admin کی تمام پوسٹیں

تصوّف

ہم تصوّف کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی!

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں

تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی دن رات کی پاکوبی کا حاصل پایا

ہم تصوّف کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ سرِ منزل پایا

ن م راشد

تسلسل کے صحرا میں

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تغیر کا تنہا نشاں؛

تسلسل کے صحرائے جاں سوختہ میں

صدائیں بدلتے مہ و سال

ہوائیں گزرتے خدوخال

تنہا نشانِ فراق و وصال

تسلسل کے صحرا میں

اک ریت ٹیلے کی آہستہ آہستہ ریزش

کسی گھاس کے نامکمل جزیرے میں اک جاں بلب

طائرِ شب کی لرزش

کسی راہ بھٹکے عرب کی سحر گاہ حمد و ثنا

تسلسل کے بے اعتنا رات دن میں تغیر کا

تنہا نشاں۔۔۔ محبت کا تنہا نشاں!

صبا ہو کہ صرصر کہ بادِ نسیم

درختوں کی ژولیدہ زلفوں میں بازی کناں

اور ذرّوں کے تپتے ہوئے سرخ ہونٹوں

سے بوسہ ربا

جب گزرتی ہے، بیدار ہوتے ہیں اس کی صدا

سے بدلتے ہوئے حادثوں کے نئے سلسلے

نئے حادثے جن کے دم سے تسلسل کا رویا یقیں

نئے حادثے جن کے لطف و کرم کی نہایت نہیں!

تسلسل کے صحرا میں میرا گزر کل ہوا

تو یادیں نگاہوں کے آگے گزرتے ہوئے رہگزر

بن گئیں:

پہاڑوں پہ پانی کے باریک دھارے

فرازوں سے اترے، بہت دور تک دشت و در

میں مچلتے رہے، پھر سمندر کی جانب بڑھے

اور طوفاں بنے،

اُن کی تاریک راتیں سحر بن گئیں!

ازل کے درختوں میں سیبوں کے رسیا

ہمارے جہاں دیدہ آبا

درختوں سے اُترے، بہت دُور تک دشت و در

میں بھٹکتے رہے، پھر وہ شہروں کی جانب بڑھے

اور انساں بنے، ہر طرف نور باراں بنے

وہ سمت و صدا جو سفر

کا نشاں تھیں

وہی منتہائے سفر بن گئیں!

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تسلسل کا رازِ نہاں، تغیر کا تنہا نشاں

محبت کا تنہا نشاں

ن م راشد

پہلی کرن

کوئی مجھ کو دُور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو

کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستیِ رائیگاں سے؟

کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر

عبث بن رہا ہہے ہمارا لہو مومیائی

میں اُس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے، نانِ

شبینہ نہیں ہے

اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکتِ باستاں سے

اور اب بھی ہے امیدِ فردا کسی ساحرِ بے نشاں سے

مری جاں، شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوں

میں اس خشت کوبی سے اُکتا گیا ہوں

کہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیں

جنھوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھا؟

تری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائے

جسے پی کے سو جائے ننھی سی جاں

جو اِک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینہ ءِ مہرباں سے

جو واقف نہیں تیرے دردِ نہاں سے؟

اسے بھی تو ذلت کی پایندگی کے لیے آلہ ءِ کار بننا پڑے گا

بہت ہے کہ ہم اپنے ابا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں

آج بے دست و پا ہیں

اس آئیندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں

مگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھی

یہ شہنائیاں سُن رہی ہو؟

یہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائی

نہیں، اس دریچے کے باہر تو جھانکو

خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے

اُسی ساحرِ بے نشاں کا

جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھا

یہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں، سُن لو

یہی ہے نئے دور کا پرتوِ اولیں بھی

اٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میں

مل کے دھومیں مچائیں

شعاعوں کے طوفاں میں بے محابا نہائیں

ن م راشد

پرانی سے نئی پود تک

رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تبسّم نہ رہا

رات جب باغ کی آنکھوں میں

تماشا کا تکلّم نہ رہا

غنچے کہنے لگے:

’’رکنا ہے ہمیں باغ میں ’’لا سال‘‘ ابھی‘‘

صبح جب آئی تو لا سال کے

جاں کاہ معمّا کا فسوں بھی ٹوٹا!

صبح کے نام سے اب غنچے بہت ڈرتے ہیں

صبح کے ہاتھ میں

جرّاح کے نشتر سے بہت ڈرتے ہیں

وہ جو غنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں

ایک لمحہ تھا بہت ہی روشن

وہی اب ان کے پگھلتے ہوئے جسموں میں

گُلِ تازہ کے بہروپ میں

کِن زخموں سے دل گیر ہے، آشفتہ ہے!

رات میں خواب بھی تھے

خوابوں کی تعبیر بھی تھی

صبح سے غنچے بہت ڈرتے ہیں!

غنچے خوش تھے کہ یہ پھول

ہوبہو اُن کے خد و خال لیے

اُن کا رنگ، ان کی طلب،

ان کے پر و بال لیے

اُن کے خاموش تبسّم ہی کی پنہائی میں ۔۔

کیا خبر تھی انہیں وہ کیسے سمندر سے

ہوئے ہیں خالی!

جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سے

یہ ساری چٹانیں اٹھیں

جیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سے

سارے ستارے اُبھرے

جیسے اک دانہ ءِ انگور سے

افسانوں کا سیلاب اُٹھا

جیسے اِک بوسے کے منشور سے

دریا جاگے

اور اک درد کی فریاد سے

انساں پھیلے

اُنھیں (اُن غنچوں کو) امید تھی

وہ پھول بھی اُن کے مانند

ان کی خودفہمی کی جویائی سے

پیدا ہوں گے

اُن کے اُس وعدہ ءِ مبرم ہی کا

ایفا ہوں گے

پھول جو اپنے ہی وہموں کے تکبّر کے سوا

کچھ بھی نہیں

اُن کی (اُن غنچوں کی)

دلگیر صدا سنتے ہیں،

ہنس دیتے ہیں!

ن م راشد

بے کراں رات کے سناٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں

جذبہ ءِ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بے کراں رات کے سناٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تُو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں میں

ایک مدت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پنہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں میں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں!

ن م راشد

بے مہری کے تابستانوں میں

بے مہری، بے گانہ پن کے تابستانوں میں

ہر سو منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

اور ساتھ اپنے اک ابدیت لاتے ہیں

شہروں پر خلوت کی شب چھا جاتی ہے

غم کی صرصر تھرّاتی ہے ویرانی میں

اونچے طاقتور پیڑوں کے گرنے کی آوازیں آتی ہیں

میدانوں میں!

بے مہری بے گانہ پن کے تابستانوں میں

جس دم منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

جب ہم اپنی روحوں کو

لا ڈالتے ہیں یوں غیریت کے دو راہوں میں

روحیں رہ جاتی ہیں جسموں کے نم دیدہ پیراہن

یا جسموں کے بوسیدہ اترن

ہر بے مہری کے ہنگام!

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

انساں سب سے بیش بہا ہے،

کیوں اُس کی رسوائی ہو

بے بصری کے بازاروں کی بے مایہ دکانوں میں؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

ہم سب فرد ہیں، ہم پر اپنی ذات سے بڑھ کر

کس آمر کی دارائی ہو؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

۔۔۔ ہم سب ہست ہیں، ہم کیوں جاں دیں

مذہب اور سیاست کے نابودوں پر؟

موہوموں کی فوقیت دیں

آگاہی کی آنکھوں سے، موجودوں پر؟

بے مہری کے زنبور گئے تو

ذہنِ اوہامِ باطن کی

شوریدہ فصیلوں سے نکلے

غم کے آسیب ایذا کے

نادیدہ وسیلوں سے نکلے

پھر ہم لحنِ آب و زمیں کی

قندیلوں سے سرشار ہوئے

ہم نے دیکھا، ہم تم گویا تاک سے پُر ہیں

ہم تم اس خورشید سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

ذرّے جس کے دامن میں

ہم تم شیوہ ءِ باراں سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

نغمے جس کے دامن میں

ہم دریا سے پُر ہیں

ہم ساحل سے پر ہیں

ہم موجوں سے پر ہیں

ہم ایک بشارت سے پر ہیں!

ن م راشد

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

ہیں ابھی رہگزرِ خواب میں اندیشے

گداؤں کی قطار

سرنِگوں، خیرہ نگاہ، تیرہ گلیم

گزرے لمحات کا انبار لگائے

شب کی دریوزہ گری کا حاصل!

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

ریزشِ آب سرِ برگ سنائی دی ہے

اور درختوں پہ ہے رنگوں کی پکار

کتنے زنبور مرے کمرے میں در آئے ہیں

نوشِ جاں! بزمِ سحر گاہ کی ہو

ایک ہنگامہ پلٹ آیا ہے!

(خواب کا چہرہ ءِ زیبا کبھی لوٹ آئے گا

لبِ خنداں بھی پلٹ آئیں گے!)

عشق ہو، کام ہو، یا وقت ہو یا رنگ ہو

خود اپنے تعاقب میں رواں

اپنی ہی پہنائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

تاک کی شاخ سے تا لرزشِ مَے

لرزشِ مَے سے تمناّؤں کی رعنائی تک

اور تمنّاؤں کی گلریزی سے

صبحِ انگور کی دارائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

پاؤں کی چاپ لباسوں کی صریر

اور بڑھتی ہوئی کوچوں کی نفیر

نوشِ جاں! کام کا ہنگامہ

یہی عشق بھی ہے، چہرہ ءِ زیبا بھی یہی

یہی پھولوں کا پر و بال بھی ہے

رنگِ لب ہائے مہ و سال بھی ہے!

