زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
لوگ رخصت ہوے کب یاد نہیں
کنج قفس میں سن لیتے ہیں بھولی بسری باتوں کو
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی
تری آواز اب تک آ رہی ہے
دلّی اب کے ایسی اُجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
نگاہِ شوق کس منزل سے گزری
وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جائے
حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا
لب پہ مشکل سے تری بات آئی
تم اپنی سی کر گزرے
بوئے گل ہے سراغ میں گل کے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
بس غمِ دوراں ہارے ہم
بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے
تو مجھ سے میں تجھ سے دُور
آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات
خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
قصہ تھا دراز کھو گئے ہم
مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں
میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی
اپنی دنیا دیکھ ذرا
جاگ مسافر اب تو جاگ
لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ
پھر آئے گا دورِ صبحگاہی
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اعتبارِ نغمہ ۔ دیباچہ
یہ ان دنوں کی بات ہے جب شاعری فنکار کے لئے باعث ننگ نہیں تھی۔ گیت گانے والا گاؤں گاؤں، نگری نگری گھومتا پھرتا تھا اور باٹ باٹ پہ عشق و محبت، دلیری، شجاعت، سیر و تفریح اور انجانے دیسوں کے نغمے گاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی بہت ہی سیدھا سادہ اور رس بھرا ساز ہوتا تھا جس کی دھن پر اس کے سارے گیت ڈھلتے تھے اور گلے سے باہر نکلتے ہی دلوں میں اتر جاتے تھے۔ وہ جن لوگوں میں بیٹھ جاتا ان کے دلوں کا تار ملا لیتا۔ جانی پہچانی دھرتی کا ہر گوشہ اور دھڑکنوں کے سارے مسکن اس کی جاگیر تھے۔ پاس پڑوس کے سارے باسی اس کی آواز پر فریفتہ تھے۔ کہنے والا ایک تھا اور سننے والے ہزاروں۔ اور ان ہزاروں کے دل اس کی مٹھی میں تھے۔ جدھر اس کی آواز پھرتی تھی ادھر اس کا سامعہ کھنچ کر چلا جاتا تھا۔ شاعر اور اس کے سامعین میں اگر کوئی حد فاصل تھی تو یہی کہ وہ کہہ سکتا تھا اور یہ سن سکتے تھے۔ یہ دیوارِ چین بھی جذب و کیف کے مراحل میں ٹوٹتی پھوٹتی رہتی تھی۔ سننے والوں کی دھڑکنیں اس کی آواز میں شامل تھیں، ان کے ذہن کی ساری لرزشیں اس کے ساز میں جاگ اٹھتی تھیں۔ اس ‘من تو شدم تو من شدی’ کے مراحل میں کوئی فاصلے نہ تھے جو مٹ نہیں سکتے تھے اور کوئی روک نہیں تھی جو ان کو جدا کر سکتی تھی۔ اسے پہچاننے والے اسے بھاٹ کہتے تھے، موجد اور خالق کا نام دیتے تھے اور اس کے ذریعے دھرتی کا رابطہ آسمانوں سے جا ملتا تھا۔
مگر دھرتی پر حکومت کرنے والوں کو اس کی فرماں روائی پہ، اس کی گرفت اور اثر و نفوز پہ حسد ہوا۔ وہ بھی دلوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔ دونوں کا ملاپ ہوا مگر منافقت اور جلاپے کی بنیادوں پر۔ اس مقصدی مصالحت سے حکمرانوں نے اسے کہا کہ ہماری دلیری، ہمارے عشق، ہماری سیر و سیاحت اور تفریح کے ترانے گاؤ۔ بھاٹ اب بھٹئی کرنے پر اتر آیا۔ شاید اسے یہ غرور ہو گیا تھا کہ میں جب بھی اور جیسے بھی چاہوں سننے والوں کو رجھا سکتا ہوں، ان کا رخ پھیر سکتا ہوں۔ درباری سخن ساز نے فنِ سخن رانی ایجاد کیا، دلوں میں گھر کرنے کے اصول وضع کئے اور جو چیز کبھی اپنے آپ ہو جایا کرتی تھی اُسے اپنی مرضی سے پیدا کرنے کے لیے طریقے سلیقے ترتیب دئے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ ان ہتھ پھیریوں کا شکار ہو کے رہ گیا۔ شطرنج کی چالوں نے اسے ایسا الجھایا کہ وہ انہی میں پھنس کر رہ گیا اور سننے والے اس کی آواز سے دور ہوتے گئے۔ حتٰی کہ ایک دن اس کا نغمہ اپنی ہی گونج میں کھو کے رہ گیا۔ اس نے آس پاس دیکھا، سوا اس کے مربی اور ممدوح کے کوئی بھی نہ تھا جو اس کی فنی مہارت اور چابک دستی کی داد دے سکتا، کوئی بھی نہ تھا جو اس کی پروازِ خیال کے ساتھ ذرا بھی اڑان دکھا سکتا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی تعریفیں کتنی کھوکھلی، اس کے نغمہ کتنے بے روح اور اس کی آواز کتنی بے سوز ہو کے رہ گئی۔ آخر اس کی مدح سرائی کا طلسم بھی ٹوٹنے لگا اور وہ دربار سے بھاگ نکلا۔
اس نے پھر سننے والے تلاش کرنے شروع کئے۔ لوگ جمع کئے اور محفلیں جمائیں مگر اب کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ اور اس کے منبع و ماخذ سے آشنائی نہیں رکھتا تھا۔ لوگ واہ واہ کرتے تھے، سبحان اللہ کے ڈونگرے برساتے تھے مگر وہ لرزشیں اور وہ دھڑکنیں کہاں تھیں؟ آواز و سامعہ کے وہ پرانے عہد و پیماں کہاں تھے؟ چشم و گوش کی وہ آشتی کہاں تھی؟ اب تو لوگ اس کا وطن پوچھتے تھے، اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ آخر تحسینِ نا شناس نے اسے خود پسند و خود نگر بنا دیا۔ اب وہ لوگوں سے بھاگتا تھا، ان کی داد و تحسین پہ جھلّاتا تھا۔ لعل و گہر اگلنے کے بعد کچھ بلبلے بطور انعام ملیں تو ان کی کیا بساط ہے؟ اب تو ممدوح کی مربیانہ شفقت بھی اسے میسر نہیں تھی۔ وہ پرانی مصلحت کسی مقصد سے ہی سہی مگر خود اس کے لیے ایک حد تک آرام و سکون کا باعث تو بنتی تھی، روحانی کوفت کے باوجود پہلے جسمانی آسائش کے تو سارے سامان مہیا تھے۔ زمانے کی قدر نا شناسی، سننے والوں کی بے اعتنائی کو دیکھ کے اس نے بھی روپ بدلا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا تاکہ لوگ راغب ہوں۔ اس کی فریادوں میں بدلتی دنیا کا الم بھی شامل تھا اور اس کا اپنا المیہ بھی جا بہ جا نمایاں ہو رہا تھا۔
