اسیر
باصر کاظمی

اب شہر میں کم بناتے ہیں

سامان جو ہم بناتے ہیں
اب شہر میں کم بناتے ہیں
ہوتے ہیں لغت میں پتھر لفظ
ہیرا انہیں ہم بناتے ہیں
جو ہاتھ قلم اُٹھاتے تھے
ہیہات وہ بم بناتے ہیں
رکھ دیتے ہیں توڑ کے جو باصِرؔ
ہم کو وہی غم بناتے ہیں
باصر کاظمی

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان

جس راہ پر بھی ہم چلے اُس سے یہی آئی صدا
نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان
جتنی بلندی دیکھنی تھی دیکھ لی آگے تو بس
ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان
تقدیر مجبوری نہیں یہ تو کسی بھی چیز کا
امکان ہے امکان ہے امکان ہے امکان
ذوقِ سخن اتنا بڑھا اپنا کہ اب تو ہر طرف
دیوان ہے دیوان ہے دیوان ہے دیوان
گو بادشاہت کا مخالف ہوں مگر ٹیپو مرا
سلطان ہے سلطان ہے سلطان ہے سلطان
باصِرؔ سے ہوتی ہے خطا یہ سوچ کے کر درگذر
نادان ہے نادان ہے نادان ہے نادان
باصر کاظمی

اب تھوڑی سی پِلا کافی

دورِ جام رہا کافی
اب تھوڑی سی پِلا کافی
کچھ خاموشی ہے درکار
دن بھر شور رہا کافی
دل کے دکھ کا مداوا مے
دردِ سر کی دوا کافی
میرا بائی کا بھجن سنا
بلہے شاہ کی گا کافی
مِل گئی دنیا ہی میں ہمیں
باصِر سزا جزا کافی
باصر کاظمی

نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں

مقابلہ ہے کہ ہیں کس کے پاس کیا خبریں
نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں
ہے میرے پاس خدا کا دیا ہوا سب کچھ
اگر مرے لیے لانا ہے کچھ تو لا خبریں
سنی سنائی پہ کرتا نہیں یقین کوئی
سنانی چھوڑ مرے دوست اب دکھا خبریں
دیا نہ دھیان کسی نے کھلا نہ در کوئی
نگر نگر لیے پھرتی رہی ہوا خبریں
ہوئی کسی کی توجہ نہ جس عمارت پر
اُسی کے ملبے میں بکھری ہیں جا بجا خبریں
باصر کاظمی

سہل اُس نے ہی کی مری مشکل

آزمانے کو جس نے دی مشکل
سہل اُس نے ہی کی مری مشکل
زندگی تو اِسی طرح سے ہے
کبھی آسان اور کبھی مشکل
میرے معمول کے ملاقاتی
کوئی چھوٹی کوئی بڑی مشکل
جو تمہارے لیے سہولت ہے
وہ ہمارے لیے بنی مشکل
چھوڑ آیا تھا میں جسے پیچھے
سامنے ہے مرے وہی مشکل
یوں تو آرام ہر طرح کا ہے
رات سونے میں کچھ ہوئی مشکل
باصر کاظمی

سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی

ہر چند رہگزر تھی دشوار قافیے کی
سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی
دن کا سکون غارت راتوں کی نیند غائب
سر پر لٹک رہی ہے تلوار قافیے کی
ہم اس کو باندھتے کیا جکڑا ہے اس نے ہم کو
اب دیکھتے ہیں صورت ناچار قافیے کی
اِس آس پر کہ شاید ہو جائے تنگ ہم پر
کرتے رہے خوشامد اغیار قافیے کی
تازہ ہوا چلی اور اک لہر دل میں اٹھی
روکے نہ رک سکی پھر یلغار قافیے کی
پایا سراغِ مضموں گاہے ردیف میں بھی
لازم نہ تھی سماجت ہر بار قافیے کی
دشتِ خیال میں پھر کیا کیا کھُلے مناظر
کچھ دیر کو ہٹی تھی دیوار قافیے کی
جب شعر کا سفینہ بحرِ غزل میں ڈولا
اُس وقت کام آئی پتوار قافیے کی
مغرب کی ہو کہانی یا مشرقی روایت
اونچی رہی ہمیشہ دستار قافیے کی
کچھ شعر کام کے بھی اِس میں نکالے ہم نے
وہ کہتے تھے زمیں ہے بیکار قافیے کی
پھر اور کوئی نغمہ بھائے نہ اُس کو باصِرؔ
جو ایک بار سن لے جھنکار قافیے کی
باصر کاظمی

جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل

کیا بیاں کیجیے اب وسعتِ دامانِ غزل
جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل
آپ ہم لاکھ بگاڑا کریں اس کی صورت
کوئی قوت ہے پُراسرار نگہبانِ غزل
قطب تھا اُن میں کوئی اور ولی تھا کوئی
دیکھنے میں تو وہ تھے محض ثنا خوانِ غزل
چاہیے شعر کو اب بھی وہی سودا وہی درد
توسنِ طبع وہی اور وہی میدانِ غزل
میرِ محفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر
اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل
آتشِ عشق نے دی جرأتِ اظہار مجھے
شجرِ غم کا ثمر ہے مرا دیوانِ غزل
کام گو بند نہیں کوئی بھی غالب کے بغیر
نام سے اُس کے ہی روشن ہے خیابانِ غزل
ناسخ و ذوق و ظفر، مومن و حالی و امیر
ان کے پھولوں سے مہکتا ہے گلستانِ غزل
راہ شاعر کو دکھاتا ہے وہی داغِ فراق
آج بھی ہجر کا سامان ہے سامانِ غزل
سفرِ فکر میں اقبال رہا میرا انیس
اُس نے سیراب کیا میرا بیابانِ غزل
لخت ہائے جگرِ وحشی کو معمولی نہ جان
کوئی یاقوتِ غزل ہے کوئی مرجانِ غزل
عمر بھر ہم کو وفا پیشہ اُسی نے رکھا
ہم نے باندھا تھا لڑکپن میں جو پیمانِ غزل
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصِرؔ
مدرسہ میرا ہے ناصِر کا دبستانِ غزل
باصر کاظمی

گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ

جل رہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ
گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ
شاخِ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے
اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ
چند چھینٹے پڑے تھے بارش کے
شہر میں ہر طرف ہوا کیچڑ
دیکھتے ہی اُسے، ہوا محسوس
مجھ سے پھر ہو گئی کہیں گڑبڑ
آزمائش میں آ گئے باصِرؔ
پھر کسی بات کی ہوئی ہے پکڑ
باصر کاظمی

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور
جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ
تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام
ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی
کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ
باصر کاظمی

کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ
اِدھر بھی آئی تھی موجِ بہار ایک منٹ
پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا
ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ
ابد تلک ہوئے ہم اُس کے وسوسوں کے اسیر
کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ
اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی
جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ
پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصِرؔ
کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ
باصر کاظمی

اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ
اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ
چاند ہے اور آسمان ہے صاف
رہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ
اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین
اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ
شعر کیا شاعری کے بارے میں
سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ
کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ
اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ
وہ ملے بھی تو بس یہ پوچھیں گے
کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ
صحبتِ اہلِ ذوق ہے باصِرؔ
اب سناؤ کلام آٹھ سے پانچ
باصر کاظمی

ہے دستورِ زمانہ بادشاہت

رواج و رسمِ دنیا بادشاہت
ہے دستورِ زمانہ بادشاہت
کہو کیا چاہیے؟ پوچھا گیا جب
کہا سب نے کہ آقا بادشاہت
چھپانے کے لیے کچھ، گاہے گاہے
دکھاتی ہے تماشا بادشاہت
اگر محکوم ہی رہنا تھا ہم کو
تو کیا جمہوریت کیا بادشاہت
بہت بھاگے تھے باصِرؔ آمروں سے
ملی دنیا میں ہر جا بادشاہت
باصر کاظمی

بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں

گو بیاباں میں ہوں اور بے بس و بے یار ہوں میں
بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں
شانِ مصروفیت آوارگی میں بھی تھی کچھ
گھر میں ہر چند کہ مصروف ہوں بیکار ہوں میں
اُسی طوفان کی اک لہر مری ناؤ بنی
تم اُدھر ڈھونڈ رہے ہو مجھے اِس پار ہوں میں
مٹ گئے سینکڑوں اقرار حمایت کے تری
آج بھی گونج رہا ہے جو وہ انکار ہوں میں
میرے بارے میں کبھی فرض نہ کر لینا کچھ
سرِ تسلیم کبھی ہوں کبھی تلوار ہوں میں
باصر کاظمی

اپنی بات کرو گے

جب بھی بات کرو گے
اپنی بات کرو گے
آج تو میں سمجھا تھا
میری بات کرو گے
مجھ کو پتا ہے اب تم
کس کی بات کرو گے
جیسی صحبت ہو گی
ویسی بات کرو گے
جب بولو گے باصِرؔ
الٹی بات کرو گے
باصر کاظمی

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

کسی گنتی کسی شمار میں تھے

گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
کسی گنتی کسی شمار میں تھے
سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظ
اک پُراسرار سے حصار میں تھے
خوش ہوا ہوں غموں سے مل کے یوں
جیسے یہ میرے انتظار میں تھے
تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں
جو کبھی پہلے تین چار میں تھے
اب وہ سارے خزاں میں ہیں باصِرؔ
رنگ جتنے کبھی بہار میں تھے
باصر کاظمی

ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب

اُن پہ لاتی نہیں عذاب کتاب
ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب
کبھی سورج کی آب و تاب کتاب
ہے کبھی سایہء سحاب کتاب
لکھ رہا ہوں میں آجکل واعظ
تیری تقریر کا جواب کتاب
آپ ہی نے تو کی تھی فرمائش
لیجیے پیش ہے جناب کتاب
ہم سے باصِرؔ کبھی پڑھی نہ گئی
جو ہوئی شاملِ نصاب کتاب
باصر کاظمی

دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش
دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش
زنداں کی سلاخوں سی ہیں پانی کی یہ تاریں
صیاد سے کچھ کم نہیں ہر وقت کی بارش
لازم نہیں پیدل چلوں یا دوڑ لگاؤں
ہیں گھر کے مرے کام ہی اچھی بھلی ورزش
مانا کہ علاج اس کے سوا کچھ نہیں لیکن
کیا دل کے بدلنے سے بدل جائے گی خواہش
کوتاہیاں اپنی تو دکھائی نہیں دیتیں
ہر بات میں آتی ہے نظر غیر کی سازش
کچھ سنگِ گراں مایہ ہمیں بھی ملے باصِرؔ
سچ ہے کہ اکارت نہیں جاتی کوئی کاوش
باصر کاظمی

روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی
روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی
حیران کن تھی چُپ بھی تمہاری مرے لیے
بولے ہو اب تو بات بھی تم نے عجیب کی
سامانِ عیش دیکھ کے بزمِ نشاط میں
رہتی ہے یاد کس کو نصیحت طبیب کی
کب تک کرو گے اہلِ سیاست پہ اعتبار
یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی
ہو جن کی سب توجہ سمندر کے اُس طرف
اُن کو صدا سنائی نہ دے گی قریب کی
سینہ بہ سینہ کرتی ہے یہ ہر طرف سفر
حق بات کو نہیں ہے ضرورت نقیب کی
باصِرؔ بلا مقابلہ وہ منتخب ہوا
میری شکستہ پائی ہے محسن رقیب کی
باصر کاظمی

دوستو آگے چڑھائی ہے بہت

تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت
دوستو آگے چڑھائی ہے بہت
کہہ رہی ہے آج بھی نہرِ فرات
ساتھ ہو تو ایک بھائی ہے بہت
روز اک تازہ امید اک تازہ رنج
ہم کو غربت راس آئی ہے بہت
اے خرد اب کچھ مرے دل کی بھی سوچ
اِس نے بھی آفت مچائی ہے بہت
بیٹھتا ہے شیخ کب رندوں کے پاس
اُس کو زعمِ پارسائی ہے بہت
دیس کی کایا پلٹنے کے لیے
ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت
باصر کاظمی

کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون

گر برستا ہی رہا اِس طرح افلاک سے خون
کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون
میرے زخموں کو میسر نہیں مرہم پٹی
پونچھتا رہتا ہوں بس اپنی ہی پوشاک سے خون
جیسے دریا سے نکلتی ہوں بہت سی نہریں
ایسے بہتا ہے مرے دامنِ صد چاک سے خون
کیا ہوا ہے مرے اندر کہ ہوا ہے جاری
میری آنکھوں سے مرے منہ سے مری ناک سے خون
اتنا تڑپی ہے یہ مے خواروں کی محرومی پر
مے نہیں آج ٹپکتا ہے رگِ تاک سے خون
پھر شبِ ہجر مرے شہر پہ ہے سایہ فگن
آج پھر چاہیے اِس کو کسی بے باک سے خون
باصر کاظمی

پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک

اعمالِ کج کریں گے تعاقب قبور تک
پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک
کچھ اور جاگ لینے دے اے شامِ زندگی
سونا ہے اس کے بعد تو صبحِ نشور تک
اپنا وہی سوال تھا اُس کا وہی جواب
کیا کیا نہ کوہ دیکھے ہمالہ سے طور تک
گذرے گا کیسے کیسے مدارج سے کیا خبر
لمبا سفر ہے خاک کے ذرے کا نور تک
غافل ہیں اِس قدر کہ گذرتا ہے یہ گمان
ہم کو جگا نہ پائے گی آوازِ صور تک
باصِرؔ کہاں ہیں روز کے وہ ہمسفر مرے
خالی پڑی ہوئی ہے سڑک دور دور تک
باصر کاظمی

اِس میں لگ جائے گا جگر پورا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا
اِس میں لگ جائے گا جگر پورا
یا تو ہو جائیں اِس میں پورے غرق
یا کریں عشق سے حذر پورا
جانتا ہوں کہ خیر خواہ ترے
تجھ کو رکھتے ہیں باخبر پورا
مشورہ اُس مشیر سے مت کر
ہو جو آدھا اِدھر اُدھر پورا
پھول خوشبو سے بھر گئے باصِرؔ
چاند چمکا ہے رات بھر پورا
باصر کاظمی

ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں

کیا جو اغیار برا سوچتے ہیں
ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں
سوچتے ہیں کہ نہ سوچیں گے کچھ
سوچتے بھی ہیں تو کیا سوچتے ہیں
سوچتا ہوں کہ مرے بارے میں
وہ نہیں سوچتے یا سوچتے ہیں
زندگی گزری بنا کچھ سوچے
ہے یہ اب اس کی سزا سوچتے ہیں
میں دعا دیتا ہوں اُن کو باصِرؔ
جو مرے دکھ کی دوا سوچتے ہیں
باصر کاظمی