ن م راشد

بے سُرا الاپ

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

وہاں ابھی تک درخت اپنی برہنگی میں

پکارتے ہیں۔۔

پکارتے ہیں:

’’دھنک کی خوشبو

وہ خواب لا دے

کہ جن سے بھر جائیں رات بھر میں

سبو ہمارے‘‘

وہ چاند، کل شب،

جسے ہم اپنے دلوں کے پیالوں

میں قطرہ قطرہ

انڈیلتے رہ گئے تھے، اُس کو

ہنسی ہنسی میں

ابھی کوئی شخص، لمحہ پہلے،

چڑھا کے پیالہ پٹک گیا ہے ۔۔

یہ دیکھتے ہی

گلی کا ملّا بہت ہی رویا:

’’خلا سے کچھ عرش کی خبر بھی؟‘‘

(نفی میں کیسے نفی کا جویا!)

’’وہ چاند کے آر پار۔۔ گویا ۔۔

کہیں نہیں تھا؟

عجیب! گویا کہیں نہیں تھا!‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی ہے

دھنک کی خوشبو

وہ اُن میں فردا کی نا رسائی کے اشک

چپ چاپ بو رہا ہے ۔۔۔

وہ ہنس رہا ہے:

’’اگر زمیں گھومتی ہے، کیونکر

یہ لوگ صحنوں کو لوٹ آئے سحر سے پہلے

کوئی پرندہ نہ راہ بھولا سفر سے پہلے؟‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

خلا سے آتی ہوئی صدائیں

اب اُن کے دیوار و بام کو

تھپتھپا رہی ہیں،

ہمارے بوڑھے نزار چہروں پہ لطمہ زن ہیں

کہ رات کے دل فریب رویا

ہمارے سینوں میں

بے سُرا الاپ بن کر

اٹک گئے ہیں!

ن م راشد

بے چارگی

میں دیوارِ جہنم کے تلے

ہر دوپہر، مفرور طالب علم کے مانند

آ کر بیٹھتا ہوں اور دزدیدہ تماشا

اس کی پراسرار و شوق انگیز جلوت کا

کسی رخنے سے کرتا ہوں!

معرّی جامِ خوں در دست، لرزاں

اور متبنّیٰ کسی بے آب ریگستاں

میں تشنہ لب سراسیمہ

یزید اِک قلّہ ءِ تنہا پر اپنی آگ میں سوزاں

ابوجہل اژدہا بن کر

خجالت کے شجر کی شاخ پر غلطاں

بہأاللہ کے جسمِ ناتواں کا ہر

رواں اِک نشترِ خنداں

زلیخا، ایک چرخِ نور و رنگ آرا

سے پابستہ

وہیں پہیم رواں، گرداں

ژواں، حلّاج، سرمد

چرسی انسان کی طرح ژولیدہ مو، عریاں

مگر رقصاں

ستالن، مارکس، لینن روئے آسودہ

مگر نارس تمنّاؤں کے سوز و کرب سے شمع تہِ داماں

یہ سب منظور ہے یارب

کہ اس میں ہے وہ ہاؤ ہو، وہ ہنگامہ وہ سیمابی

کہ پائی جس سے ایسی سیمیائی صورتوں نے

روحِ خلاّقی کی بے تابی

مگر میرے خدا، میرے محمدؐ کے خدا مجھ سے

غلام احمد کی برفانی نگاہوں کی

یہ دل سوزی سے محرومی

یہ بے نوری یہ سنگینی

بس اب دیکھی نہیں جاتی

غلام احمد کی یہ نا مردمی دیکھی نہیں جاتی

نیویارک ۔ 16، دسمبر 1953

ن م راشد

بے پر و بال

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں،

(نیم شب کون ہے آوارہ دعاؤں کی طرح

لو چلے آتے ہیں وہ عقدہ کشاؤں کی طرح)

اور وہ راہروِ سادہ کسی اشک، کسی قہقہے کی تہہ میں

سینہ خاک نشینوں کی نوا سُن نہ سکے ۔۔۔

ہم ہیں وہ جن پہ نظر ڈالی ہے سلطانوں نے

ہیں کہاں اور گدا ہم سے گداؤں کی طرح؟

جن سے ہیں آج بھی گلیوں کے شبستاں روشن

کسی جبّار کے کوَڑوں کی صدا سن نہ سکے

(بندگی کام ہے اور بندہ ءِ دولت ہم ہیں ۔۔۔)

منہ پہ اوڑھے ہوئے دستور کا کوتہ دامن

(تُو خداوند ہے کرامر خداؤں کی طرح)

اور اجڑے ہوئے سینوں کا خلا سن نہ سکے

سنسناتے ہوئے ارمانوں کے جن میں ۔۔۔

(شبِ تنہائی در و بام ڈراتے ہیں مجھے

دل میں اندیشے اترتے ہیں بلاؤں کی طرح

ہم سے کیوں خانہ خرابی کا سبب پوچھتے ہو؟

کس نے اس دور میں ڈالی ہے جفاؤں کی طرح)

گو زمانے کا ہر اک نقش، ہر اک چیز سرِ رہگزرِ باد سہی

یاد اِک وہم سہی، یاد تمناؤں کی فریاد سہی

سر سے ڈھل جائے کہیں راحتِ رفتہ کا خمار

شامِ دارائی کا آسودہ غبار؟

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں

وہ کبھی سرخیِ دامن میں

کبھی شوقِ سلاسل میں

کبھی عشق کی للکار میں لوٹ آتے ہیں

بے پر و بالیِ انساں کی شبِ تار میں لوٹ آتے ہیں

جی کے آزار میں لوٹ آتے ہیں

ن م راشد

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

جذبہء شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذّت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کے لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں مَیں

ایک مدّت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پناہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں مَیں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

ن م راشد

بوئے آدم زاد

۔۔۔ بوئے آدم زاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں؟

دیو اس جنگلے کے سنّاٹے میں ہیں

ہو گئے زنجیر پا خود اُن کے قدموں کے نشاں!

۔۔یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا

چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے

آج اسی جنگل میں اُن کے پاؤں شل ہیں ہاتھ سرد

اُن کی آنکھیں نور سے محروم، پتھرائی ہوئی

ایک ہی جھونکے سے اُن کا رنگ زرد

ایسے دیووں کے لیے بس ایک ہی جھونکا بہت

کون ہے بابِ نبرد؟

۔۔۔ ایک سایہ دیکھتا ہے چھپ کے ماہ و سال کی شاخوں سے آج

دیکھتا ہے بے صدا، ژولیدہ شاخوں سے انہیں

ہو گئے ہیں کیسے اُ س کی بُو سے ابتر حال دیو

بن گئے ہیں موم کی تمثال دیو!

۔۔۔ ہاں اتر آئے گا آدم زاد ان شاخوں سے رات

حوصلے دیووں کے مات!

ن م راشد

برزخ

ن م راشد

سنہ 1955

شاعر:

اے مِری رُوح تجھے

اب یہ برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں

عشق بپھرا ھوُ دریا ھے، ھوس خاک سیاہ

دست و بازوُ نہ سفینہ کہ یہ دریا ھو عبوُر

اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشان کفِ پا تک نہیں

اُجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسہء سر آویزاں

کِسی سفّاک تباھی کی اَلمناک کہانی بن کر!

اے مِری رُوح، جُدائی سے حَزیں رُوح مِری

تجھے برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں؟

رُوح:

میرا ماوےٰ نہ جہنم، مِرا مَلجا نہ بہشت

برزخ اُن دونوں پر اِک خندہء تضحیک تو ھے

ایک برزخ ھے جہاں جوروستم، جودوکرم کچھ بھی نہیں

اس میں وہ نفس کی صَرصَر بھی نہیں

جسم کے طوُفاں بھی نہیں

مُبتلا جن میں ھم انسان سدا رھتے ھیں

ھم سیہ بخت زمیں پر ھوں، فلک پر ھوں کہیں

ایک برزخ ھے جہاں مَخمل و دیبا کی آسُودگی ھے

خوابِ سرما کی سی آسُودگی ھے

ن م راشد

بادل (سانیٹ)

چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر

آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگ

میرے لیے ہے اُن کی گرج میں سرودِ چنگ

پیغامِ انبساط ہے مجھ کو صدائے ابر

اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں میں نوائے ابر

اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جلترنگ

گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہر امنگ

دل میں اُتر رہے ہیں مرے نغمہائے ابر

مدت سے لٹ چکے تھے تمنا کے بار و برگ

چھایا ہوا تھا روح پہ گویا سکوتِ مرگ

چھوڑا ہے آج زیست کو خوابِ جمود نے

ان بادلوں سے تازہ ہوئی ہے حیات پھر

میرے لیے جوان ہے یہ کائنات پھر

شاداب کر دیا ہے دل اُن کے سرود نے!

ن م راشد

بات کر

بات کر مجھ سے

مجھے چہرہ دکھا میرا کہ ہے

تیری آنکھوں کی تمازت ہی سے وہ جھلسا ہوا

بات کر مجھ سے

مرے رخ سے ہٹا پردہ

کہ جس پر ہے ریا کاری کے رنگوں کی دھنک

پھیلی ہوئی

وہ دھنک جو آرزو مندی کا آیئنہ نہیں

بامداد شوق کا زینہ نہیں!

(تو نے دیکھا تھا کہ کل میں (اک گداگر

صبح کی دیوار کے سائے تلے

ٹھٹھرا ہوا پایا گیا

تیری آنکھیں، تیرے لب تکتے رہے

ان کی گرمی پر یقیں کیسے مجھے آتا کہ میں

اپنے دل کے حادثوں کی تہہ میں تھا

یادوں سے غزلایا ہوا!

بات کر مجھ سے

کہ اب شب کے سحر بننے میں

کوئی فاصلہ باقی نہیں

بات کر مجھ سے کہ تیری بات

خطّ نسخ ہو بر روئے مرگ

اب اتر جا چشم و گوش و لب کے پار

اجڑے شہروں کی گزرگاہوں پہ

آوازوں کی قندیلیں اتار

راز کی لہریں

ابھر آئیں قطار اندر قطار!