بدلتی ہوئی دنیا کا عکس اور شاعری میں شاعر کا فرار ایک بہانا تھا جو روحِ عصر اپنے اظہار کے لئے ڈھونڈ رہی تھی۔ "نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے!” وہ آسمان و زمین کے بگڑتے ہوئے رنگ روپ اپنی آواز میں سمو کے کہہ رہا تھا : دیکھو! اور سننے والے اپنی اپنی حدوں میں محبوس اس کی آواز کو سن سن ڈرے جا رہے تھے۔ شاعر نے اس باولے کا بھیس بنا رکھا تھا جو ہر گاؤں کے گردا گرد چکر کاٹتا ہے اور آنے والے حادثوں کی خبر دیتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ پگلا گاؤں سے کتنا پیار کرتا ہے اور گاؤں والوں کے دُکھ میں کس محبت سے اشک فشانی کرتا ہے۔ مگر اس کے با وجود اس پگلے کی پیغمبری ایک بڑا نا گوار اور دل دوز فریضہ ہے جس کو ادا کرنا کسی محفل پرست، دنیا دار اور مصلحت آشنا سخن ساز کے بس کی بات نہیں:
یونہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
شعر کی ماہیت پر سوچنے والے عموماً شاعر کو بھول جاتے ہیں۔ اس شاعر کو جو بھیس بدل بدل کر ہر زمانے میں اپنے جلوے اپنے ساتھ لے کر آتا رہا ہے۔ ہمارے زمانے کا شاعر کئی اعتبار سے اکیلا ہے۔ شعر پڑھنے والے ہیں تو شاعری کے بارے میں سوچنے والے اس کے ساتھ نہ چل سکتے ہیں نہ چلنا چاہتے ہیں۔ کہنے والے کی آزمائش اس سے بڑی کیا ہوگی کہ با وجود ان حد بندیوں اور فاصلوں کے اس کی فریادیں دیواریں چیر کے کانوں تک پہنچتی ہیں یا نہیں۔ اس دورِ ابتلا میں نالہ آفرینی محض ایک دیوانے کی پکار ہی نہیں، کئی دلوں کی دھڑکنیں اس کی ہم ساز و ہم نوا ہو سکتی ہیں اگر مصلحت آشنا ذہن ان دھڑکنوں کو ملفوف نہ کر دے۔ آج کا شاعر نگری نگری گھومنے والے شاعر اور درباری سخن ساز دونوں کے مختلف مزاجوں کو ملا کے ایک نئی آواز پیدا کرنا چاہتا ہے، جو اس کے اپنے گرد و پیش اور اس کے اپنے آسمان و زمین سے بھی علاقہ رکھتی ہو۔ طباعت کی مدد سے چشم و گوش تک پہنچنے والا پرانے نغمہ پیرا کی بے ساختگی کو سخن ساز کی مہارتِ فن سے اس طرح باہم پیوستہ کرنا چاہتا ہے کہ دونوں یک جان ہو جائیں ۔ اسی طرح اس کی آواز میں ایک ٹھہراؤ، گرفت اور قوت و تیزی کا اجتماع ہوگا۔ اگر وہ اس شک و شبہ میں ڈوب جائے کہ اس کی آواز کہیں خلاؤں میں کھو کے رہ جائے گی تو شاید اسے بلند کرنے کا ہی کوئی جواز نہ رہ جائے۔
نالہ آفرینی جبر و اختیار کا ایک انوکھا کرشمہ ہے۔ قاری کے دل میں جگہ پانا بھی محض اس کے بس کی بات نہیں۔ آواز قوی ہو تو دور دور پہنچ جاتی ہے، نحیف ہو تو حلق سے باہر ہی نہیں نکلنے پاتی، صرف پہنچنے کی بات نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ایک آواز ہزاروں کی آواز بھی بن سکتی ہے یا نہیں۔ محض ہزاروں کا ذکر کرنے یا ہزاروں کو مخاطب کرنے سے ان کی دھڑکنیں اور لرزشیں ساز کی ہم نوائی نہیں کر سکتیں۔
نالہ محفلیں برہم نہیں کرتا۔ نالہ آفریں پہ جو کچھ بھی گزری ہو، اس کی فریاد فن کے سانچے میں ڈھل کر نغمہ نہیں بن سکتی تو محض چیخ پکار ہے۔
(ناصر کاظمی)
لاہور
پہلا دن،
مانوس اجنبی کی دوسری آمد
میرے نثری ڈرامے بساط ۔۔ 1987 ۔۔کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض ۔۔ مرحوم ۔۔ کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف رامے صاحب نے کہا کہ’’یہ کتاب شاعری کی کتاب بھی ہے، کہانی بھی ہے، لیکن شاعری کرنے اور کہانی کہنے کا اسلوب ڈرامے کے قالب کو بنایاگیا ہے۔‘‘ ایک مذاکرے میں پروفیسر مسز شمیم خیال نے کہا کہ ’’یہ کتاب اس طرح پڑھی جائے گی جیسے آپ شاعری کی کسی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ جملے مصرعوں کی طرح سے مصنف پر وارد ہوئے ہیں ۔‘‘ تقریباَ دس برس پہلے ،میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ نثری نظم کو نظم کہنا کافی ہے۔ پڑھنے والاخود دیکھ لے گا کہ یہ وزن اور بحر سے آزاد ہے۔ اگر اس میں خیال اچھوتا اور الفاظ کی تنظیم متاثرکرنے والی ہے تو یہ اچھی بھی لگے گی اور یاد بھی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک گھِسے پٹے مضمون والا یا عیب دار شعر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ نظم کو منظم ضرور ہونا چاہیے، اس کا منظوم ہونا ضروری نہیں ۔ ’نثری غزل‘ بھی ’نثری نظم‘ ہی ہوتی ہے، اوزان اور بحور سے آزاد اگرچہ قافیہ ردیف لیے ہوئے۔ میرے دوسرے شعری مجموعے ، چمن کوئی بھی ہو ۔۔ 2008 ۔۔ میں دو نثری نظمیں بھی تھیں ۔ کوئی دو برس ہوئے ،جدید نثری نظم کے نمایاں شاعر جمیل الرحمن کو بساط اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے اس پر ایک خوبصورت نظم ’شطرنج‘ لکھی اور بساط کونئے قارئین تک پہنچانے کی باقاعدہ مہم چلائی۔ میرا بھی جی چاہا کہ اسے دوبارہ دیکھوں ، جیسے یہ کسی اور نے لکھا ہو۔مجھے احساس ہوا کہ مکالموں میں جابجا نثری نظمیں پوشیدہ ہیں ۔ اس کے بعد یہ نظمیں ابھر ابھر کر میرے سامنے آنے لگیں اور تقاضا کرنے لگیں کہ میں انہیں اپنے اگلے مجموعے میں جگہ دوں ۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح انہیں زیادہ قارئین مل سکتے تھے۔ مجھے بساط بہت عزیز ہے۔ میں اسے دائم آباد دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اسے پسند کرنے والوں کی بھی یہی خواہش ہے۔ سو میں اس کے مکالموں میں نہاں نظموں کی فرمائش کو ٹالتا رہا۔ آخر ایک دن انہوں نے ایک وفد کی صورت میں مجھے گھیر لیا اور اپنا مطالبہ دہرا یا۔
