زمرہ جات کے محفوظات: اصناف
موتی تری گفتار کے چنتا ہی رہوں
کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار
تر آنکھ کروں معدِن گوہر کھل جائے
گر مدحتِ شبیر کا دفتر کھل جائے
لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے
تزئینِ کائنات برنگِ دِگر ہے آج
تزئینِ کائنات برنگِ دِگر ہے آج
جشنِ ولادتِ شہِ جن و بشر ہے آج
صدیوں سے فرشِ راہ تھے جس کے لیے نجوم
آغوشِ آمنہ میں وہ رشکِ قمر ہے آج
صبح ازل کو جس نے دیا حسنِ لازوال
وہ موجِ نور زینتِ دیوار و در ہے آج
کس کے قدم سے چمکی ہے بطحا کی سر زمیں
ظلمت کدوں میں شورِ نویدِ سحر ہے آج
اے چشمِ شوق شوکتِ نظارہ دیکھنا
ماہِ فلک چراغِ سرِ رہ گزر ہے آج
شوقِ نظارہ نے وہ تراشا ہے آئنہ
جس آئنے میں جلوہِ آئینہ گر ہے آج
جچتی نہیں نگاہ میں دُنیا کی رونقیں
کیا پوچھتے ہو دھیان ہمارا کدھر ہے آج
ناصر درِ حضورؐ سے جو چاہو مانگ لو
وا خاص و عام کے لیے بابِ اثر ہے آج
(۱۹ مئی ۱۹۷۰)
دل کی دُنیا میں ہے روشنی آپؐ سے
دل کی دُنیا میں ہے روشنی آپؐ سے
ہم نے پائی نئی زندگی آپؐ سے
کیوں نہ نازاں ہوں اپنے مقدر پہ ہم
ہم کو ایماں کی دولت ملی آپؐ سے
کل بھی معمور تھا آپ کے نور سے
ہے منوّر جہاں آج بھی آپؐ سے
دُشمنوں پر بھی در رحمتوں کا کھلا
راہ و رسمِ محبت چلی آپؐ سے
دل کا غنچہ چٹکتا ہے صلِ علیٰ
اپنے گلشن میں ہے تازگی آپؐ سے
سب جہانوں کی رحمت کہا آپؐ کو
کتنا خوش ہے خدا ، یانبی آپؐ سے
ختم ہے آپ پر شانِ پیغمبری
یہ روایت مکمل ہوئی آپؐ سے
(۱۱ فروری ۱۹۷۱)
شجر حجر تمھیں جھک کر سلام کرتے ہیں
شجر حجر تمھیں جھک کر سلام کرتے ہیں
یہ بے زبان تمھیں سے کلام کرتے ہیں
زمیں کو عرشِ معلی ہے تیرا گنبدِ سبز
تری گلی میں فرشتے قیام کرتے ہیں
مسافروں کو ترا دَر ہے منزلِ آخر
یہیں سب اپنی مسافت تمام کرتے ہیں
جنھیں جہاں میں کہیں بھی اماں نہیں ملتی
وہ قافلے یہاں آ کر قیام کرتے ہیں
نظر میں پھرتے ہیں تیرے دیار کے منظر
اسی نواح میں ہم صبح و شام کرتے ہیں
سکونِ دل کی انہی سے اُمید ہے ناصر
جو اپنا فیض غریبوں پہ عام کرتے ہیں
(۲۵ فروری ۱۹۷۵ ۔ لاہور ٹی وی)
پیامِ حق کا تمھیں منتہی سمجھتے ہیں
پیامِ حق کا تمھیں منتہی سمجھتے ہیں
تمھاری یاد کو ہم زندگی سمجھتے ہیں
تمھارے نور سے معمور ہیں وجود و عدم
اسی چراغ کو ہم روشنی سمجھتے ہیں
قدم پڑا ہے جہاں آپ کے غلاموں کا
ہم اُس زمین کو تختِ شہی سمجھتے ہیں
یہ آپ ہی کا کرم ہے کہ آج خاک نشیں
مقامِ بندگی و قیصری سمجھتے ہیں
سمجھ سکیں گے وہ کیا رُتبہِ نبیِؐ کریم
جو آدمی کو فقط آدمی سمجھتے ہیں
اے ختمِ رُسلؐ اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
اے ختمِ رُسلؐ اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
تو جانِ سخن موضوعِ سخن اے پاک نبی رحمت والے
اے عقدہ کشائے کون و مکاں ترے وصف نہیں محتاجِ بیاں
عاجز ہے زباں ، قاصر ہے دہن اے پاک نبی رحمت والے
اے بدر و حنین کے راہ نما ، اے فاتحِ خیبر کے مولا
ترا ایک اشارہ کفر شکن اے پاک نبی رحمت والے
تری یاد ہماری شمعِ یقیں ، ترا نام ہمارا نقشِ نگیں
ترے نور سے ہے ملت کا چمن اے پاک نبی رحمت والے
میں کچھ بھی نہیں مجھے کیا ہے غم جب تیرا کرم ہے شاہِ کرم
شاداب ہے میرے تن کا بن اے پاک نبی رحمت والے
تضمین براشعارِ غالب
یہ کون طائرِ سد رہ سے ہم کلام آیا
یہ کون طائرِ سد رہ سے ہم کلام آیا
جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
’’زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے‘‘
خطِ جبیں ترا اُمّ الکتاب کی تفسیر
کہاں سے لاؤں ترا مثل اور تیری نظیر
دکھاؤں پیکرِ الفاظ میں تری تصویر
’’مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے‘‘
کہاں وہ پیکرِ نوری ، کہاں قبائے غزل
کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
کہاں وہ جلوئہ معنی ، کہاں ردائے غزل
’’بقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘‘
تھکی ہے فکرِ رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
’’ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے‘‘
ساتواں رنگ
بال کالے ، سفید برف سے گال
چاند سا جسم ، کوٹ بادل کا
لہریا آستین ، سرخ بٹن
کچھ بھلا سا تھا رنگ آنچل کا
اب کے آئے تو یہ ارادہ ہے
دونوں آنکھوں سے اس کو دیکھوں گا
گجر پھولوں کے
اک کرن چشم و چراغِ دلِ شب
کیوں اسے خونِ رگِ دل نہ کہوں
رقص کرتی ہے کبھی شیشوں پر
کبھی روزن سے اُتر آتی ہے
کبھی اِک جامہِ آویزاں کی
نرم سلوٹ کے خنک گوشوں میں
گیت بنتی ہے گجر پھولوں کے
بارش کی دُعا
اے داتا بادل برسا دے
فصلوں کے پرچم لہرا دے
دیس کی دولت دیس کے پیارے
سوکھ رہے ہیں کھیت ہمارے
ان کھیتوں کی پیاس بجھا دے
اے داتا بادل برسا دے
یوں برسیں رحمت کی گھٹائیں
داغ پرانے سب دُھل جائیں
اب کے برس وہ رنگ جما دے
اے داتا بارش برسا دے
کھیتوں کو دانوں سے بھر دے
مردہ زمیں کو زندہ کر دے
تو سنتا ہے سب کی دعائیں
داتا ہم کیوں خالی جائیں
ہم کو بھی محنت کا صلہ دے
اے داتا بادل برسا دے
(دو فروری ۱۹۶۷)
نیا سفر
اندھیروں کی نگری سے پھوٹی کرن
مہکنے لگا خاک دانِ کہن
اُٹھا محملِ وقت کا سارباں
نئی منزلوں کو چلے کارواں
سریلی ہواؤں نے چھیڑا وہ راگ
لگی اوس سے خیمہِ گل میں آگ
صبا گل کی نس نس میں بسنے لگی
اُجالوں کی برکھا برسنے لگی
نئے پھول نکلے نئے روپ میں
زمیں جھم جھمانے لگی دھوپ میں
ترنجِ فلک کی ضیا پھیل کر
زرِ گل بچھانے لگی خاک پر
فضا جگمگائی گلِ سنگ سے
ہوا پھر گئی گردشِ رنگ سے
پہاڑوں سے لاوا نکلنے لگا
جگر پتھروں کا پگھلنے لگا
چمن در چمن وہ رمق اب کہاں
وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں
کراں تا کراں ظلمتیں چھا گئیں
وہ جلوے طبق در طبق اب کہاں
بجھی آتشِ گل اندھیرا ہوا
وہ اُجلے سنہرے ورق اب کہاں
سریلی ہواؤں میں رَس گھول کر
طیور اُڑ گئے بولیاں بول کر
زمیں بٹ گئی ، آسماں بٹ گیا
چمن بٹ گیا ، آشیاں بٹ گیا
نکلنے لگا آبشاروں سے دُود
ہوا قلزمِ ماہ جل کر کبود
پہاڑوں میں میداں میں جنگل میں آگ
سمندر میں خشکی میں جل تھل میں آگ
گرجنے لگیں آگ کی بدلیاں
جھلسنے لگیں پیاس سے کھیتیاں
وہ آندھی چلی دَورِ آلام کی
کہ رُکنے لگی نبض ایام کی
اُٹھے یوں نجیبانِ انجم سپاہ
گرا ہار کر تاش کا بادشاہ
رہِ جستجو مختصر ہو گئی
ہمالہ کی چوٹی بھی سر ہو گئی
پرانی بہاریں قفس میں گئیں
وہ انساں گئے اور وہ رسمیں گئیں
نئی گردشوں میں گھرا آسماں
زمینِ کہن پر گرا آسماں
’’ہوا ایک جنگل میں آ کر گزر
کسو کو نہیں یاں کسو کی خبر‘‘
ہوا نوحہ گر دشتِ شب کا نقیب
صدا اس کی پرہول ، صورت عجیب
یہ وحشی جہاں محوِ فریاد ہو
وہاں کوئی بستی نہ آباد ہو
جہاں گھر بنائے یہ خانہ خراب
وہاں کے مکینوں کو آئے نہ خواب
سرِ شام بستی میں رونے لگے
مگر دن نکلتے ہی سونے لگے
پرانی حویلی کی دیوار پر
کرے ہاؤ ہو ہاؤ ہو رات بھر
پھڑکتا رہا اور روتا رہا
بھرے شہر کی نیند کھوتا رہا
کسی منچلے نے جو دیکھا اُدھر
اُڑایا اُسے کنکری مار کر
اُٹھی اک صدا بام کے متصل
جسے سن کے پھٹ جائے پتھر کا دِل
لیے چونچ میں کنکری اُڑ گیا
گھنے جنگلوں کی طرف مڑ گیا
بلندی سے آخر گرایا اُسے
کسی آبجو میں بہایا اُسے
نہ پھر شہر کی سمت آیا کبھی
وہ نوحہ نہ اُس نے سنایا کبھی
اِدھر فکر سے جان گھلنے لگی
خیالوں کی کھڑکی سی کھلنے لگی
نظر آیا ملکِ سخن کنکری
غزل کنکری اور بھجن کنکری
گھلی کنکری اور پانی ہوئی
پئے گوشِ عبرت کہانی ہوئی
پلٹ کر جو دیکھا سماں اور تھا
کہ پردے میں فتنہ نہاں اور تھا
نیا شور لے کر جمودی اُٹھے
سخن ور گئے اور نمودی اُٹھے
چٹخنے لگے یوں زباں پر سخن
جلے جیسے سوکھے درختوں کا بن
’’نہ بلبل غزل خواں نہ طیروں کا شور
سبھی دیکھتے میر کے منہ کی اَور‘‘
نہاں رازِ مطلوب و طالب رہا
ہر آواز پر میر غالب رہا
بجھے یوں اجالوں میں تیرہ ضمیر
پریشاں ہو جیسے دُھوئیں کی لکیر
نہ چشمِ بصیرت نہ ذوقِ ہنر
ہوئیں ساری اقدار زیر و زبر
رہ و رسمِ اجداد سے کٹ گئے
ہم اپنی روایات سے کٹ گئے
یہاں میر و غالب کا فن کیا کرے
سخن ساز عرضِ سخن کیا کرے
اُجڑتا رہا بوستانِ ادب
مگر پھول کھلتے رہے زیرِ لب
تصوّر کی تیغِ دو دَم چوم کر
چھپے کنج میں ہم ، قلم چوم کر
مجھے شورِ چرخ و زمیں لے گیا
تصوّر کہیں سے کہیں لے گیا
بدلنے لگی آسمانوں کی لے
نیا چاند اُترا سرِ برگِ نے
زمیں اجنبی آسماں اجنبی