ن م راشد

اے وطن اے جان

اے وطن، اے جان

تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں

میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے

خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی

اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے

جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب

دستگیری کی تمنّا سالہا جارہی رہی

لیکن اپنے علم و دانش کا ثمر اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا

سر تہی نقلی خدا تھے خیر و قوّت کا نشاں

اور انساں، اہلِ دل انساں شریر و ناتواں

اے وطن ترکے میں پائے تُو نے وہ خانہ بدوش

جن کو تھی کہنہ سرابوں کی تلاش

اور خود ذہنوں میں اُن کے تھے سراب

جس سے پسپائی کی ہمت بھی کبھی ان میں نہ تھی

اے وطن کچھ اہلِ دیں نے اور کچھ انساں پرستوں نے تجھے اِنشا کیا

عالمِ سکرات سے پیدا کیا

تاکہ تیرے دم سے لوٹ آئے جہاں میں عفّتِ انساں کا دَور!

دشمن اُس خواہش پہ خندہ زن رہے اور دوست اس پر بدگماں

اے وطن اے جان تُو نے دوست اور دشمن کا دل توڑا نہیں

ہم ریاضی اور ادب کو بھول کر

سیم و زر کی آز کے ریلے میں یوں بہتے رہے

جیسے ان بپھری ہوئی امواج کا ساحل نہ ہو

اُس یقیں کا اس عمل کا اس محبت کا یہی حاصل تھا کیا؟

اے وطن، اے جان ہر اک پل پہ تو استادہ ہے

بن گیا تیری گزرگاہ اک نیا دورِ عبور

یوں تو ہے ہر دورِ نَو بھی ایک فرسودہ خیال

حرف اور معنی کا جال!

آج لیکن اے وطن، اے جاں تجھے

اور بھی پہلے سے بڑھ کر حرف و معنی کے نئے آہنگ کی ہے جستجو

پھر ریاضی اور ادب کے ربطِ باہم کی طلب ہے رُوبرو!

ن م راشد

اے غزال شب!

اے غزال شب،

تری پیاس کیسے بجھاؤں میں

کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے؟

وہ سراب ساحرِ خوف ہے

جو سحر سے شام کے رہ گزر میں فریبِ رہرو سادہ ہے

وہ سراب زادہ، سراب گر، کہ ہزار صورتِ نوبنو

میں قدم قدم پہ ستادہ ہے،

وہ جو غالب و ہمہ گیر دشتِ گماں میں ہے

مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا

مرے ہست و بود پہ چھا گیا!

اے غزالِ شب،

اُسی فتنہ کار سے چھپ گئے

مرے دیر و زود بھی خواب میں

مرے نزد و دُور بھی حجاب میں

وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالبِ دل میں ہے

کہ میں دیکھ پاؤں درونِ جاں

جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں

جہاں یہ سرابِ رواں نہیں،

اے غزالِ شب!

ن م راشد

اے سمندر

اے سمندر،

پیکرِ شب، جسم، آوازیں

رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو

پتھروں پر سے گزرتے

رقص کی خاطر اذاں دیتے گئے

اور میں، مرتے درختوں میں نہاں

سنتا رہا ۔۔

ان درختوں میں مرا اک ہاتھ

عہدِ رفتہ کے سینے پہ ہے

دوسرا، اِک شہرِ آیندہ میں ہے

جویائے راہ ۔۔۔۔

شہر، جس میں آرزو کی مے انڈیلی جائے گی

زندگی سے رنگ کھیلا جائے گا!

اے سمندر

اے سمندر،

آنے والے دن کو یہ تشویش ہے

رات کا کابوس جو دن کے نکلتے ہی

ہوا ہو جائے گی

کون دے گا اُس کے ژولیدہ سوالوں کا جواب؟

کس کرن کی نوک؟

کن پھولوں کا خواب؟

اے سمندر،

میں گنوں گا دانہ دانہ تیرے آنسو

جن میں آنے والا جشنِ وصل ناآسودہ ہے

جن میں فردائے عروسی کے لیے

کرنوں کے ہار

شہرِ آیندہ کی روحِ بے زماں

چنتی رہی ۔۔

میں ہی دوں گا جشن میں دعوت تجھے

استراحت تیری لہروں کے سوا

کس شے میں ہے؟

رات اِس ساحل پہ غرّاتے رہے

غم زدہ لمحات کے ترسے ہوئے کتوں کی نظریں

چاند پر پڑتی رہیں

اُن کی عَو عَو دور تک لپکی رہی!

اے سمندر،

آج کیونکر، ابر کے اوراقِ کہنہ

بازوئے دیرینہ ءِ امید پر اڑتے رہے

دور سے لائے نرالی داستاں!

چاند کی ٹوٹی ہوئی کشتی کی بانہوں پر رواں!

شہرِ آیندہ کے دست و پا کے رنگ

جیسے جاں دینے پہ سب آمادہ ہوں

دست و پا میں جاگ اٹھے

راگ کے مانند،

میں بھی دست و پا میں جاگ اٹھا!

اے سمندر،

کل کے جشنِ نو کی موج

شہرِ آیندہ کی بینائی کی حد تک آ گئی۔۔

اب گھروں سے،

جن میں راندہ روز و شب

چار دیواری نہیں،

مرد و زن نکلیں گے

ہاتھوں میں اُٹھائے برگ و بار

جن کو چھو لینے سے لوٹ آئے گی رو گرداں بہار!

اے سمندر۔۔

ن م راشد

ایک شہر

یہ سب سے نیا، اور سب سے بڑا اور نایاب شہر

یہاں آکے رکتے ہیں سارے جہاں کے جہاز

یہاں ہفت اقلیم کے ایلچی آ کے گزرتے ہیں

درآمد برآمد کے لاریب چشموں سے شاداب شہر

یہ گلہائے شبوں کی مہکوں سے، محفل کی شمعوں سے، شب تاب شہر

یہ اک بستر خواب شہر

دیبا و سنجاب شہر

یہاں ہیں عوام اپنے فرماں روا کی محبت میں سرشار

بطبیب دلی، قید و بند سلاسل کے ارماں کے ہاتھوں گرفتار

دیوانہ وار

یہاں فکر و اظہار کی حریت کی وہ دولت لٹائی گئی

کہ اب سیم و زر اور لعل و گہر کی بجائے

بس الفاظ و معنی سے

اہل قلم کے، خطیبوں کے، اُجڑے خزانے ہیں معمور

خیالات کا ہے صنم خانہ نقش گر میں وفور

مغنی کے پیچھے فقط چند شوریدہ سر بے شعور

مسافت یہاں صدر سے تابہ نعلین بس ایک دو گام

یہاں میزباں اور مہماں ہیں، ایک ہی شہد کے جام سے شاد کام

کہ یہ شہر ہے، عدل و انصاف میں

اور مساوات میں

اور اخوت میں

مانند حمام

یہاں تخت و پیہم ہوں یا کلاہ گلیم

ہے سب کا وہی ایک رب کریم

ن م راشد

ایک زمزمے کا ہاتھ

ابھرا تھا جو آواز کے نابود سے

اک زمزمے کا ہاتھ

اس ہاتھ کی جھنکار

نئے شہروں کا، تہذیبوں کا

الہام بنے گی

وہ ہاتھ نہ تھا دھات کے اک معبدِ کہنہ

سے چرایا ہوا، تاریخ میں لتھڑا ہوا

اک ہاتھ

وہ ہاتھ خداوندستمگر کا نہیں تھا

وہ ہاتھ گدا پیشہ پیمبر کا نہیں تھا

اس ہاتھ میں [تم دیکھتے ہو]

شمع کی لرزش ہے جوکہتی ہے کہ:

’’آؤ،

شاہراہ پہ بکھرے ہوئے اوراق اٹھاؤ

اس ہاتھ سے لکّھو!‘‘

کہتی ہے کہ :’’آؤ

ہم تم کونئے زینوں کے،

آئینوں کے، باغوں کے

چراغوں کے، محلوں کے، ستونوں کے

نئے خواب دکھائیں

وہ پھول جو صحراؤں میں شبنم سے جدا

[خود سے جدا]

ہانپتے ہیں، ان کے

نئے صحنوں میں انبار لگائیں

الجھے ہوئے لمحات جوافکار

کی دیواروں سے آویختہ ہیں

ان سے نئے ہار بنائیں

سینوں میں اتر جائیں،

پھرافسردہ تمنائیں جلائیں‘‘

کہتی ہے کہ:

’’دو وقت کی روٹی کا سہارا ہے یہی ہاتھ

جینے کا اشارہ ہے یہی ہاتھ

اس ہاتھ سے پھرجام اٹھائیں

پھرکھولیں کسی صبح کی کرنوں کے دریچے،

اس ہاتھ سے آتی ہوئی خوشبوؤں کو

آداب بجا لائیں!‘‘

کہتی ہے کہ:

’’افسوس کی دہلیز پر

اک عشقِ کہن سال پڑا ہے

اس عشق کے سوکھے ہوئے چہرے

پہ ڈھلکتے ہوئے آنسو

اس ہاتھ سے پونچھیں

یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ

جوسورج سے گرا ہے

ہم سامنے اس کے

جھک جائیں دعا میں

کہ یہی زندگی و مرگ کی ہردھوپ میں

ہر چھاؤں میں

الفاظ و معانی کے نئے وصل

کاپیغام بنے گا

ہر بوسے کا الہام بنے گا!‘‘

ن م راشد

ایک رات

یاد ہے اک رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

چاند کی کرنوں کا بے پایاں فسوں___ پھیلا ہوا

سرمدی آہنگ برساتا ہوا___ ہر چار سُو!

اور مرے پہلو میں تُو___!

میرے دل میں یہ خیال آنے لگا:

غم کا بحرِ بے کراں ہے یہ جہاں

میری محبوبہ کا جسم اک ناؤ ہے

سطحِ شور انگیز پر اس کی رواں

ایک ساحل، ایک انجانے جزیرے کی طرف

اُس کو آہستہ لیے جاتا ہوں میں

دل میں یہ جاں سوز وہم

یہ کہیں غم کی چٹانوں سے نہ لگ کر ٹوٹ جائے!