’’تم بساط ‘ میں خوش نہیں ہو کیا؟‘‘ میں نے گھبرا کے پوچھا۔
’’نہیں ، ہمارااصلی گھر تو وہی ہے۔‘‘ ان کے ایک نمائندے نے جواب دیا۔
’’پھر؟‘‘ میں نے کہا۔
’’جیسے مانوس اجنبی بیک وقت شطرنج کی کتاب اور بساط میں رہتا ہے اسی طرح ہم بھی بیک وقت بساط اورشاعری کی کتاب میں رہنا چاہتی ہیں ۔‘‘
’’اوہ۔ یہ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں ۔‘‘ میں نے سوچا۔ اورکچھ دیر بعد میرے دلائل واقعی کمزور پڑنے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچ کر انہیں ایک موقع دینے پر راضی ہو گیاکہ ڈرامہ اور شاعری ایسے پڑوسی ہیں جن کے بیچ سرحد نہیں کھینچی جا سکتی ۔’نظمیں ‘ خوش خوش ’اپنے گھر‘ چلی گئیں ۔
میں نے ان نظموں میں سے چند کا انتخاب کیا اور اپنے زیرِ ترتیب شعری مجموعے کے مسودے میں شامل کر لیا۔ یہ بات کسی طرح پوری بساط میں پھیل گئی۔ اب تو آئے دن کوئی نہ کوئی ’نظم‘ کسی مکالمے سے نکل آتی اور ’’سیر کے واسطے تھوڑی سی جگہ اور‘‘ مانگتی۔ میں کہ مساوی حقوق کا پرانا علمبردار تھا، اس کی بات مان لیتا۔ جب پچیس نظمیں ’بن‘ گئیں تو میرے اندر شطرنج کا کھلاڑی پھر سے جاگ اُٹھا۔مجھے پہلی بار تشویش کی بجائے خوشی ہوئی، یہ سوچ کر کہ اگران کی تعداد شطرنج کی بساط کے بتیس مہروں کے برابر ہو جائے تو خوب ہو۔ اب مجھے نئی نظموں کا انتظار رہنے لگا۔ لیکن گلشنِ ناآفریدہ کی نظموں کو جیسے میری خواہش کا علم ہو گیا، سو انہوں نے نخرے دکھانا شروع کر دیئے۔ اب بے تاب و بے صبر ہونے کی باری میری تھی۔ میں نے کچھ مکالموں سے کچھ نظموں کونکالنا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیااور کہا کہ وہ جہاں تھیں بس وہیں ٹھیک تھیں ۔ کمال ہو گیایہ تو۔ پھر میں نے بھی کہا کہ نہیں تو نا سہی، مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تو پچیس کے بھی حق میں نہیں تھا۔ لیجیے جناب، ادھر میں بے نیاز ہوا ادھر نظمیں پھر سے متحرک ہو گئیں ۔ کچھ عرصے بعد ایک ریلہ ٓایااور ان کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئی۔ اب مجھے باقاعدہ پریشانی لاحق ہوئی۔ میرے مسودے میں تو غزلیں اور نظمیں اتنی نہیں تھیں ۔ سارا توازن بگڑتا نظر آیا۔
’’چونسٹھ تک ٹھیک ہے ،شطرنج کی بساط کے چونسٹھ خانوں کے برابر ۔ ہر نظم کے لیے ایک گھر۔ تم جانتے ہوبساط کے خانوں کو گھر بھی کہتے ہیں ، گھوڑے کی چال ڈھائی گھر ہوتی ہے۔‘‘ شطرنج کا کھلاڑی بولے چلا جا رہا تھا۔
’’تمہیں تو شطرنج کی بات کرنے کا موقع چاہیے۔ میرا مسودہ خراب ہو رہا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کونسا مسودہ؟‘‘ اس نے معصومیت سے پوچھا۔
’’کونسا مسودہ۔ بھولے مت بنو۔ بتیس چونسٹھ کے چکر سے نکل بھی آیا کرو کبھی۔‘‘ میں نے احتجاج کیا۔
’’میرا مطلب ہے تمہارا کونسا مسود ہ خراب ہو رہا ہے۔ اگر تمہاری مراد اپنی غزلوں اور نظموں سے ہے تو اُن کا اِن نظموں سے کیا لینا دینا؟‘‘
’’کمال ہے،انہیں کے ساتھ شامل ہونے کی تو بات کی تھی ان نظموں نے۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔
’’وہ تو بہت شروع کی بات تھی۔اُس وقت انہیں نہ تو اپنی نوعیت کاپتہ تھا نہ تعداد کا۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’یعنی؟‘‘
’’یعنی یہ کہ انہیں ایک کتاب چاہیے ،وہ انہیں دے دو۔ باقی اپنی غزلوں نظموں کا جو چاہو کرو۔‘‘
’’اچھا چلو، میری غزلیں نظمیں تو محفوظ رہیں لیکن میری بساط توخالی ہو جائے گی۔ ‘‘ میں نے تشویش کا اظہار کیا۔
’’تمہیں یہ وہم کیوں ہورہا ہے کہ یہ تمہاری بساط کے مکالمے ہیں ۔یہ اُن کے ہمزاد ہیں ۔ ذرا انہیں اُن کے ساتھ رکھ کے دیکھو، فرق نظر آجائے گا۔ اور ان میں استعمال کیے گئے الفاظ کی تعداد بساط کے الفاظ کے دس بارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ ڈرامہ کچھ ایسے مکالموں ،جملوں اور الفاظ کا متقاضی ہوتا ہے جو نظم کے لیے زائد ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ الفاظ جو نظم کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں ڈرامے میں بے محل لگیں گے۔ اب یہ بات تمہیں میں سمجھاؤں گا؟ شاعر تم ہو کہ میں ؟ بساط زندگی کی بساط ہے۔ اس میں مصوروں کو اپنی تصویریں ، مجسمہ سازوں کومجسمے، موسیقاروں کو نغمے، فلسفیوں کو فلسفے اور شاعروں کو نظمیں ملیں گی۔ زندگی چلتی رہے گی، بساط بچھی رہے گی۔ڈرامہ بساط کے مکالمے اپنی جگہ جم چکے ہیں ۔ انہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ ستائیس سال ہو گئے انہیں وجود میں آئے۔ ویسے کے ویسے ہیں اب بھی۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’ ستائیس سال۔۔۔‘‘ مجھے کچھ یاد سا آنے لگا۔ میں نے کھلاڑی کو غور سے دیکھا۔’’ارے۔۔۔ تم۔۔۔ ! ؟‘‘