سفر اجنبی کارواں اجنبی
خنک نیلے نیلے بحیرے کہیں
بحیروں کے اندر جزیرے کہیں
خنک پانیوں پر سفینے رواں
سفینوں پہ اُڑتے ہوئے بادباں
شرابور رستے ، معطر فضا
شجر خوب صورت ، ثمر خوش نما
سنیلے مکاں اور سجیلے مکیں
مکیں جن کی چھب دل رُبا دل نشیں
کہیں بدلیاں گیت گاتی ہوئیں
کہیں بارشیں گنگناتی ہوئیں
کسی مدھ بھری صبح کی آس میں
شتر مرغ دبکے ہوئے گھاس میں
کہیں پیچ در پیچ بیلوں کے جال
کہیں گھاٹیوں میں رمیدہ غزال
فضا در فضا پھول سی تتلیاں
پروں پر اُٹھائے ہوئے گلستاں
کہیں منزلوں کے دھواں دھار گھیر
کہیں سونے سنسان رستوں کے پھیر
کہیں گردِ مہتاب اُڑتی ہوئی
نشیبوں میں بل کھا کے اُڑتی ہوئی
ہوا تازہ رس پھول چنتی ہوئی
زمیں اَن سنے راگ بنتی ہوئی
ستارے گئے ظلمتوں کو لیے
چٹخنے لگے شاخچوں پر دِیے
کھلا جنت صبح کا در کھلا
بہ آوازِ اللہ اکبر کھلا
مہکنے لگیں دھان کی کھیتیاں
کہ ابرِ بہاری برس کر کھلا
چلے مدتوں کے رُکے راہ رو
کوئی پا برہنہ ، کوئی سر کھلا
جنھیں پانیوں میں اُترنا پڑے
وہ ہاتھوں میں رکھتے ہیں خنجر کھلا
لرزنے لگی تنگنائے سخن
کہ شاہینِ معنی کا شہپر کھلا
نئی رُت نے چھیڑا نیا ارغنوں
فضا میں جھلکتا ہے لمحوں کا خوں
ہوئے نغمہ زن طائرانِ چمن
کہ عرصے میں اُترے ہیں اہلِ سخن
وہ درویشِ گلگوں قبا آ گئے
وہ رندانِ خونیں نوا آگئے
نئے دن کا سورج دَمکنے لگا
زمیں کا ستارہ چمکنے لگا
(جولائی ۔ ۵۴)
شہر غریب
رات سنسان آدمی نہ دیا
کس سے پوچھوں تری گلی کا پتا
شہر میں بے شمار رَستے ہیں
کیا خبر تو کدھر گیا ہو گا
آج کس رُو سیاہ آندھی نے
سبز تاروں کا کھیت لوٹ لیا
تھم گئے ریت کے رواں چشمے
سو گیا گیت ساربانوں کا
آ رہی ہے یہ کس کے پاؤں کی چاپ
پھیلتا جا رہا ہے سناٹا
یہ مرے ساتھ چل رہا ہے کون
کس نے مجھ کو ابھی پکارا تھا
سامنے گھورتی ہیں دو آنکھیں
اور پیچھے لگی ہے کوئی بلا
ڈُوبی جاتی ہیں وقت کی نبضیں
آ رہی ہے کوئی عجیب ندا
اک طرف بے اماں اجاڑ مکاں
اک طرف سلسلہ مزاروں کا
سرنگوں چھتریاں کھجوروں کی
بال کھولے کھڑی ہو جیسے قضا
یہ دِیا سا ہے کیا اندھیرے میں
ہو نہ ہو یہ مکان ہے تیرا
دل تو کہتا ہے در پہ دستک دوں
سوچتا ہوں کہ تو کہے گا کیا
جانے کیوں میں نے ہاتھ روک لیے
یہ مجھے کس خیال نے گھیرا
کسی بے نام وہم کی دیمک
چاٹنے آ گئی لہو میرا
دشتِ شب میں اُبھر کے ڈوب گئی
کسی ناگن کی ہولناک صدا
تیرے دیوار و در کے سایوں پر
مجھ کو ہوتا ہے سانپ کا دھوکا
بوٹا بوٹا ہے سانپ کی تصویر
پتا پتا ہے سانپ کا ٹیکا
آسماں جیسے سانپ کی کنڈلی
تارا تارا ہے سانپ کا منکا
آ رہی ہے لکیر سانپوں کی
ہر گلی پر ہے سانپ کا پہرا
سانپ ہی سانپ ہیں جدھر دیکھو
شہر تیرا تو گڑھ ہے سانپوں کا
تیرے گھر کی طرف سے میری طرف
بڑھتا آتا ہے ایک سایا سا
دھوپ سا رنگ برق سی رفتار
جسم شاخِ نبات سا پتلا
پھول سا پھن چراغ سی آنکھیں
یہ تو راجا ہے کوئی سانپوں کا
ہاں مری آستیں کا سانپ ہے یہ
کیوں نہ ہو مجھ کو جان سے پیارا
ایک ہی پل میں یوں ہوا غائب
جیسے پانی سے عکس بجلی کا
کٹ گئی پھر مرے خیال کی رَو
شیشہِ خواب کار ٹوٹ گیا
ناگہاں سیٹیاں سی بجنے لگیں
رات کا شہر پل میں جاگ اُٹھا
آنکھیں کھلنے لگیں دریچوں کی
سانس لینے لگی خموش فضا
میں تو چپ چاپ چل رہا تھا مگر
شہر والوں نے جانے کیا سمجھا
تیری بستی میں اتنی رات گئے
کون ہوتا بھلا یہ میرے سوا
ارے یہ میں ہوں تیرا شہر غریب
تو گلی میں تو آ کے دیکھ ذرا
سوچتا ہوں کھڑا اندھیرے میں
تو نے دروازہ کیوں نہیں کھولا
میرا ساتھی مرا شریکِ سفر
رہ گیا پچھلی رات کا تارا
کہاں لے آئی تو مجھے تقدیر
میں کہاں آ گیا ہوں میرے خدا
یہاں پھلتا نہیں کوئی آنسو
یہاں جلتا نہیں کسی کا دیا
تیرا کیا کام تھا یہاں ناصر
تو بھلا اس نگر میں کیوں آیا
(۱۹۵۴)
مطلعِ ثانی
دل کھینچتی ہے منزلِ آبائے رفتنی
جو اس پہ مرمٹے وہی قسمت کے تھے دھنی
وہ شیر سو رہے ہیں وہاں کاظمین کے
ہیبت سے جن کی گرد ہوئے کوہِ آہنی
شاہانِ فقر وہ مرے اجدادِ باکمال
کرتی ہے جن کی خاک بھی محتاج کو غنی
سر خم کیا نہ افسر و لشکر کے سامنے
کس مرتبہ بلند تھی اُن کی فروتنی
کرتی تھی ان کے سایہِ محمود میں قیام
قسمت مآبی ، خوش نسبی ، پاک دامنی
شب بھر مراقبے میں نہ لگتی تھی اُن کی آنکھ
دن کو تلاشِ رزق میں کرتے تھے جاں کنی
تھی گفتگو میں نرم خرامی نسیم کی
ہر چند وہ دلیر تھے تلوار کے دھنی
جاتے ہیں اب بھی اس کی زیارت کو قافلے
اُس در کے زائروں کو نہیں خوفِ رہزنی
اُس آستاں کی خاک اگر ضوفشاں نہ ہو
برجوں سے آسمان کے اُڑ جائے روشنی
انبالہ ایک شہر تھا ، سنتے ہیں اب بھی ہے
میں ہوں اُسی لٹے ہوئے قریے کی روشنی
اے ساکنانِ خطہِ لاہور! دیکھنا
لایا ہوں اُس خرابے سے میں لعلِ معدنی
جلتا ہوں داغِ بے وطنی سے مگر کبھی
روشن کرے گی نام مرا سوختہ تنی
خوش رہنے کے ہزار بہانے ہیں دہر میں
میرے خمیر میں ہے مگر غم کی چاشنی
یارب! زمانہ ممتحنِ اہلِ صبر ہے
دے اس دنی کو اور بھی توفیقِ دُشمنی
ناصر یہ شعر کیوں نہ ہوں موتی سے آبدار
اس فن میں کی ہے میں نے بہت دیر جانکنی
ہر لفظ ایک شخص ہے ، ہر مصرع آدمی
دیکھو مری غزل میں مرے دل کی روشنی
مطلعِ اوّل
ہر کوچہ اِک طلسم تھا ہر شکل موہنی
قصہ ہے اس کے شہر کا یارو شنیدنی
تھا اِک عجیب شہر درختوں کی اوٹ میں
اب تک ہے یاد اس کی جگا جوت روشنی
سچ مچ کا اِک مکان پرستاں کہیں جسے
رہتی تھی اس میں ایک پری زاد پدمنی
اُونچی کھلی فصیلیں ، فصیلوں پہ برجیاں
دیواریں سنگِ سرخ کی ، دروازے چندنی
جھل جھل جھلک رہے تھے پسِ چادرِ غبار
خیمے شفق سے لال ، چتر تخت کندنی
فوّارے چھوٹتے ہوئے مر مر کے صحن میں
پھیلی تھی جس کے گرد گلِ بانس کی بنی
ہر بوستاں کے پھول تھے اس عیش گاہ میں
ہر دیس کے پرندوں نے چھائی تھی چھاؤنی
جھرمٹ کبوتروں کے اُترتے تھے رنگ رنگ
نیلے ، اُجال ، جوگیے ، گلدار ، کاسنی
پٹ بیجنا سی انکھڑیاں گلِ چاندنی سے تاج
چونچوں میں خس کی تیلیاں پنجوں میں پینجنی
سارنگیاں سی بجتی تھیں جب کھولتے تھے پر
یکبار گونج اُٹھتی تھی سنسان کنگنی
اِستادہ اصطبل میں سبک سیر گھوڑیاں
ٹاپوں میں جن کی گرد ہو گردونِ گردنی
رہتی تھی اس نواح میں ایسی بھی ایک خلق
پوشاک جس کی دُھوپ تھی، خوراک چاندنی
کل رات اس پری کی عروسی کا جشن تھا
دیکھی تھی میں نے دُور سے بس اس کی روشنی
ہر ملک ہر دیار کے خوش وضع میہماں
بیٹھے تھے زیبِ تن کیے ملبوس درشنی
جلنے لگیں درختوں میں خوشبو کی بتیاں
پھر چھیڑ دی ہوائے نیستاں نے سمفنی
ہاتھوں میں رنگترے لیے سر پر صراحیاں
کچی نکور باندیاں نکلیں بنی ٹھنی
کشمش ، چھوارے ، کاغذی بادام ، چار مغز
رکھے تھے رنگ رنگ کے میوے چشیدنی
مرغابیاں تلی ہوئیں ، تیتر بھنے ہوئے
خستہ کباب سیخ کے اور نان روغنی
صندل، کنول، سہاگ پڑا ، سہرا ، عطر ، پھول
لائی سجا کے تھال میں اک شوخ کامنی
شیشے اُچھال اُچھال کے گاتے تھے مغچے
بیٹھی تھی شہ نشین پہ اک دختِ اَرمنی
رقاصِ رنگ ناچتے پھرتے تھے صف بہ صف
دُولہا بنا گلال ، بسنتی دُلہن بنی
سازوں کی گت پلٹ گئی ، طبلے ٹھٹک گئے
پی کر شراب ناچ رہی تھی وہ کنچنی
انگارہ سا بدن جو دَمکتا تھا بار بار
گل منہ پہ ڈھانپ لیتے تھے کرنوں کی اوڑھنی
ہر دانگ باجنے لگے باجے نشاط کے
مردنگ ، ڈھول ، تان پرا ، سنکھ سنکھنی
آکاش سے برس پڑے رنگوں کے آبشار
نیلے ، سیہ ، سفید ، ہرے ، لال ، جامنی
اتنے میں ایک کفرِ سراپا نظر پڑا
پھرتی تھی ساتھ ساتھ لگی جس کے چاندنی
ماتھے پہ چاند ، کانوں میں نیلم کی بالیاں
ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں ، شانوں پہ سوزنی
پلکیں دراز خطِ شعاعی سی تیز تیز
پتلی ہر ایک آنکھ کی ہیرے کی تھی کنی
ٹھوڑی وہ آئنہ سی کہ بس دیکھتے رہیں
جوبن کے گھاٹ پر وہ کنول دو شگفتنی
گردن بھڑکتی لو سی کہ جی چاہے جل مریں
کالے سیاہ بال کہ بدمست ناگنی
وہ اُنگلیاں شفق سی کہ ترشے ہوئے قلم
اُجلے روپہلے گال کہ ورقے نوشتنی
کندن سا رُوپ ، دھوپ سا چہرہ ، پون سی چال
دامن کشیدنی ، لب و عارض چشیدنی
صورت نظر نواز ، طبیعت ادا شناس
سو حسن ظاہری تو کئی وصف باطنی
پردے اُٹھا دیے تھے نگاہوں نے سب مگر
دل کو رہا ہے شکوئہ کوتاہ دامنی
اُڑ اُڑ کے راج ہنسوں نے جنگل جگا دیا
گھوڑوں کی رَتھ میں بیٹھ گئے جب بنا بنی
منہ دیکھتے ہی رہ گئے سب ایک ایک کا
منہ پھیر کر گزر گئی وہ راج ہنسنی
منظر مجھے ہوس نے دکھائے بہت مگر
ٹھہرا نہ دل میں حسن کا رنگِ شکستنی