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات

تیرے دل میں راز کی ایک کائنات

تیری خاموشی میں طوفانوں کا غوغائے عظیم

سرخوشِ اظہار تیری ہر نگاہ

تیرے مژگاں کے تلے گہرے خیال

بے بسی کی نیند میں الجھے ہوئے!

تیرا چہرہ آبگوں ہونے کو تھا

دفعتاً، پھر جیسے یاد آ جائے اک گم گشتہ بات

تیرے سینے کے سمن زاروں میں اٹھیں لرزشیں

میرے انگاروں کو بے تابانہ لینے کے لیے

اپنی نکہت، اپنی مستی مجھ کو دینے کے لیے

غم کے بحرِ بے کراں میں ہو گیا پیدا سکوں

یاد ہے وہ رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

ن م راشد

ایک دنِ__لارنس باغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

چھایا ہوا ہے چار طرف باغ میں سکوت

تنہائیوں کی گود میں لپٹا ہوا ہوں میں

اشجار بار بار ڈراتے ہیں بن کے بھوت

جب دیکھتا ہوں اُن کی طرف کانپتا ہوں میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

وہ موسمِ نشاط! وہ ایامِ نو بہار

بھولے ہوئے مناظرِ رنگیں بہار کے

افکار بن کے روح میں میری اُتر گئے

وہ مست گیت موسمِ عشرت فشار کے

گہرائیوں کو دل کی غم آباد کر گئے

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

ہونے لگی ہے وقت سے پہلے ہی آج شام

دنیا کی آنکھ نیند سے جس وقت جھک گئی

جب کائنات کھو گئی اسرارِ خواب میں

سینے میں جوئے اشک ہے میرے رُکی ہوئی

جا کر اُسے بہاؤں گا کُنجِ گلاب میں

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

ن م راشد

ایک اور شہر

خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش،

تاریکی خود بے چشم و گوش!

اک بے پایاں عجلت راہوں کی الوند!

سینوں میں دل یوں جیسے چشمِ آزِ صیّاد

تازہ خوں کے پیاسے افرنگی مردانِ راد

خود دیوِآہن کے مانند!

دریا کے دو ساحل ہیں اور دونوں ہی ناپید

شر ہے دستِ سیہ اور خیر کا حامل روئے سفید!

اک بارِ مژگاں، اک لبِ خند!

سب پیمانے بے صرفہ جب سیم و زر میزان

جب ذوقِ عمل کا سرچشمہ بے معنی ہذیان

جب دہشت ہر لمحہ جاں کند!

یہ سب افقی انسان ہیں، یہ ان کے سماوی شہر

کیا پھر ان کی کمیں میں وقت کے طوفاں کی اِک لہر؟

کیا سب ویرانی کے دلبند؟

ن م راشد

ایران میں اجنبی

من وسلویٰ

’’خدائے برتر،

یہ دار یوشِ بزرگ کی سر زمیں،

یہ نو شیروانِ عادل کی داد گاہیں،

تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے،

یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے

آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟‘‘

ہم اِس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں،

وہ پہلا انگریز

جس نے ہندوستان کے ساحل پہ

لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری

یہ اس کا گناہ ہے

جو تیرے وطن کی

زمین گل پوش کو

ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!

یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،

مگر فرنگی کی رہزنی نے

اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کر دیا ہے،

ہم اِس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں،

وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:

’’کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ

جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،

اور اُس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،

اور ایشیائی،

قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،

اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں‘‘

مگر یہ ہندی

گرسنہ و پا برہنہ ہندی

جو سالکِ راہ ہیں

مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں،

گھروں کو ویران کر کے،

لاکھوں صعوبتیں سہہ کے

اور اپنا لہو بہا کر

اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،

کہ شاید انہی کے بازو

نجات دلوا سکیں گے مشرق کو

غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے___

یہ سوچتے ہیں:

یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے

لا کے ان کو ترے وطن میں

وہ آنچ بن جائے،

جس سے پھُنک جائے،

وہ جراثیم کا اکھاڑہ،

جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اُٹھتی ہے

اور دنیا میں پھیلتی ہے!___

میں جانتا ہوں

مرے بہت سے رفیق

اپنی اداس، بیکار زندگی کے

دراز و تاریک فاصلوں میں

کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند

آ نکلتے ہیں، را ہگزاروں پہ

جستجو میں کسی کے دو ’’ساقِ صندلیں‘‘ کی!

کبھی دریچوں کی اوٹ میں

ناتواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ

ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛

وہ دستِ سائل

جو سامنے اُن کے پھیلتا ہے

اس آرزو میں

کہ اُن کی بخشش سے

پارہ ءِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،

وہی کبھی اپنی نازکی سے

وہ رہ سجھاتا ہے

جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!

تو اِن مناظر کو دیکھتی ہے!

تو سوچتی ہے:

____یہ سنگدل، اپنی بزدلی سے

فرنگیوں کی محبتِ ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں

اِنہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے____!

محبتِ ناروا نہیں ہے،

بس ایک زنجیر،

ایک ہی آہنی کمندِ عظیم

پھیلی ہوئی ہے،

مشرق کے اک کنارے سے دوسرے کنارے تک،

مرے وطن سے ترے وطن تک،

بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں

ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!

مغول کی صبح خوں فشاں سے

فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!

تڑپ رہے ہیں

بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،

اور اپنے آلامِ جاں گزا کے

اس اشتراکِ گراں بہانے بھی

ہم کو اک دوسرے سے اب تک

قریب ہونے نہیں دیا ہے!

ن م راشد

انقلابی

مورخ، مزاروں کے بستر کا بارِ گراں

عروس اُس کی نارس تمناؤں کے سوز سے

آہ بر لب

جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں

یہ ہنگام تھا، جب ترے دل نے اس غمزدہ سے

کہا، لاؤ اب لاؤ دریوزہ ءِ غمزہ ءِ جانستاں

مگر خواہشیں اشہبِ باد پیما نہیں

جو ہوں بھی تو کیا

کو جولاں گہ ءِ وقت میں کس نے پایا ہے

کس کا نشاں؟

یہ تاریخ کے ساتھ چشمک کا ہنگام تھا؟

یہ مانا تجھے یہ گوارا نہ تھا

کہ تاریخ دانوں کے دامِ محبت میں پھنس کر

اندھیروں کی روحِ رواں کو اجالا کہیں

مگر پھر بھی تاریخ کے ساتھ

چشمک کا یہ کون ہنگام تھا؟

جو آنکھوں میں اُس وقت آنسو نہ ہوتے

تو یہ مضطرب جاں،

یہ ہر تازہ و نو بنو رنگ کی دلربا

تری اس پذیرائیِ چشم و لب سے

وفا کے سنہرے جزیروں کی شہزاد ہوتی

ترے ساتھ منزل بمنزل رواں و دواں

اسے اپنے ہی زلف و گیسو کے دامِ ازل سے

رہائی تو ملتی

مگر تُو نے دیکھا بھی تھا

دیوِ تاتار کا حجرہ ءِ تار

جس کی طرف تو اسے کر رہا تھا اشارے

جہاں بام و دیوار میں کوئی روزن نہیں ہے

جہاں چار سُو باد و طوفاں کے مارے ہوئے راہگیروں

کے بے انتہا استخواں ایسے بکھرے پڑے ہیں

ابد تک نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر فغاں؟

ن م راشد

انسان

الٰہی تیری دنیا جس میں ہم انسان رہتے ہیں

غریبوں، جاہلوں، مُردوں کی، بیماروں کی دنیا ہے

یہ دنیا بے کسوں کی اور لاچاروں کی دنیا ہے

ہم اپنی بے بسی پر رات دن حیران رہتے ہیں!

ہماری زندگی اک داستاں ہے ناتوانی کی

بنا لی اے خدا اپنے لیے تقدیر بھی تُو نے

اور انسانوں سے لے لی جرأت تدبیر بھی تُو نے

یہ داد اچھی ملی ہے ہم کو اپنی بے زبانی کی!

اسی غور و تجسس میں کئی راتیں گزری ہیں

میں اکثر چیخ اُٹھتا ہوں بنی آدم کی ذلّت پر

جنوں سا ہو گیا ہے مجھ کو احساسِ بضاعت پر

ہماری بھی نہیں افسوس، جو چیزیں ’’ہماری‘‘ ہیں!

کسی سے دور یہ اندوہِ پنہاں ہو نہیں سکتا!

خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہو نہیں سکتا!

ن م راشد

اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ھوئے

پا شکستہ سر بریدہ خواب

جن سے شہر والے بے خبر!

گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب

کہ ان کو جمع کر لوں

دل کی بھٹی میں تپاؤں

جس سے چھٹ جائے پرانا میل

ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں

چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن

جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں

پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!

’’خواب لے لو خواب‘‘

صبح ہوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا

’’خواب اصلی ہیں کہ نقلی‘‘

یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر

خواب داں کوئی نہ ہو!

خواب گر میں بھی نہیں

صورت گر ثانی ہوں بس

ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!

شام ھو جاتی ہے

میں پھر سے لگاتا ہوں صدا

’’مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ‘‘

’’مفت‘‘ سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ

اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ

’’دیکھنا یہ مفت کہتا ہے‘‘

کوئی دھوکا نہ ہو!

ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو

گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں

یا پگھل جائیں یہ خواب

بھک سے اڑ جائیں کہیں

یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب

جی نہیں کس کام کے؟

ایسے کباڑی کے یہ خواب

ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!

رات ہو جاتی ہے

خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر

منہ بسورے لوٹتا ہوں

رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں

’’یہ لے لو خواب‘‘

اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی

خواب لے لو، خواب

میرے خواب

خواب میرے خواب

خو ا ا ا ا ب

ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی

ن م راشد

انتقام

اُس کا چہرہ، اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک شبستاں یاد ہے

اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس

فرش پر قالین، قالینوں کی سیج

دھات اور پتھر کے بت

گوشہء دیوار میں ہنستے ہوئے!