’’ہاں ، میں ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آخر تم کب تک مجھے نہیں پہچانتے۔‘‘ مانوس اجنبی نے قہقہہ لگایا۔
’’تم کتنا بدل گئے ہو۔‘‘
’’میں نے تمہیں بتایاتھا کہ میں نے بہت طویل عمر پائی تھی۔ کوئی میری عمر کے جس حصے کے بارے میں سوچے گا، میں اُسے ویسا ہی نظر آؤں گا جیسے میں اُس وقت تھا۔‘‘
’’تم چلے کہاں گئے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ سوال تم نے تب بھی کیا تھا اور میرا جواب تھا کہ میرا وجود زمان و مکان کی قید سے ماوراء ہے۔ کہاں جانا تھامیں نے۔میں یہیں تھا، تمہارے آس پاس۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’ کم از کم یہ تو بتا دیتے کبھی کہ تمہیں شطرنج کی کتاب سے آزاد کرانے کے بعد میں نے تمہارے لیے جو گھر ،بساط،بنایا تھا تم نے اُسے ویسا ہی پایا جیسا تم چاہتے تھے؟ تم اُس میں خوش ہو؟ آرام سے ہو؟اپنی مرضی سے آجا سکتے ہو؟ دوسرے تم سے ملنے آسکتے ہیں ؟‘‘
’’میں چاہتا تھا کہ تمہیں خود سے پتہ چلنا چاہیے۔ اِس گھر میں آنے جانے والے تمہیں بتائیں ۔ ‘‘
’’لیکن اس سے میری تسلی تو نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘
’’یہ تسلی نہ ہونے ہی میں تو لطف ہے۔‘‘
’’پھر آج یہ مہربانی کیسی؟‘‘
’’مجبوری۔ اُس وقت تمہیں اپنی کہانی کا یقین دلانا تھا، آج ان نظموں کے بارے میں تمہاری بدگمانی دور کرنا ہے۔‘‘مانوس اجنبی نے کہا۔ اُس کی باتیں آج بھی میری سمجھ میں آدھی آرہی تھیں آدھی نہیں ۔
جسٹس کارنیلیس نے کہا تھا کہ جیسے قاری کتاب کو ڈھونڈتا ہے اسی طرح کتاب بھی قاری کو ڈھونڈتی ہے۔ اِ س خیال سے کہ میں ان نظموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں میں انہیں شاعری کے قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ اگر آپ کو ان میں سے چند نظمیں بھی پسند آگئیں تو میں سمجھوں گا کہ ان کی جدوجہد رائگاں نہیں گئی۔میں نے ان کی ترتیب ویسے ہی رہنے دی تھی جس ترتیب سے ان کے ہمزاد بساط میں ہیں اور سب کو ایک مشترکہ عنوان دے دیا : چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں ۔ بعد ازاں ، جب ساجد علی نے موضوعات کی مناسبت سے ان کی ترتیب بدلی تو مجھے دل سے پسند آئی۔ شکریہ ساجد۔
باصِر سلطان کاظمی،نومبر2013ئ
ویلینٹائن ۔ کیرل این ڈفی
ایک سرخ گلاب یا ساٹن کا بنا ہوا دل نہیں ۔
میں تمہیں ایک پیاز دیتی ہوں ۔
یہ خاکی کاغذ میں لپٹا ہوا چاند ہے۔
یہ روشنی دے گا
جیسے محبت کو احتیاط سے بے لباس کیا جائے۔
یہ لو۔
یہ تمہیں آنسوئوں سے اندھا کر دے گا
ایک عاشق جیسا۔
یہ تمہارے عکس کو
غم کی لرزتی ہوئی تصویر بنا دے گا۔
میں راست گو ہونے کی کوشش کر رہی ہوں ۔
ایک خوبصورت کارڈ یا کِسوگرام
سگریٹ (نظم سے اقتباس) ۔ جون ایش
سگریٹ ایک جذبے کی طرح ہے کہ یہ اندر تک اتارا جاتا ہے
اور جسم کی تمام خالی جگہوں کو معمور کرتا محسوس ہوتا ہے،
تاآنکہ،بے شک، یہ جل کے ختم ہو جائے، اور بجھا دیا جائے
پستے کے چھلکوں میں ، یا جو بھی کچرا
قریب ہو، اور ہو سکتاہے جذبہ آثار چھوڑ جائے
جو وقت کے ساتھ بڑھ کے شدیدہو جائیں : وہ جس نے لطف اٹھایاہے
ممکن ہے کئی برس بعد مر جائے، ایک گمنام
ہوٹل یا ہسپتال کے کمرے میں ، ایک سٹینڈ،
بُری تصویر یا خالی مرتبان کی خالی نظروں کے نیچے،
اُس لمحے کو یکسر بھولتے ہوئے، جس نے اعلان کیا تھا
اُس کی موت کے آغاز کا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گبریل اوکارا
ایک دفعہ کا ذکر ہے، اے پسر،
وہ دل سے ہنستے تھے
اور اپنی آنکھوں سے ہنستے تھے:
لیکن اب وہ صرف اپنے دانتوں سے ہنستے ہیں ،
جبکہ ان کی برف سی سرد آنکھیں
میرے سائے کے پیچھے کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔
بے شک ایک وقت تھا
جب وہ دل سے ہاتھ ملاتے تھے:
مگر وہ وقت جا چکا، اے پسر،
اب وہ بے دلی سے ہاتھ ملاتے ہیں
جس اثنامیں ان کے بائیں ہاتھ تلاشی لیتے ہیں
میری خالی جیبوں کی ۔
’اپنا گھر سمجھو‘! ’پھر آنا‘:
وہ کہتے ہیں ، اور جب میں آتا ہوں
دوبارہ اور محسوس کرتا ہوں
اپنے گھر جیسا، ایک بار، دوبار،
تیسری بار نہیں آئے گی ۔۔
کیونکہ اس کے بعد میں دروازوں کو خود پر بند پاتا ہوں ۔
چنانچہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ، اے پسر،
میں نے بہت سے چہرے پہننا سیکھ لیے ہیں
ملبوسات کی طرح۔۔ گھر کا چہرہ،
دفتر کا چہرہ، گلی کا چہرہ، میزبانی کا چہرہ،
پارٹی کا چہرہ، اپنی تمام مناسبت رکھتی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ
ایک آویزاں تصویر کی مسکراہٹ کی طرح۔
اور میں نے بھی سیکھ لیا ہے
صرف اپنے دانتوں سے ہنسنا
اور بے دلی سے ہاتھ ملانا۔
میں نے ’الوداع‘ کہنا بھی سیکھ لیا ہے،
جب میرا مطلب ہوتا ہے ’جان چھوٹی‘:
یہ کہنا کہ’ آپ سے مل کے خوشی ہوئی‘،
خوش ہوئے بغیر؛ اور کہنا کہ
’آپ سے بات کرنا اچھا لگا‘، بیزار ہونے کے بعد۔
لیکن میرا یقین کر، فرزند۔
میں ہونا چاہتا ہوں جو میں کبھی تھا
جب میں تجھ ایسا تھا۔ میں چاہتا ہوں
ان تمام بے صدا کرنے والی باتوں کو بھلا دینا۔
سب سے بڑھ کے، میں دوبارہ سیکھنا چاہتا ہوں
کیسے ہنستے ہیں ، کیونکہ آئینے میں میرا قہقہہ
صرف میرے دانت دکھاتا ہے جیسے ایک سانپ کے عیاں زہری دانت!