تارا سحر کا نکلا تو ٹھنڈی ہوا چلی
نیند آ گئی مجھے کہ وہاں چھاؤں تھی گھنی
میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا
میں دریا دریا روتا تھا
وہ جنگل کتنا گہرا تھا
بارش میں سورج نکلا تھا
یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا
میرا کون یہاں رہتا تھا
پچھلے سفر کا دھیان آیا تھا
پھر تری یاد نے گھیر لیا تھا
میں اک بستی میں اُترا تھا
دھرتی سے آکاش ملا تھا
تاروں کا جنگل جلتا تھا
یہ کیسا شعلہ بھڑکا تھا
دیر کے بعد تجھے دیکھا تھا
دیواروں سے ڈر لگتا تھا
میں ترا رستہ دیکھ رہا تھا
بس یونہی رستا بھول گیا تھا
دھوپ کا شیشہ دُھندلا سا تھا
تارا تارا جاگ رہا تھا
شہر کے نیچے شہر بسا تھا
دھوپ کا ہاتھ بڑھا آتا تھا
پیڑوں پر سونا بکھرا تھا
تو کہیں باہر گیا ہوا تھا
میں اِک سپنا دیکھ رہا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا
دیباچہ
-۱-
میں سکول میں پڑھتا تھا۔ نیا نیا شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ایک محبوب مشغلہ پاپا کی غیر موجودگی میں، ان کے کمرے میں، ہر قسم کے نئے اور پرانے رسالے ’کھنگالنا‘ تھا (غیرنصابی کتابیں پڑھنے کا دور ابھی نہیں آیاتھا)۔ ایک روز ’نیا دور‘ کے دو مختلف شماروں میں پاپا کی کئی غزلیں ایک ساتھ ملیں۔ ان کے بارے میں انوکھی بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب ایک ہی زمین میں تھیں۔ حیرت ہوئی کہ پاپا، جو ایک غزل میں ایک ہی قافیہ ایک سے زائد بار باندھنے سے گریز کرنے کو کہا کرتے تھے، خود ایک ہی زمین میں اتنی غزلیں لکھ گئے، اور کئی قافیے کئی کئی دفعہ استعمال کیے۔ اچنبھے کی دوسری بات یہ تھی کہ ان غزلوں کی زبان اتنی سادہ تھی کہ ’پہاڑ اور گلہری‘ اور ’گائے اور بکری‘ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی اور لب و لہجہ روزمرہ گفتگو کے اتنا قریب کہ لگتا تھا جیسے نثر کو اوزان کا پابند کر دیا گیا ہو۔ شعر کہنا بہت آسان دکھائی دینے لگا۔ کئی بار تو بے اختیار ہنسی بھی آگئی:
سینے پر دو کالی کلیاں
پیٹ کی جھیل میں کنول کھلا تھا
پاپا ریڈیو سٹیشن سے لوٹے تو میں نے انھیں دیکھتے ہی کہا، ’’کچھ غزلیں پڑھیں آج۔ اوپر آپ کا نام تھا۔ آپ ہی کی ہیں؟‘‘
’’ہاں ہاں میری ہیں۔ بالکل میری —- کیوں؟‘‘ انہوں نے رسالے دیکھتے ہوئے کہا اور سٹپٹا کر مجھے دیکھنے لگے۔ پہلے تو انھیں خیال ہوا کہ شاید میں مذاق کر رہا ہوں لیکن پھر مجھے انتہائی سنجیدہ پاکر انھیں تشویش ہونا شروع ہوئی کہ کل تک تو برخوردار بھلا چنگا تھا۔
’’بہت سیدھی سیدھی غزلیں ہیں —- پھیکی پھیکی —- کچھ زیادہ ہی آسان اور سادہ‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہنا شروع کیا۔ ’کوئی بھی لکھ سکتا ہے —- بات نہیں بنی۔‘‘
اب سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ ناصر کاظمی سے یہ بات اور وہ بھی’ پہلی بارش‘ کے بارے میں، اس اندازسے —- میں نے کہہ دی ؟! پھر اپنی جہالت کو معصومیت کا نام دے کر دل کو تسلی دیتا ہوں۔ نابالغ، نماز روزے کے علاوہ بھی بہت سی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ان کے لیے حدود میں رہنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ وہ حدود سے واقف ہی نہیں ہوتے۔ جہاں تک بیباکی کا تعلق ہے تو ناواقفیت بھی اس کا اتنا ہی اہم منبع ہے جتنا کہ علم (اگرچہ جو جرأت لاعلمی سے پھوٹے وہ گستاخی اور ہٹ دھرمی کہلاتی ہے اور جو علم کے نتیجے میں پیدا ہو وہ خوداعتمادی اور یقین کی علامت خیال کی جاتی ہے)۔ پھر نابالغوں اور ناواقفوں کو ایک اور رعایت بھی تو حاصل ہے۔ علم کا باب وا کرنے کی ایک کلید بیباکی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جاننے اور سیکھنے میں شرم محسوس نہ کرو۔ پاپا بھی یہی تلقین کیا کرتے تھے۔ سوالوں کے جواب چاہو اور جواب سن کر سوال کرو۔ سوال کتنے ہی مضحکہ خیز اور بچگانہ کیوں نہ ہوں۔
تو ذکر تھا ’پہلی بارش‘ کی غزلوں کا۔ میری بات پر پاپا کا رد عمل ایسا تھا گویا وہ کچھ بتانے یا سمجھانے بلکہ کچھ بھی کہنے کو بے سود سمجھ رہے ہوں۔
مذکورہ واقعے کے کئی برس بعد اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے جب پاپا نے اپنا کلام اکٹھا کرکے ترتیب دینا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ ایک ڈائری کے پہلے صفحے پر ’پہلی بارش‘ جلی حروف میں لکھا ہوا تھا اور اگلے اوراق میں ویسی ہی ہم زمین غزلیں۔ پاپا یہ غزلیں ایک پرانی ڈائری (جو میرے پاس اب بھی محفوظ ہے) سے نقل کر رہے تھے۔ اس پرانی ڈائری میں یہ غزلیں من و عن اسی طرح لکھی ہوئی تھیں جیسے میں رسالے میں پڑھ چکا تھا۔ مگر اب کئی اشعار قلم زد یا تبدیل کیے جا چکے تھے، کچھ نئے اشعار کا اضافہ کر دیا گیا تھا اور دو تین غزلیں خارج کردی گئیں تھیں۔ اب مجھے محسوس ہوا کہ یہ مجموعہ غزلوں کے ان مجموعوں سے بہت مختلف تھا جن سے میری آشنائی تھی۔ میں نے پاپا سے کہا کہ وہ اسے چھپوا کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب صرف اتنا تھا، ’’ابھی لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘
پاپا اکثر ہم سے، ہماری عمر کے اس دور کے مطابق جس سے ہم گزر رہے ہوتے، سوال کیا کرتے، ہمارا امتحان لیا کرتے۔ ایک روز رات کو اپنے لکھنے پڑھنے کے اوقات میں مجھے بلایا اور کہا، ’’اس شعر کے کیا معنی تمھاری سمجھ میں آتے ہیں؟‘‘
دل کی صورت کا اک پتّہ
تیری ہتھیلی پر رکھا تھا
میں سوچنے لگا۔ پان کا پتّہ میرے ذہن میں آ رہا تھا لیکن غزل کے شعر کے معنی، ایک پہیلی کے حل کی طرح بتاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔
’’دل کی صورت کا پتہ نہیں دیکھا کبھی؟‘‘
’’پان!‘‘ میں نے فوراً جواب دیا۔
’’ٹھیک۔ اب اس شعر کو دیکھو:
کاغذ کے دل میں چنگاری
خس کی زباں پر انگارہ تھا‘‘
’’سگریٹ۔ ماچس۔‘‘
’’خوب اب یہ شعر:
چاند کے دل میں جلتا سورج
سورج کے دل میں کانٹا تھا‘‘
یہ ’پہیلی‘ میں نہ بوجھ سکا۔ آخر انہوں نے خود ہی بتایا: ’فرائڈ انڈا‘۔
میں بہت محظوظ ہوا۔’ ’تو کیا یہ پہیلیاں ہیں؟‘‘
’’ہاں۔ پہیلیاں بھی۔‘‘ وہ مسکرانے لگے۔
یہ ’بھی ‘ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ میرے لیے اہم سے اہم تر ہوتا چلا گیا۔ ہر شے اپنے علاوہ (یعنی جو کچھ وہ دکھائی دیتی ہے یا سمجھی جاتی ہے، اس کے علاوہ) اور ’بھی‘ بہت کچھ نظر آتی۔ پاپا کا یہ شعر ہر وقت ذہن میں پھرنے لگا:
پھول کو پھول کا نشاں جانو
چاند کو چاند سے اُدھر دیکھو
پھر ایک روز دل کی صورت کا پتّہ ایک ہتھیلی پر رکھا دیکھا۔ سربکف لوگوں کے بارے میں تو سنا تھا، دل بدست بھی دیکھ لیا۔ پھر ’چاند‘ کے دل میں جلتا سورج، ’سورج‘ کے دل میں کانٹا، کاغذی پیکر کے دل میں چنگاری اور ’خس‘ کی زباں پر انگارہ بھی دیکھا۔ اب ان اشعار میں پہیلیاں کم اور کہانیاں زیادہ نظر آنے لگیں۔ میری حیرت کے صحرا میں ’پہلی بارش‘ سے نت نئے گل ہائے معانی کھِلے۔ جن باتوں پر پہلے ہنسی آتی تھی، اب آنسوؤں کے دریا بہتے۔ میر پر پاپا کا مضمون جو کبھی ’سویرا‘ میں شائع ہوا تھا (اور اب ان کے نثری مجموعے، خشک چشمے کے کنارے میں شائع ہوا ہے)، پڑھا۔ اس شعر: ’یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر/ اپنی ٹکی لگائے جاتا ہے‘ کے حوالے سے پاپا کی خیال آرائی پڑھ کر مجھے اپنا پہلی بار ’پہلی بارش‘ پڑھنا بہت یاد آیا۔ لکھتے ہیں:’ ’بظاہر یہ شعر آدمی کے سستے اور عمومی جذبات کو اس قدر برانگیختہ کر سکتا ہے کہ معقول قاری بھی ان کی رو میں بہہ کر اس طرح قہقہے لگانے لگے کہ اسے اپنے مبتذل ہونے پر کوئی شک نہ رہے، ردِعمل کے طور پر ایسا معقول قاری بالکل ویران ہو سکتا ہے اور انھی ویران لمحوں میں یہ شعر اپنا آپ دکھاتا ہے۔ اس میں بھونڈے قہقہوں کی گونج کے ساتھ وہ المناک تجربہ اپنی پوری شدت کے ساتھ سمویا ہوا ہے جس پر دھاڑیں مار مار کر رویا بھی جا سکتا ہے۔‘‘
’پہلی بارش‘، دوبارہ، سہ بارہ پڑھی۔ یوں لگا جیسے کتاب اب سمجھ میں آگئی۔ جس طرح کسی غزل کے اشعار اپنا جداگانہ وجود رکھتے ہوئے بھی آپس میں کسی طور منسلک ہوتے ہیں اسی طرح ’پہلی بارش‘ کی غزلیں بھی انفرادی طور پر مکمل غزلیں ہونے کے ساتھ ساتھ مل کر ایک وحدت کو تشکیل دیتی دکھائی دیں۔ یہ وحدت طویل نظم کے قریب کی کوئی چیز معلوم دی۔ ہر غزل گویا اس نظم کا ایک بند تھی جس کے اشعار ایسے مربوط نظر آئے جیسے کسی زینے کے مدارج یا کسی منزل کے مراحل ۔ ایسا محسوس ہوا گویا شاعر کوئی کہانی سنا رہا ہو۔ بار بار پڑھنے پر یہ کہانی واضح ہوتی چلی گئی۔