اور آتشداں میں انگاروں‌کا شور

اُن بتوں کی بے حِسی پر خشمگیں؛

اُجلی اُجلی اونچی دیواروں پہ عکس

اُن فرنگی حاکموں کی یادگار

جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاں

سنگِ بنیادِ فرنگ!

اُس کا چہرہ اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک برہنہ جسم اب تک یاد ہے

اجنبی عورت کا جسم،

میرے ‘ہونٹوں‘ نے لیا تھا رات بھر

جس سے اربابِ وطن کی بے بسی کا انتقام

وہ برہنہ جسم اب تک یاد ہے!

ن م راشد

اظہار اور رسائی

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

بات کہنے کے بہانے ہیں بہت

آدمی کس سے مگر بات کرئے

بات جب حیلہء تقریب ملاقات نہ ہو

اور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمند

بات کی غایت غایات نہ ہو!

ایک ذرّہ کف خاکستر کا

شرر جستہ کے مانند کبھی

کسی انجانی تمنّا کی خلش سے مسرور

اپنے سینے کے دہکتے ھوئے تنّور کی لو سے مجبور

ایک ذرّہ کہ ہمیشہ سے ھے خود سے مہجور،

کبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہے

آب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھی

اور بنتا ھے معانی کا خداوند کبھی

وہ خداوند جو پابستہ آنات نہ ہو!

اسے اک ذرّے کی تابانی سے

کسی سوئے ہوئے رقّاص کے دست و پا میں

کانپ اٹھتے ہیں مہ و سال کے نیلے گرداب

اسی اک ذرّے کی حیرانی سے

شعر بن جاتے ہیں اک کوزہ گر پیر کے خواب

اسے اک ذرّہ لا فانی سے

خشت بے مایہ کو ملتا ھے دوام

بام و در کو وہ سحر جس کی کبھی رات نہ ہو!

آدمی کس سے مگر بات کرئے

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،

اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں

اور پھر کس کے لیے بات کروں

ن م راشد

اظہار

کیسے میں بھی بھول جاؤں

زندگی سے اپنا ربطِ اوّلیں؟

ایک دور افتادہ قریے کے قریب

اک جنوں افروز شام

نہر پر شیشم کے اشجارِ بلند

چاندنی میں اُن کی شاخوں کے تلے

تیرے پیمانِ محبت کا وہ اظہارِ طویل!

روح کا اظہار تھے بوسے مرے

جیسے میری شاعری، میرا عمل!

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

کیسے کر ڈالوں میں جسم و روح کو

آج بے آہنگ و نور؟

تُو کہ تھی اس وقت گمنامی کے غاروں میں نہاں

میرے ہونٹوں ہی نے دی تجھ کو نجات

اپنی راہوں پر اٹھا لایا تجھے

زندہ ءِ جاوید کر ڈالا تجھے

جیسے کوئی بت تراش

اپنے بت کو زندگی کے نور سے تاباں کرے

اس کو برگ و بار دینے کے لیے

اپنے جسم و روح کو عریاں کرے!

میرے بوسے روح کا اظہار تھے

روح جو اظہار ہی سے زندہ و تابندہ ہے

ہے اسی اظہار سے حاصل مجھے قربِ حیات،

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

ن م راشد

اسرافیل کی موت

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ

وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام

صوت انسانی کی روحِجاوداں

آسمانوں کی ندائے بے کراں

آج ساکت مثلِ حرفِ ناتمام

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں

آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس

جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے

ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ

اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!

اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش

کیسے خاک آلودہ ہیں!

تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!

کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،

اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم

جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء

وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ

وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

مرگِ اسرافیل سے

حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،

ابن آدم زلف در خاک و نزاز

حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار

آسمانوں کی صفیر آتی نہیں

عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق

مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق

اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا

سننے والوں کے دلوں کے تار چب!

اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا

بزم کے فرش و در و دیوار چپ!

اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا

مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!

فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا

طائرانِ منزل و کہسار چپ!

مرگِ اسرافیل ہے

گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت

چشمِبینا کی، دلِ دانا کی موت

تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو

اہل دل کی اہل دل سے گفتگو

اہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!

اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم

اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!

یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

مرگِ اسرافیل سے،

اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا

جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،

ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں

ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی

زباں بندی کے خواب!

جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو

اس خداوندی کے خواب!

ن م راشد

اجنبی عورت

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک دیوارِ ظلم

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ عماراتِ قدیم

یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار

چاندنی میں نوحہ خواں

اجنبی کے دستِ غارتگر سے ہیں

زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک ’’دیوارِ رنگ‘‘

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ سیہ پیکر برہنہ راہرو

یہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہرِخند

یہ گزرگاہوں پہ دیو آسا جواں

جن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزوؤں کی لپک

مشتعل، بیاباک مزدوروں کا سیلاب عظیم

ارضِ مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں

آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب

دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے

اُن کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں

ن م راشد

اتفاقات

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی،

جسم ہے خواب سے لذت کشِ خمیازہ ترا

تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول

جس سے دھُل جانے کو ہے غازہ ترا

زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم

زندگی میرے لیے کاوشِ بیداری ہے؛

اتفاقات کو دیکھ

اس حسیں رات کو دیکھ

توڑ دے وہم کے جال

چھوڑ دے اپنے شبستانوں کو جانے کا خیال،

خوفِ موہوم تری روح پہ کیا طاری ہے!

اتنا بے صرفہ نہیں تیرا جمال

اس جنوں خیز حسیں رات کو دیکھ!

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی

تشنگی روح کی آسودہ نہ ہو

جب ترا جسم جوانی میں ہے نیسانِ بہار

رنگ و نگہت کا فشار!

پھول ہیں، گھاس ہے، اشجار ہیں، دیواریں ہیں

اور کچھ سائے کہ ہیں مختصر و تیرہ و تار،

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں؟

دیکھ پتوں میں لرزتی ہوئی کرنوں کا نفوذ

سرسراتی ہوئی بڑھتی ہے رگوں میں جیسے

اوّلیں بادہ گساری میں نئی تند شراب

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں

کہکشاں اپنی تمناؤں کا ہے راہگزار

کاش اس راہ پہ مل کر کبھی پرواز کریں،

اک نئی زیست کا در باز کریں!

آسماں دور ہے لیکن یہ زمیں ہے نزدیک

آ اِسی خاک کو ہم جلوہ گہِ راز کریں!

روحیں مل سکتی نہیں ہیں تو یہ لب ہی مل جائیں،

آ اِسی لذتِ جاوید کا آغاز کریں!

صبح جب باغ میں رس لینے کو زنبور آئے

اس کے بوسوں سے ہوں مدہوش سمن اور گلاب

شبنمی گھاس پہ دو پیکرِ یخ بستہ ملیں،

اور خدا ہے تو پشیماں ہو جائے!

ن م راشد

ابو لہب کی شادی

شب زفافِ ابو لہب تھی، مگر خدایا وہ کیسی شب تھی،

ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن، گلے میں

سانپوں کے ہار لائی، نہ اس کو مشاطّگی سے مطلب

نہ مانگ غازہ، نہ رنگ روغن، گلے میں سانپوں

کے ہار اس کے، تو سر پہ ایندھن!

خدایا کیسی شب زفافِ ابو لہب تھی!

یہ دیکھتے ھی ہجوم بپھرا، بھڑک اٹھے یوں غضب

کے شعلے، کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے!

جوان لڑکوں کی تالیاں تھیں، نہ صحن میں شوخ

لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک رھے تھے،

نہ نغمہ باقی نہ شادیانے !

ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ابو لہب کی خبر جو آئی، تو سالہا سال کا زمانہ

غبار بن کر بکھر چکا تھا!

ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کر

پھر وطن کو لوٹا، ہزار طرّار و تیز آنکھیں، پرانے

غرفوں سے جھانک اٹھیں، ہجوم، پیر و جواں کا

گہرا ہجوم، اپنے گھروں سے نکلا، ابو لہب کے جلوس

کو دیکھنے کو لپکا!

ابولہب!’’ اک شبِ زفافِ ابو لہب کا جلا‘‘

پھپھولا، خیال کی ریت کا بگولا، وہ عشق برباد

کا ہیولا، ہجوم میں سے پکار اٹھی: ’’ابو لہب!

تو وہی ہے جس کی دلہن جب آئی، تو سر پہ ایندھن

گلے میں سانپوں کے ہار لائی‘‘

ابو لہب ایک لمحہ ٹھٹکا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ن م راشد

آک اور حنا

کیسے بکھری پُھول نیند

کیسے شانوں پہ گِرا اِک چاند گیت،

جس سے میں ظاہر ھوُا

چاند گیت!

اُن گہری ندیوں کے فرازوں کی طرف

لے چل، جہاں

آک کے پہلو میں اُگتی ھے حِنا،

اُن درختوں کی طرف لے چل مجھے

جن کی جانب لوٹ آئے

راہ سے بھٹکے ھوُئے زنبوُر

چھتوں کی طرف

جن سے کرنا ھیں مجھے سرگوشیاں!

مجھ کو لے چل کشت زاروں کے

خزاں کجلائے چہروں کی طرف

جن پہ ماتم کی عنبریں کرنیں جھلک اُٹھی ھیں

گیت!

عشق جیسے روشنائی کا کوئی دھبہ تھا

پیراھن پہ ناگاہاں گِرا

میں نے اُس بپھری جوانی میں

وہ موسیقی کی سرشاری سُنی

میں نے خوشبوُؤں کی پُرباری سُنی

میں نے بازاروں میں گھبرائے ھجوُموں کا

وھی نغمہ، وھی شیون سُنا

جو ھر اِک زخمی سے کہتا ھے کہ :’’آ،

تیرا مزار اب میں ھی ھوُں،

میں وہ مطلع ھوُں جو اُجلا ھی سہی

نارس بھی ھے

میں وہ تصویرِ خداوندی ھوُں، دُھندلائی ھوئی

میں وہ دُنیا ھوُں کہ جس کے لَب نہیں!‘‘

لیکن اپنے زرد آج اور سُرخ کل کے درمیاں

تنگ دوراھے پہ اِک لمحہ بھی تھا

نارنج رنگ!