پس مجھے دکھا، اے پسر،
کیسے ہنستے ہیں ؛ مجھے دکھا کیسے
میں ہنسا کرتا تھا اور مسکراتا تھا
کبھی جب میں تیرے جیسا تھا۔
مہاجر کا اداس نغمہ۔ ڈبلیو ایچ اوڈن
فرض کرو اِس شہر میں ایک کروڑ لوگ ہیں ،
کچھ حویلیوں میں رہتے ہیں ، کچھ جھونپڑیوں میں :
تاہم، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، پیارے، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
کبھی ہمارا ایک ملک تھا اور ہمارا خیال تھا کہ وہ اچھا ہے،
نقشے میں دیکھواور وہ تمہیں وہاں مل جائے گا:
اب ہم وہاں نہیں جا سکتے، پیارے، اب ہم وہاں نہیں جا سکتے۔
گاؤں کے قبرستان میں ایک پرانا سدا بہار درخت لگا ہوا ہے،
ہر بہار میں اس پر نئے پھول آتے ہیں :
پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے، پیارے، پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے۔
قونصل نے میز پر ہاتھ مارا اور کہا،
’’اگر تمہارے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں ہے تم سرکاری طور پر مردہ ہو‘‘:
لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ، پیارے، لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ۔
میں کمیٹی کے پاس گیا؛ انہوں نے مجھے کرسی پیش کی؛
مجھے نرمی سے کہا کہ اگلے سال واپس چلے جاؤ:
لیکن ہم آج کہاں جائیں گے، پیارے، لیکن ہم آج کہاں جائیں گے؟
میں ایک عام جلسے میں گیا؛ مقرر کھڑا ہوا اور بولا:
’’اگر ہم انہیں آنے دیں ، وہ ہماری روزی روٹی چرا لیں گے‘‘:
وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا، پیارے، وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا۔
مجھے لگا کہ میں نے آسمان میں رعد کو گرجتے سنا؛
وہ ہٹلر تھا یورپ پر، کہہ رہا تھا، ’’انہیں مرنا ہے‘‘:
اُس کے ذہن میں ہم تھے، پیارے، اُس کے ذہن میں ہم تھے۔
ایک پوڈل کتے کو جیکٹ میں دیکھاجو پِن سے بند کی گئی تھی،
ایک دروازہ کھُلتے دیکھااور ایک بلی کو اندرآنے دیتے ہوئے:
لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے، پیارے، لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے۔
میں ایک بندرگاہ پہ گیا اور پشتے پہ کھڑا ہوا،
مچھلیوں کو تیرتے دیکھا گویا کہ وہ آزاد تھیں :
صرف دس فٹ دور، پیارے، صرف دس فٹ دور۔
ایک جنگل سے گزرا، درختوں پہ پرندوں کو دیکھا؛
اُن میں کوئی سیاستدان نہیں تھا اور وہ چین سے گا رہے تھے:
وہ انسانی نسل نہیں تھے، پیارے، وہ انسانی نسل نہیں تھے۔
میں نے خواب میں ایک ہزار منزلہ عمارت دیکھی،
ایک ہزار کھڑکیاں اور ایک ہزار دروازے:
ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا، پیارے، ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا۔
میں برف باری میں ایک بڑے میدان میں کھڑا تھا؛
دس ہزار سپاہی اِدھر اُدھر مارچ کر رہے تھے:
تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے، پیارے، تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے۔
I Shall Return – Claude McKay
میں دوبارہ واپس آؤں گا۔ میں واپس آؤں گا
ہنسنے اور محبت دینے اور حیران آنکھوں سے دیکھنے
سنہری دوپہر میں جنگل کی بھٹیوں کوجلتے،
اپنا نیلا-سیاہ دھواں نیلمی آسمان کو بھیجتے۔
میں واپس آؤں گا ندیوں کے کنارے مٹرگشت کرنے
جو خمیدہ گھاس کی بھوری پتیوں کو بھگوتی ہیں ،
اور ایک بار پھر اپنے ہزاروں خوابوں کو پورا کرنے
جو میں نے پہاڑی دروں سے بہہ کر آنے والے پانیوں کے دیکھے تھے۔
میں واپس آؤں گا وائلن اور بانسری کو سننے
جن پر گاؤں میں رقص ہوتا ہے، محبوب شیریں دھنوں کو سننے
جو دیسی زندگی میں نہاں گہرائیوں کو متحرک کرتی ہیں ،
اور دھندلائی ہوئی دھنوں کے بھٹکے ہوئے نغمے سننے۔
میں واپس آؤں گا۔ میں دوبارہ واپس آؤں گا
اپنے ذہن کے سالہاسال کے دردکو مٹانے ۔
ٹونی او ۔ گمنام
ویران اور بنجر برف میں
ایک آواز پکاری؛
’تم کہاں جا رہے ہو، ٹونی او!