-۲-
صدیوں پرانی روایت ہے کہ شعراء (مغربی ومشرقی) طویل نظم کی ابتدا خدا یا دیوی دیوتاؤں (اپنے اپنے ایمان یا اعتقاد کے مطابق) سے خطاب کر کے کرتے ہیں۔ ’پہلی بارش‘ اور روایتی طویل نظم کا ایک اور مشترک وصف، آغاز ہے:
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا
اس شعر کے بارے میں پاپا خود کہا کرتے تھے کہ اس کا شمار چند بہترین حمدیہ اشعار میں ہو گا۔
اس کے علاوہ پہلی غزل ’کہانی‘ کے ’مرکزی کردار‘ کا تعارف بھی ہے۔ شروع ہی میں پڑھنے والا جان لیتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیقی شخص کی کہانی ہے جو اللہ کو ماننے والا اور اس کی کتاب کا بغور مطالعہ کرنے والا ہے۔ اللہ ہی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے وہ قرآنی آیات پڑھ کر اوندھے منہ گر نہیں جاتا (اندھا دھند ایمان نہیں لے آتا) بلکہ تدبر کرتا ہے اور غور و فکر کے ذریعے ان آیات کو اپنے رگ و پے کا حصہ بناتا ہے۔ وہ آدم کے مقام اور کائنات میں اس کے کردار سے بخوبی واقف ہے:
میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے
بارِ امانت سر پہ لیا تھا
میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا
یہ شخص نہ صرف اللہ سے سوال کرنے بلکہ شکوہ کرنے کی بھی جرأت رکھتا ہے:
تو نے کیوں مِرا ہاتھ نہ پکڑا
میں جب رستے سے بھٹکا تھا
پہلی بارش بھیجنے والے
میں تِرے درشن کا پیاسا تھا
یہ اشعار غزلوں کے اس سلسلے میں بیان کی جانے والے کہانی کے موضوع کی طرف بھی ایک واضح اشارہ ہیں۔
یہاں اگر میں یہ کہوں کہ پاپا کی اپنی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی تو بے جانہ ہو گا ۔ اپنے دعوے کی حمایت میں اُنہی کے دو بیانات درج کرتا ہوں۔ ’سویرا‘ کے ایک مذاکرے میں ’میرا ہم عصر‘ (مطبوعہ، ’خشک چشمے کے کنارے‘) کے تحت لکھتے ہیں، ’’۔۔۔ میں عصر کے قرآنی معانی پر توجہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب اگر سلیم احمد صاحب یہ اعتراض کریں کہ میں ادب کے معاملے میں قرآن مجید کو بیچ میں کیوں لاتا ہوں تو میری گزارش ہے کہ میں قرآن کو ادب سمجھ کر پڑھتا ہوں اور اپنی زبان کے بعض لفظوں کے اصل معانی پر اس لیے بھی زور دیتا ہوں کہ دورِ غلامی نے ہماری قومی علامتوں کا اس قدر مذاق اڑایا ہے کہ اب ہم ہر معاملے میں اہلِ مغرب کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر مولوی، مولانا، حضرت، یہ الفاظ مغرب زدہ لوگوں کے لیے محض گالی یا پھبتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘
اپنی زندگی کے آخری ایام میں ٹیلیویژن کے لیے انتظار حسین کو انٹرویو دیتے ہوئے، غزل سنانے کی فرمائش کیے جانے پر انہوں نے کہا: ’’۔۔۔ لایئے تمھیں کچھ شعر سنا دیتا ہوں ۔ یہ غزل، اس میں تھوری سی خطابت ہے؛ مگر یہ ہے کہ بعض وجوہ سے مجھے پسند ہے؛ کہ طلوع و غروب کے مناظر ہیں؛ حیرت و عبرت، کہ دنیا میں کیا ہوتا ہے؛ کس طرح چیزیں ڈوبتی ہیں، ابھرتی ہیں؛ کس طرح صبح شامیں ہوتی ہیں؛ اور کچھ قرآنِ کریم کے پڑھنے والوں کے لیے بھی —- یہ کچھ دو چار شعر میں عرض کردیتا ہوں:
سازِ ہستی کی صدا غور سے سن
کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن
دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان
شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن
کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سرِشام
روح کے تار ہلا غور سے سن
یاس کی چھاؤں میں سونے والے
جاگ اور شورِ درا غور سے سن
کبھی فرصت ہو تو اے صبحِ جمال
شب گزیدوں کی دعا غور سے سن
کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں
کیا سناتی ہے صبا غور سے سن
برگِ آوارہ بھی اک مطرب ہے
طائرِ نغمہ سرا غور سے سن
دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے
میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن
(برگِ نے)
یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ شاعر کی شخصیت اور اس کے نظریات اور عقائد کی روشنی میں اس کے کلام کو دیکھنا، بے لاگ (objective) مطالعے کے تقاضوں کے خلاف ہے تو میں جواب میں پاپا ہی کے الفاظ پیش کروں گا۔ مذکورہ بالا انٹرویو ہی میں انہوں نے کہا تھا، ’’بات یہ ہے کہ جس طرح عطر کی شیشی آپ کھولتے ہیں تو خوشبو آپ کو آتی ہے؛ تو پھول اور باغ تو کہیں نظر نہیں آتے؛ تو شاعری میں میری، یہ تمام واقعات براہِ راست تو آپ کو نظر نہیں آئیں گے، البتہ یہ ہے کہ وہ جو یادیں ہیں، جو زمانہ تھا ہماری غلامی کا، اور جس میں ہم جینے کے لیے کوشش کر رہے تھے، ان کی تگ و دو کومیری شاعری کے آہنگ میں، رنگوں میں، لفظوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ آگے چل کر اس سوال کے جواب میں کہ تمھارا کمٹمنٹ (commitment) کیا ہے، انہوں نے کہا، ’’—- کمٹمنٹ ،میں نے اس طرح بعض بیانات کی صورت میں تو شاید بہت کم کیا ہو، لیکن میرے کلام میں آپ کو —- میرا تو خیال ہے کہ میں نے جو لفظ لکھا ہے وہ کمٹمنٹ سمجھ کر لکھا ہے۔ پاکستان کی پچیس سالہ تاریخ کو آپ دیکھیں اور میرے کلام کو دیکھیں تو ضرور اس میں وہ چیزیں دھڑکتی ہوئی نظر آئیں گی۔‘‘
سجاد باقر رضوی کی کتاب کے دیباچے، ’شہری فرہاد‘ میں وہ لکھتے ہیں، ’’شاعر کی شاعری اور اس کے نظریات کی ملاقات کسی مقام پر تو ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں باقاعدہ مثالیں تو مغرب کے ادب ہی میں ملیں گی لیکن اردو ادب بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں ۔ میرؔ نے اپنے تذکرے میں، غالبؔ نے اپنے خطوط میں، حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں، پھر ہمارے زمانے میں فراقؔ صاحب نے اپنے مضامین میں شاعری کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کا عکس ان کی شاعری میں بھی موجود ہے —- شاعر اپنے نظریات کو مسلسل تجربات، مشاہدات اور مطالعے کے بعد مرتب کرتا ہے اور شاعری میں انھیں ذائقہ بنا دیتا ہے۔ شاعر کا مطالعہ اور اس کے نظریات خام لوہے کی طرح ہوتے ہیں جو شعر میں دمِ شمشیر بن کر اپنا جوہر دکھاتا ہے۔‘‘
یہاں یہ باتیں، ممکن ہے کچھ لوگوں کو غیر متعلقہ لگیں لیکن میرے خیال میں ان کا ذہن نشین ہونا نہ صرف ’پہلی بارش‘ بلکہ ناصر کاظمی کی پوری شاعری کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے
-۳-
وہ کوئی اپنے سوا ہو تو اس کا شکوہ کروں
جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے
(دیوان)
’پہلی بارش‘ کے شاعر کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ انسان اس دنیا میں نہ صرف اکیلا آتا ہے اور یہاں سے اکیلا جاتا ہے ، بلکہ وہ یہاں رہتا بھی اکیلا ہی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد، اپنے اندر جھانک کر، اپنی ذات کی مسلسل نشوونما (یازکا) کرتے رہنے سے ہی وہ سکون کی منزل (یا جنّت) تک پہنچ سکتا ہے۔ انسان کی ضرورتیں اسے دوسروں کے پاس بھی لے جاتی ہیں اور ان سے جدا بھی کرتی ہیں۔ ہر تعلق اور دوستی کی ایک میعاد ہوتی ہے ۔یہ میعاد تمام عمر پر بھی محیط ہوسکتی ہے، بشرطیکہ فریقین ایک دوسرے کی نشوونما میں اضافے کا باعث بنتے رہیں (اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اپنی نشوونما کے لیے بھی کوشش کرتے رہیں۔ ظاہر ہے جو خود رک گیا، وہ کسی کو کیا آگے بڑھائے گا)۔ لیکن جب روز کے ملنے والے دوست ایک دوسرے کی نشوونما میں مزیدکوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تو ان کا ملنا کم ہونے لگتا ہے ۔ انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں:
دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لیے جاتا ہے دُور
(برگِ نے)
———-
اب اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ناصِر
وہ ہم نوا جو مِرے رتجگوں میں شامل تھے
(دیوان)
محبت کا معاملہ اس سے کچھ مختلف نہیں۔ محبوب کے بغیر ایک پل نہ جی سکنے والا، یوں بھی سوچتا ہے:
یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عُمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو
(دیوان)
———-
شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے
(دیوان)
اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ:
رشتہِ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
(برگِ نے)
وہ رشتہ جو ازخود، بتدریج اور غیر محسوس طور پر ٹوٹے؛ وہ دوستی جو اپنے تمام امکانات کو چھان ڈالے، Explore اور Exhaust کر لے، اس کا دکھ یا ملال نہیں ہوتا، لیکن جو تعلق ادھورا رہ جائے؛ درمیان میں کسی حادثے، رنجش، بدگمانی، غلط فہمی، رقابت یا ’ظالم سماج‘ کی وجہ سے منقطع ہو جائے، بہت تڑپاتا ہے:
کہاں ہے تو کہ تِرے انتظار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
(برگِ نے)
————-
یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
(برگِ نے)
’پہلی بارش‘ کے آغاز میں کیفیت ’تو من شدی، من توشدم‘ کے مصداق نظر آتی ہے۔ دو روحوں کا پیاسا بادل گرج گرج کر برستا ہے، دو یادوں کا چڑھتا دریا ایک ہی ساگر میں گرتا ہے اور دل کی کہانی کہتے کہتے رات کا آنچل بھیگ جاتا ہے۔ سفر کی رات خوشبو کے جھونکے کی مانند گزر جاتی ہے۔ دن کی ٹھنڈی دھوپ میں، ’’تیری ہلال سی انگلی پکڑے / میں کوسوں پیدل چلتا تھا‘‘ اور پچھلے پہر کے سناٹے میں، ’’تیرے سائے کی لہروں کو / میرا سایا کاٹ رہا تھا‘‘، غرض، ’’وقت کا ٹھاٹھیں مارتا ساگر / ایک ہی پل میں سمٹ گیا تھا‘‘، لیکن فراق کی منزل دور نہ تھی:
کیسی اندھیری شام تھی اس دن
بادل بھی گھر کر چھایا تھا
رات کی طوفانی بارش میں
تو مجھ سے ملنے آیا تھا
بھیگی بھیگی خاموشی میں
میں تِرے گھر تک ساتھ گیا تھا
ایک طویل سفر کا جھونکا
مجھ کو دُور لیے جاتا تھا
یہ کیسی خاموشی ہے؟ کیا باتیں ختم ہو گئیں؟ کیا تمام یادوں اور سپنوں کا تبادلہ ہو چکا؟ یا یہ باتوں کے درمیان محض ایک وقفہ ہے؟
یہ کیسا سفر ہے؟ غمِ روزگار کی مجبوری، زمانے کی عائدکردہ پابندی یا ذات کی داخلی احتیاج؟ اگلی غزل میں ان سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ مطلع میں ’دوبارہ‘ کا لفظ بہت اہم ہے۔ یہاں اس کا مطلب دوسری بار نہیں بلکہ ایک با معنی (significant) وقفے کے بعد آنا ہے۔ گھر وہی، شام کا تارا وہی، رات وہی، سپنا وہی، مگر اب ’تیرے‘ لیے لمبی تان کر پہروں سونا ممکن ہے ]اس کے برعکس ’’تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی‘‘ (غزل نمبر2)[ ۔’مجھ ‘سے بے نیاز ہونے کے عمل میں یہ مقام آچکا ہے۔ پھر اس نیند کو بھی’ ’ایک انوکھے وہم کا جھونکا‘‘ اُڑا اُڑا دیتا ہے اور ایک دن یہ، وہم ’تجھ‘ کو گھیر لیتا ہے اور ’تو‘، ’مجھ‘ کو سوتا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
لیکن یہ وہم کیا تھا؟ ایک نظر یہ یہ ہے کہ ہر خیال وہم ہوتا ہے —- ’’یہ توہم کا کارخانہ ہے / یاں وہی ہے جو اعتبار کیا‘‘ —- جبکہ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو وہم بھی ایک خیال ہی ہوتا ہے۔ دراصل ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر بات کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی سے دُورہوناچاہتے ہیں تو اُس کی باتوں کے وہی معانی ہماری سمجھ میں آتے ہیں جو ہمارے اور اس کے درمیان فاصلہ بڑھاتے ہوں (چاہے وہ ہمیں دل و جان سے چاہتا ہو) بصورتِ دیگر وہ معانی جو ہمیں اس کے قریب لے جاتے ہوں (خواہ وہ ہم سے کتنا ہی بیزار ہو)۔ اُس کے دل کی بات ہمیں بہت بعد میں پتا چلے گی۔ ’پہلی بارش‘ میں بھی آخری غزل میں ایک ایسا ہی انکشاف ملتا ہے:
تیرا قصور نہیں میرا تھا
میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا
————-
اب میں سمجھا اب یاد آیا
تو اُس دن کیوں چپ چپ سا تھا
سو یہ اہم نہیں کہ یہ وہم کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ربط ٹوٹ چکا ہے۔ اس کا علم ابھی پوری طرح اس لیے نہیں ہوا کیونکہ جسمانی فاصلہ ابھی کم ہے۔ ایک مثال اس بات کی وضاحت کر سکے گی۔ اگر دو برابر کے پہیے، ایک ٹائی راڈ (tie-rod) سے جڑے، ایک ہموار اور سیدھے راستے پر چلے جا رہے ہوں اور یہ ٹائی راڈ ٹوٹ جائے (بغیر جھٹکے کے) تو تب بھی وہ ساتھ ساتھ اسی طرح چلتے جائیں گے اور کسی کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ ان کا آپس میں تعلق منقطع ہو چکا ہے۔ ذرا کہیں ناہموار سطح آئی اور یہ دونوں یا تو آپس میں ٹکرائے یا پھر مخالف سمتوں میں لڑھک کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ اگرچہ گھومتے گھومتے وہ دوبارہ بھی ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں لیکن ملنے کے لیے نہیں بلکہ پھر بچھڑنے کے لیے۔
دوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ ’میری ‘کیفیت میں ہنوز کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ’تو‘ نے ممکن ہے خوب تجزیے اور غوروفکر کے بعد رختِ سفر باندھا ہو لیکن میرے خیال میں تجھے وہم ہی ہوا ہے۔ تیرے آنے پر میں ’تیرا‘ منتظر تھا اور ’وہی‘ سپنا دیکھ رہا تھا۔ تُو سو جاتا تو پہروں تجھے تکتا رہتا، تیری ایک صدا سنتے ہی گھبرا کر جاگ اٹھتا اور جب تک تجھ کو نیند نہ آ جاتی، تیرے پاس کھڑا رہتا؛ ماحول کو دلچسپ بنانے کی خاطر اور تیرے بیزار ہو جانے کے ڈر سے، نئی انوکھی بات سنا کر تیرا جی بہلاتا، اس آرزو میں اور اس امید پر کہ تیرے دل میں جانے کا خیال نہ آئے۔ میرے لیے وقت اتنی تیزی سے گزر گیا کہ ایک مہینہ ایک پل کے برابر محسوس ہوا۔ میرے لیے ابھی اس تعلق میں بہت کچھ باقی تھا، تیری طلب کم نہ ہوئی تھی، اسی لیے :
آنکھ کھلی تو تجھے نہ پا کر
میں کتنا بے چین ہوا تھا
———-
آج وہ سیڑھی سانپ بنی تھی
کل جہاں خوشبو کا پھیرا تھا
اگلی غزل ’میری‘ اور ’تیری‘ ان کیفیات کو مزید نمایاں کرتی ہے:
تجھ بِن گھر کتنا سُونا تھا
دیواروں سے ڈر لگتا تھا
بھُولی نہیں وہ شامِ جدائی
میں اُس روز بہت رویا تھا
تجھ کو جانے کی جلدی تھی
اور میں تجھ کو روک رہا تھا
’تجھ‘ سے بچھڑ کر ’میری‘ حالت غیر ہو جاتی ہے۔ طرح طرح کے خیال ستاتے ہیں۔ سناٹے میں کوئی دُور سے آوازیں دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ باہر کے مناظر کچھ کے کچھ دکھائی دیتے ہیں۔ نیند بھی خوف اور وسوسوں سے خالی نہیں ہوتی۔ بارھویں غزل میں ایسے ہی ایک فریبِ خیال (hallucination) یا ڈراؤنے خواب کا بیان ہے۔
تیرھویں غزل میں کہانی کا مرکزی کردار یا’ہیرو‘ تنہائی کے آتش دان میں لکڑی کی طرح جلتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنی خوشی اور تسکین کے لیے وہ اپنے سے باہر دیکھنے کا عادی اور محتاج ہے۔ ابھی اس نے اپنے اندر جھانکنا شروع نہیں کیا۔ اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ دوزخ اس مقام کو بھی کہتے ہیں جہاں فرد یا معاشرے کی نشوونما رک جائے۔ اس وقت ’ہیرو‘ کی یہی کیفیت ہے۔ اسے جینا محال نظر آتا ہے —- ’’دم ہونٹوں پر آ کے رُکا تھا / یہ کیسا شعلہ بھڑکا تھا۔‘‘ زندگی میں اس کی کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ اب اسے باہر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا:
میری آنکھیں بھی روتی تھیں
شام کا تارا بھی روتا تھا
گلیاں شام سے بجھی بجھی تھیں
چاند بھی جلدی ڈوب گیا تھا
لیکن خوش قسمتی سے اس کا دم نکل نہیں جاتا بلکہ حیات سے اس کا رشتہ بحال ہو جاتا ہے:
قیامت رہا اضطراب اُن کے غم میں
جگر پھر گیا رات ہونٹوں تک آ کر
(میرؔ)
جاں کنی کے عالم میں اسے دوزخ کی ایک واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ’آگ کے سپنے‘ سے ’ایک رسیلے جرم کا چہرہ‘ نمودار ہوتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی جیسی نعمت سے لاپروائی برتنے کا مجرم بن رہا ہے۔ اسے اپنی وہ امکانی حالت نظر آتی ہے جو مسلسل، بے مقصد جلتے کڑھتے رہنے سے ہوسکتی ہے:
پیاسی لال لہو سی آنکھیں
رنگ لبوں کا زرد ہوا تھا
بازو کھنچ کر تیر بنے تھے
جسم کماں کی طرح ہلتا تھا
ہڈی ہڈی صاف عیاں تھی
پیٹ کمر سے آن ملا تھا
وہم کی دیمک نے چہرے پر
مایوسی کا جال بُنا تھا
جلتی سانسوں کی گرمی سے
شیشہِ تن پگھلا جاتا تھا
مایوسی جہنم کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ لفظ ابلیس؛ ’بلس‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں، مایوسی۔ ’ابلیس‘ وہ جو مایوس ہو گیا۔ وہ آدم کے ارض پر خلیفہ بنائے جانے پر مایوس (disappoint) ہوا؛ اور جو خود مایوس ہو جائے وہ دوسروں کو بھی مایوس کرتا ہے، ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے؛ اور جنھیں اس سے پناہ نہ مل سکے، جو اس کے بہکاوے میں آجائیں، ان کا مقدر بھی دوزخ ہے۔