ھاں، اسی لمحے میں

کتنے راہ سے بھٹکے پرندے

ذہن کے بُرجوں پر آ بیٹھے کہ :’’ھم،

ھم میں کھو جا! ھم تجھے لے جائیں گے

اب اُس حِنا تک

اُگ رھی ھے، آک کے مسموُم پیمانوں کے پاس

اُن سے رس لیتی ھوُئی!‘‘

ن م راشد

آنکھیں کالے غم کی

اندھیرے میں یوں چمکیں آنکھیں کالے غم کی

جیسے وہ آیا ہو بھیس بدل کر آمر کا

آنے والے جابر کا!

سب کے کانوں میں بُن ڈالے مکڑی نے جالے

سب کے ہونٹوں پر تالے

سب کے دلوں میں بھالے!

اندھیرے میں یوں چمکے میلے دانت بھی غم کے

جیسے پچھلے دروازے سے آمر آ دھمکے

سر پر ابنِ آدم کے!

غم بھی آمر کے مانند اک دُم والا تارا

یا جلتا بجھتا شرارا،

جو رستے میں آیا سو مارا!

غم گرجا برسا، جیسے آمر گرجے برسے

خلقت سہمی دبکی تھی اک مبہم سے ڈر سے

خلقت نکلی پھر گھر سے!

بستی والے بول اٹھے! ’’اے مالک! اے باری!

کب تک ہم پہ رہے گا غم کا سایہ یوں بھاری،

کب ہو گا فرماں جاری؟‘‘

ن م راشد

آنکھوں کے جال

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ

کیسے پیمانوں کا عکسِ سیمگوں

اس کی بے اندازہ گہرائی میں ہے ڈوبا ہوا

جیسے میری روح، میری زندگی

تیری تابندہ سیہ آنکھوں میں ہے

مے کے پیمانے تو ہٹ سکتے ہیں یہ ہٹتی نہیں

قہوہ خانے کے شبستانوں کی خلوت گاہ میں

آج کی شب تیرا دزدانہ ورود

عشق کا ہیجان، آدھی رات اور تیرا شباب

تیری آنکھ اور میرا دل

عنکبوت اور اس کا بےچارہ شکار

تیرے ہاتھوں میں مگر لرزش ہے کیوں؟)

کیوں ترا پیمانہ ہونٹوں سے ترے ہٹتا نہیں

خام و نو آموز ہے تُو ساحرہ

کر رہی ہے اپنے فن کو آشکار

(اور اپنے آپ پر تجھ کو یقیں حاصل نہیں

پھر بھی ہے تیرے فسوں کے سامنے مجھ کو شکست

میرے تخیلات، میری شاعری بیکار ہیں

اپنے سر پر قمقموں کے نور کا سیلاب دیکھ

جس سے تیرے چہرے کا سایہ ترے سینے پہ ہے

اس طرح اندوہ میری زندگی پر سایہ ریز

تیری آنکھوں کی درخشانی سے ہے

سایہ ہٹ سکتا ہے، غم ہٹتا نہیں

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

دیکھ وہ دیوار پر تصویر دیکھ

یہ اگر چاہے کہ اس کا آفرینندہ کبھی

اس کے ہاتھوں میں ہو مغلوب و اسیر

کیسا بے معنی ہو یہ اس کا خیال

اس کو پھر اپنی ہزیمت کے سوا چارہ نہ ہو

تو مری تصویر تھی

میرے ہونٹوں نے تجھے پیدا کیا

آج لیکن میری مدہوشی کو دیکھ

میں کہ تھا خود آفرینندہ ترا

پابجولاں میرے جسم و روح تیرے سامنے

اور دل پر تیری آنکھوں کی گرفتِ ناگزیر

ساحری تیری خداوندی تیری

عکس کیسا بھی ہو فانی ہے مگر

یہ نگاہوں کا فسوں پایندہ ہے

ن م راشد

آگ کے پاس

پیرِ واماندہ کوئی

کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں

نوجوان بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں

(اِک رقابت کی سیاہ لہر بہت تیز

مرے سینہ ءِ سوزاں سے گزر جاتی ہے)

جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گلداں کی

مس و سیم کے کاسوں کی چمک!

اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے

کوئلے آگ میں جلتے ہوئے

کن یادوں کی کس رات میں

جل جاتے ہیں؟

کیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاں

سال ہا سال یہ آسودہ رہے؟

انہی بے آب درختوں کے وہ جنگل

جنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھی؟

کوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں

آج شب بھی وہ بڑی دیر سے

گھر لوٹا ہے

اس کے الفاظ کو

ان رنگوں سے، آوازوں سے کیا ربط

جو اس غم زدہ گھر کے خس و خاشاک میں ہیں؟

اس کو اس میز پہ بکھری ہوئی

خوشبوؤں کے جنگل سے غرض؟

آج بھی اپنے عقیدے پہ بدستور

بضد قائم ہے!

وہ درختوں کے تنومند تنے

(اپنے آئندہ کے خوابوں میں اسیر)

گرد باد آ ہی گئے

ان کی رہائی کا وسیلہ بن کر

خود سے مہجورئ ناگاہ کا حیلہ بن کر

آئے اور چل بھی دیے

طولِ المناک کی دہلیز پہ

’’رخصت‘‘ کہہ کر

اور وہ لاکھوں برس سوچ میں

آیندہ کے موہوم میں خوابیدہ رہے!

میرے بیٹے، تجھے کچھ یاد بھی ہے

میں نے بھی شور مچایا تھا کبھی

خاک کے بگڑے ہوئے چہرے کے خلاف؟

لحنِ بے رنگ ہوا سن کے

مری جاں بھی پکار اٹھّی تھی؟

میں کبھی ایک انا اور کبھی دو کا سہارا لیتا

اپنی ساتھی سے میں کہہ اٹھتا کہ ’’جاگو، اے جان!

ہر انا تیرہ بیاباں میں

بھٹکتے ہوئے پتوں کا ہجوم!

میرا ڈر مجھ کو نگل جائے گا‘‘

میرے کانوں میں مرے کرب کی آواز

پلٹ آتی تھی

’’تجھے بے کار خداؤں پہ یقیں

اب بھی نہیں؟

اب بھی نہیں؟

آج بھی اپنے ہی الحاد کی کرسی میں

پڑا اونگھتا ہوں

نوجواں بیٹے کے الفاظ پہ چونک اٹھتا ہوں:

تو نے، بیٹے،

یہ عجب خواب سنایا ہے مجھے

اپنا یہ خواب کسی اور سے ہر گز نہ کہو!‘‘

کبھی آہستہ سے دروازہ جو کھلتا ہے تو ہنس دیتا ہوں

یہ بھی اس رات کی صر صر کی

نئی چال، نیا دھوکا ہے!

’’پھول یا پریاں بنانے کا کوئی نسخہ

مرے پاس نہیں ہے بیٹے

مجھے فرداؤں کے صحرا سے بھی

افسونِ روایت کی لہک آتی ہے

آگ میں کوئلے بجھنے کی تمنا نہ کرو

ان سے آیندہ کے مٹتے ہوئے آثار

ابھر آئیں گے

ان گزرتے ہوئے لمحات کی تنہائی میں

کیسا یہ خواب سنایا ہے مجھے تو نے ابھی

نہیں، ہر ایک سے،

ہر ایک سے یہ خواب کہو

اس سے جاگ اٹھتا ہے

سویا ہوا مجذوب

مری آگ کے پاس

ایسے مجذوب کو اک خواب بہت

خواب بہت۔۔۔۔۔ خواب بہت۔۔۔

ایسے ہر مست کو

اک خواب بہت!

ن م راشد

آرزو راہبہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

آرزو راہبہ ہے، عمر گزاری جس نے

انہی محروم ازل راہبوں، معبد کے نگہبانوں میں

ان مہ و سالِ یک آہنگ کے ایوانوں میں!

کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری

روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔ راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے

جھلملاتی ہوئی اک شمع لیے

لڑکھڑاتی ہوئی، فرش و در و دیوار سے ٹکراتی ہوئی!

دل میں کہتی ہے کہ اس شمع کی لو ہی شاید

دور معبد سے بہت دور چمکتے ہوئے انوار کی تمثیل بنے

آنے والی سحرِ نو یہی قندیل بنے

۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

ہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکر

خود میں کھوئے ہوئے، سہمے ہوئے، سرگوشی سے ڈرتے ہوئے

راہبوں کو یہ خبر ہو کیونکر

کس لیے راہبہ ہے بےکس و تنہا و حزیں!

راہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانند

بے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میں

جس میں اُگتے نہیں دل سوزئ انساں کے گلاب

راہبہ شمع لیے پھرتی ہے

یہ سمجھتی ہے کہ اس سے درِ معبد پہ کبھی

گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی

سنگریزوں پہ کوئی چاپ سنائی دے گی!

ن م راشد

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

آئینہ حسّ و خبر سے عاری،

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

منحصر ہستِ تگا پوئے شب و روز پہ ہے

دلِ آئینہ کو آئینہ دکھائیں کیسے؟

دلِ آئینہ کی پہنائی بے کار پہ ہم روتے ہیں،

ایسی پہنائی کہ سبزہ ہے نمو سے محروم

گلِنو رستہ ہے بو سے محروم!

آدمی چشم و لب و گوش سے آراستہ ہیں

لطفِ ہنگامہ سے نورِمن و تو سے محروم!

مے چھلک سکتی نہیں، اشک کے مانند یہاں

اور نشّے کی تجلّی بھی جھلک سکتی نہیں

نہ صفائے دلِ آئینہِگزرگاہِ خیال!