تم آج صبح کہاں جا رہے ہو؟‘
’میں جا رہا ہوں جہاں شراب کے دریا ہیں ،
پہاڑی روٹی اور شہدہیں ؛
وہاں سب ملوک اور ملکائیں جانوروں کی نگرانی کرتے ہیں ،
اور ساری دولت غریبوں کے پاس ہے۔‘
بات چیت ۔ ڈی ایچ لارنس
میری خواہش ہے، جب آپ لوگوں کے نزدیک بیٹھیں ،
وہ یہ ضروری نہ سمجھیں کہ بات کریں
اور لفظوں کی ہلکی اور سرد ہوا بھیجیں
جو آپ کی گردن پہ اور کانوں میں اُترے
اور آپ کے اندر خنکی پہنچائے۔
متعدد حویلیاں ۔ ڈی ایچ لارنس
جب درخت پر اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک پرندہ اپنی دُم ہلاتا ہے
وہ کہیں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے، ڈھیروں دولت پانے کے مقابلے میں
یا اپنے لیے ایسا گھونسلا بنانے کی نسبت جس میں غسل خانہ ہو۔۔
لوگ کیوں اِس طرح خوش نہیں ہو سکتے؟
فرصت ۔ ڈبلیو ایچ ڈیوس
یہ کیا زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے،
ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ؟
وقت نہ ہو کہ درختوں کے نیچے کھڑے ہوں
اور دیکھیں دیر تک بھیڑوں اور گایوں کی طرح۔
وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، جب ہم جنگل سے گزریں ،
جہاں گلہریاں گھاس میں اخروٹ چھپاتی ہیں ۔
وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، دن کی کھلی روشنی میں ،
ستاروں سے بھری ندیاں ، جیسے رات کو آسمان۔
وقت نہ ہو کہ پلٹیں حُسن کی نگاہ کی طرف،
اور اُس کے پاوئں دیکھیں ، وہ کیسے ناچ سکتے ہیں ۔
وقت نہ ہو کہ انتظار کریں جب تک اُس کے ہونٹ
اُس مسکراہٹ کو نہال کرسکیں جو اُس کی آنکھوں نے شروع کی تھی۔
یہ ایک کنگال زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے
ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ۔
’باغبان‘ سے چار نظمیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور
— 1 —
قاری، تم کون ہوجو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟
میں تمہیں بہار کی اِس دولت سے ایک بھی پھول، اُس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔
اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔
اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔
اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اُس زندہ خوشی کو محسوس کر سکوجو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پُر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔
— 2 —
میرے دل کو، جو طائر بیابان ہے، تمہاری آنکھوں میں اپنا آسمان مل گیا ہے۔
یہ صبح کا پنگوڑا ہیں ، ستاروں کی سلطنت ہیں ۔
میرے گیت ان کی گہرائیوں میں کھو گئے ہیں ۔
مجھے اِس آسمان میں تیرنے دو، اِ س کی غیر آباد وسعت میں ۔
مجھے اِس کے بادلوں میں راستہ بنانے دو، اور اِس کی دھوپ میں پر پھیلانے دو۔
— 3 —
اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟
میں ایک بھکاری بن کے نہیں آیا۔
میں تمہارے صحن کی بیرونی حد پر، باغ کی باڑھ سے باہر، کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔
اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟
میں نے تمہارے باغ سے ایک بھی گلاب نہیں لیا، ایک پھل نہیں توڑا۔
میں نے راستے میں سائبان تلے عاجزی سے پناہ لی، جہاں ہراجنبی مسافر ٹھہر سکتا ہے۔
میں نے ایک بھی گلاب نہیں توڑا۔
ہاں ، میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے، اور بارش کی بوچھاڑ گر رہی تھی۔
ہوائیں بانس کی جھونکے کھاتی شاخوں میں چیخ اٹھیں ۔
بادل آسمان پہ دوڑ رہے تھے جیسے ہار کے بھاگ رہے ہوں ۔
میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے۔
مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا یا تمہیں دروازے پر کس کا انتطار تھا۔
بجلی کے کوندے تمہاری آنکھوں کو چوندھیا رہے تھے۔
مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میں جہاں اندھیرے میں کھڑا تھا تمہیں نظر آسکتا تھا؟
مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا۔
دن ختم ہو گیا ہے اور بارش ایک لمحے کے لئے رک چکی ہے۔
میں تمہارے باغکی بیرونی حد پر، درخت کا سایا چھوڑ رہا ہوں اور گھاس کی یہ نشست ۔
اندھیرا ہو چکا ہے؛ اپنا دروازہ بند کر لو؛ میں اپنی راہ لیتا ہوں ۔
دن ختم ہو چکاہے۔
— 4 —
چراغ کیوں بجھ گیا؟
میں نے اسے ہوا سے بچانے کے لیے اپنی چادر سے ڈھک دیا تھا، اِس لیے چراغ بجھ گیا۔
پھول کیوں مرجھا گیا؟
میں نے اسے بیقرار محبت سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا، اِس لیے پھول مرجھا گیا۔
ندی کیوں سوکھ گئی؟
میں نے اپنے استعمال کے لیے اس پر ایک ڈیم بنا دیا تھا، اِس لیے ندی سوکھ گئی۔
بربط کا تار کیوں ٹوٹ گیا؟
میں نے اس سے ایسا سُر نکالنے کی کوشش کی جو اس کے اختیار سے باہر تھا، اِس لیے بربط کا تار ٹوٹ گیا۔
خوش آدمی ۔ جون ڈرائڈن
خوش ہے وہ آدمی، اورصرف وہی خوش ہے،
جو ’آج‘ کو اپنا کہہ سکتا ہے؛
وہ جو، ’ اندر سے محفوظ‘ ، کہہ سکتا ہے،
اے ’کَل‘، برے سے برا کرگزر، کیونکہ میں ’آج‘ جی چکا ہوں ۔
شب بخیر ۔ فرانسس کوارلز
اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو، اور چین سے آرام کرو؛
تمہاری روح خاصی محفوظ ہے؛ تمہارا جسم قائم؛
وہ جو تم سے محبت کرتا ہے، جس نے تمہیں رکھا ہے
اور تمہاری پاسبانی کرتا ہے، کبھی نہیں سوتا، کبھی نہیں سوتا۔۔۔۔
نظموں کے تراجم کے حوالے سے ایک ضروری نوٹ