’پہلی بارش‘ کا ہیرو اس انجام سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں جسمانی زندگی کی حدیں ختم ہونے لگتی ہیں اور موت دکھائی دینے لگتی ہے۔ سزا اور جزا کی منزل آجاتی ہے۔ اسے حیات بعدالموت کا وجود محسوس ہونے لگتا ہے۔ وہ ڈر جاتا ہے۔ اسے زندگی کا وقفہ بہت غنیمت نظر آتا ہے۔ اس کے اندر جینے کی شدید خواہش اور طلب پیدا ہوتی ہے —- ’’پیاسی کونجوں کے جنگل میں / میں پانی پینے اترا تھا۔‘‘
کونج یا قاز ایک ایسا پرندہ ہے جو موسمِ سرما میں گرم خطوں میں چلا آتا ہے ۔ ان کے غول کے غول دریا کے کناروں پر ملتے ہیں اور یہ قطار باندھ کر اڑتے ہیں۔ گویا یہ حرارت اورپانی یعنی حیات کے لیے ناگزیر عناصر کا طالب اور متلاشی رہتا ہے۔ ایک تخلیقی آدمی کی زندگی بھی تلاش اور جستجو سے عبارت ہوتی ہے۔ نادیدہ کے درشن کی پیاس اور ناآفریدہ کی تخلیق کی لگن اسے سرگرداں پھراتی ہے۔ یہ دنیا اس کے لیے ’پیاسی کونجوں کا جنگل‘ ہے۔ کونجوں اور تخلیقی انسانوں کی ہم سفری اور ہم نوائی کا ذکر، ناصر کاظمی اور انتظار حسین کے مکالمے، ’نیااسم‘ (مطبوعہ ’سویرا‘) کے پیش لفظ میں نہایت واضح اور بھرپور طور پر ملتا ہے :
’’جب چلتے چلتے ہنگامِ زوال آیا، دل نڈھال ہوا اور حال بے حال ہوا۔ ایک سوار نے سمندِ عزم کی باگ چھوڑی اور بولاکہ اس بیابان میں سفر بے اثر ہے، خاک پھانکنا بے ثمر ہے۔ خیال ترک کریں اور پلٹ کر بچھڑوں سے جا ملیں۔
ہم سفر بولا کہ جس راستے کو ہم نے چھوڑا وہ ہم پر بند ہوا۔ آگے کی راہیں کھلی ہیں، شوقِ سفر شرط ہے اور ہر قدم راستہ بھی ہے اور منزل بھی۔
انہوں نے باگیں سنبھالیں اور پھر چلنا شروع کر دیا۔ اوپر تانبا آسمان، نیچے چٹیل میدان، سنسان بیابان، دھوپ میں جلتے بلتے پتھریلے ٹیلے، ریت کے رستے، اکادکا بے برگ درخت، کوئی راہ گیر نظر نہ آیا کہ سراغ منزل کا لیتے اور پتا پانی کا پاتے۔ دُور کبھی دھول اڑتی نظر آتی تو خیال گزرتا کہ اس دشتِ بے آب میں اور مسافر بھی ہیں کہ اپنے طور کڑے کوسوں کا سفر کرتے ہیں۔
دن ڈھلنے لگا تو دلِ فزوں نڈھال ہوا۔ گلا پیاس سے خشک ہوا اور ابلق پسینے میں شرابور اور تھکن سے چور ہوئے کہ اتنے میں سرپہ پیاسی آوازوں کی لکیر ہویدا ہوئی ۔ دیکھا کہ قازوں کی ایک قطار ہے کہ قائیں قائیں چیختی ہے اور فضا میں تیرتی جاتی ہے۔ اس آواز کو انہوں نے غیب کی ندا جانا اور پانی کا پیغام سمجھا۔ گھوڑوں کو ایڑ دی اور قازوں کی ندا کے ہم رکاب یوں سرپٹ دوڑے کہ ابلقوں کی ٹاپوں سے دشت گونجا اور چنگاریاں اڑیں۔‘‘
یہ پیش لفظ مذکورہ غزل میں داخلے کا راستہ بن سکتاہے۔ اس غزل میں آگ کے مقابلے میں پانی دکھائی دیتا ہے۔ جھلستے اور جلتے رہنے کے بعد یہ پانی اسے اتنا ٹھنڈا لگتا ہے کہ اس کے ہاتھ دیر تک کانپتے رہتے ہیں۔ وہ پانی میں جھانکتا ہے تو اسے اپنے بھیتر کی گہرائیاں اور وسعتیں نظر آتی ہیں۔ اس کی آنکھیں جھانکتی ہی چلی جاتی ہیں۔ زندگی کے تقاضوں اور مرحلوں کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کا جسم تھک کر چور ہو جاتا ہے۔ پانی اسے للکارتا ہے۔ پانی اتنا چپ چپ اور گم سم ہے گویا باتیں کر رہا ہو ](مجھ سے باتیں کرتی ہے / خاموشی تصویروں کی (دیوان)[۔ وہ پہلی بار اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہے۔
اب وہ ایک نئے دیس میں اترتا ہے جہاں کا ’رنگ‘ (اس کے لیے) نیا ہے۔ یہاں ’دھرتی سے آکاش ملا تھا‘، جس کے معنی یہ ہیں کہ یہاں ارض و سما کے قوانین میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے؛ وہ ایک دوسرے میں سرایت (interpenetrate )کرتے ہیں (انسانوں نے ارض و سما کو ہمیشہ بالکل الگ الگ اور ایک دوسرے سے لاتعلق قرار دیا ہے، حالانکہ ارض و سما کے بہت گہرے رشتے ہیں۔ ہر طرح کی نعمتوں کا نزول سما سے ارض پر ہوتا ہے)۔ یہاں انسانوں کے لیے نہ صرف افقی بلکہ عمودی یا ارتفاعی ترقی کے لامتناہی اور لامسدود امکانات کھُلے ہیں۔ وہ جس حد تک چاہیں آگے جا سکتے ہیں اور جتنا چاہیں بلند ہوسکتے ہیں۔
یہاں دُور کے دریاؤں کا ’سونا‘، ہرے سمندر میں گرتا ہے۔ چلتی ندیاں ہیں اور گاتے نوکے۔ پانی کی بہتات کا یہ عالم ہے کہ سارا شہر گویا نوکوں ہی میں بسا ہے۔ یہاں پانی اور زندگی واضح اور مکمل طور پر ایک ہو جاتے ہیں۔ شاید’پانی‘ ہی کی طلب اسے یہاں لائی ہے۔ وہ ابھی تک تشنہ ہے —- ’’ہنستا پانی، روتا پانی / مجھ کو آوازیں دیتا تھا۔‘‘ نئے دیس میں اترنا ایک نئے جیون کا آغاز کرنے کے مترادف لگتا ہے۔ ’وہ گھر‘، ’وہ رات‘ اور ’وہ سپنا‘ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ ’تیرا دھیان‘ مفلوج کرنے کی بجائے سہارا دیتا ہے۔ اسے زندگی کے دریا کی لہروں کامقابلہ کرنے کی جرأت اور شکتی دیتا ہے —- ’’تیرے دھیان کی کشتی لے کر/میں نے دریا پار کیا تھا۔‘‘
اس کے بعد وہ اک بستی میں اترتا ہے جو غالباً اسی نئے دیس میں ہے۔ سُرما ندی کے گھاٹ پہ جاڑے کا پہلا میلہ ہے۔ رقص و سرود کی محفل سجی ہے۔ کچھ یادیں اور کچھ خوشبو لے کر وہ اس بستی سے نکلتا ہے۔ لیکن:
تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا
پھر تِری یاد نے گھیر لیا تھا
یاد آئی وہ پہلی بارش
جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا
یاد آئیں کچھ ایسی باتیں
میں جنھیں کب کا بھول چکا تھا
اگلی غزل میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ’تیرے‘ شہر سے پھر گزر ہوتا ہے۔ ہوا اتنی تیز اور اداس ہوتی ہے کہ اس کا چراغِ دل بجھا جاتا ہے۔ اس کا دل ہنوز سُونا ہے اور تنہائی پیاسی۔ جنت ابھی دور ہے۔ اسی عالم میں ’تجھ‘ سے مشابہ ایک مسافر ریل چلنے پر اس کے مقابل آبیٹھتا ہے۔ یہ مشابہت کچھ دیر کے لیے وجہِ تسکین بنتی ہے لیکن جدائی کا موڑ ہر سفر میں ہوتا ہے۔ ’تیری‘ طرح تیرا ’بدل‘ بھی بچھڑ جاتا ہے:
کوئی بھی ہمسفر نہ تھا شریکِ منزلِ جنوں
بہت ہوا تو رفتگان کا دھیان آ کے رہ گیا
(دیوان)
وہ شخص جس سے تعلق اپنی فطری انجام کو پہنچ کر ٹوٹا ہو، جس سے دوستی اپنے تمام امکانی مراحل طے کرچکی ہو، عرصہِ دراز کے بعد ملے تو ایک انجانی سی خوشی ہوتی ہے:
پھر ایک طویل ہجر کے بعد
صحبت رہی خوشگوار کچھ دیر
(برگِ نے)
کوئی نیا موضوع نہ بھی چھڑے، کوئی نئی بات نہ بھی ہو، یادیں ہی تازہ ہو کر نئی بہار دکھا دیتی ہیں۔ ماضی اتنی قوت اور شدت سے رگ و پے میں داخل ہوتا ہے کہ مردہ لمحے زندہ ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے گویا کوئی کھوئی ہوئی قیمتی متاع پھر مل گئی ہو۔ حالانکہ دل نے کبھی اس سے دوبارہ ملنے کی تمنا نہیں کی ہوتی، پھر بھی اس سے ملاقات ہونے پر ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے کوئی خواہش پوری ہو گئی ہو۔ ظاہر ہے، اس سے جدا ہونے پر کوئی زخم لگا ہوتا تو اب ہرا ہوتا۔ یادوں کے پھول ہوتے ہیں، مہک اٹھتے ہیں۔
اس کے برعکس، عجیب بات ہے کہ ایسا شخص جس کے فراق میں آدمی ماہیِ بے آب کی طرح تڑپتا رہا ہو، جس کی ایک جھلک دیکھنے کو آنکھیں پتھرا گئی ہوں، مل جائے تو رنج کم نہیں ہوتا۔ بقول حفیظ ہوشیارپوری:
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
’دیوان‘ میں بھی ایک شعر ہے:
تجھ سے مل کر بھی دل کو چین نہیں
درمیاں پھر وہی سوال پڑا
Heraclitus نے کتنا درست کہا ہے: ’’ہم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں رکھ سکتے۔‘‘ وقت ہر لحظہ ہم میں اور کائنات میں تبدیلیاں لاتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پرانی قیود سے رہا کر کے نئے تقاضوں کی زنجیروں میں باندھ دیتا ہے۔ ہمارے شوق، حاجتیں، پسند نا پسند بدلتے رہتے ہیں مگر وہ تعلق جو ادھورا رہ جاتا ہے، ویسے کا ویسا رہتا ہے۔ جو دوست بچھڑ جاتا ہے، ہمیں اسی طرح یاد رہتا ہے جیسا کہ وہ تھا۔ وہ ہمارے ذہنوں میں پروان نہیں چڑھتا۔ چنانچہ جب ہم اس سے ملتے ہیں تو وہ حقیقت میں تو کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے لیکن ہماری نظریں اُسی کو ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں جس سے ہم جدا ہوئے تھے۔ وہ کہیں ہو تو ملے۔ رنج اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ملنے کی جو ایک موہوم سی امید ہوتی ہے وہ بھی دم توڑ دیتی ہے۔ وہ مل کر بھی نہیں ملا:
کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے
بڑی دیر میں تجھے دیکھ کر یہ لگا کہ تو کوئی اور ہے
(دیوان)
اب یہ اور بات ہے کہ ہم اس ملاقات میں دل کی تسلی کے لیے بھی کوئی پہلو ڈھونڈ لیں:
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
(دیوان)
مگر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آمنا سامنا ملاقات نہیں کہلا سکتا اور اگر اسے ملاقات کہا بھی جائے تو بھی:
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات ملاقات نہ تھی پہلی سی
(دیوان)
اور دو چار بار ایسا ’آمنا سامنا‘ اور ہو جائے تو کیفیت بالآخر یہ ہو جاتی ہے:
برابر ہے ملنا نہ ملنا ترا
بچھڑنے کا تجھ سے قلق اب کہاں
(برگِ نَے)
’پہلی بارش‘ کے مرکزی کردار کو بھی ایسی ہی ایک اتفاقی اور غیر متوقع ’ملاقات ‘ کا بھرپور تجربہ ہوتا ہے:
پل پل کانٹا سا چبھتا تھا
یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا
کتنی باتیں کی تھیں لیکن
ایک بات سے جی ڈرتا تھا
تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہا تھا
کسی پرانے وہم نے شاید
تجھ کو پھر بے چین کیا تھا
میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی
گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا
اک اجڑے سے اسٹیشن پر
تو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا
———–
تیرے ساتھ ترے ہمراہی
میرے ساتھ مرا رستا تھا
رنج تو ہے لیکن یہ خوشی ہے
اب کے سفر تِرے ساتھ کیا تھا
وہ ملاقات کی بدلی ہوئی نوعیت سے نہ صرف پوری طرح واقف ہو جاتا ہے بلکہ اسے قبول کر لیتا ہے اور محض کچھ دیر کی جسمانی ہمراہی کو غنیمت جانتا ہے ۔ وہ جان چکا ہے کہ ہم سفری کی آرزو نہ صرف بے سود بلکہ باعثِ رنج بھی ہے۔
تعلق کی اصل نوعیت کا شعور، اپنی داخلی اور خارجی تبدیلیوں کا علم اور قبولیت اسے دوزخ سے مکمل طور پر نکال لیتے ہیں۔ اس آگہی کی بدولت اسے ’’جنت کا نقشہ‘‘ دکھائی دیتا ہے جہاں ہریالی ہی ہریالی ہے، نور ہی نور، رس ہی رس، مٹھاس ہی مٹھا س؛ جہاں کوئی وسوسے پیدا کرنے والا نہیں بلکہ ’’سایا سایا راہ نما‘ ‘ہے۔ جہاں ’’گاتے پھول‘ ‘ہیں اور ’’بلاتی شاخیں ‘ ‘ہیں اور ’’پتا پتا دستِ دعا ہے‘‘۔
اور یہ جنت اسے جلد ہی مل بھی جاتی ہے۔ تنہائی میں دریا دریا روتے ہوئے اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ ’’تنہائی کا تنہا سایا‘‘ دیر سے اس کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ جب سارے ساتھی چھوڑ گئے تھے تو تنہائی کا پھول کھلا تھا۔ تنہائی میں یادِ خدا بھی تھی اور خوفِ خدا بھی۔ تنہائی محربِ عبادت بھی تھی اور منبر کا دیا بھی؛ اس کا پائے شکستہ بھی تھا اور دستِ دعا بھی۔ غرض اس کا سب کچھ تنہائی میں تھا، اس کاسب کچھ تنہائی تھی۔ وہ جنت جسے وہ باہر ڈھونڈ رہا تھا، اس کے دل میں چھپی تھی۔ وہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ تنہا تھا اور تنہا ہے۔ اس کے دل کی جنت تنہائی ہے۔
جنت کی دریافت اور حصول کے بعد وہ ’تجھ‘سے اپنے تعلق کا ایک بار پھر جائزہ لیتا ہے۔ اب اسے یہ رشتہ اپنے صحیح رنگوں میں نظر آتا ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ قصور اس کا ہی تھا جو وہ ’تجھ ‘ کو اپنا سمجھا تھا۔ اب پتا چلا کہ’ ’وہ سب کچھ ہی دھوکا تھا،‘‘ حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ آخر میں وہ اپنی ’تقدیر‘ کو قبول کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے:
وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی
وہی ملا ہے جو لکھا تھا
دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا
کس کس بات کو روؤں ناصر
اپنا لہنا ہی اتنا تھا
لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ کائنات میں ازل سے ابد تک جو کچھ ہونا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہے، لکھا جا چکا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی یاترمیم نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے پہلی ہی غزل میں کہا تھا، اور وہ بھی خدا کو مخاطب کر کے کہ وہ ایسا صبرِ صمیم ہے جس نے اپنی مرضی سے، اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے بارِ امانت سر پہ لیا تھا۔ وہ جانوروں کی طرح ایک ہی بات کرنے پر، ایک ہی راہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں۔ اسے انتخاب کرنے کا استحقاق (privilege) حاصل ہے۔ وہ ایسا اسمِ عظیم ہے جس کو جِن و ملک نے سجدہ کیا تھا۔ اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ ’’جو پایا ہے وہ تیرا ہے / جو کھویا وہ بھی تیرا تھا‘‘، تو اس سے لاچاری کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو صرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے؛ انسان اس میں سے کچھ پا لیتا ہے، کچھ کھو دیتا ہے۔ اس کی خواہشوں کی تکمیل کا دارومدار اس کے اپنے فیصلوں اور اپنی کوششوں پر ہے:
دیکھ کے تیرے دیس کی رچنا
میں نے سفر موقوف کیا تھا
———-
نئی انوکھی بات سنا کر
میں تیرا جی بہلاتا تھا
———–
تجھ کو جانے کی جلدی تھی
اور میں تجھ کو روک رہا تھا
——–
ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ
میں طوفانوں سے کھیلا تھا
انسان کے خیالات، اس کا اندازِنظر، اس کی زندگی کو دوزخ بنا سکتے ہیں اور جنت بھی ۔ جنت تلاش کرنے پر ملتی ہے:
وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا
اس کا نظریہ تقدیر یہ ہے کہ ہر شے کی حدود ہوتی ہیں اور ان حدود سے جھگڑنا، انھیں توڑنے کی کوشش کرنا نہ صرف بے سود بلکہ مضر بھی ہے اور ان کو جاننے اور تسلیم کر لینے ہی میں فلاح ہے:
ان سے الجھ کر بھی کیا کرتا
تین تھے وہ اور میں تنہا تھا
———-
میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی
گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا
———-
اب تجھے کیا کیا یاد دلاؤں
اب تو وہ سب کچھ ہی دھوکا تھا
———
دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا
’’وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی‘ ‘سے مراد ہے کہ جو کچھ ہو سکتا تھا وہی ہوا ہے۔ عِلّت اور معلول میں ایک ناگزیررشتہ ہوتا ہے۔’ ’وہی ملا ہے جو لکھا تھا‘ ‘اور’ ’اپنا لہناہی اتنا تھا‘‘ کے معنی ہیں کہ جو بویا تھا وہی کاٹا، جو کیا تھا اس کاہی صلہ ملا۔ انسان کو ملی ہوئی صلاحیتوں کے کئی (مگر تعداد میں مقرر) امتزاجات ممکن ہیں، مگر وہ ان میں سے ایک ہی کا انتخاب کر سکتا ہے اور کچھ چننے کے لیے بہت کچھ چھوڑنا بھی پڑتا ہے۔ انسان کا اختیار اس کی مجبوری بھی ہے اور اس کی مجبوری ہی میں اس کا اختیار مضمر ہے۔ زندگی ہر لحظہ چننے اور مسترد کرتے رہنے کا نام ہے لیکن انسان ایک بار فیصلہ کر لے اور اس کے مطابق عمل پیرا ہو تو پھر اس عمل کے عواقب کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ انتخاب سے پہلے آدمی کے سامنے کئی راہیں کھلی ہوتی ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک پر چل نکلنے کے بعد باقی تمام اس کے لیے بند ہو جاتی ہیں۔ اب اگر بعد کو اسے یہ علم یا احساس ہو کہ اس کا فیصلہ غلط تھا، یا اسے چھوڑی ہوئی راہوں میں کشش محسوس ہونے لگے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجبور اور بے بس ہے۔ انسان ہر وقت ہر جگہ نہیں ہو سکتا۔ وہ سب کچھ کر نہیں سکتا، وہ سب کچھ ہونہیں سکتا۔
-۴-
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تُو نہ مِلتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
(ب س ک)
’پہلی بارش ‘ محض دو اشخاص کے ملنے اور بچھڑنے کی کہانی نہیں ہے۔ ’میں‘اور ’تو‘ علامتیں ہیں داخل اور خارج کی؛ نمائندے ہیں فرد اور معاشرے کے۔ ’’انسان کو معاشرے اور تنہائی دونوں کی ضرورت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے زوج ہیں یا اس کی زکا دونوں کی صحیح ترکیب ہی سے ممکن ہے۔ شاید اسی لیے انسان دوسرے انسان سے جدا ہو کر، تنہاہوکر، رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں۔ وہاں وہ خود اپنے آپ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ وہاں ان کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں جن تک ان کے شعور کی رسائی نہیں ہوتی۔ مارٹن لوتھرنے اس امر کا اعتراف کیا ہے۔ محبت کی پرورش کے لیے بھی تنہائی اور خاموشی کی ضرورت ہے۔‘‘ (اقتباس از ’ناصر کاظمی: ایک دھیان‘ از شیخ صلاح الدین)
