ٹیگ کے محفوظات: معبود

اپنے سواے کس کو موجود جانتے ہیں

دیوان اول غزل 307
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سواے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا
اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے معنی
اہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے
ناچیز جانتے ہیں نابود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے
اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یارب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا
راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں
بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا
مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میر مفت ہے وہ
جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
میر تقی میر

معبود

بہت حسین ہیں تیری عقیدتوں کے گلاب

حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا

ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں

تجھے عزیز مرا فن مجھے جما ل ترا

مگر تجھے نہیں معلوم قربتوں کے الم

تری نگاہ مجھے فاصلوں سے چاہتی ہے

تجھے خبر نہیں شاید کہ خلوتوں میں مری

لہو اگلتی ہوئی زندگی کراہتی ہے

تجھے خبر نہیں شاید کہ ہم وہاں ہیں جہاں

یہ فن نہیں ہے اذیت ہے زندگی بھر کی

یہاں گلوئے جنوں پر کمند پڑتی ہے

یہاں قلم کی زباں پر ہے نوک خنجر کی

پروین شاکر