میں نے درج ذیل نظموں میں سے بیشتر کے منظوم تراجم بھی کیے لیکن وہ قدرے مصنوعی اور بے تاثیر لگے۔ اِس کے علاوہ،وزن پورا کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ استعمال کرنا پڑ رہے تھے جو زائد تھے اور اصل متن سے بھی دور کر رہے تھے۔ بعض اوقات نثر کی موسیقی نظم کی غنائیت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ انجیل اور قرآن کے منظوم تراجم پڑھتے وقت مسلسل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انسان ہم سے مخاطب ہے جبکہ نثری تراجم کی خواندگی میں بہت سے مقامات پر غیبی آواز سنائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔
بندۂ مزدور کے اوقات
جب جب نیند آتی ہے
جاگنا پڑتا ہے۔
کھانے کی مہلت نہیں ملتی
جب لگتی ہے بھوک۔
کھاتے ہیں تو بھوک نہیں ہوتی اُس وقت،
سونے لگتے ہیں تو نیند نہیں آتی۔
دوہری شہریت
ایک وطن وہ ہوتا ہے
جس میں ہم رہتے ہیں ۔
ایک وطن وہ ہوتا ہے
جو ہم میں رہتا ہے،
جب تک ہم رہتے ہیں ۔
دشت نوردی
رستے ’’ہیں سب دیکھے بھالے‘‘
پڑ گئے چل چل پاؤں میں چھالے
ایسی بھول بھلیاں ہیں یہ
جیسے ہوں مکڑی کے جالے
راہِ راست
نہیں لازم کہ بیابان میں وحشت کیجے
یا کسی کوہ کے دامن میں مشقت کیجے
آج اک حور شمائل نے کہا عاشق سے
مجھ کو پانا ہے تو گھر جا کے عبادت کیجے
ایک تدفین کے بعد
کل جس شخص سے بات ہوئی تھی
آج وہ اِس دنیا میں نہیں ۔
ہم بھی اک دن اِسی طرح۔
واپسی
چڑھائی کرتی چلی جا رہی ہے فوجِ عدو
نپولین کی طرح۔
وہ بے خبر ہے کہ بدلے گا جیسے ہی موسم
پڑے گی برف
چلے گی ہوا زمستانی،
نہیں ملے گا اُسے واپسی کا رستہ بھی۔
ایک تو ہی تو رہ گیا تھا ساتھ
تو بھی ہو جائے گا جدا، اچھا
گر اِسے کہہ سکیں ہم اک نقصان
تو نے اک دوست کھو دیا اچھا
’شاہی محل ‘کے ایک ملازم کی نجی گفتگو
اگرچہ شکوہ مناسب نہیں زباں کے لیے
تڑپ رہا ہے مرا نطق اِس بیاں کے لیے
جہاں سب اپنے ہوں موجود گر وہاں نہ کہوں
سنبھال رکھوں میں یہ بات پھر کہاں کے لیے
ملا ہمیں کہ رعایا بھی چاہیے تھی کچھ
’’بنا ہے ’ملک ‘تجمل حسین خاں کے لیے‘‘
وادی الملوک کے ایک کارکن کی عرض داشت
مالک اگرچہ تُو ہے
رازق بھی تُو مِرا ہے
لیکن تِرا یہ بندہ
اکثر یہ سوچتا ہے
یہ کیا کہ رزق میرا
فرعون سے جڑا ہے
یا مقبرے بنا کے
یا مقبرے دکھا کے
(۔ مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل))
تنبیہہ
خیر کی ان سے نہ رکھنا امید
ہیں یہ ابلیس کے دیرینہ مرید
ایک مخلص کی ہے تجھ کو تاکید
دیکھ غفلت نہ ہو اب تجھ سے مزید
اب تو حربے انہیں حاصل ہیں جدید
کچھ بھی کر سکتی ہیں افواجِ یزید
ریفرنڈم
سردار کی نیت کو ٹٹولا نہیں کرتے
بس ہاتھ اٹھا دیتے ہیں بولا نہیں کرتے
’’جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘
اتحاد
لُوٹنا ہو گا غریبوں کو جبھی ایک ہوئے
ورنہ یہ رہزن و قزاق کبھی ایک ہوئے؟
کامیابی نے تو ڈالی ہے ہمیشہ تفریق
جب کبھی مار پڑی اِن کو تبھی ایک ہوئے
مساوات
خونی و خائن و راشی و شقی ایک ہوئے
اُس کے دربار میں پہنچے تو سبھی نیک ہوئے
خاص لوگوں کے لیے اگلی صفیں ہیں یارب
تیری سرکار میں بھی لوگ کہاں ایک ہوئے
ایک ڈیم فول کو نصیحت
اک پیرِ خرد مندہوا مجھ سے مخاطب:
خوش ہو کہ طبیعت بڑی حساس ہے تیری
سب درد زمانے کے ترے درد بنے ہیں
قسمت سے ملی ہے تجھے یہ نعمتِ گریہ
ہر درد مگر لائقِ گریہ نہیں ہوتا
کر سکتے ہیں روشن بھی ترے کُلبے کو یہ اشک
اور غرق بھی ہو سکتا ہے سب کچھ ترا اِن میں
2010
انکم ٹیکس
انہوں نے پوچھا کہ جو کمایا کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
کہا بتائیں گے کیسے آیا مگر نہ پوچھو جدھر گیا وہ
کمائی محنت کی راس آئی کبھی غریبی نہ پاس آئی
بغیر محنت کے جو بھی پایا جدھر سے آیا اُدھر گیا وہ
بہت سمجھتا تھا خود کو شاطِر تمہارا نادان دوست باصِرؔ
ذرا سے اک فائدے کی خاطر بڑا سا نقصان کر گیا وہ
این۔ آر۔ او
ایسا ہی نام تھا کچھ
ہم نے کبھی پڑھا تھا
ہاں یاد آ گیا اب
اور کیسا یاد آیا
وہ بادشاہِ روما
نیرو تھا نام جس کا
تم بھی تو جانتے ہو
نیروجو کر رہا تھا
جب روم جل رہا تھا
دیکھو تو کیسے کیسے قانون ہیں ہمارے
جن کے بنانے والے قارون ہیں ہمارے
(این۔ آر۔ او(National Reconciliation Ordinance): اِس حکم نامے کے تحت حکومتِ پاکستان نے ’ملک اور قوم کے اعلی مفاد‘ میں متعدد خاص لوگوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات واپس لے لیے۔یہ مقدمات مختلف سنگین نوعیت کے الزامات،بالخصوص مالی بدعنوانیوں کے الزامات ،کے تحت قائم کیے گئے تھے۔)
اہلِ سیاست
ڈھونڈتے ہیں خلوص ہم کِن میں
ہے غرض اپنی ہی بھری جِن میں
آ گیا کھُل کے سامنے آخر
تھا جو پوشیدہ ان کے باطِن میں
کچھ تو تھے غیر کچھ ہمارے نہیں
فرق اتنا ہے اُن میں اور اِن میں
حفظِ ماتقدم
کہا اک بھیڑ نے کچھ میمنوں سے
مرے پیارو، ہمیشہ ساتھ ریوڑ کے رہو۔
تمہارے دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی ہو
جو ڈھال کی صورت محافظ ہو۔
چراگاہوں سے باہر
جگمگاتے راستے تم کو بلائیں گے،
چمکتی لہلہاتی خستہ ہریالی لُبھائے گی،
تمہارے دل کو کھینچے گی۔
تم اپنے پاؤں اپنے ہاتھ میں رکھنا۔
نہ ہونے کو نہ ہو کچھ بھی
مگر ہونے کو ہو سکتا ہے کچھ بھی۔
سنو، ایسے کسی انجان رستے پر،
کسی بے دھیان لمحے میں ،
اچانک بھیڑئے کر دیں اگرحملہ،
دلِ دہشت زدہ میں ایک دہلاتی ہوئی خواہش
بصد حسرت امڈتی ہے،
رگوں میں سنسناتی ہے،
یہ کہتی ہے کہ ہائے!