لیکن عام آدمی تو تنہائی سے بھاگتا ہے۔ وہ اسیرِ بزم ہوتا ہے۔ ’’تنہائی عام آدمی کو اس لیے ڈراتی ہے کہ اس میں دنیا کے ہنگاموں کا شور ماند پڑجاتا ہے اور کان خاموشی کا نغمہ سننے کی تاب نہیں لا پاتے، اس کے لیے دل کے کان کھولنے پڑتے ہیں۔ عام آدمی کو یہ عمل حالتِ نزع کے ممثل نظر آتا ہے۔ وہ گھبراجاتا ہے، تنہائی سے نکل بھاگتا ہے اپنے آپ کو ہجوم میں گم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ (ایضاً)
چنانچہ خیالات اور جذبات کی پرورش کے لیے قدرت نے انسان کو لازماً بلکہ جبراً تنہائی اور خاموشی کے لمحات میں ڈالنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ حادثات، بیماریاں، پیاروں کا بچھڑنا وغیرہ، ایسے واقعات ہیں جو اسے درد سے آشنا کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف اور کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کی صحبت میں اس کا جی نہیں لگتا۔ بعض اوقات تو اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ درد اسے کانٹے کی طرح مسلسل، ہمہ وقت چبھتا رہتا ہے۔ زندگی بوجھل اور کٹھن ہو جاتی ہے۔ ایسے میں یا تو وہ ہتھیار ڈال دیتا ہے اور موت کے راستے پر چل نکلتا ہے یا پھر اس کے اندر کا تخلیقی انسان جسے ناصر کاظمی ’شاعر‘ کہتے ہیں، بیدار ہوتا ہے؛ اس کی بہت سی خفتہ اور نہفتہ صلاحتیں بروئے کار آتی ہیں، اور وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے:
درد کانٹا ہے اس کی چبھن پھول ہے
درد کی خامشی کا سخن پھول ہے
(دیوان)
ناصر کاظمی کے ہاں شاعری کے معنی بہت وسیع تھے۔ اپنے اسی آخری انٹرویو میں کہتے ہیں: ’’مجھے غزل، قطعہ، رباعی، آزاد نظم وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ تمھیں پتا ہے کہ شاعری صرف مصرعے لکھنے کا نام نہیں۔ شاعری تو ایک نقطہِ نظر ہے زندگی کو دیکھنے کا، چیزوں کو دیکھنے کا؛ ان کو موزوں طریقے سے بیان کرنے کا نام شاعری ہے۔‘‘ اسی گفتگو کا ایک اور ٹکڑا ملا حظہ ہو:
ناصر: آپ یہ دیکھیے کہ بعض لوگ مختلف شعبوں میں پڑے ہیں اور وہ شاعر ہیں، تخلیقی لوگ ہیں۔ ننھے ننھے مزدور —- میں نے تو دفتروں میں بعض کلرکوں کو دیکھا ہے اور بعض ریڈیو میں، بعض ادھر اُدھر اور اداروں میں؛ وہ بڑے تخلیقی لوگ ہیں؛ وہ بڑے خاموش خادم ہیں۔ اس سے بڑا کون شاعر ہے —- انجن ڈرائیور سے بڑا، جو کتنے ہزار اور کتنے سو مسافروں کو لاہور سے کراچی لے جاتا ہے اور کراچی سے واپس لاتا ہے۔ مجھے یہ آدمی بہت پسند ہے۔ اورایک کانٹے والا، پھاٹک بند کرنے والا؛ یہ بھی شاعر ہیں، میری برادری کے لوگ۔ اپنا اپنا role ہے۔ آپ کو پتا ہے اگر وہ پھاٹک کھول دے، جب گاڑی آرہی ہو، تو کیا قیامت آئے؟ بس شاعر کا بھی یہی کام ہے کہ کس وقت پھاٹک بند کرناہے؛ جب گاڑی گزرتی ہے، اس وقت۔
انتظار: لیکن ایسے شاعر بھی تو تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب پھاٹک کو بند رہنا چاہیے، اس وقت کھول دیتے ہیں اور جب کھولنا چاہیے، بند کردیتے ہیں۔
ناصر: کیونکہ وہ صرف اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ شاعر جو ہے وہ ساری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب اوروں کا بھلا ہو گا تو اس کا اپنا بھلا خودبخود ہو گا۔ ‘‘
گویا انسان جو بھی، جہاں بھی ہو، تخلیقی ہو سکتا ہے؛ اسے تخلیقی ہونا چاہیے، یہی اس کی معراج ہے۔ لیکن اس معراج کو پانے کے لیے اسے تنہائی کے جوکھم سے گزرنا پڑے گا۔ ناصر کاظمی نے اپنے ایک ریڈیو فیچر، ’شاعر اور تنہائی‘ (مطبوعہ ’خشک چشمے کے کنارے‘) میں لکھاتھا: ’’روزِازل سے تنہائی شاعر کا مقدر ہے ]یہاں مقدر سے مراد مجبوری نہیں بلکہ اس کے قرآنی معانی پر توجہ دینا ہو گی۔ ’’وَخلقَ کُلَّ شٗئیً فَقَدَّ رَہٗ تَقدِیرًا‘‘ (اللہ نے ہر شے پیدا کی اور اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقرر کر دیا) —- ہر شے کے خواص اور امکانات اس کی تقدیر ہیں۔ اقبال کے ہاں بھی یہ لفظ انھیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔[ تخلیق کی لگن اسے خلوتوں میں لیے پھرتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انسانی تہذیب کا سورج تنہائی کے غاروں ہی سے طلوع ہوا۔ اس لیے تنہائی تخلیقی زندگی کے لیے ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔ تخلیقی انسان زندگی کے لیے تنہائی کے دکھ اٹھاتا ہے اور جب اس بھری دنیا میں وہ اکیلا رہ جاتا ہے تو اپنے معبودِ حقیقی کے حضور یوں فریاد کرتا ہے:
تیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہ
اپنے لیے لامکاں میرے لیے چار سو
انسان اپنے چار سو سے باہر نہیں نکل سکتا۔ آزادی انسان کی ازلی آرزو ہے لیکن تنہائی سے عہدنامہ کیے بغیر یہ آزادی ممکن نہیں۔
دنیا کی ہر شے تنہائی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ اس عالم کی تمام مخلوقات تنہائی کے پردوں ہی میں نشوونما پاتی ہیں۔ انسان شعور رکھتا ہے، اس لیے وہ تمام مخلوقات کے مقابلے میں سب سے زیادہ حساس ہے۔ شعور و آگہی کا یہ آشوب اسے آسمان و زمین کی وسعتوں میں حیران و سرگرداں لیے پھرتا ہے۔ شاعر کی تنہائیوں نے اس دنیا کے گوشے گوشے کو ایک حیاتِ تازہ بخشی ہے اور اس کی تنہائی کا یہ سفر ابد تک جاری رہے گا۔۔۔‘‘
’پہلی بارش‘ کے مرکزی کردار کی زندگی میں بھی ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب اس کے اندر کا شاعر بیدار ہوتا ہے اور اسے ایک نئی دنیا تخلیق کرنے پر؛ ایک نیا طرزِ زیست دریافت کرنے اور اپنانے پر مجبور کرتا ہے —- ’’پچھلی رات کی تیز ہوا میں / کورا کاغذ بول رہا تھا۔‘‘ وہ جب تک غیرتخلیقی زندگی بسر کرتا رہا، کمزور، خوف زدہ اور محتاج رہا؛ تنہائی اس کے لیے دوزخ تھی جس میں وہ ’’لکڑی کی طرح جلتا تھا‘‘، لیکن جب اسے شعور ملا، اس کا احساس جاگا، اس کے اندر تخلیقی سوتے پھوٹے، وہ قوی، جرأت مند اور خودمختار ہو گیا؛ اس نے اپنی جنت کو پالیا، لیکن کہیں باہر نہیں بلکہ:
وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا
تنہائی مرے دل کی جنت
میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
باصر سلطان کاظمی
اگست 1983
متفرق اشعار
یہ آئنہ تری خاطر سنبھال کر رکھا
جو دل دُکھا بھی تو ہونٹوں نے پھول برسائے
خوشی کو ہم نے شریکِ ملال کر رکھا
……
ہم سبو گھر سے نکلتے ہی نہیں اب ناصر
میکدہ رات گئے اب بھی کھلا ہوتا ہے
………
اہلِ خرد کے ماضی و حال
چند کتابیں چند خیال
دُکھ کی دُھوپ میں یاد آئے
تیرے ٹھنڈے ٹھنڈے بال
………
ترے بغیر بھی خالی نہیں مری راتیں
ہے ایک سایہ مرے ساتھ ہمنشیں کی طرح
………
قصے تری نظر نے سنائے نہ پھر کبھی
ہم نے بھی دل کے داغ دکھائے نہ پھر کبھی
اے یادِ دوست آج تو جی بھر کے دل دُکھا
شاید یہ رات ہجر کی آئے نہ پھر کبھی
……
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج ترے ملنے سے
یہ الگ بات کہ وہ بات نہ تھی پہلی سی
۱۳ اپریل ۱۹۶۴
………
آپ کیوں رُک گئے چلتے چلتے
آپ کو میں نے بلایا تو نہ تھا
۱۸ اپریل ۱۹۷۱
………
میں تو بیتے دِنوں کی کھوج میں ہوں
تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ
۱۹۶۴
………
چین سے بیٹھنے نہیں دیتی
موسمِ یاد کی اُداس ہوا
………
پھیلتی جاتی ہے ناصر رنجِ ہستی کی رِدا
اور سمٹتے جا رہے ہیں پاؤں پھیلانے کو ہم
……
تمام عمر یونہی ہم نے دُکھ اُٹھایا ہے
زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے
……
چار گھڑی یاروں کا میلہ، پھر خاموشی
پہروں تنہا بیٹھ کے رونا پھر خاموشی
اس سے تو ہم سوئے ہی رہتے صبح نہ ہوتی
نیند اُڑا کر اُڑ گئی چڑیا، پھر خاموشی
۱۹۶۳
………
ہوا بھی چل رہی ہے اور جاگتی ہے رات بھی
کوئی اگر کہے تو ہم سنائیں دل کی بات بھی
۲۰ جنوری ۱۹۶۷
………
میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
وہ آئنے میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا
۲۱ جون ۱۹۶۷
………
یوں تو اے ہم سخنو بات نہیں کہنے کی
بات رہ جائے گی یہ رات نہیں رہنے کی
۱ فروری ۱۹۶۷
………
نالہِ آخر شب کس کو سناؤں ناصر
نیند پیاری ہے مرے دور کے فن کاروں کو
۱۹۵۵
………
کہیں کہیں کوئی روشنی ہے
جو آتے جاتے سے پوچھتی ہے
کہاں ہے وہ اجنبی مسافر
کہاں گیا وہ اُداس شاعر
۳۰ دسمبر ۱۹۷۱