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ ایسا سمندر ہے جسے

کر دیا دستِ فسوں گر نے ازل میں ساکن!

عکس پر عکس در آتا ہے یہ امّید لیے

اس کے دم ہی سے فسونِ دلِ تنہا ٹوٹے

یہ سکوتِ اجل آسا ٹوٹے!

آئینہ ایک پر اسرار جہاں میں اپنے

وقت کی اوس کے قطروں کی صدا سنتا ہے،

عکس کو دیکھتا ہے، اور زباں بند ہے وہ

شہر مدفون کے مانند ہے وہ!

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ حسّ و خبر سے عاری!

ن م راشد

آ لگی ہے ریت

آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ

سارے دروازوں کے ساتھ

سرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہے

نیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہے

ریت ۔۔ رُک جا

کھیل تہ کر لیں

سنہرے تاش کے پتّوں سے

درزوں، روزنوں کو بند کر لیں

ریت

رُک جا

سست برساتیں کہ جن پر دوڑپڑنا،

جن کو دانتوں میں چبا لینا

کوئی مشکل نہ تھا

تُو نے وہ ساری نگل ڈالی ہیں رات ۔۔

رات ہم ہنستے رہے، اے ریت

تو دیوانی بلّی تھی جو اپنی دم کے پیچھے

گھومتی جاتی تھی

اس کو چاٹتی جاتی تھی رات!

ریت کی اِک عمر ہے اِک وقت ہے

لیکن ہمیں

خود سے جدا کرتی چلی جاتی ہےریت

ناگہاں ہم سب پہ چھا جانے کی خاطر

یہ ہماری موت بن کر تازہ کر دیتی ہے

یادیں دُور کی (یا دیر کی)

ریت کو مٹھی میں لے کر دیکھتے ہیں

اپنے پوروں سے اِسے چھنتے ہوئے

ہم دیکھتے ہیں

اپنے پاؤں میں پھسلتے دیکھتے ہیں

ریت پر چلتے ہوئے

اپنے گیسو اِس سے اٹ جاتے ہیں

بھر جاتے ہیں پیراہن

ہمارے باطنوں کو چیرتی جاتی ہے ریت

پھیلتی جاتی ہے جسم و جاں کے ہر سُو

ہم پہ گھیرا ڈالتی جاتی ہے

ریت!

ریت اِک مثبت نفی تھی

ریت سرحد تھی کبھی

ریت عارف کی اذیّت کا بدل تھی

آنسوؤں کی غم کی پہنائی تھی ریت

اپنی جویائی تھی ریت

ریت میں ’’ہر کس‘‘ تھے ہم

دوسرا کوئی نہ تھا

ریت وہ دنیا تھی جس پر

دشمنوں کی مہر لگ سکتی نہ تھی

اِس کو اپنا تک کوئی سکتا نہ تھا ۔۔۔

ریت پر ہم سن رہے ہیں آج

پیرانہ سری کی، اپنی تنہائی

کی چاپ

دن کے ساحل پر اتر کر

آنے ولی رات کے تودے لگاتی جارہی ہے

ناگہاں کے بے نہایت کو اڑا لائی ہے

ریت

دِل کے سونے پن میں در آئی ہے

ریت!

ن م راشد

’’آپ‘‘ کے چہرے

’’آپ‘‘ ہم جس کے قصیدہ خواں ہیں

وصل البتّہ و لیکن کے سوا

اور نہیں

’’آپ‘‘ ہم مرثیہ خواں ہیں جس کے

ہجر البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

’’آپ‘‘ دو چہروں کی ناگن کے سوا اور نہیں!

روز ’’البتّہ‘‘ مرے ساتھ

پرندوں کی سحر جاگتے ارمانوں

کے بستر سے اٹھا

سیر کی، غسل کیا

اور مرے ساتھ ہی صبحانہ کیا،

بے سرے گیت بھی گائے

یونہی ’’لیکن‘‘ بھی مرے ساتھ

کسی بوڑھے جہاں گرد کے مانند

لڑھکتا رہا، لنگڑاتا رہا

شام ہوتے ہی وہ ان خوف کے پتلوں کی طرح

جو زمانے سے، کسی شہر میں مدفون چلے آتے ہوں

ناگہاں نیندوں کی الماری میں پھر ڈھیر ہوئے

ان کے خرّانٹوں نے شب بھی مجھے سونے نہ دیا

’’آپ‘‘ البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’البتّہ‘‘

جسے جانتے ہو

دن کی بیہودہ تگ و تاز میں،

یا شور کے ہنگامِمن و توئی میں

نوحہ گر ہوتا ہے ’’لیکن‘‘ پہ کہ موجود نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’لیکن‘‘

جسے پہچانتے ہو

اپنے سنّاٹے کے بالینوں پر

اپنی تنہائی کے آئینوں میں

آپ ہی جھولتا ہے

قہقہے چیختا ہے

اپنے البتہ کی حالت پہ کہ موجود نہیں

آؤ، البتّہ و لیکن کو

کہیں ڈھونڈ نکالیں پھر سے

ان کے بستر پہ نئے پھول بچھائیں

جب وہ وصل پہ آمادہ نظر آئیں

تو (ہم آپ) کسی گوشے میں چپ چاپ سرک جائیں!

ن م راشد

تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 293
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا” کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
جو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہئِ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ نا سازئِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!
روانئِ روش و مستئِ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!
طرواتِ چمن و خوبئِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آلگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 292
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے
ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے ، کیا کہیے!
رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ ، کہ کُوئے دوست کو اب
اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے ، کیا کہیے!
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے، کیا کہیے
سمجھ کے کرتے ہیں ، بازار میں وہ پُرسشِ حال
کہ یہ کہے کہ ، سرِ رہگزر ہے ، کیا کہیے؟
تمہیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیال
ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے ، مگر ہے کیا؟ کہیے!
اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے ، کیوں لڑیئے
ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے ، کیا کہیے؟
حَسد ، سزائے کمالِ سخن ہے ، کیا کیجے
سِتم ، بہائے متاعِ ہُنر ہے ، کیا کہیے!
کہا ہے کِس نے کہ غالب بُرا نہیں ، لیکن
سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے ، کیا کہیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 291
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی@
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
@ نسخۂ مہر میں "کو”
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 290
چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر
جائے مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل ؟
بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے !
چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گُل
کُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
منہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دُشمنی نے میری ، کھویا غیر کو
کِس قدر دُشمن ہے ، دیکھا چاہیے
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعی
یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
غافل ، اِن مہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خُوبروؤں کو اسدؔ
آپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 289
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیا
میں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مے
مدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضر
حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے@ لئیم
تو نے وہ گنجہائے گرانمایہ کیا کیے
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو ؟
کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے ؟
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
غالب تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
@ او۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 288
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق
یعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
دیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خم
اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
یا میرے زخمِ رشک کو رسوا نہ کیجیے
یا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 287
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
کثرت آرائ خیالِ ما سوا کی وہم تھی
مرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
داغہاۓ دل چراغِ خانۂ تاریک تھے
تا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھ
ہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہمرہاں
ہوسکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 286
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ
نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں
مثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں
کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 285
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 284
خموشی میں تماشا ادا نکلتی ہے
نگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے
فشارِ تنگئ خلوت سے بنتی ہے شبنم
صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہ
کہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 283
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے
آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے
تا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟
چشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

شیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 282
نشّہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب
شیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے
ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کرنہ بزمِ عیشِ دوست
واں تو میرے نالے کو بھی اعتبارِ نغمہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دعوئ جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 281
عرضِ نازِ شوخئِ دنداں برائے خندہ ہے
دعوئ جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے
ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گُل
یک جہاں زانو تامّل در قفائے خندہ ہے
کلفتِ افسردگی کو عیشِ بے تابی حرام
ورنہ دنداں در دل افشردن بِنائے خندہ ہے
سوزشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
دل محیطِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 280
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے
نبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 279
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلے
نشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
خاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہہائے معانی
غیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالب
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 278
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 277
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر @، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش@ ہے
@ نسخۂ مہرمیں "رہے گر دل میں تیر” @ اصل نسخوں میں آزمایش ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر آزمائش لکھا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 276
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے
قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم
وہ بلائے آسمانی اور ہے
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 275
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورالعینِ دامن ہے
دلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو
فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو ، بالش سے ، اُس کی زلفِ مشکیں کی
ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
کہوں کیا ، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں ، غالب!
کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر ، خارِ بستر ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 274
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھےُدردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے
ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟
پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 273
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی@ نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو@ کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
@ اصل نسخے میں ’جب آنکھ سے ہی‘ ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں ’جب آنکھ ہی سے‘ رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔@ "بادہ و گلفامِ مشک بو”۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

غُلامِ ساقئ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 272
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟
غُلامِ ساقئ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے
تمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہے
رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
کوئی بتاؤ کہ وہ زُلفِ خم بہ خم کیا ہے
لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولود
کسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے؟
نہ حشرونشر کا قائل نہ کیش و ملت کا
خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟
وہ داد ودید گراں مایہ شرط ہے ہمدم
وگرنہ مُہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے
سخن میں خامۂ غالب کی آتش افشانی
یقین ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 271
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بےزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے@
نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟
ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟
ہم کو ان سے وفا کی ہے امّید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گا
اَور درویش کی صدا کیا ہے؟
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے؟
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
@ ہیں۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 270
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ@ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچّھا ہے
@ نسخۂ مہر میں "جس طرح کا بھی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 269
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 268
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے
ازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے
جوابِ جنٓتِ بزمِ نشاطِ جاناں ہے
مری نگاہ جو خونبار ہوتی آئی ہے
نموۓ جوشِ جنوں وحشیو! مبارک باد
بہار ہدیۂ انظار ہوتی آئی ہے
دل و دماغِ وفا پیشگاں کی خیر نہیں
جگر سے آہِ شرر بار ہوتی آئی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 267
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے
نہ جانوں ، کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بد عہدی
تجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تابِ ہوس ، سِلکِ عافیت مت توڑ
نگاہِ عجز سرِ رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعوائے عشق بے بُنیاد
جنونِ ساختہ و فصلِ گُل ، قیامت ہے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 266
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے ، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گی
وائے ناکامی ! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
عارضِ گُل دیکھ ، رُوئے یار یاد آیا ، اسدؔ!
جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 265
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ
خطِ پیالہ ، سراسر نگاہِ گلچیں ہے
کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!
کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے ، گر نہ سُنے ، نالہ ہائے بُلبلِ زار
کہ گوشِ گُل ، نمِ شبنم سے پنبہ آگیں ہے
اسدؔ ہے نزع میں ، چل بیوفا ! برائے خُدا!
مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