کاش اُن کتوں کی سُن لیتے
جو دن بھر بھونکتے تھے۔
نجات
یہ صاف دکھائی دے رہا تھا
باندھا تھا کبھی جو عہد، اُس سے
دونوں ہی رہائی چاہتے تھے
بے وجہ لڑائی چاہتے تھے۔
اُس کو بھی بہانہ چاہیے تھا
موقعے کی تلاش میں تھے ہم بھی
دونوں ہی جدائی چاہتے تھے۔
ایک دوست کی حق تلفی پر
گویا کہ جدا سب سے ترا ساز ہے پیارے
اعزاز نہ ملنا بھی تو اعزاز ہے پیارے
ہوتی ہے تری بات نمایاں سرِ محفل
ہر چند کہ دھیمی تری آواز ہے پیارے
ہم جانتے ہیں تیرے ارادوں کو بخوبی
پہچانتے ہیں جو ترا انداز ہے پیارے
تو دوست ہے چپکے سے بتا دیتے ہیں تجھ کو
جو حرف زمانے کے لیے راز ہے پیارے
ہوتے نظر آتے ہیں جہاں راستے مسدود
تیرے لیے اک باب نیا باز ہے پیارے
کچھ آج ہی اونچا نہیں سر فخر سے اپنا
تجھ پر تو ہمیشہ سے ہمیں ناز ہے پیارے
ایک مکالمہ
شاعر: ان کی تنقید سدِ راہِ شوق
ان کی تعریف ایک زریں طوق
بیشتر میرے عہد کے نقاد
بددیانت، بخیل یا بدذوق
نقاد: طبعِ موزوں تو اک عنایت ہے
یہ بتا تیری کیا ریاضت ہے
صِرف تعریف چاہتا ہے تُو
تیرا مقصد حصولِ شہرت ہے
2011
شجر ہونے تک
صبر کرنے کی جو تلقین کیا کرتے تھے
اب یہ لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہا کرتے تھے
رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک
بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک
1-3فروری 2009
ہوائے طرب ۔ متفرق اشعار
دیکھتے رہنے پر ہوئے مامور
ہم کبھی اس قدر نہ تھے مجبور
اپنی شہرت بڑھانے کی خاطر
اُس نے ہم کو بھی کر دیا مشہور
دسمبر 2009
ہم دوا سے ٹھیک ہوں گے تیرے دیکھے سے نہیں
کام کرنے سے ہوا کرتے ہیں چاہے سے نہیں
دوستی میں دیکھتے ہیں وہ بس اپنا فائدہ
پھول پھل سے اُن کو دلچسپی ہے پودے سے نہیں
16 دسمبر2010
آج بھی ہم ہی سُرخرو ہوں گے
تیری تلوار ہے ہمارا سر
تجھ سے کرنی ہے اک ضروری بات
عام سی بات ہے، خدا سے ڈر
جنوری2011
جو کان میں رہ گیا سو پتھر
جو ہاتھ میں آگیا وہ ہیرا
26جولائی2011
ہے دوستی کی طرح دشمنی کا اپنا لطف
حریف بن کے ملے ہو تو یار یوں بھی سہی
29جولائی2011
جن مناظر نے خوش کیا تھا کبھی
خواب میں آکے تنگ کرتے ہیں
9اگست 2011
اگر آنسو رُکے تو ابر برسا
یہ بارش میرے پیچھے پڑ گئی ہے
22اگست 2011
آسائشِ دنیا کا سامان کچھ ایسا ہے
چھوڑا بھی نہیں جاتا ڈھویا بھی نہیں جاتا
مانندِ سراب آگے اک شے ہے عجب جس کو
پانا تو ہے ناممکن کھویا بھی نہیں جاتا
17جنوری2012
بِنا علاج بھی جیتے تھے اچھے خاصے ہم
مرض تو کچھ بھی نہ تھا مر گئے دوا سے ہم
6مئی 2012
فائدہ یہ ہے بچھڑنے کا کہ دل میں وہ مرے
ہے حسیں اتنا ہی جتنا کہ بچھڑتے ہوئے تھا
12مئی 2012
دھوپ ہنستی تھی ابھی آنگن میں
آگئے رونے رُلانے والے
31جولائی2012
پھول ہر ڈھنگ کا بہار میں تھا
برگ ہر رنگ کا خزاں میں ہے
12نومبر2012
یہ الگ بات کہ اصنام بھی لے آئے ساتھ
’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘‘
15فروری2013
یہ بے حسی نہیں اے دوست ضبطِ گریہ نے
ہماری آنکھوں میں اک رہگزار اتار دیا
سفر کیا ہے اک ایسی سواری پر جس نے
سوار ہونے دیا پر اتار اتار دیا
27فروری2013
رات دن ساغرِ جم دیکھتے ہیں
کس نے دیکھا ہے جو ہم دیکھتے ہیں
کیوں ہے چہرہ ترا اُترا اُترا
آنکھ بھی تھوڑی سی نم دیکھتے ہیں
27جون2013
دوست وہ جو دوستوں کے ہوں فقط سب کے نہیں
وہ جو خوش کرتے ہوں سب کو میرے مطلب کے نہیں
31دسمبر2013
باصِرؔ خلوصِ دل سے کیا تو ہے ایک عہد
اب یہ دعا کرو کہ نبھانا نصیب ہو
دوستوں کی مہربانی پوچھ لیتے ہیں ہمیں
ورنہ اِس شہرِ غرض میں کون کس کا آشنا
لڑتے کسی اور بات پر ہیں
غصہ کسی اور بات کا ہے
باصِرؔ دعائیں مانگیں تھیں عمرِ دراز کی
افسوس مت کرو کہ جوانی گزر گئی
مختلف ہیں اگرچہ ان کے نام
ملتے جلتے سے ہیں یہ سارے مقام
اُکھڑے اُکھڑے سے ہیں وہ کچھ دن سے
پھر کوئی بات ہو گئی ہو گی
اب انہیں فون کل کریں گے ہم
اب وہاں رات ہو گئی ہو گی