موجِ شراب یک مژۂ خوابناک ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 264
مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے
موجِ شراب یک مژۂ خوابناک ہے
جُز زخمِ تیغِ ناز، نہیں دل میں آرزو
جیبِ خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں، اسدؔ
صحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 263
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
کہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اِک نگہ کہ ، بظاہر نگاہ سے کم ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 262
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کی
سمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالب
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 261
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہے
از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 260
ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عر ضِ یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے
تکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاں
نگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے
ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادی
کہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے
دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سودا کیا چاہے
کہ اس بازار میں ساغر متاعِ دست گرداں ہے
غم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
چراغِ روشن اپنا قلزمِصرصر کا مرجاں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 259
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے
نافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے
کس کا سرا غِ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
آیئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے
ہے ذرہ ذرہ تنگئِ جا سے غبارِ شوق
گردام یہ ہے و سعتِ صحرا شکار ہے
دل مدّعی و دیدہ بنا مدّعا علیہ
نظارے کا مقدّمہ پھر روبکار ہے
چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگِ گل پر آب
اے عندلیب وقتِ ود اعِ بہار ہے
پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
بے پردہ سوئے وادئِ مجنوں گزر نہ کر
ہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے
اے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاں
طوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے
دل مت گنوا، خبر نہ سہی سیر ہی سہی
اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
غفلت کفیلِ عمر و اسدؔ ضامنِ نشاط
اے مر گِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 258
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفائے دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی@ شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدی
کفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے
@ نہ لائے ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

تسلّی جانِ بلبل کے لئے خندیدنِ گل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 257
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
تسلّی جانِ بلبل کے لئے خندیدنِ گل ہے
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنی
کہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
نہ رکھ پابندِ استغنا کو قیدی رسمِ عالم کا
ترا دستِ دعا بھی رخنہ اندازِ توکّل ہے
نہ چھوڑا قید میں بھی وحشیوں کو یادِ گلشن نے
یہ چاکِ پیرہن گویا جوابِ خندۂ گل ہے
ابھی دیوانگی کا راز کہہ سکتے ہیں ناصح سے
ابھی کچھ وقت ہے غالب ابھی فصلِ گل و مُل ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 256
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو@ بھی مٹ گیا
ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوں
ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے
ہے وہی بد مستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
مجھ سے مت کہہ "تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی”
زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے
@وہ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 255
رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے
اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سے
بالِ تَدَر و@ جلوۂ موجِ شراب ہے
زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کا
نے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے
جادادِ بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہت
غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کا
جوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
میں نامراد دل کی تسلّی کو کیا کروں
مانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے
گزرا اسدؔ مسرّتِ پیغامِ یار سے
قاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے
@ تذرو اور تدرو دونوں طرح لکھا جاتاہے۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 254
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگ
غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جا
آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میں
فرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدر
غالب ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 253
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے@ پوچھو
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
@کر ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 252
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی
اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان
نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

برقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 251
کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
برقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے
غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلوم
باوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے
ہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
داغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 250
کس کی برقِ شوخئ رفتار کا دلدادہ ہے
ذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے
ہے غـرورِ سرکشی صورت نماۓ عجز بھی
منقلب ہو کر بسانِ نقشِ پا افتادہ ہے
خانہ ویراں سازئ عشقِ جفا پیشہ نہ پوچھ
نامرادوں کا خطِ تقدیر تک بھی سادہ ہے
خود نشاط و سرخوشی ہے آمدِ فصلِ بہار
آج ہر سیلِ رواں عالم میں موجِ بادہ ہے
زندگانی رہروِ راہِ فنا ہے اے اسدؔ
ہر نفس ہستی سے تا ملکِ عدم اک جادہ ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کمیـنِ درد میں پوشـیدہ رازِ شـادمـانی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 249
سکوت و خامشی اظہارِ حـالِ بے زبـانی ہے
کمیـنِ درد میں پوشـیدہ رازِ شـادمـانی ہے
عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی
مگر رنـدِ قَـدَح کش کا ابھـی دورِ جوانـی ہے
ثباتِ چند روزہ کارفرماۓ غم و حسـرت
اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے
گدازِ داغِ دلِ شمعِ بساطِ خانہ ویرانی
تپش گاہِ محبت میں فروغ جاودانی ہے
وفـورِ خود نمائ رہـنِ ذوقِ جـلوہ آرائ
بہ وہم کامرانی جذبِ دل کی شادمانی ہے
دلِ حرماں لقب کی داد دے اے چرخِ بے پروا
بہ غارت دادۂ رخت و متاعِ کامرانی ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 248
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلک
ہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفا
ہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراب
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
@ نسخۂ عرشی میں یوں ہے: ’تسکین کو نوید‘۔ اصل نظامی اور دوسرے نسخوں میں اسی طرح ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

سینہ جویائے زخمِ کاری ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 247
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
سینہ جویائے زخمِ کاری ہے
پھِر جگر کھودنے لگا ناخن
آمدِ فصلِ لالہ کاری ہے
قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیاز
پھر وہی پردۂ عماری ہے
چشم دلاّلِ جنسِ رسوائی
دل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
وُہ ہی@ صد رنگ نالہ فرسائی
وُہ ہی@ صد گونہ اشک باری ہے
دل ہوائے خرامِ ناز سے پھر
محشرستانِ بیقراری ہے
جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہے
روزِ بازارِ جاں سپاری ہے
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز
گرم بازارِ فوجداری ہے
ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
ایک فریاد و آہ و زاری ہے
پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلب
اشک باری کا حکم جاری ہے
دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
آج پھر اس کی روبکاری ہے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
@ نسخۂ مہر و آسی میں ” وُہی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 246
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمال
مدّت ہوئی کہ آشتئ چشم و گوش ہے
مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاب
اے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھنا
کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست
بزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز@ نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
@ نسخۂ آگرہ 1863ء اور نسخۂ مہر میں ’سور‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 245
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار
آئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے
تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد ذوق
آئینہ بہ اند ازِ گل آغوش کشا ہے
قمری کفِ خا کستر و بلبل قفسِ رنگ
اے نالہ! نشانِ جگرِ سو ختہ کیا ہے؟
خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کو
معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
مجبوری و دعوائے گرفتارئ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ
تیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھی
سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یا رب اگرِان کردہ گناہوں کی سزا ہے
بیگانگئِ خلق سے بیدل نہ ہو غالب
کوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 244
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہے
نالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنا
یک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 243
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
اِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے
یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیں
ہُما عارض کو، اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے
غلط ہی ہو گئ تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہے
اسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کو جٹا سمجھے
نباتاتِ زمیں سے کیا ان کو نسبت؟ معاذاللہ
اسے برق اور اُسے ہم کالی ساون کی گھٹا سمجھے
گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹاکر ان کو نسبت دیں
اسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سے
یدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
جو اس تشبیہ سے بھی داغ اُن کو آتا ہو
اسے وقتِ نمازِ صبح اور اُس کو عشاء سمجھے
جو یہ نسبت پسندِ خاطرِ والا نہ ہو تو پھر
اسے قندیلِ کعبہ، اُس کو کعبے کی ردا سمجھے
اسدؔ ان ساری تشبیہوں کو رد کرکے یہ کہتا ہے
سویدا اِس کو سمجھے اُس کو ہم نورِ خدا سمجھے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 242
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
ہُوں میں وہ سبزہ کہ زہرآب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِتماشائے شکستِ دل ہے
آئنہ خانے میں کوئی لئے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاک
آسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 241
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے
نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوم
لے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے
کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

میرا ذمہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 240
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
میرا ذمہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
کیا تعجب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آجائے رحم
وا ں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
منہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتاب
کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خو ش ہے کہ مَیں
زلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

صبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 239
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
صبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جی
جس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیال
تا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے
کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
آنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 238
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت@
ہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھ
ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
@ نسخۂ مہرمیں ” ہم آغوشی کے بعد”
مرزا اسد اللہ خان غالب

سُبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 237
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب” ، مجھے
سُبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر ، رہنِ سخن
تھا طلسمِ قُفلِ ابجد ، خانۂ مکتب مجھے
یارب ! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!
رشک ، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!
آرزو سے ، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالب مُجھی سے ہو گئے
عشق سے آتے تھے مانِع ، میرزا صاحب مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 236
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے
بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساں
مرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
کیوں نہ ہو بے التفاتی ، اُس کی خاطر جمع ہے
جانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھے
میرے غمخانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
لِکھ دیا منجملۂ اسبابِ ویرانی ، مجھے
بدگماں ہوتا ہے وہ کافر ، نہ ہوتا ، کاشکے!
اِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھے
وائے ! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیا
لے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے
وعدہ آنے کا وفا کیجے ، یہ کیا انداز ہے ؟
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟
ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری ، واہ واہ !
پھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
دی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگی
میرزا یوسف ہے ، غالب ! یوسفِ ثانی مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب